فتاویٰ ختمِ نبوّت
(جلد دوم)
شاہین ختم نبوت مخدوم مکرم حضرت مولانا اللّٰہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں:
بیس سال قبل ایک بار ضمناً کسی بات کے تذکرے میں مخدومنا المحترم حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا
کہ: "آج تک قادیانیت کے خلاف اُمت مسلمہ کے جو فتاویٰ جات شائع ہوئے ہیں، انہیں یکجا کردینا چاہئے!" بہت اہم امر
تھا، تب سوچ لیا کہ اِسے کرنا ضروری ہے، شہیداسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور شہیدِ ختم نبوّت حضرت
مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ سے تذکرہ کیا، انہوں نے تصویب وتائید سے سرفراز فرمایا چنانچہ فتاویٰ جات کی ان کتب کو
حاصل کیا گیا، ان کو پڑھ کر ان سے وہ فتاویٰ جات جو قادیانیت کے خلاف دئیے گئے تھے، ان کو جمع کیا گیا، ان کی
تخریج وتحقیق کی گئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فتاویٰ ختمِ نبوّت
| ترتیب |
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ |
| زیرنگرانی |
مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب |
| جدید ایڈیشن |
اگست 2014 |
| ناشر |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی |
2
فتاویٰ قادریہ
حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ
5
تعارف
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
مرزا غلام احمد قادیانی نے اِبتدا میں جب پَرپُرزے نکالے اور سوادِ اَعظم اہلِ سنت کی شاہرا ہ سے علیحدہ قدم مارا تو وہ اپنی جنم بھومی قادیان سے لدھیانہ آیا اور وہاں آکر اس نے اپنے کفریہ عقائد کا اپنے مخصوص حلقے میں پرچار شروع کیا تو اس وقت قادیانی کفر کے سامنے اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے علمائے لدھیانہ کو سدِسکندری کے طور پر کھڑا کردیا۔ تب اوائل ۱۳۰۱ھ (مطابق ۱۸۸۳ء) میں لدھیانہ کے حضرت مولانا عبدالقادر لدھیانویؒ کے صاحبزادگان حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد عبداللّٰہ لدھیانویؒ، حضرت مولانا عبدالعزیز لدھیانویؒ نے فتنۂ قادیانیت کے خلاف معرکۂ حق قائم کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو غیرمتوقع طور پر ان حضرات کی للکار نے ایسا زچ کیا کہ مرزاقادیانی بدحواسی سے بدزبانی تک جاپہنچا۔ اس معرکہ ۱۳۰۱ھ کی تفصیل حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ نے ’’فتاویٰ قادریہ‘‘ اشاعتِ اوّل ربیع الاوّل۱۳۱۹ھ مطابق جون ۱۹۰۱ء میں قلم بند کی ہے، جو فتاویٰ قادریہ کے صفحہ:۲۶ سے ۴۷ تک اکیس صفحات پر مشتمل ہے۔ چونکہ مرزاقادیانی کے روبرو اس کے کفر کی حقیقت الم نشرح کرنے کی پہلی کامیاب کوشش ہے، اس لئے اس کتاب میں سب سے پہلے رسالے کے طور پر شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
قارئین کرام خوشی محسوس کریں گے کہ ’’جماعتی سطح‘‘ پر سب سے پہلے قادیانی فتنے کو ناکوں چنے چبوانے کی سعادت اللّٰہ تعالیٰ نے ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کو نصیب کی۔ جس کے سربراہ اسی خاندنِ علمائے لدھیانہ کے چشم وچراغ، ان کی روایات کے امین، ہمارے مخدوم ومطاع حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ تھے، جنہوں نے اپنی جماعتی وخاندانی ذمہ داری کو ایسے نبھایا کہ اس پر دُنیا عش عش کراُٹھی۔ حق تعالیٰ اس عظیم خاندان کی باقیات کو تازیست، قادیانی فتنہ کے تعاقب کے لئے پاک وہند میں مزید درمزید اعلائے کلمۃالحق کی توفیق رفیق فرمائیں۔ یاد رہے کہ ’’اِحتسابِ قادیانیت‘‘ کی جلد دہم میں سب سے پہلے تکفیری فتوے کے حوالے سے ایک رسالے کے ابتدائی تعارف میں چند گزارشات کی تھیں، لیکن ہجری وعیسوی تاریخوں کی تقویم میں سہو ہوا، جس پر فاضل بھائی حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے متنبہ کیا۔ جس کا اِعتراف ِسہو کے ساتھ شکریہ لازم ہے۔
فقیر اللّٰہ وسایا
۲۶؍اگست ۲۰۰۵ء
6
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قادیانی اپنا ایمان قائم کرکے اس بارے میں گفتگو شروع کرتا تو فوراً اس کو جواب میں ہم یہ رسالہ پیش کرتے،حسبی اللہ ونعم الوکیل نعم المولٰی ونعم النصیر، وھی ھٰذا:
بعد الحمد والصلوٰۃ محمد بن مولانا مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی بیچ خدمت اہلِ اسلام کے عرض کرتا ہے کہ غلام احمد قادیانی کی تکفیر بباعث کلماتِ کفریہ کے اوّل ۱۳۰۱ہجری میں ہمارے ہی خاندان سے شروع ہوئی، اس وقت اکثر لوگ ہمارے مخالف رہے، بعد میں رفتہ رفتہ کل اہلِ علم نے قادیانی کے ضال مضل ہونے پر اتفاق کیا، حتیٰ کہ علمائے حرمین شریفین نے بھی قادیانی پر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ تحریر کردیا، جیسا کہ رسائل مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب میں تفصیل وار موجود ہے، اگرچہ ان فتوؤں سے لوگوں کو بہت ہدایت ہوئی، لیکن بعض بعض کورباطنوں کو اس آفتابِ ہدایت مآب سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا:
-
تہی دستان قسمت را چہ سود از رہبر کامل
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندر
یعنی جو کفریات اس کے صاف صاف آیاتِ قطعیات کے مخالف ہیں، ان پر ان کے ایمان کی بنیاد ہے، جیسا کہ رسالہ اِزالۃالاوہام میں عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے،(۱) اور جو خداتعالیٰ جل شانہ‘ نے ان کے معجزے مثل احیاء اموات اور مادرزاد نابینوں کو بینا کرنا اور جانور مٹی سے بناکر خدا کے حکم سے جاندار بنادینا وغیرہ وغیرہ، جن کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے،(۲) ان سب کو اس قادیانی نے مشرکانہ خیال لکھ کر منکرِ قرآن ہوکر اپنا کفر ظاہر کرکے زُمرۂ مرتدین میں داخل ہوا۔
اکثر مباحثات میں قادیانی اس امر پر زور دیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ان کے فوت ہونے کا ثبوت آیاتِ قرآنیہ میں موجود ہے۔ اگرچہ اس کا جواب علمائے اسلام دندان شکن اپنی اپنی تصانیف میں دے چکے ہیں، لیکن ہماری طرف سے بھی اس امر کا جواب دینا نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اس عاجز نے اس کا جواب لکھنا شروع کیا اور نام اس کا ’’کشف الغطاء عن ابصار من ضل وغویٰ‘‘ رکھا، حسبی اللہ ونعم الوکیل ونعم المولٰی ونعم الکفیل۔ اور ترتیب دیا گیا یہ رسالہ اُوپر مقدمہ اور مقصد اور خاتمہ کے۔
(۱) دیکھئے اِزالہ اوہام ص:۳۰۳، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴۔
(۲)قولہ تعالٰی: ’’وَرَسُولاً إِلَی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ أَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُم بِآیَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ أَنِّیْ أَخْلُقُ لَکُم مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَأَنفُخُ فِیْہِ فَیَکُونُ طَیْراً بِإِذْنِ اللّہِ وَأُبْرِئُ الأکْمَہَ والأَبْرَصَ وَأُحْیِـیْ الْمَوْتَی بِإِذْنِ اللّہِ ‘‘ (آل عمران:۴۹)۔
7
مقدمہ میں اِصطلاحات علمِ اُصول کی بیان کی جاتی ہیں، جو واسطے اِستنباطِ اَحکام کے معلوم ہونا ان کا نہایت ضروری ہے۔ ظاہر اس کلام کو کہتے ہیں جس کا مطلب الفاظ سے صاف صاف ظاہر ہو۔
قال فی المنار: الظاھر اسم لکلام ظھر المراد بہ للسامع بصیغتہٖ۔
نص وہ ہے جس کے واسطے کلام چلایا گیا،ھو النص ما سیق الکلام لأجلہ کذا فی نور الأنوار۔ (۱) مثال ان دونوں کی یہ آیت ہے: ’’وَأَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‘‘ (البقرۃ:۲۷۵) یعنی حلال کیا اللّٰہ تعالیٰ نے بیع کو اور حرام کیا سود کو۔ یہ آیت بیع کے حلال اور سود کے حرام ہونے پر بطور ظاہر کے دلالت کر رہی ہے، بیع اور سود میں جو فرق اس آیت سے شارع کو مقصود ہے، اس پر دلالت اس کی بطور نص کے ہے۔
اور حکم ظاہر اور نص کا یہ ہے کہ جو ان دونوں سے ثابت ہو، اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ قال فی نور الأنوار:
’’وحکمھما وجوب العمل بالذی ظھر منھما علٰی سبیل القطع والیقین۔‘‘
(نور الأنوار ص:۸۶ طبع مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ)
یعنی ان دونوں سے جو اَحکام ثابت ہوں وہ قطعی اور یقینی ہوتے ہیں۔
مفسر وہ ہے جو اپنی مراد پر ایسا واضح ہو کہ کسی تأویل کی اس میں گنجائش نہ ہو۔ قال فی المنار:
’’المفسر ما ازداد وضوحًا علی النص علٰی وجہ لا یبقی معہ إحتمال التأویل والتخصیص وحکمہ وجوب العمل بہ۔‘‘ (المنار مع نور الأنوار ص:۸۶،۸۷ طبع نعمانیہ کوئٹہ)
یعنی ظاہر اور نص اگرچہ قطعی ہیں، لیکن اِحتمال تأویل کو مانع نہیں، یعنی اگر کوئی دلیل قطعی اس اَمر پر دلالت کرے کہ یہاں ظاہری معنی حقیقی مراد نہیں، بلکہ مجازی مراد ہیں، تو اس وقت ظاہری معنی ظاہر اور نص میں مراد نہیں لئے جائیں گے اور مفسر میں ایسے احتمال کو گنجائش نہیں، کیونکہ شارع کے بیان کرنے سے اس کی اصلی مراد معلوم ہوگئی، جیسا کہ آیت: ’’وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً ‘‘ (التوبۃ:۳۶) میں لفظ کافۃ کا واسطے بیان کرنے اس اَمر کے زیادہ کیا گیا ہے تاکہ احتمال اس اَمر کا باقی نہ رہے کہ شاید مشرکین سے بعض مشرک مراد ہوں، کل مراد نہ ہوں۔
اور حکم مفسر کا یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ ساتھ احتمال منسوخ ہوجانے کے یعنی اس کو منسوخ کرنے کے واسطے شارع حکم لگاسکتا ہے، قال فی نور الأنوار:
’’وحکمہ وجوب العمل بہ علٰی إحتمال النسخ والتبدیل ای فی زمن النبی فأما بعد فکل القرآن محکم لا یحتمل النسخ۔‘‘ (نور الأنوار ص:۸۷)
اور محکم اس کا نام ہے جس کا مفہوم قابلِ نسخ وتبدیل نہ ہو۔ قال فی المنار:
(۱) نور الانوار ص:۸۵، مکتبہ نعمانیہ کوئٹہ۔
8
’’المحکم فما احکم المراد بہ عن إحتمال النَّسخ والتبدل۔‘‘ (نور الأنوار ص:۸۷)
اور حکم اس کا یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے، اور کسی اِحتمال کو اس میں گنجائش نہیں۔ قال فی المنار:
’’وحکمہ وجوب العمل بہ من غیر إحتمال کقولہ تعالٰی: إن اللہ بکل شیء علیم۔‘‘
(نور الأنوار ص:۸۸)
یعنی تحقیق اللّٰہ تعالیٰ ہر شے کو جانتا ہے۔ یہ مضمون قابلِ نسخ وتبدیل نہیں، اللّٰہ تعالیٰ کو ہمیشہ ہر شے کا علم ہے۔
خفی وہ ہے جس کی مرا دبغیر غور کرنے کے معلوم نہ ہو، قال فی المنار:
’’الخفی فما خفی مرادہ بعارض غیر الصیغۃ لا ینال إلّا بالطلب۔‘‘ (نور الأنوار ص:۸۹)
جیسا کہ آیت: ’’وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ أَیْدِیَہُمَا ‘‘ (المائدۃ:۳۸) کی ظاہر ہے چور کے حق میں، اور خفی ہے طرار یعنی کیسہ بر کے حق میں، چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم اس آیت سے بلاغور کرنے کے فوراً معلوم ہوجاتا ہے، لیکن طرار کے ہاتھ کاٹنے کا حکم اس آیت سے بعد غور کے مفہوم ہوتا ہے کہ طرار کی چوری معمولی چوریوں سے بڑھ کر ہے، اس واسطے اس کا ہاتھ ضرور کاٹنا چاہئے۔
اور حکم اس کا یہ ہے کہ اس میں غور کرکے معلوم کرے کہ اس کے خفی ہونے کا کیا سبب ہے، تاکہ اس کی مراد معلوم ہو۔ قال فی المنار:
’’وحکمہ النظر فیہ لیعلم ان اختفائہ لمزیۃ او نقصان فیظھر المراد بہ۔‘‘
(نور الأنوار ص:۹۰)
اور مشکل اس کا نام ہے جو اپنے جیسوں میں داخل ہوکر مشتبہ ہوجائے۔
حکم اس کا یہ ہے کہ اس کی مراد پر حق ہونے کا اِعتقاد کرنا، پھر متوجہ ہوکر غور اور تامل کرنا، یہاں تک کہ اس کی مراد ظاہر ہوجائے۔ قال فی نور الأنوار:
’’والمشکل فھو الداخل فی اشکالہ وحکمہ اعتقاد الحقیۃ فیما ھو المراد ثم الإقبال علی الطلب والتأمل فیہ إلٰی ان یتبین المراد۔‘‘ (نور الأنوار ص:۹۰)
جیسا کہ آیت: ’’ فَأْتُواْ حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ ‘‘ (البقرۃ:۲۲۳) میں لفظ اَنّٰی کا مشتبہ ہوگیا، کیونکہ اس لفظ کے دو معنی ہیں: ایک معنی اس کے ’’من أین‘‘ یعنی کسی مکان سے، اور دُوسرے معنی اس کے ’’کیف‘‘ یعنی کسی طرح، جب غور اور تأمل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں ’’کیف‘‘ کے معنوں میں مستعمل ہے، کیونکہ لفظ ’’حرث‘‘ جو زراعت کے معنوں میں ہے، وہ اسی معنی کو معین کرتا ہے۔
اور مجمل وہ ہے جس میں معانی کے ازدحام سے مراد اس کی ایسی مشتبہ ہوجائے کہ اس کی عبارت میں فکر کرنے سے اِشتباہ رفع نہ ہو، بلکہ اجمال کرنے والے سے اس کی تفسیر معلوم کرنے کی حاجت پڑے اور حکم اس کا اس کی مراد کو برحق اعتقاد کرنا اور توقف کرنا یہاں تک کہ ظاہر ہو ساتھ بیان کرنے اجمال کنندہ کے، قال فی نور الأنوار:
9
’’اما المجمل فما ازدحمت فیہ المعانی واشتبہ المراد بہ اشتباھًا لا یدرک بنفس العبارۃ بل بالرجوع إلی الإستفسار ثم الطلب ثم التأمل وحکمہ إعتقاد الحقیۃ فیما ھو المراد والتوقف فیہ إلٰی ان یتبین ببیان المجمل کالصلٰوۃ والزکوٰۃ۔‘‘ (نور الأنوار ص:۹۱،۹۲)
یعنی لفظ صلوٰۃ وزکوٰۃ کا آیت:’’وَأَقِیْمُواْ الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ ‘‘ (البقرۃ:۴۳) میں مجمل تھا، کیونکہ معنی ’’صلوٰۃ‘‘ کے لغتِ عرب میں دُعا کے ہیں، اور معلوم نہ ہوا کہ کونسی دُعا یہاں مراد ہے؟ پس اِستفسار کرنے سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان کردیا اور اس کو اَدا کرکے ہم کو معلوم کرادیا کہ یہاں قیام، رُکوع، سجود والی دُعا مراد ہے۔
اسی طرح ’’زکوٰۃ‘‘ کے معنی لغت میں بڑھنے کے ہیں، اور یہاں یہ مراد نہیں، بعد اِستفسار کے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیا کہ اس کے معنی چالیسواں حصہ مال کا بعد ایک سال کے ادا کرنا ہے۔
اور متشابہ وہ ہے جس کی مراد کا معلوم ہونا قبل روز قیامت ممکن نہ ہو۔
اور حکم اس کا یہ ہے کہ اپنے اِعتقاد میں جو اس سے شارع نے مراد رکھا ہے، حق جاننا قبل معلوم ہونے اس مراد کے جیسا کہ حروفِ مقطعات جو سورتوں کے اوائل میں ہیں، مثل الٓمّٓ وغیرہ کے، قال فی نور الأنوار:
’’المتشابہ فھو إسم لما انقطع رجاء معرفۃ المراد منہ ولا یرجٰی بدوہ اصلا کالمقطعات فی اوائل السور مثل الٓمٓ، حمٓ۔‘‘ (نور الأنوار ص:۹۲،۹۳)
ظہور کے مراتب میں محکم کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے، مفسر کا درجہ نص سے، اور نص کا ظاہر سے اعلیٰ ہے۔ پس سب سے محکم کا درجہ اعلیٰ اور ظاہر کا سب سے ادنیٰ ہوا۔ اور خفا میں سب سے زیادہ خفی متشابہ ہے، اور مجمل مشکل سے اور مشکل خفی سے زیادہ ہے۔ پس متشابہ کا درجہ خفا میں اعلیٰ ہوا، اور خفی کا سب سے ادنیٰ۔ بروقتِ تعارض جس کا مرتبہ ظہور میں اعلیٰ ہوگا، اس پر عمل کیا جائے گا، اور جس کا مرتبہ خفا میں کم ہوگا، وہ اس پر جس میں خفا زیادہ ہے، غالب ہوگا، جیسا کہ تفصیل اس کی نورالانوار وغیرہ کتبِ اُصول میں مذکور ہے۔
مقصد اس میں عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آخر زمانے میں نازل ہونے کا بیان ہے، دلائلِ شرعیہ: قرآن اور حدیث اور اِجماع اور قیاس ہیں۔ آیاتِ قرآنیہ کا درجہ سب سے بڑھ کر ہے، بعد اس کے حدیث ہے، بعد ازاں اِجماع ہے، اگر تینوں میں سے کوئی موجود نہ ہو تو قیاسِ مجتہد سے دلیل پکڑی جاتی ہے، چونکہ اس مقصد کے اِثبات کے واسطے قرآن اور احادیث اور اِجماع موجود ہیں، قیاسی دلائل سے ثابت کرنا ضروری نہیں، لہٰذا ترتیب وار دلائلِ ثلاثہ کو واسطے اِثبات اس مقصد کے بیان کرتا ہوں، حسبی اللہ ونعم الوکیل نعم المولٰی ونعم النصیر۔
قال اللہ تعالٰی:
’’وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ
10
وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً۔ بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘ (النساء۱۵۷، ۱۵۸)
ترجمہ اس کا بامحاورہ موضح القرآن سے معہ بعض فوائد کے نقل کیا جاتا ہے:
’’اور لعنت کی ہم نے اہلِ کتاب پر اور بسبب کہنے ان کے کہ: تحقیق ہم نے مارڈالا مسیح عیسیٰ بیٹے مریم کے کو پیغمبر اللّٰہ کا تھا، اور نہیں مارا اس کو اور نہ سولی دی اس کو، لیکن شبہ ڈالا گیا واسطے ان کے، اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا انہوں نے بیچ اس کے البتہ بیچ شک کے ہیں اس سے، نہیں واسطے ان کے ساتھ اس کے کچھ علم، مگر پیروی کرنا گمان کا، اور نہ مارا اس کو بہ یقین، بلکہ اُٹھالیا اس کو اللّٰہ نے طرف اپنی اور ہے اللّٰہ غالب حکمت والا۔‘‘
فائدہ:۔۔۔ یہود کہتے ہیں کہ ہم نے مارا عیسیٰ کو۔ اللّٰہ نے فرمایا: اس کو ہرگز نہیں مارا۔ خداتعالیٰ نے اس کی ایک صورت ان کو بتادی، اس کو سولی چڑھایا۔ پھر فرمایا کہ نصاریٰ بھی اوّل سے یہی کہتے ہیں کہ مسیح کو مارا نہیں، وہ زندہ ہے، لیکن تحقیق نہیں سمجھتے، کئی باتیں کہتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ: بدن کو مارا، ان کی رُوح اللّٰہ کے پاس چڑھ گئی، بعض کہتے ہیں: مارا تھا، پھر تین روز میں زندہ ہوکر بدن سے چڑھ گئے، ہر طرح وہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس کو نہیں مارا، سو یہ خبر اللّٰہ کو ہے، اس نے بتایا اس کی صورت کو مارا اور ان کے پکڑتے وقت نصاریٰ سرک گئے تھے اور یہود ابھی نہ پہنچے تھے، اس دن کی خبر نہ ان کو، نہ ان کو، تمام ہوئی عبارت موضح القرآن کی بقدرِ حاجت۔
چونکہ اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو مقتول یا مصلوب گمان کرکے ان کا فوت ہونا قرار دیتے ہیں، بالکل غلطی پر ہیں، اگرچہ شروع اس آیت کا واسطے مضمون مذکورہ کے بموجب قاعدہ اُصول نص قطعی الدلالۃ تھا، لیکن تاکیداً باربار بیان کرنا شروع کا اس مضمون کو اور اَخیر میں آپ کا اُٹھالینا جتلاکر ُکل اِحتمالات کا سلسلہ ایک لخت کاٹ ڈالا، پس یہ آیت بموجب قاعدہ اُصول قسم مفسر میں داخل ہوئی، البتہ لفظ ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ‘‘ میں کسی قدر اِجمال تھا، سو اَحادیث میں یہ مضمون تفصیلاً آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرماکر اس کا اِجمال دُور کردیا کہ خداتعالیٰ نے آپ کو آسمان کی طرف اُٹھالیا، قیامت کے نزدیک آپ آسمان سے نزول فرمائیں گے جیسا کہ صحیح بخاری اور اس کی شرح وغیرہ میں بجنسہٖ نقل کیا جائے گا۔
خلاصہ مطلب اس کلام کا یہ ہے کہ اس آیت سے زندہ اُٹھالینا آپ کا اسی جسمِ عنصری کے ساتھ قطعی طور پر ثابت ہے، اور اس میں کسی اِحتمال کو گنجائش نہیں، پس یہ آیت واسطے ثبوت مضمونِ مذکور کے آیت ’’وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ‘‘ سے، جو واسطے فرضیت نماز کے وارِد ہے، یقینی ہونے میں بدرجہا عالی ہے، کیونکہ یہ آیت اصل میں مجمل تھی، نماز کا ثبوت اس سے قبل بیان کرنے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نہیں ہوسکتا تھا۔ اور آیت ’’وَمَاقَتَلُوْہُ‘‘ واسطے مضمون مذکور کے نص اور مفسر ہے۔ خودبخود یہ آیت واسطے ثبوت زندگی عیسیٰ علیہ السلام کے کافی اور وافی ہے، جو شخص نماز کی فرضیت سے انکار کرے، اس پر اہلِ اسلام کفر کا فتویٰ دیتے ہیں۔ پس جو شخص زندگیٔ
11
عیسیٰ کا منکر ہو، اس پر فتویٰ کفر کا دینا نہایت ضروری ہوا، کیونکہ یہ آیت نماز کی آیت سے یقینی ہونے میں بہت عالی مرتبہ پر ہے، کما مرّ غیر مرّۃ۔ پس جو شخص نماز کے منکر کو کافر قرار دے اور عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے منکر کو اِیمان دار اِعتقاد کرے، پرلے درجے کا ضال اور مضل ہے۔ جب خداتعالیٰ نے زندگی عیسیٰ علیہ السلام کی یقینی طور پر بیان فرمائی، اب بعد میں آپ کے انتقال ہونے کا حال بیان فرمایا:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء۱۵۹)
’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب سے، مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے، پہلی موت اس کی کے، اور دِن قیامت کے ہوگا اس پر گواہ۔‘‘
یعنی اہلِ کتاب آپ کو زندہ دیکھ کر اِیمان لائیں گے اور ان کے ُکل شبہے رفع ہوجائیں گے، بعد اس کے آپ اِنتقال فرمائیں گے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے:
’’والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِالآیۃ، رواہ الشیخان۔‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح، باب نزول عیسٰی علیہ السلام ص:۴۷۹)
اگرچہ آیت میں اِجمالاً بیان تھا جیسا کہ نماز کے واسطے آیت: ’’وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ‘‘ اور زکوٰۃ کے بارے میں ’’وَاٰتُوْا الزَّکوٰۃَ‘‘ وارِد ہے، ان دونوں آیتوں میں حکم نماز اور زکوٰۃ کا اِجمالاً مذکور ہے، اوقات اور عددِ رکعات وغیرہ جو نماز میں ضروری ہیں، کسی ایک کا بھی ذِکر نہیں، اسی طرح جو زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط اور اسباب شرعاً ضروری ہیں، اس آیت میں ان میں سے ایک بھی مذکور نہیں، فقط آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیان کرنے سے سب حال معلوم ہوا۔
اسی طرح اگرچہ اس آیت میں ایمان لانا اہلِ کتاب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بیان ہے، نزول وغیرہ اُمور کا حال حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیان کرنے سے معلوم ہوا، پس جیسا کہ آیت: ’’وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ‘‘ وآیت: ’’وَاٰتُوْا الزَّکوٰۃَ‘‘ واسطے فرضیت نماز اور زکوٰۃ کے قطعیات سے ہے، ان کے انکار سے کفر لازم آتا ہے، اسی طرح یہ آیت بھی عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر قطعی طور پر دلالت کر رہی ہے۔
فإن قلت: لا یستقیم ھٰذا الإستدلال إلَّا أن یکون الضمیران راجعین إلٰی عیسٰی علیہ السلام البیضاوی زیف ھٰذا الإحتمال ورجح عود ضمیر موتہ إلٰی أھل الکتاب مؤَیّدًا لقرائۃ اُبیّ بن کعب قبل موتھم، وتبعہ مصنف المظھری حیث قال: قلت: نزول عیسٰی قبل یوم القیامۃ حق وان یھلک فی زمانہ الملل کلھا إلَّا الإسلام حق ثابت بالصحاح من الأحادیث المرفوعۃ لٰکن کونہ مستفادًا من ھٰذہ الآیۃ وتأویل الآیۃ بإرجاع الضمیر الثانی إلٰی عیسٰی علیہ السلام ممنوع وکیف یصح ھٰذا التأویل مع أن کلمۃ: إِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِ شامل
12
لموجودین فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم البتۃ سواء کان ھٰذا الحکم خاصًّا بھم او لا، فإن حقیقۃ الکلامللحال ولا وجہ لأن یراد بہ فریق من أھل الکتاب یوجدون حین نزول عیسٰی علیہ السلام فالتأویل الصحیح ھوإرجاع الضمیر الثانی إلٰی أھل الکتاب ویؤَیّدُہ قرائۃ اُبیّ ابن کعب انتھٰی۔
قلت: قولھما باطل لکونہ مخالفًا لما علیہ الجمھور من المحققین کصاحب المدارک والإمام الرازی وشراح البخاری وغیرھم۔
قال فی المدارک: الضمیران لعیسٰی علیہ السلام لیؤْمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی وھم أھل الکتاب الذین یکونون فی زمان نزولہ، روی انہ ینزل من السماء فی آخر الزمان فلا یبقی احد من أھل الکتاب إلَّا لیؤْمنن بہ حتّٰی تکون الملۃ واحدۃ وھی ملۃ الإسلام۔
(تفسیر النسفی ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵، طبع مکتبۃ دار ابن کثیر، بیروت)
وبمثلہ فی التفسیر الکبیر وغیرہ من التفاسیر وشروح البخاری وغیرھا من کتب الحدیث، وتمسکھما بقرائۃ اُبیّ بن کعب اوھن من نسج العنکبوت، لأن قرائۃ اُبیّ بن کعب لیست بمتواترۃ ولا متضادۃ فالعملعلیھما واجب، کما صرح الأصولیون فی قولہ تعالٰی: حَتّٰی یَطْھُرْنَ ج بقرائتی التشدید والتخفیف بوجوب الغسل للحائض لجواز الوطی إن قطع دمہ فی ما دون العشرۃ عملًا بقرائۃ التشدید وعدم وجوبہ إن قطع بعد تمام العشرۃ عملًا بقرائۃ التخفیف، وھٰھنا ایضًا کذالک فإن إیمانھم قبل موت عیسٰی علیہ السلام فی زمن نزولہ لا یمکن إلَّا قبل موتھم، لأن ما بعد الموت لم یبق احد مکلفًا بل لم یبق اھلًا للإیمان قبیل الموت وقت معائنۃ الملائکۃ العذاب کما بین فی موضعہ، وأما قول صاحب المظھری لا وجہ لأن یراد من لفظ اھل الکتاب فریق یوجدون آہ ظاھر الفساد لأن الإضافۃ واللام تکونان للعھد ما لم تقم القرینۃ علٰی خلافہ، وھٰھنا ایضًا للعھدللذین یوجدون فی زمن نزول عیسٰی علیہ السلام، ولم تقم القرینۃ علٰی خلافہ، بل القرائن قائمۃ علٰی ھٰذا العھد سنذکرھا عن قریب إن شاء اللہ تعالٰی ألا تریٰ ان ما ذکر فی المدارک من لفظ الحدیث فلا یبقی احد مناھل الکتاب آہ لا یمکن ان یراد بہ غیر الذین یوجدون فی زمان نزولہ علیہ السلام وکذا من لفظ الخطاب الذی ھو موضوع للحاضر ارید بہ الذین یوجدون فی آخر الزمان قطعا ھو قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم الحدیث۔ وبالجملۃ القول بعدم کون نزول عیسٰی علیہ السلام مستفادًا من ھٰذہ الآیۃبعد إدعاء عقلیۃ نزولہ فی آخر الزمان مستدلًا بالأحادیث الصحاح کما مر من صاحب المظھری لیس علٰی ما ینبغی لأن الأحادیث کلھا وحی من اللہ عز وجل لقولہ تعالٰی:وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوٰی۔ إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحٰی (النجم۳، ۴) فی الواجب علینا ان نعتقد انھا مطابقۃ للقرآن سیما إذا ظھر لنا وجہ المطابقۃ نعتہ مع کونھا مؤَیدۃ بأقوالالصحابۃ الذین شاھدوا الوحی وکانوا معصومین فی تبلیغ الشرائع کما ھو فیما نحن فیہ فالتمسک بھا واجبۃ،
13
وعلینا ان نذکر الوجوہ التی تدل علٰی ان الضمیر الثانی راجع إلٰی عیسٰی علیہ السلام۔
الوجہ الأوّل: انہ یلزم علٰی تقدیر إرجاع الضمیر الثانی إلٰی أھل الکتاب الإنتشار فی الضمائر وھو قادح للبلاغۃ، فاختیارہ فی الکلام القدیم فریۃ بلا مریۃ، ولذا لم یذھب إلیہ اکثرھم۔
قال بدرالدین العینی فی شرح البخاری: روی من طریق ابی رجاء عن الحسن قال: قبل موت عیسٰی علیہ السلام و اللہ وانہ لحی ولٰکن إذا انزل آمنَوا بہ أجمعون وذھب إلیہ أکثر أھل العلم انتھٰی۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج:۱۵ ص:۳۹، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
والوجہ الثانی: ان السیاق والسباق کلاھما یرجحان ان الضمیر الثانی راجع إلٰی عیسٰی علیہ السلام لأوّل الکلام لما الخبر إلٰی ان عیسٰی علیہ السلام حیٌّ فمقتضی المقام ان یذکر موتہ وذالک لا یستقیم إلّا بإرجاع الضمیر الثانی إلٰی عیسٰی علیہ السلام۔
والوجہ الثالث: ان علٰی ھٰذا التقدیر تکون ھٰذہ الآیۃ دلیلًا آخر علٰی منکری حیاتہ فإن إیمان اھلالکتاب لما کان منوطا بحیاتہ إستحال ان یموت قبلہ۔
والوجہ الرابع: انہ إذا ارید من الضمیر الثانی اھل الکتاب لا یکون إفادۃ بل إعادۃ لأن قولہ تعالٰی:لیؤْمنن دال علٰی انھم وقت الإیمان یکونون أحیائً لأن الحیاۃ من لوازم الإیمان والشیء إذا ثبت، ثبت بلوازمہ،فإثبات حیاتھم ثانیا بھٰذا الضمیر لا یکون إلَّا إعادۃ بخلاف ما إذا ارید منہ عیسٰی علیہ السلام فإنہ حینئذ یکون إفادۃ قطعًا لأن مفادہ وھو کون عیسٰی علیہ السلام حیًّا فی وقت إیمانھم بہ لم یکن معلومًا من قبل، ومن المعلوم ان حمل الکلام البلیغ سیما الکلام المعجز علی الإفادۃ أولٰی لا سیما الإفادۃ التی ازداد بھا إعجاز القرآن لکونہ الاعلی نزولہ من السماء، لأن الموت لا تکون إلَّا فی الأرض لقولہ تعالٰی:وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ (طہ:۵۵) وذالک یستلزم نزولہ من السماء یعنی کما ان الآیۃ السابقۃ دلت علٰی کونہ مرفوعًا إلی السماء کذالک ھٰذہ الآیۃ دلت علٰی کونہ مرفوعًا إلی السماء کذالک ھٰذہ الآیۃ دلت علٰی موتہ فی الأرض بعد نزولہ وھو من المغیبات الخارجۃ عن طوقالبشر الدالۃ علٰی إعجاز القرآن بأبلغ وجہ۔
والوجہ الخامس: انہ یلزم علٰی تقدیر إرجاع الضمیر إلٰی أھل الکتاب ان کل أحد منھم یؤْمن بعیسٰیعلیہ السلام قبل موتھم وھو خلاف الظاھر والتأویل بأن المراد انھم یؤْمنون وقت معاینۃ العذاب قبیل الموت وإن لم یطلع علیہ أحد من جلسائہ لا طائل تحتہ لأنہ لم تقم بہ حجۃ علیھم بل لھم ان یقولوا لو کان القرآن من کلام اللہ لم یتخلف لأنہ یستلزم الکذب فی کلامہ تعالی اللہ عن ذالک علوًّا کبیرًا بخلافٍ ما إذا ارید بہ عیسٰی علیہ السلام فإن الآیۃ حینئذ تصیر حجۃ لنا بعد ما کانت حجۃ علینا قال العلامۃ بدرالدین العینی فی شرحہ للبخاری:
14
’’والحکمۃ فی نزول عسیٰی علیہ السلام الرد علٰی الیھود فی زعمھم الباطل انھم قتلوہ وصلبوہ، فبیّن اللہ تعالٰی کذبھم۔‘‘ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج:۱۵ ص:۳۹)
خلاصہ مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ اگر کوئی اِعتراض کرے کہ تفسیر بیضاوی اور تفسیر مظہری میں ضمیر قبل موتہ سے اہلِ کتاب کا فقط مراد لینا صحیح قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں قرائۃ اُبیّ بن کعب جو قبل موتہم کے لفظ سے مروی ہے،قبل موتہ کے مخالف نہیں ہے۔ کتبِ اُصول میں لکھا ہے جہاں دو قرائتیں باہم مخالف نہ ہوں، دونوں پر عمل کرنا لازم ہے، جیسا کہ لفظ: ’’یطھرن‘‘ میں دو قرائتیں تخفیف اور تشدید کے ساتھ مروی ہیں، دونوں پر عمل کرکے علماء نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ تخفیف کی قرائۃ سے وہ عورت مراد لی جائے جس کا حیض بعد دس روز کے بند ہوا ہے، اس سے مجامعت کرنی شوہر کو اسی وقت دُرست ہے، عورت کا غسل کرنا شرط نہیں ہے، اور تشدید کی قرائۃ سے وہ عورت مراد لی گئی ہے جو قبل گزرنے دس روز کے حیض اس کا بند ہوگیا ہو تو ایسی عورت جب تک غسل نہ کرلے اس سے مجامعت کرنی شوہر کو دُرست نہیں۔ اسی طرح یہاں بھی دونوں قرائتوں پر عمل ہوسکتا ہے یعنی قبل موتہ زندگی عیسیٰ علیہ السلام کی اورقبل موتہم سے اہلِ کتاب کا زندہ ہونا مراد لینا دُرست ہے۔ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے آخر زمانے میں نزول فرمائیں گے، جو اس وقت اہلِ کتاب بقیدِ حیات ہوں گے آپ کو زندہ دیکھ کر آپ پر اِیمان لائیں گے، جیسا کہ احادیثِ صحاح سے اس امر کا حق ہونا خود صاحبِ مظہری نے بڑی شدّومدّ سے بیان کیا ہے، پس اہلِ کتاب کا مراد لینا ضمیر ثانی سے بوجوہاتِ ذیل بالکل بے محل ہے:
وجہ اوّل :۔۔ یہ ہے کہ ضمیر ’’بہ‘‘ سے عیسیٰ علیہ السلام کا، اور ضمیر قبل موتہ سے اہلِ کتاب مراد لینے سے ضمیروں میں اِنتشار لازم آتا ہے، اور یہ امر اہلِ بلاغت کے نزدیک مذموم وقبیح ہے، پس کلامِ الٰہی میں ایسے اِحتمال کا جاری کرنا نہایت بے جا ہے۔
وجہ دوم:۔۔ یہ ہے کہ جب آیت کا سباق اور سیاق آپ کی زندگی وانتقال کے بیان میں ہے، پس موت کا ذِکر غیر کی طرف راجع کرنا خلافِ عقل ونقل ہے۔
وجہ سوم:۔۔ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مراد لینے سے دوسری دلیل واسطے رَدّ منکرینِ حیات کے قائم ہوتی ہے، یعنی جب تک ُکل اہلِ کتاب ان پر اِیمان نہیں لائیں گے، وہ فوت نہ ہوں گے۔
وجہ چہارم یہ ہے کہ اِیمان لانے والے کا زندہ ہونا اَمر لازمی ہے، کیونکہ مرنے کے بعد تو کوئی شخص مکلف نہیں رہتا، پس زندہ ہونا اہلِ کتاب کا وقت اِیمان کے لفظ اِیمان اسے جو لیؤمنن میں مذکور ہے، ثابت ہوگیا قبل موتہ کی ضمیر سے دوبارہ ثابت کرنا بے فائدہ ہے، البتہ عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانے میں آپ کا زِندہ ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح آپ پر اِیمان لانا بعد ممات کے بھی ہوسکتا تھا، چونکہ یہ واقعہ وقتِ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام زمانۂ آئندہ میں بقیدِ حیات آپ کے ہونے والا تھا۔ خداتعالیٰ نے بطور پیشین گوئی کے قرآن شریف میں بیان فرمادیا، اور وہ بلااِرجاعِ ضمیرِ ثانی طرف عیسیٰ علیہ السلام نہیں بن سکتا، اسی واسطے جمہور کا یہی مذہب ہے کہ ضمیرِ ثانی سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں، جیسا کہ گزرچکا بیان اس کا پہلے۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام جو بموجب آیت پہلی کے آسمان پر زندہ ہیں، پس انتقال کرنا آپ کا جو اس آیت میں دوسری سے ثابت ہوتا ہے بعد نزول کے
15
ہوگا، کیونکہ مرکر دفن ہونا زمین میں بموجب فرمانے پروردگار کےوَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ (طہ:۵۵) بدون نزول کے ممکن نہیں۔ پس یہ دونوں آیتوں سے پورا واقعہ جو اَحادیثِ صحاح میں مذکور ہے، ثابت ہوا۔
وجہ پنجم یہ ہے کہ برتقدیر مراد لینے اہلِ کتاب کے یہ اِعتراض پڑتا ہے کہ اگر ہر اہلِ کتاب کا وقت مرنے کے اِیمان لانا عیسیٰ علیہ السلام پر پایا جاتا تو یہ امر نہایت شہرت پکڑتا، اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ہر اہلِ کتاب وقت مرنے کے خفیہ طور پر اِیمان لاتا ہے، کسی کو اس کے اِیمان کی خبر تک نہیں ہوتی، لاطائل اور خلافِ ظاہر ہے، اور برتقدیر مراد لینے عیسیٰ علیہ السلام کے یہ آیت واسطے رَدِّمنکرینِ حیات کے دلیلِ قاطع ہے، یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں اہلِ کتاب کو زِندہ معلوم ہوں گے، اس وقت ان کے سب شبہ رفع ہوجائیں گے، یقینی طور پر ان کو یہ امر ثابت ہوجائے گا کہ جو حال عیسیٰ علیہ السلام کا اہلِ اسلام بیان کرتے تھے، وہی ٹھیک نکلا، ہمارا کہنا سراسر جھوٹ تھا۔
فإن قلت: ان قولہ تعالٰی: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ یدل علٰی ان الرفع کان بعد موتہ معارضًا لقولہ تعالٰی: ’’وَمَاقَتَلُوْہُ‘‘ آہ۔
قلت: اولًا ان المعارضۃ لا تتصور فی کلام الشارع لأنھا دلیل الجھل، کما صرح بہ صاحب التوضیح، لٰکنھا توجد فی الأحکام بالنسبۃ إلینا لجھلنا بالتاریخ ویحمل ذالک فی الحقیقۃ علی النسخ کما بین فی الأصول وأما فی الأخبار کما فیما نحن فیہ فلا یمکن ان یوجد فی کلام احد فضلًا عن کلام الشارع، لأن النَّسخ اللازم للمعارضۃ لا یتصور فی الأخبار أو تحقق المحکی عنہ فی زمانہ لا بد صدق الخبر ولا یمکن ارتفاعہ بالنسخ ولو حملنا التعارض بمعنی التخالف، فنقول: لا تعارض لأن کون التوفی بمعنی الموت أو مساویا لہ لم یثبت بعدد دوزخرط القتاد بل ھو مشترک بین إستیفاء الحق والقبض وھما من لوازمہ العامۃ لأن کون الإستیفاء عاما ظاھر وکذا القبض لوجودہ فی النوم ایضًا فی قولہ تعالٰی: ’’اَللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی‘‘ (الزمر:۴۲) وفی قولہ تعالٰی: ’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُم بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَی أَجَلٌ مُّسَمًّی ‘‘ (الأنعام:۶۰) فإن التوفی استعمل فی الآیۃ الاُولٰی للقبض الذی یعقبہ الموت او المنام، وفی الثانیۃ للنوم خاصۃ فثبت کون التوفی عاما من الموت وذالک ما اردناہ، ولأن آیۃ القتل مفسر فی إثبات الحیاۃ کما مرَّ، آیۃ التوفی وإن کان مشترکًا لیکن قولہ تعالٰی ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ وقولہ علیہ السلام: ’’لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم‘‘ الحدیث، کما مرَّ، یشعر إلٰی ان التوفی بمعنی القبض الذی لا یعقبہ الموت، کما لا یخفی، وکون التوفی مخلًا للموت لا یجدی ایضًا لأن التوفی بسبب الإشتراک واحتمال کونہ بعد نزولہ مشکل والمشکل لا یعارض المفسر الذی ھو آیۃ القتل لأن المفسر مقدم علی المشترک بمراتب کما مرَّ فی المقدمۃ، والتعارض لا یکون إلَّا فی الآیۃ المساویۃ فی الدرجۃ کما بین فی موضعہ۔ فإن قلت: إحتمال کون التوفی فی آخر الزمان بعد الرفع یبطلہ تقدیم ذکرہ قبل الرفع۔ قلت: عطف الرفع علی التوفی بالواو لا یدل علٰی کونہ
16
مؤَخرًا عنہ فی الوجود ایضًا لأن الواو لیست للترتیب کما فی قولہ تعالٰی: ’’وَأَوْحَیْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمٰعِیْلَ وَإِسْحٰقَ وَیَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَعِیْسَی وَأَیُّوبَ وَیُونُسَ وَہٰرُونَ وَسُلَیْمٰن‘‘ (النساء:۱۶۳) الآیۃ، فإن سلیمان ذکر بعطف الواو بعد عیسٰی فی مرتبۃ خامسۃ، ومن المعلوم ان سلیمان مقدم علیہ بزمان کثیر ولھٰذا ذھب المفسرون إلٰی ان فی بعض الفاظ القرآن تقدیم وتأخیر، منھم وعدوا لفظ التوفی والرفع المذکورین فی ھٰذہ الآیۃ من کما صرح السیوطی فی الإتقان حیث قال: واخرج عن قتادۃ فی قولہ ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ قال: ھٰذا من المقدم والمؤَخر: إنی رافعک إلیَّ ومتوفیک انتھٰی۔ وبہ یرتفع التدافع ولیحصل الموافقۃ بین الآیتین۔ ولو فرض التعارض بینھما فلیس السبیل إلَّا الرجوع إلی الأحادیث کما بین فی الأصول، والأحادیث تنادی بأعلٰی نداء ان عیسی بن مریم علیہ السلام حیٌّ ینزل فی آخر الزمان إلی الأرض۔
ولنذکر نبذًا منھا ما یشفی العلیل ویروی الغلیل روی البخاری عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم عیسی بن مریم حَکَمًا عدلًا، یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیھا، ثم یقول ابوھریرۃ: واقرئوا إن شئتم: وَإِنْ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً(النساء۱۵۹) (بخاری ج:۱ ص:۴۹۰)۔
وعن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کیف انتم إذ انزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم، رواہ البخاری (ج:۱ ص:۴۹۰)۔
قال الطیبی: ای یأمکم عیسٰی حال کونہ فی دینکم قیل یعکر علیہ قولہ فی حدیث مسلم فیقال لہ: صل لنا! فیقول: لا! إن بعضکم علٰی بعض امراء، تکرمۃً لھٰذہ الاُمَّۃ۔
قال ابن الجوزی: لو تقدم عیسٰی علیہ السلام إمامًا اوقع فی النفس إشکالًا ولقیل اتراہ تقدم نائبًا او مبتد شرعًا فصلی مأموما لئلا یتدنس وجہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لا نبی بعدی‘‘ وذکر فی کیفیۃ نزولہٖ انہ ینزل وعلیہ ثوبان ممصران، رواہ احمد عن ابی ھریرۃ مرفوعًا۔ والممصر ما فیہ صفرۃ خفیفۃً۔
وفی کتاب الفتن لأبی نُعیم (ص:۳۳۸ و۳۴۴، طبع مکتبۃ الصفا): یھبط المسیح عیسی ابن مریم علیہ السلام عند القنطرۃ البیضاء علٰی باب دمشق الشرقی إلٰی طرف الشجر تحملہ غمامۃً واضعًا یدیہ علٰی منکب ملَکین، علیہ ربطتان ۔۔۔۔۔ إذا کب رأسہ یقطر منہ کالجمان، فیأتیہ الیھود فیقولون: نحن اصحابک! فیقول: کذبتم۔ ثم تأتیہ النصاریٰ فیقولون: نحن اصحابک، فیقول: کذبتم، بلٰی اصحابی المھاجرون بقیۃ اصحاب الملحمۃ ۔۔۔۔۔ فیجد خلیفتھم یصلی بھم فیتأخر المسیح حیث یراہ، فیقول: یا مسیح ﷲ! صلّی لنا، فیقول: بل انت فصل لأصحابک فقد رضی اللہ عنک، فإنی بعثت وزیرًا ولم ابعث امیرًا۔ وعن کعب یحاصر الدجال
17
المؤْمنین ببیت المقدس فیصیبھم جوع شدید حتّٰی یأکلوا اوتار قسیھم من الجوع فبیناھم کذالک إذا سمعوا صوتًا فی الغلس فیقولون: إن ھٰذا لصوت رجل شبعان، قال: فینظرون فإذا بعیسی ابن مریم علیہ السلام۔ قال: وتقام الصلٰوۃ فیرجع إمام المسلمین فیقول عیسٰی علیہ السلام: تقدم فلک اقیمت الصلٰوۃ! فیصلی لھم ذالک الرجل تلک الصلٰوۃ ثم یکون عیسٰی الإمام بعد ولیس فی ایامہ إمام ولا قاض ولا مفت وقد قبض اللہ العلم وخلی الناس عنہ فینزل وقد علم بأمر اللہ فی السماء ما یحتاج إلیہ من علم ھٰذہ الشریعۃ للحکم بین الناس والعمل بہ۔
وروی ابو نُعیم فی کتاب الفتن فی مدۃ إقامتہٖ ولہ عن ابی ھریرۃ: یقیم بھا اربعین سنۃً روی احمد وابو داوٗد بإسناد صحیح من طریق عبدالرحمٰن بن آدم عن ابی ھریرۃ مرفوعًا مثلہ۔ وعن کعب: مکث اربعین سنۃ منھا عشر حجج یبشر المؤْمنین بدرجاتھم فی الجنۃ۔ وعن یزید بن حبیب: یتزوج امرأۃ من الازد لیعلم الناس انہ لیس بإلٰہ۔ وقیل: یتزوج ویولد لہٗ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ویدفن مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قبرہ، وقیل یدفن فی الأرض المقدسۃ۔
ولما کان نزولہ من السماء امرًا یقینًا عند اھل السُّنَّۃ ادخلوہ فی العقائد واجمعوا علٰی انہ ینزل لا محالۃ، وفی العقائد النسفی وشرحہ وما اخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اشراط الساعۃ أی من علاماتھا من خروج الدجال ودابۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وطلوع الشمس من مغربھا فھو حق لأنھا امور ممکنۃ اخبر بھا الصادق صلی اللہ علیہ وسلم۔
قال حذیفۃ بن اُسید الغفاری: اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونحن نتذاکر فقال: ما تذکرون؟ قلنا: نذکر الساعۃ، قال: انھا لن تقوم حتّٰی تروا قبلھا عشر آیات، فذکر الدخان والدجال والدابۃ وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسٰی علیہ السلام ویأجوج ومأجوج وثلاثۃ خسوف، خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب، وآخر ذالک نار تخرج من الیمن تطرد الناس إلٰی محشرھم (مشکوٰۃ ص:۴۸۳،۴۸۴، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)۔
والأحادیث الصحاح فی ھٰذہ کثیرۃ جدًّا وقد روی فی تفاصیلھا وکیفیتھا فلیطلب من کتب التفسیر والسیر والتواریخ انتھٰی۔
خلاصہ مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ اگر کوئی اِعتراض کرے کہ آیت ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) دلالت کر رہی ہے کہ اُٹھانا خداتعالیٰ کا عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف بعد توفی کے جو معنی موت کے ہے، پس ثابت ہوا اس آیت سے برخلاف آیت: ’’وَمَاقَتَلُوْہُ‘‘ (النساء:۱۵۷) مذکورہ بالا کے فوت ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیاتِ قرآنی میں اصلی مخالفت نہیں ہے، بلکہ ہماری سمجھ میں فرق ہونے سے مخالفت پیدا ہوتی ہے، خصوصاً جو آیات کسی امر کی خبر دے رہی ہیں، اُن میں
18
مخالفت کا ہونا ممکن نہیں، کیونکہ اس سے کلامِ اِلٰہی میں کذب لازم آتا ہے، اہلِ علم پر لازم ہے کہ ایسے مقام میں سوچ سمجھ کر وہ تأویل کریں جو کسی حکمِ قطعی کے برخلاف نہ ہو، اسی طرح اگر اس مقام میں بنظرِ غور خیال کیا جائے تو بالکل مخالفت کا نام تک باقی نہیں رہتا، کیونکہ بنا اس مخالفت کی اس امر پر ہے کہ معنی توفی کے ہر مقام میں موت کے ہیں، حالانکہ یہ امر غلط ہے، بلکہ معنی اس کے قبض اور استیفاء حق کے ہیں، جو بغیر موت پائے جاتے ہیں، جیسا کہ آیت:
’’اَللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی‘‘ (الزمر:۴۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اللّٰہ قبض کرلیتا ہے جانوں کو نزدیک موت ان کی کے، اور جو نہیں موئے قبض کرتا ہے ان کو بیچ نیند ان کی کے، پس بند رکھتا ہے جس کو کہ مقرّر کی ہے اُوپر اس کے موت، اور بھیج دیتا ہے اوروں کو ایک وقتِ مقرّر تک۔‘‘
فائدہ:۔۔۔ اس آیت میں توفی بمعنی قبض کے مستعمل ہے، خواہ وہ قبض موت کے واسطے ہو، یا نیند کے واسطے۔
اور دوسری آیت میں توفی صرف نیند کے بارے میں مستعمل ہے، قال اللہ تعالٰی:
’’وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُم بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَی أَجَلٌ مُّسَمًّی‘‘(الانعام:۶۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور وہ جو قبض رکتا ہے تم کو بیچ رات کے، اور جانتا ہے جو کماتے ہو بیچ دن کے، پھر اُٹھاتا ہے تم کو بیچ اس کے تو کہ پورا کیا جائے وقت معین۔‘‘
فائدہ:۔۔۔ ثابت ہوا ان دونوں آیتوں سے کہ توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں، بلکہ قبض کے ہیں۔ پس اس بنا پر آیت ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ آہ کے معنی آیت ’’وَمَاقَتَلُوْہُ‘‘ کے بالکل موافق ہوگئے، یعنی میں تجھ کو اپنے قبضے میں کرکے اپنی طرف اُٹھالوں گا، اگر بالفرض ان دونوں آیتوں میں تعارضِ صوری قرار دیا جائے تو اس کے واسطے احادیث کی طرف رُجوع کرنا لازم آتا ہے، یعنی جس آیت کو حدیث تائید دے، اسی پر عمل کرنا لازم آتا ہے۔ سو اس اَمر پر اَحادیث پکارپکار کر بیان کر رہی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں آسمان سے نزول فرماکر اِنتقال فرماویں گے، اسی مقام پر چند احادیث بطور اِختصار کے بیان کی جاتی ہیں۔
’’روی البخاری عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم عیسی بن مریم حَکَمًا عدلًا یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرمن الدنیا وما فیھا، ثم یقول ابو ھریرۃ واقرئوا إن شئتم: وَإِنْ مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۴۹۰)
19
یعنی اِمام بخاریؒ نے ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قسم ہے اس ذات کی جو جان میری اس کے ہاتھ میں ہے! نزدیک ہے کہ نازل ہوں گے تم میں عیسیٰ بیٹے مریم ۔۔۔علیہما السلام۔۔۔ منصف عدل کرنے والے، توڑ دیں گے صلیب نصاریٰ کی اور قتل کریں گے خنزیر کو، اور ان کے زمانے میں کافروں سے جزیہ لے کر ان کو اَمان دینے کا حکم نہیں رہے گا، بلکہ جو شخص ایمان قبول نہیں کرے گا، اس کو قتل کیا جائے گا، یعنی کوئی کافر ان کے زمانے میں رعیت بن کر زِندہ نہیں رہ سکے گا، اور مال اس وقت بہت ہوجائے گا، یہاں تک کہ کوئی قبول نہ کرے گا، ایک سجدہ اس وقت میں سب جہان سے بہتر ہوگا، پھر پڑھی ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے اس حدیث کی سند میں یہ آیت: ’’وَإِنْ مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِ‘‘ آہ۔ یعنی اگر تم کو اس مضمون میں شک ہے تو اس آیت سے اپنے شک کو رفع کرو، کیونکہ اس کا مضمون بھی اسی حدیث کے موافق ہے، اور حدیث میں وارِد ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے، نماز میں اِمام تمہارے میں سے ہوگا، یعنی عیسیٰ علیہ السلام مقتدی ہوکر نماز اَدا کریں گے، تاکہ کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ اپنی نئی شریعت جاری کریں گے، اور نزول آپ کا دمشق میں ہوگا، قومِ یہود آپ کے پاس آکر کہیں گے کہ: ہم آپ کے اصحاب ہیں! آپ فرمائیں گے کہ: تم جھوٹے ہو! اور اسی طرح نصاریٰ کو کہا جائے گا، فرماویں گے کہ: اصحاب میرے وہ ہیں جو مہاجرین ملحمہ سے باقی رہے ہیں۔ پس پائیں گے ان کے خلیفہ کو جو ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا، آپ کو دیکھ کر وہ پیچھے کو ہوجائے گا، آپ فرماویں گے: تو ہی نماز پڑھا، تحقیق خداتعالیٰ تیرے سے راضی ہے، مجھ کو خداتعالیٰ نے وزیر کرکے بھیجا ہے نہ امیر کرکے۔ اور ٹھہرنا آپ کا بعد نزول کے زمین پر بقیدِ حیات چالیس برس تک روایت کیا گیا ہے، اور نکاح کریں گے تاکہ معلوم ہو لوگوں کو کہ یہ خدا نہیں ہیں، اور اولاد بھی ہوگی، اور دفن کئے جائیں گے پیغمبرِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قبر میں، یہ سب عینی شرح بخاری میں مذکور ہے۔ چونکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے یقینا ثابت ہے، اسی واسطے کتبِ عقائد میں درج کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اپنے عقیدے میں اس اَمر کو یقینی خیال کرکے اِیمان لائے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ عقائد نسفی جو بڑی معتبر کتاب عقائد کی ہے، لکھا ہے کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان کی ہیں، دجال کا آنا اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور طلوعِ آفتاب مغرب کی طرف سے سب حق ہے، کیونکہ مخبرِ صادق صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی خبر دی ہے۔
حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم آئے اور ہم باتیں کر رہے تھے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا باتیں کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم قیامت کے آنے کا ذِکر کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت ہرگز نہیں آئے گی جب تک دس نشانیاں نہیں ہولیں گی، پھر ذِکر کیا دجال اور دابۃالارض اور طلوعِ آفتاب کا مغرب سے اور نزول فرمانا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اور یاجوج ماجوج کا آنا اور تین خسوف، ایک مشرق میں اور دُوسرا مغرب اور تیسرا جزیرۂ عرب میں، اور نشانیوں کے بعد آگ نکلے گی یمن سے، ہانکے گی لوگوں کو میدانِ محشر کی طرف۔ اس بیان میں احادیثِ صحیحہ کثرت سے ہیں۔ بڑی بڑی کتابوں میں یہ اُمور تفصیل وار بیان ہیں، پس جب بموجب تحقیق بالا حیات اور نزول آپ کا آیات اور اَحادیث اور اِجماع سے ثابت ہوا، منکر اِن اُمور کا بے شک کافر ہوگا۔
20
خاتمہ:۔۔۔ غرض ہماری اس تحریر سے یہ نہیں کہ قادیانی مسئلہ مذکورہ سے منکر ہونے کے باعث ہی کافر ہے، بلکہ غرض ہماری تحقیق حق ہے کہ اگر قادیانی میں اور کوئی وجہ اِرتداد کی نہ ہوتی تو بھی اس مسئلے کے اِنکار سے اس پر کفر عائد ہوسکتا ہے، لیکن اس کا مرتد ہونا اور کئی وجوہ سے ثابت ہے، چند وجوہ بطورِ اِختصار بیان کی جاتی ہیں۔
ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱) میں اس مرتد نے لکھا ہے کہ: ’’تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘ اور اِزالہ اوہام میں لکھا ہے کہ: ’’مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال کی مدّت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں‘‘ (اِزالہ ص:۳۰۴، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴،۲۵۵)۔
یہ سب کفر ہے، خداتعالیٰ اپنے کلام پاک میں بیان فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بلاباپ پیدا کیا، یہ مرتد ان کا باپ یوسف نجار بیان کرتا ہے، اور جو معجزے قرآن شریف میں خداتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بیان فرمائے ہیں، ان کو اِزالۃ الاوہام میں مرزا نے لکھا ہے کہ: وہ شعبدہ بازی کے قسم سے ہیں اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے (اِزالہ اوہام ص:۳۰۲، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)۔ اس کلام کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں، خداتعالیٰ نے وہ معجزات برخلاف عادت واسطے اِیمان لانے لوگوں کے عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر کئے، ان کو یہ مرتد عملِ مسمریزم اور بے سود بتاتا ہے۔
اِزالۃالاوہام میں لکھتا ہے کہ علماء نے سورۃ الزلزال کے معنی نہیں سمجھے (اِزالہ ص:۱۲۸، خزائن ج:۳ ص:۱۶۶)۔
توضیح مرام میں اس نے لکھا ہے: جبرئیل علیہ السلام کبھی زمین پر نہیں آئے نہ آتے ہیں (ملخصاً ص:۶۸،۷۰ خزائن ج:۳ ص:۸۶)۔
لکھتا ہے: انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں (اِزالۃ الاوہام ص:۶۲۸،۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)۔
حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وحی بھی غلط نکلی (اِزالۃ الاوہام ص:۶۸۸، خزائن ج:۳ ص:۴۷۱)۔
حضرت رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اِبنِ مریم اور دجال، یاجوج ماجوج، دابۃالارض کی خبر نہیں دی (اِزالۃ الاوہام ص:۶۹۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)۔
براہین احمدیہ خدا کا کلام ہے (اِزالۃ الاوہام ص:۵۳۳، خزائن ج:۳ ص:۳۸۶)۔
قرآن شریف میں جو معجزے ہیں وہ مسمریزم ہیں (اِزالہ اوہام ص:۷۲۸ تا ۷۵۳، خزائن ج:۳ ص:۴۹۰ تا ۵۰۶)۔
قرآن شریف میں ’’إنّا أنزلناہ قریبًا من القادیان‘‘ موجود ہے (اِزالہ اوہام ص:۷۶،۷۷، خزائن ج:۳ ص:۱۴۰)۔
مکہ، مدینہ، قادیان تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اِعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے (اِزالۃ الاوہام ص:۷۶،۷۷، خزائن ج:۳ ص:۱۴۰)۔
حضرت رسولِ اکرم خاتم النّبیین والمرسلین نہیں ہیں (اِزالۃ الاوہام ص:۴۲۲، خزائن ص:۳۲۱)۔
قیامت نہیں ہوگی، تقدیر کوئی چیز نہیں ہے (صفحہ دوم ٹائٹل پیج، اِزالۃ الاوہام)۔
21
آفتاب مغرب سے نہیں نکلے گا (اِزالۃ الاوہام ص:۵۱۵، خزائن ج:۳ ص:۳۷۶)۔
عذابِ قبر نہیں ہے (اِزالۃ الاوہام ص:۴۱۵، خزائن ج:۳ ص:۳۱۶)۔
تناسخ صحیح ہے (ست بچن ص:۸۴، خزائن ج:۳ ص:۳۷۶)۔
ایسے ایسے اس کے کلمات بے شمار ہیں، جن کا کفر ہونا علمائے اسلام پر کیا، بلکہ عوام پر بھی ظاہر ہے۔
اور جو شخص اِعتراف کرے کہ قادیانی اہلِ قبلہ ہے، اس کو کافر کہنا دُرست نہیں۔ اور نیز جس شخص میں ایک کم سو وجہ کفر کی ہو، اور ایک وجہ اسلام کی ہو، اس کو بھی کافر قرار دینا شرعاً منع ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہلِ قبلہ کو کافر کہنا اس وقت تک دُرست نہیں جب تک اس میں کوئی وجہ کفر کی یقینی موجود نہ ہو،(۱) مثلاً اگر کوئی رافضی نماز روزے کا پابند ہوکر اصل پیغمبری حضرت علیؓ کا حق گمان کرے تو اس کے کفر میں کس کو کلام ہے؟(۲)
اور سو وجہ کفر کے مسئلے کے یہ معنی ہیں کہ اگر کسی شخص نے ایسا کلمہ کہا کہ جس کے ایک کم سو معنی کفر کی طرف عائد ہوتے ہیں، اور بموجب ایک معنی کے وہ لفظ کفر کا نہیں ہے، تو ایسی صورت میں مفتی کو لازم ہے کہ بلاتحقیق اس پر فتویٰ کفر کا جاری نہ کرے، جیسا کہ ایک شخص کو کسی نے نماز کے واسطے تاکیداً کہا، اس نے نماز سے اِنکار کیا، تو اِنکار اس کا نماز کو بُرا جان کر، یا نماز کے فرض ہونے کا منکر ہوکر، یا نماز کا پڑھنا اس کے نزدیک حقیر لوگوں کا کام ہے، وغیرہ وغیرہ، جن کا مرجع کفر کی طرف ہے، تو بے شک وہ شخص کافر ہے،(۳) اگر غرض اس کی اس اِنکار سے صرف یہی ہے کہ میں نماز کو تیرے کہے سے نہیں ادا کروں گا، تو اس صورت میں یہ اِنکار کفر نہیں ہے۔(۴) ایسی صورتوں میں مفتی کو لازم ہے کہ بلاتحقیق فتویٰ کفر کا نہ دے، اور جو اَمر یقینا کفر کا کسی میں پایا جائے، جیسا کہ بتوں کو سجدہ کرنا، پیغمبروں کی اہانت کرنی، اس کے کافر ہونے میں کسی کو کلام نہیں، اگرچہ نماز روزے کا پابند ہو۔ مُلَّا علی قاریؒ نے ان دونوں امروں کو شرح فقہ اکبر میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہے، پہلے فتویٰ میں جو مولانا مولوی رشید احمدؒ کے جواب میں لکھا گیا ہے، اس میں مُلَّا علی قاریؒ کی عبارت درج ہے۔
ہم دُعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ اس فرقے کو راہِ ہدایت پر لائے، ورنہ ان کے شر سے عوام اہلِ اسلام کو بچائے۔
وما توفیقی إلَّا بﷲ، آخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیّد
المرسلین وعلٰی آلہٖ واصحابہ اجمعین
✨ ☪ ✨
22
رجم الشیاطین
براغلوطات البراھین
(عربی)
تحقیقاتِ دستگیریہ
فی رَدّ ہفوات براہینیہ
(اُردو)
از
حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری
تعارف
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے اِشتہار شائع کئے، پھر براہین احمدیہ ۱۸۸۰ء تا ۱۸۸۴ء میں چار حصے شائع کئے۔ صفر ۱۳۰۲ھ (دسمبر ۱۸۸۳ء) میں قصور کے عالم دین حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری نے براہین احمدیہ سہ حصص اور اِشتہار پڑھ کر اُردو میں ایک رسالہ ’’تحقیقاتِ دستگیریہ فی رَدِّ ہفواتِ براہینیہ‘‘ تحریر کیا، اور اس کی نقل مرزاقادیانی کو بھیج کر اس سے توبہ کا تقاضا کیا۔ مرزاقادیانی نے چپ سادھ لی تو مولانا قصوریؒ نے مولانا احمد بخش امرتسریؒ، مولانا نواب الدین امرتسریؒ، مولانا غلام محمدؒ اِمام شاہی مسجد لاہور، حافظ نور احمدؒ اِمام مسجد انارکلی لاہور، مولانا نور احمدؒ ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم، مولانا مفتی محمد عبداللّٰہ ٹونکی سے اس رسالے پر تقریظات تحریر کرائیں۔ جس میں مرزاقادیانی کا مدعیٔ نبوّت، مدعیٔ اِلہام ایسے دعاوی کو مبرہن کیا گیا اور اس کے عقائد کو اِسلام اور اہلِ اسلام کے منافی قرار دیا گیا۔ علمائے کرام کے فتویٰ جات اور شرعی آراء آجانے کے بعد مولانا غلام دستگیر قصوری نے مرزاقادیانی کو پھر دعوتِ اسلام دی۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اسے بھی نظراَنداز کردیا۔ تو مولانا نے شوال ۱۳۰۳ھ مطابق جولائی ۱۸۸۶ء میں تحقیقاتِ دستگیریہ کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس کا نام ’’رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین‘‘ تجویز کیا۔ علمائے کرام کے فتوے، مرزاقادیانی کی کتاب براہین کے متعلقہ حصے، اِشتہار پر مشتمل دستاویزات تیار کرکے حرمین شریفین کے اَئمہ ومفتیان سے فتوے طلب کئے۔ ۱۳۰۵ھ (۱۸۸۸ء) میں فتویٰ جات حرمین سے موصول ہوگئے، وہ فتاویٰ جات لے کر آپ امرتسر گئے، بعض رُؤسا اور اِسلامی درد رکھنے والے مؤثر حضرات کے ذریعے مرزاقادیانی سے رابطہ کیا کہ اب بھی وقت ہے کہ آپ توبہ کرکے مسلمان ہونے کا اِعلان کردیں۔ بعض رُؤسا نے پھر مرزاقادیانی کو مباحثہ ومناظرہ کے لئے بلایا، لیکن وہ اِنکاری رہا۔
ایک بار موسمِ گرما کی تعطیلات میں مرزاقادیانی نے لاہور آنے کا وعدہ کیا۔ مولانا غلام دستگیرؒ وعدے کے مطابق لاہور دس دِن قیام پذیر رہے، لیکن مرزاقادیانی نہ آیا۔
ابتدا میں جب مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مرزاقادیانی کے متعلق مثبت رائے رکھتے تھے، ان سے مباحثے کے لئے مولانا قصوریؒ نے طرح ڈالی، مولانا محمد حسینؒ نے بند کمرے میں گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر کی، لیکن مولانا غلام دستگیرؒ نے کہا کہ علماء کی موجودگی میں مرزاقادیانی کے اِلہامات پر گفتگو ہوگی۔ مولانا بٹالویؒ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔
ایک بار مرزاقادیانی کو امرتسر کے ایک رئیس کے ذریعے مباحثے کے لئے طلب کیا تو مرزاقادیانی نے کہا کہ میری باتیں
24
تصوف کی ہیں، صوفیائے کرام شریکِ مجلس ہوں۔ مولانا نے قبول کرلیا کہ صوفیائے کرام کے خاندانی تین علماء کو بلالیں۔ لیکن مرزاقادیانی پھر طرح دے گیا۔
اس کارروائی کے درمیان صفر ۱۳۰۲ھ سے رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ تک ۔۔۔دسمبر ۱۸۸۳ء تا اپریل ۱۸۹۱ء۔۔۔ مرزاقادیانی کی متعدّد کتب ورسائل بھی سامنے آگئے۔ مرزاقادیانی کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے، اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ خود حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ، مرزاقادیانی کی موافقت ترک کرکے اس کے سخت مخالف ہوگئے۔ ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی کی تین کتابیں: توضیح المرام، فتح اسلام، اِزالہ اوہام شائع ہونے پر مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے تلافی مافات کی۔ اس کتاب میں مولانا قصوریؒ نے مولانا بٹالویؒ کی مرزاقادیانی کی تائید پر سخت تنقید بھی کی۔ کتاب مرتب ہونے، فتویٰ آجانے کے بعد مولانا قصوری، مرزاقادیانی کو توبہ کے لئے مباحثہ، مناظرہ، مباہلہ کے لئے بلاتے اور دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ مایوس ہونے پر ۱۳۱۲ھ -۱۸۹۶ء میں کتاب شائع کردی۔
فقیر اللّٰہ وسایا
۲۶؍اگست ۲۰۰۵ء
✨ ☪ ✨
25
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد اللہ وحدہٗ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہٗ وعلٰی آلہٖ وصحبہ الذین راعوا عھدہ، اما بعد!
فإن مرزا غلام احمد القادیانی الفنجابی من علماء غیر المقلدین ألَّف کتابًا باللّغۃ الھندیۃ فی إظھار حقیۃ الإسلام لفرق غیر الإسلامیۃ وسمّاہ بالبراھین الأحمدیۃ علٰی حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمَّدیَّۃ وطبع حصصالہ الأربع فی بلدۃ امرتسر وادعی فی الحصۃ الثالثۃ منہ، ان إلھام الکامل من الأولیاء یکون مفیدًا لہ للقطع والیقین وعد مرادفًا لوحی بالرسالۃ بإتفاق السواد الأعظم من العلماء کما ان اصل عبارتہ الھندیۃ ھٰذہ:
’’علمائے اسلام وحی کو خواہ وحی رسالت ہو یا کسی دوسرے مؤمن پر وحی اعلام نازل ہو، اِلہام سے تعبیر کرتے۔‘‘ (ص:۲۲۰)
’’جبکہ سواد اعظم علماء کا اِلہام کو وحی کا مترادف قراد دینے میں متفق ہے۔‘‘ (ص:۲۲۱)
’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ الہام یقینی اور قطعی ایک واقعی صداقت ہے جس کا وجود افراد اُمتِ محمدیہ میں ثابت ہے۔‘‘ (ص:۲۳۴)
ثم أعلن فی الإشتھار المطبوع عشرین ألفًا انہ ألَّف ھٰذا الکتاب بإلھام اللہ تعالٰی وبأمرہ لغرض إصلاح الدین وتجدیدہ، وأنہ اظھر صدق الدین الإسلام بصدق إلھاماتہ والخوارق وکراماتہ والأخبار عن المغیبات والأسرار الدینیات والکشوف الصادقات والأدعیۃ المستجابات التی اشھد علیہا أکثر کفار الھند وغیرہ یتبع ادرجھا کتابہ البراھین الأحمدیۃ وانہ مجدد زمانہ یقینًا وان لکمالاتہ شدۃ مشابھۃ بکمالات مسیح بن مریم، وانہ ونموذج الخواص من الرسل والأنبیاء، ولہ فضیلۃ علٰی أکثر أکابر الأولیاء الماضین ببرکۃ متابعۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم، واتباع اثارہ موجب للنجاۃ والسعادۃ والبرکۃ ومخالفتہ سبب البعد والحرمان یعنی من رحمۃ الرحمٰن، ودلائل ھٰذہ الدعاوی تظھر بتلاوۃ کتابہ البراھین الذی طبع خمس وثلاثون جزئًا منہ یعنی الحصص الأربعۃ التی ادنٰی قیمتھا خمس وعشرون روبیۃ، ثم قال وان احد من الناس لا یحضر عندنا لحل عقدہ بصدق طلبہ وقلبہ بعد ھٰذا الإشتھار فأتممنا الحجۃ علیہ وھو عند اللہ مسئول منہ۔ ھٰذہ ترجمۃ عبارات ذلک الإشتہار وکتب فی آخرہ: المشتھر: خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان، ضلع گورداسپور، ملک پنجاب، مطبوعہ: ریاض ھند پریس، امرتسر، پنجاب، انتھی۔
فسببہ ھٰذا الترغیب اشتری کتابہ کثیر من الناس وشاع واشتھر فی اکناف الفنجاب والھند شیوعًا
26
کثیرًا، وھو ادعی فی ذلک الکتاب انہ یلھم علیہ آیات القرآن کثیرۃ ومتواترۃ من اللہ تعالٰی والعبارات العربیۃایضًا کما صرح بہ فی ص:۴۸۵ وصرح بأن اکثر آیات فضائل الأنبیاء أنزل علیہ یخاطبہ اللہ تعالٰی بھا وھوالمراد منھا، وغالب الملھمات بل جمیع ما یوحی إلیہ غایۃ نعتہ التی تترشح منھا وصولہ إلٰی درجۃ الأنبیاء والمرسلین بل یفھم ویلزم ترقیہ فی بعض ما انزل إلیہ من النَّبِیِّیْن فنعوذ منہ بربّ العالمین کما سنذکر نبذًامن القسمین ھٰھنا ھدیۃ للناظرین وتردھما ابتغاء لمرضات مٰلک یوم الدین وارضائً لجناب سیّد المرسلینصلوات اللہ علیہ وعلیھم اجمعین۔
أما نموذج القسم الأوّل من الإلھامات التی یزعمھا مؤَلِّف البراھین إلھامات کاملۃ ومثل وحی الرسالۃ فھٰذہ:
۱- یا احمد بارک اللہ فیک۔
۲- ما رمیت إذ رمیت ولٰکن اللہ رمٰی۔
۳- لتنذر قوما ما انذر آباؤُھم۔
۴- ولتستبین سبیل المجرمین۔
۵- قل إنِّی اُمِرت وانا اوّل المؤْمنین۔
۶- قل جاء الحق وزھق الباطل إن الباطل کان زھوقا۔
۷- قل إن افتریتہ فعلیَّ إجرامی۔ (۲۳۹، خزائن ج:۱ ص:۲۶۵)
۸- وما انت بنعمۃ ربک بمجنون۔
۹- قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم ﷲ۔
۱۰- إنا کفیناک المستھزئین۔
۱۱- وقل اعملوا علٰی مکانتکم إنِّی عامل فسوف تعلمون۔
۱۲- یریدون أن یطفؤُا نور اللہ بأفواھھم و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔
۱۳- إذا جاء نصر اللہ والفتح۔
۱۴- ھٰذا تأویل رؤْیای من قبل قد جعلھا ربِّی حقًّا۔ (ص:۲۴۰، خزائن ج:۱ ص:۲۶۶)
۱۵- قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔
۱۶- ولن ترضیٰ عنک الیھود ولا النصاریٰ۔
۱۷- وقل رب ادخلنی مدخل صدق۔
۱۸- إنَّا فتحنا لک فتحًا مبینًا۔
27
۱۹- ووجدک ضالًّا فھدیٰ۔ (ص:۲۴۱)
۲۰- قلنا یا نار کونی بردًا وسلامًا علٰی إبراھیم۔
۲۱- یٰأیھا المدثر قم فأنذر فربک فکبر۔
۲۲- وأمر بالمعروف وانہ عن المنکر۔ (ص:۳۴۲)
ثم قال فی صفحۃ:۴۸۶ نزل علیَّ ھٰذہ الإلھامات:
۲۳- بورکت یا احمد وکان مابارک اللہ فیک حقا فیک۔
وفی ص:۴۸۹:
۲۴- انت مِنِّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی۔ وقال فی ترجمتہ: ان اللہ تعالٰی قال لہ ھٰذا وقال المولوی فیض الحسن السھارنفوری احد مشاھیر علماء الھند ان مؤَلِّف البراھین ادعی ان منکرہ منکر التوحید انتھی۔
وفی ص:۴۹۱:
۲۵- إذا جاء نصر اللہ والفتح وتمت کلمۃ ربک ھٰذا الذی کتنم بہ تستعجلون۔ وقال فی ترجمتہ: خاطبنی اللہ تعالٰی بأنہ إذا یجییء المدد وفتح اللہ تعالٰی ویتم کلام ربک یخاطب الکفار بھٰذا الخطاب ای ھٰذا الذی کنتم بہ تستعجلون انتھیٰ بترجمۃ کلامہ۔
وفی ص:۴۹۳ ادعی انہ الھم إلیہ:
۲۶- دنیٰ فتدلّٰی فکان قاب قوسین أو أدنیٰ۔
وفی ص:۴۹۶ صرح بأنہ خوطب ھٰذہ الفقرات:
۲۷- یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ، یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ، یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ، نفخت فیک من لدنی روح الصدق۔
وقال فی ترجمتھا: ان المراد من آدم ومریم واحمد نفسہ، ومن الزوج: رفقائہ، ومن الجنۃ: وسائل النجاۃ،انتھی۔
ثم قال فی ص:۵۰۳ انہ الھم إلیہ:
۲۸- إنک علٰی صراط مستقیم۔
۲۹- فاصدع بما تؤْمر واعرض عن الجاھلین۔
وقال فی ص:۵۰۴:
۳۰- ت اللہ لقد ارسلنا إلٰی اُمم من قبلک فزیّن لھم الشیطان۔
28
وقال فی ترجمتہ: ان المراد من کاف الخطاب نفسہ، والمراد من المرسلین: اولیاء الأمۃ، انتھٰی۔
وفی ھٰذہ الصفحۃ ادعی انہ الھم إلیہ:
۳۱- سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلًا۔
وفی صفحۃ:۵۰۶ صرح بأنہ الھم إلیہ:
۳۲- وإذا سألک عبادی عنِّی فإنِّی قریب الآیۃ۔
۳۳- وما ارسلناک إلَّا رحمۃ للعالمین۔
وفی ص:۵۱۰:
۳۴- لعلّک باخع نفسک ألَّا یکونوا مؤْمنین۔
۳۵- ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا إنھم مغرقون۔
۳۶- یا إبراھیم اعرض عن ھٰذا، إنہ عبد غیر صالح۔
۳۷- إنما انت مذکر۔
۳۸- وما انت علیھم بمسیطر۔
وادعی فی ترجمۃ ھٰذہ الملھمات ان المخاطب لھٰذہ الآیات نفسہ، انتھی۔
وفی ص:۵۱۷ ادعی انہ الھم إلیہ:
۳۹- یا احمد فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک۔
۴۰- إنا أعطیناک الکوثر۔
۴۱- فصل لربک وانحر۔
۴۲- وضعنا عنک وزرک الذی انقض ظھرک ورفعنا لک ذکرک۔
وصرح بأن ھٰذہ الآیات انزلت علیہ مثل السابقات۔
ثم قال فی ص:۵۵۶ انہ ألھم إلیہ:
۴۳- یا عیسٰی إنِّی متوفیک ورافعک إلیَّ وجاعل الذین اتّبعوک فوق الذین کفروا إلٰی یوم القیامۃ۔
وادعی بعد ترجمۃ ھٰذہ الآیۃ انہ ھو المراد من لفظ عیسٰی ایضًا۔
وایضًا فی ص:۵۵۶:
۴۴- قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مؤْمنون۔
وادعی فی ترجمۃ ھٰذہ الإلہام ان المراد من الشھادۃ من اللہ ھی التأییدات الْإلٰھیۃ والإطلاع علی
29
المعارف والحقائق الإلٰھیۃ والأسرار الغیبیۃ والاعلام علی الوقائع الآتیۃ قبل وقوعھا وإجابۃ الأدعیۃ والإلھام فی الألسنۃ المختلفۃ لہ فإن کل ھٰذہ شھادۃ اللہ فی حقہ فتجب علی المؤْمنین قبولہ وتصدیقہ انتھٰی بترجمۃ کلامہ۔
وفی ص:۵۶۱ و۵۶۲:
۴۵- قل جائکم نور من اللہ فلا تکفروا إن کنتم مؤْمنین۔
وعنی ان ملھماتہ نور من اللہ ففی انکارھا زوال الْإیمان انتھٰی۔
وایضًا فی ھٰذین الصفحتین:
۴۶- ففھّمناھا سلیمان۔
۴۷- فاتخذوا من مقام إبراھیم مصلّٰی۔
وعنی من سلیمان وإبراھیم فی ھٰذین الآیتیں نفسہ کما صرح بأن اللہ تعالٰی امر الناس باتباع اثر قدم إبراھیم یعنی مؤَلف البراھین لأن الطریقۃ المحمدیۃ فی ھٰذہ الایام اشتبہ علٰی اکثر الناس وبعضھم یتبعون محض الظاھر مثل الیھود وبعضھم وصلوا إلٰی عبادۃ المخلوق مثل المشرکین فعلیھم ان یعلموا الطریقۃ الحقۃ منہ (ای من مؤَلِّف البراھین) ویتخذوہ سبیلًا، ھٰذہ ترجمۃ کلامہ۔
وآخر کتابہ وملخص مرامہ فظھر من ھٰذہ سبع واربعین الآیات القرآنیۃ والفقرات العربیۃ التی ادعی صاحب البراھین انھا الھمت علیہ واوحیت إلیہ ان ھٰذا المدعی اثبت لوازم الرسالۃ وخواص النبوۃ لنفسہ لأنہ ایقن اولًا بخلاف اھل السُّنَّۃ ان إلھام الأولیاء ووحی الرسالۃ مترادفان، والإلھام یکون قطعیًا واتقن ثانیًا بأن المضامین التی تجب تبلیغھا انزلت علیہ، وھو مأمورٌ بالإنذار والإبشار للناس، بأن من کان یحب اللہ فیتبعہ یحببہ ﷲ، وإن قبول ملھماتہ فرض علیھم، وإنکارھا منھی عنہ، فمن آمن بہ فھو مؤْمنٌ، ومن أنکرہ فھو من الکافرین، کما ھو مفاد الإلھام الأربع والأربعین والخامس والأربعین اعنی:
’’قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مؤْمنون‘‘
’’وقل جائکم نور من اللہ فلا تکفروا إن کنتم مؤْمنین‘‘
وما معنی الرسالۃ والنبوۃ إلَّا الإتصاف بھٰذہ الفضیلۃ العظیمۃ وما مفاد الشرکۃ بالأنبیاء فی خصائصھم إلا التشرف بھٰذہ المزیۃ الکریمۃ علٰی انہ اراد نفسہ من الخطابات التی خاطب لھا اللہ سبحانہ فی القرآن المبین بأنبیائہ من سید المرسلین وسائر النبیین صلوات اللہ علیھم اجمعین فلیس ھٰذا إلَّا الإلحاد فی آیات اللہ بداھۃً والتحریف المعنوی لکلام اللہ صراحۃً۔
فان قلت انہ یعد نفسہ من تابعی الرسول الکریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم ویثبت ھٰذہ الفضائل لنفسہ
30
ببرکۃ تلک المتابعۃ بالظلیۃ کما صرح بہ فی الإشتھار المذکور نقلہ فیما سبق۔
وایضًا اقر فی عدۃ مواضع من کتابہ انہ مورد حدیث: ’’علماء امتی کأنبیاء بنی إسرائیل‘‘ فکیف یظن فی حقہ انہ یثبت الرسالۃ والنبوۃ لنفسہ، الا تریٰ انہ یدعی بفضیلتہ علی الأولیاء، وما قال قط أنہ من الأنبیاء۔
قلت: من المعلوم ان صاحب البراھین الَّف کتابہ فی مقابلۃ النصاریٰ والیھود وغیرھما من عبدۃالأصنام لیظھر علیھم صداقۃ الدین الإسلام، فما ذکر فیہ من انہ منعوت بنعوت الأنبیاء فی آیات القرآن وموصوف بخصائص الرسل علٰی لسان الفرقان وینزل علیہ الآیات لا فائدۃ فی ھٰذہ الحکایات، لأن من لمیؤْمن بالقرآن فکیف یصدق ھٰذا البیان، ویعدہ من عظیم الشان، فعلم ان غرضہ الأصلی من ھٰذا اظھارہ علی المسلمین بأنہ افضل الأولیاء ونموذج الأنبیاء، وان قادیانہ مھبط الوحی کبیت العتیق، و اللہ تعالٰی امر الناس بأن یقصدوہ من کل فج عمیق ومن لم یحضرہ بعد ھٰذا الإشتھار المبین فیسئلہ یوم القیامۃ اسرع الحاسبین کمامر نقلہ۔
وامثال ھٰذہ الدعاوی ما صدرت من اکابر الصحابۃ سیما الخلفاء الراشدین واھل البیت والتابعینالذین ھم افضل الاُمَّۃ بالیقین فھل ھٰذا إلَّا إثبات مساواۃ صاحب البراھین بالأنبیاء والمرسلین، وإن لم یقل بلسانہ انہ من المرسلین خوفًا من بلوی المسلمین لٰکن ینزل علیہ: فاصدع بما تؤْمر واعرض عن الجاھلین، لعلک باخع نفسک ان لا یکونوا مؤْمنین، قل إنِّی امرت وانا اوّل المؤْمنین، قل جائکم نور من اللہ فلا تکفروا إن کنتم مؤْمنین۔
ومع ھٰذا قد صرح فی ذلک الإشتھار نموذج الأنبیاء والرسل کما نقل سابقًا من اشتھارہ، والظاھر ان نموذج الشیء یکون عین ذلک الشیء، لأنہ معرب نمونہ ویقال فی الفارسیۃ: ’’مشتی نمونہ خروار‘‘ یعنی ان قلیلًا من البُرّ مثلًا نموذج الکُرّ، فثبت من ھٰذہ الدعویٰ کون صاحب البراھین من الرسل والأنبیاء بإقرارہ فی اشتھارہفلیس ھٰذا إلَّا المثلیۃ لا الظلیۃ۔
وایضًا قال ص:۵۰ من براھینہ انہ الھم إلیہ ھٰذہ الفقرۃ جری اللہ فی حلل الأنبیاء وفسرھا بأن منصب الإرشاد والھدایۃ وکون مورد وحی الإلٰہیۃ یکون فی الأصل حلۃ الأنبیاء ویحصل لغیرھم بالطریق المستعارانتھی۔
فتحقق بتصریحہ ان ورود الوحی من اللہ تعالٰی من خواصّ الأنبیاء فلما اثبت ھٰذہ الخاصۃ لنفسہ فقداثبت النبوۃ لھا بوصفہ۔ واما قولہ: وھٰذہ الحلۃ یستعار لغیرھم فباطل لأن منصب ورود وحی الرسالۃ لا یحصللغیر الرسل والأنبیاء، وإلھام الأولیاء لا یکون ترادفًا بوحی الرسالۃ فإنہ یکون محفوظًا بحفاظۃ الملائکۃ بحیث
31
یحصل منہ الإطلاع الذی لا یجری فیہ الإلتباس والإشتباہ قطعًا، ولا یکون فیہ إحتمال الخطأ اصلًا، فمن ثمیجب علی المکلفین قبولہ والإیمان بہ، ومن انکرہ فقد کفر، بخلاف إلھام الأولیاء، فإنہ وإن کان یحصل منہ العلم ببعض حقائق الذات والصفات او الوقائع الکونیۃ ولٰکن لا یرتفع منہ الإلتباس والإشتباہ بجمیع الوجوہ فیبقی إحتمال الخطأ فیہ۔
ولھٰذا لا یتحقق التکلیف العام علیہ کما صرح بہ فی تفسیر فتح العزیز وغیرہ تحت قولہ تعالٰی:عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ أَحَداً۔إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِن رَّسُولٍ فَإِنَّہُ یَسْلُکُ مِن بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ رَصَداً(الجن۲۶، ۲۷) علٰی ما ھو إعتقاد اھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔
ومنشاء غلط صاحب البراھین وغیرہ من غیر المقلدین فی جعل الإلھام حجۃ قطعیّۃ مثل الرسالۃ والوحی قصۃ إلھام خضر مع موسٰی وواقعۃ إلھام اُمّ موسٰی علٰی نبینا وعلیہم السلام، بإبقائہ فی الیم کما ھومنصوص القرآن الکریم۔
وقولہ: ’’إن خضر لم یکن نبینا کما فی ص:۵۴۸ من کتابہ السقیم‘‘ جھل عظیم لتصریح علماء العقائد وغیرھم بأن خضر کان نبیًّا عند الجمھور من العلماء الربانیّین، والقرآن ینطق باختلاف حال ومـٰٓال، وحی موسٰی وإلھام اُمّہ فإن اُمّ موسٰی مع کونھا الملھمۃ من اللہ تعالٰی بسلامۃ ولدھا وردہ إلیھا کما قال عز من قائل:فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَأَلْقِیْہِ فِیْ الْیَمِّ وَلَا تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ إِنَّا رَادُّوہُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (القصص۷) لم تکن مُطْمئنّۃ علٰی ذلک الإلھام، وإلَّا لما کانت حالتھا مثل الحالۃ المنصوصۃ فی کلام الملک العلَّام کما قال تعالٰی:وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسٰی فَارِغاً إِن کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَی قَلْبِہَا لِتَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (القصص۱۰) وإن سیّدنا موسٰی کان مطمئنًّا وموقنًا بوحیہ تعالٰی: لا تخٰفُ دَرکاً وَّلا تَخْشیٰ (طٗہٗ۷۷) فمن ثم لما تحیر اصحاب موسٰی وقالوا وقت رؤْیۃ قوم فرعون کما اخبر عنھم اللہ تعالٰی: اِنَّا لَمُدْرَکُوْن (الشعراء۶۱) قال فی جوابھم ما حکا اللہ سبحانہعنہ:اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنَ (الشعراء۶۲) فاتضح الفرق بینھما بالیقین بشھادۃ القرآن المبین فالقول بترادفھما باطل عند المسلمین۔
واما حدیث: ’’علماء اُمّتی کأنبیاء بنی إسرائیل‘‘ لا اصل لہ کما قالہ الدمیری والزرکشی والعسقلانی کذا فی المصنوع فی احادیث الموضوع لمولانا القاری علیہ رحمۃ الباری۔
ودعوی صاحب البراھین بإتباع سیّد المرسلین صلوات اللہ علیہ وإخوانہ وعترتہ اجمعین مع انہبمحض اللسان وما صدر من الجنان کما یشھد عیلہ کتابہ وسیجیء فی معرض البیان لا ینافی النبوۃ والرسالۃ، لأنہ قال فی ص:۹۹ من کتابہ: ان المسیح کان تابعًا وخادمًا لدین نبی کامل وعظیم الشان یعنی موسٰی، وکان
32
انجیلہ فرع التوراۃ انتھی ترجمًا فکما زعم صاحب البراھین ان المسیح مع متابعۃ موسٰی علٰی نبینا وعلیھما السلام کان نبیًّا فکذلک یعد نفسہ موصوفًا بخصائص الرسالۃ والنبوۃ مع ادعاء الإتباع۔
وایضًا: الأنبیاء وإن کانوا یتفاضلون فیما بینھم لقولہ تعالٰی: تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ الآیۃ (البقرۃ:۲۵۳)، لٰکن یستوون فی الإیمان بھم کما قال تعالٰی: لا نفرق بین احد من رسلہ الآیۃ فبالجملۃ ادعاء مساوات صاحب البراھین بالنَّبیِّین یعلم بالیقین لمن تدبر وتعمق فی ملھماتہ المندرجۃ فی البراھین۔
الا تریٰ أنہ ادعی فی ص:۵۱۱ بنزول آیۃ: قل إنما انا بشر مثلکم یوحی إلیَّ انما إلٰھکم إلٰہ واحد، فی حقہ۔ وقال فی ص:۲۴۲ انہ الھم إلیہ: واتل علیھم ما اوحی إلیک من ربک، انتھی، فھٰذا صریح مقابلۃ صاحب البراھین بأفضل النَّبیِّین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین۔
فالحاصل ان مؤَلِّف البراھین وإن کان لا یدعی بلسانہ انہ نبی ورسول خوفًا من بلوی المؤْمنین لٰکنہما ترک خاصۃ من خواص الرسل والنَّبیِّین إلَّا وقد اثبتھا لنفسہ بالیقین فمثلہ کمثل احمد خان نیجری العلیگڑھی فإنہ بدل شعائر الإسلام تبدیلًا واحل کبائر الدین تحلیلًا کما یشھد علیہ تفسیرہ الھندیۃ للقرآن واخبارہ التھذیب للإنسان والفقیر الراقم لھٰذا التسطیر ردّ ھفواتہ بعون الملک النصیر فی رسالۃ مستقلۃ مسماۃ ’’بالجواھر المضیۃ فی ردّ عقائد النیجریۃ‘‘ فالحمد اللہ القدیر فالنیجری مع ذالک التنسخ لأحکام الشرع المعتبر والخلاف مع جمیع العلماء المتقین یزعم انہ من خواص الأولیاء والصالحین۔ ومن اجلۃ مؤَیدی الدین فکذلک حال صاحب البراھین عند العلماء الراسخین کما قال فی حقہ المولوی فیض الحسن سہارنفوری فی اخبارہ شفاء الصدور فانہ ای صاحب البراھین کمثلہ ای مثل احمد خان النیجری یعنی فی اختلال الدین الإسلام وتضلیل الخواص والعوام۔
واما ادعائہ بأنہ اعطی علمًا بفضیلتہ علٰی اکابر الأولیاء فھٰذا ایضًا مثل دعوی النموذجیۃ بالأنبیاء باطل، لأن فضیلۃ الصحابۃ والتابعین علٰی سائر الاُمّۃ المرحومۃ ثابتۃ بالقرآن المبین والأحادیث الصحیحۃ عند المحدثین کما حقق فی موضعہ۔ وباقی حال فضیلۃ ھٰذا المدعی سنبیّنہ فیما بعد باعلام الحق المبین ھٰذا۔
ومن عجائب ملھمات صاحب البراھین ما ذکرہا فی ص:۳۹۷ من انہ الھم إلیہ: إنَّا انزلناہ قریبًا من القادیان، وبالحق انزلناہ وبالحق نزل، صدق اللہ ورسولہ وکان امر اللہ مفعولًا وفسرھا بما ترجمتھا ھٰذہ قال تعالٰی: إنَّا انزلنا ھٰذہ الخوارق والأمور المعجبۃ والإلھام المملو من المعارف والحقائق قریبًا من القادیان،وبالضرورۃ الحقۃ انزلناہ وبالضرورۃ الحقۃ نزل، وما اخبرہ اللہ ورسولہ ظھر صدقہ فی وقتہ وما شاء اللہ فھو کائنلا محالۃ، فھٰذہ الفقرۃ الأخیرۃ (أی صدق اللہ ورسولہ إلخ) تشیر إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم اشار (بظھور نفسی
33
فی الحدیث المذکور فی الصدر) ای فی الصفحۃ السابقۃ، والحدیث: ’’لو کان الإیمان معلقًا بالثریا لنالہ‘‘ و اللہ تعالٰی اشار إلیَّ فی الآیۃ التی ادرجتھا فی الحصۃ الثالثۃ، وتلک الإشارۃ فی ھٰذہ الآیۃ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ فھٰذہ الآیۃ اخبار بالغیب فی حق المسیح بحسب الجسمانیۃ والسیاسۃ الملکیۃ فالغلبۃ الکاملۃ الموعودۃ للدین الإسلام تظھر بوسیلۃ المسیح فإذا جاء المسیح علیہ السلام مرۃ ثانیۃ فینشر الدین الإسلام فی جمیع الآفاق والأقطار ولٰکنی اظھرت بأنی فی غربتی وانکساری وتوکلی وإیثاری وآیاتی وانواری نموذج المسیح فی حیاتہ الأولٰی وفطرتی وفطرۃ المسیح متشابھتان تشابھًا تامًّا کأننا نصفان من جوھر واحد او ثمرتان من شرجۃ والإتحاد بیننا بحد لا تکاد تمتاز فی النظر الکشفی والمشابھۃ الظاھریۃ بیننا ثابتۃ۔
ایضًا بأن المسیح تابع وخادم لدین نبیّ کامل عظیم الشان یعنی موسٰی وإنجیلہ فرع لتوراتہ وھٰذا العاجز ایضًا من احقر خادمی سید الرسل وافضل الأنبیاء فإن کان اسمہ حامدًا فھو احمد، وإن کان محمودًا فھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم فلثبوت المشابھۃ التامَّۃ لی بالمسیح اشرکنی اللہ تعالٰی فی الأخبار بالغیب عن المسیح من ابتداء الأمر یعنی ان المسیح مصداق الآیۃ بحسب الظاھر وبالطور الجسمانی، وھٰذا العاجز مورد تلک الآیۃ ومحلھا علٰی طبق المعقول والروحانی فغلبۃ الدین الإسلام بإقامتہ الحجج القاطعۃ والبراھین الساطعۃ مقدرۃ بوسیلتی سواء کانت فی حیاتی او بعد مماتی، انتھی ص:۴۹۸ و۴۹۹۔
یقول العبد الضعیف ان الانزال والتنزیل فی إصطلاح القرآن مستعمل فی الکتب السماویۃ والمنزلۃ من اللہ تعالٰی إلٰی رسلہ کما قال تعالٰی فی إبتداء سورۃ البقرۃ:والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ الآیۃ، وایضًا فی إبتداء سورۃ آل عمران: نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہ، بأن اللہ تعالٰی قال فی حقھا انزلناہ قریبًا من القادیان فوصفھا بالآیات القرآنیۃ التی انزلت فی وصف القرآن الکریم اعنی وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ (بنی إسرائیل:۱۵) تصریح بأن ملھماتہ مثل الفرقان العظیم، ثم فی ترجمۃ لفظ الحق الواقع فی الموضعین بالضرورۃ الحقۃ تنصیص بأن اللہ تعالٰی وجب علیہ انزال ھٰذہ الملھمات وھٰذا مخالف لعقیدۃاھل السُّنَّۃ لتصریحھم بأن اللہ سبحانہ لا یجب علیہ شیء کما فی شرح الفقہ الأکبر وشرح العقائد للنسفی وغیرھما۔
وایضًا فی ھٰذا الکلام اشارۃ إلی ان الدین فقد عن اکناف العالم واطراف الدنیا عربًا عجمًا فلھٰذا اختار اللہ تعالٰی المقام القادیان لإنزال الملھمات کما صرح بہ فی آخر الحصۃ الرابعۃ من کتابہ: بأن الدین اشتبہ علی الأکثر والبعض صاروا کالیھود والبعض کالمشرکین فأرشد اللہ الناس بھٰذا الإرشاد فاتخذوا من مقام إبراھیم مصلّٰی کما مر علی الصدر ص:۵۶۱ و۵۶۲ مع تصریح صاحب البراھین بأن المراد من إبراھیم نفسہ والناس
34
مأمورون بإتباعہ، فلا خفاء فی أنہ عین قریۃ قادیان مثل اُمّ القریٰ فی نزول الوحی کما قال تعالٰی: وَکَذَلِکَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ قُرْآناً عَرَبِیّاً لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا الآیۃ (الشوریٰ:۷)۔
والحال انہ لا حاجۃ إلٰی نزول شیء بعد تنزیل القرآن المجید للمؤْمنین فإنہ ھدًی للمتقین والشرع المھدی کاف للاُمَّۃ المرحومۃ إلٰی یوم الدین۔
فأقول بأن اللہ عز وجل انزل الملھمات والمعارف علی القادیان للضرورۃ الحقۃ إفتراء علٰی رَبّ العالمین۔
ومن الأدلۃ الدالۃ علیہ انہ صرح فی ترجمۃ ھٰذا الکلام بإرجاع ضمیر انزلناہ المذکر إلی المرجع المؤَنث ای الخوارق والأمور المعجبۃ بتأویل الجماعۃ، ولا شک ان ضمیرا الواحد المذکور لا یرجع إلی الجمع، فالکلام الصحیح علٰی ھٰذا التفسیر انا أنزلناھا فإسناد ھٰذا الکلام الغلط والإلھام المخبط إلی اللہ سبحانہ کذب بالیقین ثم انزل آیات القرآن المنزل علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم مما لا طائل تحتہ وھو تحصیل الحاصل۔
فإن قیل قال اللہ تعالٰی: لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ کِتَاباً فِیْہِ ذِکْرُکُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ(الأنبیاء) وأیضًا: وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ اٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ الآیۃ(النور:۳۴) فثبت ان القرآن انزل إلی المسلمین فلم لا یجوز ان ینزل الخوارق وغیرھا بتوسل آیات القرآن وغیرہ علٰی صاحب البراھین۔
قلت: القرآن العظیم ما نزل إلَّا علی الرسول الکریم -صلی اللہ علیہ وسلم- لٰکن لما کان مشتملًا علی الأحکام التی امر بتبلیغھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی المؤْمنین بل إلٰی کافۃ الناس وغیرھا اجمعین صح ان یقال مجازًا انہ انزل إلیھم وھو کما قال تعالٰی: وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ(النحل۴۴) علٰی ان اسناد نزول القرآن المبین إلی المؤْمنین وقت نزولہ إلی سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وعلٰیإخوانہ وعترتہ اجمعین مع القطع بأنہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین وکتابہٗ ودینہٗ ناسخ الکتب والأدیان إلٰی یوم الدین لا یستلزم ان یکون صاحب البراھین منزلًا مستقلًا فی ھٰذا الحین ویقال لہ إنَّا انزلناہ قریبًا من القادیان فما ھٰذا إلَّا بھتان وھذیان۔
واما ادعاء صاحب البراھین بأن اللہ تعالٰی اخبر بوجودہ فی القرآن وکذا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث صحیح العنوان فباطل قطعًا، لأن المشار إلیہ من ذلک الحدیث المذکور فیما سبق الإمام الأعظم والھمام الأقدم رضی اللہ عنہ کما صرح بہ غیر واحد من المحدثین والفقھاء بالإتفاق وبینت طرفًا منہ فیرسالتی ’’توضیح الدلائل وعمدۃ البیان فی اعلان مناقب النعمان‘‘ ردًّا علٰی اھل الطغیان من غیر المقلدین فی ھٰذا الزمان وکذا آیۃ:ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہ الآیۃ (الفتح:۲۸) لیست فی حق المسیح وصاحب البراھین بل ھی
35
فی شان إمام الأنبیاء وسیّد المرسلین بالیقین باتفاق جمیع المفسرین بل بشھادۃ القرآن المبین الایدی آخر ھٰذہ الآیۃ قول اللہ سبحانہ: وَکَفَی بِاللَّہِ شَہِیْداً. مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ(الفتح۲۸، ۲۹)۔
وقد قال محی السُّنَّۃ فی تفسیرہ تحت ھٰذہ الآیۃ یعنی قولہ تعالٰی: مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ(الفتح:۲۹) تم الکلام ھٰھنا، قال ابن عباس: شھد لہ بالرسالۃ ثم قال مبتدیًا: وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ انتھی۔ فالقول بأن ھٰذہ الآیۃ فی حق غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم مخالف للقرآن ومنافی لبیان جمیع مفسری الفرقان، لیت شعری ما اجھل ھٰذا القائل فی ادعائہ بأن ھٰذہ الآیۃ اخبار عن الغیب فی حق المسیح ظاھرًا وفی حقہ معنی وما یشعر بأن ھٰذا الخبر بصیغۃ الماضی فکیف یراد بہ الإستقبال فنعوذ ب اللہ من ھٰذہ التحریفات فی الآیات البینات۔
ولما اراد نفسہ من لفظ رسولہ الواقع فی ھٰذہ الآیۃ وصرح بشرکتہٖ مع المسیح فی انوارہ وآیاتہ وغیر ذلک من ابتداء الأمر ثبت أنہ یدعی برسالتہ وما یبالی من إطلاق کلمۃ رسول اللہ علٰی نفسہ ولو مع غیرہ فھٰذا صریح ضیرہ۔
واما تصریحہ بأن الغلبۃ الموعودۃ (ای فی ھٰذہ الآیۃ) تظھر بوسیلۃ المسیح فعلی القول القوی لجمھور المفسرین باطل، لأن ھٰذہ الغلبۃ حصلت بظھور نبینا حبیب إلٰہ العالمین صلی اللہ علیہ وعلٰی عترتہ اجمعین وإتمام النعمۃ علیہ کما فی القرآن المبین: الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ الآیۃ (المائدۃ:۳) کما فی التفسیر الکبیر وغیرہ۔
ویقول الفقیر الراقم ای غلبۃ تقابل فتح مکۃ التی بکت رقاب الجبائر من وضعھا إلٰی یوم ذلک الفتح وای ظھور الدین توازی تطھیر اوّل بیت وضع للناس من الارجاس والادناس۔
واما یقول الضعیف بأن ھٰذہ الغلبۃ تحصل وقت نزول المسیح من السماء فلا یلزم منہ ان ھٰذہ الآیۃ بشارۃ فی حق المسیح وغیرہ، وان المراد من قولہ تعالٰی ارسل رسولہ غیر النبی الاُمّی صلی اللہ علیہ وسلم بل المراد منہ ان المسیح علٰی نبینا وعلیہ السلام لما ینزل من السماء یکون تابعًا للشرع المحمدی ویؤَید ھٰذا الدین فھو ایضًا فرع غلبۃ سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم وعلٰی إخوانہ وعترتہ اجمعین۔
قال مولانا القاری فی شرح الفقہ الأکبر: فیجتمع عیسٰی بالمھدی علٰی نبینا وعلیہما السلام وقد اقیمت الصلٰوۃ فیشیر المھدی لعیسٰی بالتقدم فیمتنع معللًّا بأن ھٰذہ الصلٰوۃ اقیمت لک فأنت اولٰی بأن تکون الإمام فی ھٰذا المقام ویقتدی بہ لیظھر متابعتہٗ لنبینا، کما اشار صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی ھٰذا المعنی بقولہ: ’’لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی‘‘ وقد بینت وجہ ذلک عند قولہ تعالٰی: وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا آتَیْتُکُم مِّنْ کِتٰبٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ الآیۃ (آل عمران:۸۱) فی شرح الشفاء وغیرہ انتھی۔
36
وما افادہ مولانا القاری علیہ رحمۃ الباری ھو المذکور فی عامۃ التفاسیر، فالحاصل ان تلک الآیۃ الشریفۃ انما ھی فی حق النبی صلی اللہ علیہ وسلم بحکم القرآن فدعوی صاحب البراھین بدیھی البطلان۔
واما قولہ: ولٰکنی فی الآیات والأنوار وغیر ذلک نموذج المسیح فی فی حیاتہ الأولٰی وفطرتی وفطرۃ المسیح متشابھتان تشابھًا تامًّا کأننا نصفان من جوھرۃ او ثمرتان من شجرۃ انتھی۔
فیشعر بدعوی مساواتہ بالمسیح علٰی ما ھی مفاد لفظ نموذج وفقرۃ کأننا نصفان من جوھرۃ۔۔۔إلخ فی الإتقان فی علوم القرآن قال حازم: وانما تستعمل (ای کَاَنَّ) حیث یقوی الشبہ حتّٰی یکاد الرائی یشک فی ان المشبہ بہ ھو المشبہ بہ وغیرہ ولذلک قالت بلقیس ای کما اخبر اللہ سبحانہ بہ: کَاَنَّہُ ھُوَ (النمل:۴۲) انتھی۔
وصاحب البراھین فی ھٰذا القول کاذب البتۃ اما اوّلًا فلأنَّ دعوی المساواۃ بالأنبیاء باطل لما تقرر من عقیدۃ اھل السُّنَّۃ بأن الولی لا یبلغ درجۃ النبی کما فی شرح الفقہ الأکبر وشرح العقائد للنسفی وغیرھما۔
واما ثانیًا فلأنّ المسیح علٰی نبینا وعلیہ السلام کان من آیاتہ ان یبریَٔ الأکمہ والأبرص، ویحیی الموتیٰ بإذن ﷲ، وإذا قال: قَالَ مَنْ أَنصَارِیْ إِلَی اللہ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللہ (آل عمران:۵۲) کما ھو منصوص القرآن الکریم وھٰذا القائل ما ظھر شیء من ھٰذہ الخوارق منہ، وما آمن بہ احد من النصاریٰ والھنود الذین صنف کتابہ فی مقابلتھم سیّما النصرانی الذی طبع ثلاث حصص کتابہ فی مطبعۃ مع انہ قد دعی اللہ سبحانہ بخلوص قلبہ وکمال تضرعہ وابتھالہ لإیمان جمیع النصاریٰ خصوصًا وطبع ھٰذا الدعاء منذ سنتین ونصف سنۃ فی آخر اشتھارہ الذی مر النقل منہ فیما قبل والدعاء ھٰذا: اللّٰھم اھد للمستعدین من جمیع الأقوام سیّما الحکام من النصاریٰ فإنھم یرحمھم وإحسانھم إلینا وامتنانھم علینا بلبلونا بلبالًا لندعوا بخلوص القلب وخضوع الباطن لخیر دنیاھم ودینھم ونسئل اللہ تعالٰی خیرھم فی الدنیا والآخرۃ، اللّٰھم اھدھم وایدھم بروح منک واجعل لھم حظًّا کثیرًا فی دینک واجذبھم بحولک وقوتک لیؤْمنوا بکتابک ورسولک ویدخلوا فی دین اللہ افواجًا آمین ثم آمین والحمد اللہ رب العالمین، المشتھر: مرزا غلام احمد القادیانی۔
فھٰذا الدعاء الذی دعا بکل خضوع قلبہ وھلوع باطنہ وسئل اللہ تعالٰی ان یجذبھم بحولہ وقوتہ لیدخلوا فی دین اللہ افواجًا، فما آمن رجل واحد من النصاریٰ علٰی یدہ إلی الآن فضلًا عن ان یؤْمنوا جمیعً ا و یدخلوا فی دین اللہ افواجًا لظھر عدم المشابھۃ بین المسیح وبین صاحب البراھین فی الآیات والأنوار وغیرذلک وکذلک لیست المشابھۃ بینھما فی الفطرۃ، لأن المسیح ولد بغیر أب من نفخۃ روح رسول کریم کما یشھد بہ القرآن والحدیث وإجماع الاُمَّۃ، وصاحب البراھین ولد من نطفۃ غلام مرتضی القادیانی الحکیم کما یعلم الأنام من الخواص والعوام، بل صرح ھو فی کتابہ ان والدہ ھٰذا اید الحکام وقت بلویٰ عساکرھم فی سوالف
37
الأیام فکیف یشبہ من خلق من ماء مھین بمن قال اللہ سبحانہ فی شأنہ:وَجَعَلْنٰہَا وَابْنَہَا اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (الأنبیاء۹۱)۔
وقولہ: والمشابھۃ الظاھریۃ بیننا ثابتۃ ایضًا بأن المسیح تابع لدین موسٰی وإنجیلہ فرع لتوراتہ، وھٰذا العاجز (ای صاحب البراھین) من احقر خادمی سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔إلخ۔ ھٰذا ایضًا باطل بالیقین، اما اوّلًا فلأنّ المسیح ما کان تابعًا لدین موسٰی بل کان من اولی العزم من الرسل ای صاحب الشریعۃ مستقلۃ وإنجیلہ ما کان فرعًا للتوراتہ بل الإنجیل ینسخ التوراۃ فی بعض الأحکام کما سنبین دلیلہ من کلام الملک العلَّام قال عز من قائل: فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُوْلُوْا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الأحقاف:۳۵) قال ابن عباس رضی اللہ عنھما: اولوا العزم ذوو الحزم، وقال الضحاک: ذوو الجد والصبر، قال ابن عباس وقتادۃ: ھم نوح، وإبراھیم، وموسٰی، وعیسٰی اصحاب شرائع، فھم مع محمد صلی اللہ علیہ وإخوانہ وآلہٖ وسلم خمسۃ۔
قلت: ذکرھم اللہ علی التخصیص فی قولہ: وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنکَ وَمِن نُّوحٍ وَّإِبْرَاہِیْمَ وَمُوسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ (الأحزاب:۷)۔ وفی قولہ تعالٰی: شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسٰی وَعِیْسٰی (الشوریٰ:۱۳)۔ قالہ البغوی فی معالم التنزیل وھٰکذا فی عامۃ التفاسیر وفی شرح الفقہ الأکبر لمولانا القاری علیہ وعلی المفسرین رحمۃ الباری وقولہ تعالٰی: إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَنُورٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللہِ وَکَانُواْ عَلَیْہِ شُہَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ(المائدۃ۴۴)۔ وقولہ تعالٰی بعد ھٰذہ الآیۃ بآیۃ واحدۃ: وَقَفَّیْنَا عَلَی آثَارِہِم بِعَیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَآتَیْنَاہُ الإِنجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَنُورٌ وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَہُدًی وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْن وَلْیَحْکُمْ أَہْلُ الإِنجِیْلِ بِمَا أَنزَلَ اللہُ فِیْہِ وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ فثبت من ھاتین الآیتین ان الشریعۃ الموسویۃ والعیسویۃ شریعتان مستقلّتان۔
ومن قال: ان الإنجیل فرع التوراۃ یکذب القرآن، وقولہ تعالٰی حکایۃ عن عیسٰی علٰی نبینا وعلیہ صلوات الرحمٰن: وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ (آل عمران:۵۰) ای فی شریعۃ موسٰی من الشحوم والسمک ولحوم الإبل والعمل فی السبت وھو یدل علٰی ان شرعہ کان ناسخًا لشرع موسٰی قالہ القاضی بیضاوی فی تفسیرہ وھٰکذا فی المدارک والجلالین والبغوی وغیرھا فتحقق من القرآن المبین تکذیب صاحب البراھین فالحمد اللہ رب العالمین۔
واما ثانیًا: فلأنّ قول صاحب البراھین بأنہ من احقر خادمی سیّد الرسل صلی اللہ علیہم اجمعینصریح البطلان لأنہ یدعی مساواتہ فی کمالاتہ وینسب خصوصیاتہ المنصوصۃ بہ صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی غیرہ
38
کیف لا وان ھٰذا المدعی صرف عنہ صلی اللہ علیہ وسلم فضیلۃ الرسالۃ المشھورۃ علیھا من اللہ تعالٰی فی آیۃ: ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہ الآیۃ (الفتح:۲۸) واثبت تلک الفضیلۃ اوّلًا فی حق المسیح لعلہ لتألیف قلوب حکام ھٰذا الدیار وإظھار المحبۃ معھم لجلب المنافع ودفع المضار، وثانیًا لنفسہ لیظنہ الجھال رئیس الأولیاء ونموذج الأنبیاء ویغبنون غبنًا فاحشًا باشتراء کتابہ بالثمن الغالی لیحصل لہ الدراھم والدینار زائد العدد والإنحصار فالمدار علی حب الدنیا کما لا یخفی عند اولی الأبصار، وسنبین ھٰذا الأمر بزیادۃ الإظھار فثبت من المنقولات السابقۃ واللاحقۃ ان مؤَلف البراھین محرف لآیات القرآن المبین فلیس لہ مشابھۃ ولا مماثلۃ بأحد من المؤْمنین المخلصین فضلًا عن الفضیلۃ علی الأولیاء الکاملین، وکونہ نموذج الأنبیاء والمرسلین فنعوذ من ھٰذہ الدعاوی الباطلۃ برب العالمین، ولا یخفٰی ان تحریفہ القرآن لیس منحصرًا فی التحریف المعنوی بل حرف کثیرًا من الآیات تحریفًا لفظیًّا ایضًا، الا تریٰ فی ملھماتہ المذکورۃ علی الصدر انہ حرف آیۃ:قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَمَنْ أَسْلَمَ (الأنعام:۱۴)، وآیۃ: تُبْتُ إِلَیْکَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ (الأعراف)، ورکب منھما آیۃ ثالثۃ ھٰذہ: قل إنِّیامرت وأنا اوّل المؤْمنین۔ وبدل آیۃ: إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (ھود:۴۶) وزاد فی اوّل آیۃ:مَا أَنتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ (القلم۲) حرف الواو، وکتب الحاء بدل الھاء فی آیۃ: وَزَھَقَ الْبَاطِلُ (بنی إسرائیل:۸۱)، وغیّر واو: وَاتَّخِذُوْا مِن مَّقَامِ إِبْرٰہِیْمَ مُصَلًّی (البقرۃ:۱۲۵) بالفاء وترک فقرۃ:وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (آل عمران:۵۵) من بین آیۃ: یٰعِیْسٰی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ الآیۃ، کما نقلناہ من صفحۃ:۵۵۶، وکذلک فی ص:۵۱۹ من کتابہ ترک تلک الفقرۃ من ھٰذہ الآیۃ وھٰکذا الحال فی کثیر من الآیات عما یظھر بالتأمل علٰی حافظ القرآن المبین، ومع ھٰذا جعل القرآن حصین وذلک کثیر جدًّا فی ملھماتہ ولا یذھب علیک انہ من سھو قلم الناسخ ان مؤَلفہ صریح فی ص:۵۱۶من کتابہ انہ طبع ھٰذا الکتاب بتصحیحہ وتنقیحہ ومع ذلک ترجم تلک الآیات المحرفۃحسب تحریفہ ھٰذا وقد قال انہ الھم إلیہ: ’’وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ لیعذبھم وھم یستغفرون‘‘ (ص:۵۱۴)، وفی القرآن بعد ’’ما کان ﷲ‘‘ الثانی کلمۃ ’’معذبھم‘‘ فحرفھا بلفظۃ ’’لیعذبھم‘‘ وقال (ص:۵۵۵)انہ انزل علیہ آیۃ: وکذلک مننا علٰی یوسف لنصرف عنہ السوء والفحشاء، ثم صرح فی آخر ترجمتھا ان المراد ھٰھنا من یوسف نفسہ فحرف آیۃ: وکذلک مکنّا لیوسف بقولہ: وکذلک مننا علٰی یوسف، ومن غرائب ملھماتہ المحرفۃ والمبدلۃ لآیات القرآن ما انزلہ فی وصف نفسہ وکتابہ فی ص:۴۹۷ و۴۹۸ وھی ھٰذہ ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ رد علیھم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ عنی فی ترجمۃ ھٰذہ الإلھام عن رجل من فارس نفسہ لأنہیدعی کونہ من اولاد فارس فسمی نفسہ فارسی الأصل وجعل اللہ سبحان شاکرہ ثم کتب ھٰذہ الإلھام کتاب الولی
39
ذوالفقار علی، وقال فی ترجمتہ: ان اللہ تعالٰی شبہ کتابہ بسیف علی فی استیصال المخالف فھٰذہ ایضًا اشارۃ تدل علٰی تأثیرات عظیمۃ وبرکات عمیمۃ لکتابہ البراھین انتھی۔
وکتب بعدہ ھٰذا الإلھام: ولو کان الإیمان معلقا بالثریا لنالہ وصرح فی ترجمتہ ان المراد من ھٰذا الحدیث نفسہ وبعدہ ھٰذا الإلھام: یکاد زیتہ یضیء ولم تمسسہ نار، وترجم ھٰذہ الآیۃ واوردھا فی وصف کتابہ۔ وکتب بعدھا ھٰذا الإلھام: ام یقولون نحن جمیع منتصر سیھزم الجمع ویولُّون الدُّبر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر واستیقنتھا انفسھم وقالوا لات حین مناص فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظًّا غلیظ القلب لانفضوا من حولک ولو ان القرآن سیر بہ الجبال۔ انتھی۔
وصرح فی ترجمۃ ھٰذہ الآیات انھا فی بیان ان المخالفین یعجزون عن جواب ذلک الکتاب والقیت علیَّ ھٰذہ الآیات فی حق القوم الذین خیالھم وحالھم ھٰکذا یعنی انھم مع رؤْیۃ الآیات والخوارق ینکرونھا باللسان ویتیقنون بالجنان ولعل الناس یأتون بعدھم علٰی صفتھم ھٰذہ ترجمۃ عبارتہ ملخصۃ۔
فیقول العبد الضعیف انہ حرف ھٰھنا تحریفًا لفظیًّا کثیرًا وبھت بھتانًا کبیرًا، لأن الحدیث الصحیح المتفق علیہ الفاظہ: ’’لو کان الإیمان معلقًا بالثریا لتناولہ رجال اور رجل من فارس‘‘ فزاد فی اولہ الواو وبدَّل لتناولہ بلفظ لنالہ وحذف فاعلہ برأسہ وھٰذا غیر جائز۔ ثم حرف لفظۃ زیتھا الواقعۃ فی القرآن بکلمۃ زیتہ لرعایۃ المرجع المذکر وھو کتابہ وحرَّف آیۃ: فنادوا ولات حین مناص(ص۳) بقولہ: وقالوا لات حین مناص، فی تبدیل الواو بالفاء، ونادوا بقالوا، وحذف واو ولات فی ثلاث مواضع من کتابہ احدھا فی ھٰذا الإلھام۔
وفی ص:۴۹۰ و۴۹۷ وترجمھا ایضًا بحسب ھٰذا التحریف وبدَّل آیۃ: ولو اَنَّ قراٰناً سُیِّرَتْ بَہ الْجِبَال (الرعد:۳۱) بقولہ: ولو ان القرآن سیر بہ الجبال۔ بازدیاد اللام علٰی قرآنًا، وحذف تاء سیرت، ومع ھٰذا بدّل ترتیب آیات سورۃ القمر اعنی کتب آیتین من آخر ھٰذہ السورۃ وھما:أَمْ یَقُولُونَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنتَصِرٌ. سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ (۴۴، ۴۵) فی إبتداء الإلھام وسطر آیۃ إبتداء تلک السورۃ بعدھما وترجم علٰی ھٰذا الترکیب، فھٰذاتبدیل فی ترتیب آیات سورۃ واحدۃ، وقد قرر فی الشرع ان ترتیب آیات السور توقیفی بأمر الشارع بدلالۃ الأحادیث الصحیحۃ وإجماع العلماء الإسلامیۃ کما انعقد العلامۃ السیوطی فصلًا مستقلًّا فی بیان ھٰذا المسئلۃ فی تفسیر الإتقان فی علوم القرآن بالبسط الوسیع وذکرھا مبسوطۃ المحدث الدھلوی فی شرحیہ لمشکوٰۃ المصابیح ونص صاحب تفسیر فتح العزیز فی إبتداء سورۃ البقرۃ بعد تحقیق ھٰذہ المسئلۃ علٰی حرمۃ مخالفۃ ھذا الترتیب وکونھا بدعۃ شنیعۃ من شاء الإطلاع علٰی اصل العبارات لتکمیل الإعتبار فلینظر فی ھٰذہ الاسفار۔ فتبین انھٰذہ الإلھامات المحرفۃ لآیات القرآن المبین والمبدلۃ ترتیبھا المتین والجاعلۃ القرآن عضین لیست من إلقاء
40
رب العالمین بل ھی تسویلات نفسانیۃ وتلبیسات شیطانیۃ عند الحق والیقین۔
فإن قیل ھٰذہ التحریفات والتبدیلات وغیرھا إن کانت من عند غیر اللہ فلا شک فی حرمتھا وکونھابدعۃ شنیعۃ، واما إذا کانت من عند اللہ کما یدعیہ صاحب البراھین فلا جناح علیہ و اللہ یفعل ما یشاء ویحکمما یرید۔
اقول: قال اللہ فی سورۃ الأنعام: وَلاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللہ (الأنعام:۳۴)، وایضًا فیھا: وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِکَلِمٰتِہٖ (الأنعام:۱۱۵) ای لا احد یبدّل شیئًا منھا بما ھو اصدق واعدل ولا احد یقدر ان یحرفھا تحریفًا شائعًا ذائعًا کما فعل بالتوراۃ اولا نبی وکتاب بعدھا ینسخھا ویبدل احکامھا قالہ القاضی بیضاوی وغیرہ من المفسرین۔
وقال تعالٰی: وَاِنَّہُ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ (فصِّلت) کثیر النفع، عدیم النظر او ملیع لا یتأتی إبطالہ وتحریفہ، لایأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ من جھۃ من الجھات تنزیل من حکیم حمید یحمدہ کل مخلوق کذا فی انوار التنزیل وغیرھما۔
فعلم من القرآن ان اللہ تعالٰی لم یشأ تبدیل القرآن بل اتمہ بالصدق والعدل ویحفظہ من التحریف والتبدیل ونظمہ ورتبہ فی اعلٰی درجات من البلاغۃ والفصاحۃ وغیرھما فلا یتصور کلام احسن منہ بالنظم والترتیب وغیرھما ولا یکن تحریفہ وتبدیلہ لا من جھۃ بنبی وکتاب من اللہ تعالٰی لأنہ خلاف الوعد و اللہ لا یخلف المیعاد ولا من جھۃ غیرھما فتحقق ان ھٰذہ الملھمات المحرفۃ والمبدلۃ لآیات القرآن المبین لیست من اللہ المعین بل من نفسانیۃ صاحب البراھین ومن شیطانہ الذی ھو لہ قرین، فنعوذ ب اللہ من الإلحاد فی آیات الفرقان المتین۔ قال عزَّ من قائلٍ: إن الذین یلحدون یمیلون عن الإستقامۃ فی آیاتنا بالطعن والتحریف والتأویل الباطل والإلغاء فیھا لا یخفون علینا فنجازیھم علٰی إلحادھم أفمن یلقیٰ فی النار خیر ام من یأتی اٰمنًا یوم القیٰمۃ اعملوا ما شئتم، تھدید شدید انہ بما تعملون بصیر وعید بالمجازاۃ کذا فی انوار التنزیل ومدارک التنزیل وغیرھما۔
وقال تعالٰی: ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا او قال اُوحِیَ إلیَّ ولم یوح إلیہ شیء الآیۃ۔ وقولہ تعالٰی: ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا کان اسند إلیہ ما لم ینزلہ او نفی عنہ ما انزلہ اولٰئک یعرضون علٰی ربھمفی الموقف بأن یجیبوا او تعرض اعمالھم ویقول الأشھاد من الملائکۃ والنّبیین او من یواریھم ھٰؤُلاء الذین کذبوا علٰی ربھم الا لعنۃ اللہ علی الظّٰلمین تھویل عظیم مما یحیق بھم بظلمھم بالکذب علی ﷲ، کذا فی انوار التنزیل وغیرہ۔
41
ومن اقسام الکذب علی اللہ الغلط فی نقل العلم والرؤْیۃ الکاذبۃ والحکم فی الدین بمقتضی العقل یعنی خلاف الشرع والإدعاء بالکشف او القرب من اللہ تعالٰی قالہ الشیخ عبدالقادر الدھلوی فی ترجمۃ المسماۃ بموضح القرآن، قال مولانا القاری علیہ رحمۃ الباری فی شرح الفقہ الأکبر: وھٰؤُلاء الذین یفعلون ھٰذہ الأفعال الخارجۃ عن الکتاب والسُّنَّۃ انواع، نوع منھم اھل تلبیس وکذب وخداع الذین یظھر احدھم طاعۃ الجن لہ او یدعی الحال من اھل المحال کالمشائخ النصابین والفقراء الکذابین والطرقیۃ المکارین، یستحقون العقوبۃ البلیغۃ التی تردعھم وأمثالھم من الکذب والتلبیس وقد یکون فی ھؤُلاء فھٰؤُلاء من یستحق القتل کمن یدعی النبوۃ بمثل ھٰذہ الخزعبیلات او یطلب تغیر شیء من الشریعۃ ونحو ذالک انتھی۔
ولیعلم ھٰھنا ان صاحب البراھین کتب فی ص:۵۲۰ و۵۲۱ قصۃ إلھامہٖ: بأنی ذھبت یومًا إلی المولوی محمد حسین البتالوی للبحث بہ فی مسئلۃ إختلافیۃ بترغیب بعض الناس، فلما سمعت تقریرہ علمت غیر قابل الإعتراض والبحث معہ اللہ فإذا جن علیَّ اللیل ألھمنی اللہ بالمخاطبۃ بھٰذہ الکلمات: إلٰھک رضی عن فعلک ھٰذا۔ مشیرًا إلٰی ترک البحث مع ذلک المولوی وھو یعطیک برکۃ کثیرۃ إلٰی ان السلاطین یأخذون البرکۃ عن ثیابک ثم رأیت فی الکشف ھٰؤُلاء السلاطین راکبی خیلولھم فی ذلک الحین انتھی بترجمۃ کلامہ۔
فھٰذا المولوی الممدوح نھایۃ درجۃ الکمال وسبب حصول البرکۃ من اللہ ذی الجلال لصاحب البراھین ھو الذی رئیس غیر المقلدین وتلمیذ المولوی نذیر حسین الدھلوی وقد کان ھٰذا المولوی محمد حسین فی إبتداء الأمر یبحث بالمکابرۃ مع المقلدین ویعدھم من المشرکین ویسمی تقلید الأئمۃ المجتھدین شرکًا وکفرًا کما طبع فی ھٰذا الباب إشتھارات واخبارات وغیرھا فلما رد اقوالہ بجھد العلماء المقلدین اعانھم اللہ المعین رجع من تلک الشدۃ قلیلًا وعاد من ذلک الجدال ذلیلًا والآن یشتھر اھل الحرمین ظالمین باتباع استاذہ نذیر حسین بسبب حبس استاذہ فی مکۃ المحمیۃ سنۃ ۱۳۰۱ من السنن الھجریۃ یشکو عنھم عند حکام ھٰذہ الدیار من النصرانیین کما یظھر من ھامش رسالۃ المسماۃ باشاعۃ السنۃ نمبر:۹، جلد:۷ ص:۲۵۶ وغیرھا، و اللہ خیر الناصرین والحافظین والعاقبۃ للمتقین۔
فھٰذا محمد حسین یصف کتاب البراھین اداء لشکر مؤَلفہ فی رسائلہ المجریۃ علٰی رأس الشھور المسماۃ بإشاعۃ السنۃ وبالغ فی وصفہ کثیرًا کبیرًا إلٰی ان قال یجب علٰی جمیع المؤْمنین من الشیعۃ واھل السُّنَّۃ والمقلدین واھل الحدیث ان یشتروا کتاب البراھین بأدنیٰ قیمتہ (وھی خمس وعشرون روبیۃ) ویقرؤُن فی شکر حصولہ ھٰذا البیت الفارسیۃ:
جمادی چند دام جان خریدم
بحمد اللّٰہ عجب ارزاں خریدم
42
ووعی اللہ سبحانہ بأن یشرفہ وجمیع المسلمین بفیوض ھٰذا الکتاب المستطاب کما فی ص:۳۴۸، نمبر:۱۱، جلد:۷ من إشاعۃ السنۃ شھر ذی القعدۃ وذی الحجَّۃ سنۃ ۱۳۰۲۔ وفی ھٰذہ الرسائل اید کلام صاحب البراھین بتأویلات فاسدۃ وتسویلات کاسدۃ حاصلھا ان آیات القرآن إذا نزلت فی خطاب نبینا او سائر الأنبیاء سمیت قرآنا، وإذا خاطب بھا اللہ تعالٰی غیر الأنبیاء مثل صاحب البراھین، لم تسم قرآنًا، وإن کانت بعینھا آیات القرآن، وغرضہ من ھٰذا الھذیان ان یخلص صاحب البراھین من تحریف القرآن وإلحاد آیات الفرقان۔ ثم صرح بالتصریح التام بھٰذا المطلب الفاسد النظام فی صفحات: ۲۶۳ و۲۶۴ و۲۶۵ و ۲۶۶، من رسائلہ المسطورۃ، فالعبد الضعیف بتأیید العلیم اللطیف ینقل اقوالہ بترجمۃ عباراۃ الھندیۃ فی العربیۃ مع إبطالھا بالقرآن والحدیث والإجماع، حسبنا اللہ ونعم الوکیل وھو الھادی إلٰی سواء السبیل۔
قولہ: ’’تسمیۃ الکلام الواحد فی الوقت الواحد بسبب إختلاف المخاطب أو المتکلم قرآنًا وغیر قرآن لا یستبعد عند اھل العلم ولا یرد الإعتراض علیہ۔‘‘
اقول: او المتکلم فی کلام واحد فی زمان واحد: لأن المتکلم الأوّل إذا تکلم بکلام فمجرد تکلمہ ینقضی ذلک الزمان فکیف یتصور تکلم المتکلم الآخر بذلک الکلام فی ذلک الزمان، وکذلک الحال باعتبار إختلاف المخاطب عند اھل العلم من الأعیان۔
والثانی: وان سلمنا إختلاف المتکلم او المخاطب فی الکلام الواحد فی الزمان الواحد فتسمیۃ الکلام الواحد فی الوقت الواحد قرآنًا وغیر قرآن غیر ممکن، لأن إثبات الشیء ونفیہ فی الوقت الواحد غیر جائز عقلًا۔
والثالث: ان القرآن قرآن من الأزل إلی الأبد فلا یجوز ان یقال لہ غیر قرآن شرعًا فإن اللہ تعالٰی سمی الآیات البینات قرآنًا کما قال عزَّ من قائل: قراٰنًا عربیًّا غیر ذی عوج الآیۃ، فمن سمی تلک الآیات بعینھا غیر قرآن فقد خالف الفرقان۔
قولہ: ’’والکلام یختلف اسمہ دائمًا باختلاف المخاطب او المتکلم مع کونہ بعینہ فالکلام الواحد إذا اضیف تکلمہ إلی اللہ مثلًا فھو الکلام الرحمانی وإذا اضیف تکلمہ إلی الشیطان او فرعون فھو الکلام الشیطانی او الفرعونی مثالہ ھٰذا الکلام المنقول من إبلیس فی القرآن: انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین، والکلام الثانی نقل من فرعون وھو: انا ربکم الأعلٰی، فإن اعتبرنا ان ھٰذین الکلامین قالھما إبلیس وفرعون فی لسانھما فیقال لھما الکلام الشیطانی والکلام الفرعونی انتھی۔
وقال فی ھامش ھٰذہ الصفحۃ: إذا جعل انا ربکم الأعلٰی کلام فرعون فی ای لسان قالہ، لا یسمی قرآنًا، انتھی۔‘‘
43
اقول: الکلام لا یختلف باختلاف المتکلم، فإن الکلام کلام من قالہ اولًا ألا تریٰ ان من قرأ الحمد اللہ رب العٰلمین وقل ھو اللہ احد فلا یقال انھما کلام ھٰذا القاری بل یقول کل مؤْمن: ھاتان آیتان من کلام الباری، ومن قال: إنَّما الأعمال بالنِّیَّات، فیقال إنما ھو حدیث الرسول علیہ الصلٰوۃ والسلام، ومن قال: قفا نبک من ذکری حبیب ومنزل، فیقال ھٰذا المصراع من شعر امرؤُ القیس کذا فی شرح الفقہ الأکبر لمولانا القاریعلیہ رحمۃ الباری، ثم اضافہ آیات القراان العظیم إلٰی غیر اللہ الکریم وجعلھا کلام الشیطان الرجیم وفرعون اللئیم لیست من داب المؤْمن الحکیم، بل یقول المؤْمن فی مقابلۃ ھٰذا المقال سبحانہ ھٰذا بھتان عظیم، لأن ما فی الدفتین من الحمد اللہ رب العالمین إلٰی من الجنۃ والناس لیس إلا کلام رب رحیم وقد کتب فی اللوح المحفوظ قبل خلق الأرض والسماء والأرواح وإنما انزل ھٰذا جبریل علی الرسول الرئوف الرحیم علیھما الصلٰوۃ والتسلیم کما قال تعالٰی: بل ھو قراٰن مجید فی لوح محفوظ قال فی تفسیر فتح العزیز: بل ھو قصۃ القرآن القدیم التی قبل وقوعھا فی لوح محفوظ من الشیاطین والجن والإنس واخرج فی المعالم باسنادہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: اللوح لوح من درۃ بیضاء طولہ ما بین السماء والأرض وعرضہ ما بین المشرق إلی المغرب وحافتاہ الدرر والیاقوت ودفتاہ یاقوتۃ حمراء وقلمہ نور وکتابہ معقود بالعرش واصلہ فی حجر ملکانتھی۔ کذا فی المدارک والجلالین وغیرھما لٰکن اخرج ھٰذا الحدیث فی الإتقان عن الطبرانی عن ابن عباس مرفوعًا بتفاوت یسیر وایضًا قال تعالٰی: لا تحرک بہ ای بالقرآن لسانک لتعجل بہ بالقرآن وکان علیہ السلام یأخذ فی القرائۃ قبل فراغ جبریل کراھۃ ان ینفلت منک ثم علل النھی عن العجلۃ بقولہ ان علینا جمعہ فیصدرک وقراٰنہ وإثبات قرائۃ فی لسانک والقرآن القرائۃ ونحوہ ولا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضیٰ إلیک وحیہ فإذا قرأناہ ای قرئہ علیک جبریل فجعل قرائۃ جبریل قرائتہ تعالٰی فاتبع قراٰنہ ای قرائتہ ثم ان علینا بیانہ إذا اشکل علیک شیء من معانیہ قالہ فی مدارک التنزیل وھٰکذا فی عامۃ التفاسیر ثم اوّل آیات نزلت علیہ صلی اللہ علیہ وسلم من القرآن بالإجماع قولہ تعالٰی اقرأ باسم ربک الذی خلق إلٰی مالم یعلم وقال فی تفسیر فتح العزیز انہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج یومًا من غار حراء للغسل وقام علٰی شط الماء إذ ناداہ جبریل من الھواء ان یا محمد! فنظر صلی اللہ علیہ وسلم إلی العُلٰی ولم یبصر احدًا فناداہ ثلاث مرّاتٍ وھو صلی اللہ علیہ وسلمینظر إلی الیمین والشمال فإذا شخص نورانی مثل الشمس وعلٰی رأسہ تاج عن نور ولبس حلۃ خضراء علٰی صورۃ إنسان جاء إلیہ صلی اللہ علیہ وسلم وقال لہ: اقرأ! وفی بعض الروایات: ان جبریل جاء بقطعۃ حریر اخضر قدکتب فیھا شیء فرآہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک القطعۃ وقال: اقرأ! فقال صلی اللہ علیہ وسلم: انا لَا اعرف صورۃ الحروف وما انا بقاریٍ، الحدیث۔
44
وقال مولانا القاری فی شرح الفقہ الأکبر فی الملحقات: ومنھا ما ذکرہ شارح عقیدۃ الطحاویۃ عن الشیخ حافظ الدین النسفی فی المنار ان القرآن اسم للنظم والمعنی جمیعًا وکذا قال غیرہ من اھل الاُصول وما ینسب إلٰی أبی حنیفۃ رضی اللہ عنہ ان من قرأ فی الصلٰوۃ بالفارسیۃ أجزأہ فقد رجع عنہ، وقال: لا یجوز مع القدرۃ بغیر العربیۃ، وقال: لو قرأ بغیر العربیۃ فإمَّا أن یکون مجنونًا فیداوی او زندیقًا فیقتل، لأن اللہ تعالٰی تکلم بھٰذہ اللغۃ والإعجاز حصل بنظمہ ومعناہ، انتھی۔
فثبت بالقرآن والحدیث وتصریح علماء عقائد اھل السُّنَّۃ ان ھٰذہ الآیات البینات المسماۃ بالقرآن انزلت علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھٰذہ الحروف والکلمات کانت مکتوبۃ فی اللوح المحفوظ ھٰذا وقد قال الإمامالأعظم فی الفقہ الأکبر والقاری فی شرحہ: وما ذکرہ اللہ تعالٰی فی القرآن ای المنزل والفرقان المکمل عن موسٰی وغیرہ من الأنبیاء علیھم السلام ای اخبار منھم او حکایۃ عنھم وعن فرعون وإبلیس ای ونحوھما من الأعداء والأغبیاء فإن ذلک ای ما ذکر من النوعین کلہ علٰی ما فی نسخۃ ای جمیعہ کلام اللہ تعالٰی ای القدیم اخبارا عنھم ای وفق ما قد کتب الکلمات الدالۃ علیہ فی اللوح المحفوظ قبل خلق السماء والأرض والروح بکلام حادث عند سمعہ من موسٰی وعیسٰی وغیرھما من الأنبیاء ومن فرعون وإبلیس وھامان وقارون وسائر الأعداء فإذًا لا فرق بین الأخبار من اللہ تعالٰی عن اخبارھم واحوالھم واسرارھم کسورۃ تبت وآیۃ القتال ونحوھما وبین اظھار اللہ تعالٰی من صفات ذاتہ وافعالہ وخلق مصنوعاتہ کآیۃ الکرسی وسورۃ الإخلاص وامثالھا وبین الآیات الآفاقیۃ والأنفسیۃ فی کون کلھا منھا کلامہ وصفتہ الاسمیۃ الأنفسیۃ ومجمل الکلام۔
قولہ علٰی ما فی نسخۃ وکلام اللہ تعالٰی ای ما ینسب إلیہ تعالٰی غیر مخلوق ای ولا حادث، وکلام موسٰی علٰی نبینا وعلیہ السلام ولو کان مع ربہ وغیرہ ای وکذا کلھم غیرہ من المخلوقین ای کسائر الأنبیاء والمرسلین والملائکۃ المقربین مخلوق ای حادث بعد کونھم مخلوقین، والقرآن کلام اللہ تعالٰی ای بالحقیقۃ کما قال الطحاوی رحمہ اللہ تعالٰی لا بالمجاز کما قال غیرہ إن کان مجازًا یصح نفسہ وھٰھنا لا یصح۔
واجیب بأن الشرع إذا ورد بإطلاقہ فیما یجب اعتقادہ لا یصح نفیہ فھو قدیم کذاتہ لا ککلامھم فإنہ حادث مثلھم إذا النعت تابع بمنعوتہ، وإنما یقال المنظوم العبرانی الذی ھو التوراۃ والمنظوم العربی الذی ھو القرآن کلامہ سبحانہ، لأن کلماتھما وآیاتھما ادلۃ کلامہ وعلامات مرامہ، ولأن مبدأ نظمھما من اللہ تعالٰی ألا تریٰ انک إذ قرأت حدیثًا من الأحادیث قلت ھو الذی قرأتہ وذکرتہ لیس قولی بل قول رسول اللہ صلی ﷲعلیہ وسلم، لأن مبدء نظم ذلک القول من الرسول علیہ الصلٰوۃ والسلام، ومنہ قولہ تعالٰی: افتطمعون ان یؤْمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ وقولہ عز وجل: وإن احد من المشرکین استجارک فأجرہ حتّٰی
45
یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ مأمنہ انتھٰی۔
وفی المشکوٰۃ عن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تعالٰیکتب کتابًا قبل ان یخلق السماوات والأرض بألفی عام انزل منہ آیتین ختم بھما سورۃ البقرۃ، رواہ الدارمی والترمذی۔
وعن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ تعالٰی قرء طٰہٰ ویٰسٓقبل ان یخلق السماوات والأرض بألف عام، الحدیث رواہ الدارمی، انتھی بقدر الحاجۃ۔
فلما تبین من القرآن والحدیث وعقائد اھل السُّنَّۃ ان آیات القرآن باجمعھا انما ھی کلام اللہ تعالٰی لا کلام غیرہ من المخلوقین فما فیہ من قصص الأنبیاء واقوال الأصدقاء واحوال الأعداء ومقال الأشقیاء انما ھی کلام اللہ تعالٰی قالھا اللہ سبحانہ إخبارًا منھم، قیل خلقھم ووجودھم فی دار الفناء فقول ھٰذا المبتدع ای صاحب الرسالۃ اشاعۃ السنۃ بأن آیۃ: انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین، کلام شیطانی، وآیۃ: انا ربکم الأعلٰی، کلام فرعونی، ولیست بقرآن، انکر بمآۃ آیات الفرقان وجعل جمیع قصص القرآن وحکایات الفرقان من کلام المخلوق نعوذ ب اللہ من ھٰذا المنطوق۔
قال مولانا القاری فی المنح الأزھر شرح الفقہ الأکبر تحت قول الإمام الھمام: وکلام اللہ تعالٰی غیر مخلوق بل قدیم بالذات، قال الطحاوی: فمن سمعہ فزعم انہ کلام البشر فقد کفر وقد ذمہ اللہ واوعدہ بسقر،حیث قال اللہ تعالٰی: سأصلیہ سقر، فلما اوعدہ اللہ بسقر لمن قال: إن ھٰذا إلَّا قول البشر علمنا وایقنا انہ قولخالق البشر ولا یشبہ قول البشر انتھی۔
وایضًا فی ذلک الکتاب فإن قیل: قال اللہ تعالٰی: إنَّہ لقول رسول کریم، وھٰذا یدلُّ علٰی ان الرسول احدثہ إما جبریل او محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فقیل ذکر الرسول معرف انہ مبلغ عن مُرْسِلہ لأنہ لم یقل انہقول ملک او نبی فعلم انہ بلغہ عمن ارسلہ بہ لا انہ انشائہ من جھۃ نفسہ وایضًا فالرسول فی إحدی الآیتینجبریل وفی اُخریٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فإضافتہ إلٰی کل منھما تبین ان الإضافۃ للتبلیغ إذ لو احدثہ احدھما امتنع ان یحدثہ الآخر۔ وایضًا فإن اللہ تعالٰی قد کفر من جعلہ قول البشر فمن جعلہ قول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بمعنی انہ انشائہ فقد کفر ولا فرق بین ان یقول انہ قول البشر او جن او ملک إذا الکلام کلاممن قالہ مبتدیًا لا من قالہ مبلغًا انتھی۔
ولنعم ما قیل:
-
گرچہ قرآن از لب پیغمبر ست
ہر کہ گوید حق نگفت او کافر ست
46
فإن لم یطمئن قلب صاحب الاشاعۃ بھٰذہ النقول لأنھا من زبر العلماء المقلدین ولعل قولھم عندہ لیس بمقبول، فأقول نقل ھو ایضًا شرح الفقہ الأکبر فی ص:۲۹۲ و۲۹۳ و۲۹۴ من اشاعۃ السنۃ وایضًا نقل فیھا بصفحۃ:۳۱۴ من مولانا شاہ عبدالعزیز الدھلوی بوصف کثیر فی حقہ ومع ھٰذا نقل ھٰذا المطلب بعینہ من سفار غیر المقلدین لیکون لقطع حجتہ اوّل دلیل ویعلم انہ ای صاحب الإشاعۃ عند قومہ ایضًا ضل عن سواء السبیل۔ قال فی نھج مقبول من شرائع الرسول الذی صححہ وامر بطبعہ فی بلدۃ بھوبال المولوی صدیق حسن القنوجی ثم البھوبالی احد مشاھیر علماء غیر المقلدین ما نصہ القرآن الکریم کلامہ تعالٰی منہ بدء وإلیہ یعود ولفظہ ومعناہ کلامًا من اللہ تعالٰی لیس جبریل إلَّا ناقلہ وما محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلَّا مبلغہ وما قرأ منہالخلق ویقرؤُن کلہ کلام اللہ تعالٰی کلم اللہ سبحانہ بہ وسمع منہ جبریل صدقًا وانزل علٰی رسول اللہ صلی ﷲعلیہ وسلم یقینًا من قال انہ کلام ملک او بشر فمسکنہ سقر انتھی بترجمۃ عبارتہ الفارسیۃ، وھٰذہ الرسالۃ تألیفالولد الأکبر لمولوی صدیق حسن البھوبالی وما نقل منہ ھو فی ص:۵ المطبوع فی مطبع بھوبال، فماذا بعد الحق إلَّا الضلال۔۔۔؟
قولہ: ’’فإن اعتبرنا ان ھٰذا الکلامین بعینیھما فی ضمن حکایۃ إبلیس وفرعونوجدا فی کلام اللہ فیسمیان کلامًا رحمانیًّا وجزئًا من القرآن۔‘‘
اقول: لا حاجۃ لإعتبار معتبر فی جعل آیۃ: أنا خیر منہ الآیۃ، وآیۃ: انا ربکم الأعلٰی من الکلامالرحمانی وجزء من القرآن المبین، بل ھما فی الحقیقۃ والأصل کلام اللہ سبحانہ قالھا اللہ تعالٰی وکتبتا فی اللوحقبل خلق إبلیس وفرعون بآلاف سنین کما مر سندہ من القرآن المبین واحادیث سیّد المرسلین ومعتقدات العلماء الربانیین۔ فجعل ھٰذا الکلام العربی المعجز العظیم الشأن کلام إبلیس وفرعون، ثم إعتبار النقل منھمافی القرآن لیس إلّا الھذیان والبھتان ابعد اللہ عز وجل من ھٰذہ العقیدۃ والقول بھا جمیع اھل الإیمان۔ ولیعلم ان ھٰذہ الأقوال التی مبناھا علٰی إختلاف المتکلم قالھا صاحب الاشاعۃ فی تمھید تأیید صاحب البراھین وفدی فی حب دینہ بشھادۃ الشرع المتین۔
والآن انقل اقوالہ التی مدارھا علٰی اختلاف المخاطب وھی فی الأصل امداد محبہ وارادھا بأدلۃ الدین المتین بمدد الملک المعین:
قولہ: ’’وکذلک یختلف الکلام بسبب اختلاف المخاطب۔‘‘
اقول: قد مر الکلام فیہ وایضًا قد صرح علماء الفنون ان الکلام إمَّا خبر او إنشاء وما اعتبروا فیمفھومیھما ھٰذا الإختلاف، فلیت شعری من ای مأخذ اخذ ھٰذا المبتدع ذلک القول بخلاف الأسلاف۔
قولہ: ’’والکلام للذی قالہ اللہ تعالٰی فی خطاب رسولہ واندرج فی کتاب معروف
47
یقرءہ المسلمون فذلک یسمی قرآنًا۔‘‘
اقول: الخطاب فی الکلام انما یکون بصیغۃ الحاضر، قال فی تلخیص المفتاح مثال الإلتفات من التکلم إلٰی خطاب: وما لی لا اعبد الذی الآیۃ، ومثال الإلتفات من الخطاب إلی الغیبۃ: حتّٰی إذا کنتم فی الفلک الآیۃ،ومثال الإلتفات من المغیبۃ إلی الخطاب: مٰلک یوم الدین، إیَّاک نعبد، انتھٰی۔
فإذا تمھد ھٰذا فلیعلم ان حد القرآن الذی عرفہ بہ صاحب الاشاعۃ غیر جامع لخروج آلاف آیات القرآن بحسب ھٰذا التعریف من الفرقان، لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس مخاطبًا بجمیع آیات القرآن والقرآنکلہ لیس خطابًا لسید الإنس والجان علیہ صلوات الرحمٰن بل آیات الخطاب مثل: وعلَّمک ما لم تکن تعلمالآیۃ، و: قل إن کنتم تحبون اللہ الآیۃ، وإنَّا فتحنا لک فتحًا مبینًا لیغفر لک اللہ ما تقدَّم من ذنبک وما تأخر، و: إنَّا أعطینٰک الکوثر، وامثالھا، حصہ قلیلۃ من القرآن وخوطب غیرہ صلی اللہ علیہ وسلم کبنی إسرائیل ومؤْمنیھٰذہ الاُمَّۃ والکفار والجن وغیرھم فی آیات کثیرۃ، وکثیرۃ من الآیات لیس فیھا خطاب لأحدٍ أصلًا، فعلٰی ھٰذا التفسیر خرج ھٰذا المقدار الکثیر من القرآن عن کونہ الفرقان فیا اسفٰی علٰی ھٰذا المؤَید لصاحب البراھین فإنہفی وودّہ وشکر وصفہ یخرج آلاف آیات القرآن من کلام رب العالمین فکفی بہ منتقمًا العظمۃ ﷲ، یقول العوام الأمثالہ انھم علماء الدین وھو یسمّٰی رسالتہ بإشاعۃ السنۃ ویزعم نفسہ من اکابر المصنفین ویشتھر صاحب البراھین الکاملین المکملین والحال انھما مع جمیع غیر المقلدین یحبون المال جامین ولتحصیل الدنیا من الحرام والحلال من المحتالین کما یبیعون حق تصانیف رسائلھم بکثیر من الدراھم والدنانیر ویجمعون بنحوھٰذا الوجہ المال الکثیر، وھٰذا صاحب الاشاعۃ حجم رسائلہ فی تمام السنۃ اربع وعشرون جزئًا وفی ثمنہ تکفی روبیۃ او روبیان وھو یأخذ من النوابین والرؤَساء ثلاثون روبیۃ ومن دونھم من الأغنیاء خمس عشر روبیۃ ومن المتوسطین فی المال سبع ونصف روبیۃ ومن المقلین ثلْث وثلٰث ربع روبیۃ وذلک صاحب البراھین ضخم کتابہ المطبوع ثلاث وثلاثون جزئًا الذی قیمتہ فی السوق إثنان او ثلاث روبیۃ وھو قرر اقل قیمتہ خمس وعشرون روبیۃ واعلٰی قیمتہ مأۃ روبیۃ ومن اشتری کتابہ فبالغ فی وصفہ وإن کان رافضیًّا أو کان من عبدۃ الأصنام ومنلم یشتر فغلا فی توھینہ وذمہ غلوًا حتّٰی شبھہ بقارون وجعلہ من عبدۃ الدنیا، وإن کان من رؤَساء اھل الإسلام کما یظھر من مطالعۃ کتابہ لاُولی الافھام ایضًا وإذا ألھم علیہ من خبر حصول المال الکثیر فرح فرحًا شدیدًا وإذا اخبر بأنہ المال القلیل فحَزن حزنًا کبیرًا کما فی ص:۵۲۲،۵۲۴ من کتابہ، فلیس ذلک إلَّا المدار علٰی حب ھٰذا الدار وغایۃ الجھد فی جمع الدراھم والدینار فاعتبروا یا اولی الأبصار، و اللہ سبحانہ اعلم بالظواھروالأسرار۔
وملخص الکلام فی ھٰذا المقام ان التعریف الجامع المانع للقرآن المکرم والفرقان العظم ما ذکرہ
48
علماء الإسلام سیما الإمام الأعظم والھمام المفحم علٰی ما فی الفقہ الأکبر وشرحہ ’’والقرآن منزَّل بالتشدید ای نزل منجمًا علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ای فی ثلاثۃ وعشرین عامًا وھو فی المصحف ای فی جنسہ، وفی نسخۃ فی المصاحف مکتوب ای مزبور ومسطور وفیہ ایماء إلٰی ان ما بین الدفتین کلام اللہ علٰی ما ھو المشھور انتھی۔
وفی مقام آخر من ذلک الکتاب والقرآن فی المصاحف مکتوب فی القلوب محفوظ وعلی الألسنۃ مقروء وعلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم منزل بالتخفیف والتشدید وھو الأولٰی لنزولہ مدرجا ومکررا، والمعنی انہ نزل علیہ، علیہ السلام، بواسطۃ الحروف المفردات والمرکبات فی الحالات المختلفات انتھی۔
فانظروا یا اولی الألباب إلٰی ھٰذا الرجل العجاب الذی لا یمتاز بین التنزیل والخطاب ویقول لآیات القرآن انھا کلام فرعون والشیطان اللعین۔ ومع ھٰذا یدعی انہ یظھر اغلاط المجتھدین ویؤَید الدین المتین فلیس ذلک إلَّا الرعونۃ والجھل المرکب بالیقین۔
قولہ: ’’وذلک الکلام ای المسمی بالقرآن ان قالہ تعالٰی فی خطاب غیر النبی وفی کتاب متقدم من التوراۃ والإنجیل وغیرھما ادنیٰ إلھام ولی فلا یسمی قرآنًا، وإن کان ذلک ای ما ألھم من القرآن بعینہ۔‘‘
أقول: فی ھٰذا الکلام اغلوطات کثیرۃ ویکفی بإظھار ما نحن فیہ وھو ھٰذا قد مر الکلام فی انالخطاب لا دخل لہ فی کون آیات القرآن قرآنا، انما القرآن ما انزل علیہ واوحی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ومن کلامہ تعالٰی والقرآن کان قرآنًا قبل التنزیل ویکون قرآنًا بعد الإنزال إلٰی یوم القیامۃ، وإن الھمت آیۃ من القرآن علٰی احد من الأولیاء فلا یخرجھا عن کونھا آیۃ من القرآن بل القرآن فرقان من الأزل إلی الأبد، معناہ ھو الکلام النفسی القدیم ونظمہ ایضًا من اللہ الکریم وقد سماہ اللہ سبحانہ بالقرآن الحکیم فکیف یتصور ان یکون القرآن غیر قرآن وتقرر فی عقائد اھل السُّنَّۃ انہ لا تغیر علٰی صفاتہ کما لا تغیر علٰی ذاتہ تبارک وتعالٰی،وایضًا فی نھج مقبول الذی لغیر المقلدین اصل الاُصول ما نصہ، ولا یجری التغیر علٰی ذاتہ ولا علٰی صفاتہ (ص:۱۰ س:۱۶۱) انتھی بترجمتہ، ثم العجب ان صاحب البراھین یسمی ما یدعی القائہ إلیہ من القرآن آیات قرآنیۃ کما نقلہ من ص:۴۸۵ و۴۹۸ وھٰذا صاحب الاشاعۃ بل الشناعۃ یلغو بأنھا غیر قرآن ولیست بفرقانویتفوہ فی حق الآیات البینات انھا کلمات شیطانیۃ وفرعونیۃ، ولیت شعری بأن ھٰذا الرجل إن لم یبال عنغضب الرحمٰن بسوء الأدب فی حق حضرۃ القرآن، أفلا یعلم ان ھٰذا توجیہ القول بما لا یرضیٰ بہ صاحبہ، فنعوذ با اللہ المعین من ھٰذا الجھل المبین، ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وأنت خیر الفاتحین۔
49
اما ما قال صاحب الاشاعۃ فی ص:۳۰۴ ان إلھامات صاحب البراھین لیست من الشیطان اللعین مستدلًّا بآیۃ: انما یأمرکم بالسُّوٓء والفحشاء، وآیۃ: الشیطان یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء، لأن تلک الإلھامات غیر مشتملۃ علی السوء والفحشاء۔
فأقول: وبحول اللہ النصیر احول قد مر علی الصدر ان صاحب البراھین قد ارتکب الکذب علی اللہ الکریم والتحریف المعنوی واللفظی فی آیات القرآن العظیم وتزکیۃ النفس إلی حد یترقی بہ إلٰی درجۃ الأنبیاء علیھم الصلٰوۃ والثناء فھٰذا اسوء سوء وافحش الفحشاء وإن لم یبصر بہ من علٰی عینیہ غشاء، وعلٰی قلبہ عماء نعم کیف یبصر من یخرج من سواد الأعظم شینہ، وفی ذلک الکتاب مدحہ وزینہ فذلک ویدرجہ فی الکاملین المکملین بادعاء إلھام رب العالمین لإظھار کمال حالہ ومآلہ علٰی غیر المقلدین ومن دونھم من الجاھلین، ویؤَید ھٰذا اقوالہ الباطلۃ بغایۃ اھانۃ القرآن المبین ف اللہ خیر حافظًا وھو ارحم الراحمین۔
بقی ھٰھنا شیء وھو ان صاحب الاشاعۃ قال فی ص:۲۵۹ انہ ان اشتبہ علٰی احد من لفظ النزول فی إلھام صاحب البراھین بأنا انزلناہ قریبًا من القادیان، وبالحق انزلناہ وبالحق نزل بنزول القرآن او وحی الرسالۃ فدفعہ ان ھٰذا اللفظ لیس مخصوصًا بنزول وحی الرسالۃ او القرآن بل یستعمل بمعنی الکرم والعطاء کما فی قولہ تعالٰی: وانزل لکم من الأنعام ثمانیۃ ازواج، ای اعطٰی لکم فکذالک عطا إلھام المعارف لصاحب القادیان عبر بالنزول فلا یشتبہ بنزول القرآن ووحی الآیات اقول ھٰذا باطل بوجوہ:
احدھما: ان صاحب البراھین الذی انزل إلیہ: إنَّا انزلناہ لما ترجمہ لفظ الإنزال والنزول بالمعنی الحقیقی ولھما وقد نقل ھٰذہ الترجمۃ صاحب اشاعۃ السنۃ فی ھٰذہ الصفحۃ فی السطر الثامن فتأویلہ علٰی خلاف مراد المنزل علیہ لیس إلَّا توجیہ القائل بما لا یرضی قائلہ۔
وثانیھا: ان انزال المعارف والإلھام المعطوف بآیۃ: وبالحق انزلناہ وبالحق نزل، التی لیست ھی إلَّا فی بیان انزال القرآن ونزولہ ینکر ھٰذا التأویل ویبطلہ بألف لسان۔
وثالثھا: ان لفظ الإنزال فی آیۃ: وانزل لکم من الأنعام الآیۃ، محمول علٰی معناہ الحقیقی عند اکثر المفسرین بأن اللہ تعالٰی انزل الأنعام من الجنۃ مع آدم أبی النبیین صلوات اللہ علیھم اجمعین کما فی المدارک والکبیر والنیسابوری والخازن والحسینی واللباب وغیرھا انھم فسروھا بأن الأنعام لا تعیش إلَّا بالنبات، والنبات لا تقوم إلَّا بالماء وقد انزل الماء فکأنہ انزلہ کذا فی المدارک والمعالم والکبیر والنیسابوری وابیالسعود والبیضاوی وغیرھا، فعلی ھٰذین القولین لا یجوز تفسیر الإنزال فی الآیۃ الشریفۃ ای وانزل لکم من الأنعام الآیۃ بالعطاء وجمھور المفسرین فسروا النزول فی الآیۃ الشریفۃ بالخلق فالآیۃ مثل آیۃ والأنعام خلقھا
50
لکم ومثل أنا خلقنا لھم مما عملت ایدینا انعامًا وھٰذا الوجہ ایضًا یأبی حمل الانزال علی العطاء وامّا ما زعم بعض المفسرین بأن انزال الأنعام غیر ظاھر المراد فعبرہ بالعطاء فلا یلزم منہ ان یفسر انزال القرآن ونزولہ بالعطاء، لأنہ لا یصار إلی المجاز إلَّا عند تعذر الحقیقۃ فقیاسہ علٰی انزال الأنعام قیاس مع الفارق، فالحاصل ان صاحب الاشاعۃ فی الحقیقۃ بصدد شناعۃ صاحب البراھین فإنہ یمدہ فی الإضلال ویمدہ فی الضلال المھین وما علینا إلَّا البلاغ المبین، و اللہ سبحانہ ھو الموفق والمعین۔
واما ما قال صاحب الاشاعۃ فی توجیہ إلھام: یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ، ان صاحب البراھین شبہ بمریم لمناسبتہ روحانیۃ بینھما وھی ان مریم کما حملت بلا زوج کذالک صاحب البراھین بغیر تربیۃ الشیخ الکامل والولی المکمل صار موردًا لإلھامات غیبیۃ ومھبطا لعلوم الدینیۃ بمحض ربوبیۃ من الغیب وادنی مثال ھٰذا التشبیہ شعر نظامی :
ضمیرم نہ زن بلکہ آتش زیست
کہ مریم صفت بکر وآبستن ست
انتھٰی۔
فباطل، لأن ارکان التشبیہ اربعۃ: المشبہ، والمشبہ بہ، ووجہ الشبہ، واداۃ التشبیہ لفظًا او تقدیرًا کما فی المطول وغیرہ ففی فقرۃ یا مریم إلخ بدون ذکر المشبہ، کیف یتصور التشبیہ بل خوطب صاحب البراھین بیا آدم ویا عیسٰی ویا مریم وبغیر اھم من اسماء الأنبیاء، فمن المحال ان یکون الشخص الواحد ابًا واُمًّا وابنًا واما الربوبیۃ الغیبۃ فلا یفیض تحریف القرآن ودعوی المساواۃ بالأنبیاء وغیرہما من الاُمور الخارجۃ عن الشرع بالإیقان، فما ذالک إلَّا الطغیان والعصیان والتعدی عن حدود الرحمٰن بما حصل الفراغ من بیان بعض إلھامات، القسم الأوّل وما یتعلق بھا من جواب تأویلات مؤَید فلنذکر شیئًا من القسم الثانی وھی التی تفھم منھا فضیلۃ صاحب البراھین علی الأنبیاء والمرسلین صلوات اللہ تعالٰی وسلام علیھم اجمعین فنموذجھا ھٰذا کتب صاحب البراھین فی ص:۲۴۰ کان اللہ تعالٰی الھم إلیہ بحمدک اللہ من عرشہ نحمدک ونصلی وفی ص:۵۰۴ یحمدک اللہ وبمشی إلیک ترجم ھٰذا بأن اللہ سبحانہ قال لہ یحمدک اللہ ویمشی إلیک مشیًا استمراریًّا انتھی۔
یقول الفقیر کان لہ الحمد لا یکون إلَّا بعد الإحسان کما فی التفسیر الکبیر والنیسابوری وفتح العزیز وغیرھا وفی مجمع البحار: والحمد راس لشکر لأن فیہ إظھار النعمۃ ولأنہ اعم فھو شکر وزیادۃ انتھٰی۔
وفی رد المحتار علی الدر المختار فی تعریف الحمد، وعرفًا فعل ینبیء عن تعظیم المنعم بسبب انعامہ إلٰی قولہ والحمد حیث اطلق ینصرف إلی العرفی لما قالہ السید فی حواشی المطالع انتھی۔
51
فمن المحال ان یحمد اللہ احدًا من مخلوقاتہ ومعھٰذا لا یوجد فی القرآن ولا فی الحدیث الصحیح التصریح بما حاصلہ یحمد اللہ حبیبہ محمدًا واحدًا من الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بل قال تعالٰی لجمیع عبادہ قولوا الحمد اللہ رب العالمین فکیف یتصور ان یقول اللہ سبحانہ فی حق صاحب البراھین یحمدک اللہ من عرشہ إلخ ای یفضلک علٰی جمیع عبادہ الصالحین والشھداء والصادقین والأنبیاء والمرسلین صلوات اللہ تعالٰی علیھم اجمعین لیت شعری ما انعام صاحب البراھین علی اللہ رب العالمین حتی استحق بہ حمد محمود الحامدین ھل ھٰذا إلَّا بھتان عظیم نشاء من غایۃ الکبر والحمق والغرور وغایۃ الکذب والزور علٰی ان رکاکۃ ھٰذا الکلام المنسوب إلی اللہ العلام لیس بمخفی علی العلماء العلام وما جاء فی القرآن المجید من لفظ الحمید فی وصفہ تعالٰی فقد قرن بالغنی والعزیز وغیرھما لیدل علٰی انہ عز وجل محمود لا حامد وکما فی التفاسیر والتراجم وان فرض ان الحمید بمعنی الحامد فھو سبحانہ حامد لذاتہ وصفاتہ وفی مجمع البحار: فیہ الحمید تعالی المحمود علٰی کل حال انتھی۔ وما نطق القرآن بأنہ تعالٰی شاکر وشکور فالمراد منہ انہ تعالٰی یجازی القلیل من العمل بالکثیر من الثواب کما فی عامۃ التفاسیر وقال محی السُّنَّۃ فی المعالم والشکر من اللہ تعالٰی ان یعطی فوق ما یستحق انتھی۔ وفی المجمع انہ شکور تعالٰی من یزکو عندہ العمل القلیل فیضاعف جزائہ فشکرہ لعبادہ مغفرتہ لھم انتھٰی۔ وفی القاموس الشکر من اللہ تعالٰی المجازاۃ والثناء الجمیل انتھی والفرق بین الحمد والمدح ای اثناء الجمیل بین ثم من البین ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم سری وارتقی إلی اللہ سبحانہ لیلۃ المعراج کما فی القرآن والحدیث وھٰھنا یمشی وینزل اللہ سبحانہ إلٰی صاحب القادیان فسبحان الذی لیس کمثلہ شیء۔
ثم فی ص:۵۵۸ ادعی صاحب البراھین بأنہ ألھم إلیہ ھٰذا الإلھام: الم نشرح لک صدرک، الم نجعل لک سھولۃ فی کل امر بیت الفکر وبیت الذکر ومن دخلہ کان آمنًا وصرح فی ترجمتہ ان اللہ اعطانی بیت الفکر وبیت الذکر والمراد من بیت الفکر علو بیتی الذی اشتغلت فیھا بتألیف البراھین واشتغل، والمراد من بیت الذکر المسجد الذی بنیتہ فی جنب تلک العلو وصف اللہ ذلک المسجد بالفقرۃ الأخیرۃ ای ومن دخلہ کان آمنًا، انتھیٰ بترجمۃ عبارتہ۔
یقول الفقیر کان اللہ لہ: ان ھٰذہ الآیۃ ای: ومن دخلہ الآیۃ نزلت فی شأن بیت اللہ المبارک کما قالتعالٰی: إِنَّ أَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ. فِیْہِ اٰیٰتٌ بَیِّـنٰتٌ مَّقَامُ إِبْرٰہِیْمَ وَمَن دَخَلَہُ کَانَ اٰمِناً(آل عمران۹۶، ۹۷) وما مدح اللہ الکریم مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا المسجد الأقصی الذی ھو قبلۃ الأنبیاء بھذا النعت العظیم المختص بالبیت الکریم فإدعاء صاحب البراھین بأن ھٰذہ الآیۃ انزلھا اللہ سبحانہ علیہ فی وصف مسجدہ اقرار بفضلہ علیھما، ظھر من ھنا شیء وھو أنّ صاحب البراھین اشتھر فی ابتداء کتابہ
52
انہ یملک العقار وغیرھا التی قیمتھا عشر آلاف روبیۃ۔
وادعی انہ صاحب الإلھام والمخاطبۃ الإلٰھیۃ فمع ھٰذا القرب الأتم والطول المعظم ما حج إلی الیوم بیت اللہ المکرم، لأن الحج لتحصیل تکفیر الخطیات وامن یوم المجازات وھٰذان الأمران حاصلان لہ فإن ﷲتعالٰی قال لہ إعمل ما شئت فإنی قد غفرت لک (ص:۵۶۰)۔
والأمن المطلوب قد حصل لمصلی مسجدہ وھو مع الخیر امامہ وبانیہ وسبق من ص:۵۶۲ ان الدین المتین اثبت علٰی جمیع الأنام و اللہ تعالٰی امر الناس بأن یأخذوا الطریقۃ الحقۃ من صاحب القادیان انتھی۔
فما الحاجۃ إلٰی اداء الحج بل یحسب ادعائہ قادیانیۃ الیوم مکۃ المحمیۃ فنعوذ ب اللہ من شر شر البریۃ فالأنبیاء وسید المرسلین کانوا یحجون ویطوفون البیت ولم یحج من یمشی إلیہ ویحمدہ رب البیت۔
ثم قال فی ص:۵۶۰: انہ ألھم اللہ سبحانہ إلیہ ھٰذا الکلام: انت معی وانا معک خلقت لک لیلًا ونھارًا انت منّی بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق انتھی۔
یقول الفقیر کان اللہ لہ: قال اللہ تعالٰی: وما محمد إلَّا رسول الآیۃ، وایضًا: محمد رسول اللہ الآیۃ، فعلم منزلۃ حبیب الرحمٰن من القرآن صلی اللہ علیہ وآلہٖ قدر عزہ وکمالہ ولنعم ما قیل فمبلغ العلم فیہ انہ بشر وانہخیر خلق اللہ کلھم۔ فیعلم ھٰذہ المنزلۃ الخلق ویشھدون انہ رسول الخلق ویدعی صاحب البراھین انہ یقولالحق فی شأنہ انت منی بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق، فثبت من ظاھر ھٰذا الکلام فضیلتہ علیہ وعلٰی سائر النبیینصلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین وھو کاذب فیہ بالیقین ثم کتب صاحب البراھین فی ضمیمۃ اخبار ریاضی الھند المجریۃ فی بلدۃ امرتسر الغرۃ مارج الشھر الإنجلیزی ۱۸۸۶ء المطبوعۃ فی بلدۃ ھوشیاربور، ان ﷲتعالٰی قال فی حق انت منی وانا منک ص:۱۴۸ س:۴، من کالم الثانی، وقال تعالٰی فی حق ولدہ المبشر بہ الأول والآخر مظھر الحق والعلا کأن اللہ نزل من السماء (ص:۱۴۷، س:۱۳،۱۴) من کالم الثانی یقول الفقیر کان اللہ لہ: الإلھام الأوّل ھو فقرۃ الحدیث الصحیح المتفق علیہ، قالہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلیٍّ: انت مِنِّی وانا منک،ایانت متصل بی فی النسب والصھر والسابقۃ والمحبۃ وغیرھا کذا فی القسطلانی والکرمانی شرح البخاری یعنی فی الأخوۃ والقرب وکمال الإتصال والإتحاد کذا فی المرقات واشعۃ اللمعات شرحی المشکوٰۃ وقال الکرمانی:ومن ھٰذہ تسمی اتصالیۃ انتھی۔
فعلم منہ ان صدور ھٰذا الکلام بین القریبین من النسب والصھر وغیرھما صحیح لا شک فیہ، واما اللہ المنعوت بنعت لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد والموصوف بصفۃ لا یتصل بشیء ولا یتحد لا یشبہ مع شیء کما صرح بہ علماء العقائد فکیف یقول اللہ سبحانہ لأحد من عبادہ: انت مِنِّی وانا منک؟ حاشاہ! فتحقق ان ھٰذا بھتان بہت صاحب البراھین لغرض إثبات فضیلتہ من الأنبیاء والمرسلین صلوات اللہ علیھم اجمعین، واما
53
الإلھام الثانی فھو ایضًا کذب محض وبھتان عظیم، لأن المشابھۃ المعبرۃ بلفظۃ کانَّ اشد مشابھۃ من غیرھا کمامر من الإتقان فلما اشتبہ ولد صاحب البراھین اشد مشابھۃ بہ سبحانہ وتعالٰی عما یقول الظالمون علوًّا کبیرًا، فوالدہ فی اعلی العُلی یعنی یعادل الإلٰہ بلا اشتباہ فسبحان من تازہ عما یصفہ الملحدون، ونعوذ ب اللہ من غضبہ وعقابہ وشر عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون۔ ولٰکن ھٰذا آخر الرسالۃ المسماۃ بـ’’رجم الشیاطین برد اغلوطات البراھین‘‘ والحمد اللہ رب العالمین وصلی اللہ تعالٰی علیی خیر خلقہ وحبیبہ محمد وعترتہ کلما ذکرہ الذاکرون وکلما غفل عن ذکرہ الغافلون وبعد ختم ھٰذہ الرسالۃ یعرض المشتاق الٰی وفور کرم الخلاق محمد ابو عبدالرحمٰن الفقیر غلام دستگیر الھاشمی الحنفی القصوری کان اللہ لہ لساداتنا وموالینا حضرات علماء الحرمین الشریفین زادھم اللہ الکریم حرمۃً وکرامۃً فی الدارین وعزۃً وشرافۃً فی الملوین بانی عثرت فی الصفر المظفر من ۱۳۰۲ من ھجرۃ سید المرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلٰی سائر الأنبیاء اجمعین علٰی اشتھار صاحب البراھین الذی مرَّ نقلہ فی ابتداء ھٰذا التحریر واشتھر بطبعہ عشرین الفًا فی اقطار الأرض غایۃالتشھیر فلما رأیت فیہ ان مشتھرہ ادعی بتالیف کتابہ بأمرہ وإلھامہ تعالٰی ووصف بنفسہ فیہ بأوصاف یتعدی بھا حدود اللہ عزوجل کرھت ذلک وما طاب نفسی عما ھنالک، ثم رأیت کتابہ لکشف حقیقۃ الحال بالکمال فوجدت إلھاماتہ مخالفۃ للشرع الشریف بتحریف کلام اللہ اللطیف وغیر ذلک مما صرحتہ فی ھٰذہ الأوراقبعون الملک الخلاق فکتبت إلٰی مؤَلف البراھین بنیتہ اداء حق اخوۃ الإسلام ان یرجع من ھٰذہ الدعاوی الکاذبۃ المرام ویبیع کتابہ ببیان رد الأدیان الباطلۃ النظام فما جابنی بذلک وما تاب عما ھنالک فذکرت بعد ذلک فی بعض مجالس تذکیر المسلمین ان إلھامات کتابہ حرفت وبدلت کلام رب العالمین وشارک مؤَلفہ نفسہ فیفضائل النبیین وجعل القرآن عضین فطلب منی مؤَیدہ صاحب الاشاعۃ الخلوۃ للکلام فی امرا لإلھام فلعلمی بأن صاحب البراھین ومؤَلف الاشاعۃ واصف احدھما للآخر فی الکتاب واظھر الثانی حقیقۃ الأوّل فی رسائلہ عند الأصحاب وبھٰذہ المواصفۃ والممادحۃ امن بحقیقۃ صاحب البراھین اکثر العلماء وجمیع العوام من غیر المقلدین، وبعض العلماء وکثیر العوام من المقلدین وصار قادیانہ مرجعًا للخواص والعوام مثل بیت الحرام ما رضیت بالمکالمۃ فی الخلوۃ بل طلبت البحث معہ لإظھار الحق بمحضر من العلماء والأذکیاء فما قبل صاحب الاشاعۃ ھٰذا المدعا بل ما اجابنی فی ھٰذا الدعا فبعد ذلک فی شھر الجمادی الاُخریٰ اعلنت بطبع الإشتھار اناکثر إلھامات صاحب البراھین مخالفۃ لاُصول الدین الإسلام فإنہ اطلب منہ ومن مؤَیدہ صاحب الاشاعۃ المناظرۃ فی مجلس العلماء الأعلام حتّٰی یظھر الحق ولا یختل عقائد الخواص والعوام فما اجابا بذلک ایضًا ثم کتبت فی شھر رمضان المبارک رسالۃ ھندیۃ لرد ھفواتھما نصرۃً للدین وعرضتھا علٰی علماء الفجناب والھندفوافقوا بی فی اعتبار مخالفۃ صاحبی البراھین والاشاعۃ للشرع المتین وبعد ذلک: قال لی بعض رؤُساء بلدۃ
54
امرتسر بأن المسلحۃ فی المناظرۃ لإظھار الحق اولًا وباشتھار ما ظھر من الحق ثانیًا فقبلتہ وقلت لہ انی سعیت لھٰذا الأمر منذ ثمانیۃ عشر شھرًا لٰکن لا یقبلہ صاحب البراھین، فقال لی: انی اسعی للمناظرۃ واکتب إلی صاحب البراھین ثم کتب إلَیَّ ذلک الرئیس ان صاحب البراھین یقول فی کتابی تصوف فأناظر بحضرۃ من العلماء الصوفیۃ وسمی ثلاثۃ رجال فقبلتھم وطلبت منہ ان یجمع معھم العلماء الثلاثۃ الآخرین ویعین الیوم للمناظرۃ عند القوم فما اجابانی إلی الآن وما انطبعت تلک الرسالۃ الھندیۃ إلٰی ھٰذا الزمان رجائً ان تتزین بتصحیح حضرات علماء الحرمین المحترمین لیظھر نھایۃ اعتمادھا عند المسلمین وینسد اختلال الدین المتین، ویرجع إلی الحق بعض العلماء من المقلدین المصدق لصاحب البراھین فترجمتھا فی العربیۃ فی شھر شوال ۱۳۰۳ھـ وما فعلت ما ذکرت إلَّا حمایۃً للقرآن المبین ورعایۃً لحقوق حضرات الأنبیاء والمرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین، وصیانۃً لعقائد المسلمین وارسلھا إلٰی جنابکم المحیی لمراسم الدین والمعاذ والملجاء للمؤْمنین مع الکتاب البراھین ورسالۃ الاشاعۃ المشتملۃ علٰی وصفہ تأویل اقوالہ ومع اشتھاری صاحب البراھین لطلب التوجہ من حضرتکم إلٰی ملاحظۃ ھٰذہ الرسالۃ وتوافق النقل بالأصل فإن کان ما کتبتہ حقًّا موافقًا بالکتاب والسُّنَّۃ وإجماع الاُمَّۃ فدینوھا بتصحیحکم الشریف وما کان فیھا من الخطأ والسھو فأصلحوھا بإصلاحکم النظیف، وبینوا بالبیان الشافی والشرح الکافی طلبًا للأجر العافی حکم صاحبی البراھین والاشاعۃ ومعتقدیھما وحکم کتابیھما شریعۃً وطریقۃً حتّٰی یطمئن المسلمون ویرجعون إلی الحق کلھم اجمعون فجزاکم اللہ الشکور خیر الجزاء فی الدنیا والعقبیٰ وسلمکم وابقاکم لتأیید دین سیّد الأنبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء وزادکم اللہ تعالٰی بسطۃ فی العلم والجسم لإحقاق الحق وإبطال الباطل عند الکرام وعلیکم مدار الإسلام إلٰی یوم القیام والسلام خیر الختام مع الإکرام، ورزقنا اللہ المجیب الدعوات لقائکم وزیارتکم الموصلۃ إلی السعادات العظمیٰ والبرکات الکبریٰ بالأمن والأمان والإسلام، والحمد اللہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی مظھر جمالہ ونور کمالہ وآلہٖ وصحبہٖ قدر جودہ ونوالہ عدد جمیع معلومات العلیم العلام۔
تَمَّتِ الرِّسَالَۃ وشرعت التقاریظ
تقریظ حضرۃ سیّد العلماء سیّد الأتقیاء مولانا مولوی محمد رحمت اللہ الھندی المھاجر الذی اعزہ حضرت سلطان الروم بتجویز شیخ الإسلام فی الروم بخطاب پایہ حرمین شریفین وکتب لہ فی منشورہ بألقاب عالیۃ۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اما بعد! فإنی سمعت ھٰذہ الرسالۃ من اوّلھا إلٰی آخرھا فوجدتھا صحیحۃ العبارۃ والمضمون والنقول التی
55
نقلھا حضرت مؤَلف ھٰذہ الرسالۃ جزاہ اللہ خیرًا مطابقۃ للأصل وقد سمعت قبل ھٰذا ایضًا من الثقات المعتبرین حال صاحب البراھین الأحمدیۃ فھو عندی خارج من دائرۃ الإسلام لا یجوز لأحد إطاعتہ وجزی اللہ مؤَلف ھٰذہ الرسالۃ عسٰی ان ینجو بمطالعھا کثیر من الناس من ان یتبعوا صاحب البراھین الأحمدیۃ عصمنا اللہ وجمیع المسلمین من اغواء الشیاطین ومکرھم وخدیعتھم وانا الفقیر الراجی رحمۃ اللہ ابن خلیل الرحمٰن غفر اللہ لھما ولجمیع المسلمین اجمعین۔
تقریظ حضرۃ مفتی الأحناف بمکۃ المکرمۃ
الحمد لمن ھو بہ حقیق ومنہ استمداد العون والتوفیق الحمد اللہ الذی تنزھت ذاتہ العلیۃ عن الغفلۃ والنسیان وتقدست اسمائہ وصفاتہ عن ان یعتریھا زوال او نقصان وجعل العلماء فی کل عصر وزمان قائمین بحفظ الشریعۃ وقواھم علٰی إظھار الحق واخماد الباطل بلا مداھنۃ شنیعۃ واجرا لھم بذلک اجرًا وافرًا وخیرات بدیعۃ حیث بینوا ما ھو صواب وما ھو خطاء کسراب بقیعۃ، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا محمدِنِ الذی جمع فیہ مولاہ الفضل جمیعہ وعلٰی آلہ واصحابہ ذوی النفوس السمیعۃ المطیعۃ اما بعد!
فقد اطلعت علٰی ھٰذہ الرسالۃ الشریفۃ والنقول اللطیفۃ فرأیتھا ھی التی تقر بھا العینان وان غلام احمد القادیان قد ھویٰ بہ الشیطان فی اودیۃ الھلاک والخسران فجزی اللہ جامع ھٰذہ الرسالۃ خیر الجزاء واجزل ثوابہ واحسن یوم القیامۃ مآبنا ومآبہ آمین۔ وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیّدنا محمد وعلٰی آلہ وصحبہ امر برقمہ خادم الشریعۃ راجی اللطف الخفی محمد صالح ابن المرحوم صدیق کمال الحنفی مفتی مکۃ المکرمۃ حالًا کان اللہ لھما حامدًا مصلّیًا مسلّمًا۔
تقریظ حضرۃ شیخ العلماء مفتی الشافعیۃ بمکۃ المحمیۃ
الحمد اللہ الذی یسر بھٰذا الدین من یقوم بحقہ من خفض کل زندیق ضال مضل وردعہ وقمعہ ونصرکل عالم ھاد مھتد واعانتہ ورفعہ وبعد!
فقد نظرت فیما نسب لغلام احمد القادیانی الفنجابی فإن صح ما نسب إلیہ عنہ کان من الضالین المضلین ومن الزنادقۃ للملحدین ومثلہ فیما ذکر محمد حسین المؤَید لہ برسالتہ المسماۃ باشاعۃ السنۃ فکل منھما یجب علٰی ولی الأمر وفقہ اللہ لما یحبہ ویرضاہ ان یعزرھما التعزیر البلیغ الذی یحصل بہ ردعھما وردع امثالھما، واما ما الفہ الإمام الفاضل والھمام الکامل الشیخ محمد ابو عبدالرحمٰن غلام دستگیر الھاشمی الحنفی القصوری فی بیان ضلال المذکورین وابطال اقوالھما وسماہ برجم الشیاطین برد اغلوطات البراھین فتالیفہ المذکور ھو الحق الذی لا شک فیہ فجزاہ اللہ عن الإسلام والمسلمین الجزاء الجمیل واحلہ فی القلوب المحل
56
الجلیل، و اللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ المرتجی من ربہ کمال النیل محمد سعید بن محمد بابصیل مفتی الشافعیۃ بمکۃ المحترمۃ غفر اللہ لہ ولوالدیہ ولجمیع المسلمین۔
تقریظ حضرۃ مفتی المالکیۃ بمکۃ المحمیۃ
الحمد اللہ رب العالمین، رب زدنی علمًا، اللّٰھم ھدایۃ للصواب من یھدی اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ، اما صاحب ھٰذا المقال فقد انعمس فی ابحر الخواطر الشیطانیۃ والھواجس النفسانیۃ فما اکذبہ واشقاہ حیث ادعی ما ادعاہ من الدجل المنصوص علیہ یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آباؤُکم الحدیث، واما المؤَید لہ بالرسالۃ المسماۃ باشاعۃ السنۃ فھو اشقی منہ لقولہ تعالٰی: ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان الآیۃ، فکل منھما یجب علٰی ولی الأمر تعزیرھما التعزیر البلیغ،واما ما الفہ الفاضل العلامۃ للشیخ محمد ابو عبدالرحمٰن غلام دستگیر الھاشمی الحنفی القصوری فی بیانضلال المذکورین وابطال أقوالھما فقد اجاد فیہ بما ذکرہ من الحث البلیغ علٰی اتباع الدین الحق القوام و اللہ اعلم، اللّٰھم لا تجعلنا ممن اتبع ھواہ وسلک طریق الشیطان فأغواہ وحسن لہ سوء المقال فأرواہ آمین بجاہ الإیمان، کتبہ الراجی العفو من واھب العطیۃ محمد ابن المرحوم الشیخ حسین مفتی المالکیۃ ببلد اللہ المحمیۃ مصلّیًا ومسلّمًا۔
تقریظ حضرۃ مفتی الحنابلۃ بمکۃ المعظمۃ
الحمد اللہ الذی انزل علٰی عبدہ الکتاب الصادق فی قیلہ القائل فیہ، وان ھٰذا صراطی مستقیمًا فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدنا محمد نبیہ وحبیبہ وخلیلہ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ وانصارہٖ وتابعی سبیلہ، اما بعد!
فقد اطلعت علٰی ھٰذہ الرسالۃ الشریفۃ المشتملۃ علی النقول الصحیحۃ الصریحۃ المنیفۃ فرأیتھا محکمۃ مؤَیدۃ شافیۃ کافیۃ مفیدۃ تقر بھا اعین الموحدین اھل السُّنَّۃ والجماعۃ وتعمی بھا اعین المعتزلۃ والخوارج والملحدین والمبتدعۃ المارقین من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ، کما اخبر بذالک خیر البریۃ وھی التی اظھرت زیغ احمد القادیانی وانہ مسیلمۃ الکذاب الثانی واظھرت تلبیس إبلیسہ الشیطانی فجزی اللہ مؤَلفھا عن المسلمین خیرًا کثیرًا واجرًا جزیلًا جمیلًا کبیرًا، وصلی اللہ علٰی سیّدنا محمد خاتم النبیین والمرسلین وعلٰی آلہ وصحبہ اجمعین امر برقمہ الحقیر خلف بن إبراھیم خادم افتاء الحنابلۃ بمکۃ المشرفۃ حالًا حامدًا مصلّیًا مسلّمًا۔
57
تقریظ حضرۃ مفتی الحنفیۃ فی المدینۃ النبویۃ علٰی صاحبہا
الصلوٰۃ السرمدیۃ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اسأل اللہ سبحانہ المولی الکریم ذاالجلال التوفیق والاعانۃ فی الفعل والقول الحمد اللہ الواحد الفرد الصمد المنزہ عن الشریک والولد الذی بعث الرسل الکرام بالحجج الواضحۃ والآیات البینات وایدھم بالإرھاصات الخارقۃ بالمعجزات المنزل علٰی خاتم انبیائہ وسید اصفیائہ کتابًا معجزًا مبینًا القائل فیہ جل شانہ: الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُم الْاِسْلَامَ دِیْناً کتابًا ھادیًا إلی الصراط المستقیم وناطقًا بکل امر رشید لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید، والصلٰوۃ الدائمۃ والسلام التام علی النبی الداعی إلٰی سبیل النجاح والإستقامۃ المبنی عن کل کذاب ومبیر إلٰی یوم القیامۃ۔
القائل فیما رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ’’یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فإیاکم وإیاھم! لا یضلونکم ولا یفتنونکم!‘‘
والقائل فیما رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ’’من دعا إلٰی ھدیٰ کان لہ من الأجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذلک من اجورھم شیئًا، ومن دعا إلی الضلالۃ کان علیہ من الإثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذلک من آثامھم شیئًا۔‘‘
والقائل فیما رواہ احمد والنسائی والدارمی عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: ’’خط لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطًّا، ثم قال: ھٰذا سبیل ﷲ، ثم خطَّ خطوطًا عن یمینہ وعن شمالہ وقال: ھٰذہ سبل علٰی کل سبیل منھا شیطان یدعو إلیہ، وقرأ: ھٰذا صراطی مستقیمًا فاتبعوہ الآیۃ۔‘‘
والقائل فیما رواہ ابن ماجۃ عن انس رضی اللہ عنہ: ’’إتبعوا السواد الأعظم فإنہ من شذ شذ فی النار۔‘‘
والقائل فیما رواہ احمد عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ: ’’ان الشیطان ذئب الإنسان کذئب الغنم یأخذ الشاۃ القاصیۃ والناصیۃ وإیاکم والشعاب وعلیکم بالجماعۃ والعامۃ۔‘‘
والقائل فیما رواہ مالک فی المؤْطا عن مالک بن انس: ’’ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما : کتاب اللہ وسنۃ رسولہ۔‘‘
والقائل فیما رواہ مسلم عن محمود بن لبید رضی اللہ عنہ: ’’أیلعب بکتاب اللہ وأنا بین اظھرکم؟‘‘
والقائل فیما رواہ ابو یعلٰی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ’’ان احبکم إلیَّ واقربکم مِنِّی الذین یلحقنی علی العھد الذی فارقنی علیہ۔‘‘
58
والقائل فیما رواہ البیھقی فی الشعب عن جابر: ’’لتھوکون کما تھوکت الیھود والنصاریٰ، لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ لو کان موسٰی حیًّا ما وسعہ إلَّا اتباعی۔‘‘
والقائل فیما اتفق علیہ الشیخان ورواہ ابوداوٗد والترمذی عن عائشۃ: ’’من احدث فی امرنا ھٰذا ما لیس منہ، فھو رَدٌّ۔‘‘
والقائل فیما رواہ احمد ومسلم والأربعۃ عن ابی سعید: ’’من راٰی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ فإن لمیستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الإیمان‘‘ وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ نجوم الحق وعترتہ واحزابہ فھٰذا الخلق اما بعد!
فقد سرحت طرف الطرف فی جنات طروس ھٰذا التألیف الشائق وارتعت شدینۃ الفکر الفاتر فی اریض روض سطور ھٰذا المصنف الفائق فوجدتہ متکفلًا للرد بالأدلۃ القاطعۃ المزھقۃ لباطل ھٰذا المارق من الدین الشقی الخب اللئیم کافیا لتزییف اقوالہ الباعثۃ لإضلال کل ذی فھم سقیم فلقد اجاد حتّٰی بلغ غایۃ الرمی والمرام من الاجادہ وافاد اثابہ اللہ الأجر الجزیل وانا لہ الحسنی وزیادۃ وصلی اللہ علٰی سیّدنا محمد النبی الاُمِّیِّ وآلہٖ وصحبہٖ وسلم نمقہ الفقیر إلٰی عفو ربہ القدیر عثمان بن عبدالسلام داغستانی مفتی المدینۃ المنورۃ الحنفی عفی عنہ ذوالقعدۃ ۱۳۰۴ھـ۔
تقریظ حضرۃ مفتی الشافعیۃ فی المدینۃ المنورۃ ووکیل
المدرسۃ بالحرم الشریف النبوی
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد اللہ الذی ارسل رسولہ محمدًا بالھدیٰ ودین الحق وانزل علیہ الکتاب معجزۃ باھرۃ وآیۃ مستمرۃ علٰی تعاقب العصور دالۃ علٰی کمال الصدق وجعلہ خاتم النبیین وسیّد المرسلین ورحمۃ للعالمین وعم بعثتہ إلی الثقلین إلٰی یوم الدین ونسخ شرعہ جمیع الشرائع الماضیۃ، وشرعہ لا ینسخ، وحکمہ لا یفسخ، وسد بانتقالہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی الرفیق الأعلی باب الرسالۃ والنبوۃ إلٰی آخر الزمان فلیس لأحد بعدہ إلا اتباع شریعتہ الغراء ذات النور والبرھان، صلی اللہ علیہ وسلم وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ أئمۃ الھدیٰ ومصابیح الدجی والتابعین لھم بإحسان ماکر الجدیدان اما بعد!
فإننا قد تأملنا ھٰذہ الرسالۃ فوجدناھا واضحۃ الدلالۃ براھینھا قاطعۃ الرقاب شبہ الملحدین وانوارھا ساطعۃ ماحیۃ لظلمات وساوس الشیاطین قد اتت بالقول الفصل الذی لیس بالھزل، واوضحت طریق الحق ومنھاج الصدق واشتملت علی النصوص الموافقۃ لما ھو معلوم من الدین بالضرورۃ ووضحت تلبیسات احمد
59
القادیانی وزون ولا ریب ان احمد المذکور لیس احمد إلَّا عند إخوانہ الشیاطین بل ھو اجدر بأن یسمی اذم عند اھل الإیمان والیقین وان ما اتی بہ من الأباطیل فھو ضلال مبین والوحی الذی افتراء وحی الشیاطین لا وحی الأنبیاء والمرسلین وعند التأمل فی زخرفہ وضلالہ تجدہ مصداق قولہ تعالٰی:وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ. وَلِتَصْغَی إِلَیْہِ أَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُواْ مَا ہُم مُّقْتَرِفُونَ (الأنعام۱۱۲، ۱۱۳)۔ إلٰی قولہ: لَامُبَدِّلِ لِکَلِمٰتِہٖ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (الأنعام۱۱۵) وفی الحقیقۃ شأنہ کشأن مسیلمۃ الکذاب ذی الضلال والإرتیاب بل ھو أضر کیدًا من إبلیس فی التدریس والتلبیس، لأن امر إبلیس قد ظھر وانذر اللہ بنی آدم کیدہ وحذر وھٰذا قد لبس الباطل بصورۃ الحق وموہ الکذب والإفتراء علی اللہ فی مثال الصدق فأراح اللہ منہ البلاد والعباد بتدمیرہ ومحو ما ثبتہ فی الأرض من الفساد فوجب علٰی کل مؤْمن التمسک بما دل علیہ مضمون ھٰذہ الرسالۃ والتجنب من مزخرفات براھین احمد القادیانی وافتراہ من السفاھۃ والضلالۃ وصلی اللہ علٰی سیّدنا محمد خاتم النبیین المنزل علیہ الکتاب المبین المحفوظ من القائات الشیاطین وعلٰی آلہ وصحبہ وسلم اجمعین و اللہ اعلم بالصواب امر برقمہ السید إسماعیل البرزنجی مفتی الشافعیۃ بالمدینۃ المنورۃ وکیل مفتی الشافعیۃ المدرس بالحرم الشریف النبوی السید احمد البرزنجی۔
تقریظ حضرۃ مدرس المسجد النبوی علٰی صاحبھا
السلام السرمدی
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
والحمد اللہ الذی خلق جمیع عبیدہ لأجل معرفتہ وتوحیدہ ولیفرقوا بین وجودھم ووجودہ ویعلموا مزیۃ انعامہ وجودہ احمدہ ان اقام لنا الدین واوضح طریقہ للمھتدین واشکرہ ان ارسل إلینا رسولًا ختم بہالنبوۃ والرسالۃ، وحسم بہ ابواب الشبہ والضلال وایدہ بالمعجزات الباھرات والآیات البینات ونسخ بشریعتہ جمیع الشرائع والأحکام وجعلھا باقیۃ إلٰی یوم البعث والقیامۃ، وایضًا وانزل علیہ الذکر الحکیم والصراط المستقیم والنور المبین والحبل المتین وتکفل جل وعلا بحفظہ علٰی مصر السنین من تغیر المضلین وإلحاد الملحدین صلی اللہ علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہ الذین من اقتدی بھم فبھداہ اقتدیٰ ومن حاد عن طریقھم فقد جار واعتدیٰ وبعد!
فلما اجلت طرف الطرف فی فیافی ھٰذہ الرسالۃ الغراء المشتملۃ علی الحث البالغ علٰی اقتفاء الدین الحق وانتداب إلیہ والولوع بہ والأغراء وکان ذلک فی حال استعجال مع غال من کثرۃ الإشتغال وھجوم البلیال
60
علی البال الفیت انوار التحقیق علیھا رائحۃ ودلائلھا بینۃ محکمۃ واضحۃ حافلۃ لما ھو معلوم بالضرورۃ من الدین کافلۃ برد شبہ الملحدین المضلین فاضحۃ عوار ھٰذا الدعی الزندیق المدعو بأحمد القادیانی حفید ابی مرۃ الذی ناف علٰی جدہ إبلیس فی الضلال والإغواء بألف مرۃ فأثاب اللہ مؤَلفھا الثواب الجزیل حیث حمی حمی ھٰذا الدین المتین بإبطال ما لبسہ المبیر الکذاب من البراھین وادخل بہ الشک علٰی قلوب جھلۃ العواموالمغفلین فیجب علٰی کل مؤْمن یؤْمن ب اللہ ویصدق بکتبہ ورسلہ ان یعتقد ویجزم بأن ما رد بہ صاحب ھٰذہالرسالۃ ھو الحق الموافق لقواعد الإیمان وإن ما قالہ صاحب البراھین الأحمدیۃ والاشاعۃ زور وبھتان فماذا بعد الحق إلَّا الضلال؟ ومن یبتغ غیر الإسلام دینًا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃ من الخاسرین، ان ربک ھو یعلم من یضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین، قد جائکم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ ومن عمی فعلیھا، بصرنا اللہ والمسلمین بطریق الإستقامۃ والھدایۃ وجنبنا اجمعین طرق الضلالۃ والغوایۃ انہ علٰی ما یشاء قدیر وبالإجابۃجدیر وصلی اللہ علٰی سیّدنا ومولانا محمد القائل من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ وعلٰی آلہٖ وصحبہ والتابعین لہ وعلینا معھم برحمۃ ﷲ، آمین! قالہ بفمہ ورقمہ بقلمہ العبد الأحقر محمد علی بن طاھر الوتری الحسینی الحنفی المدنی خادم العلم والحدیث بالمسجد الشریف النبوی وذلک فی الیوم الحادی والعشرین من ذی القعدۃ الحرام سنۃ اربع بعد الثلاثمائۃ والألف۔
تقریظ احد المشاہیر من علماء پٹنہ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد اللہ الذی انزل الفرقان علٰی سیّد الإنس والجان وأخمد بہ الباطل والشرک والطغیان، والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ محمد وآلہ وصحبہ والتابعین لھم بإحسان مد الدھور والأزمان وبعد!
قد طالعت بعض ھفوات غلام احمد مقیم القادیان فی کتابہ البراھین الأحمدیۃ وفی الاعلان فوجدتہمن تلبیسات الشیطان ولیس من إلھامات الرحمٰن، بل ما ذلک إلَّا بھتان وھذیان فمن اتبعہ عد من اھلالخسران وھٰذہ الرسالۃ نظرت ایضًا فی لطائف ردھا فاطمئن بھا الجنان فعسٰی ان ینجو بمطالعتھا کثیر من الإخوان من اھل السُّنَّۃ والجماعۃ وغیرھم بفضل الکریم المنان فجزی اللہ المؤَلف اعلی الجنان کتبہ الحقیرمحمد بن عبدالقادر باشہ الفتنی الحنفی عفا اللہ عنہ وعن والدیہ واحسن إلیھما وإلیہ۔
____________
حمد وصلوٰۃ وسلام کے بعد! واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۔۔۔جو علماء غیرمقلدین سے ہے۔۔۔ غیراسلامی فرقوں پر دِینِ اسلام کی حقیقت ظاہر کرنے کی غرض سے اُردو زبان میں ایک کتاب تالیف کی اور اس کا نام ’’براہین احمدیۃ علٰی حقیقت
61
کتاب اللہ والنبوۃ المحمدیۃ‘‘ رکھا اور چاروں حصے اس کے، شہر امرتسر سے چھپوائے اور اس کے تیسرے حصے میں دعویٰ کیا کہ کامل ولیوں کا اِلہام قطع اور یقین کا مفید ہوتا ہے اور باتفاق سوادِاعظم علماء کے وحی رسالت کا مترادف ہے۔ چنانچہ اصلی عبارت اس کی رسالہ عربیہ میں منقول ہے۔ پھر بیس ہزار قطعہ اشتہار کا بدیں مضمون چھپواکر شائع کیا کہ کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ جس کو خدا کی طرف سے مؤلف (مرزاقادیانی) نے ملہم ومامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے اور اس نے اپنے اِلہامات وخوارق وکرامات واخبارِ غیبیہ واَسرارِ لدنیہ وکشوفِ صادق ودُعائیں مستجابہ کے راست ہونے سے دِینِ اسلام کی راستی وصدق ظاہر کیا ہے، اور ان خوارق وغیرہ پر آریہ وغیرہ شاہد ہیں، جس کا ذِکر تفصیل وار کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں درج ہے، اور مصنف کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے بہ شدّت مشابہ ہیں، اور اس کو خواص انبیاء ورُسل کا نمونہ بناکر برکت متابعت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بہت سے اکابر اولیاء وماتقدم پر فضیلت دی گئی ہے اور مصنف کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت وبرکت ہے اور اس کی مخالفت سبب بُعد وحرمان کا ہے (یعنی حق تعالیٰ کی رحمت سے)، ثبوت اور دلائل اس کے براہین احمدیہ کے چاروں حصص مطبوعہ کے پڑھنے سے جو ۳۷جزو ہے ظاہر ہوتے ہیں (اور ادنیٰ قیمت اس کی پچّیس روپیہ مقرر ہے)۔ پھر اسی اِشتہار میں درج ہے کہ ’’اور اگر اس اِشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دِلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اِتمامِ حجت ہے، جس کا خداتعالیٰ کے رُوبرو اس کو جواب دینا پڑے گا ۔۔۔الخ۔‘‘ المشتہر: مرزا غلام احمد قادیانی ضلع گورداسپور ملک پنجاب، مطبوعہ: ریاض ہند پریس، امرتسر، پنجاب، انتہا ملخص (مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۲۳ تا ۲۵)۔
پس اس اشتہار کی ترغیب کے سبب صدہا اہلِ اسلام نے اس کی کتاب خریدی، چنانچہ پنجاب وہندوستان وغیرہما میں وہ کتاب بہت مشہور ہوئی۔ اس کے تیسرے، چوتھے حصے میں مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سی آیاتِ قرآنی وعباراتِ عربیہ اس پر اِلہام ہوتی ہیں، جیسا کہ صفحہ:۴۸۵، خزائن ج:۱ ص:۵۷۷ میں لکھا ہے۔ اور یہ بھی صاف دعویٰ کیا ہے کہ اکثر آیاتِ فضائلِ انبیاء اس پر نازل ہوتی ہیں، اور ان آیات سے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کیا ہے، اور ان خطابات سے وہی مراد ہے، اور اکثر اِلہامی باتیں بلکہ سب کی سب جو اس پر وحی ہوتی ہے ۔۔۔پرلے درجے کی اس کی تعریف ہے۔۔۔ جس سے نبیوں کے مرتبے کو اس کا پہنچ جانا نکلتا ہے، بلکہ بعض ملہمات سے اس کی انبیاء سے ترقی اور تعلّی سمجھ میں آتی ہے، والعیاذ ب اللہ من ذالک۔۔۔!
جیسا کہ دونوں قسم کے ملہمات کا ہم نمونہ ناظرین کے ملاحظہ کے واسطے ذِکر کرتے ہیں، اور اللّٰہ تعالیٰ اور جناب رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے راضی کرنے کی نیت سے ہم ان کا رَدّ لکھتے ہیں۔ پہلے قسم کے اِلہامات کا نمونہ جس کو براہین احمدیہ کا مؤلف (مرزاقادیانی) کامل اِلہام اور وحی رسالت کی مانند جانتا ہے یہ ہے ان آیات اور عربی فقرات کا ترجمہ:
۱- اے احمد! اللّٰہ نے تجھ میں برکت دی۔
۲- تم نے کنکر نہیں پھینکے، جب پھینکے تھے، لیکن خدا نے پھینکے تھے۔
62
۳- تو ڈراوے ان لوگوں کو جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے۔
۴- اور تاکہ ظاہر ہو گنہگاروں کا راستہ۔
۵- تو کہہ دے میں مامور ہوں اور اوّل ایمان لاتا ہوں ان اِلہاموں پر۔
۶- تو کہہ حق آگیا اور جھوٹ نابود ہوا، جھوٹ نابود ہی ہونے والا ہے۔
۷- تو کہہ اگر میں افتراء کرتا ہوں یعنی خدا پر، پس مجھ پر گناہ ہے۔
۸- اور تو اپنے رَبّ کی نعمت سے دیوانہ نہیں۔
۹- تو کہہ دے اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری اِتباع کرو، خدا تم سے محبت کرے گا۔ براہین احمدیہ ص:۲۳۸،۲۳۹، خزائن ج:۱ ص:۲۶۶،۲۶۷ سے یہ نو اِلہام منقول ہوئے ہیں۔
پھر صفحہ:۲۴۰، خزائن ج:۱ ص:۲۶۵ میں یہ پانچ اِلہام درج ہیں، جن کا ترجمہ یہ ہے:
۱۰- ہم مسخری کرنے والوں سے تیرے لئے کافی ہیں۔
۱۱- اور تو کہہ دے تم اپنی جگہ عمل کرو، میں بھی عمل کرتا ہوں، جلد تم معلوم کرلوگے۔
۱۲- وہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے بجھادیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔
۱۳- جب آگئی نصرت اور فتح خدا کی۔
۱۴- یہ میرے پہلے خواب کی تاویل ہے جس کو خدا نے سچ کردیا ہے۔
پھر ص:۲۴۱، خزائن ج:۱ ص:۲۶۶ میں یہ پانچ اِلہام لکھے ہیں:
۱۵- تو خدا کا نام لے، پھر ان کو چھوڑ دے ان کو اپنی بک بک میں کھیلا کریں۔
۱۶- اور ہرگز نہ راضی ہوں تجھ سے یہود اور نصاریٰ۔
۱۷- اور تو کہہ خداوندا! مجھے راستی کی جگہ داخل کر۔
۱۸- ہم نے تیری فتح کردی ہے ظاہر فتح۔
۱۹- اور تجھے گمراہ پاکر راستہ دِکھلایا۔
پھر ص:۲۴۲، خزائن ج:۱ ص:۲۶۷ میں یہ تین الہام ہیں:
۲۰- ہم نے کہا اے آگ! تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا اِبراہیم پر۔
۲۱- اے لحاف پوش! کھڑا ہوجا اور ڈرا، اپنے رَبّ کی تکبیر کہہ۔
۲۲- اور نیکی کا حکم کر اور گناہ سے روک۔
پھر ص:۴۸۶، خزائن ج:۱ ص:۵۷۹ پر کہا ہے کہ مجھ پر یہ اِلہام بھی نازل ہوئے ہیں:
63
۲۳- اے احمد! تجھ کو خداوند کریم نے برکت دی جو تیرا حق تھا۔
پھر ص:۴۸۹، خزائن ج:۱ ص:۵۸۱ پر کہا ہے کہ:
۲۴-تو مجھ سے میری توحید اور تفرید کے مرتبہ میں ہے۔
مولانا فیض الحسن مرحوم سہارنپوری نے اپنے عربی اخبار شفاء الصدور میں لکھا ہے کہ مؤلف براہین (مرزاقادیانی) نے اس اِلہام میں دعویٰ کیا ہے کہ میرا منکر خدا کی توحید کا منکر ہے۔
پھر براہین احمدیہ ص:۴۹۲، خزائن ج:۱ ص:۵۸۴ میں یہ اِلہام لکھا ہے کہ:
۲۵- پھر جب خدا کی مدد آگئی اور فتح اور تیرے رَبّ کی بات پوری ہوگئی، یہ وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔
اور ان فقرات آیات کا ترجمہ براہین کے ص:۴۹۱ کی سطر:۱۸و۱۹ میں یوں لکھا ہے کہ: ’’جب مدد اور فتح اِلٰہی آئے گی اور تیرے رَبّ کی بات پوری ہوجائے گی تو کفار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔‘‘ انتہی بلفظہ۔
پھر براہین احمدیہ ص:۴۹۳، خزائن ص:۵۸۶ میں اپنے لئے یہ اِلہام لکھا ہے:
۲۶- پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا، پس ہوا قدر دو کمانوں کا یا اس سے بہت نزدیک۔
پھر ص:۴۹۶، خزائن ص:۵۹۰ میں اپنے لئے ان اِلہامات کا دعویٰ کیا ہے کہ:
۲۷- اے آدم! تو اپنی زوجہ سمیت بہشت میں رہ۔ اے مریم! اے احمد! تو اپنی زوجہ کے ساتھ بہشت میں مکان پکڑ۔
پھر مراد اس کی یوں لکھتا ہے: اے آدم! اے مریم! اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے، جنت میں یعنی نجاتِ حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔ انتہی بلفظہ۔
پھر ص:۵۰۳، خزائن ج:۱ ص:۵۹۹ میں اپنے لئے یہ اِلہام درج کئے ہیں:
۲۸- بے شک تو صراطِ مستقیم پر ہے۔
۲۹- خدا کے حکم کو ظاہر پہنچا اور جاہلوں سے روگردانی کر۔
پھر ص:۵۰۴، خزائن ج:۱ ص:۶۰۰ میں آیت کا اِلہام لکھا ہے اور ترجمہ اس کا خود کیا ہے:
۳۰- ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے اُمتِ محمدیہ میں کئی اولیاء کامل بھیجے، پر شیطان نے ان کی توابع کی راہ کو بگاڑ دیا ۔۔۔الخ۔ انتہی بلفظہ۔
اب ظاہر ہے کہ کاف خطاب جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف راجع تھا، اسی براہین والے نے اپنا نفس مراد رکھا ہے، اور رسولوں سے اولیائے اُمت ارادہ کئے ہیں۔
اور اسی صفحے میں اپنے لئے آیت کا اِلہام بھی لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ کرتا ہے کہ:
64
۳۱- پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سفر کرایا۔
یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانے میں جو رات سے مشابہ ہے، مقاماتِ معرفت اور یقین تک لدنی طور سے پہنچایا۔ بلفظہ۔
پھر صفحہ نمبر:۵۰۶، خزائن ج:۱ ص:۶۰۳ میں ان دونوں آیتوں کا اپنی طرف اِلہام ہونا ظاہر کرتا ہے۔ جن کا ترجمہ خود یہ لکھتا ہے کہ:
۳۲- اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دُعا کرنے والے کی دُعا قبول کرتا ہوں۔
۳۳- اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔ انتہی بلفظہ۔
پھر صفحہ:۵۱۰، خزائن ج:۱ ص:۶۰۸ میں چند آیاتِ قرآنی اپنے حق میں نازل کرکے ان کا خود ترجمہ یوں لکھتا ہے:
۳۴- کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے۔
۳۵- اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر، وہ غرق کئے جائیں گے۔
۳۶- اے ابراہیم! اس سے کنارا کر، یہ صالح آدمی نہیں۔
۳۷- تو صرف نصیحت دہندہ ہے۔
۳۸- اور نہ تو ان پر نگہبان ہے۔
چند آیات جو بطورِ اِلہام اِلقاء ہوئی ہیں بعض خاص لوگوں کے حق میں ہیں، یعنی مراد غرق کئے گئے اور غیرصالح سے بعض خاص لوگ ہیں۔
پھر صفحہ:۵۱۷، خزائن ج:۱ ص:۶۱۷ میں بعض آیاتِ قرآنی کا اپنے لئے نازل ہونا قرار دے کر ترجمہ ان کا یوں لکھا ہے:
۳۹- اے احمد! تیرے لبوں پر رحمت جاری ہوئی۔
۴۰- ہم نے تجھ کو معارف کثیرہ عطا فرمائے ہیں۔
۴۱- اس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔
۴۲- اور ہم نے تیرا بوجھ اُتار دِیا، جو تیری کمر توڑ دے اور تیرے ذِکر کو اُونچا کردیا ہے۔ انتہیٰ بلفظہ۔
پھر صفحہ:۵۵۶، خزائن ج:۱ ص:۶۶۴ میں ایک آیت اپنے لئے وارد کرکے صفحہ:۵۷۷، خزائن ج:۱ ص:۶۶۴ میں اس کا یوں ترجمہ کیا ہے:
۴۳- اے عیسیٰ! میں تجھے کامل اجر بخشوں گا، یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا، یعنی رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اُٹھاؤں گا، اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک فائق رکھوں گا ۔۔۔۔ اس جگہ عیسیٰ کے نام سے بھی عاجز مراد ہے۔ انتہی بلفظہ۔
65
نیز صفحہ:۵۵۵ میں فقرہ عربیہ کا اِلہام لکھ کر اس کا ترجمہ صفحہ:۵۵۶، خزائن ج:۱ ص:۶۶۳ میں یوں کرتا ہے کہ:
۴۴- میرے پاس خدا کی گواہی ہے، پس کیا تم ایمان نہیں لاتے۔ یعنی خداتعالیٰ کا تائیدات کرنا، اور اسرارِ غیبیہ پر مطلع فرمانا، اور پیش ازوقوع پوشیدہ خبریں بتلانا، اور دُعاؤں کو قبول کرنا، اور مختلف زبانوں میں اِلہام دینا، اور معارف اور حقائقِ اِلٰہیہ سے اِطلاع بخشنا، یہ سب خدا کی شہادت ہے، جس کو قبول کرنا اِیمان داروں کا فرض ہے۔ انتہی بلفظہ۔
پھر صفحہ:۵۶۱ میں آیتِ قرآنی اپنے لئے نازل کرکے ترجمہ اس کا صفحہ:۵۶۲، خزائن ج:۱ ص:۶۷۰ میں یوں لکھتا ہے کہ:
۴۵- کہہ خدا کی طرف سے نور اُترا ہے، سو تم اگر مؤمن ہو تو اِنکار مت کرو۔ انتہی بلفظہ۔
پھر صفحہ:۵۶۱، خزائن ص:۶۷۰ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت اِبراہیم علیہ السلام کے حق کی آیات اپنے لئے نازل کرکے صفحہ:۵۶۲، خزائن ص:۶۷۰ میں تصریح کرتا ہے کہ مراد ان سے میں ہوں، چنانچہ اصل عبارت اس کی یہ ہے کہ:
۴۶- وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو۔
۴۷- سو تم اِبراہیم کے نقشِ قدم پر چلو۔ یعنی رسول کریم کا یہ طریقہ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہوگیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہرپرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں، یہ طریقہ خداوند کریم کے اس عاجزہ بندہ سے دریافت کرلیں اور اس پر چلیں۔ انتہی بلفظہ۔
یہ خاتمہ اس کی کتاب یعنی چوتھے حصے کا ہے۔ پس ان سینتالیس اِلہامات سے جو اکثر آیاتِ قرآنی اور بعض فقراتِ عربیہ ہیں، جن کو مؤلفِ براہین نے اپنے لئے اِلہام اور وحی قرار دِیا ہے، بخوبی ظاہر ہے کہ اس شخص نے لوازمِ رِسالت اور خواصِ نبوّت اپنے لئے ثابت کئے ہیں، چنانچہ انبیاء سے اپنا مراد ہونا اور اپنی تصدیق کو اِیمان اور اپنے اِنکار کو کفر سے تعبیر کرنا وغیر ذالک، جو ان اِلہامات سے صراحۃً ظاہر ہے، کیونکہ اوّل اس نے برخلاف اہلِ سنت اس پر یقین کیا ہے کہ اولیاء کا اِلہام اور وحیٔ رِسالت دونوں ایک معنے رکھتے ہیں، اور اِلہام بھی قطعی ویقینی ہوتا ہے، پھرا س نے بڑے اِستحکام سے ثابت کیا ہے کہ جو مضامین اس پر نازل ہوتے ہیں، ان کی تبلیغ واجب ہے، اور وہ ڈرانے، خوشخبری سنانے پر مامور ہے کہ جس نے خدا کا دوست بننا ہو، اس کی متابعت کرے، خدا اس سے محبت کرے گا، اور یہ کہ اس کے ملہمات کا قبول کرنا لوگوں پر فرض ہے اور ان کا اِنکار منع ہے، پس جو اس (مرزاقادیانی) پر اِیمان لایا وہ مؤمن ہے، اور جس نے اس کا اِنکار کیا وہ کافروں سے ہے۔
جیسا کہ ۴۴ اور ۴۵ویں اِلہام کے ترجمہ اُردو میں اس نے خود تصریح کی ہے اور رِسالت ونبوّت کے معنی یہی ہیں کہ ایسی فضیلتِ عظمیٰ حاصل ہو اور نبیوں کے ساتھ شرکت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بڑے رتبہ پر مشرف ہو۔ علاوہ ازیں جن خطابات سے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور دُوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کیا ہے، صاحبِ براہین اب ان خطابات سے اپنے نفس کو مراد رکھتا ہے، تو یہ صراحۃً اِلحاد فی الآیات نہیں تو اور کیا ہے؟ اور قرآن شریف کی تحریفِ معنوی میں کون سا دقیقہ فروگزار چھوڑا ہے؟ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ مؤلف براہین کا اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تابع جانتا ہے اور
66
اپنے لئے ان فضائلِ عظیمہ کا حاصل ہونا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی متابعت سے بطور ظلیت مانتا ہے، جیسا کہ اس نے اشتہار منقولہ بالا میں تصریح کی ہے اور نیز کئی جگہ براہین میں اقرار کرتا ہے کہ وہ مورد حدیث: ’’علماء اُمَّتی کأنبیاء بنی إسرائیل‘‘ کا ہے، تو اس حالت میں کیونکر متصوّر ہو کہ وہ رِسالت اور نبوّت کو اپنے لئے ثابت کرتا ہے؟
دیکھو! وہ اپنی فضیلت اولیاء پر ثابت کررہا ہے، اور یہ اس نے ہرگز نہیں کہا کہ میں انبیاء میں سے ہوں، تو اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ صریح ثابت ہے کہ مؤلفِ براہین نے اپنی کتاب نصاریٰ اور یہود اور بت پرستوں کے مقابلے میں واسطے ظاہر کرنے حقیقت دِینِ اسلام کے تالیف کی ہے۔ تو اس کتاب میں یہ درج کرنا کہ میں نبیوں کی صفتوں سے جو قرآن میں مذکور ہیں، موصوف ہوں، اور آیاتِ قرآنی میں جن رسولوں کے خواص مسطور ہیں، مجھ پر نازل ہوئی ہیں، ان کا مورد میں ہوں، کیا فائدہ رکھتا ہے؟ کیونکہ جن کو قرآن پر اِیمان ہی نہیں وہ ان باتوں پر کیونکر تصدیق کریں گے؟ اور مؤلفِ براہین کی عظمتِ شان پر اِیمان لائیں گے۔۔۔؟
پس معلوم ہوا کہ اصلی غرض براہین والے کی ان اِلہامات کے بیان اور وحی کے عیان سے مسلمانوں سے باور کرانا ہے کہ میں سب ولیوں سے افضل ہوں اور نبیوں کا نمونہ ہوں اور اس کے قادیان میں مکہ معظمہ کی طرح وحی اُترتی ہے، اور اَب خدا کا حکم ہے کہ سب لوگ قریب وبعید ہر طرف سے قادیان میں آئیں اور ہدایت پائیں اور جو نہ حاضر ہوگا خداتعالیٰ اس سے حساب لے گا۔ جیسا کہ اشتہار سے نقل اس کی اوپر منقول ہوچکی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے دعوے اکابر صحابہ کرامؓ خصوصاً خلفائے راشدینؓ واِمامانِ اہلِ بیتؓ وتابعینؒ سے، جو افضل ہیں ساری اُمت سے، صادر نہیں ہوئے۔
پس صاحبِ براہین کے یہ دعوے صریح مساوات کا اظہار ہے انبیاء ومرسلین سے، اگرچہ وہ اہلِ اسلام کے بلوے کے خوف سے صاف اِقرار نہیں کرتا کہ میں رسول ہوں، لیکن یہ تو اس پر نازل ہو رہا ہے:’’قل انی امرت وانا اوّل المؤْمنین، فاصدع بما تؤْمر واعرض عن الجاھلین، لعلک باخع نفسک الَّا یکونوا مؤْمنین، قل جائکم نور من اللہ فلا تکفروا إن کنتم مؤْمنین‘‘ جن کا ترجمہ اُوپر لکھا گیا ہے۔
پس یہ دعویٔ نبوّت نہیں تو اور کیا ہے؟ مع ہذا اس نے اشتہار میں صراحۃً لکھا ہے کہ میں انبیاء ورُسل کا نمونہ ہوں، جس کی نقل اُوپر ہوچکی ہے، اب ظاہر ہے کہ نمونہ شے کا عین وہ شے ہوتی ہے، جیسا کہ فارسی کی کی نثر مشہور ہے: ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ یعنی گیہوں کے انبار سے، مثلاً ایک مٹھی اس کا نمونہ ہے، تو اس اِقرار اِشتہار سے ثابت ہے کہ صاحبِ براہین (مرزاقادیانی) اپنے آپ کو انبیاء ومرسلین سے جانتا ہے، پس صاف یہ مثلیت ہے، نہ کہ ظلیت، اور نیز اس نے براہین کے صفحہ:۵۰۴، خزائن ج:۱ ص:۶۰۱ میں یہ فقرہ اپنا اِلہام لکھا ہے:’’جری اللہ فی حلل الأنبیاء‘‘ اور اس کا ترجمہ اور تفسیر یوں کرتا ہے کہ اس فقرۂ اِلہامی کے یہ معنی ہیں کہ: ’’منصب اِرشاد وہدایت اور مورد وحیٔ اِلٰہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہیں اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اور یہ حلہ انبیاء اُمتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بغرضِ تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے۔‘‘ انتہا بقدر الحاجہ!
پس براہین والے کی خود تصریح سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحی کا مورد ہونا نبیوں کا خاصہ ہے تو اس کو اپنے لئے ثابت کرنا
67
نبوّت کا اِثبات ہے، اور یہ کہنا کہ غیرانبیاء کو بطور مستعار یہ ملتا ہے، باطل ہے، کیونکہ منصبِ ورودِ وحیٔ رِسالت غیرانبیاء کو ہرگز نہیں ملتا، اور ولیوں کے اِلہام اور رِسالت سے مترادف نہیں، اس لئے کہ وحیٔ رِسالت ملائکہ کی حفاظت سے محفوظ ہوتی ہے اور اس کی اِطلاع میں ہرگز کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہوتا، اور نہ اس میں اِحتمال خطا کا ہوتا ہے، اس واسطے مکلّفین پر اس کا قبول واجب ہے، جس نے اس کو مانا وہ مؤمن ہے، جس نے اس کا اِنکار کیا وہ کافر ہے، برخلاف اِلہامِ اولیاء کے، کیونکہ اِلہام سے اگرچہ بعض حقائق ذات وصفاتِ اِلٰہی کا علم حاصل ہوتا ہے، یا بعض وقائع دنیا کا بھی یقین ہوجاتا ہے، مگر بجمیع الوجوہ شک وشبہ سے زائل نہیں ہوتا، اور اِحتمال خطا اس میں باقی رہتا ہے، اسی لئے لوگوں پر اس کا ماننا لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ تفسیر فتح العزیز میں آیت: ’’عالم الغیب‘‘ کے نیچے اس پر تصریح ہے اور یہ بھی اِعتقادِ اہلِ سنت ہے۔
لہٰذا نبیوں کے اخبارِ غیب پر اِیمان واجب ہے، اور کاہن ونجومی وغیرہ جو غیب کی خبر دیں، اس کی تصدیق کفر ہے، اور علیٰ ھٰذا مدعی اِلہام جو بعدالانبیاء اپنے اِلہامات کی خبر دے، اس کی تصدیق کرنا بھی ناجائز ہے، جیسا کہ مُلَّا علی قاریؒ نے فقہ اکبر کی شرح کی ملحقات میں تصریح کی ہے۔(۱) اکابر اہلِ سنت کا اِتفاق تو اسی پر ہے، اور غیرمقلدین اور ان کا اِمام، صاحبِ براہین جو اِلہامِ اولیاء کو حجتِ قطعی، وحیٔ رِسالت کی طرح بتاتے ہیں، ان کی غلطی کا منشا حضرت خضر علیہ السلام کے اِلہام کا ذِکر اور واقعہ اِلہام اُمِّ موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام ہے، جو منصوصِ قرآنی ہے، جیسا کہ براہین کے صفحہ:۵۴۸، خزائن ص:۶۵۴ میں لکھا ہے۔ اور نیز: ’’خضر جن میں سے کوئی نبی نہ تھا‘‘ انتہا۔ یہ اس شخص کا جہلِ عظیم ہے، کیونکہ علمائے عقائدِ حقہ وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام جمہور علماء کے نزدیک نبی ہیں اور قرآن مجید صاف ناطق ہے، اختلافِ حال ومآل وحیٔ موسیٰ اور اِلہامِ مادرِ موسیٰ ہیں، کیونکہ ہر چند ان کو اِلہام منجانب اللّٰہ تعالیٰ ہوا تھا کہ اپنے فرزند کو دَریا میں ڈال دے، وہ سلامتی سے تیرے پاس آجائے گا۔
چنانچہ قرآن مجید میں فرمان ہے کہ جب تو موسیٰ کے معاملے میں خائف ہو تو اُسے دریا میں ڈال دینا اور خوف وغم نہ کرنا، ہم تیری طرف اس کو لوٹادیں گے اور اس کو رسول بنادیں گے۔(۲) یہ ترجمہ ہے آیات کا، تو اس اِلہام پر مادرِ موسیٰ کو خود بھی اطمینان نہیں ہوا تھا، ورنہ اس کی ایسی حالت نہ ہوتی، جس کا قرآن شریف میں ذِکر ہے:وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسٰی فٰرِغاً إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَی قَلْبِہَا لِتَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ (القصص۱۰) یعنی اور ہوگیا دِل ماں موسیٰ کا خالی صبر سے، تحقیق نزدیک تھا کہ البتہ ظاہر کردے اس کو، اگر باندھ نہ رکھتے ہم اُوپر دِل اس کے، تاکہ ہو اِیمان والوں میں سے۔
اور بے شک حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام اس وحی میں مطمئن تھے کہ:’’لا تخٰفُ درکا وَّلَا تَخْشیٰ‘‘ (طٰہٰ ۷۷) یعنی فرعونیوں کے پکڑلینے سے مت ڈر۔ اسی لئے آپ کے اصحاب متحیر ہوئے اور قومِ فرعون کے لشکر کو دیکھ کر بولے، جیسا کہ قرآن میں خبر دِی گئی ہے کہ: ’’ اِنَّا لَمُدْرَکونَ‘‘ (الشعراء۶۱) بے شک پکڑے گئے، تب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جواب کو قرآن نے یوں حکایت
(۱)ومنھا ان تصدیق الکاھن بما یخبرہ من الغیب کفر لقولہ تعالٰی: قل لا یعلم من فی السمٰوٰت والأرض الغیب إلَّا اﷲ۔ (شرح فقہ اکبر لمُلَّا علی القاری رحمہ اﷲ، ص:۱۸۳، طبع مجتبائی)۔
(۲) فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْہِ فَأَلْقِیْہِ فِیْ الْیَمِّ وَلَا تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ إِنَّا رَادُّوہُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (القصص)۔
68
کیا کہ: ’’ہرگز نہیں پکڑے جانے میرے ساتھی، میرا رَبّ ہے مجھے راستہ دکھادے گا۔‘‘(۱)
پس بہ شہادتِ قرآن مبین وحیٔ رِسالت بالہامِ اولیاء میں فرق آسمان وزمین پیدا ہوگیا، اور جو ان دونوں کو ایک ہی جانتا ہے، وہ بالکل باطل پر ہے، بالیقین اور حدیث: ’’علماء اُمّتی کأنبیاء بنی إسرائیل‘‘ بے اصل ہے، چنانچہ دمیری اور زرکشی اور عسقلانی نے کہا ہے، علامہ قاریؒ نے رسالہ المصنوع فی احادیث الموضوع میں اس پر تصریح کی ہے (مطبوعہ لاہور کے ص:۱۶، سطر:۱۹ میں دیکھو)۔
رہا دعویٰ صاحبِ براہین کا کہ میں تابع ہوں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کا، سو ہرچند یہ دعویٰ محض زبانی ہے، دِل میں نہیں، جیسا کہ اس کی کتاب اس پر شاہد ہے، اور عنقریب اس کا بیان ہوگا۔ تاہم دعویٔ اِتباع فنا فی النبوّت ورِسالت سے نہیں ہے، کیونکہ براہین کے صفحہ:۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۴ میں ہے کہ: ’’مسیح کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادمِ دِین تھا، اور اس کی اِنجیل توراۃ کی فرع ہے‘‘ انتہیٰ۔
پس جیسا کہ بموجب زعم براہین والے کے اِتباع اور خادمیت حضرت موسیٰ نے حضرت مسیح کی نبوّت میں کچھ خلل اندازی نہیں کی، ویسا ہی یہ شخص باوجود اِتباع آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے، اپنے آپ کو خصائصِ نبوّت ورِسالت سے موصوف کر رہا ہے اور نیز انبیاء اگرچہ بحسب مراتب وقرب عنداللّٰہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔
چنانچہ تیسرے سپارے کا اِبتدائے آیت کا یہ ترجمہ ہے کہ: ’’وہ رسول ہم نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے۔‘‘(۲)
مؤمن بہ ہونے میں سب انبیاء برابر ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں مؤمنین سے حکایت فرمائی ہے کہ: ’’ہم نہیں فرق کرتے ہیں‘‘(۳) یعنی اِیمان لانے میں رسولوں کے درمیان۔
الحاصل! غور کرنے والا عالم جب ملہمات صاحبِ براہین میں تدبر اور تعمق فرماتا ہے تو یقینا معلوم کرجاتا ہے کہ براہین والے نے صاف دعویٰ برابری کا انبیاء سے کیا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ ص:۵۱۱، خزائن ج:۱ ص۶۱۱ میں آیت: ’’قل إنما انا بشر‘‘ کو اپنے حق میں نازل کرکے صفحہ:۵۱۲، خزائن ج:۱ ص:۶۱۲ میں اس کا ترجمہ یوں لکھتا ہے: ’’پھر فرمایا ہے کہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں، مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللّٰہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں، وہی اکیلا معبود ہے، جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئے‘‘ انتہی بلفظہ۔
اور براہین کے صفحہ:۲۴۲، خزائن ج:۱ ص:۲۶۷ میں آیت: ’’واتل علیھم‘‘ کو اپنے حق میں نازل کرلیا ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور پڑھ ان پر جو وحی کی جاتی ہے تیری طرف تیرے رَبّ سے‘‘ پس یہ صریح مقابلہ ہے صاحبِ براہین کا سیّدالمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے۔ الغرض! براہین کا مؤلف ہرچند اپنی زبان سے صریح دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نبی ہوں، تاکہ اہلِ
(۱)قَالَ کَلَّا إِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ (الشعراء)۔
(۲)تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ (البقرۃ:۲۵۳)۔
(۳)لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (البقرۃ:۱۳۶)۔
69
اسلام خواص وعوام بلوے نہ کردیں، لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی خاص الخاص انبیاء سے باقی نہیں چھوڑا، جس کو اس نے اپنے لئے ثابت نہ کرلیا ہو۔ بلاشبہ اس کی مثال علی گڑھ والی نیچری کی ہے، جس طرح اس نے اسلام کے فرائض کو اُٹھادیا اور کبیرہ گناہوں کو حلال بنادیا، جس پر اس کی تفسیرِ قرآن اور اخبار تہذیب الاخلاق شاہد ہے، اور فقیر راقم الحروف کان اللّٰہ لہ نے اس کے ہفوات کے رَدّ میں ایک رسالہ مستقلہ جس کا نام ’’جواہر مضیہ رَدِّ نیچریہ‘‘ ہے، شائع کیا ہے، فالحمد اللہ علیٰ ذالک!
پس یہ نیچری باوصف تنسیخ اپنے آپ کو خواص اولیاء اور دِین کے تائید کرنے والوں سے جان رہا ہے، ایسا ہی حال ہے صاحبِ براہین کا علمائے راسخین کی نظروں میں۔ چنانچہ مولانا فیض الحسن سہارنپوری مرحوم نے اپنے اخبار ’’شفاء الصدور‘‘ میں صاف لکھ دیا ہے کہ مرزاقادیانی مثل علی گڑھی نیچری کے ہے، یعنی اختلال دِینِ اسلام واِضلال خواص وعوام میں رہا۔ یہ اِدّعا براہین والے کا کہ میں اکثر اکابر اولیاء ماتقدم سے افضل ہوں، سو یہ بھی مثل دعویٰ نمونہ انبیاء کے سراسر باطل ہے، کیونکہ صحابہؓ اور تابعینؒ کی فضیلت ساری اُمت پر بحکم قرآن شریف اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، جیسا کہ دینی کتابوں میں مرقوم ہے، اور باقی حال فضیلت اس مدعی کا آئندہ ظاہر ہوجائے گا۔ اس تحریر کو یاد رکھ کر سنئے کہ عجائب ملہمات مرزاقادیانی سے وہ بھی ہیں جو صفحہ:۴۹۸، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳ میں: ’’إنَّا أنزلناہ قریبًا من القادیان‘‘ لکھ کر اس کا ترجمہ خود یوں کرتا ہے کہ:
’’یعنی ہم نے (یعنی خدا فرماتا ہے) ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس اِلہام کو پُراَز معارف وحقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے، اور ضرورتِ حقہ کے ساتھ اُتارا ہے، اور بضرورتِ حقہ اُترا ہے، خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا وہ ہونا ہی تھا۔‘‘
نیز اس کا دعویٰ کہ:
’’یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اِشارہ فرماچکے ہیں۔ (یعنی صفحہ:۴۹۷، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳ میں حدیث: ’’لو کان الإیمان معلقا بالثریا لنالہ‘‘ کا اِشارہ مرزاقادیانی کی طرف ہے)۔ اور خداتعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اِشارہ فرماچکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے اِلہامات میں درج ہوچکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے: ’’ھو الذی ارسل رسولہ‘‘ (یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دِین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس سچے دِین کو سب دِینوں پر غالب کردے)۔ یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا، لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور اِنکسار اور توکل اور اِیثار اور آیات اور اَنوار کی رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے، گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل ہیں، اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں
70
کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادمِ دِین تھا اور اس کی اِنجیل توراۃ کی فرع ہے، اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سیّدالرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے، اگر وہ حامد ہے تو وہ احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے، اس لئے خداوندکریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کے ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے، یعنی رُوحانی طور پر دِینِ اسلام کا غلبہ جو حججِ قاطعہ اور براہینِ ساطعہ پر موقوف ہے، اس عاجز کے ذریعے سے مقدر ہے، گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ (ص:۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳، ۵۹۴)۔
فقیر کان اللّٰہ لہ کہتا ہے کہ انزال اور تنزیل قرآن کی اِصطلاح میں آسمانی کتابوں کے اُتارنے میں مستعمل ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل کی گئی ہیں، جیسا کہ اِبتدائے سورۂ بقرہ میں قرآن اور اس سے پہلے آسمانی کتابوں کے اُترنے کو اِنزال کے لفظ سے ادا فرمایا ہے۔(۱) پھر سورۂ آل عمران میں قرآن مجید کے اُتارنے کو تنزیل اور اِنزال اور اِنجیل توراۃ کے بھیجنے انزال کے لفظ سے تعبیر کیا ہے،(۲) اور علیٰ ھٰذا القیاس بہت سی آیاتِ قرآنیہ سے ایسا ہی ثابت ہے۔
پس جب براہین والے نے اپنے ملہمات کو: ’’إنَّا أنزلناہ‘‘ سے تعبیر کیا اور بعد اَزاں آیت: ’’وبالحق أنزلناہ‘‘ سے جو صرف قرآن مجید کی صفت تھی، اپنے ملہمات کی صفت قرار دیا تو یہ تصریح ہے اس پر کہ وہ اپنے ملہمات کو مثل قرآن جانتا ہے۔ پھر لفظ حق جو دونوں جگہ قرآن کی راستی کے بیان میں تھا اس کو ضرورتِ حقہ سے ترجمہ کرنا اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ پر ان ملہمات کا انزال واجب ٹھہرانا ہے، حالانکہ یہ مخالفت صریح ہے عقائد اہلِ سنت سے، کہ شرح فقہ اکبر وشرح عقائد نسفی وغیرہما جمیع کتبِ عقائد میں درج ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پر کچھ بھی واجب نہیں ہے،(۳) اور نیز اس کلام سے اشارہ ہے اس پر کہ دِین ساری دُنیا سے کیا عرب کیا عجم کم ہوگیا ہے، اس لئے اللّٰہ تعالیٰ نے مقامِ قادیان کو اِنزالِ ملہمات کے واسطے اِختیار فرمایا، چنانچہ چوتھے حصے کتاب کے اَخیر اس نے تصریح کی ہے کہ طریقۂ حقہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہوگیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح صرف ظواہرپرست اور بعض مشرکوں کی طرح مخلوق پرستی تک پہنچ گئے ہیں، یہ طریقہ خداوندکریم کے اس عاجز بندہ سے دریافت کرلیں اور اس پر چلیں۔
اور اس سے اُوپر لکھتا ہے کہ: ’’فاتخذوا من مقامِ ابراہیم مصلّٰی‘‘ میں مجھ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اِبراہیم بنایا ہے، اور ساری خلقت کو میری اِتباع کے واسطے فرمایا ہے۔ جیسا کہ اُوپر ص:۵۶۱،۵۶۲، خزائن ص:۶۶۹،۶۷۰ سے منقول ہوچکا ہے، پس بے شک اس نے اپنے قادیان کو مکہ معظمہ کی مثال نزولِ وحی میں بتایا، جیسا کہ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اِرشاد ہوا تھا: ’’وکذٰلک اوحینا‘‘ یعنی اور ایسا ہی وحی بھیجی ہم نے تیری طرف قرآن عربی تاکہ تو ڈرائے مکہ والوں کو جو اس کے گرداگرد ہیں اور اصل قرآن مجید کے نزول کے بعد کسی چیز کے نزول کی کچھ حاجت نہیں ہے، کیونکہ متقیوں کے لئے ہدایت ہے اور شرعِ محمدی میں
(۱)والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ (البقرۃ:۴)۔
(۲)نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَأَنزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالإِنجِیْلَ (آل عمران۳)۔
(۳)ومنھا انہ لا یجب علی ا اللہ شیء من رعایۃ الأصلح للعباد وغیرھا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۵، طبع مجتبائی)۔
71
قیامت تک اُمتِ مرحومہ کے واسطے کفایت ہے، پس یہ اِدّعا کہ حق تعالیٰ نے ضرورتِ حقہ کے واسطے قادیان پر معارف واِلہامات نازل کئے ہیں، حق سبحانہ پر محض اِفترا اور بالکل تقوّل فی دین اللّٰہ ہے، اور اس افترا کی دلیلوں سے یہ بھی کہ مؤلف براہین نے اس کے ترجمہ میں انزلناہ کی ضمیر مذکر کو مرجع مؤنث کی طرف راجع کیا ہے، یعنی مرجع اس کا خوارق اور اُمورِ معجبہ بتاویل جماعت قرار دِیا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ واحد مذکر کی ضمیر جمع کی طرف راجع نہیں ہوسکتی، پس ان معنوں سے صحیح کلام یوں تھا: ’’إنَّا أنزلناھا‘‘ تو ایسی غلط صریح کلام کو خدائے سبحانہ کی جانب منسوب کرنا تیرا بہتان نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر قرآنی آیات جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر صدہا سال سے نازل ہوچکی ہیں، اب ان کے اُتارنے میں کیا فائدہ ہے؟ بلکہ لاطائل اور تحصیلِ حاصل ہے۔
اس جگہ اگر کسی کو شبہ گزرے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سب کو مخاطب کرکے فرمایا ہے: ’’ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے، جس میں تمہارا ذِکر ہے، پس تم کیوں نہیں سمجھتے؟‘‘ اور یہ بھی فرمایا: ’’اور بے شک ہم نے اُتاریں تمہاری طرف آیتیں‘‘ جس سے ثابت ہوا کہ قرآن مسلمانوں کی طرف اُتارا گیا ہے، تو کیا مانع ہے اگر خوارق وغیرہ بہ توسل آیات قرآنی براہین والے پر نازل ہوں؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ:
قرآنِ عظیم صرف رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ہی اُترا ہے، لیکن جبکہ قرآن میں ایسے اَحکام بھی بہ کثرت ہیں جن کی تبلیغ کے لئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مامور تھے، خواہ مؤمنین کو، خواہ جمیع بنی آدم کو تو اس نظر سے مجازاً یوں بھی کہنا صحیح ہوگیا کہ قرآن لوگوں کی طرف اُتارا گیا ہے، اور اصل میں معاملہ یہی ہے جو ارشاد ہوا ہے: ’’وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ‘‘ (النحل۴۴) یعنی ’’اور ہم نے تیری طرف نصیحت اُتاری ہے تاکہ تو لوگوں سے بیان کردے اور وہ فکر کریں‘‘ علاوہ ازیں وقت نزولِ قرآن کے مؤمنین کی طرف قرآن کا نزول کی اسناد باوصف اس یقین کے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہ اب تیرہ سو برس کے بعد صاحبِ براہین آیاتِ قرآنی کا منزل علیہ بن جائے اور اس کے حق میں راست آئے: ’’إنَّا أنزلناہ قریبًا من القادیان‘‘ پس یقینا یہ بہتان اور ہذیان ہی ہے۔
اور یہ اِدّعا براہین والے کا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی خبر قرآن مجید میں دِی ہے اور ایسا ہی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس کی طرف اِشارہ فرمایا ہے، یہ بھی بالکل باطل ہے، کیونکہ اس حدیث صحیح کا مشاراِلیہ اِمامِ اعظمؒ ہے، جیسا کہ بہت سے محدثین اور فقہاء نے اس پر تصریح کی ہے،(۱) جس کا شمہ فقیر نے رسالہ ’’تصریح ابحاث فریدکوٹ‘‘ اور رسالہ ’’عمدۃالبیان فی اعلان
(۱) قال الشیخ رحمہ اﷲ: وبشر بالإمام أبی حنیفۃ رضی ا اللہ عنہ فروی ابونُعیم فی الحلیۃ عن أبی ھریرۃ رضی ا اللہ عنہ والشیخان عنہ من طریق آخر وابوبکر الشیرازی فی کتاب الألقاب والطبرانی من طریق آخر عن قیس بن سعد بن عبادۃ، والطبرانی عن ابن مسعود رضی ا اللہ عنھم ان رسول ا اللہ صلی ا اللہ علیہ وسلم قال: لو کان الإیمان عند الثریا (لفظ الشیرازی وابی نعیم: لو کان العلم معلقًا بالثریا، وزاد الطبرانی فی حدیث قیس رضی ا اللہ عنہ: لا تنالہ العرب) لنالہ رجال (ولفظ مسلم: لتناولہ رجل) من ابناء فارس۔ قال الشیخ رحمہ اﷲ: فھٰذا اصل صحیح یعتمد علیہ فی البشارۃ والفضیلۃ۔ (عقود الجمان فی مناقب الإمام الأعظم ابی حنیفۃ النعمان ص:۴۳، ۴۴، طبع مکتبۃ الإیمان، المدینۃ المنورۃ)۔
72
مناقب النعمان‘‘ میں بیان کیا ہے، اور ایسا ہی آیت:’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہ‘‘ (الفتح:۲۸) نہ حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور نہ براہین والے کی طرف اس میں اِشارہ ہے، بلکہ بالیقین باتفاق جمیع مفسرین بل بشہادت قرآن مبین سیّدالمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعترتہ اجمعین کے حق میں نازل ہے، دیکھو اس کے اَخیر: ’’وَکفٰی باللّٰہ شَھِیْداً‘‘ کے ساتھ ہی’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ قرآن شریف میں مرقوم ومرسوم ہے۔ اور محی السنۃ اپنی تفسیر میں تصریح کرتا ہے کہ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ پر کلام ختم ہوتا ہے، یعنی جس رسول کے بھیجنے کی حق سبحانہ نے خبر دی ہے وہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے۔ حضرت ابنِ عباسؓ حبرِ اُمت اور اعلم بتفسیر قرآن سے یہ روایت ہے: پھر ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘ دوسرا کلام شروع ہوا، یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر معالم التنزیل کا، پس اس آیت کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوا کسی دُوسرے کے حق میں وارد کرنا قرآن مجید اور تفسیروں کے صریح مخالف ہونا ہے۔
افسوس! اس شخص کی سخت نادانی پر جو اس آیت کو بطور جسمانی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں، اور بطور رُوحانی اپنے لئے پیشین گوئی بنا رہا ہے، اور اتنا بھی نہیں جانتا کہ اس کی اِبتدا میں لفظ ماضی ہے، جس سے صریح ثابت ہے کہ وہ رسول بھیجا گیا ہے تو اس سے آئندہ میں رسول کا آنا مراد رکھنا قرآن مجید کی تحریف ہے۔ اور پھر اس آیت میں جو لفظ رسول کا ہے تو اس سے اپنے نفس کی مراد رکھنی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اپنی شرکت اِبتدائی ثابت کرنی یہ دعویٰ رسالت کا نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس آیت کے غلبہ موعود کو بوسیلہ حضرت مسیح ظہور میں آنے کا دعویٰ کرنا بموجب قول جمہور مفسرین کے باطل ہے، کیونکہ یہ غلبہ سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ظہور پُرنور سے حاصل ہوگیا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نعمتِ اِلٰہی تام ہوچکی، جیسا کہ آیت:’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ‘‘ (المائدۃ:۳) اس پر شاہد ہے۔ چنانچہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس پر تصریح ہے اور فقیر راقم الحروف کہتا ہے کہ فتح مکہ سے بڑھ کر جو کسی بشر کو نصیب نہیں ہوئی ہے کون سا غلبہ دِینِ اسلام کا ہوگا؟ اور بیت اللّٰہ کو بتوں کی پلیدیوں سے پاک کرنے سے کون سا ظہور دِینِ متین مقابل ہوسکے گا؟ اور دُوسرا قول ضعیف کہ غلبہ وقت نزول حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے ہوگا، اس پر ہرگز دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام وغیرہ کے حق میں پیش گوئی ہے اور ’’رسولہ‘‘ سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوا کوئی اور مراد ہے، حاشاوکلا! بلکہ مراد اس قولِ ضعیف سے یہ ہے کہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جب آسمان سے اُتریں گے تو شرعِ محمدی کے تابع ہوکر دِینِ اسلام کی تائید کریں گے، تو یہ بھی سروَرِعالم صلی اللّٰہ علہ وسلم کے ہی غلبہ کی فرع ہوئی، مُلَّا علی قاری علیہ الرحمہ فقہ اکبر کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: حضرت مسیح، حضرت مہدی سے جب اُترکر ملاقاتی ہوں گے تو نماز کی تکبیر ہوچکی ہوگی، حضرت مہدی ان کو اِمامت کے لئے اِشارہ کریں گے، تب حضرت مسیح اِمامت نہ کریں گے، بایں عذر کہ یہ تکبیر آپ کے لئے ہوئی ہے، آپ کی اِمامت اَولیٰ ہے، تب حضرت مسیح مقتدی ہوں گے، تاکہ ان کی متابعت سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وعلیٰ اِخوانہ وعترتہ وسلم سے ظاہر ہوجائے، جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حدیث: ’’لو کان موسٰی حیًّا‘‘ میں اسی کی طرف اِشارہ فرمایا ہے، یعنی اب اگر موسیٰ زندہ ہوتا تو اس کو بجز میری متابعت کے کوئی اور چارہ نہ ہوتا۔ پھر مُلَّا علی قاریؒ لکھتے ہیں کہ اس اِتباع کی وجہ سے ہم نے شرح شفا وغیرہ میں آیت: ’’ وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ
73
النَّبِیِّیْنَ ‘‘ کے نیچے بیان کی ہے، یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔(۱)
اور ایسا ہی عامہ تفاسیر میں درج ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم متبوع جمیع انبیاء ہیں، بلکہ مواہب لدنیہ ودیگر کتب سیر میں تصریح ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی الانبیاء ہیں، الغرض آیت:’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ‘‘ سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حق میں ہے، کوئی دُوسرا اس کا مورد نہیں ہے۔ براہین والے کا دعویٰ سراپا باطل اور جھوٹ ہے۔
پھر یہ دعویٰ اس کا کہ میں آیات وانوار وتوکل وایثار کی رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہوں اور فطرت میں باہم نہایت متشابہ گویا ایک جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک درخت کے دو پھل۔ کما مر نقلہ علی الصدر، سو یہ دعویٰ بھی مساوات کا ہے مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے، جیسا کہ نمونہ کا لفظ اور گویا کلمہ تشبیہ کا مفاد ہے، تفسیر اتقان میں منقول ہے کہ گویا یعنی ترجمہ کأنّ کا وہاں مستعمل ہوتا ہے جہاں بہت قوی مشابہت ہو، یہاں تک کہ دیکھنے والا مشبہ اور مشبہ بہ میں فرق نہ کرسکے، اس لئے بلقیس کے قول سے اللّٰہ تعالیٰ نے خبر دِی کہ گویا یہ تخت وہی ہے، یہ ترجمہ ہے عبارت اتقان کا۔(۲)
اب فقیر کہتا ہے کہ براہین والا اس دعویٰ میں بے شک کاذب ہے، اوّلاً اس لئے کہ حضرت مسیح تو مادرزاد اندھے، کوڑھی کو تندرست اور مُردہ کو بحکمِ خدا زِندہ کردیتے تھے، اور جب انہوں نے کہا کہ تائید دین میں میرا کون مددگار ہے؟ تو حواری بول اُٹھے کہ ہم خدا کے دِین کے مددگار ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں مکرر اِرشاد ہے، اور براہین والے سے اب تک کوئی ایسا خارق نہیں ہوا، اور نہ نصرانی وہنود سے کسی نے اس پر اِیمان قبول کیا ہے، بلکہ وہ نصرانی جس کے مطبع میں اس نے تین حصے اپنی کتاب چھپوائی ہے، وہ بھی مسلمان نہ ہوا، اور اس کی مدد میں اس نے مصروفیت نہ کی، باوصف یہ کہ براہین والے نے کمالِ تضرّع اور خلوصِ قلب سے جمیع نصاریٰ کے ایمان کے واسطے دُعائیں مانگی ہیں اور وہ دُعا اَخیر میں اس اِشتہار کی مدّت اڑھائی برس سے چھپ کر شائع ہوئی ہے، وھو ھٰذا: ’’بالآخر اس اِشتہار کو اس دُعا پر ختم کیا جاتا ہے، اے خداوندکریم! تمام قوموں کے مستعد دِلوں کو ہدایت بخش، بالخصوص قومِ انگریز جن کی شائستہ اور مہذّب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے اِحسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کرکے اس بات کے لئے دِلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کی دُنیا ودِین کے لئے دِلی جوش سے بہبودی وسلامتی چاہیں، پس ہم اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی دُنیاوی اور اُخروی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، بارخدایا! ان کو ہدایت کر اور اپنی رُوح سے ان کی تائید کر، اور ان کو اپنے دِین میں وافر حصہ دے، اور ان کو اپنی طاقت اور قوّت سے اپنی طرف کھینچ تاکہ تیری کتاب اور تیرے رسول علیہ السلام پر اِیمان لائیں اور فوج درفوج خدا کے دِین میں داخل ہوں، آمین ثم آمین، والحمدللّٰہ رَبّ العالمین، المشتہر: مرزا غلام احمد، اَزقادیان، ضلع گورداسپور (مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۵)۔
(۱) فیجتمع عیسٰی بالمھدی وقد اقیمت الصلاۃ فیشیر المھدی لعیسٰی بالتقدم فیمتنع معلّلًا بأن ھٰذہ الصلاۃ اقیمت لک فأنت اولٰی بأن تکون الإمام فی ھٰذا المقام، ویقتدی بہ لیظھر متابعہ لنبینا صلی ا اللہ علیہ وسلم کما اشار الٰی ھٰذا المعنٰی صلی ا اللہ علیہ وسلم بقولہ: ’’لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی‘‘ وقد بینت وجہ ذلک عند قولہ: وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا آتَیْتُکُم مِّنْ کِتٰبٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ الآیۃ
(آل عمران:۸۱) الآیۃ فی شرح الشفاء وغیرہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۳۶)۔
(۲) قال حازم وإنما تستعمل حیث یقوی الشبہ حتّٰی یکاد الرائی یشک فی ان المشبہ ھو المشبہ بہ او غیرہ ولذلک قالت بلقیس: کأنَّہ ھُو۔ (الإتقان فی علوم القرآن، الجزء الأوّل ص:۱۶۸)۔
74
پس یہ دُعا جو بکمال حضور باطن براہین والے نے نصاریٰ کی قوم کے واسطے کی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی قوّت اور طاقت سے ان کو دِینِ اسلام میں کھینچے اور وہ فوج درفوج مسلمان ہوں، اس رسالے کی تالیف تک ان سے مرزاقادیانی کے ہاتھ پر کوئی بھی اِیمان نہیں لایا، چہ جائیکہ سب انگریز اِیمان لاتے اور فوج درفوج مسلمان ہوتے۔ پس صریح ثابت ہوا کہ براہین والے کو حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام اور علیٰ ھٰذا القیاس فطرتی مشابہت کا دعویٰ بھی جھوٹ ہے، کیونکہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام تو بن باپ رُوح کے پھونکنے سے پیدا ہوئے تھے، جس پر قرآن مجید شاہد ہے اور براہین والا حکیم غلام مرتضیٰ قادیانی کے نطفے سے پیدا ہوا ہے، چنانچہ اس نے خود والد سے ایامِ بلویٰ میں حکامِ وقت کی امداد کا تذکرہ لکھا ہے (براہین حصہ سوم، ص:الف، خزائن ص:۱۳۸)۔
پس کیونکر مشابہ ہو وہ شخص جس کی خلقت ماء مہین سے ہو، اس ذاتِ پاک سے جس کو اللّٰہ تعالیٰ:’’اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ (الانبیاء۹۱) فرمائے؟ اور یہ جو براہین والے نے اپنی مشابہت کی دلیل میں حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام سے یوں لکھا ہے کہ: ’’وہ تابع دینِ موسوی تھے اور ان کی اِنجیل توراۃ کی شرح تھی، اور میں احقر خادمینِ سیّدالمرسلین میں سے ہوں‘‘ سو یہ بھی بالیقین باطل ہے۔ اوّلاً اس لئے کہ حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام جناب موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے تابع دِین نہ تھے، بلکہ وہ تو اُولوالعزم رسولوں میں سے تھے، جن کی شریعت مستقلہ ہوتی ہے، اور آپ کی اِنجیل توراۃ کی فرع نہ تھی، بلکہ اِنجیل بعض اَحکامِ توراۃ کی ناسخ ہے۔
پہلے دعویٰ کی دلیل یہ ہے جو اَخیر سورۂ اَحقاف میں اِرشاد ہے کہ: ’’صبر کر جیسے اُولوالعزم رسولوں نے صبر کیا۔‘‘ حضرت ابنِ عباسؓ اُولوالعزم کے معنی صاحبِ عزم لکھتے ہیں، اور ضحاک نے صاحبِ جدوجہد لکھ کر پھر دونوں اُولوالعزم کے شمار میں حضرت نوح واِبراہیم وموسیٰ وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام چاروں اصحابِ شرائع کا ذِکر کرکے پانچویں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو شامل ان کے جانتے ہیں۔ پھر صاحبِ معالم کہتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے خاص کرکے اس آیت میں پانچویں کا ذِکر کیا ہے، جو سورۂ اَحزاب کی اِبتدا میں ہے، اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’اور یاد کر جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اور نوح سے اور اِبراہیم سے اور موسیٰ اور عیسیٰ مریم کے بیٹے‘‘ اور اس آیت سورۃالشوریٰ کی اِبتدا میں بھی ان پانچوں کا ذِکر ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’راہ ڈال دی تم کو دِین میں وہی جو کچھ دی تھی نوح کو اور جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جو کچھ دیا ہم نے اِبراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو۔‘‘ یہ بغوی نے تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے، اور ایسا ہی لکھا ہے۔(۱)
اب دُوسرے دعوے کی دلیل سنو کہ سورۂ مائدہ میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’ہم نے اُتاری توراۃ اس میں ہدایت اور روشنی اس پر حکم کرتے پیغمبر جو فرمانبردار تھے، یہود کو اور درویش اور عالم اس واسطے کہ نگہبان ٹھہراتے اللّٰہ کی کتاب پر اور اس کی خبرداری پر تھے، سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور مت خریدو میری آیتوں پر مول تھوڑا، اور جو حکم نہ
(۱) ’’فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ‘‘ قال ابن عباس: ذو الحزم، وقال الضحاک: ذو الجد والصبر، ۔۔۔۔۔ ھم نوح وإبراھیم وموسٰی وعیسٰی أصحاب الشرائع، فھم مع محمد خمسۃ، قلت: ذکرھم ا اللہ علی التخصیص فی قولہ: ’’واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک و من نوح و ابرٰھیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم‘‘ وفی قولہ تعالٰی: ’’شرع لکم من الدین ما وصیٰ بہ نوحا‘‘ الآیۃ۔ (تفسیر البغوی المسمّٰی بمعالم التنزیل ج:۴ ص:۱۷۶، طبع إدارۃ تألیفات اشرفیہ)۔
75
کرے اللّٰہ کے اُتارنے پر، سو وہی لوگ ہیں منکر۔‘‘(۱)
پھر ایک آیت بعد اس کے شرع عیسوی کی بابت اِرشاد ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور پچھاڑی میں بھیجا ہم نے انہیں کے قدموں پر عیسیٰ مریم کا بیٹا، سچ بتاتا توراۃ کو جو آگے سے تھی، اور اس کو دِی ہم نے اِنجیل جس میں ہدایت اور روشنی اور سچا کرتی اپنی اگلی توراۃ کو اور راہ بتاتی اور نصیحت ڈر والوں کو، اور چاہئے کہ حکم کریں اِنجیل والے اس پر جو اللّٰہ نے اُتارا ہے اس میں، اور جو کوئی حکم نہ کرے اللّٰہ کے اُتارے پر سو وہی لوگ ہیں بے حکم۔‘‘(۲) اب دونوں قرآنی آیتوں سے صاف ثابت ہے کہ شریعت موسوی وعیسوی دونوں علیحدہ علیحدہ شریعتیں ہیں، جو اِنجیل کو توراۃ کی فرع بتاتا ہے، قرآن مجید اس کو جھٹلاتا ہے۔
پھر سورۂ آل عمران میں حضرت مسیح سے حکایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور سچ بتاتا ہوں توراۃ کو جو مجھ سے پہلے کی ہے اور اسی واسطے کہ حلال کردوں تم کو بعض چیز جو حرام تھی تم پر۔‘‘(۳) یعنی شریعتِ موسوی میں جو چربی اور مچھلی اور ان کا گوشت اور شنبہ کے دن میں کام کاج کرنا حرام تھا، اس کو شرعِ عیسوی نے حلال کردیا، یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ شرعِ عیسی ناسخ شرعِ موسوی ہے، یہ تفسیر بیضاوی کی عبارت کا ترجمہ ہے، اور تفسیر مدارک وجلالین ومعالم وغیرہا میں بھی ایسا ہی تحریر ہے۔ پس قرآن مجید سے بخوبی تکذیب براہین والے کی ہوگئی۔
ثانیاً براہین والے کا یہ دعویٰ کہ: ’’میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے احقر خادمین میں سے ہوں‘‘ سراسر باطل ہے، کیونکہ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کمالات میں اپنی مساوات کر رہا ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خصوصیات کو، جو منصوصِ قرآن ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے غیر کی طرف منسوب کرتا ہے۔
دیکھو فضیلت رسالت جو اللّٰہ تعالیٰ نے آیت: ’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہ‘‘ (الفتح:۲۸) میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے ہی ثابت فرمائی ہے، براہین والے نے اوّلاً اس کو حضرت مسیح کے حق میں متحقق کیا ہے، ۔۔۔شاید تالیفِ قلوبِ حکامِ وقت اور ان سے اِظہارِ محبت کے واسطے ایسا کیا ہوگا۔۔۔! ثانیاً اس رِسالت کو اپنے لئے ثابت کرلیا کہ رُوحانی اور باطنی طور سے مورد اس آیت کا خود بن بیٹھا، تاکہ عوام اہلِ اسلام اس کو رئیسِ اولیاء اور نمونۂ انبیاء جان کر اس کی کتاب کو گراںقیمت سے خریدیں اور غبنِ فاحش میں پڑیں، اور اس کو بہت سے دراہم ودینار حاصل ہوں۔ پس سارا مدار دِینار پر ہے، جیسا کہ دانش مندوں پر مخفی نہیں، اور ہم اس امر کو زیادہ تر وضاحت سے ثابت کردیں گے۔ الحاصل! اگلی پچھلی تحریروں سے متحقق ہے کہ براہین والا قرآن مجید کی آیات میں تحریفِ معنوی کر رہا ہے، اور اس کو کسی پکے مؤمن سے بھی مشابہت نہیں چہ جائیکہ ولیوں پر اس کو فضیلت ہو، اور نبیوں کا نمونہ بن سکے، تو اس کے ایسے دعوؤں سے پناہِ خدا لا یزال! اور یہ بھی مخفی نہ رہے کہ اس شخص نے قرآن مجید میں صرف تحریفِ معنوی ہی نہیں کی، بلکہ
(۱) نَّا أَنزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْہَا ہُدًی وَنُورٌ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْہِ شُہَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنْزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُونَ(المائدۃ۴۴)۔
(۲) وَقَفَّیْنَا عَلَی آثَارِہِم بِعَیْسٰی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَاٰتَیْنَاہُ الإِنْجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَنُوْرٌ وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَہُدًی وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ.وَلْیَحْکُمْ أَہْلُ الإِنجِیْلِ بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فِیْہِ وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ(المائدۃ۴۶، ۴۷)۔
(۳) وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ (آل عمران:۵۰)۔
76
بہت سی آیاتِ قرآنی میں تحریفِ لفظی بھی کردی ہے۔
دیکھو اُوپر کے ملہمات میں آیت: ’’قل انی امرت ان اکون اوّل من اسلم‘‘ اور آیت: ’’الیک وانا اوّل المؤْمنین‘‘ ان دونوں کو توڑپھوڑ کر یہ آیت تیسری بنالی کہ: ’’قل انی امرت وانا اوّل المؤْمنین‘‘ اور آیت: ’’انہ عمل غیر صالح‘‘ کو ’’إنّہ عبد غیر صالح‘‘ سے بدل دیا ہے، اور آیت: ’’ما انت بنعمتک ربک بمجنون‘‘ کے اِبتدا میں حرفِ واؤ بڑھادیا ہے، اور: ’’زھق الباطل‘‘ بہ ہائے ھوَّز کو زحق الباطل بحائے حطّی نازل کرلیا ہے، اور: ’’واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی‘‘ کی واؤ کو ’’فا‘‘ سے تبدیل کردیا ہے، اور آیت: ’’یٰعیسی انی متوفیک‘‘ کے درمیان سے: ’’ومطہرک من الذین کفروا‘‘ کو ساقط کردیا ہے، جیسا کہ یہ آیت صفحہ:۵۵۶، خزائن ص:۶۶۵ سے اُوپر منقول ہوگئی ہے، اور ایسا ہی اس آیت کو صفحہ:۵۱۹، خزائن ص:۶۲۰ میں جو اپنے لئے نازل ہونا لکھا ہے تو وہاں بھی اس کے درمیان سے یہی فقرہ اُڑادیا ہے، اور علیٰ ھٰذا بہت سی آیاتِ قرآنی میں لفظی تحریف بھی کردی ہے، جس کو حافظِ قرآن تأمل سے معلوم کرسکتا ہے، پھر باوصف اس تحریف کے آیاتِ قرآنی کو پارہ پارہ کردیا ہے، اور یہ تو اس کے ملہمات میں اس کثرت سے ہے جس کا شمار دُشوار ہے۔
یہاں پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ تحریفِ آیات کاتب کی غلطی سے ہوگئی، کیونکہ براہین والے نے اپنی تصحیح سے وہ کتاب چھپوائی ہے، جیسا کہ صفحہ:۵۱۶، خزائن ص:۶۱۵ میں اس پر تصریح کرتا ہے، اور نیز ان آیات کا ترجمہ موافق اس تحریف ہی کے کیا ہے، اس کو یاد رکھ کر آگے سنئے کہ صفحہ:۵۱۴، خزائن ص:۶۱۳،۶۱۴ میں آیت: ’’وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ لیعذبھم وھم یستغفرون‘‘ کو جو اپنے حق میں نازل ہونا لکھا ہے تو اس میں دوسرے: ’’وما کان ﷲ‘‘ کے پیچھے سے جو لفظ ’’معذبھم‘‘ قرآن مجید میں ہے اس کو ’’لیعذبھم‘‘ سے بدل دیا ہے۔ پھر صفحہ:۵۵۵، خزائن ص:۶۶۱ میں جو آیت: ’’وکذلک مننا علٰی یوسف لنصرف عنہ السوء والفحشاء‘‘ کو اپنے حق میں نازل لکھ کر اَخیر اس کے ترجمے کے لکھتا ہے کہ: ’’اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔ اور اس آیت میں لفظ ’ ’مَکَّنَّا‘‘ کو ’’مَنَنَّا‘‘ سے تحریف کردیا ہے اور اسی محرف لفظ کا ترجمہ کیا ہے کہ ہم نے یوسف پر اِحسان کیا، انتہیٰ بلفظہ۔
پھر صفحہ:۴۹۷،۴۹۸، خزائن ص:۵۹۱،۵۹۲ میں جو اپنی وصف اور اپنی کتاب کی تعریف میں یہ آیت نازل کی ہے کہ: ’’ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ رد علیھم رجل من فارس شکر اللہ سعیہ‘‘ تو علاوہ تحریفِ قرآن کے اس کے ترجمے میں اپنے لئے اللّٰہ تعالیٰ کو شاکر یعنی اپنا شکرگزار لکھ دیا ہے، اور بعد اَزاں یہ اِلہام لکھا ہے: ’’ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے، یعنی مخالف کو نیست ونابود کرنے والی ہے، اور یہ ایک پیش گوئی ہے کہ جو کتاب کی تاثیراتِ عظیم اور برکاتِ عمیم پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ پھر اس کے بعد فرمایا: ’’اگر اِیمان ثریا سے لٹکتا ہوتا یعنی زمین سے بالکل اُٹھ جاتا، تب بھی شخص مقدم الذکر یعنی ’’فارسی الاصل‘‘ اس کو پالیتا۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
پھر آیت: ’’یکاد زیتہ‘‘ کو اپنی کتاب کی تعریف میں وارِد کرکے ترجمہ یوں لکھتا ہے کہ: ’’عنقریب ہے کہ اس کا تیل
77
خودبخود روشن ہوجائے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
پھر یہ آیت سورۂ قمر وسورۂ صٓ وسورۂ آل عمران وسورۂ رعد اپنے اور اپنی کتاب کے حق میں نازل کرکے ان کا ترجمہ یوں تحریر کیا ہے کہ: ’’کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں، عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور یہ پیٹھ پھیرلیں گے اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے، حالانکہ ان کے دِل ان نشانوں پر یقین کرگئے ہیں، اور دِلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں، اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا، اور اگر تو سخت دِل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہوجاتے، اگرچہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔ یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطورِ اِلہام اِلقاء ہوئیں، جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا، اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آئیں۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ (براہین ص:۴۹۸، خزائن ص:۵۹۲)۔
اب فقیر کاتب الحروف کان اللّٰہ لہ کہتا ہے کہ ان میں براہین والے نے تحریفِ لفظی بھی بدرجہ کمال کی ہے اور بہتانِ عظیم کو اسی میں شامل کردیا ہے، کیونکہ حدیث صحیح متفق علیہ کے الفاظ یہ ہیں: ’’لو کان الإیمان معلّقًا بالثُّریا لتناولہ رجال أو رجل من فارس‘‘ پس اس حدیث کے ابتدا میں براہین والے نے حرف واؤ زائد کردیا ہے، اور ’’لتناولہ‘‘ کو ’’لنالہ‘‘ سے بدل دیا ہے، اور اس کے فاعل کو بالکل حذف کیا ہے، جو محض ناروا ہے۔ پھر قرآن مجید کے لفظ ’’زیتہا‘‘ کو کلمہ ’’زیتیۃ‘‘ سے تحریف کیا ہے، تاکہ کتاب مرجع مذکر کی رعایت رہے۔
اور آیت: ’’فَنَادَوْا وَلَاتَ حِیْنَ مَنَاص‘‘ (ص۳) کو ’’وقالوا لات حین مناص‘‘ بناکر تین تحریف کردی ہیں، یعنی ’’فا‘‘ کی جگہ ’’واؤ‘‘ لکھ دی ہے، اور ’’نادوا‘‘ کو ’’قالوا‘‘ سے بدلا ہے، اور ’’لات‘‘ کے سر سے واؤ حذف کردی ہے، پھر اس کو تین جگہ اسی تحریف سے لکھا ہے، ایک تو یہ مقام، دُوسرا صفحہ:۴۹۰ کی سطر:۱۸، خزائن ص:۵۸۳ میں، تیسرا صفحہ:۴۹۷ کی سطر:۱۳، خزائن ص:۵۹۳ میں، اور ان تینوں ہی جگہ میں بموجب اس تحریف کے ترجمہ کیا ہے۔
پھر آیت: ’’وَلَوْ أَنَّ قُرْاٰناً سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ‘‘ (الرعد:۳۱) کو ’’ولو أن القرآن سیّر بہ الجبال‘‘ بناکر ’’قرآن‘‘ پر الف لام بڑھادیا ہے او ’’سُیِّرَتْ‘‘ کی ’’تا‘‘ کو حذف کردیا ہے، اور مع ھٰذا سورۂ قمر کی آیات میں ترتیب بدل دی ہے، کیا معنی کہ دو آیت اخیر سورت یعنی: ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ‘‘ سے ’’اَلدُّبُرْ‘‘ تک اِبتدا میں لکھ دی ہیں، اور آیت ابتدائے سورۂ قمر یعنی ’’وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً‘‘ کو ان کے اَخیر میں تحریر کردیا ہے اور اسی ترتیب پر ترجمہ کیا ہے۔ پس یہ ایک سورت کی آیات میں تبدیلِ ترتیب ہے، اور شرع میں مقدر ہے کہ ہر سورت کی آیات میں ترتیب باَمرِ شارع توقیفی ہے، بدلیل احادیث صحیحہ واِجماعِ اُمتِ مرحومہ، چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے تفسیر اِتقان میں اس مسئلے کے بیان میں ایک مستقل بسط مناسب کرکے ساتھ ذِکر کیا ہے اور شیخ محدث دہلویؒ نے بھی فارسی اور عربی دونوں شرح مشکوٰۃ میں اس امر کو تفصیل وار لکھا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے یہی تفسیر فتح العزیز کے اِبتدائے سورۂ بقرہ میں اس مسئلے کی تحقیق کے بعد ترتیبِ آیات کی مخالفت کو حرام اور بدعتِ شنیعہ کہا ہے، جس نے اصل عبارات دیکھنی ہوں تو ان کتابوں میں دیکھے۔ الغرض!
78
پھر آیت: ’’وَلَوْ أَنَّ قُرْاٰناً سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ‘‘ (الرعد:۳۱) کو ’’ولو أن القرآن سیّر بہ الجبال‘‘ بناکر ’’قرآن‘‘ پر الف لام بڑھادیا ہے او ’’سُیِّرَتْ‘‘ کی ’’تا‘‘ کو حذف کردیا ہے، اور مع ھٰذا سورۂ قمر کی آیات میں ترتیب بدل دی ہے، کیا معنی کہ دو آیت اخیر سورت یعنی: ’’اَمْ یَقُوْلُوْنَ‘‘ سے ’’اَلدُّبُرْ‘‘ تک اِبتدا میں لکھ دی ہیں، اور آیت ابتدائے سورۂ قمر یعنی ’’وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً‘‘ کو ان کے اَخیر میں تحریر کردیا ہے اور اسی ترتیب پر ترجمہ کیا ہے۔ پس یہ ایک سورت کی آیات میں تبدیلِ ترتیب ہے، اور شرع میں مقدر ہے کہ ہر سورت کی آیات میں ترتیب باَمرِ شارع توقیفی ہے، بدلیل احادیث صحیحہ واِجماعِ اُمتِ مرحومہ، چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے تفسیر اِتقان میں اس مسئلے کے بیان میں ایک مستقل بسط مناسب کرکے ساتھ ذِکر کیا ہے اور شیخ محدث دہلویؒ نے بھی فارسی اور عربی دونوں شرح مشکوٰۃ میں اس امر کو تفصیل وار لکھا ہے اور مولانا شاہ عبدالعزیزؒ نے یہی تفسیر فتح العزیز کے اِبتدائے سورۂ بقرہ میں اس مسئلے کی تحقیق کے بعد ترتیبِ آیات کی مخالفت کو حرام اور بدعتِ شنیعہ کہا ہے، جس نے اصل عبارات دیکھنی ہوں تو ان کتابوں میں دیکھے۔ الغرض! یہ اِلہامات جن میں آیاتِ قرآنی کی تحریف اور نیز آیات کی ترتیب کی تبدیل اور نیز ان کا پارہ پارہ کرنا شائع ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز اِلقاء نہیں ہیں اور بالیقین تلبیسِ اِبلیس اور مکائدِ نفس خبیث سے ہیں، اَعَاذَنَا ﷲُ وَجَمِیْعَ الْمُسْلِمِیْنَ عَنْ ذَالِک!
اس جگہ پر اگر کوئی اِعتراض کرے کہ یہ تحریف اور تبدیل وغیرہ اگر کسی بندے کی طرف سے ہو تو اس کی حرمت وغیرہ میں کیا شک ہے؟ لیکن جب خدائے کریم کی طرف سے ایسا ہو رہا ہے، جیسا کہ براہین والے کا دعویٰ ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے۔۔۔!
تو اس کا جواب یوں ہے: باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’لَامُبَدِّلِ لِکَلِمٰتِہٖ‘‘ (الا:۱۱۵) اور ’’ وتمَّتْ کَلِمَتُ رَبّکَ‘‘ (الانعام:۱۱۵) اِرشاد ہے، یعنی قرآن مجید کی آیات کو جو راست تر اور عدل ہیں، کوئی نہیں بدل سکتا، یا کوئی قادر نہیں کہ آیاتِ قرآنی اُلٹاپلٹا کردے، جیسا کہ توراۃ میں واقع ہوا ہے، یعنی کہ تحریف نے تاثیر کردی اور کسی نے اس اُمت سے تعاقب نہ کیا، یا قرآن سے پیچھے نہ کوئی کتاب ہوگی جو اس کو نسخ کرسکے، اور اس کے اَحکام تبدیل کرے۔
یہ ترجمہ عبارت تفسیر بیضاوی وغیرہ کا ہے: اور یہ بھی قرآن کا فرمان ہے کہ بے شک قرآن کتابِ عزیز ہے، یعنی بہت منفعت والی، بے نظیر یا محکم، جس کا اِبطال اور تحریف غیرممکن ہے، باطل کی طرف سے اس کو شامل نہیں ہوسکتا، اس حکیم نے اُتاری ہے جس کی ساری مخلوقات حکم کرتی ہے۔(۱)
یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر بیضاوی ومعالم التنزیل کا: پس ایسی آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوگیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت اور خواہش نہیں کہ آیات قرآن کی تبدیل ہو، بلکہ اس نے قرآن مجید کو راستی اور عدل سے پورا کردیا ہے اور تحریف وتبدیل سے محفوظ رکھا ہے اور اس کی نظم اور ترتیب اعلیٰ درجے فصاحت وبلاغت پر مشتمل ہے، پس کوئی کلام، کلامِ اِلٰہی سے نظم اور ترتیب کی رُو سے اَحسن متصوّر نہیں، اور اس کی تبدیل وتحریف بھی غیرممکن ہے، نہ کسی نبی کی طرف سے اور نہ خداتعالیٰ کی کسی کتاب سے، کیونکہ یہ خلاف وعدہ ہے باری تعالیٰ کا، اور باری تعالیٰ وعدے کا خلاف ہرگز نہیں کرتا ہے۔
پس متحقق ہوا کہ یہ اِلہامات قرآن کی تحریف وتبدیل کرنے والے، حق سبحانہ کی جانب سے نہیں ہیں، بلکہ نفسانیت صاحبِ براہین یا اس کے شیطان قرین کی طرف سے ہیں، ایسے اِلحاد فی القرآن سے پناہِ خدا لا یزال!
سورۂ فصلت میں اِرشاد ہے: ’’اِنَّ الذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ‘‘ (فصلت:۴۰) یعنی جو لوگ اِستقامت سے برطرف ہوکر ہماری آیتوں میں طعن اور تحریف اور تأویل وغیرہ سے پیش آئے، وہ ہم سے پوشیدہ نہیں، یعنی ان کو اس اِلحاد کا بدلہ دیں گے، کیا پس جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا جو قیامت کے دن امن سے آئے، جو چاہو کرلو، یہ تہدیدِ شدید ہے، بے شک خدا تمہارے عملوں کو
(۱) واِنَّہٗ لَکٰتبٌ عزیزٌ ۔۔۔۔۔۔۔ صنیع ۔۔۔۔۔۔۔ بعدیم المثال ۔۔۔۔۔۔ لا یتطرق إلیہ الباطل من جھۃ من الجھات۔ وفی الھامش: (تَنْزیلٌ مِنْ حَکیمٍ حَمیدٍ) (تفسیر بیضاوی ج:۴ ص:۲۱، طبع مکتبہ حضرتۃ الشیخ سید موسیٰ شریف)۔
79
دیکھ رہا ہے، یعنی ان کی سزا دے گا۔ یہ بیضاوی ومدارک وغیرہما کی عبارت کا ترجمہ ہے۔(۱)
اور قرآن مجید کی سورۂ اَنعام میں اِرشاد ہے: ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَیٰ‘‘ (الانعام:۹۴) یعنی اور اس سے ظالم کون جو باندھے اللّٰہ پر جھوٹ، یہ کہے کہ مجھ کو وحی آئی، اور اس کو وحی کچھ نہیں آئی۔
اور سورۂ ہود میں یوں فرمان ہے، جس کا ترجمہ اور مراد یہ ہے کہ: کون بہت ظالم ہے خدا پر جھوٹا اِفترا کرنے والے سے، یعنی جس نے کسی اور کی بات کو اللّٰہ کی اُتاری بنادیا، یا اللّٰہ کی اُتاری کا اِنکار کیا، وہ لوگ رُوبرو آئیں گے اپنے رَبّ کے، یعنی قیامت کے دن رُوبرو کھڑے کئے جائیں گے، یا ان کے اعمال پیش کئے جائیں گے، اور کہیں گے گواہی دینے والے، یعنی فرشتوں اور نبیوں اور اعضاء سے بھی، جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے رَبّ پر سن لو پھٹکار ہے اللّٰہ کی بے انصاف لوگوں پر، یہ عظیم دہشت دینا ہے ان کے ظلم پر جو خدا پر جھوٹ باندھا۔ یہ ترجمہ ہے بیضاوی وغیرہ تفاسیر کی عبارتوں کا۔ اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں کہ: ’’خدا پر جھوٹ بولنا کئی طرح ہے، علم میں غلط نقل کرنی یا خواب بنالینا یا عقل سے حکم کرنا دِین کی بات میں، یعنی شریعت کے مخالف، یا دعویٰ کرنا کشف رکھتا ہوں، یا اللّٰہ کا مقرّب ہوں۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
مُلَّا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن اور حدیث کے مخالف کام کرنے والے لوگ بہت قسم کے ہیں، ایک قسم ان میں سے فریبی اور جھوٹے اور مکار ہیں، جن سے کوئی دعویٰ جن کے قید کرلینے کا کرتا ہے، یا مدعی محال حالت کا ہوتا ہے، جیسے جھوٹے مشائخ اور فقراء، پس یہ لوگ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ جیسے ایسے لوگ جھوٹ اور فریب سے بعض آئیں اور بعضے ان لوگوں سے مستحق قتل ہیں، جو فریب دکھاکر دعویٰ نبوّت کا کرتا ہے، یا شریعت کے بدلانے کے درپے ہوتا ہے اور مانند اس کے۔‘‘ یہاں تک ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔(۲)
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ براہین والے نے صفحہ:۵۲۰،۵۲۱، خزائن ص:۶۲۱،۶۲۲ میں اپنے اِلہام کا قصہ یوں لکھا ہے کہ:
’’۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں ایک عجیب اِلہام اُردو میں ہوا تھا، جس کی تقریب یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی جو کسی زمانے میں اس عاجز (مرزاقادیانی) کے ہم مکتب بھی تھے، جب نئے نئے مولوی ہوکر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اِختلافی مسئلے میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا، چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور
(۱) یمیلون عن الحق فی ادلتنا ۔۔۔۔۔۔ إذا مال عن الإستقامۃ، فحفر فی شق فاستعیر للإنحراف فی تأویل آیات القرآن عن جھۃ الصحۃ والإستقامۃ ۔۔۔۔۔۔ لا یخفون علینا، وعید لھم علی التحریف، أفمن یلقیٰ فی النار خیر أم من یأتی اٰمنًا یوم القیٰمۃ ۔۔۔۔۔۔ اعملوا ما شئتم، ھٰذا نھایۃ فی التھدید ومبالغۃ فی الوعید، إنہ بما تعملون بصیر، فیجازیکم علیہ۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۲۳۸، طبع بیروت)۔
(۲) وھٰؤُلاء الذین یفعلون ھٰذہ الأفعال الخارجۃ عن الکتاب والسُّنَّۃ انواع، نوع منھم اھل تلبیس وکذب وخداع، الذین یظھر احدھم طاعۃ الجن لہ أو یدعی الحال من أھل المحال کالمشائخ النصابین والفقراء الکذابین والطرقیۃ المکارین فھٰؤُلاء یستحقون العقوبۃ البلیغۃ التی تردعھم وامثالھم من الکذب والتلبیس وقد یکون فی ھٰؤُلاء من یستحق القتل۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۸۲،۱۸۴، مطبع مجتبائی)۔
80
مولوی صاحب کو مع ان کے والد کے مسجد میں پایا، پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت تقریر سن کر معلوم کرلیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابلِ اِعتراض ہو، اس لئے خاص اللّٰہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا، رات کو خداوند کریم نے اپنے اِلہام اور مخاطبت میں اسی ترکِ بحث کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا، اور وہ تجھے بہت برکت دے گا، یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے، پھر بعد اس کے عالمِ کشف میں وہ بادشاہ دِکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
اور یہ مولوی محمد حسین شاگرد مولوی نذیر حسین دہلوی کے ہیں، جو غیرمقلدوں کے رئیس اور اِبتدا میں مقلدین سے سخت مکابرہ سے پیش آکر ان کو مشرک جانتے تھے اور اَئمہ مجتہدین کی تقلید کو شرک وکفر مانتے تھے، چنانچہ اس بارے میں رسالے واِشتہار چھپواتے رہے، پھر جب علمائے مقلدین نے ان کے خیالات کی بواقعی تردید کی تو اس شدّتِ مجادلہ سے کسی قدر لوٹے اور جب ان کے اُستاذ مولوی نذیر حسین دہلویؒ بسبب ظاہر ہونے ان کی سخت مخالفت شرع کے واقعہ ۱۳۰۱ہجری مکہ معظمہ میں قید ہوئے تو اپنے اُستاذ کی نصرت کے واسطے یہ مولوی محمد حسین اہلِ حرمین محترمین کو ظالم مشہور کرنے لگے اور حکامِ وقت اس دیار کے پاس ان کا شکوہ شکایت کرنی شروع کردی، جیسا کہ رسالہ اِشاعۃالسنۃ نمبر:۹ جلد:۷ کے صفحہ:۶،۵،۲ وغیرہا سے ظاہر ہے۔ پس ان مولوی محمد حسین صاحب نے بھی گویا براہین کی تعریف کے شکریہ میں اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں ان کی اور ان کی براہین کی کمال تعریف کرنی شروع کرکے اَخیر میں یہ لکھ دیا ہے: ’’مؤلفِ براہین احمدیہ نے یہ منادی اکثر زمین پر دِی ہے کہ جس شخص کو اِسلام کی حقانیت میں شک ہو، وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت ہمارے اِلہامات وخوارق سے بچشمِ خود دیکھے، پھر کیا اس اِحسان کے بدلے مسلمانوں پر یہ حق نہیں ہے کہ فی کس نہ سہی فی گھر ایک ایک نسخہ کتاب اس کی ادنیٰ قیمت دے کر خرید کریں اور اس پر یہ شعر پڑھیں:
-
جمادی چند دام جاں خریدم
بحمد اللّٰہ! عجب ارزاں خریدم
انتہیٰ
حاشیہ میں ادنیٰ قیمت ۲۵روپے درج ہیں، جیسا کہ صفحہ:۳۴۸ نمبر:۱۱ جلد:۱۷ اِشاعۃالسنۃ ذی قعدہ وذی الحجہ ۱۳۰۱ھ اور محرم ۱۳۰۲ھ سے یہ عبارت منقول ہوئی ہے اور ان رسائل میں صاحبِ اشاعت السنہ نے براہین والے کے کلام کی تأویلاتِ فاسدہ سے بہت ہی تائید کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آیاتِ قرآنی جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا دُوسرے انبیاء علیہم السلام کے خطاب میں نازل ہوئی تھیں، تو ان کا نام قرآن تھا، اور جب انہیں بعینہٖ آیات سے اللّٰہ نے غیرانبیاء کو مثل صاحبِ براہین کے مخاطب فرمایا تو اس کا نام قرآن نہیں رکھا جاتا، اور غرض اس ہذیان سے صاحبِ براہین کا تحریفِ قرآن اور اِلحاد آیاتِ فرقان سے بچانا ہے، پھر صاف صاف اس قبیح مضمون کو اِشاعت السنۃ مذکورہ بالا کے صفحہ:۲۶۳، ۲۶۴، ۲۶۵، ۲۶۶ میں لکھا ہے،
81
جس کے قول کو فقیر راقم الحروف نقل کرکے قرآن وحدیث واِجماع کی سند سے تردید کرتا ہے، تاکہ قرآنِ مبین اور دِینِ متین کی تائید سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رہے،رَبَّنَا تَقَبَّلْ مَنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ!
’’اور ایک ہی کلام کو ایک ہی وقت میں مخاطب یا متکلم کے لحاظ سے قرآن اور غیرقرآن کہنا، اہلِ علم کے نزدیک مستبعد اور محلِ اِعتراض نہیں ہے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: اس پر تین اِعتراض وارِد ہیں:
پہلا یہ کہ مخاطب یا متکلم کا اِختلاف ایک ہی کلام میں ایک ہی وقت میں غیرمتصوّر ہے، اس لئے کہ پہلے متکلم نے جب کچھ کلام کیا تو صرف اس کے بولنے سے وہ وقت گزر گیا، پھر دُوسرے متکلم کا اسی کلام کو اسی وقت بولنا کیونکر متصوّر ہوا؟ اور ایسا ہی حال ہے باعتبار اِختلافِ مخاطب کے، جیسا کہ اہلِ علم پر ظاہر ہے۔
دُوسرا یہ کہ اِختلافِ متکلم یا مخاطب کا کلامِ واحد (وقتِ واحد) میں اگر مانا جائے تو ایک ہی کلام کا ایک ہی وقت میں قرآن اور غیرقرآن نام رکھنا غیرممکن ہے، اس لئے کہ اِثباتِ شے اور پھر نفی اس کی ایک ہی وقت میں، عقلاً ناجائز ہے۔
تیسرا یہ کہ قرآن مجید اَزل سے اَبد تک قرآن ہے، پس اس کو غیرقرآن کہنا شرعاً ناروا ہے، اس لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آیاتِ فرقانی کا نام قرآن رکھا ہے، جیسا کہ سورۂ زُمر میں اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی طرف اشارہ فرماکے قرآن عربی اس کا نام رکھا ہے،(۱) پس جس نے ان آیات بعینہا کو غیرقرآن کہا، بے شک قرآن کا مخالف ہوا۔
قولہ:۔۔۔ ’’کبھی ایک کلام جبکہ اس کا متکلم مثلاً خدائے تعالیٰ ٹھہرایا جائے، کلامِ رحمانی کہلاتا ہے، کبھی وہی کلام جبکہ اس کا متکلم شیطان یا فرعون ٹھہرایا جائے، شیطانی یا فرعونی کلام کہلاتا ہے، اس کی تمثیل میں ہم دو کلام قرآن سے پیش کرتے ہیں، قرآن میں ایک کلام اِبلیس سے منقول ہے: ’’انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین‘‘ اور ایک کلام فرعون سے: ’’انا ربکم الأعلی‘‘ ان دونوں کو اگر یوں خیال کریں کہ یہ اِبلیس وفرعون کی کہی ہوئی ہیں، خواہ کسی زبان میں انہوں نے کہی ہوں، تو یہ کلام شیطانی وفرعونی کہلاتے ہیں۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
اور اسی صفحے کے حاشیہ میں درج ہے: ’’انا ربکم الأعلی‘‘ جبکہ کلامِ فرعون ٹھہرایا جائے، خواہ وہ کسی زبان میں ہو، قرآن نہیں کہلاتا۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: متکلم کے اِختلاف سے کلام مختلف نہیں ہوتا، کیونکہ کلام اسی کا کہلاتا ہے، جس نے اوّل بولا ہو، دیکھو جو شخص: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘ اور ’’قُلْ ھُو اللہُ اَحَدٌ‘‘پڑھے گا، تو یہ نہ کہا جائے گا کہ یہ اس کا کلام ہے، بلکہ ہر مؤمن بھی کہے گا کہ یہ دونوں آیتیں باری تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور جو ’’إنَّما الأعمال بالنِّیَّات‘‘ کہے گا تو یہی کہا جائے گا کہ یہ سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی
(۱) قُراٰناً عَرَبِیّاً غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ (الزمر)۔
82
حدیث ہے، اور جو: ’’قفانبک من ذکری حبیب ومنزلھا‘‘ زبان پر لائے گا تو کہیں گے کہ یہ مصرع امرؤالقیس کے شعر کا ہے، جیسا کہ مُلَّا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں یہ لکھا ہے۔ پس قرآن مجید کی آیات کو غیرخدا کی طرف منسوب کرنا اور کلامِ شیطانی وفرعونی کہنا علم والے مؤمن کا کام نہیں، بلکہ سچا مؤمن اس کے مقابلے میں یوں کہے گا کہ خداپاک ہے، یہ سخت بہتان ہے، کیونکہ جو کچھ قرآن شریف میں ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ سے ’’وَ النَّاسِ‘‘ تک ہے، وہ حق تعالیٰ کا ہی کلام ہے، اور زمین وآسمان اور اَرواح کے پیدا ہونے سے پہلے سے لوحِ محفوظ میں لکھی گئی تھی جس کو جبریلِ امین نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اُتارا ہے، جیسا کہ خود قرآن مجید میں سورۂ بروج کی اَخیر آیت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’بلکہ وہ قرآن مجید ہے، لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا۔‘‘
تفسیر فتح العزیز میں لکھتے ہیں: بلکہ وہ قصہ قرآن قدیم کا ایسا ہے جو اس کے وقوع سے پہلے لوحِ محفوظ میں لکھا گیا ہے، جس پر شیطانوں اور جنوں اور آدمیوں کو دسترس نہیں ہے۔ اِمام بغویؒ نے تفسیر معالم میں اسناد کے ساتھ حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی ہے کہ: لوحِ محفوظ ایک تختی ہے سفید موتی سی، جس کی لمبائی آسمان وزمین کے درمیان کے برابر ہے، اور چوڑائی اس کی مشرق سے مغرب تک کی ہے، اور کنارے اس کے موتی اور یاقوت کے ہیں، اور دفترینے اس کے سرخ یاقوت کے ہیں، نور کے قلم سے اس میں قرآن لکھا ہے، اُوپر سے عرشِ مجید سے لٹکی ہے، اور نیچے سے فرشتے کی گود میں ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر فتح العزیز کا اور مدارک وجلالین وغیرہما میں بھی ایسا ہی ہے۔(۱) لیکن اِمام سیوطیؒ نے تفسیر اِتقان میں بہ سند طبرانی حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے تھوڑے سے تفات کے ساتھ، اور نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے: یا محمد! قرآن کے ساتھ اپنی زبان مت ہلا، تاکہ جلدی سے اسے یاد کرلے، اور تھے آنحضرت علیہ السلام کہ شروع کرتے تھے پڑھنا آیاتِ قرآن کا حضرت جبریل علیہ السلام کی فراغت سے پہلے، اس لئے کہ کچھ بھول نہ جائے۔ پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ مت ہلا اپنی زبان کو وحی کے پڑھنے میں، جب تک جبریل پڑھتا رہے، تاکہ تو جلدی سے اسے یاد کرلے اور کچھ فروگزاشت نہ ہوجائے، پھر اس جلدی سے روکنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ بے شک ہمارا ذِمہ ہے قرآن کا جمع کرنا تیرے سینے میں، اور اس کا یاد کرانا تیری زبان پر، اور مت جلدی کر قرآن کے پڑھنے میں، اس کی وحی کے ختم ہونے سے پہلے، پس جب ہم پڑھیں قرآن کو یعنی جبریل تجھ پر پڑھے تو اس کے پڑھنے کی متابعت کر، پھر ہمارے ذمہ ہے اس کا بیان کرنا، جب تجھ پر اس کے معنی میں کچھ مشکل پڑجائے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر مدارک کا،(۲) اور اکثر تفاسیر میں ایسا ہی ہے۔
(۱) وعن ابن عباس رضی ا اللہ عنھما، ھو من درۃ بیضاء، طولہ بین السماء والأرض، وعرضہ ما بین المشرق والمغرب، قلمہ نور، وکل شیء فیہ مسطور۔ مقاتل: ھو علٰی یمین العرش، وقیل: أعلاہ معقود بالعرش وأسفلہ فی حجر ملک کریم۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۶۲۶ طبع بیروت)۔
(۲) لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ وکان یأخذ فی القرائۃ قبل فراغ جبریل کراھۃ ان یتفلت منہ فقیل لہ لا تحرک لسانک بقراءۃ الوحی ما دام جبریل یقرء، لتعجل بہ، لتأخذہ علٰ عجلۃ، ولئلا یتفلت منک، ثم علل النھی عن العجلۃ بقولہ: إنّ علینا جمعہ، فی صدرک، وقرئانہ، وإثبات قرائتہ فی لسانک ۔۔۔۔۔ ولا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضیٰ إلیک وحیہ فإذا قرأنـٰہ، ای قرأہ علیک جبریل ۔۔۔۔۔۔۔ فاتبع قرئانہ، ثم إنّ علینا بیانہ، إذا اشکل علیک شیء من معانیہ۔ (مدارک ج:۳ ص:۵۷۲ طبع بیروت)۔
83
پھر پہلی آیت جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی قرآن مجید سے وہ بالاتفاق اِبتدا سورۂ علق کا ہے، ’’ما لم یعلم‘‘ تک، تفسیر فتح العزیز میں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک دن غسل کے واسطے غارِ حرا سے باہر تشریف لاکر پانی کے کنارے کھڑے ہوئے کہ جبریل امین علیہ السلام نے ہوا سے پکارا کہ یا محمد! پس آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اُوپر کو دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا، پس تین مرتبہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پکارا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دائیں بائیں دیکھ رہے تھے کہ ایک سورج کی طرح نورانی شخص آدمی کی شکل میں دیکھا جس کے سر پر نور کا تاج ہے اور سبز ریشمی پوشاک پہنی ہوئی ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا کہ: پڑھ! اور بعض روایتوں میں ہے کہ جبریل امین علیٰ نبینا وعلیہ السلام نے سبز دریائی کے قطعہ میں کچھ لکھا ہوا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دِیا اور کہا کہ: پڑھو! آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کو دیکھ کر فرمایا: مجھے حرفوں کی شناس نہیں اور اَن پڑھ ہوں! اَخیر حدیث تک یہ ترجمہ ہے عبارت تفسیر عزیزی کا۔
اور مُلَّا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر کے ملحقات میں لکھتے ہیں کہ شارح عقیدہ طحاویہ نے شیخ حافظ الدین نسفیؒ کی منار سے ذِکر کیا ہے کہ قرآن نام ہے نظم اور معنی دونوں کا، اور ایسا ہی دُوسرے اُصول والوں نے کہا ہے، اور اِمامِ اعظمؒ کی طرف جو منسوب کرتے ہیں کہ جس نے نماز میں قرآن کا ترجمہ فارسی پڑھا تو رَوا ہے، تو آپؒ کا اس سے رُجوع ثابت ہے، چنانچہ آپؒ نے فرمایا ہے کہ باوجود قدرت عربی کے غیرعربی رَوا نہیں ہے، اور یہ بھی آپؒ نے کہا ہے کہ جو شخص بغیر عربی کے قراء ت پڑھتا ہے، یا تو وہ دِیوانہ ہے، معالجہ کیا جائے، یا زِندیق ہے، قتل کیا جائے، اس لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے عربی میں کلام کیا ہے اور معجزہ ہونا قرآن کا نظم اور معنی دونوں سے حاصل ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا۔(۱)
پس قرآن وحدیث اور کتبِ عقائد اہلِ سنت سے متحقق ہوا کہ تمام عربی آیات جن کا نام قرآن ہے، وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہیں اور انہیں معروف کلمات سے لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی تھیں۔ حضرت اِمامِ اعظمؒ فقہ اکبر میں اور علامہ قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دُوسرے انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم السلام سے بطور اِخبار یا حکایت کے جو ذِکر کیا، اور فرعون وشیطان وغیرہما سے بھی جو بیان کیا ہے، بے شک یہ دونوں قسم سب کے سب اللّٰہ تعالیٰ کے کلامِ قدیم ہیں جو ان سے خبر دی گئی ہے، یعنی موافق اس کے جو کلمات معانی پر دلالت کرنے والی لوحِ محفوظ میں لکھے گئے ہیں، آسمان وزمین اور اَرواح کے پیدا کرنے سے پہلے کی، نہ یہ کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ وغیرہما انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم السلام سے اور فرعون وشیطان اور دُوسرے کفار سے سن کر اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے نقل کی ہے۔
پس اب کچھ فرق نہیں ہے درمیان خبر دینے حق تعالیٰ کے ان کے اخبار واحوال واسرار سے جیسا کہ سورۂ تبت یدا وآیت
(۱)ومنھا ما ذکرہ شارح عقیدۃ الطحاوی الشیخ حافظ الدین النسفی فی المنار ان القرآن اسم للنظم والمعنیٰ جمیعًا، قال غیرہ من اھل الأصول، وما ینسب إلٰی أبی حنیفۃ ان من قرأ بالفارسیۃ اجزأہ، فقد رجع عنہ، وقال: لا یجوز مع القدرۃ بغیر العربیۃ، وقال: لو قرأ بغیر العربیۃ فإما أن یکون مجنونًا فیداویٰ، أو زندیقًا فیقتل، لأن ا اللہ تکلم بھٰذہ اللغۃ والإعجاز حصل بنظمہ ومعناہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۸۵،۱۸۶)۔
84
قتال وغیرہما میں ہے، اور نہ درمیان ظاہر فرمانے باری تعالیٰ کے اپنی صفات وافعال وخلق مصنوعات میں جیسا کہ آیۃالکرسی، سورۂ اِخلاص وغیرہما میں ہے، اور نہ درمیان آیات آفاقیہ اور انفسیہ کے، کہ یہ سب کا سب باری تعالیٰ کا کلام ہے، اور اس کی صفت پاک، حاصل الکلام، کلام اللّٰہ شریف حادث نہیں، غیرمخلوق ہے، اور موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کا کلام اگرچہ حق تعالیٰ کے ساتھ ہو، اور ایسا ہی کلام دُوسرے انبیاء ومرسلین صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین وملائکہ مقربین کا مخلوق ہے جو ان کی پیدائش کے بعد حادث ہوا، اور قرآن حقیقتاً اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے، نہ مجازاً اور اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کی طرح قدیم ہے، مخلوق کے کلام کی طرح نہیں، کیونکہ ان کی ذات اور کلام دونوں حادث ہیں، اس لئے کہ صفت موصوف کے تابع ہوتی ہے، اور یوں ہی کہا جائے گا کہ نظم عبرانی جو توراۃ ہے اور نظم عربی جو قرآن ہے وہ اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لئے کہ ان کے کلمات وآیات کلامِ اِلٰہی کی دلیلیں اور علامات ہیں، اور اس لئے کہ ان کی نظم کا اِبتدا اللّٰہ تعالیٰ سے ہی ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی حدیث حدیثوں سے پڑھوگے تو یہی کہوگے کہ یہ جو میں نے پڑھا ہے اور ذِکر کیا ہے میرا کلام نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلام ہے، کیونکہ اِبتدا اس کلام کے نظم کا رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی سے ہوا تھا، اور اسی قبیل سے ہے جو خود اللّٰہ تعالیٰ نے آیت: ’’أَفَتَطْمَعُوْنَ أَن یُؤْمِنُوْا لَکُمْ ‘‘ (البقرۃ:۷۵) اور آیت: ’’وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘ (التوبۃ:۶) میں آیت قرآن مجید کو کلام اللّٰہ فرمایا ہے، یہ ترجمہ ہے عبارت شرح فقہ اکبر کا، اور مشکوٰۃ میں سنن دارمی وجامع ترمذی سے بروایت نعمان بن بشیر رضی اللّٰہ عنہ آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ایک کتاب لکھوائی، جس میں سے دو آیتیں خاتمہ سورۂ بقرہ کی نازل فرمائیں۔ اور سنن دارمی سے بروایت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ آیا ہے کہ سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی پیدائش سے ایک ہزار برس پہلے سورۂ طٰہٰ ویٰسٓ کی تلاوت فرمائی تھی، یہ ترجمہ ہے مشکوٰۃ کی حدیثوں کا۔
اب قرآن مجید اور حدیث اور عقائد اہلِ سنت کی کتابوں سے بخوبی ظاہر ہوگیا کہ قرآن مجید کی ساری آیتیں اللّٰہ تعالیٰ کا ہی کلام ہے، کسی مخلوق کے کلام کو اس میں دخل نہیں ہے، اور جو کچھ اس میں نبیوں کے قصے اور صدیقوں کی باتیں اور کافروں کے حالات اور بدبختوں کے مقالات ہیں، وہ سب کے سب اللّٰہ تعالیٰ ہی کا کلام ہے جو اس پاک ذات نے ان لوگوں کے پیدا ہونے سے پہلے بموجب اپنے علم ازلی کے ان سے خبر دی ہے۔
پس صاحب رسالہ اِشاعۃالسنہ کا یہ قول کہ آیت: ’’انا خیر منہ‘‘ کلامِ شیطانی ہے، اور آیت: ’’انا ربکم الأعلی‘‘ کلامِ فرعونی ہے، اور قرآن نہیں کہلاتا، جیسا کہ اِشاعۃالسنہ سے اُوپر منقول ہوچکا ہے، قرآن مجید کی صدہا آیات کا اِنکار نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جمیع قصص قرآنی اور حکایاتِ فرقانی کو کلامِ مخلوق بنادینا نہیں تو اور کیا ہے؟ اعاذنا اللہ سبحانہ وجمیع المسلمین عن ذالک!
مُلَّا علی قاریؒ، اِمامِ اعظمؒ کی فقہ اکبر کے اس قول کے نیچے کہ کلام اللّٰہ شریف غیرمخلوق ہے، لکھتے ہیں کہ: کلام اللّٰہ بالذات قدیم ہے۔ اِمام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن مجید کو سن کر خیال کیا کہ یہ آدمی کا کلام ہے، تو ضرور وہ کافر ہوا، بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی ہے اور اس کو عذابِ دوزخ سے ڈرایا ہے۔ یہ ترجمہ عبارت شرح فقہ اکبر کا۔
85
اور یہ بھی اسی کتاب میں ہے:
’’اگر کوئی اِعتراض کرے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’قرآن رسولِ کریم کی بات ہے‘‘ اس نے دلالت کی کہ قرآن رسولِ کریم کا کلام، جبریل یا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا؟‘‘
تو اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ رسول بتا رہا ہے کہ اس نے قرآن کو اپنے بھیجنے والے سے پہنچایا ہے، اس لئے یوں نہیں فرمایا کہ یہ کلام فرشتہ یا نبی کا ہے، پس اس سے ثابت ہوا کہ رسول نے اپنے بھیجنے والے یعنی حق تعالیٰ سے پہنچایا، نہ یہ کہ اس نے اپنی ذات سے یہ کلام پیدا کیا ہے۔
دُوسرا جواب یہ ہے کہ مراد رسول سے ایک آیت میں جبریل ہے، اور دُوسری آیت میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں، پس دونوں کی طرف سے اس کلام کی نسبت کرنے سے ظاہر ہوگیا کہ یہ نسبت صرف پہنچانے کے واسطے ہے، کیونکہ ایک شخص نے جس کلام کو پیدا کیا ہو تو منع ہے کہ دُوسرا اس کو پیدا کرسکے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ بے شک حق تعالیٰ نے قرآن کو آدمی کا کلام بنانے والے کی تکفیر کی ہے۔
پس جس نے قرآن کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلام بنایا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ازخود یہ کلام بنایا ہے تو وہ کافر ہوا۔ اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ قرآن کو آدمی کا، یا جن کا، یا فرشتے کا کلام کہے، (یعنی ان تینوں صورتوں میں سزا اس کی دوزخ ہے)، اس لئے کہ کلام اس کا ہوتا ہے جس نے اوّل کہا ہو، نہ اس کا جس نے پیغام پہنچایا ہو۔ یہ ترجمہ ہے عبارت فقہ اکبر کا، کیا خوش کہا ہے کہنے والے نے کہ:
-
اگرچہ قرآن از لب پیغمبر است
ہر کہ گوید حق نہ گفتہ او کافر است
ان معتبر سندوں سے اگر صاحب اِشاعۃالسنہ کی تسلی نہ ہو کہ یہ علماء مقلدین کے حوالے ہیں، شاید ان کو پسند نہ ہوں تو اوّلاً اس کا جواب یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر سے اسی اِشاعۃالسنہ کے صفحہ:۲۹۲، ۲۹۳، ۲۹۴ میں بھی سند لی ہے، اور نیز صفحہ:۳۱۴، اِشاعۃالسنہ میں بھی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ کی کمالِ تعریف کرکے ان سے سند لی ہے۔
اور ثانیاً یہ جواب ہے کہ علماء غیرمقلدین بھی اسی اِعتقاد پر ہیں جو اُوپر مذکور ہوا ہے، جیسا کہ سنداً ان کی بھی بعض کتابوں سے منقول ہوتا ہے، تاکہ ظاہر ہو کہ اِشاعۃالسنہ والے نے اپنی قوم سے بھی سخت مخالفت کی ہے، ’’نہج مقبول من شرائع الرسول‘‘ جو تالیف ہے بڑے بیٹے مولوی صدیق حسن بھوپالی کی، اور خود مولوی مسطور نے اس کی تصحیح کرکے بھوپال میں چھپوائی ہے، اور یہ باپ بیٹا مشاہیر علمائے غیرمقلدین سے ہیں، اس میں لکھا ہے کہ قرآن کریم اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے، اسی سے اِبتدا ہوئی اور اسی کی طرف رُجوع ہوگا، اور قرآن کے لفظ اور معنی دونوں اللّٰہ تعالیٰ سے ہیں، جبریل امین صرف ناقل ہیں، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقط پہنچانے والے ہیں، اور جتنا لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور پڑھیں گے، وہ تمام اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کلام فرمایا،
86
اور بے شک حضرت جبریل نے ان سے سنی اور بالیقین آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اُتاری جو کوئی کہے کہ وہ کلام فرشتے کا، یا آدمی کا ہے، تو اس کا مکان دوزخ ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت فارسی نہج مقبول کا، اور یہ عبارت اس کے صفحہ:۵ میں ہے۔
قولہ:۔۔۔ ’’یعنی اِشاعۃالسنہ میں لکھا ہے: اور اگر بعینہٖ ان دونوں کی نسبت یہ خیال کریں کہ بہ ضمن حکایت اِبلیس وفرعون یہ کلام خدا میں پائی گئی ہیں تو یہ کلامِ رحمانی اور جزوِ قرآن کہلاتے ہیں۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: آیت: ’’انا خیر منہ‘‘ اور آیت: ’’انا ربکم الاعلی‘‘ کو اللّٰہ تعالیٰ کے کلام اور جزوِ قرآن بنانے میں کسی کے خیال کرنے کی کیا حاجت؟ یہ دونوں آیتیں فی الحقیقت اور دراصل حق تعالیٰ کا کلام ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا ہے، اور شیطان وفرعون کے پیدا ہونے سے ہزارہا برس پہلے حق تعالیٰ نے ان کو لوحِ محفوظ میں لکھوایا، جیسا کہ قرآن وحدیث وعقائد اہلِ سنت سے اُوپر مبرہن ہوچکا ہے۔
پس اس کلامِ عربی معجز نظام کو شیطان وفرعون کا کلام بنانا اور قرآن میں ان سے نقل کا اِعتبار وخیال کرنا محض ہذیان اور بہتان ہے، خدائے سبحانہ وتعالیٰ جمیع اہلِ ایمان کو اس اِعتقاد وخیال سے بچائے اور عاقبت بخیر فرمائے۔ واضح رہے یہ کہ یہ اقوال صاحبِ اِشاعۃالسنہ کے جن کا مبنائے اِختلاف متکلم پر ہے، صاحبِ براہین احمدیہ کی تائید کی تمہید میں تھے، جس میں صاحبِ اِشاعۃالسنہ نے اس کی محبت میں اپنا اِیمان قربان کردیا، جیسا کہ شرعاً متحقق ہوچکا ہے، اب فقیر کاتب الحروف اس کے وہ اقوال جو اَصل تائید صاحبِ براہین میں ہیں، جن کا مدار اِختلافِ مخاطب پر ہے، نقل کرکے ادلّہ شرعیہ سے ان کی تردید لکھتا ہے، و اللہ ھو المعین!
قولہ:۔۔۔ ’’ایسا ہی اختلاف مخاطب کے سبب اختلاف کلام کو سمجھنا چاہئے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: ایک نقص اس پر اُوپر لکھا گیا ہے، دوم علمائے بدیع ومعانی وغیرہم نے تصریح کی ہے کہ کلام یا خبر ہے یا اِنشا، اور ان دونوں کے معنی میں کسی نے اِختلاف مخاطب کا کچھ بھی اِعتبار نہیں کیا، نہ معلوم کہ اس نئے مولوی نے یہ اقسام کلام کہاں سے نکالی ہیں۔
قولہ:۔۔۔ ’’جو کلام خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے خطاب میں فرمایا ہے، وہ ایک کتابِ معروف میں درج ہوکر مسلمانوں میں پڑھا جاتا ہے، وہ قرآن کہلاتا ہے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: خطاب کلام میں بصیغۂ حاضر ہوتا ہے، تلخیص المفتاح مطول کے متن میں لکھا ہے کہ تکلم سے خطاب کی طرف آیت: ’’وَمَالِیَ لَا اَعْبُدُ الَّذِیْ‘‘ (یٰسٓ:۲۲) میں، اور خطاب سے غیبت کی طرف آیت: ’’حتَیٰ اِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ‘‘ (یونس:۲۲) میں، اور غیبت سے خطاب کی طرف آیت: ’’مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ. إِیَّاکَ نَعْبُدُ‘‘ میں اِلتفات ہے۔ یہ ترجمہ ہے اس عبارتِ عربی کا جس سے ثابت ہوا کہ ’’خطاب‘‘ مخاطب کرکے بات کرنے کا نام ہے۔(۱)
(۱)مثال الإلتفات من التکلم إلٰی خطاب: وما لی لا اعبد الذی الآیۃ، ومثال الإلتفات من الخطاب إلی الغیبۃ: حتّٰی إذا کنتم فی الفلک الآیۃ ومثال الإلتفات من الغیبۃ إلی الخطاب: مٰلک یوم الدین، إیَّاک نعبد۔ (تلخیص المفتاح ص:۱۸، أحوال المسند إلیہ، طبع ایچ ایم سعید)۔
87
پس معلوم رہے کہ یہ تعریف قرآن مجید کی جو صاحبِ اِشاعۃالسنہ نے بیان کی ہے، اس سے ہزارہا آیات قرآن کی، قرآن ہونے سے خارج ہوگئیں، اس لئے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تمام آیات سے مخاطب نہیں ہیں، یعنی سارے قرآن مجید میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خطاب نہیں کیا گیا، بلکہ وہ آیتیں جن میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خطاب ہوا ہے مثل: ’’اور علم دیا آپ کو اس کا جو آپ کو معلوم نہ تھا‘‘، اور: ’’کہہ دے (یا محمد! صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اگر تم خدا سے محبت کرنی چاہتے ہو تو میری پیروی کرو‘‘، اور: ’’بے شک ہم نے تجھے فتح ظاہر کردی تاکہ خدا آپ کی اگلی پچھلی تقصیریں معاف کرے‘‘، اور: ’’بے شک ہم نے بخشا آپ کو کوثر!‘‘ یہ ترجمہ ہے آیاتِ خطاب کا، اور ایسی آیاتِ خطاب تھوڑا سا حصہ ہیں قرآن مجید کا، اور نیز غیرآنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قرآن شریف کی بہت سی آیات میں مخاطب ہیں، جیسا کہ بنی اِسرائیل اور اس اُمتِ مرحومہ کے مؤمن اور کفار اور جن وغیرہم، اور نیز صدہا آیاتِ قرآنی ایسی ہیں جن میں کسی کو خطاب نہیں کیا گیا، پس اس تفسیر کی رُو سے صدہا آیات قرآن مجید ہونے سے خارج ہوگئیں۔ مرزاقادیانی کے اس مؤید پر سخت افسوس ہے! جس نے تقاضائے محبت اور ان کی نکمّی دوستی میں ہزارہا آیاتِ قرآنی کو کلام اللّٰہ شریف سے نکال دیا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہی اس کا منتقم کافی ہے!
سبحان اللّٰہ! عوام اہلِ اسلام ایسے لوگوں کو علمائے دِین میں سے جانتے ہیں، اور وہ اپنے رسالے کا نام ’’اِشاعۃالسنہ‘‘ مشہور کرکے اپنے آپ کو اکابر مصنّفین سے اور صاحبِ براہین احمدیہ کو کاملین مکملین میں سے مانتے ہیں، اور فی الاصل یہ دونوں صاحب سارے غیرمقلدین کی طرح دُنیا کی سخت محبت میں گرفتار ہیں اور مالِ حرام وحلال کے جمع کرنے کی کوشش میں سرشار ہیں، چنانچہ اپنے رسالوں کے حقِ تصنیف بیچ کر بہت سے روپے جمع کرلیتے ہیں اور خود رسالہ اِشاعۃالسنہ جو سال تمام میں چوبیس جزو ہوتا ہے، ایک یا دو روپیہ اس کی قیمت میں عمدہ منفعت ہے، اور صاحبِ اِشاعۃالسنہ نوابوں سے تیس روپیہ سالانہ، اور دُوسرے غنیوں سے پندرہ روپیہ، اور متوسط گزارہ والوں سے سات روپیہ، اور کم وسعت والوں سے تین روپے بارہ آنے سالانہ لیتے ہیں۔
اور براہین احمدیہ جو تینتیس جز کی کتاب ہے، بازاری قیمت دو یا تین روپے رکھتی ہے، مرزاقادیانی نے ادنیٰ قیمت اس کی پچّیس روپے، اور اعلیٰ قیمت ایک سو روپے تک مقرّر کی ہے، جو اس کی کتاب خریدے، خواہ وہ رافضی ہو یا بت پرست ہی ہو، ان کی بہت مبالغہ اور غلو سے تعریف کرتا ہے، اور جو کوئی اس کی کتاب نہ خریدے، اگرچہ نواب مسلمان ہی ہو، اس کی پرلے درجے کی توہین کرکے قارون سے اس کو تشبیہ دیتا اور دُنیاپرستوں سے بنادیتا ہے۔ جیسا کہ اس کی کتاب کے پہلے اور دُوسرے اور چوتھے حصے کے اِبتدائی اوراق ملاحظہ کرنے سے یہ حال معلوم ہوجاتا ہے، اور نیز جب بہت سے روپے آنے کا اس کو اِلہام ہوتا ہے تو کمال ہی خوش حال ہوتا ہے، اور جب معلوم ہو کہ وہ تھوڑا رسا روپیہ ہے تو سخت غم کا پامال ہوتا ہے، جیسا کہ براہین کے صفحہ:۵۲۲ سے ۵۲۴، خزائن ص:۶۲۵،۶۲۶ تک کے مطالعہ کرنے سے ظاہر ہے۔
پس یہ سارا مدار دُنیا کی سخت محبت اور روپیہ جمع کرنے پر ہے، جس کو دانش مند بخوبی جانتے ہیں، اور پورا علم حق تعالیٰ کو ہے۔
الحاصل! قرآن مجید کی جامع مانع تعریف وہ ہے جو علمائے اسلام کی کتابوں میں درج ہے، چنانچہ حضرت اِمامِ اعظمؒ کی فقہ
88
اکبر اور مُلَّا علی قاریؒ کی شرح میں لکھا ہے کہ قرآن مجید آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر تیئس برس کی مدّت میں آیت آیت اُتارا گیا ہے اور مصحفوں میں لکھا ہوا ہے، یعنی جو دفتین میں مکتوب ہے وہ سب کلام اللّٰہ ہے۔ پر دُوسری جگہ فقہ اکبر اور اس کی شرح میں لکھا ہے کہ: قرآن مجید مصحفوں میں لکھا ہوا اور دِلوں میں یاد اور زبان پر پڑھا گیا اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بالتدریج اُتارا گیا ہے، بواسطہ حروف، مفردات ومرکبات مختلف حالتوں میں۔ یہ ترجمہ ہے عبارت عربی کا۔(۱)
اب دانش مند لوگ اس نہایت عجیب وغریب آدمی کو دیکھیں جو تنزیل اور خطاب میں امتیاز نہیں رکھتا اور قرآن مجید کی آیات کو فرعون وشیطان کا کلام بنادیتا ہے، اور اس مایۂ علمی پر اس کو یہ اِدّعا ہے کہ مجتہدینِ دِین غلطی پر تھے اور میں دِینِ متین کی تائید کر رہا ہوں۔ پس یقینا یہ رعونت اور جہلِ مرکب کا شعبہ ہے!
پھر اِشاعۃالسنہ میں لکھتے ہیں:
قولہ:۔۔۔ ’’وہی کلام (یعنی جس کا نام قرآن ہے) اگر کسی غیرنبی کے خطاب میں اور پہلے توراۃ، اِنجیل وغیرہ میں، یا کسی ولی کے اِلہام میں خدا نے فرمایا ہے تو وہ قرآن نہیں کہلاتا، گو حقیقت میں وہ بعینہٖ وہی کلام ہے جو قرآن میں پایا جاتا ہے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: اس عبارت میں ہرچند بہت سی غلطیاں ہیں، مگر جن کا بیان یہاں پر ضروری ہے وہ یہ ہیں:
اُوپر لکھا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات کو قرآن بنانے میں خطاب کو کوئی دخل نہیں، قرآن وہ ہے جو سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اُتارا گیا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف کلامِ اِلٰہی سے وحی ہوا، اور قرآن اس اُترنے سے پہلے بھی قرآن تھا، اور اس سے پیچھے بھی قیامت تک قرآن ہی کہلاتا ہے، اور کسی ولی پر کوئی آیت قرآن کی اِلہام ہوجائے تو وہ قرآن سے خارج نہیں ہوتی ہے، بلکہ قرآن مجید ازل سے ابد تک قرآن ہی ہے، معنی اس کے کلام نفسی قدیم ہے اور اس کی نظم بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، اور بے شک خدائے پاک نے اس کا نام ’’قرآنِ حکیم‘‘ رکھا ہے، پس غیرممکن ہے کہ قرآن غیرقرآن بن جائے اور عقائد اہلِ سنت میں مقرّر ہوچکا ہے کہ حق سبحانہ کی صفات پر بھی تغیر نہیں آتا ہے، جیسا کہ اس کی ذات پر بدلنا نہیں ہے، اور خود غیرمقلدین کی نہج مقبول میں ہے: وبر ذات وصفاتِ الٰہی تغیر نمی رود۔ صفحہ:۱۰، سطر:۱۶ میں دیکھو۔ پر تعجب یہ ہے کہ خود صاحبِ براہین جس جس آیتِ قرآن کی اپنی طرف اِلہام ہونے کا مدعی ہے، ان کا آیاتِ قرآنی ہی نام رکھتا ہے، جیسا کہ اُوپر براہین کے صفحہ:۴۸۵، ۴۹۸، خزائن ص:۵۷۷،۵۹۲ سے منقول ہوچکا ہے، اور یہ صاحبِ اِشاعۃالسنہ اس کی تائید میں قرآن کو غیرقرآن اور بعض آیاتِ قرآنی، کلماتِ فرعونی وشیطانی بنا رہا ہے، خدا جانے یہ شخص اگر قرآن کی بے ادبی میں غضبِ اِلٰہی سے پروا نہیں رکھتا تو اتنا بھی نہیں جانتا کہ خلاف مرضی قائل کے اس کے قول کی توجیہ کر رہا ہے، اِلٰہی ایسی نادانی سے پناہ دے! ہمارے اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر!
پھر اِشاعۃالسنہ کے صفحہ:۳۰۴ میں جو لکھا ہے کہ:
(۱)والقرآن فی المصاحف مکتوب ای بایدینا بواسطۃ نقوش الحروف واشکال الکلمات وفی القلوب محفوظ وعلی الألسن مقروئٌ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۹، مطبع مجتبائی دہلی)۔
89
قولہ:۔۔۔ ’’شیطان بجز برائی گمراہی کے اور کچھ اِلقا نہیں کرتا ہے اور ان اِلہامات میں سراسر ہدایت تسلیم کی گئی ہے، گمراہی کی کوئی بات ان میں مانی نہیں گئی، پھر یہ اِلقائے شیطانی کیونکر ہوسکتا ہے؟ ۔۔۔الخ۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ: اُوپر متحقق ہوچکا ہے کہ مرزاقادیانی نے براہین کے اِلہامات میں حق تعالیٰ پر اِفترا کیا ہے اور قرآن مجید کی آیات میں لفظی، معنوی تحریف کی ہے، اور اپنی خودستائی یہاں تک بیان کی ہے کہ انبیاء سے برابری کردی ہے، تو یہ سب بُرائیوں سے بڑھ کر بُرائی اور سخت بے حیائی ہے، جس کو دِیدۂ حق بیں اور دِل حقیقت گزیں عطا نہ ہو تو وہ ان باتوں کو، کب دیکھتا ہے؟ اور کیوں پروا کرے ان باتوں کی، جو خود سوادِاعظم سے نکل جائے اور صاحبِ براہین احمدیہ اس کی کمال مدح کرے؟ یہاں تک کہ بادّعائے اِلہامِ رَبّ العالمین اس کو کاملین مکملین میں داخل کردے اور غیرمقلدین وغیرہم کو اس کے کمال حال ومآل پر آگاہی بخشے، تو یہ صاحبِ اِشاعۃالسنہ اس کے اقوالِ باطلہ کو نہایت اہانت قرآن کریم سے کیوں نہ تائید کرے، خدا ہی اپنے دِین کا حافظ ہو!
رہا یہ کہ اِشاعۃالسنہ کے صفحہ:۲۵۹ میں تحریر ہے عربی فقرہ: إنَّا أنزلناہ قریبًا من القادیان۔
قولہ:۔۔۔ ’’وبالحق أنزلناہ وبالحق نزل‘‘ اس میں کسی کو لفظ نزول سے نزولِ قرآن یا وحیٔ رِسالت کا شبہ گزرے تو اس کو یوں دفع کرسکتا ہے کہ یہ لفظ (نزول) وحیٔ رِسالت یا قرآن سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ بخشش وعطا کے معنوں میں بھی آیا ہے، چنانچہ آیت زمر میں فرمایا ہے: ’’خدا نے تمہارے لئے آٹھ جوڑی مواشی اُتاری، یعنی عطا فرمائی ہیں، پس ایسا ہی عطاء اِلہام معارف صاحبِ قادیان کے نزول سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ یہ تأویل کئی وجہ سے باطل ہے، پہلی وجہ یہ کہ خود صاحبِ براہین نے اس اِلہام کے بیان میں لفظ نزول کا اُتارنے سے تینوں جگہ میں ترجمہ کیا ہے، اور صاحبِ اِشاعۃالسنہ نے اسی صفحہ:۲۵۹ کی آٹھویں سطر میں اس کو نقل کیا ہے، تو اَب برخلاف مراد قائل اس کے قول کی تأویل کرنی سراسر بے جا ہے۔
دُوسری وجہ قادیان کے قریب انزال معارف واِلہام کو جب آیت: ’’وبالحق انزلناہ وبالحق نزل‘‘ سے جو صرف قرآن مجید کے اُتارنے اور اُترنے کے بیان میں ہے، ملاکر لکھا ہے تو یہ طرزِ کلام اور مقتضائے مقام اس تأویل کو ہزار زبان باطل کر رہا ہے۔
تیسری وجہ آیت: ’’وانزل لکم من الانعام‘‘ میں لفظ انزال بھی اکثر مفسرین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں یعنی اُتارنے میں مستعمل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے ساتھ بہشتوں سے یہ مواشی اُتارے تھے، جیسا کہ تفسیر مدارک(۱) وتفسیر کبیر ونیشاپوری وخازن وحسینی ولباب وغیرہا میں درج ہے، اور نیز انہیں تفاسیر میں ہے کہ مواشی کی زندگی نباتات سے ہے اور نباتات کا قوام پانی سے ہے اور پانی آسمان سے اُتارا جاتا ہے، پس گویا مواشی بھی آسمان سے اُتارے گئے۔(۲) علاوہ مذکورہ بالا تفاسیر کے تفسیر ابوسعود وبیضاوی میں بھی ایسا لکھا ہے۔ پس ان دونوں وجہوں میں انزال کے معنی عطا کے نہ ہوئے اور جمہور مفسرین
(۱)ای جعل عن الحسن: او خلقھا فی الجنۃ مع آدم علیہ السلام ثم انزلھا۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۱۷۰، طبع بیروت)۔
(۲)او: لأنھا لا تعیش إلَّا بالنبات، والنبات لا یقوم إلَّا بالماء، وقد انزل الماء، فکأنہ أنزلھا۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۱۷۰، طبع بیروت)۔
90
نے آیاتِ شریفہ کے معنی یوں کئے ہیں کہ خدا نے تمہارے لئے مواشی پیدا کئے تو یہ آیت مثل آیت سورۃالنمل اور سورۂ یٰسٓ کے ہوئی جن میں مواشی کے پیدا کرنے کا ذِکر ہے، تو ان معنوں کی رُو سے بھی اِنزال کو عطا پر حمل کرنا، ناروا ٹھہرا، اور یہ جو کسی مفسر نے اس آیت میں مواشی کے اُتارنے کو غیر ظاہرالمراد خیال کرکے عطا کے معنی بھی لیں تو اس سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ قرآن مجید کے اُتارنے اور اُترنے کو عطا کے ساتھ تفسیر کیا جائے، کیونکہ وقت متعذر ہونے حقیقت کے مجاز کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے، پس: ’’وبالحق انزلناہ‘‘ کو اِنزالِ اَنعام پر قیاس کرنا، قیاس مع الفارق ہے۔
الغرض! صاحبِ اِشاعۃالسنہ، صاحبِ براہین کی تائید نہیں کر رہا، بلکہ اس کی ضلال واضلال کو بڑھاکر درپے اس کی توہین کے ہے، برسولاں بلاغ باشد وبس! اور وہ
قولہ:۔۔۔ جو صاحبِ اِشاعۃالسنہ نے: ’’یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ کی تأویل صفحہ:۲۸۰ میں لکھا ہے، صاحبِ براہین کو رُوحانی مناسبت کے سبب مریم سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جیسے حضرت مریم علیہاالسلام بلاشوہر حاملہ ہوئی ہیں، ایسے ہی مؤلفِ براہین بلاترتیب وصحبت کسی پیروفقیر، ولی ومرشد کے رُبوبیتِ غیبی سے تربیت پاکر موردِ اِلہاماتِ غیبیہ وعلومِ لدنیہ ہوا ہے، اس تشبیہ کی ایک ادنیٰ مثال نظامی کا یہ شعر ہے:
-
ضمیرم نہ زن بلکہ آتش زنست
کہ مریم صفت بکر وآبستن ست
انتہیٰ بلفظہ، بقدر الحاجۃ!
فقیر کہتا ہے کہ: یہ تأویل باطل ہے کہ ارکان تشبیہ چار ہیں: مشبہ، مشبہ بہ، وجہ شبہ، حرف تشبیہ، لفظی ہو یا تقریری، جیسا کہ مطول وغیرہ میں ہے۔ اب ظاہر ہے کہ فقرہ: ’’یا مریم اسکن ۔۔۔إلخ‘‘ میں مشبہ کا تو ذِکر ہے نہیں، تشبیہ کیونکر پائی گئی؟ بلکہ صاحبِ براہین کا اِدّعا ہے کہ اس کو یا آدم، یا عیسیٰ، یا مریم، وغیرہم اسمائے انبیاء سے خطاب ہو رہے ہیں، پس صریح محال ہے کہ ایک ہی شخص باپ، بیٹا، بھائی سب کچھ بن جائے، اور یہ ممکن ہی نہیں کہ جس کو فیضانِ اِلٰہی ہو، وہ قرآن میں تحریف کرے اور انبیاء سے برابری کا دعویٰ کرے اور وغیرہ اُمور سخت مخالف شرع عمل میں لائے، پس یقینا صاحبِ براہین حدودِ شرعیہ سے نکل کر طغیان اور عصیان کے پرلے درجے تک پہنچا ہے۔
یہاں تک پہلی قسم کے اِلہامات مع جواب تأویلات صاحبِ اِشاعۃالسنہ کے ذِکر سے فراغت حاصل ہوئی ہے۔
اب دُوسری قسم کے اِلہامات کا یعنی جن میں صاحبِ براہین نے انبیاء پر اپنی فضیلت جتائی ہے، بطور نمونہ ذِکر کیا جاتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ براہین کے صفحہ:۲۴۰، خزائن ص:۲۶۶ میں عربی اِلہام حمد کا دعویٰ کرکے اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے کہ: ’’خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
91
فقیر کان اللّٰہ لہ کہتا ہے کہ: ’’حمد‘‘ اِحسان کے بعد ہوا کرتی ہے، جیسا کہ تفسیر کبیر ونیشاپوری وفتح العزیز وغیرہا میں درج ہے،(۱) اور مجمع البحار میں حدیث لکھی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حمد شکر کا سرّ ہے، اس لئے کہ اس میں نعمت کا اِظہار ہے، اور عام تر ہے، پس حمد میں شکر اور زیادتی ہے، انتہیٰ۔
اور ردالمحتار میں ہے کہ: عرفاً حمد وہ فعل ہے جو منعم کے انعام دینے کی تعظیم سے خبردار کرے، ۔۔۔الیٰ قولہ۔۔۔ اور حمد جہاں مطلق ہو تو عرف ہی مراد ہوتی ہے۔ سیّدشریف نے حواشی مطالع میں یہ لکھا ہے۔ یہ ترجمہ ہے عبارت ردالمحتار کا۔(۲)
پس محال ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کی حمد کرے، اس لئے کہ منعمِ حقیقی تو حق تعالیٰ ہی ہے، اور باوصف اس کے قرآن اور صحیح احادیث میں کہیں بھی صراحۃً نہیں آیا کہ حق تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کسی اور نبی کی انبیاء میں سے حمد کر رہا ہو، بلکہ حق تعالیٰ نے سب خواص وعوام کو اِرشاد کیا ہے کہ تم سب کہو: ’’اَلْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ پس کیونکر متصوّر ہو کہ باری تعالیٰ، مرزاقادیانی کی عرش سے حمد کر رہا ہے؟ یعنی اس کو سب اپنے مقبول بندوں پر، جن میں انبیاء بھی داخل ہیں، فضیلت دے رہا ہے۔ خدا جانے صاحبِ براہین نے رَبّ العالمین پر کونسا اِنعام کیا ہے جس کے بدلے وہ سب کے محمود کی حمد کا مستحق ٹھہرگیا ہے۔۔۔؟ یہ نرا بہتانِ عظیم، نہایت تکبر اور حمق ورعونت اور جھوٹ وفریب سے پیدا ہوا ہے، علاوہ ازیں اس فقرۂ اِلہامیہ عربیہ کی رکاکت لفظی علماء اسلام سے مخفی نہیں ہے، اور قرآن مجید میں جو لفظ حمید کا باری تعالیٰ کی صفت میں واقع ہوا ہے، تو وہ لفظ غنی وعزیز وغیرہما سے نزدیک کیا گیا ہے، تاکہ دلالت کرے کہ حق تعالیٰ حمد کیا گیا ہے، نہ کہ حمد کرنے والا، جیسا کہ مشہور تفاسیر اور ترجموں میں درج ہے۔ اور اگر فرض کریں کہ حمید بمعنی حامد ہے تو وہ سبحانہ اپنی ذات وصفات کا حمد کرنے والا ہے۔ مجمع البحار میں نہایہ سے لکھا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جو حمید ہے تو وہ ہر حال محمود ہے، انتہیٰ۔
اور قرآن میں جو حق تعالیٰ کا شاکر وشکور ہونا مذکور ہے، تو اس سے بھی یہی مراد ہے کہ باری تعالیٰ تھوڑے عمل پر بہت ثواب عطا فرماتا ہے، جیسا کہ اکثر تفاسیر میں لکھا ہے، اور محی السنہ معالم میں لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر یہ ہے کہ استحقاق سے زائد عطا کرتا ہے، انتہیٰ۔
اور مجمع البحار میں ہے کہ حق تعالیٰ شکور وہ ہے جو تھوڑے عمل کو بڑھاکر مضاعف بدلہ دیتا ہے، پس اس کا شکر بندوں کا بخشنا ہے، انتہیٰ۔
اور قاموس میں ہے: اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے شکر بدلہ دینا اور ثنا نیک کرنا ہے، انتہیٰ۔
اور حمد ومدح یعنی ثنا جمیل میں فرق ظاہر ہے، پھر بہت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم شب معراج میں اللّٰہ تعالیٰ کے حضور میں خود حاضر ہوئے تھے، جیسا کہ قرآن وحدیث میں آیا ہے، اور یہاں حق تعالیٰ، مرزاقادیانی کے پاس خود چل کر آرہا ہے،
(۱) أما الحمد فإنہ لا یکون إلَّا بعد الإحسان۔ (تفسیر کبیر ج:۱ ص:۲۱۸، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
(۲) وعرفًا ینبیء عن تعظیم المنعم بسبب إنعامہ ۔۔۔۔۔۔۔ والحمد حیث اطلق ینصرف إلی العرف لما قالہ السید فی حواشی المطالع۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۷،۸، طبع ایچ ایم سعید)۔
92
پس پاک ہے وہ ذات جس کی صفت ’’لیس کمثلہ شیء‘‘ وارِد ہے۔
پھر براہین کے صفحہ:۵۵۸، خزائن ص:۶۶۶ پر اِلہامِ عربی درج ہے جس میں مرزاقادیانی کے بیت الفکر اور بیت الذکر کے حق میں: ’’ومن دخلہ کان آمنا‘‘ واقع ہوا ہے، جس کا ترجمہ انہوں نے خود کیا ہے، ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا، ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا، بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے، اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور: ’’ومن دخلہ کان آمنا‘‘ اس مسجد کی صفت بیان فرمائی ہے۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ آیت: ’’ومن دخلہ کان آمنا‘‘ قرآن شریف میں بیت اللّٰہ شریف کے ہی حق میں وارِد ہے، مسجدِ نبوی کے اور نہ مسجدِ اقصیٰ (جس کی تعریف سورۂ بنی اِسرائیل کے اِبتدا میں ہے اور وہ قبلۂ انبیاء ہے) کے حق میں وارِد ہے، پس یہ اِدّعا صاحبِ براہین کا کہ اس کی خانگی مسجد کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے: ’’ومن دخلہ کان آمنا‘‘ نازل کیا ہے، یہاں اپنی مسجد کو ان دونوں مسجدوں پر فضیلت دی ہے، ان مناقب سے ایک اور اَمر ظاہر ہوگیا، اور وہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے اِبتدا براہین احمدیہ کے اِشتہار میں درج کیا ہے کہ ان کی جائیداد دس ہزار روپے کی ہے، پھر اِدّعا کیا ہے کہ ہم کو ایک اِلہام ہوتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ سے مخاطبت یعنی ہم کلامی کا منصب حاصل ہے، پس باوجود اس کے اب تک وہ حج کو نہیں گئے، اس لئے کہ حج گناہ کے بخشوانے اور قیامت کے امن کے واسطے ہے اور یہ دونوں مرزاقادیانی کو حاصل ہیں، کیونکہ ان کو اللّٰہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جو جی چاہے سو کر، بے شک ہم نے تجھے بخش چھوڑا ہے، جیسا کہ براہین کے صفحہ:۵۶۰، خزائن ص:۶۶۸ میں درج ہے، اور اَمن تو ان کی مسجد کے نمازیوں کو حاصل ہے، مرزاقادیانی تو خود اس کے اِمام اور بانی ہیں، اور نیز اُوپر براہین کے صفحہ اَخیر:۵۶۲، خزائن ص:۶۷۰ سے منقول ہوچکا ہے کہ: ’’دِینِ اسلام سب پر مشتبہ ہوگیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے سب کو حکم کیا ہے کہ طریقہ حقہ مرزاقادیانی سے حاصل کریں۔‘‘ انتہیٰ ملخصاً۔
پس اب بحسبِ اِقرار ان کے قادیان خود مکہ معظمہ ہوگئی اور ان کو حج کرنے کی کیا حاجت رہی؟ اس شرارت سے پناہ بخدا! جمیع انبیاء اور سیّدالمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت اللّٰہ کا حج اور طواف کرتے گئے، البتہ جس کے پاس رَبّ البیت خود تشریف لائے اور اس کی حمد کرے تو وہ حج کو کیوں جائے۔۔۔؟ پھر براہین صفحہ:۵۶۰، خزائن ص:۶۶۸ میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فقرات عربی مرزاقادیانی کو اِلہام کئے ہیں، جن کا ترجمہ وہ خود یوں کرتے ہیں کہ: ’’تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں، تیرے لئے میں نے رات دن پیدا کیا، تو مجھ سے وہ منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔‘‘ انتہیٰ بلفظہ۔
فقیر کہتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ: محمد (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اللّٰہ تعالیٰ کا رسول ہے،(۱) پس آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا رُتبہ قرآن مجید سے لوگوں کو معلوم ہوگیا، اور سب مسلمان شاہد ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ساری خدائی سے افضل۔ اور صاحبِ براہین کا اِدّعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرزاقادیانی کی منزلت کی لوگوں کو خبر نہیں، پس اس کلام سے
(۱) ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ (الفتح:۲۹)۔
93
مرزاقادیانی کی جمیع انبیاء پر فضیلت کا ثابت کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ اور یقینا ان دعوؤں میں صاحبِ براہین کاذب ہے۔ پھر مرزاقادیانی ضمیمہ اخبار ’’ریاض‘‘ مجریہ امرتسر، یکم مارچ ۱۸۸۶ء مطبوعہ ہوشیارپور میں لکھتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا ہے کہ: ’’انت منی وانا منک‘‘ (ص:۱۴۸، سطر:۴، کالم:۲، تذکرہ ص:۴۲۲) اور ان کے بیٹے کے حق میں جس کی بشارت دی گئی ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اوّل آخر کے ظاہر کرنے والا حق اور بلندی کو ظاہر کرنے والا، کأن اللہ نزل من السماء (ص:۱۴۷، سطر:۱۴، کالم:۲، تذکرہ ص:۱۳۹) انتہیٰ۔
فقیر کان اللّٰہ لہ کہتا ہے کہ: پہلا اِلہام صحیح حدیث کا ایک فقرہ ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے عم زاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللّٰہ وجہہ کے حق میں فرمایا تھا: ’’اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ‘‘ یعنی تو نسب اور پیوند سسرال اور اِبتدائے اِیمان ومحبت وغیرہا میں مجھ سے متصل ہے۔ جیسا کہ قسطلانی اور کرمانی دونوں شرح بخاری میں درج ہے، یعنی فیمابین میری اور اور تیری برادری اور قرابت اور اِتحاد اور کمالِ اِتصال ہے، جیسا کہ مرقات اور لمعات دونوں شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے، اور کرمانی شرح بخاری میں ہے کہ اس من کو اِتصالیہ کہتے ہیں، انتہیٰ مترجماً۔
پس بہ یقین ثابت ہوا ہے کہ ایسے کلام دو قریبیوں میں جن کو نسبتاً واُخوۃً وغیرہما اِتصال ہو، واقع ہوئی، لیکن خدائے تبارک وتعالیٰ جس کا نہ کوئی ولد ہے، نہ کوئی والد، اور نہ اس کا کوئی کفو، اور جس کی یہ صفت ہے کہ کسی سے متصل نہیں ہوتا، اور نہ کسی سے متحد ہوتا ہے، نہ کسی سے مشابہ ہے، جیسا کہ عقائد کی کتابوں میں اس پر تصریح ہے، ہرگز متصوّر نہیں کہ وہ پاک ذات کسی کو فرمائے: ’’انت مِنِّی وانا منک‘‘ یعنی تو مجھ سے متصل ہے اور میں تجھ سے متصل ہوں۔ پس بالیقین صاحبِ براہین نے انبیاء اور مرسلین پر اپنی فضیلت ثابت کرنے کو حق تعالیٰ پر یہ بہتان باندھا ہے۔
اور دُوسرا اِلہام جس میں اس کے زعمی بیٹے کو: ’’کأن اللہ نزل من السماء‘‘ کہا ہے، وہ بھی صرف اِفترا اور بہتان ہی ہے، اس لئے کہ جو مشابہت لفظ کأنّ سے بیان کی جاتی ہے، وہ نہایت سخت مشابہ ہوتی ہے، جیسا کہ تفسیر اتقان سے اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ پس جب مرزاقادیانی کا بیٹا حق تعالیٰ سے بہت ہی مشابہ ٹھہرا اور وہ پاک ظالموں کی باتوں سے برتر ہے تو خود مرزاقادیانی بہت ہی اُونچا چڑھ گئے، معاذاللّٰہ! حق تعالیٰ کے برابر ہوگئے، اور دراصل حق سبحانہ، ملحدوں کی باتوں سے پاک اور منزّہ ہے، اللّٰہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب اور بُرے بندوں کی شرارت اور شیطانوں کی ایذا اور حاضری سے پناہ بخدا!
یہاں پر ختم ہوا یہ رسالہ جس کا نام ’’رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین‘‘ہے، اور جمیع حمدیں خاص خدائے پروردگار جہانوں کے واسطے ہیں اور دُرود ہو اللّٰہ تعالیٰ کا ساری مخلوقات کے برگزیدہ اور اس کے حبیب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کی آل واہلِ بیت واصحاب پر، جب تک اس کو یاد کرنے والے یاد کریں، اور جب تک غافل اس کی یاد سے غفلت کریں۔ اور بعد ختم اس رسالے کے اللّٰہ تعالیٰ کے وافر کرم کا مشتاق محمد ابوعبدالرحمن فقیر غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری، اللّٰہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہو۔
94
مرزاقادیانی کے تعاقب میں مساعی
حضراتِ علمائے حق ملت شریفین کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ فقیر نے صفر ۱۳۰۲ہجری میں صاحبِ براہین کا وہ اِشتہار دیکھا جس کا ذِکر اِبتدا اس رسالے میں درج ہوا ہے، اور اس کو مشتہر (مرزاقادیانی) نے بیس ہزار قطعہ چھپواکر دُوردراز ملکوں میں شائع کیا ہے، جب فقیر نے اس میں دیکھا کہ مرزاقادیانی نے کتاب براہین احمدیہ کا بنانا اللّٰہ تعالیٰ کے حکم اور اِلہام سے دعویٰ کیا ہے، اور اپنی تعریفوں میں حدودِ اِلٰہی سے تجاوز کرگیا ہے، ان باتوں سے دِل بہت ناخوش ہوا، پھر اس کی کتاب براہین احمدیہ دیکھی تو تیسرے چوتھے حصے کے حاشیہ درحاشیہ میں جو اس نے اپنے اِلہامات درج کئے ہیں، وہ اکثر مخالفِ شرع پائے، اور آیاتِ قرآن کی تحریفِ لفظی ومعنوی وغیرہ قباحتیں جن کا ذِکر اُوپر ہوچکا ہے ان میں دیکھیں تو حق برادری اسلام کے ادا کرنے کے واسطے مرزاقادیانی کو لکھا کہ ان مخالفِ شرع باتوں سے باز آؤ، اور غیردِین والوں کے مقابلے میں کتاب لکھو، چھپواؤ، فروخت کرو، کچھ مضائقہ نہیں، تو اس کو نہ مانا اور تائب نہ ہوا، بعد اَزاں فقیر نے بعض مجالسِ وعظ میں ذِکر کیا کہ مرزاقادیانی کے اِلہامات میں قرآن مجید کی تحریف ہوگئی ہے، اور انہوں نے انبیاء کی برابری کے مدعی ہوکر قرآن شریف کو پارہ پارہ بھی کردیا، اس پر ان کے مؤید مؤلف رسالہ اِشاعۃالسنہ نے خلوت میں درباب اِلہاماتِ مرزا کے فقیر سے مناظرہ کرنا چاہا، جبکہ فقیر کو معلوم تھا کہ صاحبِ براہین اور مؤلف اِشاعۃالسنہ باہم ایک دُوسرے کے کمال ثناخواں ہیں اور اپنی تالیفات میں ایک دُوسرے کی حقانیت کو کماحقہ ظاہر کیا ہے، اس پر اکثر علماء اور سب عوام مقلدین سے اور بعض علماء اور عوام غیرمقلدین کے صاحبِ براہین کی حقیقت کو مان گئے ہیں، اور قادیان مثل بیت اللّٰہ کے مرجع انام ہوگئی ہے تو فقیر نے خلوت میں مناظرے کو پسند نہ کیا، بلکہ علمائے دِین کے رُوبرو گفتگو کے واسطے کہا، تو اس کے قبول سے درگزر صاحبِ اِشاعۃالسنہ نے کیا، اس کا جواب تک نہ دیا، تو بعد اَزاں فقیر نے جمادی الاولیٰ سنہ رواں میں بذریعہ اِشتہار اِعلان کیا کہ صاحبِ براہین کے اکثر اِلہامات اُصولِ دِینِ اسلام کے مخالف ہیں، اس پر فقیر، مرزاقادیانی اور ان کے مؤید اشاعۃالسنہ سے علمائے اسلام کے رُوبرو یہ کلام کرنے کا خواستگار ہے تاکہ حق ظاہر ہوجائے اور خواص وعوام اہلِ اسلام کے عقائد میں خلل نہ آئے، تو اس کا جواب بھی ان کی طرف سے کچھ نہ ملا۔ پھر فقیر نے اسی سال کے رمضان المبارک میں صاحبِ براہین کے اِلہامات اور صاحبِ اِشاعۃالسنہ کی تأویلات کے رَدّ میں اُردو میں رسالہ لکھ کر کئی علمائے ہندوستان وپنجاب کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے بھی اس بارے میں کہ صاحبِ براہین واِشاعۃالسنہ دونوں مخالفتِ شرع کر رہے ہیں، فقیر سے موافقت فرمائی۔ امرتسر کے علماء کی تصدیق کے بعد وہاں کے ایک رئیس نے فقیر سے کہا کہ مصلحت یہ ہے کہ آپ اوّل مرزاقادیانی سے اِظہارِحق کے لئے مناظرہ کرو، پھر جو حق ظاہر ہو، اس کو اِشتہار دو، اس کو فقیر نے قبول کیا اور ان سے کہا کہ ڈیڑھ سال اس اِنتظار میں بسر کیا ہے کہ مرزاقادیانی مناظرے کو قبول نہیں کرتے، اس رئیس نے جواب دیا کہ ہم اس میں ساعی ہوکر مرزاقادیانی کو لکھتے ہیں، پھر چند ماہ کے بعد ان کا خط فقیر کے نام آیا کہ صاحبِ براہین لکھتے ہیں کہ میری کتاب میں تصوّف ہے، تین علمائے صوفیہ کے نام لکھے کہ ان کے رُوبرو مناظرہ کرنا چاہتا ہوں، فقیر نے اس کے جواب میں اس امر کو مان لیا اور لکھا کہ تین خاندانی علماء ہوں جو وہ لاہور سے ان کے ساتھ شامل کرکے تاریخ مناظرہ
95
متعین کرو اور فقیر کو اِطلاع دو کہ تاریخِ مقرّرہ پر حاضر ہوجاؤں۔
علمائے حرمین شریفین سے فتویٰ
پس اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا اور نہ وہ رسالہ شائع ہوا، اب اس اُمید پر فقیر نے شوال ۱۳۰۳ھ میں اس رسالے کو عربی میں ترجمہ کیا کہ حضراتِ علمائے حرمین محترمین کی تصحیح سے بھی مزین ہوجائے، تاکہ اہلِ اسلام کے نزدیک نہایت معتمد ٹھہرے، اور بعض علمائے مقلدین جو صاحبِ براہین کے مصدق ہیں، وہ بھی حق کی طرف رُجوع کریں۔ اور فقیر نے یہ جو کچھ کیا ہے، صرف قرآن مجید کی حمایت اور حقوقِ انبیاء ومرسلین صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین کی رعایت اور عقائدِ مسلمین کی صیانت کے لئے کیا ہے۔ اب اس رسالہ عربیہ مع چاروں حصہ مجلد براہین احمدیہ اور رسالہ اِشاعۃالسنہ کی جس میں مرزاقادیانی کی تعریف اور ان کے اقوال کی تأویلیں ہیں مع دونوں اِشتہار صاحبِ براہین کے جن میں بیٹے کی پیشین گوئی اور اپنی تعریف درج کی ہے، آپ صاحبوں کی خدمت مبارک میں بھیج کر ملتجی ہوں کہ آپ اس عربی رسالے کو ملاحظہ فرمائیں اور اس کے حوالوں کی اصل کے ساتھ مطابقت کراکر فقیر کی تحریر کو قرآن وحدیث واِجماعِ اُمت سے موافق پائیں تو اس کی تصحیح فرمائیں، اور اگر اس میں کوئی خطا وسہو ہو تو اس کی اِصلاح کریں اور بیان شافی وشرح کافی سے اَجرِ وافی حاصل فرمانے کی نیت سے صاحبِ براہین اور اس کے مؤید اور ان کے معتقدین کا حکم اور ان کی کتابوں کے پڑھنے کا حکم ظاہر کریں کہ شریعت وطریقت میں ان کا کیا حال ہے؟ تاکہ اہلِ اسلام کو اِطمینان ہو اور سب کا حق کی طرف میلان ہو، اللّٰہ تعالیٰ آپ کو دُنیا اور عاقبت میں جزائے خیر عطا فرمائے اور دِینِ متین کی تائید کے لئے آپ کو سلامت باعز وکرامت رکھے، اور آپ کے علم اور جسم میں بسطینیت بخشے، اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل میں قیامت تک اہلِ علم حرمین محترمین پر ہی مدار ہے، خدائے مجیب الدعوات ہمیں آپ کی زیارت امن وامان وسلامت واِسلام سے نصیب کرے کہ یہ سعادتِ عظمیٰ اور برکاتِ کبریٰ کی طرف پہنچانے والی بات ہے۔ سب حمد پروردگارِ عالمین کے واسطے خاص ہے، اور دُرود وسلام اس کے مظہرِجمال اور نورِ کمال پر اور اس کی آل واصحاب پر ہو، مقدار اس کی بخشش کے اور بے شمار معلومات عالم الغیب والشہادت کے۔
یہ رسالہ تمام ہوا، اور تقریظیں شروع
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمد رحمت اللّٰہ صاحبؒ کی تقریظ
مولانا مولوی مہاجر حاجی محمدؒ جن کو حضرت سلطان روم نے بصواب دید شیخ الاسلام روم خطاب پایا حرمین شریفین عطا کیا اور فرمانِ شاہی میں ’’اقضیٰ قضاۃ المسلمین واولٰی ولاۃ الموحدین وارث علوم سیّد المرسلین‘‘ وغیرہا القاب سے ملقب فرمایا ہے۔
96
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حمد اور صلوٰۃ کے بعد بے شک میں نے اس رسالے کو اوّل سے آخر تک سنا، اس کی عبارت اور مضمون دونوں صحیح پائے، حضرت مؤلف اس رسالہ نے ۔۔۔خدا اس کو اچھا بدلہ دے۔۔۔ جو نقلیں درج کی ہیں، وہ سب اصل کے مطابق ہیں، میں نے اس سے پہلے بھی معتبروں کی زبانی مرزاقادیانی کا حال سنا ہے، سو وہ میرے نزدیک دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کی فرمانبرداری کسی کو جائز نہیں ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس رسالے کے بنانے والوں کو نیک بدلہ دے، اُمید ہے کہ اس کے مطالعے سے بہت لوگ صاحبِ براہین احمدیہ کی پیروی سے بچ جائیں گے، ہم کو اور سب مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ شیطانوں کے اغوا اور مکر وفریب سے محفوظ رکھے۔ میں فقیر، خدا کی رحمت کا اُمیدوار، رحمت اللّٰہ بن خلیل الرحمن ہوں، اللّٰہ تعالیٰ ہم کو اور سب مؤمنوں کو بخشے، آمین!
دستخط ومہر: محمد رحمت اللّٰہ
حنفیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب حمد اس کے لئے جو اس کے لائق ہے، اور اسی سے میں توفیق کی اِستمداد کرتا ہوں، سب تعریف اس خدا کی ہے جس کی بلند ذات غفلت اور نسیان سے پاک ہے اور اس کے نام اور صفتیں زوال اور نقصان کے لائق ہونے سے پاک ہیں اور اس نے ہر زمانے میں ایسے علماء پیدا کئے ہیں جو شرع شریف کی محافظت پر قائم ہیں اور ان کو حق کے ظاہر کرنے اور باطل کے نابود کرنے پر طاقت دی ہے کہ کچھ سستی نہیں کرتے اور اس پر ان کو بہت ثواب اور بہت نیکیاں دی ہیں، اس لئے کہ انہوں نے صواب اور خطا فاحش کو بیان کردیا، اور دُرود وسلام ہمارے سردار پر ہوں، جن کا نامِ نامی محمد ہے، جن میں حق تعالیٰ نے سب فضیلتیں جمع کی ہیں اور ان کی آل واصحاب پر جن کے نفس خدائے تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں، بعد اس کے بے شک میں مطلع ہوا اس بزرگ رسالے اور لطیف حوالوں پر، پس میں نے دیکھا ان کو ایسی عمدہ جن کے دیکھنے سے آنکھیں سرد ہوتی ہیں، اور بے شک شیطان نے غلام احمد قادیانی کو ہلاکت اور نقصان کی وادیوں میں گرادیا ہے، پس حق تعالیٰ اس رسالے کے مؤلف کو جزائے خیر عطا کرے اور اس کو زیادہ اجر دے اور قیامت کے دن ہم کو اور اس کو اچھا مکان عطا کرے، آمین! اور حق تعالیٰ ہمارے سردار محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اس کی آل واصحاب سب پر دُرود بھیجے، اس تحریر کے لکھنے کا حکم کیا شریعت کے خادم الطافِ اِلٰہی کے اُمیدوار محمد صالح بن مرحوم صدیق کمال حنفی نے، جو اِن دِنوں میں مکہ مکرمہ کا مفتی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ان دونوں کی مدد میں ہو۔
دستخط محمد صالح کمال
تقریظ: حضرت شیخ العلماء کی جو شافعیوں کے مکہ معظمہ میں مفتی ہیں
سب تعریفیں اس خدا کو ہیں جس نے اس دِینِ اسلام کے خلل وزلل بدمذہبوں، گمراہوں کے دُور کرنے کے لئے کچھ پیدا کئے ہیں، جو بدمذہبوں گمراہ کنندوں کی سرکوبی کرتے رہے ہیں، اور جس نے ہر عالم راہنما سیدھی راہ کے چلنے والے کی مدد کی ہے، بعد اس کے بے شک میں نے دیکھا ان باتوں کو جو غلام احمد قادیانی پنجابی کی طرف منسوب ہیں، پس اگر اس نے یہ کی ہیں تو وہ گمراہوں، گمراہ کنندوں وسخت بدمذہبوں سے ہے، اور ایسا ہی محمد حسین ہے، جس نے رسالہ اِشاعۃالسنہ میں اس کی تائید کی ہے۔ پس حاکمِ اسلام پر ۔۔اللّٰہ تعالیٰ اس کو نیک توفیق دے۔۔ واجب ہے کہ ان دونوں کو ایسی سخت تعزیر دِی جائے جس سے یہ اور ان کے ہم
97
مشرب ایسی باتوں سے باز آویں اور جو رِسالہ اِمامِ فاضل بزرگ کامل شیخ محمد ابوعبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کے رَدّ میں لکھا، اور اس کا نام ’’رجم الشیاطین براغلوطات براہین‘‘ رکھا ہے، وہ ایسا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں، اللّٰہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے اس کو نیک بدلہ دے اور مسلمانوں کے دِلوں میں اس کا اِعتبار بڑھائے اور خدا بہت دانا ہے، یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور اپنے قلم سے لکھی، اللّٰہ تعالیٰ سے کمال کامیابی کے اُمیدوار محمد سعید بن محمد بابصیل نے جو مکہ معظمہ میں شافعیوں کا مفتی ہے، خدا اس کو اور اس کے والدین وجمیع مؤمنین کو بخشے۔ دستخط محمد سعید بابصیل
مالکیوں کے مفتی مکہ معظمہ کی تقریظ
سب تعریفیں پروردگارِ عالم کو خاص ہیں، خداوندا! مجھے علم دے اور سیدھے راستے کی طرف راہ نمائی کر، جس کو خدا راہ نمائی کرے، کوئی اسے گمراہ نہیں کرسکتا، اور جس کو وہ گمراہ کرے اس کی راہ نمائی کوئی نہیں کرسکتا، لیکن ایسی باتیں کرنے والا بے شک شیطانی خطر اور وساوسِ نفسانی کے دریاؤں میں ڈُوب گیا ہے، اس کے جھوٹ اور بدبختی سے تعجب ہے، اس لئے کہ مدعی ہوا ہے اس بغاوت کا جو حدیث میں آیا ہے کہ آخر زمانے میں سخت جھوٹے دجال ہوں گے، تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی، اور رسالہ اِشاعۃالسنہ سے جس نے اس کی تائید کی ہے وہ سخت بدبخت ہے، اس لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گناہ اور حدوں سے درگزر کرنے میں تائید نہ کرو، پس حاکمِ اسلام پر واجب ہے کہ ان دونوں کو سخت تعزیر کرے۔ اور وہ رسالہ جو فاضل علامہ شیخ محمد ابوعبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی حنفی قصوری نے ان دونوں کی گمراہی کے بیان اور ان کی باتوں کی تردید میں لکھا ہے، بے شک اس میں بہت دُرست لکھا ہے، اس لئے کہ سچے دِین کی اِتباع کی جائے، بہت عمدہ ترغیب ذِکر کی ہے، خدا بہت دانا ہے، بارِ خدایا! ہم کو ہوائے نفس کے پیچھے چلنے والوں، اور شیطان کی راہ میں گمراہ ہونے والوں، اور بُری باتوں کو اَچھا جان کر ہلاک ہونے والوں سے نہ کر، آمین بجاہ سیّدالمرسلین! یہ تحریر اللّٰہ تعالیٰ کی بخشش کے اُمیدوار محمد بن شیخ حسین مرحوم نے لکھی ہے جو مکہ معظمہ میں مالکیوں کا مفتی ہے۔
دستخط: محمد بن حسین مفتی مالکیہ
مکہ معظمہ کے حنبلیوں کے مفتی صاحب کی تقریظ
سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے خاص بندے پر قرآن مجید اُتار، جو اپنی بات میں سچا ہے، جس میں خداتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’اور یہ میری راہ سیدھی ہے، اس کی پیروی کرو، اور بہت راستوں کی پیروی نہ کرو، جو تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گے‘‘ اور دُرود وسلام ہمارے سردار محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جو خدا کا نبی اور دوست وخلیل ہے، اور اس کی آل واصحاب ومددگاروں پر، پھر بعد ازاں بے شک میں نے اس بزرگ رسالے کا مطالعہ کیا جو صحیح، صاف، محکم روایات پر مشتمل ہے، پس میں نے اس رسالے کو بروئے دلائل محکم، مضبوط، شافی، کافی، فائدہ رساں دیکھا، جس کے پڑھنے سے موحدین اہلِ سنت وجماعت کی آنکھیں خنک ہوتی ہیں، اور معتزلہ وخارجیوں وبدمذہبوں وبدعتیوں کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں، وہ بدمذہب جو دِین سے یوں نکلتے ہیں جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارِد ہوا ہے، اور یہ مبارک رسالہ جس نے غلام احمد قادیانی کی کجی کو ظاہر کیا اور بے شک یہ قادیانی،
98
مسیلمہ کذاب ثانی ہے، اور نیز اس کے مؤید کے دھوکے ظاہر کئے ہیں، پس اللّٰہ تعالیٰ اس کے لکھنے والے کو اہلِ اسلام کی طرف سے بہت نیک بدلہ دے، اور بہت سا اجر عطا فرمائے، اور اللّٰہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، نبیوں اور رسولوں کے ختم کرنے والے پر رحمت پہنچا، اور اس کی آل واصحاب سب پر۔ اس تحریر کے لکھنے کا عاجز خلف بن ابراہیم نے جو مکہ شریف میں حنبلیوں کے فتویٰ دینے کا بالفعل خادم ہے، حکم کیا۔
مدینہ منوّرہ میں جو حضرت حنفیوں کے مفتی ہیں ان کی تقریظ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حمد دُرود وسلام ادا کرتے ہوئے میں خدائے پاک مولیٰ کریم قادر سے اپنے ہر کام اور ہر بات میں توفیق ومدد کا سائل ہوں، سب تعریف خدائے یگانہ بے نیاز شریک اور اولاد سے پاک کے لئے خاص ہے، جس نے بزرگ رسولوں کو روشن دلیلوں اور ظاہر نشانیوں سے بھیجا ہے اور ان کی قبل ازنبوّت خوارق اور معجزات سے تائید کی ہے، اپنے خاتم الانبیاء اور سیّدالاصفیاء پر جس نے قرآن معجز بیان اُتارا ہے، اور اس جل وعلیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ آج میں نے پورا کیا تمہارے لئے دِین اور تم پر اپنی نعمت تمام کی اور اِسلام تمہارے لئے دِین پسند کیا، وہ کتاب جو سیدھی راہ کی طرف راہ نما ہے اور ہر اچھا کام فرماتی ہے، جھوٹ اس کے آگے پیچھے سے نہیں آتا، داناستودہ کی اُتاری ہوئی ہے، اور دائمی دُرود اور سلام نبی پر ہو جو خلاصی اور سیدھی راہ کی طرف بلانے والا ہے اور قیامت تک ہر جھوٹے اور ہلاک کرنے والے کا حال بتلانے والا ہے، جس کی حدیث صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ آخر زمانے میں دجال سخت جھوٹے ہوں گے، تم سے ایسی باتیں کریں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہ سنی ہوں گی، پس ان سے ڈرو، تم کو گمراہ نہ کریں اور فتنے میں نہ ڈالیں! اور نیز صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے ہے کہ جو کوئی ہدایت کی طرف بلائے گا تو اس کے جمیع پیروؤں کا ثواب اس کو دِیا جائے گا اور ان کے ثواب سے بھی کچھ کم نہ ہوگا، اور جو کوئی گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کو بھی سب پیروؤں کا گناہ اس پر ہوگا، اور ان کے بھی گناہ سے کچھ کم نہ کیا جائے گا۔ اور نیز اِمام احمد ونسائی ودارمی نے عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچ کر فرمایا کہ: یہ خدا کی راہ ہے! پھر اس کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا کہ: ان راستوں میں سے ہر راہ پر شیطان ہے، جو اس کی طرف بلاتا ہے، اور یہ آیت پڑھی: ’’ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ‘‘ (الانعام:۱۵۳) اور بے شک یہ میری سیدھی راہ ہے، اس کی پیروی کرنا۔ آخر آیت تک۔ اور ابنِ ماجہ نے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث لکھی کہ: بڑی جماعت کی پیروی کرنا بے شک جو اس سے نکلا، دوزخ میں پڑا۔ اور نیز اِمام احمدؒ نے معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ: شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے، بکریوں کے بھیڑیے کی طرح، الگ ہونے والی بکری کو پکڑلیتا ہے، پراگندہ نہ ہونا، اس سے بچنا اور جماعت سے ملنا۔ اور نیز یہ حدیث اِمام مالکؒ کے مؤطا میں مالک بن انسؓ سے روایت ہے کہ: میں تم لوگوں میں دو کام چھوڑتا ہوں، جب تک ان کو پکڑے رہوگے، گمراہ نہ ہوگے، قرآن مجید اور حدیث۔ اور نیز صحیح مسلم میں محمود ابن لبیدؓ سے حدیث آئی ہے کہ: قرآن سے کھیل کئے جاتے ہیں اور میں موجود ہوں! اور نیز ابویعلیٰ نے ابوذر رضی اللّٰہ عنہ
99
سے حدیث بیان کی ہے کہ: میرا بہت پیارا اور نزدیک تر وہ ہے جو مجھ سے ملے اس عہد پر جس پر میں نے اسے چھوڑا ہے۔ اور نیز بیہقی کی شعب الایمان میں جابر رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث ہے کہ: تم اسلام میں حیران ہوتے ہو، جیسے یہود ونصاریٰ متحیر ہیں، تمہارے لئے شرع روشن پاکیزہ لایا ہوں، اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری ہی پیروی کرتے۔ اور نیز حدیث متفق علیہ اور سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے ہے کہ: جس نے ہماری شریعت کے برخلاف کوئی کام نکالا، وہ مردُود ہے! اور نیز اِمام احمدؒ ومسلمؒ اور چاروں نے ابوسعید رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث لکھی ہے کہ: جو کوئی تم سے بُرا کام دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر یہ طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اگر یہ طاقت نہ ہو تو اس کو اپنے دِل سے اور یہ بہت ضعیف اِیمان ہے۔ اور دُرود آپ کی آل واصحاب پر ہو، جو سیدھے راہ کے ستارے ہیں اور آپ کے عزیز واقارب وجماعت پر جو خلقت کے رہنما ہیں۔
بعد ازاں! بے شک میں نے اس پیارے رسالے کے کاغذات کے باغوں میں ان کے اصیل گھوڑوں کو چرایا اور اس عمدہ تالیف کی سطروں کے گلزاروں کی پاکیزہ زمین میں اپنی سست فکر کے اُونٹ کو دوڑایا، پس میں نے اس کو یقینی دِلوں سے تردید کا ذمہ دار پایا، جس نے اس دِین سے نکلنے والے بدبخت ناکس فریبی (مرزاقادیانی) کے جھوٹ کو نابود کردیا، اس کی باتوں کے جوہر ناقص عقل کے گمراہ کرنے کا سبب ہیں، کھوٹ ظاہر کرنے میں یہ رسالہ کافی ہے، پس بے شک اس کے مؤلف نے اچھا لکھا۔
یہاں تک کہ نہایت نشانہ اور مقصود عمدگی کو پہنچا اور فائدہ پہنچایا، خدا اس کو بہت ثواب اور بہشت اور اپنا دِیدار عطا کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کا ہمارے سردار پیغمبر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اس کی آل واصحاب پر دُرود وسلام پہنچے، اس تحریر کو پروردگار کی بخشش کے محتاج عثمان بن عبدالسلام داغستانی جو مدینہ منوّرہ میں حنفی مفتی ہے، لکھا، خدا اس کو بخشے!
مؤرخہ ۵؍ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ
دستخط: عثمان بن عبدالسلام داغستانی
مدینہ منوّرہ کے مفتی شافعیہ اور ان کے وکیل
مدرّس حرم شریف نبوی کی تقریظ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سب تعریف اس خدا کی ہے جس نے اپنے رسول محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دِین کے ساتھ بھیجا اور ان پر ایسا قرآن اُتارا جو رحمن کا معجزہ ہے، اور ہمیشہ کے لئے نشان کمال راستہ کی دلیل ہے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نبیوں کا ختم کرنے والا اور رسولوں کا سردار اور جہانوں کی رحمت بنایا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کو قیامت تک جن اور آدمیوں کے لئے عام کیا اور ان کی شرع نے تو سب دِینوں کو منسوخ کیا، اور ان کی شرع اور حکم منسوخ نہیں ہوتا، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درگاہِ اِلٰہی میں پہنچنے سے قیامت تک پیغمبری کا دروازہ بند ہوگیا، پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشن اور مضبوط شرع کی ہی پیروی ہے، اللّٰہ تعالیٰ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آل واصحاب پر جو ہدایت کے اِمام اور تاریکی کے چراغ ہیں اور ان کے پیروؤں پر دُرود بھیجے جب تک دُنیا قائم ہے۔
100
بعد ازاں! ہم دونوں نے اس رسالے میں خوب تأمل کیا تو اس کو مقصود پر روشن دلیل پایا، اس کی دلیلیں بدمذہبوں کے شبہوں کی کرنیں کاٹ دیتی ہیں اور اس کے نور شیطانوں کے دھوکوں کے اندھیروں کو نابود کردیتی ہیں، اس نے بہت عمدہ فیصلہ کیا اور حق کا راستہ ظاہر کردیا۔ اور یہ رسالہ صراحۃً دِین کی یقینی دلیلوں پر شامل ہے، اور غلام احمد قادیانی کے فریبوں اور جھوٹ کو اس نے رُسوا کردیا ہے۔ اور بے شک یہ قادیانی اپنے شیطان بھائیوں کے نزدیک ’’احمد‘‘ یعنی قابلِ تعریف ہے، اور اہلِ اِیمان ویقین کے نزدیک یہ ’’آذم‘‘ یعنی لائق بہت مذمت کے ہے، اور بے شک اس کی بیہودہ باتیں ظاہر گمراہی ہے، اور جس اِلہام کا یہ مدعی ہے، وہ شیطانوں کی وحی ہے، نبیوں اور رسولوں کی وحی نہیں ہے، اور جب تو اس کی بناوٹ اور گمراہی میں تأمل کرے گا تو اس آیت کا مصداق پائے گا، جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر نبی کے دُشمن شیطان آدمی اور جن، سکھاتے ہیں ایک دُوسرے کو ملمع باتیں فریب کی، اور اگر تیرا رَبّ چاہتا تو یہ کام نہ کرتے، سو چھوڑ دے وہ جانے اور ان کا جھوٹ، اور نہ جھکیں اس کی طرف دِل اُن کے جو اِیمان نہیں لائے آخرت سے، وہ اسے پسند کریں اور تاکہ مرتکب ہوجائیں ان اُمور کے جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے ۔۔۔ الیٰ قولہٖ۔۔۔۔ کوئی بدلنے والا نہیں اس کے کلام کو اور وہی ہے سننے والا اور جاننے والا۔‘‘
اور دراصل یہ قادیانی مسیلمہ کذّاب کی طرح گمراہی اور شک میں ہے، بلکہ یہ قادیانی، شیطان سے اس کا مکر وفریب بہت مضر ہے، اس لئے کہ شیطان کا معاملہ ظاہر ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے بنی آدم کو اس کے فریب سے ڈرایا ہے اور یہ قادیانی اس نے جھوٹ کو سچ بنادِکھایا ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ پر اِفترا باندھ رہا ہے۔ پس اللّٰہ تعالیٰ اس کی ہلاکت سے شہروں اور بندوں کو فساد سے راحت دے۔ پس ہر مؤمن پر واجب ہے کہ اس رسالے کے مضمون سے تمسک کرے اور قادیانی کی براہین احمدیہ کے بناوٹوں سے بچے، اور اس کے اِفترا سے جوکمینگی اور گمراہی ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجے، جس پر قرآنِ مبین شیطانوں کی وسواسوں سے محفوظ اُتارا گیا ہے، اور اس کی آل واصحاب پر اور سلام سب پر۔
اس تحریر کے لکھنے کا سیّد جعفر بن سیّد اِسماعیل برزنجی مدینہ منوّرہ میں شافعیوں کے مفتی نے حکم کیا ہے، اور وکیل مفتی شافعیوں کے جو حرم شریف نبوی میں مدرّس ہے، سیّد احمد برزنجی اس نے بھی تحریر کی ہے۔
دستخط: سیّد جعفر البرزنجی سیّد احمد البرزنجی
مدینہ منوّرہ کے حضرت مدرّس مسجد نبوی کی تقریظ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے سارے اپنے بندوں کو اپنی پہچان اور توحید کے لئے پیدا کیا ہے، اور تاکہ وہی سب اپنے وجود اور خدا کے وجود میں فرق کریں، اور اس کے اِنعام وبخشش کو جانیں، میں اس کی حمد کرتا ہوں اس پر کہ ہمارے لئے اس نے دِین کے نشان قائم کئے اور ہدایت پانے والوں کے لئے اس کی راہ روشن کی، اور میں اس کا شکر اَدا کرتا ہوں اس پر کہ ہماری
101
طرف ایسا نبی بھیجا، جس پر پیغمبری ختم کی، اور شبہات وگمراہی کے دروازے اس کے ساتھ بند کئے، روشن معجزوں سے اس کی مدد کی، اور اس کے دِین سے سب دِین اور حکم منسوخ کئے، اور اس کی شرع کو قیامت تک باقی رکھا اور اس پر ایسا قرآن اُتارا جو عمدہ نصیحت اور سیدھی راہ ظاہر کرنے والا نور اور محکم عہد ہے، اور خود حق تعالیٰ ہمیشہ کے لئے اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے کہ جھوٹے اس کو بدل نہ سکیں گے اور دِین سے پھرنے والے اس میں کجی نہ کرسکیں گے، یعنی دِین دار لوگ ان کی تردید کرکے ظاہر کردیں گے۔ سو اللّٰہ تعالیٰ آپ پر رحمت کرے اور آپ کی آل واصحاب پر بھی، جس نے ان کی پیروی کی، خود آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کی، اور جو ان کی راہ سے پھرے، بے شک اس نے ظلم کیا اور حد سے گزرا۔
بعد اَزاں! جب میں نے اپنی آنکھوں سے اصیل گھوڑوں کو ایسے روشن رسالے کے میدانوں میں جولان دیا جو سچے دِین کی پیروی پر عمدہ برانگیخت پر شامل ہے، اور اس کی طرف بلارہا، اور حرص دِلا رہا، اور اس پر ترغیب دے رہا ہے، اور یہ دیکھنا اس کا جلدی کی حالت میں تھا باوصف اَزحد کثرتِ اِشتغال اور دِل پر ہجومِ غموم کے حال میں تو اس رسالے پر میں نے تحقیق کی نور ظاہر پائی اور اس کی دلیلیں روشن، مضبوط، ظاہر پائیں۔ یہ رسالہ دِین کی یقینی باتوں کو جمع کرنے والا ہے، بے دِینوں، گمراہ کرنے والوں کے شبہوں کی تردید کا ذمہ دار ہے، اس بدمذہب جھوٹے دعوے کرنے والے کے عیب کو رُسوا کرنے والا ہے، جس کا نام غلام احمد قادیانی ہے، شیطان کا پوتا، جو گمراہی اور بدراہ کرنے میں اپنے دادے شیطان سے ہزار درجہ بڑھ گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس رسالے کے بنانے والے کو عمدہ ثواب دے، اس لئے کہ دِینِ اسلام کی حدوں کی محافظت کی ہے، سخت جھوٹے، گمراہ کنندے کی فریبیوں کی براہین سے باطل کرکے جس سے اس نے عوام جاہلوں اور غافلوں کے دِلوں میں شک داخل کردئیے تھے، پس ہر مسلمان پر جو خدا پر اِیمان رکھتا ہے اور اس کی کتابوں ورسولوں کو سچا جانتا ہے، واجب ہے کہ یہ اِعتقاد اور یقین کرے کہ صاحب اس رسالہ نے جو رَدّ لکھا ہے وہی سچ اور موافق قواعدِ اِیمان کے ہے، اور بے شک جو براہین احمدیہ والے اور اِشاعۃالسنہ والے نے کہا ہے، وہ نرا جھوٹ اور بہتان ہے۔ پس سچ کے پیچھے گمراہی ہی ہوتی ہے، اور جو اسلام کے سوا دِین اِختیار کرے گا وہ ہرگز قبول نہ ہوگا، اور وہ شخص قیامت میں نقصان والوں سے ہوگا۔ تیرا رَبّ راستہ بھولنے والوں کو جانتا ہے، اور ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے، بے شک تمہارے رَبّ کی طرف سے نصیحتیں آئی ہیں، جس نے دیکھا اپنا فائدہ کیا، اور جو اندھا ان سے ہوا، اپنا نقصان کیا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو سیدھے اور ہدایت کے راستے پر قائم رکھے، اور ہم سب کو گمراہی کے راستوں سے بچائے، وہ ہر شے پر قادر ہے اور دُعا قبول کرتا ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ ہمارے سردار اور آقا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر رحمت کرے، جس نے فرمایا ہے کہ: جس کو خدا راہ دِکھائے، کوئی اس کو بدراہ کرنے والا نہیں، اور جس کو گمراہ کرے، کوئی اس کا راہ نما نہیں، اور اس کی آل واصحاب اور تابعین اور ہم سب پر رحمت کرے، آمین!
یہ تحریر اپنی زبان سے کہی اور قلم سے لکھی ہے، عاجز بندے محمد علی بن طاہر وتری حسینی حنفی مدنی نے جو مسجد شریف مدینہ منوّرہ میں علمِ دِین وحدیث کا مدرّس ہے۔ مؤرخہ ۲۱؍ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ میں۔
دستخط: محمد علی السیّد بن طاہر السیّد الوتری
102
پٹنہ کے مشہور علماء میں سے ایک عالم کی تقریظ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے قرآن مجید آدمیوں اور جنوں کے سردار پر اُتارا، اور اس سے جھوٹ اور شرک اور سرکشی کو نابود کیا، اور دُرود وسلام اس کے پیغمبر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور اس کی آل واصحاب اور نیکی سے ان کے پیروؤں پر ہمیشہ ہو۔
بعد اَزاں! میں نے غلام احمد قادیانی کی براہین احمدیہ واِشتہار سے اس کی بعض لغزشوں کا مطالعہ کیا، پس ان کو شیطانی بناوٹوں سے پایا، وہ رَحمانی اِلہام نہیں ہیں، بلکہ نرا بہتان اور بیہودہ گوئی ہے، پس جس نے اس کی پیروی کی وہ نقصان والوں میں سے ہے، اور اس رسالے کی عمدہ تردیدات کو بھی میں نے دیکھا ہے، پس ان سے دِل کو آرام آیا، اُمید ہے کہ اس کے مطالعے سے بہت برادران اہلِ سنت وغیرہم اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے نجات پالیں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس رسالے کے مؤلف کو اُونچی بہشت بدلہ دے۔
اس تحریر کو عاجز محمد بن عبدالقادر باشہ پٹنہ کے باشندے حنفی نے لکھا، اللّٰہ تعالیٰ اس کو اور اس کے والدین کو بخشے اور ان سب سے اِحسان کرے، فقط۔
دستخط: محمد ابن عبدالقادر باشہ
تمام ہوئی تقریظات حضراتِ علمائے حرمین محترمین کی
واضح رہے کہ فقیر کاتب الحروف نے اوّل جو اُردو میں رسالہ بنام تحقیقاتِ دستگیریہ فی رَدّ ہفوات براہین لکھ کر مشاہیر علمائے پنجاب وغیرہ کو ملاحظہ کرایا تھا، جس پر ان حضرات نے تقاریظ لکھیں تھیں، ہرچند پھر اس کے اکثر مضامین کو لباسِ عربی پہناکر حرمین شریفین بھیجا گیا تھا، جو وہاں کے مفتیانِ عظام ومدرّسانِ کرام وغیرہم کی تصدیق وتعریف سے مزین ہوا، جو اُوپر تحریر ہوچکی ہیں، اور یہ اَمر موجب اس کے زیادہ اِعتبار واسناد کا ہوا، مگر تاہم ان تقاریظ علمائے پنجاب وغیرہ کا بھی یہاں پر درج کردینا مناسب نظر آیا، اور وہ یہ ہیں۔ چونکہ اِختتام اس رسالے کا شہر امرتسر میں ہوا تھا، اس لئے اوّل ان کے مشاہیر علماء نے اس کو ملاحظہ کرکے تقریظات لکھی تھیں جو پہلے درج ہوتی ہیں۔
مولوی غلام رسول اِمام مسجد میاں محمد جانؒ رئیس امرتسر کی تقریظ
باسمہ العلی الأعلٰی والصلٰوۃ علٰی نبیہ المصطفیٰ وآلہ المجتبیٰ
مخفی نہ رہے کہ اس احقر نے نسخہ متبرکہ کی تحقیقاتِ دستگیریہ کی جو ہفوات صاحبِ براہین احمدیہ کے رَدّ میں تالیف حضرت بلند ہمت شریف النسب عالی حسب جناب مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب کا ہے حرف بحرف اِبتدا سے آخر تک مطالعہ کیا، نسخہ شریف مذکورہ کو مطابق مذہب اہلِ سنت وجماعت کے پایا اور جناب مولوی صاحب موصوف نے جو اِلہامات اس کتاب میں براہین احمدیہ سے نقل کئے ہیں وہ بعینہٖ میں نے براہین احمدیہ میں درج پائے ہیں، مجھے ظن غالب ہے کہ مصنف براہین احمدیہ مرض مالیخولیا میں گرفتار ہیں، اسی سبب سے صورتِ متخلیہ موہومہ کو اُمورِ مذمنہ اِلہامیہ قرار دینے میں لاچار ہیں، ورنہ باوجود سلامتِ عقل وحواس اور
103
باوجود اِدّعائے اسلام ایسے اِلہاماتِ واہیہ کے مدعی نہ ہوتے۔
اللّٰھم اکرمنا بکرامۃ العلم ونوِّر قلوبنا بنور العلم ھٰذا
وآخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین!
رقمہ احقر العباد اللہ الغنی غلام رسول الحنفی بقلم خود
مولوی احمد بخش صاحب مدرّس مدرسۃالمسلمین امرتسر کی تقریظ
باسمہ سبحانہ وتعالیٰ وبعدہ!
ایں کس رسالہ ھٰذا را اَز اَوّل تا آخر بلفظ دیدہ موارد واعتراضات را اَز براہین ہم مشاہدہ نمود فی الحقیۃ بعض مزخرفاتش را بطور نمونہ جواب دادہ آمد تا بفحوائے قیاس کن زگلستان من بہار مرا اباطیل باقید بر آن قیاس نمودہ شود خداوند کریم مولانا مصنف را (کہ ہمیشہ کمر ہمت بحمایت دین بستہ دارند در استیصال خلاف مخالفین بمساعی جمیلہ خود، مشکور اسلامیان اند وچرا نباشد کہ کمالات حسبی ونسبی ضمیمہ خوبیہا کسبی ووہبی از حق سبحانہ دارند) جزائے خیر دہد کہ در چنیں وقت کہ باغربت اسلام ہم قرانست ایں چنیں احسان بر زمرہ اہل سنت گزاشتہ اند، فقط! حررہ ابوعبیداللّٰہ احمد بخش عفا اللّٰہ عنہ والقاہ بالبہش بقلم خود۔
مولوی نورالدین مدرّس مدرسۃالمسلمین امرتسر کی تقریظ
جو کچھ مولوی صاحبان مولوی غلام رسول اور مولوی احمد بخش صاحب نے رسالہ ھٰذا کے بارے میں تحریر فرمایا ہے، وہ عین صواب ہے، اور اس سے میرا اِتفاقِ رائے ہے۔ فی الواقع رسالہ ھٰذا جمیع متبعینِ سنت کے لئے وساوسِ شیطانی وہواجس نفسانی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کی سپرقوس ہے، اور سبحانہ تعالیٰ جناب مولوی صاحب مؤلفِ رسالہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
حررہ عبداللّٰہ المسکین نورالدین عفی عنہ بقلم خود
مولوی غلام محمد، اِمام مسجد شاہی لاہور کی تقریظ مع اِمام جامع مسجد انارکلی
ظاہر اقوال اِلہامیہ مؤلف براہین احمدیہ مع تاویلاتِ فاسدہ صاحب اشاعۃالسنہ مخالف عقائد اہل السنۃ والجماعۃ وغیر مستند ست اہل اسلام را لازم کہ اَز اِتباع ایں چنیں اشخاص ومطالعہ ایں چنیں اِلہاماتِ واہیات برکنار باشد وایں تحقیقات وتردید اِلہامات مستند اند بکتب مقبولہ اہل السنۃ، الحق احق ان یتبع!
فقیر غلام محمد بگی والا عفی عنہ بکرمہ ومنہ بقلم خود
اصاب من اجاب
فقیر نور احمد، امام مسجد انارکلی، بقلم خود
104
مولوی نور احمد صاحب ساکن کھائی کوٹلی ضلع جہلم کی تقریظ
اِلہامات صاحبِ براہین احمدیہ وتاویلات صاحب اِشاعۃالسنہ بالکل مخالف شرع اند ومضمون وعبارات رسالہ شریفہ ھٰذا صحیح بلکہ اصح وہدایت کنندہ گمراہان براہ حق جزی اللہ سبحانہ مؤلف خیر الجزاء۔
فقیر نور احمد، ساکن کھائی کوٹلی، ضلع جہلم بقلم خود
مولانا مفتی حافظ محمد عبداللّٰہ ٹونکی مدرّس اعلیٰ مدرسہ یونیورسٹی لاہور کی تقریظ
اَلْحَمْدُ لِوَلِیِّہٖ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ، اَمَّا بَعْدُ!
نحیف نے اس رسالے کو اکثر مقاموں سے دیکھا، جن میں حضرت مؤلف نے صاحبِ براہین اور ان کے اعوان کو معقول اِلزام دئیے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ حضرت مؤلف کو اس حسنِ کوشش کی جزائے خیر دے، حضرت مؤلف سلمہ اللّٰہ تعالیٰ نے مؤلف براہین احمدیہ پر مدعی نبوّت ہونے کا بھی اِلزام لگایا ہے، میری رائے میں یہ اِلزام بھی صحیح اور دُرست ہے، اس لئے کہ قطعی اور یقینی طریق سے من جانب اللّٰہ ایسے مضامین کا منزل علیہ ہونا جن کی تبلیغ ضروری ہو، عرفِ شرع میں خواصِّ رِسالت یا نبوّت سے ہے، اور مؤلفِ براہین کو اس منصب کے حصول کا دعویٰ ہے، پس اس کے مدعی ہونے میں کیا اِشتباہ ہے؟ پہلے مقدمے کا ثبوت یہ ہے کہ رسالت کے مفہومِ لغوی اور ان آیات واحادیث میں غور کرنے سے، جن میں انبیاء علیہم السلام کے اوصاف اور حالات بیان ہوئے ہیں، بخوبی معلوم ہوتا ہے اور دُوسرا مقدمہ یوں ثابت ہے کہ مؤلفِ براہین کو من جانب اللّٰہ قطعی اور یقینی طریق سے اپنے منزل علیہ ہونے کا تو صریح دعویٰ ہی ہے، رہی یہ بات کہ وہ مضامین علی العموم واجب التبلیغ بھی ہیں، اس پر یہ اِلہامی فقرے (مصنوعی) شاہد ہیں: ’’واتل علیہم ۔۔۔۔۔، ما اوحی إلیک من ربک ۔۔۔۔۔، قل إنّما انا بشر مثلکم یوحٰی إلیَّ أنّما إلٰھکم إلٰہ واحد ۔۔۔۔۔، قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔، قل عندی شھادۃ من اللہ فھل انتم مؤْمنون‘‘ اس پچھلے فقرے (مصنوعی) کی تشریح میں مؤلفِ براہین نے لکھا ہے کہ: ’’میرے پاس خدا کی گواہی ہے، پس کیا تم اِیمان نہیں لائے، یعنی خدائے تعالیٰ کی تائیدات کرنا اور اسرارِ غیبیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبریں بتلانا اور دُعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں اِلہام دینا اور معارف اور حقائقِ اِلٰہیہ سے اِطلاع بخشنا، یہ سب خدا کی شہادت ہے، جس کو قبول کرنا اِیمان داروں کا فرض ہے۔‘‘ انتہیٰ۔
اس بیان میں مؤلفِ براہین نے اور لوگوں پر بھی اپنے اِلہامات کے حجت ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اس لئے کہ اگر ان کا اِلہام اوروں پر حجت نہ ہو تو ان کو قبول کرنا اِیمان داروں پر فرض کیوں ہو؟ کیا غیرحجت کا بھی قبول کرنا اِیمان داروں کا فرض ہوتا ہے؟ اس بیان سے مدعیٔ نبوّت ہونے کے اِلزام کی پہلی دلیل تمام ہوئی۔
دُوسری دلیل یہ ہے کہ مؤلفِ براہین نے اپنے بنائے ہوئے اِلہامی فقرے: ’’جری اللہ فی حلل الأنبیاء‘‘ کی تشریح میں لکھا ہے کہ: ’’اس فقرۂ اِلہامی کے یہ معنی ہیں کہ منصبِ اِرشاد وہدایت اور موردِ وحیٔ اِلٰہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہے، اور ان کے
105
غیر کو بطور مستعار ملتا ہے۔‘‘ انتہیٰ۔
اس لئے کہ جب منصبِ اِرشاد وہدایت اور موردِ وحیٔ اِلٰہی ہونا حلہ انبیاء ہوا تو جو شخص اپنے لئے اس منصب شریف کے حصول کا مدعی ہو، اس کے مدعیٔ نبوّت ہونے میں کیا کلام ہے؟ رہا یہ فقرہ کہ غیرنبی کو بطور مستعار ملتا ہے، اس کا مطلب کماحقہ ذہن نشین نہیں ہوتا، اس لئے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ غیر نبی کو کسی دُوسرے نبی کی اِتباع کے ذریعے سے یہ منصب حاصل ہوتا ہے اور نبی کو بلاتوسط اِتباع دُوسرے کے، یا یہ کہ نبی بعد حصولِ منصب مذکور دُوسرے نبی کا تابع نہیں رہتا اور غیرنبی بعد حصول منصب مذکور بھی کسی نبی کا تابع رہتا ہے، تو یہ تفریق غلط ہے، اس لئے کہ نبی کے نبی ہونے میں نبوّت سے پہلے یا نبوّت سے بعد دُوسرے نبی کا تابع نہ ہونا لغت یا شرع سے مفہوم نہیں ہوتا، بلکہ بہت سے انبیائے بنی اِسرائیل علیہم السلام موسوی شریعت کے تابع تھے، اور خود جناب رسولِ مقبول علیہ السلام کو جابجا اِتباعِ اِبراہیم علیہ السلام کا اِرشاد ہوتا ہے، بلکہ مؤلفِ براہین تو عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موسوی شریعت کا خادم اور تابع قرار دیتے ہیں، اور جو یہ غرض ہے کہ نبی سے یہ منصب مسلوب نہیں ہوسکتا اور غیرنبی سے مسلوب ہوسکتا ہے، پس یہ تفریق بھی غلط ہے، اس لئے کہ نبوّت کی حقیقت میں یہ شرط بھی لغۃً یا شرعاً مفہوم نہیں ہوتی، بلکہ بعض آیات سے مفہوم ہوتا ہے کہ خود انبیاء علیہم السلام سے بھی اس منصب شریف کا مسلوب ہوسکنا مقدور جناب ایزدی ہے، گو اس امر کا وقوع نہیں ہوتا: ’’ اللہ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ‘‘ (الانعام:۱۲۴)۔
اور جو یہ عرض ہے کہ غیرنبی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں شریعت پر عرض کرنے کا محتاج ہے، اور نبی کو اس عرض کی حاجت نہیں، تو اس سے کیا لازم آیا کہ غیرنبی کے وحی یا اِلہام قطعی اور یقینی نہ ہو۔ اوّلاً اس لئے کہ شریعت کا اس لئے اِتباع ضروری ہے کہ وہ من جانب اللّٰہ ہے، جس کا من جانب اللّٰہ ہونا بھی بالواسطہ معلوم ہوتا ہے، اور جب اس غیرنبی کو بھی اپنی وحی کے من جانب اللّٰہ ہونے کا بلاتوسط ظاہری، قطعی اور یقینی طریق سے اِنکشافِ تام ہوگیا تو اب اس کو اپنی وحی کی تصدیق یا اس پر عمل کرنے میں عرضِ شریعت کی حاجت کیا ہے؟ ثانیاً اس لئے کہ اَحکامِ شرعیہ کا جزواعظم احادیثِ صحیحہ ظنی الثبوت اور آیاتِ قرآنیہ ظنی الدلالۃ سے ثابت ہوا ہے، پس چاہئے کہ بالخصوص ان اَحکام پر عرض کرنے کے ملہم غیرنبی کو اَصلاً ضرورت نہ ہو، کیا یقینی الثبوت والدلالۃ کا عملاً یا اِعتقاداً تسلیم کرنا کسی ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ کی شہادت پر موقوف ہوسکتا ہے؟ بلکہ اور صورت عرض پر تقدیر تخالف اس حدیث صحیح اور اس آیت کے مدلول ظاہری کو ملہم غیرنبی کے حق میں ترک کرنا ضروری ہو۔ اس لئے کہ یقینی الثبوت والدلالۃ کے مقابل میں ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس مقام میں یہ کہنا کہ یہ اِلہام واقعی شریعت کے مخالف ہوتا ہی نہیں، غلط ہے، اس لئے کہ اِلہام قطعی کا واقع نہ ہونا تو بے شک مُسلَّم ہے، لیکن مذکورہ بالا اَحادیث سے جن کے موضوع اور خلافِ واقع ہونے کا بھی اِحتمال ہے، اِلہامِ قطعی کا مخالف نہ ہوسکنا غیرمُسلَّم ومن یدعی فعلیہ البیان، اور جو مذکورۃالصدر فقرے سے یہ غرض ہے ہی کہ نبی کو اپنے اِلہام کے فہمِ مطلب میں اِشتباہ اور اِلتباس نہیں ہوتا، برخلاف غیرنبی کے کہ اس کو اپنی وحی کے فہمِ مضمون میں اِشتباہ اور اِلتباس رہتا ہے، تو یہ توجیہ بھی غلط ہے، اس لئے کہ جب اس وحی کے معانی خود منزل علیہ پر مشتبہ ہوئے تو اس اِلہام کے اِلہامِ ہدایت یا اِلہامِ ضلالت ہونے
106
میں اس کی بھی امتیاز ہو، اور اس کے من جانب اللّٰہ ہونے کا کیونکر یقین کیا؟
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا فقرہ نبی اور غیرنبی میں واقعی اور حقیقی اِمتیاز نہیں پیدا کرتا، صرف عوام کی لغزش کھاجانے کے لئے بڑھادیا گیا ہے، اور اس لئے صریح لفظ نبی یا رسول کے اِطلاق سے ہی مؤلف نے کس قدر اِحتیاط کی ہے، ورنہ خواصِّ نبوّت یا رِسالت کے اپنے لئے ثابت کرنے میں میری رائے میں کوئی فروگزاشت نہیں کی ہے، ھٰذا ما یحظر بالبال، و اللہ اعلم بحقیقۃ الحال!
رقمہ العبد الضعیف المفتی محمد عبد اللہ عفا اللہ عنہ
المدرّس الاوّل بالمدرسۃ العالیۃ فی لاہور
گزارشِ مؤلف
باسمہ سبحانہ! اس فتویٰ حرمین محترمین زادہما اللّٰہ تعالیٰ حرمۃ سے جمیع اہلِ اسلام خاص وعام پر بخوبی روشن ہوجائے گا کہ مرزاقادیانی کی براہین احمدیہ والی بلند پروازیوں نے ہی ان کو بہ شہادت مفتیانِ عرب وعجم دائرۂ اسلام سے خارج کردیا ہے، وہ ہرگز اِلہامِ ربانی کے مورَد نہیں، یقینا اِلقائے شیطان کے مصدر ہیں۔ ہرچند فقیر مؤلف کان اللّٰہ لہ نے اِبتدائے ۱۳۰۲ھ سے اوّلاً بذریعہ خط وکتابت، ثانیاً بوسیلہ اِشتہارات بہت کوشش کی کہ مرزاقادیانی مناظرے سے تحقیقِ حق کرکے اسلام میں رخنہ اندازی سے باز آجائیں، مولوی محمد حسین بٹالوی کی تائید پر غرّہ نہ ہوجائیں، مگر بقضائے اِلٰہی مؤثر نہ ہوا۔ تب فقیر نے رسالہ مرقومہ بالا ۱۳۰۳ھ میں حرمین شریفین میں بھیج کر فتویٰ لیا۔ ۱۳۰۵ھ میں جب یہ فتویٰ آیا تب راقم نے امرتسر جاکر مرزاقادیانی کے دوستوں کو دِکھلایا اور ان کی معرفت مرزاقادیانی کو بلوایا کہ وہ بچشمِ خود اس کو ملاحظہ کرکے تائب ہوجائیں تو اس کو شائع نہ کیا جائے گا۔ اس پر مرزاقادیانی نہ آئے۔ فقیر نے بنظر خیرخواہیٔ اسلام اس کے شائع کرنے میں تاخیر کی، شاید مرزاقادیانی روبراہ ہوجائیں۔ پھر مرزاقادیانی نے جب ضروری اِشتہار ۲۶؍مارچ ۱۸۹۱ء مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۰۲ میں اپنے مثیل مسیح ہونے کے دعوے میں کئی علمائے دِین سے مباحث کے واسطے ان کے نام درج کئے اور اَخیر میں فقیر کا نام بھی تحریر کیا، تو اس کے جواب میں فقیر نے رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ میں دو ورقہ اِشتہار شائع کرکے مختصر حال اس فتویٰ کا اور اپنی مستعدی مناظرہ کے لئے ظاہر کی، اور اِدّعائے مثیل مسیح کو بھی باطل کیا۔ ان کی طرف سے اس کا جواب نہ آیا، بعد اَزاں رمضان شریف ۱۳۱۰ھ میں حافظ محمد یوسف ضلع دار نے مرزاقادیانی یا ان کے نائب سے مناظرے کے واسطے تحریک کی، فقیر نے تحریر کردی کہ میں حاضر ہوں، تاریخِ مقرّرہ پر نہ مرزاقادیانی آیا، نہ کوئی نائب ان کا مختارنامہ لے کر آیا، برعکس مولوی محمد احسن امروہی نے فقیر کے فرار کا اِشتہار بنام اِتمام الحجہ شائع کردیا۔ اس کے جواب میں ایک مدرّس مدرسہ قصور نے اوّلاً اس کی تبکیت میں اِشتہار شائع کیا، ثانیاً فقیر نے ۱۳۱۱ھ میں دُوسرا اِشتہار چھپوایا، جس کا حاصل یہ تھا کہ مرزاقادیانی کی پہلی رخنہ اندازی اسلام کے علاوہ جس پر حرمین مکرمین زادہما اللّٰہ تعظیماً سے ان کے بارے میں فتویٰ آچکا ہے، جو انہوں نے دعویٔ مخترعہ مسیحیت میں رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام ازالہ اوہام شائع کئے ہیں، ان میں نبوّت ورِسالت کا کھلاکھلا دعویٰ
107
کردیا ہے، جس سے مولوی محمد حسین بٹالوی جیسے ان کے مؤید اور ثناخواں بھی ان کے سخت مخالف ہوکر واشگاف اور صاف صاف ان کی تکفیر کر رہے ہیں، اور مرزاقادیانی اور محمد احسن امروہی جیسے ان کے مریدوں کو ذرا بھی غیرت نہیں کہ مجمع علماء میں اپنی بریت ظاہر دکھائیں، صرف دھوکے بازیوں سے کام چلا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے جب اس کا جواب بھی کچھ نہ ملا تو فقیر نے اخیر صفر ۱۳۱۱ھ میں اور اِشتہار جاری کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اب مرزاقادیانی کے راہِ راست پر آنے سے مایوس ہوکر وہ فتویٰ حرمین شریفین شائع کیا جاتا ہے، جس سے مرزاقادیانی کی ضلالت وبطالت ظاہر ہوجائے گی، اور نیز ان کے پچھلے رسالوں کے نمبر صفحہ کے حوالوں سے درج کیا گیا، چنانچہ صفحہ:۱۸ توضیح المرام، خزائن ج:۳ ص:۶۰، اور صفحہ:۱۹۲، ۱۹۷، ۶۷۵، ۷۶۸، ۷۶۹، رسالہ ازالہ اوہام، خزائن ج:۳ ص:۱۹۳، ۱۹۶، ۴۶۴، ۵۱۵، سے صاف صاف ان کا دعویٔ نبوّت وِرسالت متحقق ہے، پھر حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مسیح وسلیمان کے معجزوں کو شعبدہ بازی اور بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے درج کئے ہیں۔ اسی ازالہ کے صفحہ:۳۰۲، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴ میں دیکھو اور چار سو نبی کو جھوٹا لکھ دیا اور ان کی وحی میں دخلِ شیطان ثابت کیا ہے۔ اسی ازالہ اوہام کے صفحہ:۶۲۷ سے ۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹ تک دیکھو اور حضرت مسیح کی وفات کے اِدّعا میں قرآن مجید کی آیتوں میں تحریف کرکے کمال دھوکادہی کی ہے۔ جدول مندرجہ صفحہ:۳۳۰ سے ۳۳۲ میں اسی اِزالہ، خزائن ج:۳ ص:۲۶۹،۲۶۸ کو دیکھو۔ اس اِشتہار پر بھی نہ خود مدعیٔ مسیحیت کو، نہ ان کے کسی مرید کو غیرت دامن گیر ہوئی کہ محض علماء میں اپنی بریت کرتے یا اس کا جواب شافی دیتے۔ سچ ہے: ’’الحیاء من الإیمان!‘‘
پھر ربیع الآخر ۱۳۱۱ھ میں جو مرزاقادیانی اپنے جدید سسرال کے ہاں چھاؤنی فیروزپور میں آئے تو کئی مسلمانوں نے ان سے دعویٔ مسیحیت کا ثبوت طلب کیا، اس پر مرزاقادیانی نے مختصر تقریر کے بعد جواب دیا کہ کسی عالم کو ہمارے پاس لے آؤ، ہم ان کی تسلی کردیں گے، پھر جلدی سے قادیان کو سدھارے۔
دُوسری مرتبہ ۱۲؍جمادی الاولیٰ ۱۳۱۱ھ کو جب وہاں آئے تو فقیر کو وہاں کے بعض اہلِ اسلام نے تحقیقِ حق کے لئے بلایا، فقیر نے وہاں جاکر ان کی مذکورہ بالا تصانیف سے ان کا دعویٔ نبوّت، توہینِ انبیاء وغیرہما سب کو دِکھلایا، چنانچہ ان کے بھیجے میں آیا، اس پر انہوں نے مرزاقادیانی سے فقیر کے ساتھ تقریر کرنے کی درخواست کی، جس پر جواب ملا: ہم کو اِلہام ہوا ہے کہ مولویوں سے مباحثہ نہ کریں، تب لوگوں نے کہا کہ: آپ کے کہنے سے ہم نے بلوایا تھا! آخر بعد تکرار بسیار مرزاقادیانی نے بذاتِ خود مناظرہ سے اور اپنے شاگرد ومرید حکیم نورالدین ومحمد احسن امروہی سے بھی درمیان میں بیٹھ کر مباحثہ کرنے سے انکار کیا، اس پر چھاؤنی فیروزپور کے پچّیس معتبر اہلِ اسلام کی شہادت سے مطبع صدائے فیروز میں اِشتہار شائع ہوا کہ واقعی مرزاقادیانی مدعیٔ نبوّت ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کے توہین کنندہ اور جواب دینے سے صریح گریز ہے۔ اس پر جب ان کے سخت مخلص حافظ محمد یوسف مذکور کو یہ شکستِ فاش ناگوار معلوم ہوئی تو پھر وہاں جاکر دُوسری مرتبہ مرزاقادیانی کو مناظرے میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیا، اور امرتسر سے بنام مولوی محمد احسن امروہی اِشتہار جاری کیا کہ مکفِّرینِ مرزاقادیانی دسمبر کی تعطیلوں میں لاہور میں آکر مناظرہ کریں۔ میں مشتہر
108
یا حکیم نورالدین قادیانی مناظرہ کریں گے۔ اس پر فقیر نے مرزاقادیانی سے اِقرار تحریری بشمول جلسہ مناظرہ بذریعہ خط رجسٹری لے کر دو روز قبل اَز تاریخ مقرّرہ وارد لاہور ہوکر دس دن برابر لاہور میں رہا، مرزاقادیانی آئے، نہ دونوں مناظر حاضر پائے، حکیم فضل الدین وبرہان الدین مناظرہ کو آئے، ان سے کہا گیا کہ آپ مرزاقادیانی کا مختارنامہ لے آئیں، فقیر حاضر ہے، پھر آج تک ان کی طرف سے صدائے برنخاست!
اب اللّٰہ تعالیٰ سے سرخ رو ہونے کو یہ رسالہ شائع کیا گیا ہے، عنقریب اس کا دُوسرا حصہ فتح اسلام وتوضیح مرام وازالہ اوہام کی بعض سخت قباحتوں کی تردید جن کا ذِکر اُوپر گزرا ہے، شائع ہوگا، ’’وما توفیقی الا باللہ، علھم توکلت والیہ انیب‘‘! المرقوم ۱۸؍صفر ۱۳۱۲ھ۔
نوٹ:۔۔۔ مولانا غلام دستگیر قصوری نے صفر ۱۳۰۲ھ میں یہ رسالہ تصنیف کیا اور مرزاقادیانی کو اس کی نقل بھجوائی۔ شوال ۱۳۰۳ھ میں اس کا عربی ترجمہ کرکے حرمین شریفین سے تقریظات منگوائیں، اُردو رسالے کا نام ’’تحقیقاتِ دستگیریہ فی رَدّ ہفوات براہینیہ‘‘ اور عربی رسالے کا نام ’’رجم الشیاطین براغلوطات البراہین‘‘ تجویز کیا۔ ۱۳۰۵ھ میں عرب کے علماء سے تصدیقی فتاویٰ حاصل ہوئے، مصنف نے اُردو، عربی رسالہ اور عرب وعجم کے علماء کے تصدیقی فتویٰ جات مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو دِکھائے، اور امرتسر جاکر خود مرزاقادیانی کو اس کے دوستوں کے ذریعے طلب کیا کہ وہ خود آکر ان فتویٰ جات کو دیکھ کر توبہ کرلے۔ مرزاقادیانی نے اس زمانے میں مباہلے کے لئے علماء کو چیلنج دیا تو مولانا نے دو دفعہ پمفلٹ شائع کرکے مرزاقادیانی کو پھر رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ میں دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کرلے، رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ میں مرزاقادیانی کے اسلام لانے سے مایوس ہوکر ان فتویٰ جات کو شائع کرنے کا اِعلان کیا۔
بالآخر ۱۸؍صفر ۱۳۱۲ھ کو یہ عربی، اُردو فتویٰ شائع فرمایا، مصنف کی کمالِ دیانت واضح ہو کہ ۹سال تک متواتر مرزا غلام احمد قادیانی کو قبولِ اسلام کے لئے آمادہ کرتے رہے، اس دوران میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے مرزاقادیانی کی تائید سے دست کش ہوکر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف فتویٰ شائع کردیا تھا، تو حضرت مولانا نے اپنے رسالے کے حاشیہ پر یہ نوٹ لگاکر دُنیا وآخرت کی سرخ روئی حاصل فرمائی:
نوٹ:۔۔۔ چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزاقادیانی کی تائید چھوڑ دی ہے، بلکہ اس کی تکذیب پر کمر باندھا ہے، تو اَب رسالہ رجم الشیاطین میں جو بٹالوی صاحب کی تردید تھی، اس سے وہ بَری الذمہ ہوگئے ہیں۔ خدا کے کلام آیاتِ قرآنی کو کلام غیرہا بنانے کی بھی خود انہوں نے تردید کردی ہے، فالحمد اللہ وھو الھادی! (منہ عفی عنہ، ایڈیشن اوّل ص:۷۰)۔
✨ ☪ ✨
109
فتویٰ علمائے پنجاب وہندوستان
بحق
مرزا غلام احمد ساکن قادیان
از
حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی
110
تعارف
مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے سوال نامہ مرتب کرکے متحدہ ہندوستان کے علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کیا، اور پھر اپنے رسالے اِشاعۃالسنۃ ج:۱۳ شمارہ:۴،۵،۶،۷،۱۱،۱۲ میں شائع کیا۔ سنِ اِشاعت ۸-۱۳۰۷ھ مطابق ۱۸۹۰ء ہے۔ بعد میں اِدارہ سلفیہ لاہور نے ’’پاک وہند کے علمائے اسلام کا اوّلین متفقہ فیصلہ‘‘ کے نام سے محرم ۱۴۰۷ھ مطابق ستمبر ۱۹۸۶ء میں کتابی شکل میں شائع کیا، جو پیشِ خدمت ہے۔
(مرتب)
سوال:۔۔۔ علمائے دِین وحماۃ شرعِ رسولِ امین، مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے حواریوں اور ہم مشربوں کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ جن کے عقائد ومقالات یہ ہیں جو ان کی تصنیفات وتحریرات سے نقل کئے جاتے ہیں اور مزید تحقیق وتصدیق کی غرض سے ان کی اصل تصنیفات وتحریرات بھی شاملِ سوال ہیں۔(۱)
۱:۔۔۔ ملائکہ ستاروں(۲) کی اَرواح ہیں، وہ ستاروں کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں، لہٰذا وہ ان ستاروں سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔
(۱) جہاں سائل خود پہنچا وہاں اصل تصنیفات قادیانی اور ان کے حواریوں کی ساتھ لے گیا، اور ان مضامین کو اصل تصنیفات میں دِکھادیا، بعض جگہ ان سوالات کو بذریعہ ڈاک بھیجا تو وہاں بھی اصل تصنیفاتِ قادیانی کو بھیجا گیا، جن علماء کے پاس اصل تصانیف نہیں پہنچیں، وہ اس شرط سے مطالبہ کریں کہ بعد ملاحظہ ان کو واپس کریں گے تو ان کے پاس اصل تصنیفات اِرسال ہوں گی۔
(۲) یہ عقائد اَز نمبر اَوّل لغایت ہفتم آپ کے رسالہ ’’توضیح المرام‘‘ میں موجود ہیں، جو بہ ترتیب رسالہ نہ بہ ترتیب عقائد مندرجہ سوال نقل کئے جاتے ہیں۔ مرزا نے لکھا ہے کہ: ’’اگر یہ اِستفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوّتِ رُوحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے رُوحانی قوائے میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے، جس کے سلسلے کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اُوپر کو جاتی ہے، نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجے کی دلسوزی اور غم خواریٔ خلق اللّٰہ ہے جو داعی الی اللّٰہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑبخش کر نورانی قوّت کو جو داعی الی اللّٰہ کے نفس پاک میں موجود ہے، ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے، اُوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجے کی محبت قویٰ اِیمان سے ملی ہوئی ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
111
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔ جو اوّل بندہ کے دِل میں بارادۂ اِلٰہی پیدا ہوکر رَبِّ قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہوکر اِلٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑلیتی ہے، ایک تیسری چیز پیدا ہوجاتی ہے، جس کا نام رُوح القدس ہے۔ سو اس درجے کے انسان کی رُوحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جبکہ خداتعالیٰ اپنے اِرادۂ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کردیتا ہے اور اس مرتبے کی محبت میں بطور اِستعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خداتعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی رُوح اس انسانی رُوح کو جو بارادۂ اِلٰہی اب محبت سے بھرگئی ہے، ایک نیا تولد بخشتی ہے، اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی رُوح کو خداتعالیٰ کی رُوح سے نافخ المحبت سے اِستعارہ کے طور پر اِبنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ رُوح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دِل میں پیدا ہوتی ہے، اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے بطور اِبن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے۔‘‘ (توضیح المرام ص:۲۱،۲۲، خزائن ج:۳ ص:۶۱،۶۲)
مرزا نے لکھا ہے: ’’اور یہ کیفیت جو ایک آتش فروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہوجاتی ہے اس کو رُوحِ امین کے نام سے بولتے ہیں، کیونکہ یہ ایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر ایک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدیدالقویٰ بھی ہے، کیونکہ یہ اعلیٰ درجے کی طاقت وحی ہے جن سے قوی تروحی متصوّر نہیں اور اس کا نام ذوالافق الاعلیٰ بھی ہے کیونکہ یہ وحی اِلٰہی کے اِنتہائی درجے کی تجلی ہے۔‘‘(توضیح المرام ص:۲۵، خزائن ج:۳ ص:۶۴)
اور مرزا نے لکھا ہے: ’’مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو اِستعارہ کے طور پر اِبنیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔‘‘(توضیح المرام ص:۲۷، خزائن ج:۳ ص:۶۴)
مرزا نے لکھا ہے: ’’اس جگہ اس بات کا بیان کرنا بھی بے موقع نہ ہوگا کہ جو کچھ ہم نے رُوح القدس اور رُوح الامین وغیرہ کی تعبیر کی ہے، یہ درحقیقت ان عقائد سے جو اہلِ اسلام ملائک کی نسبت رکھتے ہیں منافی نہیں ہے، کیونکہ محققین اہلِ اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اُترتے ہیں اور یہ خیال بہ بداہت عقل باطل بھی ہے ۔۔۔۔ مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سیکنڈ میں ہزارہا لوگوں کی جانیں نکالتا ہے، جو مختلف بلاد وامصار میں ایک دُوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلے پر رہتے ہیں، اگر ہر ایک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کہ اوّل پیروں سے چل کر اس کے ملک اور شہر اور گھر میں جائے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سیکنڈ کیا، اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینوں کی مہلت بھی کافی نہیں ہوسکتی، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کرکے ایک طرفۃالعین میں یا اس کے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آئے، ہرگز نہیں۔‘‘(توضیح المرام ص:۲۹، خزائن ج:۳ ص:۶۶،۶۷)
مرزا نے لکھا ہے: ’’پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے، اسی طرح رُوحانیتِ سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوسِ فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اِصطلاحات کے موافق اَرواح کواکب سے ان کو نامزد کریں، یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللّٰہ کا ان کو لقب دیں درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے نظام میں مستقر اور قرارگیر ہے ۔۔۔۔۔ جیسے ہمارے اجسام اور ہماری تمام ظاہری قوتوں پر آفتاب اور ماہتاب اور دیگر سیاروں کا اثر ہے، ایسا ہی ہمارے دِل اور دِماغ اور تمام رُوحانی قوتوں پر یہ سب ملائک ہماری مختلف اِستعدادوں کے موافق اپنااپنا اثر ڈال رہے ہیں۔‘‘(توضیح المرام ص:۳۲ تا ۳۴، خزائن ج:۳ ص:۶۷،۶۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
112
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔
مرزا نے لکھا ہے: ’’اگر ان نفوسِ طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کرلیا جائے تو پھر ان کے تمام قویٰ میں فرق پڑجائے گا، انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خداتعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی (مگر اس جگہ تشبیہ کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہوجانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پاجانا لازمی وضروری امر ہے، اور آج تک کسی نے اس امر میں اِختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کواکب پائے جاتے ہیں، وہ کائنات الارض کی تکمیل وتربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں ۔۔۔۔۔ تمام نباتات وجمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دِن رات اثر پڑرہا ہے۔‘‘(توضیح المرام ص:۳۸، خزائن ج:۳ ص:۷۰،۷۱)
مرزا نے لکھا ہے: ’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک رُوح رکھتے ہیں، جن کو نفوسِ کواکب سے بھی نامزد کرسکتے ہیں، اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں، جو زمین کی ہر ایک چیز پر حسبِ اِستعداد اَثر ڈال رہے ہیں، ایسا ہی ان کے نفوسِ نورانیہ میں بھی انواعِ اقسام کے خواص ہیں جو باذنِ حکیمِ مطلق کائنات الارض کے باطن پر اپنا اثر ڈالتے ہیں، اور یہی نفوسِ نورانیہ کامل بندوں پر بشکلِ جسمانی متشکل ہوکر ظاہر ہوجاتے ہیں، اور بشری صورت سے متمثل ہوکر دِکھائی دیتے ہیں۔‘‘(توضیح المرام ص:۴۰، خزائن ج:۳ ص:۷۱،۷۲)
مرزا نے لکھا ہے: ’’جس قدر اَرواح واَجسام اپنے کمالاتِ مطلوبہ تک پہنچتے ہیں، ان سب پر تأثیراتِ سماویہ کام کررہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی اِستعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے، مثلاً: جبرائیل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیّر سے تعلق رکھتا ہے، اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں، انہی خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لئے جاتے ہیں، سو وہ فرشتہ اگرچہ ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحیٔ اِلٰہی سے مشرف کیا گیا ہو (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثراَندازی کے طور پر ہے، نہ واقعی طور پر، یاد رکھنی چاہئے) لیکن اس کے نزول کی تأثیرات کا دائرہ مختلف اِستعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی، بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہوجاتا ہے۔‘‘(توضیح المرام ص:۶۷،۶۸، خزائن ج:۳ ص:۸۶)
مرزا نے لکھا ہے: ’’اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقتران محبتین رُوح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے، معاً اس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے، یا یوں کہو کہ اس وقت جبرائیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دِل میں ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے، تب جیسے اس فرشتے کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے، اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوجاتا ہے، یا مثلاً اس فرشتہ کا نام رُوح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی رُوح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے، بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینۂ قلب میں نمودار ہوجاتا ہے، مثلاً جب تم نہایت مصفی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دوگے تو موافق دائرہ اور مقدار اس آئینے کے تمہاری شکل کا عکس بلاتوقف اس میں پڑے گا، یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہوکر آئینے میں رکھ دیا جائے گا، بلکہ اس جگہ رہے گا جہاں رہنا چاہئے، صرف اس کا عکس پڑے گا، بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینۂ قلب کی ہوگی، اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا ۔۔۔۔۔ مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشے میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوتا ہے، تو اگرچہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گا مگر ہر ایک عضو اپنی اصل مقدار سے نہایت چھوٹا ہوکر نظر آئے گا، لیکن اگر تم اپنے چہرے کو ایک بڑے آئینے میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے اِنعکاس کے لئے کافی ہے تو تمہارے تمام نقوش اور اعضا چہرے کے اپنے اصلی مقدار پر نظر آجائیں گے۔‘‘(توضیح المرام ص:۷۰، خزائن ج:۳ ص:۸۷،۸۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
113
۲:۔۔۔ جبرائیل جس کا سورج سے تعلق ہے وہ بذاتِ خود اور حقیقۃً زمین پر نہیں اُترتا، اس کا نزول جو شرع میں وارِد ہے، اس سے اس کی تأثیر کا نزول مراد ہے، اور جو صورت جبرائیل وغیرہ فرشتوں کی انبیاء دیکھتے تھے، وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی جو انبیاء کے خیال میں متمثل ہوجاتی تھی، جیسے آئینے میں دیکھنے والے کی صورت متمثل ہوجاتی ہے۔
۳:۔۔۔ ملک الموت بھی بذاتِ خود زمین پر اُتر کر قبضِ اَرواح نہیں کرتا، بلکہ اس کی تأثیر سے قبضِ اَرواح ہوتا ہے۔
۴:۔۔۔ دُنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، نجوم کی تأثیرات سے ہو رہا ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا نے لکھا ہے: ’’جب جبرائیلی نور خداتعالیٰ کی کشش اور تحریک اور نفخۂ نورانیہ سے جنبش میں آجاتا ہے تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو رُوح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے، محب صادق کے دِل میں منقش ہوجاتی ہے، اور اس کی محبتِ صادقہ کا ایک عرض لازم ٹھہر جاتی ہے، تب یہ قوّت خداتعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کان کا فائدہ بخشتی ہے اور اس کے عجائبات کے دیکھنے کے لئے آنکھوں کے قائم مقام ہوجاتی ہے، اور اس کے اِلہامات زبان پر جاری ہونے کے لئے ایک ایسی محرک حرارت کا کام دیتی ہے جو زبان کے پہیے کو زور کے ساتھ اِلہامی خط پر چلاتی ہے۔‘‘(توضیح المرام ص:۷۹، خزائن ج:۳ ص:۹۲)
اور مرزا نے لکھا ہے: ’’اس جگہ میں ان لوگوں کا وہم بھی دُور کرنا چاہتا ہوں جو ان شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں جو اولیاء اور انبیاء کے اِلہامات اور مکاشفات کو دُوسرے لوگوں کی نسبت کیا خصوصیت ہوسکتی ہے، کیونکہ اگر نبیوں اور ولیوں پر اُمورِ غیبیہ کھلتے ہیں تو دُوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں، بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں، اور بعض پرلے درجے کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی خاص درجے کے آدمی تصوّر کرتے ہیں، ایسے ایسے بدچلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں چھٹے ہوئے اور شہرۂ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی؟ سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ درحقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے، وہ سب دُرست اور صحیح ہے، اور جبریلی نور کا چھیالیسواں حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے، جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجے کا بدکار بھی باہر نہیں، بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربے میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجے کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے، جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے، کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ ترتعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر وآشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے، کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ جبریلی نور جو آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈکوارٹر ہے، تمام معمورۂ عالم پر حسبِ اِستعداد ان کے اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر دُنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو، کم سے کم ایک ذرا سی محبت وطنِ اصلی اور محبوبِ اصلی کی ادنیٰ سی ادنیٰ سرشت میں بھی ہے، اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقع ہے بھی۔‘‘(توضیح المرام ص:۸۴، خزائن ج:۳ ص:۹۴،۹۵)
ان عبارات سے جیسے عقائد میرزائی کی اَز نمبر:۱، لغایت:۷ تصدیق ہوئی، ویسی ہی یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مرزا کے نزدیک نبوّت اور وحی کی وہی حقیقت ہے جو نیچریوں اور برہم سماج والوں نے بیان کی ہے کہ نبوّت ایک نیچرل اَمر ہے، جس سے کوئی فرد خالی نہیں ہے، یہاں تک کہ ناچنے والی کسبی (رنڈی) بھی اس سے محروم نہیں، اور وحی لانے والا فرشتہ باہر سے نہیں آتا، بلکہ صاحبِ وحی کے دِل ودِماغ ہی سے وہ پیدا ہوتا ہے اور جبریل یا رُوح القدس اسی کی ایک صفت کا نام ہے، وعلیٰ ھٰذا القیاس!
114
۵:۔۔۔ رُوح القدس، رُوح الامین، شدیدالقویٰ، ذُوالافق الاعلیٰ، جن کا ذِکر شرع میں وارِد ہے، وہ انسان ہی کی ایک صفت ہے، جو خدا کی محبت اور اس کے محبوب انسان کی محبت کے باہم ملنے سے متولد ہوتی ہے۔
۶:۔۔۔ ان دونوں محبتوں اور ان کے متولد نتیجہ (رُوح القدس) کا مجموعہ پاک تثلیث ہے۔
۷:۔۔۔ آپ (مرزا) کو اور حضرت مسیح بن مریم کو اِستعارہ کے طور پر اِبن اللّٰہ کہہ سکتے ہیں۔
۸:۔۔۔ آپ ایک معنی سے نبی ہیں،(۱) کیونکہ آپ محدث ہیں، جن سے خداتعالیٰ باتیں کرتا ہے، اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے، ختمِ نبوّت کا جو قرآن میں ذِکر ہے، تو اس سے ایسی نبوّت مراد ہے جو حاملِ وحیٔ شریعت اور جمیع اقسامِ وحی کی جامع ہو، نہ مطلق نبوّت۔
(۱) مرزا نے لکھا ہے: ’’اس جگہ اگر یہ اِعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہئے، کیونکہ مسیح نبی تھا، تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سیّد ومولا نے نبوّت شرط نہیں ٹھہرائی، بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعتِ فرقانی کا پابند ہوگا، اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا اِمام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے محدث ہوکر آیا ہے، اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے، گو اس کے لئے نبوّتِ تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہے، کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے، اُمورِ غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخلِ شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے، اور مغزِ شریعت اس پر کھولا جاتا ہے، اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مامور ہوکر آتا ہے، اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآوازِ بلند ظاہر کرے اور اس سے اِنکار کرنے والا ایک حد تک مستوجبِ سزا ٹھہرتا ہے، اور نبوّت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اُمورِ متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں، اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ بابِ نبوّت مسدود ہے، اور وحی جو اَنبیاء پر نازل ہوتی ہے، اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ بابِ نبوّت مسدود ہوا ہے، اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے، بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوّت کا اس اُمتِ مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے، مگر اس بات کو بحضورِ دِل یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نبوّت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا، نبوّتِ تامہ نہیں، بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوّت ہے جو دُوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو اِنسانِ کامل کی اِقتدا سے ملتی ہے، جو مستجمع جمیع کمالاتِ نبوّتِ تامہ ہے، یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیّدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فاعلم ارشدک اللہ تعالٰی ان النبی محدث والمحدث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوۃ وقد قال رسول اللہ صلی ا اللہ علیہ وسلم: لم یبق من النبوۃ إلَّا المبشرات، ای لم یبق من انواع النبوۃ إلَّا نوع واحد وھی المبشرات من اقسام الرؤْیا الصادقۃ والمکاشفات الصحیحۃ والوحی الذی ینزل علٰی خواص الأولیاء والنور الذی یتجلی علٰی قلوب قوم موجع فانظر أیھا الناقد البصیر الفھیم ایفھم من ھٰذا سد باب النبوۃ علٰی وجھہ کلی بل الحدیث یدل علٰی ان النبوۃ التامۃ الحاملۃ لوحی الشریعۃ قد انقطعت ولٰکن النبوۃ التی لیس فیھا إلَّا (باقی اگلے صفحے پر)
__________________________
۱ ان دونوں مقام میں آپ کی عربی دانی ثابت ہوتی ہے، پہلی جگہ ’’ھٰذا‘‘ معرفہ کی صفت جملہ نکرہ (سد باب النبوۃ) لائے ہیں، اور اگر یہ جملہ صلہ ہے تو اس کا موصول (الذی) ندارد ہے۔ دُوسری جگہ صلہ موصول کا صدر ندارد ہے۔ حق عبارت یہ تھا: ’’واما النبوۃ التی ھی تامۃ‘‘ جس شخص کا عربیت میں یہ مبلغِ علم ہوگا، وہ قرآن وحدیث سے کیا اِستخراجِ دقائق ومعارف کرے گا؟ اگر کہو کہ اِلہام وعلمِ لدنی اس کا مددگار ہوگا، تو کہا جائے گا کہ وہ اِلہام علمِ لدنی صحتِ الفاظ میں کیوں اس کا مددگار نہ ہوا؟ اور ایسی فاش غلطیوں سے اس کو کیوں نہ بچاسکا۔۔۔؟
115
۹:۔۔۔ آنے والے مسیح بن مریم جن کی بشارت حدیثوں میں وارِد ہے، اور اہلِ اسلام کو ان کا اِنتظار تھا، وہ آپ ہی ہیں،(۱) نہ عیسیٰ بن مریم اِسرائیلی نبی، کیونکہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور بعد اس کے وہ فوت ہوکر بہشت میں داخل ہوگیا ہے، لہٰذا اب وہ دنیا میں نہیں آسکتا۔
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فقد آمنا بانقطاعھا من یوم نزل فیہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النَّبیّٖن۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۷ تا ۲۰، خزائن ج:۳ ص:۵۹ تا ۶۱)
اب اور اس سے بڑھ کر سنیے! مرزا اپنی کتاب ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی کرکے ہی بیان کیا گیا ہے، مگر اس کو اُمتی کرکے بھی تو بیان کیا گیا ہے ۔۔۔۔ اب ان تمام اِشارات سے صاف ظاہر ہے کہ واقعی اور حقیقی طور پر نبوّتِ تامہ کے صفت سے متصف نہیں ہوگا، ہاں نبوّتِ ناقصہ اس میں پائی جائے گی، جو دُوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے، اور نبوّتِ تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے، سو یہ بات کہ اس کو اُمتی بھی کہا اور نبی بھی، اس بات کی طرف اِشارہ ہے کہ دونوں شاخیں اُمتیت اور نبوّت اس میں پائی جائیں گی جیسا کہ محدث میں ان دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے، لیکن صاحبِ نبوّتِ تامہ تو صرف ایک شانِ نبوّت ہی رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے، اس لئے خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھا اور نبی بھی۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۵۳۲، خزائن ج:۳ ص:۳۸۶) اس عبارت میں تو مرزا نے اپنے آپ کو کھلا نبی کہہ دیا ہے۔
اب اس سے بڑھ کر سنیے! رسالہ اِزالہ آپ نے چھپوایا تو اسی کے سرورق پر صاف لکھوادیا ہے: ’’از تصانیف مرسل یزدانی مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ (اِزالہ اوہام ٹائٹل، خزائن ج:۳ ص:۱۰۱) اس میں تو آپ نے رِسالت کا بھی دعویٰ کیا ہے، اور یہ بتادیا کہ آپ خدا کے رسول بھی ہیں۔ اس صورت میں آپ کا شعر: ’’من نیستم رسول ونیا وردہ ام کتاب‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۱۷۸، خزائن ج:۳ ص:۱۸۵) منقول ہے، دعوائے رِسالت سے اِنکار کرنا صرف مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے، درحقیقت آپ کو رِسالت کا بھی دعویٰ ہے، شاید چند مدّت کے بعد کسی کتابِ آسمانی کا بھی اِدّعا ہو۔۔۔!
اس سے بھی اور بڑھ کر سنیے! اِزالہ کے صفحہ:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳ میں اپنے رسول مبشر بزبان حضرت عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور صاف لکھ دیا ہے کہ قرآن کی آیت: ’’ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں آپ ہی کی بشارت مراد ہے، نہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی۔‘‘ اصل عباراتِ اِزالہ آگے منقول ہوں گی۔
________________________
(۱) مرزا نے لکھا ہے: ’’سجدات بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا اِنتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزرگئے اور بے شمار رُوحیں اس کے شوق ہی میں سفر کرگئیں، وہ وقت تم نے پالیا ۔۔۔۔۔ میں وہی ہوں جو وقت پر اِصلاحِ خلق کے لئے بھیجا گیا تادِین کو تازہ طور پر دِلوں میں تازہ کردیا جائے۔‘‘
(فتح اسلام ص:۹،۱۰، خزائن ج:۳ ص:۹،۱۰)
اور مرزا نے لکھا ہے: ’’مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے، چاہو تو قبول کرو۔‘‘ (فتح اسلام ص:۱۵، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۰)
اور اس کے صفحہ:۲۵ میں لکھا ہے: ’’بلکہ ایک دفعہ اس کو اپنے زعم میں صلیب پر چڑھاکر قتل کردیا، مگر چونکہ ہڈی نہیں توڑی گئی تھی، اس لئے وہ ایک خوش اِعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایامِ زندگی بسر کرکے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔‘‘
(فتح اسلام ص:۲۵، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۰)
اور مرزا نے رسالہ اِزالہ صفحہ:۳۸، خزائن ج:۳ ص:۲۲ میں مسیح کا سولی پر چڑھایا جانا اس تفصیل وتشریح سے بیان کیا ہے جو سیّد احمد خان کی تفسیر جلد چہارم کے صفحہ:۴۱ میں موجود ہے۔
116
۱۰:۔۔۔ آنے والے مسیح کی جو صفات احادیث میں وارِد ہیں کہ وہ ابنِ مریم ہوگا، اور وہ دمشق کے منارہ شرقی کے پاس نزول کرے گا اور دو زَرد کپڑے پہنے ہوئے ہوگا، اور وہ دجال یک چشم کو ہلاک کرے گا، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور وہ خنازیر کو قتل کرے گا، اور اس کے وقت میں مال کثرت سے ہوگا، وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائے گا تو کوئی قبول نہ کرے گا، کافر اس کی خوشبو سے مرجائے گا اور اس کے وقت میں یأجوج مأجوج کا خروج ہوگا، وغیرہ وغیرہ، ان میں بعض صفات صحیح نہیں، اور جن احادیث میں ان کا ذِکر ہے، وہ موضوع ہیں،(۱) اور بفرضِ صحت کل یہ صفات سب کی سب بحسبِ تأویل وتفصیل ذیل آپ میں پائے جاتے ہیں، مثلاً: اس
(۱) ’’موضوعیت احادیث‘‘ بعض صفاتِ مسیح کا دعویٰ آپ کی تصنیفاتِ کتاب میں بہت جگہ پایا جاتا ہے۔ مرزا لکھتے ہیں: ’’خیالِ مذکور (یعنی حضرت مسیح کا زِندہ آسمان پر موجود ہونا) جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے، صحیح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام ونشان نہیں، بلکہ احادیثِ نبویہ کی غلط فہمی کا ایک غلط نتیجہ ہے۔ جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگادئیے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۰، خزائن ج:۳ ص:۵۶)ؤ
اور اِزالہ اوہام میں لکھا ہے: ’’اور اس مقام میں زیادہ تر تعجب کی یہ جگہ ہے کہ اِمام مسلم صاحب تو یہ لکھتے ہیں کہ دجال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، مگر یہ دجال تو انہیں کی حدیث کی رو سے مشرف باسلام ہوگیا۔ پھر مسلم صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجالِ معہود بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہوتی ہے، مشرق مغرب میں پھیل جائے گا، مگر یہ دجال جب مکہ سے مدینہ کی طرف گیا تو ابوسعید سے کچھ زیادہ نہیں چل سکا، جیسا کہ مسلم کی حدیث سے ظاہر ہے، ایسا ہی کسی نے اس کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے کہ دجال کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوگا تو پھر اَوائل دِنوں میں ابنِ صیاد کی نسبت خود آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کیوں شک اور تردّد میں رہے اور کیوں یہ فرمایا۱ کہ شاید یہی دجالِ معہود ہو اور یا شاید کوئی اور ہو۔ گمان کیا جاتا ہے کہ شاید اس وقت تک ک ف ر اس کی پیشانی پر نہیں ہوگا۔ میں سخت متعجب اور حیران ہوں کہ اگر سچ مچ دجالِ معہود آخری زمانے میں پیدا ہونا تھا، یعنی اس زمانے میں کہ جب مسیح بن مریم ہی آسمان سے اُتریں تو پھر قبل اَزوقت یہ شکوک اور شبہات پیدا ہی کیوں ہوئے؟ اور زیادہ تر عجیب یہ کہ ابنِ صیاد نے کوئی ایسا کام بھی نہیں دِکھایا کہ جو دجالِ معہود کی نشانیوں میں سے سمجھا جاتا ہے، یعنی یہ کہ بہشت اور دوزخ کا ساتھ ہونا اور خزانوں کا پیچھے پیچھے چلنا اور مُردوں کا زِندہ کرنا اور اپنے حکم سے مینہ برسانا اور کھیتوں کو اُگانا اور ستر باع کے گدھے پر سوار ہونا۔ اب بڑی مشکلات درپیش آتی ہیں کہ اگر ہم بخاری اور مسلم کی ان حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجال کو آخری زمانے میں اُتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں ان کی موضوع ٹھہرتی ہیں، اور اگر ان حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر ان کا موضوع ہونا ماننا پڑتا ہے، اگر یہ متعارض اور متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں، صرف دُوسری صحیحوں میں ہوتیں تو شاید ہم ان دونوں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کرکے ان دُوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے، مگر اب مشکل تو یہ آپڑی ہے کہ انہیں دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسموں کی حدیثیں موجود ہیں۔ اب ہم جب ان دونوں قسم کی حدیثوں پر نظر ڈال کر گردابِ حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ کس کو صحیح سمجھیں اور کس کو غیرصحیح؟ تب عقلِ خداداد ہم کو یہ طریق فیصلہ کا بتاتی ہے کہ جن احادیث پر عقل اور شرع کا کچھ اِعتراض نہیں، انہیں کو صحیح سمجھنا چاہئے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۲۴ تا ۲۲۷، خزائن ج:۳ ص:۲۱۲ تا۲۱۴)
________________________
۱ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ کہیں نہیں فرمایا، یہ قادیانی کا محض اِفترا ہے۔
117
کے ابنِ مریم ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ ابنِ مریم کی خاصیت پر(۱) اور اس کا مثیل ہوگا، اور اس کے نزول سے رُوحانی نزول مراد ہے اور دمشق کے شرقی منارہ سے قادیان کی مسجد کا منارہ(۲) مراد ہے جو دمشق کی جانب مشرق میں واقع ہوا ہے، اور زَرد کپڑوں سے مراد یہ ہے کہ اس کی حالتِ صحت(۳) اچھی نہ ہوگی (جو آپ میں موجود ہے کہ ہمیشہ بیمار رہتے ہیں)۔
(۱) مرزا نے لکھا ہے: ’’اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اور خاصیت مسیح بن مریم کی پاکر اس زمانے کی مانند اور اسی مدّت کے قریب قریب جو کلیم اوّل کے زمانے سے مسیح بن مریم کے زمانے تک تھی، یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اُترا اور وہ اُترنا رُوحانی طور پر تھا، جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللّٰہ کی اِصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے۔‘‘ (فتح اسلام ص:۱۱، خزائن ج:۳ ص:۸)
مرزا کا ایک حواری اپنے رسالے ’’قولِ فصیح‘‘ کے صفحہ:۲ میں کہتا ہے: ’’وہ اسی زمین پر چلتا پھرتا ہے، مگر ظاہر محدود نگاہوں کے نزدیک حقیقت میں وہ معمورۂ عالم سے باہر آسمانوں پر مقیم ہے، وہ زمین کی آنکھ میں چارپائی پر بستر بچھائے سوتا ہے، مگر اس کی پاک رُوح پورے اٹھارہ سال۱ دورہ آسمانوں کا کرآتی ہے۔‘‘
(۲) مرزا نے اِزالہ اوہام میں لکھا ہے: ’’ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ جس کے ساتھ میرا مکان ملحق ہے، اِلہامی طور پر معلوم کرنا چاہی تو مجھے اِلہام ہوا: ’’مبارک ومبارک وکل امر مبارک یجعل فیہ‘‘ یہ وہی مسجد ہے جس کی نسبت میں اپنے رسالے میں لکھ چکا ہوں کہ میرا مکان اس قصبے کی شرقی طرف آبادی کے آخری کنارے پر واقع ہے، اس مسجد کے قریب اور اس شرقی منارہ کے نیچے جیسا کہ ہمارے سیّد ومولیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کا مفہوم ہے، صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔‘‘ (ازالہ اوہام ص:۱۸۵، خزائن ج:۳ ص:۱۹۰)
اور اِزالہ میں ہے:
از کلمۂ منارہ شرقی عجب مدار
چوں خود زمشرق است تجلی نیّرم
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ۲ کجاست تابنہ پابہ منبرم
(ازالہ اوہام ص:۱۵۸، خزائن ج:۳ ص:۱۸۰)
(۳) اِزالہ اوہام میں لکھا ہے: ’’اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اُترے گا، اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی، یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اس نے پہنے ہوئے ہوں گے، یہ اس بات کی طرف اِشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۱۹، خزائن ج:۳ ص:۲۰۹)
________________________
۱ جیسا کہ عام اہلِ اسلام کا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت معراج کی رات اس دورہ کرنے کا اِعتقاد ہے۔
۲ اس کلمے سے جو حضرت عیسیٰ کی توہین مفہوم ہوتی ہے، وہ علماء اہلِ افتاء کی توجہ کے لائق ہے، کیونکہ منبر سے مراد مرتبہ ہے، نہ لکڑی یا پتھر کا میز، اس لئے کہ یہ میز آپ نہیں رکھتے اور نہ کبھی اس پر بیٹھنا ان کو آج تک نصیب ہوا ہے۔ لہٰذا اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ کہاں؟ یعنی کیا رُتبہ رکھتا ہے؟ کہ وہ میرے منبر یعنی رُتبے کو پہنچ سکے۔۔۔!
118
اور دجال سے دُنیاپرست ایک چشم جو دِین کی آنکھیں نہیں رکھتے(۱) مراد ہیں، اور ان کے قتل سے ان کا حجت ودلیل سے مغلوب کرنا جو آپ کر رہے ہیں۔ یا دجال سے بااقبال قومیں (یعنی انگریز وغیرہ) مراد ہیں، اور اس کے گدھے سے ریل گاڑی مراد ہے، سو ان لوگوں کو آپ دلائل سے مغلوب کر رہے ہیں۔
اور صلیب توڑنے سے اِعتقادِ صلیبی کو پاش پاش کرنا مراد ہے،(۲) جو آپ کر رہے ہیں، نہ ہاتھ یا ہتھوڑے سے صلیب کو توڑنا، اور خنازیر سے خنزیر صفت(۳) انسان مراد ہیں، اور ان کے قتل سے ان کا مغلوب کرنا، جو آپ کر رہے ہیں، نہ ظاہری خنزیروں کا جنگلوں میں شکار کرتے پھرنا جو کسی نبی کی شان نہیں ہے۔
اور مال کے بہت ہوجانے اور کسی کے اس مال کو قبول نہ کرنے سے(۴) یہ مراد ہے جو آپ سے ہو رہا ہے کہ آپ مخالفینِ اسلام کو مقابلۂ اِسلام پر اِشتہار کے ذریعے سے روپیہ دینے کا وعدہ کر رہے ہیں اور کوئی شخص وہ روپیہ نہیں لیتا اور نہ اس کا مقابلہ کرتا ہے، یہ ہی مقابلے سے عاجز(۵) آنا کفار کی موت ہے جو آنے والے مسیح کی خوشبو کے لئے لازمی صفت ٹھہرائی گئی ہے، اور وہ آپ
(۱) فتح الاسلام میں لکھا ہے: ’’اور ہر ایک حق پوش دجال دُنیاپرست یک چشم جو دِین کی آنکھ نہیں رکھتا، حجتِ قاطعہ کی تلوار سے قتل کیا جائے گا۔‘‘
(فتح اسلام ص:۱۴، خزائن ج:۳ ص:۱۰)
اور مرزا لکھتے ہیں: ’’مگر ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد بااقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزارہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہیں۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۱۴۶، خزائن ج:۳ ص:۱۷۴)
(۲،۳) فتح الاسلام میں لکھا ہے: ’’اور اسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تاصلیبی اِعتقاد کو پاش پاش کردیا جائے، سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کو قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (فتح اسلام ص:۱۷، خزائن ج:۳ ص:۱۱)
اور ’’توضیح مرام‘‘ میں کہتا ہے کہ: ’’صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں، بلکہ رُوحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اس کا بطلان ثابت کرکے دِکھادینا مراد ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں، وہ زورِ حجت اور دلیل سے مغلوب کئے جائیں گے اور دلائل بینہ کی تلوار انہیں قتل کرے گی، نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کرتا پھرے گا۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۳، خزائن ج:۳ ص:۵۷)
(۴، ۵) یہ دونوں مرادیں ایک خاص اور نئے حواری محمد احسن امروہی ملازم ریاست بھوپال نے آپ کی ’’رُوح المقدس‘‘ سے ’’فیض‘‘ پاکر اور قدر قادیانی سے مستفیض ہوکر بیان کی ہیں۔ چنانچہ اس کے رسالہ اعلام الناس حصہ اوّل صفحہ:۵ میں ہے: ’’چھٹی صفت اس کی یہ ہے کہ لوگوں کو مال کی طرف بلائے گا اور کوئی قبول نہ کرے گا۔ پڑھو اس حدیث کو: لَیَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا یَقْبُلُہٗ اَحَدٌ، تم سمجھے اس کے کیا معنی ہیں؟ ایک معنی یہ بھی ہیں جو ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ اس مسیحِ وقت نے اوّل تو دس ہزار روپیہ کا اِشتہار مندرجہ براہین احمدیہ تمام دُنیا کے اطراف میں مشتہر کیا ہے، اور ثانیاً پانچ سو روپے کا اِشتہار مندرج کحل الجواہر شائع کیا ہے، اور ثالثاً ہر ایک پادری کلاں کو دو سو روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ فرماتے ہیں۔‘‘ اور اس کتاب کے صفحہ:۵۹ میں کہا ہے: ’’نواں نشان اس کا یہ ہے کہ کوئی مخالف اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا، ہرچند کہ اِشتہار دئیے جاتے ہیں کہ اگر تم کو شک ہو مقابلے کے لئے آؤ، لیکن کوئی مخالف مقابلے پر نہیں آتا، اس کے مقابلے سے ہر مخالف پر موت ہی آجاتی ہے۔ صدق رسولہ الکریم فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہ الا مات و نفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ رواہ مسلم۔‘‘
119
(مرزا) میں موجود ہے۔ اور یأجوج مأجوج سے انگریز(۱) اور رُوس مراد ہیں، جو آپ کے وقت میں موجود ہیں۔ اور آنے والے مسیح کی بعض صفات ایسی بیان ہوئی ہیں کہ وہ حضرت مسیح بن مریم اِسرائیلی نبی میں پائی نہیں جاتیں، وہ صرف آپ ہی میں متحقق ہیں، جس سے یقین ہوتا ہے کہ وہ آنے والے مسیح آپ ہیں، نہ عیسیٰ بن مریم اِسرائیلی نبی، مثلاً:
۱:- اس کا گندم رنگ ہونا اور اس کے بالوں کا سیدھا ہونا جو آپ ہی(۲) میں پایا جاتا ہے، کیونکہ حضرت مسیح بن مریم تو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے گھونگر والے بال تھے۔
۲:-آنے والے مسیح کو احادیث میں ایک مرد(۳) مسلمان، مسلمانوں کا اِمام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت بتایا گیا ہے، جو آپ ہی میں پایا جاتا ہے۔
(۱) یہ مراد پہلے تو آپ نے مسیحِ موعود بننے سے پیشتر ایک حواری حکیم نورالدین جمونی بھیروی کے ذریعے سے اس کے رسائل ’’فصل الخطاب‘‘ و ’’تصدیق براہین احمدیہ‘‘ میں مشتہر کرائے اور اس سے گویا آپ نے مسیحِ موعود بننے کی پٹڑی جمائی تھی، پھر جب دیکھا کہ یہ مراد ان کے حواریوں میں تسلیم کی گئی ہے اور اس سے ان کو وحشت نہیں ہوئی تو خود اس مراد کا اِظہار کردیا اور اپنی کتاب اِزالہ میں لکھ رہا ہے: ’’ان دونوں قوموں سے مراد انگریز ورُوس ہیں۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۵۰۸، خزائن ج:۳ ص:۳۷۳)
(۲،۳) توضیح مرام میں مرزا نے لکھا ہے: ’’ختم المرسلین نے مسیحِ اوّل اور مسیحِ ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیحِ ثانی ایک مرد مسلمان ہوگا، اور شریعتِ قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم وصلوٰۃ وغیرہ اَحکامِ فرقانی کا پابند ہوگا اور مسلمانوں میں پیدا ہوگا اور ان کا اِمام ہوگا اور کوئی جداگانہ دِین نہ لائے گا، اور کسی جداگانہ نبوّت کا دعویٰ نہیں کرے گا، بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیحِ اوّل اور مسیحِ ثانی کے حلیہ میں بھی فرقِ بیّن ہوگا، چنانچہ مسیحِ اوّل کا حلیہ جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ گھونگریالے بال اور سینہ کشادہ ہے، دیکھو صحیح بخاری صفحہ:۴۸۹ لیکن اسی کتاب میں مسیحِ ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ: ’’وہ گندم گون ہے اور اس کے بال گھونگریالے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں، اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیحِ اوّل اور ثانی میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی کافی طور پر یقین نہیں دلاتیں کہ مسیحِ اوّل اور ہے اور مسیحِ ثانی اور۔ ان دونوں کو ابنِ مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف اِستعارہ ہے، جو باعتبار مشابہت طبع اور رُوحانی خاصیت کے اِستعمال کیا گیا ہے، یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رُو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہوسکتے ہیں۔‘‘ (توضیح مرام ص:۱۶،۱۷، خزائن ج:۳ ص:۵۸،۵۹)
اور اپنی کتاب اِزالہ میں لکھا ہے:
حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چو گندم است وبمو فرق بین است
زانساں کہ آمدست در اخبار سرورم
ایں مقدمم نہ جائے شکوکست والتباس
سید جدا کند زمسیحائے احمرم
(اِزالہ اوہام ص:۵۷، خزائن ج:۳ ص:۱۸۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
120
۳:- آنے والے مسیح کا نسب حدیث میں فارسی الاصل(۱) بیان ہوا ہے، جو صرف آپ میں پایا جاتا ہے، نہ مسیح بن مریم میں۔
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا نے توضیح مرام میں لکھا ہے: ’’اس بارے میں نہایت صاف اور واضح حدیثِ نبوی وہ ہے جواِمام محمد اِسماعیل بخاری رحمۃاللّٰہ علیہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کے لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ: ’’کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم‘‘ یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب اِبنِ مریم تم میں اُترے گا، وہ کون ہے، وہ تمہارا ہی ایک اِمام ہوگا جو تم ہی میں سے پیدا ہوگا، پس اس حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صاف فرمادیا کہ اِبنِ مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ مچ مسیح اِبنِ مریم ہی اُتر آئے گا، بلکہ یہ نام اِستعارہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، ورنہ درحقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک اِمام ہوگا، جو اِبنِ مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۱، خزائن ج:۳ ص:۵۶)
اور مرزا نے اِزالہ میں کہا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم لفظ اِبنِ مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہارا اِمام ہوگا جو تم میں سے ہی ہوگا اور تم سے ہی پیدا ہوگا، گویا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس وہم کو رفع کرنے کے لئے جو اِبنِ مریم کے لفظ سے دِلوں میں گزر سکتا تھا، مابعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرمایا کہ اس کو سچ مچ اِبنِ مریم ہی نہ سمجھ لو، بل ھو إمامکم منکم۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۴۴، خزائن ج:۳ ص:۱۲۴)
اور اسی اِزالہ میں اس حدیث کا ترجمہ بایں الفاظ کیا ہے: ’’تمہارا اس دِن کیا حال ہوگا جس دن اِبنِ مریم تم میں نازل ہوگا، اور تم جانتے ہو کہ اِبنِ مریم کون ہے؟ وہ تمہارا ہی ایک اِمام ہوگا اور تم میں سے ہی (اے اُمتی لوگو) پیدا ہوگا۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۲۰۱، خزائن ج:۳ ص:۱۹۸)
ان احادیث میں جو تصرف آپ نے کیا ہے، اور ان کے معانی کے بیان میں جس اِفترا سے کام لیا ہے، اس کا بیان جواب کے ضمن میں آئے گا، اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ!
________________________
(۱) مرزا نے لکھا ہے: ’’تب فارس کی اصل میں سے ایک اِیمان کی تعلیم دینے والا پیدا ہوگا، اگر اِیمان ثریا میں معلق ہوتا تو وہ اسے اس جگہ سے بھی پالیتا۔‘‘ (فتح اسلام ص:۱۴، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۰)
آپ کا اپنے تئیں اپنی اس خیالی حدیث کا مصداق ٹھہرانا اور فارسی الاصل قرار دینا اور اس کے ساتھ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرنا، صاف بتاتا ہے کہ آنے والے مسیح کا آپ کے نزدیک فارسی الاصل ہونا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان سے بیان ہوا ہے، ایسا ہی آپ کے بھوپالی حواری نے آپ کے کلام سے سمجھا۔ چنانچہ اپنے رسالے اعلام الناس جلد اوّل صفحہ:۵۴ میں کہا ہے: ’’نسب اس کا صحیح مسلم وغیرہ میں یہ لکھا ہے: ’’لو کان العلم معلقا بالثریا لنالہ رجل من ابناء فارس‘‘ ایک مرد مسلمان ہوگا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا، اور مسلمانوں کی طرح صوم وصلوٰۃ وغیرہ اَحکامِ فرقانی کا پابند ہوگا، اور مسلمانوں میں پیدا ہوگا اور ان کا اِمام ہوگا، اور کوئی جداگانہ دِین نہ لائے گا، اور کسی جداگانہ نبوّت کا دعویٰ نہیں کرے گا، یہ سب صفات اس مسیح الزمان میں موجود ہیں۔‘‘
مرزا نے لکھا ہے: ’’جب ہم ان دُوسری حدیثوں کو دیکھتے ہیں جو دجالِ معہود کے ظاہر ہونے کا وقت اس دُنیا کا آخری زمانہ بتلاتی ہیں تو وہ سراسر ایسے مضامین سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہیں کہ جو نہ عندالعقل دُرست وصحیح ٹھہرسکتی ہیں، اور نہ عند الشرع اِسلامی توحید کے موافق ہیں۔ چنانچہ ہم نے قسمِ ثانی کے ظہورِ دجال کی نسبت ایک لمبی حدیث مسلم کی لکھ کر معہ اس کے ترجمے کے ناظرین کے سامنے رکھ دی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
121
۱۱:۔۔۔ دجالِ موعود کے حق میں جو اَحادیث میں آیا ہے کہ وہ مُردہ کو زِندہ کرے گا، اور اس کے ساتھ بہشت اور دوزخ ہوگا، وغیرہ وغیرہ، یہ مشرکانہ اِعتقاد ہے اور توحیدِ قرآنی کے مخالف۔
۱۲:۔۔۔ حضرت مسیح کی نسبت مسلمانوں کا یہ اِعتقاد کہ وہ(۱) زِندہ آسمانوں پر اُٹھائے گئے ہیں، اور اَب تک وہاں زِندہ موجود
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔ ناظرین خود پڑھ کر سوچ سکتے ہیں کہ کہاں تک یہ اوصاف جو دَجالِ معہود کی نسبت لکھے ہیں، عقل اور شرع کے مخالف پڑے ہوئے ہیں، یہ بات بہت صاف اور روشن ہے کہ اگر ہم اس دمشقی حدیث کو اس کے ظاہری معنوں پر حمل کرکے اس کو صحیح اور فرمودۂ خدا اور رسول مان لیں تو ہمیں اس بات پر اِیمان لانا ہوگا کہ فی الحقیقت دجال کو ایک قسم کی قوّتِ خدائی دی جائے گی، اور زمین وآسمان اس کا کہا مانیں گے، اور خداتعالیٰ کی طرح اس کے اِرادہ سے سب کچھ ہوتا جائے گا، بارش کو کہے گا ’’ہو‘‘ تو ہوجائے گی، بادلوں کو حکم دے گا کہ فلاں ملک کی طرف چلے جاؤ تو فی الفور چلے جائیں گے، زمین کے بخارات اس کے حکم سے آسمان کی طرف اُٹھیں گے اور زمین کو کیسی ہی کلروشور ہو، فقط اس کے اِشارے سے عمدہ اور اوّل درجے کی زراعت پیدا کرے گی، غرض جیسا کہ خداتعالیٰ کی یہ شان ہے کہ: ’’اِنَّمَا اَمْرُہٗ اِذَا اَرَادَ شَیْئاً اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْن‘‘ اسی طرح وہ بھی کن فیکون سے سب کچھ کردِکھائے گا، مارنا، زِندہ کرنا اس کے اِختیار میں ہوگا، بہشت اور دوزخ اس کے ساتھ ہوں گے۔ غرض زمین وآسمان دونوں اس کی مٹھی میں آجائیں گے اور ایک عرصہ تک جو چالیس برس یا چالیس دن ہیں، بخوبی خدائی کا کام چلائے گا اور اُلوہیت کے تمام اِختیار واِقتدار اس سے ظاہر ہوں گے۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ مضمون جو اس حدیث کے ظاہر لفظوں سے نکلتا ہے، اس موحدانہ تعلیم کے موافق ومطابق ہے جو قرآن شریف ہمیں دیتا ہے؟ کیا صدہا آیاتِ قرآن ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ناطق نہیں سناتیں کہ کسی زمانے میں بھی خدائی کے اِختیارات انسان ھالکۃ الذات باطلۃ الحقیقۃ کو حاصل نہیں ہوسکتے۔ کیا یہ مضمون اگر ظاہر پر حمل کیا جائے تو قرآنی توحید پر ایک سیاہ دھبہ نہیں لگاتا؟‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۲۸،۲۲۹، خزائن ج:۳ ص:۲۱۴،۲۱۵)
اور اِزالہ اوہام میں اس خیال کے شرک ہونے پر ایک نظیر نقل کرکے لکھتے ہیں: ’’سوچنا چاہئے کہ یہ کتنا بڑا شرک ہے، کچھ انتہا بھی ہے؟ افسوس! کہ ان لوگوں کے دِلوں پر کیسے پردے پڑگئے کہ انہوں نے اِستعارات کو حقیقت پر حمل کرکے ایک طوفان شرک کا برپا کردیا ہے اور باوجود قرائنِ قویہ کے ان اِستعارات کو قبول کرنا نہ چاہا جن کی حمایت میں قرآن کریم شمشیر برہنہ توحید کی لے کر کھڑا ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۲۳۱، خزائن ج:۳ ص:۲۱۶)
________________________
(۱) اِشتہار ۲۰؍مئی ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح کی زندگی کے اِعتقاد کو شرک کا ستون قرار دِیا اور یہ لکھا ہے کہ ہمارے گزشتہ علماء نے اس طرف نہیں خیال کیا اور یہ اِعتقاد مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں نے برخلاف کتابُ اللّٰہ کے ٹھہرالیا ہے، اس میں فرماتے ہیں: ’’لیکن افسوس! کہ ہمارے گزشتہ علماء نے عیسائیوں کے مقابل پر کبھی اس طرف توجہ نہ کی، حالانکہ اس ایک ہی بحث میں تمام بحثوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔ عیسائی مذہب کا ستون جس کی پناہ میں انگلستان اور جرمن اور فرانس اور امریکا اور رُوس وغیرہ کے عیسائی ’’ربنا المسیح‘‘ پکار رہے ہیں، صرف ایک یہی بات ہے، اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے برخلاف کتابِ اِلٰہی یہ خیال کرلیا ہے کہ مسیح آسمان پر مدّت دراز سے بقیدِ حیات چلا آتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ستون ٹوٹ جائے تو اس خیالِ باطل کے دُور ہوجانے سے صفحۂ دُنیا یکلخت مخلوق پرستی سے پاک ہوجائے اور تمام یورپ اور ایشیا اور امریکاایک ہی مذہب توحید میں داخل ہوکر بھائیوں کی طرح زندگی بسر کریں، لیکن میں نے حال کے مسلمان مولویوں کو خوب آزمالیا ہے، وہ اس ستون کے ٹوٹ جانے سے سخت ناراض ہیں اور درپردہ مخلوق پرستی کے مؤید ہیں۔‘‘ (مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۲۳)
122
ہیں، اور وہ اپنی دُنیاوی زندگی میں مُردوں کو زِندہ کرتے اور مادرزاد اندھوں کو، اور کوڑھی کو اچھا کرتے، اور مٹی سے جانور کی شکل بناتے تو وہ پرند بن جاتا، احمقانہ اور مشرکانہ اِعتقاد ہے،(۱) اور درحقیقت حضرت مسیح کی صرف رُوح آسمان پر اُٹھائی گئی ہے جیسا کہ اور انبیاء کی۔ اور ان کے مُردوں کو زِندہ کرنے اور اندھے کوڑھی کو اچھا کرنے سے گمراہوں کو ہدایت کرنا مراد ہے۔
(۱) اور اِزالہ میں مرزا نے لکھا ہے: ’’اِنجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اِعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دِکھایا ہی نہیں، یہ کیسا مسیح ہے؟ کیونکہ ایسا مردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اور اس جہان کا سب حال سناتا، اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ سے آیا ہوں، تم جلد اِیمان لے آؤ! اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے باپ دادے زندہ کرکے دِکھادیتا اور ان سے گواہی دِلواتا تو بھلا کس کو اِنکار کی مجال تھی؟ غرض پیغمبروں نے نشان تو دِکھائے، مگر پھر بھی بے اِیمانوں سے مخفی رہے۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا، بلکہ مُردوں کے زِندہ ہونے کے لئے بہت سا آبِ حیات خداتعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دِیا ہے، بے شک جو شخص اس میں سے پیئے گا، زندہ ہوجائے گا، بلاشبہ میں اِقرار کرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مُردے زِند ہ نہ ہوں اور اندھے آنکھیں نہ کھولیں اور مجذوم صاف نہ ہوں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۴۴۱، ۴۴۲، خزائن ج:۲ ص:۳۳۴،۳۳۵)
اِزالہ میں ہے: ’’بعض لوگ موحدین کے فرقے میں سے بحوالہ آیت قرآنی یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح بن مریم انواع واقسام کے پرندے بناکر اور ان میں پھونک مارکر زِندہ کردیا کرتے تھے، چنانچہ اس بنا پر اس عاجز پر اِعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بناکر پھر اس کو زِندہ کرکے دِکھلائیے ۔۔۔۔ ان تمام اوہامِ باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جس میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنی کرنا کہ گویا خداتعالیٰ اپنے اِرادہ اور اِذن سے حضرت عیسیٰ کو صفاتِ خالقیت میں شریک کر رکھا تھا، صریح اِلحاد اور سخت بے اِیمانی ہے، کیونکہ اگر خداتعالیٰ اپنی صفاتِ خاصہ اُلوہیت بھی دُوسروں کو دے سکتا ہے تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۲۹۶، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۱)
مرزا نے لکھا ہے: ’’اب جاننا چاہئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزے کی طرح صرف عقلی تھا، تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے اُمور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے، وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بناکر دِکھلادیتے تھے اور کئی قسم کے جانور تیار کرکے ان کو زِندہ جانوروں کی طرح چلادیتے تھے، وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے، جیسا کہ قرآنِ کریم بھی اس بات کا شاہد ہے، سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اِطلاع دے دی ہو، جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو، کیونکہ حضرت مسیح ابنِ مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدّت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۳۰۲،۳۰۳، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۴،۲۵۵)
مرزا نے لکھا ہے: ’’ماسوا اس کے یہ بھی قرینِ قیاس ہے کہ ایسے ایسے اِعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزم طریق سے بطور لہوولعب نہ بطورِ حقیقت ظہور میں آسکیں، کیونکہ عمل الترب میں، جس کو زمانۂ حال میں مسمریزم کہتے ہیں، ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی رُوح کی گرمی دُوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زِندہ کے موافق دِکھاتے ہیں، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
123
۱۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا، یا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اپنے جسم کے ساتھ آسمان(۱) پر جانا قانونِ قدرت (یعنی نیچر) کے برخلاف ہے، اور خداتعالیٰ کا ایسے خوارق دُنیا میں دِکھانا اپنی حکمت اور اِیمان بالغیب کو تلف کرتا ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر، جو بالکل بے جان ہو، ڈال سکتی ہے، تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زِندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔‘‘ (اِزالہ ص:۳۰۵، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۵،۲۵۶)
اور مرزا نے لکھا ہے: ’’مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا جانور جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جائے اور عمل الترب سے اپنے رُوح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے، وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا، بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے، صرف عامل کی رُوح کی گرمی بارود کی طرح اس کو جنبش میں لاتی ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۳۰۶، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)
اِزالہ میں مرزا نے لکھا ہے: ’’بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانے کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں، جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے اُمید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت اِبنِ مریم سے کم نہ رہتا، لیکن مجھے وہ رُوحانی طریق پسند ہے، جس پر ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے، اور حضرت مسیح نے بھی اسی عمل جسمانی یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھی، باذن وحکمِ اِلٰہی اِختیار کیا تھا، ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُرا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولے میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دِلی ودِماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے، وہ اپنی ان رُوحانی تأثیروں میں جو رُوح پر اَثر ڈال کر رُوحانی بیماریوں کو دُور کرتے ہیں، بہت ضعیف اور نکمّا ہوجاتا ہے، اور اَمر تنویرِ باطن اور تزکیۂ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دِینی اِستقامتوں کے کامل طور پر دِلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجے کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے ۔۔۔۔۔ حضرت مسیح کے عمل الترب سے وہ مُردے جو زِندہ ہوتے تھے، یعنی وہ قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زِندہ ہوجاتے تھے، وہ بلاتوقف چند منٹ میں مرجاتے تھے، کیونکہ بذریعہ عمل الترب رُوح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہوجاتی تھی۔‘‘ (اِزالہ ص:۳۰۹ تا ۳۱۱۱، خزائن ج:۳ ص:۲۵۷ تا ۲۵۹)
اور اِزالہ میں ہے: ’’غرض یہ اِعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ اِعتقاد ہے کہ مسیح مٹی کے پرند بناکر اور ان میں پھونک مارکر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا، نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا، جو رُوح کی قوّت سے ترقی پذیر ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی رہتی تھی۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۳۲۲، خزائن ج:۳ ص:۲۶۳)
________________________
(۱) توضیح میں لکھتے ہیں: ’’کفارِ مکہ نے ہمارے سیّد ومولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے رُوبرو چڑھیں، اور وہ رُوبرو ہی اُتریں، اور انہیں جواب ملا تھا: ’’قُلْ سُبْحٰنَ رَبِّیْ‘‘ یعنی خداتعالیٰ کی حکیمانہ شان اس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارُالابتلا میں دِکھائے اور اِیمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو اَمر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے، جو اَفضل الانبیاء تھے، جائز نہیں، اور سنت اللّٰہ سے باہر سمجھا گیا، وہ حضرت مسیح کے لئے کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟‘‘ (توضیح مرام ص:۹،۱۰، خزائن ج:۳ ص:۵۵)
اور لکھتے ہیں: ’’قانونِ قدرت بھی اسی کو چاہتا ہے اور اسی کو مانتا ہے۔‘‘ (توضیح مرام ص:۶، خزائن ص:۵۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
124
۱۴:۔۔۔ لیلۃالقدر(۱) سے جس کا ذِکر قرآن میں ہے، رات مراد نہیں، بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کے ہم رنگ ہے، اور نبی یا اس کے قائم مقام مجدّد کے گزرجانے سے ایک ہزار مہینہ کے بعد آتا ہے۔
۱۵:۔۔۔ آیات ذِکر سجدہ آدم میں باواآدم کی طرف سجدہ کرنا(۲) مراد نہیں، بلکہ ملائکہ کا خدمت انسان کامل بجا لانا۔
۱۶:۔۔۔ صحیحین (بخاری ومسلم) کی احادیث سب کی سب صحیح نہیں، بلکہ بعض ان میں غیرصحیح وموضوع بھی ہیں۔
۱۷:۔۔۔ آپ اپنے کشف واِلہام کے ذریعے سے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی احادیث کو موضوع ٹھہراسکتے ہیں۔(۳)
۱۸:۔۔۔ حدیثِ صحیح کی (بخاری ومسلم کی کیوں نہ ہو) یہ شان ووقعت نہیں کہ وہ قرآنِ کریم کی مفسر ومبین ہوسکے،(۴) اور قصص
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اِزالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ’’ماسوائے اس کے اور کئی طریق سے ان پُرانے خیالات پر سخت سخت اِعتراض عقل کے وارِد ہوتے ہیں، جن سے مخلصی حاصل کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔ ازاں جملہ ایک یہ اِعتراض ہے کہ نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک پہنچ سکے، بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کرچکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقے کی ہوا ایسی مضرِ صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زِندہ رہنا ممکن نہیں، پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے ۔۔۔۔۔۔ اس جگہ اگر کوئی اِعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیرمعراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۴۷، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۲۵،۱۲۶)
اور اسی کتاب میں ہے: ’’پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اُوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے، تو حضرت مسیح اس جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ گئے؟‘‘
(اِزالہ ص:۱۴۶، ۱۴۷، خزائن ج:۳ ص:۱۷۴،۱۷۵)
________________________
(۱) مرزا فتح الاسلام میں لکھتے ہیں: ’’تم سمجھتے ہو کہ لیلۃالقدر کیا چیز ہے؟ لیلۃالقدر اس ظلماتی زمانے کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے، اس لئے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دُور کرے، اس زمانے کا نام بطور اِستعارہ کے لیلۃالقدر کہا گیا ہے، مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہے، یہ زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔‘‘ (فتح الاسلام ص:۵۴، خزائن ج:۳ ص:۳۲)
(۲) توضیح مرام میں لکھا ہے: ’’جاننا چاہئے کہ یہ سجدے کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے، بلکہ یہ علیحدہ ملائکہ کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبے تک پہنچے اور اِعتدالِ انسانی اس کو حاصل ہوجائے اور خدائے تعالیٰ کی رُوح اس میں سکونت اِختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدے میں گرا کرو، یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اس پر اُترو، اور اس پر صلوٰۃ بھیجو، سو یہ قدیم قانون کی طرف اِشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔‘‘ (توضیح مرام ص:۴۹، خزائن ج:۳ ص:۷۶)
(۳) مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبری۲ میں آپ فرماتے ہیں: ’’اب جبکہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہرسکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم جان لیں گے، ہاں ظنی طور پر بخاری ومسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی، لیکن کیونکر ہم حلف اُٹھاسکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں۔‘‘ (الحق مباحثہ لودھیانہ ص:۱۳، خزائن ج:۴ ص:۱۵)
(۴) مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبری۷ میں آپ فرماتے ہیں: ’’وہ (یعنی قرآن) اپنے مقاصد کی آپ تفسیر فرماتا ہے، اور اس کی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں، یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں حدیثوں کا محتاج ہے۔‘‘ (ایضاً اشاعۃالسنہ ص نمبر:۵ جلد:۱۴، ع-ح)
125
واخبار وواقعاتِ ماضیہ کے بیان میں بیان قرآن پر زیادتی کرسکے۔(۱)
۱۹:۔۔۔ نصوصِ قرآن وحدیث کو ان کے ظاہری معانی سے پھیرنا اور اس سے اِستعارات مراد ٹھہرانا جائز ہے،(۲) بلکہ مغزِ شریعت ہے، جو مجدّدِ وقت کا کام ہے اور وہ ظاہری علوم سے نہیں ہوسکتا۔
۲۰:۔۔۔ جو شخص آپ کو (قادیانی صاحب کو) بایں کمالات مسیحائیت ومجددیت نہ مانے گا، وہ ہلاک ہوگا اور آگ میں ڈالا جائے گا اور جس نے آپ کو مانا وہ ناجی ہوا۔(۳)
یہ قادیانی اور آپ کے حواریوں اور ہم مشربوں کے عقائد ومقالات کی چند تمثیلات ہیں، بطور مشتے نمونہ خروار واند کے از
(۱) یہ بات آپ کی آخری تحریر مباحثہ لودھیانہ میں جابجا پائی جاتی ہے، جس کی تفصیل نقل مباحثہ میں ہے۔
(۲) یہ عقیدہ آپ کے مذہبِ جدید کا اصل اُصول ہے، آپ اسی اُصول سے ہر ایک آیت، ہر ایک حدیث میں تأویل وتحریف کرتے ہیں۔ فتح اسلام میں آپ لکھتے ہیں کہ: ’’خداتعالیٰ ہمیشہ اِستعاروں سے کام لیتا ہے اور طبع اور خاصیت اور اِستعداد کے لحاظ سے ایک کا نام دُوسرے پر وارِد کردیتا ہے۔‘‘
(فتح اسلام ص:۱۵، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۲)
اور توضیح مرام میں حدیث قتلِ خنازیر اور قطعِ صلیب اور زَرِ جزیہ کی تأویل اور تحریف کرکے آپ لکھتے ہیں: ’’یہ سب اِستعارے ہیں، جن کو خداتعالیٰ کی طرف سے فہم دیا گیا، وہ نہ صرف آسانی سے، بلکہ ایک قسم کی ذوق سے ان کو سمجھ جائیں گے، ایسے عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اُتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے، بلاغت کا تمام مدار اِستعاراتِ لطیفہ پر ہوتا ہے، اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے کلام نے بھی جو اَبلغ الکلام ہے، جس قدر اِستعاروں کو اِستعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرزِ لطیف نہیں ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۴، خزائن ج:۳ ص:۵۷،۵۸)
اور فتح الاسلام میں آپ لکھتے ہیں: ’’صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف کے تراجم پھیلانا، یا فقط کتبِ دینیہ اور اَحادیثِ نبویہ کو اُردو یا فارسی میں ترجمہ کرکے رواج دینا ۔۔۔ یہ ایسے اُمور نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدیدِ دِین کہا جائے ۔۔۔ ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک باعلم آدمی کرسکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں، ان کو مجدّدیت سے کچھ علاقہ نہیں۔‘‘ (فتح اسلام ص:۸، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۶،۷)
اور اسی کتاب میں لکھا ہے: ’’پس کمالِ افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدر تم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اِشاعت کے لئے جوش رکھتے اور اس کے عشرعشیر بھی آسمانی سلسلے کی طرف تمہارا خیال نہیں۔‘‘ (فتح اسلام ص:۷۱، خزائن ج:۳ ص:۴۲)
(۳) فتح اسلام میں لکھتے ہیں: ’’اس نے (یعنی خدا نے) اس سلسلے کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ: زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے، تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی تیار کر، جو شخص اس کشتی میں سوار ہوگا، وہ غرق ہونے سے نجات پاجائے گا، اور جو اِنکار میں رہے گا، اس کے لئے موت درپیش ہے۔‘‘ (فتح اسلام ص:۴۲، خزائن ج:۳ ص:۲۴،۲۵)
اور اسی کتاب میں فرماتے ہیں: ’’اس زمانے میں حصن حصین میں ہوں، جو مجھ میں داخل ہوتا ہے، وہ چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے اپنی جان بچائے گا، مگر جو شخص میری دیواروں سے دُور رہنا چاہتا ہے، ہر طرف سے اس کو موت درپیش ہے، اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔‘‘
(فتح اسلام ص:۵۶، خزائن ج:۳ ص:۳۴)
اسی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خداوند جو میرا متولّی ہے، مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔‘‘ (فتح اسلام ص:۶۷، خزائن ج:۳ ص:۴۰)
126
بسیار؟ کیونکہ مزید تفصیل کی اس مقام میں گنجائش نہیں۔
اب ان کے طریقِ عملی کو جس میں وہ عقائد ومقالاتِ مذکورہ بالا کی تائید کرتے ہیں، اور اس سے وہ بزعمِ خود اُصول ومسائلِ اسلام کی بیخ کنی کر رہے ہیں، بیان کیا جاتا ہے۔
عقائد ومقالاتِ مذکورہ کی تائید وترویج کی غرض سے وہ احادیثِ صحیحہ کو بلاتردّد رَدّ کرتے وغیرصحیح وموضوع قرار دیتے ہیں، اور کئی احادیث وآثار واقوال اَز خود وضع کرکے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اور علمائے اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آیات واحادیثِ نبویہ کی (جس کو مجبوراً صحیح مانتے ہیں) ایسی تأویل اور تحریف کرتے ہیں کہ اس میں نیچریوں اور باطنیوں کو بھی انہوں نے مات کیا ہے۔
ان کے اس عمل کی تمثیلات وشواہد ان کی عباراتِ منقولہ سابق میں موجود ہیں، اور علاوہ براں چند تمثیلات وشواہد ذیل میں ذِکر کئے جاتے ہیں:
۱:۔۔۔ آپ نے احادیث متضمنہ ذِکرِ دجالِ موعود کو غیرصحیح وموضوع بنانے کی غرض سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر یہ افترا کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’ہمیں اس کے (یعنی اِبنِ صیاد کے) حال میں ابھی تک اِشتباہ ہے۔‘‘ یہ فقرہ بقلم جلی آپ کے رسالے اِزالہ کے صفحہ:۲۲۵، خزائن ج:۳ ص:۲۱۲،۲۱۳ میں بعینہٖ موجود ہے۔ اور مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبر۴ (مباحثہ لودھیانہ ص:۲۶، خزائن ج:۴ ص:۲۸) میں آپ نے لکھا ہے کہ: آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ بھی فرمایا ہے کہ میں اپنی اُمت پر اِبنِ صیاد کے دجالِ معہود ہونے کی نسبت ڈرتا ہوں (یہ بھی آپ ہی کے الفاظ ہیں)۔ حالانکہ کسی حدیث صحیح یا ضعیف میں یہ قول آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول نہیں، اور جب آپ سے مباحثہ لودھیانہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس قول کے مروی ہونے کا ثبوت طلب کیا گیا تو آپ نے جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ کا یہ قول ۔۔۔کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم، اِبنِ صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہے، جو شرح السنہ میں مروی ہے، اور وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے۔۔۔ پیش کیا، اور آخر مباحثہ تک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس قول کا ثبوت نہ دیا۔
۲:۔۔۔ اس حدیث کو موضوع ٹھہرانے کی غرض سے آپ نے ایک حدیث کو وضع کیا اور اس میں صحابہ پر اِفترا کیا، اور طرفہ یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح مسلم میں موجود بتایا، چنانچہ مباحثہ لودھیانہ کی تحریر نمبر۴ (مباحثہ الحق لدھیانہ ص:۲۶، خزائن ج:۴ ص:۲۸) میں آپ نے لکھا ہے کہ ایک اور حدیث مسلم میں ہے، جس میں لکھا ہے کہ صحابہ کا اس پر اِتفاق ہوگیا ہے کہ دجالِ معہود اِبنِ صیاد ہی ہے۔
حالانکہ صحیح مسلم میں اس حدیث کا نام ونشان نہیں، جس میں اِجماعِ صحابہ کا ذِکر ہو، یا اِشارہ ہو، مباحثہ لودھیانہ میں آپ سے اس حدیث اور اِجماع کی سند پوچھی گئی تو آپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہ کے اس قول کی ۔۔۔کہ اِبنِ صیاد نے ان کے پاس شکایت کی کہ لوگ اس کو دَجالِ معہود سمجھتے ہیں۔۔۔ نشاندہی کی، جس میں نہ اس اِجماع کا صریح ذِکر پایا جاتا ہے، نہ اس کی طرف
127
وہاں کوئی اِشارہ ہے، صرف غیرمعین لوگوں کا اِبنِ صیاد کو دَجال کہنا مفہوم ہوتا ہے، جس کے مقابلے میں بہت سے صحابہؓ کا۔۔۔ جن میں خود ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہ داخل ہیں۔۔۔ اِبنِ صیاد کو دَجالِ موعود نہ سمجھنا، بلکہ اور شخص کو دَجالِ موعود سمجھنا اسی کتاب صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے۔
۳:۔۔۔ صحیح مسلم کی اس حدیث کو (جس میں حضرت مسیح کا دمشق کے قریب اُترنا بیان ہوا ہے) موضوع قرار دینے کی غرض سے، آپ نے ایک اِفتراء بعض علمائے اُمت پر کیا، اور اِزالہ کے صفحہ:۲۱۸، خزائن ج:۳ ص:۲۰۹ میں لکھا ہے کہ: ’’بعض علماء کہتے ہیں کہ حضرت مسیح نہ بیت المقدس میں اُترے گا اور نہ دمشق میں، بلکہ وہ مسلمانوں کے لشکرگاہ میں اُترے گا جہاں حضرت مہدی ہوں گے۔‘‘ حالانکہ علمائے اسلام سے ایسا کوئی معلوم نہیں ہوا جس نے یہ بات کہی ہو کہ حضرت مسیح نہ بیت المقدس میں اُترے گا اور نہ دمشق میں، بلکہ علمائے اسلام نے ان سبھی مقامات کو ایک مقام قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حضرت مسیح بیت المقدس میں اُتریں گے۔
اِبنِ ماجہ کے حاشیہ میں لکھا ہے:
’’قال الحافظ ابن کثیر: وقد ورد فی بعض الأحادیث ان عیسٰی علیہ السلام ینزل ببیت المقدس، وفی روایۃ بالاُردن، وفی روایۃ؛ بمعسکر المسلمین، فا اللہ اعلم! قلت: حدیث النزول ببیت المقدس عند المصنف وھو عندی ارجح ولا ینافی سائر الروایات لأن بیت المقدس ھو شرقی دمشق، وھو معسکر المسلمین إذ ذاک، والاُردن إسم الکورۃ، کذا فی الصحاح، وبیت المقدس داخلہ، فاتفقت الروایات فإن لم یکن فی بیت المقدس الآن منارۃ بیضاء فلا بد ان تحدث قبل نزولہ۔‘‘
(حاشیۃ ابن ماجۃ ص:۲۹۷، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی بن مریم)
بیت المقدس دمشق سے مشرق میں ہے، وہیں مسلمانوں کا لشکر ہوگا، اور وہ اُردن ہی کے علاقے میں ہوگا، اسی جگہ خداتعالیٰ منارہ سفید بنادے گا۔‘‘ (ملخص)
لودھیانہ کے مباحثے میں آپ سے اس قول ’’بعض علماء‘‘ کا ثبوت طلب کیا گیا تو آپ نے ایسا جواب دیا جس سے آپ کے اِفترا کا اور یقین ہوا۔
۴:۔۔۔ اس حدیث صحیح مسلم اور دیگر احادیث نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام میں تحریف وتأویل کرنے کی غرض سے ایک اِفترا مرزا نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر یہ کیا اور کہا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس حدیث کی نسبت جس میں دجال کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور اس میں (اس کو ابن قطن کے مشابہ کہا) صاف اور صریح طور پر فرمادیا ہے کہ یہ میرا ایک مکاشفہ یا ایک خواب ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۰۶، خزائن ج:۳ ص:۲۰۲) اور کہا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم صاف اور صریح طور پر فرماتے ہیں کہ میرا یہ ایک کشف یا خواب ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۰۷، خزائن ج:۳ ص:۲۰۲)۔
اور کہا ہے: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود اس بات کا اِقرار فرماتے ہیں کہ: یہ سب بیانات میرے مکاشفات میں سے
128
ہیں۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۳۲، خزائن ج:۳ ص:۲۱۶،۲۱۷) حالانکہ کسی حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ اقوال مروی نہیں، حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دجال کو طواف کرتے دیکھنا اور ابنِ قطن سے تشبیہ دینا مروی ہے، اس کو تسلیم کرلیا جائے کہ وہ ایک خواب یا کشف کا واقعہ ہے تو کوئی شخص ۔۔۔جس کو دِین سے تعلق ہو اور کذب سے اِحتراز۔۔۔ اس کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قول اور صاف وصریح اِقرار نہیں ٹھہراسکتا۔
اس اِفترا سے آپ کی غرض ۔۔۔جس کو مرزا نے اِزالہ کے صفحہ:۲۳۲ میں ظاہر کیا ہے۔۔۔ یہ ہے کہ اسی پر حدیثِ دمشقی وغیرہ کو قیاس کریں اور ان کو بھی ایک خواب یا مکاشفہ قرار دے کر تعبیر اور تأویل کا محتاج بنادیں اور ان کے ظاہری معنی سے ان کو پھیرسکیں، جو کمالِ جرأت ومحض اِفترا ہے۔
۵:۔۔۔ ان احادیث نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام میں تحریف اور تأویل کی غرض سے آپ نے اس حدیث کے ترجمے میں ۔۔۔جس میں یہ بیان ہے کہ عنقریب اِبنِ مریم حاکمِ عادل ہوکر نزول کریں گے۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایک سوال وجواب کا اِفترا کیا، اور اِزالہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: ’’تمہارا اس دِن کیا حال ہوگا جس دِن اِبنِ مریم تم میں نازل ہوگا اور تم جانتے ہو کہ اِبنِ مریم کون ہے؟ وہ تمہارا ہی اِمام ہوگا اور تم ہی میں سے (اے اُمتی لوگو) پیدا ہوگا۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۰۱، خزائن ج:۳ ص:۱۹۸)۔ اور اِزالہ کے صفحہ:۲۹۱، خزائن ج:۳ ص:۲۴۹ میں لفظ ’’بل ھو‘‘ اپنے مجوّزہ جواب میں اَزخود ملاکر وضع لفظ حدیث کا بھی اِرتکاب کیا، اور لکھ دیا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو سچ مچ اِبنِ مریم ہی نہ سمجھ لو، ’’بل ھو إمامکم منکم‘‘ حالانکہ اس حدیث کے کسی طریق میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ سوال وجواب منقول نہیں ہے، اور نہ لفظ ’’بل ھو‘‘ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ اس سوال وجواب کے اِفترا سے آپ کا مقصود یہ ہے کہ جو ظاہر حدیث سے مفہوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو اس وقت مسلمانوں کا اِمام موجود ہوگا، ۔۔۔جس سے عام اہلِ اسلام کے اِعتقاد میں حضرت اِمام مہدی مراد ہیں۔۔۔ اور وہ آپ کے خیال اور دعوؤں کی جڑ کاٹ رہا ہے، کیونکہ اس وقت اِمام مہدی موجود نہیں تو آپ مسیحِ موعود کیونکر بن سکتے ہیں؟ اس کا جواب ادا ہو، یہ سوچ کر آپ نے چاہا کہ چلو اِمام مہدی بھی ہم خود ہی بن جائیں اور حدیث کے یہ معنی گھڑلیں کہ جو مسیح آئے گا وہی اِمام مہدی ہوگا۔ اور یہ سوال وجواب بنایا اور جواب میں لفظ ’’بل ھو‘‘ بڑھایا اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِفترا کیا، مگر یہ نہ سوچا کہ دُوسری حدیث صحیح مسلم میں صاف آیا ہے:
’’عن جابر بن عبد اللہ یقول سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لا تزال طائفۃمن اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقول امیرھم: تعال صلّ لنا! فیقول: لا! ان بعضکم علٰی بعض اُمراء، تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمَّۃ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، کتاب الإیمان، باب نزول عیسٰی حاکمًا بشریعۃ نبینا)
’’عیسیٰ بن مریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اُتر آئیں گے تو ان کا (یعنی مسلمانوں کا) امیر (یعنی اِمام) ان کو کہے گا کہ آپ آئیں نماز پڑھائیں، تو وہ (اس اِمام کو) یہ جواب دیں گے: نہیں! امیر (یعنی اِمام) تم
129
ہی میں سے ہونا چاہئے۔ یہ کہنا اس اُمتِ محمدیہ کے اِعزاز واِکرام کے لئے ہوگا، جو خدا کی طرف سے اس کو حاصل ہے۔‘‘
اس قسم کی تأویلات وتحریفات اور رَدِّ نصوص ووضعِ احادیث واقوال آپ کے طریق عملی میں اور بھی بکثرت پائی جاتی ہیں اور آپ کی تصنیفات کے صدہا صفحات میں موجود ہیں، ان چند اَمثلہ وعقائد ومقالات وطریقِ عملی میرزاقادیانی کو پیش کرکے علمائے اسلام سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آیا وہ ان عقائد ومقالات وطریقِ عملی میں اسلام، خصوصاً مذہب اہلِ سنت کا پابند وپیرو ہے، یا اس سے خارج؟
بشقِ اوّل علمائے ربانی نصوصِ کتاب وسنت واقوال سلف اُمت اہل قرونِ ثلاثہ کی تائید میں نقل کریں، قرونِ ثلاثہ کے مابعد کے علماء یا صوفیوں کے اقوال بلادلیل کتابُ اللّٰہ وسنت معرضِ نقل میں نہ لائیں۔
وبشقِ ثانی وہ علمائے ربانی یہ فرمائیں کہ ان عقائد واقوال اور طریقِ عملی خصوصاً اس کے دعوائے نبوّت واِشاعتِ اکاذیب ووضعِ اَحادیثِ کاذبہ ورَدِّ اَحادیثِ صحیحہ وتحریفِ معانیٔ نصوص کی نظر سے اس کو من جملہ ان تیس دجالوں کے جن کے خارج ہونے کی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، ایک دجال، اور اس کے ان عقائد وخیالات وطریقِ عملی میں اس کے پیروان وہم مشربوں کو ذُرِّیاتِ دجال کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور ایسے عقائد ومقالات وطریقِ عملی کے ساتھ کوئی شخص شرعاً وعقلاً ولی اور ملہم ومحدث ومجدّد ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
الجواب:۔۔۔ ان عقائد ومقالات اور اس طریقِ عملی میں مرزاقادیانی پابندیٔ اسلام، خصوصاً مذہبِ اہلِ سنت سے خارج ہے، کیونکہ یہ عقائد ومقالات وطریقِ عملی اسلامی وسنی نہیں، بلکہ ازاںجملہ بعض عقائد ومقالات یونانی فلاسفہ کے ہیں، بعض ہندوؤں پیروانِ وید کے، بعض نیچریوں کے، بعض نصاریٰ کے، بعض اہلِ بدعت وضلالت کے اور اس کا طریقِ عملی ملحدین باطنیہ(۱) وغیرہ اہلِ ضلال کا طریق ہے۔ اور اس کے دعوائے نبوّت اور اِشاعتِ اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق کی نظر سے یقینا اس کو ان تیس دجالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارِد ہے، ایک دجال کہہ سکتے ہیں اور اس کے پیروان وہم مشربوں کو ذُرِّیاتِ دجال، یہ لوگ دجال نہ ہوں تو
130
(۱) باطنیہ ایک ملحد فرقے کا نام ہے، جس کی تأویلات کی چند تمثیلات بیان کی جاتی ہیں، جن سے ناظرین کو یقین ہو کہ مرزا غلام احمد اور اس کے اَتباع کی تأویلات اسی قسم کی تأویلات ہیں، اور سب کا طریق ایک ہے۔ ملاحدہ سبعیہ کا یہ مذہب ہے کہ وضو سے اِمامِ وقت کی دوستی مراد ہے، اور زکوٰۃ سے تزکیۂ نفس اور کعبہ، ذاتِ نبی، اور صفامروہ سے جناب اِمامین حسن وحسین علیہماالسلام، اور اِحتلام سے افشائے اَسرارِ اِمامِ وقت، اور غسل سے اِمامِ وقت کے جناب میں دوبارہ عہد وبیعت کرنا، اور جنت سے جس کو آسائش وآرام دینا، اور دوزخ سے تکلیفات اُٹھانا، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ملاحدۂ باطنیہ کی یہ رائے ہے کہ روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، خلفائے ثلاثہ کے من گھڑت اَحکام ہیں، اور روزۂ رمضان خاص بدعتِ عمری ہے۔ ملاحدۂ منصوریہ کہتے ہیں کہ جنت سے اِمامِ وقت اور دوزخ سے اس کے دُشمن مراد ہیں، جیسے ابوبکر وعمر وغیرہ وغیرہ۔ جناب شاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ الرحمۃ اپنے تحفۂ اِثناعشریہ میں فرماتے ہیں کہ: ’’مطیع باللّٰہ عباسی کے عہد میں ان فرقوں کو بایں عقل وشعور نہایت غلبہ اور کمالِ تسلط حاصل تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک عالم کو گمراہ کیا، دانش مندوں کو ایک قسم کی عبرت حاصل ہونے کا مقام ہے۔‘‘
پھر اَحادیثِ نبویہ کا ۔۔۔جن میں تیس دجالوں کذابوں کی خبر دِی گئی ہے۔۔۔ کوئی مصداق نہیں ہوسکتا، اور اس اِعتقاد وعمل کے ساتھ کوئی شخص شرعاً وعقلاً ولی وملہم ومحدث نہیں ہوسکتا، اس عمل واِعتقاد کا شخص خدا کا ملہم ومخاطب ہو تو انبیاء وملہمین سابقین کا اِلہام بے اِعتبار ہوجاتا ہے، اس اِجمال کی تفصیل بطور تمثیل ذیل میں معروض ہے:
قادیانی کا کواکب وسیارات وافلاک کے لئے نفوس واَرواح تجویز کرنا، یونانیوں کے فلاسفہ اشراقیین وہندوانِ پیروان وید کا مذہب ہے، ۔۔۔چنانچہ قادیانی اس اَمر کا توضیح المرام صفحہ:۳۳، خزائن ج:۳ ص:۶۸ میں خود معترف ہوا ہے۔۔۔ اسلام نے یہ اِعتقاد مسلمانوں کو نہیں سکھایا، اور قرآن وحدیث میں جو اِسلام کے اصلِ اُصول ہیں، اس کا کہیں ذِکر پایا نہیں گیا، اور جو بعض متأخرین صوفیہ نے بہ تقلید فلاسفہ یا اپنے مشاہدے ومکاشفے سے ان اَرواح کو تسلیم کیا ہے، وہ مذہب اسلام نہیں ہوسکتا، کیونکہ کتاب وسنت میں اس اِعتقاد کا ثبوت پایا نہیں جاتا، اور ان صوفیوں نے خود بھی اس اِعتقاد کو اِعتقاد یا مذہب اسلام قرار نہیں دیا، صرف اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے، لہٰذا ان صوفیوں کا مکاشفے سے وجود ان ارواحوں کو تسلیم کرنا اس اِعتقاد کو داخلِ اسلام نہیں بناسکتا، اور اگر کوئی ناواقف اس مذہب واعتقاد کو جزوِ اِسلام قرار دے تو وہ بحکم حدیث: ’’من احدث فی امرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رَدٌّ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح ص:۲۷) (یعنی جو شخص ہمارے دِین میں وہ عمل یا اِعتقاد اَزخود پیدا کرے جو بحکم قرآن وحدیث اس میں سے نہ ہو تو وہ لائقِ رَدّ ہے، قابلِ قبول نہیں ہے)۔ قادیانی کے اس خیال کا اِبطال ان نصوص واقوال سے بھی ہوگا جو اس کے اقوال آئندہ کے اِبطال کے لئے پیش کئے جائیں گے۔
اور قادیانی کا نفوسِ فلکہ ارواح کواکب کو ملائکہ کہنا بھی ان فلاسفہ کا اِحداث ہے، جو فلسفہ کے ساتھ اسلام کے قائل ہیں، انہوں نے فلسفے کو اسلام سے ملایا ہے اور تن زیب میں گاڑھے کا پیوند لگانا چاہا ہے، کتابُ اللّٰہ وسنت میں کہیں اس مذہب کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔
اِمام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں ملائکہ کے متعلق لوگوں کے مذاہب بیان کئے ہیں تو ان میں فلاسفہ کا یہ مذہب بیان کیا ہے کہ وہ اَرواح کواکب ہیں، چنانچہ فرمایا ہے:
’’ثانیھما: اقول: الفلاسفۃ وھی انھا جواھر قائمۃ بأنفسھا ولیست بمتحیزۃ البتۃ وإنھا بالماھیۃ مخالفۃ لأنواع النفوس الناطقۃ البشریۃ وانھا اکمل قوۃ منھا واکثر علما منھا وانھا للنفوس البشریۃ جاریۃ مجری الشمس بالنسبۃ إلی الأضواء ثم ان ھٰذہ الجواھر علٰی قسمین، منھا: ما ھی بالنسبۃ إلٰی اجرام الأفلاک والکواکب کنفوسنا الناطقۃ بالنسبۃ إلٰی ابداننا، ومنھا: ما ھی لأعلٰی شیء من تدبیر الأفلاک بل ھی مستغرقۃ فی معرفۃ اللہ ومحبتہ مشتغلۃ بطاعتہ، وھٰذا القسم من الملائکۃ ھم المقربون ونسبتھم إلی الملائکۃ الذین یدبرون السماوات کنسبۃ اولٰئک المدبرین إلٰی نفوسنا الناطقۃ، فھٰذان القسمان قد اتفقت الفلاسفۃ علٰی إثباتھما ومنھم من اثبت نوعًا آخر من الملائکۃ وھی الملائکۃ الأرضیۃ المدبرۃ لأحوال ھٰذا العالم
131
السفلی، ثم ان المدبرات لھٰذا العالم إن کانت خیرۃ فھم الملائکۃ وإن کانت شریرۃ فھم الشیاطین۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۲ ص:۱۶۰،۱۶۱، زیر آیت:وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ)
’’دُوسرا فلاسفہ کا قول ہے کہ ملائکہ جواہر یعنی بذاتِ خود قائم ہیں، مگر وہ کسی چیز (مکان) میں جاگزیں نہیں ہوتے اور ان کی حقیقت انسانی نفوس کی حقیقت سے مخالف ہے، وہ ان سے قوی تر اور علم میں بڑھ کر ہیں، ان کو اِنسانی نفوس سے وہ نسبت ہے جو روشنی کو سورج سے نسبت ہے، پھر یہ جواہر دو قسم کے ہیں، بعضے ایسے ہیں جن کو افلاک وکواکب سے وہ نسبت ہے جو ہمارے نفوسِ ناطقہ کو ہمارے بدنوں سے ہے، اور بعض ایسے ہیں جن کو اَجسامِ فلکیہ کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں ہے (یعنی وہ اس کے مدبر نہیں) بلکہ وہ اللّٰہ کی معرفت اور محبت میں مستغرق اور اس کے حکم کی بجاآوری میں مشغول ہیں، اس قسم کے ملائکہ مقربین کہلاتے ہیں، ان کے ملائکہ مدبرین افلاک کو ہمارے نفوسِ ناطقہ سے نسبت ہے، ان دونوں قسموں کے ماننے پر فلاسفہ کا اِتفاق ہے، بعض فلاسفہ ایک اور قسم ملائکہ کو بھی مانتے ہیں، وہ زمین کے ملائکہ ہیں، جن کو عالم سفلی کی تدبیر سے تعلق ہے، پھر یہ (عالم سفلی کے مدبر) اگر اچھے ہیں تو وہ ملائکہ کہلاتے ہیں، اور اگر بُرے ہیں تو شیاطین ہیں۔‘‘
اور قادیانی کا جملہ حوادث وکائناتِ عالم کو ستاروں کی تأثیر سمجھنا بھی فلاسفہ اور نجومیوں اور ہندوؤں اور مجوسیوں اور وثنویہ اور بت پرستوں کا مذہب ہے۔ ہندوان قائلین وید کا قائل تاثیر ہونا تو قادیانی نے خود توضیح المرام صفحہ:۳۳، خزائن ج:۳ ص:۶۷ میں بیان کیا ہے۔ بت پرست اور مجوس وثنویہ کا قائل ہونا اِمام رازیؒ کی تفسیر سے نقل کیا جاتا ہے، اِمام رازیؒ تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
’’وثانیًا قول طوائف من عبدۃ الأوثان وھو ان الملائکۃ ھی الحقیقۃ فی ھٰذہ الکواکب الموصوفۃ بالإسعاد والإنحاس فإنھا بزعمھم احیاء ناطقۃ، وان المسعدات منھا ملائکۃ الرحمۃ، والمنحسات ملائکۃ العذاب۔ وثالثھا قول معظم المجوس والثنویۃ وھو انھٰذا العالم مرکب من اصلین ازلیین وھما النور والظلمۃ، وھما فی الحقیقۃ جوھران شفافان مختاران قادران متضادا النفس والصورۃ مختلفا الفعل والتدبیر، فجواھر النور فاضل خیر تقی طیب الریح کریم النفس یسرُّ ولا یضر، وینفع ولا یمنع، ویحیی ولا یبلی، وجوھر الظلمۃ علٰی ضد ذٰلک، ثم ان جوھر النور لم یزل یولد الأولیاء وھم الملائکۃ لا علٰی سبیل التناکح بل علٰی سبیل تولد الحکمۃ من الحکیم والضوء من المضیء۔ وجوھر الظلمۃ لم یزل یولد الأعداء وھم الشیاطین علٰی سبیل تولد السفہ من السفیہ لا علٰی سبیل التناکح۔‘‘
(تفسیر کبیر ج:۲ ص:۱۶۰، زیر آیت:وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ)
132
’’دُوسرا قول کئی بت پرست جماعتوں کا ہے، وہ یہ کہ ملائکہ درحقیقت یہ ستارے ہیں جو سعد اور نحس کہلاتے ہیں، ان کے اِعتقاد میں یہ ستارے زندہ ہیں اور گویا ہیں، اور ان میں جو سعد (نیک) ہیں، وہ رحمت کے ملائکہ کہلاتے ہیں، اور جو نحس ہیں، وہ عذاب کے فرشتے۔ تیسرا قول اکثر مجوس اور ثنویہ کا ہے (جو عالم کے دو خالق مانتے ہیں)، وہ کہتے ہیں: عالم درحقیقت دو اُصول (مادّہ) سے مرکب ہے، جو ہمیشہ سے چلے آتے ہیں، ان میں ایک نور ہے، دُوسرا اندھیرا، اور وہ حقیقت میں جوہر شفاف ہیں، خودمختار، قادر، جنس وصورت میں باہم مختلف، فعل وتدبیر میں جداگانہ۔ سو نور کا جوہر بہتر اور سنہرا اور سخی ہے، خوش کرتا ہے، ضرر نہیں پہنچاتا، نفع دیتا ہے، فائدے کو نہیں روکتا، زندہ کرتا ہے، مارتا اور بوسیدہ نہیں کرتا، اندھیرے کا جوہر اس کے مخالف ہے، پھر نور کے جوہر سے ہمیشہ دوست پیدا ہوتے ہیں، جیسے حکیم سے حکمت پیدا ہوتی ہے، اور روشن چیز سے روشنی، اور وہ ملائکہ کہلاتے ہیں، اور اندھیرے کے جوہر سے دُشمن پیدا ہوتے ہیں، جیسے احمق سے حماقت پیدا ہوتی ہے، اور وہ شیاطین کہلاتے ہیں۔‘‘
قادیانی نے بڑی جرأت کی ہے کہ ان باتوں کو قرآن سے ثابت بتایا ہے، اس جرأت میں قادیانی نے خدا پر اِفترا کیا ہے، کسی آیتِ قرآن میں یہ اِرشاد نہیں ہوا کہ کواکب وسیارات کے لئے اَرواح ہیں، اور کائنات الارض کے وجود میں مؤثر ہیں، اور وہی ملائکہ ہیں جو انبیاء وغیرہ ملہمین کی رُوحانی تربیت کر رہے ہیں، اور نہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہیں یہ اِرشاد فرمایا ہے، اور اِعتقادِ تأثیرِ کواکب کو تو قرآن شریف سے اِشارۃً اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صراحۃً ناشکری وکفر قرار دِیا ہے، قرآن میں اِرشاد ہے: ’’وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ‘‘ (الواقعہ۸۲) (کیا تمہاری یہی شکرگزاری ہے کہ تم خدا کو جھٹلاتے ہو) جو بارش ہوتی ہے تو یہ کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی تأثیر سے ہوئی ہے۔
صحیحین میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے روایت کیا ہے:
’’عن زید بن خالد الجھنی انہ قال: صلی لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلٰوۃ الصبح بالحدیبیۃ علٰی اثر سماء کانت من اللیلۃ فلما انصرف النبی صلی اللہ علیہ وسلم اقبل علی الناس فقال : ھل تدرون ماذا قال ربکم ؟ قالوا: اللہ ورسولہ اعلم! قال: قال : اصبح من عبادی مؤْمن بی وکافر، فأما من قال: مطرنا بفضل اللہ ورحمتہ فذٰلک مؤْمن بی وکافر بالکواکب، واما من قال: مطرنا بنوء کذا وکذا، فذٰلک کافر بی ومؤْمن بالکواکب۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۴۱ کتاب الإستسقاء، باب قول ﷲ: ’’وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ‘‘ (الواقعہ۸۲)، مسلم ج:۱ ص:۵۹، باب بیان الکفر من قال: مطرنا بنوء واللفظ لہٗ، طبع قدیمی)
’’مقامِ حدیبیہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی تو اَصحاب کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ: آیا تم جانتے ہو کہ خداتعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ اَصحاب بولے کہ: اللّٰہ اور اللّٰہ کا رسول
133
خوب جانتا ہے! آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ: میرے بندوں میں کوئی مجھ پر اِیمان لاتا ہے اور کوئی کافر ہوتا ہے، سو جو یہ کہے کہ: ہم پر خدا کے فضل ورحمت سے بارش ہوئی ہے، تو وہ مجھ پر اِیمان لانے والا ہے اور ستاروں سے منکر، اور جو یہ کہے کہ: فلاں ستارے کے فلاں مقام پر پہنچنے کے سبب بارش ہوئی ہے، تو وہ ستاروں پر اِیمان لاتا ہے اور مجھ سے کافر ہے۔‘‘
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے:
’’عن ابن عباس قال: مطر الناس علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اصبح من الناس شاکر ومنھم کافر ، قالوا : ھٰذہ رحمۃ اللہ ، وقال بعضھم: لقد صدق نوء کذا وکذا، قال: فنزلت ھٰذہ الآیۃ: فلا اقسم بمواقع النجوم حتّٰی بلغ وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۵۹، باب ایضًا)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وقت میں بارش ہوئی، تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: خداتعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندوں سے کوئی شاکر ہے، کوئی کافر، شاکر کہتے ہیں: یہ بارش خدا کی رحمت ہے، بعض کافر کہتے ہیں کہ: فلاںفلاں ستارے کا غروب سچا نکلا جو بارش ہوئی، اس پر آیت اُتری۔‘‘
اِمام نووی رحمہ اللّٰہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
’’اما معنی الحدیث فاختلف العلماء فی کفر من قال: مطرنا بنوئِ کذا، علٰی قولین، احدھما ھو کفر با اللہ تعالٰی سالب لأصل الإیمان مخرج من ملۃ الإسلام، قالوا وھٰذا فی من قال ذٰلک معتقدًا ان الکواکب فاعل مدبر منشیء للمطر کما کان بعض اھل الجاھلیۃ یزعم، ومن اعتقد ھٰذا فلا شک فی کفرہ، وھٰذا القول الذی ذھب إلیہ جماھیر العلماء والشافعی منھم، وھو ظاھر الحدیث، قالوا: وعلٰی ھٰذا لو قال: مطرنا بنوء کذا معتقدًا انہ من اللہ وبرحمتہ وان النوء میقات لہ وعلامۃ اعتبارًا بالعادۃ فکأنہ قال: مطرنا فی وقت کذا فھٰذا لا یکفر، واختلفوا فی کراھتہٖ والأظھر کراھتہ لٰکھنا کراھۃ تنزیھیۃ لا إثم فیھا، وسبب الکراھۃ انھا کلمۃ مترددۃ بین الکفر وغیرہ فیساء الظن بصاحبھا، ولأنھا شعار الجاھلیۃ ومن سلک مسلکم والقول الثانی فی اصل تأویل الحدیث ان المراد کفر نعمۃ اللہ تعالٰی لاقتصارہ علٰی اضافۃ الغیث إلی الکواکب وھٰذا فیمن لا یعتقد تدبیر الکوکب۔‘‘
(شرح مسلم ج:۱ ص:۵۹، باب ایضًا)
’’جو یہ کہے کہ فلاں ستارے کے سبب بارش ہوئی، اس کے کفر کی تفسیر میں علماء کے دو قول ہیں، اوّل یہ کہ یہ خدا کے ساتھ کفر ہے، اِیمان کو دُور کرنے والا، اسلام کے دائرے سے نکالنے والا یہ قول اس شخص کے
134
حق میں ہے جو اِعتقاد رکھے کہ ستارہ بارش کا فاعل اور مدبر ہے، اس کی تأثیر سے بارش ہوتی ہے، جیسا کہ جاہلیت میں خیال کیا جاتا تھا۔ دُوسرا قول یہ کہ اس سے کفرانِ نعمت یعنی (ناشکری) مراد ہے، یہ قول اس شخص کے حق میں ہے جو ستارے کو مدبر ومؤثر نہ سمجھے، یعنی صرف علامت ظہور تأثیر خداوندی خیال کرے۔‘‘ (ملخص)
فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:
’’وکانوا فی الجاھلیۃ یظنون ان نزل الغیث بواسطۃ النوء إمّا لصنعہ علٰی زعمھم، وإمّا بعلامتہ، فأبطل الشرع قولھم وجعلہ کفرًا، فإن اعتقد قائل ذٰلک ان النوء صنعًا فی ذٰلک فکفرہ کفر تشریک، وإن اعتقد ان ذٰلک من قبیل التجربۃ فلیس بشرک، لٰکن یجوز إطلاق الکفر علیہ وإرادۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کفر النعمۃ لأنہ لم یقع فی شیء من طرق الحدیث بین الکفر والشکر واسطۃ، فیحمل الکفر فیہ علی المعنیین لتناول الأمرین۔‘‘ (فتح الباری ج:۲ ص:۵۲۴، باب قول اللہ تعالٰی: وتجعلون رزقکم انکم تکذبون إلخ، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ)
’’ایامِ جاہلیت میں یہ اِعتقاد تھا کہ بارش ستاروں کے فعل سے یا ان کی (مقرّرہ) علامت سے ہوتی ہے، سو شارع نے ان دونوں خیالوں کو باطل کیا اور کفر ٹھہرایا، سو اگر یہ اِعتقاد ہو کہ فعلِ ستارے کا اس میں دخل ہے تو یہ مشرکانہ کفر ہے، اور اگر صرف یہ اِعتقاد ہو کہ تجربے کی رُو سے ہے تو یہ شرک نہیں مگر اس کو کفر بمعنی ناشکری(۱) کہہ سکتے ہیں۔‘‘
ان احادیث سے بہ شہادت اقوال علماء صاف ثابت ہے کہ ستاروں کو بارش میں مؤثر وسبب وجود سمجھنے کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کفر قرار دِیا ہے، اس کو کفر ملت سمجھیں، خواہ کفر نعمت، اب اور حوادث وکائنات میں تأثیر نجوم کے اِعتقاد کا کفر ہونا ثابت کیا جاتا ہے۔
ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہے:
’’عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من اقتبس علمًا من النجوم اقتبس شعبۃ من السحر، زاد ما زاد۔ رواہ احمد وابوداوٗد وابن ماجۃ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۳۹۳، باب الکھانۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)
’’آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علمِ نجوم سے کچھ حاصل کیا، اس نے سحر کا ایک شعبہ حاصل کیا، جس قدر اس میں زیادتی کرے گا، سحر میں زیادتی کرے گا۔‘‘
ایک حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من اقتبس بابًا من علم
(۱) اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے تجربے کو لازم وواجب الاثر سمجھا۔
135
النجوم لغیر ما ذکر ﷲ، فقد اقتبس شعبۃ من السحر المنجم کاھن والکاھن ساحر والساحر کافر، رواہ رزین۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۴، باب الکھانۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)
’’جس نے علمِ نجوم کا کوئی باب (حصہ) حاصل کیا، یعنی اس کی تأثیرات وفوائد کا علم سیکھا، بجز ان فوائد کے جو خداتعالیٰ نے بیان کئے ہیں (چنانچہ قتادہؒ کی روایت میں ان کی تفسیر عنقریب آتی ہے) اس نے سحر کا ایک شعبہ حاصل کیا، اور نجومی (اس علم کو حاصل کرنے والا اور اس کا معتقد) کاہن ہے اور کاہن ساحر ہے اور ساحر کافر ہے۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللّٰہ صاحب محدث دہلویؒ نے کتاب حجۃاللّٰہ البالغہ میں فرمایا ہے:
’’اما الانواء والنجوم فلا یبعد ان یکون لھما حقیقۃ ما فإن الشرع انما اتی بالنھیعن الإشتغال بہ لا نفی الحقیقۃ البتۃ وانما توارث السلف الصالح ترک الإشتغال بہ وذم المستغلین وعدم القبول بتلک التأثیرات لا القول بالعدم اصلا ۔۔۔۔۔۔۔ ولٰکن الناس جمیعًا توغلوا فی ھٰذا العلم توغلًا شدیدًا حتّٰی صار مظنۃ لکفر اللہ وعدم الإیمان فعسٰی ان لایقول صاحب توغل ھٰذا العلم مطرنا بفضل اللہ ورحمتہ من صمیم قلبہ بل یقول مطرنا بنوء کذا وکذا فیکون ذٰلک صادا عن تحققہ بالإیمان الذی ھو الأصل فی النجاۃ واما علم النجوم فإنہ لا یضر جھلہ إذ اللہ مدبر للعالم علٰی حسب حکمتہ علمہ احد او لم یعلم فلذٰلک وجب فی الملۃ ان یخمل ذکرہ وینھی من تعلمہ ویجھر بأن من اقتبس علمًا من النجوم اقتبس شعبۃ من السحر، زاد ما زاد، ومثل ذٰلک مثل التوراۃ والإنجیل شدد النبی صلی اللہ علیہ وسلم علٰی من اراد ان ینظر فیھما لکونھما محرفۃ ومظنۃ لعدم الإنقیاد للقرآن العظیمولذٰلک نھوا عنہ ھٰذا ما ادیٰ إلیہ رأینا وتفحصنا فإن ثبت من السُّنَّۃ ما یدل علٰی خلاف ذٰلکفالأمر علٰی ما فیہ السُّنَّۃ۔‘‘
(حجۃ اللہ البالغۃ ج:۲ ص:۱۹۵، مبحث فی اللباس والزینۃ ونحوھا، طبع إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ)
’’حقیقتِ نجوم کو ممکن تسلیم کرنے اور ان کی تأثیرات کو غیرمستبعد ماننے کے ساتھ علمِ نجوم سے شغل ترک کرنا اور اس شغل والے کو بُرا سمجھنا اور نجوم کی تأثیرات کا قائل ومعتقد نہ ہونا سلف صالحین سے متوارث چلا آتا ہے اور اس علم میں توغل مظنہ کفر ہے، اور پیغمبر صاحبِ ملت کا یہ فرض تھا کہ اس کے ذِکر کو مٹادے اور اس کے سیکھنے سے لوگوں کو روک دے اور پکار کر یہ کہہ دے کہ جو شخص اس علم سے کچھ حاصل کرتا ہے، وہ سحر کا ایک شعبہ حاصل کرتا ہے۔‘‘
شاہ صاحبؒ کا کلام اس باب میں ایک نصِ قطعی ہے کہ شریعت اور اِسلام میں نجوم کی تأثیرات کے اِعتقاد سے منع کیا گیا
136
ہے، گو نفس الامر میں خداتعالیٰ نے ان میں تأثیرات رکھی ہوں اور وہ واقعی وممکن وغیرہ مستبعد ہوں۔
اور صحیح بخاری میں حکمِ نجوم کے بیان میں ایک باب منعقد کرکے اس میں قتادہؒ سے نقل کیا ہے:
’’باب فی النجوم، وقال قتادۃ: ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح، خلق ھٰذہ النجوم لثلاث: جعلھا زینۃ للسماء، ورجومًا للشیاطین، وعلامات یھتدی بھا فمن تأوّل فیھا بغیر ذٰلک اخطأ واضاع نصیبہ وتکلف مالا علم لہ بہ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۴۵۴) ’’عن قتادۃ ۔۔۔۔۔۔ وفی روایۃ رزین ۔۔۔۔۔۔ وتکلف ما لا یعنیہ وما لا علم لہ بہ وما عجز عن علمہ الأنبیاء والملائکۃوعن الربیع مثلہ وزادو اللہ ما جعل اللہ فی نجم حیاۃ احد ولا رزقہ ولا موتہ وإنما یفترونعلی اللہ الکذب ویتعلَّلون بالنجوم۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۴، باب الکھانۃ، فصل:۳، طبع قدیمی کتب خانہ) ’’وصلہ عبد بن حمید من طریق شیبان عنہ بہ وزاد فی آخرہ: وان ناسًا جھلۃ بأمر اللہ قد احدثوا فی ھٰذہ النجوم کھانۃ من غرس بنجم کذا کان کذا، ومن سافر بنجم کذا کان کذا، ولعمری ما من النجوم نجم الا ویولد بہ بہ الطویل والقصیر والأحمر والأبیض والحسن والدمیم، وما علم ھٰذہ النجوم وھٰذہ الدابۃ وھٰذا الطائر شیء من ھٰذا الغیب انتھی۔ وبھٰذہ الزیادۃ تظھر مناسبۃ ایراد المصنف ما اوردہ من تفسیر الأشیاء التی ذکرھا من القرآن وان کان ذکر بعضھا وقع استطرادًا و اللہ اعلم، قال الداوٗدی: قول قتادۃ فی النجوم حسن، إلَّا قولہ: ’’اخطأ واضاع نفسہ‘‘ فإنہ قصر فی ذٰلک، بل قائل ذٰلک کافر انتھی، ولم یتعین الکفر فی حق من قال ذٰلک، وإنما یکفر من نسب الإختراع إلیھا، واما من جعلھا علامۃ علٰی حدوث امر فی الأرض فلا۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۲۹۵، باب فی النجوم، وقال قتادۃ ۔۔۔ إلخ، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)
’’یہ ستارے تین (فوائد) کے لئے پیدا کئے گئے ہیں:
۱:۔۔۔ خداتعالیٰ نے ان کو آسمانوں کے لئے زینت بنایا ہے۔
۲:۔۔۔ ان سے شیاطین کو جو آسمانوں پر اَحکام سننے کو چڑھتے ہیں، مارا جاتا ہے۔
۳:۔۔۔ وہ علامات ہیں (جن کے سمت سے جنگلوں اور دریاؤں میں راستہ پہچانا جاتا ہے)۔
پھر جو شخص ان ستاروں سے اور اَغراض وفوائد کا ہونا بیان کرے، تو وہ خطاکار ہے اور اپنا حصہ (فہمِ قرآن سے) ضائع کرتا ہے، اور اس علم کے لئے تکلف کرتا ہے جس کا علم اس کے لئے ممکن نہیں۔
رزین کی روایت میں یہ بھی ہے کہ: وہ شخص اس امر کے جاننے کے لئے تکلف کرتا ہے جس کے جاننے سے انبیاء وملائکہ بھی عاجز ہیں۔ ایسا ہی ربیع بن زیاد سے رزیں نے نقل کیا ہے، اس نے اس پر یہ بھی
137
بڑھایا ہے کہ بخدا! خداتعالیٰ نے کسی ستارے کو نہ کسی کی زندگانی کا سبب بنایا ہے نہ موت کا، نہ رزق کا، نجومی جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ ستاروں کو علل (اسبابِ مؤثرہ بناتے ہیں)۔
فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس قولِ قتادہؒ کی سند عبدبن حمید نے بیان کی ہے اور اس کے آخر میں یہ بڑھادیا ہے کہ: خدا کے حکم یا شان سے جاہل لوگوں نے ستاروں میں یہ باتیں اَزخود نکالی ہیں کہ فلاں ستارے کے وقت درخت لگادے تو یہ ہوگا، فلاں ستارے کے وقت سفر کرے تو ایسا ہوگا، اور ہر ایک ستارے کی تأثیر سے کوئی درازقامت پیدا ہوتا ہے، کوئی پست قامت، کوئی سرخ، کوئی سفید، کوئی خوبصورت، کوئی بدصورت، اور ستاروں اور چوپایوں اور جانوروں کے یہ علوم علمِ غیب سے نہیں ہے۔ داؤدی نے کہا ہے: قتادہؒ کا یہ قول اچھا ہے، مگر اس اِعتقاد وقولِ جاہلیت کو صرف خطا کہنا اس کی کوتاہی ہے، ایسے اِعتقاد والا شخص کافر ہے۔ (صاحبِ فتح الباری کہتے ہیں) صرف اسی کہنے پر کفر کا حکم نہیں ہوسکتا، کافر اسی کو کہا جاتا ہے جو ستاروں کو مخترع (یعنی موجد وموثر) کہے، اور جو یہ سمجھے کہ یہ ستارے زمین میں خداتعالیٰ کی قدرت وتأثیرات کے ظاہر ہونے کی علامات ہیں، تو وہ کافر نہیں ہے۔‘‘
اور یہ بات ظاہر ہے کہ پُرانے فلسفی اور قادیانی ان کواکب کو صرف علامات نہیں سمجھتے، بلکہ ان کو مؤثر جانتے ہیں، اور ان کی تأثیرات کے قائل ہیں، لہٰذا ان کا اِعتقاد وہی اِعتقاد ہے جس کو عباراتِ مذکورہ میں حقیقی کفر کہا گیا ہے۔
اور اگر کوئی کہے کہ مرزاقادیانی تو مدعیٔ اِسلام ہے، وہ خداتعالیٰ کو عالم کا خالق وموجد جانتا ہے، ستاروں کا خالق وموجد بھی خداتعالیٰ ہی کو سمجھتا ہے، لہٰذا اس کا ستاروں کی تأثیر کا قائل ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ تأثیر ستاروں کو خداتعالیٰ نے عطا فرمائی ہے، پھر ان کی تأثیر کا اِعتقاد کفر کیونکر ہوا؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ پُرانے فلسفی اور نجومی بھی یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ ستاروں کا خالق خدائے تعالیٰ ہے اور اسی نے ستاروں میں یہ تأثیرات پیدا کردی ہیں، ایسا کوئی فلسفی یا نجومی (بجز دہریہ کے) نہیں جو ستاروں کو خدا کی مخلوق نہ سمجھتا ہو، یا ان کی تأثیر کو خدا کی مخلوق نہ جانتا ہو، بایںہمہ وہ اس تأثیر کے اِعتقاد کے سبب کافر سمجھے گئے ہیں تو قادیانی کو کیونکر نہ سمجھا جائے۔۔۔؟
اس اِعتقادِ تأثیر کو باوجود اس اِعتراف کے کہ وہ تأثیر خدا کی طرف سے ہے اور اس کی مخلوق ہے، کفر ٹھہرانے کی عقلی وجہ اور اس کا سر یہ ہے کہ جو لوگ اس تأثیر کے قائل ہیں، وہ یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ تأثیر ستاروں کے لئے ایسی لازمی ہے کہ اس تأثیر کا ستاروں سے جدا ہونا محال ہے، خداتعالیٰ نے اس تأثیر کو پیدا تو کردیا، مگر وہ اب اس تأثیر کے معدوم کرنے پر قادر نہیں رہا، اور اپنے مقرّرہ قانون کو وہ معزول بادشاہ کی مانند بدل نہیں سکتا، اس اَمر کا فلاسفہ نہ صرف تأثیراتِ نجوم کی نسبت اِعتقاد رکھتے ہیں، بلکہ جملہ اسباب ومسبّباتِ عالم کی نسبت وہ یہی اِعتقاد رکھتے ہیں اور اَسباب ومسبّبات میں تلازم کو وہ واجب اور عدمِ تلازم کو محال جانتے ہیں، اور اس کو قانونِ قدرت (یا انگریزی والے لاز آف نیچر) کہتے ہیں، اور اس کی تبدیل اور تغییر سے خداتعالیٰ کو عاجز وغیرقادر
138
جانتے ہیں، اور اس کے کفر ہونے میں اہلِ اسلام کو کیا شک ہے۔۔۔؟
اہلِ اسلام خداتعالیٰ کو فاعل، بااختیار ومتصرف ومدبر عالم جانتے ہیں اور یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ جو آثار اَسبابِ عالم سے ظاہر ہوتے ہیں، وہ خدا ہی کی تأثیر سے ہیں، اور اسی کی قدرت واختیار میں ہیں، وہ چاہتا ہے تو ان سے ان آثار کا ظہور ہوتا ہے، اور اگر وہ چاہتا ہے تو ان سے ان آثار کا عکس ظاہر کرتا ہے، وہ پانی سے آگ کا کام لیتا ہے اور آگ سے پانی کا کام، الغرض! اہلِ اسلام کے نزدیک مؤثر خداتعالیٰ ہے، اسبابِ عالم اس کی تأثیر کے ظہور کے محل ہیں۔
اس بیان سے ثابت ہوا کہ تأثیراتِ نجوم جس کے قرآن سے ثابت ہونے کا قادیانی مدعی ہے، قرآن سے ثابت نہیں، بلکہ قرآن اور حدیث اور علمائے اسلام نے اس کو کفر قرار دِیا ہے، کفر حقیقی ملت سے خارج کرنے والا ہو، خواہ کفرانِ نعمت۔ اور اِعتقادِ تأثیر صرف فلاسفہ اور نجومیوں اور ہندوؤں کا مذہب ہے، اور قادیانی اس اِعتقاد میں انہیں کا پیرو اور مقلد ہے، نہ پیرو اِسلام! اور قادیانی کا حضرت جبریل وملک الموت کے زمین پر آنے کو محال جاننا بھی اسی فلسفیوں اور نیچریوں کے اُصول پر مبنی ہے، جس کا کفر ہونا ابھی بیان ہوا ہے، اور جبریل وغیرہ ملائکہ کے صوَرِ محسوسہ کو جو اَنبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام دیکھتے، ان کی خیالی صورت وعکسی تصویر قرار دینا بھی بعینہٖ نیچریوں کی تجویز ہے، جو سرسیّد احمدخاں صاحب کی تفسیر میں بیان ہوئی، علمائے اسلام کے نزدیک احادیث نزول ورُؤیتِ جبریل میں یہ تأویل کرنا معانیٔ نصوص میں تحریف کرنا ہے، جو ملحدینِ باطنیہ کا شیوہ ہے۔
شرح عقائد نسفی صفحہ:۱۶۶ مبحث النصوص (طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی) میں لکھا ہے:
’’والنصوص من الکتاب والسُّنَّۃ تحمل علٰی ظواھرھا ما لم یصرف عنھا دلیل قطعی ۔۔۔۔۔۔۔ والعدول عنھا ای عن الظواھر إلٰی معان یدعیھا اھل الباطن وھم الملاحدۃ وسمو الباطنیۃ لإدعائھم ان النصوص لیست علٰی ظواھرھا بل لھا معان باطنیۃ لا یعرفھا إلَّا المعلم وقصدھم بذالک نفی الشریعۃ بالکلیۃ إلحاد ای میل وعدول عن الإسلام واتصال والتصاق بکفر لکونہ تکذیبًا للنبی علیہ السلام فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ واما ما ذھب إلیہ بعض المحققین من ان النصوص مصروفۃ علٰی ظواھرھا ومع ذٰلک فیھا إشارات خفیفۃ إلٰی دقائق تنکشف علٰی ارباب السلوک یمکن التطبیق بینھا وبین الظواھر المرادۃ فھو من کمال الإیمان ومحض العرفان۔‘‘
’’قرآن وحدیث کے نصوص (یعنی صاف عبارتوں) سے ان کے ظاہری معانی مراد لئے جائیں گے، جب تک کوئی قطعی دلیل ان معانی سے نہ پھیرے۔ اور ظاہری معانی سے ایسے معانی کی طرف عدول کرنا جس کے اہلِ باطن مدعی ہیں، اسلام سے عدول کرنا اور ملحد بننا ہے۔ باطنیہ ملحد لوگ ہیں، ان کو باطنیہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ عبارات واضح قرآن کی نسبت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ظاہری معنی مراد نہیں، بلکہ باطنی معنی مراد ہیں، جن کو ان کا معلم سکھلاتا ہے، ان کا مقصود اس اُصول سے یہ ہے کہ اَحکامِ شریعت باطل وبے کار
139
ہوجائیں، اس امر کو کفر واِلحاد اس لئے کہا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اَحکام واِرشادات کے جو بطور ہدایت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، تکذیب پائی جاتی ہے، ہاں! جو بعض اہلِ تحقیق قائل ہیں کہ نصوصِ قرآن اور حدیث کے ظاہری معانی تو مراد ہیں ہی اور باوجود اس کے ان نصوص میں بعض مخفی اِشارات بھی پائے جاتے ہیں، اور وہ اہلِ سلوک پر کھلتے ہیں، اور وہ معانی ظاہری معانی سے مطابق ہوسکتے ہیں، سو وہ کمالِ ایمان اور عرفان کی بات ہے۔‘‘
ایسا ہی شرح فقہ اکبر وغیرہ کتبِ عقائد میں ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ قادیانی اور ان کے حواریوں کی تأویلات اس قسم سے نہیں ہیں کہ وہ معانی ظاہریہ کو بھی تسلیم کرتے ہوں، اور مع ھٰذا اس کے اسرار ومعانی لطیفہ بیان کرتے ہوں، وہ تو معانی ظاہری کی نفی کرتے ہیں اور صاف کہہ چکے کہ نزولِ جبریل سے حقیقۃً نزول مراد نہیں ہے، اور جبریل کا اپنے ہیڈکوارٹر آفتاب سے جدا ہونا نظامِ شمسی میں فساد پیدا کرتا ہے، اور ملک الموت کا بذاتِ خود زمین پر آنا، ناممکن ہے، وعلیٰ ھٰذا القیاس، انہیں اُصولِ مُسلَّمہ اہلِ اسلام کی شہادت سے قادیانی اور ان کے گروہ کی وہ تأویلات جو دَرباب نزولِ حضرت مسیح علیہ السلام، ومعجزاتِ مسیح وخروجِ دجال ویأجوج ومأجوج ولیلۃالقدر وسجود آدم وغیرہ میں وہ کرتے ہیں، نصوص کی تحریف واِلحاد ہے اور ان سب اُمور کو اہلِ اسلام انہیں معانی سے تسلیم کرتے ہیں جو ان کے ظاہری معانی ہیں۔
اِمام نووی رحمہ اللّٰہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
’’قال القاضی رحمہ اللہ تعالٰی: نزول عیسٰی علیہ السلام وقتلہ الدجال حق صحیح عند اھل السُّنَّۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذٰلک ولیس فی العقل ولا فی الشرع ما یبطلہ، فوجب إثباتہ، وانکر ذالک بعض المعتزلۃ والجھمیۃ ومن وافقھم وزعموا ان ھٰذہ الأحادیث مردودۃ بقولہ تعالٰی: وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط وبقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا نبی بعدی، وبإجماع المسلمین انہ لا نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم، وان شریعتہ مؤَبدۃ إلٰی یوم القیامۃ لا تنسخ وھٰذاالإستدلال فاسد لأنہ لیس المراد بنزول عیسٰی علیہ السلام انہ ینزل نبیًّا بشرع ینسخ شرعناولا فی ھٰذہ الأحادیث ولا فی غیرھا شیء من ھٰذا بل صحت ھٰذہ الأحادیث ھنا وما سبق فی کتاب الإیمان وغیرھا انہ ینزل حَکَمًا مقسطًا یحکم بشرعنا ویحیی من اُمور شرعنا ما ھجرہ الناس، انتھی۔‘‘ (شرح النووی ج:۲ ص:۴۰۳، باب ذکر الدجال)
’’حضرت عیسیٰ علہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا اہلِ سنت کے نزدیک حق اور صحیح ہے، کیونکہ احادیثِ صحیحہ اس باب میں موجود ہیں، اور عقل وشرع میں ایسی کوئی دلیل وارِد نہیں ہے جو اس نزول کو باطل کرے۔ لہٰذا اس کا ثابت رکھنا (یعنی تسلیم کرنا) واجب ہے۔ معتزلہ اور بعض جہمیہ اور ان کے ہم مشرب اس کے منکر ہیں، ان کا یہ خیال ہے کہ: ’’وہ احادیث جن میں نزولِ مسیح کا ذِکر ہے، اس آیت کے مخالف ہیں
140
جس میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نبیوں کا خاتم کہا گیا ہے، اور اس قولِ نبوی کے مخالف ہیں کہ: ’’میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا‘‘ اور مسلمانوں کے اس کے اِجماع کے کہ: آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت قیامت تک منسوخ نہ ہوگی۔‘‘ مگر ان کا ان دلائل سے اِستدلال ایک فاسد اِستدلال ہے، کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے نبی ہوکر آئیں گے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کریں گے، یہ بات نہ ان احادیثِ نزول میں ہے، نہ اور کسی حدیث میں، بلکہ کتاب الایمان میں گزرچکا ہے کہ وہ حاکمِ عادل ہوکر آئیں گے۔ ہماری ہی شریعت پر عمل کریں گے اور اس شریعت کے ان اُمور کو زِندہ کریں گے جن کو لوگوں نے چھوڑ رکھا ہوگا۔‘‘
اور اس کی جلد اوّل میں لکھا ہے:
’’والصواب ما قدمناہ وھو انہ لا یقبل إلَّا الإسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ فعلٰی ھٰذا قد یقال ھٰذا خلاف ما ھو حکم الشرع الیوم، فإن الکتابی إذا بذل الجزیۃ وجب قبولھا ولم یجز قتلہ ولا إکراھہ علی الإسلام۔ وجوابہ: ان ھٰذا الحکم لیس مستمرًّا إلٰی یوم القیامۃ بل ھو مقید بما قبل نزول عیسٰی علیہ السلام وأخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ھٰذہ الأحادیث الصحیحۃ بنسخہ، ولیس عیسٰی علیہ السلام ھو الناسخ، بل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ھو المبین للنسخ، فإن عیسٰی علیہ السلام یحکم بشرعنا فدل علٰی ان الإمتناع من قبول الجزیۃ فی ذٰلک الوقتھو شرع نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
(شرح مسلم للنووی ج:۱ ص:۸۷، باب نزول عیسی بن مریم)
’’ٹھیک بات وہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجز اِسلام کچھ (جزیہ وغیرہ) قبول نہ کریں گے۔ اس پر یہ اِعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ہماری آج کے دن کی شریعت کے مخالف ہے، کیونکہ اس وقت کتابی سے جزیہ قبول کرنا واجب ہے، اور اس کو قتل کرنا یا اسلام پر مجبور کرنا جائز نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم قیامت تک نہیں رہے گا، بلکہ وہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے زمانے تک رہے گا، اس حکم کا بوقت نزولِ مسیح منسوخ ہوجانا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان احادیث سے ظاہر کردیا ہے، تو اس حکم کے ناسخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ ٹھہرے، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ناسخ ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت اس حکم کے نسخ کے مبین ہوں گے، وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس حکم سے جزیہ موقوف کریں گے، اس سے ثابت ہوا کہ اس وقت جزیہ نہ قبول کرنا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے ہوگا، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے۔‘‘
اور اس کی جلد دوم میں فرمایا ہے:
141
’’قال القاضی ھٰذہ الأحادیث التی ذکرھا مسلم وغیرہ فی قصۃ الدجال حجۃ لمذھب اھل الحق فی صحۃ وجودہ وانہ شخص بعینہٖ ابتلی اللہ بہٖ عبادہ واقدرہ علٰی اشیاء من مقدورات اللہ تعالٰی من إحیاء الموتیٰ الذی یقتلہ ومن ظھورہ زھرۃ الدنیا والخصب معہ وجنتہ ونارہ ونھریہ وإتباع کنوز الأرض لہ وأمرہ السماء ان تمطر فتمطر والأرض أن تنبت فتنبت، فیقع کل ذٰلک بقدرۃ اللہ تعالٰی ومشیتہ ثم یعجزہ اللہ تعالٰی بعد ذٰلک فلا یقدر علٰی قتل ذٰلک الرجل ولا غیرہ ویبطل امرہ ویقتلہ عیسٰی علیہ السلام ویثبت اللہ الذین آمنوا،ھٰذا مذھب اھل السُّنَّۃ وجمیع المحدثین والفقھاء والنظار خلافًا لمن انکرہ وابطل امرہ من الخوارج والجھمیۃ وبعض المعتزلۃ وخلافًا للجبائی المعتزلی وموافقیہ من الجھمیۃ وغیرھم فی انہ صحیح الوجود ولٰکن الذی یدعی مخارف وخیالات لا حقائق لھا، وزعموا انہ او کان حقًّا لم یوثق بمعجزات الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم، وھٰذا غلط من جمیعھم لأنہ لم یدع النبوۃ فیکون ما معہ کالتصدیق لہ وإنما یدعی الإلٰھیۃ وھو فی نفس دعواہ مکذب لھا بصورۃ حالہ ووجود دلائل الحدوث فیہ ونقص صورتہ وعجزہ عن إزالتہ العور الذی فی عینہ وعن إزالۃ الشاھد بکفرہ المکتوب بین عینیہ ولھٰذہ الدلائل وغیرھا لا یغتر بہ الإدعاع من الناس لسد الحاجۃ والفاقۃ رغبۃ فی سد الرمق وتقیۃ وخوفًا من أذاہ لأن فتنتہ عظیمۃ جدًّا تدھش العقول وتحیر الألباب مع سرعۃ مرورہ فی الأمر ولا یمکث بحیث یتأمل الضعفاءحالہ ودلائل الحدوث فیہ والنقص فیصدقہ من یصدقہ فی ھٰذہ الحالۃ ولھٰذا حذرت الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین من فتنتہ ونبھوا علٰی نقصہ ودلائل إبطالہ، وأما اھل التوفیق فلا یغترون بہ ویخدعون بما معہ لما ذکرناہ من الدلائل المکذبۃ لہ مع ما سبق لھممن العلم بحالہ ولھٰذا یقول لہ الذی یقتلہ ثم یحییہ: ما ازددت فیک إلَّا بصیرۃ!‘‘
(نووی شرح مسلم ج:۲ ص:۳۹۹، باب ذکر الدجال)
’’قاضی عیاضؒ نے کہا ہے: ان احادیث میں جن کو مسلم نے قصہ دجال میں ذِکر کیا ہے، اہلِ حق کے مذہب کی دلیل پائی جاتی ہے کہ دجال کا ہونا صحیح ہے، اور وہ ایک ایسا شخص ہے جس کے ذریعے سے خداتعالیٰ مسلمانوں کا اِمتحان کرے گا اور اس کو ایسی چیزوں پر قدرت دے گا جو خدا کی قدرت میں داخل ہیں، جیسے مُردے کو (جس کو وہ مارے گا) زِندہ کرنا اور دُنیا کی زینت اور فراخی، اور بہشت اور آگ، اور نہروں کا اس کے ساتھ ہونا، اور زمین کے خزانوں کا اس کے تابع ہونا، اور اس کے کہنے سے آسمان سے مینہ برسنا اور زمین کا اُگانا، یہ سب کچھ خدا کی قدرت اور اِرادے سے ہوگا۔ پھر خداتعالیٰ اس کو عاجز کردے گا تو وہ کسی کے
142
مارنے پر قادر نہ ہوگا اور اس کا حال بگڑجائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو قتل کریں گے، اور خداتعالیٰ اِیمان لانے والوں کو اس اِمتحان میں ثابت قدم رکھے گا۔ یہی اہلِ سنت اور تمام محدثین وفقہاء اور اہلِ اِجتہاد کا مذہب ہے۔ خوارج، بعض معتزلہ اور جبائی اور اس کے ہم خیال جہمیہ اس کے مخالف ہیں، وہ اس کے ہونے کو تو مانتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ جو وہ کرے گا یا دِکھائے گا، وہ صرف خیالات ہوں گے، ان کی حقیقت کوئی نہ ہوگی، وہ کہتے ہیں کہ: ’’اگر وہ اُمور واقعی ہوں تو پھر معجزاتِ انبیاء کا اِعتبار نہیں رہتا!‘‘ مگر یہ ان کی غلطی ہے، کیونکہ وہ یہ کرشمات دِکھانے کے وقت نبوّت کا دعویٰ نہ کرے گا، تاکہ ان اُمور سے اس کے اس دعوے کی تصدیق ہو، اور وہ معجزاتِ انبیاء کے مشابہ ہوکر نبوّت میں شبہ وشک ڈال سکیں، بلکہ وہ ان خوارق کے وقت اُلوہیت کا دعویٰ جھوٹا کرے گا، جو خودبخود باطل ہوگا، اور دجال کا ظاہری اور اس کے مخلوق ہونے کے دلائل اور اس کی صورت کا عیب اور اس کا اس عیب کو دُور کرنے سے اور اپنی پیشانی سے علامتِ کفر (لفظ کافر) کو مٹانے سے عاجز رہنا اس کو جھٹلائے گا۔
اس میں ان دلائل عجز وحدث کے موجود ہونے کی وجہ سے اس کے خوارق سے کوئی دھوکا نہ کھائے گا، بجز عامی لوگوں کے جو بھوک کے سبب یا اس کے ڈَر کے مارے اس کو مان لیں گے، کیونکہ اس کا فتنہ مدہوش وحیران کردے گا، اور اس کا زمین پر جلدی سے پھرجانا، ان کو اس کے حال کو سوچنے کا موقع نہ دے گا، اسی وجہ سے انبیاء نے اس کے فتنے سے لوگوں کو ڈرایا ہے، اور اس کے نقص وعجز پر آگاہ کردیا، اور جن لوگوں کو خداتعالیٰ توفیق دے گا، وہ اس سے دھوکا نہ کھائیں گے، اور جو خوارق اس سے صادر ہوں گے، وہ ان سے اس کے فریب میں نہ آئیں گے، کیونکہ وہ اس کے کذب اور عجز کے دلائل جانتے ہوں گے، اور وہ اس کے حال سے واقف ہوں گے، اسی وجہ سے جس شخص کو وہ قتل کرکے جِلادے گا، وہ اس کو صاف کہے گا کہ تیرے اس فعل سے میرا یقین بڑھ گیا ہے!‘‘
اور ایسا ہی تمام کتبِ حدیث کے متون وشروح میں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کا نزول اور دجال ویأجوج ومأجوج کا خروج ظاہری معنی سے تسلیم وبیان کیا گیا ہے، اور ان اُمور کو ایسا یقینی سمجھا گیا ہے کہ ان کو اہلِ سنت کے اِعتقادات میں داخل کیا گیا ہے۔
حضرت اِمام الائمہ اِمامِ اعظم علیہ الرحمۃ نے فقہ اکبر میں اور مُلَّا علی قاریؒ نے اس کی شرح میں فرمایا ہے:
’’وخروج الدجال ویأجوج ومأجوج کما قال اللہ تعالٰی: حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُم مِّن کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ (الأنبیاء۹۶)، وطلوع الشمس من مغربھا کما قال اللہ تعالٰی: یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْراً (الأنعام:۱۵۸)، ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء کما قال اللہ تعالٰی:وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ
143
لِّلسَّاعَۃِ (الزخرف:۶۱)، وقال اللہ تعالٰی: وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج (النساء:۱۵۹)، ای قبل موت عیسٰی علیہ السلام بعد نزولہ عند قیام الساعۃ، فیصیر الملل واحدۃ وھی ملۃ الإسلام الحنیفیۃ، وفی نسخۃ: قدم طلوع الشمس علی البقیۃ، وعلٰی کل تقدیرہ فالواو لمطلق الجمیعۃ والا فترتیب القضیۃ: ان المھدی یظھر أوّلًا فی الحرمین الشریفین ثم یأتی بیت المقدس فیأتی الدجال ویحصرہ فی ذالک الحال فینزل عیسٰی علیہ السلام من المنارۃ الشرقیۃ فی دمشق الشام ویجیء إلٰی قتال الدجال فیقتلہ بضربۃ فی الحال فإنہ یذوب کالملح فی الماء عند نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء فیجتمع علیہ السلام بالمھدی وقد اقیمت الصلٰوۃ فیشیر المھدی لعیسٰی علیہ السلام بالتقدم فیمتنع معلّلًا بأن ھٰذہ الصلٰوۃ اقیمت لک فأنت اولٰی بأن تکون الإمام فی ھٰذہ المقام ویقتدی بہ لیظھر متابعۃ لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم کما اشار إلٰی ھٰذا المعنیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بقولہ: لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی، وقد بینت وجہ ذالک عند قولہ تعالٰی:وَإِذْ أَخَذَ اللہ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ الآیۃ (آل عمران:۸۱)۔ فی شرح الشفاء وغیرہ وقد ورد انہ یبقی فی الأرض أربعین سنۃ ثم یموت ویصلی علیہ المسلمون ویدفنون علٰی ما رواہ الطیالسی فی مسندہ، وروی غیرہ انہ یدفن بین النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصدیق ورویانہ یدفن بعد الشیخین، فھنیئًا للشیخین حیث اکتنفا بالنَّبِیَّیْنِ، وفی روایۃ: انہ یمکث سبع سنین، قیل: وھی الأصح، والمراد بأربعین فی الروایۃ الأولٰی مدۃ مکثہ وبعدہ فإنہ رفع ولہثلاث وثلاثون سنۃ ۔۔۔۔۔۔۔ حق کائن ای ثابت وامر قوی۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۳۶،۱۳۷، طبع مجتبائی)
’’دجال اور یأجوج ومأجوج کا نکلنا جس کا ذِکر قرآن کی اس آیت میں ہے کہ: ’’وہ ہر بلندی سے دوڑیں گے‘‘ اور آفتاب کا جانبِ مغرب سے طلوع کرنا جس کا اس آیت میں ذکر ہے کہ: ’’جس وقت خدا کی بعض نشانیاں آئیں گی، اس دن کسی کو جو پہلے سے اِیمان نہ لایا ہوگا، اس کا اِیمان نفع نہ دے گا‘‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا، چنانچہ قرآن میں اِرشاد ہے کہ: ’’وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی ایک نشانی یا اس کے علم وشناخت کی دلیل ہیں‘‘ اور اِرشاد ہے کہ: ’’اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے یعنی قیامت کے قریب اِیمان نہ لائے گا‘‘ اور اس وقت سبھی دِین اور ملت ایک دِین (اسلام) ہوجائے گا، یہ سب اُمور حق اور ثابت ہیں۔ فقہ اکبر کے بعض نسخوں میں آفتاب کے مغرب سے نکلنے کا ذکر باقی اُمور سے پہلے ہوا ہے۔ اس صورت میں واؤ حرفِ عطف مطلق
144
جمعیت کے لئے ہوا اور ترتیب اُمورِ مذکورہ کی اس طرح پر ہوگی کہ: اوّل اِمام مہدیؓ حرمین میں ظاہر ہوں گے، پھر وہ بیت المقدس میں آئیں گے، اس وقت دجال آئے گا اور اس کا محاصرہ کرلے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرقی منارے کے پاس آسمان سے اُتریں گے اور دجال کے قتل کی طرف متوجہ ہوکر ایک ہی وار سے اس کو مار ڈالیں گے، وہ ان کے اُترنے کے وقت نمک کی طرح پگھلنے لگے گا (مگر اس کی جان انہیں کے ہاتھ سے نکلے گی) پھر حضرت عیسیٰ اور مہدی ایک جگہ جمع ہوں گے، اور نماز کے لئے تکبیر ہوگی، تو حضرت مہدیؓ حضرت عیسیٰ کی طرف نماز پڑھانے کے لئے اِشارہ کریں گے، وہ اس سے اِنکار کریں گے یہ کہہ کر کہ: آپ ہی کی اِمامت کے لئے یہ تکبیر ہوئی ہے، لہٰذا آپ ہی اس کے مستحق ہیں، اور آپ ان کے مقتدی بن جائیں گے تاکہ معلوم ہو کہ وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابعین میں سے ہیں۔ چنانچہ حضرت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ: اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی سے چارہ نہ ہوتا۔ اس کی وجہ اس قولِ خداوندی کی شرح میں بیان ہوئی ہے، جس میں ذِکر ہے کہ: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ عہد لیا تھا کہ تمہارے پاس میرا رسول (یعنی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم) آئے تو تم پر اس کا ماننا اور مدد کرنا ضروری ہوگا۔‘‘ شفا کی شرح وغیرہ میں مذکور ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے، اور پھر فوت ہوں گے، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے، اور ان کو دفن کریں گے۔ یہ ابوداؤد طیالسی کی مسند میں روایت ہے، اوروں کی روایت میں ہے کہ: آپ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی قبر کے بیچ میں دفن کئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ شیخین (صدیق اکبر اور فاروق رضی اللّٰہ عنہما) کی قبر کے بعد دفن کئے جائیں گے، اس صورت میں شیخینؓ کے لئے مژدہ ہے کہ شیخینؓ دو نبیوں (آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے بیچ میں مدفون ہوں گے۔ بعض کا قول ہے کہ وہ زمین میں سات سال رہیں گے اور یہی صحیح ترین اقوال سے ہے، اور چالیس سال ٹھہرنے کی روایت سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ بعد نزول سات برس رہیں گے کیونکہ ازاںجملہ تینتیس برس انہوں نے آسمان پر جانے سے پہلے دُنیا میں بسر کئے، اور جب وہ اُٹھائے گئے تھے تو ان کی تینتیس سال کی عمر تھی۔‘‘
اور شرح عقائد نسفی میں ہے:
’’وما اخبر بہ النبی علیہ السلام من أشراط الساعۃ ای من علاماتھا من خروج الدجال ودابۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی من السماء وطلوع الشمس من مغربھا فھو حق لأنھا امور ممکنۃ اخبر بھا الصادق، قال حذیفۃ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ: طلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر، فقال: ما تذکرون؟ قلنا: نذکر الساعۃ! قال:
145
انھا لن تقوم حتّٰی تروا قبلھا عشر آیات، فذکر الدخان، والدجال، والدابۃ، وطلوع الشمس من مغربھا، ونزول عیسی بن مریم، وخروج یأجوج ومأجوج، وثلاثۃ خسوف ۔۔۔إلخ۔‘‘
(شرح عقائد ص:۱۷۳، طبع مکتبہ خیر خیر کثیر کراچی)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو علاماتِ قیامت (یعنی اس سے پہلے آنے والی چیزوں) کی خبر دِی ہے، یعنی دجال اور یأجوج ومأجوج کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا، اور آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا (وغیرہ وغیرہ)، وہ حق (واقع ہونے والے) ہیں، کیونکہ یہ ایسے اُمور ہیں جو ممکن الوقوع ہیں، اور مخبرِصادق (آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم) نے ان کے وقوع کی خبر دِی ہے۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے تو ہم کچھ مذاکرہ کر رہے تھے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا ذِکر کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم قیامت کا ذِکر کر رہے ہیں! آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت نہ ہوگی جب تک تم دس نشان اس سے پہلے نہ دیکھو لوگے، پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دُخان، دَجال، دابۃالارض، طلوعِ آفتاب اَزجانبِ مغرب، نزولِ حضرت مسیح، خروجِ یأجوج ومأجوج، اور زمین کا خسوف اور یمن سے نکلنے والی آگ کا ذکر فرمایا۔‘‘
یہ حدیث حذیفہ بن اسید رضی اللّٰہ عنہ کی جس کا شرح عقائد میں حوالہ دیا گیا ہے، صحیح مسلم (ج:۲ ص:۳۹۳) میں مروی ہے، اور صحاح کی ایسی بہت سی احادیث موجود ہیں، جن میں قادیانی اور اس کے حواریوں کی تأویلاتِ مذکورہ کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان سے ایک باب منعقد کرکے، اس میں ایک حدیث نقل کی ہے، جس کا یہ مضمون ہے:
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویفیض المال حتّٰیلا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرًا من الدنیا وما فیھا، ثم یقول ابوھریرۃ:واقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً(النساء۱۵۹)۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، واللفظ لہٗ، مسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’عنقریب حضرت ابنِ مریم حاکمِ عادل اُتریں گے، صلیب کو توڑیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، وغیرہ وغیرہ، اس حدیث کے آخر میں راویٔ حدیث ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کا یہ قول منقول ہے کہ چاہو تو (اس حدیث کی تصدیق کے لئے) یہ آیت پڑھ لو، جس میں اِرشاد ہے کہ: اہلِ کتاب سے ایسا کوئی نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر اِیمان نہ لائے۔‘‘
اور اس میں بالاتفاق اہلِ اسلام وگروہِ مسیحائی میرزائی ’’بِہٖ‘‘ کی ضمیر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد ہیں، اگرچہ ’’مَوْتِہٖ‘‘
146
کی ضمیر سے مراد میں اِختلاف ہے، اس سے بلانزاع وبے اِختلاف ثابت ہے کہ اس حدیث میں راوی ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ اور اس کے مخرجین اِمام بخاریؒ ومسلمؒ کے نزدیک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی کا نزول مراد ہے، نہ کسی اور نام کے عیسیٰ یا مثالی مسیح کا۔۔۔!
اِمام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’قولہ ثم یقول ابوھریرۃ: إقرؤُا إن شئتم : وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَمَوْتِہٖ ج ففیہ دلالۃ ظاھرۃ علٰی ان مذھب ابی ھریرۃ فی الآیۃ ان الضمیر فی موتہ یعود علٰی عیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘ (شرح مسلم للنووی ج:۱ ص:۸۷)
’’ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کے اس قول سے کہ چاہو تو یہ قولِ خداوندی پڑھ لو:وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج صاف سمجھا جاتا ہے کہ ابوہریرہؓ کا اس آیت میں یہی مذہب تھا کہ اس میں لفظ ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔‘‘
اور صحیح مسلم کی مشہور حدیث دمشقی میں جس آنے والے مسیح کا ذِکر ہے، اس کے نام کے ساتھ جابجا ’’نبی ﷲ‘‘ کا لفظ وارِد ہے، ایک جگہ پر: ’’فیحصر نبی ﷲ‘‘، ایک جگہ: ’’ثم یھبط نبی ﷲ‘‘، دو جگہ ہے: ’’فیرغب نبی ﷲ‘‘ چنانچہ اِرشاد ہے:
’’یحصر نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام واصحابہ حتّٰی یکون رأس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دینار لأحدکم الیوم، فیرغب نبی اللہ عیسٰی واصحابہ فیرسل اللہ علیھم النغف فی رقابھم، فیصبحون فرسی کموت نفس واحدۃ، ثم یھبط نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام واصحابہ إلی الأرض فلا یجدون فی الأرض موضع شبر إلَّا ملأہ زھمھم ونتنھم فیرغب نبی اللہ عیسٰی علیہ السلام واصحابہ ۔۔۔إلخ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۴۰۱، ۴۰۲، باب ذکر الدجال)
’’خدا کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ والے (یأجوج مأجوج) کے محاصرے میں آجائیں گے، اس وقت گائے کی سری (کھانے کے لئے) سو دِینار سے ان کو بہتر معلوم ہوگی، پھر خدا کے نبی عیسیٰ اور آپ کے ساتھ والے خدا کی جناب میں رغبت (دُعا) کریں گے تو خداتعالیٰ یأجوج مأجوج کی گردنوں میں پھوڑا پیدا کردے گا، پھر وہ سب کے سب ایسے مرجائیں گے جیسے ایک جان مرتی ہے، پھر خدا کے نبی عیسیٰ پہاڑ سے اُتر آئیں گے اور اپنے ساتھ والوں کو بلائیں گے تو زمین پر بالشت بھر ایسی جگہ نہ پائیں گے جو ان کی نعشوں اور بدبوؤں سے بھری نہ ہوگی، پھر خدا کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ والے خدا سے دُعا مانگیں گے ۔۔۔الخ۔‘‘
یہ الفاظ بھی صاف شاہد وناطق ہیں کہ جس مسیح کے نزول کا اس حدیث میں ذِکر ہے، وہ اللّٰہ کا نبی ہوگا، نہ کوئی اور نام کا عیسیٰ یا مثالی مسیح۔۔۔!
اور سنن ابوداؤد میں آنے والے مسیح کا ذِکر ہوا ہے تو اس میں بھی آنے والے مسیح کو پہلے ’’نبی‘‘ کہا ہے، پھر اس کے نزول کا
147
ذِکر فرمایا ہے، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے:
’’عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: لیس بینی وبینہ یعنی عیسٰی علیہ السلام نبیٌّ وانہ نازل۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۳۵، باب خروج الدجال)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ میں اور اس میں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام میں) کوئی نبی نہ ہوگا، اور وہ اُترنے والے ہیں۔‘‘
اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہے، نہ کوئی نام کا یا مثالی مسیح۔۔۔!
اس قسم کی روایات(۱) کتبِ حدیث میں اور بہت ہیں، جن میں گروہِ قادیانی کی سابق تأویلات کا دخل نہیں ہے۔ ہاں! ان احادیث کو آپ برملا ’’موضوع‘‘ قرار دیں، یا اس میں یہ نئی تأویل کریں کہ: ’’آنے والے مسیح کو جو ’’نبی‘‘ کہا گیا ہے، تو اس سے قادیانی نبی مراد ہے، کیونکہ وہ محدث ہے، اور محدث بھی ایک قسم کا نبی ہوتا ہے‘‘، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس نبی سے محدث مراد ہوتا ہے تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی نفی نہ کرتے اور نہ فرماتے کہ میرے اور اس کے مابین کوئی نبی نہیں، کیونکہ محدث تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آنے والے مسیح کے درمیان بہت ہوچکے ہیں۔
لیلۃ القدر اور سجود آدم کے ظاہری معانی پر محمول ہونے میں جو اَقوال علمائے اسلام ہیں، ان کی نقل کی اس مقام میں ضرورت نہیں ہے، وہ تمام لوگوں میں معروف ومشہور ہیں۔
اس بیان سے ثابت ہوا کہ ان احادیث نزول حضرت مسیح علیہ السلام، وخروجِ دجال ویأجوج ومأجوج میں قادیانی اور اس کے اَتباع کی تأویل ملحدانہ تحریف ہے، اور تمام اہلِ اسلام میں جو ان احادیث کو صحیح مانتے ہیں، ان کے وہی معنی مراد ہونا مُسلَّم ہے جو ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں۔ قادیانی نے جو اس تأویل وتحریف کو تجدیدِ دِین ومغزِ شریعت قرار دِیا ہے، یہ اس کے اِلحاد پر ایک اور دلیل ہے، تجدیدِ دِین یہ نہیں ہے کہ عقائد ومسائلِ اسلام کے ایسے معانی کئے جائیں جو نہ صحابہؓ کے خیال میں آئے ہوں نہ تابعینؒ کے، اور نہ ظاہر الفاظ نصوص سے سمجھ میں آتے ہوں اور نہ قرونِ ثلاثہ(۲) میں تسلیم کئے گئے ہوں۔ ایسے معانی کا بیان تو ’’اِحداث‘‘ کہلاتا ہے، بلکہ تجدید کے معنی یہ ہیں کہ جو اُصول ومسائل (عقائد واعمال) اَدلّہ شرعیہ سے ثابت ہوں اور قرونِ ثلاثہ میں تسلیم کئے گئے ہوں، مگر لوگوں کی غفلت یا ناواقفی سے متروک ومہجور ہوگئے ہوں، ان کو اَزسرِنو زِندہ کرکے رواج دِیا جائے، اس پر دلیل یہ ہے کہ تجدیدِ دِین کا حکم وارِد ہے، اور اِحداث سے ممانعت آچکی ہے، ان دونوں کو باہم متوافق کرنے سے صاف ثابت ہے کہ تجدیدِ دِین اسی صورت سے مطلوبِ شارع ہے جس میں اِحداث نہ پایا جائے۔ اور قادیانی کا یہ کہنا کہ تجدیدِ دِین ظاہری علوم سے نہیں ہوسکتی، یہ اس
(۱) ابن ماجہ ص:۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی بن مریم میں ایک حدیث ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے تجھے دُنیا میں بھیجوں گا، پھر میں اُتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔
(۲) یعنی زمانۂ صحابہ کرامؓ، عہدِ تابعینؒ اور عہدِ تبع تابعینؒ۔ (ع-ح)۔
148
کے اِلحاد پر ایک اور دلیل ہے، ’’تجدید‘‘ اِحیاء وترویجِ اُصول ومسائلِ اسلام کا نام ہے، تو ظاہری علوم اسلام اور علوم مسائل اسلامیہ کے بغیر ممکن نہیں ہے، اِلحادات اور باطنیہ خیالات کی اِشاعت تجدید ہوتی تو وہ ظاہری علوم کے بغیر بھی ممکن تھی۔
قادیانی اور اس کے اَتباع نے جو آنے والے مسیح کی بعض ایسی صفات بیان کی ہیں جو ان کے زعم میں حضرت مسیح علیہ السلام میں نہیں پائی جاتیں، صرف قادیانی میں پائی جاتی ہیں، ان کے بیان میں انہوں نے کذب وتدلیس سے خوب کام لیا ہے، اور اس سے اپنا دجال ہونا ثابت کردِکھایا ہے۔ آنے والے مسیح کی نسبت یہ کہیں بیان نہ ہوا تھا کہ وہ فارسی الاصل ہوگا، اور نہ یہ ثابت ہے کہ مغل لوگ (جن میں قادیانی صاحب ہیں) فارسی الاصل ہیں۔ ایسا ہی کسی حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ آنے والا مسیح صرف ایک مسلمان اُمتی ہوگا اور نبی نہ ہوگا، یہ بات صرف قادیانی اور اس کے حواریوں کی من گھڑت ہے، جس کو انہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایک سوال وجواب وضع کرکے اس سے نکالا ہے، جس کا بیان صورتِ مسئولہ میں کافی ہوچکا ہے۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تو متعدد حدیثوں میں آنے والے مسیح کو نبی قرار دیا ہے، جیسے منقول ہوا، آنے والے مسیح کے بالوں کا سیدھا ہونا اور رنگ کا گندم گوں ہونا جو انہوں نے بیان کیا ہے، یہ حضرت مسیح بن مریم میں پایا جاتا ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسیح بن مریم کا بھی حلیہ بیان کیا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وارانی اللیل عند الکعبۃ فی المنام فإذا رجل آدم کأحسن ما تری من آدم الرجال تضرب لمتہ بین منکبیہ رجل الشعر یقطر رأسہ ماء واضعًا یدیہ علٰی منکبی رجلین وھو یطوف بالبیت، فقلت: من ھٰذا؟ فقالوا: ھٰذا المسیح بن مریم۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۸۹، باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ)
’’میں نے (خواب میں) ایک خوبصورت شخص گندم رنگ، سیدھے بال والے کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو جواب ملا کہ: یہ مسیح بن مریم ہے۔‘‘
ہاں مجاہد کی حدیث میں حضرت ابنِ عمر رضی اللّٰہ عنہما سے یہ بھی بخاری (ایضاً) میں ہے، مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سرخ رنگ وجعد دیکھا، اس حدیث کی دستاویز سے قادیانی اور اس کے حواریوں نے یہ اِفترا کیا ہے کہ عیسیٰ یا مسیح بن مریم دو ہیں، ایک حضرت عیسیٰ بن اِسرائیل جن کو سرخ اور جعد کہا گیا ہے، دُوسرا آنے والا عیسیٰ یا مسیح بن مریم جس کو گندم رنگ اور سیدھے بالوں والا کہا گیا ہے، اور وہ آپ (قادیانی) ہیں۔ مگر یہ نہ سوچا کہ یہ لفظی اِختلاف یوں رفع ہوسکتا ہے، اور علمائے اسلام نے رفع کردیا ہے کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ گندم رنگ وسیدھے بال والے تھے، ایک روایت میں جو اُن کو سرخ رنگ اور جعد کہا گیا ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ ان کا گندمی رنگ مائل بہ سرخی تھا اور جعودت آپ کے جسم میں تھی نہ بالوں میں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں فرمایا ہے کہ: سالم کی روایت میں ہے:
’’ووقع فی روایۃ سالم الآتیۃ فی نعت عیسٰی ’’انہ آدم سبط الشعر‘‘ وفی الحدیثالذی قبلہ فی نعتہ انہ جعد، والجعد ضد السبط، فیمکن ان یجمع بینھما بأنہ سبط الشعر
149
ووصفہ لجعودۃ فی جسمہ لا شعرہ والمراد بذالک اجتماعہ واکتنازہ، وھٰذا الإختلاف نظیر الإختلاف فی کونہ آدم أو أحمر، والأحمر عند العرب الشدید البیاض مع الحمرۃ، والأدم الأسمر، ویمکن الجمع بین الوصفین بأنہ أحمر لونہ بسبب کالتعب وھو فی الأصل الأسمروقد وافق ابوھریرۃ علٰی ان عیسٰی أحمر۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۴۸۶، باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کو سیدھے بال والا کہا ہے، اور اس سے پہلی حدیث میں آیا ہے کہ وہ جعد تھے، جو اس کی ضد ہے، مگر ان دونوں روایتوں میں یوں موافقت ہوسکتی ہے کہ آپ کے بال تو سیدھے تھے، مگر جعد ہونے کا جو ذِکر ہے تو اس سے یہ مراد ہے کہ آپ کا بدن جعد یعنی کسا ہوا اور مضبوط تھا، یہ اِختلاف ایسا ہے جیسا کہ آپ کی رنگت کی نسبت اِختلاف ہوا ہے، وہ گندم رنگ تھے یا سرخ رنگ، جس سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہ وہ تھے تو گندم رنگ مگر کسی سبب سے وہ رنگ سرخ ہوگیا تھا۔‘‘
عبدالرحمن بن آدم کی روایت میں ہے:
’’وقد وقع فی روایۃ عبدالرحمٰن بن آدم عن ابی ھریرۃ فی نعت عیسٰی: انہ مربوع إلی الحمرۃ والبیاض۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۴۸۶، باب وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)
’’ان کے رنگ میں سرخی وسپیدی دونوں موجود تھیں۔‘‘
کرمانی نے شرح بخاری میں کہا ہے:
’’ویجوز ان یأوّل ویجمع بینھما بأنہ لیس احمر صرافا بل ھو مائل إلی الأدمۃ۔‘‘
(حاشیہ بخاری ج:۱ ص:۴۸۹، حاشیہ نمبر۱۳)
’’حضرت عیسیٰ کو سرخ وگندم رنگ کہنا یوں جمع ہوسکتا ہے کہ وہ صرف سرخ نہ تھے، بلکہ سرخ رنگ مائل بہ گندم گونی تھے۔‘‘
اس اِختلاف کی نظیر حضرت موسیٰ کی نعت میں دو متضاد صفتوں جسیم اور خفیف کا ورود ہے، جس کو باہم یوں متوافق کیا گیا ہے:
’’لا مانع ان یکون مع کونہ خفیف اللحم جسیمًا بالنسبۃ لطولہ فلو کان غیر طویل لاجتمع لحمہ وکان جسیمًا۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۳۵۰، باب ایضًا، طبع ایضًا)
ٰ’’وہ بلحاظ طول قامت جسیم تھے، وہ چھوٹے قد کے ہوتے تو بھاری معلوم ہوتے۔‘‘
اس اِختلاف سے کوئی یہ نہیں نکالتا کہ حضرت موسیٰ دو تھے، ایک جسیم، دُوسرے خفیف۔۔۔!
اس کی دُوسری نظیر خود آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نعت وحلیہ میں یہ اِختلافِ لفظی ہے کہ ایک حدیث میں آپ صلی اللّٰہ
150
علیہ وسلم کو اَبیض (گورے رنگ والا) کہا گیا، چنانچہ بخاری میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نعت میں ابوطالب کا شعر منقول ہے، جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اَبیض کہا گیا ہے:
وأبیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمال الیتامٰی عصمۃ للأرامل
(بخاری ج:۱ ص:۱۳۷، باب سؤَال الناس الإمام الإستسقاء إذا قحطوا)
اور شمائل ترمذی میں ہے:
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ابیض کأنما صیغ من فضۃ۔‘‘
(شمائل ترمذی ص:۴، طبع کتبہ خانہ رشیدیہ، دہلی)
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ربعۃ ۔۔۔۔۔۔ اسمر اللون۔‘‘ (ایضًا)
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مربوعًا۔‘‘ (ایضًا)
’’لم یکن بالجعد القطط ولا بالسبط کان جعدا رجلا۔‘‘ (ایضًا)
کہ آپ ایسے گورے تھے کہ گویا چاندی سے بنائے گئے۔ اور دُوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم گندم رنگ تھے۔ چنانچہ شمائل ترمذی میں موجود ہے۔ اس اِختلاف کو یوں ہی متوافق کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سفید رنگ تھے، مگر مائل بسرخی، جس سے گندم گونی پیدا ہوگئی تھی، چنانچہ اور روایت میں صریح آچکا ہے۔
ایسا ہی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بالوں کو سیدھا بھی کہا گیا ہے، چنانچہ شمائل میں ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ آپ سیدھے بال والے نہ تھے، جس کو یوں ہی باہم متوافق کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بال نہ بہت سیدھے تھے اور نہ بہت گھونگھر والے، بلکہ ایسے سیدھے تھے کہ ان میں کسی قدر شکن پڑتی تھی۔ مگر اس اِختلافِ رنگ اور موئے نبوی سے بھی کسی نے یہ نہیں نکالا کہ جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم دو تھے، ایک گورے رنگ کے، دُوسرے گندمی رنگ، یا ایک سیدھے بال والے، دُوسرے کسی قدر شکن دار بال والے۔ پس اس قسم کے لفظی اِختلاف سے حضرت مسیح کیونکر دو مسیح ہوسکتے ہیں۔۔۔؟
قادیانی نے بڑا غضب ڈھایا ہے کہ حضرت مسیح کے حلیہ کے لفظی اِختلاف کے سبب ایک مسیح کو دو مسیح (ایک سرخ رنگ گھونگھر والے بال کا، دُوسرا گندم گوں سیدھے بال والا) بنادیا، اور یہ بھی نہ سوچا کہ صرف گندم گوں ہونے سے کوئی شخص مسیح نہیں ہوجاتا، جہاں تک کہ بقیہ صفاتِ مسیح اس میں نہ ہوں، گندم گوں ہزاروں مسلمان، بلکہ مذاہبِ غیر کے اَشخاص موجود ہیں، پھر کیا وہ صرف رنگت سے مسیح ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔۔۔!
اَتباعِ قادیانی میں سے کوئی شخص منصف وطالبِ حق ہو تو صرف اس ایک مغالطے کی نظر سے اس کو دجال سمجھے، اور اس کے اِتباع سے دست بردار ہوجائے۔
اور قادیانی کی تجویز ’’پاک تثلیث‘‘ نصف عیسائیت ہے، عیسائی لوگ باپ بیٹے اور رُوح القدس کے مجموعے کو تثلیث قرار
151
دیتے ہیں، قادیانی صاحب خدا کی محبت (باپ) اور بندۂ محبوب کی محبت (ماں) اور ان دونوں سے متولد رُوح القدس کے مجموعے کو تثلیث قرار دیتے ہیں۔ لوگوں کو عیسائی بنانے میں صرف ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے کہ اس تثلیث کے ساتھ توحید کو بھی ملادیں اور ان تینوں کو ایک خدا کہہ دیں، جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں، یہ بات آپ اس وقت نہیں کہتے تو آئندہ سال کہیں گے اور لوگوں کو پورا عیسائی بنائیں گے، آپ کا یہ اِرادہ نہ ہوتا تو حرفِ تثلیث آپ کی تحریر میں نہ آتا اور نہ اس کو پاک کہا جاتا۔۔۔!
قادیانی کا بطورِ اِستعارہ ’’اِبن اللّٰہ‘‘ کہلانے کو تجویز کرنا پوری عیسائیت ہے۔نَحْنُ اَبْنٰٓؤُ اللہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ(المائدۃ:۱۸) ۔ بائبل سے ثابت ہے کہ عیسائیوں نے بھی اِستعارے کے طور پر خدا کے پیارے ومطیع بندوں کو اِبن اللّٰہ کہا ہے اور قرآن میں ان کے اس قول کی حکایت کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، نیز اسی کی طرف مشعر ہے، مگر یہی اِستعارہ ان لوگوں کے مشرک ہوجانے اور مخلوق کو حقیقۃً خدا کا بیٹا قرار دینے کا موجب ہوا تو قرآن واسلام آیا اور اس محاورے کو اُٹھایا اور بیٹے بیٹی کی نسبت سے (اِستعارہ کے طور پر کیوں نہ ہو؟) خداتعالیٰ کی پاکی کا اِظہار فرمایا، اب قادیانی صاحب پھر اس محاورے کو مسلمانوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی فکر میں ہیں، اِ نَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ۔۔!
اور قادیانی کا محدث ہونے کا دعویٰ کرنا، اور اس ذریعے سے ایک قسم کا نبی کہلانا اور ختمِ نبوّت کو نبوّتِ کلی وتشریعی سے مخصوص کرنا اور نبوّتِ جزئی کے دروازے کو مفتوح کہنا، ان نصوصِ قرآن وحدیث سے انکار ہے جو مطلق نبوّت کو ختم کرتی ہیں، قرآن مجید کی آیت: ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰) اپنے اِطلاق وعموم کے ساتھ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مطلق نبوّت کو ختم کرتی اور صاف بتاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ایسا کوئی شخص نہ ہوگا جس پر لفظِ ’’نبی‘‘ کا اِطلاق ہوسکے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے اس کلام کے اِطلاق وعموم کے ساتھ بھی مطلق ،نبوّت کو ختم کیا ہے، اور خصوصیت کے ساتھ محدثین سابقین اور محدث اُمتِ محمدیہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کا نبی نہ ہونا ظاہر فرمادیا ہے۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں آیا ہے:
’’عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: کانت بنو إسرائیل تسوسھم الأنبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی، وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء۔‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۴۹۱، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل)
’’بنی اِسرائیل کی سرداری انبیاء کرتے، جب کوئی نبی ان میں فوت ہوجاتا تو اس کا جانشین بھی دُوسرا نبی ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، صرف خلفاء ہوں گے۔‘‘
ابوداؤد کی حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ میری اُمت میں تیس شخص ایسے جھوٹے ہوں گے جو نبوّت کا دعویٰ کریں گے، حالانکہ میں نبیوں کا خاتم ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، ہاں میری اُمت میں ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، جن کو ان کا مخالف ضرر نہ پہنچائے گا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’سیکون فی اُمتی کذابون ثلاثون، کلھم یزعم انہ نبیٌّ، وأنا خاتم النبیین لا نبی
152
بعدی۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۲۷،کتاب ذکر الفتن ودلائلھا)
ان اِرشادتِ نبویہ کے جملے: ’’لا نبی بعدی‘‘ میں لفظ نبی نکرہ ہے جو نفی لا کے تحت داخل ہے، اور وہ مفید عموم واِستغراق ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ایسا کوئی نہ ہوگا جس پر لفظ نبی بولا جاسکے۔ اب خصوصیت کے ساتھ محدث کا نبی نہ ہونا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کلام سے ثابت کیا جاتا ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، چنانچہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں آیا ہے:
’’قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لقد کان فیما کان قبلکم من الاُمم ناس محدثون فإن یک فی اُمتی احد فإنہ عمر، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: قد کان فیمن قبلکم من بنی إسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء، فإن یک فی امتی منھم احد فعمر۔ قال ابن عباس: من نبی ولا محدث۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۵۲۱، باب مناقب عمر بن الخطاب)
’’تم سے پہلے اُمتوں میں محدث ہوتے تھے، اس اُمت میں محدث ہے تو وہ عمر فاروق ہے!
یہ بھی آپ سے ان کتابوں میں منقول ہے کہ: تم سے پہلے بنی اِسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے جو نبی نہ ہوتے اور وہ خدا سے یا ملائکہ سے ہم کلام (مخاطب) ہوتے، میری اُمت میں ایسا کوئی ہے تو عمر ہے!
اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما کی روایت میں آیت: ’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَانَبِیٍّ‘‘ میں لفظ نبی کے بعد یہ لفظ ’’وَلَا محدث‘‘ بھی پڑھا گیا ہے، اور صحیح مسلم میں لفظ محدث کی تفسیر ملہم سے ہوئی ہے۔‘‘
یہ اقوال نبوی صاف وصریح ناطق ہیں کہ پہلی اُمتوں کے محدث باوجودیکہ وہ خداتعالیٰ یا ملائکہ کے ہم کلام ومخاطب ہوتے تھے، نبی نہ کہلاتے تھے، اب خاص محدث اُمتِ محمدیہ حضرت فاروق رضی اللّٰہ عنہ کا نبی نہ ہونا آپ کے کلام سے ثابت کیا جاتا ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، چنانچہ ترمذی کی روایت میں آیا ہے:
’’لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۲۰۹، باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب)
’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر فاروق ہوتے۔‘‘
جس سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نبی نہیں تھے، اور اس لفظ کا اِطلاق ان پر نہیں ہوسکتا باوجودیکہ حدیث مذکورہ بالا میں ان کا محدث ہونا بیان ہوچکا ہے، اور جبکہ آیت قرآن کی عموم واِطلاق سے اور اِرشاداتِ نبویہ کی عموم وخصوص دونوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جس پر لفظ نبی کا اِطلاق ہوسکے اور محدثین سابقین اور اس اُمت کے تسلیم شدہ محدث نبی نہ کہلاسکے اور قرآن وحدیث نے اس اَمر کا قطعی فیصلہ کردیا ہے، تو پھر قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ محدث ایک قسم کا نبی ہوتا ہے، وبنائً علیہ وہ خود ایک قسم کا نبی ہے، ان نصوصِ صریحہ کا اِنکار نہیں تو اور کیا ہے؟ قادیانی کا ختمِ نبوّت کو نبوّت تشریعی اور کلی سے مخصوص کرنا اور اپنے آپ کو محدث قرار دے کر اپنے لئے جزئی نبوّت اور ایک نوع نبوّت کو تجویز کرنا اور ایک قسم کا نبی کہلانا صاف مشعر ہے کہ
153
وہ اپنے آپ کو اَنبیائے بنی اِسرائیل کی مانند (جو نئی شریعت نہ لاتے، بلکہ پیروی شریعت سابق کی کرتے اور نبی کہلاتے) نبی سمجھتا ہے، یہی امر اس کے قصیدۂ اِلہامیہ کے اَشعارِ ذیل سے جو اِزالہ میں منقول ہیں سمجھ میں آتا ہے:
-
حکم است زآسماں بزمین میر سانمش
گر بشنوم نگویمش آں را کجا برم
(اِزالہ ص:۱۶۲، خزائن ج:۳ ص:۱۸۱)
-
من میزیم بوحی خدائے کہ بامن ست
پیغام اوست چوں نفسِ روح پرورم
(اِزالہ ص:۱۶۶، خزائن ج:۳ ص:۱۸۲)
-
من نیستم رسول ونیا وردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم وزخداوند منذِرم
(اِزالہ ص:۱۷۸، خزائن ج:۳ ص:۱۸۵)
یہ اَبیات صاف پکار رہے ہیں کہ آپ نبی ہیں، صاحبِ وحی ہیں، منذر ہیں، پیغمبر ہیں،(۱) سب کچھ ہیں صرف کسر ہے تو اتنی ہے کہ آپ کوئی نئی کتاب نہیں لائے، بلکہ انبیائے بنی اِسرائیل کی طرح پہلی کتاب کے تابع ہیں اور اس میں عموم وخصوص نصوصِ قرآنیہ ونبویہ مذکورہ بالا سے صاف اِنکار ہے، اور یہ دعوائے نبوّت وتکذیبِ نصوص قادیانی کے دجال وکذّاب ہونے پر بڑی روشن وقوی دلیل ہے۔
(۱) ہرچند ان اَبیات میں آپ نے رسول ہونے کی نفی کی ہے، مگر سرورق اِزالہ اوہام پر اپنے حق میں لفظ ’’مرسل یزدانی‘‘ لکھواکر چھپوادیا ہے، جس سے صاف ثابت ہے کہ درحقیقت آپ کو رِسالت کا بھی دعویٰ ہے، اور ان اَبیات کی نفی صرف دھوکادہی ہے۔ اس پر ایک روشن اور قطعی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اِزالہ میں اپنے رسولِ مبشر بزبان حضرت مسیح ہونا آپ نے بزعمِ خود قرآن سے ثابت کیا ہے، چنانچہ فرمایا ہے: ’’اس سلسلے کا خاتم باعتبارِ نسبتِ تامہ وہ مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو اس اُمت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہوگیا ہے، اور فرمان: جعلناک المسیح بن مریم نے اس کو درحقیقت وہی بنادیا ہے، وکان اللہ علٰی کل شیء قدیرًا، اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے، وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اِشارہ ہے، کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی، اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رُو سے ایک ہی ہیں، اسی کی طرف یہ اِشارہ ہے: ومبشرًا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد، مگر ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقط احمد ہی نہیں، بلکہ محمد بھی ہیں، یعنی جامع جلال وجمال ہیں، لیکن آخری زمانے میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد (خود بدولت) جو اپنے اندر حقیقتِ عیسوی رکھتا ہے، بھیجا گیا ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)۔ اور جس فرمان کا آپ نے ذِکر کیا ہے وہ اِزالہ میں آپ نے بیان کیا اور فرمایا ہے: ’’اس عاجز کا نام مسیح بن مریم رکھ دیا اور اپنے اِلہام میں فرمادیا: جعلناک المسیح بن مریم۔‘‘ (اِزالہ ص:۵۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۰۹)۔ یہ عبارت صاف ناطق ہے کہ آپ اپنے آپ کو شہادتِ قرآن سے رسول سمجھتے ہیں، پھر اس بیت میں اپنی رِسالت سے اِنکار مسلمانوں کو دھوکا دینے اور اِلزامِ دعوائے رِسالت سے بچنے کے سوا کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔؟
154
ایسے ہی کاذب مدعیٔ نبوّت کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال فرمایا ہے، چنانچہ حدیث مذکور ابی داؤد میں صاف تصریح ہے اور صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے منقول ہے:
’’لا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجالون کذابون قریبًا من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول ﷲ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۵۰۹، باب علامات النبوۃ فی الإسلام، مسلم ج:۲ ص:۳۹۷، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی، جب تک کہ تقریباً تیس دجال کذّاب پیدا نہ ہوں گے، جو دعویٰ کریں گے کہ ہم اللّٰہ کے رسول ہیں۔‘‘
صحیح مسلم میں یہ بھی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجالون کذّابونیأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فإیَّاکم وإیَّاھم! لا یضلونکم ولا یفتنونکم!‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۱۰، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء الاحتیاط فی تحملھا)
’’آخر زمانے میں ایسے دجال کذّاب پیدا ہوں گے جو تم کو ایسی باتیں سنائیں گے، جن کو تم نے نہ سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپوں نے، ان سے بچتے رہنا! وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور کسی بلا میں نہ ڈال دیں!‘‘
اِمام نوویؒ نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا ہے:
’’قال ثعلب: کل کذاب فھو دجال، وقیل الدجال المموہ، یقال دجل فلان اذاموہ ودجل الحق بباطلہ ای غطاہ۔‘‘ (شرح مسلم ج:۱ ص:۱۰، باب ایضًا)
’’ثعلب نے کہا: جو جھوٹا ہو، وہ دجال ہے، بعض نے کہا: دجال وہ ہے جو باطل پر حق کا ملمع چڑھائے یا حق کو باطل سے ڈھانک دے۔‘‘
فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:
’’وقد ظھر مصداق ذالک فی آخر زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فخرج مسیلمۃ بالیمامۃ، واسود العنسی بالیمن، ثم خرج فی خلافۃ ابی بکر طلیحۃ بن خویلد فی بنی اسد بن خزیمۃ، وسجاح التمیمیۃ فی بنی تمیم، ۔۔۔۔۔۔۔ وقُتِل الأسود قبل ان یموت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وقُتِل مسیلمۃ فی خلافۃ ابی بکر، وتاب طلیحۃ ومات علی الإسلام علی الصحیح فی خلافۃ عمر، ونقل ان السجاح ایضًا تابت، واخبار ھٰؤُلاء مشھورۃ عند الأخباریین، ثم کان اوّل من خرج منھم المختار بن ابی عبید الثقفی غلب علی الکوفۃ فی اوّل خلافۃ بن الزبیر فأظھر محبۃ أھل البیت ودعا الناس إلٰی طلب قتلۃ الحسین فتبعھم فقتل کثیر ممن باشر ذالک
155
او اعان علیہ فأحبہ الناس، ثم انہ زین لہ الشیطان ان ادعی النبوۃ وزعم ان جبریل یأتیہفروی ابو داوٗد الطیالسی بإسناد صحیح عن رفاعۃ بن شداد قال: کنت ابطن شیء بالمختار فدخلت علیہ یومًا فقال: دخلت وقد قام جبریل قبل من ھٰذا الکرسی، وروی یعقوب بن سفیان بإسناد حسن عن الشعبی ان الأحنف بن قیس أراہ کتاب المختار إلیہ یذکر انہ نبی، وروی ابوداوٗد، فی السُّنن من طریق إبراھیم النخعی قال: قلت لعبیدۃ بن عمرو: اتری المختار منھم؟ قال: اما انہ من الرؤُوس وقتل المختار سنۃ بضع وستین۔ ومنھم الحراث الکذاب خرج فی خلافۃ عبدالملک بن مروان فقتل، وخرج فی خلافۃ بنی العباس جماعۃ۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۶۱۷، باب علامات النبوۃ فی الإسلام، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)
’’اس حدیث کا صدق آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کے آخر زمانے میں ظاہر ہوچکا ہے، یمامہ میں مسیلمہ کذّاب ایسا نکلا، یمن میں اسود عنسی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت میں طلیحہ اور سجاح نکلے۔ اسود تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رحلت سے پہلے مارا گیا، اور مسیلمہ خلافتِ ابوبکرؓ میں، اور طلیحہ تائب ہوا اور اِسلام کی حالت میں مرا، اور سجاح بھی تائب ہوئی، ان کے حالات اہلِ تاریخ جانتے ہیں۔ ان سب کے بعد پہلے مختار بن عبید نکلا، اس نے اِبنِ زبیرؓ کی شروع خلافت میں کوفہ پر غلبہ پایا، سو پہلے تو اس نے محبتِ اہلِ بیت کا اِظہار کیا، اور اس کی طرف لوگوں کو بلایا، پھر یہ دعویٰ کیا کہ میرے پاس جبریل آتے ہیں، چنانچہ ابوداؤد طیالسی نے رفاعہ سے نقل کیا ہے کہ: میں ایک دن مختار کے پاس گیا تو وہ بولا کہ ابھی اس کرسی سے جبریل اُٹھ کر گئے ہیں۔ یعقوب بن سفیان نے شعبیؒ سے نقل کیا ہے کہ احنف بن قیس نے ان کو مختار کا ایک خط دِکھایا جس میں اس نے اپنی نبوّت کا ذِکر کیا تھا، ابوداؤد نے سنن میں عبیدہ بن عمرو سے نقل کیا ہے کہ مختار ان مدعیانِ نبوّت کا سردار تھا، یہ مختار ۶۰ھ میں مارا گیا، اور من جملہ ان کے حارث کذّاب ہے، جو خلافتِ عبدالملک بن مروان میں نکلا اور مارا گیا۔‘‘
غلام احمد قادیانی کا یہ بھی حال سنا گیا ہے کہ وہ اپنے مریدوں میں بیٹھ کر دعویٰ کیا کرتا ہے کہ جبریل میرے سامنے کھڑے ہیں،(۱) جو کچھ مجھ سے کہتے ہیں میں وہی لوگوں کو سناتا ہوں۔
اس اِلزام کے جواب میں شاید قادیانی یا اس کے حواری یہ دو عذر پیش کریں:
اوّل:۔۔۔ یہ کہ ہرچند قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس نبوّت کا دُوسرا نام محدثیت
(۱) جبریل کے سامنے کھڑے ہونے سے آپ کی مراد یہ ہے ہ جبریل کی عکسی تصویر کھڑی ہے، نہ ذاتِ جبریل، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نزولِ جبریل سے وہ عکسی تصویر مراد لیتے ہیں، یا شاید اپنے پاس جبریل کا بذاتِ خود آنا جائز رکھتے ہوں، مگر یہ آپ کے اس اُصول کے برخلاف ہے کہ: ’’جبریل اپنے ہیڈکوارٹر سے جدا نہیں ہوتا‘‘۔۔۔!
156
ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی نبوّت کے دعوے سے محدثیت کا دعویٰ مراد ہے، نہ حقیقۃً اور معنیً نبی ہونے کا دعویٰ۔ اس میں اس پر زیادہ سے زیادہ اِلزام قائم ہوتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے حق میں لفظ نبی کا اِطلاق کیا اور اس میں الفاظ نصوصِ مذکورہ کا خلاف کیا، نہ یہ اِلزام کہ وہ حقیقۃً نبوّت کا مدعی ہے۔
عذرِ دوم:۔۔۔ یہ کہ ان احادیث میں ان لوگوں کو دَجال وکذّاب کہا گیا ہے جو نبوّتِ خاتم النّبیین کے مقابلے میں نبوّت کا دعویٰ کریں اور مستقل ہی کہلاویں، جیسے مسیلمہ کذّاب اور اَسود وغیرہ سے وقوع میں آیا ہے، اور قادیانی تو نبوّتِ مستقلہ کا دعویٰ نہیں کرتے، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کے ساتھ دعوائے نبوّت کرتے ہیں، لہٰذا وہ ان احادیث کے مصداق نہیں ہوسکتے اور نہ دجال کذّاب کہلانے کے مستحق ہیں۔
ان دونوں عذر میں سے پہلے عذر کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ قادیانی نے یہ بات کہہ دی ہے کہ جس نبوّت کا اس کو دعویٰ ہے، اس کا دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا، اس کا دُوسرا نام محدثیت ہے، اور اسی محدثیت کے معنی سے نبوّت کا وہ مدعی ہے، مگر ساتھ اس کے اس نے محدثیت کے معنی ایسے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت کی ایسی تشریح کردی ہے کہ اس سے بجز نبوّت اور کچھ مراد نہیں ہوسکتا۔
اس کی عبارت توضیح مرام میں منقول ہے، صاف تصریح ہے کہ:
’’محدث جزئی طور پر ایک نبی ہی ہے، کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے، اُمورِ غیبیہ اس پر کھولے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مأمور ہوکر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآوازِ بلند ظاہر کرے اور اس سے اِنکار کرنے والا ایک حد تک مستوجبِ سزا ٹھہرتا ہے، اور نبوّت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اُمورِ متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں ۔۔۔إلٰی ان قال: ان النبی محدث والمحدث نبی بإعتبار حصول نوع من انواع النبوۃ۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۸،۱۹، خزائن ج:۳ ص:۶۰،۶۱)
جس سے صاف اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ مرزا کے نزدیک محدث کے وہی معنی اور اس کی وہی حقیقت ہے جو نبی کے معنی اور حقیقت ہے، اور محدث اور نبی آپ کے نزدیک صدق وتحقق میں مساوی ہیں۔ یا نبی عام ہے اور محدث ایک نوع خاص، اور اس سے یقینی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ نے صرف لفظی نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا، اور اس میں صرف لفظی غلطی کا اِرتکاب نہیں فرمایا، بلکہ آپ معنیٔ نبوّت کو اپنی ذات شریف میں متحقق سمجھتے ہیں اور حقیقۃً اور معنی نبی ہونے کے مدعی ہیں، اور عبارتِ منقولہ سابقہ میں آپ کا مرسل رسول کہلوانا بھی اس کا مؤید ہے۔
دُوسرے عذر کا جواب یہ ہے کہ نبوّت جس کے مدعی کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال کہا ہے، نبوّتِ مستقلہ سے مخصوص نہیں، یہ تخصیص نہ احادیثِ مذکورہ میں وارِد ہے اور نہ اور کہیں اس کا وجود ہے، اور اِطلاق نصوصِ مذکورہ سے صاف ثابت ہے
157
کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّتِ غیرمستقلہ کا مدعی بھی ویسا ہی دجال وکذّاب ہے جیسا کہ مدعیٔ نبوّتِ مستقلہ۔ اور ابوداؤد کی حدیثِ مذکور اپنے سیاق وصراحت سے بتا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ایسے نبی بھی نہ ہوں گے، جیسے بنی اِسرائیل میں ہوتے تھے، جو نئی شریعت لاتے، بلکہ پچھلی شریعت کی پیروی کرتے، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایسے ہی نبیوں کو ذِکر فرماکر اپنے بعد نبی آنے کی نفی کی ہے۔
اس حدیث کا سیاق اور اَحادیثِ سابقہ کا اِطلاق صاف بتا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے اور نبی کہلائے، گو دعوائے اِستقلال نبوّت نہ کرے، بلکہ پیروی خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مدعی ہو، وہ دجال وکذّاب ہے، اور اَحادیثِ مذکورہ کا مصداق۔ قادیانی صاحب ان احادیث کے اِطلاق وسیاق میں بلادلیل تخصیص کریں گے اور نبی غیرمستقل کہلاکر ان احادیث کے مضمون سے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار دیں گے تو یہ ان کے دجال ہونے پر ایک اور دلیل قائم ہوگی۔
علاوہ بریں قادیانی کا یہ دعویٰ اِتباعِ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور عدم اِستقلال دعوائے رِسالت بھی چند روز تک ہی معلوم ہوتا ہے، جب آپ کا یہ دعوائے نبوّت تبعی غیراِستقلالی آپ کے مریدوں میں بلاخلاف مانا گیا تو دعوائے نبوّت مستقلہ بھی آپ سے بعید نہیں ہے، جیسا کہ مختار سے وقوع میں آیا تھا، چنانچہ فتح الباری کی عبارت میں گزرا اور ایسا ہی دجالِ موعود سے وقوع میں آئے گا، چنانچہ طبرانی کی روایت میں ہے:
’’واما الذی یدعیہ فإنہ یخرج اوّلًا فیدعی الإیمان والصلاح ثم یدعی النبوۃ ثم یدعی الإلٰھیۃ کما اخرج الطبرانی من طریق سلیمان بن شھاب قال: نزل علی عبد اللہ بن المعتمر وکان صحابیًا فحدثنی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: الدجال لیس بہ خفاء یحیی من قبل المشرق فیدعوا إلی الدین فیتبع ویظھر، فلا یزال حتّٰی یقدم الکوفۃ فیظھرالدین ویعمل بہ فیتبع ویحث علٰی ذٰلک ثم یدعی انہ نبی فیفرغ من ذالک کل ذی لب ویفارقہ، فیمکث بعد ذٰلک فیقول: انا ﷲ، فتغشی عینہ وتقطع اذنہ ویکتب بین عینیہ کافر۔‘‘
(فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۱، باب ذکر الدجال، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)
’’دجال پہلے لوگوں کو دِینِ اسلام کی طرف بلائے گا، جب لوگ اس کے اس دعوے کے سبب پیرو ہوجائیں گے اور کوفہ وغیرہ میں اس کا تسلط اور تغلب ہوجائے گا، تو وہ پھر دعوائے نبوّت کرے گا، جس سے عقل مند لوگ گھبرائیں گے اور اس سے جدا ہوں گے، پھر وہ دعوائے خدائی کرے گا، اس وقت اس کی آنکھ پر جھلی پیدا ہوگی، یعنی وہ کانا ہوگا، اور اس کی پیشانی پر لفظ کافر لکھا جائے گا۔‘‘
ایسا ہی قادیانی سے ڈَر لگتا ہے کہ اب تو اس کو دعوائے نبوّتِ تبعی ہے، پھر دعوائے نبوّتِ مستقلہ ہوگا، پھر دعوائے اُلوہیت، یہ گمان آپ کے حق میں بلابرہان نہیں ہے، آپ کے سابق حالات اس گمان پر روشن دلائل ہیں۔
زمانۂ تالیف براہین احمدیہ میں آپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جو پیشین گوئی غلبہ دِینِ اسلام حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں
158
وارِد ہے، حضرت مسیح اس کے ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں اور ہم (خودبدولت) رُوحانی اور معقولی طور پر اس کے مصداق ہیں، اور فرمایا کہ: ’’جس غلبۂ کامل دِینِ اسلام کا اس پیشین گوئی میں وعدہ کیا گیا ہے، وہ غلبہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب آپ دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تب آپ کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع اَقطارِ عالم میں پھیل جائے گا۔‘‘ (دیکھو براہین احمدیہ ص:۴۹۸، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)۔
یہ بات آپ کی مسلمانوں میں مانی گئی تو آپ اب یہ فرما رہے ہیں کہ مسیح گئے گزرے اور مرگئے، اب وہ دُنیا میں نہیں آسکتے اور جو پیشین گوئیاں مسیح کے حق میں وارِد ہیں، وہ سربسر آپ کے حق میں ہیں اور آپ ہی ان کے مصداق ہیں، پس اگر ایسا ہی چند روز کے بعد دعوائے نبوّتِ مستقلہ بلکہ اُلوہیتِ کاملہ آپ سے ظہور پائے تو کون سے تعجب کا محل ہے۔۔۔؟
اس دعوائے نبوّتِ مستقلہ کرنے کا زمانہ آئندہ میں آپ کی نسبت کوئی گمان نہ کرے، تو وہی نبوّتِ تبعی اور جزئی (جس کے اب آپ برملا مدعی ہیں) آپ کے دجال ہونے کے لئے کافی دلیل ہے، نصوصِ مذکورہ صاف فیصلہ کرتی ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دعوائے نبوّت کرے (محدث ہی کیوں نہ کہلاتا ہو) وہ دجال وکذّاب ہے۔۔۔!
اس میں بھی کسی کو اِشتباہ رہے تو اس کی فہمائش کے لئے صحیح مسلم کی دُوسری حدیث اس کے دجال ہونے پر کافی دلیل ہے،(۱) اس حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ: جو شخص ان کو ایسی باتوں (یعنی دین کے متعلق) سناوے جو اُن کے بزرگوں سے نہ پہنچی ہوں، تو وہ دجال ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ قادیانی اُصولِ دِین اور مسائلِ اِعتقادیہ میں ایسی باتیں کہتا اور قرآن وحدیث کے ایسے معنی بیان کرتا ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اَصحابِ کبار کے خواب میں بھی نہ آئے تھے، اور نبوّت ختم شدہ کو نبوّتِ کلی اور تشریعی سے مخصوص کرنا اور نبوّتِ جزئی وغیرتشریعی کو اپنے لئے تجویز کرنا، اسی قسم سے ہے، پھر اس کے دجال وکذّاب ہونے میں کیا شک ہے۔۔۔؟
قادیانی نے جو اپنے عقیدۂ کفریہ بدعیہ پر حدیثِ مبشرات سے اِستدلال کیا ہے، وہ اس کے عقیدے کا مثبت نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کی بے علمی ونافہمی پر ایک روشن دلیل ہے۔ اس حدیث میں مبشرات یعنی مؤمنوں کے سچے خوابوں کو نبوّت کا ایک جزو قرار دِیا ہے،(۲) نہ ایک نوعِ نبوّت یا جزئی نبوّت۔ اور یہ ظاہر ہے اور ادنیٰ اہلِ علم کو معلوم ہے کہ جزء اور ہے، جزئی اور، کسی چیز کی جز پر اس کے کل کا حقیقۃً اِطلاق نہیں ہوسکتا، اور جزئی پر کلی کا اِطلاق حقیقۃً ہوتا ہے، جزئی میں کلی کا پورا تحقق ہوتا ہے، ایسا ہی نوع میں جنس مع فصل پوری پائی جاتی ہے، بلکہ خارج اور نفس الامر میں جزئی ہی موجود اور اپنی کلیات کا کل ہوتی ہے، اور کلیات اس کے اجزاء ہوتے ہیں،
(۱) الصحیح لمسلم ج:۱ ص:۱۰، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔
(۲) چنانچہ بخاری ج:۲ ص:۱۰۳۵ الرؤْیا الصالحۃ کی حدیثِ مرفوع میں آیا ہے کہ: مؤمن کا خواب نبوّت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اور ابنِ ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ: نبیوں کے خواب وحی ہیں، یعنی وحیٔ نبوّت کی ایک نوع۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ فرق کرنا اور مؤمنوں کے خواب کو جزئِ نبوّت اور نبیوں کے خواب کو وحی (یعنی نوعِ وحیٔ نبوّت) قرار دینا صاف مشعر ہے کہ مؤمنوں کے خواب نبوّت نہیں ہیں، بلکہ وہ جزئِ نبوّت ہیں۔ قادیانیو! سمجھو! سمجھ نہ ہو تو کسی اہلِ علم سے دریافت کرو۔۔۔!
159
اور یہ اُمور جزء میں پائے نہیں جاتے، نہ ان میں کل کا پورا تحقق ہوتا ہے، نہ وہ کل کا کل ہوتی ہے، لہٰذا کوئی عقل مند جزء کو جزئی یا کلی کا ایک نوع نہیں کہہ سکتا، مثلاً: حقیقت انسان کی جزء حیوان کو کوئی شخص انسان نہیں کہہ سکتا، اور نہ اس کو جزئی انسان یا ایک نوعِ انسان قرار دے سکتا ہے۔
کوئی شخص صرف شکر یا سر کہ کو سکنجبین نہیں کہہ سکتا، اور نہ ان اجزاء کو سکنجبین کا ایک قسم قرار دے سکتا ہے، قادیانی نے اپنی بے علمی اور نافہمی سے اس بات کو نہیں سمجھا، اور جزء نبوّت کو نوعِ نبوّت اور نبوّتِ جزئی قرار دِیا ہے، اور اِنکارِ نصوصِ ختمِ نبوّت کا اِرتکاب کیا۔ ریاست بھوپال کا ملازم محمد احسن امروہی جو قادیانی کو علوم وحقائق کا دریائے ناپیداکنار سمجھتا اور اپنے رسالے اعلام میں اس کے حق میں لکھ چکا ہے: ’’ولا ینتھی بحرہ الذی لا ساحل لہ‘‘ وہ اس بات کو غور سے سمجھے اور اَب بھی اس کو بے علم سمجھ کر اس کے اِتباع سے ہاتھ اُٹھائے، ورنہ تھوڑے دِنوں کے بعد وہ سخت پچھتائے گا اور آخر اس کی اِتباع سے دست بردار ہوجائے گا، اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ!
اور قادیانی کا حضرت عیسیٰ مسیح کا سولی پر چڑھایا جانا تجویز کرنا نصِ قرآن: ’’وَمَاقَتَلُوْہٗ وَمَا صَلَبُوْہٗ‘‘( النساء:۱۵۷) سے اِنکار ہے، اور اس میں آپ نے نیچریوں کی تقلید کی ہے، جو عیسائیوں کے مقلد ہیں۔ تفسیر نیچری(۱) نکالو اور اس اَمر کی تصدیق کرلو۔۔۔!
ایسا ہی قادیانی کا حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے بتأویل اِنکار کرنا، قرآن کا اِنکار کرنا ہے، اور ان کی تأویلات میں نیچریوں کا اِتباع ہے، اس بات میں قادیانی کا قانونِ قدرت سے اِستشہاد کرنا بھی اسی اِعتقادِ نیچریت کو ظاہر کرنا ہے، انسان کا تجربہ اور مشاہدہ خداتعالیٰ کی قدرت کا قانون نہیں ہوسکتا، اور اس کی قدرت انسان کے تجربے ومشاہدے میں محدود نہیں ہوسکتی، اس بات کا قادیانی خود پہلے مقر ہوچکا ہے اور اپنی کتاب میں اپنے تجربے کو قانونِ قدرتِ خداوندی قرار دینے کو کفر وبے ادبی وبے اِیمانی کہہ چکا ہے،(سرمہ چشم آریہ ص:۱۷، خزائن ج:۲ ص:۶۵)۔
اور قادیانی کا بعض احادیثِ صحیحین کو موضوع کہنا، بدعت وضلالت ہے، اور ان تمام اہلِ اسلام کے مخالف جو اَحادیثِ صحیحین کو مانتے ہیں، حجۃاللّٰہ البالغہ میں ہے:
’’اما الصحیحان فقد اتفق المحدثون علٰی ان جمیع ما فیھما من المتصل المرفوع صحیح بالقطع وانھما متواتران إلٰی مصنفیھما وانہ کل من یھون امرھما فھو مبتدع متبعغیر سبیل المؤْمنین۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۳۴، باب طبقات کتب الحدیث)
’’صحیحین کی مرفوع ومتصل حدیثوں کے صحیح ہونے اور ان کتب کے مؤلفوں تک بتواتر پہنچ جانے پر محدثوں کا اِتفاق ہوچکا ہے، اور اس اَمر پر ان کا اِتفاق ہے کہ جو شخص ان کی شان کی توہین کرے، وہ بدعتی ہے، مؤمنوں کی راہ کے مخالف راہ کا پیرو۔‘‘
(۱) سرسیّداحمد خان کی تفسیر جو خود کو نیچر کا متبع کہتے تھے، جس کی وجہ سے ان کو ’’نیچری‘‘ کہا جاتا تھا۔
160
اور قادیانی کا کشف کے ذریعے سے حدیث صحیح بخاری کو موضوع قرار دینا اور بھی گمراہی ہے، غیرنبی کا کشف واِلہام حجتِ شرعی نہیں ہے، چنانچہ شرح عقائد نسفی (ص:۲۲) میں ہے:
’’والإلھام المفسر بإلقاء معنی فی القلب بطریق الفیض لیس من اسباب المعرفۃ بصحۃ الشیء عند أھل الحق۔‘‘
’’اِلہام جس کی تفسیر یہ ہے کہ کسی کے دِل میں بطور فیض کچھ اِلقاء ہو، اہلِ حق (یعنی اہلِ سنت) کے نزدیک حقیقتِ اشیاء کے علم ومعرفت کا وسیلہ نہیں ہے۔‘‘
ایسا ہی تلویح وغیرہ کتبِ اُصول میں ہے، تو پھر وہ ایک حجتِ شرعی (یعنی حدیثِ صحیح) کا مبطل کیونکر ہوسکتا ہے؟ وہ خود اپنی صحت وقبولیت میں توافقِ قرآن وحدیث کا محتاج ہے۔
اور قادیانی کا حدیث کو مفسرِ قرآن نہ ماننا، ضلالت اور اہلِ بدعت کی علامت ہے، اہلِ سنت میں مُسلَّم ہے کہ حدیث، قرآن کی تفسیر ہے اور اس کے اِجمال کی مبین۔
سنن دارمی (ج:۱ ص:۱۴۴) میں ’’باب السُّنَّۃ قاضیۃ علٰی کتاب ﷲ‘‘ (۱) عقد کیا ہے اور اس میں ایک حدیثِ مرفوع نقل کی ہے، پھر بعینہٖ یہ قول اِمام یحییٰ ابن کثیر سے نقل کیا ہے، اور دارمی (ج:۱ ص:۴۹) ’’باب التورع عن الجواب فیما لیس فیہ کتاب ولا سُنَّۃ‘‘ میں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے نقل کیا ہے:
’’عن عمر ابن الخطاب قال: انہ سیأتی ناس یجادلونکم بشبھات القرآن، فخذوھم بالسُّنن، فإن اصحاب السُّنن اعلم بکتاب ﷲ۔‘‘
’’لوگ قرآن کی متشابہ آیات یعنی جن کی کئی وجوہ سے تفسیر ہوسکتی ہو، تمہارے سامنے پیش کریں گے، تم ان کو اَحادیثِ نبویہ سے پکڑنا، کیونکہ قرآن کو بہتر جاننے والے اہلِ حدیث ہیں۔‘‘
اور اِمام شعرانی نے منہج میں کہا ہے:
’’اجتمعت الاُمَّۃ علٰی ان السُّنَّۃ قاضیۃ علٰی کتاب ﷲ‘‘
’’اُمتِ محمدیہ کا اس پر اِتفاق ہے کہ سنت، کتابُ اللّٰہ کی وجوہاتِ مختلف کا فیصلہ کرنے والی ہے۔‘‘
اور قادیانی کا اپنے اِتباع کو مدارِ نجات ٹھہرانا اور اس سے اِنکار کو موجبِ ہلاکت کہنا بھی سخت گمراہی ہے، اورا س میں بھی اس کا اپنے حق میں درپردہ نبوّت کا دعویٰ ہے، کیونکہ یہ دعویٰ صرف انبیاء علیہم السلام کو پہنچتا ہے، جو سوئِ خاتمہ سے مأمون ہیں، دُوسروں کو۔۔۔ولی کیوں نہ ہوں۔۔۔ اپنی نجات وحسنِ خاتمہ کا یقین نہیں ہے، تو وہ دُوسروں کو نجات کا یقین کیونکر دِلاسکتے ہیں۔۔۔؟
صحیح بخاری میں اکابر صحابہؓ سے مروی ہے کہ وہ اپنے اُوپر نفاق کا ڈَر رکھتے تھے، چنانچہ ابنِ ابی ملیکہؒ سے روایت ہے:
(۱) یعنی حدیث، قرآن مجید کی مختلف وجوہات کا فیصلہ کرنے والی ہے۔
161
’’قال ابن ابی ملیکۃ: ادرکت ثلاثین من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کلھم یخاف النفاق علٰی نفسہ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۲، باب خوف المؤْمن ان یحبط عملہ)
’’انہوں نے کہا: میں نے تیس اصحابِ نبوی کو پایا، یعنی دیکھا، وہ سب کے سب اپنے حق میں نفاق کا ڈَر رکھتے تھے۔‘‘
اور مشکوٰۃ میں حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ مقبرے میں جاتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی۔ اسی نظر سے علمائے اسلام نے کہا ہے کہ ایمان بین الرجاء والخوف چاہئے، شرح عقائد میں ہے:
’’والأمن من اللہ تعالٰی کفر لأنہ لا یأمن مکر اللہ إلَّا القوم الخاسرون۔‘‘
(شرح عقائد ص:۱۶۹، طبع مکتبہ خیر کثیر)
’’خدا کے مؤاخذے سے بے خوف ہوجانا کفر ہے، قرآن میں ارشاد ہے: خداتعالیٰ سے وہی لوگ بے ڈَر ہوتے ہیں جو خسارے میں ہیں۔‘‘
اور اس میں ہے:
’’لا یبلغ ولی درجۃ الأنبیاء، لأن الأنبیاء معصومون مأمونون عن خوف الخاتمۃ۔‘‘
(شرح عقائد ص:۱۶۴)
’’ولی، انبیاء کے درجے کو نہیں پہنچتے، کیونکہ انبیاء خاتمہ بُرا ہونے سے باامن ہوتے ہیں۔‘‘
اور شرح فقہ اکبر میں ہے:
’’ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مات علی الإیمان ولیس ھٰذہ النسخۃ فی اصل شارح تصدر لھٰذا المیدان لکونہ ظاھرًا فی معرض البیان ولا یحتاج ذکرہ لعلوہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ھٰذا الشأن ولعل مرام الامام علٰی تقدیر صحۃ ورود ھٰذا الکلام انہ صلی ﷲعلیہ وسلم من حیث کونہ نبیًّا من الأنبیاء علیھم السلام وھم کلھم معصومون عن الکفر فی الإبتداء والإنتھاء نعتقد انہ مات علی الإیمان واما غیرہ من الأولیاء والعلماء والأصفیاء بالأعیان فلا نجزم بموتھم علی الإیمان وإن ظھر منھم خوارق العادات وکمال الحالات وجمال انواع الطاعات فإن مبنی امرہ علی الإیمان وھو مستور علٰی افراد الإنسان ولھٰذا کانت العشرۃ المبشرۃ وأمثالھم خائفین من إنقلاب احوالھم وسوء مآلھم فی آمالھم۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۳۱، طبع مجتبائی دہلی ۱۳۴۸ھـ)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاتمہ اِیمان پر ہوا ہے، اس مسئلے کا بیان اہم مقام میں اس امر کے اِظہار کی غرض سے ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم چونکہ نبی ہیں اور نبی سب کے سب اِبتدائے عمر سے
162
اِنتہا تک کفر سے محفوظ ہوتے ہیں، لہٰذا ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ کا خاتمہ اِیمان پر ہوا ہے۔ ان کے سوا اور ولیوں کے اِیمان پر خاتمہ ہونے کا ہم یقین نہیں کرسکتے، اگرچہ ان سے کرامات وکمال حالات اور انواعِ طاعات ظاہر ہوں، کیونکہ یہ یقین تب ہو جبکہ ان کا اِیمان یقینا ثابت ہو، اور یہ اِیمان لوگوں پر مخفی رہتا ہے، اسی وجہ سے عشرہ مبشرہ اور ان کے امثال اصحاب سوئِ خاتمہ سے ڈرتے رہے۔‘‘
اور جب اکابر اولیاء کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا تو مرزاقادیانی کو (جو عقائد اور اقوالِ مذکورہ کی نظر سے دائرۂ اسلام اور تسنن سے خارج ہے اور اس اِعتقاد واقوال کے ساتھ اس کا ولی ہونا ممکن نہیں ہے) یہ دعویٰ کب زیبا ہے۔۔۔؟
اور قادیانی کا یہ کہنا کہ اِعتقادِ حیاتِ مسیح شرک کا ستون ہے، ان تمام صحابہؓ وتابعینؒ وتبع تابعینؒ، اَئمہ مجتہدینؒ اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وقت سے اس وقت تک عام مسلمین کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کو زِندہ سمجھتے ہیں اور قیامت سے پہلے ان کے نزول کے معتقد ہیں، مشرک بنانا ہے، اور یہ امر جیسا کفر ہے، محتاجِ بیان نہیں ہے۔۔۔!
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ جو کچھ ہم نے سوالِ سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتویٰ دیا، وہ صحیح ہے، کتاب وسنت واقوالِ علمائے اُمت اس کی صحت پر شاہد ہیں، اب مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال، کذّاب سے اِحتراز اِختیار کریں، اور اس سے وہ دِینی معاملات نہ کریں جو اہلِ اسلام میں باہم ہونے چاہئیں، نہ اس کی صحبت اِختیار کریں، اور نہ اس کو اِبتداء ً سلام کریں، اور نہ اس کو دعوتِ مسنون میں بلائیں، اور نہ اس کی دعوت قبول کریں، اور نہ اس کے پیچھے اِقتدا کریں، اور نہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں، اگر انہیں اِعتقادات واقوال پر یہ رحلت کرے،
وَﷲُ الْمُوَفِّقُ لِلْعَمَلِ وَالْقُبُوْل!
|
جواب صحیح ہے |
الراقم العاجز |
|
حسبنا اللہ بس |
سیّد محمد نذیر حسین |
|
حفیظ اللّٰہ |
|
تصدیق علمائے دہلی وآگرہ وعرب وحیدرآباد وبنگال وغیرہ
لا ریب فی ان القادیانی الغبی الغوی ابتدع بدعۃً ضلالۃً وابرز فی تحریراتہ سفاھۃً وجھالۃً وزاد فی قلبہ وعقیدتہ مرضًا وعلالۃً قد حرف عن مواضعہ الکلم والنصوص وانکر ما ھو من ضروریات الدین فھو وامثالہمن سرقۃ الدین واللصوص انی لا اشک ان ھٰذا من الدَّجَّالین الکذَّابین والشَّیاطین الملاعین تاب اللہ علیہ اوابتلاہ بالعذاب المھین، آمین یا رَبّ العالمین! محمد عبدالجبار عمرپوری، مدرّس آگرہ اسکول
ترجمہ:۔۔ ’’اس میں شک نہیں کہ قادیانی کج رو، بلید نے، بدعت ضلالت نکالی ہے اور اپنی تحریرات میں حماقت ظاہر کی ہے، اپنے حال اور اِعتقاد میں بیماری بڑھالی ہے، کلماتِ شارع اور نصوص کی تحریف کی ہے، اور ان باتوں کا جو دِین سے بداہۃً ثابت ہیں، اِنکار کیا ہے، وہ اور اس جیسے لوگ دِین کے چور ہیں اور وہ دجالین، کذّابین اور ملعون شیاطین سے ہیں، خدا اس کو توبہ کی توفیق دے، یا
163
ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کرے۔‘‘
لا شک فی ان من اعتقد ما بین فی جواب المجیبین الذین صرحوا مطالب ذالک المعتقد فھو ملحد، لأن ذالک المعتقد منکر اکثر ظواھر الشرع وحکم مثل المنکر مما لا یخفی۔
کتبہ: احمد حسن دھلوی، کلکٹر حیدرآباد دکَّن
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس میں شک نہیں کہ جو شخص ان باتوں پر اِعتقاد رکھے، جو فتوے میں مذکور ہیں، وہ ملحد ہے، کیونکہ ایسا اِعتقاد رکھنے والا اکثر اِعتقاداتِ ظاہر شریعت کا منکر ہے، اور اس کا حکم مخفی نہیں ہے۔‘‘
طریقۃ ھٰذا الدَّجَّال طریقۃ ضالۃ یشھد علٰی ردھا النصوص وقد اصاب من اجاب، عفی اللہ عنہ۔
اسحاق بن عبدالرحمٰن عربی
’’اس دجال کا طریق گمراہی کا طریق ہے، اس کا نصوص کو رَدّ کرنا اس پر گواہ ہے، اس کے حق میں جو جواب لکھا ہے، وہ دُرست ہے!‘‘
|
الجواب صحیح! (جواب صحیح ہے) |
محمد بن حسن بن احمد عربی |
کل الجواب صحیح لا ریب فیہ، من انکر فھو ملحد زندیق! ابوعبدالمنان محمد عبدالرحمٰن
’’جواب سب کا سب صحیح ہے، اس میں کوئی شک نہیں، جو اس کے مضامین کا منکر ہے، وہ ملحد اور چھپا مرتد ہے۔‘‘
الحق لا یتجاوز عما فی ھٰذہ الأوراق فماذا بعد الحق إلَّا الضلال!
|
سیّد محمد ابو الحسن |
سیّد محمد عبدالسلام |
|
۱۳۰۵ھ |
|
’’حق اس بیان سے متجاوز نہیں جو ان اوراق میں ہے، پھر حق چھوڑ کر بجز باطل کیا ہوگا۔۔۔!‘‘
|
ھٰذا حکم صحیح، لا ریب فیہ! |
سیّد احمد شاہ پوری |
حررہ الراجی رحمۃ ﷲ
ابو عبد اللہ محمد فقیر اللہ الکٹھوی الشاہ پوری
’’جس کا یہ اِعتقاد ہو جو سوال میں مندرج ہے، اس کی نسبت کوئی شک نہیں کہ وہ خود گمراہ ہے، اوروں کو گمراہ کرنے والا ہے، کذّاب ہے، دِین میں فساد ڈالنے والا ہے، اس کے چھپے مرتد ہونے اور کفر میں کوئی گفتگو نہیں۔ خدا اس کو ہلاک کرے!
اقول بتوفیق اللہ الوھاب انہ لا ریب فی صحۃ ھٰذا الجواب وانہ لا شک فی کفر مرزا الکذّاب۔
محمد یوسف
164
’’میں خدا وہاب کی توفیق سے کہتا ہوں کہ اس جواب کی صحت میں کوئی شک نہیں اور نہ اس کذّاب قادیانی کے کفر میں شک ہے۔‘‘
جس شخص کے ایسے عقائد اور اقوال ہوں، اس کے کفر میں کچھ شبہ نہیں۔
قادر علی عفی عنہ
حضرت اُستاذنا وشیخنا وشیخ الاسلام مولانا سیّد محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی ادام اللّٰہ برکاتہ‘ نے جو کچھ زیب رقم فرمایا ہے، مجھے اس سے دِلی اِتفاق ہے۔
محمد حسین پٹیالوی
| جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
| عبدالکریم |
محمد کرامت اللّٰہ |
محمد یحییٰ ابوالحسنات |
| جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
| محمد الطاف حسین عفی عنہ |
محمد زکریا عفی عنہ |
ابوالفضل محمد عبدالرحمن |
| جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
| ابوالفضل محمد نصیرالدین |
ابومحمد عبدالعزیز |
محمد بنیامین خاں |
|
جواب صحیح اور دُرست ہے |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
|
خادم العلماء محمد عیسیٰ |
ابو محمد ثابت علی |
افاد المجیب واجاد، مجیب نے اس جواب سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور جواب کھرادیا۔
ابواِسماعیل یوسف خانپوری
اصاب المجیب، جواب دینے والے نے دُرست کہا ہے۔
محمد سراج الدین
الجواب صحیح، والمجیب نجیح، ’’جواب صحیح ہے، اور مجیب رستگار‘‘۔
محمد
مرزاقادیانی کی بعض تصنیف فقیر کی نظر سے گزرچکی تھیں، فی الحال یہ سوال وجواب سنا گیا، بیشک مرزاقادیانی اہلِ اسلام سے خارج ہے اور سخت ملحد اور ایک دجال دجالون مخبر عنہا سے ہے، اور پیرو اس کے گمراہ ہیں۔
فقط فقیر مسعود دہلوی
سجادہ نشین نقشبندیہ خلیفہ اِمام علی شاہ مرحوم، رہڑچھڑ، پنجاب
الجواب صحیح، ’’یہ جواب صحیح ہے۔‘‘
حبیب احمد
من اعتقد ما فی السؤَال لا شک انہ الدجال۔
فتح محمد فتح پوری، مدرّس دھلی
’’جس کا یہ اِعتقاد ہو جو سوال میں ہے، وہ بلاشک دجال ہے۔
ومن کان إعتقادہ مخالفًا لأھل السُّنَّۃ والجماعۃ فھو بلا ریب خارج عنہ سیما من کان إعتقادہ مما ھو فی ھٰذا السؤَال مرقوم فھو قطعًا زندیق ومرتد۔
محمد امان اللّٰہ
165
’’جس شخص کا اِعتقاد اہلِ سنت وجماعت سے خارج ہو، وہ بلاریب ان کی جماعت سے خارج ہے اور خاص کر جس شخص کا یہ اِعتقاد ہو جو سوال میں مرقوم ہے، وہ قطعاً چھپا کافر ومرتد ہے۔‘‘
إن کان کذا فکذا۔
حررہٗ عبدالقادر
اگر قادیانی نے ایسا کہا ہے جو سوال میں ہے تو اس کا یہی حکم ہے، جو جواب میں ہے کہ وہ دجال وکذّاب ہے اور پابندی اسلام سے خارج ہے۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح، ’’جواب صحیح ہے اور مجیب رستگار۔‘‘
محمد عثمان
حقیقت میں ایسا شخص من جملہ ان دجالوں کے ایک دجال، مگر بڑا بھاری دجال، بلکہ اس کا عم وخال ہے، اس زمانے کی کیا خصوصیت ہے؟ اسی ملک پنجاب میں کہ جہاں کا ہیولیٰ بڑا قابل ہے، لوگوں کی سادہ لوحی اس بات کی مقتضی رہتی ہے کہ کوئی نئی صورت پہنائی جائے، مذہب بیکوک بھی محمد حسین نے فرخ سیر کے عہد میں جاری کیا تھا اور نبوّت وولایت میں ایک مرتبہ مانا اور ایک کتاب بھی گھڑی جس کے سینکڑوں پڑھے لکھے سادہ لوح بھی معتقد ہوگئے تھے، ہنود میں بھی آریہ مذہب پنجاب والوں نے جلد قبول کیا۔
سب باتوں سے قطع نظر کیجئے کہ ان احادیث کی تأویل اور آیات کی تأویل جو وہ کرتے ہیں محض جاہلانہ جکڑبندی ہے، جیسا کہ دہری اور عام جہلاء کیا کرتے ہیں، مگر جب یہ تأویلات صحیح مان لی جائیں کہ مسیح ابنِ مریم سے یہ مراد، اور قتل خنزیر سے یہ ۔۔۔الخ، تو پھر میاںقادیانی کو کیا ترجیح ہے کہ وہ مسیحِ موعود مانا جائے، جس کو نہ علم ہے نہ فضل نہ خاندانِ نبوّت سے ہے، اگر مسیحائی کا ایسا ہی بازار گرم ہے تو اور اچھے اچھے شخص اس کے مستحق ہیں، مگر معاذاللّٰہ! ان کو اس روٹی کمانے کے دھندے سے کیا کام، خدا کی پناہ کہ وہ ایمان ضائع کرکے مریدوں کے ہاں کا حلوہ پوری اُڑائیں! اگر یہی آزادی اور اِلحاد کا دریا پنجاب میں موجزن رہے گا تو کوئی شبہ نہیں کہ امروز فردا میں کوئی نبوّت(۱) کا مدعی بھی کھڑا ہوجائے گا، اور اس کے بعد کوئی موٹا تازہ دولت والا خدائی کا دعویٰ کربیٹھے گا اور قطعاً سینکڑوں پنجابی سادہ لوح ان کے بھی مرید ہوجائیں گے، معاذاللّٰہ! اس جہل وخرافات کا کیا ٹھکانا ہے، اللّٰہ قادیانی کو ہدایت نصیب کرے۔۔۔!
ابومحمد عبدالحق (مؤلف تفسیر حقانی)
علمائے کانپور وعلی گڑھ وغیرہ
جس شخص کے یہ اِعتقاد اور مقالات ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے، وہ بے شک دائرۂ اسلام سے خارج اور ملحد وزِندیق ہے، نعوذ با اللہ من شرورہ!
محمد لطف اللّٰہ محمد عثمان
لما ثبت ان القادیانی ینکر وجود الملائکۃ علٰی وجہ جائنا بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وینکر نزول جبرائیل علیہ السلام، ویقول ان الملائکۃ عبارۃ من ارواح السیارات والنفوس الفلکیۃ، ویقول ان لیلۃ القدر
(۱) مولوی عبدالحق صاحب نے اس عبارت کو لکھنے کے وقت تک قادیانی کے وہ رسائل ’’توضیح مرام‘‘ و’’اِزالہ اوہام‘‘ نہ دیکھے تھے، جن میں قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے (مرتب)۔
166
عبارۃ عن الزمان الظلمانی الذی ینقطع فیہ البرکات السماویۃ، ویقول نزول عیسی بن مریم ورفعہ إلی السماء بجسدہ العنصری من المستحیلات ومن الأباطیل، ویقول ان المراد بختم النبوۃ ھو ختم تشریع جدید لا ختممطلق النبوۃ، ویقول ان سلسلۃ مطلق النبوۃ جاریۃ غیر منقطعۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی یوم القیامۃ، ویقول ان المسیح الموعود فی الشریعۃ المحمدیۃ لیس ھو عیسی بن مریم الذی فات بل الموعود مثیلہ وھو انا الذی انزلنی اللہ فی القادیان وانا الذی نطقت بہ السنۃ والقرآن، ویقول المراد بالدجال الذی نطقت بہ السنۃ منکری عقیدتی، ویقول ان ظواھر النصوص مصروفۃ عن ظواھرھا وان اللہ تعالٰی لم یزل یبین مرادہبالإستعارات والکنایات، ومثل ذالک من الأباطیل الخرافات اعاذنا اللہ من کل ذالک، فلا شبھۃ عندی فی کفرہ،فھو کافر متعنت معاند للشریعۃ المحمدیۃ یرید إبطالھا، سوّد اللہ وجھہ! محمد إسماعیل
’’چونکہ یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ قادیانی وجود ملائکہ کا جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے، منکر ہے اور نزولِ جبریل کا منکر ہے، اور اس امر کا قائل ہے کہ ملائکہ ستاروں کی ارواح اور نفوسِ فلکیہ ہیں، اور وہ قائل ہے کہ لیلۃالقدر سے وہ تاریک زمانہ مراد ہے جس میں برکاتِ آسمانی منقطع ہوجاتی ہیں، اور وہ قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے جسم سے آسمان پر جانا اور نازل ہونا محال ہے، اور وہ قائل ہے کہ ختمِ نبوّت سے نئی شریعت والی نبوّت کا ختم ہونا مراد ہے، نہ مطلق نبوّت کا ختم ہونا، اور وہ قائل ہے کہ مطلق نبوّت کا سلسلہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک جاری ہے، اور وہ قائل ہے کہ جس مسیح کے آنے کا شریعتِ محمدی میں وعدہ دیا گیا ہے، اس سے عیسیٰ بن مریم مراد نہیں جو فوت ہوچکا ہے، بلکہ اس کا مثیل قادیانی مراد ہے، جس کو خدا نے قادیان میں اُتارا ہے، اور قائل ہے کہ دجال سے اس کے منکر مراد ہیں، اور قائل ہے کہ قرآن وحدیث ظاہرمعانی سے پھیرا ہوا ہے، اور خداتعالیٰ اپنی مراد کو ہمیشہ اِستعاروں میں بیان کرتا ہے، ایسے ہی اور خرافاتِ باطلہ اس سے ثابت ہوچکے ہیں، لہٰذا میرے نزدیک اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے، وہ کافر ہے، بدکردار، شریعتِ محمدیہ کا مخالف، اس کو باطل کرنا چاہتا ہے، خدا اس کا منہ کالا کرے!‘‘
ما اتی بہ المجیب فھو حق حقیق بالقبول، ولا ریب فی ان القادیانی جاحد لاُصول الشریعۃ الغراء المحمدیۃ ومن جاحدھا فلا ریب فی کفرہ، اللّٰھم ارنا الحق حقًّا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلًا ووفقنا لاجتنابہ، وانا العبد الکتیب المستغفر للذنوب، محمد ایوب الکولوی صانہ اللہ من الذنب الجلی والخفی۔
محمد ایواب، ساکن کول
’’جو کچھ مجیب نے بیان کیا ہے، وہ حق ہے، اور قبول کے لائق ہے، اس میں شک نہیں ہے کہ قادیانی، شریعتِ محمدیہ کے اُصول کا منکر ہے اور جو ان کا منکر ہو، اس کے کفر میں کوئی شک نہیں، اے خدا! تو ہمیں حق کو حق کرکے دِکھا اور اس کی پیروی نصیب کر اور باطل کو باطل کرکے دِکھا اور اس سے اِجتناب کی توفیق دے۔‘‘
167
علمائے بنارس واعظم گڑھ وغیرہ
ہم نے رسالہ فتح اسلام اور توضیح المرام وغیرہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے چھپے ہیں، دیکھے اور ان میں وہ مقامات اور عقائد جو فتوے میں نقل کئے ہیں، پائے۔ ہمارے نزدیک ان عقائد کا معتقد اور ان مقالات کا قائل اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے اور دجال کذّاب ہے۔
حکیم محمد حسین بنارسی
مجھ کو بھی مولوی حافظ حکیم محمد حسین کی تحریر سے اتفاق ہے۔
محمد عبدالرحمن عفی عنہ
(امام مسجد جامع اہل حدیث بنارس)
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
محمد عبدالمجید |
حیات محمد عفی عنہ |
جس شخص کا ایسا عقیدہ ہے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، واللّٰہ اعلم! فقیر محمد عبدالقادر
جناب مولوی حافظ حکیم محمد حسین صاحب کی تحریر سے مجھ کو اِتفاق ہے، واللّٰہ اعلم بالصواب!
بے شک ان عقائد کا معتقد دجال وکاذب ہے۔ شہید الدین احمد بنارسی
علمائے آرہ وغازی پور ومہدانواں وغیرہ
مجھے اس جواب کے ساتھ پورا اِتفاق ہے، بے شک مرزا کے خیال کا آدمی اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے، واللّٰہ اعلم!
ابوالخیر محمد ضمیرالحق الاروی
الجواب صحیح، ’’جواب دُرست ہے‘‘ جواب باصواب ہے۔ الفتاحین محمد اِسماعیل
ہم نے جہاں تک اقوال مرزاقادیانی کے دیکھے اور سنے، ان اقوال کی رُو سے قادیانی اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے۔
وصیت علی
میں اس کے ساتھ پورا متفق ہوں۔ ابو محمد اِبراہیم (بانی مدرسہ احمدیہ)
-
گر مسلمانی ہمیں ست کہ مرزا دارد
دائے گردر پس امروز بود فردائے
اس جواب سے مجھے اِتفاق ہے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم! عبدالغفار
میں نے ان اوراق کو اَوّل سے آخر تک پڑھا، اور مرزا کے عقائد ومقالات کو اس کی اصل تصانیف میں بھی دیکھا، میری رائے میں وہ ضرور ان عقائد ومقالات کی نظر سے دجال وکذّاب ہے، اور پابندیٔ اِسلام واہلِ سنت سے خارج ہے۔
168
کتبہ محمد عبداللّٰہ غازی پوری
میں بھی اس جواب کے ساتھ پورا اِتفاق کرتا ہوں۔ ابوعبدالودود اِدریس
علمائے رحیم آباد ضلع دربھنگہ ترہت
الحمدللّٰہ القاھر فوق العباد الحافظ لدینہ عن شرور الکذابین اھل الفساد وھو الذی فطر الأنام علٰی فطرۃ الإسلام وجبلھم علی الملۃ الحنیفیۃ السمحۃ البیضاء وھو ذوالجلال والإکرام، ثم ضلُّوا وتھوَّدوا وتنصَّروا وألحدوا فی آیاتہ فبعث فیھم رسولًا منھم ومجعزاتہ فأسس قواعد الشرع والأرکان وأوضح لھم سبل السلام بأوضح البیان فرزقوا بہ السلوک علٰی مناھج الھدایۃ وفازوا باتباعہ معارج السعادۃ، ثم ارتد من ارتد عن دینہ وافتری علی اللہ کذبًا وکذب علٰی رسولہ فکانوا لجھنم حطبًا، فأتی اللہ بقوم اذلۃ علی المؤْمنین واعزۃ علی الکافرین فنصروا الحق حاربوھم وجادلوھم فکب المفترون علٰی مناخرھم خاسرین، منھم الذین حرفوا الکلم عن مواضعہ من بعد ما تحقق فوفق اللہ من عباد الناصرین المنصورین علی الحق لتشویش مسالکھم وخرم نطاقھم فاستاصلوا بنیانھم وما اسّسوا ومحوا عن صفحات الدھر اباطیلھم وما تنفسوا الم تر إلی الذی یدعی انہ المسیح الموعود نزولہ وما تفوہ من المفتریات التی یأبی اللہ عنھا ورسولہ کیف اجتری علٰی ذالک وتبوء مقعدہ من النار والنصوص فی الباب واضحۃ لیس فیھا من الأسرار فإن الأحادیث الواردۃ فی نزول المسیح بعضھا لبعض مفسرۃ فقتل الإنسان ما اکفرہ اولا یری ان فی بعض الأخبار قد ورد لفظ المسیح، وفی بعضھا عیسی بن مریم،وفی بعضھا ابن مریم فقط، وفی بعضھا عیسٰی نبی ﷲ، وفی بعضھا جملۃ: ’’وإمامکم منکم‘‘ وقعت حالًا، فلو کان اطلق المسیح علٰی سبیل الإستعارۃ فلا معنی لھٰذہ القیود والتصریحات، یا للعجب! من اجتراء شرار الخلق الذی یضل الناس فی حلیۃ اھل الصلاح والدلق، فللّٰہ در من شمر عن ساق جدہ فی إبطال مزخرفاتہ وشید میزدہ لإزالۃ ترھاتہ فإنہ اتی بشیئٍ عجیب لا یدرکہ إلَّا المدرب اللبیب وجاھدہ مجاھدۃ اللسان وشوش مسلکہ بالقلم والبیان وقعد لہ کل مرصد حتّٰی احجرہ وانھزم عدو اللہ وھرب عن کل مشھد، جزاہ اللہ عنا وعن سائرالمسلمین خیر الجزاء وافاض علیہ البرکات بکرۃ وعشیًّا۔ وانا العبد المفتقر عبدالعزیز
’’سب تعریفوں کا خداتعالیٰ مستحق ہے، جو تمام بندوں پر غالب ہے اور اپنے دِین کا اہلِ فساد کی شرارتوں سے محافظ، وہ جس نے لوگوں کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا اور دِین یکسو، آسان، روشن (اسلام) ان کی جبلت میں رکھا، پھر وہ اپنی فطرت کو چھوڑ کر یہودی، نصرانی اور ملحد بن گئے، تو خداتعالیٰ نے ان ہی میں سے ایک رسول معجزوں کے ساتھ ان میں بھیجا، اس رسول نے شرع کے قواعد اور اَرکان بنادئیے اور سلامتی کے راستے خوب واضح کردئیے، جس کی برکت سے لوگ ہدایت کی راہ چلنے لگے، اور آپ کی پیروی سے وہ سعادت کو پہنچے، پھر بعض لوگ دِین سے پھرگئے اور خدا پر جھوٹ باندھنے لگے اور رسولِ خدا پر اِفترا کرکے دوزخ کا ایندھن بنے تو خدا
169
نے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو مؤمنوں کے آگے جھک جانے والے اور کافروں پر غالب آنے والے تھے، وہ حق کے مددگار ہوگئے اور ان مرتدوں، مفتریوں سے لڑے اور جھگڑے، وہ مفتری اوندھے کرکے ناک کے بل گرائے گئے اور خسارے میں پڑے، ان میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو خدا کے کلام کی اس کے ٹھکانے (معانی) سے تحریف کرتے ہیں، بعد اس کے کہ وہ کلام ان معانی میں ثابت ومتحقق ہوچکا تھا، سو خداتعالیٰ نے اپنے بندوں سے ایسے لوگوں کو جو حق کے مددگار اور خدا کی طرف سے حق پر مدد دئے گئے ہیں، ان محرفین کی باتوں کو پراگندہ کرنے اور ان کی کمربند توڑنے کی توفیق دی۔ پس ان حقانیوں نے ان کی بیخ وبنیاد اکھاڑ دی اور صفحۂ روزگار سے ان کی باطل باتیں مٹادیں، ان محرفین میں سے تم نے اس شخص کو جو مسیحِ موعود ہونے کا مدعی ہے، نہیں دیکھا؟ اور اس کی جھوٹی باتوں کو جن سے خدا اور اس کے رسول اپنے کلام میں اِنکاری ہیں، نہیں سنا؟ اس نے اس اِفترا پر کیونکر جرأت کی؟ اور اپنے لئے آگ میں جگہ بنائی، مسیحِ موعود کے باب میں جو نصوص اور اَحادیث وارِد ہیں، تو وہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے حق میں روشن بیان ہیں، جن میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔ احادیث جو اس باب میں وارِد ہیں، وہ ایک دُوسری کی تفسیر کر رہی ہیں، انسان (مدعیٔ مسیحیت) ہلاک ہو! وہ کیا ناشکر ہے (جو اِن احادیث میں تحریف کرتا ہے) وہ یہ نہیں دیکھتا کہ بعض احادیث میں لفظ ’’مسیح‘‘ وارِد ہے، بعض میں ’’عیسیٰ بن مریم‘‘، بعض میں ’’اِبنِ مریم‘‘، بعض میں ’’عیسیٰ نبی اللّٰہ‘‘، بعض میں یہ جملہ وارِد ہے کہ: ’’حضرت مسیح ایسے حال میں آئیں گے کہ اس وقت تمہارا اِمام موجود ہوگا۔‘‘ سو اگر مسیحِ موعود یہی قادیانی بطورِ اِستعارہ مراد ہو، تو پھر ان قیدوں اور بیاناتِ احادیث کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اس بدترینِ خلائق کی دلیری سے تعجب ہے کہ یہ فقراء اور اہلِ صلاح کا لباس پہن کر مخلوقات کو گمراہ کر رہا ہے، جو شخص اس کی ملمع سازیوں کے لئے پنڈلی کھول کر اور کمرکس کر کوشش کر رہا ہے، اس کی یہ نیکی خدا ہی کے لئے ہے، وہ اس کے جواب میں ایسی عجیب بات لایا ہے کہ اس کی خوبی کو بجز ماہر دانشمند کے کوئی جان نہیں سکتا، وہ اس سے زبانی جہاد کر رہا ہے اور قلم وبیان سے اس کی باتوں کو پراگندہ کرتا ہے، اور ہر ایک گھات میں اس کے مقابلے کے لئے جما ہوا ہے، یہاں تک کہ اس کو مسلمانوں سے الگ کیا اور خدا کا دُشمن ہر ایک میدان سے بھاگ گیا، خداتعالیٰ ایسے شخص کو ہم سب مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر دے اور صبح وشام اس پر اپنی برکات نازل کرے۔‘‘
ھٰکذا قولی فیہ واعتقادی وبہ ثقتی وعلیہ اعتمادی۔ عبدالرحیم رحیم آبادی
’’یہی قادیانی کے حق میں میرا قول واِعتقاد ہے، اور اسی پر میرا وثوق واِعتماد ہے۔‘‘
علمائے بھوپال وعرب وغیرہ
اسلام خصوصاً مذہب اہلِ سنت میں یہ عقائد ومقالات داخل نہیں ہیں۔ مرزاقادیانی ان عقائد ومقالات کی نظر سے مانند وجودیہ وغیرہ اہلِ بدعت کے دجالین کذّابین میں داخل ہے، اور مرزا کے ان عقائد ومقالات میں پیروان وہم مشربوں کو ذُرِّیاتِ دجال کہہ سکتے ہیں، اور ایسے عقائد ومقالات کے ساتھ کوئی شخص شرعاً اور عقلاً ولی اور ملہم ومحدث ومجدد نہیں ہوسکتا، دلیل اس کی حدیثِ ابوہریرہؓ ہے:
170
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجالون کذّابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فإیَّاکم وإیَّاھم! لا یضلونکم ولا یفتونکم!‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۱۰)
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: آخر زمانے میں دجال وکذّاب پیدا ہوں گے، جو تم کو ایسی باتیں کہیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی، نہ تمہارے بزرگوں نے، ان سے بچے رہنا، وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور بہکا نہ دیں۔‘‘
(مولانا) محمد بشیر سہوانی(۱)
مجھ کو مولوی محمد بشیر صاحب کی تحریر سے اِتفاق ہے، بے شک یہ لوگ ایسے ہی ہیں، جیسا مولوی صاحب موصوف نے تحریر فرمایا ہے، واللّٰہ اعلم!
مولانا سلامت اللّٰہ جیراجپوری
طریقۃ الکذاب الدجال مرزا قادیانی طریقۃ اھل الضلال لا شک فی ذالک ومن شک فی ضلالہ فھو مثلہ، وقد حررت فی رسالۃ ردما افتراہ جازاہ اللہ بما ھو اھلہ۔
علامۃ شیخ حسین بن معن الأنصاری عربی یمانی
’’کذّاب دجال مرزاقادیانی کا طریق، گمراہوں کا طریق ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور جو اس کے گمراہ ہونے میں شک کرے، وہ ویسا ہی گمراہ ہے۔ میں نے اس کے مفتریات (جھوٹی باتوں) کے رَدّ میں ایک رسالہ لکھا ہے، خدا اس کو اس کے مفتریات کی سزا دے۔‘‘
علمائے لودھیانہ وغیرہ
ھٰذا الجواب مقرون بالصدق والصواب۔ مشتاق احمد
’’یہ جواب راستی اور دُرستی سے ملا ہوا ہے۔‘‘
الجواب حق، والحق یعلوا ولا یعلٰی۔ حررہٗ نور محمد
’’یہ جواب حق ہے، اور حق غالب رہتا ہے، مغلوب نہیں ہوتا۔‘‘
|
الجواب صحیح ’’جواب صحیح ہے‘‘ |
الجواب صحیح ’’جواب صحیح ہے‘‘ |
|
عبدالقادر |
قربان علی لکھنوی |
|
قد صح الجواب ’’تحقیق جواب صحیح ہے‘‘ |
المجیب مصیب ’’مجیب راستی کو پہنچنے والا ہے‘‘ |
(۱) حضرت میاں صاحب کے شاگرد تھے، اور حضرت سیّد نواب صدیق حسن خاں صاحب کے ہاں قیام رکھتے تھے، آپ کی تصنیف ’’الحق الصریح فی حیات المسیح‘‘ ہے جو مناظرہ تحریری مرزاقادیانی سے ہوا تھا۔
171
| محمد حسن |
نور الدین خان |
| رئیس وسرگروہ اہل حدیث لودھیانہ |
|
علمائے امرتسر، سوجانپور وغیرہ
ما قالہ القادیانی خلاف ما قالہ اھل الإسلام۔ غلام مصطفیٰ
’’جو کچھ قادیانی نے کہا ہے، وہ اہلِ اسلام کے مخالف ہے۔‘‘
اس میں کچھ شک نہیں کہ معتقدات مرزاقادیانی کے برخلاف معتقدات اہلِ اسلام کے ہیں، اللّٰہ جل شانہ‘ مسلمانوں کو ان کی تسلیم سے محفوظ رکھے۔
| عبداللّٰہ الغنی |
غلام رسول الغنی |
معتقداتِ مرزا قادیانی خلاف طریقہ اہلِ اسلام ہیں۔
انا الراجی رحمۃ اللّٰہ غلام اللّٰہ قصوری
عقائد مرزا باطلۃٌ واقاویلہ عاطلۃٌ۔
احقر العباد غلام رسول
امام مسجد میاں محمد جان مرحوم
’’مرزا(قادیانی) کے عقائد باطل ہیں اور ان کے اقوال بے کار ہیں۔‘‘
ما قالہ المرزا فھی مخالف لمذھب اھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔ غلام محی الدین
’’مرزا(قادیانی) نے جو کہا ہے وہ اہلِ سنت وجماعت کے مخالف ہے۔‘‘
بے شک جس شخص کے ایسے اِعتقاد ہوں، وہ کافر بلکہ اکفر ہے۔
محمد اِدریس ابومحمد محمد اِسماعیل جھنجھانوی
ما قال مرزا فی اقوالہ فھو باطل عند اھل الإسلام۔ فقیر حشمت علی
’’ان اقوال میں جو مرزا نے کہا ہے اہلِ اسلام کے نزدیک باطل ہے۔‘‘
اس کی (یعنی مرزاقادیانی کی) عبارات جو مجھ کو دِکھائی گئی ہیں، ان کا ظاہری مفہوم خلافِ عقائد اہلِ سنت جماعت معلوم ہوتا ہے، اگر کوئی شخص صرف ان ظاہری عبارات کا لحاظ کرکے عقیدہ رکھے گا تو وہ خطاکار مخالف اہلِ سنت جماعت کا ہے۔
ابوعبید احمداللّٰہ
مواہیر خاندان حضرت مولوی عبداللّٰہ صاحب غزنوی
رب سدد لسانی واسلل سخیمۃ قلبی واجر قلمی بما تحبُّ وترضیٰ!
لا ریب فیہ ان مدعی الاُمور المذکورۃ فی السؤَال مخالف رسول رب العالمین یتبع غیر سبیلالمؤْمنین، وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ ط وَ
172
سَآءَ تْ مَصِیْرًا(النساء۱۱۵)، متبع فی الإسلام طریقۃ الجاھلیۃ، وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(آل عمران۸۵)، من الذین قال فیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم فإیَّاکم وإیَّاھم! لا یضلونکم ولا یفتنونکم! رواہ مسلم۔ قال علی القاری فی شرح الفقہ الأکبر: ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع وافراخہ مخانیث الھنود والنصاریٰ اکثرھم فمن اضلھم اللہ علٰی علم فمن یھدیھم بعد اللہ اسأل اللہ الھُدیٰ لی ولھم ولسائر المسلمین، اللّٰھم اھدنا لما اختلف فیہ من الحق بإذنک، إنک تھدی من تشاء إلٰی صراط مستقیم۔ عبدالجبار ابن شیخ عبد اللہ الغزنوی
’’اے پروردگار! میری زبان کو سیدھا رکھ اور میرے دِل کا کینہ کھینچ لے اور میرے قلم کو اس بات سے جاری کر جو تو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ان اُمور کا مدعی جو سوال میں مذکور ہیں رسولِ خدا کا مخالف ہے، اس راہ کا پیرو جو مؤمنوں کی راہ نہیں، اور (خداتعالیٰ فرماتا ہے:) جو شخص رسولِ خدا کی مخالفت کرے، بعد اس کے کہ اس کو ہدایت معلوم ہوچکی ہو، اور مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ پر لے، ہم اس کو ادھر ہی پھیردیتے ہیں، جدھر وہ پھرتا ہے، اور اس کو آگ میں داخل کریں گے اور وہ بُری پھرنے کی جگہ ہے۔ اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے خدا بہت ناخوش ہے، ایک وہ جو اِسلام میں رہ کر کافروں کا طریق اِختیار کرتا ہے۔ اور (خداتعالیٰ نے فرمایا ہے:) جو شخص بجز اسلام کوئی اور دِین اِختیار کرتا ہے، اس سے وہ دِین قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں ٹوٹا پانے والوں میں ہوگا، (یعنی) ان لوگوں میں سے جن کے حق میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’اخیر زمانے میں دجال کذّاب پیدا ہوں گے، وہ تمہیں ایسی باتیں سنائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی، نہ تمہارے بزرگوں نے، ان سے اپنے آپ کو بچاؤ، وہ تم کو گمراہ نہ کردیں اور بہکا نہ دیں!‘‘ یہ مسلم کی روایت ہے۔ مُلَّا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے۔ اس (قادیانی) کے چوزے (اَتباع) ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں، بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ خدا نے ان کو باوجود عالم ہونے کے گمراہ کر رکھا ہے، خدا کے سوا ان کو کون ہدایت کرے؟ میں خدا سے ان کے لئے اور اپنے لئے اور باقی مسلمانوں کے لئے ہدایت کا سوال کرتا ہوں۔ اے خدا! تو ہم کو اپنی مرضی سے حق کی راہ دِکھا جس میں اِختلاف کیا گیا ہے، تو جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دِکھاتا ہے!
قولی فی صاحب قادیانی ما قالہ شیخ الإسلام ابن تیمیۃ حیث قال: کما ان خیر الناس الأنبیاء، فشر الناس من تشبہ بھم من الکذّابین وادعی انہ منھم ولیس منھم، فخیر الناس بعدھم العلماء والشھداء والصدیقون والمخلصون وشر الناس من تشبہ بھم یوھم انہ منھم ولیس منھم وفی لفظ الحدیث فھولاء اذلخلق اللہ تسعر بھم النار یوم القیامۃ، عیاذًاباﷲ! احمد بن عبد اللہ الغزنوی
173
’’قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ کا قول ہے، جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں، ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ جھوٹے لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ نبیوں کے بعد بہتر وہ لوگ ہیں جو علماء اور شہید اور صدیق اور بااِخلاص ہوں، پس جو ان سے مشابہ بن بیٹھیں اور یہ جتائیں کہ ہم ان ہی میں سے ہیں اور واقعہ میں ایسے نہ ہوں، وہ بدترین خلائق ہیں۔ یہ اِبنِ تیمیہؒ کا قول ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے: وہ لوگ تمام خلائق سے ذلیل تر ہیں ان کو آگ میں جھونکا جائے گا، خدا اس سے بچائے!‘‘
الحمد للّٰہ اما بعد! فیقول الراجی الملتجی إلٰی رحمۃ ربہ القوی ابو محمد عبدالصمد الغزنوی ان غلام احمد القادیانی الغوی الغبی صاحب العقیدۃ الفاسدۃ والرأی الکاسد ضال مضل زندیق بل ھو اضل من شیطانہ الذی لعب بہ وإن مات علٰی ذالک فلا یصلی علیہ ولا یدفن فی مقابر المسلمین، لأن لا یتأذی بہ اھل القبور۔
’’سب تعریف خدا کے لئے ہے، اس کے بعد اُمیدوار اور ملتجی رحمتِ رَبِّ قوی عبدالصمد غزنوی کہتا ہے کہ غلام احمد قادیانی کج رو وبلید جس کا عقیدہ فاسد ہے اور رائے کھوٹی گمراہ ہے، لوگوں کو گمراہ کرنے والا چھپا مرتد ہے، بلکہ وہ اپنے اس شیطان سے زیادہ گمراہ ہے جو اس سے کھیل رہا ہے۔ یہ شخص اسی اِعتقاد پر مرجائے تو اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ یہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے تاکہ وہ اہلِ قبور اس سے ایذا نہ پائیں۔‘‘
لا ریب ان المرزا القادیانی دجال کذّاب زندیق باطنی قرمطی وانہ من الذین قال فیھم رسول ﷲصلی اللہ علیہ وسلم: سیخرج فی اُمّتی اقوام تتجاری بھم تلک الأھواء کما یتجادی الکلب بصاحبہ لا یبقی منہ عرق ولا مفصل إلَّا دخلہ وانہ من الذین قال فیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بین یدی الساعۃ کذابین فاحذروھم! ابو إدریس عبدالغفور بن محمد بن عبد اللہ الغزنوی
’’اس میں شک نہیں کہ قادیانی ایک دجال ہے، بڑا جھوٹا چھپا مرتد، باطنی قرمطی، اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میری اُمت میں سے ایسے لوگ نکلیں گے جن میں نفسانی خواہشیں (بدعات) ایسا اثر کرجائیں گی جیسا دیوانہ کتا اس شخص میں اثر کرتا ہے جس کو وہ کاٹتا ہے کہ اس کی کوئی رَگ یا جوڑ اس اثر سے نہیں بچتا۔ اور وہ انلوگوں میں سے ہے جن کے حق میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قیامت سے پہلے کذّاب پیدا ہوں گے، ان سے بچیو!‘‘
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.اَلرَّحْمٰـنِ الرَّحِیْمِ.مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ.اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ.اِہْدِنَــــا الصِّرَاطَ الْمُستَقِیْمَ.صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ.(الفاتحۃ) آمین! اللّٰھم صل علٰی محمد وآلہٖ وبارک وسلم۔
یہ مسئول عنہ شخص اپنی اِبتدائی حالت میں اچھا معلوم ہوتا تھا، دِین کی نصرت میں ساعی، اللّٰہ تعالیٰ اس کا مددگار تھا، دن بدن فیوضع لہ القبول فی الأرض(۱) کا مصداق بنتا جاتا تھا، لیکن اس سے اس نعمت کی قدردانی نہ ہوئی، نفس پروری وزمانہ سازی شروع
(۱) زمین میں اس کے لئے قبولیت کا حکم ہوتا ہے۔
174
کی، زمانے کے رنگ کو دیکھ کر اس کے موافق کتاب وسنت میں تحریف واِلحاد ویہودیت اِختیار کی، پس اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا، فیوضع لہ البغضاء فی الأرض(۱) کا مصداق بن گیا۔ قال اللہ تعالٰی فی امثالہ: ’’وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ الَّذِیْ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ.وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الأَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰہُ الآیۃ (الاعراف) (۲) اللّٰھم إنی اعوذ بک من الحور بعد الکور، یا مصرف القلوب صرف قلوبنا وقلوبھم علٰی طاعتک، آمین وصل اللہ علی النبی وآلہ واصحابہ وسلم۔ عبدالواحد بن عبد اللہ الغزنوی
الحمدللّٰہ نحمدہ ونستعینہ ونسألہُ الھدیٰ وصلی اللہ علٰی محمد وآلہ، والمسئول عنہ عندی مطفیء لنور و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون، محرّف للکتاب والسُّنَّۃ وتحریفہ اشد من تحریف الیھود والنصاریٰ ومخالف لجمیع المسلمین وخالع لربقۃ الإسلام من عنقہ وإن مات علٰی ذالک فیقدم قومہ یوم القیامۃ فاوردھم النار وبئس الورد المورود واتبعوا فی ھٰذہ لعنۃ ویوم القیامۃ یردون إلٰی اشد العذاب، رب اعوذ بک من درک الشقاء وسوءالقضاء النجا النجا۔ عبدالرحیم بن عبد اللہ الغزنوی
’’اللّٰہ کے سب تعریف ہے، ہم اس کا شکر کرتے ہیں اور اس سے مدد چاہتے ہیں، اور اس سے ہدایت کا سوال کرتے ہیں، جس شخص کے حال سے اس فتوے میں سوال وجواب ہے، وہ میرے خیال میں خدا کے نور (اسلام) کو بجھانا چاہتا ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، اگرچہ کافر اس سے ناخوش ہوں، وہ کتابُ اللّٰہ وسنت میں تحریف کرنے والا ہے، اس کی تحریف یہود ونصاریٰ کی تحریف سے سخت تر ہے اور وہ سبھی مسلمانوں کا مخالف ہے، اور وہ اپنی گردن سے اسلام کی رَسّی نکالنے والا ہے، یہ اسی اِعتقاد پر مرا تو قیامت کے دن اپنی پیرو قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو آگ میں وارد کرے گا، وہ آگ بُری جائے ورود ہے، ان سب (اَتباع ومتبوع) پر دُنیا میں لعنت پڑتی ہے اور قیامت کے دن یہ سخت عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے۔ اے خدا! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بدبختی کے پکڑنے اور بُری قضا سے۔ لوگو! اپنا آپ بچاؤ، نجات کو لازم پکڑو!‘‘
لا شک ان مرزا کافر ومرتد زندیق ضال مضل ملحد دجال وسواس خناس، فمن شک فی مقالتی ھٰذا فلیباھلنی:
اکفر مرزا فھل من مباھل؟
یباھلنی فی انہ لیس کافرٌ!
عبدالحق غزنوی
(۱) زمین میں اس کے لئے دُشمنی کا حکم ہوتا ہے۔
(۲) ان پر اس شخص (بلعم بن باعوراء) کی خبر پڑھ دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں (ان کا علم) عطا کیں، پھر وہ ان سے (یعنی ان کے عمل واِعتقاد سے) نکل گیا، پس وہ بہکنے والوں سے ہوگیا، ہم چاہتے تو ان آیات کے ساتھ اس کو بلند کرتے، مگر وہ زمین پر پڑا رہا اور اپنے ہوائے نفس کا پیرو ہوا۔
175
’’اس میں شک نہیں کہ مرزا(قادیانی) کافر ہے، چھپا مرتد ہے، گمراہ ہے، گمراہ کنندہ ملحد ہے، دجال ہے، وسوسہ ڈالنے والا، ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا۔ جس کو میری اس گفتگو میں شک ہو، وہ اس پر مجھ سے مباہلہ کرلے! میں مرزا کو کافر جانتا ہوں، کوئی مجھ سے اس امر میں مباہلہ کرنا چاہے تو کرلے!
مواہیر علمائے لاہور
عقائد واقوال مندرجہ سوال در کتابے معتبر اہلِ اسلام ندیدم ونشنیدم، اہل اسلام را باید کہ ازیں عقائد واقوال احتراز واجب دانند واتباع شریعت حقہ نمایند، ومعتقد ایں عقائد را از اہل اہوائے وضلال باید دانست۔ غلام محمد بگوی بقلم خود(۱)
ادعاء النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر صریح مخالف للقرآن۔
| العبد الفقیر نور احمد |
غلام احمد |
| إمام مسجد انارکلی لاھور |
مدرّس مدرسہ نکودر، وارد حال لاھور |
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا (جیسا کہ قادیانی نے کیا ہے) کفرِ صریح ہے اور قرآن کے مخالف۔‘‘
الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلٰوۃ علٰی سیّد الأنبیاء والمرسلین وآلہٖ اجمعین، اما بعد! فلما رأیت الناس مختلفین فی امر مؤَلف توضیح المرام والبرھین حتّٰی وجدت بعضھم معتقدًا بکمالہ ومصدقًا لمقالہ وقلیل ما ھو، واکثرھم حاکمًا بفسادہ وجازمًا بإلحادہٖ وجھت رکاب النظر ومطیۃ الفکر إلٰی ساحۃ کلامہ لا ظفر علی المآرب واظھر علی المطالب فإذا ھو منکر الخوارق وجاھد کمالات اکرم الخلائق ومحرف النصوص عن معاینھا ومخرج الکلمات الحقۃ من مواضعھا ومنکر صفات الملائکۃ بل انفسھا لأن ما یطلق علیہ الإسم شیء لیس لہ حظ من مصداقیۃ حقائقھا فصرت من ارتدادہ علی الیقین ووصل إلحادہ عندی إلٰی حق الیقین فمنیأتیہ مصدقا فھو من الضالین ومن فرَّ عن قربہ فھو من الآمنین، اعاذنا اللہ من شرہ وشر أحزابہ إلٰی یوم الدین!
العبد غلام عباس، مدرّس مدرسہ نعمانیہ
’’بعد حمد وصلوٰۃ، جب میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ مؤلفِ توضیح مرام وبراہین احمدیہ کی نسبت مختلف خیال رکھتے ہیں، بعضے اس کے معتقدِ کمال اور مصدقِ مقال ہیں، مگر وہ بہت ہی کم ہیں، اور اکثر اس کو مفسد سمجھتے ہیں اور اس کے ملحد ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ تو میں نے اپنے مرکب نظر اور سواری فکر کو اس کے میدانِ کلام میں دوڑایا تاکہ اس کے مطالب وخیالات پر مجھے اِطلاع ہو، سو میں نے اس کو معجزات وکرامات اور کمالاتِ انبیاء علیہم السلام کا منکر پایا، اور معنی قرآن وحدیث کا محرف اور کلماتِ شرعیہ کو اپنے ٹھکانے سے نکالنے والا، صفات بلکہ حقیقتِ ملائکہ کا منکر، پس مجھے یقین ہوگیا کہ وہ مرتد ہے اور یقینا ملحد، جو اس کا مصدق ومؤید ہو، وہ بھی
(۱) یہ مولوی صاحب بادشاہی مسجد لاہور کے اِمام اور تمام حنفیان شہر لاہور کے مقتدا ہیں۔
176
گمراہ ہے، اور جو اس کے قریب سے بھاگے وہی امن میں ہے۔ خدا ہم سب مسلمانوں کو اس کے اور اس کے اَتباع کے شر سے بچائے، آمین ثم آمین!
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ سیّد المرسلین وخاتم النبیین وآلہ وصحبہ اجمعین وبعد! فقد رأیت الأقوال المذکورۃ فی ھٰذا الإفتاء لغلام احمد الکادیانی، ووجدتھا یقینا فی کتبہ المطبوعۃ الشایعۃ ایضًا فأقول انھامصادمۃ للشریعۃ المحمدیۃ الغراء ومنافیۃ للملۃ الحنفیۃ البیضاء مما افیض علینا من جماعۃ الصحابۃ والتابعین ووصل إلینا عن ائمۃ المسلمین من الفقھاء والمحدثین فلا شک فی ان من یصدق الأقوال المذکورۃ ویسلمھا کائنًا من کان واین ما کان فھو خارج عن حوزۃ الإسلام والإیمان ومارق عن إتباع الحدیث والقرآن، ھٰذا وﷲعزیز ذوانتقام فی یوم الفصل والخصام!
العبد محمد عبد اللہ ٹونکی
مدرسہ عالیہ پنجاب یونیورسٹی
’’میں نے قادیانی کے ان اقوال کو جو اس فتوے میں ہیں دیکھا اور اصل تصانیف قادیانی میں بھی ان کو ملاحظہ کیا، وہ اقوال شریعتِ محمدیہ اور تمام مسلمانوں کے مخالف ہیں، جو ان اقوال کا مصداق ہے جو کوئی ہو اور جہاں کہیں ہو، وہ اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے، اور اِتباعِ قرآن وحدیث سے باہر۔
لا ریب فی ان ما تقوّلہ المرزا خلاف ما قالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وان ما جاء بہ السحر إن اللہ سیبطلہ، ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین، ویحق اللہ الحق بکلماتہ ولو کرہ المجرمون!
فقیر إلی اللہ محمد عفا اللہ عنہ
’’اس میں شک نہیں کہ جو قادیانی نے بات بنائی ہے، وہ فرمودۂ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مخالف ہے، جو کچھ وہ لایا ہے، سحر(۱) کی قسم سے ہے، خدا اس کو باطل کرے گا، اور حق کو اپنے کلمات سے ثابت کرے گا، اگرچہ مجرم ناخوش ہوں!
رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام وازالہ اوہام، مؤلفہ مرزا غلام احمد قادیانی میں جو یہ اِعتقاد ومسائل درج ہیں کہ مسیحِ موعود میں ہوں، ملائک بذاتِ خود اپنے وجود سے زمین پر نہیں آتے، انبیاء پر نہیں اُترتے، صرف ان کی تأثیر نازل ہوتی ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معراج جسمِ مبارک کے ساتھ نہیں ہوئی، عیسیٰ علیہ السلام مُردے کو باذنِ اِلٰہی زِندہ نہیں کرتے تھے، جانور کو زِندہ نہیں کرتے تھے، موسیٰ علیہ السلام کا عصا سانپ حقیقی نہیں بنا تھا، اِبراہیم علیہ السلام نے چار جانور کو (جن کا قرآن شریف میں بیان ہے) زِندہ نہیں کیا، بلکہ یہ اَز قبیل عمل مسمریزم تھے، علیٰ ھٰذا القیاس۔ اور ایسے ایسے اِعتقاد ومسائل نصوصِ کتابُ اللّٰہ واحادیثِ صحیحہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اور سبیل سلف صالحین مؤمنین کے مخالف ہیں، لہٰذا یہ عقائد ومسائل باطل ہیں اور ایسے عقائد والا اس آیت شریف کامصداق ہے:وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَآءَ تْ
(۱) ’’سحر‘‘ اس لئے کہا کہ اس کا حواریوں پر جادو کا سا اثر ہوا ہے، وہ صمٌّ بکمٌ عمیٌ ہوکر اس کو بے سمجھے سوچے مان گئے ہیں۔
177
مَصِیْرً (النساء۱۱۵)۔(۱) جن لوگوں کو ان عقائد کی طرف میلان ہوگیا ہے، ان کو لازم ہے ان عقائد کو پیش کرکے اور علمائے فضلاء سے نہ صرف دوچار سے، بلکہ صدہا سے اُخروی نجات کی غرض سے اور طالبِ راہِ حق بن کر ان سے شبہات کا حل کرائیں، یا ان کتب کے جواب غور سے دیکھیں اور پُرانی اور قدیمی تحقیقات کو بلادلائلِ یقینیہ واتفاقیہ نہ چھوڑیں، فقط وما علینا إلَّا البلاغ!
الراقم خاکسار رحیم بخش، مصنف: سلسلہ تعلیم السلام
علماء وسجادہ نشینان بٹالہ ضلع گورداسپور
لاریب مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی مخالف قواعد اسلام وغیرہ مطابق کلام برکت التیام جناب خیرالانام ہیں، اس کے ہزلیاتِ باطلہ ولغویاتِ لاطائلہ پر نظر کرنا تو ایک بڑا بھاری ثبوت اس کے ضال ومضل ہونے کا ہے، صرف عیسیٰ موعود کے قادیان میں (جو وسط ملک پنجاب میں ایک گاؤں ہے) ظہور پکڑنے کا دعویٰ کرنا ہر ایک مسلم جو تھوڑی سی نسبت بھی علومِ دِینیہ سے رکھتا ہو، بے خفا ہے کہ کس قدر مضامین احادیثِ صحیحہ اور روایاتِ قویہ کے برخلاف ہے۔ حضراتِ علماء اُولی الاہتدا مجیبین مصیبین نے شکراللّٰہ سعیہم جس قدر اس کی نارِ شرارت کے اِطفا میں آبِ جہدِ مشکور وسعیٔ وفور اراضی قلوب المؤمنین پر ڈالا ہے، بغایت درجہ شایانِ ثنا وقابلِ مرحبا ہے۔ اگر ان حضرات کی ہمت علیا ایسی ہی گرم رہی اور مفصل مذکور کی کتب پر فتور کا حرف بحرف رَدّ ہوگیا تو بہت عمدہ اعانت دینی ومدد اسلامی کی صورت آئینہ وقت میں جلوہ گر ہوگی۔ موفقِ حقیقی کی طرف سے یہ خیر توفیق ہمارے علمائے حق کو وقتاً فوقتاً بہراَیام وساعات برجمیع اوقات وآنات ہوتی رہے اور اس آیت شریفہ کا مصداق ظہور پذیر ہوجائے:جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ط (بنی اسرائیل:۱۵)۔
مجھے اپنے بعضے بھائیوں پر سخت افسوس ہے کہ جو مرزا مذکور کی کتب کو اچھی طرح سے مطالعہ کرتے ہیں، بالخصوص توضیح المرام، فتح الاسلام، اِزالہ اوہام کہ جس میں صاف طور پر عقائد مخالف شریعتِ غراء وملتِ بیضاء مندرج ہیں، پھر مرزاقادیانی کو مسلمان اہلِ ایمان سمجھ کر اس کی دوستی ومحبت کا دَم بھرتے ہیں، حالانکہ ایسے عقائد رکھنے والا شخص بے ریب وشک زُمرۂ اہلِ اسلام سے خارج وبفرقہ کفار مندرج ہوتا ہے، ہادیٔ مطلق ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو ایسے اشخاص کی صحبت سے اور ان کی کتب کے مطالعے سے مأمون ومصئون فرمائے، آمین یا ہادی المضلین بحرمت خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ واصحابہ اجمعین!
حررہ فقیر سیّد ظہورالحسین عفی عنہ
سجادہ نشین خاندان عالیہ قادریہ فاضلیہ واقع بٹالہ شریف
جواب المجیب صحیح لأنہ من اعتقد بتلک العقائد فقد ضل ضلالًا بعیدًا۔
حررہ مسکین المساکین امام الدین بٹالوی
(۱) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’جو شخص ہدایت ظاہر ہوجانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور اس راہ پر چلے جو مؤمنوں کی راہ نہ ہو، اس کو ہم اُدھر ہی پھیریں گے، جدھر وہ پھرتا ہے، اور اس کو دوزخ میں داخل کریں گے، وہ بہت بُری پھرنے کی جگہ ہے۔‘‘
178
’’جواب صحیح ہے، جو شخص ان عقائد کا معتقد ہو وہ دُور بھول گیا۔‘‘
ما کتب فی ھٰذا الکتاب صحیح بلا ریب وتمویۃ۔‘‘
حررہ سید محمد صادق
ولد مولوی گل علی شاہ مبرور مغفور
’’جو اس فتوے میں لکھا ہوا ہے، وہ بلاشک وملمع سازی، صحیح ہے۔‘‘
المسطور حق لا ریب فیہ۔ العبد محمد إبراھیم، إمام مسجد جامع بٹالہ
’’اس میں جو لکھا گیا ہے، وہ صحیح ہے۔‘‘
ما حررہ فی ھٰذا الورق صحیح۔ العبد ابوالحسن محمد حسین عفی عنہ
’’جو اس ورق میں لکھا گیا ہے، صحیح ہے۔‘‘ (یہ مولوی صاحب مولوی محمد صادق (قادیانی) کے بھائی ہیں)۔
ذالک الکتاب لا ریب فیہ، المجیب مصیب! حررہ محمد فخرالدین گجراتی، وارد بٹالہ
’’اس فتوے میں کوئی شک نہیں ہے، مجیب نے ٹھیک جواب دیا ہے۔‘‘
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامدًا ومصلیًا ومسلمًا، اما بعد! فی الواقع یہ عقائد متحدثہ مخترعہ موضوعہ مرزاقادیانی کے مخالف عقائد حقہ جمہور اہلِ اسلام ہیں، پس ہر مسلمان متدین پر لازم ہے کہ ان کا اِبطال جہاں تک ہوسکے کرے، ہاتھ سے یا زبان سے اور دِل سے فقط بُرا جاننا تو ضعفِ ایمان پر دال ہے، جیسا کہ حدیثِ صحیح میں ہے:
’’عن طارق بن شھاب وھٰذا حدیث ابی بکر قال: قال اول من بدء بالخطبۃ یوم العید قبل الصلٰوۃ مروان فقام إلیہ رجل فقال: الصلٰوۃ قبل الخطبۃ! فقال قد ترک ما ھنالک، فقال ابوسعید اما ھٰذا فقد قضیٰ ما علیہ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من رأی منکم منکرًا فلیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذالک اضعف الإیمان۔‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۵۰،۵۱، باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان، وان الإیمان یزید وینقص)(۱)
واضح رہے کہ قطع نظر ان جمیع عقائدِ باطلہ کے جن کی تردید اصل فتوے میں مندرج ہے، صرف بعض مجملاً ذِکر کرکے اِبطال کیا جاتا ہے، وہ یہ کہ جمہور اہلِ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اور
(۱) اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ مروان نے نمازِ عید سے پہلے خطبہ پڑھا تو ایک شخص نے اس پر اِعتراض کیا، جس پر ابوسعید خدریؓ نے فرمایا کہ: اس نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کیا کہ جو بُری بات دیکھے وہ اس کو ہٹادے، ہاتھ سے نہ طاقت ہو تو زبان سے، یہ بھی نہ ہوسکے تو دِل سے بُرا جانے اور یہ ادنیٰ درجہ ایمان ہے۔
179
دمشق کے منارۂ شرقی پر فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائیں گے، اور دجال کو (کہ ان سے پیشتر خروج کرچکا ہوگا) قتل فرمائیں گے، اور نیز حضرت مہدیؓ بھی اس وقت ظاہر ہوچکے ہوں گے۔ یہ بیان احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے:
’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکَمًا عدلًا فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویفیض المال، حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیھا۔ ثم یقول ابوھریرۃ: واقرئوا إن شئتم: وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج ۔‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، باب نزول عیسی بن مریم، مسلم ج:۱ ص:۸۷، باب نزول عیسی بن مریم)
اس حدیث میں گویا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے تفسیر آیت کی فرمادی کہ جس سے ان کا دُنیا میں پھر آنا اور فوت ہونا ثابت ہوتا ہے۔
’’وعن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: وﷲ! لینزل ابن مریم حکَمًا عدلًا فلیکسرن الصلیب، ولیقتلن الخنزیر، ولیضعن الجزیۃ، ولیترکن القلاص فلا یسعٰی علیھا، ولتذھبن الشحناء والتباغض والتحاسد، ولیدعون إلی المال فلا یقبلہ احد۔‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۷، باب نزول عیسی بن مریم)
فی روایۃ لھما: ’’کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم۔‘‘ (ایضًا)
ان ہر دو حدیثوں میں صاف طور پر آپ نے قسم کھاکر فرمایا کہ ابنِ مریم علیہ السلام جب اُتریں گے تو صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر قتل کریں گے اور یہ سب اُمور اپنے حقیقی معنی پر محمول ہیں، جیسا کہ علمائے اہلِ اسلام نے اس کی تصریح فرمادی ہے۔
اِمام نوویؒ شرح مسلم (ج:۱ ص:۸۷) میں فرماتے ہیں:
’’معناہ یکسرہ حقیقۃ ویبطل ما تزعمہ النصاریٰ من تعظیمہ وفیہ دلیل علٰی تغییر المنکرات والآلات الباطل وقتل الخنزیر من ھٰذا القبیل وفیہ دلیل للمختار فی مذھبنا ومذھب الجمھور انا إذا وجدنا الخنزیر فی دار الکفر او غیرھا وتمکنا من قتلہ قتلناہ۔‘‘(۱)
اور مرزاقادیانی نے اپنے تئیں مثیل مسیح قرار دیا ہے اور اِبنِ مریم علیہ السلام کے حقیقی نزول سے اِنکار کیا ہے، اور کہیں اِنکارِ اَحادیث اور کہیں تأویلاتِ باطلہ کو اِختیار کیا ہے، چنانچہ صلیب کے توڑنے سے یہ مقصود رکھا ہے کہ وہ اِظہار حرمت صلیب کریں گے جس کو میں کررہا ہوں۔
مگر راقم حیران ہے کہ ’’حرمت‘‘ صرف مرزائی ہے یا کہ قدیم زمانۂ اہلِ اسلام سے مشہور ومعروف ہے، اوّل تو بدیہی
(۱) اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے کہ قتلِ خنزیر سے حقیقۃً خنزیر کو قتل کرنا مراد ہے۔
180
البطلان ہے، پس ثانی متعین ہے، اور ان کی تأویل باطل ہے، فہو المطلوب۔ اور قتلِ خنزیر سے بھی یہ معنی لیا ہے کہ اس کی حرمت کا اِظہار ہے، اور ظاہری معنی پر یہ اِعتراضِ واہی کیا ہے کہ کیا وہ شکار کھیلتے پھریں گے؟ حالانکہ محاورہ اہلِ زبان میں شائع ہے کہ: ’’بادشاہ نے فلاں کو قتل کیا!‘‘ اور اس سے مقصود صرف یہی نہیں ہوتا کہ بادشاہ اپنے ہاتھ سے قتل کا مرتکب ہوا ہے، بلکہ جلاد کا قتل کرنا بھی منسوب اِلی السلطان سمجھا جاتا ہے، اور یہاں پر مباشرت بنفسہٖ میں بھی کوئی محذور نہیں ہے۔ علیٰ ھٰذا کفار سے جزیہ قبول نہ فرمائیں گے، بلکہ صرف اسلام ہی مقبول ہوگا، اور یہ اُمور ان سے بطور تنسیخ شریعتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ واقع نہ ہوں گے، کیونکہ نبی مستقل نہ ہوں گے، بلکہ تابعِ شریعتِ محمدیہ ہوں گے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ناسخ اور مبین اَحکامِ مذکورہ ہیں، کیونکہ آپ نے بطور پیشین گوئی کے پہلے ہی سے فرمادیا، جس سے یہ پایا جاتا ہے کہ اَحکامِ موجودہ ان کے آنے تک ہیں، پھر تبدیل ہوجائیں گے۔ چنانچہ اِمام نوویؒ شرح مسلم (ج:۱ ص:۸۷) باب نزول مسیح بن مریم میں فرماتے ہیں:
’’فعلٰی ھٰذا قد یقال ھٰذا خلاف ما ھو حکم الشرع الیوم فإن الکتابی إذا بذل الجزیۃ وجبت قبولھا ولم یجز قتلہ ولا اکراھہ علی الإسلام، وجوابہ ان ھٰذا الحکم لیس بمستمر إلٰی یوم القیامۃ بل ھو مقید بما قبل نزول عیسٰی علیہ السلام وقد اخبرنا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ھٰذہ الأحادیث الصحیحۃ بنسخہ ولیس عیسٰی علیہ السلام ھو الناسخ، بل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ھو المبین للنسخ، فإن عیسٰی علیہ السلام یحکم بشرعنا فدل علٰی ان الإمتناع من قبول الجزیۃ فی ذالک الوقت ھو شرع نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
اور مال کی کثرت ہونا بھی بڑی علامت فرمائی ہے کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا، بعض حواری مرزاقادیانی اس کی تصدیق یوں فرماتے ہیں کہ: وہ بھی بہت مال لوگوں کو دیتے ہیں، یعنی بذریعہ اِشتہار وعدہ اِنعام کا دیتے ہیں، اور کوئی قبول نہیں کرتا، سبحان اللّٰہ! کیا تأویلِ واہی ہے! اور کیسا خیالِ محال ہے! کیونکہ کثرتِ مال وعدمِ قبول کی تشریح صاف طور پر آپ نے فرمادی ہے کہ کثرت کا یہ حال ہوگا کہ اُونٹنی جوان بیکار پڑی پھرے گی، کوئی متوجہ اس کی طرف نہ ہوگا، اور نیز دُنیا سے نفرت اور عبادت میں لذّت ہوگی کہ اس وقت ایک سجدہ دُنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ بھلا آج کل یہ معاملہ ہے۔۔۔؟ بلکہ خلاف اس کے سب کی توجہ تام دُنیا ہی کی طرف ہے، حتیٰ کہ عموماً ایک پیسہ سجدے سے بہتر سمجھا جاتا ہے، اِلَّا ماشاء اللّٰہ! بلکہ خود مرزاقادیانی نے یہ دُنیائے دُوں کے کمانے کا ذریعہ نکالا ہوا ہے، عیاں راچہ بیاں۔۔۔؟
اور یہ علامت بھی بہت بڑی فرمائی کہ اس وقت لوگوں میں باہمی بغض، عداوت، حسد سب جاتا رہے گا، بخلاف آج کل کے کہ زمین آسمان کا فرق ہے، عموماً یہ اُمور ایسے شائع ہیں کہ اس کا اِنکار بدیہی البطلان ہے:
’’ببیں تفاوتِ راہ از کجاست تابہ کجا‘‘
چونکہ مرزاقادیانی سے ان اُمورِ صریحہ کی کوئی تأویل نہ بن سکی، ادھر رُخ بھی نہ کیا اور حدیثِ دمشق میں دربارۂ نزولِ اِبنِ مریم علیہ السلام، چار جگہ ’’نبی اللّٰہ‘‘ کا لفظ آیا ہے، اور نبی کا اِطلاق مخالف آیت خاتم النّبیین نہیں، اس لئے کہ یہ اِطلاق باعتبار ما
181
کان کے ہے اور محاورے میں شائع ہے، کما لا یخفی علی اللبیب، پس اِعتراض مخالف غلط صریح ہے۔ اور فرشتوں کے پروں پر اُترنا دمشق کے منارۂ شرقی پر صحیح مسلم میں موجود ہے، اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ وہ دُنیا میں آکر نکاح کریں گے، اولاد ہوگی، اور وہ فوت ہوں گے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روضۂ منوّرہ میں مدفون ہوں گے جیسا کہ مشکوٰۃ میں ہے:
’’عن عبد اللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ینزل عیسی بن مریم إلی الأرض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمس واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فیقبری،فأقوم أنا وعیسی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر۔‘‘
(رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء، کذا فی المشکوٰۃ ص:۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
اور ظاہر ہے کہ علامہ اِبنِ جوزیؒ محدث کو رَدِّ اَحادیثِ موضوعہ کے بارے میں کس قدر مبالغہ تھا، پھر یہ حدیث جس کو وہ خود روایت کرتے ہیں، صحیح ہے، اور مرزاقادیانی کا ان سب نصوصِ صریحہ سے اِنکار یا تأویل لاطائل کرنا صریح البطلان ہے۔ اور لفظ ’’إمامکم منکم‘‘ کے یہ معنی لینا کہ آنے والا جو ہوگا تو وہ تمہیں میں سے ہوگا، حقیقۃً اِبنِ مریم نہیں ہوں گے، خیالِ محض ہے، اس لئے کہ ’’إمامکم منکم‘‘ کی تفسیر دُوسری جگہ آگئی ہے کہ وہ مہدیؓ ہوں گے جو ان کے بھی اِمام بنیں گے:
’’وعن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزال طائفۃ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسی بن مریم فیقول امیرھم: تعال صل لنا! فیقول: لا، ان بعضکم علٰی بعض امراء! تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمَّۃ۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۷، باب نزول عیسی بن مریم علیہ السلام)
بعض روایات میں جو آیا ہے کہ وہ اِمام بنیں گے تو اس سے یہ مراد ہے کہ وہ کتابُ اللّٰہ کی اِجراء وتعمیل میں اِمام ہوں گے، الفاظِ حدیث یہ ہیں: ’’فامکم بکتاب ربّکم عزّ وجل‘‘ (دیکھو مسلم ج:۱ ص:۸۷)۔
الغرض مرزاقادیانی کو اپنے تئیں مثیل مسیح سمجھنا اور لوگوں کو اس کی دعوت کرنا بالکل خلافِ عقائد اہلِ اسلام ہے۔
علیٰ ھٰذا دجال کے بارے میں احادیثِ صحیحہ موجود ہیں، چنانچہ مسلم (ج:۲ ص:۴۰۰) باب ذکر الدجال میں ہے:
’’وان الدجال ممسوح العین علیھا ظفرۃ غلیظۃ مکتوب بین عینیہ کافر یقرأ کل مؤْمن کاتب وغیر کاتب۔‘‘
’’اس کی آنکھ مٹائی گئی ہوگی، اس پر ایک گاڑھا ناخنہ ہوگا، دونوں آنکھوں کے مابین لفظ کافر لکھا ہوگا جس کو خواندہ وناخواندہ پڑھ لے گا۔‘‘
اب یہ صریح علامت ہے کہ ان حروف کو اَن پڑھ بھی پڑھ لے گا اور یہ بھی آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کو بابِ لُد پر قتل فرمائیں گے، اور یہ بھی اس کی علامت ہے کہ چالیس روز تک رہے گا، پہلا دن سال کے برابر، دُوسرا مہینے کے برابر، تیسرا جمعہ کے برابر ہوگا، اور باقی دن اور دِنوں کے برابر ہوں گے۔
182
چنانچہ یہ بھی اس میں ہے:
’’قلنا: یا رسول ﷲ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: اربعون یومًا! یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر ایامہ کأیامکم! قلنا: یا رسول ﷲ! فذالک الیوم الذی کسنۃ أتکفینا فیہ صلٰوۃ یوم؟ قال: لا! اقدروا لہ قدرہ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۴۰۱، باب ذکر الدجال)
’’ہم نے کہا: یا رسول اللّٰہ! وہ کتنا عرصہ زمین میں ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن! جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا، ایک مہینے کا، ایک ہفتے کا، اور باقی اور دِنوں جیسے! ہم نے عرض کیا کہ: اس سال بھر والے دن میں کیا ایک ہی وقت نماز کافی ہوگی؟ فرمایا: نہیں! وقتِ نماز کا اندازہ کرنا ہوگا۔‘‘
اور پھر یأجوج ومأجوج کا نکلنا اور ان کے عجیب حالات اور ان سب کا مرض وباء عام سے مرنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا کوہِ طور سے اُترنا وغیرہ وغیرہ سب صحیح مسلم میں موجود ہے۔
اب مرزاقادیانی کا دجال سے مراد بااِقبال قومیں لینا، کس قدر مخالفت وتحریفِ احادیثِ صحیحہ ہے! کیا بااقبال قومیں اس وقت موجود نہ تھیں۔۔۔؟
غرضیکہ بابِ تأویل میں مرزاقادیانی نیچریوں سے بڑھ گئے ہیں، اور جس طرح احادیثِ موضوعہ کو صحیح بیان کرنا، کذب علی الرسول ہے، اسی طرح احادیثِ صحیحہ کا اِنکار یا تأویلِ باطل، کذب علی الرسول ہیں، اور حدیثِ صحیح میں ہے:
’’من کذب علیَّ متعمّدًا فلیتبوأْ مقعدہ من النار!‘‘
(مسلم ج:۱ ص:۷، باب تغلیظ الکذب علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)
الغرض! یہ عقائد مرزاقادیانی کے باطل، مخالف عقائدِ اہلِ اسلام ہیں، اور خلافِ اِجماعِ اُمت ہیں، اور فرمایا اللّٰہ تعالیٰ نے: ’’وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَآءَ تْ مَصِیْرًا‘‘ (النساء۱۱۵) اور اُمتِ محمدیہ ہرگز گمراہی پر مجتمع نہیں ہوسکتی، بلکہ جو ان سے خارج ہو، مستحقِ نار ہوجاتا ہے، جیسا کہ ترمذی میں ہے:
’’عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ لا یجمع اُمّتی، او قال اُمَّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، علی الضلالۃ، وید اللہ علی الجماعۃ، ومن شذ شذ فی النار۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۳۹، باب فی لزوم الجماعۃ)(۱)
’’وعن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اتبعوا السواد الأعظم! فإنہ من شذ شذ فی النار۔‘‘
(رواہ ابن ماجۃ، من حدیث انس، کذا فی المشکوٰۃ ص:۳۰، باب الإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)(۲)
(۱) اُمتِ محمدی کا گمراہی پر اِتفاق واِجماع نہ ہوگا، اور جو جماعت سے نکلا وہ آگ میں پڑا۔
(۲) بڑی جماعت کے پیچھے لگو، جو اس سے نکلا، وہ آگ میں پڑا۔
183
’’عن ابی ذر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من فارق الجماعۃ شبرًا فقد خلع ربقۃ الإسلام من عنقہ۔‘‘ (رواہ احمد وابوداوٗد، کذا فی المشکوٰۃ)(۱)
اور یہ بھی حدیثِ صحیح میں وارِد ہے کہ قیامت سے پہلے تیس دجال کذّاب پیدا ہوں گے اور سب کے سب رِسالت کا دعویٰ کریں گے، سو یہ دعویٰ بھی مرزاقادیانی کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ قال الإمام النووی فی شرح المسلم:
’’وقد وجد من ھٰؤُلاء خلق کثیرون فی الأعصار واھلکھم اللہ تعالٰی واقلع اثارھم وکذالک یفعل بمن بقی منھم۔‘‘(۲)
اور مزید یہ کہ باوجود ان عقائدِ باطلہ کی اِشاعت کے یہ دعویٰ بھی فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، مسلمانوں کے سے عقیدے رکھتا ہوں، حالانکہ:
’’نہاں کے ماند آں رازے کز وسازند محفلہا‘‘
جب ان کی تألیفات پکارپکار کر اس دعوے کی تکذیب کر رہی ہیں، پھر کیونکر مردِ عاقل دام میں آئے؟ اب میں خداوند کریم سے اس دُعا پر کلام کو ختم کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی کو انہیں عقائدِ حقہ پر، جن پر اِجماعِ اُمت ہے، پھر عود کرنے کی توفیق عنایت کرے، اور نیز ان کے متبعین کو اُمورِ حقہ پر لائے، ورنہ سوئِ عاقبت کا اندیشہ ہے،وما علینا إلَّا البلاغ! وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ خیر خلقہ محمد خاتم النبیین وآلہٖ واصحابہ اجمعین۔
کتبہ خادم العلماء کمترین راجی رحمۃ ربہ القوی
احمد علی عفا اللّٰہ عنہ بٹالوی
مدرّس مدرسہ اسلامیہ بٹالہ
علمائے شہر پٹیالہ ریاست
ہم نے مرزاقادیانی کے رسائل: ’’توضیح‘‘ و’’فتح‘‘ و’’اِزالہ‘‘ نہایت غور سے دیکھے، قادیانی کے عقائد مخترعہ بے شک وبلاشبہ قرآن وحدیث کی تعلیم اور صحابہ کرامؓ وسلف صالحینؒ کے عقائد سے مخالف ہیں، ایسا شخص بے شک دائرۂ اسلام سے خارج اور حدیث کا پورا پورا مصداق ہے۔
| مولوی محمد اسحاق |
مولوی حافظ غلام مرتضیٰ |
| واعظ ومفتی شہر پٹیالہ وپروفیسر عربی مہندر کالج پٹیالہ |
پروفیسر فارسی مہندر کالج پٹیالہ |
| کرامت اللّٰہ مولوی فاضل |
مولوی غلام محمد عفی عنہ |
(۱) جو ایک بالشت جماعت سے الگ ہوا، اس نے اِسلام کا پٹا گردن سے نکال دیا۔
(۲) ایسے لوگ پچھلے زمانوں میں بہت پائے گئے ہیں، جن کو خداتعالیٰ نے ہلاک کیا، ایسا خداتعالیٰ آئندہ آنے والوں سے کرے گا۔
184
ھٰذا الجواب صحیح، وحق صریح، والحق أحق أن یتبع! حشمت اللہ سنوری(۱)
’’جواب دُرست ہے، خداوندکریم قادیانی اور اس کے مقلدین کو راہِ راست کی ہدایت فرمائے۔‘‘
مجھ کو جملہ علمائے اسلام سے اِتفاق ہے! مولوی طالب علی لاہوری، مقیم پٹیالہ
جو شخص ملائکہ کو نفوسِ فلکیہ اور سلسلۂ نبوّت کو خواہ تامہ ہو، خواہ ناقصہ، قیامت تک جاری سمجھے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ (مولوی) حافظ عظیم بخش، سکنہ بنگہ، ضلع ہوشیارپور، مقیم پٹیالہ (یہ صاحب بھی مرزا کے حواری تھے)۔
مجھے مولوی محمد اِسحاق صاحب کی تحریر سے اِتفاق ہوا۔ العبد الفقیر عبدالعزیز محدث رئیس موضع کوم ضلع لدھیانہ
چونکہ مرزا غلام احمد کے عقائد مندرجہ فتویٰ سراسر خلافِ عقائد اہلِ اسلام، اہلِ سنت وجماعت ہیں، لہٰذا مجھ کو بھی سب علمائے دِین کے ساتھ اِتفاق ہے۔ (مولوی حافظ) سیّد محمد عنایت علی
الجواب صحیح، ’’یہ جواب صحیح ہے‘‘
خادم امام الدین حسین
پروفیسر عربی وفارسی اورینٹل ڈیپارٹمنٹ مہندر کالج پٹیالہ
مرزا کی تحریریں جملہ اہلِ اسلام خصوصاً عقائد اہلِ سنت والجماعت کے خلاف ہیں، ایسا شخص ہرگز ملہم اور مجدد نہیں ہوسکتا۔
العبد خاکسار محمد عبداللّٰہ عفا اللّٰہ عنہ
علمائے لکھنؤ کے ضلع فیروزپور جو پنجاب میں فقہ وحدیث کے ممتاز اور نام آور علماء ہیں اور
صاحبِ برکات واِلہامات مشہور ہیں
َلْحَمْدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰئِکَۃِ رُسُلاً اُولِیْ أَجْنِحَۃٍ مَّثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ یَزِیْدُ فِیْ الْخَلْقِ مَا یَشَاءُ إِنَّ اللہ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (فاطر۱) والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الأمین محمد المبعوث فی الاُمّیینبجوامع الکلم والکلام المبین، وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین ومن تبعھم إلٰی یوم الدین، اما بعد!
جو عقائد کفریہ مرزاقادیانی کے سوال میں مرقوم ہیں، ہر ایک کفر مذکور اس کے کافر مرتد ہونے کے لئے کافی ووافی ہے، معاذاللّٰہ! اس کا مذہب ہے کہ میرے اِلہام قطعی مثل کتابُ اللّٰہ کے ہیں، جیسا کہ یہ اس نے بعضے اِشتہاروں میں صاف صریح لکھا ہے، لہٰذا وہ احادیثِ صحیحہ صریحہ کے مقابلے میں مرتدانہ کلام کرتا ہے، اور کھلم کھلا کافر ہوا جاتا ہے۔
اب یہاں یہ مسئلہ حقہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر حدیثِ صحیح مرفوع جس کو علمائے حدیث نے بالتحقیق صحیح ثابت کیا ہے، واجب القبول والعمل بالاجماع ہے، اس کا منکر، مکذب اپنی رائے سے موضوع وباطل کہنے والا، کافر ومرتد ہے، اس میں بہانہ قولِ اِمام کا، یا کشف واِلہام کا، یا عقلِ نافرجام کا، کچھ کام نہیں آتا۔ اگر حدیث متواتر ہے تو منکر کافرِ قطعی ہے، ورنہ ظنی کافر ہے۔ پس میری
(۱) مولوی حشمت اللّٰہ صاحب سنوری وہ ہیں جن کی ’’اِزالہ‘‘ میں خاص مریدوں کی فہرست میں تعریف فرمائی ہے، ان کو اپنا ہم رنگ بھی لکھا ہے اور دُعائے خیر بھی دی ہے۔ دیکھو صفحہ:۸۰۱ اِزالہ۔
185
تحقیق میں یہ ملحد قادیانی اشدالمرتدین عجیب کافر ومنافق لاثانی ہے، اس لئے اس نے اِزالہ کے صفحہ:۲۹۷ میں سب اہلِ اسلام کو جو صحابہؓ سے لے کر اب تک ہیں، ملحد صریح اور سخت بے اِیمان بنادیا ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں پر اِیمان لانے کی وجہ سے اور اس کی پوچ تأویلیں قابلِ اِلتفات نہیں، اور نہ لائقِ اِعتبار ہیں، بلکہ فی الحقیقت تأویلیں نہیں صاف تمسخرِ منافقانہ اور اِستہزائے کافرانہ ہے، مثلاً: دعوائے اِلہامی اس کا کہ: ’’میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزولِ موعود کا مصداق ہوں اِستعارے کے طور پر‘‘ سراسر باطل ومردود ہے، کیونکہ اِستعارہ مجاز کا قسم ہے، اور مجاز میں قرینہ مانعہ اِرادہ۷ معنی موضوع لہ سے ہونا ضرور ہے، اور یہاں کوئی قرینہ مانعہ اِرادۂ معنی حقیقی سے نہیں ہے، جو وجودِ مبارک عیسیٰ علیہ السلام کا بتمامہ ہے:
’’والمجاز مفرد ومرکب اما المفرد فھی الکلمۃ المستعملۃ فی غیر ما وضعت لہ فی اصطلاح بہ التخاطب علٰی وجھہ یصح مع قرینۃ عدم إرادتہ ای إرادۃ الموضوع لہ۔‘‘
(مختصر معانی مع متنہ تلخیص المفتاح)
والإستعارۃ تفارق الکذب بوجھین، بالبناء علی التأویل ونصب القرینۃ علٰی خلاف الظاھر فی الإستعارۃ لما عرفت انہ لا بد للمجاز من قرینۃ مانعۃ عن إرادۃ الموضوع لہ۔‘‘
(مختصر معانی مع متنہ)
اور ملحد صاحب نے کوئی قرینہ مانعہ معنی حقیقی سے الفاظِ نبویہ میں قرار نہیں دیا، اور اپنے اِلہام ضدِ اِسلام پر اِیمان لاکر خلاف تفسیر صحیح کا وکفر حدیث متواتر کا اِختیار کیا، معاذاللّٰہ!
فی تفسیر ابن کثیر:
’’وقولہ سبحانہ وتعالٰی: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالک ما بعث بہ عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام من إحیاء الموتیٰ وإبراء الأکمہ والأبرص وغیر ذالک من الأسقام وفی ھٰذا نظر وأبعد منہ ما حکاہ قتادۃ عن الحسن البصری وسعید بنجبیر وان الضمیر فی ’’وَاِنَّہٗ‘‘ عائد علی القرآن بل الصحیح انہ عائد علٰی عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فإن السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیامۃ کما قال تبارک وتعالٰی: ’’وَإِنْ مِّنْ أَہْلِ الْکِتٰبِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ ای قبل موت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام ثم ’’ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ ویؤَید ھٰذا المعنی القرائۃ الاُخریٰ ’’اِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ ای امارۃ ودلیل علٰی وقوع الساعۃ، قال مجاھد: وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسی بن مریم علیہ الصلٰوۃ والسلام قبل یوم القیامۃ، وھٰکذا روی عن ابی ھریرۃ وابن عباس وابی العالیۃ وابی مالک وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والضحاک وغیرھم وقد تواترت الأحادیث
186
عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ إمامًا عادلًا وحکَمًا مقسطًا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۵۳۰، زیر آیت: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘، طبعہ مکتبہ رشیدیہ)
اس کا خلاصہ ترجمہ یہ ہے:۔۔۔ ’’اس قولِ خداوندی ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر ابنِ اِسحاق سے مذکور ہوچکی ہے کہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں، جیسے مُردے کو زِندہ کرنا، اور مادرزَاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنا، مگر یہ محلِ اِعتراض ہے۔ اس سے بعید تر وہ تفسیر ہے جو قتادہ سے منقول ہے کہ اس سے قرآن مراد ہے۔ اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مراد ہے، چنانچہ دُوسری آیت میں اِرشاد ہے کہ: ’’جو اہلِ کتاب ہیں وہ حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر اِیمان لائیں گے، اور وہ حضرت قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ اس معنی کی مؤید دُوسری قراء ت: ’’اِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ ہے، یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نکلنا قیامت کی علامت ہے۔ چنانچہ ابوہریرہؓ وابنِ عباسؓ اور ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسنؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ وغیرہ سے مروی ہے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس باب میں آچکی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے اِمامِ عادل ہوکر آئیں گے۔‘‘
جب تک یہ دعویٰ اِلہام کا اس نے نہیں کیا تھا، اس کا اِعتقاد بھی اس مسئلے میں موافق اہلِ اسلام کے تھا، جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ:۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳ میں مرقوم ہے، پس ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث کی حقیقت پر اِیمان لانے سے اِلہام ہی اس کو مانع ہوا، جیسا کہ اس نے خود آپ تصریح کی ہے صفحۂ اوّل توضیح مرام میں: ’’میرے اس رائے کے شائع ہونے کے بعد جس پر میں بینات اِلہام سے قائم کیا گیا ہوں‘‘ تو اِلہام ہی قرینہ مجاز کا اس کے زعم میں ثابت ہوتا ہے، اور کوئی قرینہ عقلی نقلی اہلِ اسلام کے طور پر نہیں ہے۔ پس لازم آئے گا کہ قرینہ مجاز کا تیرہ سو برس بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قائم ہوا، اور آپ کے کلامِ ناتمام کو تمام کیا، اور مفید مطلب واقعی کے بنایا، ورنہ پہلے وہ کلام مفید خلافِ مطلب کے تھا، فصاحت وبلاغت کجا، بلکہ ضلالت درضلالت تھی، یہ تمسخر منافقانہ اور اِستہزا نہیں تو کیا ہے؟
قال اللہ تعالٰی: ’’ذَلِکَ جَزَاؤُہُمْ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْا اٰیَاتِیْ وَرُسُلِیْ ہُزُوْاً‘‘ (الکہف۱۰۶)
اور یہ امر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کمال فصاحت وبلاغت کو داغ لگانے کے لئے کمالِ شیطنت ہے، اور آپ کی فصاحت بلاغت جس طرح موافق ومخالف کے نزدیک مشہور ہے، اسی طرح حدیثِ صحیح میں بھی ثابت ومذکور ہے:
’’بعثت بجوامع الکلم۔‘‘(۱) (مسلم ج:۱ ص:۱۹۹، کتاب المساجد ومواضع الصلٰوۃ) ’’فضلت علی الأنبیاء بست: اعطیت جوامع الکلم۔‘‘ (رواہ مسلم ایضًا) سید المرسلین صلوات
(۱) اس عبارت کا خلاصہ ترجمہ: آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی فصاحت وبلاغت اور کلماتِ جامعہ کہنے کا بیان ہے۔
187
اللہ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ واصحابہ اجمعین۔ وفی الحدیث متفق علیہ ایضًا: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن یسرد(۱) الحدیث کسردکم کان یحدث حدیثًا لو عدّہ العادّ لأحصاہ کما فی المشکوٰۃ ص:۵۱۹، باب اخلاقہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فی صحیح البخاری ج:۱ ص:۵۰۳، باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا تکلم بکلمۃ اعادھا ثلاثًا حتّٰی تفھم عنہ کما فی کتاب العلم من المشکوٰۃ ص:۳۳۔ وفی صحیح مسلم، فی خطبۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اما بعد! فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
پس یہ صاف ظاہر ہے کہ ان احادیثِ صحیحہ مذکورہ سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم تقریر، تعلیم وافہام تفہیم میں سب انبیاء علیہم السلام پر فوقیت رکھتے تھے تو پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کلام کے مقابلے میں محدثین ملہمین کی عبارات، اِلہامات کی کیا حقیقت رہی؟ چہ جائیکہ اِلہامات اس محدث فی الدین مرتد بالیقین کے، معاذاللّٰہ۔۔۔!
اور اللّٰہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ہے:’’وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ‘‘(ص۲۰) قال ابن عباس: بیان الکلام، کما فی المعالم۔ یعنی عطا کی ہم نے داؤد کو دانائی اور کھلی بات کرنی جس کو ہر ایک بلاتکلف سمجھے۔ پس حضرت ہمارے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالاولیٰ اس کمال میں اعلیٰ واَولیٰ ہیں،لقولہ علیہ السلام: فضلت علی الأنبیاء ۔۔۔۔ الخ، وقولہ علیہ السلام: خیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ مختصر معانی میں ہے: وفصل الخطاب، ای الخطاب المفصول البین الذی یتبینہ کل من یخاطب بہ ولا یلتبس علیہ وھٰذا فی المطول -کفر اعظم کادیانی - علمائے مفسرین ومحدثین جو ظاہر علم تفسیر وحدیث کا ہمیشہ پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں، یہ بے مغز خدمتیں ہیں اور یہ تمام خداتعالیٰ کے نزدیک استخوان فروشی ہے، اس سے بڑھ کر نہیں (دیکھو فتح اسلام صفحہ:۸)۔ قال اللہ تعالٰی:
’’وَلَئِن سَأَلْتَہُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُولِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُوْنَ. لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُم بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ‘‘ (التوبہ۶۵، ۶۶)
’’جو کوئی دِین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے، اگرچہ دِل سے منکر نہ ہو، وہ کافر ہوا، نہیں تو البتہ منافق ہوا، دِین کی بات میں ظاہر وباطن باادب رہنا ضروری ہے۔‘‘ (تفسیر موضح القرآن ص:۲۵۵)
اللّٰہ اکبر! دِین کی بے ادبی سے آدمی کافر ومنافق ہوجاتا ہے، اگرچہ اِعتقاداً نہ ہو، معاذاللّٰہ، اگر اِعتقاداً ہو جیسا کہ اس ملحد نے علمِ دِین کی اہانت کی ہے، تو پھر کفر ونفاق اس کے میں کیا شک ہے۔۔۔؟ انواع بارک اللّٰہ رحمہ اللّٰہ میں لکھا ہے:
(۱)السرد جودۃ سیاق الحدیث۔۱۲ق
188
دینی علم یا عالماں کرے اہانت کو
یا کرے اہانت شرع دی اوہ بھی کافر ہو(۱)
اور عیسیٰ علیہ السلام کو اس ملحد نے بہ تقلیدِ نصاریٰ صلیب پر چڑھادیا ہے اور کفر واِنکار نصِ قرآنی کا کیا ہے، قال اللہ تعالٰی: ’’وَمَا صَلَبُوْہٗ‘‘۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے، یہ بھی کفرِ صریح ہے، قرآن وحدیث کا صاف اِنکار ہے۔ اور فرشتوں کے عروج ونزول کا اِنکار، بہت نصوصِ قرآنیہ اور احادیثِ صحیحہ صریحہ کا صاف اِنکار وکفرِ صریح ہے اور یہ مستلزم ہے اس کفرِ اعظم کو کہ قرآن شریف اللّٰہ کا کلام نہیں، بلکہ: ’’اِنْ ھٰذا اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ‘‘ ہے، کیونکہ فی الخارج نہ کوئی جبریل آیا نہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس نے کچھ پڑھایا، نہ خدا نے جبریل کو فی الواقع اپنے کلام پیغام دے کر زمین پر بھیجا نہ اُتارا۔
پس قرآن بشر کا کلام ہوا، پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خیال میں خداتعالیٰ نے پیدا کیا، فی الخارج خود نہیں فرمایا، نہ جبریل کو پڑھایا، اور سلف صالح کا یہ مشہور مسئلہ تھا کہ: ’’من قال: ان القرآن مخلوق، فھو کافرٌ!‘‘
اور خروج یأجوج مأجوج کا اِنکار بھی کفرِ صریح ہے، اور خروج اور دجال سے مسیح (یعنی قادیانی) کذّاب کا اِنکار اور دعوائے رسول مرسل نبی اللّٰہ ہونے کا اور احمد مبشر بالقرآن ہونے کا بھی کفر صریح ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کو اِبن اللّٰہ ماننا، اس ملحد کی نصرانیت ہے، اور اپنی ذات کو اِبن اللّٰہ کا لقب دینا یہودیت،(۲) اور یہ جو موحدین ان کفریاتِ صریحہ کو برحق مانتے ہیں، وہ بھی کافر مرتد ہیں، اور جو خود برحق نہیں جانتے مگر مرزا سے محبت دِل وجان سے کرتے ہیں اور اس پر بزرگ کا اِعتقاد رکھتے ہیں، ہرگز اس کے کفریاتِ صریحہ مذکورہ پر غیرتِ اِیمانی کو راہ دِل میں نہیں دیتے، ان میں بھی رائی کے دانے برابر اِیمان نہیں۔۔۔!
’’عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما من نبیبعثہ اللہ فی اُمّۃ قبلی إلَّا کان لہ من اُمّتہ حواریون واصحاب یأخذون بسُنَّتہ ویقتدونبأمرہ، ثم انھا تخلف من بعدھم خلوف یقولون ما لا یفعلون، ویفعلون ما لا یؤْمرون، فمن جاھدھم بیدہ فھو مؤْمن، ومن جاھدھم بلسانہ فھو مؤْمن، ومن جاھدھم بقلبہ فھو مؤْمن، ولیس وراء ذالک من الإیمان حبۃ خردل۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۵۲، باب بیان کون النھی عن المنکر من الإیمان، وان الإیمان یزید)
’’حضرت اِبنِ مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو نبی گزرا ہے اس کے حواری اور اَصحاب گزرچکے ہیں، جو اس کی سنت وطریق کو لیتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو وہ بات کہتے خود نہ کرتے، وہ کام کرتے جس کے مأمور نہ
(۱) یہ پنجابی زبان کا شعر ہے، اس کا ترجمہ اُردو میں یہ ہے کہ: جو شخص علم یا علمائے دِین یا شرع کی اہانت کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔
(۲) ان کا یہ قول تھا: ’’نَحْنُ اَبْنٰؤُٓ اللہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ‘‘ (المائدۃ:۱۸) یعنی ہم خدا کے بیٹے اور دوست ہیں۔
189
ہوتے، جو ان سے ہاتھ کے ساتھ مقابلہ کرے وہ مؤمن ہے، جو زبان کے ساتھ مقابلہ کرے، وہ مؤمن ہے، جو دِل سے ان کا مخالف ہو، وہ مؤمن ہے، اس کے بعد (یعنی اگر دِل میں بھی ان کی مخالفت نہ ہو) تو دانہ رائی کے برابر اِیمان نہیں ہے۔‘‘
اور جو اس ملحد کو اپنے مکانوں میں جگہ دیتے ہیں اور اس کی مدد میں سرگرم رہتے ہیں، وہ اس حدیث شریف کا مصداق ہیں:’’لعن ﷲُ من آوٰی محدثًا‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۱۶۰، باب تحریم الذبح لغیر اللہ ولعن فاعلہ)۔
یعنی خدا کی لعنت ہے اس پر جو بدعتی، ملحد، محدث فی الدین کو جگہ دیتا ہے، رَدِّ نیچری میں لکھا ہے(۱):
ہک کفر عقیدہ جو حق جانے ہے مرتد یقینوں
اس وچہ شک نہ شبہ کوئی ہے صاف ایمانوں دینوں
جویں انکار فرشتیاں یا انکار جناں شیطاناں
یا تھوڑے بیاج حلال پچھانے یا منکر اسماناں
یا معجزہ یا ندا منکر ہووے من تاویلاں خاماں
یا کہے قرآن کلامِ محمد کافر باجہ کلاماں
یا آکھے حضرت عیسیٰ تائیں ہے یوسف دا جایا
وچہ قرآن جو قصہ مریم جوٹھا سفنہ آیا
یا آکھے عیسیٰ سولی چڑھیا مَنّے قول نصاریٰ
ہک آیت دا منکر کافر جوں کر سب دا یارا
اور تأویلیں ملحدانہ اس ملحد کی اِستہزا وتمسخر ہے، خدا رسول کو، ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ اللّٰہ اور رسول کو سمجھانا نہیں آتا اور میرے اِلہامات بینات ہیں، اگر اس کے اِلہاموں کی ایسی تأویلیں کہی جائیں تو مرزا اور مرزائی ضرور تمسخر سمجھیں گے۔ مثلاً اِلہام:
’’إنَّا جعلناک المسیح بن مریم‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص:۵۵۱، خزائن ج:۵ ص:۵۵۱)
میں معنی مسیح کذّاب ہیں،(۲) اور یہی معنی بالتحقیق مراد ہیں اور اِبنِ مریم لطیف اِستعارہ ہے کہ اس ملحد کی والدہ مؤمنہ تھی اور یہ ملحد مسلمانوں کی نسل سے قطع ہوگیا۔ اور الطف اِستعارہ یہ ہے کہ مسیح سے مراد وزن فصیل کا ہے جو حمیر ہے۔کما شھد بہ إلھام
(۱) رَدِّ نیچری مولانا محمد بن بارک اللّٰہ کی تصنیف ایک پنجابی نظم کا رسالہ ہے، اس کے اَشعارِ منقولہ بالا کا، تھوڑے سود کو حلال جاننا، یا معجزات کا اِنکار کرنا، یا قرآن کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلام قرار دینا، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا کہنا، یا حضرت مریمؓ کے قصہ رُؤیتِ جبریل وبشارتِ فرزند کو ایک خواب قرار دینا، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ کہنا کہ وہ صلیب پر چڑھائے گئے تھے، وغیرہ۔
(۲) قاموس میں مسیح کے معنی کذّاب بھی لکھے ہیں۔ مفتی۔
190
المجذوب الجمونی: حدثنی بہ عبدالغفور، قال: حدثنی بہ عبدالواحد، قال عبدالغفور: حدثہ بہ المجذوب بنفسہ۔ (۱) اور میں نے فکر کیا ساتویں تاریخ ماہِ رجب حال میں بعد نماز فرض عشاء کے، کہ مرزائیوں کے حق میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کیا ہے، اِلہام ہوا:اولٰئک ھم الکافرون حقًّا!(۲) ھٰکذا تطبیق إلھامہ بالقرآن والحدیث،ھٰکذا تطبیق إلھامہ بالقرآن والحدیث،(۳) وھٰکذا تطبیقہ بإلھامی،(۴) اللّٰھم رب جبرائیل ومیکائیل وإسرافیل فاطر السماوات والأرض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون، اھدنی لما اختلف فیہ من الحق بإذنک انت تھدی من تشاء إلٰی صراط مستقیم، ان ملحدوں کے حق میں مجھ کو یہ بہت اِلہام ہوا ہے: إن یقولون إلَّا کذبًا، نہیں کہتے مگر جھوٹ!
حررہ العبد الضعیف عبدالرحمٰن المدعو بمحی الدین من مقام لکھوکے فی جواب سؤَال المولوی محمد حسین عافاہ اللہ وإیای فی الدارین۔
الجواب صحیح، الملتجی إلی اللہ محمد بن مخدومی بارک اللہ مرحوم ساکن لکھوکے ضلع فیروزفور پنجاب، مصنف تفسیر محمدی وانوار محمدی وغیرہ۔ ’’یہ جواب صحیح ہے۔‘‘
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
مرزاقادیانی کو یہ عاجز پہلے اچھا سمجھتا تھا، جب وہ تائیدِ اِسلام میں مصروف تھا، جب سے اس نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نبوّت کا مدعی ہوا ہے، تب سے میں اس کو ملحد ودَجال وکذّاب سمجھتا ہوں۔
حررہ خادم القوم
محمد حسن بن مولانا حافظ محمد بن بارک اللّٰہ مرحوم
ساکن لکھوکے، ضلع فیروزپور پنجاب
(۱) یعنی جیسا کہ جموں کے مجذوب کا اِلہام شہادت دیتا ہے، جو مجھ سے عبدالغفور بن محمد بن عبداللّٰہ غزنوی نے بیان کیا، اس کو عبدالواحد داماد حکیم نورالدین نے بتایا، انہوں نے خود اس مجذوب سے سنا، یہ مجذوب وہ شخص ہے جس کا ذِکر قادیانی نے آسمانی فیصلہ کے صفحہ:۱۶، سطر:۱۴ میں کیا ہے، اس مجذوب کو حکیم نورالدین جموں سے قادیان میں جلسہ قرأت فیصلہ آسمانی پر لے گیا، وہاں پر مجذوب صاحب نے خواب دیکھا، یا ان کو کشف ہوا کہ قادیانی کی ڈیوڑھی میں ایک سفید گھوڑی ہے، پھر وہ گدھی بن گئی، جس پر کسی نے کہا کہ: نورالدین گدھی کی خدمت کر رہا ہے۔ مجذوب صاحب بعارضہ برص یا جذام بیمار ہیں، قادیان میں ان کو حکیم نورالدین اس اُمید پر لے گیا تھا کہ وہاں ان کو شفا ہوگی، وہ وہاں سے واپس آئے تو ان کی بیماری اور بڑھ گئی، آگے وہ چلتے پھرتے تھے، اب اس سے معذور ہوگئے ہیں، یہ بات خاکسار نے مولوی غلام حسن صاحب اِمام اہلِ حدیث سیالکوٹ سے سنی ہے (ایڈیٹر)۔
(۲) یہ لوگ پکے کافر ہیں۔
(۳) اس کے اِلہام کی قرآن وحدیث سے یوں ہی موافقت ہوسکتی ہے، جو یہاں ہوئی کہ مسیح سے مرزا کا کاذب ہونا اور قادیانی کا گدھی کی صورت میں دِکھائی دینا۔
(۴) اسی طور اس کا اِلہام ہمارے اس اِلہام سے کہ وہ پکے کافر ہیں، مطابق ہوسکتا ہے۔
191
دستخط مواہیر علمائے نحریر پشاور
یجب علٰی کافۃ المسلمین طرئًا وعلی قاطبۃ المؤْمنین جمعًا ان یحکموا علیہ بالکفر والإلحاد ویجتنبوا عنہ بالغیظ والعناد، إذ لا شک فی کفرہ وکفر أتباعہ وأشیاعہ، لأنہ دجَّالٌ کذَّابٌ مرتابٌ فی الأمر الیقینی وساعٍ فی الأرض بالفساد ھم مؤَوّلٌ للنصوص القرآنیۃ علٰی ما ھو متمناہ والمحکماۃ الفرقانیۃ علٰی ما ھو مبتغاہ لإفشاء الزور والإرتداد یذھب تارۃ إلی المذھب السوفسطایۃ واخریٰ إلٰی ھواجسات الشیطانیۃ قد انکر القواطع القطعیۃ والشریعۃ الحقۃ الحقیقۃ کل ذالک بإغواء الشیطان کتب علیہ ان من تولَّاہ فإنہ یضلہ ویھدیہ إلٰی عذاب السعیر، اعوذ با اللہ من شرہ ومن شر أحبارہٖ وأنصارہٖ ونتوکل علیہ إنہ ھو السمیع البصیر۔
العبد خادم الفقھاء والمحدثین
سید اکبر شاہ حنفی قادری پشاوری
’’تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ قادیانی پر کفر واِلحاد کا حکم لگادیں، اور اس سے کنارہ کش ہوں۔ اس کے اور اس کے پیروان کے کفر میں کوئی شک نہیں، یہ دجال وکذّاب ہے، یقینی امر میں شک کرنے والا، زمین میں فساد پھیلانے والا، آیاتِ قرآن کو اپنی خواہش کے موافق اصل معنی سے پھیرنے والا، یہ کبھی سوفسطائی مذہب اختیار کرتا ہے، کبھی شیطانی خطرات پر چلتا ہے، اَحکام واخبارِ قطعیہ کا منکر ہے، شیطان کے بہکانے میں آیا ہوا ہے، جس پر یہ حکم ہوچکا ہے کہ جو شخص اس کو دوست بنائے گا، اس کو وہ گمراہ کردے گا اور جہنم کی راہ چلائے گا، اس کے اور اس کے حواریوں کے شر سے خدا کی پناہ ہے!‘‘
نحن نتبع ما نقح الفحول من العلماء والسالکین بطریق الشریعۃ والإنصاف ونحکم بکفرہ وإضلالہ۔
حررہ قاضی احمد پشاوری
’’ہم قادیانی کے باب میں اس حکم کے پیرو ہیں جو علماء نے تحقیق کرکے اس پر لگایا ہے، ہم اس کو کافر وگمراہ کنندہ جانتے ہیں۔‘‘
’’ اَفَرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰہَہُ ہَوٰہُ وَأَضَلَّہُ اللہ عَلَی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلَی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلَی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْ بَعْدِ اللہ أَفَلَا تَذَکَّرُونَ ‘‘ (الجاثیۃ)، ’’أُولَـئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاْ الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ فَمَا أَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ.ذَلِکَ بِأَنَّ اللہ نَزَّلَ الْکِتَٰبَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ ‘‘ (البقرۃ۱۷۵، ۱۷۶)۔
العبد الفقیر نور محمد، مدرّس مسجد قائم علی خان پشاور
’’یہ شخص ان آیات کا مصداق ہے، جن میں اِرشاد ہے: تو نے اس کو بھی دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنالیا ہے، اور خداتعالیٰ نے اس کو علم کے ساتھ گمراہ کررکھا ہے اور اس کے کان اور دِل پر مہر لگادی ہے، اور آنکھ پر پردہ ہے، اب اس کو خدا کے سوا کون ہدایت کرے؟ کیا تم پند پذیر نہیں ہوتے؟‘‘، ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خریدا، اور بخشش کے بدلے عذاب کو، یہ کیسے آگ پر صابر ہیں؟ یہ اس لئے ہوا کہ خداتعالیٰ نے کتاب حق کے ساتھ اُتاری، اور جن لوگوں نے اس میں
192
اِختلاف ڈالا، وہ اس کے خلاف میں دُور جاپڑے!‘‘
الحمد للّٰہ اوّلًا وآخرًا والصلٰوۃ علٰی نبیہ محمد ظاھرًا وباطنًا وعلٰی آلہ واصحابہ طرًا وجمعًا اما بعد! فیا ایھا الإخوان المؤْمنون! إذا حکم ببقاء الإیمان ان نزول عیسی بن مریم علیہ السلام من السماء بعد ظھورالمھدی الموعود حق وما قتل عیسٰی من ایدی الکفار وما صلب بل رفعہ اللہ إلی السماء ونزولہ علامۃ للساعۃویقتل الدجال الأعور من یدہ وھٰذہ الاُمور کلھا ثابتۃ بالآیات الناطقۃ والأحادیث القاطعۃ فکیف من ادعی بأنِّی أنا المسیح عیسٰی، حاشا وکلَّا لیس ھو کما یدعی، بل ھو من احد الدجالین الکذّابین وادعاؤُہ باطل محض مشتمل علٰی إنکارہ من النصوص القطعیۃ والبراھین الیقینیۃ ولقد زین الشیطان لہ عداوۃ الأنبیاء، ’’مَن کَانَ عَدُوّاً لِلّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَرُسُلِہٖ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَالَ فَإِنَّ اللہ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ ‘‘ (البقرۃ۹۸) وصار مصداق ھٰذہ الآیۃ: ’’فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللہ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاء ہُ أَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ‘‘ (الزمر۳۲)، فمن کان ھٰکذا فھو ضال،مضل، یضل الناس عن سواء الطریق، فاجتنبوا منہ ومن أحبارہ وأنصارہ لعلکم تفلحون من شرہ۔
حررہ الفقیر الحقیر حافظ عبدالحکیم قادری پشاوری
’’بھائی مؤمنو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے ظہورِ مہدیؓ کے بعد اُترنا حق ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اور نہ مارے گئے، بلکہ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں، ان کا قیامت سے پہلے اُترنا قیامت کی علامت ہے، وہ دجال کو قتل کریں گے، یہ سب اُمور بحکم آیاتِ ناطقہ اور اَحادیثِ قاطعہ ہونے والے ہیں، پھر جو شخص اب دعویٰ کرتا ہے کہ میں مسیح ہوں، وہ مسیح نہیں ہے، بلکہ دجال ہے، اور اس کا دعویٰ بحکم آیات واحادیث باطل ہے، شیطان نے اس کو نبیوں کی دُشمنی اچھی کردِکھائی ہے، اور جو نبیوں کا دُشمن ہو، خدا اس کا دُشمن ہے، وہ اس آیت کا مصداق ہے، جس میں یہ بیان ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللّٰہ پر اِفترا کرے اور حق کو (جب اس کے پاس آچکا ہو) جھٹلائے، کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟‘‘
ما اجاب العلماء الکرام فھو احق بالصواب والجواب، الراقم فقیر سیّد محمد واعظ مسجد گنج خلف الصدق رئیس العلماء حافظ محمد عظیم مرحوم۔
’’جو جواب علماء نے دیا ہے وہ دُرست ہے۔‘‘
الحمدللّٰہ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ محمد خاتم النبیین وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ اجمعین، اما بعد!
فلا یخفی علٰی کافۃ المسلمین المؤْمنین بجمیع ما جاء بہ الرسول الأمین من الشرع المبین ان نزول عیسی بن مریم الصدیقۃ المعدود فی اشراط الساعۃ حقٌ ثابتٌ بالکتاب والسُّنَّۃ الصحیحۃ الصریحۃ، قال عز من قائل: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ اخرج الحاکم عن ابن عباس ھو خروج عیسٰی کذا فی الاکلیل فی معانی التنزیل، وقرأ ابن عباس رضی اللہ عنہ لَعَلَمٌ بفتحتین بمعنی العلامۃ۔
واخرج البخاری ومسلم وابوداوٗد والترمذی، عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ
193
علیہ وسلم: لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا مقسطًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، ثم یقول ابوھریرۃ: اقرؤُا إن شئتم: ’’ وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَمَوْتِہٖ ج‘‘ والمعنی ما من احد من اھل الکتاب ادرک ذالک الوقت إلَّا آمن بعیسٰی عند نزولہ من السماء وصحح ھٰذا القول الطبری کذا فی تفسیر الخازن وقال عطاء عن ابن عباس إذا نزل عیسٰی إلی الأرض لا یبقی یھودی ولانصرانی إلّا آمن بہ وشھد انہ روح اللہ وکلمتہ وعبدہ ونبیہ کذا فی التفسیر الوسیط للإمام الواحدی۔
واخرج الإمام احمد فی مسندہ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یخرج الدجال فینزل عیسی بن مریم فیقتلہ ثم یمکث عیسٰی فی الأرض اربعین سنۃ إمامًا عادلًا مقسطًا۔
وفی حدیث مسلم عن النواس بن سمعان رضی اللہ عنہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجالذات غداۃ إلٰی ان قال ثم یأتی القوم فیدعوھم فیردون علیہ قولہ فینصرف عنھم فیصبحون ممحلین لیسبایدیھم شیء من اموالھم ویمر بالخربۃ فیقول لھا اخرجی کنوزک فتبتعہ کنوزھا کیعاسیب النخل ثم یدعوا رجلًا فیضربہ بالسیف فیقطعہ جزلتین رمیۃ الغرض ثم یدعوہ فیقبل ویتھلل وجھہ ویضحک فبینما ھو کذالک إذبعث اللہ المسیح بن مریم علیہ السلام فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق واضعًا کفیہ علٰی اجنحۃ ملکین فیطلبہ حتّٰی یدرکہ بباب لُدّ فیقتلہ ۔۔۔الحدیث۔ والحاصل ان نزول عیسی بن مریم الموعود فی زمن الإستقبال انما یکون بعد خروج الدجال والأحادیث فیہ کثیرۃ یطول ذکرھا بالإستیفاء وھو الآن حی فی السماء وھٰذا قول اھل الحق المعول علیہ لقولہ تعالٰی: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْناً. بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ ای إلی السماء قالہ الحسن البصریکما فی تفسیر الإمام الواحدی وینزل عند قرب الساعۃ کھلًا۔
رسالتہ ثلاثین شھرًا ثم رفعہ اللہ إلیہ کذا فی تفسیر الخازن، قالوا وما وصل إلٰی سن الکھولۃ ففیہ إشارۃإلٰی نزولہ من السماء کذا فی التفسیر جامع البیان فأخبر اللہ تعالٰی یرفعہ إلیہ حیًّا بعد ما وعدہ وقال: ’’یٰعِیْسیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ والمراد ھنا توفی النوم وعلیہ الأکثرون کما فی جامع البیان ومثلہ قولہ تعالٰی: ’’وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ‘‘ الآیۃ (الأنعام:۶۰)۔ فالتوفی اعم من الإماتۃ ویدل علیہ قولہ تعالٰی: ’’اللہ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرٰی إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ‘‘ (الزمر۴۲) فمن تفکر فی قولہ تعالٰی حکایۃ عن قول عیسٰی علیہ السلام یوم القیامۃ: ’’ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کَنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ‘‘ الآیۃ (المائدۃ:۱۱۷) علم انہ لم یرد بہ الإماتۃ بشھادۃ الآیات السابقۃ والأحادیث الصریحۃ المذکورۃ وبالجملۃ ان اللہ تعالٰی لم یذکر فی ھٰذہ الآیات إلَّا توفی عیسی بن مریم ولم یذکر فی القرآن انہ اماتہ قبل التوفی والرفع او بعدہ فی السماء بل النصوص ناطقۃ بأنہ حیی ینزل عند اقتراب الساعۃ فمن انکر نزول عیسی بن مریم الصدیقۃ مدعیًا انہ مات فی الحقیقۃ ثم جعل ھٰذا الإنکار تمھیدًا
194
لإثبات دعوی المسیحیۃ الجدیدۃ وادعاء المماثلۃ العیسویۃ فی وصف النبوۃ واختار مسلک الملاحدۃ والباطنیۃ وصرف النصوص الواردۃ فی نزول عیسی بن مریم نبی بنی إسرائیل بضرب من التمحل الباطل وفاسد التأویل إلٰی معان توافق بغیۃ ھواہ وھذیانٍ یطاق ھفوۃ مدعاہ وحرف الکلم عن مواضعہ ووضع الکلام الحق فی غیرموقعہ، فادعی النبوۃ الشرعیۃ وانکر الأحکام المحکمۃ القطعیۃ فھو کافر ملحد کذاب لا یخفی إلحادہ وکفرہ وکذبہ علٰی اولی العلم فی ھٰذا الباب، فإن سیّدنا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین بنص القرآن المبین۔
وقال القاضی عیاض فی کتاب الشفاء فی حقوق المصطفیٰ: من ادعی نبوۃ احد بعد نبینا علیہ الصلٰوۃ والسلام او ادعی النبوۃ لنفسہٖ او جوَّز إکتسابھا والبلوغ بصفاء القلب إلٰی مرتبتھا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذالک من ادعی منھم انہ یوحی إلیہ وان لم یدع النبوۃ إلٰی ان قال فھٰؤُلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی ﷲعلیہ وسلم، لأنہ اخبر انہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ولا نبی بعدہ واخبر عن اللہ تعالٰی انہ خاتم النبیینوأجمعت الاُمَّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ وان مفھومہ ھو المراد بہ دون تأویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤُلاء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا وسمعًا وکذالک وقوع الإجماع علٰی تکفیر کل من دافع نص الکتاب او خص حدیثًا مجمعًا علٰی نقولہ مقطوعًا بہ مجمعًا علٰی حملہ علٰی ظاھرہ، انتھٰی کلامہ ملخصًا۔
وقال الإمام الصابونی فی الکفایۃ التی صنفھا فی عقائد اھل السُّنَّۃ والجماعۃ ما لفظہ: العدول عنظواھر النصوص من غیر ضرورۃٍ إلحاد محض انتھی۔ قال اللہ تعالٰی: ’’إِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا أَفَمَن یُّلْقٰی فِیْ النَّارِ خَیْرٌ أَم مَّن یَأْتِیْ اٰمِناً یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ ‘‘ (فصلت۴۰) و اللہ سبحانہوتعالٰی وعد بحفظ کتابہ المبین من تحریف الملاحدۃ المضلین فقال: ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ‘‘(الحجر۹) فأقام العلماء الصالحین علٰی إبطال تأویل الملحدین فدونو علم الکتاب والسُّنَّۃ الذی ھو أساس الأحکام الشریعۃ الأصلیۃ والفرعیۃ فی الکتاب المبسوط المضبوطۃ المشھورۃ التی تداولھا اھل السُّنَّۃ والجماعۃ فی الإعصار الماضیۃ إلی الآن۔
وعنہ علیہ السلام لا یزال یحمل ھٰذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتأویل الجاھلین والملحد الذی ذکرنا سابقًا لیس نظیر عیسی بن مریم الصدیقۃ بل مثیل الأسود العنسی ومسیلمۃ الیمانی فی دعوی النبوۃ داخل فی سلسلۃ الکذّابین الذین اخبر عن خروجھم النبی الصادق الأمین، فقال صلی اللہ علیہ وسلم: لا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجّالون کذّابون قریبًا من ثلاثین، کلھم یزعم انہرسول ﷲ۔ اخرجہ مسلم وغیرہ۔
فثبت بھٰذا التفصیل وواضح الدلیل ان الملحد المسطور علی الوصف المذکور دجال کذاب استحوذ علیہ الشیطان فحملہ علٰی ذالک الھذیان والطغیان وھو المفسد الساعی فی إفساد عقائد المؤْمنین وإیقاع
195
التشویش فی صدور عوام المسلمین، وعندی ان ترک المباحثۃ مع الملحد المسطور اولی ولا ماتۃ قولہ الزائغ احری بل الواجب لتنفیر العوام تشھیر فساد عقائدہ بین الأنام و اللہ در من قال بالجھر ولن یصلح العطار ماافسدہ الدھر حفظ اللہ المؤْمنین من شرہ وضرہ وعن کرہ بعد قرہ۔
ثم العجب العجاب من بعض اولی الألباب وجمع من اھل العلم فی الباب کیف اغتروا بأقوال الملحد البطال وتنزلوا إلٰی مدارک الجھال فآمنوا بأباطیل ذالک الضال زاعمین انہ صادق وموحد ذو حلم، لا بل ھومارق وملحد فی سلم، إتخذ إلٰھہ ھواہ واضلہ اللہ علٰی علم، واعجب من ھٰذا انھم یزعمون انفسھم کحواریالمسیح عیسی بن مریم الصدیقۃ کلا بل ھم انصار المسیح الدجال الأعور فی الحقیقۃ فأوردوا کثیرًا من العوام کالأنعام فی ورطۃ الضلالۃ وأفسدوا علیھم عقائدھم القدیمۃ الحقۃ فما ربحوا فی ھٰذہ البضاعۃ والتجارۃ إلَّا الھلکۃ والخسارۃ، أیّۃ خسارۃ؟ خسارۃ الدنیا والآخرۃ! فإن لم ینتھوا عن تلک الأقاویل التی یلقی علیھم العزازیل فعسی اللہ ان یسلط علیھم النقاد فیفحمھم ای یسکتھم او ھو لفظ یقبحھم ویرمیھم بالکساد ویشیع اخبار فبضجھم فی جمیع البلاد فتتفق علٰی تضلیلھم وتسفیھھم السنۃ جمیع اھل الرشاد ولا یبقی لکیدھم تأثیر ولا لمکرھم مجال وعند اللہ مکرھم وإن کان مکرھم لتزول منہ الجبال، وعما قلیل لیصبحن نادمین ولتعلمنَّ نبأہ بعد حین!
حررہ الفقیر
محمد ایوب الحنفی الپشاوری
خادم الفقہ والحدیث والتفسیر
’’حمد وصلوۃ کے بعد! مؤمنوں کو معلوم ہو کہ علاماتِ قیامت میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول شمار کیا گیا ہے، وہ حق ہے، کتاب وسنت سے ثابت ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وہ علم قیامت ہے، اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا ہے: اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا مراد ہے۔ ایسا ہی تفسیر اکلیل میں ہے، ایک قراء ت میں عِلم کی جگہ عَلَم بفتح ہے، جس کے معنی علامت ہے، بخاری وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کیا ہے کہ عنقریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاکمِ عادل ہوکر آئیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کریں گے، مال کی ایسی کثرت ہوگی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا، پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا کہ: چاہو تو (اس کی تصدیق میں) یہ آیت پڑھو: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ الآیۃ جس سے یہ مراد ہے کہ جو اہلِ کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ وقت پائے گا، وہ ان پر اِیمان لے آئے گا، اسی قول کو تفسیر آیت میں طبری نے صحیح کہا ہے، چنانچہ تفسیر خازن میں ہے: حضرت اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اُتریں گے تب کوئی یہودی ونصرانی ایسا نہ ہوگا جو یہ شہادت نہ دے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللّٰہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ایسا ہی تفسیر وسیط میں ہے۔ اِمام احمدؒ نے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دجال نکلے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس کو قتل کریں گے، پھر وہ زمین میں چالیس برس رہیں گے، اِمامِ عادل اور حاکمِ منصف ہوکر۔ اور صحیح مسلم میں نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث ہے کہ آنحضرت
196
صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کا ذِکر کیا تو فرمایا کہ: وہ ایک قوم کو اپنی طرف بلائے گا، وہ اس کی بات کو رَدّ کریں گے تو تہی دست ہوجائیں گے، پھر وہ کھنڈروں پر گزرے گا، ان کو کہے گا کہ: اپنے خزانے نکال دو! تو وہ اپنے خزانے نکال دیں گے، جیسے شہد کی مکھیاں نکلتی ہیں۔ پھر وہ ایک آدمی کو بلاکر دو ٹکڑے کردے گا، پھر اس کو بلائے گا تو وہ چمکتے چہرے اور ہنستے منہ سے آئے گا، ایسی حالت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُتریں گے اور دجال کو دروازۂ لُدّ کے پاس پاکر قتل کریں گے، الحاصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دجال کے بعد نزول فرمانا زمانۂ آئندہ میں ہوگا، اور اس وقت تو وہ زِندہ آسمان پر موجود ہیں، اور یہی اہلِ حق کا قول ہے، جس پر اِعتماد ہے۔ اس پر یہ قولِ خداوندی کہ: ’’یہودیوں نے یقینا اس کو قتل نہیں کیا، بلکہ خداتعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اُٹھالیا‘‘ دلیل ہے۔ اپنی طرف اُٹھانے سے آسمان پر اُٹھانا مراد ہے، چنانچہ حسن بصریؒ نے کہا ہے ایسا ہی واحدی کی تفسیر میں ہے اور اس پر یہ قولِ خداوندی کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام گہوارے میں اور سنِ کہولت میں (یکساں) کلام کریں گے‘‘ بھی دلیل ہے۔ اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا ہے کہ: جب وہ رسول ہوئے تو تیس برس کے تھے، پھر بعد رِسالت وہ تیس مہینے ٹھہرے، پھر خداتعالیٰ نے ان کو اُٹھالیا، ایسا ہی تفسیر خازن میں ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سنِ کہولت کو نہ پہنچے تھے کہ اُٹھائے گئے، لہٰذا اس آیت میں یہ اِرشاد ہے کہ وہ آسمان سے اُتریں گے (تاکہ سنِ کہولت میں ان کا کلام کرنا پایا جائے) ایسا ہی تفسیر جامع البیان میں ہے۔ خداتعالیٰ نے ان کو زِندہ اُٹھانے کی اپنے اس وعدے کے بعد خبر دِی ہے جو ان کو دیا گیا تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھے قبض کرنے والا اور اُٹھانے والا ہوں، اس آیت میں لفظ توفی سے نیند مراد ہے، چنانچہ اکثر علماء کا قول ہے، ایسا ہی جامع البیان میں ہے۔ اس کی نظیر وہ قولِ خداوندی ہے جس میں اِرشاد ہے کہ خدا تم کو رات کے وقت توفی کرتا ہے، توفی موت کے سوا اور صورتوں سے بھی ہوسکتی ہے، اس پر وہ آیت شاہد ہے جس میں اِرشاد ہے کہ: اللّٰہ تعالیٰ جانوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو نہیں مرتے ان کو نیند میں۔
جو شخص اس قولِ خداوندی میں ۔۔۔جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھانے کا وعدہ دیا گیا ہے۔۔۔ تأمل کرے گا، وہ جان لے گا کہ اس سے موت دینا مراد نہیں، چنانچہ آیات وحدیث اس پر شاہد ہیں۔ من جملہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ کے توفی بمعنی قبض کا ذِکر ہے، نہ یہ کہ خدا نے ان کو مار دِیا ہے، اور نصوصِ صحیحہ ناطق ہیں کہ وہ زندہ ہیں، پھر جو شخص ان کو مُردہ سمجھتا ہے اور ان کے نزول کا منکر ہے اور اس سے وہ اپنے مسیح ہونے کی پٹڑی جماتا ہے اور تأویل وتحریف آیات واحادیث متعلقہ نزولِ مسیح میں مسلک ملاحدہ باطنیہ کا اِختیار کرتا ہے اور اپنی نبوّت کا مدعی ہوبیٹھا ہے، وہ کافر وملحد وکذّاب ہے، اس کے اِلحاد وکفر وکذب میں کوئی شک نہیں۔ قاضی عیاضؒ نے شفا میں کہا ہے کہ: جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا مدعی ہو اور اپنی کمائی اور صفائی قلب کے ذریعے سے حصولِ نبوّت کو جائز رکھے یا نزولِ وحی کا مدعی ہو، گو مدعیٔ نبوّت نہ ہو، وہ کافر ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھنے والا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے کہ: میں خاتم النّبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور خداتعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، اور اس پر اُمت کا اِتفاق ہے کہ ان آیات واحادیث کے ظاہری معنی مراد ہیں، نہ کہ کوئی تأویلی معنی، ایسے
197
لوگوں کے کفر پر اِجماع ہے، ایسا ہی ان لوگوں کے کفر پر جو نص کتابُ اللّٰہ کو رفع کریں، یا کسی ایسی حدیث میں جو اِتفاقی صحیح اور ظاہری معنی پر یقینا محمول ہو، کوئی تخصیص نکالیں۔
اِمام صابونی نے کفایہ میں کہا ہے کہ: ’’ظاہر معنی آیات واحادیث سے بلاضرورت عدول کرنا اِلحاد ہے۔‘‘ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہم پر وہ لوگ مخفی نہیں جو ہماری آیات میں اِلحاد کرتے ہیں، کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا جو بااَمن قیامت کے دن حاضر ہو؟‘‘ خداتعالیٰ نے اپنی کتاب کی محافظت کا خود وعدہ کرلیا ہے، لہٰذا اس نے ایسے علماء کو پیدا کردیا ہے جو ان ملحدوں کی تحریف سے دِین کو بچاتے چلے آئے ہیں۔
یہ ملحد قادیانی حضرت مسیح کا مثیل ونظیر نہیں بلکہ اسودعنسی اور مسیلمہ کذّاب کا نظیر ہے، اور ان کذّابین کے سلسلے میں داخل ہے جن کی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خبر دِی ہے۔
اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ ملحدِ مذکور دجال ہے، شیطان اس پر مسلط ہے جو اس سے یہ بکواس کرارہا ہے، وہ مفسد ہے مسلمانوں میں فساد پھیلا رہا ہے، میرے نزدیک ایسے ملحد سے مباحثہ ترک کرکے عام مسلمانوں کو اس کے عقائدِ باطلہ کے فساد سے مطلع کرکے متنفر کرنا چاہئے، بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اہلِ علم اس ملحد بطال کے اقوال سے دھوکا کھابیٹھے ہیں اور خود جاہل بن گئے اور اس گمراہ کے باطل خیالات کو حق اور اس کو اہلِ علم سمجھنے لگ گئے ہیں، اور خود اس کے حواری بن بیٹھے ہیں، وہ مسیح دجال کے مددگار ہیں، وہ اس سے باز نہ آئیں گے تو خدا ان پر بھی ایسے لوگوں کو مسلط کرے گا جو ان کے کھوٹ وفساد کو ظاہر ومشتہر کریں گے، پھر وہ سخت نادم ہوں گے۔‘‘
ما قال اعلمنا ومدققنا فھو عین الصواب لا شک فی نزول عیسٰی وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا، یدل علیہ سیاق النظم وسباقہ ومن معتقدی ان نزول عیسٰی حق ثابت بالأدلۃ القاطعۃ من الآیات والأحادیث وإجماع الاُمَّۃ فمن انکر فإنکارہ من الأدلۃ المذکورۃ فھو معرض عن طریق الرشاد ومروج سبیل الإلحاد۔
کتبہ فقیر مسعود
خلف مفتی برکت اللہ مرحوم
’’جو ہم سے بڑھ کر عالم اور مدقق نے کہا ہے، وہ عین صواب ہے، اس میں شک نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، آیۃ: ’’لعلم للساعۃ‘‘ کا بیان اور سیاق اس پر دلیل ہے، میرا یہی اِعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی دلائل آیات واحادیث اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے، پس جو اس کا منکر ہے، وہ رُشد کے طریق سے منہ پھیرتا ہے اور اِلحاد کے طریق کو رِواج دے رہا ہے۔‘‘
اللّٰھم إنِّی اعوذ بک من فتنۃ المسیح الدَّجَّال! بہت افسوس بحال مرزاقادیانی آتا ہے، اغلب یقین ہے کہ اِبلیسِ لعین نے ان کو بہکایا ہے، یہ عقائد وکلمات ان کے جو انہوں نے توضیح مرام واِزالہ اوہام میں تحریر کئے ہیں، کفر ہیں، اور قائل اس کا
198
کافر ہے، جو جناب مولانا ابوفضل رومی مولوی سیّد نذیر حسین صاحب ومولانا جناب ابوسعید صاحب نے فتویٰ دیا ہے، وہ حق ہے، و اللہ الموفق بالصواب!
العبد القاضی عبدالقادر پشاوری
جو فتویٰ کہ علمائے ہندوستان وپنجاب نے درحق غلام احمد قادیانی دیا ہے، وہ صحیح ہے، اور معتقد اِعتقاد توضیح المرام کافر ہے۔
| جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
| العبد مُلَّا محمد بشیر، سوات |
مُلَّا محمد منیر |
مُلَّا اللّٰہ دادنصیر، بٹگرام |
| جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
| مُلَّا معزالدین تنکی تپہ، ہشت نگر |
مُلَّا وجیہ الدین |
مُلَّا اِسماعیل اوڈی گرام سوات |
| جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
| مُلَّا بشیر محمد |
قاضی عبدالخالق ماجور |
مُلَّا فصیح الدین یوسف زئی |
قائل ومعتقد وفات مسیح ونہ آمدن دے بایں دنیا بقرب قیامت ومقتول گردیدن دے وغیرہ اُمور کہ درفتویٰ نامہ علمائے ہندوستان وپنجاب درج اند، اگر غلام احمد قادیانی ایں کلمات گفتہ باشد یا اعتقاد وے بریں باشد وے بموجب شرع شریف کافر مطلق است واعوان وے اگر ایں اعتقاد داشتہ باشند کافر اند۔
معتقد ما فی ھٰذا السؤَال فی العقائد والبیان قد استھوتہ الشیاطین فی الأرض حیران لہ اصحاب یدعونہ إلی الھدی ائتنا، فما یأتی إلیھم موقنا، ومنشأ إعتقادہ الفاسد انہ ما میّز بین الھمام الرحمٰن، ووسوسۃ الشیطان وبین خواطر الروح وھوی النفس والطغیان، وترک ما وجب علیہ من تطبیق الخیالات والخطرات بالقرآن والسُّنَّۃ وإجماع الاُمَّۃ المرحومۃ، فالواجب عیلہ ان یتوب، فإنہ وقع فی اکبر الکبائر من الذنوب!
العبد رحمۃ اللہ عفاہ ﷲ
’’عقائد مذکورہ سوال کے معتقد کو شیاطین نے زمین میں بہکا رکھا ہے، وہ حیران ہے، لوگ اس کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، مگر وہ نہیں آتا، اس کے فساد واِعتقاد کا منشا یہ ہے کہ وہ اِلہامِ رحمانی اور وسوسہ شیطانی میں تمیز نہیں کرتا، اور اپنے خطرات وخیالات کو قرآن وحدیث واِجماع پر عرض کرنا چھوڑ بیٹھا ہے، اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے وہ بڑے گناہ میں جا پڑا ہے۔
علمائے راولپنڈی وہزارہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للّٰہ رب العالمین، لا ریب ان العقائد المذکورۃ فی السؤَال کفر ونفاق وزندقۃ وإلحاد واحداث وضلال فإن لم یکن صاحبھا کافرًا وملحدًا وزندیقًا ومنافقًا فلیس فی الأرض کفر وإلحاد زندقۃ فلعنۃ اللہ علٰی من
199
اسس الضلال وغیّر الدین وحرّف النصوص واسأ الظن با اللہ وبأنبیائہ وشرعہ وقال اوحی إلیَّ ولم یوح إلیہ شیء وعلٰی اعوانہ وانصارہ السفھاء الأذلین، ولا شک فی کونہ من الدجاجلۃ عصمنا اللہ تعالٰی من کیدہ وإضلالہ آمین۔
کتبہ عبدالأحد ابن القاضی محمد حسن خانپوری عفا اللہ عنہما
’’اس میں شک نہیں کہ عقائدِ مذکورہ سوال کفر واِلحاد اور چھپا اِرتداد ونفاق ہے، اس پر خدا کی لعنت ہو جس نے گمراہی کی بنیاد ڈالی ہے، اور خدا ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور شرع پر بدگمانی کی اور یہ کہا ہے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے، اور واقعہ میں نہیں ہوتی، ایسے ہی اس کے انصار مددگاروں پر جو بے عقل وذلیل ہیں، بے شک وہ دجال ہیں، خداوندکریم ان کے مکر وگمراہی سے بچائے۔‘‘
الحمد للّٰہ رب العالمین والصلٰوۃ علٰی رسولہ محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین، اما بعد! فیقول احقر عبادی الباری محمد الخانفوری ان ما قالہ شیخنا السید نذیر حسین وبرکتنا المولوی عبدالجبار الغزنوی سلمھما اللہ تعالٰی فی الدارین وغیرھما من العلماء الکرام فی حق الکادیانی فھو حق وصواب لا شک انہ من الدجاجلۃ اعاذنا اللہ من ھٰذہ العقیدۃ الفاسدۃ، آمین!
حررہ محمد بن محمد حسن خانفوری عفی عنہ
’’جو کچھ ہمارے شیخ مولانا سیّد محمد نذیر حسین صاحب اور ہماری برکت مولوی عبدالجبار صاحب وغیرہ علمائے کرام نے قادیانی کے حق میں کہا ہے، وہ حق ہے، اور بے شک قادیانی دجالوں میں سے ہے۔‘‘
الحمد للّٰہ والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ الذی بعث بالحق لیظھرہ علی الدین کلہ، اما بعد! فیقول احقر العباد محمد بن سالم المکرانی ان ما قال العلماء فی تکفیر مرزا الکادیانی فھو حق وصواب ولا شک ان من مات بھٰذہ العقائد الفاسدۃ ولم یتب فھو فی نار جھنم خالدًا فیھا، اللّٰھم اعذنا من ھٰذہ العقیدۃ الباطلۃ، الحق یعلوا ولایعلی علیہ۔
فقیر محمد بن سالم المکرانی عفی عنہ
’’جو کچھ علماء نے تکفیر قادیانی کے باب میں کہا ہے، وہ حق ہے، اس میں شک نہیں کہ جو شخص ایسے عقائدِ فاسدہ پر بلاتوبہ مرے، وہ جہنم میں رہے گا۔‘‘
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم، اما بعد! فما قال العلماء فی تکفیر میرزا کادیانی فھو صحیح وکفرہ ثابت وعقائدہ مخالف الکتاب والسُّنَّۃ، وقولہ انا مثیل المسیح وعیسی بن مریم مات فدعواہ باطل وھو دجّال کذّاب خارج عن الإسلام لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: سیکون فی اُمّتی کذّابون کلھم یزعم انہ نبی ﷲ، واناخاتم النبیین لا نبی بعدی۔
العبد تاج دین گجراتی پنجابی
’’علماء نے جو کچھ تکفیر قادیانی کے باب میں کہا ہے، وہ صحیح ہے، اور اس کا کفر ثابت اور اس کے عقائد کتاب وسنت کے مخالف ہیں، اس کا یہ کہنا کہ میں مسیح عیسیٰ بن مریم کا مثیل ہوں، ایک باطل دعویٰ ہے اور وہ دجال وکذّاب ہے، اسلام سے خارج، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میری اُمت میں کذّاب پیدا ہوں گے جو دعوائے نبوّت کریں گے، اور میں نبیوں کا خاتم ہوں۔‘‘
200
ما قال العلماء المحققون فی الکادیانی حق وصواب۔ نیازاگین قاضی محسن الدین عفی عنہ
’’جو علمائے محققین نے قادیانی کے حق میں کہا ہے، وہ حق ہے۔‘‘
میں نے یہ فتویٰ اوّل سے آخر تک بنظر غور دیکھا، اور اس سے پہلے اس شخص کے مسائل فتح اسلام اور توضیح مرام اور اِزالہ اوہام وغیرہ بھی دیکھے اور اس کے بعض مریدوں، نیم مُلَّا خطرۂ اِیمان سے مباحثے کا بھی اِتفاق پڑا، اور خود مرزا سے بھی اِلہام کے بارے میں بالمشافہ ایک سوال کیا تھا، جس کے جواب میں وہ مبہوت رہ گیا تھا۔ غرض میں ان کے مذہب اتباع ہوا، سے پورا واقف ہوں، حضرت مجیب نے ان کے حق میں جو کچھ فرمایا ہے وہ سب صحیح اور بجا ہے، بلکہ یہ گمراہ فرقہ اس سے بھی زیادہ کے مستحق ہیں، ارحم الراحمین ان کو توبہ نصیب کرے اور اپنی مخلوق کو ان کے شر سے بچائے اور ان کا رَدّ کرنے والوں کی مدد کرے۔
ہدایت اللّٰہ، اِمام مسجد موحدین صدر پنڈی
ان ھذہ العقائد الأخیرۃ التی ذکرت فی رسائل الکادیانی باطلۃ زائغۃ مضلۃ فإنھا مخالفۃ للکتاب والسُّنَّۃ وإجماع الاُمَّۃ ومعارضۃ للأخبار والآثار الصحیحۃ واقوال المرضیۃ ومبانیۃ لأھل السُّنَّۃ والجماعۃ وموافقۃ لأھل البدعۃ والھویٰ واھل الکتب من الیھود والنصاریٰ واھل الإلحاد والزنادقۃ والھنود والفلاسفۃ یا للعجب! ان قائلھا ینکر خوارق الملائکۃ والأنبیاء والأولیاء یدعی ھو من فسہ صدورھا ویختار علمہ وفھمہ علٰی علمھم وفھمھم وھٰذا ضلال صریح وغوال قبیح، اللّٰھم تب علیہ إن تاب عنھا واھلکہ إن بقی علیھا وطغیٰ واعذنا منھا واجعلنامن المھتدین واحفظنا عن مکر الماکرین، آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
حافظ عبدالھادی اعاذہ اللہ من الأعادی شاہ بوری ثم فنڈی
’’قادیانی کے یہ آخری عقائد جو اس کے رسائل میں مذکور ہیں، باطل ہیں، کتاب وسنت واِجماعِ اُمت کے مخالف ہیں، احادیث وآثارِ صحیحہ کے معارض، اقوالِ پسندیدہ اہلِ سنت سے مبائن، اہلِ بدعت، یہود، نصاریٰ، ملحدوں جیسے، مرتدوں، ہندؤں، فلسفیوں کے موافق ہیں، تعجب ہے کہ قادیانی ملائکہ اور انبیاء واولیاء کی خوارق کا منکر ہے اور خود ان اُمور کا مدعی، اور اپنے علم وفہم کو ان کے علم وفہم سے بہتر سمجھتا ہے، یہ صریح گمراہی اور ہزل ہے، خداوند اس کو توبہ نصیب کر، یا ہلاک کر!‘‘
علمائے جہلم وقرب وجوارِ آں
بندہ کو بسبب اِستماع اخبارات وحالاتِ حسنہ مرزاقادیانی کے جو علی العموم واصل ہوئی تھی، حسنِ ظن بلیغ تھا اور اس کو زُمرۂ صالحین میں شمار کرتا تھا، اور اَب تک اس کی تصنیفات دیکھنے کا اِتفاق نہیں ہوا، چونکہ یہ فتویٰ دیکھا اور مرزا کے معتقدات سے اِطلاع ہوئی تو حسنِ ظن مرتفع ہوا۔
مرزا اگر فی الواقع عقائد محررہ فتویٰ کا معتقد ہے تو بلاشک وہ اِرتداد واِلحاد میں داخل اور مستحق وعید: ’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰی
201
اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلیٰ قَبْرِہٖ‘‘ (التوبہ:۸۴) کا ہے، و اللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!
العبد احمدالدین دریالوی
علاقہ جاپ، تحصیل پنڈدادن خان ضلع جہلم، حال وارِد جہلم
سبحانک لا علم لنا إلَّا ما علمتنا إنک انت العلیم الحکیم، إن کان عقائدہ ھٰکذا فجمیع ما حررہ العلماء فی حقہ صحیح۔
ابو عبدالبصیر میر حمزۃ ہزاروی
’’مرزاقادیانی کا یہی اعتقاد ہے تو جو کچھ علماء نے اس کے حق میں لکھا ہے، صحیح ہے۔‘‘
الحمد للّٰہ العزیز الرحیم، والصلٰوۃ علٰی نبیہ الکریم وعلٰی آلہ واصحابہ المشیعین للدین القویم، اما بعد!
بندہ زمانۂ ملاقات سے مدّت تک مرزا کی کمال دیانت داری اور اُونچے درجے کی پرہیزگاری اور داعی الی اللّٰہ ہونے کا بہ نہایت جاںنثاری صمیمِ قلب سے معتقد تھا، اور اس کو زُمرۂ غم خوارانِ خلق اللّٰہ سے سمجھتا تھا، اور اِبتدا میں ایسی باتیں سن کر کہتا تھا کہ:سبحانک ھٰذا بھتان عظیم! لیکن چونکہ مدّت سے مشہور ہو رہا ہے کہ وہ بذریعہ تحریرات مطبوعہ مشتہرہ کے ایسی باتوں کا معتقد ومدعی ہے جو مولوی ابوسعید محمد حسین مہتمم اشاعۃالسنہ بٹالوی صاحب کے سوال میں بحوالہ تحریرات مذکورہ درج ہے، اور وہ تحریرات آج تک مجھ کو باوجود سعی وجستجو کے میسر نہیں ہوئیں، تاکہ میں ان کے مطالعے سے حسب اِستعداد اپنی کے، دجالیت وکذّابیت واسلام کے دائرے سے خارج ہونے یا حقانیت ورہبانیت وصداقت واِشاعتِ اسلام مرزا کی ایسی یقینی اور قطعی سند حاصل کرتا اور پھر اِستفتا پر لکھتا کہ اس کو عالم الغیب والشہادۃ کی حضور میں پیش کرسکتا اور فرمانِ ایزد سبحان کا بھی بے تحقیق لکھنے اور کہنے اور کرنے سے شدّت سے منع کرتا ہے کہ:’’وَلَا تَقُفْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوَادَ کُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا‘‘(بنی اِسرائیل) اور ایضاً: ’’اَلْیُوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اَفْوَاھِھِمْ۔۔۔إلخ‘‘ اور نبی الرحمت نے فرمایا ہے کہ: ’’الشاھد یری ما لا یری بہ الغائب‘‘ اور غائب پر حکم لگانے سے روکا ہے، اور سوال میں بھی بحوالہ تحریراتِ مرزائی مسطور ہے کہ وہ ایسی باتوں کا معتقد ومدعی ہے، لہٰذا نہ مطلقاً بلکہ مقیداً لکھا جاتا ہے کہ اگر مرزا ایسے اِعتقادات کا معتقد ومدعی ہے جو سوال میں درج ہے، تو بے شک وہ انہیں فتوؤں کا مستوجب ومستحق ہے جو علمائے ربانیین نے اس کے حق میں لگائے ہیں، اور عیاذاً باللّٰہ! کہ کسی کے حق میں تقلیداً اور سمعاً کوئی فتویٰ دُوں اور لکھوں۔ اعوذ با اللہ من شرور نفسی ومن سیئات اعمالی، اللّٰھم آتِ نفسی تقواھا وزکِّھا فإنک خیر من زکّٰھا، آمین یا ارحم الراحمین!
العبد برہان الدین جہلمی(۱)
اگر عقائد مرزا کے اسی طرح پر ہیں جو اس میں تحریر ہیں تو جواب یہی ہے جو فتوے میں تحریر ہے۔ فیض احمد جہلمی
(۱) مولوی برہان الدین صاحب کی نسبت گجرات وپشاور کے میرزائی عیسائیوں نے یہ مشہور کردیا تھا کہ انہوں نے اپنی شہادت سے جو اس فتوے پر لکھی ہے، رُجوع کرلیا ہے۔ جو بات مولوی برہان الدین صاحب کو پہنچی تو انہوں نے بذریعہ خاص مراسلت ہم کو اس سے اِطلاع دی اور یہ بھی لکھا کہ: میں اب تک اس اپنی شہادت پر قائم ہوں۔ مرزائی عیسائی اس پر بولیں گے تو ہم مولوی صاحب کا خط چھاپ دیں گے۔
202
ھٰذا الجواب صحیح، وما قال مرزا باطل عند اھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔
احقر العباد فقیر محمد
ایڈیٹر سراج الاخبار جہلم
’’یہ جواب صحیح ہے اور جو مرزا نے کہا ہے وہ اہلِ سنت کے نزدیک باطل ہے۔‘‘
یہ عقیدہ مخالف عقیدہ اہلِ سنت وجماعت کے ہے۔
عبدالودود سلطان محمود عفی عنہ جہلمی
علمائے گجرات وحوالی آں
جو عقائد معہ دلائل مرزاقادیانی کے اس فتوے میں درج ہیں، وہ تمام اہلِ حق کے خلاف ہیں، اہلِ حق تو یہ کہتے ہیں:النصوص تُحْمَلُ علٰی ظواھرھا والعدول إلٰی معان یدعیھا اھل الباطل إلحاد، قال اللہ تعالٰی: إِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا(فصلت:۴۰)۔
عبدالرحمن، ساکن موضع دینہ، ضلع گجرات
من کان إعتقادہ مخالفًا للسُّنَّۃ والجماعۃ فھو مبتدع متبع غیر سبیل المؤْمنین، اعاذنا اللہ وإخواننا المسلمین من اباطیلہ الکاذبۃ ومعتقداتہ الباطلۃ۔
العبد فضل الدین گجراتی
’’جس شخص کا اِعتقاد اہلِ سنت وجماعت کے مخالف ہے، وہ بدعتی ہے، مؤمنوں کی راہ کے سوا، اور راہ چلنے والا، خدا اس کے جھوٹے عقائد سے مسلمانوں کو بچائے۔‘‘
عقائد میرزا غلام احمد الکادیانی من الإعتزال، والفلسفۃ والذین سموا بأھل السُّنَّۃ والجماعۃ من وقت بدع النزاع بین فرق المسلمین بمراحل منہ کل حزب بما لدیہ فرحون عھدی ما فی الفاظی من غیر تبذیر ولا تقتیر۔
ابو الفیض محمد حسن حنفی
از بھین تحصیل چکوال، ضلع جہلم
’’قادیانی کے عقائد معتزلہ اور فلسفہ کے عقائد ہیں، جو لوگ اہلِ سنت کہلاتے ہیں وہ ان عقائد سے کوسوں دُور ہیں، میری یہی رائے ہے جس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی۔‘‘
علمائے سیالکوٹ
الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفیٰ وعلٰی آلہ اھل التقیٰ، اما بعد!
اس عاجز کو سیّدنا مولانا سیّد محمد نذیر حسین صاحب کی تحریر سے اس سوال کے جواب میں کلی اِتفاق ہے، واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم!
ابوعبداللّٰہ عبیداللّٰہ معروف بمولوی غلام حسین
علمائے وزیرآباد
الحمد لأھلہ والصلٰوۃ علٰی أھلھا، اما بعد! فقط طالعت مرۃ بعد اخریٰ، کتب الکادیانی ورسائلہفوجدتھا مملوئۃ بالکفر والإلحاد والکذب علی اللہ ورسولہ والطعن علٰی اھل الحق فإنہ یسلم امرًا مرۃ وینکرہ
203
اُخریٰ، طریقتہ طریقۃ اھل الإلحاد والفساد، ومذھبہ مذھب اھل الزیغ والعناد، ھو دجال من الدجاجلۃ الذیناخبر عنھم المخبر الصادق ومتبع غیر سبیل المؤْمنین ومتمسک بدلائل الملحدین وخداع للمسلمین، من طالع کتبہ ووازنھا بالکتاب والسُّنَّۃ فلا یخفیٰ علیہ ما قلنا، اعاذنا اللہ وجمیع المسلمین من عقیدتہ الباطلۃ وطریقتہ الکاسدۃ وارشدنا إلٰی طریق الصواب الذی اختارہ العبادہ لعبادہ الذین ھم اولوا الفضل واولوا الألباب۔
حافظ عبدالمنان
’’بعد حمد وصلوٰۃ! میں نے قادیانی کی کتابوں کا بارہا مطالعہ کیا، تو ان کو کفر واِلحاد سے اور خدا ورسول پر اِفترا سے پُر پایا، وہ کہیں کسی امر کو تسلیم کرتا ہے، کبھی اس سے اِنکاری ہوتا ہے، اس کا طریق اہلِ اِلحاد وفساد کا طریق ہے، اور اس کا مذہب کجی اور عناد والوں کا مذہب ہے، وہ ان دجالوں میں سے (جن کے آنے کی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خبر دِی ہے) ایک دجال ہے، اور مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ چلنے والا، اور ملحدین کے دلائل سے تمسک کرنے والا، مسلمانوں کو دھوکا دینے والا، جو شخص اس کی کتابوں کو دیکھ کر قرآن وحدیث سے ان کا مقابلہ کرلے گا، اس پر ہمارا یہ بیان مخفی نہ رہے گا۔ خدا مسلمانوں کو اس کے عقیدۂ باطلہ سے بچائے اور طریقِ صواب پر چلنے کی ہدایت کرے۔‘‘
احمدک یا من لہ الحمد واُصلّی علٰی من علیہ الصلٰوۃ، امّا بعد! فقد نظرت فی رسائل القادیانی نظر الإنصاف وسمعت مقالاتہ فوجدتھا داعیۃً إلی الاعتساف وھو رجل قبیح، قبح اللہ وجھہ ووجہ أتباعہ ما علٰی ھٰذا المنھاج، او تاب اللہ علیہ وعلٰی أتباعہ إن رجع عن ھٰذا الأعوجاج! العبد المسکین فقیر جلال الدین
’’بعد حمد وصلوٰۃ! میں نے قادیانی کے رسائل کو غور سے دیکھا اور اس کے مقالات کو سنا تو ان کو بے انصافی اور زیادتی کی طرف داعی پایا، خدا اس کا اور اس کے اَتباع کا جب تک وہ اس طریق پر رہیں منہ بُرا کرے، یا ان کو توبہ کی توفیق دے!‘‘
فقد طالعت ھٰذا السؤَال والجواب بالتأمل والصواب فوجدتہ حقًّا قویًّا وجوابًا صحیحًا وفصل الخطاب ولا ریب ان القادیانی ضال مضل مفتر علی اللہ ورسولہ ومبتغ فی الإسلام طریقۃ الجاھلیۃ ومطلب بذالک العروض الدنیویۃ ومسود وجھہ بفعلہ القبیح صب علیہ ربہ سوط العذاب او یھدیہ إلٰی سبیل اُولی الأبصار واُولی الألباب! حررہ محمد عبدالقادر سخانوی
’’میں نے اس سوال وجواب کو تأمل سے دیکھا تو اس جواب کو حق وقوی اور چکوتا حکم پایا، اس میں شک نہیں کہ قادیانی گمراہ ہے، لوگوں کو گمراہ کرنے والا، خدا ورسول پر اِفترا کرنے والا، اسلام میں رہ کر کافروں کا طریق چاہنے والا، اور اس ذریعے سے دُنیا کمانے والا، اس کا منہ کالا ہو اور اس پر عذاب نازل ہو یا ہدایت نصیب ہو!‘‘
الحمد للّٰہ رب العالمین وبہ ثقتی والصلٰوۃ والسلام علٰی إمام وبہ إقتدائی، امّا بعد! فقد نظرت فی السؤَال والجواب وتدبرت فیہ فوجدتہ مطابقًا للحق وموافقًا للغرض الصحیح الذی ارشدنا إلیہ اللہ ورسولہ فصاحب ھٰذا الھفوات التی مندرجۃ فی السؤَال زندیق شریر مخالف لملۃ الإسلام، حفظنا اللہ وجمیع المسلمین
204
عن مزخرفاتہ۔ العبد محمد محی الدین نظام آبادی
’’میں نے سوال وجواب کو دیکھا، جواب کو حق پایا ان باتوں کا جو سوال میں مذکور ہیں، قاتل چھپا مرتد ہے، اسلام کا مخالف۔‘‘
قولی فی القادیانی کقول شیخی حافظ عبدالمنان فی حقہ۔ المسکین محمد شاہ دین سوھدروی
’’قادیانی کے حق میں وہی میرا قول ہے جو میرے شیخ حافظ عبدالمنان صاحب کا قول ہے۔‘‘
بحکم نصوص شارع مضامین تألیفات مرزا کی ضلالت سے مبرہن ہے، خصوصاً اس کا اِدّعائے نبوّت، جس صورت میں مراد مرزا لفظ محدث سے نبی ہے، چنانچہ روبرو کا ذِکر ہے تو اِنکار لفظ نبی سے کیا فائدہ؟ اور اِستدلال منع اطلاق محدث بحدیث:’’لقد کان فیما قبلکم من الاُمم محدثون فإن یک فی اُمّتی احد فإنہ عمر‘‘ (متفق علیہ) سے باقاعدہ مستمرہ اُصول عدم شرط مستلزم عدم شروط نفی محدثیت بھی بنظر اہلِ انصاف صحیح ہے، پھر جو اِعتراض نزولِ عیسیٰ بن مریم نبی اللّٰہ بنی اِسرائیل پر (ویحصر نبی ﷲعیسٰی علیہ السلام واصحابہ حتّٰی یکون رأس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دِینار لأحدکم الیوم، فیرغب اللہ نبی اللہ عیسٰی واصحابہ فیرسل اللہ ۔۔۔الحدیث۔ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: لیس بینیوبینہ (عیسٰی علیہ السلام) نبی وانہ نازل، (ابوداؤد ص:۱۳۸)) وارِد ہے، وہی اِعتراض بعینہٖ نبوّتِ مرزائی واُمتیت پر وارِد ہے، کس طور وہ ایک جہت سے نبی ہی ہوسکتا ہے اور ایک جہت سے اُمتی؟ پس جو جواب دفع اس اِعتراض میں مرزائی رکھتے ہیں وہ جواب معتقد نزولِ (عیسیٰ بن مریم) نبی اللّٰہ بنی اِسرائیل کی طرف سے سمجھ لیں۔۔۔!
| عائذ با اللہ عبداللّٰہ پسروری |
عبدالعظیم پسروری |
عبدالکریم پسروری |
ما قولہم در کفر مرزا غلام احمد قادیانی، الجواب جس کو شریعتِ محمدی کافر فرمائے، میرے نزدیک بھی کافر ہے، جو ایک رُکنِ اسلام سے اِنکار کرے، اس کے کفر میں کیا شک۔۔۔؟ حافظ محمد گوہر نوکھسوی(۱)
علمائے کپورتھلہ وغیرہ
حامداً ومصلیاً! گزارش ہے کہ احقر الناس کو قادیانی صاحب کی نسبت ان کے اِبتدائی امر میں بہت کچھ حسنِ ظن تھا، پھر چند وجوہِ ذیل سے زائل ہوا:
۱:۔۔۔ فتح، توضیح، اِزالہ کے مطالعہ کے ان میں بہت سے مضمون کتابُ اللّٰہ اور سنتِ رسول ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ اور طریق سلف صالح کے خلاف دیکھنے میں آئے اور کہیں نصوصِ قرآنیہ اور سنیہ سے اِستشہاد بھی کیا تو بطور: تأویل القول بما لا یرضیٰ بہ قائلہ، فرقہ ناجیہ اہلِ سنت وجماعت کے بالکل خلاف۔
۲:۔۔۔ قادیانی صاحب کے کشف حال کی بابت شیخنا ومرشدنا، شیخ الاسلام، مفتیٔ شریعت، ہادیٔ طریقت حضرت مولانا شاہ رشید احمد صاحب گنگوہی ۔۔۔اَبَّد اللہ فیوضہم۔۔۔ کی جناب میں درخواست کی کہ باطنی طور پر ملاحظہ فرماکر اِرشاد فرماویں، حضرت
(۱) یہ وہ شخص ہے جس نے سیالکوٹ میں بمقام حسام الدین اوبرو مولوی محمد احسن لہروی بیعت مرزا کی کی تھی، اب اپنی بیعت سے اِنکاری ہوکر مستعفی ہے۔
205
مرشدنا نے اپنا مکاشفہ تحریر فرمایا کہ اس کا حال مختارثقفی کا سا بتلایا گیا ہے۔
۳:۔۔۔ عاجز نے دو دفعہ اِستخارہ کیا، پہلی دفعہ قادیانی صاحب کی مسجد کو ایسی صورت پر دیکھا کہ اس کا منہ شمال کی طرف اور پشت جنوب کی طرف ہے، جس میں نماز پڑھنے سے جنوب کی سمت سجدہ ہوتا ہے۔ دُوسری دفعہ قادیانی صاحب بذاتِ خود ایسی صورت میں دِکھائی دئیے کہ سروقامت گندم گوں، وجیہ اور سفید پوش ہیں، لیکن موئے بروت حدِ مسنونہ سے بہت بڑھے ہوئے گویا کسی سکھ کی مونچھیں ہیں۔
میرے ایک دوست میاں گلاب خان افغان ساکن کپورتھلہ حال وارِد سلطان پور نے بھی اِستخارہ کیا تو خواب میں ایک ناپاک اور موذی جانور دِکھائی دیا جس کا نام لینا میں تہذیب کے خلاف سمجھتا ہوں۔
۴:۔۔۔ علمائے ظاہر کے علاوہ اہلِ کشف وشہود بھی ان کے مفترانہ خیالات کے سخت مخالف ہیں، اور فرماتے ہیں: ’’من لا شیخ لہ فشیخہ شیطان!‘‘ کے موافق بے شیخ، طریقت پر چلنے سے شیطان کے قابو میں آگئے ہیں، اور اس کے وساوس کو اِلہامات سمجھتے ہیں، عیاذاًباللّٰہ! چونکہ ان کی باتیں ایسی ہیں کہ ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے کبھی نہیں سنیں، اس لئے بلاشبہ حدیث:
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجالون کذابونیأتونکم من الأحادیث بما لا تسمعوا انتم ولا آبائکم فإیَّاکم وإیَّاھم، لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔‘‘ (رواہ مسلم ج:۱ ص:۹، النھی عن الروایۃ عن الضعفاء والإحتیاط فی تحملھا)
کے مصداق ہیں۔ سرورق ’’اِزالہ‘‘ پر ’’مرسلِ یزدانی‘‘، اور سرورق ’’فیصلہ آسمانی‘‘ خزائن ج:۴ ص:۳۰۹ پر تعریضاً’’یا حسرۃ علی العباد ما یأتیھم من رسول إلَّا کانوا بہ یستھزؤُن‘‘ ، اور ’’اِزالہ‘‘ صفحہ:۲۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳ میں آیت:’’مبشرًا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ سے اپنا مبشر بہ ہونا، اور رِسالہ ’’الحق مباحثہ لودھیانہ‘‘ کے صفحہ:۸ نوٹ ایڈیٹر میں ’’حضرت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام‘‘ لکھنا، اور ’’فتح اسلام‘‘ کی یہ عبارت کہ ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ اسے نہیں مانتا جس نے مجھے بھیجا!‘‘ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے قادیانی صاحب کا مدعیٔ نبوّت اور رِسالت ہونا صاف ظاہر ہے، اس لئے وہ حدیث:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجّالونکذّابون قریب من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسول ﷲ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۵۰۹، باب علامات النبوۃ فی الإسلام، مسلم ج:۲ ص:۲۹۷ باب فی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بین یدی الساعۃ کذّابین قریبًا من ثلاثین)
متفق علیہ کے موافق ان تیس میں سے ایک ہے۔
صفحہ:۱۸،۱۹، خزائن ج:۳ ص:۶۰ توضیح میں محدث ہونے کے پیرایہ میں اپنا نبی ہونا صاف بتلادیا ہے، ایک جگہ یہ بھی لکھ دیا ہے: ’’ان النبی محدث والمحدث نبی‘‘ اس لئے حدیث:
’’قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: انہ سیکون فی اُمّتی کذّابون ثلاثون کلھم یزعم
206
انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۴۵)
کے حصہ دار ہیں۔ مجھے ان کی حالت پر سخت افسوس ہے، اللّٰہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق بخشے اور اپنی صراطِ مستقیم پر لائے، ورنہ اہلِ اسلام کو شروفتنہ سے بچائے، اللّٰھم اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضآلّین، آمین!
احقر العباد بندہ محمد اشرف علی سلطان پوری
مرزاقادیانی کی بعض تصانیف خاکسار کی نظر سے گزریں، واقعی بعض عقائد مرزا مذکور کے خلاف کتابُ اللّٰہ وسنتِ رسول اللّٰہ کے ہیں، لاریب ایسے عقائد والا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ گزشتہ سال میں بیت اللّٰہ شریف کو گیا تھا، وہاں پر میں نے بعض عقائد مرزا مذکور کے بیان کئے، علمائے مکہ ومدینہ نے یہی فرمایا کہ ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے، حدیث:
’’عن عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: انہ سیأتی اناس یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسُّنن، فإن اصحاب السُّنن اعلم بکتاب ﷲ!(۱)
امام الدین کپورتھلی
من اعتقد موافقًا للکادیانی فھو مردود لأن اعتقادہ المستنبط من تصانیفہ خلاف القرآن والحدیث وإجماع الصحابۃ والتابعین والمجتھدین وعلماء اھل الحق من امۃ سیّد المرسلین وخاتم النبیین، بل الظاھر من تصانیفہ إنکار المعجزات المصرحۃ فی کتاب اللہ المجید، اللہ یھدی من یشاء إلٰی سبیل الرشاد!
عبدالقادر بیگووال، ریاست کپورتھلہ
’’جو شخص قادیانی کے موافق اِعتقاد رکھتا ہے، وہ مردود ہے، کیونکہ قادیانی کا اِعتقاد جو اس کی تصانیف سے ثابت ہے، قرآن واحادیث واِجماعِ صحابہ وتابعین ومجتہدین وغیرہ علمائے اہلِ حق کے مخالف ہے، اس کی تصنیف میں معجزات مذکورہ قرآن کا صاف اِنکار پایا جاتا ہے، خداتعالیٰ جسے چاہے ہدایت کرے۔‘‘
المجیب مصیب، ’’مجیب نے ٹھیک کہا ہے۔‘‘ غلام محمد، مدرّس مدرسہ فارسی کالج اندھیر کپورتھلہ
علمائے دیوبند، سہارنپور وغیرہ
حامداً ومصلیاً! عقائد مندرجہ سوال مخالف کتابُ اللّٰہ ومعارض سنتِ رسول اللّٰہ ومناقض اِجماعِ اُمت ہیں، اور تأویلاتِ مذکورہ ازقبیل تحریفات وتکذیبات ہیں۔ اگر اس قسم کی بیہودہ اور لغو تأویلوں کا باب کھولا جائے تو اِسلام کا کوئی مسئلہ اِعتقادی یا عملی ثابت نہ ہو اور تمام دِین درہم برہم ہوجائے، اور محدثیت اور ملہمیت محض تزئین نفس اور تسویل شیطان ہے، مخترع ان عقائد کا ضال ومضل بلکہ دجاجلہ کا رأس رئیس ہے، اور اس کے متبع، حق تعالیٰ اپنے دِین کی ایسے بے دِینوں سے حفظ وحمایت فرماوے اور ان کو
(۱) حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے حدیث ہے کہ: لوگ تمہارے پاس قرآن کے مشتبہ اور ذی الوجوہ باتیں پیش کریں گے، ان کو احادیث سے پکڑو، حدیث والے قرآن کو خوب جانتے ہیں۔
207
رُجوع کی توفیق دے، وما ذٰلک علی اللہ بعزیز! حررہ خلیل احمد، مدرّس دوم مدرسہ عربی دیوبند
حامدًا اللہ العلی الأعلٰی ومصلیًا ومسلّمًا علٰی رسولہ سیّدنا محمد سیّد الوریٰ وآلہٖ واصحابہ نجوم الھدیٰ من اقتدیٰ بھم اھتدیٰ، ومن أخطأ طریقھم غویٰ وردیٰ وبعد! فإن ما اعتقدہ الکادیانی وأتباعہ إلحاد بلا مراء وإبطال للشریعۃ المستقیمۃ البیضاء، لیس لہ فیہ شاھد من الکتاب وسنۃ النبی المستطاب، و اللہ تعالٰی اعلم وعلمہ احکم!
کتبہ عزیزالرحمٰن دیوبندی
’’بعد حمد وصلوٰۃ! قادیانی اور اس کے پیرو جو اِعتقاد رکھتے ہیں، وہ بلاشک اِلحاد ہے، اور شریعت کا اِبطال ہے، اس اِعتقاد پر کتاب وسنت کی شہادت پائی نہیں جاتی۔‘‘
الاُمور المنسوبۃ إلی المرزا ۔۔۔ھدانا اللہ وإیاہ۔۔۔ لا شک انھا منابذۃ بنصوص اللہ ومردود بإجماع المسلمین وجملۃ ھٰذہ الأقوال معتزلۃ من الطریق عن الطریق المستقیم ای إعتزال لا یجترء علیھا الجاھل غوی ولا یعتقد علیھا إلَّا ضالٌّ شقی، و اللہ سبحانہ ولی الإرشاد واعلم بحال العباد!
العبد محمود دیوبندی
معروف مولوی محمد حسن صاحب
’’جن مسائل کو قادیانی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، ان کو بلاشک نصوصِ قرآن وحدیث رَدّ کر رہی ہیں، اور وہ باجماعِ مسلمین مردود ہے، راہِ راست سے ایسے برکنار ہیں کہ کوئی شخص بجز جاہل اور گمراہ کے ان پر جرأت نہیں کرسکتا اور ان کا معتقد نہیں ہوسکتا۔‘‘
یہ جواب صحیح ہے، مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ ان تأویلاتِ فاسدہ اور ہفواتِ باطلہ کے من جملہ دجالون کذابون خارج ازطریقہ اہلِ سنت وداخل زُمرۂ اہلِ ہویٰ ہے، اور اس کے اَتباع بھی مثل اس کے ہیں، فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
العبد رشید احمد گنگوہی
الحمد للّٰہ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ وبعد! فأقول وانی علٰی بینۃ من ربی ان من کانت إعتقاداتہ کما ذکرت فی السؤَال فھو من اھل الأھواء والضلال، ولیس ھو من ابن مریم علیھما السلام فی شیء ولٰکنہ مثیل للمسیح الدجال وھل یجتریء رجل فی قلبہ مثقال ذرۃ من إیمان، علٰی ان یضع الأحادیث عن مرتبۃ التفسیر ویرفع تأویلہ الباطلۃ إلٰی ان ینکر بسببہ الأحادیث ویؤَوّل القرآن، این ھو من قولہ تبارک وتعالٰی: ویکلم الناس فی المھد وکھلًا، فقد تکلم عیسی بن مریم علیھما السلام فی المھد ومتی تکلم کھلا، فکیف یرتاب فی کلامہ ونزولہ من آمن بما انزل اللہ علٰی رسولہ، فیا للعجب! کیف جوز مثل ھٰذہ الکنایات والإستعارات الباطلۃ فی الأحادیث والآیات، فھلا جعل اباطیلہ الملھمۃ من الإستعارات، ونجا من مثل ھٰذہ المفتریات وآمن بما انزل اللہ من البینات، ھدانا اللہ الصراط السوی ووقانا شر من کل غبی وغوی۔
حررہٗ عبدالرحمن عفی عنہ
208
’’حمد وصلوٰۃ کے بعد، جس شخص کے اِعتقاد ایسے ہوں جو سوال میں ہیں وہ اہلِ ہویٰ و گمراہ ہے، اِبنِ مریم سے اس کا کوئی تعلق نہیں، وہ تو مسیح دجال کا مثیل ونظیر ہے، جس کے دِل میں ذرا بھی ایمان ہے اس سے کبھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ حدیث کو تفسیر قرآن ہونے کے مرتبے سے نیچے گرائے، اور اپنی اقاویلِ باطلہ کو اس قدر اُونچا کرے کہ ان اقوال کے سبب احادیث کا اِنکار کرے اور قرآن کی تأویل کرے، وہ اس قولِ خداوندی کے ملاحظہ سے کہاں چلا گیا؟ جس میں اِرشاد ہے کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام سنِ کہولت میں کلام کریں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے زمین میں رہ کر کہولت میں کب کلام کیا ہے؟ پھر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے میں کیوں شک کرتا ہے؟ وہ آئیں تو تب ہی تو سنِ کہولت میں کلام کریں گے۔ تعجب ہے کہ وہ ان آیات واحادیث میں اِستعاراتِ باطلہ تجویز کرتا ہے، اپنے باطل اِلہامات میں ایسے اِستعارے تجویز کیوں نہیں کرتا؟ تاکہ ان کو ان مفتریات سے نجات ہو اور آیاتِ بیناتِ خدا پر اِیمان حاصل ہو۔‘‘
ما افادہ المصیب اللبیب اعنی مولانا المولوی عبدالرحمٰن فھو حق لاریب فیہ۔
العبد محمود حسن عفی عنہ
’’جو مولوی عبدالرحمن صاحب نے فرمایا ہے، حق ہے۔‘‘
ما افادہ مولانا مولوی محمد عبدالرحمٰن فھو حق لا یرتاب فیہ۔ حررہ محمد حسن عفی عنہ
’’مولوی عبدالرحمن صاحب نے جو فرمایا ہے، وہ حق ہے، اس میں شک نہیں۔‘‘
بے شک یہ عقائد کفر کے ہیں، اور معتقد ان کا کافر ہے! احقر بشیر احمد
قد اصاب من اجاب، ’’مصیب ہوا جس نے جواب دیا۔‘‘ حررہٗ محمد جان علی عفی عنہ
مرزاقادیانی کے عقائد شریعت نبوی سے بالکل برخلاف ہیں، اور اکثر عقائد انہوں نے اپنے تراش وخراش سے ایجاد کئے ہیں، جو نہ کسی دین منزل کے موافق اور نہ کسی ضابطہ عقلی کے تحت میں داخل ہیں، اور بعض عقائد ان کے یونانی جاہلوں کے قواعد اور اُصول پر مبنی ہیں، جو عوام الناس کو اس سے اِحتراز کرنا، واجب اور ضروریات دین سے ہے، چنانچہ عالمگیر میں مسطور ہے:’’ومن العلوم المذمومۃ علوم الفلاسفۃ فإنہ لا یجوز قرأتہ لمن لم یکن متبحرًا فی العلم وسائر الحجج علیھم وحلشبھاتھم والخروج عن إشکالاتھم‘‘(۱) ونیز مرزاقادیانی اس آیت کریمہ کے مصداق میں داخل ہے:’’مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الَّذِیْ اسْتَوْقَدَ نَاراً فَلَمَّا أَضَاءَ تْ مَا حَوْلَہُ ذَہَبَ اللہ بِنُورِہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لاَّ یُبْصِرُوْنَ ‘‘ (۲) (البقرۃ)۔
شگفتہ محمد گل بے نظیر
(۱) بُرے علوم میں سے فلاسفہ کے علوم ہیں، جو شخص علومِ دِین سے اور ان دلائل سے جو فلاسفہ کے مقابلے میں قائم کئے گئے ہیں خوب واقف نہ ہو، اور ان کے شبہ دُور نہ کرسکے اس کو فلسفہ پڑھنا حلال نہیں۔
(۲) ان کی ایسی مثال ہے جیسے کسی نے آگ جلائی، پھر جب اس نے اس کے اِرگرد روشنی کی تو خدا ان کا نور لے گیا اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ نہیں دیکھتے۔
209
ھٰذا ھو الحق والحق حقیق بالإتباع! ’’یہی حق ہے اور حق اِتباع کے لائق ہے!‘‘
العبد المسکین محمد إسماعیل بیگ
مرزاقادیانی تفسیر بالرائے کرنے والا من جملہ ان دجالون کاذبین کے ہے کہ جن کی نسبت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے۔ محمد حسن مرادآبادی
مرزا غلام احمد کے بہت سے اقوال عقائدِ اسلام کے خلاف ہیں، مثلاً: وہ آخر زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے منکر ہیں، حالانکہ یہ مضمون احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور ان میں مجاز اور اِستعارے کی کوئی ضرورت نہیں اور بلاضرورت مجاز ماننا ضلالت کا دروازہ کھولنا ہے، علاوہ اس کے بعض روایتیں ایسی بھی ہیں جو اِستعارے کو رَدّ کرتی ہیں، علاوہ اس کے انہوں نے اِزالہ اوہام میں ایسی تقریر کی ہے جس سے متبادر یہی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے منکر ہیں، چنانچہ اِزالہ اوہام کے حصہ اوّل میں صفحہ:۶،۷ کی عبارت اس کی شاہد ہے۔ قرآن میں جو مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ میں مٹی کے جانور بناتا ہوں اور ان میں پھونکتا ہوں تو وہ اللّٰہ کے حکم سے اُڑنے لگتے ہیں، اس کی تأویل مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ مدّت تک نجاری کا کام کیا تھا، اور وہ کچھ ایسی کلیں سیکھ گئے تھے جن کے ذریعے سے جانور اُڑاتے تھے، جیسے آج کل کے صناع انگریز بنالیتے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو مُردے کو زِندہ کرتے تھے، وہ مسمریزم کا عمل تھا، جو آج کل انگریزوں میں بھی ہے۔ ان اقوال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا بھی اِنکار ہوا اور یوسف نجار کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ بھی بنادیا۔ اس قسم کے اقوال ان کتابوں میں بہت سے ہیں، جو درحقیقت بدعت ہیں، بعض کفر کے مرتبے تک بھی پہنچے ہیں، واللّٰہ اعلم بالصواب! راقم محمد احتشام الدین مرادآبادی
علمائے ضلع پٹنہ عظیم آباد
الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی وبعد! یقول العبد الفقیر ابوالطیب محمد المدعو بشمس الحق العظیم آبادی عفا اللہ عنہ سیئاتہ وتجاوز عنہ، انی تشرفت بمطالعۃ ھٰذہ الرسالۃ التی حررھا شیخ الإسلام والمسلمین المحدث المفسر الفقیہ مسند الوقت شیخنا العلامۃ السیّد محمد نذیر حسین الدھلوی ادام اللہ تعالٰی برکاتہ علینا وجعلہ اللہ ممن یؤْتی اجرہ مرتین فی رد ھفوات الکادیانی الکاذب المفتری الضالالمضل فوجدتھا مطابقۃ للحق، وماذا بعد الحق إلَّا الضلال! ولا ریب ان الکادیانی سلک مسلک الإلحاد وحرف الکلم والنصوص الظاھرۃ عن مواضعہا وتفوہ بما تقشعر منہ الجلود، وبما لم یجترء بہ إلَّا غیر اھل الإسلاماعاذنا اللہ تعالٰی والمسلمین من شرورہ ونفثہ ونفخہ، ورضی اللہ تعالٰی عن شیخنا العلَّامۃ حیث ذب عن الإسلام وانتصر لہ ثم جزی اللہ الفاضلین الأکملین مولانا ابا سعید محمد حسین اللاھوری، ومولانا محمد بشیرالسھوانی کیف قابلا للمناظرۃ بذالک المفتری الکذاب واظھر الحق واسکتا الکادیانی الغبی والغوی فلم
210
یستطع ان یقوم لرد الجواب بل فر مثل فرار حمر الوحش فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنۃ او یصیبھمعذاب الیم، و اللہ اعلم! العبد ابو طیب محمد شمس الحق
’’بعد حمد وصلوٰۃ! ابوطیب شمس الحق کہتا ہے کہ مجھے اس رسالے (فتویٰ) کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا، جس کو ہمارے شیخ وشیخ الاسلام والمسلمین مولانا سیّد نذیرحسین صاحب دام فیوضہ‘ نے تحریر کیا ہے، اس کو میں نے حق کے مطابق پایا، پھر حق کے سوا بجز گمراہی کیا متصوّر ہے؟ اس میں شک نہیں کہ کادیانی نے مذہب اِلحاد اِختیار کیا ہے اور نصوصِ کتاب وسنت کو اپنی جگہ سے پھیرا ہے، اور وہ باتیں بولا ہے جس پر کوئی مسلمان بجز اقوام غیر جرأت نہیں کرسکتا، خدا اس کے شر اور وساوس اور جادو سے مسلمانوں کو بچائے اور خداوندتعالیٰ ہمارے شیخ سے راضی ہو، جنہوں نے اسلام سے حملہ مخالفین کی مدافعت کی اور اس کی مدد کی۔ پھر خداتعالیٰ مولوی ابوسعید اور مولوی محمد بشیر صاحب کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس مفتری کذاب سے مقابلہ کیا اور حق کو ظاہر، اور اس کو لاجواب کردیا، اس کو جواب کی طاقت نہیں ہوئی تو ان کے مقابلے سے جنگلی گدھوں کی طرح بھاگ ہی گیا۔‘‘
الحمدللّٰہ فقد خاب وخسر من افتریٰ علی اللہ کذبًا وبھت وانقلب ساغرًا وذالک بأن اللہ مولی الذین آمنوا وان الکافرین لا مولٰی لھم! حررہ نور احمد العظیم آبادی
’’جس نے خدا پر اِفترا کیا وہ ٹوٹے میں پڑا اور ذلیل ہوکر پھرا، یہ اس لئے کہ خدا مؤمنوں کا مولیٰ ومددگار ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں!‘‘
ما اجاب بہ السیّد العلَّامۃ المحدث الدھلوی ھو احق بالقبول۔حررہ محمد اشرف علی عظیم آبادی
’’جو جواب علامہ سیّد محمد دہلوی نے دیا ہے، وہ لائقِ قبول ہے۔‘‘
الجواب صحیح، ’’جواب صحیح ہے۔‘‘ محمد عبداللطیف
الجواب صحیح والرای نجیح، ’’جواب صحیح ہے اور رائے موجب رستگاری‘‘العبد علی نعمت، ساکن پھلواری ضلع پٹنہ
علمائے کانپور ولکھنؤ
ایسے عقائد کا معتقد دائرۂ اِسلام سے خارج اور مقالات اس کے مخالف سنت وکتاب اللّٰہ ہیں۔ اعاذنا اللہ وسائر المسلمین من شرک مکائدہٖ! کتبہ محمد احسن عفی عنہ، مدرّس مدرسہ عالیہ اسلامیہ
ھو العلیم، الحمد للّٰہ الذی ھو رب البریۃ والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ ذی الأخلاق السنیۃ واھلہ وصحبہ اولی الفضل الشامخ والرتب العلیۃ وتابعیھم وتبعھم من الأئمۃ المجتھدین المشیدین لبنیان القواعد الشرعیۃ، اما بعد! فیا أیھا الناس! وفقکم اللہ لما یحب ویرضیٰ، إعلموا ان ما تفوہ بہ الکادیانی الغوی من الجھالۃ والسفاھۃ
211
مخالف لما ھو ثابت عند اھل السُّنَّۃ والجماعۃ من الآیات الإلٰھیۃ والأحادیث النبویۃ وھو اضل من شیطانہ الذی لعب بہ بلا امتراء ما دام متحرفًا عن الطریقۃ الحنیفیۃ السمحۃ البیضاء، کیف لا وھو ینکر وجود الملائکۃ علٰی وجہ اخبر بہ عن خیر البریۃ ویقول ان المراد بختم النبوۃ ھو ختم تشریع جدید لا ختم مطلق النبوۃ، فللّٰہ در المجیب المصیب حیث صرف ھمتہ العلیا وبذل جھدہ بالنھج الأوفیٰ جزاہ اللہ تعالٰی خیر الجزاء وان لیس للإنسان إلَا ما سعیٰ۔ حررہ العبد الضعیف المشتاق إلٰی رحمۃ ربہ القوی
محمد صدیق دیوبندی عفی عنہ ھو الملھم للصدق والصواب
’’حمد وصلوٰۃ کے بعد! جان لو کہ قادیانی نے جو بکواس کی ہے، وہ ان عقائد اہلِ سنت کے جو آیات واحادیث سے ثابت ہیں، مخالف ہے، وہ اپنے اس شیطان سے بھی جو اس سے کھیل رہا ہے، زیادہ تر گمراہ ہے۔ کیوں نہ ہو؟ جس حالت میں کہ وہ اس وجود ملائکہ سے، جس کی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، منکر ہے، ختم مطلق نبوّت کا قائل نہیں، صرف تشریعی نبوّت کو ختم بتاتا ہے، جس مجیب ومصیب نے اس کے جواب میں ہمت عالی مصروف کی ہے، اس کا اجر خدا ہی پر ہے۔‘‘
الأکاذیب التی نقلت فی السؤَال لا شک انھا خیالات باطلۃ وظنون فاسدۃ کظنون اھل الجنون وقائلھا الکادیانی قمین بأن یقال لہ انہ لمجنون۔ مقالاتہ الکاذبۃ دالۃ علٰی انھا من قبیل ھذیانات المبرسمین والمسرسمین، وھو الفقدان البصیرۃ لا یقدر علی التمیز بین الغث والسمین، اقاویلہ الأباطیل تدل علٰی ان حین صدورھا مما لا یخفی مخالفتھا لما اتی بہ الرسول الأمین، من حضرۃ فاطر السماوات والأرضین علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والتسلیمات من رب العالمین، فلا مریۃ انہ خارج عن دائرۃ ملۃ الإسلام وانہ فی ضلال مبین، و اللہ دَرُّ من اجاب وافاد فإنہ قد اصاب واجاد، و اللہ سبحانہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!
حررہ العبد الخامل محمد عادل عاملہ اللہ تعالٰی بفضلہ الشامل
’’جو عقائد قادیانی کے سوال میں منقول ہیں، وہ بلاشک باطل خیالات ہیں، جیسے اہلِ جنون کے ظنون، اس کے قائل قادیانی کو مجنون کہنا مناسب ہے، اس کی جھوٹی باتیں بتا رہی ہیں کہ وہ از قسم ہذیان برسام(۱) اور سرسام والوں سے ہیں، اور وہ بے بصیرت ہونے کے سبب دبلے اور موٹے یعنی قوی وضعیف میں تمیز نہیں کرسکتا، اس کے اقوال بتارہے ہیں کہ وہ یہ باتیں کہتے وقت حواس باختہ ہوگیا تھا، خدا اپنے غضب سے خواص وعوام اہلِ اسلام کو (جو اس کے دام میں آگئے ہیں) بچالے، اس کی بکواس اس دین کے برخلاف ہے جو رسولِ امین صلی اللّٰہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے لائے ہیں، وہ بلاشک دائرۂ اسلام سے خارج اور کھلی گمراہی میں ہے، جس نے اس کی نسبت یہ جواب لکھا ہے، اس نے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور راہِ صواب بتایا، اس کی نیکی خدا ہی کے لئے ہے۔‘‘
ھو العلیم، لا شک ان ھفوات الکادیانی ولغویاتہ مخالفۃ لعقائد جمھور الإسلام وتوھماتہ کأنیاب
(۱) سرسام مشہور مرض ہے، ایسا ہی برسام دِماغی مرض ہے، جس سے مریض بکواس کرتا ہے۔
212
الأغوال وأضغاث الأحلام ھداہ اللہ الکریم إلٰی صراط المستقیم وحفظ المسلمین عن کیدہ ومکائد الشیاطین۔ حررہ محمد عبدالغفار لکھنوی
’’اس میں شک نہیں کہ قادیانی کی بکواس اور لغویات عقائد جمہور اسلام کے مخالف ہیں، اور اس کے توہمات ایسے ہیں جیسے غولِ بیابانی کے دانت ہیں، اور پریشان خواب، خدا اس کو راہِ مستقیم کی ہدایت کرے اور مسلمانوں کو اس کے اور دیگر شیاطین کے مکروں سے بچائے!‘‘
لا ریب فی ان المعتقد بھٰذہ الإعتقادات المنقول بتلک المقالات ھادم لأساس الکتاب ومراغم للسُّنَّۃ التی ھی فصل الخطاب ومصادم لإجماع المسلمین الذی ھو حجۃ شرعیۃ بلا إرتیاب کما فصلہ المجیب جزاہ اللہ خیرًا ولم یلحق بہ ضیرا ونسئل اللہ تعالٰی العفو والعافیۃ فی الدنیا والآخرۃ آمین ثم آمین!
کتبہ محمد اشرف علی
’’اس میں شک نہیں کہ ان عقائد کا معتقد اور ان باتوں کا قائل کتابُ اللّٰہ کی بنیاد کو بزعمِ خود بڑھانے والا ہے اور سنت کو خاک میں ملانے والا، اِجماعِ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے والا، چنانچہ مجیب نے بہ تفصیل بیان کیا، خدا اس کو جزائے خیر دے اور ضرر سے بچائے!‘‘
✨ ☪ ✨
213
فتاویٰ تکفیر منکر عروجِ جسمی
ونزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
از
حضرت مولانا قاضی عبیداللّٰہ
مدرسہ محمدی مدراس
214
وَقُلْ جَآء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا
تعارف
یہ فتویٰ پہلی دفعہ ۱۳۱۱ھ میں طبع ہوا، اب ۱۴۲۶ھ ہے، ایک سو پندرہ سال بعد اسے تحقیق وتخریج کے ساتھ دوبارہ شائع کرنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت، اللّٰہ تعالیٰ کا جتنا شکر اَدا کرے کم ہے، فالحمد للّٰہ اوّلاً وآخراً! (مرتب)
فتویٰ تکفیر منکر عروجِ جسمی ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام
مولانا مولوی قاضی عبیداللّٰہ صاحب دامت برکاتہم
وبندہ عاصی سیّد محمد محی الدین غفر اللّٰہ ذنوبہ
215
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلٰمُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ کوئی شخص یہ اِعتقاد کرتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوکر زمین میں ان کا دفن ہوچکا، اور اس جسم سے ان کا آسمان پر جانا لغو خیال ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۴۷، خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)
اور کہتا ہے کہ: ’’اب تک زِندہ رہنا ان کا تسلیم کرلیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدّت کے گزرنے پر پیرفرتوت ہوگئے ہوں گے اور ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کرسکیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۰، خزائن ج:۳ ص:۱۲۷)
آسمان سے ان کے نزول کرنے کا اِنکار کرتا ہے اور اَحادیثِ صحیحہ میں مسیح علیہ السلام کے لئے جو نزول وارِد ہوا ہے، اس کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ: ’’وہ مسیحِ موعود میں ہی ہوں۔‘‘
(اِزالہ ص:۳۹، خزائن ج:۳ ص:۱۲۲)
اور کہتا ہے کہ: ’’جنہوں نے اس عاجز کا مسیحِ موعود ہونا مان لیا ہے، وہ لوگ ہر ایک خطرے کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں اور کئی طرح کے ثواب اور اَجر اور قوّتِ ایمانی کے وہ مستحق ٹھہر گئے ہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۷۹، خزائن ج:۳ ص:۱۸۶)
اور نبوّت ووحی کا دعویٰ کرتا ہے، چنانچہ لکھا ہے کہ: ’’مسیحِ موعود جو آنے والا ہے، اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللّٰہ ہوگا، یعنی خداتعالیٰ سے وحی پانے والا، لیکن اس جگہ نبوّتِ تامہ کاملہ مراد نہیں، کیونکہ نبوّتِ تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے، بلکہ وہ نبوّت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے، جو مشکوٰۃِ نبوّتِ محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے، سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دِی گئی ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۷۰۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۸)
اور لکھا ہے: ’’مطلق نبوّت ختم نہیں ہوئی، نہ من کل الوجوہ بابِ نبوّت مسدود ہوا ہے، اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے، بلکہ جزئی طور وحی اور نبوّت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔‘‘
(رسالہ توضیح مرام ص:۱۸،۱۹، خزائن ج:۳ ص:۶۰)
اور لکھا ہے: ’’یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے محدث ہوکر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتا ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص:۱۹، خزائن ج:۳ ص:۶۰)
اور کہتا ہے کہ: ’’میں نبی بھی ہوں اُمتی بھی۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۳۳، خزائن ج:۳ ص:۳۸۶)
اور آیت: ’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ‘‘ میں اپنی طرف ہی اِشارہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)
اور آیت: ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ درحقیقت اپنے ہی زمانے سے متعلق
216
ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۶۷۵، خزائن ج:۳ ص:۴۶۴)
اور کہتا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سیر معراج اس جسمِ کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔‘‘ بعد کہتا ہے کہ: ’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحبِ تجربہ ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۴۷، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)
اور کہتا ہے کہ: ’’اسلام کو غلطیوں اور اِلحاقاتِ بیجا سے منزّہ کرکے وہ تعلیم جو رُوح وراستی سے بھری ہوئی ہے، خلق اللّٰہ کے سامنے رکھنا خداتعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۹، خزائن ج:۳ ص:۱۳۲)
اور لکھا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللّٰہ کا مثیل قرار دِیا، اور پھر مثیل نوح قرار دِیا، اور پھر مثیل یوسف قرار دِیا، اور پھر مثیل حضرت داؤد بیان فرمایا، اور پھر مثیل موسیٰ کرکے بھی اس عاجز کو پکارا، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل اِبراہیم بھی کہا ، اور پھر آخر مثیل محمد بھی ٹھہرانے کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ باربار ’’یا احمد‘‘ کے خطاب سے مخاطب کرکے ظلی طور پر وہی سیّدالانبیاء واِمام الاصفیا حضرت مقدس محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قرار لیا گیا۔‘‘ لیکن دُوسری جگہ کہتا ہے کہ: ’’حضرت مسیح اور آپ (یعنی شخص مذکور) کے ناطہ سے کہ کشفی طور پر مروی ہوئی ہے، اس نے خدا کی محبت کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے، ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی، جس کا نام رُوح القدس ہے، اور اس کو بطور اِستعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہئے اور یہ پاک تثلیث ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص:۲۲، خزائن ج:۳ ص:۶۲)
اور کہتا ہے کہ: ’’مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو اِستعارہ کے طور پر اِبنیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں (یعنی اِبن اللّٰہ کہہ سکتے ہیں)۔‘‘
(توضیح مرام ص:۲۷، خزائن ج:۳ ص:۶۴)
اور قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر صحابہؓ وتابعینؒ وجمہور مفسرینؒ کے برخلاف، اپنی رائے سے کرتا ہے، اور صحابہؓ اور تابعینؒ سے اس کی جو تفسیر وارِد ہوئی ہے، اس کو کہتا ہے: ’’یہ سرار غلط تفسیر ہے‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۲۹، خزائن ج:۳ ص:۱۶۷)
اور کہتا ہے کہ: ’’جبرائیل امین جو انبیاء کو دِکھائی دیتا ہے، وہ بذاتِ خود زمین پر نہیں اُترتا اور اپنے ہیڈکوارٹر (یعنی صدرمقام) نہایت روشن نیرّ سے جدا نہیں ہوتا ہے، بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے، اور اس کے عکس سے تصویر ان کے دِل میں (یعنی انبیاء کے دِل میں) منقوش ہوجاتی ہے۔‘‘
(ملخص توضیح مرام ص:۶۸،۷۰،۸۵، خزائن ج:۳ ص:۸۶،۹۵)
اور کہتا ہے: ’’لیلۃالقدر سے رات مراد نہیں، بلکہ وہ زمانہ مراد ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ ہے، اور وہ نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزرجانے سے ایک ہزار مہینے کے بعد آتا ہے۔‘‘
(فتح اسلام ص:۵۴ ملخص، خزائن ج:۳ ص:۳۲)
اور کہتا ہے کہ: ’’آخری زمانے میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۳۷، خزائن ج:۳ ص:۲۲۰)
اور اَنبیاء کے معجزوں کا اِنکار کرتا ہے، ان کو مسمریزمی طریق سے بطور لہوولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۳۰۵، خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)
217
عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن شریف میں واقع ہیں، یعنی مٹی سے پرندہ بناکر اس میں دَم پھونکنا، اور اندھے اور کوڑھی کو چنگا کرنا، مُردہ اِنسان کو زِندہ کرنا، ان سب کا اِنکار کرتا ہے، اور وہ سب مسمریزم کے طریق پر ہونے کا قائل ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۳۰۵، خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)
لکھا ہے: ’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا، تو خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے اتنی طاقت رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابنِ مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(اِزالہ ص:۳۰۹، خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
اور پھر لکھتا ہے کہ: ’’یہ اِعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بناکر اور ان میں پھونک مارکر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۳۲۲، خزائن ج:۳ ص:۲۶۳ حاشیہ)
اور عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف نجار ہونے کا قائل ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۳۰۳، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
اور عیسیٰ علیہ السلام کا خنزیر کو قتل کرنا جو اَحادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوا ہے، اس کے حقیقی معنی: ’’خنزیر کا شکار کھیلتے پھریں گے‘‘ زعم کرکے اس پر تمسخر واِستہزا کرتا ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۴۲، خزائن ج:۳ ص:۱۲۳)
اور اَزواجِ مطہرات میں کونسی بی بی کا پہلے اِنتقال ہوا جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی، اس کے بارے میں کہتا ہے کہ: ’’اس پیش گوئی کی اصل حقیقت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہیں تھی۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۷۳۰، خزائن ج:۳ ص:۴۹۶)
اور کہتا ہے کہ: ’’جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔‘‘
اور کہتا ہے کہ: ’’اُمورِ اخباریہ کشفیہ میں اِجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہوجاتی ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۷ خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
اور کہتا ہے: ’’جبکہ پیش گوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود اَنبیاء سے اِمکانِ غلطی ہے تو پھر اُمت کا کورانہ اِتفاق یا اِجماع کیا چیز ہے؟‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۴۱، خزائن ج:۳ ص:۱۷۲)
اور شیطانی دخل انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہوجانے کا دعویٰ کرکے اس کی سند میں موجودہ توراۃ سے جھوٹا یہ قصہ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چارسو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے، اور اس کی توجیہ اپنی طرف سے یہ بیان کرتا ہے کہ: ’’دراصل وہ اِلہام ایک ناپاک رُوح کی طرف سے تھا، نوری فرشتے کی طرف سے نہیں تھا، اور ان نبیوں نے دھوکا کھاکر ربانی سمجھ لیا تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)
اور کہتا ہے کہ: ’’یہ بھی مدّت سے اِلہام ہوچکا ہے کہ: انا انزلناہ قریبًا من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وکان وعد اللہ مفعولًا۔‘‘
اس کے بعد لکھا ہے کہ: ’’پھر اس کے بعد اِلہام کیا گیا کہ دُوسرے علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔‘‘
218
اس کے بعد لکھتا ہے کہ: ’’کشفی طور سے مروی ہوئی میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرے قریب بیٹھ کر بآوازِ بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ: إنّا انزلناہ قریبًا من القادیان، تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا: یہ دیکھو لکھا ہوا! تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحے میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی اِلہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دِل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۷۷، خزائن ج:۳ ص:۱۴۰)
الغرض! اس کے ایسے اقوال بہت ہیں، بخوفِ تطویل نہیں لکھے گئے، پس ایسے شخص کا اور اس کے تابعداروں کا اور اس کے اقوال کی تصدیق کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا!
السائل: حاجی سیّد محمد محی الدین
الجواب:۔۔۔ حامدًا ﷲوحدہ ومصلّیًا ومسلّمًا علٰی رسولہ سیّدنا محمدِنِ الذی لا نبی بعدہ!
ایسا اِعتقادی شخص بشرط ثبوتِ عقل وعدمِ جنون، بے شک کافر ومرتد وزِندیق ہے، اور جس نے اس کی تابعداری یا تصدیق کی، وہ بھی مرتد ہے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانا اور وہاں زِندہ رہنا، پھر اَخیر زمانے میں اُتر آنا اور اِمام مہدیؓ کے ساتھ نماز پڑھنا، اور دجال نکل کے جو اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، اس کو قتل کرنا، ان اُمور سے ہیں جن پر اِیمان لانا ضروری ہے، اور اس میں شک کرنا کفر واِرتداد ہے، اور یہی عقیدہ اہلِ سنت کا ہے،(۱) اس میں کسی ایک اہلِ سنت کو خلاف نہیں۔
پھر ’’عیسیٰ علیہ السلام مرگئے اور ان کا جسم شریف زمین پر رہ گیا، اور فقط ان کی رُوح آسمان پر گئی‘‘ زعم کرنا نصاریٰ کا عقیدہ ہے، اللّٰہ تعالیٰ قرآن شریف میں جو: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘(النساء:۱۵۸)، اور فرمایا: ’’ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘(آل عمران:۵۵) ، سو وہ نصِ قطعی ہے عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے آسمان پر جانے میں۔ اور جو فرمایا: ’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج‘‘ (النساء:۱۵۹) اور فرمایا: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ (الزخرف:۶۱) اس میں دلیل ظاہر ہے ان کے نزول پر۔ اور اس مضمون کے بہت سی احادیثِ صحیحہ بھی آئی ہیں جو حدِتواتر کو پہنچی ہیں، ہم بخوفِ تطویل چند اَحادیث لکھتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے جس کے نصیب میں ہدایت ہے، اس کو کافی ہیں۔
اِمام المحدثین محمد بن اِسماعیل البخاری رحمہ اللّٰہ نے اپنی صحیح کے باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میں ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکَمًا عدلًا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون
(۱)واعلم أن أحادیث الدَّجَّال ونزول عیسٰی علیہ السلام متواترۃ یجب الإیمان بھا۔ (حاشیۃ علٰی شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۶۵، طبع المکتبۃ السلفیۃ لاھور)۔
219
السجدۃ الواحدۃ خیرًا من الدنیا وما فیھا، ثم یقول ابوھریرۃ: واقرئوا إن شئتم: وَإِن مِّنْاَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً ‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، باب نزول عیسی بن مریم)
یعنی قسم ہے اس کی جس کے دستِ قدرت میری جان ہے! البتہ عنقریب مریم کا بیٹا حاکمِ عادل ہوکے تم میں اُترے گا، سو صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ اُٹھادے گا اور مال بہت ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ملنے سے بہتر ہوگا۔ بعد ابوہریرہؓ نے کہا: اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھو:’’ وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً‘‘ اس حدیث کو مسلمؒ نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے،(۱) اور اِمام بغویؒ نے بھی شرح السنۃ میں اس حدیث کو روایت کرکے کہا: ’’ھٰذا حدیث متفق علٰی صحتہ‘‘۔(۲)
حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آیتِ مذکورہ میں ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ ‘‘ کے ضمیر کا مرجع عیسیٰ ہے، یعنی اہلِ کتاب کا کوئی شخص نہیں، مگر اِیمان عیسیٰ پر لائے گا عیسیٰ کے مرنے کے پہلے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام اَخیر زمانے میں جب آسمان پر سے اُتریں گے تو اہلِ کتاب سے کوئی شخص باقی نہ رہے گا مگر عیسیٰ پر اِیمان لائے گا۔ اور ’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ ‘‘ کا لفظ اگرچہ عموم پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس عموم سے وہی اہلِ کتاب مراد ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھیں گے اور ان کے زمانے کو پائیں گے۔ اس آیت میں دُوسری توجیہ بھی آئی ہے، لیکن مفسروں کی ایک جماعت نے اسی کو جو ابوہریرہؓ سے مروی ہوئی ہے، اِختیار کیا ہے، اور اِمام ابوجعفر طبریؒ نے اسی قول کو ترجیح دی اور یہی قول قتادہؒ اور حسن بصریؒ اور عطاءؒ وغیرہ کا بھی ہے، ابنِ عباسؓ سے بھی ایک روایت ہے جو اسی کی تائید کرتی ہے، چنانچہ عنقریب مذکور ہوگی۔
بخاری اور مسلم، ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیف انتم إذا انزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، باب نزول عیسی بن مریم)
یعنی تم کیسے ہوگے جبکہ مریم کا بیٹا تم میں اُترے گا اور تمہارا اِمام تمہارے میں کا ہی ہوگا۔ اس حدیث کو اِمام احمد اور بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں روایت کیا ہے، اور اِمام بغویؒ نے بھی شرح السنہ میں روایت کی ہے اور کہا: ’’ھٰذا حدیث متفق علٰی صحتہ‘‘۔ علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں جو آیا ہے: ’’وإمامکم منکم‘‘ یعنی تمہارا اِمام تمہارے میں کا ہی ہوگا، سو اس سے مراد اِمام مہدیؓ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُترے بعد صبح کی نماز کو ان کے پیچھے اِقتدا کریں گے۔(۳) چنانچہ اس مضمون کی احادیث
(۱)صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، باب نزول عیسٰی علیہ السلام، طبع کتب خانہ رحیمیہ، دیوبند، یوپی، انڈیا۔
(۲)شرح السُّنَّۃ للإمام البغوی ج:۱۵ ص:۸۱، طبع المکتب الإسلامی۔
(۳)عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزال طائفۃ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسی بن مریم فیقول امیرھم: تعال صل لنا! فیقول: لا، ان بعضکم علٰی بعض امراء، تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمَّۃ۔ (مسلم ج:۱ ص:۸۷ باب نزول عیسٰی علیہ السلام)۔
220
بھی آئی ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام نبی ہوکے اِمام مہدیؓ کی اِقتدا کرنا بعید نہیں، کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی عبدالرحمن بن عوف کے اور ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہما کے پیچھے اِقتدا فرمائی ہے۔(۱)
اور مسلم نے جابر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لا تزال طائفۃ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال فینزل عیسی بن مریم فیقول امیرھم: تعال صل لنا! فیقول: لا! ان بعضکم علٰی بعض امراء، تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمَّۃ۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۸۷ باب نزول عیسٰی علیہ السلام)
یعنی قیامت تک میری اُمت سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑائی کرتی غالب رہے گی، پھر عیسیٰ بن مریم اُتریں گے، سو مؤمنوں کا امیر کہے گا: آپ آئیے اور ہمارے ساتھ نماز پڑھیے! عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: ایسا نہیں! تمہارے میں کا بعض تمہارے بعض پر اَمیر ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے یہ مکرمت ہے۔
اور مسلم نے نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے:
’’قال ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدَّجَّال ذات غداۃ فخفض فیہ وقع حتّٰی ظنناہ فی طائفۃ النخل، فلما رحنا إلیہ عرف ذالک فینا، فقال: ما شأنکم؟ قلنا: یا رسول ﷲ! ذکرت الدَّجَّال غداۃً فخفضت فیہ ورفعت حتّٰی ظنناہ فی طائفۃ النخل۔ فقال: غیر الدَّجَّال اخوفنی علیکم! إن یخرج وانا فیکم فأنا حجیجہ دونکم وإن یخرج ولست فیکم فامرؤٌ حجیج نفسہ و اللہ خلیفتی علٰی کل مسلم انہ شاب قطط عینہ طافیۃ کأنی اشبھہ بعبدالعزّی بن قطن، فمن ادرکہ منکم فلیقرأ علیہ فواتح سورۃ الکھف، انہ خارج خلۃ بین الشام والعراق فعاث یمینًا وعاث شمالًا یا عباد اللہ فاثبتوا! قلنا: یا رسول ﷲ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: أربعون یومًا! یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر أیّامہ کأیّامکم! قلنا: یا رسول ﷲ! فذالک الیوم الذی کسنۃ أتکفینا فیہ صلٰوۃ یوم؟ قال: لا! اقدروا لہ قدرہ! قلنا: یا رسول ﷲ!وما إسراعہ فی الأرض؟ قال: کالغیث استدبرتہ الریح فیأتی علی القوم فیدعوھم فیؤْمنون بہ ویستجیبون لہ فیأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت فتروح علیھم سارحتھم اطول ما کانت ذُرًی واسبغہ ضروعا وامدہ خواصر، ثم یأتی القوم فیدعوھم فیردون علیہ قولہ، فینصرف
(۱)عن عبدالرحمٰن بن عوف ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لما انتھی الٰی عبدالرحمٰن بن عوف وھو یصلی بالناس اراد عبدالرحمٰن أن یتأخر فأومأ إلیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ان مکانک فصلی وصلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بصلاۃ عبدالرحمٰن۔ (اُسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لإبن الأثیر ج:۳ ص:۳۱۶، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔ وفی بذل القوۃ فی حوادچ سنی النبوۃ: وفیھا ۔۔۔۔۔۔۔ حتّٰی وصل إلی الصف فی أثناء الصلٰوۃ وابوبکر رضی اللہ عنہ قائم یصلی بالناس، فصلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک الصلٰوۃ مع الناس۔ (بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ ص:۳۰۰)۔
221
عنھم فیصبحون ممحلین لیس بأیدیھم شیء عن اموالھم، ویمر بالخربۃ فیقول لھا: اخرجی کنوزک! فتتبعہ کنزوھا کیعاسیب النحل ثم یدعو رجلًا ممتلئًا شابا فیضربہ بالسیف فیقطعہ جزلتین رمیۃ الغرض ثم یدعوہ فیقبل ویتھلل وجہہ ویضحک فبینما ھو کذالک إذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق مھرودتین واضعًا کفیہ علٰی اجنحۃ مَلَکین إذا طأطأ رأسہ قطر وإذا رفعہ تحدر منہ جمانٍ کاللؤْلؤْ، فلا یحل لکافر یجد ریح نفسہ إلَّا مات ونفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ، فیطلبہ حتّٰی یدرکہ بباب لُدٍّ فیقتلہ، ثم یأتی عیسٰی قوم قد عصمھم اللہ منہ فیمسح عن وجوھھم ویحدثھم بدرجاتھم فی الجنۃ، فبینما ھو کذالک إذ اوحی اللہ إلٰی عیسٰی انی قدر اخرجت عبادًا لی لا یدان لأحدٍ بقاتلھم، فحرز عبادی إلیالطور ویبعث اللہ یأجوج ومأجوج وھم من کل حدب ینسلون فیمر اوائلھم علٰی بحیرۃطبریۃ فیشربون ما فیھا ویمر آخرھم فیقولون: لقد کان بھٰذہ مرۃً مائٌ، ویحصر نبی اللہ عیسٰی واصحابہ حتّٰی یکون رأس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دینارٍ لأحدکم الیوم، فیرغب نبی اللہ عیسٰی واصحابہ فیرسل اللہ علیھم النغف فی رقابھم فیصبحون فرسی کموت نفس واحدۃٍ ثم یھبط نبی اللہ عیسٰی واصحابہ إلی الأرض فلا یجدون فی الأرض موضع شبر إلَّا ملأہ زھمھم ونتنھم فیرغب نبی اللہ عیسٰی واصحابہ إلی ﷲ، فیرسل اللہ علیھم طیرًا کأعناق البخت فتحملھم فتطرحھم حیث شاء اللہ ثم یرسل اللہ مطرًا لا یکُنُّ منہ بیت مدر ولا وبر فیغسل الأرض حتّٰی یترکھا کالزَّلفۃ، ثم یقال للأرض: أنبتی ثمرتک ورَدِّی برکتک! فیومئذ تأکل العصابۃ من الرمانۃ ویستظلُّون بقحفھا ویبارک فی الرِّسْلِ حتّٰی ان اللِّقحۃ من الإبل لتکفی الفئام من الناس، واللِّقحۃ من البقر لتکفی القبیلۃ من الناس، واللِّقحۃ من الغنم لتکفی الفَخِذ من الناس، فبینما ھم کذالک إذ بعث اللہ ریحًا طیبۃ فتأخذھم تحت آباطھم فتقبض روح کل مؤْمن وکل مسلم ویبقی شرار الناس یتھارجون فیھا تھارج الحمر، فعلیھم تقوم الساعۃ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۴۰۱،۴۰۲، باب ذکر الدَّجَّال)
یعنی ایک دن صبح کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال کا حال ذِکر کیا، پھر اس میں اُتارا اور چڑھایا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ خرمے کے درختوں کے کسی بن میں ہے، پھر ہم جب دوپہر کے بعد نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو ہمارے میں کو اس کو پایا، یعنی اس کے احوال سننے سے ہم پر جو خوف ودہشت ہوئی تھی اس کو سمجھ کے فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: یا رسول اللّٰہ! آپ نے صبح کو دجال کا ذِکر فرمایا، سو اس میں اُتارا اور چڑھایا، یہاں تک کہ وہ خرمے کے درختوں کے کسی بن میں ہے کرکے ہم کو گمان ہوا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر دجال کے غیر کا خوف مجھ کو زیادہ ہے! اگر دجال نکلے اور میں تمہارے میں ہوں تو اس کا حجیج
222
میں ہوں، تم نہیں! یعنی دلیل کہنے والا اور اس کو جھٹلانے والا میں ہوں، تم کو اس کو جھٹلانے کی احتیاج نہیں، اگر وہ نکلے اور میں تم میں نہ رہوں تو ہر شخص اپنے نفس کا آپ حجیج ہے، تم پر اور ہر مسلمان پر اللّٰہ تعالیٰ میرا خلیفہ ہے، یعنی تمہارا نگہبان اللّٰہ ہے، مقرر دجال جوان ہے، اس کے بال بہت اکڑے ہوئے ہیں، اس کی آنکھ طافیہ ہے، یعنی نکل آئی ہے، اس کو میں عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، یعنی دجال عبدالعزیٰ سے مشابہ ہے، تمہارے سے جو کوئی اس کو پائے گا تو سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے۔ وہ شام وعراق کے درمیان میں کی راہ سے نکلے گا، سو داہنے طرف اور بائیں طرف فساد کرے گا، اے اللّٰہ کے بندو! تم ثابت رہو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللّٰہ! وہ دجال زمین پر کتنے دن رہے گا؟ حضرت نے فرمایا: چالیس دن! اس کا ایک دن ایک برس کی مانند ہے، اور ایک دن ایک مہینے کی مانند، اور ایک دن ایک جمعہ کی مانند، یعنی ایک ہفتے کے ہے، اور باقی کے دن تمہارے دِنوں کی مانند ہیں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللّٰہ! وہ دِن جو ایک برس کے اتنا ہوگا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنا ہم کو کفایت کرے گا یا نہیں؟ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفایت نہ کرے گا، اندازہ کرو نماز کے واسطے ایک دن کا اندازہ۔ ہم نے کہا: یا رسول اللّٰہ! اس کی جلدی زمین پر کیسی ہے؟ حضرت نے فرمایا: غیث کی مانند ہے، یعنی مہینے کی مانند، یا اَبر کی مانند ہے کہ جس کے پیچھے ہوا ہے، سو ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف دعوت کرے گا، پھر وہ اس پر اِیمان لائیں گے اور اس کی دعوت قبول کریں گے تو آسمان کو حکم کرے گا، سو مینہ برسے گا اور زمین کو حکم کرے گا، سو اُگائے گی، پھر اس قوم کے جانور جو صبح کو چرنے گئے تھے، سو شام کو آئیں گے تو ان کے کوہان بہت بلند رہیں گے، یعنی ان کے مواشی نہایت فربہ رہیں گے، اور ان کے کاس بہت بھرے ہوئے رہیں گے، ان کے پٹھے بہت ہی دراز رہیں گے۔ پھر دجال دُوسری قوم کے پاس آکے ان کو دعوت دے گا، وہ اس کی دعوت کو رَدّ کردیں گے، تو ان کے پاس سے چلا جائے گا، صبح کو دیکھے تو یہ لوگ قحط زدہ ہوں گے، ان کے ہاتھ میں ان کا کچھ مال باقی نہ رہے گا، دجال ویرانے پر گزرے گا اور اس کو کہے گا: اپنے خزانے کو نکال! تو اس ویرانے کے خزانے اس کے پیچھے چل پڑیں گے، جیسے شہد کی مکھیوں کی ٹکڑی ہے۔ بعد دجال ایک شخص کو جو بھری جوانی میں ہے، بلائے گا اور اس کو تلوار سے مار کے دو ٹکڑے کرکے تیر کے نشانے کی مقدار فاصلے سے ڈالے گا، پھر اس جوان کو پکارے گا تو زِندہ ہوکے آئے گا، اس کا منہ چمکتا ہوا اور وہ ہنستا ہوا، دجال اس ہی میں تھا کہ یکایک اللّٰہ تعالیٰ مسیح ابنِ مریم کو بھیجے گا، سو سفید منارے کے پاس جو دمشق کے شرقی جانب میں ہے، اُتریں گے دو مہروذے(۱) پہنے ہوئے، اور اپنے ہاتھوں کے نیچے دو فرشتوں کے بازوؤں پر دھرے ہوئے، اپنے سر کو جھکائے تو سر سے پسینا ٹپکے گا اور جب سر کو اُٹھائے تو عرق کے قطرے موتی کے دانوں کی مانند سر پر سے اُتریں گے، پس ممکن نہیں کہ کسی کافر کو کہ ان کی سانس کی بھانپ لگے، مگر یہ کہ مرجائے گا، ان کی نگاہ جہاں تک جاتی ہے ان کا دَم اتنی دُور جائے گا، پھر عیسیٰ دجال کو طلب کریں گے، یہاں تک کہ لُدّ(۲) کے دروازے کے پاس اس کو پاکے اس کو قتل کریں گے۔ بعد عیسیٰ کے پاس ایک قوم آئے گی کہ جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے دجال سے نگاہ رکھا تھا، سو ان کے منہ پونچھیں گے اور ان کو ان کے مرتبوں سے جو
(۱) ’’مہروذہ‘‘ راء مہملہ اور ذال معجمہ ہے، کپڑے کو کہتے ہیں کہ جس کو ورس کے رنگ میں بعد زعفران کے رنگ میں رنگتے ہیں۔
(۲) ’’لُدّ‘‘ لام کی ضم اور دال کی تشدید سے وہ اِسرائیل میں ایک جگہ کا نام ہے، اور اس وقت یہاں پر اِسرائیل کا ایئرپورٹ ہے۔
223
بہشت میں ہیں خبر دیں گے، ایسے میں اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ کی طرف وحی بھیجے گا کہ مقرر میں اپنے کئی بندوں کو نکالا ہوں کہ کسی کو ان سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں، میرے بندوں کو یعنی مؤمنوں کو محافظت کرنے کے لئے کوہِ طور پر جا، پھر اللّٰہ تعالیٰ یأجوج مأجوج کو نکالے گا، پھر وہ ہر بلند وسخت زمین سے شتاب آئیں گے اور ان میں پیش رواں طبریہ کے بحیرے پر یعنی تالاب پر گزریں گے، سو اس کا پانی سب پئیں گے، ان میں سے پیچھے آنے والے اس پر جب گزریں گے، کہیں گے: ’’اس بحیرے میں کسی وقت پانی تھا!‘‘ نبی اللّٰہ عیسیٰ اور ان کے اصحاب محصور رہیں گے، یہاں تک کہ آج تم میں سے کسی ایک کے پاس سو دینار ہونے سے ان میں سے کسی ایک کے پاس بیل کا سر ہونا بہتر ہوگا۔ پھر عیسیٰ اور ان کے اصحاب اللّٰہ کے پاس یأجوج مأجوج کے ہلاک ہونے کے لئے دُعا کریں گے، تب اللّٰہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں نغف یعنی کیڑوں کو بھیجے گا، سو سب یکبارگی مرجائیں گے، بعد نبی اللّٰہ عیسیٰ اور ان کے اصحاب زمین پر اُتریں گے، سو زمین پر بالشت بھر کی جگہ نہ رہے گی، مگر ان کی چربی اور بدبوئی سے بھرجائے گی، پھر نبی اللّٰہ عیسیٰ اور ان کے اصحاب اللّٰہ کے پاس اِلتجا کریں گے، تب اللّٰہ تعالیٰ بختی اُونٹوں کی گردنوں کی مانند پرندوں کو بھیجے گا، سو ان کی لاشوں کو اُٹھاکے جہاں اللّٰہ تعالیٰ چاہے گا، وہاں ڈالیں گے، پھر اللّٰہ تعالیٰ مینہ برسائے گا کہ جس مینہ کو مٹی کے گھر اور بال کے گھر مانع نہ ہوں گے اور ساری زمین کو ایسا دھوئے گا کہ آئینے کی مانند مصفیٰ ہوجائے گی، پھر زمین کو کہا جائے گا: ’’اپنے پھلوں کو اُگا اور اپنی برکت کو پھر لے آ!‘‘ تب ایک انار ایک عصابہ یعنی ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکوں سے سایہ بنائیں گے، اور دُودھ میں برکت ہوگی، یہاں تک کہ اُونٹ کے ایک لقحے(۱) کا دُودھ ایک جماعت کو کفایت کرے گا، اور گائے کے ایک لقحے کا دُودھ ایک قبیلے کے لوگوں کو کافی ہوگا، اور بکری کے ایک لقحے کا دُودھ لوگوں کی ایک فخذ(۲) کو کفایت کرے گا، لوگ اس ہی حال میں رہیں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا، جب ان کے بغلوں کے نیچے لگے گی تو ہر مؤمن اور مسلم کی رُوح کو قبض کرے گی اور بد لوگ باقی رہیں گے، گدھے جیسے مختلط(۳) ہوتے ہیں ویسے اِختلاط کریں گے، انہیں پر قیامت قائم ہوگی۔ اس حدیث کو اِمام احمد اور ترمذی اور اِبنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
اور مسلم نے اپنی صحیح میں حذیفہ بن اُسید الغفاری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے:
’’قال: اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا ونحن نتذاکر، فقال: ما تذاکرون؟قالوا: نذکر الساعۃ! قال: انھا لن تقوم حتّٰی تروا قبلھا عشر آیات، فذکر الدُّخان، والدَّجَّال، والدَّابَّۃ، وطلوع الشمس من مغربھا، ونزول عیسی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم، ویأجوج ومأجوج۔۔۔إلخ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۳۹۳، کتاب الفتن)
یعنی نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا تذکرہ کرتے ہو؟ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم قیامت کا ذِکر کرتے تھے! فرمایا: قیامت نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس کے آگے دس
(۱) ’’لقحہ‘‘ اس جانور کو کہتے ہیں جن کے تھوڑے دن ہوئے ہوں۔
(۲) ’’فخذ‘‘ یعنی قرابتی لوگوں کی جماعت۔
(۳) یعنی لوگ علانیہ جماع کریں گے جیسے گدھے کرتے ہیں، ان کو کسی بات کا لحاظ نہ رہے گا۔
224
نشانیاں دیکھ لو۔ پھر بیان فرمایا: دُخان اور دجال اور دابہ اور طلوعِ آفتاب کا اس کے مغرب سے، اور نزول عیسیٰ بن مریم کا اور یأجوج اور مأجوج۔
اِبنِ ماجہ نے اپنی سنن میں ابی اُمامہ الباہلی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے:
’’قال خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکان اکثر خطبتہ حدیثًا حدَّثناہ عن الدَّجَّال وحذَّرناہ فکان من قولہ ان قال انہ لم تکن فتنۃ فی الأرض منذ ذرأ اللہ ذریۃ آدم اعظم من فتنۃ الدَّجَّال وان اللہ لم یبعث نبیًّا إلَّا حذَّر اُمَّتہ الدَّجَّال وانا آخر الأنبیاء وانتم آخر الاُمم وھو خارج فیکم لا مَحالۃ، وإن یخرج وانا بین ظھرانیکم فأنا حجیج لکل مسلم، وإن یخرج من بعدی فکل امرء حجیج نفسہ و اللہ خلیفتی علٰی کل مسلم، وإنہ یخرج منخلۃٍ بین الشام والعراق فیعیث یمینا ویعیث شمالًا، یا عباد اللہ فاثبتوا! فإنی سأصفہ لکم صفۃ لم یصفھا إیَّاہ نبی قبلی، انہ یبدأ فیقول: انا نبی! ولا نبی بعدی، ثم یثنی فیقول: أنا ربکم! ولاترون ربکم حتّٰی تموتون، وإنہ اعور وان ربکم لیس بأعور، وانہ مکتوب بین عینیہ کافریقرأہ کل مؤْمن کاتب او غیر کاتب، وان من فتنتہ ان معہ جنۃ ونارًا، فنارہ جنۃ، وجنتہ نار، فمن ابتلی بنارہ فلیستغث با اللہ ولیقرأ فواتح الکھف فتکون علیہ بردًا وسلامًا، کما کانت النار علٰی إبراھیم، وإن من فتنتہ ان یقول لأعرابی: أرأیت إن بعثت لک أباک واُمَّک أتشھد أنِّی ربک؟ فیقول: نعم! فیتمثل لہ شیطانان فی صورۃ ابیہ واُمّہ فیقولان: یا بنیَّ! اتبعہ فإنہ ربک! وإن من فتنتہ یسلط علٰی نفس واحدۃ فیقتلھا وینشرھا بالمنشار حتّٰی یلقی شقتین ثم یقول: انظروا إلٰی عبدی ھٰذا فإنِّی أبعثہ الآن، ثم یزعم انہ لہ ربا غیری فیبعثہ اللہ فیقول لہ الخبیث: من ربک؟ فیقول: ربی اللہ وأنت عدو ﷲ، انت الدَّجَّال وﷲ! ما کنت اشد بصیرۃ بک منی الیوم ۔۔۔۔۔۔۔ وإن من فتنتہ ان یأمر السماء ان تمطر فتمطر، ویأمر الأرض ان تنبت فتنبت، وإن من فتنتہ ان یمر بالحی فیکذبونہ فلا تبقی لھم سائمۃ إلَّا ھلکت، وإن من فتنتہ ان یمر بالحی فیصدقونہ فیأمر السماء ان تمطر فتمطر ویأمر الأرض ان تنبت فنتبت، حتّٰی تروح مواشیھم من یومھم ذالک اسمن ما کانت واعظمہ وامدہ خواصر وادرہ ضروعًا وإنہ لا یبقی شیء من الأرض إلَّا وطئہ وظھر علیہ إلَّا مکۃ والمدینۃ لا یأتیھما من نقب من نقابھما إلَّا لقیتہ الملائکۃ بالسیوف صلتۃ حتّٰی ینزل عند الظریب الأحمر عند منقطع السبخۃفترجف المدینۃ بأھلھا ثلاث رجفات فلا یبقی منافق ولا منافقۃ إلَّا خرج إلیہ فتنفی الخبث منھا کما ینفی الکیر خبث الحدید ویدعی ذالک الیوم یوم الخلاص، فقالت اُمّ شریک بنت
225
ابی العکر: یا رسول ﷲ! فأین العرب یومئذ؟ قال: ھم یومئذ قلیل وجلھم ببیت المقدس وإمامھم رجل صالح فبینما إمامھم قد تقدم یصلی بھم الصبح إذ نزل علیھم عیسی ابن مریم الصبح، فرجع ذالک الإمام ینکص یمشی القھقری لیتقدم عیسٰی یصلی بالناس، فیضع عیسٰی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصل فإنھا لک اقیمت! فیصلی بھم إمامھم، فإذا انصرف قالعیسٰی علیہ السلام: افتحوا الباب! فیفتح وورائہ الدَّجَّال معہ سبعون الف یھودی کلھم ذو سیف محلًّی وساجٍ، فإذا نظر إلیہ الدَّجَّال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا، ویقولعیسٰی علیہ السلام: إن لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بھا! فیدرکہ عند باب اللُّدِّ الشرقی فیقتلہ فیھزم اللہ الیھود ولا یبقی شیء مما خلق ﷲُ یتواریٰ بہ یھودی إلَّا أنطق اللہ ذالک الشیء، لاحجر ولا شجر ولا حائط ولا دابۃ إلَّا الغرقدۃ فإنھا من شجرھم لا تنطق إلَّا قال: یا عبد اللہ المسلم! ھٰذا یھودیٌّ فتعال اقتلہ! ۔۔۔الحدیث۔‘‘
(ابن ماجۃ ص:۲۹۷،۲۹۸، باب فتنۃ الدَّجَّال وخروج عیسی بن مریم)
یعنی ایک بار رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا، سو اس میں اکثر باتیں دجال کے متعلق فرمائیں، اور ہم کو اس سے ڈرایا، اَزجملہ یہ فرمایا کہ: اللّٰہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو جب سے پیدا کیا ہے، تب سے دجال کے فتنے سے کوئی فتنہ بڑا زمین پر نہیں ہوا، اور اللّٰہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا، مگر اس نبی نے دجال سے ڈرایا۔ میں نبیوں کا آخر ہوں اور تم اَخیر اُمت ہو، دجال ناگزیر تمہارے میں ہی نکلے گا، پھر اگر وہ نکلے اور میں تمہارے میں موجود ہوں تو میں ہر مسلمان کی طرف سے حجیج ہوں، یعنی دلیل گو ہوں، اگر میرے بعد نکلا تو ہر آدمی اپنی دلیل آپ ہی کہے گا، اور اللّٰہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہوگا، اور وہ دجال ایک خلہ سے یعنی راہ کے جو شام وعراق کے درمیان ہے، نکلے گا، پھر داہنے اور بائیں طرف فساد کرتا پھرے گا، اے اللّٰہ کے بندو! تم ثابت قدم رہو! دجال کی صفت میں تم کو ایسی بات بیان کرتا ہوں کہ کوئی نبی میرے آگے اس کو بیان نہیں کیا۔ اِبتدا میں تو دجال کہے گا: ’’میں نبی ہوں!‘‘ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، بعد میں کہے گا: ’’میں تمہارا رَبّ ہوں!‘‘ حال تو یہ ہے کہ تم اپنے پروردگار کو مرنے تک نہیں دیکھوگے، اور وہ دجال کانا ہے اور تمہارا پروردگار کانا نہیں، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’’کافر‘‘ لکھا ہے، جو مؤمن ہے اس کو پڑھے گا، خواہ لکھناپڑھنا جانے یا نہ جانے۔ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ بہشت اور دوزخ رہیں گے، اس کی دوزخ بہشت ہے، اور اس کی بہشت دوزخ ہے، اس کی دوزخ کی بلا میں کوئی تمہارے میں کا پڑا تو اللّٰہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور سورۂ کہف کے شروع کی آیتیں پڑھے تو وہ دوزخ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجائے گی، جیسے اِبراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوئی تھی۔ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اَعرابی کو بولے گا: تیرے ماںباپ کو اگر میں زندہ کروں تو آیا میں تیرا رَبّ ہوں کرکے اِقرار کرے گا؟ وہ بولے گا: بہتر! پھر دوشیطان اس کی ماں اور باپ کی صورتوں سے آئیں گے اور کہیں گے: ’’بیٹا! تو اس کا تابعدار ہوجا کیونکہ وہ تیرا رَبّ
226
ہے!‘‘ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایک شخص پر مسلط ہوکے اس کو آرے سے کاٹ کے دو پھانک کرے گا، بعد میں لوگوں کو کہے گا: دیکھو میرے اس بندے کو، اب میں جِلاتا ہوں! وہ زندہ ہوکے بولے گا: میرا رَب تو نہیں دُوسرا کوئی ہے، پھر اس کو زندہ کرکے وہ خبیث کہے گا: تیرا رَبّ کون ہے؟ وہ شخص بولے گا: میرا رَبّ اللّٰہ ہے اور تو اللّٰہ کا دُشمن دجال ہے، تیرے حال سے واللّٰہ! مجھ کو آگے سے زیادہ اب یقین حاصل ہوا۔ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان کو حکم کیا تو مینہ برسائے گا، زمین کو حکم کیا تو اُگائے گی۔ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ کسی قبیلے پر گزرے گا اور وہ لوگ اس کی تکذیب کریں گے تو ان کے جانور جتنے ہیں اتنے سب مرجائیں گے۔ اس کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے کہ کسی قبیلے پر گزرا اور وہ لوگ اس پر اِیمان لائے تو مینہ کو حکم کرے گا کہ ان پر برسے تو مینہ برسے گا، زمین کو حکم کرے گا اُگائے تو اُگائے گی، پھر اسی دن ان کے جانور نہایت فربہ اور پُرشکم اور کاس دُودھ سے بھرے ہوئے ہوجائیں گے۔ اور تھوڑی سی زمین خالی نہ رہے گی جو اس سے پامال نہ ہو، مگر مکے اور مدینے میں نہ آئے گا، ان کی راہوں پر فرشتے تلوار لئے ہوئے کھڑے ہوں گے، اس کو دفع کریں گے، پھر سرخ پہاڑ پاس جہان چوڑ کی زمین منقطع ہوتی ہے آکے اُترے گا، مدینے کو تین بار زلزلہ ہوگا، پھر کوئی منافق مرد یا عورت مدینے میں باقی نہ رہے گا، مگر نکل کے دجال کے پاس چلا جائے گا، سو اَندر کی نجاست کو نکال دے گا، جیسا کہ یعنی مُس یا بھتالو ہے کے گوہ کو نکالتا ہے، اس دن تمام یوم الخلاص ہے۔ اُمِّ شریک بنت ابی العکر رضی اللّٰہ عنہا نے کہا: یا رسول اللّٰہ! اس دن عرب کہاں رہیں گے؟ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تھوڑے رہیں گے، اور اکثر ان کے بیت المقدس میں رہیں گے، ان کا اِمام ایک صالح مرد ہوگا، سو ایک دن اِمام صبح کی نماز کے واسطے آگے بڑھا کہ اس میں عیسیٰ بن مریم اُتریں گے، وہ اِمام پچھلے پاؤں ہٹتا ہوا آئے گا، تاکہ عیسیٰ اِمامت کریں، عیسیٰ اس کے دونوں شانوں میں اپنا ہاتھ رکھ کے کہیں گے: ’’اِقامت تمہارے واسطے کہی گئی، تم ہی اِمام ہوکے نماز پڑھو!‘‘ پھر وہی صالح مرد اِمام ہوکے نماز پڑھے گا، نماز سے جب فراغت پائے تو عیسیٰ کہیں گے: دروازہ کھولو! پھر دروازہ کھولے تو اس کے رُوبرو دجال رہے گا، اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی رہیں گے، ان کے پاس تلواریں آراستہ سونے کا کام کئے ہوئے رہیں گے، اور ان پر سبز طیلسان رہیں گے، دجال عیسیٰ کو دیکھتے ہی گھل جائے گا جیسا نمک پانی میں گھلتا ہے، پھر وہاں سے بھاگے گا، عیسیٰ کہیں گے: میرے پاس تیرے واسطے ایک مار ہے تو اس سے نہ بچے گا! پھر اس کا پیچھا کرکے لُدّ کے دروازے کے پاس جو شرقی جہت میں ہے قتل کریں گے، اللّٰہ تعالیٰ اس کے ساتھ یہودیوں کو شکست دے گا، اللّٰہ تعالیٰ جس چیز کو پیدا کیا ہے، اس کے پاس یہود جاکے پوشیدہ ہونا چاہیں گے، پتھر ہو یا درخت، جانور ہو یا دیوار، اللّٰہ تعالیٰ اس مخلوق کو زبان دے گا، وہ پکار اُٹھے گا: ’’اے اللّٰہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی ہے تو آکے اس کو قتل کر!‘‘ مگر غرقد(۱) نہ بولے گا، اس واسطے کہ وہ یہود کا جھاڑ ہے ۔۔۔الحدیث۔
اِبنِ ماجہ نے اس حدیث کے آخر میں لکھا ہے:
(۱) ’’غرقد‘‘ نام ہے ایک درخت کا، انار کے درخت سے تنا بڑا ہوتا ہے، اس کو کانٹے رہتے ہیں۔
227
’’سمعت ابا الحسن الطنافسی یقول: سمعت عبدالرحمٰن المحاربی یقول: ینبغی ان یدفع ھٰذا الحدیث إلی المؤَدِّب حتّٰی یعلِّمہ الصبیان فی الکُتَّاب۔‘‘ (ابن ماجۃ ص:۲۹۹)
یعنی میں نے ابوالحسن طنافسی کو سنا وہ کہا: میں نے عبدالرحمن المحاربی کو سنا کہتا تھا: مناسب ہے کہ اس حدیث کو مؤدِّب کو دینا تاکہ مکتب خانے میں بچوں کو سکھلائے۔
اور ابوداؤد نے اپنی سنن کے باب ذکر خروج الدجال میں ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لیس بینی وبینہ نبیٌّ یعنی عیسٰی، وإنہ نازل، فإذا رأیتموہ فاعرفوہ، رجلٌ مربوع إلی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کأن رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بللٌ، فیقاتل الناس علی الإسلام، فیدق الصَّلیب ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا إلَّا الإسلام، ویھلک المسیح الدَّجَّال، فیمکث فی الأرض أربعین سنۃ ثم یتوفّٰی فیصلِّی علیہ المسلمون۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۸، باب خروج الدَّجَّال)
یعنی میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں، اور مقرّر وہ اُتریں گے، تم انہیں کو دیکھو تو پہچانو، کہ وہ میانہ قد ہیں، سرخ وسفید، ان پر ممصر دو کپڑے رہیں گے، یعنی تھوڑی زردی ملی ہوئی، گویا ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے، اگرچہ پانی کی تراوت نہ پہنچے، اور لڑائی کریں گے لوگوں سے اِسلام لانے پر، پھر صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مارڈالیں گے اور جزیہ کو اُٹھائیں گے، اور ان کے زمانے میں سوائے اسلام کے دُوسری سب ملتوں کو اللّٰہ تعالیٰ نابود کرے گا، اور مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، پھر عیسیٰ چالیس برس زمین پر ٹھہرے رہیں گے، بعد مریں گے، پھر مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔
اِمام احمدؒ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الأنبیاء إخوۃ لعلَّات، اُمّھاتھم شتّٰی ودینھم واحد، وأنا أولی الناس بعیسی بن مریم، لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبیٌّ، وإنہ نازل، فإذا رأیتموہ فاعرفوہ، رجلًا مربوعًا إلی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران، کأن رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویدعو الناس إلی الإسلام، فیھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا إلَّاالإسلام، ویھلک اللہ فی زمانہ المسیح الدَّجَّال، وتقع الأمنۃ علی الأرض، حتّٰی ترتع الأسودمع الإبل، والنمار مع البقر، والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان بالحیَّات لا تضرھم، فیمکث أربعین سنۃ ثم یتوفّٰی ویصلِّی علیہ المسلمون۔‘‘ (مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶)
یعنی انبیاء سوتیلے بھائی ہیں، ان کی مائیں علیحدہ ہیں، اور دِین ان کا ایک ہی ہے،، اور لوگوں میں سے میں عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اَولیٰ ہوں، یعنی اَحق اور نزدیک تر ہوں، کیا واسطے میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، اور مقرّر وہ اُتریں گے، تم
228
ان کو دیکھو تو پہچانو! کہ وہ میانہ قد ہیں، سرخ وسفید، ان پر ممصر دو کپڑے رہیں گے، گویا ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے، اگرچہ پانی کی تراوت نہ پہنچے، پھر صلیب کو توڑیں گے، اور خنزیر کو مارہی ڈالیں گے، اور جزیہ کو اُٹھادیں گے، اور لوگوں کو اِسلام کی طرف بلوائیں گے، ان کے زمانے میں سوائے اسلام کے دُوسری سب ملتوں کو اللّٰہ تعالیٰ نابود کرے گا، اور اللّٰہ تعالیٰ مسیح الدجال کو ان کے زمانے میں ہلاک کرے گا، پھر زمین پر اَمن ہوجائے گا، باگ اُونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکری کے ساتھ مل کر چریں گے، اور آدمی کے بچے سانپوں کے ساتھ مل کے کھیلیں گے تو سانپ ان کو اِیذا نہ دیں گے، سو عیسیٰ چالیس برس ٹھہریں گے، بعد مریں گے، مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔ اس حدیث کو حاکمؒ نے بھی مستدرک میں روایت کیا، اس کا لفظ یہ ہے:’’إن روح اللہ عیسٰی نازل فیکم، فإذا رأیتموہ فاعرفوہ ۔۔۔الحدیث۔‘‘
اِمام احمدؒ اور اِبنِ ابی شیبہؒ اور سعید بن منصورؒ اور بیہقیؒ نے عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لقیت لیلۃ اسری بی إبراھیم وموسٰی وعیسٰی، قال: فتذاکروا امر الساعۃ، فردوا امرھم إلٰی إبراھیم فقال: لا علم لی بھا! فردوا الأمر إلٰی موسٰی، فقال: لا علم لی بھا! فردوا الأم إلٰی عیسٰی، فقال: اما وجبتھا فلا یعلمھا احد إلَّا اللہ ذالک وفیما عھد إلیَّ ربِّی عزَّ وجلَّ ان الدَّجَّال خارجٌ، قال: ومعی قضیبان، فإذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص، قال: فیھلکہ اللہ حتّٰی إن الحجر والشجر لیقول: یا مسلم! إن تحتی کافرًا فتعال فاقتلہ! قال: فیھلکھم اللہ ۔۔۔الحدیث۔‘‘ (مسند احمد ج:۱ ص:۳۷۵)
یعنی ملاقات کی میں نے شبِ معراج میں اِبراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے، پھر قیامِ قیامت کا مذاکرہ کیا کہ کب ہوگی؟ سب اس سوال کو اِبراہیم پر پیش کئے، تو اِبراہیم کہے: ’’مجھ کو اِس کا علم نہیں!‘‘ پھر موسیٰ پر پیش کئے تو موسیٰ کہے: ’’مجھ کو اِس کا علم نہیں!‘‘ پھر عیسیٰ پر پیش کئے تو کہے کہ: ’’قیامت کا عین وقتِ وقوع سوائے اللّٰہ کے کوئی نہیں جانتا، لیکن میرے رَبّ عزوجل نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے، اور میرے ہاتھ میں دو چھڑی رہیں گی، پس جب دجال مجھ کو دیکھے گا، تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، پھر اللّٰہ تعالیٰ دجال کو ہلاک کرے گا جب مجھ کو دیکھے گا، یہاں تک کہ پتھر اور جھاڑ کہیں گے: ’’اے مسلمان! مقرّر میرے نیچے کافر ہے، تو آکے اس کو قتل کر!‘‘ پھر اللّٰہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کرے گا۔‘‘
اس حدیث کو اِبنِ ماجہ نے اپنی سنن میں بھی روایت کیا ہے، اس میں ہے: ’’فذکر خروج الدَّجَّال، قال: فأنزل فأقتلہ!‘‘ (سنن اِبنِ ماجہ ص:۲۹۹)، یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کو ذِکر کرکے فرمایا کہ: ’’میں اُترکے اس کو قتل کروں گا!‘‘
اور اس حدیث کو حاکمؒ نے بھی اپنی مستدرک میں روایت کیا ہے، اس میں ہے: ’’فذکر خروج الدَّجَّال، قال: فأنزل فأقتلہ!‘‘ (سنن اِبنِ ماجہ ص:۲۹۹)، یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے نکلنے کو ذِکر کرکے فرمایا کہ: ’’میں اُترکے اس کو قتل کروں گا!‘‘ حاکمؒ نے کہا: ’’اس کی اسناد
229
صحیح ہیں۔‘‘ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال کو قتل کرنے وہی عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے جن پر اِنجیل نازل ہوئی، اور اَب آسمان پر موجود ہیں۔
اور سعید بن منصور اور نسائی اور اِبنِ ابی حاتم اور اِبنِ مردویہ نے اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی:
’’لما اراد اللہ ان یرفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء، خرج علٰی اصحابہ، وفی البیت اثنا عشر رجلًا من الحواریین، یعنی فخرج علیھم من عین فی البیت ورأسہ یقطر ماء، فقال: إن منکم من یکفر بی اثنتی عشرۃ مرۃ بعد ان آمن بی، قال: ثم قال: أیکم یلقی علیہ شبھی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی؟ فقام شاب من احدثھم سنا، فقال: أنا! فقال لہ: اجلس!ثم أعاد علیھم فقام ذالک الشاب، فقال: اجلس! ثم أعاد علیھم فقام الشاب، فقال: انا! فقال:ھو انت ذاک، فألقی علیہ شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت إلی السماء۔‘‘ (ابن کثیر ج:۲ ص:۴۰۹، زیر آیت: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہِ اِلَیْہِ‘‘، سنن کبریٰ للنسائی ج:۶ ص:۴۸۹، کتاب التفسیر باب:۳۹۰)
یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جب عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالے جانے کا اِرادہ کیا تو عیسیٰ اپنے اصحاب کے پاس آئے، اور اس گھر میں عیسیٰ کے بارہ حواری تھے، اس گھر میں ایک چشمہ تھا، عیسیٰ اس میں سے نکل آئے، ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے، سو عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو فرمایا: تمہارے میں ایک شخص میرے پر اِیمان لایا سو بارہ دفعہ میرے سے کفر کرے گا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص چاہتا ہے کہ میرا شبیہ ہوجائے اور میرے عوض مارا جائے اور میرے ساتھ میرے درجے میں رہے؟ ان میں سے ایک کم عمر جوان کھڑا ہوا اور بولا: میں ہوتا ہوں! عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو کہا: بیٹھ! اور اس کو دوبارہ فرمایا، پھر وہی جوان اُٹھ کے کہا: میں حاضر ہوں! عیسیٰ علیہ السلام نے اس کو فرمایا: بیٹھ! اور پھر اس کلام کا اِعادہ کیا، پھر وہی جوان کھڑے ہوکے کہا: میں ہوں! عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: وہ تو ہی ہے! پھر وہ شخص عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بن گیا، عیسیٰ علیہ السلام گھر کے ایک جھروکے میں سے نکل کے آسمان پر چلے گئے۔‘‘
اور نسائی نے اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی:
’’ان رھطا من الیھود سبوہ واُمّہ فدعا علیھم فمسخھم اللہ قردۃً وخنازیر فاجتمعت الیھود علٰی قتلہ فأخبرہ اللہ تعالٰی بأنہ یرفعہ إلی السماء ویطھّرہ من صحبۃ الیھود، فقال لأصحابہ: ایکم یرضی ان یلقی اللہ شبھی فیقتل ویصلب ویدخل الجنۃ فقال رجل منھم: أنا! فألقی اللہ علیہ شبھہ فقتل وصلب۔‘‘ (تفسیر النسفی، الجزء الأوّل ص:۴۱۳، طبع بیروت)
یعنی ایک جماعتِ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو گالیاں دیں، تب عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر بددُعا کی، سو اللّٰہ تعالیٰ نے اس جماعت کو مسخ کرکے بندر اور خنازیر بنادیا، پھر یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قتل پر جمع ہوئے، سو اللّٰہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ ان کو آسمان پر لے جاتا ہوں اور یہود کی صحبت سے پاک کرتا ہوں، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو کہا: تم میں کون
230
شخص راضی ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کو میرا شبیہ کرے، سو قتل کیا جائے اور سولی دیا جائے اور جنت میں داخل ہوجائے؟ پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں راضی ہوں! سو اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو عیسیٰ کا شبیہ کیا، پھر وہ قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔
اِبنِ ابی حاتم ؒ نے حسن سے روایت کی:
’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للیھود: ان عیسٰی لم یمت وإنہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۳۶۶)
یعنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہود کو فرمایا: مقرّر عیسیٰ نہیں مرے، اور وہ روزِ قیامت کے آگے تمہاری طرف لوٹنے والے ہیں۔
اِبنِ جریرؒ اور اِبنِ ابی حاتم ؒ نے ربیعؒ سے روایت کی:
’’قال: ان النصاریٰ اتوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فخاصموہ فی عیسی بن مریم، وقالوا لہ: من ابوہ؟ وقالوا علی اللہ الکذب والبھتان، لا إلٰہ إلَّا ھو، لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدًا، فقال لھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ألستم تعلمون انہ لا یکون ولد إلَّا وھو یشبہ اباہ؟ قالوا: بلٰی! قال: ألستم تعلمون ان ربنا حیٌّ لا یموت، وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء؟‘‘
(جامع البیان عن تأویل آی القرآن، ابن جریر ج:۳ ص:۱۶۳، طبع دار الفکر، بیروت)
یعنی نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نزدیک نصاریٰ کی ایک جماعت آئی، سو عیسیٰ بن مریم میں جھگڑنے لگی، اور کہا: ان کا باپ کون ہے؟ اور اللّٰہ تعالیٰ پر کذب وبہتان کرنے لگے، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی لڑکا نہیں پیدا ہوتا مگر وہ اپنے باپ سے شبیہ ہوتا، سو تم جانتے ہو یا نہیں؟ کہا: ہاں! تب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رَبّ زِندہ ہے نہ مرے گا، اور عیسیٰ پر فنا آئے گی تو تم جانتے ہو یا نہیں؟
دیکھو! اس حدیث میں: ’’عیسیٰ پر موت آئے گی‘‘ کرکے فرمایا، اور ’’عیسیٰ فنا ہوگئے‘‘ کرکے نہیں فرمایا۔
روایت ہے اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے:
’’کنا فی المسجد نتذاکر فضل الأنبیاء فذکرنا نوحًا بطول عبادتہ، وإبراھیم بخلۃ، وموسٰی بتکلیم اللہ تعالٰی إیَّاہ، وعیسٰی برفعہ إلی السماء، وقلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل منھم، بعث إلی الناس کافۃ، وغفر لہ ما تقدم من ذنبہ وما تأخَّر، وھو خاتم الأنبیاء، فدخل علینا فقال: فیم انتم؟ فذکرنا لہ ۔۔۔إلخ۔‘‘
(الکشاف، تحت آیۃ: تلک الرسل فضلنا بعضھم علٰی بعض، ج:۱ ص:۲۹۸)
یعنی بایکدیگر ہم صحابہ مسجد میں انبیاء علیہم السلام کے فضل کو بیان کر رہے تھے، سو نوح علیہ السلام کا ذِکر کیا ان کی طولِ عباد سے، اور اِبراہیم علیہ السلام کا ان کی خلت سے، اور موسیٰ علیہ السلام کا اللّٰہ تعالیٰ سے بات کرنے میں، اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللّٰہ تعالیٰ کا
231
آسمان پر لے جانے میں، اور ہم نے کہا کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں کہ آپ کافہ ناس یعنی سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں، اور آپ کے اگلے پچھلے گناہ مغفرت کئے گئے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں، پھر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہمارے نزدیک تشریف لائے، سو فرمایا: تم کیا ذکر کرتے تھے؟ پس ہم نے عرض کیا ۔۔۔الخ۔
بزار اور طبرانی نے سمرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ثم یجیء عیسی بن مریم من قبل المغرب مصدقا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم فیقتل الدَّجَّال وإنما ھو قیام الساعۃ۔‘‘ (طبرانی کبیر ج:۷ ص:۲۲۱، حدیث نمبر:۶۹۱۹)
یعنی اُتریں گے عیسیٰ بن مریم، محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہوئے اور انہیں کی ملت پر، پھر قتل کریں گے دجال کو اس کے بعد کچھ نہیں پر یہ کہ قیامت قائم ہوگی۔
اور طبرانی معجم کبیر واَوسط میں اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللّٰہ بن مغفل رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یلبث الدَّجَّال فیکم ما شاء اللہ ثم ینزل عیسی بن مریم مصدقًا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلٰی ملتہ إمامًا مھدیًا وحکمًا عدلًا فیقتل الدَّجَّال۔‘‘
(طبرانی اوسط ج:۳ ص:۲۷۷، حدیث:۴۵۸۰)
یعنی تمہارے میں دجال جب تک خدا چاہے، ٹھہرا رہے گا، اس کے بعد عیسیٰ بن مریم اُتریں گے، محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتے ہوئے اور انہیں کی ملت پر اِمام ہدایت پایا ہوا اور حاکمِ عادل، پھر دجال کو قتل کریں گے۔
حافظ السیوطیؒ نے کہا کہ اس کی سند جید ہے، اور اِبنِ عساکرؒ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول، الا انہ خلیفتی فی اُمّتی من بعدی۔‘‘
(ابن عساکر ج:۲۰ ص:۱۴۴)
یعنی پکی بات ہے کہ اِبنِ مریم کے اور میرے درمیان نہ کوئی نبی اور نہ کوئی رسول ہے، سنیو! میرے بعد میری اُمت پر مقرّر وہ میرا خلیفہ ہے۔
اور اِبنِ عساکرؒ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لیھبطن اللہ عیسی بن مریم حکَمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا فلیسلکن فج الروحاء حاجًّا او معتمرًا ولیقفن علٰی قبری لیسلمن علیَّ ولأردن علیہ۔‘‘ (ایضًا)
یعنی البتہ اُتارے گا اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کرکے پھر حج یا عمرہ کرتے ہوئے روحاء(۱) کی راہ میں چلیں گے، اور البتہ میری قبر کے پاس کھڑے ہوکر مجھ کو سلام کریں گے، اور البتہ میں ان کے سلام کا جواب دُوں گا۔
(۱) ’’روحاء‘‘ نام ہے ایک جگہ کا مدینے سے چھتیس میل پر، اسی راہ سے انبیاء حج کو جاتے تھے۔
232
اور ابوداؤد طیالسیؒ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یمکث عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فی الأرض بعد ما ینزل أربعین سنۃ ثم یموت ویصلّی علیہ المسلمون ویدفنونہ۔‘‘
(مسند ابی داوٗد الطیالسی، الجزء العاشر، ص:۳۳۱، حدیث:۲۵۴۱، طبع مکتبہ حسینیہ، گوجرانولہ)
یعنی عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اُترنے کے بعد زمین پر چالیس سال رہیں گے، اس کے بعد مریں گے، اور مسلمانان ان پر نماز پڑھیں گے اور دفن کریں گے۔
حکیم ابوعبداللّٰہ الترمذیؒ نے نوادر الاصول میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’والذی بعثنی بالحق لیجدن ابن مریم فی اُمّتی خلفًا من حواریہ۔‘‘
یعنی قسم ہے اس کی جس نے مجھ کو حق کے ساتھ بھیجا، اِبنِ مریم میری اُمت اپنے حواری کا بدل پائے گا، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر جانے کے قبل حواریان تھے، سو ان کے عوض میری اُمت کے چند لوگ جو حواری کے مثل ہوں گے، عیسیٰ علیہ السلام کے نزدیک رہیں گے۔
اور روایت کی ہے ابویعلیٰ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لیدرکن رجال من اُمّتی عیسی بن مریم ولیشھدن قتال الدَّجَّال۔‘‘
(المطالب العالیۃ للحافظ ابن حجر، باب علامات الساعۃ، مکتبۃ الشاملۃ)
یعنی البتہ پائیں گے میری اُمت سے چند لوگ عیسیٰ بن مریم کو اور البتہ حاضر ہوجائیں گے دجال کے قتال میں۔
المستدرک حاکم نے انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’من ادرک منکم عیسی بن مریم فلیقرأہ مِنِّی السلام۔‘‘
(درمنثور ج:۲ ص:۲۴۵، مستدرک ج:۵ ص:۷۵۵، حدیث نمبر:۸۶۷۹)
یعنی جو شخص تم میں سے عیسیٰ بن مریم کو پائے گا تو چاہئے اس کو میرا سلام کہے۔ حاکم نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔
یاد رکھئے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی اُمت کو عیسیٰ علیہ السلام کو سلام پہنچانے کے باب میں وصیت فرمائی ہے، پھر جو شخص عیسیٰ علیہ السلام کو پائے گا تو اس کو ضرور ہے کہ سلام پہنچائے اور یہ خیال رکھنا کہ کوئی زِندیق آپ ، عیسیٰ بن مریم ہوکرکے دعویٰ کیا تو اس کو سلام نہیں پہنچانا، بلکہ وہ عیسیٰ جو آسمان سے تشریف لائیں گے، ان کو پہنچانا ہے۔
اِبنِ ابی شیبہ اور اِمام احمد نے عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک بار رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں روتی تھی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس لئے روتی ہو؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! آپ نے دجال کا ذِکر کیا، اس لئے میں روئی! رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
233
’’إن یخرج الدَّجَّال وانا حیٌّ کفیتموہ، وإن یخرج الدَّجَّال بعدی فإن ربکم عزَّ وجلَّ لیس بأعور، انہ یخرج فی یھودیۃ اصبھان حتّٰی یأتی المدینۃ فینزل ناحیتھا ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علٰی کل نقب منھا ملکان فیخرج إلیہ شرار اھلھا حتّٰی الشام مدینۃ بفلسطین بباب لُدٍّ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فینزل عیسٰی علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسٰی علیہ السلام فی الأرض أربعین سنۃ إمامًا عدلًا وحَکَمًا مقسطًا۔‘‘ (مسند احمد ج:۶ ص:۷۵)
یعنی اگر دجال نکلے اور میں زندہ رہوں توتم کو میں کافی ہوں، اگر میرے بعد نکلا تو تم پہچانو کہ مقرّر تمہارا پروردگار کانا نہیں، بے شک دجال اصبہان کے یہودیہ(۱) سے نکلے گا، یہاں تک کہ مدینے کو آکے اس کے ایک جانب میں اُترے گا، اس وقت مدینہ کو سات دروازے رہیں گے، اس کے ہر راستے پر دو فرشتے رہیں گے، مدینہ میں بدلوگ جو ہیں سب نکل کر دجال کے پاس جائیں گے، بعد دجال فلسطین کے علاقے میں شام کا شہر جو ہے وہاں جاکے لُدّ کے دروازے کے پاس اُترے گا، پھر عیسیٰ بن مریم اُترکے اس کو قتل کریں گے اور عیسیٰ زمین پر چالیس برس تک اِمامِ عادل اور حَکَمِ مقسط ہورہیں گے۔
اِبنِ عساکرؒ نے عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہما سے ایک طویل حدیث روایت کی، اس میں مذکور ہے:
’’فبینما ھم کذالک إذ سمعوا صوتًا من السماء ان ابشروا فقد أتاکم الغوث! فیقولون: نزل عیسی بن مریم، فیستبشرون ویستبشر بھم ویقولون: صل یا روح ﷲ! فیقول: ان اللہ اکرم ھٰذہ الاُمَّۃ فلا ینبغی لأحد ان یؤُمھم إلَّا منھم فیصل امیر المؤْمنین بالناس ویصلّی عیسٰی خلفہ۔‘‘ (ابن عساکر ج:۲۰ ص:۱۵۰)
یعنی لوگ اسی حالت میں یعنی سختی ومشقت میں رہیں گے، دفعۃً آسمان سے آواز سنیں گے کہ: اے لوگو! خوش ہوجاؤ، تمہارا فریادرس آیا! سو لوگ ایک دُوسرے سے کہیں گے عیسیٰ بن مریم اُترے ہیں، پھر لوگ خوش ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی لوگوں سے خوش ہوں گے، اور لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو کہیں گے: یا رُوح اللّٰہ نماز پڑھائیے! تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: مقرّر اللّٰہ تعالیٰ نے اس اُمت کو بزرگی دی ہے، سو ان کے سوا دُوسرے کسی کو ان کی اِمامت کرنا سزاوار نہیں، پھر مؤمنوں کا امیر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھے گا اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔۔۔الحدیث۔
اِبنِ ابی شیبہؒ نے عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی:
’’قال: ینزل المسیح بن مریم فإذا رآہ الدَّجَّال ذاب کما تذوب الشحمۃ، قال: فیقتل الدَّجَّال وتفرق عنہ الیھود فیقتلون حتّٰی ان الحجر یقول: یا عبد اللہ المسلم! ھٰذا یھودی فتعال فاقتلہ!‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج:۲۱ ص:۲۱۳،۲۱۴، حدیث نمبر:۳۸۶۴۹، کتاب الفتن، باب واذکر فی فتنۃ الدَّجَّال، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ)
(۱) ’’یہودیہ‘‘ نام ہے ایک قریہ کا اصبہان کے علاقے میں۔
234
یعنی مسیح بن مریم اُتریں گے، پھر ان کو دجال دیکھے گا تو پگھلے گا جیسا چربی پگھلتی ہے، پس عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے اور یہود متفرق ہوجائیں گے، سو لوگ قتل کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان کو پتھر کہے گا: اے اللّٰہ کے بندے! یہ یہودی ہے، سو تو آکے اس کو قتل کر!
اور نعیم نے عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی، اس میں مذکور ہے:’’حتّٰی ینزل علیھم عیسی بن مریم فیقاتلون معہ الدَّجَّال‘‘ یعنی یہاں تک کہ مؤمنوں پر عیسیٰ بن مریم اُتریں گے، سو مؤمنین ان کے ہمراہ دجال سے قتال کریں گے۔
ترمذی نے اپنی سنن میں مجمع بن جاریۃ الانصاریؓ سے روایت کی: میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سنا فرماتے تھے:
’’یقتل ابن مریم الدَّجَّال بباب لُدٍّ۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۴۹، ابواب الفتن، باب ما جاء فی قتل عیسی بن مریم الدَّجَّال)
یعنی اِبنِ مریم لُدّ کے دروازے کے پاس دجال کو قتل کریں گے۔ اس حدیث کو اِمام احمدؒ اور طبرانیؒ وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے، اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، اور کہا: اس باب میں عمران بن حصین اور نافع بن عتبہ اور ابوبرزہ اور حذیفہ بن اسید اور ابوہریرہ اور کیسان اور عثمان بن ابی العاص اور جابر اور ابواُمامہ اور اِبنِ مسعود اور عبداللّٰہ بن عمرو اور سمرہ بن جندب اور نواس بن سمعان اور عمرو بن عوف اور حذیفہ بن الیمان ۔۔۔رضی اللّٰہ عنہم۔۔۔ سے بھی احادیث مروی ہیں۔
اِبنِ جریر نے حذیفہ بن الیمان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اوّل الآیات الدَّجَّال ونزول عیسٰی۔‘‘ (ابن جریر ج:۱۷ ص:۸۷)
یعنی قیامت کی اوّل نشانیوں میں سے ہے دجال اور نازل ہونا عیسیٰ کا۔
اِبنِ ابی شیبہؒ نے ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لا تقوم الساعۃ حتّٰی ینزل عیسی بن مریم حکَمًا مقسطًا وإمامًا عادلًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد۔‘‘ (ج:۲۱ ص:۲۱۴، حدیث نمبر۳۸۶۵۰، کتاب الفتن، باب ما ذکر فی فتنۃ الدجال، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ)
یعنی قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم اُتریں گے حَکَمِ مقسط اور اِمامِ عادل ہوکے، پھر صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اُٹھائیں گے، اور مال بہت ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔
طبرانی اور حاکم اور اِبنِ مردویہ نے واثلہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لا تقوم الساعۃ حتّٰی یکون عشر آیات : خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف فی جزیرۃ العرب، والدَّجَّال، والدُّخان، ونزول عیسی بن مریم فیأجوج ومأجوج۔‘‘
(مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۲۸، حدیث نمبر:۸۳۶۶، باب لا تقوم الساعۃ)
235
یعنی قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ہوں: خسف مشرق میں، اور خسف مغرب میں، اور خسف جزیرۂ عرب میں اور دجال اور اُترنا عیسیٰ کا اور یأجوج ومأجوج۔
طبرانی نے اوس بن اوس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ینزل عیسی بن مریم عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق۔‘‘
(طبرانی کبیر ج:۱ ص:۲۱۷، حدیث نمبر:۵۹۰)
یعنی اُتریں گے عیسیٰ بن مریم سفید منارہ پاس جو دمشق کے شرقی جہت میں ہے۔
طبرانی نے نافع بن کیسان سے، وہ اپنے والد کیسان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ینزل عیسی بن مریم عند المنارۃ البیضاء فی دمشق شرقی۔‘‘
(طبرانی کبیر ج:۱۹ ص:۱۹۶ حدیث:۴۴۰)
یعنی اُتریں گے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی جہت میں۔
ابوداؤد طیالسیؒ نے ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ینزل عیسی بن مریم إلی الأرض فیتزوج ویولد لہ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، طبع قدیمی کتب خانہ)
یعنی عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے، پھر نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔
اور طبرانی نے عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے:
’’قال: یدفن عیسی بن مریم مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وعمرفیکون قبرًا رابعًا۔‘‘ (جامع المسانید والسُّنن ج:۸ ص:۶۹،۷۰ حدیث نمبر:۵۶۶۹)
یعنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ابی بکرؓ اور عمرؓ کے پاس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مدفون ہوں گے، عیسیٰ کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔ اس حدیث کو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور یحییٰ نے عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’یدفن عیسی بن مریم مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصاحبیہ رضی اللہ عنھما فیکون قبرہ رابع۔‘‘
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۷۰، باب ذکر المسیح عیسی بن مریم علیہ السلام، طبع بیروت)
اور ترمذی نے عبداللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے:
’’قال مکتوب فی التوراۃ صفۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعیسی بن مریم یدفن معہ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۰۲، ابواب المناقب)
236
یعنی توراۃ میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفت لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ بن مریم حضرت کے پاس مدفون ہوں گے۔ ترمذی نے کہا: ابومودود کہتا ہے کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ ابن النجار نے کہا: اہل سِیَر کہتے ہیں کہ: وہاں ایک قبر کی جگہ ہے، سو سعید بن المسیبؒ سے منقول ہے کہ اسی میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مدفون ہوں گے۔
اِمام احمد اپنی مسند میں اور حاکم مستدرک میں عثمان بن ابی العاص رضی اللّٰہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں مذکور ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’فینزل عیسی بن مریم علیہ الصلٰوۃ والسلام عند صلٰوۃ الفجر فیقول لہ إمام الناس: تقدم یا رُوح اللہ فصل بنا! فیقول: إنکم معشر ھٰذہ الاُمَّۃ اُمراء بعضکم علٰی بعض، تقدم انت فصل بنا! فیتقدم فیصلی بھم، فإذا انصرف أخذ عیسٰی صلوات اللہ علیہ حربتہ نحو الدَّجَّال فإذا رآہ ذاب کما یذوب الرصاص فتقع حربتہ بین ثندوتہ فیقتلہ ثم ینھزم اصحابہ فلیس شیء یومئذ یحبس منھم احدًا حتّٰی ان الحجر یقول: یا مؤْمن ھٰذا کافر فاقتلہ!‘‘
(مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۷۸، باب نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء)
یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کی نماز کے وقت اُتریں گے لوگوں کا امیر عیسیٰ کو کہے گا: یا رُوح اللّٰہ آپ پڑھائیے نماز! عیسیٰ کہیں گے: یہ اُمت بعض ان کے بعض پر اَمیر ہیں، پھر وہ امیر مقدم ہوکے نماز پڑھائے گا، نماز سے فراغت ہوتے ہی عیسیٰ اپنا حربہ لے کے دجال کی طرف جائیں گے، دجال ان کو دیکھ کے پگھلے گا جیسے سیسے پگھلتا ہے عیسیٰ اپنا حربہ دجال کے تندوے پر یعنی پستان کے گوشت پر رکھ کر دجال کو قتل کریں گے، اس کے ساتھ والے بھاگیں گے، ان کو پناہ کے واسطے کچھ چیز نہ ملے گی، یہاں تک کہ جھاڑ بولے گا: اے مؤمن! یہ کافر ہے یعنی یہاں کافر چھپا ہے تو اس کو قتل کر۔
ابونعیم نے ابی سعید رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ینزل عیسی بن مریم علیہ السلام فیقول امیرھم المھدی: تعال صل بنا! فیقول: ألا وإن بعضکم علٰی بعض امراء تکرمۃ اللہ لھٰذہ الاُمَّۃ۔‘‘
(الحاوی للسیوطی ج:۲ ص:۶۴، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ومسند احمد ج:۳ ص:۳۸۴)
یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اُتریں گے، لوگوں کا امیر مہدی کہے گا: آؤ ہمارے ساتھ نماز پڑھو! عیسیٰ کہیں گے: ایسا نہیں! (یعنی میں اِمام ہوکے نماز نہیں ادا کروں گا) تمہارے بعض،بعض پر امیر ہیں، اللّٰہ تعالیٰ سے اس اُمت کو بزرگی ہے۔
اِسحاق بن بشر اور اِبنِ عساکر نے اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے، اس میں مذکور ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’فعند ذالک ینزل اخی عیسی بن مریم من السماء۔‘‘ (ابن عساکر ج:۲۰ ص:۱۴۸،۱۴۹)
یعنی پھر اس وقت یعنی جبکہ دجال مسلط ہوگا اور مؤمنان بیت المقدس میں جمع ہوں گے تو میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان
237
سے اُتریں گے ۔۔۔الحدیث۔ اس حدیث میں تصریح ہوچکی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے۔
ابوعمر الدانی نے اپنی سنن میں حذیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یلتفت المھدی وقد نزل عیسی بن مریم کأنما یقطر من شعرہ الماء فیقول المھدی: تقدم صل بالناس! فیقول عیسٰی: إنما اقیمت الصلٰوۃ لک! فیصلی خلف رجل من ولدی۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۸۱، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
یعنی مہدی پلٹ کے دیکھے تو عیسیٰ بن مریم اُترے ہیں، گویا کہ ان کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہے، پھر مہدی کہیں گے: آپ مقدم ہو اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو! تو عیسیٰ کہیں گے: تمہارے ہی لئے نماز کی اِقامت ہوئی! پھر میری اولاد میں سے ایک شخص کے پیچھے عیسیٰ نماز پڑھیں گے۔
حاکم نے حریث بن مخشی سے روایت کی:
’’ان علیا قتل صبیحۃ احدی وعشرین من رمضان فسمعت الحسن بن علی وھو یقول: قتل لیلۃ انزل القرآن، ولیلۃ اسری بعیسٰی ولیلۃ قبض موسٰی۔‘‘ (درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
یعنی علیؓ اکیسویں رمضان کی صبح کو شہید ہوئے، سو میں نے حسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما کو سنا، فرماتے تھے کہ: قتل کئے گئے اس شب میں جو قرآن نازل ہوا، اور اس شب میں جو عیسیٰ علیہ السلام اِسرا کئے گئے، یعنی اللّٰہ تعالیٰ ان کو لے گیا، اور اس شب میں جو موسیٰ علیہ السلام وفات پائے۔
ابونعیم نے کعب الاحبارؒ سے روایت کی:
’’قال: یحاصر الدَّجَّال المؤْمنین ببیت المقدس فیصیبھم جوع شدید حتّٰی یأکلوا اوتار قسیھم من الجوع، فبینما ھم علٰی ذالک إذ سمعوا صوتًا فی الغلس فیقولون: إن ھٰذا لصوت رجل شبعان فینظرون فإذا بعیسی بن مریم ویقام الصلٰوۃ فیرجع إمام المسلمین المھدی فیقول عیسٰی علیہ السلام: تقدم فلک اقیمت الصلٰوۃ! فیصلی بھم تلک الصلٰوۃ، ثم یکون عیسٰی إمامًا بعدہ۔‘‘
یعنی دجال محاصرہ کرے گا مؤمنوں کو بیت المقدس میں، پھر لوگوں کو سخت فاقہ کشی ہوگی یہاں تک کہ بھوک سے اپنی کمان کی وتر یعنی چلاچوپی کا ہوتا ہے، اس کو کھائیں گے، اسی حالت میں رہیں گے، دفعۃً آخرِشب کی اندھیری میں آواز سنیں گے، لوگ ایک دُوسرے سے کہیں گے: یہ پیٹ بھرے آدمی کی آواز ہے! پھر دیکھے تو یکایک عیسیٰ بن مریم ہیں اور نماز کی اِقامت کہی جائے گی، پھر مہدی مسلمانوں کا اِمام پیچھے ہٹے گا تو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: تم مقدم ہو، تمہارے ہی لئے نماز کی اِقامت ہوئی! پھر مہدی لوگوں کے ساتھ نماز پڑھیں گے، پھر اس کے بعد کی نمازوں میں عیسیٰ علیہ السلام اِمام ہوں گے۔
اِبنِ ابی شیبہؒ نے اپنی مصنف اِبنِ سیرینؒ سے روایت کی ہے:
238
’’قال المھدی من ھٰذہ الاُمَّۃ وھو الذی یؤُمّ عیسی بن مریم علیہ الصلٰوۃ والسلام۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبۃ ج:۸ ص:۶۷۹، حدیث:۱۹۵، کتاب الفتن)
یعنی مہدی اسی اُمت سے ہے، اور وہی اِمامت کریں گے عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی۔
اِبنِ جریرؒ نے بہ سندِ صحیح کعبؒ سے روایت کی ہے:
’’قال: فلما رأیٰ عیسٰی قلۃ من اتبعہ وکثرۃ من کذبہ، شکی ذالک إلی اللہ عزَّ وجلَّ، فأوحی اللہ إلیہ: إنّی متوفیک ورافعک إلیَّ ۔۔۔۔ وانی سأبعثک علی الأعور الدَّجَّال فتقتلہ۔‘‘
(ابن جریر ج:۳ ص:۲۹۰، جزء ثالث، طبع دار الفکر، بیروت، الدر المنثور ج:۲ ص:۳۲)
یعنی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے تابعون کی کمی اور جھٹلانے والے لوگوں کی کثرت دیکھی تو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی شکایت کی، اللّٰہ تعالیٰ نے وحی کی کہ: میں تجھ کو لینے والا ہوں اور اُٹھالینے والا ہوں اپنی طرف، اور میں قریب اَعوَر دَجال کی طرف تجھ کو بھیجوں گا، پھر تو اس کو قتل کرے گا۔
حاکمؒ نے اپنی مستدرک (ج:۳ ص:۳۲،۳۳، حدیث نمبر:۳۲۶۰) میں اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی:
’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج قال: خروج عیسی بن مریم صلوات اللہ علیہ۔‘‘
یعنی قرآن شریف میں: ’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج‘‘ جو ہے، اس سے مراد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا خروج ہے۔ حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے بخاری اور مسلم کی شرط پر۔
اور اِبنِ کثیرؒ نے حسن بصریؒ سے روایت کی:
’’وإن من اھل الکتٰب إلَّا لیؤْمنن بہ قبل موت عیسٰی و اللہ انہ الآن حیٌّ عند اللہ ولٰکن إذا نزل آمنوا بہ اجمعون۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۱۲، طبع جدید)
یعنی اہلِ کتاب کا کوئی شخص نہیں، مگر عیسیٰ کے موت کے آگے ان پر اِیمان لائے گا، اور قسم ہے اللّٰہ تعالیٰ کی! مقرّر عیسیٰ اس وقت زندہ ہیں، اور لیکن جب اُتریں گے تو سب ان پر اِیمان لائیں گے۔
اِمام احمد اور اِبنِ ابی حاتم اور طبرانی اور اِبنِ مردویہ اور عبدبن حمید اور مسدد اور سعید بن منصور اور فریابی ۔۔۔رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ۔۔۔ نے اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی:
’’ قال: وھو خروج عیسی بن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ۔‘‘
(مسند احمد ج:۱ ص:۳۱۸)
یعنی قرآن شریف میں ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ جو ہے، اس سے مراد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام قیامت کے قبل خروج کرنا ہے۔
اور عبدبن حمیدؒ نے ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی:
239
’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ قال: خروج عیسٰی یمکث فی الأرض اربعین سنۃ تکون تلک الأربعین اربع سنین یحج ویعتمر۔‘‘ (تفسیر درمنثور ج:۶ ص:۲۰)
یعنی ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا نکلنا ہے، وہ زمین پر چالیس سال رہیں گے، وہ چالیس سال بمنزلہ چار سال کے ہوں گے، حج اور عمرہ ادا کریں گے۔
اور عبدبن حمیدؒ اور اِبنِ جریرؒ نے حسنؒ سے روایت کی ہے:
’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ قال: نزول عیسی بن مریم۔‘‘
(ابن جریر ج:۱۳ ص:۹۰، جزء:۲۵، مستدرک حاکم ج:۳ ص:۲۴۱، حدیث نمبر:۳۷۲۷)
یعنی ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا اُترنا ہے۔
اور عبدالرزاقؒ اور عبدبن حمیدؒ اور اِبنِ جریرؒ نے قتادہؒ سے روایت کی:
’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ قال: نزول عیسٰی علم للساعۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وناس یقولون القرآن علم الساعۃ۔‘‘ (ابن جریر طبری ج:۱۰ ص:۹۰،۹۱، الجزء الخامس والعشرون، تفسیر درمنثور ج:۶ ص:۲۰)
ان سب اَحادیث وآثارِ صحیحہ سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے اور اَب آسمان پر زِندہ ہیں، اور اَخیر زمانے میں آسمان سے نازل ہوکے دجالِ اَعوَر کو قتل کریں گے، اور مراد دَجال سے ایک معین شخص ہے، جو اَوّلاً نبوّت کا دعویٰ کرکے اس کے بعد اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، اور اقسام کے فتنے پھیلادے گا، تب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے سفید منارہ کے پاس جو دمشق کے شرقی جہت میں ہے، اُتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد یأجوج ومأجوج نکلیں گے، سو اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی دُعا سے ان کو ہلاک کرے گا، اس کے کئی سال کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روضۂ منوّر میں مدفون ہوں گے۔ پھر جو کوئی آپ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور شہر دمشق سے مراد قادیان، اور دجال سے مراد پادریوں کی جماعت، اور یأجوج ومأجوج سے مراد رُوس وانگریز کرکے کہتا ہے اور زعم کرتا ہے کہ اپنے کو خواب پڑا ہے کہ میں ہی روضۂ مبارک میں دفن ہوں گا، سو وہ جھوٹا اور زِندیق ہے! عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت جو اُمور واقع ہوں گے، وہ بالتفصیل صراحۃً احادیث میں مذکور ہیں، ان سے کوئی ایک امر اس زِندیق میں نہیں پایا جاتا، اس لئے احادیثِ صحیحہ کو حقیقی معنی سے پھیرکے اپنے زعم کے موافق غلط معنی کرتا ہے۔
اِمام نوویؒ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے:
’’قال القاضی: ھٰذہ الأحادیث التی ذکرھا مسلم وغیرہ فی قصۃ الدَّجَّال حجَّۃ لمذھب اھل الحق فی صحۃ وجودہ وانہ شخص بعینہ ابتلی اللہ بہ عبادہ واقدرہ علٰی اشیاء من مقدورات اللہ تعالٰی من إحیاء الموتی الذی یقتلہ ومن ظھور زھرۃ الدنیا والخصب معہ وجنتہ ونارہ ونھریہ وإتّباع کنوز الأرض لہ، وامرہ السماء أن تمطر فتمطر، والأرض أن تنبت
240
فتنبت، فیقع کل ذالک بقدرۃ اللہ ومشیئتہ، ثم یعجزہ اللہ تعالٰی بعد ذالک فلا یقدر علٰی قتل ذالک الرجل ولا غیرہ ویبطل امرہ ویقتلہ عیسٰی علیہ السلام ویثبت اللہ الذین آمنوا، ھٰذا مذھب أھل السُّنَّۃ وجمیع المحدثین والفقھاء والنظار۔‘‘
(نووی شرح مسلم ج:۲ ص:۳۹۹، باب ذکر الدَّجَّال)
اور معلوم کریں کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید مینار کے پاس اُتریں گے کرکے جو اَحادیثِ صحیحہ میں آیا ہے، سو اس پر کسی زِندیق نے اِعتراض کیا ہے کہ ان دنوں انگریزی اخبارات سے معلوم ہوا کہ شہر دمشق کی مسجد جل گئی، پھر سفید منارہ باقی نہ رہا۔ یہ اِعتراض جو اَحادیثِ صحیحہ پر کرتا ہے، سو وہ قساوتِ قلبی سے ہے، اب منارہ بیضا جل گیا اور موجود نہ رہا تو بھی اس سے کچھ خلل نہیں، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے قبل وہاں البتہ بنایا جاوے گا۔ شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے ’’مصباح الزجاجۃ علٰی سنن ابن ماجۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’قال حافظ ابن کثیر: وقد جددت منارۃ فی زماننا وفی سنۃ احدی واربعین وسبعمائۃ من حجارۃ بیض ولعل ھٰذا یکون من دلائل النبوۃ الظاھرۃ حیث فرض اللہ بناء ھٰذہ المنارۃ لینزل عیسی بن مریم، قلت: ھو من دلائل النبوۃ بلا شک فإنہ صلی اللہ علیہ وسلم اوحی إلیہ بجمیع ما یحدث بعدہ مما لم یکن فی زمانہ۔‘‘
اس کے بعد کہا:
’’فإن لم یکن فی بیت المقدس الآن منارۃ بیضاء فلا بد ان تحدث قبل نزولہ۔‘‘
(سنن ابن ماجۃ ج:۲ ص:۲۹۷، حاشیۃ باب فتنۃ الدجال)
اور ہم نے جو ذِکر کیا اس ہی پر اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔
تفسیر اِبنِ کثیر میں ہے:
’’ثم ان رفعہ إلیہ وانہ باق حی وانہ سینزل قبل یوم القیامۃ کما دلت علیہ الأحادیث المتواترۃ التی سنوردھا إن شاء اللہ قریبًا فیقتل المسیح الضلالۃ ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ یعنی لا یقبلھا من احد من اھل الأدیان بل لا یقبل إلَّا الإسلام او السیف۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۰۲،۴۰۳، طبع بیروت، لبنان)
اِمام ابوحنیفہؒ نے فقہ اکبر میں لکھا ہے:
’’وخروج الدَّجَّال، ویأجوج ومأجوج، وطلوع الشمس من مغربھا، ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء، وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبار الصحیحۃ حق کائن۔‘‘
(فقہ اکبر ص:۵۴،۵۵)
241
اور شیخ شہاب الدین السہروردی قدس سرہٗ نے ’’اعلام الہدی وعقیدۃ ارباب التقی‘‘ میں فرمایا ہے:
’’وتعتقد ان عیسٰی علیہ السلام ینزل وان الدَّجَّال یخرج والشمس تطلع من مغربھا، کل ذالک حق لا شک فیہ۔‘‘
اور اِمام کمال الدین محمد بن الہمامؒ نے کتاب ’’المسائرۃ فی العقائد المنجیۃ فی الآخرۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’واشراط الساعۃ من خروج الدَّجَّال ونزول عیسٰی علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج وخروج الدابۃ وطلوع الشمس من مغربھا حق۔‘‘
اور ’’توضیح شرح المسائرۃ‘‘ میں ہے:
’’واشراط الساعۃ من خروج الدَّجَّال ونزول عیسی بن مریم علیہ الصلٰوۃ والسلام من السماء وخروج یأجوج ومأجوج وخروج الدابۃ کما فی سورۃ النمل وفی جامع الترمذی عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تخرج الدابۃ ومعھا خاتم سلیمان وعصٰی موسٰی فتجلو وجہ المؤْمن وتحطم انف الکافر، الحدیث، وطلوع الشمس من مغربھا کل منھا حق وردت بھا النصوص الصحیحۃ الصریحۃ۔‘‘
اِمام نوویؒ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے:
’’قال القاضی عیاض رحمہ اللہ تعالٰی: نزول عیسٰی علیہ السلام وقتلہ الدَّجَّال حق وصحیح عند اھل السُّنَّۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذالک ولیس فی العقل ولا فی الشرع ما یبطلہ، فوجب إثباتہ، وانکر ذالک بعض المعتزلۃ والجھمیۃ ومن وافقھم وزعموا ان ھٰذہ الأحادیث مردودۃ بقولہ تعالٰی: وخاتم النَّبیّٖن، وبقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا نبی بعدی، وبإجماع المسلمین انہ لا نبی بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم، وان شریعتہ مؤَیدۃ إلٰی یوم القیامۃ لا تنسخ وھٰذا إستدلال فاسد لأنہ لیس المراد بنزول عیسٰی علیہ السلام انہ لا ینزل نبیًّا بشرع ینسخ شرعنا ولا فی ھٰذہ الأحادیث ولا فی غیرھا شیء من ھٰذا بل صحت ھٰذہ الأحادیث ھنا وما سبق فی کتاب الإیمان وغیرھا انہ ینزل حکَمًا مقسطًا یحکم شرعنا ویحیی من اُمور شرعنا ما ھجرہ الناس۔‘‘ (نووی شرح مسلم ج:۲ ص:۴۰۳، باب ذکر الدَّجَّال)
اور اِمام عبداللّٰہ النسفی نے ’’عمدۃالعقائد‘‘ میں لکھا ہے:
’’وما اخبر بہ النبی علیہ السلام من خروج الدَّجَّال ودابۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی علیہ السلام وطلوع الشمس من مغربھا حق۔‘‘
اور علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے:
242
’’وما اخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اشراط الساعۃ ای من علاماتھا من خروج الدَّجَّال ودابۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وطلوع الشمس من مغربھا فھو حق لأنھا اُمور ممکنۃ اخبر بھا الصادق۔‘‘ (شرح عقائد نسفی ص:۱۷۳)
اور شیخ الاسلام احمد النفراوی المالکیؒ نے ’’الفواکہ الدوانی علٰی رسالۃ ابی زید القیروانی‘‘ میں لکھا ہے:
’’للساعۃ اشراط وعلامات یجب الإیمان بھا، وھی علٰی قسمین: کبریٰ وصغریٰ، فالکبریٰ عشرۃ، خمس متفق علیھا: خروج الدَّجَّال، ونزول عیسی بن مریم من السماء الثانیۃ، وخروج الدابۃ ویأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربھا ۔۔۔إلخ۔‘‘
اور بھی کہا:
’’الفائدۃ الثالثۃ فی نزول عیسٰی علیہ السلام إلی الأرض وأن نزولہ حق ثابت بالکتاب والسُّنَّۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وذالک عند نزولہ من السماء آخر الزمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ وسئل الجلال السیوطی رحمہ اللہ تعالٰی عن حیاۃ عیسٰی علیہ السلام ومقرہ وطعامہ وشرابہ، فقال: فی السماء الثانیۃ لا یأکل ولا یشرب، بل ھو ملازم للتسبیح کالملائکۃ وسبب رفعہ إلی السماء ان الیھود کذبتہ وآذتہ وھمت بقتلہ رفعہ اللہ إلی السماء، واجتمع بالمصطفیٰ علیھما الصلٰوۃ والسلام لیلۃ الإسراء فی السماء الثانیۃ، واستمر فیھا حتّٰی ینزل آخر الزمان عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق واضعًا یدیہ علٰی أجنحۃ ملَکَین، ویکون نزولہ عند صلاۃ الصبح فیقول لہ امیر الناس وھو المھدی: تقدم یا رُوح اللہ فصل بنا! فیقول إنکم معشر ھٰذہ الاُمَّۃ اُمراء بعضھم علٰی بعض، تقدم فصل بنا! فیصلی بھم المھدی فإذا انصرف یأخذ عیسٰی حربتہ ویتبع الدَّجَّال فیقتلہ عند باب لد الشرقی ویحکم بشریعتنا۔‘‘
(الفواکہ الدوانی، باب ما تنطق بہ الألسنۃ وتعتقدہ الأفئدۃ ج:۱ ص:۲۵۰، مکتبۃ الشاملۃ)
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر اُترنا حق ہے، کتاب وسنت سے ثابت ہے، اور یہ حکم اَخیر زمانے میں ان کو آسمان سے اُترے وقت ہوگا، کسی نے شیخ جلال الدین السیوطی کو عیسیٰ علیہ السلام کی حیات او ر ان کی رہنے کی جائے اور کھانے پینے سے متعلق سوال کیا، تو آپؒ نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام دُوسرے آسمان پر ہیں، کچھ کھاتے پیتے نہیں، بلکہ ملائکہ کی مانند ہمیشہ تسبیح کرتے ہیں، اور ان کا آسمان پر جانے کا سبب یہ ہے کہ یہود نے آپ کو جھٹلایا اور ستایا اور قتل کا اِرادہ کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اُٹھالیا، اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے معراج کی رات دُوسرے آسمان پر ملاقات ہوئی، اور عیسیٰ علیہ السلام اسی میں ہمیشہ رہیں گے یہاں تک کہ اَخیر زمانے میں سفید منارے پاس جو دمشق کے شرقی جانب میں اُتریں گے، اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پکھوتوں پر دھرے ہوئے، اور نمازِ صبح کے وقت اُتریں گے پھر لوگوں کا اَمیر ۔۔۔جو وہ مہدی ہے۔۔۔ کہے گا: یارُوح اللّٰہ آپ مقدم ہوکے اس میں نماز پڑھائیے!
243
عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: تم اے گروہ اس اُمت کے! بعضے بعضوں کے امیر ہیں، تم ہمارے ساتھ نماز پڑھو! پھر مہدی لوگ کے ساتھ نماز پڑھیں گے، جب نماز سے پھریں گے تو عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لیں گے اور دَجال کا پیچھا کریں گے، پھر اس کو لد کے دروازۂ شرقی کے پاس قتل کریں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام ہماری شریعت کے موافق حکم فرمائیں گے۔‘‘
اور شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے ’’إتمام الدرایۃ شرح النقایۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’وان نزول عیسٰی بن مریم علیہ السلام قرب الساعۃ وقتلہ الدَّجَّال حق۔‘‘
اور علامہ المولی محمد الافندیؒ نے ’’الطریقۃ الأحمدیۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’وما اخبرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أشراط الساعۃ من خروج الدَّجَّال ودابۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وطلوع الشمس من مغربھا نحو ذالک کلہ حق۔‘‘
اور علامہ شیخ ضیاء الدین اِبراہیم نے ’’شرح الارشاد والی الاعتقاد‘‘ میں لکھا ہے:
’’نزول السید المسیح عیسی بن مریم صلی اللہ علٰی نبینا وعلیہ وسلم قرب الساعۃ بعد خروج المسیح الدَّجَّال وفی الصحیح: ما من نبی إلَّا نذر قومہ المسیح الدَّجَّال۔ وفی روایۃ: الأعور الکذّاب وانی انذرکموہ، الحدیث۔ وفیہ: ما من بلد إلَّا سیدخلہ الدَّجَّال غیر مکۃ والمدینۃ، فإذا شدت فتنتہ انزل اللہ المسیح بن مریم فنزولہ وقتلہ الدَّجَّال ثابت فی الحدیث الصحیح فذالک حق یجب الإیمان بہ۔‘‘
اور علامہ ابن الوریؒ نے ’’خریدۃ العجائب‘‘ میں لکھا ہے:
’’المسلمون لا یختلفون فی نزول عیسی بن مریم آخر الزمان قد قیل فی قولہ تعالٰی: وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا انہ نزول عیسٰی علیہ السلام۔‘‘
اور الشیخ الاسلام ابوعبداللّٰہ القرطبیؒ نے کتاب ’’التذکرۃ فی کشف احوال الموتیٰ واُمور الآخرۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’قال ابو الحسن محمد بن الحسین بن إبراھیم بن عاصم الأثری السجزی: قد تواترت الأخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھا عن محمد المصطفیٰ والنبی المرتضیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، یعنی المھدی وانہ من اھل بیتہ، وانہ سیملک سبع سنین، وانہ یملأ الأرض عدلًا، وانہ یخرج مع عیسٰی علیہ السلام فیساعدہ علٰی قتل الدَّجَّال بباب لد بأرض فلسطین وانہ یؤُم لھٰذہ الاُمَّۃ وعیسٰی صلوات اللہ علیہ یصلی خلفہ فی طول من قصتہ وامرہ۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۷۹ من الشاملۃ)
اور علامہ برزنجیؒ نے ’’اشاعۃ فی أشراط الساعۃ‘‘ میں لکھا ہے:
244
’’قد علمت ان احادیث وجود المھدی وخروجہ آخر الزمان وانہ من عترۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ولد فاطمۃ علیھا السلام، بلغت حد التواتر فلا معنی لإنکارھا، ومن ثم ورد: من کذب بالدَّجَّال فقد کفر، ومن کذب بالمھدی فقد کفر، رواہ فی الاسکاف فی فوائد الأخبار وابو القاسم السھیلی فی شرح السیر لہ۔‘‘ (اشراط الساعۃ ص:۲۳۶)
اور علامہ شیخ علی متقیؒ نے ’’برہان فی علامۃ مہدی آخر الزمان‘‘ میں لکھا ہے:
’’أخرج ابوبکر الاسکاف فی فوائد الأخبار عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کذب بالدَّجَّال فقد کفر، ومن کذب بالمھدی فقد کفر، قال الشیخ ابن حجر الھیثمی: ای کفر حقیقۃ کما ھو المتبادر عن اللفظ إذ کان تکذیبہ بالسُّنَّۃ او الإستھزاء بھا او الرغبۃ عنھا، فقد قال أئمتنا وغیرھم لو قال لإنسان قرص اظفارک فإنّہ سُنَّۃ فقال: لا افعلہ وإن کان سُنَّۃ رغبۃ عنھا کفر، فکذا یقال بمثلہ۔‘‘
اور شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے ’’اعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں لکھا ہے:
’’فیلزمک علیہ احد امرین إمّا نفی نزول عیسٰی علیہ السلام او نفی النبوۃ عنہ، وکلاھما کفر۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۶، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
اور اِمام عبدالوہاب الشعرانی نے کتاب ’’الیواقیت والجواہر‘‘ میں لکھا ہے:
’’فإن قیل فما الدلیل علٰی نزول عیسٰی علیہ السلام من القرآن فالجواب: الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی: وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج ای حین ینزل ویجتمعون علیہ وانکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیھود والنصاریٰ عروجہ بجسدہ إلی السماء، وقال تعالٰی فی عیسٰی علیہ السلام:وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ قریَٔ لعَلَم بفتح اللام والعین والضمیر فی اِنَّہٗ راجع إلٰی عیسٰی علیہ السلام لقولہ تعالٰی: وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا، ومعناہ ان نزولہ علامۃ القیامۃ۔ وفی الحدیث فی صفۃ الدَّجَّال: فبینما ھم فی الصلٰوۃ إذ بعث اللہ المسیح بن مریم فنزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین ید یہ مھروذتان واضعًا کفیہ علٰی اجنحۃ ملَکَین، ومھروذتان بالذال المعجمۃ والمھملۃ مما حلتان مصبوغتان بالورس، فقد ثبت نزولہ علیہ السلام بالکتاب والسُّنَّۃ وزعمت النصاریٰ ان ناسوتہ صلب ولاھوتہ رفع والحق انہ رفع بجسدہ إلی السماء، والإیمان بذالک واجب، قال تعالٰی:بَلْ رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِط قال ابو طاھر القزوینی: واعلم ان کیفیۃ رفعہ ونزولہ وکیفیۃ مکثہ فی السماء إلٰی ان ینزل من غیر طعام ولا شراب مما یتقام عن درکہ العقل ولا سبیل لنا إلَّا ان نؤْمن بذالک تسلیمًا لسعۃ قدرۃ ﷲ
245
تعالٰی واطال فی ذکر شبہ الفلاسفۃ وغیرھم فی إنکار الرفع، فإن قیل فما الجواب عن استغنائہ عن الطعام والشراب مدۃ رفعہ فإن اللہ تعالٰی قال: وَمَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ؟ فالجواب: ان الطعام إنما جعل قوتًا لمن یعیش فی الأرض لأنہ مسلط علیہ الھواء الحار والبارد فیخل بدنہ فإذا انحل عوضہ اللہ تعالٰی بالغذاء اجراء لعادتہ فی ھٰذہ الخطۃ الغبراء واما من رفعہ اللہ تعالٰی إلی السماء فإنہ یلطفہ بقدرتہ ویغنیہ عن الطعام والشراب کما اغنی الملائکۃ عنھما فیکون حینئذ طعامہ التسبیح وشرابہ التھلیل کما قال صلی اللہ علیہ وسلم: انی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی، وفی الحدیث مرفوعًا: ان بین یدی الدَّجَّال ثلاث سنین، سنۃ تمسک السماء منھا ثلث قطرھا والأرض ثلث نباتھا، وفی السنۃ الثانیۃ تمسک السماء ثلثی قطرھا والأرض ثلثی نباتھا، وفی السنۃ الثالثۃ تمسک السماء قطرھا کلھا والأرض نباتھا کلھا، فطالت لہ أسماء بنت زید: یا رسول ﷲ! انا لنعجن عجینتنا فما نجزہ حتّٰی نجوع فکیف بالمؤْمنین حینئذ؟ فقال: یجزیھم ما جزی اھل السماء من التسبیح والتقدیس۔ قال الشیخ ابو طاھر: وقد شاھدنا رجلا اسمہ خلیفۃ الخراط کان مقیما بأبھر من بلاد المشرق مکث لا یطعم طعامًا منذ ثلاث وعشرین سنۃ وکان یعبد اللہ لیلًا ونھارًا من غیر ضعف فإذا علمت بذالک فلا یبعد ان یکون قوت عیسٰی علیہ السلام التسبیح والتھلیل و اللہ اعلم بجمیع ذالک!‘‘ (الیواقیت والجواھر ج:۲ ص:۱۴۶)
یعنی اگر کسی نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اُترنے پر قرآن شریف سے کیا دلیل ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اُترنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا قول دلیل ہے: ’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج‘‘ یعنی اور کوئی نہیں اہلِ کتاب سے مگر البتہ اس پر اِیمان لائے گا اس کی موت کے آگے، یعنی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے اور لوگ ان پر جمع پڑیں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے جسد سے آسمان پر جانے کو معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود ونصاریٰ نے اِنکار کیا ہے، حالانکہ خداتعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں فرماتا ہے: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ‘‘ بعضوں کی قراء ت لَعَلَمٌ ہے لام اور عین کی فتحہ سے، اور اِنَّہٗ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا‘‘ اور اس کا معنی اس طور پر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اُترنا قیامت کی علامت ہے اور حدیث شریف میں دجال کی صفت میں آیا ہے کہ جس حال میں کہ لوگ نماز میں رہیں گے یکایک اللّٰہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو بھیجے گا، پھر سفید منارہ کے پاس جو دمشق کے شرقی جانب ہے اُتریں گے، دو مہروذے پہنے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کے پنجے دو فرشتوں کے پکھونوں پر دھرے ہوئے، پس عیسیٰ علیہ السلام کا اُترنا کتاب وسنت سے ثابت ہوچکا، اور نصاریٰ زعم کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ’’ناسوت‘‘ ....یعنی جسم.... مصلوب ہوا، اور ان کا ’’لاہوت‘‘ ....یعنی رُوح.... اُٹھایا گیا، اور حق بات وہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسد کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے اور اس پر اِیمان لانا واجب ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بَلْ رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ شیخ ابوطاہر
246
قزوینیؒ نے کہا کہ: عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھائے جانا اور نزول کرنا اور نزول کئے تک بغیر کھانے اور پینے کے آسمان میں ٹھہرے رہنا، ان اُمور سے ہے جن کے دریافت سے عقل قاصر ہے، اور ہم کو اس میں کچھ راہ نہیں ملتی، مگر اللّٰہ تعالیٰ کی قدرتِ وسیعہ کو مان لے کہ اس پر ہم نے اِیمان لانا ہے۔ پھر شیخ ابوطاہر نے فلاسفہ وغیرہم جو عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا اِنکار کرتے ہیں، ان کے شبہوں میں بیان طویل کیا ہے، اگر کوئی کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اَیامِ رفع میں کھانے اور پینے سے کیوں بے نیاز ہوئے؟ حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَمَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَدًا لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ‘‘ (الانبیاء:۸)، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص زمین پر گزران کرتا ہے اس ہی کے لئے طعام قوت ہوا ہے، کیونکہ ان پر گرم وسرد ہوا مسلط رہنے سے بدن لاغر ہوتا ہے، پھر جب بدن لاغر ہوگیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے بطور عادت کے یہاں خطہ زمین میں غذا کو اس کا عوض کیا ہے اور جس شخص کو اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اُٹھالیا ہے، سو اس کو اپنی قدرت سے لطیف کرتا ہے اور کھانے پینے سے بے پروا کرتا ہے، جیسا کہ فرشتوں کو کھانے پینے سے مستغنی کیا، پھر اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا کھانا تسبیح ہے اور پینا تہلیل، جیسا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إنِّی ابیت عند ربِّی یطعمنی ویسقینی‘‘ اور مرفوع حدیث میں آیا ہے کہ دجال نکلنے کے آگے تین سال آئیں گے، ایک سال آسمان سے ثلث یعنی تہائی برسات اور زمین سے ثلث سرسبزی کی کشش ہوگی، اور دُوسرے سال آسمان سے دوثلث برسات اور زمین سے دوثلث سرسبزی کی کشش ہوگی، اور تیسرے سال آسمان سے کل برسات اور زمین سے کل نبات کا اِمساک ہوگا۔ پس اسماء بنت زید رضی اللّٰہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! ہم آٹا گوندھتے ہیں، سو روٹی تیار ہونے کے آگے ہم بھوکے ہوجاتے ہیں، پھر اس روز مؤمنوں کا کیا حال ہوگا؟ تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو تسبیح وتقدیس کافی ہوگی، جو آسمان والوں کو کفایت کرتی ہے۔ شیخ ابوطاہرؒ نے کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ایک شخص کو جس کا نام خلیفۃالخراط تھا، اور ابہر میں مقیم تھا، جو بلادِمشرق سے ہے، تیئس برس تک کچھ نہ کھایا اور شب وروز بغیر ضعف کے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا، پس جب یہ معلوم ہوا تو کچھ بعید نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قوت تسبیح وتہلیل رہے، و اللہ اعلم بجمیع ذالک!
اور اِمام ابواِسحاق احمد بن محمد الثعلبیؒ نے کتاب ’’العرائیس‘‘ میں لکھا ہے:
’’ذکر نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء فی المرۃ الثانیۃ فی آخر الزمان قال اللہ تعالٰی:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ إلَّا وقیل للحسین بن الفضل: ھل تجد نزول عیسٰی علیہ السلام فی القرآن؟ قال: نعم! قولہ: وَکَھْلاً، وھو لم یکن یکھل فی الدنیا وإنما معناہ وَکَھْلاً بعد نزولہ من السمآء۔‘‘
اور شیخ اِبنِ حجرؒ نے ’’شرح الہمزیہ‘‘ میں لکھا ہے:
’’انھم ای الیھود حسدوا عیسٰی علیہ السلام، حتّٰی زعموا انھم قتلوہ وصلبوہ وما دری الملاعین انہ شبہ لھم مثلہ فقتلوہ ونجاہ منھم ثم رفعہ إلی السماء لینزل آخر الزمان حاکمًا بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مصلّیًا وراء المھدی اوّل نزولہ لیعلم ان نزولہ تابعًا لھٰذہ الاُمَّۃ عاملًا بشریعۃ۔‘‘
247
اور شیخ الاسلام ابوعبداللّٰہ فضل اللّٰہ بن تاج الدین ابوسعید الحسن التورپشتیؒ نے کتاب ’’المعتمد‘‘ میں لکھا ہے:
’’وبعد از ظہورِ دجال وافساد وی در زمین نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام از آسمان است وباحادیث درست از رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثابت شدہ سبت کہ عیسیٰ علیہ السلام در وقت اقتراب ساعت، از آسمان فرود آید زندہ ودجال را بہ کشد وزمین از خبث وفساد واتباع وی از اہل شرک خاصہ جہودان کہ دعویٰ کردہ اند کہ عیسیٰ علیہ السلام رابکشتیم وصلب کرویم پاک کند۔‘‘
اور حافظ مناویؒ نے ’’شرح جامع الصغیر‘‘ میں لکھا ہے:
’’ینزل عیسی بن مریم من السماء آخر الزمان وھو نبی رسول عند المنارۃ البیضاء۔‘‘
(سراج منیر ج:۴ ص:۴۴۱)
اور علامہ شیخ علی العزیزیؒ نے ’’سراج المنیر شرح الجامع الصغیر‘‘ میں لکھا ہے:
’’ینزل عیسی ابن مریم من السماء آخر الزمان وھو نبی رسول عند المنارۃ البیضاء۔‘‘
(سراج منیر ج:۴ ص:۴۴۱)
اور مولانا شاہ ولی اللّٰہ نے ’’فوزالکبیر‘‘ میں لکھا ہے:
’’ونیز از ضلالت ایشاں یعنی نصاریٰ یکی آن است کہ جزم می کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است وفی الواقع درقصہ عیسیٰ اشتبای واقع شدہ بود رفع بر آسماں را قتل گمان کردند وکابراً عن کابر جان غلط را روایت نمودند خداتعالیٰ درقرآن شریف ازالۂ شبہ فرمود کہ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ۔‘‘
(فوز الکبیر ص:۱۹)
اور میرے والد اِمام العلماء مولانا صبغۃاللّٰہ قاضی الملک بدرالدولہ مرحوم نے اپنے کسی فتوے میں لکھا ہے:
’’عروج جسمی محمد عیسیٰ علیہ السلام را نیز واقع، چنانچہ نص:’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ الآیۃ، ونص: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (النساء) بران دال است وانکار آن کفر وضلالت۔‘‘
اور معلوم کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ قرآن شریف میں جو فرماتا ہے: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا، بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ ط‘‘ یعنی اور نہیں مارے اس کو یعنی عیسیٰ کو بے شک بلکہ اس کو اُٹھالیا اللّٰہ نے اپنی طرف۔ اور فرمایا:’’یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ سو اس رفع سے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھالینا مراد ہے، رفعِ رُوحی مراد نہیں، اور جو کہا یعنی اپنی طرف اُٹھالیا، وہ تعظیم کے لئے ہے، اور اس سے مراد ایسی جگہ پر لے لیا جہاں اللّٰہ تعالیٰ کے غیر کا حکم جاری نہیں، وہ آسمان ہے، اس پر قاضی مفسرون کا اتفاق ہے، اِبنِ جریرؒ اور اِبنِ ابی حاتمؒ، حسن بصریؒ سے روایت کئے ہیں: ’’فی الآیۃ قال رفعہ اللہ فھو عندہ فی السمآء۔‘‘
اور اِمام واحدیؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
248
’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ ط ای الموضع الذی لا یجری لأحد سوی اللہ فیہ حکم فکان رفعہ الٰی ذالک الموضع رفعًا إلیہ لأنہ رفع عن ان یجری علیہ حکم احد من العباد یؤَکد ھٰذا ان الحسن قال:بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ ط ای الی السماء کما قال: وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللہِ، وکانت الھجرۃ إلی المدینۃ۔‘‘
اور بھی اِمام واحدیؒ نے کہا:
’’رَافِعُکَ اِلَیَّ، ای سمائی ومحل کرامتی فجعل ذالک رفعًا إلیہ للتفخیم والتعظیم‘‘
اور اِمام ابواللیث نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
’’قال مقاتل: بل رفعہ اللہ إلی السماء فی شھر رمضان۔‘‘
اور اِمام عبداللّٰہ بن احمد النسفی نے مدارک التنزیل میں لکھا ہے:
’’وارفعک إلی السماء مقر ملائکتی۔‘‘ (ج:۱ ص:۱۲۴)
’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ جو فرمایا اس سے کیا مراد ہے؟ سو سلف اس میں اِختلاف کرتے ہیں، کیونکہ عرب کے محاورے میں ’’توفی‘‘ کا لفظ متعدد مضمون پر مستعمل ہوتا ہے، سو یہاں کونسا معنی ہے؟ اس میں چند اقوال ہیں، پہلا قول ’’توفی‘‘ کا معنی استوفی کا ہے، وہ مشتق ہے توفی حقہ واستوفا سے، یعنی پورا کرنا اس سے مراد مستوفی اجلک ہے، یعنی تیری عمر پوری کروں گا، کافروں کے ہاتھ پر تجھ کو مرنے نہ دُوں گا، بلکہ تجھ کو آسمان پر بلواؤں گا، عمر پوری ہونے کے بعد تیری موت آئے گی۔ تفسیر بیضاوی میں ہے:
’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ ای مستوفی اجلک ومؤَخرک إلٰی اجلک المسمی عاصمًا إیاک من قتلھم۔‘‘ (انوار التنزیل ج:۱ ص:۱۴۰)
اور تفسیر کبیر میں ہے:
’’ای انی متمم عمرک فحینئذ اتوفاک فلا اترکھم حتّٰی یقتلوک بل انا رافعک إلٰی سمائی ومقربک ملائکتی واصونک عن ان یتمکنوا من قتلک۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۸ ص:۶۷)
اور تفسیر مدارک میں ہے:
’’ای مستوف اجلک ومعناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار وممیتک حتف انفک نقلًا بأیدیھم۔‘‘ (تفسیر نسفی ج:۱ ص:۱۲۴)
دُوسرا قول:۔۔۔ توفی کا معنی قبض کرنا ہے، اس سے مراد متوفیک من الأرض ہے، یعنی قابضک من الأرض وہ مشتق ہے توفیت الشیء سے، یعنی اس چیز کو میں نے پورا لے لیا، اس سے کچھ نہ چھوڑا، اب معنی آیت کے یہ ہوں گے میں تجھ کو پورا یعنی تیرے رُوح اور جسد کے ساتھ زمین سے لے لوں گا، اور کافروں کے ہاتھ پر مرنے نہ دُوں گا، یہ معنی حسن بصریؒ اور مطرالوراق اور اِبنِ جریجؒ اور کلبی اور اِبنِ جریرؒ سے منقول ہے، شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے تفسیر درمنثور میں لکھا ہے:
249
’’ما خرج عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم عن الحسن قال: متوفیک من الأرض۔‘‘
اور یہ بھی کہا:
’’واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن مطر الوراق فی الآیۃ قال: متوفیک من الدُّنیا ولیس نوم موت۔‘‘
اور یہ بھی کہا:
’’واخرج ابن ابی حاتم عن ابن جریر فی الآیۃ قال: رفعہ ایاہ توفیۃ۔‘‘
اور تفسیر ابنِ کثیر میں لکھا ہے:
’’وکذا قال ابن جریر توفیہ ھو رفعہ۔‘‘
اور اِمام محی السنۃ البغویؒ نے معالم التنزیل میں لکھا ہے:
’’واختلفوا فی معنی التوفی منھا قال الحسن والکلبی وابن جریج: انی قابضک ورافعک من الدُّنیا إلیَّ من غیر موت بدنک یدل علیہ قولہ تعالٰی: فَلمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ای قبضتنی الی السماء وانا حی لأن قومہ انما تنصروا بعد رفعہ لا بعد موتہ۔‘‘ (معالم التنزیل ج:۱ ص:۱۶۲)
اور علامہ شمس الدین رملیؒ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’او قابضک من الأرض ورافعک إلیَّ من غیر موت من قولھم توفیت الشیء واستوفیتہ إذا اخذتہ وقبضتہ تامًا للرد علی النصاریٰ حیث زعموا ان اللہ رفع روحہ دون جسدہ۔‘‘
تیسرا قول:۔۔۔ اس کا معنی ممیتک ہے، اور اس میں تقدیم وتأخیر ہے، یعنی تجھ کو اُٹھانے والا ہوں اور مارنے والا ہوں، یعنی اَخیر زمانے میں۔ یہ قول اِبنِ عباسؓ اور قتادہؒ اور ضحاکؒ کا ہے۔ تفسیر اِبنِ عباسؓ میں ہے:
’’یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک مقدم ومؤَخر یقول انی رافعک إلیَّ ومطھرک منجیک من الذین کفروا بک وجاعل الذین اتبعوک اتبعوا دینک فوق الذین کفروا بالحجۃ والنصرۃ إلٰی یوم القیامۃ ثم متوفیک قابضک بعد النزول۔‘‘ (تفسیر ابن عباس ص:۶۳)
اور شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے تفسیر درمنثور میں لکھا ہے:
’’اخرج إسحاق بن بشر وابن عساکر من طریق جوھر عن الضحاک عن ابن عباس فی قولہ: اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘(درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
250
اور بھی کہا:
’’اخرج ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم من طریق علی عن ابن عباس فی قولہ: اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ یقول إنِّی ممیتک۔‘‘ (ایضًا)
اس اثر اِبنِ عباسؓ کو بخاریؒ نے بھی اپنی صحیح میں تعلیقاً روایت کیا ہے، اس سے مخالفین جو توہّم کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے اور آسمان پر فقط ان کی رُوح گئی سو وہ جہل ہے، کمالین حاشیہ جلالین میں ہے:
’’وفی البخاری: قال ابن عباس: متوفیک ای ممیتک مضاہ فی وقت موتک بعد النزول من السماء ورافعک الآن۔‘‘
اور شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے درمنثور میں لکھا ہے:
’’وأخرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ إنّی متوفیک ورافعک إلیَّ، قال: ھٰذا من المقدم والمؤَخر ای رافعک إلیَّ ومتوفیک۔‘‘ (درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
اور شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے اِتقان میں لکھا ہے:
’’الرابع والأربعون فی مقدم القرآن ومؤَخرھما قسمان الأوّل ما اشکل معناہ بحسب الظاھر فلما عرف انہ من باب التقدیم والتأخیر اتضح وھو جدیر ان یفرد بالتصنیف وقد تعرض السلف لذالک فی آیات فأخرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ فی قولہ: فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم إنما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیٰوۃ الدنیا، قال ھٰذا من تقادیم الکلام یقول: لا تعجب اموالھم ولا اولادھم فی الحیٰوۃ الدنیا إنما یرید اللہ ان یعذبھم بھا فی الآخرۃ۔ وأخرج عنہ ایضًا فی قولہ: ولو لا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزامًا واجل مسمّٰی، قال ھٰذا من تقادیم الکلام، یقول: لولا کلمۃ واجل مسمی لکان لزامًا۔ وأخرج عن مجاھد فی قولہ: انزل علٰی عبدہ الکتٰب ولم یجعل لہ عوجا قیما، قال ھٰذا من التقدیم والتأخیر انزل علٰی عبدہ الکتٰب قیما ولم یجعل لہ عوجًا۔ وأخرج عن قتادۃ فی قولہ تعالٰی: إنی متوفیک ورافعک الیَّ، قال: ھٰذا من المقدم والمؤَخر انی رافعک إلیَّ ومتوفیک۔‘‘ (الإتقان ج:۲ ص:۲۱)
اور فقیہ ابواللیث السمرقندی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
’’ففی الآیۃ تقدیم وتأخیر ومعناہ: انی رافعک من الدنیا إلی السماء ومتوفیک بعد ان تنزل من السماء علٰی عھد الدَّجَّال۔‘‘
یہاں سے معلوم ہوا کہ جس نے اس تقدیم وتأخیر کو تحریف کہا، سو وہ اِبنِ عباسؓ وغیرہ سلف پر طعن کیا۔
چوتھا قول:.... متوفیک کا معنی ممیتک ہے یعنی میںمارنے والا ہوں، اور رافعک میں واو جو آیا ہے ترتیب کا فائدہ تو
251
نہیں بخشتا آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ کام کرے گا، لیکن کب کرے گا؟ کیسا کرے گا؟ آیت میں مذکور نہیں، اس کا بیان دلیل پر موقوف ہے، دلیل سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ زندہ ہیں، احادیث سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئیں گے، دجال کو قتل کریں گے، بعد ان کی وفات ہوگی، اِمام فخرالدین الرازیؒ نے تفسیر کبیر میں کہا:
’’الوجہ الرابع فی تأویل الآیۃ ان الواو فی قولہ: اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ، تفید الترتیب فالآیۃ تدل علٰی انہ تعالٰی یفعل بہ ھٰذہ الأفعال فأما کیف یفعل ومتیٰ یفعل فالأمر فیہ موقوف علی الدلیل وقد ثبت الدلیل انہ حی ورد الخبر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ سینزل ویقتل الدَّجَّال ثم انہ تعالٰی یتوفاہ بعد ذالک۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۸ ص:۶۷)
اور تفسیر مدارک میں ہے:
’’او ممیتک فی وقتک بعد النزول من السماء ورافعک الآن إذا الواو لا توجب الترتیب قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ینزل عیسٰی خلیفۃ علٰی اُمّتی یدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویلبث أربعین سنۃ ویتزوّج ویولد لہ ثم یتوفّٰی۔‘‘ (تفسیر النسفی ج:۱ ص:۲۵۹)
پانچواں قول:۔۔۔ موت سے مراد نیند ہے، عیسیٰ علیہ السلام سوتے تھے، اس ہی حالت میں ان کو آسمان پر لے گیا تاکہ ان کو کچھ خوف لاحق نہ ہو، پھر آسمان پر گئے بعد بیدار ہوئے، یہ قول ربیع بن انس کا ہے اور حسن بصریؒ سے بھی ایک روایت ہے، شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے درمنثور میں لکھا ہے:
’’وأخرج ابن جریر وابن ابی حاتم من وجہ آخر عن الحسن فی قولہ إنّی متوفیک یعنی وفاۃ المنام رفعہ اللہ فی منامہ۔‘‘ (درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
اور اِمام محی السنۃ البغویؒ نے معالم التنزیل میں لکھا ہے:
’’وقال الربیع بن انس: المراد بالتوفی النوم وکان عیسٰی قد نام رفعہ اللہ نائمًا إلی السماء معناھا إنِّی منمیک ورافعک إلیَّ کما قال اللہ تعالٰی: وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ ای ممیتکم۔‘‘ (معالم التنزیل ج:۱ ص:۱۶۲)
اور اِمام فخرالدین الرازیؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
’’الثالث: قال الربیع بن انس انہ تعالٰی توفاہ حین رفعہ إلی السماء، قال اللہ تعالٰی:یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا‘‘ (تفسیر کبیر ج:۴ ص:۷۱ جزء ثامن)
اور تفسیر اِبنِ کثیر میں ہے:
’’وقال الأکثرون المراد بالوفاۃ ھنا النوم کما قال اللہ تعالٰیوَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفَّکُمْ بِالَّیْلِ الایۃ، وقال تعالٰی: اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا ج الآیۃ، وکان رسول
252
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول اذا قام من النوم: الحمد للّٰہ الذی احیانا بعد ما اماتنا۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۹)
اور علامہ شمس الدین الرملیؒ نے کہا:
’’متوفیک نائما ومنہ قولہ تعالٰی:یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا ج فجعل النوم وفاۃ وإنما رفعہ نائما لئلَّا یلحقہ خوف۔‘‘
اور تفسیر مدارک میں ہے:
’’او متوفی نفسک بالنوم ورافعک وانت نائم حق لا یلحقک خوف وتستیقظ وانت فی السماء آمن مقرب انتھی۔‘‘ (تفسیر النسفی ج:۱ ص:۱۲۵)
یہاں سے معلوم ہوا کہ مخالفین جو زعم کرتے ہیں کہ ربیع بن انسؒ بھی واقعہ موت حضرت مسیح کے قائل ہیں، سو وہ باطل ہے۔
چھٹا قول:۔۔۔ اس کا معنی مرنے کا ہے، یعنی میں تجھ کو مارتا ہوں اور تیرے دُشمنوں کو تجھ پر مسلط نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام مرگئے، بعد تین ساعت، یا تین روز، یا سات ساعت کے بعد زِندہ ہوکر آسمان پر گئے، یعنی رُوح وجسم کے ساتھ آسمان پر گئے، علماء اس قول کو ضعیف کہتے ہیں، بلکہ محمد بن اِسحاق وغیرہ اس کو نصاریٰ کا قول کہہ کر تصریح کئے ہیں اور معالم میں وہب سے نقل کیا ہے:
’’توفی اللہ عیسٰی ثلاث ساعات من النھار ثم احیاہ ورفعہ اللہ إلیہ، وقال محمد بن إسحاق ان النصاریٰ یزعمون ان اللہ توفاہ سبع ساعات من النھار ثم احیاہ ورفعہ إلیہ۔‘‘
(معالم التنزیل ج:۱ ص:۱۶۲)
اور تفسیر اِبنِ کثیر میں ہے:
’’قال ابن إسحاق: والنصاریٰ یزعمون ان اللہ توفاہ سبع ساعات ثم احیاہ، قال إسحاق بن بشیر عن إدریس عن وھب: اماتہ اللہ ثلاثۃ أیّام ثم بعثہ ثم رفعہ۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۹، انوار التنزیل ج:۱ ص:۴۰)
اور تفسیر بیضاوی اور تفسیر ابی سعود میں ہے:
’’وقیل اماتہ اللہ سبع ساعات ثم رفعہ إلی السماء وإلیہ ذھبت النصاریٰ۔‘‘
(تفسیر ابوالسعود ج:۱ ص:۴۳)
یہاں سے معلوم ہوا کہ وہب سے یہی منقول ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرکے پھر زِندہ ہوکے اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے، اور اِبنِ اِسحاق نے اس کو نصاریٰ کا قول ہے کرکے لکھا ہے، پھر مخالفان نے عیسیٰ علیہ السلام مرنے کے فقط رفعِ رُوح ہونے کی نسبت وہب اور اِبنِ اِسحاق کے طرف جو کئے ہیں، وہ باطل ہے، اور جانئے کہ یہاں متوفیک کے معنی میں سلف کے اِختلاف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ باطل ہے اور جانئے کہ یہاں متوفیک کے معنی میں سلف کے اِختلاف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سب اہلِ سنت کا
253
اِتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے، اس میں کسی اہلِ سنت کو خلاف نہیں، ہاں اِختلاف اس میں کئے ہیں کہ بغیر مرے کے زندہ آسمان پر گئے یا مرکے چند ساعت کے بعد زِندہ ہوکے اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر گئے؟ سو جمہور مفسرین پہلے قول کو اِختیار کئے ہیں، اور ثانی قول جو وہبؒ سے منقول ہے، وہ ضعیف ہے، لکھے ہیں۔ علماء کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ رہنے سے ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ان کی فضیلت لازم نہیں آتی، کیونکہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دِین کی تکمیل ہوچکی تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہاں رہنے سے وصالِ الٰہی ہونا بہتر ہے، اور بھی عیسیٰ علیہ السلام محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت کی صفت اِنجیل میں دیکھی تو اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ اپنے کو زِندہ رکھے تاکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھے اور آپ کی اُمت میں رہنے کا شرف حاصل کرے، سو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کی اور اَخیر زمانے میں شریعتِ مصطفوی کو ان سے تائید بخشے گا، اس صورت میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس کے سوائے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم شبِ معراج میں اس سے زیادہ ترقی فرمائے۔ علامہ قسطلانی ؒنے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’واما ما اعطیہ عیسٰی علیہ السلام ایضًا من رفعہ إلی السماء فقط اعطی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ذالک لیلۃ المعراج وزاد فی الترقی المزید الدرجات وسماع المناجات والخلوۃ فی الحضرۃ المقدسۃ بالمشاھدۃ۔‘‘
اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم جس زمین پر مدفون ہوئے سو اس کا رُتبہ عرش سے بھی بڑھ کے ہے، اور مدینہ منوّرہ مہبط برکات وکمالات ہے، جس سے اُمت کو اَنواعِ خیرات ومنافع حاصل ہوتے ہیں۔ اِمام تقی الدین السبکیؒ نے کہا: قبر شریف پر کمالات اس قدر نازل ہوتے ہیں کہ ان کے اِدراک سے عقول قاصر ہیں، پھر وہ جانے کیونکر افضل نہ ہو۔
الشیخ الامام احمد بن محمد العباسی نے ’’تحفۃ السائل‘‘ میں لکھا ہے:
’’سیدنا عیسٰی علیہ السلام یذوق الموت فی آخر الزمان، لأنہ قرأ الإنجیل ورأی صفۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتمنی ان یراہ، فدعا اللہ تعالٰی ان یرزقہ الحیاۃ ان یخرج محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاستجاب اللہ دعائہ فرآہ لیلۃ المعراج ولما رأی فی الإنجیل فضل اُمَّتہ صلی اللہ علیہ وسلم تمنی ان یکون من اُمَّتہ، فدعا اللہ تعالٰی فاستجاب دعائہ ووعدہ ان یخرج فی ھٰذہ الاُمَّۃ فی آخر الزمان وفی ھٰذا فضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
اور ولی ملا کمال باشا نے ’’رسالۃ فی أفضلیۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں لکھا ہے:
’’واما إحتجاج المخالف علٰی تفضیل عیسٰی علیہ وعلٰی نبینا السلام، بأنہ فی السماء وفی زمرۃ الأحیاء، فالجواب عنہ ان کونہ علیہ السلام میتا بعد تکمیل النفس وإکمالہ الدین انفع من کونہ حیًّا اما فی حق نفسہ فظاھر فإن تعلق النفس بالبدن لمصلحۃ التکمیل فبعد فراغھا عن تلک المصلحۃ حقھا ان یقطع علاقۃ البدن ویرجع إلٰی أصلھا وما یلیق بشأنھا من
254
التجرد، واما فی حق الاُمَّۃ فلما فیہ من الرحمۃ علٰی ما افصح عنہ علیہ السلام بقولہ إذ أراد اللہ رحمۃ اُمّۃٍ من عبادہ قبض نبیھا فجعل لھا فرطًا وسلفًا بین یدیھا، ثم ان فی کونہ علیہ السلام مدفونًا فی الأرض غیر مرفوع إلی السماء نفعًا آخر للاُمَّۃ حیث صارت روضۃ المقدسۃ مھبطا للبرکات ومصعدًا للدعوات ومؤْطنا للإجتماعات علی الطاعات إلٰی غیر ذالک من انواع الخیرات، ثم ان کون عیسٰی علیہ السلام فی زمرۃ الأحیاء لمصلحۃ احیاء دینہ علیہ السلام فی آخر الزمان بدلالۃ انہ ینزل من السماء ویکون خلیفۃ لہ علیہ السلام فالشرف من الوجہ المذکور مرجع جلہ إلٰی نبینا علیہ الصلٰوۃ والسلام، فما ذکر المخالف فی معرض الإحتجاج لنا لا علینا۔‘‘
اور عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر حکم کریں گے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت سے رہیں گے، اس پر علماء کا اِجماع ہے اور ان کو اُمت میں رہ کر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر حکم کرنا ان کی نبوّت ورِسالت کو منافی نہیں، بلکہ ان کی نبوّت ورِسالت علیٰ حالہٖ باقی ہے، اور ان کی نبوّت باقی رہنا نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے کو منافی نہیں، کیونکہ وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابع اور اُمتی ہوں گے۔
حافظ اِبنِ حجر مکیؒ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’الذی نص علیہ العلماء بل اجمعوا علیہ انہ یحکم بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلٰی ملتہ، وفی روایۃ سندھا جید: مصدقًا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلٰی ملتہ إمامًا مہدیًّا وحکَمًا عدلًا۔‘‘
اور بھی کہا:
’’وعیسٰی نبی کریم باق علٰی نبوۃ ورسالۃ لا کما زعمہ من لا یعتد بہ انہ واحد من ھٰذہ الاُمَّۃ، لأن کونہ واحدًا منھم یحکم بشریعتھم لا ینافی بقاءہ علٰی نبوتہ ورسالتہ۔‘‘
(الفتاویٰ الحدیثیۃ ص:۱۵۴،۱۵۵، طبع مصطفی البابی)
اور اِمام خطابیؒ نے معالم السنن میں حدیث: ’’ان عیسٰی یقتل الخنزیر‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:
’’فیہ دلیل علٰی وجوب قتل الخنازیر، وبیان ان اعیانھا نجسۃً وذالک لأن عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انما یقتل الخنزیر علٰی حکم شریعۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم، لأن نزولہ انما یکون آخر الزمان وشریعۃ الإسلام باقیۃ۔‘‘
اور اِمام بغویؒ نے شرح السنۃ میں لکھا ہے:
’’لأن عیسٰی علیہ السلام انما یقتلھا ای الخنازیر علٰی حکم شرع الإسلام۔‘‘
(شرح السُّنَّۃ ج:۷ ص:۴۵۵)
255
اور الامام القرطبیؒ نے کتاب التذکرہ میں لکھا ہے:
’’لا یجوز ان یتوھم ان عیسٰی علیہ السلام ینزل نبیًّا بشریعۃ متجددۃ غیر شریعۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بل إذا نزل یکون یومئذ من أتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کما اخبر صلی اللہ علیہ وسلم حیث قال لعمر: لو کان موسٰی حیًّا ما وسعہ إلَّا اتباعی۔‘‘
اور حافظ جلال الدین السیوطیؒ نے کتاب الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام میں لکھا ہے:
’’انہ یحکم بشرع نبینا لا بشرعہ کما نص علٰی ذالک العلماء ووردت بہ الأحادیث وانعقد علیہ الإجماع۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۵۵)
اور بھی کہا کہ اِمام سبکیؒ وغیرہ ایک جماعت علماء کی کہتے ہیں:
’’ان عیسٰی علیہ السلام مع بقائہ علٰی نبوۃ معدود من اُمَّۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو حی مؤْمنًا ومصدقًا وکان إجتماعہ بہ مراتٍ فی غیر لیلۃ الإسراء۔‘‘
اور بھی کہا:
’’قد رأیت فی عبارۃ السبکی فی تصنیف لہ بما نصہ: انما یحکم عیسٰی بشریعۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بالقرآن والسُّنَّۃ وحینئذ فیترجح ان اخذہ للسنۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم بطریق المشافھۃ من غیر واسطۃ وقد عدہ بعض المحدثین فی جملۃ الصحابۃ وھو والخضر وإلیاس قال الذھبی فی تخریجہ الصحابۃ عیسی بن مریم علیہ السلام نبی وصحابی فإنہ رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھو آخر الصحابۃ موتًا۔‘‘ (ایضًا ص:۱۶۱)
اور علامہ تفتازانی ؒ نے شرح المقاصد میں لکھا ہے:
’’فإن قیل: ألیس عیسٰی علیہ السلام حیًّا بعد نبینا رفع إلی السماء وسینزل إلی الدنیا؟ قلنا: بلٰی! ولٰکنہ علٰی شریعۃ نبینا لا یسعہ إلَّا اتباعہ علٰی ما قال علیہ السلام فی حق موسٰی علیہ السلام ’’انہ لو کان حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی‘‘ فیصیح انہ خاتم الأنبیاء بمعنی انہ لا یبعث بعد منی۔‘‘ (شرح المقاصد ج:۳ ص:۳۰۵،۳۰۶، المبحث الخامس بعثۃ علیہ السلام إلی الناس کافۃ)
اور شیخ شہاب الدین الاسدیؒ نے ’’الأقوال النافعۃ فی حل فریدۃ الجامعۃ‘‘ میں لکھا ہے:
’’فلا نبی بعدہ یقینًا للنص والإجماع فحینئذ فعیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم الوارد فی الحدیث نزولہ آخر الزمان بشرعنا المحمدی ای لا بشرعہ۔‘‘
اور مُلَّا جلال الدوانی نے اپنے عقیدہ میں لکھا ہے:
’’واما نزول عیسٰی علیہ السلام ومتابعتہ بشریعۃ (ای شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ
256
وسلم) فھو ما یؤَکد کونہ خاتم النبیین۔‘‘
اور شیخ عبدالحق دہلویؒ نے ترجمہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے:
’’تحقیق ثابت شدہ است باحادیثِ صحیحہ آنکہ عیسیٰ علیہ السلام فردومی آید از آسمان بزمین ومی باشد تابع دین محمد را ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ وحکم می کند بشریعت آنحضرت۔‘‘
اور مولانا عبدالرحمن جامیؒ نے اپنے عقیدہ میں لکھا ہے:
-
چوں در آخر زمان بقول رسول
کند از آسماں مسیح نزول
-
پیرو شرع دین او باشد
تابع اصل وفرع او باشد
-
دین ہمیں شرع ودین او داند
ہمہ کس را بدین او خواند
اور اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی قدس سرہٗ نے اپنے مکتوب:۲۰۹، جلد اوّل میں لکھا ہے:
’’چوں حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نزول خواہد فرمود ومتابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود اَز مقام خود عروج فرمودہ بہ تبعیت بمقام حقیقت محمدی خواہد رسید وتقویت دین او، علیہما الصلوٰۃ والتحیات خواہد نمود۔‘‘ (مکتوب الامام ربانی مجدد الف ثانی ص:۳۳۲،۳۳۳، مکتوب نمبر:۲۰۹، ج:اوّل)
اور مکتوب:۲۴۹ میں لکھا ہے:
’’وپیغمبران اُولوالعزم آرزوی متابعت او (یعنی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) می نمایند ولو کان موسیٰ حیًّا فی زمنہ ما وسعہ إلَّا اتباعہ، وقصۃ نزول رُوح اللہ ومتابعتہ حبیب اللہ معلومۃ مشھورۃ۔‘‘
(ایضاً ص:۴۰۸)
اور بھی مکتوب:۶۷، جلد دوم میں لکھا ہے:
’’انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات فرستاد ہای حق اند جل شانہ بسوئے خلق تاایشاں را بحق دعوت کنند تعالیٰ واز ضلالت براہ آرند ہر کہ دعوت ایشاں را قبول کند او را بہ بہشت بشارت دہند، وہر کہ انکار نماید بعذاب دوزخ تہدید کنند، ہرچہ ایشاں از حق تبلیغ نمودہ اند واعلام فرمودہ اند ہمہ حق است وصدق کہ شائبہ تخلف ندارد، وخاتم انبیاء محمد رسول اللّٰہ است، صلی اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم، ودین او ناسخ ادیان سابق است، وکتاب او بہترین کتب ماتقدم ست وشریعت او را ناسخی نخواہد بود، بلکہ تاقیامِ قیامت خواہد ماند، وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام
257
کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعت او خواہد کرد وبعنوان امت او خواہد بود۔‘‘
اور بھی کہا:
’’وعلاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات از ان خبر دادہ است، حق است۔ واحتمال تخلف ندارد، وطلوع آفتاب از جانب مغرب برخلاف عادت وظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزول حضرت رُوح اللّٰہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام وخروج دجال وظہور یاجوج وماجوج وخروج دابۃ الارض ودخانے کہ از آسماں پیدا شود تمام مردم را فروگیرد وعذاب دردناک کند مردم از اِضطراب گویند ای پروردگار من ایں عذاب را از ما دُور کن کہ ما اِیمان می آریم۔ وآخر علامات آتش است کہ از عدن خیزد وجماعۃ از ندانی گمان کنند شخصی را کہ دعویٰ مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بودہ است پس بزعم ایناں مہدی گزشتہ است وفوت شدہ ونشان می دہند کہ قبرش در فرہ است در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنی رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است چہ آں سروَر علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است کہ در حق آن شخص کہ معتقد ایشانست آںعلامات مفقود اند در اَحادیثِ نبوی آمدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ مہدی موعود بیرون آید وبرسروی پارۂ ابر بود دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی است او را متابعت کنید وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ تمام زمین را مالک شدند چارکس، دوکس از مؤمناں، ودوکس از کافراں، ذُوالقرنین وسلیمان از مؤمناں، ونمرود وبخت نصر از کافراں مالک خواہد شدآں زمین را شخص پنجم از اہل بیت من یعنی مہدی وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام ونیا ورد تاآنکہ بعث کند خداتعالیٰ مردیرا از اہل بیت من کہ نام او موافق نام من بود ونام پدر او موافق نام پدر من باشد، پس پرساز وزمین را بہ داد وعدل چنانچہ پرشدہ بود بجور وظلم ودر حدیث آمدہ است کہ اصحابِ کہف اعوان حضرت مہدی خواہند بود، وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در زماں وی نزول خواہد کرد واو موافقت خواہد کرد باحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام درقتال دجال ودر زمان ظہور سلطنت او در چہار دہم شہر رمضان کسوف شمس خواہد شد ودر اوّل آں ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زمان برخلاف حساب منجماں بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات دراں شخص میت بودہ است یا نہ؟ وعلامات دیگر بسیار است کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام شیخ ابنِ حجر رسالہ نوشتہ است درعلاماتِ مہدی منتظر کہ بدریست علامات می کشد نہایت جہل است کہ باوجود وضوح امر مہدی موعود وجمعی درضلالت مانند، ھداھم اللہ سبحانہ سواء الصراط!‘‘
(مکتوب امامِ ربانی مجدّد الف ثانی، مکتوب نمبر:۶۷، ج:۲ ص:۱۸۴ و۱۸۹ تا۱۹۱)
اور مکتوب:۱۷، جلد ثالث میں لکھا ہے:
’’اوّل انبیاء حضرت آدم است علیٰ نبینا وعلیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات والتحیات، وآخر ایشاں
258
وخاتم نبوّت شان حضرت محمد رسول اللّٰہ علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات بجمیع انبیاء ایمان باید آورد علیہم الصلوات والتسلیمات وہمہ را معصوم در است گوباید دانست عدم ایمان بیکے ازیں بزرگواران مستلزم عدم ایمان است بجمیع ایشاں علیہم الصلوات والتسلیمات چہ کلمہ ایشاں متفق است واصول دین شان واحد وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔‘‘ (مکتوب:۱۷، ج:۲ حصہ ششم ص:۳۰۴،۳۰۵)
یہاں سے معلوم ہوا کہ کسی زِندیق نے مصنوعی مسیح کے ثبوت پر اِمامِ ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ پیشین گوئی فرمائی کرکے کہا ہے، سو وہ اِمامِ ربانی پر اِفترا ہے، اور جو عبارت کہ اِمامِ ربانی کی طرف منسوب کی، اس میں تحریف ہے، اِمامِ ربانی قدس سرہٗ عقیدۂ اہلِ سنت کے موافق وہی حضرت عیسیٰ کے آسمان پر سے اُترآنے کے قائل ہیں، جن پر اِنجیل نازل ہوئی۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مخالفین، عیسیٰ علیہ السلام کے مرجانے اور رفع مع الجسد والروح کے اِنکار پر معراج کی حدیث سے جو دلیل لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: اگر حضرت مسیح کا رفع مع الجسد والروح ہوتا تو کیوں حضرت مسیح فوت شدہ نبیوں کی جماعت میں معراج کی شب دیکھے جاتے اور ان کی زندگی فوت شدہ نبیوں کی زندگی کے ہم رنگ ہوتی۔ سو یہ اِستدلال باطل ہے، کیونکہ علماء تصریح کرچکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم معراج کی شب انبیاء کو جو دیکھے سو، یا ان کے ارواح شکل لے کے آئے یا اللّٰہ تعالیٰ حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم کے واسطے ان کے جسموں کو قبروں سے نکال کر آسمان پر لے گیا، مگر عیسیٰ علیہ السلام کہ وہ اپنے جسم سے موجود تھے، علامہ زرقانیؒ نے شرح مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’وقد اختلف فی رؤْیۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ھٰؤُلاء الأنبیاء علیھم السلام فحملہ بعضھم علٰی رؤْیۃ ارواحھم إلَّا عیسٰی لما ثبت انہ رفع بجسدہ۔‘‘ (شرح مواھب اللدنیۃ ج:۶ ص:۷۲)
اور وہ شخص عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے کا اِنکار کرتا ہے جو لکھتا ہے کہ: ’’اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کرلیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدّت کے گزرنے پر پیرفرتوت ہوگئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی ادا کرسکیں‘‘ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ایسے اِستخفاف وحقارت کے الفاظ جو ذِکر کیا وہ بھی بالاجماع کفر واِرتداد ہے۔ یہ زِندیق نہیں جانتا کہ خداتعالیٰ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو ایسی طاقت دیتا ہے جو اور بشر کو وہ میسر نہیں، اور ان میں جن کی عمر دراز کی، ان سے دِینی کاموں میں کچھ فتور نہیں ہوا، جیسا آدم ونوح علیہماالصلوٰۃ والسلام جن کی عمر ہزار سال کی ہوئی، پھر جب عیسیٰ علیہ السلام کو بے غذائی وغیرہ صفتِ مَلکی عنایت ہوئی تو ان پر ضعف وپیری کہ ان سے آتی، دیکھو! فرشتوں کو کہ باوجود عمردراز رہنے کے ضعف وفتور نہیں ہے۔ قاضی عیاضؒ شفاء میں اور مُلَّا علی قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’او استخف ای إحتقر واستھزأ بہ أو بأحد من الأنبیاء أو ازری ای عاب علیھم، ای جمیعھم أو بعضھم أو أذاھم أو قتل نبیًّا أو حاربہ فھو کافر بإجماع من علماء المسلمین۔‘‘
(شرح الشفاء ج:۲ ص:۵۱۴، طبع بیروت)
259
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے ’’اعلام بقواطع الاسلام‘‘ میں من جملہ کفریات میں لکھا ہے:
’’او قال إستخفافًا: النبی طویل الأظفار خلق الشیاب جائع البطن‘‘
اور جو دعویٰ کرتا ہے کہ مسیحِ موعود میں ہی ہوں، اور کہتا ہے کہ: ’’جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا، وہ لوگ ہر خطرہ کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں‘‘ وہ بھی کفر ہے، کیونکہ اس کا مسیحِ موعود ہونا مان لینے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا اِنکار ہے، وہ کفر ہے، جیسا کہ اُوپر گزرا، اور اس جھوٹے مدعی کو نبی تصوّر کرتا ہے وہ بھی کفر ہے، تمہید ابی الشکور میں ہے:
’’من انکر نبیًّا فإنہ یکفر ولو اقرّ لأحد بالنبوّۃ وھو لم یکن نبیًّا فإنہ یکفر أیضًا۔‘‘
اور جو نبوّت وحی کا دعویٰ کرتا ہے وہ بھی کفر واِرتداد ہے، تمہید ابی الشکور میں لکھا ہے:
’’ومن ادعی النبوّۃ فی زماننا یصیر کافرًا ومن طلب منہ المعجزۃ فإنہ یصیر کافرًا لأنہ شک فی النص فیجب الإعتقاد بأنہ ما کانت لأحد شرکۃ فی النبوۃ مع محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’من اعتقد وحیًا من بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کان کافرًا بإجماع المسلمین۔‘‘
اور علامہ قسطلانیؒ نے مواہب اللدنیۃ میں لکھا ہے:
’’وقد اخبر اللہ تعالٰی فی کتابہ ورسولہ فی السُّنَّۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ھٰذا المقام بعدہ فھو کذَّابٌ أفَّاکٌ دَجَّالٌ ضالٌّ مُضلٌّ ولو تخرَّق وشعبد واتی بأنواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلھا محال وضلالۃ عند اولی الألباب، ولا یقدح فی ھٰذا نزول عیسٰی علیہ السلام لأنہ إذا نزل کان علٰی دین نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ومنھاجہ مع ان المراد انہ آخر من نبّیء، قال ابن حبان: من ذھب إلٰی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او إلٰی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق یجب قتلہ، و اللہ تعالٰی اعلم!‘‘
(مواھب اللدنیۃ ج:۲ ص:۱۸۷،۱۸۸)
اور علامہ شمس الدین التکساریؒ نے ’’شرح عمدۃ العقائد‘‘ میں لکھا ہے:
’’ثبت بالدلیل الختام الرسالۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام وانسداد بابھا بعدہ فلو ادعی احد بعدہ انہ نبی لا یطالب بالبرھان بل یردو دعواہ بأول الوھلۃ إلَّا إذا ارید بمطالبۃ البرھان إظھار عجزہ إذ من المعلوم انہ لا یتمکن من إقامۃ الدلیل فینتھک سترہ ویفتضح فی دعواہ۔‘‘
اور آیت: ’’وَمُبَشِّرًا بِرسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہٗ اَحْمَدْ‘‘ کا اپنی طرف ہی اِشارہ ہونے کا اور آپ اس کا مصدق ہونے
260
کا جو دعویٰ کرتا ہے وہ بھی کفر واِرتداد ہے، کیونکہ یہ آیت بالاجماع محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں نازل ہوئی ہے جو عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی کہ اپنے بعد ایک رسول آئیں گے ان کا نام احمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم،اور سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسمائے مبارک میں احمد دُوسرا نام ہے، جو اہلِ سماوات کے نزدیک اس ہی نام سے مشہور ہیں۔ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی قدس سرہٗ نے اپنے مکتوب:۹۴ جلدثالث میں لکھا ہے:
’’واحمد اسم دوئم آںسروَر است علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ در اہل سماوات بآں اسم معروف است چنانچہ گفتہ اند اینجا تو اند بود کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از اہل سماوات گشتہ است بشارۃ قدم آںسروَر را باسم احمد دادہ است۔‘‘ (مکتوب اِمامِ ربانی حصہ ششم، ج:۲ ص:۴۹۲)
جب کسی زِندیق نے اس کو اپنی طرف اِشارہ ہے کرکے کہا، تو محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفت کو جو بالاجماع ثابت ہے، جھٹلایا، وہ کفر ہے۔ اِبنِ حجرؒ نے ’’کتاب الزواجر‘‘ میں لکھا ہے:
’’ان کل صفا اجمعوا علٰی ثبوتھا لہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون انکارھا کفرًا۔‘‘
اور خود رسول ہونے کا دعویٰ ہوا، وہ بھی کفر ہے جیسا کہ سابق گزرا۔ اور نص قرآن کو جو یہاں یقینا ظاہر پر محمول ہے پھیرا، کفر ہے، شرح عقیدۂ یافعی میں ہے:
’’وقد نص العلماء رضی اللہ عنھم علٰی تکفیر کل من دافع الکتاب العزیز او حدیثًا مجمعا علٰی نقلہ مقطوعًا بہ مجمعًا علٰی حملہ علٰی ظاھرہ۔‘‘
اور تمہید ابی شکور میں ہے:
’’والأصل فی ھٰذا ان من تکلم بکلمۃ او اعتقد بشیء یکون خلاف النص او ما یقوم مقام النص کالسُّنَّۃ الظاھرۃ الثابتۃ وإجماع الاُمَّۃ فإنہ یوجب الکفر۔‘‘
اور آیت: ’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ‘‘ (الصف) کو اپنے ہی زمانے سے متعلق ہونے کا دعویٰ جو کرتا ہے، وہ بھی کفر واِرتداد ہے، کیونکہ یہ آیت بالاجماع ہمارے نبی کریم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصف میں نازل ہوئی، اس کے معنی یہ ہیں: ’’اسی نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت کے اور دِینِ حق کے، تااس کو غالب کرے ہر دِین پر، اور اگرچہ بُرا مانیں مشرک۔‘‘
علامہ قسطلانی ؒنے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’وھٰذہ الآیۃ مشتملۃ علٰی کل وصف جمیل لہ۔‘‘
ہاں ا،ختلاف اس میں کرتے ہیں کہ ظہور سے کیا مراد ہے؟ سو اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ ظہور سے مراد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نصرت وغلبہ دینا، اور بعضوں نے کہا: ظہور سے مراد سوائے اسلام کے کوئی دِین باقی نہ رہنا، اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ہوگا۔ تفسیر اِبنِ عطیہ میں ہے:
261
’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی الآیۃ تعظیم لأمرہ صلی اللہ علیہ وسلم واعلام بأنہ یظھرہ علٰی جمیع الأدیان ورأی بعضھم ان لفظ یظھرہ یقتضی محو غیرہ بہ فقال: ھٰذا الخبر یظھر للوجود عند نزول عیسٰی فإنہ لا یبقی فی وقتہ دین غیر الإسلام۔‘‘
پھر جو بے دِین کہ اس کو اپنے ہی زمانے سے متعلق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس سے ایک صورت ان دو سے نظر آتی ہے، یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفت کو جھٹلانا، یا خود مسیح موعود ہونا، وہ دونوں کفر ہیں۔
اَمّا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا معراج جسم مبارک کے ساتھ ہونے کا اِنکار کرکے جو کہتا ہے کہ: ’’اعلیٰ درجے کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں خود صاحبِ تجربہ ہے‘‘ وہ بھی کفر ہے، کیونکہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا معراج جسم مبارک اور رُوح شریف کے ساتھ سماوات کے اُوپر الیٰ ماشاء اللّٰہ ہونا اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خصوصیت سے ہونا، اہلِ سنت وجماعت کا مذہب ہے، ان کا اِنکار کرکے وہ کشفی ہونا اور اپنے کو بھی تجربہ ہے یعنی خود اسے بھی ہوتا ہے، بیان کرکے اظہار کرنا، کفر واِرتداد ہے۔ علماء اگرچہ سماوات پر تشریف لے جانے کے منکر کو مبتدع اور ضال ومضل کہتے ہیں، اور اس کے کفر میں اِختلاف کئے ہیں، لیکن بیت المقدس تک تشریف لے جانے کے منکر کی تکفیر میں اِتفاق کئے ہیں۔ قاضی عیاضؒ شفا میں اور مُلَّاعلی قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’والحق من ھٰذا والصحیح إن شاء اللہ تعالٰی إستثناء للتبرک بمنزلۃ و اللہ تعالٰی اعلم انہ اسری بالجسد والروح فی القصۃ کلھا وعلیہ ای وعلٰی ھٰذا تدل الآیۃ وصحیح الأخبار ای مجموعھما علٰی جمیعھا غایۃ ان دلالۃ الآیۃ علی الإسراء من المسجد الحرام إلی السجد الأقصٰی نص قاطع یکون جاحدہ کافرًا او منافقًا ودلالۃ الأحادیث علٰی إسرائہ إلی السماء وسدرۃ المنتھٰی ومقام قاب قوسین او ادنیٰ ظنیۃ منکرہ یکون مبتدعًا فاسقًا۔‘‘
(شرح شفاء ج:۱ ص:۴۱۱)
اور علامہ تفتازانی ؒنے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے:
’’والمعراج لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الیقظۃ بشخصہ إلی السماء ثم إلٰی ماشاء اللہ تعالٰی من العلٰی حق ای ثابت بالخبر المشھور حتّٰی ان منکرہ یکون مبتدعًا۔‘‘
(شرح عقائد النسفیۃ ص:۱۴۳، طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی)
اور فتاویٰ حمادیہ میں لکھا ہے:
’’وکل ما ثبت بالخبر الواحد واتفق الفقھاء علٰی صحۃ ذالک واجتمع علٰی قبولہ من غیر تأویل فإنہ یکون من شرائط الإیمان کعذاب القبر والصراط والمیزان والشفاعۃ والمعراج إلی السماء ومثل ھٰذا بالخبر الواحد ولٰکن الفقھاء والصحابۃ رضی اللہ عنھم اتفقت علٰی صحۃ ذالک وقبولھا فحل محل الإجماع فإنہ یوجب الإیمان بہ ثم من انکر ذالک ھل
262
یصیر کافرًا أم لا؟ قال بعضھم: یصیر کافرًا، وقال بعضھم: لا یصیر کافرًا۔‘‘
اور علامہ قسطلانی ؒنے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’وبالجملۃ حدیث الإسراء اجمع علیہ المسلمون واعرض عن الزنادقۃ الملحدون یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُوْا نُورَ اللہ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللہ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُونَ‘‘ (مواہب اللدنیۃ ج:۶ ص:۱۴)
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے ’’منج المکیہ شرح الہمزیہ‘‘ میں لکھا ہے:
’’وقصۃ الإسراء والمعراج من اشھر المعجزات واظھر البراھین والبینات ومن ثم قال بعض المفسرین انھا افضل من لیلۃ القدر لٰکن بالنسبۃ لہ صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ اوتی فیھا ما لا یحیط بہ الحد ولذا کان الإسراء بالجسم فی الیقظۃ من خصائص نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
وہ جو عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ: ’’ما فقد جسد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ سو علماء کہتے ہیں کہ وہ حدیث ثابت نہیں، بلکہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا مذہب موافق جمہور کے تھا کہ معراج رُوح اور جسم شریف کے ساتھ تھا۔ قاضی عیاضؒ شفا میں اور مُلَّا علی القاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’وھو دلیل قول عائشۃ ای مذھب المختار لھا۔‘‘ (شرح شفاء ج:۱ ص:۴۱۰)
اور بھی لکھتے ہیں:
’’وایضًا فلیس حدیث عائشۃ رضی اللہ عنھا ای ما فقدت جسدہ بالثابت ای عند ائمۃ الحدیث لقادح فی سندہ عنھا۔‘‘ (شرح شفا ج:۱ ص:۴۲۱)
اور صورت ثبوت اس میں معراج رُوح مع الجسد کا اِنکار نہیں۔ تفتازانی ؒنے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے:
’’والمعنی ما فقد جسدہ عن الروح بل کان مع روحہ وکان المعراج للروح والجسد جمیعًا۔‘‘ (شرح عقائد نسفی ص:۱۴۳)
اور یہ بھی معلوم کریں کہ ہمارے نبی کریم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اللّٰہ تعالیٰ کے نور سے بنا تھا، اللّٰہ تعالیٰ اس کو کثائف جسمانیہ سے پاک کرکے خالص نور کیا تھا، اس لئے آپ جب دُھوپ یا چاندنی میں گزرتے تو سایہ نہیں پڑتا تھا سو ایسے پاک نور مقدس جسم کو یہ زندیق نے کثیف کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، سو معاذاللّٰہ کیسی قساوت قلبی ہے۔
ابن حجر مکی نے شرح الہمزیہ میں لکھا ہے:
’’انہ صلی اللہ علیہ وسلم کان إذا مشی فی الشمس أو القمر لا یظھر الا للکثیف وھو صلی اللہ علیہ وسلم قد خلصہ اللہ من سائر الکثائف الجسمانیۃ وصیرہ نورًا صرفًا لا یظھر لہ ظل اصلًا خرقًا للعادۃ کما خرقت لہ فی شق صدرہ وقلبہ مرارًا لم یتألم بذالک۔‘‘ انتھی۔
263
اور وہ جو کہتا ہے کہ: ’’اسلام کو غلطیوں اور اِلحاقاتِ بے جا سے منزّہ کرکے وہ تعلیم جو رُوح وراستی سے بھری ہوئی ہے، خلق اللّٰہ کے سامنے رکھنا خدائے تعالیٰ نے اپنے سپرد کیا ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ آپ جو کفریات شریعتِ غرا کے مخالف بکتا ہے، اس کو خداتعالیٰ اپنے سپرد کیا ہے کرکے اللّٰہ تعالیٰ پر اِفترا کرتا ہے، وہ کفر ہے،قال اللہ تعالٰی: ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرٰی عَلی اللہِ کَذِبًا ‘‘ (الانعام:۲۱) اور خطیب شربینی نے تفسیر سراج المنیر میں لکھا ہے:
’’قال العلماء وقد دخل فی حکم ھٰذہ الآیۃ کل من افتری علی اللہ کذبًا فی ذالک الزمان وبعدہ۔‘‘
اور اِبنِ حجر مکی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’کل حقیقۃ ردتھا الشریعۃ زندقۃ۔‘‘
اور زواجر میں لکھا ہے:
’’ولا ریب ان تعمد الکذب علی اللہ ورسولہ فی تحلیل حرام او تحریم حلال کفر محض!‘‘
اور مرزا، سیّدالانبیاء محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اور دُوسرے انبیاء کا مثیل ہونے کے جو دعوے کرتا ہے، وہ بھی کفر ہے، کیونکہ جمیع وجوہ سے مساوی رہنے والے کو مثیل کہتے ہیں۔ ’’تحفۃالمرید‘‘ میں لکھا ہے:
’’الشبہ والشبیہ بمعنی کالحب والحبیب وذالک المعنیٰ ھو المساوی فی اغلب الوجوہ والنظر ھو المساوی ولو فی بعض الوجوہ والمثیل ھو المساوی فی جمیع الوجوہ۔‘‘
پھر جب آپ مثیل ہوکر کے کہا تو بجمیع وجوہ سروَرِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور دُوسرے انبیاء کا مساوی ہونے کا اِدّعا ہوا، وہ کفر ورَدّت ہے۔
’’غایۃتلخیص المراد من فتاویٰ ابنِ زیاد‘‘ میں لکھا ہے:
’’رجل قال فی حلفہ ورأس علی بن عمر الشاذلی الذی ما مثلہ إلَّا النبی صلی اللہ علیہ وسلم اجریت علیہ احکام الردۃ فیستتاب، فإن تاب وإلَّا قتل بردتہ لفعلہ ھٰذا الشنیع من تشبیہ سیّد الکونین صلوات اللہ وسلامہ علیہ بغیرہ کیف وقد قال فی الشفاء فی ابوا نواس انہ کفر او قارب بتشبیہ محمد الأمین بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وھٰذا اعظم منہ۔‘‘
اور مخالفوں نے جواز مثیل پر حدیث: ’’علماء اُمّتی کأنبیاء بنی إسرائیل‘‘ سے جو اِستدلال کیا ہے، سو وہ باطل ہے، کیونکہ محدثین کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل نہیں۔ مُلَّاعلی قاریؒ نے رسالہ موضوعات میں لکھا ہے:
’’قال الدمیری والعسقلانی والزرکشی لا اصل لہ۔‘‘ (موضوعات کبیر ص:۴۸)
264
بہ تقدیر ثبوت اس میں کاف تشبیہ لائے، علماء کی فضیلت بیان فرمائی، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص اپنے کو مثیل انبیاء قرار دے۔
اور جو کہتا ہے کہ: ’’حضرت مسیح علیہ السلام اور خود کے دل میں جو قومی محبت ہے اس نے خدا کی محبت کو اپنے طرف کھینچ لیا ہے، ان دونوں محبتوں کے ملنے سے تیسری چیز پیدا ہوئی جس کا نام رُوح القدس ہے، اس کو بطور اِستعارہ کے ان دونوں محبتوں کا بیٹا کہنا چاہئے، اور یہ پاک تثلیث ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید اور اِبطالِ تثلیث پر عقائدِ اِسلام کی بنا ہے، پھر یہ شخص اپنی اور خدا کی محبت ملنے سے رُوح القدس پیدا ہوا، اس کو بطور اِستعارہ ان دونوں محبتوں کا بیٹا اور یہ پاک تثلیث ہے کرکے تثلیث کا جو زعم کرتا ہے، سو وہ کفر ہے۔
اور وہ جو کہتا ہے کہ: ’’مسیح کا اور اپنا مقام ایسا ہے کہ اس کو اِستعارہ کے طور پر اِبنیت کے لفظ سے تعبیر کرسکتے ہیں، یعنی اِبنِ اللّٰہ کہہ سکتے ہیں‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نصاریٰ مسیح کو اور یہود عزیر کو اِبن اللّٰہ کہنے پر ان کی سخت مذمت کی اور ان پر لعنت کیا، اور متعدّد مقاموں میں اِبنیت سے اپنی ذات کو تنزیہ کیا، پھر حقیقی طور پر ہو یا مجازاً واِستعارۃً اس کی ذات سے اِبنیت کی نسبت لگانا شرعاً کفر ٹھہرا، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’وَقَالَتِ الْیَہُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللہ وَقَالَتْ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللہِ ذَلِکَ قَوْلُہُم بِأَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِؤُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِن قَبْلُ قَاتَلَہُمُ اللہُ اَنّٰی یُؤْفَکُونَ‘‘ (التوبہ۳۰)
یعنی اور کہا یہود نے عزیر بیٹا اللّٰہ کا ہے، اور کہا نصاریٰ نے مسیح بیٹا اللّٰہ کا ہے، یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے مشابہ ہوتے ہیں بات سے ان لوگوں کے کہ کافر ہوئے پہلے اس سے ماریو ان کو اللّٰہ، کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔
اور بھی فرماتا ہے:
’’وَقَالُوااتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَداًلَقَدْجِئْتُمْ شَیْئاًإِدّاًتَکَادُالسَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدّاًأَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَداً.وَمَا یَنبَغِیْ لِلرَّحْمَنِ أَن یَتَّخِذَ وَلَداً‘‘ (مریم۸۸ تا ۹۲)
یعنی اور کہا انہوں نے پکڑی ہے اللّٰہ نے اولاد، البتہ تحقیق لائے تم ایک چیز بھاری، یعنی بھاری گناہ، نزدیک ہیں آسمان کہ پھٹ جائیں اس سے اور پھٹ جائے زمین اور گرپڑیں پہاڑ کانپ کر اس سے کہ دعویٰ کیا انہوں نے واسطے اللّٰہ کے اولاد کا، اور نہیں لائق واسطے رحمن کے یہ کہ پکڑے اولاد۔
اور بیضاویؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:
’’واعلم ان السبب فی ھٰذہ الضلالۃ ان ارباب الشرائع المقدمۃ کانوا یطلقون الأب علی اللہ تعالٰی بإعتبار انہ السبب الأوّل حتّٰی قالوا ان الأب ھو الربّ الأصغر و اللہ سبحانہ تعالٰی ھو الربّ الأکبر، ثم ظنت الجھلۃ منھم ان المراد بہ معنی الولادۃ فاعتقدوا ذالک تقلیدًا ولذالک کفر قائلہ ومنع منہ مطلقًا جسما لمادۃ الفساد۔‘‘
265
اور علامہ عبدالحکیم السیالکوٹی نے حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے:
’’قولہ ومنع منہ مطلقًا ای سواء قصد معنی منہ مجازیًّا او معنی حقیقیًّا‘‘
اور علامہ شیخ زادہؒ نے حاشیہ بیضاوی میں لکھا ہے:
’’وإذ ثبت ھٰذا فتقول إذا لم یجز حقیقۃ الولادۃ فلا یجوز التسمیۃ بطریق المجاز، لأن الإطلاق علٰی سبیلہ التجوز انما یصح إذا کان الإطلاق علٰی سبیلہ الحقیقۃ متصورًا لأن الإطلاق المجازی ھو التشبیہ بحذف اداۃ التشبیہ والتشبیہ إنما یتصور إذا کان المشبہ بہ متصورا وإذا لم یتصور ان یکون لہ تعالٰی ولد حقیقۃ لا یجوز التسمیۃ بطریق المجاز۔‘‘
اور خطیب شربینی نے سراج المنیر میں لکھا ہے:
’’وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا سبحانہ ای ما یلیق بہ اتخاذ الولد لأن ذالک محال، اما الولادۃ المعروفۃ فلا مقالہ فی امتناعھا واما التبنی فإن الولد لابد ان یکون شبیھا بالوالد ولا شبیہ اللہ تعالٰی لأن اتخاذ الولد انما یکون لأغراض، إما من سرور او إستعانۃ او ذکر جمیل وکل ذالک لا یصح فی حق اللہ تعالٰی۔‘‘
اور وہ جو قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر صحابہ وتابعین وجمہور مفسرین کے برخلاف اپنی رائے سے کرتا ہے اور صحابہ وتابعین سے اس کی جو تفسیر وارِد ہوئی ہے، اس کو سراسر غلط ہے کرکے کہتا ہے، وہ بھی کفر ہے، کیونکہ قرآن کی تفسیر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین سے جو منقول ہے، اس کو اِختیار کرنا واجب ہے۔ شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے اِتقان میں لکھا ہے:
’’یجب ان یکون إعتمادہ علی النقل من النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعن اصحابہ او من عاصرھم۔‘‘
پھر جب اس کو سراسر غلط ہے کرکے اپنی رائے سے تفسیر کی تو نص قرآن کا جو معنی ہے اس کو پھیرا اور وہ کفر ہے۔ قاضی عیاضؒ شفا میں اور مُلَّا علی القاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’وکذالک وقع الإجماع علٰی تکفیر کل من دافع نص الکتاب القدیم وحملہ علٰی خلاف ما ورد بہ معنی القویم۔‘‘ (شرح الشفاء للقاضی عیاض ج:۲ ص:۵۱۶)
اور وہ جو کہتا ہے کہ: ’’جبرائیل امین جو انبیاء کو دِکھائی دیتا ہے وہ بذاتِ خود زمین پر نہیں اُترتا، اور اپنے ہیڈکوارٹر نہایت روشن نیّر سے جدا نہیں ہوتا ہے، بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے، اور اس کی عکس سے تصویر ان کے دل میں منقوش ہوجاتی ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، اِمام عبداللّٰہ النسفی نے ’’عمدۃالعقائد‘‘ میں لکھا ہے:
’’ولو جاز إستبعاد صعود النبی لجاز إستبعاد نزول الملک وھو یؤَدّی إلٰی إنکار النبوۃ۔‘‘
266
اور علامہ شمس الدین التکساری نے اس کی شرح میں لکھا ہے:
’’ھٰذا إشارۃ إلٰی فساد دلیل من ذھب إلٰی انہ ای المعراج فی المنام تقریرہ ان محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم من جنس البشر لقولہ تعالٰی: قل انما انا بشر مثلکم، ومن ھو من جنس البشر یمتنع صعودہ إلی السماء لأنا نعلم بالضرورۃ ان الجسم یمتنع صعودہ إلی الھواء العالی والجواب انہ لو صح إستبعاد صعود شخص من البشر إلی الھواء العالی لصح إستبعاد نزول الجسم الھوائی إلی الأرض لٰکن التالی باطل لأنہ یؤَدّی إلٰی إنکار نزول الملک وھو کفر لإتفاق الأنبیاء والرسل علیھم السلام علیہ وبداھۃ إمتناع الصعود ممنوعۃ بل ھو ممکن و اللہ تعالٰی قادر علٰی جمیع الممکنات فکانت الشبھۃ زائلۃ۔‘‘
اور علامہ قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’رویۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام الجبریل ھی اصل الإیمان لا یتم الإیمان إلا بإعتقادھا ومن انکرھا کفر قطعًا۔‘‘ (مواھب اللدنیۃ ج:۶ ص:۲۲۱)
اور وہ جو کہتا ہے کہ: ’’لیلۃالقدر سے رات مراد نہیں، بلکہ وہ زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہمرنگ اور وہ نبی یا اس کے قائم مقام مجدد کے گزرجانے سے ایک ہزار مہینے کے بعد آتا ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ جو فرماتا ہے: ’’لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ‘‘ (القدر۳) یعنی شبِ قدر بہتر ہے ہزار مہینوں سے، سو اس سے مراد رات ہے کرکے احادیث متواترہ اور اِجماع سے ثابت ہوچکا، پھر اس کا اِنکار کرکے نص قرآن کو اس کے ظاہری معنی سے بغیر دلیل قطعی کے پھیرا، وہ کفر ہے۔ قاضی عیاضؒ نے شفا میں لکھا ہے:
’’فإنہ إذا جوّز علٰی جمیع الاُمَّۃ الوھم والغلط فیما نقلوہ من ذالک واجمعوا انہ قول الرسول علیہ الصلٰوۃ والسلام وفعلہ وتفسیر مراد اللہ بہ ادخل الاسترابۃ فی جمیع الشریعۃ إذ ھم الناقلون لھا وللقرآن وانحلت ھوی الدین کرۃ ومن قال ھٰذا کافر۔‘‘
اور علامہ تفتازانی ؒنے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے:
’’والنصوص من الکتاب والسُّنَّۃ تحمل علٰی ظواھرھا ما لم یصرف عنھا دلیل قطعی کما فی الآیات التی تشعر ظواھرھا بالجھۃ والجمسیۃ ونحو ذالک والعدول عنھا ای عن الظواھر إلٰی معان تدعیھا اھل الباطن وھم الملاحدۃ وسموا بالباطنیۃ لإدعائھم ان النصوص لیست علٰی ظواھرھا بل لھا معان باطنۃ لا یعرفھا إلَّا الملھم وقصدھم بذالک نفی الشریعۃ بالکلیۃ إلحاد ای میل وعدول عن الإسلام وإتصال وإتصاف بکفر بکونہ تکذیبًا للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ۔‘‘ (شرح عقائد النسفی ص:۱۶۶، طبع مکتبہ خیر)
267
اَمَّا انبیاء علیہم السلام کے معجزوں کا جو اِنکار کرتا ہے اور ان کو مسمریزم طریق سے بطور لہوولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو جو قرآن شریف میں واقع ہیں، ان کا انکار کرتا ہے اور اس کو مشرکانہ خیال کرتا ہے، اور ان کو مسمریزم کے طریق پر ہونے کا قائل ہے، وہ بھی کفر ہے۔ علامہ شروانی نے حاشیہ تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے:
’’ان من کفر برسول واحد وبمعجزۃ واحدۃ فإنہ لا یمکنہ الإیمان بأحد من الرسل۔‘‘
اور وہ جو کہتا ہے کہ: ’’اگر میں اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نمایوں میں حضرت اِبنِ مریم سے کم نہ رہتا‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ یہ مرتد باوجود اس قساوتِ قلبی کے اس عمل مسمریزم کو آپ مکروہ جانتا ہے اور اس کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نسبت کیا، جو یقینا کفر ہے۔
اس کے سوائے ان اعجوبہ نمایوں میں عیسیٰ علیہ السلام سے کم نہ رہتا کرکے جو کہتا ہے اس سے عیسیٰ علیہ السلام سے مساوات یا تفوّق ہونے کا دعویٰ ہوا، وہ بھی کفر ہے، اور باتفاق فقہاء کسی ولی کو بھی نبی کے رُتبے کو پہنچاکرکے اِعتقاد کرنا کفر ہے، چہ جائیکہ یہ زِندیق آپ عیسیٰ علیہ السلام سے مساوی ہونے کا یا فائق ہونے کا دعویٰ کرے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری میں لکھا ہے:
’’فالنبی افضل من الولی وھو امر مقطوع بہ عقلًا ونقلًا والصائر إلٰی خلافہ کافر لأنہ امر معلوم من الشرع بالضرورۃ۔‘‘
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’ان من اعتقد ان الولی یبلغ مرتبۃ النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام فقد کفر۔‘‘
اَمّا عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف نجار ہونے کا جو زَعم کرتا ہے، وہ بھی کفر ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا، سو قرآن شریف میں فرماتا ہے، پھر یہ شخص جب عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف نجار ہونے کا زَعم کیا، سو قرآن کی تکذیب کی، وہ کفر وَردّت ہے، کما مر!
اور وہ جو عیسیٰ علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے کرکے جو اَحادیثِ صحیحہ وارِد ہوئی ہیں، سو اس سے مراد قتل کرنے کا حکم کرنا ہے، حافظ اِبنِ حجر عسقلانی ؒنے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے:
’’ویقتل الخنزیر ای یأمر بإعدامہ مبالغۃ فی تحریم اکلہ فیہ توبیخ عظیم للنصاریٰ الذین یدعون انھم علٰ طریقۃ عیسٰی ثم یستحلون اکل الخنزیر ویبالغون فی نجسۃ۔‘‘
پھر اس سے یہ زِندیق ایک غلط معنی کرکے جو زَعم کرتا ہے کہ آپ کہا سو معنی مراد نہ ہو تو اس کا حقیقی معنی شکار کھیلتے پھرنا ہوگا، پھر اس پر اِستہزا کرتا ہے، سو شریعت کا اِستہزا ہے، وہ کفر ہے، علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے:
’’والإستھزاء علی الشریعۃ کفر لأن ذالک من امارات التکذیب۔‘‘
(شرح عقائد نسفی، مبحث الإستحلال الکفر ص:۱۶۷)
268
اَمّا وہ جو کہتا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَزاوجِ مطہراتؓ میں کونسی بی بی کا پہلے اِنتقال ہوگا، سو جو پیش گوئی فرمائی تھی، اس پیش گوئی کی اصل حقیقت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ تھی‘‘ سو یہ بھی کفر ہے، پہلے ہم عوام کی اِطلاع کے لئے وہ حدیث دِکھلانے کے بعد اس کا حکم لکھتے ہیں۔
معلوم کریں کہ عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَزواجِ مطہراتؓ کو فرماتے: تمہارے میں جس کے ہاتھ دراز ہیں، وہ میرے سے اوّل ملے گی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، بعد سب بیبیاں اپنے ہاتھ ماپ کر دیکھے تو بی بی سودہ رضی اللّٰہ عنہا کے ہاتھ سب سے دراز تھے، جب زینب رضی اللّٰہ عنہا کی وفات ہوئی تو سمجھے ہاتھ دراز ہونے سے مراد سخاوت تھی کہ زینبؓ بڑے ہاتھ کی بی بی تھیں، صدقہ بہت دیا کرتی تھیں۔ اس حدیث سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس پیش گوئی کی اصل حقیقت معلوم نہ تھی کا مفہوم نہیں ہوتا، بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اَزواجِ مطہراتؓ نے ہاتھ بڑا رہنے سے اس کا ظاہری معنی مراد ہے کرکے اِبتدائً سمجھے پھر جب بی بی زینب رضی اللّٰہ عنہا کی وفات اوّل ہوئی تب معلوم کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہاتھ بڑا رہنے سے اس کے مجازی معنی اِرادہ فرمائے۔
شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے زہرالربی میں لکھا ہے:
’’قال القرطبی معناہ فھمنا ابتدائً ظاھرہ فلما ماتت زینب علمنا انہ لم یرد بالید العضو وبالطول طولھا بل اراد العطاء وکثرتھا فالید ھنا إستعارۃ للصدقۃ والطول ترشیح لھا۔‘‘
اور یہ اِعتقاد رکھنا ضرور ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو علومِ اوّلین وآخرین اور علم ماکان وما یکون کا عطا فرمایا تھا، اور آئندہ جوجو واقعات ہونے والے ہیں، ان سب کی وحی کرچکا تھا، اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے تھے سو وہ بے قصد کے بغیر جاننے کے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نہیں نکل جاتا تھا، بلکہ جو کچھ فرماتے تھے سو وہ حقیقت الحق سے تھا، شیخ جلال الدین السیوطیؒ نے ’’مصباح الزجاجہ حاشیہ سنن اِبنِ ماجہ‘‘ میں لکھا ہے:
’’فإنہ صلی اللہ علیہ وسلم اوحی إلیہ بجمیع ما یحدث بعدہ مما لم یکن فی زمانہ۔‘‘
(سنن ابن ماجۃ حاشیۃ:۱)
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے شرح الہمزیہ میں لکھا ہے:
’’وسع علمہ صلی اللہ علیہ وسلم علوم الأوّلین الإنس والملائکۃ والجن لأن اللہ تعالٰی اطلعہ علی العالم فعلم علم الأوّلین والآخرین ما کان وما یکون کما مر وحسبک فی ذالک القرآن الذی اوتیہ صلی اللہ علیہ وسلم ومثلہ معہ کما صح عنہ وقد قال تعالٰی: ما فرطنا فی الکتٰب من شیء، ویلزم من احاطۃ صلی اللہ علیہ وسلم بالعلوم القرآنیۃ ومثلھا الذی اوتیہ ایضًا انہ صلی اللہ علیہ وسلم احاط بعلوم الأوّلین والآخرین وان علومھم مندرجۃ ومنغمرۃ فی علومہ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
269
اور علامہ زرقانی ؒنے شرح المواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’قال الإمام الغزالی: لا یظن ان تقدیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم یجری علٰی لسانہ کیف اتفق بل لا ینطق إلَّا بحقیقۃ الحق۔‘‘
پھر جو شخص کہ اس مذکور پیش گوئی کی اصل حقیقت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی معلوم نہ تھی کرکے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف بے علمی کی نسبت کرتا ہے، وہ کافر ہے، اِبنِ حجر مکیؒ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے:
’’ولا شک ان من اعتقد ان ابن سریج او اجل منہ علم علما حقا وجھلہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان کافرًا مھدر الدم لأنہ مرتد عن الإسلام۔‘‘
اَمّا وہ جو کہتا ہے کہ: ’’جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں اور اُمورِ اَخباریہ کشفیہ میں اِجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہوجاتی ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ نبی کو غلطی کی طرف نسبت کرنا اور انبیاء سے پیش گوئی میں غلطی ہوجاتی ہے کرکے اِعتقاد رکھنا، کفر ہے۔ شرح عقیدۂ یافعی میں ہے:
’’وکذا یکفر من دان بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ ونبوۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ولٰکن جوّز علی الأنبیاء الکذب فیما اتوا بہ ادعی فی ذالک المصلحۃ بزعمھم او لم یدعھا۔‘‘
اور اِمام علامہ ابوعبداللّٰہ محمد بن یوسف السنوسی نے اپنے عقیدہ میں فرمایا:
’’اما الرسل علیھم الصلٰوۃ والسلام فیجب فی حقھم الصدق والأمانۃ وتبلیغ ما اُمروا بإبلاغہ للخلق ویستحیل فی حقھم علیھم الصلٰوۃ والسلام أضداد ھٰذہ الصفات وھی الکذب والخیانۃ بفعل شیء مما نھی عنہ نھی تحریم او کراھۃ۔‘‘
اور بھی کہا:
’’فلا یرتاب فی صدقھم علیھم الصلٰوۃ والسلام إلَّا من طبع اللہ علٰی قلبہ والعیاذ با اللہ تعالٰی!‘‘
اَمّا وہ جو کہتا ہے کہ: ’’جبکہ پیش گوئیوں کے سمجھنے کے بارے میں خود اَنبیاء سے اِمکانِ غلطی ہے تو پھر اُمت کا کورانہ اِتفاق یا اِجماع کیا چیز ہے؟‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ اس میں انبیاء سے پیش گوئیوں کے سمجھنے میں اِمکانِ غلطی ہے کرکے جو اِعتقاد رکھا، وہ کفر ہے، اس کے سوائے اُمت کی تضلیل کی، وہ بھی کفر ہے۔ شرح عقیدۂ یافعی میں ہے:
’’وکذالک نقطع بتکفیر کل قائل قال قولًا یتوصل بہ إلٰی تضلیل الاُمَّۃ۔‘‘
اور اِبنِ حجر مکیؒ نے اعلام میں لکھا ہے:
’’ان کل ما فیہ تضلیل الاُمّۃ یکون کفر۔‘‘
270
اَمّا انبیاء اور رسولوں کی وحی میں شیطانی دخل ہوجانے کا دعویٰ کرکے جو کہتا ہے کہ: ’’چارسو نبی جھوٹے نکلے اور دراصل وہ ایک ناپاک رُوح کی طرف سے تھا، نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا، اور ان نبیوں نے دھوکا کھاکر ربانی سمجھ لیا تھا‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ شیطان کا فرشتے کی صورت میں آکے انبیاء کو دھوکا دینا صحیح نہیں، پھر ویسا اِعتقاد رکھا اس کے سوائے انبیاء کو جھوٹے نکلے کرکے اِعتقاد کیا، وہ کفر ہے، جیسا کہ اُوپر مذکور ہوا۔ اور علامہ قسطلانی ؒنے مواہب اللدنیہ میں لکھا ہے:
’’وکذالک لا یصح ان یتصور لہ الشیطان فی صورۃ الملک ویلبس علیھا لا فی اول الرسالۃ ولا بعدھا،بل لا یشک النبی ان ما یأتیہ من اللہ ھو الملک ورسولہ حقیقۃ إمّا بعلم ضروری یخلقہ اللہ أو ببرھان یظھر لدیہ۔‘‘
اَمّا وہ جو کہتا ہے کہ: ’’یہ بھی مدّت سے اِلہام ہوچکا ہے کہ: إنا انزلناہ قریبًا من القادیان، اور واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں ہے‘‘ یہ بھی کفر ہے، کیونکہ قرآن شریف میں لفظ ’’قادیان‘‘ جو موجود نہیں ہے، سو اس کو ہے کرکے اِعتقاد رکھا، جو لفظ قرآن شریف میں بالاجماع نہیں ہے اس کو ہے کرکے اِعتقاد رکھنا کفر ہے۔ قاضی عیاضؒ نے شفا میں لکھا ہے:
’’قد اجمع المسلمون ان القرآن المتلو فی جمیع أقطار الأرض المکتوب فی المصاحف بأیدی المسلمین مما جمعہ الدفتان من اول اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الیٰ آخر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ انہ کلام اللہ ووحیہ المنزل علٰی نبیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وان جمیع ما فیہ حق وان من نقص منہ حرفًا قاصدًا لذالک، أو بدّلہ بحرف آخر مکانہ، أو زاد فیہ حرفًا مما لم یشتمل علیہ المصحف الذی وقع علیہ الإجماع وأجمع علٰی انہ لیس من القرآن عامدًا لکل ھٰذا انہ کافر۔‘‘ (الشفاء قاضی عیاض ص:۲۶۴، طبع مصطفی البابی)
اب ہم اہلِ اسلام کو معلوم کراتے ہیں کہ جو شخص ایسے دعوے کرتا ہے، سو وہ نہ نبی ہے، کیونکہ نبوّت ہمارے نبی کریم خاتم الانبیاء والمرسلین محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی۔
اور نہ مسیحِ موعود ہے، کیونکہ مسیحِ موعود وہ عیسیٰ بن مریم ہیں جن پر اِنجیل نازل ہوئی تھی، اور اَب آسمان پر زِندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوکے شریعتِ مصطفوی پر حکم فرمائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
اور نہ کوئی اولیاء اللّٰہ میں سے ہے، کیونکہ اولیاء اللّٰہ اس قسم کے شیطانی دعوے نہیں کرتے، جس سے شریعتِ مصطفوی ہدم ہو، اگرچہ منصور حلّاج وغیرہ بعض اولیاء اللّٰہ سے مثل: ’’اناالحق!‘‘ وغیرہ کلمے صادر ہوئے، سو اس پر انہوں نے کسی کو دعوت نہیں کئے، بلکہ وہ بے خودی میں ہوتا تھا جو شہود حق تعالیٰ ان پر غالب ہوکے اپنے سے غائب ہوجاتے تھے اور بے ساختہ ان کی زبان سے نکل آتے تھے، اور وہ اقوال قابلِ تأویل رہتے تھے، اس لئے محققین ان کو معذور رکھے ہیں، بلکہ یہ شخص جو کفریات کا زَعم کرتا ہے سو اس کے اقوال کسی قسم سے تأویل پذیر نہیں، پھر وہ متعدّد وجوہ سے شرع شریف کے رَدّ سے مرتد وزِندیق وکافر ہے، اور مصداق ہمارے نبی کریم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے کہ:
271
’’لا تقوم الساعۃ حتّٰی تخرج ثلاثون کذّابًا، وفی روایۃ: دجَّالًا کلھم یزعم انہ رسول ﷲ۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۴۵۴)
ان دجالوں میں سے ایک دجال ہے، پھر جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر ومرتد ہے، اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے، اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے، اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوگی وہ ولدالزنا ہوں گے، قال فی التنویر والکنز:
’’وارتداد أحدھما فسخ فی الحال۔‘‘ (درمختار ج:۳ ص:۱۹۳)
اور بزازیہ میں ہے:
’’ولو ارتدَّ والعیاذ با اللہ تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد إسلامہ والمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطی بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولد زنا۔‘‘
اور مفتاح السعادت میں ہے:
’’ویکون وطیہ مع امرأتہ زنا والولد منھما فی ھٰذہ الحالۃ ولد الزنا وإن اتی بکلمتی الشھادۃ بطریق العادۃ۔‘‘
اور مرتد بغیر توبہ کے مرگیا تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھنا اور اس کو مقابر اہلِ اسلام میں دفن نہیں کرنا، بلکہ بغیر غسل وکفن کے کتے کے مانند گڑھے میں ڈال دینا ہے۔ اشباہ والنظائر میں ہے:
’’وإذا مات او قتل علٰی ردتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین ولا أھل ملۃ فإنما یلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘ (الاشباہ ج:۱ ص:۲۹۱، الفن الثانی)
اور بحرالرائق میں ہے:
’’اما المرتد فلا یغسل ولا یکفن فإنما یلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘
چونکہ طالبانِ حق کی آگہی منظور ہے، اس لئے بطور اِجمال کے اتنے ہی پر اِکتفا کرکے ختم کلام کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے جس کے نصیب میں توفیق لکھی، اس کو کافی ہے، وما علینا إلَّا البلاغ المبین، وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رَبّ العالمین وصلی اللہ علٰی خاتم الأنبیاء والمرسلین سیّدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ وسلم!
مرقوم ۳۰؍شعبان ۱۳۱۱ہجری
کتبہ عبید اللہ بن صبغۃ ﷲ
قاضی الملک بدر الدولۃ کان اللہ لھما
ھذا الجواب صحیح بلا إرتیاب، جزی اللہ المجیب عنّا خیر الجزاء إلٰی یوم الحساب!
احمد علی عفا اللہ عنہ
یھدی من یشاء ویضل من یشاء!
272
باعثِ تحریر اس مقال وموجب تفصیل ایں اِجمال آنکہ شخصے قادیانی از نواحی پنجاب خروج کردہ عوام کالانعام را در دامِ ضلالت انداختہ وخود را مثیل حضرت عیسیٰ بلکہ مسیحِ موعود شمردہ، دعوتِ نبوّت ورِسالت می دارد کہ مرسل خداوندتعالیٰ ام واشارہ آیت: ’’وَمُبَشِّرًا بِرسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہٗ اَحْمَدْ‘‘ بطرف خود است، ومصداق آیت: ’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ‘‘ (الصف:۹) خود را می پندار ومیگوید کہ برخود اِلہام شدہ کہ: ’’إنّا انزلناہ قریبًا من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل‘‘ حالانکہ وبالحق آہ آیت قرآن مجید است کہ مرجع آں بسوی قرآن است نہ در شانِ ایں خبیث، بلکہ عبارت بالائی مہمل بآں منضم ساختہ وچوں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنصِ قطی خاتم النّبیین بودند ولا نبی بعدہ در اَحادیث واقع شدہ، وہم نزول فرشتہ واِظہارِ معجزات وغیرہ اُمور از لوازمِ رِسالت بودہ است، ونیز عیسیٰ علیہ السلام اَبرص واَکمہ را تندرست می ساخت، واِحیای مردگان می کرد کہ بنصِ صریح ثابت است، وخدائی تعالیٰ او را بالائی آسمان زندہ برود ودر آخر زمان بر منارۂ بیت المقدس نزول خواہد کرد، وخروجِ دجال وقتلِ او دجال را، واِمامت مہدی واِقتدای عیسیٰ علیہ السلام، وغیر ذالک اُمور کہ باَحادیثِ متواترہ بہ ثبوت پیوستہ وعلمائے اُمت برآں اِتفاق کردہ اند ایں ہمہ اُمور قادح نبوّت او بودہ اند پس چارۂ ندید بجز اِنکار ایں ہمہ اُمورِ صریحہ قاطعہ ازاں کہ ختمِ نبوّت بہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم شدہ وہیچک معجزہ مثل مسیح از وبظہور نہ پیوستہ ونہ طاقت آں می دارد، ونہ دجال خروج کردہ است کہ جنگ ازو واقع شود، ونہ او از مسجد دمشق فرود شدہ وہم احادیثیکہ اہل سنت برآں استناد وحجت می آرند آںرا بمعانی غلط ودروغ برائی نمایش جہلا پرداختہ وآیاتے را کہ درحق عیسیٰ علیہ السلام دارد اند: ’’وَإِن مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج‘‘ (النساء:۱۵۹)، ’’ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘(النساء:۱۵۸)، و ’’یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) وغیر ذالک بہ تفسیر وتعبیر دروغ وکذب می پروارد کہ مخالف اقوال سلف است کہ صحابہؓ وتابعینؒ اند ومی گوید روحش پرواز گشتہ وجسدش در زیر زمین مدفون گشتہ وایں بعینہٖ اِعتقادِ یہود وفرقۃ الانصاری بودہ پس کسیکہ اپخنین اِعتقاد دار وپیش علمائی حقانی کافر ومرتد است وحکم اِرتداد برو جاری می شود وآںکہ خود را مثیل مسیح میشمر وبیشک او مثیل مسیح الدجال است کہ مخبرِ صادق بآں خبر دادہ، کما رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’لا تقوم الساعۃ حتّٰی تبعث دجَّالون کذّابون قریبًا من ثلاثین، کلھم یزعم انہ رسول ﷲ‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۳۹۷، کتاب الفتن)۔
پس برحکامِ اسلام ومسلمین وقضاۃ ومفتیین لازم است کہ بدفع ایں شریر پردازند وآیۃ فیض پیراہ: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوْا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ ‘‘ (البروج۱۰) را نصب العین داشتہ فتنہ عظیم ایں کس را درمیانِ اہلِ اسلام انداختہ است دور سازند، و اللہ اعلم بالصواب وإلیہ المرجع والمآب!
کتبہ: محمد سعید
مفتی مجلس عدالت عالیہ حیدرآباد دکن کان اللّٰہ لہ
273
ما استدل علیہ بالآیات الصریحۃ الجلیۃ والأحادیث الشھیرۃ القویۃ والنقول المعتمدۃ السنیۃ احری بالقبول والیق بالعمل فاللازم علی الرجل المسئول عنہ وأتباعہ أن یتوبوا عن سوء اقوالھم وإعتقاداتھم، وبا اللہ التوفیق!
کتبہ:
محمود بن صبغۃ اللہ کان اللہ لھما
| الجواب صحیح |
ھٰذہ الفتویٰ صحیحۃ بلا إرتیاب |
الجواب صحیح |
| سیّد محمد علی قادری عفی عنہ |
کتبہ سیّد شاہ محمد عفا اللّٰہ عنہ |
کتبہ سیّد عظمت پیران قادری ﷲ |
| ھٰذا الجواب صحیح |
درالمجیب المصیب اصاب من اجاب |
ھٰذا الجواب صحیح |
| احمد محی الدین |
میر حیدر علی |
کتبہ محمد عبدالقادر عفی عنہ |
| یہ جواب مطابق مذہب حق کے ہوا ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح بلا اِرتیاب |
| غلام محی الدین عفی عنہ |
علی موسیٰ رضا عفی عنہ |
ابوالحسین شہاب الدین احمد |
| صحیح الجواب |
الجوب، نحن نتبع علٰی ما قال علمائنا جزی اللہ عنا المجیب الفاضل والشیخ الکامل خیر الجزاء |
|
| محمد سلیم قدرت الناصری |
کتبہ محمد غوث کان اللّٰہ لہ |
|
نشانِ مہر
✨ ☪ ✨
274
درّۂ زاہدیہ
بر
فرقۂ احمدیہ
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ
از
حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ
275
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حقیقتِ حال!
-
مقصود ہے گزارشِ احوال واقعی
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
عام مسلمانوں کو یہ بات پوری طرح معلوم ہے کہ اسلام کو جتنا نقصان پہنچانے کی کوشش قادیانی اور احمدی جماعت نے کی ہے، اتنی شاید ہی کسی اور جماعت نے کی ہو، اور یہ لوگ اپنے اس باطل اِرادے میں کچھ حد تک کامیاب ہوئے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی اَحکام سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اور یہ ان کو دھوکا دے کر اپنا مطلب پورا کرلیتے ہیں۔ مسلمان ان کی ظاہری شکل وصورت، اقوال وافعال پر اِعتبار کرلیتے ہیں، جس سے ان کو نقصانِ عظیم اُٹھانا پڑتا ہے، انہی دھوکے بازیوں کی ایک چال یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو اپنی لڑکیاں نکاح میں دینا کفر اور بہت بڑا جرم سمجھتے ہیں، مگر مسلمانوں کی لڑکیوں کو نکاح میں لانے کے لئے طرح طرح کے حیلے تلاش کرتے ہیں، جس سے غرض مسلمانوں کی بے عزتی اور اپنا جال پھیلانا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ دوالمیال، ضلع جہلم میں بھی پیش آیا ہے، یہ جگہ اس تمام علاقے میں احمدیوں کا مرکز ہے، یہاں پر ان کی تعداد بہ نسبت دیگر مقامات کے زیادہ ہے، اور ان کے تعلقات مسلمانوں سے بہت ہیں، یہ لوگ مسلمانوں کی لڑکیاں نکاح میں لانے کے لئے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ اِدھر مسلمانوں کو کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں، اُدھر احمدیوں کو اپنا عہدنامہ لکھ کر دے دیتے ہیں، تاکہ جب تک برسرِروزگار نہ ہوئے کام چلاتے رہیں۔ مسلمان ان کے اس ظاہری بیان سے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔۔۔جیسا کہ ان کی شریعت کا حکم ہے۔۔۔ مگر بعد میں ان کو ذِلت اُٹھانی پڑتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہوا کہ مسمّیٰ مسعود احمد سکنہ موضع مذکور نے سنی لڑکی سے نکاح کیا اور احمدیوں کو عہدنامہ لکھ دیا، جس کی اصلی عبارت درج کی جاتی ہے:
’’میں جب ملازم ہوگیا تو احمدی ہوجاؤں گا اور سسرال کا رِشتہ توڑ دُوں گا، اور قادیان شریف میں شادی کرلوں گا، اگر میں احمدی نہ ہوا، تو کافرکافرکافر اسی وقت سے ہوجاؤں گا۔‘‘
اس عہدنامے کی تحریر کا مقصد تو آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ اِدھر مسلمان لڑکی جو اس کے نکاح میں ہے، وہ بھی نہ جائے، اور اُدھر احمدیت کا بھی پوراپورا اِعتبار باقی رہے۔ اِتفاقاً یہ عہدنامہ اس کی بیوی کو مل گیا، اس نے جب یہ حالات معلوم کئے تو اپنے رشتہ
276
داروں کے مشورے کے موجب قانونی اور شرعی دونوں کارروائیاں اس خاوند کے خلاف کیں۔ سرکارِ انگریزی نے اس کو فسخِ نکاح کی ڈگری دے دی، اور اس طرح شریعتِ اسلامیہ نے اس کو فسخِ نکاح کا حکم دیا۔ ان دونوں فیصلوں کے بعد اس کی بیوی نے دُوسرے مسلمان مرد سے نکاح کرلیا۔ اسی شہر دوالمیال میں مولانا حاجی حافظ سیّد لال شاہ صاحب خلیفہ حضرت غوث زمان میرویؒ ہیں، آپ نے جو اِسلامی خدمات انجام دیں، وہ اظہر من الشمس ہیں، خصوصاً شیعہ اور مرزائی فرقوں کے خلاف آپ نے نہایت ہی اِستقلال اور جواںمردی سے مقابلہ کیا، اور اسی جہاد فی سبیل اللّٰہ کا نتیجہ ہے کہ باوجود کئی کوششوں اور تدابیر کے اس علاقے میں قادیانیت ترقی نہ کرسکی، اور دوالمیال میں بھی مسلمانوں کی کافی تعداد بحمداللّٰہ موجود ہے، یہ صرف آپ کے وجودِ مسعود کا فیض ہے۔ احمدی ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ کوئی ایسا معاملہ پیش آئے کہ نہ تو مقابل ہوں اور نہ مدعی ہوں اور جناب شاہ صاحب کو ذِلت پہنچے مگر:
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
۲:۔۔۔ ادھر اس لڑکی کا حقیقی بھائی نوراِلٰہی جس نے بذاتِ خود اس کے فسخِ نکاح کی کوشش کی، مقدمات کی پیروی بھی اسی نے کی، اور دیوبند وغیرہ مقامات سے فتاویٰ طلب کرنے میں بھی یہی انسان درپیش رہا۔ اس کی خواہش تھی کہ میری بہن میری مرضی کے مطابق شادی کرے، مگر والدہ اور دُوسرے بھائی اور لڑکی کی مرضی دُوسری جگہ پر ہوگئی، جس پر اس کے بھائی نوراِلٰہی نے اس معاملے کو خراب کرنا چاہا۔ ہمارے اس بیان کی شہادت پر موضع تترال کے دو معتبر گواہ ہیں، جن کا یہ بیان حلیفہ ہے، جو نوراِلٰہی نے ان سے بیان کیا تھا۔
۳:۔۔۔ جناب شاہ صاحب کے حقیقی بھانجے رفیع الدین شاہ صاحب ہیں، جو آپ کے شاگرد بھی ہیں، وہ ذاتی عداوت کی وجہ سے شاہ صاحب کے خلاف موقع کی تلاش میں تھے۔ ان تینوں رقیبوں کو موقع مل گیا اور خوب دِل کھول کر ان کی مخالفت میں ڈٹ گئے۔ علمائے کرام کے پاس دوڑے، مگر کوئی مسلمان جس کو رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت ہو، کب احمدی نوازی کرسکتا ہے؟ سب علمائے کرام نے ان کو منہ توڑ جواب دیا، مگر جویندہ یایندہ ہے، ان کو ایک مولوی صاحب مل گئے، جن کا نامِ نامی کرم اِلٰہی ہے، آپ منڈی بہاء الدین کے ہائی اسکول میں ٹیچر ہیں، انہوں نے ایک دُوسرے مولوی صاحب سے جو نکاح خوانوں کے گردآور ہیں، فتویٰ حاصل کیا کہ یہ عہدنامہ قسم ہے ۔۔۔اس کا اِقرار ان کی طرف سے ایک عام مجمع میں انسپکٹر پولیس کے سامنے ہوا۔۔۔ مولوی صاحب نے تمام علمائے اسلام کی مخالفت کا بارِ عظیم بلاسوچ سمجھ کے سر پر اُٹھایا اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ نکاح اَز روئے شریعت فسخ نہیں ہوا۔ چونکہ ہمارے پاس دُنیائے اسلام کے بزرگ ترین علمائے کرام کے فیصلے موجود تھے، اس لئے ہم کو تو کسی قسم کی تحقیق کی ضرورت نہ تھی، لیکن مخالفوں نے یہ شور مچایا کہ ہم مولوی صاحب کو لائیں گے جو اس نکاح کو توڑ کر لڑکی ہمارے حوالے کردیں گے۔ اس لئے ہم نے مسلمانوں کے زیادہ اِطمینان کے لئے جناب مولانا الحاج القاضی محمد زاہد الحسینی زیدمجدہم کو جلسے میں تشریف لانے کی دعوت دی، آپ نے اس کام کو فی سبیل اللّٰہ سمجھ کر ہماری دعوت کو قبول فرمایا اور ۲۹؍جون (۱۹۴۰ء) کو تشریف لائے۔
277
مختصر کیفیتِ مناظرہ
یکم جولائی (۱۹۴۰ء) تاریخِ مناظرہ مقرّر تھی، مخالفین کے مولوی صاحب کا اِنتظار رہا، آپ بمشکل تمام تقریباً گیارہ بجے دوالمیال تشریف لائے، چونکہ اس معاملے کی اصلی کیفیت جناب آغا صاحب انسپکٹر پولیس کو معلوم تھی، اس لئے انہوں نے فریقین سے اپنے اپنے دلائل طلب کئے، ہماری طرف سے تمام دلائل اور فتاویٰ پیش کئے گئے، جن کو فریقِ مخالف کے رُکنِ اعلیٰ شاہ رفیع الدین صاحب نے اپنے قلم سے لکھ کر دیوبند ودیگر مقامات سے منگوایا تھا، اور اس کا اِقرار تمام مجمع کے سامنے انہوں نے کیا۔ مخالفین کے اِستفتاء کی عبارات بالکل بدلی ہوئی تھیں، ان کے پاس کوئی دلیل اور کارآمد فتویٰ موجود نہ تھا، انسپکٹر صاحب نے پوری حقیقت معلوم کرلی، آخر مناظرہ چاربجے شروع کردیا گیا۔ تمام مسلمان اس مسجد میں جمع ہوئے جس میں سوائے اہلِ اسلام کے اور کسی کا دخل نہ تھا، اس میں صرف اللّٰہ کی عبادت اور اس کے سچے رسول کی اِطاعت کی جاتی تھی، مگر مخالف پارٹی نے ’’کند ہم جنس باہم جنس پرواز‘‘ پر عمل کیا، اور اس مسجد میں جاپہنچے کہ جہاں احمدیوں کا کافی قبضہ تھا، اور وہ اسی مسجد میں خدا کے سچے رسول کے حکم کو ٹھکراکر بناوٹی رسول کے اَحکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید مسلمان اس مسجد میں نہ آئیں گے، مگر ہم اس حقیقت کو روشن کرنے کے لئے وہاں چلے گئے اور توحیدِ خداوندی اور رِسالتِ خاتم الانبیاء کے نعرے لگاتے ہوئے اسی مسجد میں جہاں قادیانی، مولوی صاحب کو گھیرے ہوئے بیٹھے تھے، مناظرہ شروع کردیا گیا۔ موضوعِ مناظرہ یہ تھا کہ عہدکنندہ اسی وقت سے خارج اَزاِسلام ہوا یا نہ؟ ہمارے فاضل محترم نے اپنی خداداد قابلیت اور نورِاِیمان کو واضح وثابت کردیا کہ عہدکنندہ اسی وقت سے خارج اَزاِسلام ہوگیا۔ فریقِ مخالف نے یہ دعویٰ کیا کہ الفاظِ مذکورہ ’’قسم‘‘ ہیں، جن سے کفارہ ادا کرکے نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ کفر لازم آتا ہے۔ مگر مولانا حسینی نے اس موضوع کو اس طرح صاف کردیا کہ تمام مسلمانوں کے ذہن نشین ہوا اور حق باطل پر غالب آیا۔ فریقِ مخالف کے مولوی صاحب کی جو حالت میدانِ مناظرہ میں ہوئی، اس کو مختصراً درج کیا جاتا ہے:
۱:۔۔۔ مولوی صاحب جب اِثباتِ مدعا کے لئے کھڑے ہوئے تو اتنی ہیبت آئی کہ بسم اللّٰہ نہ پڑھ سکے، قاضی صاحب نے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی: ’’کل امر ذی بال لم یبدأ ببسم اللہ فھو ابتر‘‘ پڑھ کر بسم اللّٰہ نہ پڑھنے کی وجہ طلب کی، آخر لاجواب ہوکر غلطی کا اِعتراف کرتے ہوئے بہ آوازِ بلند بسم اللّٰہ پڑھی، یہ پہلی ہار تھی۔
۲:۔۔۔ ’’شرح وقایہ‘‘ کے متعلق بتلایا کہ یہ مولوی عبدالحی صاحبؒ کی تصنیف ہے۔
۳:۔۔۔ تسلیم کرلیا کہ اِرادۂ کفر سے کافر ہوجاتا ہے۔
۴:۔۔۔ مان لیا کہ احمدی کافر ہیں۔
۵:۔۔۔ فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ’’جامع الفصولین‘‘ کا نام ’’جامع الفصول‘‘ بتلایا۔
۶:۔۔۔ ’’تعلیق الکفر بأمر‘‘ اور ’’تعلیق الأمر بکفر‘‘ کا فرق نہ بتلاسکے۔
حقیقت میں مناظرہ ہی کیا تھا، ایسے فاضل نوجوان محقق مفتی علامہ کے مقابلے میں بچوں کا ٹیچر کیا تاب لاسکتا ہے۔۔۔!
278
مخالفین کو سخت ندامت اور رُسوائی ہوئی۔ اگرچہ یہ مسئلہ صاف تھا، مگر ہم نے اس خیال سے کہ تمام مسلمانوں کو ان کے فتنے سے آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی مسلمان اپنی لڑکی ان کو نکاح میں نہ دے، جناب قاضی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ اس عنوان پر جامع مانع ایک رسالہ تحریر فرمائیں، الحمدللّٰہ! کہ آپ نے ہماری اِلتجا کو قبول فرماکر اپنے علمی انداز میں رسالہ تحریر فرمایا۔ یہ جو کچھ میں نے عرض کیا لفظ بہ لفظ دُرست ہے،وَاللہُ عَلیٰ مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ، فقط!
عبدالحق شاہ
مسئلہ اِرتداد کی مختصر کیفیت
ایک مسلمان کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اگرچہ وہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو،(۱)مگر تاہم اس کو مسلمانوی صفت سے موصوف سمجھا جاتا ہے، کوئی گناہ کرنے سے اس کا اِیمان زائل نہیں ہوتا۔(۲)مگر اِرتداد ایک ایسا جرم ہے کہ جس کے کرنے سے وہ اِسلام سے بالکل نکل جاتا ہے، اور اس کی مغفرت ہرگز نہیں ہوسکتی،(۳) کفر فی الحال وہ کسی مسلمان کا دائرۂ اسلام سے نکل جانا ہے جس کو مرتد کہتے ہیں، کفر فی الاستقبال یعنی جب کوئی مسلمان اسلام سے نکل جانے کا اِرادہ کرتا ہے، وہ اسی وقت اسلام سے نکل جاتا ہے،(۴) اور اس کا وجود اس حد تک نجس ہوجاتا ہے کہ اسلامی شریعت میں اس کی سزا قتل ہے،(۵)یعنی اگر مسلمان بادشاہ ہو تو ایسے انسان کو جس نے اپنے مقدس اور برتر مذہب کو چھوڑ کر دُوسرا مذہب اِختیار کرلیا ہو، قتل کرنے کا حکم ہے۔ اور اس کی عورت اس سے جدا ہوجائے گی،(۶)اس کے سب کام برباد اور ضائع ہوں گے اور وہ ایسا ہوگیا کہ اس نے کوئی نیکی کی ہی نہ تھی،(۷) قرآنِ کریم میں یہ اَحکام مفصل طریقے پر موجود ہیں۔
مرتد کی بہت سی اَقسام ہیں، جس کی مشہور اقسام درج ذیل ہیں:
۱:۔۔۔ زمانۂ قریب یا بعید میں کفر کا اِرادہ کرے۔
۲:۔۔۔ اپنے مذہب میں شک کرے۔
۳:۔۔۔ اپنے کافر ہونے کو کسی شرط پر دِل میں خیال رکھے۔
۴:۔۔۔ زبان سے کافر ہونے کو کسی کام پر مشروط اور موقوف رکھے۔
(۱)قال ا اللہ تبارک وتعالٰی: ’’وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاءُ‘‘ (النساء:۴۸)۔
(۲)والکبیرۃ ۔۔۔۔۔۔۔ لا تخرج العبد المؤْمن من الإیمان۔ (شرح العقائد النسفیۃ ص:۱۰۶،۱۰۷، طبع مکتبہ خیر کثیر۔
(۳)قال ا اللہ تبارک وتعالٰی: ’’وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُوْلٰئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِیْ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ وَأُوْلٰئِکَ أَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُونَ‘‘ (البقرۃ۲۱۷)۔
(۴)ومنھا إذا عزم علی الکفر ولو بعد مائۃ سنۃ یکفر فی الحال۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۸۲، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۵)عن عکرمۃ قال ۔۔۔۔۔۔۔ لقول رسول ا اللہ صلی ا اللہ علیہ وسلم: من بدَّل دینہ فاقتلوہ! (بخاری ج:۲ ص:۱۰۲۳، باب حکم المرتد والمرتدۃ)۔
(۶)إرتد أحد الزوجین عن الإسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق فی الحال۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۳۳۹، طبع بلوچستان بک ڈپو)۔
(۷)قال ا اللہ تبارک وتعالٰی: ’’وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُوْلٰئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِیْ الدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃِ‘‘ (البقرۃ:۲۱۷)۔
279
’’اِرشاد العباد‘‘ (ص:۴) میں یہ مفصلاً موجود ہے۔ ’’لاہوری‘‘ اور ’’قادیانی‘‘ یہ دو مشہور فرقے ہیں۔ ’’لاہوری‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدّد مانتے ہیں، اور ’’قادیانی‘‘ اس کو نبی مانتے ہیں۔ قادیانی تو اس لئے کافر ہیں کہ وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مرزا کو نبی تسلیم کرتے ہیں، اور لاہوری اس لئے کافر ہیں کہ وہ ایک کافر اِنسان کو مجدّد مانتے ہیں، جس کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے۔
بہرحال تمام دُنیا کے مسلمانوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزائی خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی، وہ اسی طرح کافر ہیں جس طرح یہودی، عیسائی، آریہ، مجوسی کافر ہیں۔ لہٰذا جو شخص اِسلام کو چھوڑ کر احمدی ہوا، وہ اسی طرح مرتد ہے جیسا کہ اسلام کو ترک کرکے عیسائی ہوا۔ زیرا کہ کفر تمام ایک ہی ملت ہے: ’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ (شامی ج:۴ ص:۲۰۵، طبع ایچ ایم سعید) خصوصاً احمدی تو مسلمانوں کو بہت ہی بُرا کہتے ہیں۔
مسلمانوں کے متعلق احمدیوں کا حکم
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچھ حالات ان کے اَحکام کے درج کردُوں جو مرزائیوں، احمدیوں کی طرف سے مسلمانوں کے متعلق صادر ہوتے ہیں، تاکہ یہ اندازہ لگانا دُرست ہوجائے کہ کسی احمدی کو لڑکی دینا سخت بے غیرتی، بے اِیمانی، بلکہ خلافِ انسانیت کام ہے۔
۱:۔۔۔ ’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا) کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص:۳۵)
۲:۔۔۔ ’’جو شخص غیراحمدیوں کو رِشتہ دیتا ہے، وہ یقینا مسیحِ موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کوئی غیراحمدی ایسا بے دِین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے؟ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو، مگر تم سے اچھے ہیں کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے، مگر تم احمدی کہلاکر کافر کو دیتے ہو۔‘‘
(ملائکۃاللّٰہ ص:۴۶)
۳:۔۔۔ ’’غیراحمدی تو حضرت مسیح کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے، لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پرھا جائے؟ وہ تو مسیحِ موعود کا منکر نہیں۔ ایسے سوال کرنے والے سے میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ دُرست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟‘‘
(انوارِ صداقت ص:۹۱)
ان بیانات سے ظاہر ہے کہ جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت کا مرتبہ اس ملعون قوم کے ہاں صرف کافر، عیسائی، ہندو جیسا ہے، اور ان کے نابالغ بچے بھی کافر ہیں۔ تو لعنت ہے اس انسان پر جو مسلمان کہلاکر احمدیوں سے نکاح کرے اور نکاح کو جائز سمجھے، وہ دراصل زنا کو حلال کہتا ہے۔
280
اصلی مقصد کی تفصیل
چونکہ ہمارا اصل مدعا تو یہ تھا کہ مسمّیٰ مسعود احمد نے جب کفر کا اِرادہ کرلیا، وہ اسی وقت سے کافر ہوگیا، لہٰذا اَب ہم ضروری تمہید بیان کرنے کے بعد اصل مسئلے پر بحث کرتے ہیں۔
اِرادۂ کفر کا حکم
چونکہ اسلام ایک نہایت ہی مقدس اور اعلیٰ مذہب ہے، اس لئے اگر ایک انسان کسی وجہ سے یا بلاوجہ اس کو چھوڑنے کا اِرادہ کرے تو وہ اسی وقت سے کافر ہوجائے گا، زیرا کہ اس نے اسلام جیسی نعمتِ عظمیٰ کو ایک ہلکا سا کام سمجھا، اور یہی کفر کی اصلی علت ہے۔ شامی (ج:۴ ص:۲۲۳، طبع ایچ ایم سعید) میں ہے کہ کفر کی اصلی وجہ تو جھٹلانا یا ہلکا سمجھا ہے،لأن مناط التکفیر ھو التکذیب أو الإستخفاف ، لہٰذا وہ انسان اسی وقت سے کافر ہوجائے گا، یہ مسئلہ تمام کتبِ اسلامیہ میں موجود ہے، مثلاً: حدیث پاک کی مشہور کتاب ’’مشکوٰۃشریف‘‘ کی مستند شرح ’’مظاہرحق‘‘ (جلد سوم ص:۲۷۱، طبع ایچ ایم سعید) میں ہے،(۱) فقہِ اسلامی کی مشہور کتاب ’’خلاصۃالفتاویٰ‘‘ (جلد نمبر۴ ص:۳۸۲) میں ہے:
’’إذا عزم الکفر ولو بعد مائۃ سنۃ یکفر فی الحال۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’جس نے کافر ہونے کا اِرادہ کیا، اگرچہ سو برس کے بعد، وہ فی الحال کافر ہوگیا۔‘‘
میں بوجہ رسالہ کے مختصر ہونے کے ان کتابوں کے نام معہ جلد وصفحہ کے نیچے درج کرتا ہوں، جس کا جی چاہے ان کو دیکھ لے، احقر کے پاس سب کتابیں موجود ہیں:
۱:۔۔۔ فتاویٰ عالمگیری المعروف بہ فتاویٰ ہندیہ، جلد دوم ص:۸۸۹۔
۲:۔۔۔ ردالمحتار المعروف شامی، جلد چہارم ص:۲۲۱ (طبع ایچ ایم سعید)۔
۳:۔۔۔ غایۃالاوطار شرح درمختار، جلد دوم ص:۵۱۴۔
۴:۔۔۔ بحرالرائق شرح کنزالدقائق، جلد پنجم ص:۱۳۳۔
۵:۔۔۔ طحطاوی شرح درمختار، جلد دوم ص:۴۷۷۔
۶:۔۔۔ سیرالقنیہ ص:۱۴۴۔
۷:۔۔۔ جامع الفصولین، جلد دوم ص:۳۱۴۔
۸:۔۔۔ دستورالقضاۃ ص:۱۳۱۔
۹:۔۔۔ مالابدمنہ (فارسی) ص:۱۳۸۔
۱۰:۔۔۔ عقائدالاسلام ص:۲۵۴۔
(۱) اور جس وقت کہ قصد کیا کفر کا اگرچہ بعد سو برس کے ہوگا کافر ہوجاتا ہے فی الحال۔ (مظاہرحق ج:۳ ص:۲۷۱، طبع ایچ ایم سعید)۔
281
ان کتابوں کے سوا دیگر تمام اسلامی کتابوں میں یہ مسئلہ صاف طریقے پر موجود ہے کہ جو شخص کافر ہونے کا اِرادہ کرے، وہ اسی وقت سے کافر ہوجاتا ہے اور اس کی عورت پر طلاق ہوجاتی ہے۔
کلماتِ کفر کہنے کا حکم
چونکہ اسلام اور کفر بلکہ تمام اُمور طلاق، نکاح، بیع، شراء، اِطاعت، نافرمانی وغیرہا اُمور کا تعلق صرف زبان ہی سے ہے، اس کی وجہ سے انسان مسلمان بھی ہوتا ہے اور اسی سے کافر بھی ہوتا ہے، جس پر دلیل لانے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا اگر ایک انسان نے کفر کا کلمہ زبان سے بکا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس پر کفر کے تمام اَحکام نافذ کردئیے جائیں گے، ’’جامع الفصولین‘‘ (جلد دوم ص:۲۹۷، الطبعۃ الاُولٰی بالمطبعۃ الأزھریۃ) میں ہے:
’’ومن کفر بلسانہ طائعًا وقلبہ مطمئن بالإیمان کفر ولا ینفعہ ما فی قلبہ إذ الکافر انما یعرف بنطقہ فلا نطق بکفرٍ کفرٌ عندنا وعند اللہ تعالٰی۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جو بلاکسی خیر کے زبان سے کفر کہے، اس کا دِل ایمان سے مطمئن ہو، تو کافر ہوجائے گا، اسے دِل کی بات نفع نہ دے گی، زیرا کہ کافر تو زبان ہی سے پہچانا جاتا ہے، پس اگر کفر سے بولا تو ہمارے اور اللّٰہ کے ہاں کافر ہے۔‘‘
اِعتراضات
اگرچہ اتنی مفصل اور مدلل بحث کے بعد کسی مسلمان کو اس اَمر میں شک نہیں ہوسکتا کہ کفر کا کلمہ کہنے سے اور اِرادۂ کفر کرنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے، خواہ صرف زبان سے کلمہ کفر کہے یا مدّت کے بعد کافر ہونے کا اِرادہ کرے۔ مگر وہ انسان جو ضدی اور متعصب ہو، وہ اس کے خلاف صدا بلند کرتا ہے، چونکہ ہم کو صرف تحقیقِ حق مقصود ہے، اس لئے ہم ان اِعتراضات کو بھی تفصیل سے بیان کرتے ہیں، جو اس مسئلے پر وارِد ہوسکتے ہیں، اور پھر ان کے دندان شکن جواب ذِکر کرتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کو زیادہ واقفیت ہو اور مخالفین کو اپنی ناقابلیت کا پتا چل جائے۔ وہ اِعتراضات یہ ہیں:
۱:۔۔۔ یہ مشہور اور مُسلَّمہ قاعدہ ہے کہ جب ایک انسان میں ایک کم سو کام ایسے ہوں جن سے کفر لازم آتا ہو، اور صرف ایک کام اسلام کا ہو تو وہ مسلمان ہی رہے گا، اس کے کفر سے اِحتراز لازم ہے۔
۲:۔۔۔ جو عبارات نقل کی گئی ہیں، یہ صرف ایک قول ہے، علماء کا فتویٰ اس پر نہیں ہے۔
۳:۔۔۔ زبان سے اگر کفر کا کلمہ کہے، مگر جب دِل میں اسلام ہے تو وہ مسلمان ہی رہے گا۔
۴:۔۔۔ اگر واقعی انسان کفریہ کلمات کہنے سے کافر ہوجاتا ہے تو اس کو تجدیدِ اِسلام کے بعد تجدیدِ نکاح کافی ہے۔
۵:۔۔۔ فسخِ نکاح کے لئے قاضیٔ اسلام کی قضاء شرط ہے۔
282
۶:۔۔۔ عہدنامہ مذکورہ میں یہ الفاظ کہ: ’’اگر میں احمدی نہ ہوا تو کافر ہوجاؤں گا‘‘ یہ الفاظِ قسم ہیں، اور قسم میں کفارہ دے دینا کافی ہے، کفر لازم نہیں آتا۔
یہ وہ مشہور اِعتراضات ہیں جو کم علمی یا ضد کی وجہ سے اس مسئلے پر وارِد ہوسکتے ہیں، ان کے جوابات بھی تفصیل وار ملاحظہ فرمائیں۔
جوابات
۱:۔۔۔ اس جواب کو سمجھنے کے لئے ایک تمہید کا سمجھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ علاماتِ کفر اور کفریہ کام اور چیز ہے، اور کلماتِ کفر کا کہنا یہ شے دیگر ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک شخص شراب پیتا ہے، زنا کرتا ہے، جوا کھیلتا ہے، بے نماز ہے، زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، جھوٹ بولتا ہے، وغیرہا، کئی ایسے اُمور کرتا ہے جو کفر کی علامات ہیں، مگر وہ اسلام کے خلاف زبان سے حرف تک نہیں نکالتا، بلکہ اسلام کو سچا مذہب جانتا ہے، اور بُرے کام کو بُرا ہی سمجھتا ہے۔ تو ایسے شخص کو کافر نہ کہا جائے گا، بلکہ مسلمان ہی رہے گا۔
اس کے برخلاف ایک دُوسرا اِنسان ہے جو نماز پڑھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، داڑھی رکھتا ہے، قرآنِ کریم پڑھتا ہے، مگر وہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور اِنسان کو بھی نبی مانتا ہے، یا زِنا، یا شراب وغیرہما اور حرام کو حلال جانتا ہے، تو ان صورتوں میں وہ اسی وقت کافر ہوجائے گا، اسی کو لزومِ کفر اور اِلتزامِ کفر کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لزومِ کفر کی پہلی، اور اِلتزامِ کفر کی دُوسری صورت ہے۔
بہرحال جب ایک انسان نے اپنی زبان سے کفر کا کلمہ کہا تو وہ کافر ہوجائے گا، اگرچہ اس کی نیت نہ ہو:
’’إلَّا إذا صرَّح بإرادۃ موجب الکفر فلا ینفعہ التأویل حینئذٍ‘‘
(شامی ج:۴ ص:۲۲۴، طبع ایچ ایم سعید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مگر جب اس نے کفر کو واجب کرنے والے اِرادے کو ظاہر کیا تو اَب تأویل نفع نہ دے گی۔‘‘
اسی طرح بحرالرائق شرح کنزالدقائق وفتاویٰ عالمگیری جلد دوم ص:۳۰۳ وغیرہما میں ہے۔
۲:۔۔۔ یہ مسئلہ تمام علمائے کرام کے ہاں متفق علیہ ہے، آج تک کسی عالمِ دین محقق نے اس میں اِختلاف نہیں کیا، بلکہ آج بھی تمام علمائے اسلام اسی پر حکم دے رہے ہیں:
’’من تکلم بکلمۃ الکفر ھازلًا أو لاعبٍا کفر عند الکل۔‘‘
(شامی ج:۴ ص:۲۲۴، طبع ایچ ایم سعید)
اور خلاصۃالفتاویٰ (جلد چہارم ص:۳۸۳) اور کتاب مطالب السنیہ (ص:۶۸) وغیرہا کتبِ اسلام میں یہ مسئلہ مصرّحاً موجود ہے۔
283
۳:۔۔۔ صرف قول ہی پر سب کاموں کا دارومدار ہے، کفر، ایمان، نکاح، طلاق وغیرہا تمام اُمور موقوف ہیں، اِعتقاد میں ان کا کوئی دخل نہیں، جو اِنسان کفر کا کلمہ منہ سے نکالتا ہے، وہ اسی وقت کافر ہوجاتا ہے، اس سے نیت وغیرہا کا سوال نہ کیا جائے گا، اگر وہ اپنے اِرادے اور نیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ میری نیت تو کافر ہونے کی نہ تھی، لیکن اس کا ہرگز اِعتبار نہ ہوگا، قاضی اس بات کو نہ مانے گا اور اس پر حکمِ کفر دے دے گا، یہ مسئلہ بھی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ علامہ شامی، جلد چہارم صفحہ:۲۲۴ (طبع ایچ ایم سعید) میں فرماتے ہیں:
’’والحاصل ان من تکلم بکلمۃ الکفر ھازلًا أو لاعبًا کفر عند الکل ولا اعتبار باعتقادہ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’حاصل یہ کہ جو شخص ہازلاً یا لاعباً کلمۂ کفر کہے، وہ سب علماء کے نزدیک کافر ہوجاتا ہے، اور اس کے اِعتقاد کا اِعتبار نہیں۔‘‘
جامع الفصولین (جلد دوم ص:۲۹۷) اور کتاب ’’المطالب السنیہ‘‘ (ص:۶۸) وعالمگیری وغیرہما میں ہے:
’’إذا اراد ان یتکلم بکلمۃ مباحۃٍ فجریٰ علٰی لسانہ کلمۃ الکفر خطائً بلا قصدٍ لا یصدقہ القاضی۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’جب کسی نے ایک مباح بات کرنے کا اِرادہ کیا تو اس کی زبان پر غلطی سے کفر کا کلمہ جاری ہوگیا، قاضی اس کو سچا نہ سمجھے گا۔‘‘
الغرض اسی زبان سے انسان کہاں جاپہنچتا ہے! انسان کو چاہئے کہ اپنی زبان کو محفوظ رکھے، اُستاذِکامل علامۂ دمیاطی نے بطور نصیحت کے اِرشاد فرمایا ہے کہ:
’’وبالجملۃ فباب المکفرات واسع جدًّا فلیأمل الإنسان فیما یرید ان یقولہ قبل قولہ ولا یطلق لسانہ فی الکلام فإنہ من اکبر أعدائہ۔‘‘ (نہایۃ الأمل ص:۳۷۳)
۴:۔۔۔ واقعی یہ دُرست ہے کہ اگر مرتد اِسلام لائے تو وہ دوبارہ نکاح اس عورت سے کرسکتا ہے، مگر اس میں ایک ضروری شرط ہے، وہ یہ کہ اگر اس عورت کی رضا ہو تو دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، ورنہ اس عورت کی رضامندی نہ ہونے پر اس سے دوبارہ نکاح جائز نہیں، اور اس کو مجبور نہ کیا جائے، بلکہ جہاں اس عورت کی مرضی ہو، نکاح کرسکتی ہے۔
’’خلاصۃالفتاویٰ‘‘ (جلد چہارم ص:۳۸۳) میں ہے:
’’ولا تجبر المرأۃ علٰی ان ترجع إلیہ حتّٰی یتزوجھا۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور عورت کو اس کے لئے مجبور نہ کیا جائے کہ اس کے ساتھ نکاح کرے۔‘‘
اسی طرح ’’جامع الفصولین‘‘ (جلد دوم ص:۳۱۷)، اور شامی (جلد نمبر۳ ص:۴۱۴)، واشباہ والنظائر (ص:۲۶۲) وغیرہا کتابوں میں مفصلاً موجود ہے۔
284
۵:۔۔۔ چونکہ اسلام کو ترک کردینا ایک بہت ہی بڑا جرم ہے، لہٰذا اس کے بعد اس کی عورت اس پر فوراً حرام ہوجاتی ہے، اس میں قاضی کی قضاء کی ہرگز ضرورت نہیں، بلاقاضی کے بھی جدا ہوجائیں گے۔
’’منھا ان الردّۃ حد الزوجین توجب البینونۃ بینھما فی الحال بدون قضاء القاضی۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’خاوند، بیوی میں ایک کے مرتد ہونے پر فی الحال جدائی واجب ہوجاتی ہے، اس میں قضائِ قاضی کی ضرورت نہیں۔‘‘
(خلاصۃالفتاویٰ، جلد چہارم ص:۳۸۳، اور جامع الفصولین جلد دوم ص:۳۱۸، طبع ازہریہ)
۶:۔۔۔ یہ اِعتراض مخالفین کے پاس سب سے بڑا ہتھیار تھا، ان کے مولوی صاحب نے اسی کو باربار پیش کیا کہ یہ قسم ہے، اور قسم کا کفارہ دے دینا کافی ہے، لہٰذا میں اس کو ذرا تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔
پہلا جواب
اس جواب کو سمجھنے سے پہلے ایک تمہید کا جاننا ضروری ہے کہ یہاں تین باتیں ہیں:
۱:۔۔۔ ایک:’’تعلیق الأمر بکفر‘‘
۲:۔۔۔ دُوسرا’’تعلیق الکفر بأمر‘‘
۳:۔۔۔ تیسرا’’تعلیق الکفر بکفر‘‘
پہلے کلام کا مطلب یہ کہ ایک آدمی اپنے کسی کام کو کفر پر معلق کردے، مثلاً: اس نے کہا: ’’میں ضرور کوہاٹ جاؤں گا، اگر نہ گیا تو کافر ہوں گا‘‘ اس میں اس نے اپنے کوہاٹ جانے کو کفر پر معلق اور مشروط کردیا ہے۔ ظاہر ہے ایسا کلام کرنے والے کا مدعا صرف اپنے بیان کی پختگی بیان کرنا ہوتا ہے کہ میں کوہاٹ ضرور جاؤں گا۔
دُوسرے کلام کا مطلب یہ کہ ایک آدمی اپنے کافر ہونے کو کسی کام پر معلق اور مشروط رکھے، مثلاً: اس نے کہا: اگر کل بارش ہوئی تو میں کافر ہوجاؤں گا‘‘ یا جیسا کہ مسعود احمد نے کہا: ’’جب میں ملازم ہوا تو احمدی ہوجاؤں گا‘‘ ان کلاموں میں مقصود تو کافر ہونا ہے، مگر فی الحال نہیں، اس نے کافر ہونے کو ایک شرط پر موقوف کردیا ہے، ایسی صورت میں وہ اسی وقت کافر ہوجائے گا، خواہ وہ کام ہو یا نہ ہو۔ لہٰذا مسمّیٰ مسعود کا یہ کلام اسی قسم سے ہے، وہ اسی وقت کافر ہوگیا۔ ’’ان کان کذا کفرت، کفر فی تلک الساعۃ‘‘ (ترجمہ: اگر یہ کام ہوا تو میں کافر ہوجاؤں گا، اسی وقت کافر ہوجائے گا)۔ کتاب ’’سیر القنیہ‘‘ (ص:۱۴۲) اور ’’جامع الفصولین‘‘ (جلد دوم ص:۲۹۷) وغیرہا میں موجود ہے۔
تیسرے کلام کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کافر ہونے کو کفر پر معلق کرے، مثلاً: مسعود احمد نے کہا کہ: ’’میں اگر احمدی نہ ہوا تو کافر ہوجاؤں گا‘‘ اس کلام میں اس نے اپنے کافر ہونے کا اِرادہ کیا، اس طرح اس کی تاکید کی اور اپنے اِرادے کو پختہ کردیا کہ اگر وہ احمدی نہ ہوتا تو کافر ہوگا، یعنی ضرور کافر ہوگا، ہرگز وہ احمدیت کو نہ چھوڑے گا۔ یہ اس عہدنامے کا دُوسرا جز ہے، جو مسمّیٰ مسعود احمد نے
285
لکھا ہے، پس اگر وہ احمدی ہوا تب بھی کافر، اور اگر احمدی نہ ہوا تب کافر ہوا، بالکل صاف مطلب ہے۔ یہ عہدنامہ درحقیقت اس کے کفر کی سند ہے، قسم وغیرہ ہرگز نہیں۔
دُوسرا جواب
اگر اس عہدنامے کا پہلا حصہ دیکھا جائے تو معاملہ بالکل صاف ہے کہ اس نے عہد کیا: ’’جب میں ملازم ہوا تو احمدی ہوجاؤں گا‘‘ اس میں صاف طور کفر کا اِرادہ موجود ہے، یہ قسم وغیرہ نہیں۔ اسی وجہ سے مخالفین کے مولوی صاحب نے بھی اس کو ہاتھ نہیں لگایا، حالانکہ تمام کلاموں کو جب تک اوّل سے آخر تک نہ دیکھا جائے گا، معنی معلوم نہ ہوسکے گا۔ مولوی صاحب نے آخری جزو کو لیا جو ہمارا عین مدعا تھا۔ بہرحال یہ کلام چونکہ اِرادۂ کفر پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا اسی وقت کافر ہوگیا۔
تیسرا جواب
یہ آخری جملہ قسم نہیں ہوسکتا، زیراکہ قسم کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ قسم اُٹھانے والا مسلمان ہو، اگر کافر نے قسم اُٹھائی تو لغو اور باطل ہوجائے گی، جب مسعود نے یہ کہا کہ: ’’میں جب ملازم ہوا کافر ہوجاؤں گا‘‘ اس کلام کے کہنے سے وہ اسی وقت کافر ہوگیا۔ اب اگر تھوڑی دیر کے لئے اس کے آخری کلام کو قسم مان بھی لیا جائے تو وہ لغو اور باطل ہوجائے گی، زیراکہ وہ تو کافر ہوچکا ہے، اور کافر کی قسم مقبول نہیں، قسم اُٹھانے والے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ’’وشرطھا الإسلام‘‘ قسم کی شرط اِسلام ہے (درمختار ص:۲۵۶)۔
جب وہ قسم ہی نہیں ہوئی تو اَب کفارہ وغیرہ کا کیا ذِکر ہے؟ اسی طرح ’’شرح وقایہ‘‘ (ص:۱۵۱) میں ہے: ’’لا کفارۃ فی حلف کافرٍ‘‘ (ترجمہ: کافر کی قسم میں کفارہ نہیں ہوتا)۔ مطلب یہ نکلا کہ اسلام قسم کے لئے اِبتدائً اور بقائً دونوں حالتوں میں شرط ہے: ’’فالإسلام شرط إنعقادھا وبقائھا‘‘ (شامی ج:۳ ص:۴۷)۔ جب وہ مسعود مسلمان ہی نہ رہا تو اَب قسم وغیرہ باطل اور لغو ہوگئی، اور وہ پہلے ہی کلام سے کافر ہوگیا، اس کی عورت اس پر طلاق ہوگئی۔
الإِستفتاء بحضراۃ العلماء
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اور مفتیانِ دِین اس مسئلے میں کہ ایک شخص مسمّیٰ مسعوداحمد نے اپنے ایک معاہدے میں تحریر کیا ہے کہ: ’’اگر میں برسرِروزگار ہوگیا تو میں قادیانی مذہب اِختیار کرلوں گا، اگر وہ مذہب اِختیار نہ کروں تو میں کافر، کافر، کافر۔‘‘ اور اَب مسعود برسرِروزگار ہے، کیا اس صورت میں مسعود کی منکوحہ ۔۔۔جو بوقتِ معاہدہ منکوحہ تھی۔۔۔ پر کچھ اثر پڑتا ہے یا نکاح بحالہٖ قائم ہے؟ بیّنوا توجروا!
الجواب:۔۔۔ قادیانی مذہب باجماعِ علمائے اُمت کفر ہے، اور کفر کے متعلق یہ کہنا کہ: ’’اگر فلاں کام ہوگیا تو میں کفر اِختیار کرلوں گا‘‘ اس کلمے سے کہنے والا اسی وقت کافر ہوجاتا ہے، خواہ وہ کام کیا ہو یا نہ، اور اس مذہب کو اِختیار کرے یا نہ کرے، لما فی القنیہ:
286
’’باب ما یکفر بہ الإنسان من کتاب السیر ان کان کذا کفرت، کفر فی تلک الساعۃ ولو قال وعنی اصیر کافرا لو قال اعتدنی کافرا او انا کافر کفرٌ۔‘‘ (ص:۱۴۴)
اور جبکہ کہنے والا کافر ہوگیا تو اس کا نکاح فسخ ہوگیا، واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
ضروری نوٹ:۔۔۔ یہ فتویٰ فریق مخالف نے منگوایا ہے جو تترال سے بھیجا گیا ہے، جس میں اس فریق کے معاون جماعت رہتی ہے، جناب شاہ رفیع الدین صاحب نے تمام مجمع میں اس امر کا اعتراف کیا کہ یہ فتویٰ میں نے خود منگوایا ہے، اور مسعوداحمد کے عہدنامے کو میں نے خود دیکھا ہے جو بالکل اس اِستفتاء سے ملتا جلتا ہے۔
اے مسلمانو! اس سے زیادہ ہماری صداقت کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ مخالف خود اس نکاح کو توڑانے کے اصلی مباشر تھے اور اب ضد کی وجہ سے مقابلہ کرتے ہیں، خدا ان کو ہدایت بخشے!
| مولانا الحاج مفتی محمد شفیع صاحب |
مولانا الحاج محمد کفایت اللّٰہ صاحب |
مولانا محمد یوسف صاحب |
| مفتی دارالعلوم دیوبند |
مفتیٔ اعظم دہلی |
مدرسہ امینیہ دہلی |
(علمائے صوبہ سرحد)
| مولانا السیّد مبارک شاہ صاحب گیلانی |
مولانا السیّد عبداللّٰہ شاہ صاحب |
مولانا عبدالعزیز صاحب |
| فاضل دیوبند |
مدیر اخبار ’’الفلاح‘‘ |
فاضل دیوبند |
| مولانا السیّد محمد ایوب صاحب بنوری، فاضل دیوبند |
مولانا السیّد حبیب شاہ صاحب، مدرّس پشاور |
(علمائے ضلع جہلم)
| مولانا الحاج الحافظ السیّد لال شاہ صاحب دوالمیال |
مولانا مولوی مفتی عطاء محمد صاحب ساکن رتہ |
| مولانا احمد دین صاحب سکنہ جسیال |
مولانا ابوالفضل کرم الدین صاحب بھین |
مولانا غلام ربانی صاحب، مدرّس اعلیٰ ڈلوال سابق مدرّس میرہ شریف
(علمائے ضلع کیمبل پور)
| مولانا الحاج قطب الدین صاحب غورغشتی |
مولانا الحاج نصیرالدین صاحب غور غشتی |
| مولانا مولوی میاں شاہ صاحب غورغشتی |
مولانا الشیخ سعدالدین صاحب جلالیہ |
| مولانا عبداللّٰہ جان صاحب جلالیہ |
مولانا محمد یوسف صاحب جلالیہ |
| مولانا خدابخش صاحب سجادہ نشین حضرو |
مولانا محمد ایوب شاہ صاحب، فاضل دیوبند |
| مولانا عبدالحق صاحب، سابق مدیر مدرس بھیرہ |
مولانا سیّد محبوب شاہ صاحب کالو |
| مولانا الحاج محمد حضرت الدین صاحب، مبلغ اسلام جنوبی افریقہ |
مولانا محمد غوث صاحب دریا |
287
| مولانا حافظ محمد امین صاحب، فاضل دیوبند |
مولانا قاضی عبدالشکور صاحب سامان |
| مولانا الشیخ القاضی محمد غلام ربانی صاحب شمس آباد |
مولانا محمد عمر صاحب شمس آباد |
| مولانا حافظ احمد حسین صاحب حمیلہ |
مولانا عبدالدیان صاحب دامان |
| مولانا عبدالرحمن صاحب دامان |
مولانا علم الدین صاحب، فاضل دیوبند |
| مولانا نورمحمد صاحب چھاؤنی کیمبل پور |
مولانا حبیب الرحمن صاحب ویسہ |
| مولانا عبدالعزیز صاحب، فاضل دیوبند |
مولانا محمد عمر صاحب کامل پور |
| مولانا نور محمد صاحب ویسہ |
مولانا غلام مصطفی صاحب، فاضل دیوبند |
مولانا قاضی انوارالحق صاحب بی اے منشی فاضل مفتی ریاست مانگرول
سیئہ کار خلائق قاضی محمد زاہدالحسینی غفرلہٗ
یہ حکم مذکورہ دراصل تمام علمائے اسلام کا ہے، صرف انہی علمائے کرام کا نہیں جن کے اسمائے گرامی ہم نے درج کئے ہیں، مگر جلدی کہ وجہ سے صرف ان ہی علمائے کرام سے دستخط لئے گئے ہیں، علمائے حقانی کی اتنی زیادہ تعداد کے بعد ہر ایک انسان کو یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی کہ یہ مسئلہ بالکل دُرست ہے، اور مسمّیٰ مسعوداحمد اسی وقت سے خارج اَزاِسلام ہوگیا، اس کی عورت اس سے جدا ہوگئی، جہاں وہ چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ یہ قسم ہرگز نہیں جیسا کہ مخالف نے سمجھا، کیونکہ یہ ایک ناممکن بات ہے کہ تمام علمائے کرام ایک غلط مسئلہ بیان کریں اور ایک بچوں کا ٹیچر اس کو دُرست سمجھے، ضدی انسان کو اللّٰہ تعالیٰ کے بغیر کوئی طاقت نہیں منواسکتی، من یضلل اللہ فلا ھادی لہ۔۔۔!
آخری عرض
اتنی تفصیل اور اس قدر علمائے اسلام کے حکم سے یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ مسمّیٰ مسعوداحمد اِسلام سے خارج ہوگیا اور اس کی عورت اس سے جدا ہوگئی، اور جو دُوسری جگہ نکاح کیا، بالکل حلال ہے، اب اگر کوئی اِنسان اس مسئلے کو نہ مانے اور اس کو کافر نہ سمجھے تو وہ خود کافر ہوجائے گا، مسلمانوں کو اس سے تمام تعلقات ہٹالینے ضروری ہیں، نہ اس کے پیچھے نماز دُرست ہے، جب تک توبہ نہ کرے اور تجدیدِ اِسلام نہ کرے۔
’’الإجماع علٰی کفر من لم یکفر احدًا من النصاریٰ والیھود وکل من فارق دین المسلمین أو وقف فی تکفیرھم أو شک۔‘‘ (الشفاء ج:۲ ص:۲۴۴) ’’ولھٰذا نکفر من لم یکفر بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم او شکَّ او صح مذھبھم وان اظھر مع ذالک الإسلام۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’ایسے آدمی کے کافر ہونے پر سب کا اِتفاق ہے جو یہود اور نصاریٰ کو، یا ایسے شخص کو جو
288
مسلمانوں کے دِین سے الگ ہوجائے، کافر نہ سمجھے، یا ان کے کفر میں توقف اور شک کرے۔ اس لئے ہم ان لوگوں کو کافر کہتے ہیں جو مسلمانوں کے دِین کے سوا کسی اور طریقے پر چلتے ہیں یا اس کو جو ایسے لوگوں کے بارے میں توقف کرے یا ان کے مذہب کو صحیح جانے، اگرچہ وہ اسلام کا بھی مدعی ہو۔‘‘
(شفاء شریف جلد دوم ص:۲۴۷ و ۲۷۱، ومنہاج جلد دوم ص:۵۰۴، وقواطع الاسلام ص:۴۱)
میرے عزیز مسلمان بھائیو! تم کو لازم ہے کہ اپنے دِینِ اسلام اور سچے رسول کی محبت کا ذرا تو خیال کرو، ایسے مرتدوں کا ہرگز ساتھ نہ دو، ورنہ دُنیا اور آخرت میں ذِلت اور رُسوائی اُٹھانی پڑے گی۔
میں دُعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ میرے اور میرے والدین وجملہ مسلمانوں کے گناہ بخش کر حبِّ رسول عطا فرمادے، آمین بجاہ سیّدالمرسلین، وما علینا الا البلاغ!
عبدہ العاصی القاضی محمد زاہد الحسینی غفرلہٗ
مدرسہ محمدیہ شمس آباد، ضلع اٹک
۲؍جمادی الثانیہ ۱۳۶۰ھ
✨ ☪ ✨
289
قہرِ یزدانی بر جان دجال قادیانی
یعنی
۱:۔۔۔ فتاویٰ عظیمیہ من علماء الحنفیہ
۲:۔۔۔ عدم جواز نکاح مرزائی بامسلمہ سُنّیہ
۳:۔۔۔ عدم جواز صلوٰۃ جنازہ قادیانیہ
شائع کردہ
واعظِ اسلام حضرت پیر سیّد ظہور شاہ قادری
جلال پور جٹاں، ضلع گجرات
290
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مضمون رسالہ اوّل:۔۔۔ مرزاقادیانی کی طرف سے دعویٔ نبوّت وتوہین انبیاء علیہم السلام، ومرزاقادیانی کے عقائد انہی کی تصنیفات سے بحوالہ صفحات کتاب صراحۃً لکھا گیا ہے۔
دوم:۔۔۔ اگر کوئی مسلمان اپنی لڑکی کا نکاح کسی مرزائی سے کردے اور بعد میں معلوم ہو کہ یہ شخص مرزائی ہے، کیا یہ نکاح عندالشرع جائز ہے یا ناجائز؟ اور پھر اس لڑکی کا نکاحِ ثانی بلاطلاق مرزائی دُوسرا مسلمان کرسکتا ہے؟
سوم:۔۔۔ جو شخص اس فتوے کے دیکھنے کے بعد کسی مرزائی کا جنازہ پڑھے یا پڑھائے، اس کے واسطے شرعاً کیا حکم ہے؟ تجدیدِ نکاح کرے یا نہ؟
فقیر حافظ سیّد پیر ظہور شاہ قادری واعظ الاسلام
جلال پور جٹاں، ضلع گجرات، پنجاب
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
’’عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا وضع السیف فی اُمّتی لم یرفع عنھما إلٰی یوم القیامۃ، ولا تقوم الساعۃ حتّٰی تلحق قبائل من اُمّتی بالمشرکین وحتّٰی تعمل قبائل من اُمّتی الأوثان، وانہ سیکون فی اُمّتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی، ولا تزال طائفۃ من اُمّتی علی الحق ظاھرین لا یضرھم من خالفھم حتّٰی یأتی امرﷲ۔‘‘ (ابوداوٗد، کتاب الفتن، حدیث نمبر:۴۲۴۹، طبع المکتبۃ المکیۃ، جدۃ، ج:۵ ص:۱۳و۱۴، وفی الترمذی کتاب الفتن، باب ما جاء فی الھرج والعبادۃ فیہ ج:۳ ص:۲۲۹، حدیث نمبر:۲۲۰۲، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’روایت ہے ثوبانؓ سے کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ: جس وقت رکھ دی جائے گی تلوار میری اُمت میں، نہیں اُٹھائی جائے گی تلوار قبل اس سے قیامت تک، اور نہیں قائم ہوگی قیامت
291
یہاں تک کہ ملیں گے کتنے ایک قبیلہ میری اُمت سے مشرکوں کے، اور نہیں قائم ہوگی قیامت یہاں تک کہ پوجیں گے کتنے ایک قبیلہ میری اُمت سے بتوں کو، اور تحقیق شان یہ ہے کہ ہوں گے میری اُمت میں سے جھوٹے وہ تیس ہوں گے، سب گمان کریں گے وہ نبی خدا کے ہیں، حالانکہ میں خاتم النّبیین ہوں، نہیں کوئی نبی پیچھے میرے، اور ہمیشہ ایک جماعت اُمت میری سے ثابت رہے گی حق پر اور غالب، نہیں ضرر پہنچاسکے گا ان کو وہ شخص کہ مخالفت کرے ان کی یہاں تک کہ آئے حکم خدا کا۔‘‘
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفیٰ وَعَلٰی
آلِہِ الْمُجْتَبٰی وَاَصْحَابِہِ الْمُقْتَدٰی، اَمَّا بَعْدُ!
احقر العباد، خادم العلماء، فقیر حافظ سیّد پیرظہور شاہ قادری واعظ الاسلام جلال پور جٹاں، ضلع گجرات،پنجاب، برادرانِ اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ لاہوری مرزائی جماعت کی طرف سے ایک دو وَرقہ اِشتہار شائع ہوا ہے، جس میں ۲۲اَشخاص نے ۔۔۔جن کے نام آگے درج کئے جائیں گے۔۔۔ حلف اُٹھاکر بیان کیا ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبی ورسول ہونے کا ہرگز نہ تھا، مسلمان ہماری قسمیہ شہادت پر اِعتبار کریں اور مرزاقادیانی کو مدعیٔ رِسالت نہ سمجھیں،اور نہ ان کو بہ سبب دعویٔ نبوّت وِرسالت کافر وخارج اَزاِسلام سمجھیں، جن اَشخاص نے ان کو سمجھا ہے، غلو کیا ہے، اور علمائے اسلام نے اِلزام لگاکر ان کی تکفیر کی ہے، غلط ہے، حقیقت میں وہ نبوّت ورِسالت کے مدعی نہ تھے، بلکہ محدثیت اور مجدّدیت کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘ لہٰذا مسلمانوں کی اِطلاع کے لئے مرزاقادیانی کی دعویٔ نبوّت ورِسالت وتوہینِ انبیاء وعقائد واِلہامات وتحریرات پیش کی جاتی ہیں، جس سے صاف ثابت ہے کہ مرزاقادیانی رِسالت ونبوّت کے مدعی تھے، خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتمِ نبوّت نہ جانتے تھے، اس لئے مسلمان نہ تھے، بلکہ جو ہم عقائد مرزا غلام احمد کے ہے وہ بھی کافر وخارج اَز دائرۂ اِسلام ہے، اگر فقیر کے کہنے پر رنج پیدا ہوجائے تو علماء صاحبان سے بطور اِستفتاء تصفیہ کرکے ہدیۂ ناظرین کرتا ہوں!
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں کی بابت
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’میں مسیحِ موعود ہوں، اور عیسیٰ ابن مریم سے بڑھ کر ہوں، جو کوئی مجھ پر اِیمان نہ لائے گا، وہ کافر ہے، خدا میری نسبت کہتا ہے: تو مجھ سے ہے، اور میں تجھ سے ہوں، تو میرے واسطے ایسا ہے جیسا کہ میری اولاد، جس سے تو راضی، اس سے میں راضی، اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا، خدا عرش پر تیری حمد کرتا ہے، خدا نے مجھے قادیان میں اپنا سچا رسول کرکے بھیجا ہے اور خدا نے مجھ کو کرشن بھی کہا ہے، معجزہ کوئی شے نہیں، محض مسمریزم اور شعبدہ بازی ہے۔‘‘ آیا اس قسم کے عقائد والے کو کافر کہا جائے یا نہ؟ اس کی اِمامت وبیعت اور
292
دوستی وسلام علیک اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا بالتّفصیل جزاکم اللہ الرَّبّ الجلیل!
الجواب:۔۔۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ ِﷲِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!
پس مخفی نہ رہے کہ عقائدِ مذکورہ کے ماسوا ملحد قادیانی کے اور بہت سے عقائد کفریہ ہین، جن میں سے بعض کا بطور مشت نمونہ ازخروارے کلمہ فضل رحمانی سے ذِکر کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے، اور وہ یہ ہیں:
اِزالہ اوہام میں لکھا ہے: عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔
(اِزالہ ص:۳۰۳، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
حضرت یسوع مسیح کی نسبت لکھا ہے: شریر، مکار کے پیچھے چلنے والا جھوٹا۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
اس میں لکھا ہے کہ:
آپ کی تین دادیاں، نانیاں زناکار تھیں۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱ حاشیہ)
انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں۔
(اِزالہ ص:۶۲۸ تا ۶۲۹)
حضرت محمد الرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وحی بھی غلط نکلی تھی۔
(اِزالہ ص:۶۸۸ تا ۶۸۹)
حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی نبی کے پاس زمین پر نہیں آئے۔
(توضیح مرام ص:۶۸ تا ۶۵۷)
قرآن شریف میں جو معجزات ہیں، وہ سب مسمریزم ہیں۔
(اِزالہ اوہام ص:۷۴۸ تا ۷۵۰)
دجال، پادری ہیں۔
(اِزالہ اوہام ص:۷۲۲، خزائن ج:۳ ص:۴۸۸)
اور کوئی دجال نہیں آئے گا۔
(اِزالہ ص:۴۹۵،۴۹۶، خزائن ج:۳ س:۳۶۵،۳۶۶)
دجال کا گدھا ریل ہے اور کوئی گدھا نہیں۔
(اِزالہ اوہام ص:۴۸۵، خزائن ص:۴۷۰)
یاجوج ماجوج انگریز ہیں اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔
(اِزالہ ص:۵۰۲، ۵۰۸)
دُخان کچھ نہیں، غلط خیال ہے۔
(اِزالہ ص:۵۱۳، خزائن ص:۳۷۵)
آفتاب مغرب سے کوئی نہیں نکلے گا۔
(اِزالہ ص:۵۱۵، خزائن ص:۳۷۶)
دابۃالارض، علماء ہوں گے، اور کچھ نہیں۔ حضرت محمد الرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اِبنِ مریم اور دجال اور اس کے گدھے اور یاجوج ماجوج اور دابۃالارض کی حقیقت معلوم نہ تھی۔
(اِزالہ ص:۶۹۲، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
مرزا کی طرف سے دعویٔ نبوّت
۱:۔۔۔ ’’اِلہام: ’’قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکمﷲ‘‘ یعنی کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو۔‘‘ بلفظہ۔
(براہین احمدیہ ص:۲۴۶، خزائن ج:۱ ص:۲۶۶)
293
۲:۔۔۔ ’’مرسلِ یزدانی ومامورِ رحمانی حضرت جناب مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ بلفظہ۔
(اِبتدا (ٹائٹل پیج) اِزالہ اوہام، خزائن ج:۳ ص:۱۰۱)
۳:۔۔۔ ’’خدا نے مجھے آدم صفی اللّٰہ کہا اور مثل نوح کہا، مثیل یوسف کہا، مثیل داؤد کہا، پھر مثیل موسیٰ کہا، پھر مثیل اِبراہیم، پھر باربار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا۔‘‘ بلفظہ۔
(اِزالہ ص:۲۵۳، خزائن ج:۳ ص:۲۲۷)
۴:۔۔۔ ’’پس واضح ہو کہ وہ مسیحِ موعود جن کا آنا اِنجیل اور اَحادیثِ صحیحہ کی رُو سے ضروری طور پر قرار پاچکا تھا، وہ تو اپنے وقت پر اپنی نشانیوں کے ساتھ آگیا، اور آج وہ وعدہ پورا ہوگیا جو خداتعالیٰ کی مقدس پیش گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔‘‘
(اِزالہ ص:۴۱۳،۴۱۴، خزائن ج:۳ ص:۳۱۵)
۵:۔۔۔ ’’چونکہ مسیح میں مماثلت ہے، اس لئے اس عاجز کا نام بھی آدم کہا اور مسیح بھی۔‘‘
(اِزالہ ص:۴۵۶، خزائن ج:۳ ص:۳۴۳)
۶:۔۔۔ ’’خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھا اور نبی بھی۔‘‘
(اِزالہ ص:۵۳۳، خزائن ج:۳ ص:۳۸۶)
فائدہ:۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی مؤلفہ براہین احمدیہ خدا کا کلام ہے۔
۷:۔۔۔ ’’احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رُو سے ایک ہی ہیں، اسی کی طرف یہ اِشارہ ہے:مبشرًا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد۔‘‘
(اِزالہ ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)
۸:۔۔۔ ’’اور یہ آیت کہ: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ، درحقیقت اسی مسیح بن مریم کے زمانے سے متعلق ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۶۷۵، خزائن ج:۳ ص:۴۶۴)
۹:۔۔۔ ’’وہ آدم اور اِبنِ مریم یہی عاجز ہے، کیونکہ اوّل تو ایسا دعویٰ اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا، اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۶۹۵، خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)
۱۰:۔۔۔ حضرت اقدس اِمام مہدی ومسیحِ موعود مرزا غلام احمد رسالہ آریہ دھرم مؤلفہ مرزا ۔
(ص:۶۵)
۱۱:۔۔۔ ’’ان کو کہو کہ تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو، تاخدا بھی تم سے محبت کرے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۲ تا ۵۶، خزائن ج:۱۱ ص:۵۲تا۵۶)
۱۲:۔۔۔ ’’اے احمد! تمہارا نام پورا ہوجائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۲، خزائن ج:۱۱ ص:۵۲)
۱۳:۔۔۔ ’’تو ہمارے پانی میں سے ہے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۳، خزائن ج:۱۱ ص:۵۳)
۱۴:۔۔۔ ’’پاک ہے وہ جس نے اپنے بندے کو رات میں سیر کرائے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۳، خزائن ج:۱۱ ص:۵۳)
۱۵:۔۔۔ ’’نبیوں کا چاند مرزاقادیانی آئے گا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۸، خزائن ج:۱۱ ص:۵۸)
294
۱۶:۔۔۔ ’’ما ارسلناک إلَّا رحمۃ للعالمین، تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے بھیجا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۷۸، خزائن ج:۱۱ ص:۷۸)
۱۷:۔۔۔ ’’انی مرسلک إلٰی قوم مفسدین علٰی صراط مستقیم، یعنی تجھ کو قومِ مفسدین کی طرف رسول بناکر بھیجا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۷۹، خزائن ج:۱۱ ص:۷۹)
۱۸:۔۔۔ ’’یٰسین والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم، عنی اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۷)
۱۹:۔۔۔ ’’قل انما انا بشر مثلکم یوحی إلیّ انما إلٰھکم إلٰہ واحد، یعنی اے نبی ان سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح انسان ہوں، میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔‘‘
(دیکھو: حقیقۃ الوحی ص:۸۱، خزائن ج:۲ ص:۸۴)
۲۰:۔۔۔ ’’قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ إلیکم جمیعًا، یعنی اے مرزا تو تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللّٰہ کا رسول ہوکر تمہاری طرف آیا ہوں۔‘‘
(اخبار الاخبار مصنفہ مرزاقادیانی ص:۳)
یہی فرمانِ اِلٰہی ہیں جنہوں نے حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کامل رسول بنایا، جب وہی الفاظ مرزاقادیانی کو خدا نے فرمائے تو وہ کیوں کامل نبی ورسول نہیں؟ یا یوں کہو کہ مرزاقادیانی نے خدا پر اِفترا کیا ہے، کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں غلام احمد قادیانی نے دعویٔ نبوّت ورِسالت نہیں کیا، کیا انہوں نے یہ کتابیں پُراَز خرافات اپنی آنکھ سے نہیں دیکھیں؟ یا جان بوجھ کر چشم پوشی کرکے مخلوقِ خدا کو چاہِ ضلالت میں ڈبونا چاہتے ہیں؟ اور فریب دہی کے واسطے چند ایک شعر مرزاقادیانی کے جو انہوں نے قبل ازدعوے نبوّت لکھے تھے، لکھ کر مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں، خصوصاً لاہوری مرزائی جماعت نے یہی شعر پیش کرکے حلف اُٹھائی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبی ورسول ہونے کا ہرگز نہ تھا:
ما مسلمانیم از فضل خدا
مصطفیٰ ما را اِمام وپیشوا
آں رسولے کش محمد ہست نام
دامن یا کش دست ما مدام
ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوّت را برو شد اِختتام
مشتہرین کے نام یہ ہیں:
| محمد علی ایم اے، پریذیڈنٹ انجمن اِشاعتِ اسلام لاہوری |
ابویوسف مبارک علی، سیالکوٹ |
| جمال الدین بی اے، انسپکٹر اسکولز، جموں |
سیّد عبدالجبار شاہ، سابق بادشاہ سوات |
295
| شیخ نیاز احمد، میونسپل کمشنر، وزیرآباد |
شیخ نوراحمد بی اے، پلیڈر ایبٹ آباد |
| محمد یحییٰ دیب گراں، ضلع ہزارہ |
محمد یمین داتہ، ضلع ہزارہ |
| یعقوب بیگ، ایل ایم فزیشن اینڈ سرجن، لاہور |
سیّد محمد احسن امروہی |
| کمال الدین بی اے، ایل ایل بی، مسلم مشنری |
خان صاحب غلام رسول، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس فیروزپور |
| محمد جان مرچنٹ، وزیرآباد |
شیر محمد بی اے، پرنسپل اسسٹنٹ ریونیو ممبر، جموں |
| شیخ مولابخش، پروپرائٹر، فلورملز، لائل پور |
محمد عجب خاں تحصیل دار، نوشہرہ |
| بشارت احمد ایل ایم ایس، کرنال |
عبدالرحمن ای اے سی، گوجرانوالہ |
| صاحبزادہ سیف الرحمن، پشاور |
عزیز بخش سپرنٹنڈنٹ، ضلع ڈیرہ غازی خاں |
چونکہ یہ ایک عظیم الشان مغالطہ ہے، جو قسم کھاکر ان اصحاب نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلۂ احمدیہ سچے مسلمان تھے، اور ان تمام عقائد پر قائم تھے جو اہلِ سنت والجماعت کے عقائد ہیں۔
۱:۔۔۔ آپ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری نبی یقین کرتے تھے، اور آپ کے بعد دعویٔ نبوّت کرنے والے کو کاذب وکافر یقین کرتے تھے۔
۲:۔۔۔ آپ نے نبوّت ورِسالت کا ہرگز دعویٰ نہیں کیا، محدثیت اور مجدّدیت کا دعویٰ کیا ہے۔
ناظرین! آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ کس قدر دروغ بے فروغ ہے جو اِن اصحاب نے قسم اُٹھاکر لوگوں کو دِیا ہے۔ نبوّت ورِسالت کے متعلق ان کی کتابوں سے بہت کچھ ثبوت دیا گیا، اب معلوم کرنا چاہئے کہ مرزاقادیانی نبی ورسول تو ایک طرف، مسلمان بھی ہیں کہ نہیں؟ جواب! مرزاقادیانی ہرگز مسلمان نہ تھے، وہ خود لکھتے ہیں:
’’پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دِنوں اِنتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں، بلکہ خدائے تعالیٰ نے باربار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے، آریوں کا بادشاہ ۔۔۔الخ۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۵۲۱)
اور سیالکوٹ والے لیکچر میں فرماتے ہیں کہ: ’’حقیقتِ رُوحانی کی رُو سے میں کرشن ہوں، جو ہندو مذہب کے بڑے اوتاروں میں سے ایک اوتار تھا ۔۔۔الخ‘‘ جب مرزاقادیانی کا اپنا اِقرار ہے کہ میں آریہ ہوں، بلکہ آریوں کا بادشاہ ہوں تو پھر مسلمان ہرگز نہ رہے، کیونکہ آریہ لوگ تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر ہیں، اور کرشن جی مہاراج کا بھی یہی مذہب تھا، چنانچہ وہ گیتا میں لکھتے ہیں:
296
-
بقید تناسخ کند داد رش
بانواع قالب دروں آردش
-
تنہائے معبود در میر دند
بجسم سگ وخوک در میر دند
جس کا مطلب یہ کہ اعمال سزا وجزا اسی دُنیا میں بذریعہ اواگون (تناسخ) ملتی ہے، یوم الآخرت کوئی نہیں، (دیکھو: گیتا مترجمہ فیضی ص:۱۳۶)۔
پھر کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں: ’’ہم سب گزشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں بھی پیدا ہوں گے، جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن، جوانی، بڑھاپا ہوا کرتا ہے، اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ (دیکھو: گیتارشلوک ۱۲ و۱۳، اوہائے ۲ مترجمہ دوار کاپرشاد افق)۔
پھر کرشن جی فرماتے ہیں: ’’جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے، اسی طرح آتما بھی ایک قالب سے دُوسرے قالب کو قبول کرتی ہے۔‘‘ (اشلوک ۲۲ اوہائے)۔
ناظرین! یا تو مرزاقادیانی کا کرشن ہونا غلط ہے، یا مسلمان ہونا غلط ہے، کیونکہ کوئی شخص مسلمان اور آریہ دونوں مذاہب کا متبع نہیں ہوسکتا، کیا کسی مجدّد اور مسلمان اہلِ سنت والجماعت کے ایسے عقائد ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، اس طرح تو کفر واِسلام میں کچھ فرق نہ رہا، اگر مرزاقادیانی رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سچے خاتم النّبیین جانتے تو مذکورہ بالا اِلہامات سے دست بردار ہوتے۔
سوال:۔۔۔ مرزاقادیانی پر اِلزام لگائے جاتے ہیں کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ میں خدا ہوں، مجھے کن فیکون کا اِختیار دیا گیا، میں خدا کا رسول ہوں، صاحبِ شریعت بھی ہوں، وغیرہ وغیرہ، یہ محض آپ پر اِفترا ہے ۔۔۔الخ۔
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کے اِلہامات سے ان کا دعویٔ نبوّت ورِسالت ثابت ہے، اگر ان کی تحریریں نہ دکھائی تو ہم جھوٹے، اور اگر آپ نے قسمیں کھاکر مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہا ہے تو آپ سے خدا سمجھے۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ رسول نہ تھے، حالانکہ وہ افضل الرسل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، فرمائیے یہ ان کا شعر ہے کہ نہیں؟
-
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
یعنی جو نعمتِ نبوّت ورِسالت کا جام ہر ایک نبی کو دِیا گیا ہے، وہ تمام جام مجھ اکیلے کو دِیا گیا ہے، حضرت آدم سے حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک جس قدر نبی ہوئے، ان سب کی نعمت کا جام جب مرزاقادیانی کو دِیا گیا تو وہ سب سے افضل ہوئے یا نہیں؟ مرزاقادیانی کا مندرجہ ذیل شعر ملاحظہ ہو، جس میں وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر خصوصیت سے اپنی فضیلت کا فخر کرتے ہیں:
297
-
لہٗ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر؟
یعنی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واسطے تو صرف چاند کو گہن لگا تھا، اور میرے واسطے چاند اور سورج دونوں کو گہن ہوا، اَب تو کیا اِنکار کرے گا؟ (اعجازِ احمدی ص:۷۱، خزائن ج:۱۹ ص:۱۸۳)۔ مرزاقادیانی کا یہ شعر پڑھو اور نورِ عقل سے دیکھو کہ کس قدر دروغ گو ہے، اور دھوکادہندہ وہ شخص ہے جو مسلمانوں کو فریب میں لانے کے لئے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ: ’’مامسلمانیم ازلطف خدا مصطفیٰ مارا اِمام وپیشوا۔‘‘ (سراج منیر ص:۹۳، خزائن ج:۱۲ ص:۹۳)۔ کیا اِمام اور پیشوا کی یہی عزت ہوا کرتی ہے جو مرزاقادیانی نے کی کہ محمد کے واسطے ایک نشان ظاہر ہوا تو میرے واسطے دو نشان ظاہر ہوئے، مگر مسلمان بجزایں کچھ افسوس نہیں کیونکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب البریہ میں لکھا ہے کہ میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی وشیرینی اور حرکت وسکون سب اسی کا ہوگیا اور اسی حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں، سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اِجمالی صورت میں پیدا کیا، جس میں کوئی ترتیب وتفریق نہ تھی، پھر میں نے منشائِ حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی، اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں، پھر میں نے آسمانِ دُنیا کو پیدا کیا اور کہا: إنَّا زیّنا السَّماء الدُّنیا بمصابیح، پھر میں نے کہا: اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے (کتاب البریہ ص:۱۰۳، خزائن ص:۱۰۳)۔ مرزائی صاحبان فرمائیے! کہ جب مرزاقادیانی خالقِ زمین وآسمان اور خالقِ انسان ہیں، تو بیشک محمدالرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بڑھ گئے، کیونکہ محمدالرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے باوجود افضل الرسل اور خاتم النّبیین ہونے کے کہیں اپنا کشف نہیں لکھا اور نہ خالقِ زمین وآسمان بنے، وہ تو توحید ہی بتلاتے رہے، اشہد ان محمدًا عبدہ ورسولہ فرماتے رہے، مرزائی صاحبان! آپ نے ناحق جھوٹی قسم کھائی ہے کہ مرزاقادیانی پر کُن فیکون کے اِختیارات کا جھوٹا اِلزام ہے۔ دیکھو: اِلہام مرزاقادیانی (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۵، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۸) إنّما امرک إذا اردت شیئًا ان تقول لہ کُن فیکون،اے مرزا! اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو اِرادہ کرے تو صرف کہہ دے کہ ہوجا، وہ چیز ہوجائے گی (اخبار بدر ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء)۔
مرزائی صاحبان! فرمائیے کہ یہ مرزاقادیانی کا اِلہام ہے کہ نہیں؟ اگر اِلہام ہے تو آپ کا کہنا غلط ہے، وگرنہ مرزاقادیانی کے اِلہام پر عمل بے سود ہے۔ نیز اسی طرح مرزاقادیانی کا بابواِلٰہی بخش کی نسبت یہ اِلہام ہے: یریدون ان یرو طمثک، یعنی بابواِلٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اِطلاع پائے مگر خداتعالیٰ اپنے اِنعامات دِکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللّٰہ ہے ۔۔۔الخ۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۴۳، خزائن ج:۲۲ ص:۵۸۱)۔ مسلمانو! اِلہام کی یہ تشریح مرزاقادیانی کی اپنی ہی لکھی ہوئی ہے، اس سے یہ اُمورات ثابت ہوتے ہیں:
۱:۔۔۔ خداتعالیٰ جل شانہ‘ بچے جناتا ہے۔
۲:۔۔۔ مرزاقادیانی کے حیض سے اطفال اللّٰہ پیدا ہوتے ہیں۔
298
۳:۔۔۔ مرزاقادیانی خدا کی بیوی ہے جس کے حیض سے طفل اللّٰہ پیدا ہوتے ہیں۔
اب ہر ایک مسلمان خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس مذہب میں ایسے ایسے لغو مسائل ہوں، وہ مذہب ذریعہ نجات ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں! لہٰذا لاہوری مرزائی جماعت کے اراکین نے جو لکھا ہے کہ مرزاقادیانی پر یہ جھوٹے اِلزام ہیں، اہلِ اسلام کو بتایا جائے کہ یہ کتابیں مرزاقادیانی کی تصنیف ہیں یا نہیں؟ اگر مرزاقادیانی کی کتابوں میں یہ ذخیرۂ خرافات ہے، تو پھر مسلمان سچے، اور اگر مرزاقادیانی کی کتابوں میں ایسا نہ ہو تو آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ ہم پر نالش کرکے بذریعہ عدالت جھوٹ سچ ثابت کرلیں، اگر مرزاقادیانی کو اپنے دعوے میں آپ سچا یقین کرتے ہیں اور آپ کا اِیمان ہے کہ مرزاقادیانی خدا کے فرمان کے مطابق اِلہام پاتے تھے اور مرسل من اللّٰہ تھے تو گویا اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے وہ باطل مسائل اسلام میں داخل کئے، جن کی قرآن شریف اور حدیثِ نبوی تردید کرتی ہے، مثلاً: اِبن اللّٰہ کا مسئلہ عیسائیوں کا، مسیح کا صلیب پر چڑھایا جانا جو کفارۂ عیسائیوں کی بنیاد ہے، اُلوہیتِ مسیح کا مسئلہ، آریوں اور ہندوؤں کے اوتار کا مسئلہ، حلول ذاتِ باری کا مسئلہ، جیسا کشف میں لکھا کہ خداتعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا، تجسّمِ خدا کا مسئلہ، الغرض ہمچو قسم کے باطل مسائل داخل اسلام کرکے خود کرشن جی کا رُوپ دھارا اور آریوں کے بادشاہ بنے، باوجود اسلام میں ایسی خرابیاں ڈالنے کے مجدّدِ دِینِ محمدی کا دعویٰ: ’’بریں عقل ودانش بباید گریست‘‘ ہاں! اگر لاہوری جماعت کو معلوم ہوگیا ہے کہ مرزاقادیانی نبوّت ورِسالت کے دعاوی میں سچے نہ تھے اور آیاتِ قرآنی کو اپنے پر دوبارہ نازل شدہ سمجھنے میں حق پر نہ تھے تو بسم اللّٰہ اعلان کیجئے کہ ہم مرزاقادیانی کے خلافِ قرآن وحدیث کشوف واِلہامات کو من جانب اللّٰہ نہیں سمجھتے اور مسلمانوں کی طرح محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مدعیٔ نبوّت کو کافر سمجھتے ہیں، جیسا کہ اِبنِ حجر مکیؒ کا فتویٰ ہے: ’’من اعتقد وحیًا من بعد محمد کان کافرًا بإجماع المسلمین‘‘ یعنی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص دعویٰ کرے کہ مجھ کو وحی ہوتی ہے، وہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے۔ اور مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)۔ اور مُلَّا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع‘‘ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی) یعنی ہمارے نبی (محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کے بعد نبوّت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔ نظیر میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ کے حالات دیکھ لو، اور یہ کفر کا فتویٰ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے باتفاقِ صحابہ کرامؓ صادر ہوا تھا اور تیرہ سو برس تک اسی پر عمل چلا آیا ہے کہ جب کسی اُمتی نے نبوّت کا دعویٰ کیا (چاہے اپنی نبوّت کا نام ظلّی، بروزی، اِشتراکی، مختاری، متبع نبی استعاری وغیرہ وغیرہ ہی رکھا ہو) وہ کافر اور خارج اَزاِسلام سمجھا گیا، گو نمازیں پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو، اور خود کو مسلمان کلمہ گو بھی کہتا ہو، مرزاقادیانی اور مرزائی لاہوری جماعت کی یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ علمائے اسلام نے جو مرزاقادیانی پر کفر کے فتوے لگائے ہیں، اس سے وہ خود کافر ہوگئے۔ اجی جناب! جب نظیر موجود ہے کہ مدعیٔ نبوّت اور اس کے تابعداروں کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ کبار نے کافر کہا تو پھر مسلمان مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کو کافر کہنے میں بالکل حق بجانب ہیں، اگر مسیلمہ کذاب بھی مرزاقادیانی والی دلیل پیش کرتا کہ میں کلمہ گو ہوں، لہٰذا جو مجھ کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہے، تو کیا یہ
299
دلیل دُرست ہوتی؟ ہرگز نہیں! تو پھر مرزا اور مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ان جیسے کلمہ گو کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے، غلط ہے، کیونکہ کلمہ گو تب تک ہی کلمہ گو ہے جب تک خود مدعیٔ نبوّت نہ ہو، جب خود مدعیٔ نبوّت ہوا تو مع متبعین خارج اَزاِسلام ہوا۔ آپ مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیں:
۱:۔۔۔ مرزاقادیانی آپ کے اِعتقاد میں سچے صاحبِ وحی تھے، یعنی ان کی وحی توریت وانجیل وفرقان کی مانند تھی، جن کا منکر جہنمی ہو۔
۲:۔۔۔ جوجو اِلہام مرزاقادیانی کو ہوئے، آپ انہیں خداتعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے ہیں۔
۳:۔۔۔ مرزاقادیانی کے اِلہاموں کو وساوسِ شیطانی سے پاک یقین کرتے ہو۔
۴:۔۔۔ مرزاقادیانی کے کشوف من جانب اللّٰہ اور سچے تھے۔
۵:۔۔۔ شیطانی اِلہامات اور شیطانی کشوف کی کیا علامات ہیں؟
۶:۔۔۔ مرزاقادیانی نے جو ’’حقیقۃالوحی ص:۲۱۱، خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰ پر لکھا ہے کہ میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا قرآن شریف پر ۔۔۔الخ، کیا آپ کا بھی یہی ایمان ہے؟
۷:۔۔۔ اگر مرزاقادیانی کے عقائد علمائے اہلِ سنت والجماعت والے تھے اور آپ کے بھی ہیں، تو پھر مسلمانوں کے ساتھ مل کر نمازیں کیوں نہیں پڑھتے؟
جواب کتاب وسنتِ نبوی سے دیا جائے، کیونکہ آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مرزاقادیانی اہلِ سنت والجماعت سے تھے، توجہ طلب نہایت ضروری! برادرانِ اسلام کو اِطلاع ہو کہ وہ اس ٹھوکر سے بچیں اور لاہور کی مرزائی جماعت کی گندم نمائی وجو فروشی سے پرہیز کریں۔ اِشاعتِ اسلام کا صرف بہانہ ہے، جبکہ ان کو مرزاقادیانی کا حکم ہے کہ جس ملک میں جاؤ پہلے میری تبلیغ کرو، اگر وہ لوگ میری تصدیق کریں تو ان کے ساتھ نمازیں پڑھو، ورنہ اپنی نماز الگ پڑھو (دیکھو: فتاویٰ احمدیہ، نہج المصلی ص:۲۸۴)۔
سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ کا اِمام حضور (مرزاقادیانی) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ مرزاقادیانی نے جواب میں فرمایا: پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرواؤ، پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر، وگرنہ اس کے پیچھے نماز ضائع نہ کرو، اور اگر خاموش رہے، نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو بھی منافق ہے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
جب مرزائیوں کو اپنے مرشد کا حکم ہے اور فرض ہے کہ وہ مرزائی عقائد کی تبلیغ کریں تو پھر مسلمانوں کی کس قدر حماقت ہوگی کہ وہ خود چندہ دے کر مرزائیت کی تبلیغ کرائیں اور اِسلام کی جڑ کھوکھلی کریں، کیونکہ اگر عیسائی مرزائی ہوگا تو اس کو مرزاقادیانی کے اِلہام: ’’انت مِنّی بمنزلۃ ولدی‘‘ پر اِیمان لانا فرض ہوگا، تو اس صورت میں وہ بجائے ایک اِبن اللّٰہ (مسیح)، دو اِبن اللّٰہ (مسیح ومرزا) کا قائل ہوگا، یعنی ایک اِبن اللّٰہ حضرت عیسیٰ اور دُوسرا مرزاقادیانی، پس کوئی مسلمان مرزائی کو تبلیغ اسلام کے لئے ہرگز چندہ نہ دے جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہولے کہ کس اسلام کی مرزائی تبلیغ کریں گے؟ کیا لاہوری مرزائی جماعت تحریری اِقرار کرتی ہے کہ
300
وہ مرزائیت کی تبلیغ نہ کرے گی؟ جب تک وہ تحریری اِقرار اور ہمارے اس ٹریکٹ کا تشفی بخش جواب نہ دیں، ہرگز مسلمان ان کو چندہ نہ دیں، ورنہ غضبِ اِلٰہی کے مورد ہوں گے....والسلام....اصغر علی روحی پروفیسر اسلامیہ کالج وپریذیڈنٹ انجمن تائیدِ اسلام لاہور.... سیّد احمد علی شاہ پروفیسر اسلامیہ کالج واِمام مسجد شاہی لاہور....محمد یار اِمام مسجد سنہری لاہور.... قاضی فضل میراں بی اے بی ٹی اسلامیہ کالج لاہور.... محمدالدین بی اے فیلو پنجاب یونیورسٹی.... صدرالدین ایم اے پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور.... نوربخش ایم ناظم التعلیم انجمن نعمانیہ لاہور....نجم الدین پروفیسر عربی اورینٹل کالج لاہور....احمدعلی شیرانوالہ دروازہ لاہور ....حاجی شمس الدین لاہور .... مفتی عبدالقادر مدرّس مدرسہ غوثیہ تکیہ سادھواں لاہور.... عبدالواحد امام مسجد چینیا والی لاہور.... فضل الدین مصحح مطبع دین محمدی اسٹیم پریس لاہور.... ابومحمد احمد امام مسجد صوفی لاہور.... محمد حسین (شمس العلماء) پروفیسر مشن کالج لاہور.... محمد باقی پروفیسر مشن کالج لاہور....حبیب اللّٰہ منشی فاضل کشمیری بازار لاہور.... ایم اے ضیاء الدین پروفیسر ٹریننگ کالج لاہور.... ایم اے فضل حق پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور .... مولوی کرم بخش میونسپل کمشنر لاہور .... یہ چند ایک سطور میں اخی المکرم حامیٔ دِین قاطع البدعت پیربخش صاحب پنشنر پوسٹ ماسٹر آنریری سیکٹری انجمن تائید اسلام لاہور.... کے رسالے سے نقل کی ہیں۔
توہینِ انبیاء
۱:۔۔۔ ’’میں سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مرگئے، جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا، ہرگز نہ مرے گا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲، خزائن ج:۳ ص:۱۰۴)
۲:۔۔۔ ’’جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نہیں نکلیں۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۷، خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
۳:۔۔۔ حضرت موسیٰ کی پیش گوئیاں اسی صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دِل میں اُمیدیں باندھی تھیں، غائیت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔‘‘ (اِزالہ ص:۸، خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
۴:۔۔۔ ’’سیر معراج (حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔‘‘
(برحاشیہ اِزالہ ص:۴۷، خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)
۵:۔۔۔ ’’یہ حضرت مسیح کا معجزہ پرندے بناکر اس میں پھونک مارکر اُڑانا، حضرت سلیمان کے معجزے کی طرح عقلی تھا، تاریخ سے ثابت ہے ان دِنوں ایسے اُمور کی طرف لوگوں کے خیال جھکے ہوتے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے ہیں، دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔‘‘ (اِزالہ ص:۳۰۲، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۳۵۴)
’’چڑیاں کا معجزہ حضرت مسیح کا اور ان کا بولنا اور ہلنا اور دم ہلانا یہ عقلی معجزہ اپنے دادے سلیمان کی طرح ہے۔‘‘
(ملخصاً اِزالہ ص:۳۰۴)
۶:۔۔۔ ’’حضرت مسیح بن مریم باذن وحکمِ اِلٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتا ہے، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کی فضل وتوفیق سے اُمید قوی رکھتا تھا کہ عجوبہ نمایوں میں حضرت اِبنِ مریم
301
سے کم نہ رہتا۔‘‘ (اِزالہ ص:۳۰۷، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)
۷:۔۔۔ ’’یہ جو میں نے مسمریزم کی طریق کا نام عمل الترب رکھا ہے، جس میں حضرت مسیح ہی کسی درجہ مشق رکھتے تھے، یہ اِلہامی نام ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۳۱۲، خزائن ج:۳ ص:۲۵۸،۲۵۹)
۸:۔۔۔ ’’چار نبیوں کی غلط پیش گوئی نکلی۔‘‘ (اِزالہ ص:۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)
۹:۔۔۔ ’’جو پہلے اِماموں کو معلوم نہیں ہوا تھا وہ ہم نے معلوم کرلیا۔‘‘ (اِزالہ ص:۶۸۳)
۱۰:۔۔۔ ’’حضرت رسولِ خدا کے اِلہام ووحی غلط نکلیں تھیں۔‘‘ (اِزالہ ص:۶۸۸،۶۸۹، خزائن ج:۳ ص:۴۷۱)
۱۱:۔۔۔ ’’اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِبنِ مریم اور دجال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو ۔۔۔الخ۔‘‘ (اِزالہ ص:۶۹۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
۱۲:۔۔۔ ’’سورۂ بقرہ میں ایک قتل کا ذِکر گائے کا علم مسمریزم تھا۔‘‘ (اِزالہ ص:۷۴۸، ۷۴۹، خزائن ج:۳ ص:۵۰۳)
۱۳:۔۔۔ ’’حضرت اِبراہیم کا چار پرندوں کے معجزہ کا ذِکر جو قرآن میں ہے، وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔‘‘
(اِزالہ ص:۷۵۱،۷۵۲، خزائن ج:۳ ص:۵۰۶)
۱۴:۔۔۔ ’’مریم کا بیٹا کشلیا (’’کشلیا‘‘ راجہ رام چندر کی ماں کا نام تھا) کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۱، خزائن ج:۱۱ ص:۴۱)
عقائدِ مرزاقادیانی
۱:۔۔۔ ’’ہمارا خدا عاجی (ہاتھی کا دانت) ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص:۵۵۶)
۲:۔۔۔ حضرت مسیح اِبنِ مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدّت تک ۔۔۔الخ۔‘‘
(اِزالہ ص:۳۰۲، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
۳:۔۔۔ ’’نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچے پس اس جسم کا کرہ ماہتاب وآفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۴۷، خزائن ج:۳ ص:۱۲۶حاشیہ)
۴:۔۔۔ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔‘‘ (اِزالہ ص:۴۷ ایضاً)
۵:۔۔۔ ’’قرآن شریف جس بلند آواز سے سخت زبانی کے طریق کو اِستعمال کررہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی ہے، مثلاً: زمانۂ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گال ہے، لیکن قرآن شریف کفار کو سناسناکر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۵،۲۶، خزائن ج:۳ ص:۱۱۵)
۶:۔۔۔ ’’قرآن شریف نے ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ خوبصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کی ہیں۔‘‘ (اِزالہ ص:۲۷، خزائن ج:۳ ص:۱۱۶)
302
۷:۔۔۔ ’’قرآن شریف میں جو معجزات ہیں، وہ سب مسمریزم ہیں۔‘‘
(اِزالہ ص:۷۴۸، ۷۵۰، ۷۵۲، ۷۵۳، خزائن ج:۳ ص:۱۰۴)
۸:۔۔۔ ’’قرآن شریف میں: إنّا انزلناہ قریبًا من القادیان۔‘‘ (اِزالہ ص:۷۶،۷۷، خزائن ج:۳ ص:۱۳۹)
۹:۔۔۔ ’’اگر عذر ہو کہ بابِ نبوّت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے، بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوّت کا اس اُمتِ مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔‘‘ (توضیح مرام ص:۱۹، خزائن ج:۳ ص:۶۰)
۱۰:۔۔۔ ’’اِمام مہدی کا آنا بالکل غلط ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۵۱۸، خزائن ج:۳ ص:۳۷۸)
۱۱:۔۔۔ ’’پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی اِنتظاری تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے ۔۔۔الخ۔‘‘
(اِزالہ ص:۴۹۴،۴۹۵، خزائن ج:۳ ص:۳۶۵)
۱۲:۔۔۔ ’’وہ گدھا دجال کا اپنا بنایا ہوا ہوگا، پھر اگر وہ ریل نہیں ہے تو اور کیا ہے؟‘‘ (اِزالہ ص:۶۸۵، خزائن ۲ ص:۴۷۰)
۱۳:۔۔۔ ’’یاجوج ماجوج سے دو قومیں انگریز اور رُوس مراد ہیں، اور کچھ نہیں۔‘‘
(اِزالہ ص:۵۰۲، ۵۰۸، خزائن ج:۳ ص:۶۷۳،۶۸۶)
۱۴:۔۔۔ ’’دابۃالارض وہ علماء اور واعظ ہوں گے جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے، آخری زمانے میں ان کی کثرت ہوگی۔‘‘ (اِزالہ ص:۵۱۰، خزائن ج:۳ ص:۳۷۳)
۱۵:۔۔۔ ’’دُخان سے مراد قحط عظیم شدید ہے۔‘‘ (اِزالہ ص:۵۱۳، خزائن ج:۳ ص:۳۷۵)
۱۶:۔۔۔ ’’مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منوّر کئے جائیں گے اور ان کو اِسلام سے حصہ ملے گا۔‘‘ (اِزالہ ص:۵۱۵، خزائن ج:۳ ص:۳۷۷)
۱۷:۔۔۔ ’’کسی قبر میں سانپ اور بچھو دِکھاؤ!‘‘ (اِزالہ ص:۱۵، خزائن ج:۳ ص:۶۱۵)
حکیم الامت مولوی نوردین صاحب فرماتے ہیں: یہ تو بالکل غلط ہے کہ ہمارا اور غیراحمدیوں کا کوئی فروعی اِختلاف ہے، غیراحمدی مرزاقادیانی کی رِسالت کے منکر ہیں، اس لئے فروعی اِختلاف نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تقریر کا خلاصہ ص:۲۳۔
۱۸:۔۔۔ ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا رسول کو بھی نہیں مانتا، اور باوجود صدہا نشان کے مفتری ٹھہراتا ہے، وہ مؤمن کیونکر ٹھہر سکتا ہے؟‘‘ مرزا بشیرالدین نے اس مضمون کو اپنے باپ کی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ ص:۱۶۳و۱۶۴، خزائن ج:۳ ص:۱۶۷،۱۶۸ سے نقل کیا ہے۔
۱۹:۔۔۔ ’’ایک شخص مرزا کو جھوٹا بھی نہیں کہتا اور منکر بھی اور دِل سے سچا بھی جانتا ہے، اگر بیعت نہیں کرتا، وہ بھی کافر ہے۔‘‘
(دیکھو ص:۱۴)
الجواب:۔۔۔ یہ عقائد ایسے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مستقل طور پر مرزا ملحد کی تکفیر کے لئے کافی ہے، کیونکہ ان میں یا
303
توہین انبیاء علیہم السلام ہے،(۱) یا اِدّعائے نبوّت،(۲) یا رَدِّ نصوص، اور یہ سب کفر ہے،(۳) پس مرزاقادیانی کے ملحد، مرتد، کافر، دجال ہونے میں کوئی شک نہیں، بلکہ قادیانی کا کفر تو ایسا ہے جس میں کسی بھی اہلِ اسلام عالم یا غیرعالم کو کوئی شک وشبہ اور تردّد نہیں ہے، مؤمن کا دِل ایسے عقائد سے بھی اس کے کفر کی شہادت دے دیتا ہے، فقط واللّٰہ اعلم!
حررہ العاجز یوسف عفی عنہ از بگھیلے والا
الجواب:۔۔۔ بلاشبہ مرزاقادیانی بوجوہ کثیرہ قطعاً یقینا کافر مرتد ہے، ایسا کہ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اسے کافر نہ جانے خود کافر مرتد ہے۔(۴) ازاںجملہ کفر اوّل اپنے رسالہ ’’اِزالۃالاوہام ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳ پر لکھا ہے: ’’میں احمد ہوں، جو آیت: مبشرًا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے۔‘‘ آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیّدنا مسیح زمانی عیسیٰ ابنِ مریم رُوح اللّٰہ علیہماالصلوٰۃ والسلام نے بنی اِسرائیل سے فرمایا کہ: مجھے اللّٰہ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بناکر بھیجا ہے، توراۃ کی تصدیق اور اس رسول کی خوشخبری سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے، جن کا نام پاک احمد ہے۔ اِزالہ کے قولِ مذکور سے ملعون میں صراحۃً اِدّعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے، معاذاللّٰہ! مرزاقادیانی ہے۔
کفرِدوم:۔۔۔ دافع البلاء ص:۲۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰ پر لکھا ہے: ’’اِبنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے!‘‘
کفرِ سوم:۔۔۔ اِعجازِ احمدی کے ص:۱۳ پر صاف لکھ دیا ہے کہ: ’’یہود عیسیٰ کے بارے میں ایسے قوی اِعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب دینے سے حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی رہے، کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دِیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوّت پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ اِبطالِ نبوّت پر کئی دلیلیں قائم ہیں۔‘‘ یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قرآنِ عظیم پر ہی تہمت جڑدی کہ وہ ایسی باطل بات بتارہا ہے جس کے اِبطال پر متعدّد دلائل قائم ہیں۔
کفرِ چہارم:۔۔۔ دافع البلاء، مطبوعہ ریاض ہند ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱ پر لکھا ہے: ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا سچا رسول بھیجا۔‘‘
کفرِ پنجم:۔۔۔ اِزالہ ص:۳۱۰،۳۱۱ حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۸ پر لکھا ہے: ’’ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘ لعنۃ اللہ علٰی أعداء أنبیاء اللہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وبارک وسلم۔ ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفرِقطعی ہے، چہ جائیکہ نبیٔ مرسل کی تحقیر کہ مسمریزم کے سبب نورِباطن اور توحید اور دِینی اِستقامت میں کم درجہ پر بلکہ قریب ناکام رہے، لعنۃ اللہ علی الکاذبین
(۱) وقال محمد بن سحنون: أجمع العلماء علٰی أنّ شاتم النبی صلی ا اللہ علیہ وسلم والمتنقّص لہ کافر۔ (الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول ص:۷، طبع بیروت)۔
(۲)ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ا اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی)۔
(۳)وَرَدّ النصوص کفر۔ (شرح العقائد النسفیۃ ص:۱۶۶، طبع مکتبہ خیر کثیر)۔
(۴)الإجماع علٰی کفر من لَمْ یکفر احدًا من النصاریٰ والیھود وکل من فارق دین المسلمین أو وقف فی تکفیرھم أو شک۔ (الشفاء ج:۲ ص:۲۴۴، طبع مصطفی البابی الحلبی)۔
304
الکافرین، اور اس قسم کے صدہا کفر اس کے رسائل میں بھرے ہیں۔ بالجملہ مرزاقادیانی کافر مرتد ہے، اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل ومردود ہے، جیسے کسی یہودی کی اِمامت، اور ان کے ساتھ مواکلت، مشاربت اور مجالست سب ناجائز وحرام ہے۔ حدیث شریف: ’’لا تواکلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم‘‘ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، نہ پانی پیو، نہ ان کے پاس بیٹھو۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: ’’ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار‘‘ (ہود:۱۱۳) ظالموں کی طرف نہ جھکو، ایسا نہ ہو کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
کتبہ محمد عبدالرحمن البہاری عفی عنہ
| الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
| محمد عبدالمجید سنبلی عفی عنہ |
کریم بخش عفی عنہ سنبلی |
عبدہ المذنب احمد رضا عفی عنہ بریلوی |
| الجواب صحیح |
جواب درست ہے |
الجواب صحیح |
| عبدہ المذنب ظفرالدین عفی عنہ بریلوی |
عبدالوحید، مدرّس اوّل نعمانیہ امرتسر |
بندہ فتح الدین، از ہوشیارپور سنی حنفی قادری رضوی |
| عبدالمصطفیٰ ظفرالدین احمد بریلوی محمدی سنی حنفی بہاری |
ابوالفیض غلام محمد سنی حنفی قادر بریلوی نواب مرزا عبدالنبی |
| جواب ٹھیک ہے |
ھٰذا الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| خادم العلماء بندہ امام الدین کپورتھلوی |
سیّد علی عفی عنہ القادری الجالندھری |
احقرالزمن محمد حسن، مدرسہ نعمانیہ امرتسر |
| قولنا بھٰذا الحکم ثابتٌ |
جواباتِ مذکورہ بالا مطابق اہل سنت والجماعت ہیں |
ھٰذا الجواب صحیح لا شک فیہ |
| فقیر سعداللّٰہ شاہ ولائتی، ساکن سوات بنیر ملک ماتحت اخون صاحب سوات |
احقرالزمن خاکسار سیّد حسن عفی عنہ، مدرّس مدرسہ نعمانیہ لاہور |
محمد رشیدالرحمن عفی عنہ |
| ھٰذا الجواب صحیح |
الجواب صحیح لا شک فیہ |
لقد اصاب من اجاب |
| محمد اشرف، مدرّس مدرسہ نعمانیہ لاہور |
مسکین علم الدین لاہور |
حررہ الفقیر المفتی ولی محمد جالندھری |
مرزا غلام احمد قادیانی کے اِعتقاداتِ مذکورہ اور اِعتقاداتِ کفریہ نقل کرکے علمائے ہندوستان پنجاب کی خدمت میں پیش کئے گئے، سب نے بالاتفاق اس کو دائرۂ اسلام سے خارج کیا، اس کے ساتھ اسلامی معاملات مثل ملاقات وسلام وکلام کرنے سے منع کردیا ہے، اور قریب قریب ان ہر سہ رسائل میں دوسو علماء کی مہریں ودستخط ثبت ہیں۔
| نمقہ ابوسعید محمد حسین بٹالوی حنفی اہل حدیث |
ان عقائد کا معتقد کافر ہے |
الجواب صحیح |
| ، |
حررہ محمد واحد نور رامپوری |
ابوعماد محمد شبلی جیراج پوری |
مدرّس دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
305
بے شک مرزا قادیانی کے عقائد واقوال حد کفر تک پہنچ گئے ہیں اس لئے اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ عفی عنہ، مدرسہ امینیہ، دہلی
جو شخص خدا کے متعلق اس قسم کے عقائد رکھے جو سوال میں درج ہیں یا مدعیٔ رسالت ہو، اگر مجنون نہیں تو کافر ہے۔
حررہ ابوالفضل محمد حفیظ اللّٰہ، دارالعلوم لکھنؤ
مرزاقادیانی اصول اسلامی کا منکر ہے اور ملحد اس کی امامت بیعت اور محبت بالکل ناجائز ہے۔
رقمیہ احقرالعباد اللّٰہ الصمد مرید احمد میانوالی
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
ایسا شخص بے شک دائرہ اسلام سے خارج ہے |
| سیّد علی زینی عفی عنہ |
محمد قاسم عفی عنہ |
حبیب احمد |
| مدرّس مدرسۃالعلوم دارالندوۃ لکھنؤ |
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
مدرّس مدرسہ فتح پوری دہلی |
| جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد عبدالغنی عفی عنہ |
سید انظار حسین عفی عنہ |
محمد کرامت اللّٰہ، دہلی |
| مدرّس مدرسہ فتح پوری، دہلی |
مدرّس مدرسہ امینیہ، دہلی |
، |
| جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
| ابومحمد عبدالحق دہلوی |
محمد امین |
محمد لطیف اللّٰہ |
| ، |
مدرّس مدرسہ امینیہ، دہلی |
از علی گڑھ |
قادیانی نص قطعی کا منکر ہے اور جو نصوصِ قطعیہ سے منکر ہوتا ہے وہ کافر ہے، پس قادیانی دعاوی مذکورہ کا مدعی ہے تو بے شک کافر ہے۔
حررہ امانت اللّٰہ، علی گڑھ
مرزا قادیانی اور اس کے پیرو یہ سب کے سب کافر ہیں۔
| نصیرالدین خان |
غلام مصطفی |
ابراہیم |
محمد سلطان احمد خان |
محمد رضاخان |
مرزا قادیانی اور اس کے معتقد اور مرید اور دوست مثل بوسلیم کے کافر ہیں۔
حررہ عین الہدیٰ عفی عنہ قادری، از کلکتہ
| جواب درست ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| عبداللّٰہ خان |
احمدجی |
سیّد حافظ محمد حسین واعظ |
| مدرّس مدرسہ اسلامیہ شیرمیرٹھ |
علاقہ چھچھ موضع پانڈنک |
ساڈھرہ، ضلع انبالہ |
306
بے شک جو آدمی امور قطعیہ کا منکر ہے، وہ کافر ہے۔ قرآن شریف کا معجزہ ہونا ثابت ہے، اس کا انکار کفر ہے۔ اور ایسے آدمی کی بیعت بھی کفر ہے، اور مسلمان جاننا دُرست نہیں۔
حررہ احمد علی عفی عنہ
مدرّس مدرسیہ اسلامیہ اندر کوٹ میرٹھ
قادیانی خنزیر مسیلمہ کذاب قادیان میں رہتا ہے مفتری زندیق مردود کار نائب ابلیس لعنت اللّٰہ علیہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ شریعت محمدیہ میں واجب القتل ہے۔
جمال الدین
از ریاست کشمیری ضلع شہر مظفرآباد
ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور اس کے مرید اور معتقد جو ایسے مدعی مفتری کو اس کے تأویل کافرہ اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتے ہیں اور راضی ہیں وہ بھی کافر ہیں اس لئے کہ الرضاء بالکفر کفر۔
حررہ محمد عبدالغفار خان رامپوری
الجواب صحیح
فضل احمد
ضلع پشاور، علاقہ مردان، تحصیل صوابی
خاکسار مولوی محمد کفایت اللّٰہ صاحب کے جواب سے اتفاق کرتا ہے۔
کتبہ مشتاق احمد
مدرّس گورنمنٹ اسکول، دہلی
مرزا غلام احمد دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
محمد اسحاق لدھیانوی
بے شک الفاظ مذکورہ مسطورہ فتویٰ کفر کے ہیں اور قائل ان کا کافر ہے، اگر مرزا مذکور سے یہ الفاظ تقریراً یا تحریراً ثابت ہیں تو بس کافر ہے۔
راقم فقیر امانت علی از نکودریہ
جو شخص کسی پیغمبر کی نبوت کا انکار کرے یا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے۔
عبدالسلام پانی پتی
ذالک الکتاب لا ریب فیہ۔
| محمد معزاللّٰہ خاں رامپوری |
احمد سعید رامپوری |
| قد صح الجواب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد امانت اللّٰہ رامپوری |
محمد ضیاء اللّٰہ خان رامپوری |
محمد کفایت اللّٰہ سہارنپوری |
| المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح والقول نجیح |
| حافظ محمد شہاب الدین لدھیانوی |
فضل احمد رائے پوری گوجراں |
والمذنب ابوالرجال غلام محمد ہوشیارپوری |
307
| اصاب من اجاب |
رأیتہ فوجدتہ صحیحًا |
الجواب صحیح |
| محمد ابراہم وکیل اسلام، لاہور |
نبی بخش حکیم رسول نگری |
عنایت الٰہی سہارنپوری مہتمم مدرسہ عربیہ سہارنپور |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد بخش عفی عنہ سہرائے |
صدیق احمد انبیٹھوی |
احقرالزمن گل محمد خان مدرّس مدرسہ عالیہ دیوبند |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد عبدہ |
غلام رسول عفی عنہ |
عزیز الرحمن |
| مدرّس مدرسہ اسلامیہ دیوبند |
مدرّس مدرسہ عربیہ دیوبند |
مفتی مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند |
| اصاب المجیب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد حسن عفی عنہ |
بندہ محمود |
قادر بخش عفی عنہ |
| مدرّس مدرسہ دیوبند |
مدرّس اول مدرسہ عالیہ دیوبند |
جامع مسجد سہارنپور |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب صادق |
المجیب مصیب |
| بندہ عبدالمجید |
علی اکبر |
محمد یعقوب |
عبدالخالق |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| نوراللّٰہ خان |
محمد فتح علی شاہ |
فقیر غلام رسول مدرسہ حمیدیہ لاہور |
| الجواب صحیح |
ھٰذا ھو الحق |
المجیب مصیب |
| احمد علی شاہ اجمیری |
جمال الدین کوٹھالوی |
احمد علی عفی عنہ بٹالوی |
| جواب درست ہے |
جواب درست ہے |
الجواب صحیح |
| سلطان احمد گنجوی |
احمد علی عفی عنہ سہارنپوری |
محمد عظی متوطن گکھڑ |
| جواب صحیح ہے |
جواب صحیح ہے |
ما اجاب بہ المجیب فھو فیہ مصیب |
| فقیر غلام اللّٰہ قصوری |
محمد اشرف علی عفی عنہ تھانہ بھون ہندوستان |
غلام احمد امرتسری |
308
ایڈیٹر اہل فقہ: من قال سوا ذالک فقد قال محالا۔
حررہ ابوالہاشم محبوب عالم عفی عنہ توکلی سیدوی ضلع گجرات
سب نبی کفر ہے اور دعویٰ نبوت کفر ہے نبی سے اپنے آپ کو افضل سمجھنے والا کافر ہے۔
ابوبکر علی احمد محموداللّٰہ شاہ بدایونی عفی عنہ
ذالک کذالک۔ فقیر محمد عفی عنہ
| الجواب صحیح |
لاریب فی ما کتب |
الجواب صحیح |
| شیر محمد عفی عنہ |
رحیم بخش جالندھری |
ابوعبدالجبار محمد جمال امرتسری |
| جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح لاریب فیہ |
| عبدالکریم مجددی |
فقیر محمد باقر نقشبندی |
محمد رحیم اللّٰہ |
| ساکن تنڈہ محمد خاں ضلع حیدرآباد سندھ |
مدرّس مشن کالج لاہور |
دہلی |
| الجواب صحیح |
ھٰذا ھو الحق |
الجواب صحیح |
| محمد وصیت علی |
خادم حسن |
عزیز احمد |
| مدرّس مدرسہ مولوی عبدالربّ صاحب، دہلی |
مدرّس مدرسہ مولوی عبدالربّ صاحب، دہلی |
مدرّس مدرسہ حسین بخش، دہلی |
| المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد احکم |
عبدالرحمن |
بندہ ضیاء الحق عفی عنہ |
| مدرّس مدرسہ بارہ ہندوراؤدہلی |
مدرّس مدرسہ مولوی عبدالربّ صاحب، دہلی |
، |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
جواب درست ہے |
| محمد پردل دہلی |
ولی محمد کرنالوی |
عبدالصمد، مدرّس مدرسہ دیوبند |
| الأجوبۃ صحیحۃ |
جواب صحیح ہے |
لقد اجاب من اصاب |
| مقبول حسن عفی عنہ |
محمد اسحاق عفی عنہ |
مشتاق احمد |
| مدرّس سیوم مدرسہ جامع العلوم کانپور |
مدرّس مدرسہ جامع العلوم کانپور |
اول مدرّس فیض عام کانپور |
جو کلمات سوال میں مذکور ہیں، ہر ایک کلمے کا مرتکب اشد کافر ہے۔ العاجز عبدالمنان وزیرآبادی
مرزا غلام احمد کے خیالات اور عقائد اکثر ایسے ہیں جن پر فتویٰ کفر عائد ہوتا ہے۔
یوسف علی عفا اللّٰہ عنہ میرٹھی خیرنگری
309
بے شک یہ شخص اسی طرح کا کافر ہے جیسا کہ مولوی محمد عثمان صاحب دام ظلہم نے تحریر فرمایا ہے۔
ابوالرفعت محمد سخاوت اللّٰہ خاں
مدرّس سیوم مدرسہ عین العلوم شاہجہاںپور
تمام علماء نے اس کے کافر ہونے پر اتفاق کرلیا ہے، کوئی گنجائش تاویل کی نہیں، لہٰذا اس کی بیعت اور اس کی پیرو سے مجالست ومواکلت قطعی حرام ناجائز ہے۔
ابوالمعظم سیّد محمد اعظم شاہجہاںپوری
میری نظر سے مرزا کی کتابیں گزریں، ان میں صراحۃً عقائد کفریہ مرقوم ہیں، لہٰذا میں باعتبار ان کتابوں کے مرزاقادیانی کو کافر سمجھتا ہوں۔
غلام محی الدین، امام جامع مسجد شاہجہاںپوری
مرزاقادیانی کی کتابوں میں بہت سے کفریات موجود ہیں، جو نصوصِ قاطعہ کے خلاف ہیں، لہٰذا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
عبدالکریم عفی عنہ از ہندوستان
محمد حسین عفی عنہ
| جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد عبداللّٰہ |
محمد فیض اللّٰہ عفی عنہ ملتانی |
محمود عفی عنہ ملتانی |
| ناظم دینیات مدرسۃالعلوم علی گڑھ |
، |
، |
بے شک ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں، واللّٰہ تعالیٰ اعلم، فقط۔
محمد عبدالخالق عفی عنہ
مدرّس مدرسہ عین العلوم شاہجہاںپور
جو شخص توہین کسی نبی کی انبیاء علیہم السلام میں سے کرے، وہ مردود اور کافر ہے، یعنی ایسا کافر ہے کہ اس کی توبہ میں اختلاف ہے، اور اس کا کفر دیگر کفار کے کفر سے زائد ہے، العیاذ باللّٰہ، فقط۔
محمد عثمان عفی عنہ
مدرّس اوّل مدرسہ عین العلوم شاہجہاںپور
وجدتہ صحیحًا ملیحًا۔
مسکین عبداللّٰہ مولوی پلٹن نمبر۶۹ سیالکوٹی ثم گجراتی
مہر دارالافتاء، مدرسہ اہل سنت وجماعت معروف بنام نامی منظراسلام بریلوی
مرزا غلام احمد قادیانی یقینا کافر ہے اس کی تکفیر میں ذرا بھی شک نہی ہے، احقر کو اس کی کتب تمامیہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا ہے اس سے، اور اس کے متبعین سے اسلامی طریقے سے ملناجلنا ناجائز ہے، واللّٰہ اعلم بالصواب!
محمد اعزاز علی بریلوی
مرزاقادیانی جو عیسیٰ مسیح ہونے کا مدعی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کلمات شنیعہ لکھنے والا وغیرہ سراسر کاذب اور مفتری انتہا درجے کا بے دین ہے، مرتد، ملحد، خبیث النفس اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی اِتباع کرنے والا بھی اسلام سے
310
خارج، ہرگز اِمامت کے لائق نہیں۔
عبدالجبار عمرپوری، دہلی کشن گنج
مرزاقادیانی ان عقائد باطلہ کے رو سے بلاریب کافر ظاہر ہے قرآنی اور اجماعی امر ہے کہ دنیا میں پہلا کافر ابلیس لعین ہے اور اس کا کفر نص کی بنا پر ہے، اور وجوہ بھی تکفیر مرزائیں کے آیات واحادیث سے بکثرت ملتی ہیں۔ مرزائیوں سے ارتباط اسلامی نصوص آیات واحادیث سے ممنوع ہے جملہ تکالیف شرعیہ وارشادات اسلامیہ ان سے کیا معنی رکھتے ہیں بلکہ جو شخص ان کی تکفیر میں تامل کرے اس پر بھی مخالفت کفر ہے اور یہ پہلا زینہ دخول فی المرزائیت ہے۔
حررہ محمد عبدالخالق الملتانی عفی عنہ
کچھ شک نہیں کہ مرزاقادیانی ایک دہریہ معلوم ہوتا ہے، مفتری علی اللّٰہ ہے، اس کے اِلہامات سے معلوم ہوا کہ اسے خدا پر اِیمان نہیں، کیونکہ خدا پر اِیمان رکھنے والا اس قسم کے افترا نہیں کیا کرتا، اس لئے میرا یقین ہے کہ چونکہ شخص مذکور اپنے کو سچا رسول کہتا ہے، اور رِسالت کا ختم ہوجانا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نصوصِ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے، جو حدِ تواتر میں داخل ہے، اس لئے وہ شخص بلاشبہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، پس اِمامت یا بیعت ودوستی، سلام کلام اس سے اور اس کے مریدوں سے جائز نہ ہوگا، واللّٰہ اعلم!
احقر محمد رشید، مدرّس دوم مدرسہ جامع العلوم کانپور
شخصیکہ مدعی رسالت باشد منکر نص قطعی است وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط ودر نفر منکر قطعیات اختلاف نیست درہ چنیں کساں بیعت ومحبت چہ معنی دارد۔
الراقم: غلام احمد، مدرّس مدرسہ نعمانیہ لاہور
بہ متقضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح ودرست ہے اور ہر ایک جواب کی تائید ادلہ قطعیہ مؤید ہیں، اور کتب شرعیہ مملوکتہ۔
احقر عباد اللّٰہ الصمد ابوالرجا غلام محمد ہوشیارپوری
حق تعالیٰ شانہ‘ نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط اور نیز باجماع اُمت ثابت ہے کہ انبیاء ورسول افضل الخلق ہیں، لہٰذا جو شخص اپنے لئے رسالت کا مدعی ہے اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے اپنے آپ کو افضل جانتا ہے وہ کتاب اللّٰہ کا مکذب ہے۔ دائرۂ اسلام سے خارج ہے اس کی اور اس کے اَتباع کی اِمامت اور بیعت ومحبت ناجائز اور حرام ہے، ایسے شخص سے اور اس کے اذناب سے سلام کلام ترک کرنا چاہئے۔
حررہ خلیل احمد سہارنپوری
یہ شخص مدعی حال نبوّت ورِسالت کا ہے اور یہ کفر ہے اس کے دعویٰ کا ہر ایک کلمہ کئی کئی کفریات پر مشتمل ہے۔ پس شریعت غرا میں قائل ان کلمات اور دعاوی کا مثل فرعون، دجال، مسیلمہ کذاب کے ہے، اسی کے ساتھ بیعت وغیرہ سلام وکلام شرع میں کفر ہے۔
کتبہ محمد محی الدین صدیقی الحنفی عفی عنہ
مدرّس نصرۃالحق حنفیہ امرتسر
مرزاقادیانی کے عقائد اس حد تک یقینا پہنچ گئے ہیں کہ دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا حکم عائد ہوجائے دعویٔ نبوّت اس کے اور اس کے مریدوں کی تصنیفات میں بصراحت موجود ہے، انبیاء علیہم السلام پر اپنی فضیلت اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں ہتک
311
اور استخفاف سے ان کی کتابیں واشتہار ورسالے مملو ہیں، معجزات وخوارقِ عادت کی دُوراَزکار تأویلیں نصوصِ قطعیہ کی تحریفِ معنوی ان کا ادنیٰ کرشمہ ہے، لہٰذا اس کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور اِمامت ہرگز جائز نہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ الراجی الی اللّٰہ محمد کفایت اللّٰہ شاہجہاںپوری
بلاریب وشک مرزائی لوگ مرتد اور کافرین ہیں، ایسے ظالموں سے احتراز کرنا قرآن شریف اور حدیثِ نبوی سے ثابت ہے، جیسا کہ ارشاد خوش بنیاد جناب باری تعالیٰ کا ہے:فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(الانعام۶۸)۔
حررہ فقیر حافظ سیّد پیر ظہور شاہ قادری قریشی الہاشمی جلال پوری
✨ ☪ ✨
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فتویٰ نمبر دوم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اس شخص کی نسبت جو مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید نہ ہونے کے باوجود اس کو مسلمان جانتا ہے۔
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس شخص کے بارے میں جو کہتا ہے کہ: ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید تو نہیں ہوں اور نہ اس کے اعتقادیہ مسائل میں شامل ہوں لیکن اس کو مسلمان جانتا ہوں۔‘‘ کیا ایسے شخص کی بیعت واِمامت دُرست ہے؟ اور شرعاً اس کو کیا کہنا چاہئے؟ بیّنوا بالتَّفصیل، جزاکم اللہ الرَّبّ الجلیل!
الجواب:۔۔۔ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد کفریہ کے معلوم ہونے کے باوجود اس کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے۔(۱) ایسے شخص اکثر وہی دیکھے گئے ہیں جو منافق اور کافر ہیں، یعنی دراصل مرزائی ہوتے ہیں، لیکن ظاہرداری کے طور پر کہتے ہیں کہ ہم مرزا کو مسلمان جانتے ہیں یا اس پر ہم کفر کا فتویٰ نہیں دیتے یا ہم اس کو اچھا تو نہیں جانتے لیکن کافر بھی نہیں کہتے دراصل یہ سب کارروائی منافقانہ ہے۔ کوئی مصلحت مدنظر رکھ کر ظاہر نہیں ہوتے فی الحقیقت پکے مرزائی ہوتے ہیں۔ یا درکھو! مسلمان کی شان سے بہت بعید ہے کہ ایسے کافر کی تکفیر میں توقف یا تردّد کرے۔ الحاصل مرزا اور اس کے سب مرید ۔۔۔اور باوجود مرزا کی کفریات کے معلوم ہونے کے۔۔۔ اس کے کفر میں توقف کرنے والے، سب کے سب کافر ہیں۔ توہینِ انبیاء، ادّعائے نبوّت، رَدِّ نصوص ایسا کفر ہے جس
میں اہلِ سنت میں سے کسی کا بھی اختلاف نہیں، اس واسطے دلائل لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ فقط واللّٰہ اعلم!
حررہ العاجز یوسف علی عفی عنہ از بگھیلے والا
(۱)نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم او شک۔ (الشفاء ج:۲ ص:۲۴۷، مکتبہ مصطفی البابی الحلبی)۔
312
الجواب:۔۔۔ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کو کافر نہ جانے وہ خود کافر مرتد ہے، بلکہ جو شخص اس کے کافر ہونے میں شک وتردد کرے وہ بھی کافر مستحق عذاب عظیم ہے۔ شفاشریف میں ہے:
’’نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیھم او شک۔‘‘
(شفاء ج:۲ ص:۲۴۷)
یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کو کافر نہ کہے، اس کی تکفیر میں توقف یا شک وتردّد رکھے۔
غرر ومجمع الانہار ودرمختار وفتاویٰ خیریہ وبزازیہ وغیرہ میں ہے:
’’من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔‘‘(۱)
یعنی جو شخص اس کے کفر وعذاب میں شک کرے، یقینا خود کافر ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
کتبہ محمد عبدالرحمن البہاری عفی عنہ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| احمد رضا عفی عنہ |
محمد عبدالمجید سنبلی عفی عنہ |
عبدہ ظفرالدین بریلوی حنفی قادری رضوی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح والمجیب مصیب |
جواب صحیح ہے |
| عبدالان المصطفیٰ ظفرالدین احمد بریلوی |
احقرزمن محمد حسن |
سیّد حسن عفی عنہ |
| مدرسہ اہل سنت وجماعت بریلوی |
مدرّس مدرسہ نعمانیہ امرتسر |
مدرّس مدرسہ نعمانیہ لاہور |
| جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
ھٰذا الجواب صحیح |
| کریم بخش سنبلی عفی عنہ |
عبدالوحید |
محمد اشرف |
| ، |
مدرّس اوّل مدرسہ نعمانیہ امرتسر |
مدرّس نعمانیہ لاہور |
| قولنا بہ ھٰذا المحکم ثابت |
ھٰذا الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
| فقیر سعداللّٰہ شاہ ساکن سوات |
محمد لطف اللّٰہ علی گڑھ |
بندہ امام دین کپورتھلوی |
| ھٰذا الجواب صحیح |
لقد اصاب من اجاب |
الجواب صحیح |
| سیّد علی جالندھری |
حررہ الفقیر المفتی ولی محمد جالندھری |
بندہ فتح الدین ہوشیارپوری |
| ھٰذا الجواب صحیح لا شک فیہ |
الجواب صحیح لا شک فیہ |
الجواب صحیح |
| محمد رشیدالرحمن |
علم الدین لاہوری |
سیّد علی زینی، مدرّس دارالعلوم ندوۃ لکھنؤ |
(۱) الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول ص:۷، طبع بیروت۔
313
| الجواب صحیح والمجیب مصیب |
بہتر ہی ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھیں |
نبیر وجدتہ صحیحًا ملیحًا |
| ابوالعماد محمد شبلی عفی عنہ جیراجپوری |
حررہ محمد امانت اللّٰہ، علی گڑھ |
مسکین عبداللّٰہ شاہ مولوی پلٹن نمبر۹۹ سیالکوٹی ثم گجراتی |
| ھٰذا الجواب صحیح |
اصاب من اجاب |
الجواب صحیح |
| ابوسعید محمد عبدالخالق لکھنوی |
محمد عبدالعزیز لکھنوی |
عبدالخالق لکھنوی |
| الجواب صحیح |
صحیح الجواب |
اصاب من اجاب |
| ولی محمد کرنالوی |
محمد قاسم عبدالقیوم الانصاری لکھنوی |
محمد برکت اللّٰہ لکھنوی |
| الجواب صحیح |
صحیح الجواب |
ایسا شخص فاسق ہے |
| محمد عبدالہادی الانصاری لکھنوی |
محمد عبیداللّٰہ لکھنوی |
محمد عبدالغنی، مدرّس مدرسہ فتح پوری دہلی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح والمجیب نجیح |
| بندہ محمد قاسم مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
محمد کرامت اللّٰہ دہلوی |
بندہ محمد امین، مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
| الجواب صحیح |
من اصاب فقد اجاب |
الجواب صحیح |
| محمد ذاکر بگوی عفی عنہ لاہوری |
غلام رسول ملتانی |
ابومحمد احمد عفی عنہ چکوال لاہوری |
جو شخص غلام احمد قادیانی کو باوجود دعاوی کے اہلِ اسلام جانے یا اپنے دعوے میں صادق سمجھے، وہ اسلام اور دینِ محمدی سے خارج ہے۔
الراقم: عبدالجبار امرتسری
جو شخص مرزا کے عقائد معلوم کرکے اس کو کافر وخارج دائرۂ اسلام نہ جانے، وہ بھی اسی کا پیرو ہے۔
ابو محمد سعید محمد حسین بٹالوی
اگر غلام احمد کے عقائد کو یہ عقائد کفریہ جانتا ہے، اور پھر ان سے راضی وخوش ہے تو یہ بھی کافر ہے، لأن الرضا بالکفر کفر۔
محمد کفایت اللّٰہ شاہجہاںپوری
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی
| الجواب صحیح |
اصاب من اجاب |
الجواب صحیح |
| نور احمد امرتسری |
سیّد حسین، مدرّس مدرسہ نعمانیہ لاہور |
محمد عبدالحق دہلوی |
| ، |
ایسا شخص منافق ہے ایسے شخص کے خلف |
، |
| الجواب صحیح |
اقتدا دُرست نہیں |
الجواب صحیح |
| عبدالعزیز، ساکن قلعہ صہباسنگھ |
سلام دین امرتسری |
ابوتراب محمد عبدالحق امرتسری |
314
| لجواب صحیح |
جو شخص اس کو حق جانتا ہے وہ بھی صراطِ مستقیم دین قویم سے منحرف ہے۔ |
قادیانی ایسا شخص کافر اور مرتد ہے |
| سیّد شاہ حیدرآبادی |
مرید احمد |
ابویوسف امرتسری |
| الجواب صحیح |
اس کے عقیدے میں فرق ہے، اس کی اِمامت اور بیعت جائز نہیں۔ |
الجواب صحیح |
| محمد اسحاق لدھیانوی |
الراقم: عبدالسلام پانی پتی |
عبداللطیف سہارنپوری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح والقول مقحیح |
| ثابت علی سہارنپوری |
محمد کفایت اللّٰہ سہارنپوری |
غلام محمد ہوشیارپوری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
رأئیتہ فوجدتہ صحیحًا |
| حافظ محمد شہاب الدین لدھیانوی |
محمد ابراہیم وکیل اسلام لاہور |
نبی بخش حکیم رسول نگری |
| اصاب من اجاب |
الجواب صحیح |
اجاب بہ المجیب وھو مصیب |
| فضل احمد رائے پورگجراں |
محمد رکن الدین نقشبندی ساکن الورما |
غلام احمد امرتسری |
| جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
صحیح الجواب |
| خادم شریعت ابوالہاشم محبوب عالم سنیدے ضلع گجرات |
فتح محمد |
شیر محمد |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| فقیر غلام رسول، مدرسہ حمیدیہ لاہور |
فقیر غلام اللّٰہ قصوری |
فتح محمد |
| الجواب صحیح |
ھٰذا ھو الحق |
الجواب صحیح |
| احمد علی شاہ اجمیری |
جمال الدین کٹیالوی |
سلطان احمد گنجوی ضلع گجرات |
| الجواب صحیح |
المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
| محمد عظیم متوطن گکھڑ |
احمد علی بٹالوی |
صدیق احمد دمونوی |
| جواب درست ہے |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| احمد علی عفی عنہ، مدرّس مدرسہ اسلامیہ میرٹھ |
عنایت علی سہارنپوری |
محمد بخش سبزائی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| احقر گل محمد خاں، مدرّس مدرسہ عربیہ دیوبند |
سیّد محمد، مدرّس مدرسیہ عربیہ دیوبند |
غلام اسعد، مدرّس مدرسہ عربیہ دیوبند |
315
| الجواب صحیح |
اصاب المجیب |
الجواب صحیح |
| عزیزالرحمن مفتی حنفی مدرسہ عالیہ دیوبند |
محمد حسن، مدرسہ دیوبند |
بندہ محمود عفی عنہ اوّل مدرّس مدرسہ دیوبند |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| قادر بخش، مہتمم جامع مسجد سہارنپور |
بندہ عبدالمجید عفی عنہ |
علی اکبر عفی عنہ |
| الجواب صحیح |
المجیب صادق |
الجواب صحیح |
| ابوعبدالجبار محمد جلال الدین امرتسری |
عبدالخالق |
رحیم بخش جالندھری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
| بندہ عبدالصمد عفی عنہ، مدرّس مدرسہ دیوبند |
عبدالکریم، ساکن ٹنڈہ محمد خاں، ضلع حیدرآباد سندھی |
محمد یعقوب دیوبند |
| الجواب صحیح والمجیب مصیب |
الجواب صحیح |
ھٰذا ھو الحق |
| حبیب المرسلین، مدرّس اول مدرسہ حسین بخش دہلی |
محمد وصیت علی مدرّس مدرسہ مولوی عبدالربّ دہلی |
خادم حسین عفی عنہ مدرّس مدرسہ مولوی عبدالربّ دہلی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب مصیب |
| محمد ناظر حسن، صدر مدرّس عربیہ فتح پوری، دہلی |
محمد عزیز احمد عفی عنہ، مدرّس مدرسہ حسین بخش دہلی |
محمد احکم عفی عنہ، مدرّس مدرسہ بارۂ ہندورائے دہلی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| بندہ ضیاء الحق عفی عنہ دہلی |
حبیب احمد، مدرّس مدرسہ فتح پوری |
ولی محمد کرنالوی |
ایسے صریح منکر کو مسلمان سمجھنا تو گویا خود مسلمانی سے خارج ہونا ہے۔
ابوالمعظم سیّد محمد اعظم مفتی حنفی شاہجہاںپوری
جو شخص مرزا کے عقائد سے ناواقف ہوکر مسلمان لکھتا ہے تو وہ بھی اسلام سے خارج ہے۔ ہرگز اِمامت کے لائق نہیں۔
عبدالجبار عمرپوری دہلی کشن گنج
جو ایسے مدعی کو اس کے اقاویل کاذبہ اور دعاوی باطلہ میں سچا جانتا ہے اور راضی ہے وہ بھی کافر ہے اس لئے کہ الرضاء بالکفر کفر۔
محمد عبدالغفار خان رامپوری
| الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
الجواب صحیح |
| محمد سلامت الہدیٰ رامپوری |
احمد سعید رامپوری |
محمد ضیاء اللّٰہ خان رامپوری |
316
| ذالک الکتاب لا ریب فیہ |
الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
| محمد معزاللّٰہ خاں رامپوری |
عبداللّٰہ خان، مدرّس مدرسہ اسلامیہ میرٹھ |
محمد عبداللّٰہ علی گڑھ |
مرزا اور اس کے اَتباع کی مثل میرے نزدیک اسلامی فریق میں ایسا کافر کوئی نہیں۔
العاجز عبدالمنان وزیرآبادی
جو ایسے اِعتقاد والے کو مسلمان جانے، وہ شخص بھی کافر ہے۔
جمال الدین، ریاست کشمیر
ایسے آدمی کی بیعت ہی کفر ہے اور مسلمان جاننا دُرست نہیں۔
احمد علی عفی عنہ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| سیّد محمد حسین واعظ ساڈھورہ |
احمد جی علاقہ چھچہ |
محمود عفی عنہ ملتان |
محمد فیض اللّٰہ ملتانی عفی عنہ |
مرزا کو یہ شخص اگر بنابرجہالت کے مسلمان سمجھتا ہے تو معذور سمجھا جائے گا۔ اگر باوجود اس کے ایسے دعاوی کفریہ اور عقائدِ باطلہ کے اس کو محض کلمہ گوئی کے مسلمان جانتا ہے تو خود اس کے اسلام پر خطرہ ہے۔ اس کو پہلے تعلیم کافی دی جائے، اگر نہ سمجھے، پھر اس کی اِمامت اور بیعت کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔
حررہ عبدالحق الملتانی
جو شخص مرزاقادیانی کے حق میں باوجودیکہ وہ اپنے کو عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام پر تفضیل دیتا ہے اور دعویٰ رسالت کرتا ہے، حسنِ ظن رکھتا ہو، اور اس کو مسلمان کہتا ہو، تو وہ شخص خود دائرۂ اسلام سے خارج ہے، ایسے شخص کی امامت اور بیعت شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے، اور اہلِ اسلام کو اس سے اِجتناب لازم ہے۔
حررہ محمد خدابخش عفی عنہ پشاوری
جو شخص مرزا غلام احمد کے عقائد مخالف کو اچھا جانے، اس کے پیچھے نماز دُرست نہیں، اور نہ اس سے کسی کو بیعت کرنا جائز ہے۔
ابویوسف علی میرٹھی
بہ مقتضائے کوائف مندرجہ بیان سائل ہر ایک جواب مطابق سوال صحیح ودُرست ہے اور ہر ایک جواب کی تائید کے ادلہ قطعیہ مؤید ہیں۔ اور کتبِ شرعیہ اسی مملوکہ۔
کتبہ احمد عبداللّٰہ الصمد ابوالوفا غلام محمد ہوشیارپوری
شخص مذکور اگر مرزا کے کفریہ معتقدات پر اطلاع حاصل کرنے کے بعد اس کی تکفیر کرے تو فبہا ورنہ وہ بھی قادیانی کے ساتھ کفر میں ہم رشتہ ہے اس کی بیعت اور اِمامت جائز نہ ہوگی۔
حررہ خلیل احمد
ایسا شخص ساطر حق ہے، اور باطن میں معتقد قادیانی کا ہے، ایسے اِمام کی بیعت وغیرہ سے کنارہ کشی واجب ہے۔
الراقم: محمد محی الدین الصدیقی الحنفی امرتسری
کسیکہ قائل جواز اقتدا خلف مرزا واَتباع او باشد مخصلے وناواقف از اُصولِ دین است زیرا کہ صحت نماز بدوں ایمان صورت نمے بندد وبطلان نمازِ اِمام موجب بطلان نمازِ مقتدی است، کما لا یخفی علٰی من لہ مسکہ بالدین، وبیعت چنیں ناواقف بریں قیاس باید کرد۔
غلام احمد مدرّس مدرسہ نعمانیہ
317
مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعت اسلام سے جدا ہے، ایسے شخص سے بیعت کرنا حرام اور اس کو اِمام بنانا ناجائز ہے۔
مشتاق احمد حنفی، مدرّس گورنمنٹ اسکول دہلی
ایسا شخص جاہل ہے، کفر او راسلام میں تمیز نہیں رکھتا، اس کی اِمامت اور بیعت قبول نہیں ہے، یا واقف متعصب ہے، اس کو توبہ کرنی چاہئے، ورنہ یہ تعصب بے محل مخل اِمامت وارشاد ہوگا۔
حررہ ابوالحامد محمد عبدالحمید عفی عنہ القادری الانصاری النظامی اللکھنوی
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان جانے، گو اس کے طریقے پر نہ ہو، یا مرید نہ ہو، مگر وہ ایسا ہے جیسا کہ شمر اور اِبنِ زیاد اور یزید اور اِبنِ ملجم کو مسلمان جانتا ہے اور جاننے والا ہے، منافق اور خارجی ہے۔
حررہ عین الہدیٰ شاہ قادری از کلکتہ
ایسا شخص جاہل ہے، اس کو سمجھانا چاہئے، اور اگر وہ اپنی غلطی پر مصر ہو اور ہٹ دھرمی کرے تو اس کی اِمامت سے بچنا چاہئے، اور بیعت ایسے شخص سے نہ کی جائے، یہ شخص بدعتی ہے۔
حررہ واحد نور رامپوری
جو ایسے شخص کو مسلمان سمجھتا ہے وہ یا جاہل ہے یا بدعقائد، بیعت اور اِمامت ایسے شخص کو دُرست نہیں۔
کتبہ ابوالفضل محمد حفیظ اللّٰہ، مدرّس دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ
’’مَنْ سَبَّ الشَّیْخَیْنَ اَوْ طَعْنَ فِیْھِمَا کَفَرَ، لَا تُقْبَلْ تَوْبَتُہٗ‘‘
(درمختار ج:۴ ص:۲۳۶، طبع ایچ ایم سعید)
چہ جائیکہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر طعن کرنے والا اور دعویٔ نبوّت کرنے والا، اشد کافر ہے، جیسا کہ خداوند کریم اپنی وحدانیت میں لاشریک ہے، ویسا ہی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے بندوں میں یکتا اور بے نظیر ہیں۔
تراب اقدام اہل اللّٰہ فقیر ابومیرمحمد
امیراللّٰہ قریشی الہاشمی جلال پورجٹاں بقلم خود
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین کہ مرزائی لوگ جو مرزا غلام احمد قادیانی کے سب عقائد کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی رسالت کے قائل ہیں اور اس کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس واسطے علمائے عرب وعجم نے مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لایا ہے، اگر کوئی مسلمان اپنی دختر کا نکاح کسی مرزائی سے کردے بعد میں اس کو معلوم ہو کہ یہ شخص مرزائی ہے آیا یہ نکاح عندالشرع جائز ہوگا یا ناجائز؟ اور یہ شخص اپنی لڑکی کا نکاح ثانی بلاطلاق مرزائی زوج کے کسی مسلمان سے کرسکتا ہے یا نہیں؟ بیّنوا بالتَّفصیل جزاکم اللہ الرَّبّ الجلیل!
318
الجواب:۔۔۔ مرزائی مرد سے سنیہ عورت کا نکاح نہیں ہوتا،(۱) بلاطلاق سنیہ کا باپ اس کا نکاح کسی سنی سے کرسکتا ہے،(۲) بلکہ فرض ہے کہ اس لڑکی کو اس مرزائی سے فوراً جدا کرے کہ اس کی صحبت اس کے ساتھ خالص زنا ہے، بالکل وہی حکم ہے جو کوئی شخص اپنی دختر کسی ہندو کے گھر بلانکاح بھیج دے، بلکہ اس سے سخت تر کہ وہاں حرام کو حرام کی ہی مد میں رکھا، اور یہاں نکاح پڑھاکر معاذاللّٰہ اسی حلال پیرایہ میں لایا گیا، اس سے فوراً علیحدہ کرلینا فرض ہے، پھر جس سنی سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ ردّالمحتار میں ہے:
’’حرم نکاح الوثنیۃ وفی شرح الوجیز وکل مذھب یکفر وبہ معتقدہ۔‘‘
(ردالمختار ج:۳ ص:۴۵، طبع ایچ ایم سعید)
درمختار میں ہے:
’’ویبطل منہ إتفاقًا ما یعتمد الملۃ وھی خمس النکاح والذبیحۃ۔۔۔إلخ۔‘‘
(درمختار ج:۲ ص:۳۱۳، ۳۱۴)
یہاں تک اصل حکم شرعی کا بیان تھا، شرعاً یہ صورت جائز ہے اور ازدواج مکرر سے پاک کہ پہلا نکاح ہی نہ تھا۔ مگر قانون رائج میں جو اَمر جرم ہے شرعاً اپنی جان ومال وآبرو کی حفاظت کے لئے اس سے بھی بچنے کا حکم ہے، قانون کا حال وکلا جانتے ہین، اگر اَزرُوئے قانون بھی یہ صورت داخلِ جرم نہ ہو، یا قانون حکم فتویٰ کو تسلیم کرکے اس کا جرم نہ ہونا قبول کرلے تو حرج نہیں، ورنہ ان سے دُور رہا جائے۔ ہاں دختر کو جس جائز طریقے سے ممکن ہو جدا کرنا سخت فرض اہم ہے، اگرچہ دُوسری جگہ نکاح نہ ہوسکے۔ واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم!
کتبہ عبدالنبی نواب مرزا عفی عنہ سنی حنفی بریلوی
| الجواب صحیح و اللہ تعالٰی اعلم |
الجواب صحیح بلا قیل وقال والمجیب مصیب بعون اللہ المتعال |
| فقیر احمد رضاخاں عفی عنہ بریلوی |
الفقیر محمد ضیاء الدین |
| الجواب صحیح والرائے نجیح |
صحیح الجواب والمجیب مصیب ومثاب |
الجواب صحیح |
| حررہ محمد عبدالمقتدر القادری البدایونی عفی عنہ خادم المدرسۃ القادریۃ |
محمد عبدالماجد عفی عنہ مہتمم مدرسہ شمسیہ بدایوں |
محمد شجاعت علی |
| صاب من اجاب |
اصاب من اجاب |
الجواب صحیح |
الحکم کذالک |
| نمقہ محمد علی رضا عفی عنہ رامپوری |
احقر العباد سیّد شہاب الدین جالندھری بقلم خود |
محمد شرافت اللّٰہ رامپوری |
محمد معزاللّٰہ خاں مدرّس مدرسہ عالیہ رامپور |
(۱)ولا یصلح ان ینکح مرتد أو مرتدۃ احد من الناس (قولہ مطلقًا) ای مسلمًا أو کافرًا أو مرتدًا۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۳۰۰)۔
(۲)وفی الدر المختار: وإرتداد أحدھما أی الزوجین فسخ فلا ینقص عددا عاجل بلا قضاء۔ وفی رد المحتار: ای بلا توقف علٰی قضاء القاضی۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۹۳، ۱۹۴، طبع ایچ ایم سعید)۔
319
| الجواب صحیح والقول قوی |
من اجاب اصاب |
الجواب صحیح |
| حررہ المسکین احقرالعباد فدوی علی بخش گنہ پنڈ |
محمد گلاب خان رامپوری |
خواجہ امام الدین صدیقی مدرسہ پشاوری عفی عنہ |
| الجواب صحیح والمجیب نجیح |
الجواب صحیح وصواب والمجیب مصیب ومثاب |
المجیب اصاب فیما اجاب |
| پیر حافظ سیّد ظہور شاہ قریشی الہاشمی جلال پوری عفی عنہ |
محمد یونس عفی عنہ |
الراجی الیٰ غفران الحق نورالحق عفی عنہ پشاوری صدوراً مانسہری مولداً |
| ھٰذا الجواب ھو الصواب وموافق کما فی الکتاب |
المجیب مصیب |
الجواب صحیح حقیق بالقبول |
| محمد عبدالحکیم صورتی پشاوری عفی عنہ سند یافتہ مدرسہ عالیہ ریاست رامپور |
حررہ الاثیم مفتی عبدالرحیم خلف الوحید المفتی عبدالحمید المرقوم غفرلہ القیوم الساکن فی بلدۃ پشاور |
محمد میر عالم پشاوری ہزاروی اول مدرّس عربی انجمن حمایت اسلام |
| الجواب صحیح ومثاب |
الجواب صحیح |
جواب درست |
| عبدالوہاب عفی عنہ پشاوری |
نورالحسن مہتمم مدرسہ جامع العلوم کانپور |
احمد علی مدرّس مدرسہ عربیہ میرٹھ اندرکوٹ |
| الجواب صحیح |
ذالک کذالک |
المجیب مصیب |
| محمد قمرالدین عفی عنہ رامپوری |
سردار احمد مجددی رامپوری |
احمد علی عفی عنہ لاہوری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب ھو المصیب |
| محمد نورالحسن عفی عنہ مدرّس مدرسہ جامع العلوم کانپور |
خان زمان عفی عنہ مدرّس سیوم جامع العلوم کانپور |
محمد یار لاہوری |
| المجیب ھو المصیب |
اصاب من اجاب |
ھٰذا الجواب مطابق للحق |
| ابوالحسن حقانی خلف الرشید مولانا واولانا مولوی ابومحمد عبدالحق دہلوی |
احقر دوست محمد جالندھری بقلم خود |
غلام محمد عفی عنہ مدح پوری نمبردار چک نمبر۱۲۵۵ ضلع لاہور |
| الجواب صحیح |
حصار ذالک کذالک |
| محمد عبدالسلام ٹوہانوی |
فقیر سیّد عبدالرسول عفی عنہ جالندھری |
اگر مذکورہ بالا مرزائی مرزا کو رسول مانتا ہو تو یقینا کافر ہے، اور کافر سے مسلمان عورت کا نکاح ناجائز ہے۔
راقم فیض الحسن نعمانیہ لاہور
320
بے شک مرزائی حکم مرتد میں ہیں، اور ان سے مسلمہ عورت کا نکاح ناجائز ہے، فقط!
رشیدالرحمن رامپوری حال وارد جالندھر
| اصاب المجیب العلام |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| بندہ اصغر حسین عفی عنہ |
محمد سہول عفی عنہ مدرّس دیوبند |
بشیر احمد عفی عنہ دیوبند |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
| خاکسار سردار احمد عفی عنہ دیوبند |
محمد ریحان حسین عفی عنہ |
احقر الزمن گل محمد خان مدرّس مدرسہ عالیہ دیوبند |
حبیب الرحمن منچن آباد |
بسملۃ وحمدلۃ وصلاۃ وسلامًا الأمر کذالک۔
خادم الشعراء والاطباء والعلماء
محمد ہادی رضا خان رئیس لکھنوی
خلف حکیم مولوی محمد حسین رضاخاں صاحب مرحوم
الجواب صحیح، علمائے کرام نے بے شک مرزا پر کفر کا فتویٰ دیا ہے، اور کافر ہونے کی حالت میں جو اُمور جواب میں تحریر فرمائے ہیں، صحیح اور دُرست ہیں، واللّٰہ اعلم!
احمد علی، مدرّس مدرسہ جامع العلوم کانپور
بے شک مرزائی سے سنیہ عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، اگر کوئی کردے تو بلاطلاق مرزائی زوج کے نکاح ثانی کے مسلمان سے کرسکتا ہے، کیونکہ پہلا نکاح، نکاح ہی نہ تھا۔
حکیم مولوی عبدالرزاق راہوں
بقلم محمد اسحاق راہوں
جو لوگ مرزا کے نبی ہونے کے قائل ہیں وہ بے شک نص صریح قرآنی اور حدیث رسالت پناہی کے منکر ہیں۔قال اللہ تعالٰی وتبارک فی القرآن المجید والفرقان الحمید المشتمل بالوصی والوعد والوعید:َمَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ط(الاحزاب:۴۰)، وقال صلی اللہ علیہ وسلم: لا نبی بعدی (رواہ الترمذی ج:۲ ص:۲۰۹)۔
محمد منور علی عفی عنہ رامپوری
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
چونکہ مرزائی فرقہ رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو خاتم النّبیین نہیں مانتا، بلکہ ان کا اِیمان ہے کہ مرزاقادیانی ہی آخرالزمان نبی ہے، اور ایسا ہی اس کو مسیحِ موعود اور کرشن وغیرہ مانتے ہیں، اور نیز جمہور کے خلاف انہوں نے قرآن مجید کے معنی کئے ہیں، اس واسطے یہ لوگ مسلمان نہیں تصور کئے جاتے، چونکہ وہ خود ہمیں کافر جانتے ہیں اس واسطے ایسے اشخاص سے مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے۔
نیازمند نبی بخش حکیم رسول نگری
321
الجواب:۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا کے عقائد کفر تک پہنچے ہوئے ہیں، پس اس کا پیرو جس کے عقائد مثل مرزا کے کفریہ ہیں، اور تاویل ممکن نہیں، مسلمہ سنیہ عورت کو اس سے نکاح نہ کرنا چاہئے، اور اگر کیا تو وہ نکاح نہیں ہوا، واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
کتبہ عزیزالرحمن عفی عنہ
مدرسہ عربیہ دیوبند
۲۲؍رجب المرجب ۱۳۳۰ھ
الجواب:۔۔۔ چونکہ حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، ان کے بعد جو مدعیٔ نبوّت ہوگا، کافر ہے، تقدیر صحت دعویٰ نبوّت مرزا کے ان کے ساتھ معاملہ کفار رکھنا چاہئے، لہٰذا نکاح عورت مسلمان کا، کافر اور مرزائی سے حرام ہوگا، فقط۔
راقم محمد عبدالعزیز عفی عنہ
مدرسہ نعمانیہ لاہور
الجواب صحیح وصواب، والمجیب مصیب ومثاب، وَیُؤَیِّدُہ ما حَقَّقَہُ الفاضل البریلوی فی رسالتہ المسماۃ بـ’’إزالۃ العار فی حجر الکریم عن کلاب النار‘‘ وکذا ما فی رد الرفضۃ ونزھۃ الأرواح فی احکام النکاح فی بحث الکفر وفی زاد المعاد فی ھدی خیر العباد للعلامۃ ابن القیم فی بحث الکفو لأن نکاح المسلمۃ بالکافر والکافرۃ بالمسلم لا ینعقد اصلًا والمسلمۃ بالمبتدع موقوفًا وللأولیاء حق الإعتراض فإن ترکھا فبھا وإلّا فالفسخ للقاضی أو الحکم کما فی بھجۃ المشتاق فی احکام الطَّلاق فی بحث الفسخ و اللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم، حررہ فقیر محمد یونس عفی عنہ قادری حنفی کشمیری مولدا پشاوری نزیلا بقلمہ۔
ترجمہ:۔۔۔ جواب صحیح اور دُرست ہے، جیسا کہ تائید کرتا ہے اس کی وہ جو تحقیق کیا ہے فاضل بریلوی نے رسالہ مسمّیٰ ازالۃ العار فی حجر الکریم عن کلاب النار میں اور جیسے کہ ردّالرفضۃ اور نزہۃالارواح میں ہے، نکاح کے حکموں میں بحث کفو میں، اور زادالمعاد فی ہدی خیرالعباد للعلامہ ابنِ قیم میں ہے، بحث کفو میں، کیونکہ نکاح مسلمان عورت کافر مرد کے ساتھ اور کافر عورت کا مسلمان مرد کے ساتھ ہرگز منعقد نہیں ہوتا، اور مسلمان عورت کا نکاح بدعتی مرد کے ساتھ موقوف ہوتا ہے، اگر وہ بدعت سے توبہ نہ کرے تو عورت کے ولیوں کو اِعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔ پس اگر وہ بدعتی خاوند ولیوں کے اِعتراض پر اس کو چھوڑ دے تو بہتر، ورنہ قاضی کے حکم سے ٹوٹ جائے گا، جیسا کہ بہجۃالمشتاق فی احکام الطّلاق بحث فسخ میں ہے، واللّٰہ اعلم۔
الجواب:۔۔۔ مرزا کے پیرو جو کہ اس کی نبوّت کے قائل ہیں، اور اس کے عقائد کے معتقد، وہ بے شک کافر ہیں، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، مسلمہ عورت کا نکاح مرزائی سے منعقد نہیں ہوتا، بعد علم اس امر کے کہ زوج مرزائی ہے، زوجہ کا والد اپنی دُختر کا نکاح بلاطلاق دوسری جگہ کرسکتا ہے چونکہ پہلا نکاح کوئی چیز نہ تھا، قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
’’وَلاَ تَنْکِحُوْا الْمُشْرِکٰتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَلاَ تُنْکِحُوْا
322
الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَلَوْ أَعْجَبَکُمْ اُوْلٰـئِکَ یَدْعُونَ اِلَی النَّارِ وَاللہُ یَدْعُوَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ وَیُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ ‘‘ (البقرۃ۲۲۱)
فتح القدیر میں ہے:
’’ویدخل فی عبدۃ الأوثان عبدۃ الشمس والنجوم، وفی شرح الوجیز وکل مذھب یکفر بہ مُعْتَقِدُہ لأنَّ إسم المشرک یتناولھم جمیعًا۔‘‘ (فتح القدیر ج:۳ ص:۱۳۷)
مرزائی بقول صریح حکم فقہ مرتد ہیں، اور مرتد کا نکاح باطل ہوتا ہے، بعد گزرنے عدت کے وہ عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے، کما ھو مصرّح فی کتب الفقہ رقیمہ۔
العبد الاثیم محمد ابراہیم الحنفی القادری عفی عنہ
المدرّس بالمدرسۃ الشمسیۃ بجامع بلدۃ بدایوں
جو کچھ کہ حضرت قبلہ محدثِ ارشد، فقیہِ اَوحد، صاحبِ تصانیفِ کثیرہ جناب مولوی وصی احمد صاحب قبلہ مشہور محدث سورتی دام فیضہ القوی وعم ومدظلہٗ الیٰ یوم الابدی نے تحریر فرمایا ہے، وہ بالکل صحیح ہے، اور حضرت مجیب مدظلہٗ اپنے جواب میں نجیح ہیں، فقط۔
حررہ عبدالاحد، مدرّس مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت
الجواب وھو ملہم الصدق والصواب! بے شک بلاتردّد کرسکتا ہے کہ مرزائی سے نکاح باطل محض زنائے خالص ہے کہ وہ مرتد ہے، اور مرتد کا نکاح کسی قسم کی عورت کے ساتھ نہیں ہوسکتا، طلاق کی حاجت نکاح میں ہوتی ہے، نہ کہ زنا میں، فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’ولا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ‘‘ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۲)، واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم واحکم، فقط۔
حررہ الفقیر القادری وصی احمد حنفی
فی مدرسۃالحدیث الدایرۃ فی پیلی بھیت
ای عزیز باتمیز آگاہ اور ہوشیار ہو، جو شخص جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کے ساتھ دعویٰ ہمسری کا کرے، وہ بے شک مرتد اور کافر ہے، اس کے ساتھ کھانا اور پینا، اور سلام علیک کرنا، ناجائز اور ممنوع ہے، خیال کرنے کی جا ہے طریقۃ المسلمین میں ہے: ’’فجعلہ عبدًا کاملًا بحیث لا شریک لہ فی العبودیۃ وکما انہ لا شریک للربّ فی الربوبیۃ وخواصھا‘‘ خلاصہ کلام اور مطلب مراد یہ ہے جس طرح اللّٰہ تعالیٰ جل شانہ‘ کا شریک اُلوہیت اور رُبوبیت میں نہیں ہے، اسی طرح جناب محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نظیر اور سہیم عبودت میں نہیں ہے، جیسا کہ شاعر نے کیا خوش لہجہ میں کہا ہے:
محمد (ﷺ) سا اگر کوئی بشر ہو تو میں جانوں
جہاں میں گر نظیر ان کا اگر ہو تو میں جانوں
خاکپائے اہل اللّٰہ فقیر میرمحمد امیر اللّٰہ عفی عنہ
مولا قریشی الہاشمی جلال پورجٹاں بقلم خود
323
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین ایسے شخص کے حق میں ایک مسجد کا اِمام ہو اور مدعی علم ہو، ایک مرزائی مرگیا، پہلے اس کا جنازہ مرزائیوں نے کیا، اور دوبارہ اِمام مذکور جو اہلِ سنت والجماعت ہے، اس نے جنازہ کیا۔ تکفیرِمرزا اور اس کے پیروان کا وہ عالم ہے کہ کل علمائے عرب وعجم تکفیرِمرزا پر مواہیر ثبت کرچکے ہیں، اِمام مصلیٔ جنازہ اس فتویٰ کو دیکھ چکا ہے، دیدہ ودانستہ جو ایسا کام کرے، اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا!
الجواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی علانیہ نزولِ وحی، نبوّت اور رِسالت کے مدعی ہیں اور ان کے مرید اور مقلد ان کے ان سب دعاوی کو تسلیم کرتے ہیں، اس لحاظ سے ان کا اور ان کے مریدوں کا خارج ازدائرۂ اسلام ہونا مسلّم الثبوت مسئلہ ہے۔ اِمام ابوالفضل قاضی عیاضؒ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (ﷺ) (ج:۲ ص:۲۴۶، ۲۴۷، باب مقالات کفر) میں فرماتے ہیں:
’’وکذالک من ادعی نبوۃ احد مع نبینا علیہ الصلٰوۃ والسلام کأصحاب مسیلمۃ والأسود العنسی وبعدہ کالعیسویۃ من الیھود القائلین بتخصیص رسالتہ إلی العرب، وکالخرمیۃ القائلین بتواتر الرسل، وکأکثر الرافضۃ القائلین بمشارکۃ علیّ فی الرسالۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وبعدہ، فکذالک کل إمام عند ھٰؤُلاء یقوم مقامہ فی النبوۃ والحجۃ، وکالبزیغیۃ والبیانیۃ منھم القائلین بنبوۃ بزیغ وبیان وأشباہ ھٰؤُلاء او من ادعی النبوۃ لنفسہ او جوز إکستابھا والبلوغ بصفاء القلب إلٰی مرتبتھا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذالک من ادعی منھم انہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ، أو إنہ یصعد إلی السماء ویدخل الجنۃ ویأکل من ثمرتھا ویعانق الحور العین فھٰؤُلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ اخبر صلی اللہ علیہ وسلم انہ خاتم النبیین لا نبی بعدہ واخبر عن اللہ تعالٰی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس، وأجمعت الاُمّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ وان مفھومہ المراد بہ دون تأویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤُلاء الطوائف کلھا قطعًا اجماعًا وسمعًا۔‘‘
(ج:۲ ص:۵۱۹)
ترجمہ:۔۔۔ اور ایسا ہی جو شخص کہ دعویٰ کرے کسی ایک کی نبوّت کا ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ یعنی ان کی موجودگی میں جیسا کہ مسیلمہ کذّاب کے پیرو اور اَسود عنسی کے تھے، اور ایسے ہی جو دعویٰ کرے پیچھے ان کے مانند عیسویہ کے یہودیوں سے، جو کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کو عرب کے ساتھ خاص کرتے ہیں، اور مانند خرمیہ کے جو تواترِ رُسل کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول ہمیشہ آتے رہیں گے، اور مانند رافضیوں کے جو کہتے ہیں کہ علی کرّم اللّٰہ وجہہ، محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوّت میں شریک
324
تھے اور ان کے پیچھے بھی نبی تھے، اور ایسے ہی ان کا ہر اِمام ان کے نزدیک نبوّت اور حجت میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہے، اور مانند بزیغیہ اور بیانیہ کے جو ان سے بزیغ اور بیان کی نبوّت کے قائل ہیں، یا وہ شخص جو اپنی ذات کے واسطے نبوّت کا دعویٰ کرے یا نبوّت کے حاصل کرنے اور صفائی قلب کے ساتھ نبوّت کے مرتبے پر پہنچنے کو جائز کہتا ہو، مانند فلسفیوں اور گمراہ صوفیوں کے، اور ایسا ہی وہ شخص جو دعویٰ کرے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اگرچہ نبوّت کا دعویٰ نہ کرے، اور دعویٰ کرے کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے اور جنت کے میوے کھاتا ہے اور حوروں سے بغل گیر ہوتا ہے، پس یہ سب کافر ہیں، نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جھٹلانے والے، اس لئے کہ انہوں نے خبر دی ہے کہ وہ نبیوں کے سلسلے کے ختم کرنے والے ہیں، ان کے پیچھے کوئی نبی نہیں ہوگا، اور خبر دِی انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کہ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور تحقیق وہ تمام خلقت کی طرف بھیجے گئے ہیں، اور اِجماع کیا اُمت نے اس بات پر کہ اس کلام کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں بغیر کسی تاویل اور تخصیص کے، پس ان ایسے مدعیوں کے کفر میں قطعاً اور اِجماع اور سمع کے طور پر کوئی شک نہیں ہے۔ ان حالات میں مرزا غلام احمد کے مریدوں کو پیش اِمام بنانا، ان کے جنازے کی نماز پڑھنا ہرگز دُرست نہیں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ اَبَداً وَّلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ اِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَ‘‘ (التوبۃ۸۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور نہ نماز پڑھ کسی ایک پر ان میں سے جو مرے کبھی بھی، اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہوکے دُعا کر، تحقیق انہوں نے کفر کیا اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور وہ کفر کی حالت میں مرگئے۔‘‘
پس جس شخص نے دیدہ ودانستہ مرزائی کے جنازے کی نماز پڑھی ہے، اس شخص کو علانیہ توبہ کرنی چاہئے، اور مناسب ہے کہ وہ اپنے تجدیدِ نکاح کرے، اور حسبِ طاقت آدمیوں کو کھانا کھلائے، اور اگر وہ شخص علانیہ توبہ نہ کرے تو اہلِ سنت والجماعت کو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے، ایسے منافق کے پیچھے نماز دُرست نہیں ہوتی، ھٰذا واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ عبدالمذنب محمد عبداللّٰہ ٹونکی لاہور عفی عنہ
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو نصوصِ قطعیہ کے منکر ہیں، پس جو شخص نص قطعی کا انکار کرے وہ کافر ہے، کافر کے واسطے بخشش مانگنا گناہ ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَن یَغْفِرَ اللہُ لَہُمْ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاللہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘‘ (التوبہ۸۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’(اے پیغمبر) تم ان کے حق میں مغفرت کی دُعا کرو، یا ان کے حق میں مغفرت کی دُعا نہ کرو (ان کے لئے یکساں ہے)، اگر تم ستر دفعہ بھی مغفرت کی دُعا کروگے تو خدا ہرگز ان کی مغفرت نہیں کرے گا، یہ ان کے اس فعل کی سزا ہے کہ انہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللّٰہ (ایسے)
325
سرکش لوگوں کو (توفیق) ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘
حررہ فقیر حافظ سیّد پیر ظہور شاہ قادری جلال پوری
سوال:۔۔۔ مرزائی کا جنازہ پڑھنا کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ کفر ہے، کافر کو مثل مسلمان کہنا جیسا کہ مسلمان کو کافر کہنا، جنازے کی دُعا میں یہ لفظ آتے ہیں:
’’اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّا فَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۱۴۶، باب المشی بالجنازۃ)
یعنی ہم میں سے جس کو زِندہ رکھنا ہے اس کو اسلام پر زِندہ رکھ، اور جس کو مارنا ہے اس کو اِیمان پر مار۔ اس نے میّت کو اپنے زُمرۂ اسلام میں شامل کیا، اور آپ میّت کے ساتھ شامل ہوا، یہ اقرار عدم اِمتیاز کا ہے درمیان کافر اور مسلمان کے، اور جو کافر اور مسلمان کو برابر سمجھے وہ بے ایمان ہے۔ حدیث کا فتویٰ ہے کہ جو کسی قوم سے مل کر کھائے اور مل بیٹھے اور اس کا دِل ویسا ہی ہوجاتا ہے اور وہ ملعون ہوجاتا ہے:
’’عن عبد اللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لمَّا وقعت بنو إسرائیل فی المعاصی فنھتھم علمائھم فلم ینتھوا، فجالسوا فی مجالسھم وآکلوھم وشاربوھم فضرب اللہ قلوب بعضھم ببعض ولعنھم علٰی لسان داوٗد وعیسَی ابن مریم۔‘‘
(مسند احمد، ج:۶ ص:۲۵۰،۲۵۱، حدیث نمبر:۳۷۱۳، طبع بیروت)
یعنی جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، باز نہ آئے، وہی علماء ان کے ساتھ مل بیٹھے اور مل کے کھایاپیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے سب کے دل یکساں سیاہ کردئیے اور داؤد اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہماالسلام کی زبان پر ان کو ملعون بنایا۔
فقیر غلام قادر بھیروی، از لاہور
| قد صح جواب المجیب المصیب |
الجواب صحیح |
ھٰذا الجواب صحیح والمجیب مصیب |
| احقر محمد باقر عفی عنہ نقشبندی مجددی لاہوری |
بندہ عبدالسلام عفی عنہ ٹوہاٹوی مولد دیوبندی |
محمد یار عفی عنہ لاہور امام مسجد سنہری |
| الجواب صحیح والمجیب نجیح |
المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
| محمد حسن عفی عنہ، اوّل مدرّس مدرسہ حمیدیہ لاہور |
محمد عمر خان عفی اللّٰہ عنہ لاہور |
محمد عالم دوم مدرّس مدرسہ حمیدیہ |
| ذالک کذالک |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد حسین عفی عنہ لاہوری |
غلام رسول مدرّس مدرسہ حمیدیہ لاہور |
ابوسعید محمد حسین بٹالوی |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب مصیب |
| محمد یونس عفی عنہ کشمیری مولداً فشاوری |
حررہ الراجی بارگاہ حق نورالحق، مانسہرہ |
محمد سخاوت اللّٰہ، مدرّس مدرسہ عین العلوم |
326
| الجواب صحیح بالقول |
ھٰذا الجواب صحیح والحق الصریح |
الجواب صحیح |
| محمد میر عالم عفی عنہ ہزاروی حال انجمن حمایت اسلام پشاور |
عبدالحکیم صواتی مولد پشاوری سندیافتہ مدرسہ عالیہ رامپور ریاست |
نورالحسن عفی عنہ نائب مہتمم مدرسہ جامع العلوم کانپور |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
ھٰذا الجواب مطابق للحق |
| محمد نورالحسن مدرّس مدرسہ جامع العلوم کانپور |
خان زمان، مدرّس سوم مدرسہ جامع العلوم کانپور |
غلام محمد مدح پوری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
صحیح الجواب |
| ابوالحسن حقانی ابن مولوی ابومحمد عبدالحق دہلوی |
بندہ سلطان حسن غفرلہٗ، مدرّس مدرسہ عین العلوم شاہجہاںپور |
عاجز عبدی سر عفی عنہ |
الجواب صحیح وصواب والمجیب مصیب ومثاب لیس المثاب إلّا ھٰذا الجواب و اللہ اعلم بالصواب۔
عبدالوہاب پشاوری
الجواب:۔۔۔ اِمام کو مناسب نہ تھا کہ اس کی نماز پڑھتا، اگر اِمام توبہ نہ کرے تو اس کو عہدۂ اِمامت سے معزل کرنا چاہئے۔
ابومحمد عبدالحق دہلوی
قادیانی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
ابومحمود محمد رمضان عفی عنہ لدھیانوی
ھو الموفق! صحت نمازِ جنازہ کی شرائط میں سے ایک شرط اِسلامِ میّت بھی ہے،(۱) کما صرح بہ الفقھاء الکرام، اگر کوئی شخص قطعاً اسلام سے خارج ہوجائے وہ جس گروہ کا ہو دیدہ ودانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھنا ناجائز اور ایسی ناجائز نماز پڑھنے والا گناہگار ہوگا ورنہ نہ، واللّٰہ اعلم بالصواب وعندہ اُمّ الکتاب۔
حررہ محمد عبدالحمید
الجواب مصاب، اِمامِ مذکور اگر معتقد کفر غلام احمد قادیانی کا نہیں تو بلاسبب ادا کرے صلوٰۃ جنازہ پیروان اس کے کافر ہوگیا، اس لئے کہ غلام احمد مذکور قطعاً کافر ہے، اس نے کلام اللّٰہ کو محرف کردیا ہے اور تحریف کتاب اللّٰہ کا کفر ہے، اور ایضاً اللّٰہ جل شانہ قرآن میں فرماتا ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ اَبَداً وَّلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ اِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَ‘‘ (التوبۃ۸۴)
العبد الاثیم مفتی عبدالرحیم خلف الوحید مفتی عبدالحمید پشاوری
صورت مذکورہ میں اِمامِ مذکور سخت مداہنت اور جرمِ عظیم کا مرتکب ہے اور اس لئے فاسق ہے توبہ کرنا لازم ہے، اگر توبہ نہ
(۱)الصلاۃ علی الجنازۃ فرض کفایۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وشرطھا إسلام المیّت۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶۲، الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱)۔
327
کرے تو زجراً مسلمان اس سے اسلامی تعلقات ترک کردیں۔
محمد کفایت اللّٰہ عفی عنہ مولاہ، مدرّس امینیہ دہلی
الجواب:۔۔۔ چونکہ نمازِ جنازہ میں دُعائے مغفرت للمیت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ہے کہ دُعائے مغفرت للکافر ہے، علمائے کرام فتویٰ کفر مرزا اور اس کے متبعین پر دے چکے ہیں، بنابریں مصلی صلوٰۃ جنازہ للمرزائی بغیر توبہ جدید مسلمان نہ ہوگا۔
عبدالرؤف، مدرّس مدرسہ اسلامیہ عین العلم شاہجہاںپوری عفی عنہ
الجواب:۔۔۔ جبکہ اس اِمام نے بعد علم اس بات کے کہ وہ میّت ہم عقیدہ وہم مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے، اس میّت کے عقائد حد کفر قطعی تک پہنچے ہوئے تھے، اور میّت کا تائب ہونا اس کو نہ معلوم ہوا ہو، اس کی نمازِ جنازہ پڑھادی تو اس کے متعلق دُعائے مغفرت کافر کا حکم عائد ہوگا۔ بعض علماء نے دُعائے مغفرت کافر پر حکم کفر دیا ہے، اور بعض نے احتیاط کی ہے، بہرحال یہ فعل اِجماعاً حرام ہے، اگر اس کو حلال سمجھے گا تو سب کے نزدیک حکم کفر عائد ہوگا۔ درمختار میں ہے: ’’والحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر۔‘‘ ردّ المحتار میں ہے: ’’رد علی الإمام الوافی ومن تبعہ حیث قال ان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفرٌ إلخ‘‘ (درمختار ج:۲ ص:۳۱۳، ۳۱۴) ۔ علماء محققین فرماتے ہیں کہ جس مسئلہ میں علماء آپس میں کفر اور عدمِ کفر میں مختلف ہوں تو اِحتیاط عدمِ تکفیر میں ہے، ہاں ایسے شخص کو توبہ اور تجدیدِ ایمان ونکاح کا حکم دیا گیا ہے۔(۱) اور وہ جب تک توبہ نہ کرے مسلمانوں کو اس سے اِجتناب اور اس کی اِقتدا سے پرہیز کرنا چاہئے۔
فقیر حافظ محمدبخش عفی عنہ قادری، مدرّس مدرسہ محمدیہ بدایوں
(۱)ما یکون کفرًا ۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ إختلاف یؤْمر بالإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد، کتاب الجھاد، طبع سعید)۔
328
القول الصحیح
فی
مکائد المسیح
حضرت مولانا محمد سہولؒ دیوبند
329
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مرزا غلام احمد ساکن قادیان ضلع گورداسپور جو اپنے کو عیسیٰ موعود اور مہدی آخرالزمان کہتا تھا، اور جملہ احادیث بابت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور ظہورِ مہدیؓ اور قتلِ دجال وغیرہا کی تحریف وتأویل وانکار کرتا تھا، اس کے متعلق اُمور مذکورہ ذیل دریافت طلب ہیں۔ موافق مذہب سنی حنفی جواب سے مطلع فرمایا جائے۔
۱:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی مذکورہ اور اس کے معتقدین اہلِ سنت والجماعت میں داخل ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو کافر ہیں یا مسلمان؟
۲:۔۔۔ ان لوگوں کے ساتھ اسلامی معاملہ دُرست ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
۴:۔۔۔ ان لوگوں کو نماز پڑھنے اور دیگر اَحکام مذہبی ادا کرنے کے لئے اہلِ سنت والجماعت اپنی مسجدوں میں آنے دیں یا نہیں؟
۵:۔۔۔ ان لوگوں کو قادیانی کہنا دُرست ہے یا نہیں؟
الجواب:۔۔۔
۱:۔۔۔ مرزا غلام احمد ساکن پنجاب ضلع گورداسپور قصبہ قادیان اور اس کے جملہ معتقدین زمرۂ اہلِ سنت والجماعت اور اِحاطۂ اِسلام سے یقینا خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد کے اقوال وعقائد ایسے ہیں کہ ان سے واقف ہوکر کوئی مسلمان ان لوگوں کے اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہونے میں تردّد نہ کرے۔ چند اقوال مرزاقادیانی مذکور کی تصانیف سے نقل کرتا ہوں۔
’’فأخرجنی اللہ من حجرتی وعرفنی فی الناس وأنا کارہ من شھرتی وجعلنی خلیفۃ آخر الزمان وإمام ھٰذا الأوان وکلمنی بکلمات نذکر شیئًا منھا فی ھٰذا المقام ونؤْمن بھا کما نؤْمن بکتب اللہ خالق الأنام وھی ھٰذہ۔‘‘ (الإستفتاء ص:۷۹، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۵)
اس عبارت کے تحت مرزاقادیانی بزعمِ خود اپنے خدا کے کلام کو نقل کرتا ہے۔ اس میں سے چند عبارات درج ذیل ہیں:
۱:-’’انما امرک إذا اردت شیئًا أن تقول لہ کن فیکون۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۶، خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۴)
330
۲:-’’إنّا نبشرّک بغلام مظھر الحق والعلی کأن اللہ نزل من السماء۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۲)
۳:-’’انت مِنّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی ۔۔۔۔۔۔۔ انت مِنّی بمنزلۃ ولدی۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۹)
۴:-’’قل إنما انا بشر مثلکم یوحی إلیّ انما إلٰھکم إلٰہ واحد۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۸)
۵:-’’وما ارسلناک إلّا رحمۃً للعالمین۔‘‘ (الإستفتاء ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۸)
۶:-’’قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکمﷲ‘‘
(الإستفتاء ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۸)
۷:-’’لا تَخف إنّی لا یخاف لدی المرسلون۔‘‘(الإستفتاء ص:۸۳ خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۰(
۸:-’’إنّا فتحنا لک فتحًا مبینًا لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخّر۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۱)
۹:-’’لو لاک لما خلقت الأفلاک۔‘‘ (الإستفتاء ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۲)
۱۰:-’’أراد اللہ ان یبعثک مقامًا محمودًا۔‘‘(الإستفتاء ص:۸۶ خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۳)
۱۱:-’’إنک لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم۔‘‘
(الإستفتاء ص:۸۷، خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’۱:-بس تیرا فرمان جب تو اِرادہ کرے کسی چیز کا یہی ہے کہ اس کو فرماوے ہوجا، پس وہ ہوجاتی ہے۔
۲:- ہم تجھ کو بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی جو حق اور علا کا مظہر ہوگا، اور ایسا ہوگا گویا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے اُتر آیا۔
۳:- تو میرے لئے بمنزلہ توحید وتفرید کے ہے۔ تو بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔
۴:- کہہ دے میں بھی تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری جانب وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود یکتا ہے۔
۵:- اور ہم نے تجھ کو دُنیا جہان کے لوگوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
۶:-کہہ دے اگر تم محبت رکھتے ہو اللّٰہ سے، تو میری راہ چلو کہ اللّٰہ تم سے محبت کرے۔
۷:- ڈر مت، ڈرا نہیں کرتے میرے حضور میں پیغمبر۔
331
۸:- بے شک ہم نے تجھ کو فتح دی کھلم کھلی فتح تاکہ اللّٰہ تجھ کو معاف کردے جو آگے ہوچکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔
۹:- اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو نہ پیدا کرتا۔
۱۰:- اللّٰہ نے ارادہ کیا ہے کہ تجھ کو کھڑا کرے گا مقامِ محمود میں۔
۱۱:- بے شک تو پیغمبروں میں ہے سیدھے راستے پر۔‘‘
(مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ ہفوات ہیں جن کو وہ اپنی زندگی بھر اِلہامات اور وحی سے تعبیر کرتا رہا، اور دجالی فتنہ سے بے خبر لوگ اس پر اِیمان لاتے رہے۔)
دافع البلاء میں ہے کہ:
’’خداتعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دُنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا، کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۰)
’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)
’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دُوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘ (دافع البلاء ص:۱۳، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۳)
’’ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۲۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)
’’اینک منم کہ حسب بشارات آمدم ، عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بمنبرم۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۵۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۸۰)
’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۴، خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
332
ریویو، جلد اوّل، نمبر۶، صفحہ:۲۵۷ میں مذکور ہے کہ: ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ پھر ریویو صفحہ:۴۷۸ میں لکھا ہے کہ: ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابنِ مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۴۸، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے، وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی اَمر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳)
’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی، وھٰذا تحدیث نعمۃ اللہ ولا فخر!‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو؟‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
’’صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں اُمتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فیضِ نبوّت کی وجہ سے نبی ہوں، اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خداتعالیٰ سے بکثرت شرفِ مکالمہ ومخاطبہ پاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس اُمت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے، لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت اُمورِ غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۰، خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶)
چند سطروں کے بعد لکھتا ہے کہ:
’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر اُمورِ غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی
333
گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصۂ کثیر وحی الٰہی اور اُمورِ غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فردِ مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور اَبدال اور اَقطاب (آج تک جس قدر اولیاء، ابدال اور اَقطاب جس میں حضرت غوثِ اعظمؒ وغیرہ تمام اکابر بلکہ صحابہ بھی داخل ہیں ۔۔۔اعزازعلی) اس اُمت میں سے گزرچکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دُوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرتِ اُمورِ غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶)
’’میں صرف یہی جواب نہیں دُوں گا کہ میں معجزہ دِکھلاسکتا ہوں، بلکہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دِکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دِکھائے ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶، خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۴)
’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۱۱، خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰)
’’اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے محدث ہوکر آیا ہے، اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے، گو اس کے لئے نبوّت تامہ نہیں، مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے، کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے، اُمورِ غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزّہ کیا جاتا ہے، اور مغزِ شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مامور ہوکر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں باآوازِ بلند ظاہر کرے، اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوّت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اُمور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔‘‘
(توضیح المرام ص:۱۸، خزائن ج:۳ ص:۶۰)
حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کی بابت مرزاقادیانی حسبِ ذیل اپنا خیال ظاہر کرتا ہے کہ:
’’کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اِطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو، کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ۲۲برس کی مدت
334
تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام بقیہ حاشیہ ص:۳۰۳، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
’’کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دِکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دِکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں، کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنالیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۳۰۴ حاشیہ، خزائن ج:۳ ص:۲۵۵)
’’ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزمی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانۂ حال میں مسمریزم کہتے ہیں، ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی رُوح کی گرمی دُوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زِندہ سے موافق کردِکھاتے ہیں۔ انسان کی رُوح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہیں ڈال سکتی ہے، تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زِندوں سے صادر ہوا کرتی ہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۳۰۵ حاشیہ، خزائن ج:۳ ص:۲۵۵،۲۵۶)
’’اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکمِ الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے، کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دِکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا، مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زِندہ نہ ہوسکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطورِ خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے اُمید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابنِ مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۳۰۹، خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)
’’واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُرا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دِماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے۔ وہ اپنی ان رُوحانی تاثیروں میں جو رُوح پر اَثر ڈال کر رُوحانی بیماریوں کو دُور کرتی ہیں، بہت ضعیف اور نکمّا ہوجاتا
335
ہے، اور امر تنویر باطن اور تزکیۂ نفوس کا جو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دِینی اِستقامتوں کے کامل طور پر دِلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۳۱۰، خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
مرزاقادیانی احادیثِ نبویہ کے متعلق اپنا خیال یوں ظاہر کرتا ہے کہ:
’’ہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں، اور دُوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۳۰، خزائن ج:۱۹ ص:۱۴۰)
مرزاقادیانی اپنے کو ہی حَکم کہتا ہے جو حدیث بخاری شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بابت ’’حَکمًا عدلًا‘‘ وارِد ہے، اور حَکَم کی بابت مرزاقادیانی یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ:
’’ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حَکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے اس کے ذرہ معنی تو کریں، ہم تو اَب تک یہی سمجھتے تھے کہ حَکم اس کو کہتے ہیں کہ اِختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۲۹، خزائن ج:۱۹ ص:۱۳۹)
’’خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں، تحریفِ معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں اور یا سرے سے موضوع ہیں، اور جو شخص حَکم ہوکر آیا ہے، اس کا اِختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رَدّ کرے۔‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، حاشیہ ص:۱۰، خزائن ج:۱۷ ص:۵۱)
نیز اَحادیث کے متعلق مرزاقادیانی کے حسبِ ذیل اقوال ہیں:
’’۱- ھل النقل شیء بعد ایحاء ربنا؟
۲- فأیُّ حدیث بعدہ نتخیّر؟
۳- وقد مزّق الأخبار کل ممزّق
۴- فکل بما ھو عندہ یستبشر
۵- اخذنا من الحی الذی لیس مثلہ
۶- وانتم عن الموتی رویتم ففکروا
336
۷- رأینا وانتم تذکرون رواتکم
۸- وھل من نقول عند عین تبصر؟‘‘
’’۱- اور خدا کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے؟
۲- پس ہم خداتعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔
۳- اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔
۴- اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔
۵- ہم نے اس سے لیا کہ وہ حی وقیوم اور واحد لاشریک ہے۔
۶- اور تم لوگ مُردوں سے روایت کرتے ہو۔
۷- ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذِکر کرتے ہو۔
۸- اور کیا قصے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں؟‘‘
(اعجاز احمدی ص:۵۶،۵۷، خزائن ج:۱۹ ص:۱۶۸، ۱۶۹، ۱۸۱)
تنبیہ:۔۔۔ یہ ترجمہ مرزاقادیانی علیہ ماعلیہ کا خود کیا ہوا ہے! (محمداِعزازعلی)
صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کی بابت لکھا ہے کہ:
’’۱- وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ
۲- اقول نعم و اللہ ربی سیظھر‘‘
’’۱- اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے اِمام حسنؓ اور حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔
۲- میں کہتا ہوں کہ ہاں! اور میرا خدا عنقریب ظاہر کردے گا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۵۳، خزائن ج:۱۹ ص:۱۶۴)
’’۱- وشتان ما بینی وبین حسینکم
۲- فانی اؤَیّد کل آن وانصر
۳- وأما حسین فاذکروا دشت کربلا
۴- إلٰی ھٰذہ الأیام تبکون فانظروا‘‘
’’۱- اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔
۲- کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔
۳- مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔
337
۴- اب تک تم روتے ہو، پس سوچ لو!‘‘
(اعجاز احمدی ص:۶۹، خزائن ج:۱۹ ص:۱۸۱)
’’۱- وو اللہ لیست فیہ منی زیادۃ
۲- وعندی شھادات من اللہ فانظروا
۳- وانی قتیل الحِبّ لٰکن حسینکم
۴- قتیل العدا فالفرق اجلی واظھر‘‘
’’۱- اور بخدا اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔
۲- اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں، پس تم دیکھ لو۔
۳- اور میں خدا کا کشتہ ہوں، لیکن تمہارا حسین۔
۴- دُشمنوں کا کشتہ ہے، پس فرق کھلاکھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۸۱، خزائن ج:۱۹ ص:۱۹۳)
’’جیسا کہ ابوہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۸، خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں، جن کو ہر مسلمان جانتا ہے۔ مرزاقادیانی کے الفاظ ان کی نسبت قابلِ غور ہیں۔ غالباً اب تو مرزاقادیانی کو بھی معلوم ہوگیا ہوگا۔ (محمداِعزازعلی)
’’حق بات یہ ہے کہ ابنِ مسعود ایک معمولی انسان تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ دوم ص:۵۹۶، خزائن ج:۳ ص:۴۲۲)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معراج شریف کے متعلق مرزاقادیانی حسبِ ذیل اپنا اِعتقاد ظاہر کرتا ہے کہ:
’’سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا، جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔‘‘
چند سطروں کے بعد کہتا ہے کہ:
’’اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحبِ تجربہ ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۴۷، حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)
(آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معراج، مرزاقادیانی کی معراج کے برابر ہے؟)
مرزاقادیانی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بابت حسبِ ذیل گستاخانہ کلمہ لکھتا ہے کہ:
338
’’اگر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِبنِ مریم اور دجال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے سترباع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو، اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحیٔ اِلٰہی نے اطلاع دی ہو، اور نہ دابۃالارض کی ماہیت کماھی، ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور اُمور متشاکلہ کے طرزِ بیان میں جہاں تک غیب محض کی تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ دوم ص:۶۹۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
مرزاقادیانی اپنے نہ ماننے والوں کی بابت حسبِ ذیل حکم دیتا ہے:
’’ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیحِ موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں، پس جس شخص پر میرے مسیحِ موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اِتمامِ حجت ہوچکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اِطلاع پاچکا ہے، وہ قابلِ مؤاخذہ ہوگا، کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا دادخواہ میں نہیں ہوں، بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا۔ یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں، بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیش گوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِیمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ جس شخص کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہوچکا ہے خداتعالیٰ کے نزدیک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رِسالت کے بارہ میں اس پر اِتمامِ حجت ہوچکا ہے، وہ اگر کفر پر مرگیا تو ہمیشہ کی جہنم کا سزاوار ہوگا ........کفر دو قسم پر ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیحِ موعود کو نہیں مانتا۔‘‘
چند سطروں کے بعد لکھتا ہے کہ:
’’اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۷۸، ۱۷۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۴،۱۸۵)
’’اور جس پر خدا کے نزدیک اِتمامِ حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے جس کی بنا ظاہر پر ہے، اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباعِ شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں، مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت: ’’لا یکلّف اللہ نفسًا إلّا وسعھا‘‘ قابلِ مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں، اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے، ہمیں
339
اس میں دخل نہیں۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۸۰، خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۶)
مرزاقادیانی اپنے ایک مرید کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے، سوال مع جواب نقل کرتا ہوں:
’’سوال: حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مؤمنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافر بن جائیں، صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ اور اَب آپ لکھتے ہیں کہ میرے اِنکار سے کافر ہوجاتا ہے۔
الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دوقسم کے انسان ٹھہراتے ہیں، حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۶۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
’’پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی اِمام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ: ’’إمامکم منکم‘‘ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دُوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا، اور تمہارا اِمام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا اِلزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہوجائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دِل سے قبول کرتا ہے، وہ دِل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہریک حال میں مجھے حَکم ٹھہراتا ہے اور ہریک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے، مگر جو شخص مجھے دِل سے قبول نہیں کرتا، اس میں تم نخوت اور خودپسندی اور خوداِختیاری پاؤگے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں، عزّت سے نہیں دیکھتا، اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص:۲۸، حاشیہ خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
’’سب سے پہلے میں وہ عبارت درج کرتا ہوں جو حضرت صاحب نے اِلہام کی بنا پر لکھی ہے اور جس کا کوئی قادیانی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ اس خط میں درج ہے جو آپ نے عبدالحکیم کے جواب میں لکھا ہے۔ وھو ھٰذا۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزارہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں، کیا راست بازوں سے خالی ہیں؟ تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال کرلینا چاہئے کہ وہ ہزارہا یہود ونصاریٰ جو اِسلام نہیں لائے وہ راست بازوں سے خالی نہیں۔ بہرحال جبکہ خدا نے مجھے ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے، اور اس نے مجھے قبول
340
نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے، اور خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے۔‘‘
چند سطروں کے بعد عبارتِ مذکورہ بالا کی شرح مرزا محمود یوں کرتا ہے کہ:
’’اب اس عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں۔ اوّل تو یہ ہے کہ حضرت صاحب کو اس بات کا اِلہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں۔ دُوسرے یہ کہ اس اِلزام کے نیچے وہی لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر میں جدوجہد کی ہے، بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں۔ اور تیسرے یہ کہ وہ خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے اور سزا کے مستحق ہے۔ رسالہ تشحیذالاذہان نمبر۴، ج:۶ ص:۱۳۵ بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء میں یہ عبارت موجود ہے۔ میں ایک اور حوالہ درج کرتا ہوں جس میں آپ نے اس شخص کو بھی، جو آپ کو سچا جانتا ہے، مگر مزید اِطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے، کافر ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ آپ ضمیمہ براہین احمدیہ میں صفحہ:۱۸۷ میں اس سوال کے جواب میں کہ چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تاثیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی ہے اور وہ تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہونا گویا دریا میں ایک قطرہ ہے۔ پس اگر تاثیر بیّن کے ظہور تک کوئی بغیر اِنکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور تاخیر کرے تو یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ فرماتے ہیں کہ توقف اور تاخیر بھی ایک قسم اِنکار کی ہے۔ اب ہر ایک دانا اور عقل مند اِنسان دیکھ سکتا ہے کہ سائل نے اپنے سوال میں کس قدر شرائط لگائی ہیں کہ ایک شخص آپ کو جھوٹا بھی نہیں مانتا اور آپ کا اِنکار بھی نہیں کرتا، اور محض اِطمینان کے لئے بیعت میں توقف کرتا ہے تو اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے؟ جس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ اس کا بھی وہی حال ہے جو منکر کا حال ہے اور منکر کا حال اُوپر کے فتوے میں جو حقیقت الوحی سے نقل کیا گیا ہے، درج ہے۔ یعنی اسے کافر قرار دیا گیا ہے، اور وہی درجہ دیا گیا ہے جو اس شخص کو دیا گیا ہے جو آپ کو کافر کہتا ہے۔ پس نہ صرف اس کو جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا، مگر آپ کے دعوے کو نہیں مانتا، کافر قرار دیا گیا ہے، بلکہ وہ بھی جو آپ کو دِل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا اِنکار نہیں کرتا، لیکن ابھی بیعت میں اسے توقف ہے، کافر قرار دیا گیا۔ پس سوچنے کا مقام یہ ہے کہ حضرت صاحب نے اس معاملہ میں کس قدر تشدّد سے کام لیا ہے اور عقل بھی چاہتی ہے۔ کیونکہ اگر ایک ہندو، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سچا مانے اور دِل میں اِقرار بھی کرے اور ظاہر طور سے اِنکار بھی نہ کرے، ہاں بعض واقعات کی وجہ سے ابھی کھلم کھلا اسلام لانے سے پرہیز کرے تو ہم اسے بھی مسلمان کبھی بھی نہیں سمجھتے، اور شریعتِ اسلام کبھی اس کے ساتھ ناتے رشتے کو جائز نہیں رکھتی۔ یعنی اس کے ساتھ کسی مسلمان عورت کو بیاہ دینے کی اِجازت نہیں دیتی۔ پس اسی طرح غیرقادیانی کا حال ہے، جو حضرت کو دِل میں سچا بھی جانتا ہے، لیکن ابھی بیعت کرنے میں تردّد ہے۔‘‘
(رسالہ تشحیذالاذہان نمبر۴، ج:۶ ص:۱۴۰،۱۴۱، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء)
341
اسی تشحیذالاذہان ص:۱۲۲ میں ہے:
’’جب تبت اور سوئیزرلینڈ کے باشندے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیحِ موعود کے نہ ماننے سے کیونکر مؤمن ٹھہرسکتے ہیں؟‘‘
(تشحیذالاذہان نمبر۴، ج:۶ ص:۱۲۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء)
’’جب حضرت کی مخالفت کے باوجود اِنسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہو؟‘‘
(ایضاً)
واضح ہو کہ رسالہ تشحیذالاذہان مذکورہ حکیم نورالدین خلیفہ مرزا غلام احمد قادیانی مذکور کی اجازت سے چھپا ہے، اس کا ذکر اسی رسالہ میں موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
اقوالِ مذکورہ بالا سے مفصلہ ذیل دعوے بخوبی ظاہر ہیں:
دعویٔ اُلوہیت، دعویٔ نبوّت ورِسالت، اپنی ذات کو موجب تخلیق عالم کہنا، رحمۃللعالمین کا وصف اپنے لئے ثابت کرنا، دعویٔ معصومیت، مقامِ محمود کا اپنے کو مستحق جاننا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اُولوالعزم نبی سے اپنے کو تمام شان میں افضل کہنا، دشنام دہی نبی، تذلیل وتحقیر نبی، اِنکارِ معجزہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِظہارِ معجزہ میں نجار اور مسمریزم داں قرار دینا، اکثر انبیاء علیہم السلام سے اپنے معجزات کو زیادہ سمجھنا، اپنے اِلہام اور بزعمِ خود اپنی وحی کو قرآن مجید کی مثل قطعی اور یقینی سمجھنا، تحقیر احادیثِ نبویہ، احادیث کے رَدّوقبول میں خودمختار ہونا، اپنی اِدّعائی وحی کے مقابلے میں احادیثِ نبویہ کو معاذاللّٰہ رَدّی کی طرح پھینک دینا، سب صحابہ، حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر وحضرت عثمان وحضرت علی وحضرت فاطمہ وحضرت اِمام حسن وحضرت اِمام حسین ودیگر جمیع اصحاب وازواج واہلِ بیت رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین وجمیع اَئمہ مجتہدین، اِمام ابوحنیفہؒ واِمام مالکؒ واِمام شافعی، واِمام احمدؒ واِمام بخاریؒ وغیرہم، وجمیع فقہاء ومحدثین ومفسرین اُمتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وجمیع اَئمۂ طریقت غوث الاعظم حضرت جیلانی ؒ وحضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ وحضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندیؒ وحضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ وغیرہم، وجمیع اَبدال واَقطاب واَولیاء واَخیار اُمتِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے اپنے کو افضل سمجھنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے باپ ثابت کرنا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کہنا، اپنے غیرمعتقد کو کافر کہنا، خواہ مکفر ہو یا مکذّب، متردّد ہو یا خاموش اور خالی الذہن، بلکہ جو شخص دِل میں معتقد ہو اور زبان سے اِنکار بھی نہ کرتا ہو، صرف بیعت میں کسی مصلحت سے تاخیر کرتا ہے، اس کو بھی دائرۂ اسلام سے خارج سمجھنا، سوائے کل اہلِ اسلام سے بکلی قطعی تعلق صریح وشدید حکم دینا، اپنے غیرمعتقدین کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام قطعی کہنا وغیرہ وغیرہ، اس قسم کے اقوال مرزاقادیانی کی تمام تصانیف میں بکثرت موجود ہیں۔
جس شخص کے ایسے عقائد واقوال ہوں:
۱:۔۔۔ اس کے خارج اِحاطۂ اہلِ سنت والجماعت اور اِحاطۂ اِسلام سے ہونے میں کسی مسلمان کو خواہ جاہل ہو یا عالم تردّد نہیں
342
ہوسکتا، لہٰذا مرزاقادیانی اور اس کے جملہ معتقدین درجہ بدرجہ مرتد، زِندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقینا داخل ہیں۔
۲:۔۔۔ معتقدینِ مرزاقادیانی مذکور کے ساتھ کوئی اسلامی معاملہ شرعاً ہرگز دُرست نہیں ہے، مسلمانوں کو ضروری اور لازم ہے کہ مرزائیوں کو نہ اسلامی سلام کریں اور نہ ان سے رشتہ قرابت رکھیں، نہ ان کا ذبیحہ کھائیں، نہ ان سے محبت اور نہ اُلفت رکھیں، اور نہ ان کو اپنے اسلامی مجمعوں میں شریک ہونے دیں اور نہ ان کی مجلسوں میں اہلِ اسلام شریک ہوں۔ جس طرح سے یہود، نصاریٰ، ہندو سے اہلِ اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں، اس سے زیادہ مرزائیوں سے الگ رہیں۔ جس طرح سے بول وبراز، سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے، اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔
۳:۔۔۔ کسی مرزائی کے پیچھے نماز ہرگز ہرگزجائز نہیں۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہے جیسا یہود ونصاریٰ اور ہندوؤں کے پیچھے۔
۴:۔۔۔ مرزائیوں کو نماز پڑھنے یا دیگر مذہبی احکام ادا کرنے کے لئے اہلِ سنت والجماعت اور اہلِ اسلام اپنی مسجدوں میں ہرگز نہ آنے دیں۔ مرزائیوں کو مسلمانوں کی مسجد میں اپنی عبادت کرنے کی اجازت دینی ایسا ہی ہے جیسے ہندوؤں کو مسجد میں پوجا کرنے اور یہود ونصاریٰ کو فرائضِ مذہبی ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
مذکورہ بالا اقوال کفریہ کے ملاحظہ کے بعد کالشمس فی نصف النہار ظاہر ہوگیا کہ مرزائیوں کی تکفیر میں اب نہ کسی قسم کی تأویل کی گنجائش ہے، نہ کوئی صورت ان سے اسلامی اور مذہبی تعلقات باقی رکھنے کی اور یہی وجہ ہے کہ ان کو مسجد میں نہ آنے دینے کا شرعاً حکم ہے: ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ‘‘ (البقرۃ:۱۱۴) سے شاید کسی کو یہ شبہ ہو کہ مرزائیوں کو مسجدوں میں نہ آنے دینے کا حکم اس کے مخالف معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اوّل تو تفسیر کی کتابوں پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس مبحث خاص سے اس کو زیادہ تعلق نہیں۔ تفسیر مدارک ج:۱ ص:۱۲۲ (طبع بیروت) تحت قولہ:’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ‘‘ (البقرۃ:۱۱۴) میں مذکور ہے:
’’والسبب فیہ طرح النصاریٰ فی بیت المقدس الأذی ومنعھم الناس ان یصلوا فیہ او منع المشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یدخل المسجد الحرام عام الحدیبیۃ۔‘‘
یعنی اس آیت کی شانِ نزول میں دو سبب بیان کئے جاتے ہیں۔ یا تو یہ کہ عیسائی دُوسرے لوگوں کو بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے، یا یہ کہ عام حدیبیہ میں سروَرِکونین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مسجدِ حرام سے روکا گیا تھا۔ تو چونکہ مسلمان مساجد سے روکے جاتے تھے، اس آیت نے اس کو منع فرمایا اور یہاں اس کا بالکل عکس ہے، یعنی ان لوگوں کو مساجد میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں جو کہ کافر ہیں۔ علاوہ اس کے یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس آیت کو اپنے عموم کامل پر رکھنا بھی صحیح ہے یا نہیں؟ کیونکہ ایک طرف تو منع عام ہے، جس میں یہود ونصاریٰ، آتش پرست، بت پرست، پاک اور ناپاک سب ہی داخل ہیں، نہ کسی مذہب کی تخصیص، نہ کسی شخص کی خصوصیت۔ اس کے بعد: ’’اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ‘‘ (البقرۃ:۱۱۴) موجود ہے جس میں ذِکر مطلق ہے تو اگر سیاق سے قطع نظر کرکے
343
اس آیت کا عموم علیٰ حالہٖ رکھا بھی جائے تو معنے یہ ہوئے جاتے ہیں کہ کوئی شخص ہندو ہو یا آریہ، عیسائی ہو یا یہودی، جنبی ہو یا طاہر، مسجد میں ذکرِخدا سے نہ روکا جائے، خواہ وہ سنکھ بجاکر ’’رام رام‘‘ کرے، یا گھنٹہ بجائے شری کرشن جی کی مورتی رکھ کر پوجا کرے یا سیتاجی کی، خدا کو عیسیٰ کا باپ کہہ کر یا عزیر کا، سرسری نظر میں بھی یہ معنے ایسے ہیں کہ ان کا بطلان محتاجِ دلیل نہیں۔ اس لئے یہ منقح ہو ہی گیا کہ اس آیت کے معنے ایسے عام نہیں ہوسکتے، جس میں کفار بھی داخل ہوجائیں، ورنہ پھر وجہ تخصیص کی کیا ہوسکتی ہے؟ اور کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ عیسائی اور یہود تو ہماری مسجدوں میں اپنے طور سے عبادت نہ کرنے پائیں، مگر مرزائی جو یقینا مرتد ہیں (والمرتد أشد من الکافر) مستحق ہیں کہ ہماری مسجدوں میں عبادت کرسکیں۔۔۔؟
علاوہ ازیں دُوسری آیت پر بھی غور کرنا چاہئے۔ ایک جگہ فرمایا جاتا ہے کہ:
’’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ‘‘(التوبۃ:۱۷)
صاحب معالم التنزیل (ج:۲ ص:۲۷۴، طبع ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان) اس کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’فمن کان کافرًا با اللہ فلیس من شأنہ ان یعمرھا۔‘‘
’’یعنی جو شخص کافر ہو، اس کو مسجدوں میں عبادت کا حق ہرگز حاصل نہیں۔‘‘
’’شٰہِدِیْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ‘‘ تو ایسی کھلی ہوئی دلالت کررہا ہے کہ جس میں کوئی صورت ہی گنجائش کی نہیں۔
اور دُوسری آیت صراحۃً حکم دیتی ہے کہ مسجد میں غیرمسلم لوگوں کو عبادت کا حق ہرگز حاصل نہیں ہے، وھو ھٰذہ:
’’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاٰخِرِ ‘‘ (التوبۃ:۱۸)
’’مساجد کو بجز مؤمنین کے اور کوئی شخص آباد نہیں کرسکتا۔‘‘
اب کونسا شبہ باقی رہ سکتا ہے کہ غیرمسلم مسجد کے بالکل مستحق نہیں۔ احادیث میں مستقل طور سے اس شبہ کا اِزالہ موجود ہے۔
طبرانی نے اوسط میں حضرت انسؓ سے روایت کی ہے:
’’قد سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان عمار بیوت اللہ ھم اھل اللہ عز وجل۔‘‘ (طبرانی اوسط ج:۲ ص:۵۸، حدیث نمبر:۲۵۰۲، باب من اسمہ إبراھیم)
’’مساجد کے آباد کرنے والے صرف مسلمان ہی ہوسکتے ہیں‘‘ اس سے جس طرح مساجد میںعبادت کرنے والوں کی فضیلت معلوم ہوتی ہے، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مساجد میں عبادت کرنے کا حق صرف مسلمانوں ہی کو حاصل ہے اور یہ بات محتاج اِعادہ نہیں کہ مرزائی کسی صورت سے مسلمان کہلائے جانے کے مستحق نہیں۔ روایاتِ حدیث کا اگر تفحص کیا جائے تو اس مضمون کی احادیث بکثرت ملیں گی جن سے اس حدیث سے زیادہ تصریح کے ساتھ ثابت ہوگا کہ غیرمسلم لوگوں کو مسجد میں عبادت کرنے کا حق بالکل حاصل نہیں۔ لیکن غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلیہ بھی قابلِ تسلیم نہیں ہے کہ مساجد سے کسی مسلمان کو روکنا منع ہے، اس واسطے کہ فقہ کی روایات احادیث کتب میں اس کلیہ کا خلاف صریح موجود ہے۔
مثلاً ایک حدیث کا مضمون ہے کہ:
344
’’من اکل ھذہ الشجرۃ یعنی الثوم فلا یقربن مسجدنا‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۱۱۸ باب ما جاء فی الثوم)
یعنی لہسن کھاکر مسجد میں نہ آنا چاہئے۔
دُوسری روایت میں بایں الفاظ مروی ہے:
’’عن عمر بن الخطاب لقد رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا وجد ریحھا (البصل والثوم) من الرجل فی المسجد امر بہ فأخرج إلی البقیع۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۲۱۰، باب نھی من اکل الثوم او بصلا، نسائی ج:۱ ص:۷۳، باب من یمنع من المسجد، ابن ماجۃ ص:۷۱، باب من اکل الثوم فلا یقربن المسجد)
خلاصہ اس روایت کا یہ ہے کہ جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی ایسے شخص کو موجود دیکھتے جو لہسن یا پیاز کھاکر آیا ہو تو اس کو مسجد سے نکلوادیتے تھے۔ جب خود سروَرِکونین علیہ الصلوٰۃوالسلام کے امر سے بعض صحابہ ان باتوں پر بھی نکال دئیے جاتے تھے تو اس بنا پر جو لوگ نہ صحابہ، نہ تابعین، نہ تبع تابعین، نہ مسلمان، بلکہ یقینا مرتد ہیں وہ کس طرح نہ نکال دئیے جائیں؟ فقہ کی روایات دیکھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی مسجد سے نکال دئیے جاسکتے ہیں۔ شامی میں ہے:
’’قال الإمام العینی فی شرحہ علٰی صحیح البخاری قلت: علۃ النھی اذی الملائکۃ واذی المسلمین، ولا یختص بمسجدہ علیہ الصلٰوۃ والسلام، بل الکل سواء لروایۃ مساجدنا بالجمع بخلافا لمن شذ ویلحق بما نص علیہ فی الحدیث کل ما لہ رائحۃ کریھۃ مأکولًا أو غیرہ، وانما خص الثوم ھنا بالذکر وغیرہ ایضًا بالبصل والکراث لکثرۃ اکلھم لھا، وکذالک ألحق بعضھم بذالک من بفیہ بخر أو بہ جرح لہ رائحۃ، وکذا القصّاب، والسمّاک، والمجذوم، والأبرص أولٰی بالإلحاق۔‘‘ (مطلب فی الغرس فی المسجد ج:۱ ص:۶۶۱، طبع ایچ ایم سعید)
اسی کے دُوسرے صفحے پر ہے:
’’قال فی القنیۃ: وکذا الأھل المحلۃ ان یمنعوا من لیس منھم عن الصلٰوۃ فیہ إذا ضاق بھم المسجد۔‘‘ (مطلب فیمن سبقت یدہ إلی المباح ج:۱ ص:۶۶۲، طبع ایچ ایم سعید)
احادیثِ مذکورہ اور روایاتِ مسطورہ سے بخوبی واضح ہوگیا کہ بعض اُمور کی بنا پر مسلمان متقی کو بھی مسجد سے روک سکتے ہیں، چہ جائیکہ کافر، جب یہ کلیہ: ’’ہر مسلمان کو مسجد میں نماز پڑھنے کا حق حاصل ہے‘‘ غلط ہوا تو یہ کہنا کہ: ’’ہر شخص کو مسجد میں عبادت کا حق حاصل ہے‘‘ کس قدر صریح غلط ہے۔۔۔!
۵:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ قصبہ قادیان ضلع گورداسپور اِحاطہ پنجاب کا باشندہ تھا۔ اس لئے اس کے معتقدین کو قادیانی کہا جاتا ہے، وہ لوگ اپنی جماعت کو احمدیہ جماعت کہتے ہیں۔ مگر اہلِ اسلام ’’مرزائی‘‘ اور ’’قادیانی‘‘ کہتے ہیں، اگر اہلِ سنت
345
والجماعت ’’فرقہ غلامیہ‘‘ کہیں تو مناسب ہے، اور اگر ان لوگوں کو ’’جماعتِ شیطانیہ اِبلیسیہ‘‘ کہا جائے تو شرعاً دُرست ہے۔
محمد المدعو بالسہول غفر لہٗ
مدرّس دارالعلوم دیوبند
۱۲؍صفر ۱۳۳۱ھ روز سہ شنبہ
(کل جوابات صحیح ہیں) مرزا علیہ ما یستحقہ کے عقائد واقوال کا اُمورِ کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا اِنکار کوئی منصف فہیم نہیں کرسکتا، جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔
بندہ محمود عفی عنہ دیوبند
صدرالمدرّسین دارالعلوم دیوبند
واقعی مرزا اور اس کے متبعین کے کفر واِلحاد میں کچھ تردّد وشک نہیں، ان کی تکفیر علمائے حقانی پر ضروری ہے، تاکہ عوام ان کے مکائد سے محفوظ رہیں۔ تمام اہلِ اسلام پر یہ بات ضروری ہے کہ ان سے بالکل مجتنب رہیں، نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں اور نہ ان کو اپنی مساجد میں داخل ہونے دیں اور نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھیں اور نہ ان کو مقابر میں دفن کریں۔ غرض تمام اُمور میں ان سے علیحدہ رہیں۔
بندہ محمد حسن عفی عنہ
مدرّس مدرسہ عربی اسلام دیوبند
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ!
شبیر احمد عفا اللّٰہ عنہ، دارالعلوم دیوبند
بے شک مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ نے اپنی جانب سے دِینِ متین کے ہدم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور علانیہ ضروریات وقطعیات شریعت محمدیہ کا جحود اور اِنکار کیا ہے۔ ایسے شخص کے کفر میں اگر تردّد کیا جائے تو کفر اور اِسلام میں امتیاز باقی نہ رہے، وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرَہٖ وَلَوْ کَرِہَ الکٰفِرُوْنَ!
محمد انور شاہ کشمیری عفا اللّٰہ عنہ
مدرّس دارالعلوم دیوبند
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ، مرزا کی تحریرات سے اِدّعائے نبوّت ظاہر ہے۔ مسیلمہ وغیرہ نے یہ دعویٰ بھونڈے طور سے کیا تھا، مرزا نے ایچ پیچ سے کام لیا، وہی فتنہ ہے، لیکن یہاں ذرا سانچے میں ڈھلتا ہوا ہے، دِین فروشی کی بہت سی صوتیں ہیں، کوئی کسی کا تابع ہوکر دِین سے پھرا، مرزا نے ایک نیا طریق نکالا اور خود نبی بنا، اِرتداد کیا مگر پردے سے، مگر بالآخر چھپ نہ سکا۔ ہندوستان میں اور بھی مدعیٔ نبوّت ہوئے مگر مرزا نے سب کو مات کیا۔۔۔ علیہ ماعلیہ۔۔۔۔
خاکسار سراج احمد رشیدی عفی عنہ
خادم دارالعلوم دیوبند
جوابات بالکل حق ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ معتقدین قطعی کافر ومرتد ہیں۔ اہلِ اسلام کو ان سے جملہ مراسم اسلامی کو ترک کرنا چاہئے۔ اس پر مرتدین کے جملہ اَحکام جاری ہونے چاہئیں۔
بندہ مرتضیٰ حسن عفی عنہ
مدرّس مدرسہ عربیہ دیوبند، ضلع سہارنپور
346
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ۔
احقر الزماں گل محمد خان
مدرّس مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند
ھٰذا الجواب صحیح۔
نورحسن شاہ اٹکی
ذالک حق صریح فما ذالک بعد الحق إلّا الضلال۔
احقر محمد احسان اللّٰہ خان عفی عنہ
دارالعلوم دیوبند نجیب آباد مسکناً
| الجواب حق صحیح |
الجواب حق صحیح |
الجواب صحیح من شک فیہ فقد خطاء |
جواب دُرست ہے |
| عبدالرحمن پورینوی |
نصیرالدین کوہاٹی عفی عنہ |
محمد اِدریس غفرلہٗ سکروڈ ضلع سہارنپور |
عبدالسمیع مدرّس مدرسہ دیوبند |
| الجواب صحیح |
جوابات کل حق وصحیح ہیں |
جوابات حق وصحیح ہیں |
جوابات حق وصحیح ہیں |
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ |
| احمد امین عفی عنہ |
احقر محمد علی اظہر عفی عنہ بلیاوی |
بندہ عزیزالرحمن عفی عنہ مفتی مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند ۱۲؍صفر۱۳۳۱ھ |
محمد ابراہیم عفی عنہ بلیاوی، مدرّس دارالعلوم دیوبند |
بازمحمد متوطن ڈیرہ اسماعیل خان |
| من قال سوا ذالک قد قال محالًا |
الجواب صحیح |
الجوابات صحیحۃ فماذا بعد الحق إلّا الضلال |
|
|
| محمد اِدریس کمرلائی |
بندہ عزیزالرحمن نظام پورے |
محمد شفیق پنجابی |
|
|
| الجواب صحیح |
الجواب صواب |
|
|
|
| احقر محمد رئیس الحق بہاری عفی عنہ عظیم آبادی |
بندہ نسیم الدین میمن سنگی |
|
|
|
جوابات حق وصحیح ہیں۔ ایسے شخص کے کفر والحاد میں کیا تامل ہوسکتا ہے؟ جس کو خدا کافر کہے، اس کا کفر کیونکر نہ تسلیم کیا جائے؟ اور مسلمان اس سے پھر کیونکر تعلق ومراسم اسلام باقی رکھنے جائز تسلیم کریں گے؟ خدا ایسے شخص کے اثرِبد سے ہر مسلمان کو محفوظ ومامون رکھے کہ جو نہ خود ہی خراب ہو، بلکہ سینکڑوں بنی نوعِ انسان کو اپنے ساتھ لے کر ڈُوبا ہو۔ مسلمانوں کو اس کے معتقدین وہویٰ خواہوں سے پرہیز کرنا سخت ضروری اور لازمی ہے، جب کہ ان کے ساتھ مراسم قائم کرنے ایسے ہیں جیسے اور ہندوؤں کے ساتھ تو بالکل ان کو اس کا مصداق سمجھنا چاہئے:
’’إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَہُم ْمَّا فِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعاً وَّمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُوا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا
347
تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ‘‘ (المائدۃ)
احقر الزمن بندہ سیّد حسن عفی عنہ حسینی چاندپوری
مدرّس دارالعلوم دیوبند
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ بلا مرتیہ۔ فی الواقع مرزا اور ان کے معتقدین ایسے ہی ہیں، ان سے پرہیز کرنا ضروری امر ہے۔
احقرالزمن نبیہ حسن
بے شک مرزا غلام احمد کافر اور مرتد ہے، مسلمانوں کو اس سے اور اس کے تمام معتقدین سے ہر طرح پرہیز کرنا چاہئے، وہ اور اس کے معتقد گمراہ اور دوزخی ہیں۔ مرزا وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں میں اِختلاف کی ایسی زبردست دیوار قائم کردی کہ مسلمانوں کی ترقی نہ ہوسکے اور ان کا شیرازہ منتشر ہو۔ مرزا مرتد ہے اور اس کے معتقدین بھی مرتد ہیں اور مرتد اور مرتدہ کا نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی سب ایسے ہیں جن کا نکاح صحیح نہیں ہوا۔
کتبہ احمد حسن غفرلہٗ ذُوالمنن
متوطن کیرانہ، مدرّس دارالعلوم دیوبند
لاریب، مرزا غلام احمد کافر ہے، اس کے سارے متبعین گمراہ اور جہنمی ہیں۔ ان سے کسی قسم کا اِسلامی برتاؤ کرنا جائز نہیں۔ اس کی چکنی چپڑی باتوں یا لچھے دار تحریروں میں جو لوگ گرفتار ہوگئے ان کے حال سے سمجھ داروں کو عبرت حاصل کرنی زیبا ہے۔ بعض ان لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو لکھے پڑھے کہلائے جاتے ہیں۔ ان کی حالت دیکھ کر ’’قلب الإنسان بین اصبعی الرحمٰن‘‘ کی پوری تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ ایسے دلائلِ قاطعہ کے ہوتے ہوئے جب لوگوں نے مرزا مذکور کو نبی کہنے میں تأمل نہ کیا، تو اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ دجال کو خدا کہنے میں بھی ایسے ہی لوگ سبقت کریں گے۔ لہٰذا یہی نہیں کہ مرزا مذکور کے جمیع متبعین سے اسلامی طریقے کی شرعاً حرمت ثابت ہے، بلکہ ان کی حالت کو دیکھ کر خداوندعالم سے اِلتجا کرنی ضروری ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کا انجام بخیر کرے اور ایسے قعرِضلالت میں گرنے سے بچائے، آمین!
خادم الطلبہ محمد اِعزاز علی بریلوی غفر لہٗ
مدرّس مدرسہ اسلامیہ عربیہ دیوبند
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور اِرتداد میں ذرا شک وشبہ نہیں۔ تمام مسلمانوں کو اس کے معتقدین اور خلفاء اور اس کی تمام تصانیف اور تحریرات سے پرہیز کرنا لازم ہے، ورنہ سخت مضرت پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس سے مسلمانوں کو سخت مضرت پہنچی ہے، فقط!
محمد شفیع بڈھانوی
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام متبعین بے شک مرتد کہے جانے کے قابل ہیں۔ پس جو اَحکام مرتد کے ہیں، وہ بلاشبہ ان پر جاری کئے جائیں گے۔ یعنی حاکمِ اسلام جبر کرے گا اگر اپنے اقوال وعقائد سے وہ تائب ہوگئے تو فبہا، ورنہ بادشاہ اسلام پر ضروری ہے کہ انہیں سخت سزا دے، اور ان کے ذبیحہ یا شکار کا کھانا، یا معاملاتِ مناکحت وقرابت بھی جائز نہیں، اور علیٰ ھٰذا کسی معاملہ میں ان کی شہادت بھی لینی جائز نہیں، اور اگر وہ مرجائے یا دُوسری صورت پیش آئے تو مسلمان وارث اس کے اسلام کے زمانے کا
348
وارث ہوسکتا ہے، اور اِرتداد کے زمانہ کا نہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ محمد عبدالماجد ہنگوے
اصاب المجیب۔
قاضی محمد غلام یحییٰ عفی عنہ
متوطن عیسیٰ خیل ضلع میانوالی، پنجاب
ھٰذہ الأجوبۃ المذکورۃ صحیحۃ، لا شک فیھا۔
عبدالوہاب، ضلع کوہاٹ
الأمر ھٰکذا!
علی صغیر غفرلہٗ اعظم گڑھی
کل واحد من الأجوبۃ صحیح حق صریح لا ریب فیہ۔
بندہ محمد اِسماعیل عفااللّٰہ عنہ، بارہ بنکی
لا شک فی کفرھم وارتدادھم ومرقوا من الدِّین کما یمرق السھم من الرمیۃ لإدعائھم خلاف النصوص القاطعۃ التی ھی قطعیۃ الثبوت والدلالۃ۔
العبد محمد جان الغزالی الروسی
| الجواب حق |
الجواب ھو الصحیحۃ |
اقول المرزا القادیانی ومن تبعہ کافر بالأقوال المذکورۃ |
| محمد منیر چاٹگامی |
بندہ یحییٰ دربھنگوی |
محمد قربان بخاری |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
| محمد رضا غفرلہٗ منی پورے |
بندہ اسماعیل نواکھالی ثم الدولت پوری |
طفیل احمد شیرکوٹی |
محمد اِبراہیم عفی عنہ بردوانے |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح المجیب نجیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد عبیداللّٰہ سیالکوٹی مولوی فاضل |
بندہ غلام رسول ملتانی عفی عنہ |
بندہ عبدالحکیم نواکھالی |
محمد اِبراہیم ضلع میانوالی خاص چکڑالہ |
| الجواب حق صریح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| بندہ عزیزاللّٰہ عفی عنہ نواکھالوی |
نذیر حسین امروہوی |
محمد رمضان ضلع شاہ پور |
فرقہ قادیانی میں اِدّعائے نبوّت ومسیحیت علانیہ طور سے کیا گیا ہے، جو صریح نصوص کے مخالف ہے۔ صریح نص جیسے آیت خاتم النّبیین اور حدیث صحیح: ’’انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ موجود ہے، اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام بھی صریح حدیث مسلم شریف وغیرہ سے ثابت ہے۔ ان نصوص میں تأویل کرنے والا ضال ومضل ہے اور جو شخص صریح نصوص کا منکر ہو، وہ کافر ہے۔
منصور علی عفی عنہ (مصنف فتح المبین)
349
| الجوابات حق لا فیھا شک |
الجواب حق |
الجواب ھو الصحیح |
الجواب صواب |
| سیّد شریف ہزاروی |
سعادت علی عفی عنہ نگینوی |
محمد عبداللّٰہ عفی عنہ بنوی |
محمد بہرام ہزاروی |
| الأجوبۃ صحیحۃ |
قد أصاب من أجاب |
المجیب مصیب لا ریب فیہ |
الجواب صحیح |
| محمد خالد البصری العربی |
احقر العلماء سلطان محمود ساکن کوٹھیالہ شیخان ضلع گجرات |
غلام مصطفی راولپنڈی |
عیسیٰ خان پشاوری |
| الأجوبۃ کلھا صحیحۃ |
الجواب صحیح |
الأمر ھٰکذا |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| احقر محمد صدیق عفی عنہ شاہ پوری |
محمد امیر احمد مظفرنگری عفی عنہ |
محمد احمد اعظم گڑھی |
محمد عبدالحفیظ دربھنگوی |
حامداللّٰہ ملتانی |
| لقد أصاب من أجاب |
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ |
الجواب صحیح لا شک فیہ |
الجواب صحیح |
| ابوالفضل محمد عبدالرحمن غفرلہٗ ولوالدیہ دربھنگوی |
محمد عتیق اللّٰہ غفرلہٗ مظفرپوری |
محمد عبدالحی میمن سنگی عفی عنہ |
بندہ نور محمد میانوالی، پنجاب |
من ادعی بھٰذہ الدعاوی الباطلۃ، فقد اسحق الکفر بلا ریب والجوابات المندرجۃ کلھا صحیحۃ عندی۔
عبدالحمید پشاوری بقلم خود
المجیب مصیب، مرزا ۔۔۔قبَّحہُﷲ۔۔۔ کی تکفیر میں جہاں تک سختی کی جائے کم ہے، اس نے شریعتِ غراء کے قطعی الثبوت عقائد کو بدل ڈالا، اور انبیاء وصحابہ کی توہین وتحقیر کی۔ وکفی بذالک کفرًا وإرتدادًا۔
شائق احمد عثمانی غفرلہٗ
مدرّس مدرسہ دیوبند
لا شک فی کفر ھٰذا الدَّجَّال ومن تبعہ۔
محمد اِمتیاز احمد غفرلہٗ
مدرّس اوّل مدرسہ سعیدیہ شاہجہاںپور
| الجواب حق البتۃ |
ھٰذہ الأجوبۃ صحیحۃ |
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ |
صح الجواب |
| اُمید علی غفر لہٗ مدرّس دوم مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہجہاںپور |
عبدالمجید شاہجہاںپوری |
فقیر محمد عبدالحمید پھانوی |
عبدالخالق عفی عنہ مدرّس مدرسہ عین العلم شاہجہاںپوری |
واقعی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ متبعین دائرۂ اسلام سے یقینا خارج ہیں۔ جناب رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم ہوچکی ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کی نسبت فخر صادق علیہ السلام نے خبردِی ہے۔ آپ کے تشریف فرما ہونے کا وقت ہنوز نہیں آیا۔ قطع نظر دیگر ملفوظاتِ کفریہ کے ایسے شخص اور اس کے متبعین کو خارج عن الاسلام ہونے کے لئے صرف یہی دو
350
دعوے کافی ہیں، جو صراحۃً نصوصِ شرعیہ کے خلاف ہیں، فقط!
کتبہ عبدالرؤف عفی اللّٰہ عنہ
مدرّس اوّل مدرسہ عین العلم شاہجہاںپوری
بلاشبہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے عقائد اہلِ سنت والجماعت کے عقائد سے خارج ہیں، اور منجر بکفر اور ان کے ساتھ خلط ملط بلاضرورتِ شرعیہ نہ چاہئے اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے، فقط!
محمد ریاست علی عفی عنہ شاہجہاںپوری
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی مشتہرہ کے بعد اس کے اور نیز اس کے معتقدین کے کفر وارتداد میں کسی مسلمان کو تردّد نہ کرنا چاہئے، دجالانِ ماضیہ کا وہ سرغنہ اور پیش رو ہے، عاملہ اللہ بما یستحقّہ!
کتبہ عبدالحکیم الامرتسری (مولوی فاضل، منشی فاضل)
مرزاقادیانی کے عقائد مستحدثہ باطلہ جو اس کی تحریرات وتالیفات میں میری نظر سے گزرے، وہ خلاف اُصولِ شرعیہ نقلیہ ہیں۔ واقعی مورد حدیث:’’سیأتی من اُمّتی دجّالون کذّابون‘‘ (الحدیث کما رواہ السنن) ہے۔ پس ایسے عقائد باطلہ کے پیروں ومعتقدین سے اِجتناب ضروری ہے، ان کے پیچھے نماز ہرگز نہ پڑھنی چاہئے، کیونکہ وہ اہم ضروریاتِ اسلام سے منکر ہیں۔
حررہ محمد آفاق لدھیانوی بیدہ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح وصواب |
الجواب صحیح |
| ولی اللّٰہ لدھیانوی |
عبدالواحد بقلم خود |
بندہ عبدالرشید عفی عنہ لدھیانوی حنفی |
بندہ محمد موسیٰ مدرّس مدرسہ اسلامیہ لدھیانہ |
مسکین نظام الدین لدھیانوی |
المجیب مصیب، مرزا قادیانی کے کفراور اِلحاد میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔ اس کا قرآن شریف شاہد ہے، فقط!
بقلم نظام اللّٰہ عفی عنہ
جب مرزا قادیانی کسی زمانے میں لدھیانہ جناب شہزادہ والا گوہر صاحب کے مکان میں بطور کرایہ کے قیام کرتے تھے، میں نے خود مرزاقادیانی سے پوچھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بموجب حدیث شریف قربِ قیامت میں دوبارہ دُنیا پر تشریف لائیں گے یا نہیں؟ مرزاقادیانی نے میرے اور چند صاحبان اہلِ مجلس کے رُوبرو تین دفعہ انکار کیا۔ میں نے رُوبرو اسی وقت اپنی زبان سے کہہ دیا کہ آپ کو میں ضرور کفر پر جانتا ہوں، جملہ علماء کے دربارۂ کفر کے فتوے کی تصدیق کرتا ہوں۔ پھر ہم اتنا کہہ کر ان کے مکان سے چلے آئے۔
العبد میاںجی رحمت اللّٰہ، اِمام مسجد جٹاں، محلہ ڈھیولواں بقلم خود
| الجواب صحیح |
اجاب واصاب |
| حبیب الرحمن لدھیانوی |
عبدالغفار عفی عنہ رامپوری |
ھٰذا ھو الجواب لأنہ ادعی النبوۃ بعد ختم النّبیین ومن ادعٰی فھو دجّال کذّاب کما ورد فی الحدیث، فثبت کفرہ بلا تردّد، فلا یجوز معھم المناکحۃ والمشارکۃ فی الصلٰوۃ وغیرھا من امور الدِّین، و اللہ اعلم بالصواب!
حررہ محمد یوسف عفی عنہ
مہتمم ومدرّس مدرسہ انوارالعلوم ریاست رامپور
351
مرزاقادیانی علیہ ماعلیہ کے عقائد واقوال اور اس کے متبعین کے احوال سے بخوبی ظاہر ہے کہ انہوں نے ملت بیضاء وشریعت غراء کی تحریف میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا، بلکہ عقائد قطعیہ ومسائل مجمع علیہا سے صراحۃً اِنکار کیا اور جو شخص ضروریاتِ دِین کا منکر اور اس کے خلاف کا مدعی ہو بلاریب کافر ہے۔ علمائے کرام نے اس کی تکفیر کی تصریح فرمائی۔ کما ھو مصرح فی الکتب المعتبرۃ، جملہ اہلِ اسلام کو چاہئے کہ مرزاقادیانی کو مع اَتباع اس کے اسلام سے خارج سمجھیں اور ان کے ساتھ مناکحت اور موالات کو حرام اور خلافِ شریعت جانیں۔ ھٰذا الجواب والموافق للسنۃ والکتاب، فقط!
حررہ سیّد دیانت حسین غفرلہٗ
مدرّس مدرسہ انوارالعلوم رامپور
بے شک مرزاقادیانی کے بہت سے دعاوی اور بکثرت ایسے اقوال موجود ہیں جو حدِکفر تک پہنچاتے ہیں، جیسا کہ ان کی کتابوں پر نظر رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں، واللّٰہ اعلم!
محمد کفایت اللّٰہ عفاعنہ مولاہ
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی
| محمد قاسم |
ضیاء الحق |
انتظار حسین |
محمد امین |
محمد عبدالغفور |
| مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
دارالافتاء مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی |
| المجیب مصیب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
المجیب مصیب |
اصاب من اجاب ھو المصوب |
| محمد عبدالمنان مدرّس مدرسہ فتح پوری |
سیف الرحمن عفی عنہ مدرّس مدرسہ فتح پوری دہلی |
محمدعالم مدرّس مدرسہ فتح پوری دہلی |
قطب الدین مدرّس مدرسہ فتح پوری دہلی |
محمد پردل صدر مدرّس مدرسہ اسلامیہ نعمانیہ دہلی |
سوال خمسہ کے جواب میں مجیب مصیب نے جس قدر عبارتیں کتب مرزاقادیانی سے نقل کی ہیں وہ قطعاً سراسر ہذیانات ہیں۔ ان کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی من جملہ ان کذّابین کے ہے جو دجالِ موعود سے پہلے دعاۃدجال بن کر نکلیں گے، اس پر شہادت یہ ہے کہ خود مسیحِ موعود بن بیٹھا، لیکن یہ نہ سوچا کہ کجا مسیح دجال کجا مسیح رسول ذُوالجلال، ھل یستوی الظلمات والنُّور!
اس کو مسیح بن کر مسلمانوں کو یہ دھوکا دینا تھا کہ واقعات مسیح علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام اور دجال کو بھول جائیں اور اس کا یہ شیطانی کید اور ولہانے مکر چل جائے۔ جو کچھ بارگاہِ صمدیت میں کفریات بکے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام وحضرت اِمام حسین وصحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، اور اَحادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کے متعلق دریدہ دہنی اور سفاکی کی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے مجیب مصیب کے حق میں نہایت خلوصِ قلب سے یہ جملہ دُعائیہ بے اِختیار زبانِ قلم سے نکلتا ہے کہ جزاہ عنِّی وعن جمیع المفتین۔
کتبہ ابوالفضل محمد حفیظ اللّٰہ عفی عنہ
مدرّس اعلیٰ مدرسہ ڈھاکہ
352
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد واقوال حسبِ نقل مجیب صاحب کچھ ایسے واقع ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے چپ رہا نہیں جاتا ہے۔ مجیب پرازحمیت نے تیغ قلم سے جو کچھ کام لیا ہے، محض بہ تقاضائے حمیتِ اسلام ہے، و اللہ ینصر الدین ومن ینصر الدین!
حررہ محمد صمصام الدین المدرّس فی مدرسۃ ڈھاکہ
بسملۃ وحمدلۃ الحمد لأھلہ والصلٰوۃ لأھلھا جواب المجیب مثاب ویقال جاء الحق وزھق الباطل وویل للقادیانی الغلمانی بالقول القائل الا انھم ھم الکفرۃ الفجرۃ ولٰکن لا یشعرون بالعقائد الفاسدۃ الفاسقۃ بئسما اخترعوا واھتلکوا بہ انفسھم ان یکفروا بما انزل اللہ وبما اخبر بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا انھم ھم المصداق لقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی آخرالزمان دجَّالون کذَّابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آباؤُکم فإیاکم وإیاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم، رواہ مسلم ص:۴، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء والإحتیاط فی تحملھا مروجہ کتاب ص:۱۰، مقدمۃ مسلم ج:۱، وعن عبد اللہ بن عمرو ابن العاص قال: ان فی البحر شیاطین مسجونۃ اوثقھا سلیمان بن داوٗد یوشک ان تخرج فتقرأ علی الناس قرآنًا (وما ھو بقرآن بل تغربہ عوام الناس) رواہ مسلم۔
حررہ العاصی ابو محمود محمدالرحمٰن
السندیپی مولدًا ومسکنًا الدیوبندی تلمذًا،
المدرس الأعلٰی فی المدسۃ الحمادیۃ، الدھاکہ
مجیب نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جو عقائد واقوال نقل کئے ہیں، اگر حقیقت میں اس کے عقائد ایسے ہی تھے تو اس کے اِحاطۂ سنت والجماعت سے خارج ہونے میں کسی کو کچھ شک وتردّد نہیں ہوسکتا، اور مسلمانوں کو اس کے معتقدین اور تحریرات سے پرہیز کرنا لازم ہے، واللّٰہ اعلم!
کتبہ محمد عبدالرحمن عفی عنہ
مدرّس مدرسہ ڈھاکہ
نعم الأجوبۃ صحیحۃ، والقادیانی المذکور إستحق الکفر ودعاویہ باطلۃ بلا ریب!
حررہ ابوجعفر اخترالدین
المدرّس فی مدرسۃ دھاکہ
مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد واقوال کے بارے میں مجیب صاحب نے جو عبارتیں تحریر کی ہیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی مذکور بلاریب دائرۂ اسلام سے خارج ہے، مسلمانوں کو اس کے تمام متبعین اور تصانیف سے ہر طرح پرہیز کرنا لازم ہے۔
حررہ محمد عبدالغنی عفی عنہ، مدرّس مدرسہ ڈھاکہ
الجواب صحیح۔
عبدالجبار قاضی کولوٹولہ کلکتہ
جوابات صحیح ہیں، اس لئے کہ اہلِ سنت میں داخل ہونے سے تو خود مرزاقادیانی کو اِنکار ہے، سنت کی بابت تو ان کا یہ خیال ہے کہ:
353
-
ھل النقل شیء بعد ایحاء ربنا
فأی حدیث بعدہ نتخیر؟
جماعت سے ان کا یہ خطاب:
-
اخذنا من الحی الذی لیس مثلہ
وانتم عن الموتیٰ رویتم ففکروا!
(اعجاز احمدی ص:۶۵، خزائن ج:۱۹ ص:۱۶۹)
اب رہا ان کا مسلمان ہونا یا نہ ہونا، البتہ مسلمان ہونے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں اور مسلمان ہی ہونے کا نہیں، بلکہ نبی ہونے کا اور نبی سے بڑھ کر دعویٰ ہے مگر اس دعوے میں وہ متردّد ہیں، کبھی اپنے کو مجدّد، کبھی خلیفہ، کبھی اِمام، کبھی کرشن، کبھی نبی اور کبھی مثیل نبی کہتے ہیں اور جو اپنی نبوّت کے دعوے میں متردّد ہو، وہ کاذب ہے اور نبی کاذب یقینی کافر ہے، واللّٰہ اعلم!
ابوالبرکات عبدالرؤف عفی عنہ داناپوری
مرزا غلام احمد متوفی کے بعض حواریین نے ایک اِشتہار برائے اِتمامِ حجۃ ہم مدرّسین درسہ عالیہ کلکتہ کے نام بھی کچھ پہلے بھیجا تھا۔ جس میں مرزاقادیانی کے دعوے مسیحیت ونبوّت ورِسالت کی تصریح تھی، اور چونکہ ان دعاوی کا ماننا من جملہ ضروریاتِ اسلام واِیمان ظاہر کیا گیا تھا، جس سے صاف ظاہر تھا کہ نبوّت ورسالتِ مستقلہ کا مرزاقادیانی مدعی تھا، لہٰذا اس کا اور اس کی جمیع اُمت کا، اُمتِ محمدی سے خارج ہونا یقینی معلوم ہوگیا تھا، اور فاضل مجیب کی پُرزور اور مدلل تحریر نے تو بالکل اس متنبّی مردہ اور اس کے مؤمنین کی بے ایمانی کو اَظہر من الشمس کردیا ہے، فجزاکم اللہ خیر الجزاء!
الراقم: محمد یحییٰ سہسرامی، مدرسہ عالیہ کلکتہ
الأجوبۃ صحیحۃ، العقائد التی قد صرح بھا المرزا فی کتبہ غیر عقائد الإسلامیۃ لا شک فیھا انھا من الکفریات فلا ریب فی کفر معتقدیھا، و اللہ اعلم! خادم القوم المدعو بعبدالأحد عفا عنہ (دربھنگوی)
و اللہ در المجیب المصیب فقد اتی بجوابات صحیحۃ بلا ریب وشک! محمد عمر
مدرس اوّل انجمن حمایت اسلام مونگیر
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد یعسوب ندوی |
محمد عبدالشکور عفی عنہ گورکھپوری ساکن مونگیر |
جاء الحق وزھق الباطل إن الباطل کا ن زھوقًا!
ابوالرضوان محمد عبدالرحمن
ہیڈمولوی ضلع اسکول مونگیر
المجیب مصیب۔
ابوالمعانی بندہ محمد محبوب عیل عفی عنہ
مدرّس دوم ضلع اسکول مونگیر
۷۸۶، مرزاقادیانی کے اقوال مذکورہ رسالہ بعضے بدعت قبیحہ شنیعہ اور بعضے کفر ہیں جو سب کا یا کفریات کا معتقد ہو اس پر حکم
354
کفر کا کیا جائے گا، جو بدعیات کا معتقد ہو، وہ مبتدع ضال ہے، اور دونوں حالتوں میں اہلِ حق کو ان سے تجنب لازم ہے، جیسا کہ رسالہ میں تفصیل مرقوم ہے۔
اشرف علی تھانوی
۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۱۹ھ
الجواب صحیح۔
بندہ محمد ضرغام الدین عفی عنہ
مدرّس مدرسہ احمدیہ فیض آباد
رسالہ ھٰذا کے صفحۂ اوّل میں جو اِستفتاء مرقوم ہے اس کا جواب مجیب مصیب نے جس قدر بھی ارقام فرمایا ہے، بلاشبہ وہ کل صحیح ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ نے جس قدر کفر وزندقہ، اِرتداد واِلحاد کا جال رُوئے زمین پر پھیلایا اس کی نظیر گزشتہ صدیوں میں کم ملے گی۔
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا تقوم الساعۃ حتّٰی تقتتل فئتان فتکون بینھما مقتلۃ عظیمۃ دعواھما واحدۃ، ولا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجَّالون کذَّابون قریبًا من ثلاثین کلھم یزعم انہ رسولﷲ۔ رواہ البخاری ج:۳ ص:۱۱۱۳، فی باب علامات النبوۃ فی الإسلام، حدیث نمبر:۳۶۰۹، نسخہ مروجہ ج:۱ ص:۵۰۹، وی غیرہ بطریق کثیرۃ ومثلہ فی صحیح المسلم ج:۲ ص:۳۹۰، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ وروی الدارقطنی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ عز وجل اختار لی اصحابًا فجعلھم اصحابی واصھاری وانصاری، وسیجیء من بعدھم قومٌ ینقصوھم ویسبوھم، فإن ادرکتموھم فلا تناکحوھم ولا تواکلوھم ولا تشاربوھم ولا تصلوا معھم ولا تصلوا علیھم۔ انتھٰی۔
پس مرزاقادیانی مع اپنے تمام معتقدین کے یقینا دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور ان سب کے کفر واِرتداد میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے، لہٰذا جملہ اہلِ اسلام پر فرض ہے کہ ان سب کے ساتھ وہی برتاؤ ومعاملہ اِعتقاداً وعملاً کریں اور رکھیں جو کافر اور مرتد کے متعلق منصوص ومذکور ہیں۔
فقیر ابوالطاہر ظہور احمد پنجوی کان اللّٰہ تعالیٰ لہٗ
مدرّس جماعت سنیسیر مدرسہ عالیہ ہوگلی
الأجوبۃ کلھا صحیحۃ والعبارات المنقولۃ من کتبھم علٰی کفر القادیانی وارتداد اتباعہ وجنودہ صریحۃ و اللہ تعالٰی سبحانہ اعلم!
حررہ الراجی عفو ربہ الکریم المدعو
بمحمد سلیم عفا اللہ عنہ
صدر المدرّسین فی المدرسۃ الھاشمیۃ الواقعۃ فی مسجد زکریا بمبئی
لا شک ان المرزائین منحرفون عن الطریق المستقیم۔
احقر العبید عبدالحمید بھوپالی
سندیافتہ مدرسہ عالیہ دیوبند
صدر المدرّسین للمدرسۃ النظامیۃ حفظھاﷲ
355
باسمہ سبحانہ تعالٰی شأنہ! حمدًا لمن جعل لنا شعائر دیننا الحنیف ذرائع قویۃ إلٰی سبیل الحق والھدی، ونصلی ونسلم علٰی ھادی البر والإحسان، افضل الأساتذۃ الروحانیۃ واکمل المجعزات الباھرۃ فی الوریٰ وعلٰی آلہ وصحبہ الأخیار ذوی البرکات ومعالم الرشد کما یتمنی، اما بعد! ما اثبت العلماء الکرام من عبارات الضال المضل عن الصراط المستقیم مرزا غلام احمد قادیانی فھو دال علٰی إنحرافہ عن الملۃ البیضاء التی قال اللہ سبحانہ وتعالٰی فی شأنھا: ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ‘‘ (آل عمران:۱۹) وبتقدیر صحۃ ھٰذہ العبارات بأنھا من معتقدات المسیح الفنجابی فلا شک فی ارتدادہ عن الطریق الحق و اللہ سبحانہ وتعالٰی یحفظنا وجمیع المسلمین من مکائد ھٰذہ الفرقۃ الطاغیۃ بحرمۃ سیّد البریۃ علیہ افضل الصلٰوۃ واتم التحیۃ۔
وانا العبد الراجی عفو ربی ذی العرش المتین
محمد سیف الدین عفا اللہ عنہ رب العالمین
خادم المدرسۃ النظامیۃ، الواقعۃ فی البمبائی
ما کتب المجیب اللبیب فھو فیہ مثاب ومصیب!
کتبہ القاضی غلام احمد التھائی
المدرّس فی المسجد الجامع فی بلدۃ بمبئی
الجواب صحیح!
کتبہ العبد محمد عبدالمنعم
واعظ وخطیب المسجد الجامع بمبئی
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سب کے سب بے اِیمان اور بددِین ہیں، کیونکہ اس کے اقوال مستلزم کفر ہیں، واللّٰہ اعلم بالصواب!
محمد ریاست حسین عفی عنہ رائے بریلی
مہتمم مدرسہ رحمانیہ اِلٰہ آباد
بے شک اقوال مرزا کے کفر واِلحاد کو پہنچتے ہیں، کسی سمجھ دار کو ان پر کفر واِلحاد کے کسی لزوم میں تامل نہیں ہوسکتا، واللّٰہ اعلم بالصواب!
محمد دِین احمد جعفری اِلٰہ آبادی کان اللّٰہ لہٗ
جوابات صحیح ہیں۔
ولی محمد اِلٰہ آبادی، مدرّس مدرسہ سبحانیہ اِلٰہ آباد
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال کفر واِلحاد کے ہیں، لہٰذا اس کے اِرتداد میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
ابوسعید محمد عبدالحمید، مدرّس مدرسہ سبحانیہ شہراِلٰہ آباد
اللہ در المجیب لا ریب ان القادیانی وأتباعہ إخوان الشیاطین لا شک فی تکفیرھم اولٰئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔ لا تجوز الصلوٰۃ خلفھم بل یجب علی المسلمین إخراجھم عن المساجد۔
کتبہ ابو المکارم محمد عبدالرحمٰن المتخلص بقیس
المدرس فی المدرسۃ السبحانیۃ إلٰہ آباد
لقد اصاب من اجاب۔
سیّد محمد اعظم گڑھی کوٹھیاوی مدرسہ اسلامیہ
356
صح الجواب بلا إرتیاب و اللہ اعلم بالصواب!
محمد حسین منڈاوری إلٰہ آبادی
مدرسہ اسلامیہ
جوابات صحیح ہیں۔
عبدالمعبود، مدرّس مدرسہ اسلامیہ اِلٰہ آباد
لقد درینا بما ترشح بقلم المجیب متعمدًا وواثقًا علٰی ما اخذ المصیب! نمقہ:
السید نذیر احمد وفق لہ الخیر
مدرسہ اسلامیہ إلٰہ آباد
الجواب صحیح۔
برکت اللّٰہ اِلٰہ آبادی، مدرسہ اسلامیہ
لا ریب فی تکفیر القادیانی وإلحادھم وھم من الخاسرین والضالین لعنۃ اللہ علیھم اجعمین۔
حررہ محمد متین اعظم گڑھی کولیاوی
تلمیذ مولانا حکیم سید نذیر احمد صاحب سکندرپوری
بلیاوی، مدرّس اعلٰی مدرسۃ إسلامیۃ إلٰہ آباد
صح الجواب وإلیہ المرجع والمآب۔
محمد عبدالمجید خان الٰہ آبادی، مدرسہ اسلامیہ
لا شک فی کفر القادیانی وأتباعہ من شک فی کفرھم وعذابھم فقد کفر ولھم عذاب الیم۔
محمد رضاخان اِلٰہ آبادی، مدرسہ اسلامیہ
الجواب صحیح۔
کتبہ عبدالغفور مظفرپوری موضع بھروندی وارد حال اِلٰہ آباد مدرسہ اسلامیہ
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور اِرتداد میں کچھ شک اور شبہ نہیں ہے، اس کے تمام معتقدین اور خلفاء سے پرہیز کرنا لازم ہے۔ مرزاقادیانی مذکور کی تصانیف سے صاف طور پر دعویٰ نبوّت معلوم ہوتا ہے کہ جو صریح حدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ کے خلاف ہے، اور نیز اس کی تصانیف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح تحقیر ثابت ہوتی ہے، اور تحقیرِ انبیاء کفر ہے۔ بس بنائً علیہ اس کی اور اس کے معتقدین کے کافر اور مرتد ہونے میں کچھ شک اور شبہ نہیں ہے، فقط!
احقرالزمن محمود حسن سہسوانی
مدرّس اوّل مدرسہ شاہی مسجد واقع شہرمرادآباد
مرزا غلام احمد قادیانی کا کلام سراسر کفر اور اِلحاد سے بھرا ہوا ہے۔ جابجا دعویٔ نبوّت اور انبیائے سابقین کی تحقیر اور ختمِ نبوّت کا اِنکار نصوصِ قطعیہ کی تحریف وتبدیل وغیرذالک من الکفریات سے مملو ہے۔ جس سے اس کا کفر واِرتداد کالشمس فی رابعۃ النہار ظاہر ہے۔ وہ اور اس کے تمام ہم خیال کافر اور مرتد ملعون ہیں۔ ان سے ترک معاملات لازم اور واجب ہے، ان کو مسلمان سمجھنا اپنے کفر کا اقرار کرنا ہے، فقط!
فخرالدین احمد غفرلہٗ
مدرّس دوم مدرسہ شاہی مسجد مرادآباد
مرزاقادیانی مذکور اور اس کے تمام مرید ہم خیال اور ہم عقیدہ کافر ومرتد ہیں۔ مرزاقادیانی کی تحریر سے توہین حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام وعلیٰ نبینا ظاہر ہوتی ہے اور توہین ادنیٰ نبی بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اُولوالعزم رسول کی توہین، عیاذباللّٰہ! علاوہ بریں
357
دیگر عقائد باطلہ مثلاً زعمِ نبوّت اس کے اور اس کے جملہ اَتباع کے کفر کی بیّن دلیل ہیں، ان کے کفر میں کچھ شک نہیں۔
بندہ ولایت احمد عفی عنہ سنبھلی
مدرس مدرسہ شاہی مسجد مرادآباد
بے شک مرزا غلام احمد قادیانی علیہ کے اقوال سے اس کی صاف ردّت ظاہر ہوتی ہے، اس کے جس قدر اقوالِ مذکورہ ہیں نصوصِ قطعی قرآنی واحادیث کے بالکل مخالف ہیں، ان اقوال کا معتقد منکر قرآن واحادیث کا ہے، اور ان ہر دو کا یا ایک کا منکر قطعی کافر ہے، اور چونکہ عقائدِ قادیانی وعقائدِ اِیمانی کا اِجتماع مثل آب وآتش کے وعلیٰ ھٰذا اہلِ اسلام وقادیانیین کا، لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ ان میں باہم بالکل اِنقطاع ہونا چاہئے۔ خصوصاً مزاوجت اور صلوٰۃ کہ ان ہر دو میں بالکلیہ کوشش کرکے مفارقت وقطع تعلق کرنا چاہئے۔ اہلِ اسلام کو ہرگزہرگز اپنی دختر نہ دینا چاہئے۔ ونیز اہلِ اسلام کو اپنی مساجد میں ان کو ہرگز داخلے کی اِجازت نہ دینا چاہئے، اور جن اصحاب کو مساجد میں داخلے کی اِجازت ہو ان اصحاب کو ممانعت کرکے ان کے مرض متعدی سے اپنی مطہر مساجد کو صاف کرنا چاہئے۔ ونیز اہلِ اسلام ان اصحاب سے بوجہ اپنی لاعلمی کے اس وقت تک موانست کرتے رہے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ مفارقت اِختیار کرکے بہ مقتضائے للصحبۃ تاثر جو کچھ اس مرض متعدی کا اثر پیدا ہو، اس کا اِستغفار کے ساتھ علاج کرنا چاہئے، فقط، وما علینا إلَّا البلاغ!
رضوان علی عفی عنہ
مدرّس مدرسۃالغرباء واقع مسجد شاہی مرادآباد
فی الواقع اس مہمل عقیدہ والا شخص قطعاً کافر ہے۔
خادم العلماء والاطباء کبیرالدین عفی عنہ مرادآباد
جوابات صحیح ہیں۔
احقر علی نظر غفرلہٗ
لاریب مدعیٔ نبوّت خصوصاً اہلِ اسلام سے بوجہ صریح تخالف وتحریف نصوصِ قطعیہ واحادیثِ نبویہ کے کافر ومرتد ہے، اور علیٰ ھٰذا اسی حکم میں اس کے اُمتی بھی ہیں، ان سے اِجتناب وترکِ تعلقات اہم وضروری ہے۔
راقم بندہ ابوالمظفر عبدالرشید غفرلہٗ بلندشہری
| الجوابات صحیح |
الجوابات صحیح |
| احمد حسن غفرلہٗ |
ابوحامد محمد نصراللّٰہ عفی عنہ مرادآباد |
| مدرّس دینیات مدرسہ ہیوٹ مسلم ہائی اسکول مرادآباد |
، |
جو عقائدِ فاسدہ کہ اس رسالے میں درج ہیں، اس کے قائل اور معتقد سے بیزار ہوں اور دونوں کو دائرۂ اسلام سے خارج جانتا ہوں، اور ایسا شخص پورا اس حدیث کا مصداق ہے کہ جس کی پیشین گوئی مخبرِصادق صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی:
’’عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجالون کذابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا اٰباؤکم فإیاکم وإیاھم! لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔‘‘ (مسلم ج:۱ ص:۱۰ ، مقدمۃ)
358
’’روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے کہ فرمایا رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: ہوں گے آخر زمانے میں فریب دینے والے جھوٹے، لائیں گے تمہارے پاس حدیثیںکہ نہیں سنیں تم نے اور نہ تمہارے باپوں نے، پس بچو تم ان سے اور بچاؤ ان کو آپ سے! نہ گمراہ کریں وہ تم کو اور نہ فتنہ میں ڈالیں تم کو۔‘‘
پس مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے بددِینوں کی صحبت اور خلط ملط سے بچیں اور ان سے ہم کلام نہ ہوں اور نہ ان کی کتابیں دیکھیں۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو کیدِقادیانی اور اس کے متبعین سے بچائیں، بجاہ النبی واٰلہ واصحابہ، صلی اللہ علیہ وسلم!
فرخ بیگ عفی عنہ مرادآبادی
کسی شخص کے کفر کا فتویٰ دینا کچھ آسان امر نہیں، مگر جو شخص نصوصِ متواترہ، قطعی الدلالۃ کا منکر ہو، اس کے کفر کو مسلمانوں پر ظاہر کرنا، حاملانِ شرعِ اسلام کا فرضِ قطعی ہے، اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو خدا کے نزدیک ان سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ملعون ثابت ہو! اسی مجبوری کی وجہ سے مرزا غلام احمد، ساکن قادیان ضلع گورداسپور پنجاب، کے کفر کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ میں نے خود اس سے سنا ہے کہ وہ باربار تاکید سے کہتا تھا کہ میں خدا کا رسول ہوں، مجھ پر نزولِ وحی اسی طرح ہوتی ہے جیسے دیگر اَنبیاء پر۔ اس کے بعد مجھے اس کے کفر میں کوئی تأمل نہ رہا، واللّٰہ اعلم!
میرعبدالکریم قرشی العلوی
ساکن ضلع ہزارہ فقیہ اوّل ندوہ لکھنؤ،
سابق صدر مدرّس مدرسہ محبوبیہ حیدرآباد دکن
✨ ☪ ✨
359
فتویٰ تکفیرِ قادیان
شائع کردہ
کتب خانہ اِعزازیہ دیوبند
نوٹ:۔۔۔ بعد میں اس رسالے کو حضرت مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ نے
’’فسخ نکاح مرزائیاں‘‘ کے نام سے بھی شائع کیا تھا
360
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ناظرین! آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مرزائی جماعت نے ایک نئی نبوّت کی بنیاد ڈال کر اہلِ اسلام میں نہ صرف اِختلاف پیدا کردیا ہے، بلکہ لین دین، عقائد، اُصول اور عبادات ومعاملات میں بھی زمین آسمان کا فرق پڑگیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آغاز مسیحیت میں کئی رنگ بدلے۔ سب سے پہلے اپنے کو صوفی منش ظاہر کیا، پھر مجدد بنے، پھر حَکم، پھر نذیر، اس کے بعد مسیح ہونے کے مدعی ہوئے، پھر کرشن اوتار، اور سب سے آخر میں نبوّت کا دعویٰ شائع کیا اور بہت جلد دُنیا سے رُخصت ہوئے۔ مرزاقادیانی اِبتدائً دعاوی میں نرمی سے کام لیتے تھے رہے، جب جماعت کثیر ہوگئی تو غیراحمدیوں کو کافر قرار دِیا، اور ان سے عبادات ومعاملات میں الگ رہنے کا حکم دیا۔ بہرحال مرزاقادیانی نے دُنیا کے تمام کمالات کا مظہر اپنی ذات کو قرار دِیا۔
مرزاقادیانی کے گدی کے جانشین
جب مرزاقادیانی مرے تو حکیم نورالدین نے حضرت ابوبکرؓ کا منصب سنبھالا۔ پھر جب وہ مرے تو حضرت عمرؓ کا زمانہ مرزامحمود دِکھارہے ہیں۔ مرزامحمود نے ہرچند اپنے ذاتی اسلام کی اِشاعت میں کوشش کی، مگر بجائے یگانگت کے مرزائی جماعت میں بیگانگت پیدا ہوگئی۔ مسٹر محمد علی نے لاہور میں بیعت (پیری، مریدی) کا سلسلہ شروع کردیا۔ مولوی احمد حسن امروہی قادیان سے الگ ہوکر لاہوری جماعت میں شامل ہوگئے۔ گوجرانوالہ میں ظہیرالدین اروپی نے الگ جماعت قائم کرلی، اور عبداللّٰہ تیماپوری الگ بیعت لے رہا ہے۔ یہ چار مذاہب شاید اِسلامی چار مذاہب کا نقشہ ہوں، مگر حضرات! اِسلامی چار مذاہب تو ایک دُوسرے کو حق پر سمجھتے ہیں، مرزائیوں میں تو باہمی کفرواِسلام کا فرق ہے۔ لاہوری جماعت، قادیانی جماعت کو مشرک بتاتی ہے، کیونکہ اس نے مرزاقادیانی کے مشرکانہ اِلہام کو صحیح تسلیم کیا۔ اور قادیانی، لاہوریوں کو مرتد یقین کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مرزاقادیانی کے طریقِ مشرب سے اِنحراف کیا ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ: ’’میرے بعد یوسف آئے گا، بس اس سے یوں ہی سمجھ لو کہ وہ خدا ہی اُترا ہے۔‘‘ ظہیراروپی کو مرزاقادیانی کی صحیح جانشینی کا دعویٰ ہے، اور مرزامحمود کو غاصب اور ظالم قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ قادیان کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا افضل ہے، کیونکہ وہ مکہ ہے، جہاں ایک رسول نے جنم لیا تھا۔ عبداللّٰہ تیماپوری کا دعویٰ ہے کہ اسے وہ اِنکشاف ہوا ہے کہ مرزاقادیانی کو بھی نصیب نہیں ہوا، اس کو اپنے بازو سے اِلہام ہوتا ہے اور اپنی کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوّا سے خلاف فطرتِ انسانی ملوّث ہونے کا اِلزام لگاتا ہے۔ وزیرآباد کے پاس ہی سمبڑیال ایک گاؤں ہے، وہاں کے ایک
361
مرزائی محمدسعید نامی کو یہ خبط سوجھا ہے کہ مرزاقادیانی نے تجدیدِاِسلام کو شروع کیا تھا، مگر اَخیر تک نہ پہنچاسکے، خداتعالیٰ نے مجھے ’’قمرالانبیاء‘‘ بناکر مبعوث کیا ہے۔ اس کے یہ عقائد ہیں کہ:
’’شراب جائز ہے، اپنی رشتہ داری میں نکاح ناجائز ہے، حضرت مسیح یوسف نجار کے بیٹے تھے، ختنہ ناجائز ہے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘
بہرحال ان مرزائی چار جماعتوں کا اس پر اِتفاق ہے کہ مسیحِ موعود مرزاقادیانی ہی تھے اور ان کا کلام وحی من اللّٰہ ہے۔ اس کے مقابل اہلِ اسلام ان دونوں اُمور کے منکر ہیں، صرف منکر ہی نہیں، بلکہ مرزاقادیانی کو شروع سے آخر تک کافر ومرتد قرار دیتے ہیں، اور لین ودین معاملات اور عبادات میں ان سے الگ ہیں۔ اب مرزائی اور غیرمرزائی میں کفرواِسلام کا فرق ہے۔ نہ ان کی ان کے ہاں شادی ہوسکتی ہے، نہ ان کی ان کے ہاں۔ کفن، دفن، نماز، زکوٰۃ، جنازہ بھی الگ الگ ہے۔ بالجملہ ایک اِستفتاء جس کے متعدد (بلکہ اس سے بھی زیادہ) جوابات مختلف حضرات علمائے اسلام کی جانب سے دئیے گئے ہیں، ناظرینِ کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم میں اور مرزائیوں میں اُصولی فرق ہے، فروعی اِختلاف نہیں، اور ایسے بعید اِختلافات کے ہوتے ہوئے ہم انہیں اِسلام میں داخل نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی عقل مند اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا، اور اُمید ہے کہ مرزائی بھی ہمیں یقین دلائیں گے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے مرزائی اِعتقادیات کا نام ونشان کہاں تھا۔ انہوں نے اسلام کی پُرانی چاردیواری کو مسمار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ناظرین خود فیصلہ کرلیں گے کہ مرزائیوں نے اسلامی عمارت کو کس طرح مسمار کردیا ہے۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوال (اِستفتاء)
بخدمت شریف جناب علمائے اسلام ۔۔۔سلّمکم اللہ إلٰی یوم القیامۃ۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِینِ متین ومفتیانِ شرعِ متین اس امر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:
۱:۔۔۔ آیت: ’’مبشرًا برسول یا تی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق میں ہوں۔
(اِزالہ اوہام، طبع اوّل ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)
۲:۔۔۔ مسیحِ موعود (جن کے آنے کی خبر اَحادیث میں آئی ہے) میں ہوں۔
(اِزالہ اوہام، طبع اوّل ص:۶۶۵، خزائن ج:۳ ص:۴۵۹)
۳:۔۔۔ میں مہدیٔ مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔ (معیارالاخیار ص:۱۱، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۸)
۴:۔۔۔إن قدمی ھٰذہ علٰی منارۃ ختم علیہا کل رفعۃ ۔ میرا قدم اس منارہ پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہوچکی ہیں۔
(خطبہ اِلہامیہ ص:۷۰، خزائن ج:۱۶ ص:ایضاً)
362
۵:۔۔۔ لا تقیسونی بأحد ولا أحدًا بی ۔ میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۰، خزائن ج:۱۶ ص:۵۲)
۶:۔۔۔ میں مسلمانوں کے لئے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔
(لیکچر سیالکوٹ ص:۳۳، خزائن ج:۲۰ ص:۲۲۸)
۷:۔۔۔ میں اِمام حسین (علیہ السلام) سے افضل ہوں۔
(دافع البلاء ص:۱۳، خزائن ج:۱۹ ص:۱۶۴)
۸:۔۔۔ وانی قتیل الحب لٰکن حُسَینکم ۔۔۔۔۔۔ قتیل العداء فالفرق اجلٰی واظھر۔
(میں عشق کا مقتول ہوں، مگر تمہارا حُسین دُشمن کا مقتول ہے، فرق بالکل ظاہر ہے)۔
(اعجاز احمدی ص:۸۱، خزائن ج:۱۹ ص:۱۹۳)
۹:۔۔۔ یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زِناکار تھیں۔ (العیاذباللّٰہ!)
(ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ ص:۷، خزائن ج:۱۱ حاشیہ ص:۲۹۱)
۱۰:۔۔۔ یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ (معاذاللّٰہ!) (ضمیمہ انجام آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۱۱:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے‘‘ (خزائن ج:۳ ص:۲۵۵، ۲۵۶)، اس کے پاس بجز دھوکے کے اور کچھ نہ تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ ص:۷، خزائن ج:۱۱ حاشیہ ص:۲۹۱)
۱۲:۔۔۔ میں نبی ہوں اس اُمت میں، نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶،۴۰۷)
۱۳:۔۔۔ مجھے اِلہام ہوا ہے: ’’یا ایھا الناس إنّی رسول اللہ إلیکم جمیعًا‘‘ (لوگو! میں تم سب کی طرف اللّٰہ کا رسول ہوکر آیا ہوں)۔
(مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۰)
۱۴:۔۔۔ میرا منکر کافر ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۱۵:۔۔۔ میرے منکروں بلکہ متأملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔ (فتاویٰ احمدیہ، جلد اوّل ص:۱۸)
۱۶:۔۔۔ مجھے خدا نے کہا ہے: ’’إسمع ولدی!‘‘ (اے میرے بیٹے سن!)۔ (البشریٰ ص:۴۹، حصہ اوّل)
۱۷:۔۔۔ ’’لو لاک لما خلقت الأفلاک‘‘ (اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا)۔
(حقیقۃ الوحی ص:۹۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۲)
۱۸:۔۔۔ میرا اِلہام ہے: ’’وما ینطق عن الھویٰ‘‘ یعنی میں بلاوحی نہیں بولتا۔
(اربعین نمبر۳ ص:۳۶، خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۶)
۱۹:۔۔۔ مجھے خدا نے کہا ہے: ’’وما أرسلناک إلَّا رحمۃً للعالمین‘‘ یعنی خدا نے مجھے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
(حقیقۃالوحی ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۸۵)
363
۲۰:۔۔۔ مجھے خدا نے کہا: ’’إنّک لمن المرسلین‘‘ (خدا کہتا ہے کہ تو بلاشک رسول ہے)۔
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۱:۔۔۔ ’’اتانی ما لم یؤْت احد من العالمین‘‘ (خدا نے مجھے وہ عزّت دی جو کسی کو نہیں دی گئی)۔
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۲:۔۔۔ ’’إن اللہ معک إن اللہ یقوم اینما قمت‘‘ (خدا تیرے ساتھ ہوگا جہاں کہیں تو رہے)۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۱۷، خزائن ج:۱۱ حاشیہ ص:۳۰۱)
۲۳:۔۔۔ ’’إنّا أعطیناک الکوثر‘‘ خدا نے مجھے حوضِ کوثر دِیا۔ (انجام آتم ص:۵۸، خزائن ج:۱۱ ص:ایضاً)
۲۴:۔۔۔ ’’(رأیتنی) فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو ۔۔۔۔۔ فخلقت السماوات والأرض‘‘ (میں نے اپنے آپ کو بعینہٖ خدا دیکھا اور میں یقینا کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین آسمان بنائے)۔
(آئینہ کمالات ص:۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج:۵ ص:ایضاً)
۲۵:۔۔۔ میرے مرید کسی غیرمرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد دوم ص:۷)
جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ کسی مسلمان کا رِشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجب اِفتراق ہے یا نہیں؟
الجواب
۱:۔۔۔از ریاست بھوپال (سنی)
مندرجہ سوال ھٰذا میں متعدّد ایسے اقوال ہیں جن کے کلمۂ کفر ہونے میں تأویل بھی نہیں ہوسکتی، لہٰذا جس شخص کے عقائد ایسے ہوں، وہ بوجہ مخالفت اسلام کے جماعتِ اسلام سے جدا ہے اور مسلمان مرد وعورت کا نکاح ایسے خارج عن الاسلام سے دُرست نہیں۔(۱)
| مہر دستخط |
|
محمد یحییٰ عفااللّٰہ عنہ |
|
|
مفتی بھوپال، ۳؍رجب ۱۳۳۶ھ |
(۱)قال تعالٰی: ’’ وَلاَ تُنکِحُوْا الْمُشِرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا‘‘ (البقرۃ:۲۲۱)۔
ومنھا: إسلام الرجل، إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاحح المؤْمنۃ الکافر، لقولہ تعالٰی: ’’وَلاَ تُنکِحُوْا الْمُشِرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا‘‘ ولأن فی النکاح المؤْمنۃ الکافر خوف وقوع المؤْمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح)۔
ایضًا: إعلم ان تصرفات المرتد علٰی أقسام، نفاذ بالإتفاق کالإستیلاء، والطلاق ۔۔۔۔۔۔۔۔ وباطل بالإتفاق کالنکاح والذبیحۃ لأنہ یعتمد الملّۃ ولا ملّۃ لہ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۵۸۳)۔
ایضًا: ولا یصلح ان ینکح مرتد اور مرتدۃ أحد من الناس۔ وفی الشامیۃ: (قولہ مطلقًا) ای مسلمًا أو کافرًا أو مرتدًا۔ (فتاویٰ شامی مع درمختار ج:۳ ص:۳۰۰)۔
364
۲:۔۔۔ از ریاست رامپور
جو شخص مرزائے قادیانی کے اقوالِ مذکور میں تصدیق کرے، وہ اعلیٰ درجے کا ملحد اور کافر ہے۔(۱) ایسے شخص کے یہاں نکاح کرنا مطلقاً حرام ہے، اور اگر کوئی شخص بعد نکاح اقوالِ مذکورہ میں مرزائے قادیانی کی تصدیق کرے گا تو اس سے اِفتراق لازم ہوگا۔
دستخط ظہورالحسن محلہ پہلوار
| ذالک کذالک |
الأمر کما حررہ مولانا السید ظھور الحسن |
فإن القول ما قالت حذام |
الأمر کذالک |
| مظفرعلی خان مقبرہ عالیہ |
انصار حسین عفی عنہ |
ذُوالفقار حسین عفی عنہ |
فقیر سیّد تاثیر حسین عفی عنہ |
۳:۔۔۔ از ریاست حیدرآباد
یہاں کے جوابات کی بجائے کتاب ’’افادۃ الافہام بجواب ازالۃ الاوہام‘‘ مصنفہ جناب مولانا مولوی محمدانواراللّٰہ خاں مرحوم، ناظم اُمور مذہبیہ کا مطالعہ کرلینا کافی ہوگا۔
۴:۔۔۔ از دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور (سنی)
اقوالِ مذکورہ کا کفر واِرتدد ہونا ظاہر ہے۔ پس وہ شخص جو ایسا کہتا اور عقیدہ رکھتا ہے، اور جو اس کی پیروی اور تصدیق کرنے والے ہیں، وہ کافر ومرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔(۲) اہلِ اسلام کو ان سے مناکحت دُرست نہیں اور ان کے ساتھ نکاح منعقد نہ ہوگا۔(۳) اگر کوئی مسلمان نکاح کے بعد مصدق قادیانی کا ہوجائے تو وہ فوراً مرتد ہوجائے گا اور نکاح اس کا فسخ ہوجائے گا اور تفریق لازم ہوگی۔(۴)
مہر ودستخط
عزیزالرحمن عفی عنہ
مفتی مدرسی دیوبند ۱۲؍رجب ۱۳۳۶ھ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| گل محمد خاں مدرّس مدرسہ عربیہ دیوبند |
غلام رسول عفی عنہ |
الحسن عفی عنہ |
محمد رسول خان عفی عنہ |
فقیراصغر حسین عفی عنہ |
(۱)قال الموفق فی المغنی: ومن ادعی النبوۃ أو صدق من إدّعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صارو ا بذالک مرتدین۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۶، طبع إدارۃ القرآن)
(۲)المرتد ھو لغۃً الراجع مطلقًا وشرعًا، الراجع عن دین الإسلام، ورکنھا: إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الإیمان۔ (شامی ج:۴ ص:۳۲۱، باب المرتد)۔
ایضًا: فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات فقد آمن ببعض الکتاب وکفر ببعضہ وھو من الکافرین۔ (إکفار الملحدین ص:۴، طبع پشاور)۔
(۳) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ کیجئے۔
(۴)وارتداد احدھما (الزوجین) فسخ، فلا ینقص عددًا عاجل بلا قضاء۔ (درمختار ج:۳ ص:۱۹۳)۔
365
| اصاب المجیب |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صواب |
الجواب صواب |
| محمد اِعزازعلی عفی عنہ |
محمد اِدریس عفی عنہ |
احمدامین عفی عنہ |
محمد تفضل حسین عفی عنہ |
عبدالوحید عفی عنہ |
۵:۔۔۔ از تھانہ بھون ضلع سہارنپور (سنی)
جو مسلمان ایسے عقائد اِختیار کرے، جن میں بعضے یقینی کفر ہیں، بحکم مرتد ہے،(۱) اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے، اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں،(۲)اور نکاح ہوجانے کے بعد اگر عقائدِ کفریہ اِختیار کرلے تو نکاح فسخ ہوجائے گا۔(۳)
دستخط
اشرف علی عفی عنہ
حکیم الامۃ مصنف تصانیف کثیرہ ۱۳۳۶ھ
۶:۔۔۔ مدرسہ عربیہ مظاہرالعلوم سہارنپور (سنی)
سوال مذکورالصدر میں اکثر ایسے اُمور ذِکر کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائز اور موجبِ کفر واِرتداد کے قابل ہیں، پس جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہو، اور ان اقوال کا مصدق ہو تو اس کے کفر میں کچھ کلام نہیں، وہ شرعاً مرتد ہوگا، جس کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اور جو پہلے سے اہلِ اسلام تھا، بعد نکاح کے قادیانی عقائد کا ہوگیا، اس کا نکاح فوراً شرعاً باطل ہوجائے گا۔ قضائِ قاضی اور حکمِ حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں: ’’إرتداد أحدھما (الزوجین) فسخ عاجل بلا قضاء۔‘‘ (شامی ج:۲ ص:۴۲۵) ’’لا یجوز لہ ان یتزوج مسلمۃ إلخ، ویحرم ذبیحتہ وصیدہ بالکلب والباز والرمی‘‘ (عالمگیریہص:۸۷۷)۔
حررہ عنایت الٰہی
مہتمم مدرسہ مظاہرالعلوم۹؍اپریل ۱۹۱۸ء
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح بلا ارتیاب |
| خلیل احمد |
ثابت علی |
عبدالرحمن |
عبداللطیف |
عبدالوحید سنبھلی |
| قد أصاب من أجاب |
الجواب صحیح |
ھٰذا ھو الحق |
الجواب صحیح |
الجواب حق |
| ممتاز میرٹھی |
منظوراحمد |
محمد اِدریس |
عبدالقوی |
محمد فاضل |
| الجواب صحیح |
جواب المجیب صحیح |
المجیب مصیب |
ھٰذا الجواب حق |
| بدرعالم میرٹھی |
علم الدین حصاری |
غلام حبیب پشاوری |
عبدالکریم نوگانوی |
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱،۲۔
(۲) دیکھیں ص:۳۶۴ پر حاشیہ نمبر۱۔
(۳) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۴۔
366
| ھٰذا جواب صحیح |
جواب المجیب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| فصیح الدین سہارنپوری |
محمد روشن الدین محمدپوری |
نورمحمد |
دلیل الرحمن |
| الجواب صحیح |
الجواب حق |
اللہ در المجیب |
| محمد بلوچستانی |
ظریف احمد مظفرنگری |
محمد حبیب اللّٰہ |
۷:۔۔۔ رائے پور ضلع سہارنپور (سنی)
جو شخص مسلمان ہوکر ان اقوال عقائد کا معتقد ہو وہ بلاتردّد مرتد ہے،(۱) اس سے کوئی اسلامی معاملہ کرنا اور رِشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں،(۲) اور جو ان کے عقائد تسلیم کرکے مرتد ہوجائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہے۔(۳)
حررہ نورمحمد لدھیانوی مقیم رائے پور
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
مصدق |
مصدق |
مجھے اتفاق ہے |
| عبدالقادر شاہ پوری |
مقبول سبحانی کشمیری |
عبدالرحیم رائے پوری |
خدابخش فیروزی |
محمد سراج الحق |
| جواب دُرست ہے |
ھٰذا الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد صادق شاہ پوری |
احمد شاہ اِمام مسجد بھٹ |
اللّٰہ بخش بہاولنگر |
۸:۔۔۔ از شہر کلکتہ (سنی)
ان باتوں کا ماننے والا اقسام کفر وشرک کا معجون مرکب ہے، پس ایسی حالت میں ان سے عقد مناکحت ومواخاۃ بالکل جائز نہیں اور یہ سب عقائد باعثِ اِرتاد وموجبِ تفریق نکاح ماسبق ہیں۔(۴)
کتبہ عبدالنور
مدرّس اول، مدرسہ دارالہدیٰ کلکتہ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| افاض الدین |
ابوالحسن محمد عباس |
محمد سلیمان مدرّس مدرسہ دارالکتاب والسنۃ |
شمس العلماء مفتی محمد عبداللّٰہ صدر مدرّس مدرسہ عالیہ کلکتہ |
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ فرمائیں۔
(۳) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۳ ملاحظہ فرمائیں۔
(۴) ایضاً سابقہ حوالے۔
367
| الجواب صحیح |
الجواب موافق للکتاب والسُّنّۃ |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| احمد سعید انصاری سہارنپوری حال وارِد کلکتہ |
عبدالرحیم |
محمد یحییٰ |
محمد اکرم خان سیکریٹری انجمن علماء بنگالہ ایڈیٹر اخبار محمدی کلکتہ |
| الجواب صحیح |
لا ریب فی صحۃ الجواب |
لا ریب فی الجواب |
لا ریب فی الجواب |
| محمد یحییٰ مدرّس مدرسہ عالیہ کلکتہ |
محمد مظہر علی |
عبدالصمد اسلام آبادی مدرّس |
صفی اللّٰہ شمس العلماء مدرّس |
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| عبدالواحد، مدرّس دوم مدرسہ دارالہدیٰ |
محمد زُبیر |
ضیاء الرحمن از کلکتہ کولوٹولہ نمبر۶ مسجد اہل حدیث ۲۴؍رجب ۱۳۳۶ھ |
۹:۔۔۔ از شہر بناس (سنی)
مرزاقادیانی مسائل اعتقادیہ منصوصہ کا منکر ہے، لہٰذا ایسا عقیدہ رکھنے والے کے ساتھ عقد مناکحت واستقرارِ نکاح ہرگز نہیں ہوسکتا، اور تصدیق (مرزاقادیانی) بعد نکاح موجبِ اِفتراق وفسخِ نکاح ہوگا۔(۱)
کتبہ محمد ابوالقاسم البنارسی
مدرسہ عربیہ محلہ سعیدنگر، بنارس
۱۰؍جمادی الاخریٰ ۱۳۳۶ھ
| میں بھی اس تحریر کے موافق ہوں |
ماکتب صحیح |
الجواب صحیح |
| محمد شیرخان مدرّس، کان اللّٰہ لہ |
حکیم محمد حسین خان |
محمد عبداللّٰہ مدرّس کانپوری |
| الجواب صحیح |
جواب صحیح ہے |
| محمد حیات احمد |
حکیم عبدالمجید عفی عنہ |
۱۰:۔۔۔ شہرآرہ (سنی)
اقوال مندرجہ سوال مرزاقادیانی کا حد کفر تک پہنچنا ظاہر ہے، بلکہ اس کے بعض اقوال سے شرک ثابت ہوتا ہے اور مشرکین کے حق میں وارد ہے:’’وَلاَ تُنکِحُوْا الْمُشِرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا‘‘ الآیۃ (البقرۃ:۲۲۱) اور مرزا کے منکرِ رِسالت ہونے میں کوئی کلام نہیں، بلکہ وہ خود مدعی نبوّت واُلوہیت ہے ....اعاذنا اللّٰہ منہ....، پس جو لوگ ان اقوال کے قائل ومصدق ومعتقد ہیں، ہرگز وہ مؤمن نہیں ہیں، ان کے ساتھ مخالطت ومجالست ومناکحت جائز نہیں۔ قال تعالٰی: ’’وَلَاتَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْافَتَمَسَّکُمُ النَّارُ‘‘ (ہود:۱۱۳) کما
(۱) ایضاً۔
368
صرح بہ المفسرون المحققون من المتقدمین منھم والمتأخرین، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
بالجملہ قادیانیوں کے ساتھ کسی مسلمہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں،(۱) اور اگر نکاح ہوگیا تو تفریق کرادینی چاہئے، اور اگر کوئی مسلمان قادیانی ہوگیا تو اس کا نکاح بلاطلاق فسخ ہوگیا، اس کی عورت کسی مسلمان صالح سے نکاح کرسکتی ہے،(۲) واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ ابوطاہر البہاری عفا عنہ الباری
المدرّس الاوّل فی المدرسۃ الاحمدیۃ
| قد صح الجواب |
قد أصاب من أجاب |
| محمد طاہر ابن حضرت مولانا محمد طاہر دام فیضہ |
محمد مجیب الرحمن دربھنگوی |
۱۱:۔۔۔ بدایوں (سنی)
مرزائیوں سے رشتۂ زوجیت قائم کرنا حرام ہے، اگر لاعلمی سے ایسا ہوگیا تو شرعاً نکاح ہی نہ ہوا۔ کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر کے ساتھ قطعاً حرام ہے (ھٰکذا فی کتب الفقہ)۔ اگر بعد نکاح کوئی مسلمان باغوائے شیطان عقائد کفریہ مرزائیہ کا معتقد ہوگیا تو اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی، اور اگر عورت معتقد ہوگئی تو اس کا نکاح قائم نہ رہے گا، مثل مرتدین کے ہوجائے گا۔
| مہر |
مہر |
| محمد اِبراہیم قادری بدایونی |
محمد قدیرالحسن حنفی قادری |
| الجواب صحیح |
الجواب صواب |
ذالک کذالک |
مہر |
الجواب صحیح |
| محمد حافظ الحسن مدرّس مدرسہ محمدیہ |
احمدالدین مدرّس مدرسہ شمس العلوم |
شمس الدین قادری فریدپوری |
محمد عبدالحمید |
حسین احمد |
| واحد حسین مدرّس مدرسہ اسلامیہ |
عبدالرحیم قادری |
محمد عبدالماجد منظورحق مہتمم مدرسہ شمس العلوم |
فضل الرحمن ولایتی |
عبدالستار عفی عنہ |
۱۲:۔۔۔ شہر الوردسنبھل (سنی)
مرزا کافر مرتد ملعون خارج اَزاِسلام ہے، اور ایک ہے ان تیس میں جن کی خبر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دی ہے کہ
(۱) دیکھیں صفحہ:۳۶۴ پر حاشیہ نمبر۱۔ (۲) دیکھیں صفحہ:۳۶۵ پر حاشیہ نمبر۴۔
369
میرے بعد تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے جو اپنی نبوّتِ باطلہ کا دعویٰ کریں گے، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں،(۱) اور جو شخص غلام احمد قادیانی کا ہم عقیدہ ہے، وہ بھی کافر ہے۔(۲) مسلمان عورت اور مردوں کا نکاح ان مرتدین کے رجال ونساء سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح پہلے سے ہوچکا تھا پھر زوجین میں سے کسی ایک نے ان کفریات کا اِرتکاب کیا تو فوراً ہی نکاح ٹوٹ گیا، زن وشوہر کا جو تعلق ورشتہ تھا، وہ منقطع ہوگیا، اب اگر صحبت ہوگی تو زنا ہوگا، اور اولاد حرامی۔۔۔!
حررہ العبد المسکین محمد عمادالدین سنبھلی السنی الحنفی القادری
بے شک ایسے کفری قول کرنے والا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے اور مرتد، اور اس کا مسلمانوں سے نکاح جائز نہیں۔
محمد ابوالبرکات سیّد احمدالوریٰ سلَّمہ اللّٰہ القوی
۱۳:۔۔۔ از آگرہ (اکبرآباد) وبلندشہر (سنی)
الف:۔۔۔ جو ان اقوالِ کفریہ کا مصداق ہے، وہ کافر ہے،(۳) اس کے ساتھ مسلم غیرمصدقہ کا رِشتہ زوجیت جائز نہیں۔ اور زوجین میں سے کسی ایک کا بعد نکاح ان اقوال کی تصدیق کرنا موجبِ اِفتراق ہے، فقط!
محمد محمام، اِمام مسجد جامع آگرہ
ب:۔۔۔ ان اقوال کے قائل اور معتقد کے ساتھ نکاح مطلق جائز نہیں، اور ایسا نکاح موجبِ اِفتراق ہے۔
ج:۔۔۔ قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں، اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہوجائے، اس کا نکاح فسخ ہوگا، (انتہیٰ مختصر فقط)۔
حررہ العبد الراجی رحمۃ ربہ القوی
ابومحمد دیدار علی الرضوی الحنفی المفتی فی جامعۃ اکبرآباد
د:۔۔۔ عقائد مندرجہ سوال رکھنے والا قطعاً کافر ہے، عورت اس کے نکاح سے باہر ہے، اہلِ اسلام کو چاہئے کہ اَحکام ومعاملات میں ان سے اِحتراز رکھیں، ھٰکذا فی کتاب الإسلام۔
خادم الطلبہ محمد مبارک حسین محمودی
صدر مدرّس مدرسہ قاسم العلوم ضلع بلندشہر
۱۴:۔۔۔ از مرادآباد (سنی)
غلام احمدقادیانی کے کفریات بدیہی ہیں کہ جن پر اِستدلال کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس کے تابعین سے رشتہ اُخوّت، سلسلۂ مناکحت، تعلق محبت، ربط، ضبط، شرعاً قطعی حرام ہے۔ ہرگزہرگز ان اسلامی رُوپ کے کافروں سے مؤمنین کو کوئی دینی
(۱) وإنہ سیکون فی اُمّتی کذّابون ثلاثون کلھم یزعم أنہ نبی اﷲ، وأنا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۶۵)۔
(۲) فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإسلام، وکذا من لم یقل بکفرہ وارتدادہ وظنہ ولیًّا أو مجدّدًا أو مصلحًا فإنہ کذاب دجال قد افتریٰ علی ا اللہ ورسولہ کذبًا ۔۔۔۔۔إلخ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۷)۔
(۳) ومن ادعی النبوۃ او صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا مرتدین۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۶)۔
370
تعلق نہ رکھنا چاہئے۔ ان سے نکاح زنا ہوگا، جو دِین میں وبال ونکال ہے۔
خادم العلماء والفقراء
غلام احمد حنفی قادری مرادآبادی
۱۸؍رجب ۱۳۳۶ھ
۱۵:۔۔۔ شہر لکھنؤ (از حضرات شیعہ)
(نوٹ) حضراتِ شیعہ کے فتوے اس لئے معدودے چند ہیں کہ ان میں سوائے مجتہد کے کوئی دُوسرا فتویٰ نہیں دے سکتا، اور مجتہد کا فتویٰ تمام افرادِ شیعہ کو ماننا پڑتا ہے۔
الف:۔۔۔ الجواب ومن اللہ التوفیق! عقد مسلم یا مسلمہ، قادیانی یا قادیانیہ سے جائز نہیں، اور اگر کوئی مسلم یا مسلمہ خدانخواستہ قادیانی مذہب اِختیار کرے تو نکاح اس کا باطل ہوجائے گا، واللّٰہ العاصم!
ناصر علی عفی عنہ بقلمہ
ب:۔۔۔ باسمہ سبحانہ! جو شخص ان اقوال کا قائل اور ان معتقدات کا معتقد ہو۔ اس کا عقد ان مسلمین ومسلمات سے اور علی الخصوص مؤمنین وشیعیان اثناعشرہ سے جو کہ ان معتقداتِ باطلہ کے قائل ومعتقد نہیں ہیں، حرام وباطل ہے، اور تصدیق ان عقائد کے بعد عقد بھی موجبِ اِفتراق وبطلانِ عقد ہے۔
حررہ السید آقاحسن
ج:۔۔۔ باسمہ سبحانہ! جو شخص ان تمام اُمور مندرجہ اِستفتاء کا معتقد ہو، وہ کافر ہے، اس کے ساتھ زن مسلمان کا عقد ناجائز وباطل ہے۔ اور جس زن مسلمہ کا شوہر بعدالاسلام ان عقائد کا معتقد ہوجائے، اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا، بلکہ جمیع اَحکام کفر واِرتداد ایسے اِعتقاد والے جاری ہوجائیں گے، واللّٰہ اعلم!
سیّد نجم الحسن عفی عنہ بقلمہ
۱۶:۔۔۔ شہر لکھنؤ ندوۃالعلماء (سنی)
جو شخص ان اقوال مندرجہ اِستفتاء کا مصدق ہو، اس کے ساتھ مسلمہ غیرمصدقہ کا رِشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں، اور جو شخص کہ نکاح کے بعد ان اقوال کا مصداق ہوا، اس کی یہ تصدیق ضرور موجبِ اِفتراق ہے۔قال تعالٰی: ’’فَإِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ‘‘ (الممتحنہ:۱۰) خداتعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم یقینا معلوم کرلو کہ عورتیں مسلمان ہیں تو کبھی کفار کو واپس نہ دو، نہ یہ (عورتیں) ان کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں۔ واللّٰہ اعلم!
کتبہ محمدعبداللّٰہ
۱۱؍جمادی الاخریٰ ۱۳۳۶ھ
جو ان اقوال کا معتقد اور مصدق ہے، وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے، اور نکاح وغیرہ ایسے لوگوں سے ناجائز ہے۔
حررہ الراجی رحمۃ ربہ القوی ابوالحماد محمد شبلی
المدرّس فی دارالعلوم لندوۃالعلماء عفی عنہ
مذکورہ بالا جوابات بالکل صحیح ہیں۔
عبدالودود عفی عنہ، مدرّس دارالعلوم
371
ان اقوالِ مذکورہ اِستفتاء کا جو شخص قائل ہو، وہ کافر ہے اور اِسلام سے خارج ہے، مناکحت وغیرہ اس سے جائز نہیں۔
امیرعلی عفااللّٰہ عنہ
مہتمم دارالعلوم ندوۃالعلماء
معتقد ان اِعتقادات کا مسلمان نہیں ہے، لہٰذا کسی مسلمان کا نکاح ان سے جائز نہیں، اور اگر نکاح کیا گیا ہو، وہ عدمِ محض سمجھا جائے گا اور تفریق واجب ہوگی۔
حیدرشاہ
فقیہ دوم، دارالعلوم ندوۃالعلماء
واقعی بعض اَزمعتقداتِ مذکورہ کفر است ومعتقد را بسر حد کفر رساند وکفر کہ بعد اِیمان اِرتداد است وبامرتد ومرتدہ نکاح ایماندار درست نیست۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
حررہ الراجی الی رحمۃ ربہ الباری
محمد عبدالہادی الانصاری
حفید العلامۃ مُلّا مبین شارح السلم والمسلم
اسکنہ اللہ فی أعلٰی علّیّین
میں نے ایک عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات ودعاوی کی تحقیق کی، دوران تحقیق میں اس امر کا خاص لحاظ رکھا کہ ذرّہ بھر نفسانیت کا دخل نہ ہو، لیکن خدا اس کا بہتر شاہد ہے کہ جس قدر میں تحقیق کرتا گیا، اسی قدر میرا یہ اِعتقاد پختہ ہوتا گیا کہ جو لوگ مرزاقادیانی کی تکفیر کرتے ہیں، یقینا وہ حق پر ہیں، پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے مناکحت وغیرہ ہرگز جائز نہیں، اگر نکاح ہوچکا ہو تو تفریق ضروری ہے۔
حررہ ابوالہدیٰ فتح اللّٰہ اِلٰہ آباد کان اللّٰہ لہٗ
حال مدرّس اوّل انجمن اصلاح المسلمین لکھنؤ
۱۷:۔۔۔ از شہر دہلی (سنی)
الف:۔۔۔ فرقہ قادیانی قطعاً منکر آیاتِ قرآنی اور اَحادیثِ صحیحہ اور اِجماعِ اُمت کا ہے، اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، ان سے مناکحت یقینا ناجائز اور باطل ہے۔
حکیم ابراہیم مفتی دہلوی مدرسہ حسینیہ
ب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال مندرجہ سوال اکثر میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنادینے کے لئے کافی ہیں۔ پس مرزاقادیانی اور جو شخص ان کا ان کلماتِ کفریہ کا مصدق ہو، سب کافر ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی تو غیراحمدی کا جنازہ بھی حرام بتائیں، اور غیراحمدی ان کے ساتھ رشتے ناطے کریں، آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے!
حررہ محمد کفایت اللّٰہ غفرلہٗ
مدرّس مدرسہ امینیہ دہلی
ج:۔۔۔ جو شخص مرزائے قادیان کا ان اقوالِ مذکورہ میں مصدق ہو، اس کے ساتھ غیرمسلم غیرمصدق کا رِشتہ مناکحت کرنا ہرگز
372
جائز نہیں، اور تصدیق کے بعد موجبِ اِفتراق ہے۔
حررہ السیّد ابوالحسن عفی عنہ
| الجواب صحیح |
ما أجاب المجیب فھو حق جری ان یعمل بہ |
| احمد سلمہ الصمد، مدرّس مدرسہ مسجد حاجی علی جان مرحوم دہلی |
حررہ ابومحمد عبیداللّٰہ مدرّس مدرسہ دارالہدیٰ کشن گنج دہلی |
مرزائی بوجہ اپنے کفر کے اس قابل نہیں کہ ان سے مسلمان رشتہ داری، مناکحت ومجالست کریں، اور نہ ایسے لوگوں میں مسلمان عورت کا نکاح ہوسکتا ہے۔
حررہ الراجی رحمۃ الحنان عبدالرحمن
مدرسہ دارالہدیٰ
د:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے، اور جتنے اس کے (اقوال مندرجہ سوال میں) معتقد ہیں، سب کافر ومرتد ہیں۔ ان کے نکاح میں مسلمہ عورتیں دینا جائز نہیں۔ مسلمانو! بچو اور اپنے بھائیوں کو ان سے بچاؤ!
حررہ احمداللّٰہ
مدرّس مسجد حاجی علی جان دہلی
الجواب صحیح
| عبدالستار کلانوری نزیل دہلی مفتی مدرسہ دارالکتب والسنۃ ۱۰؍جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ |
عبدالعزیز عفی عنہ |
عبدالرحمن عفی عنہ |
عبدالسلام خلف مولوی عبدالرحمن |
ابوتراب عبدالوہاب عفی عنہ |
للّٰہ در المجیب ابوزبیر محمد یونس پرتاب گڑھی مدرسہ علی جان |
۱۸:۔۔۔ ہوشیارپور (سنی)
مرزائے قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی جو تصدیق کرتا ہے، اس کا رِشتہ ونکاح کسی مسلمان سے ہرگزہرگز جائز نہیں، اور جو شخص اس کے عقائد باطلہ کی تصدیق بعد عقد زوجیت کرے تو اس کی یہ تصدیق موجبِ تفریق اور باعث فسخِ نکاح ہے۔
خادم اراکین انتظامیہ ندوۃالعلماء
| ھٰذا ھو الجواب الحق مولوی احمد علی عفی عنہ نورمحلے |
غلام محمد ہوشیارپوری |
۱۹:۔۔۔ لدھیانہ (سنی)
الف:۔۔۔ ایسے عقائد مذکور کا شخص کافر، بلکہ اکفر! ان سے رشتہ لینا دینا دُرست نہیں ہے۔
کتبہ العبدہ العاجز علی محمد عفا عنہ
مدرّس مدرسیہ حسینیہ لدھیانہ
ب:۔۔۔ چونکہ یہ شخص نصوصِ قطعیہ کا منکر ہے اور یہ کفر واِرتداد ہے، اس لئے ایسے کافر ومرتد سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اور
373
اگر قبل اَزاِرتداد نکاح ہوا تو اِرتداد سے فسخ ہوجاتا ہے۔
حررہ رحمت علی
مدرّس مدرسہ غزنویہ محلہ دھولیوال
الجواب صحیح
| محمد عبداللّٰہ عفی عنہ، مدرّس مدرسہ غزنویہ |
نور محمد اَزشہر لدھیانہ |
عاجز حافظ محمدالدین مہتمم مدرسہ بستان الاسلام لدھیانہ محلہ صوفیاں |
۲۰:۔۔۔ لاہور (سنی وشیعہ صاحبان)
الف:۔۔۔ چونکہ مرزائے قادیانی اور اس کے پیروؤں کا کفر من جانب علمائے ہند وپنجاب قطعی ہے، لہٰذا ان کے ساتھ کسی مسلمہ عورت کا نکاح جائز نہیں، اور بروقت ظہور مرزائیت نکاح فسخ ہوجائے گا۔
نوربخش (ایم اے)
ناظم انجمن نعمانیہ لاہور
ب:۔۔۔ صورتِ مرقومہ میں جس قدر عقائد بیان کئے گئے ہیں، اَزرُوئے قرآن وحدیث کے وہ سب باطل اور کفر ہیں، بلکہ بعض تو حدِشرک تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ان عقائد کا مدعی جس طرح دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کے مرید اور معتقد بھی چونکہ لازماً اس حکم میں داخل ہیں، لہٰذا ان سے بہرطور معاشرت کرنا اور ان کو معابد ومساجد میں آنے دینا، ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا، ان سے رشتہ وناطہ کرنا شرعاً سب ناجائز اور فعل حرام اور معصیتِ عظیم ہے۔ خاص کر ان کو لڑکی کا رِشتہ دینے کی ممانعت تو نہایت ہی مؤکد اور اہم ہے(لأن المرأۃ تأخذ من دین بعلھا) کیونکہ عورت اپنے خاوند سے دِین حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ عورت ضعیف العقل ہونے کے سبب شوہر کے دِین کو اِختیار کرلیتی ہے، اعاذنا اللہ وجمیع المؤْمنین من النفس الأمّارۃ بالسوء والضلالۃ بعد الھدیٰ، وھو العالم! من مبارک حویلی لاہور
رقمہ خادم الشریعۃ المطہرۃ علی الحائری بقلمہ
۲۱:۔۔۔ شہر پشاور مع مضافات (سنی)
عقائد مرقومہ کا معتقد اور مصدق یقینا اسلام سے خارج ہے اور کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے شخص سے جائز نہیں، اور تصدیق بعد اَزنکاح موجبِ اِفتراق ہے۔ تمام کتبِ فقہ میں ہے: ’’وارتداد أحدھما فسخ فی الحال‘‘ کہ بیوی،میاں سے کسی کا مرتد ہونا نکاح فوراً فسخ کرتا ہے۔
حررہ محمد عبدالرحمن ہزاروی
الجواب صحیح
| بندہ محمود، شہر پشاور |
عبدالواحد اَزپشاور |
عبدالرحمن بقلم خود |
مفتی عبدالرحیم پشاوری |
| محمد خان پوری |
محمد رمضان پشاوری |
مولوی عبدالکریم پشاوری |
حافظ عبداللّٰہ نقشبندی |
374
۲۲:۔۔۔ راولپنڈی مع مضافات (سنی)
جو اَلفاظ مرزا غلام احمد کے اِستفتاء میں ذِکر ہوئے، یہ تمام کفریہ ہیں، پس عورت مسلمان کا نکاح مرزائی کے ساتھ ہرگز جائز نہیں، اور اگر پہلے وہ مسلمان تھا اور پیچھے وہ مرزائی ہوگیا اور عورت مسلمان ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
کتبہ عبدالاحد خانپوری، از راولپنڈی
الجواب صحیح، عبداللّٰہ عفا عنہ، از مدرسہ سنیہ راولپنڈی، سیّد اکبر علی شاہ متصل جامع مسجد، محمد کیچ مکرانی مقیم شہر راولپنڈی، محمد مجید اِمام راولپنڈی، محمد عصام الدین، مدرّس مدرسہ احیاء العلوم راولپنڈی، عبدالرحمن بن مولوی ہدایت اللّٰہ صاحب مرحوم اِمام مسجد اہلِ حدیث صدر، پیرفقیر شاہ از راولپنڈی۔
۲۳:۔۔۔ شہر ملتان مع مضافات (سنی)
بلااِرتیاب یہ تمام اِعتقادات صریح کفر واِلحاد ہیں، قائل ومعتقدان کا خود بھی کافر ہے اور جو شخص اس کو باوجود ان اِعتقادات کے مسلم یا مجدد یا نبی یا رسول مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے، اور بحکم آیت: ’’ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ ‘‘ (الممتحنہ:۱۰) مناکحت مسلمہ بمرزائی وبالعکس نہ ابتدائً صحیح ہے نہ بقائً، یعنی رشتہ مناکحت ہوسکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا، اسی طرح حقوقِ اِرث سے بھی حرمان ہوجاتا ہے۔
| الجواب صحیح احقر العباد ابوعبید خدابخش ملتانی عفی عنہ |
خاکسار محمد عفی عنہ از ملتان |
حررہ محمد عبدالحق ملتانی |
۲۴:۔۔۔ ضلع جہلم (سنی)
مرزائے قادیانی کے یہ دعاوی اور اسی قسم کے دُوسرے دعاوی کفر وشرک تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا اِلہام ہے کہ:’’الأرض والسماء معک کما ھو معی‘‘ (تذکرۃ ص:۶۵، طبع سوم) ۔ زمین آسمان جیسے خدا کے ماتحت ہیں ایسے مرزا کے بھی ماتحت ہیں۔
ایک اور اِلہام ہے کہ: ’’یتم اسمک ولا یتم اسمی‘‘ (تذکرہ ص:۵۱، طبع سوم) خدا کہتا ہے کہ میرا نام تو ناقص رہے گا۔ مگر تیرا نام ضرور کامل ہوجائے گا۔ پہلے دعوے میں شرک جلی اور دُوسرے میں وہ غرور دکھایا ہے کہ کسی فرعون نے بھی نہیں دکھایا۔ اس لئے جو ان اقوال کا مصداق ہو وہ بلاشبہ کافر ومشرک ہے اور کسی مسلم کو جائز نہیں کہ کسی مشرک سے تعلق زوجیت قائم رکھے اور رشتہ زوجیت قائم ہونے کے بعد ایسے عقائد کا مصدق ہونا موجبِ اِفتراق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا (محمود) نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو اس کی نبوّت کا کلمہ نہیں پڑھتا، خواہ وہ مرزا کا مکفر نہ بھی ہو، وہ کافر ہے، اور اہلِ اسلام کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ پھر مرزا نے توہین انبیاء میں کچھ کمی نہیں چھوڑی: ’’لو لاک لما خلقت الأفلاک‘‘ (حقیقۃ الوحی ص:۹۹، خزائن ج:۲ ص:۱۰۲) کے دعوے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت پر سخت حملہ کیا ہے اور اپنے آپ کو علّت تکوین عالم بتاتے ہوئے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ
375
وسلم کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا، (پھر طرفہ یہ کہ دعویٔ غلامی ہے!)۔ انتہیٰ مختصراً۔
حررہ محمد کرم الدین، از بھین ضلع جہلم، تحصیل چکوال
| نور حسین از بادشہانی |
محمد فیض الحسن مولوی فاضل بھین، ضلع جہلم |
۲۵:۔۔۔ ضلع سیالکوٹ (سنی)
الف:۔۔۔ مرزاقادیانی کے عقائد کفر ہیں، اور جو ایسے مذہب کا مصدق ہے، اس کے ساتھ رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں، بلکہ تصدیق بعد اَزنکاح موجبِ اِفتراق ہے:’’من تلفظ بلفظ کفر یکفر وانا کل من ضحک علیہ أو إستحسنہ أو یرضی بہ یکفر (قواطع الإسلام) من حسّن کلام اھل الھواء وقال معنوی او کلام لہ معنی صحیح إن کان ذالک کفر من القائل کفر الحسن (البحر الرائق) ایما رجل سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او کذبہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر با اللہ وبانت منہ امرتہ (کتاب الخراج للإمام ابویوسف)۔‘‘
ابویوسف محمد شریف عفی عنہ
کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ
ب:۔۔۔ مرزا کے عقائد کفریہ کا جو مصدق ہو وہ بھی کافر ہے، لقولہ تعالٰی: ’’وَمَن یَّتَولَّھُم مِنْکُم فَاِنَّہٗ مِنْھُم‘‘ (المائدۃ:۵۱) اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا تھا، اور مقامِ اِستدلال پر علامتِ نبوّت کے لئے کچھ مہلت مانگی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص اس سے نبوّت کی علامت طلب کرے گا، وہ کافر ہوگا، کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مکذب قرار دیا جائے گا کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں (الخیرات الحسان لابن حجر المکی)۔ پس مرزا کے مصدق سے رشتہ زوجیت جائز نہیں، کوئی کرے بھی تو کالعدم ہوگا۔
حررہ ابواِلیاس محمد اِمام الدین قادری
کوٹلی لوہاراں مغربی
ج:۔۔۔ ایسا شخص کافر ہے، اور کافر سے نکاح دُرست نہیں، جامع الفصولین وفتاویٰ ہندیہ میں ہے: ’’قال أنا رسول ﷲ، أو قال بالفارسیۃ: ’’من پیغمبرم‘‘ یرید بہ من پیغامبرم یکفر ۔‘‘ علامہ یوسف اردہیلی شافعی کتاب الانوار میں لکھتے ہیں کہ:’’من ادعی النبوۃ فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقد نبیًّا فی زمانہ او قبلہ من لم یکن نبیًّا کفر۔‘‘ جو شخص ہمارے زمانے میں نبوّت کا دعویٰ کرے یا مدعیٔ نبوّت کی تصدیق کرے یا یہ اِعتقاد رکھے کہ آپ کے زمانے میں یا آپ سے پہلے وہ شخص نبی تھا کہ جس کی نبوّت کا ثبوت نہیں، وہ کافر ہوگا۔
رقمہ ابوعبدالقادر محمد عبداللّٰہ
اِمام مسجد جامع کوٹلی مذکور
| سیّد میرحسن از کوٹلی لوہاراں |
الفقیر السید فتح علی شاہ حنفی قادری از کھروٹہ سیداں ضلع سیالکوٹ |
۲۶:۔۔۔ ضلع ہوشیارپور (سنی)
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اہلِ اسلام کے ساتھ
376
ایسے شخص کا تعلق زوجیت جائز نہیں، اور اِزدواج کے بعد اس کے دعاوی کی تصدیق موجبِ فرقت ہے۔
حررہ نورالحسن جھلملی
مدرّس مدرسہ خالقیہ کوٹ عبدالخالق
الجواب صحیح
| اللّٰہ بخش پٹیالوی مدرّس عربی مدرسہ خالقیہ |
محمد فاضل گجراتی مدرّس مدرسہ خالقیہ |
عبدالحمید جسری ازکوٹ |
عبدالخالق |
۲۷:۔۔۔ ضلع گورداسپور (سنی)
عورت اگر مرزائی عقیدے کی ہو تو نکاح نہیں ہوگا، چہ جائیکہ مرد اس عقیدے کا ہو۔ اگر بعد اِنعقادِ نکاح یہ اِعتقاد اَحدالزوجین کا ہوجائے تو نکاح باطل ہوگا، واللّٰہ اعلم بالصواب!
بندہ عبدالحق دنیانگری
مؤرخہ۲۰؍جمادی الثانیہ ۱۳۳۶ھ
۲۸:۔۔۔ ضلع گجرات پنجاب (سنی)
مرزاقادیانی کے مصدق سے اہلِ اسلام کا باہمی رابطہ اِزدواج ہرگز دُرست نہیں، فقہاء نے بعض بدعات بھی مکفرہ فرمائی ہیں، بھلا یہ تو صاف کفریات ہیں، واللّٰہ الہادی!
| الجواب صحیح بندہ عبیداللّٰہ، از ملکہ |
حررہ العبد الاواہ الشیخ عبداللّٰہ عفی عنہ، ازملکہ |
۲۹:۔۔۔ ضلع گوجرانوالہ (سنی)
الف:۔۔۔ جو لوگ اِعتقاداتِ مذکورہ میں مرزاقادیانی کے معتقد ومصدق ہیں، ان سے علاقہ زوجیت ہرگز نہ کرنا چاہئے۔
حررہ حافظ محمدالدین، مدرّس مسجد حافظ عبدالمنان مرحوم
ب:۔۔۔ بے شک جن لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے، ان کے ساتھ مخالطت اور مناکحت جائز نہیں۔
حررہ عبداللّٰہ المعروف بہ غلام نبی از سوہدرہ
الجواب صحیح
| محمد الدین نظام آبادی عفی عنہ |
عمرالدین، معلم وزیرآباد مسجد برنے والی |
خاکسار عبدالغنی |
ج:۔۔۔ بے شک مرزا کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا شریک ثابت کرتا ہے، اس لئے مرزائیوں سے مناکحت ناجائز ہے۔
حررہ احمد علی بن مولوی غلام حسن از چک بھٹی
377
۳۰:۔۔۔ شہر امرتسر (سنی)
۱:۔۔۔ مدعیانِ نبوّت ورِسالت کے اِرتداد وکفر میں کوئی اہلِ ایمان وعلم متردّد نہیں ہوسکتا، اس قسم کے لوگوں سے رشتہ وناطہ کرنا بالکل حرام ہے، اور اگر بیوی یا میاں اب مرزائی ہوجائے تو نکاح واجب الفسخ ہے، اور مقننین اہلِ اسلام کا فرض ہے کہ گورنمنٹ سے ایسے قانون کے نفاذ کی اپیل کریں تاکہ ہمارے مذہب اور ضمیر کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہ ہوسکے جس سے ہمارے حقوق تلف ہوں، کیونکہ مرزائی بجائے خود رہے، جو مرزائیوں کو مسلمان تصوّر کرے، وہ بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے، وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ختمِ رسالت وغیرہ بدیہیاتِ دِین کو غیرضروری خیال کرتے ہیں، بلکہ دراصل منکر ہیں۔
حررہ ابوالحسن غلام المصطفیٰ الحنفی القاسمی الامرتسری عفااللّٰہ عنہ
۲:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تالیفات اس کے کفر پر معتبر گواہ (شاہدعدل) ہیں، جن کے سامنے اس کا اِیمان بالکل ثابت نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص کشتی نوح، ضمیمہ انجامِ آتھم اور دافع البلاء کو دیکھنے والا اس کے کفر میں کبھی شک نہیں کرسکتا، پس جو لوگ اسے نبی مانتے ہیں، ان سے محبت، دوستی، رابطہ، رشتہ پیدا کرنا یا قائم رکھنا جائز نہیں،لقولہٖ تعالٰی: ’’لاَ تَتَّخِذُوْا الْکٰفِرِیْنَ أَوْلِیَاءَ مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ (النساء:۱۴۴)، ولقولہٖ تعالٰی: ’’لاَّ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکٰفِرِیْنَ أَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللہِ فِیْ شَیْءٍ ‘‘ (آل عمران:۲۸)۔
اِمام ومتولّی مسجد کوچہ سعی امرتسر
۳:۔۔۔ مرزاقادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے، (دیکھو شرح فقہ اکبر، مُلّاعلی قاری)۔(۱) لہٰذا جماعتِ مرزائیہ خارج اَزاِسلام ہے، سب مسلمانوں کا اس پر اِتفاق ہے۔ اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہے، اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا، وہ زِنا ہے، اور ایسی حالت میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے، ولدالزنا ہوگی، اور مرتد جب بغیر توبہ کے مرجائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے، بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل وکفن کے گڑھے میں ڈالا جائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب الأشباہ والنظائر)، اللّٰہم توفنا مسلمین وألحقنا بالصالحین ولا تجعلنا من المرزائیین۔
| الجواب صحیح محمد حسین |
حررہ عبدالغفور الغزنوی عفااللّٰہ عنہ |
۴:۔۔۔ مرزاقادیانی کا فتنہ اسلام میں آفاتِ کبریٰ سے ہے، اس کا کفر علمائے ربانیین نے قدیماً وحدیثاً ثابت کیا ہوا ہے۔ اہلِ اسلام کے اس باب میں کئی کتب ورسائل واِشتہارات موجود ہیں۔ اور وہ اسی عقیدۂ کفریہ پر مرگیا ہے، اب بھی جو کوئی اس کو نبی جانے اور اسی طرح کا عقیدہ رکھے، وہ بھی بلاریب بموجب شریعتِ محمدیہ ....علیٰ صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ .... کافر ہے، اور مؤمنہ سُنّیہ
(۱)دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ا اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی دھلی)۔
378
سے اس کا نکاح فسخ ہے، اور مؤمنہ سُنّیہ کا نکاح مرزائی سے باندھنا حرام ہے، اور یہ نکاح باطل ہے۔قال اللہ عزّ وجل: ’’لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ‘‘ الآیۃ (الممتحنہ:۱۰) ھٰذا فقط، واللّٰہ اعلم!
ابواسحاق نیک محمد عفی عنہ
مدرّس مدرسہ غزنویہ تقویۃالاسلام، امرتسر
۵:۔۔۔ بندہ کو مضامین بالا مذکورہ میں اِتفاق ہے، واقعی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد باطلہ دائرۂ اسلام سے اس کو خارج کرتے ہیں، فقط!
محمد تاج الدین
مدرّس بی این ہائی اسکول امرتسر
۶:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے علی الاعلان دعویٰ نبوّت کیا اور دیگر انبیاء کی توہین کی، بعض کو گالیاں دیں اور مذکورۃالصدر سارے دعوے بھی کئے، جن کی بنا پر وہ خود کافر ہوکر مرا۔ اس کے ماننے والے بھی کافر، ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کرلیا جائے۔
سیّد عطاء اللّٰہ شاہ بخاری
۷:۔۔۔ اقوالِ مذکورہ اکثر کفریہ ہین، جن کی تاویل سے بھی مخلصی کی صورت پیدا نہیں ہوتی، لہٰذا ان اقوال کا ماننے والا اور مصدق اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت پیدا کیا جائے، اور اگر نکاح پہلے ہوچکا ہے تو اِفتراق ضروری ہے۔
مسکین سلطان محمد بقلم خود
جواب صحیح ہے
سلام الدین عفا اللّٰہ عنہ
۸:۔۔۔ الجواب: جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مذکورہ بالا کا مصدق ہے اور ان کو صحیح مانتا ہے، وہ شرعاً کافر ومرتد ہے، اور کافر ومرتد کا نکاح عورتِ مسلمہ سے ہرگز جائز نہیں، اور اگر بعد از نکاح ناکح مرزائی ہوگیا تو فوراً نکاح فسخ ہوجاتا ہے، لہٰذا اعلان کرنا چاہئے کہ کوئی شخص مسلمان، مرزائیوں سے زوجیت کا تعلق پیدا نہ کرے۔
حکیم ابوتراب محمد عبدالحق
الجواب صحیح
ابوالفقر محمد شمس الحق امرتسر
۹:۔۔۔ جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ مسلمہ غیرمصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا جائز نہیں۔
محمد داؤد غزنوی امرتسری
۱۰:۔۔۔ الجواب: قادیانی مدعیٔ نبوّت نے جو کچھ خارج اَزاِسلام عقائد پھیلائے ہیں، وہ صاف صاف اس کے کافر ہونے پر بیّن ثبوت ہیں اور جس قدر اس نے اہلِ اسلام سے اظہارِ نفرت کیا ہے، اسی قدر ہم بھی اس کے ہم عقیدہ اور مریدوں سے نفرت کریں تو ہمارے مذہبی اِحساس کا نتیجہ ہوگا۔ اس لئے جملہ اہلِ اسلام کو ضروری ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور بالخصوص مناکحت اور کفن دفن
379
سے ضرور اِجتناب کریں۔
نوراحمد عفی عنہ پسروری ثم امرتسری
| الجواب صحیح غلام محمد مولوی فاضل منشی فاضل اوّل مدرّس دینیات اسلامیہ ہائی اسکول امرتسر |
الجواب صحیح محمد نورعالم مولوی فاضل منشی فاضل مدرّس عربی اسلامیہ ہائی اسکول امرتسر |
۲۵؍شوال ۱۳۳۸ھ |
۱۱:۔۔۔ میری مدتوں کی تحقیق میں اچھی طرح سے ثابت ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر قطعی اور کذاب یقینی ہے اور جو لوگ دیدہ دانستہ اس کے تابعدار اور اس کے مذہب کے پابند ہیں، ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پس مسلمہ عورت کے ساتھ مرزائی مرد کا نکاح فسخ ہے،’’لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ‘‘ (الممتحنہ:۱۰) بلاطلاق اور جگہ نکاح جائز ہے۔ اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ ہونے دیں، ایسے کافر ہیں کہ پہلے زمانوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی، والعلم عنداللّٰہ!
محمدعلی عفااللّٰہ عنہ واعظ
۲۷؍شوال ۱۳۳۸ھ
۱۲:۔۔۔ بحکم حدیث شریف: ’’زوجوا من ترضون دینہ‘‘ مرزائی سے محمدی خاتون کا نکاح نہ ہونا چاہئے، اور اگر ہوجائے تو فسخ کرالینا چاہئے۔
ابوالوفاء ثناء اللّٰہ امرتسری
۳۱:۔۔۔ فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)
اما بعد! فنقول:
۱:.... ان المرزا ادعی وفاۃ المسیح، ۲:...القول بحیاۃ المسیح شرک، ۳:....الجنّۃ والنّار لا حقیقۃ لھما، ۴:.... اللہ جسم غیر متناہ، ۵:....النصوص لیست علٰی ظواھرھا، ۶:....فوقیۃ نفسہ علٰی رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم علمًا، ۷:...النبوۃ لنفسہ، ۸:...دوامھا بعد ختم الرسالۃ، ۹:...تحصیل النبوۃ بالإکتساب، ۱۰:...التمثل بعیسٰی بل بجمیع الأنبیاء،۱۱:....فضیلۃ نفسہ علی المسیح، ۱۲:....الإجراء الوحی، ۱۳:....ضرورۃ الإیمان بہ، ۱۴:...المجالسۃ باﷲ،۱۵:....المجانسۃ بہ،۱۶:...کونہ زوجۃ ﷲ، ۱۷:...ولد ﷲ، ۱۸:...کونہ قیم اللہ فی کائناتہ، ۱۹:....واتحاد ذاتہ بذات ﷲ، ۲۰:....شرکتہ فی صفتہ الخلق وقدرتہ۔
فھٰذہ عشرون امرًا کلہ کفر یخالف الإسلام بل وتصدیق المرزا فیہ من الکفر إذ کفٰی منھا الرجل فی کفرہ واحد فکیف إذا اجتمعت جمیعھا فی قائلھا الأقوال ذالک وحدی بل صرح بکفرہ من الأئمۃ المتقدمین القاضی عیاض فی الشفاء ومُلَّا علی القاری فی شرح الفقہ الأکبر وابن حجر وآخرون فی مصنفاتھم۔ (ملخصًا)۔
عبدالحی بن مولانا عثمان عفا اللہ عنہ
۴؍ذیقعدہ ۱۳۳۸ھـ
380
ولا یجوز لأھل الإسلام ان یعاملوا المرزائیۃ فی امر دینیًّا کان او غیر دین۔
انا العاجز محمد فاضل
بن المولوی محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی
مرزائیوں سے نکاح ہی دُرست نہیں، چہ جائیکہ اِفتراق کی حاجت ہو۔
محمد عبداللّٰہ فتح گڑھی
تمت ھٰذہ الفتاویٰ فالمرجو من المسلمین ان یعملوا بھا!
✨ ☪ ✨
381
استنکاف المسلمین
عن
مخالطۃ المرزائیین
یعنی
مرزائیوں سے ترکِ موالات
شائع کردہ
انجمن حفظ المسلمین امرتسر
382
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’عن ابی سعید ومالک بن انس مرفوعًا (یخرج) قوم یحسنون القیل ویسیئون الفعل، یقرئون القرآن ولا یجاوز تراقیھم، یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ۔‘‘
(رواہ ابوداوٗد وصححہ)
ترجمہ: ۔۔۔ ’’حضرت ابوسعید اور مالک بن انسؓ سے مرفوع حدیث مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آخری زمانے میں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو بہت اچھی اچھی باتیں کرے گی، مگر کام بہت بُرے کرے گی، قرآن پڑھے گی مگر اس کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، اِسلام اور (اسلامی ہمدردی) سے اس طرح باہر نکل جاوے گی جیسا شکار (کے جسم) سے تیر نکل جاتا ہے۔‘‘
استنکاف المسلمین عن مخالطۃ
المرزائیین
یعنی مرزائیوں سے ترکِ موالات
جس میں قرار پایا ہے کہ حسبِ فتاویٰ علمائے کرام (سنی وشیعہ) مرزائیوں سے میل جول اور شادی غمی میں شریک ہونا منع ہے، اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائی جماعت کے عقائد اہلِ اسلام کے خلاف ہیں۔ وفاتِ مسیح کا مسئلہ ثابت نہیں کرسکتے، حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں نہیں، اور یہ کہ مرزائی اور اِیران کے بابی مذہب کے پیرو ہمارے نزدیک یکساں ہیں، اور یہ کہ جو شخص مرزا غلام احمد کی نسبت حسنِ ظن رکھے یا اس کے کفر کا اِظہار نہ کرے، وہ بھی مرزائی فرقے میں داخل ہے، نہ اس کی اِمامت جائز ہے اور نہ جنازہ۔
383
چار ضروری سوال وجواب
(ماخوذ اَز رِسالہ تائیدالاسلام، لاہور ۲۰؍جولائی ۱۹۲۰ء)
سوال:۔۔۔ کیا مرزائیوں کا یہ کہنا دُرست ہے کہ حضرت مسیح کی قبر محلہ خانیار سری نگر کشمیر میں موجود ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی پہلے کہتے تھے کہ مسیح کی قبر گلیل یا شام میں ہے، اب کہتے ہیں کہ ایک نئی انجیل کی رُو سے مسیح کی قبر کشمیر میں قرار پائی ہے، کچھ عرصہ کے بعد کچھ عجب نہیں کہ مسیح کی قبر قادیان میں قرار پاجائے، بہرحال مرزائیوں کا یہ خیال چند وجوہ سے غلط ہے۔ اوّل یہ کہ محلہ خانیار میں جو قبر ہے، وہ کسی مسلمان بزرگ کی ہے، کیونکہ وہ قبلہ رُخ ہے ورنہ اس کا رُخ بیت المقدس کو ہوتا۔ دوم یہ کہ حضرت مسیح کا کشمیر میں بقول مرزاقادیانی ۸۷سال تک رہنا اور کسی ایک کا بھی عیسائی مذہب قبول نہ کرنا ناممکن ہے۔ سوم یہ کہ کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کٹھن راستے سے کشمیر میں آئے جس قدر ایسے حوالے دئیے جاتے ہیں، وہ یا تو جھوٹی اِنجیلوں کے ہیں کہ جنہیں خود اہلِ انجیل عیسائی بھی تسلیم نہیں کرتے اور یا مشتبہ عبارتوں سے اِمکانی طور پر ثابت کیا جاتا ہے۔ چہارم یہ کہ کسی جغرافیہ دان یا کسی عیسائی سلطنت نے اس کی تصدیق نہیں کی، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کو اپنے نبی کی قبر کی خبر نہ ہو۔ پنجم یہ کہ خود کشمیری روسائے عظام علمائے کرام کی تحریریں اس خیال کی سخت تردید کررہی ہیں۔ جناب مفتی حسام الدین صاحب مفتیٔ اعظم کشمیر لکھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے ہندو مذہب کے سوا کشمیر میں یہودی اور عیسائی مذہب کا نام ونشان تک نہیں ملتا، اور نہ کوئی ملکی تاریخ ثبوت دیتی ہے، اور نہ ہی کسی فرد بشر کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں عیسائیت بھی تھی اور محلہ خانیار میں ایک مسلمان بزرگ کی قبر ہے، اور جن کا یہ خیال ہے کہ یہ حضرت مسیح کی قبر ہے، محض جھوٹ بالکل لغو اور بے بنیاد ہے۔ ہاں بعض تواریخ میں لکھا ہے کہ اس بزرگ کا نام ’’یوزآصف‘‘ تھا، شاید مرزائیوں نے اسے بگاڑ کر ’’یسوع‘‘ سمجھ لیا ہو، اور یہ غلط ہے کیونکہ تاریخ اعظم کشمیر وکتاب یوزآصف وبلوہر حکیم اور کتاب اکمال الدین عربی صفحہ:۳۸۸ میں صاف لکھا ہے کہ یہ یوزآصف راجہ جنسیر کا زاہد تارک الدنیا لڑکا تھا حکیم بلوہر لنکا سے اسے مذہبی تعلیم دینے آتا تھا، تکمیل تعلیم کے بعد ایک دفعہ وہ نصف شب کو غیرملک کو چلاگیا اور یاداِلٰہی میں مصروف رہا، پھر اپنے وطن مالوف (سلابت) کو واپس آیا۔ اور چند اَیام وہاں ٹھہرا پھر ہمیشہ کے لئے اہلِ وطن کو خیرباد کہہ کر کشمیر آگیا اور وہیں مرا۔ اس امر کی تصدیق کئی بعض معتبر اَشخاص نے بھی کی ہے جیسے مولوی صدرالدین صاحب، قاضی محمد سعدالدین صاحب، مولوی
384
عمادالدین صاحب، قاضی محمد شریف صاحب، سیّدحسن شاہ صاحب اَزکشمیر وغیرہ۔
سوال:۔۔۔ کیا مرزائی کا جنازہ پڑھنا جائز ہے؟
جواب:۔۔۔ نہیں، کیونکہ مرزائی ہمارے نزدیک کافر ہیں، اور جنازہ مسلمان کا ہوتا ہے۔
(مولوی غلام قادر مرحوم بھیروی)
سوال:۔۔۔ جو اہلِ سنت مرزائی کا جنازہ پڑھے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ اس سے علانیہ توبہ لینی چاہئے، کیونکہ قرآن شریف میں ہے: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔
(کتبہ مفتی محمد عبداللّٰہ ٹونکی لاہور حال وارِد کلکتہ)
سوال:۔۔۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان جانے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزا، انبیاء کی توہین کرتا ہے، نصوصِ قطعیہ کا منکر ہے، مدعیٔ نبوّت ہے، اس لئے اس کے کفر میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا، اب جو شخص شک کرے گا، وہ یا تو درپردہ مرزائی ہوگا، یا منافق۔
استنکاف جمیع المسلمین
عن المخالطۃ بالمرزائیۃ المسیحین
الحمد لأھلہ والصلٰوۃ علٰی أھلھا
ناظرین! آپ کو معلوم ہے کہ پنجاب میں مرزائی جماعت نے ایک نئی نبوّت کی بنیاد ڈال کر اہلِ اسلام کو بظاہر دو مختلف فرقوں میں تقسیم کردیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سنی شیعہ کے ساتھ ان کا اِختلافِ رائے پیدا ہوگیا ہے، بلکہ لین دین، عقائد، اُصول اور عبادات ومعاملات میں بھی زمین وآسمان کا فرق پڑگیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آغازِ مسیحیت میں کئی رنگ بدلے، سب سے پہلے اپنے آپ کو صوفی منش ظاہر کیا، پھر مجدّد بنے، پھر حَکم، پھر نذیر، اس کے بعد مسیح ہونے کے مدعی ہوئے، پھر کرشن اوتار اور سب کے اَخیر نبوّت کا دعویٰ شائع کیا اور بہت جلد دُنیا سے رُخصت ہوئے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مرزاقادیانی نے اہلِ اسلام کے سامنے صرف مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پیش کیا تھا، جسے باخبر اور دقیقہ شناس اہلِ اسلام نے بڑے زوروشور سے رَدّ کیا، مگر درحقیقت ان کا صرف ایک ہی دعویٰ نہ تھا، بلکہ ان کی کتاب ’’آئینہ کمالات‘‘ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حسب عقیدہ فلاسفۂ یونان آپ کے متعدّد دعوے تھے اور آپ اس امر کے معتقد تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب رسالت مآب حضرت خاتم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بابرکت عہد تک سلسلۂ نبوّت کا ایک دور ختم ہوا جس میں تمام انبیاء ورُسل صلوات اللّٰہ علیہم اجمعین اپنی جسمانی حالت میں دُنیا میں آکر اپنے اپنے مقرّرہ وقت پر تبلیغِ رِسالت کرتے رہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دُوسرا دور شروع ہوا، جس میں پھر وہی انبیاء اور رسول رُوحانی طور پر وقتاًفوقتاً فرداًفرداً تشریف لاکر اُمتِ محمدیہ کو مذہبی غلطیوں سے بچاکر راہِ راست پر لاتے رہے۔ یہی بروزِ اَنبیاء کا معنی ہے جو ظہورِ مہدویت کے مترادف ثابت ہوتا ہے۔ گویا ہر ایک صدی کا مجدّد کسی نہ کسی
385
نبی یا رسول کا مظہر رہا۔ اب چونکہ پنجاب میں نئی روشنی نے اسلام میں بہت سی رخنہ اندازیاں ڈال دیں، اور مجموعی طور پر، اسلامی دنیا میں وہ نقص پیدا ہوگئے تھے کہ جو گزشتہ انبیاء کے اپنے اپنے زمانے میں ایک ایک ہوکر پیدا ہوئے تھے، اور انبیاء فرداًفرداً مبعوث ہوکر ان نقائص کو رفع کرتے رہے، اس لئے چودھویں صدی کے آغاز میں یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماتحت خدمت گزار ہونے کی حیثیت میں وہ تمام پاک رُوحیں مرزا غلام احمد قادیانی میں ظاہر ہوکر مسیحِ موعود کی صورت اِختیار کریں۔ اب ثابت ہوا کہ مسیحِ موعود وہ مسیح نہیں ہے کہ جس کی نسبت سنی شیعہ کا متفقہ اِعتقاد ہے کہ وہ بجسدہ العنصری آسمان پر زِندہ اُٹھایا گیا اور پھر آسمان سے اُترے گا، بلکہ یہ مسیح محمدی ہے جو اس مسیح ناصری سے (معاذاللّٰہ) بہتر ہے اور یہ مسیح درحقیقت تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ہے۔ پھر مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’نزول المسیح‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اسی بنا پر خداتعالیٰ نے مجھے ان تمام نبیوں کے نام سے پکارا جو حضرت آدم علیہ السلام سے تاایندم مبعوث ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو کمالات مسیحِ محمدی میں ظہور پذیر ہوئے ہیں آج تک کسی میں نہ ظاہر ہوئے اور نہ ظاہر ہونے کی اُمید ہوسکتی ہے۔ مرزاقادیانی نے اسی اُصول پر اپنے عقیدت مندوں میں تمام وہ اپنے شطحیات دُرست اور مطابق واقع کردکھلائے جو اہلِ سنت اور شیعہ کے نزدیک کفریات کی حد سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ دُنیا کے موجودہ مذاہب پر نظر ڈالنے والے اس نکتہ خیال تک بخوبی پہنچ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے جو کچھ بھی کیا ہے زیادہ تر مرزا محمد علی باب کی تعلیم سے حاصل کیا ہے، اگرچہ مہدی جونپوری یا سرسیّد کی تقلید بھی کی ہے، اس نے ہی اپنی کتابوں میں رُوح اور رُوحانی کا لفظ کثرت سے استعمال کیا تھا اور بتایا کہ نبی مظہراِلٰہی ہوا کرتا ہے، جو وہ بولتا یا کہتا ہے وہ خدا کا فعل یا قول ہوتا ہے، نہ فرشتے کی ضرورت اور نہ وحی کا تحقق، اور نبوّت کا دروازہ بند نہیں ہوا، قیامت تک کھلا رہے گا۔ ختمِ رسالت کا بھی منکر تھا اور زمانۂ حال کے مطابق نئی شریعت کا مدعی تھا۔ چنانچہ قرآن مجید کو منسوخ قرار دے کر اپنی طرف سے ایک اِلہامی کتاب ’’ایقان‘‘ کا دعویدار ہوا۔ شروع شروع میں مغلوب رہا، پھر زور پکڑا، سلطنت نے کچھ توجہ نہ کی، اس کی جانباز معتقد قرۃالعین عورت نے اس کا ہاتھ بٹایا اور جب اس کے قریبی رشتہ دار اور اساتذہ مزاحم ہوئے تو اپنے ہمرازوں کے ہاتھ انہیں قتل کرادیا۔ پھر قرۃالعین کا فتنہ ایران میں یہاں تک بڑھتا گیا کہ جہاں وہ تبلیغ کے لئے جاتی اپنے مخالفین پر تلوار چلانے کا حکم دیتی، آخرالامر سلطنت نے تنگ آکر اسے اور اس کے پیر محمدعلی کو قتل کرادیا، مگر مرتے مرتے اپنی جماعت میں یہ عقیدہ مستحکم کرگیا کہ جو بابی مذہب میں داخل نہیں، وہ کافر ہے۔ بعینہٖ یہی چال مرزاقادیانی بھی چلے۔ آغاز دعاوی میں نرمی سے کام لیتے رہے، جب جماعت کثیرالتعداد ہوگئی تو غیراحمدیوں کو (خواہ سنی تھے یا شیعہ) کافر قرار دِیا، اور ان سے عبادات اور معاملات میں الگ رہنے کا حکم دیا، اس سے بڑھ کر مرزا محمدعلی کے ساتھ اور کیا مشابہت ہوسکتی ہے کہ جیسے اس نے حدیث:’’أنا مدینۃ العلم وعلیٌّ بابھا‘‘ (مجمع الزوائد ج:۹ ص:۱۰۳، باب فی علمہ رضی اللہ عنہ، طبع بیروت) میں تصرف کرکے خود ہی ’’علی‘‘ اور خود ہی ’’بابُ العلم‘‘ بن بیٹھا۔ اسی طرح مرزاقادیانی نے آیت ’’یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶) کے ماتحت خواہ مخواہ داخل ہونے کے بعد غلام کا لفظ اُڑاکر مجسم احمد بن کر دِکھلادیا۔ اسی طرح دونوں کی تعلیم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دونوں ایک ہی اُصول کے پابند تھے، بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ جس قدر آج تک مدعیٔ مہدویت گزرے ہیں، سب کا نصب
386
العین ایک ہی رہا ہے، اور بستان مذاہب اور کتاب الملل والنحل جن کی نظروں سے گزری ہیں، ان سے پوشیدہ نہیں کہ آج سے پہلے کئی مہدی گزرچکے ہیں، جن میں سے سلطان جلال الدین اکبر کا نام خصوصیت سے لیا جاسکتا ہے کہ جس نے دِینِ اِلٰہی کی بنیاد رکھی تھی، لیکن دعویٰ مسیحیت میں مرزا محمد علی بابی اور مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نظیر نہیں رکھتے۔ ایرانی مسیح اور پنجابی مسیح کا گو دعویٰ متحد ہے، مگر فرق اتنا ہے کہ ایرانی مسیح شیعہ مذہب میں پیدا ہوا، اور پنجابی مسیح اہلِ سنت کا ایک فرد تھا۔ پھر وہ ایرانی مسیح ایک سیّدمہدی کا قائل ہوا، جو اس سے پہلے دس سال مدعی مہدویت بن کر مرگیا، اور پنجابی مسیح کل دعاوی کا خود ذمہ دار بنا۔ ایرانی مسیح کا مرنا ہی تھا کہ پنجابی مسیح اس سے بڑھ کر چار قدم آگے بڑھا اور روایاتِ مذہبی کو توڑتوڑ کر ایسا سیدھا کیا جو اِیرانی مسیح کے خواب وخیال تک بھی نہیں آتا تھا۔ بہرحال مرزاقادیانی نے دُنیا کے تمام کمالات کا مظہر اپنی ذات کو قرار دِیا اور جب خود سب کچھ بن بیٹھے تو جن جن پیغمبروں اور بزرگوں کے الگ الگ مشہور اور متبرک مقامات تھے یہ ضرور تھا کہ مرزاقادیانی کا مسکن اور مولد بھی ان سے موسوم ہوتا، اس لئے مرزاقادیانی نے قادیان کی نسبت حسبِ ذیل دعاوی شائع کئے:
اوّل یہ کہ:۔۔۔ قادیاں ’’کادیاں‘‘ نہیں کیونکہ قدعہ جو ظہورمہدی کا مسکن ہے قادیاں سے ملتاجلتا ہے، بڑی کوشش اور زَرِکثیر خرچ کرنے سے سرکاری کاغذات میں کاف کو قاف سے تبدیل کرایا، حالانکہ یہ ایک ادبی غلطی تھی کیونکہ کادی کیوڑے کو کہتے ہیں، یہاں کیوڑہ فروش ارائیوں کی آبادی ہوگی، جیسے بٹالہ میں کادی قوم کے افراد موجود ہیں۔ مرزاقادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ قادیاں قاضیان تھا، ان کے باپ دادا قاضی تھے، مگر یہ تحقیق دو طرح سے مخدوش ہے، اوّل یہ کہ مسیحیت پیدا کرنے میں اسے کچھ دخل نہیں۔ دوم یہ کہ اس وقت اس قصبے کا نام قاضیاںوالا چاہئے تھا نہ قاضیان، مگر مرزاقادیانی کے اس خیال سے ممکن ہوسکتا ہے کہ کادی (کیوڑہ فروش) کی جمع کادیان ہوگی نہ کہ قاضی کی۔
دوم یہ کہ:۔۔۔ قادیاں دارالامان ہے کیونکہ جب:’’لو لاک لما خلقت الأفلاک‘‘ کا مصداق (معاذاللّٰہ) مرزا وہاں موجود ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو دارالامان یعنی مکہ نہ کہا جائے۔ مرزاقادیانی نے اس دعویٰ میں جناب خاتم المرسلین کا مظہر ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ’’وَمَنْ دَخَلَہُ کَانَ اٰمِناً‘‘ (آل عمران:۹۷) کے تحت میں قادیاں کو داخل کیا۔
سوم یہ کہ:۔۔۔ وہ مدینۃالنبی ہے، کیوں؟ جب (معاذاللّٰہ) مرزاقادیانی نبی ہیں تو قادیاں کو مدینۃالنبی کہنے میں کیا مضائقہ ہے؟ قادیاں ہی مکہ ہے اور قادیاں ہی مدینہ منوّرہ۔ آپ نے اس سے بھی ختمِ رسالت کا مظہر بن کر دِکھایا ہے۔
چہارم یہ کہ:۔۔۔ قادیاں میں جنۃالبقیع ہے کیونکہ جب اس کو مدینہ منوّرہ کا خطاب دیا گیا تو جس جگہ ایسے نبی کا مقبرہ ہوگا، کس لئے وہ جنۃالبقیع نہیں ہوسکتا؟
پنجم یہ کہ:۔۔۔ مسجدِ حرام، قادیاں میں ہے، درحقیقت یہ وہ مسجد ہے جو بیت اللّٰہ شریف کے اِردگرد موجود ہے لیکن جب قادیاں بروزی طور پر مکہ بن گیا تو اس کی مسجد کو مسجدِ حرام بننے میں کیا دِقت ہے؟
ششم یہ کہ:۔۔۔ مسجدِاقصیٰ بھی یہاں موجود ہے، جب قادیاں میں مسیح پیدا ہوا، اور مسیح کا معبد مسجدِاقصیٰ (بیت المقدس)
387
تھا، اس لئے قادیاں کی دُوسری مسجد، مسجدِاقصیٰ ہوئی۔
ہفتم یہ کہ:۔۔۔ قادیاں ہی منارہ بیضاء شرقی دمشق ہے، کیونکہ منارہ نور کی جگہ ہوتی ہے، اور یہاں نبوّت کا نور ظاہر ہوا، اور دمشق ایک معزز خاندان ہوسکتا ہے، مرزائی خاندان ایشیائی اقوام میں بزرگ ترین قوم ہے، اس لئے دمشق سے مراد خاص شہر نہیں۔ مرزاقادیانی یہاں بھی ادبی غلطی کرگئے ہیں، آج کل منارہ لائٹ ہاؤس کو کہتے ہیں اور آپ نے وہاں منارۃالمسیح قائم کرتے ہوئے لائٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ اور اہلِ اسلام مین سب سے بڑھ کر قوم سادات تسلیم کی گئی ہے، مرزائی اور مغلوں کو ان کے مقابلے میں کچھ وقعت نہیں دی جاتی۔
ہشتم یہ کہ:۔۔۔ وہ مہدی آباد ہے کیونکہ یہاں مہدی پیدا ہوا تھا، جو کچھ دنوں بعد خودبخود بے اختیار مسیح بنا اور پھر کرشن اوتار کا پیراہن بدل کر اس جہان سے رُخصت ہوا۔ لیکن ناظرین! پنجاب کے دُوسرے علاقوں میں بھی بعض دیہات کا نام مہدی آباد پایا جاتا ہے، ممکن ہے کہ وہاں بھی ایسے ہی مہدی پیدا ہوکر مرچکے ہوں۔
نہم یہ کہ:۔۔۔ وہ باب لُد ہے، لدھیانہ اسی سمت میں واقع ہے، اور یہ لدھیانہ کا دروازہ ہے، جہاں حضرت مسیح کا نزول ہوگا۔ یہ تأویل ایسی گھڑی ہے کہ جیسے کسی نے کہا تھا کہ: ’’صوم وصلوٰۃ، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو معزّز آدمی تھے، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توقیر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہوا تھا، مگر بعد میں لوگوں نے نماز روزہ گھڑلیا۔‘‘ غرضیکہ اس قسم کی بے سروپا تأویلیں کی ہیں کہ جن کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔
مذکورۃالصدر وجوہات سے وہاں کے باشندے کچھ مشرکین میں داخل ہوئے اور کچھ مہاجرین وانصار میں۔ مرزاقادیانی مرے تو حکیم نورالدین نے حضرت ابوبکر کا منصب سنبھالا۔ پھر جب وہ مرے تو آج کل حضرت عمر کا زمانہ مرزامحمودقادیانی دِکھا رہے ہیں، اور مرسلِ یزدانی کا خطاب حاصل کر رہے ہیں، کچھ عرصہ کے بعد آپ بھی مدعیٔ نبوّت ہونے کو ہین۔ مرزامحمودقادیانی نے ہرچند اپنے ذاتی اسلام کی اِشاعت میں کوشش کی، مگر بجائے یگانگت کے مرزائی جماعت میں بیگانگت پیدا ہوگئی۔ مسٹر محمدعلی نے لاہور میں بیعت (پیری مریدی) کا سلسلہ شروع کردیا، مولوی احسن امروہی قادیاں سے الگ ہوکر لاہوری جماعت میں شامل ہوگئے۔ گوجرانوالہ میں ظہیرالدین اروپی نے الگ جماعت قائم کرلی اور عبداللّٰہ تیماپوری الگ بیعت لے رہا ہے۔ یہ چار مذاہب شاید اِسلامی چار مذاہب کا نقشبہ ہوں۔ مگر حضرات! اسلامی چار مذہب ایک دُوسرے کو حق پر سمجھتے ہیں، مگر مرزائیوں میں تو باہمی کفر واِسلام کا فرق ہے۔ لاہوری جماعت، قادیانی جماعت کو مشرک بتاتی ہے، کیونکہ اس نے مرزاقادیانی کے مشرکانہ اِلہام کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ اور قادیانی، لاہوریوں کو مرتد یقین کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مرزاقادیانی کے طریقِ مشرب سے اِنحراف کیا ہے اور ان کو نبی تسلیم نہیں کیا۔ ظہیرالدین اروپی خدائی مظہر کا مدعی ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ: ’’میرے بعد یوسف آئے گا، بس اسے یوں ہی سمجھ لو کہ وہ خدا ہی اُترا ہے۔‘‘ اس مرزاقادیانی کی صحیح جانشینی کا دعیٰ ہے، اور مرزامحمود کو غاصب اور ظالم قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ قادیاں کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا افضل ہے، کیونکہ وہ مکہ ہے، جہاںں ایک رسول نے جنم لیا تھا۔ عبداللّٰہ تیماپوری کا
388
دعویٰ ہے کہ اسے وہ اِنکشاف ہوا ہے کہ مرزاقادیانی کو بھی نصیب نہیں ہوا، اس کو اپنے بازو سے اِلہام ہوتا ہے اور اپنی کتاب تفسیر آسمانی میں حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت حوّا سے خلاف فطرت انسانی سے ملوّث ہونے کا اِلزام لگاتا ہے۔ وزیرآباد کے پاس ہی سمبڑیال ایک گاؤں ہے، وہاں کے ایک (محمد سعید نامی) مرزائی کو یہ خبط سوجھا ہے کہ مرزا نے تجدیدِ اِسلام کو شروع کیا تھا، مگر اَخیر تک نہ پہنچاسکے۔ خداتعالیٰ نے مجھے قمرالانبیاء بناکر مبعوث کیا ہے، اس کے یہ عقائد ہیں: شراب جائز ہے، اپنی رشتہ داری میں نکاح ناجائز ہے، حضرت مسیح یوسف نجار کے بیٹے تھے، ختنہ ناجائز ہے، وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال ان مرزائی چار جماعتوں کا اس پر اِتفاق ہے کہ مسیحِ موعود مرزاقادیانی ہی تھے، اور ان کا کلام وحی من اللّٰہ ہے۔ اس کے مقابل اہلِ اسلام کی جماعتیں ان دونوں اُمور کی منکر ہیں۔ صرف منکر ہی نہیں بلکہ مرزاقادیانی کو شروع سے اَخیر تک کافر اور مرتد قرار دیتی ہیں اور لین دین معاملات اور عبادات میں ان سے الگ رہی ہیں۔ اور آج کل مرزامحمود کے زمانے میں وہ بھی اسلام سے الگ ہوگئے ہیں۔ سنی شیعہ، تمام مرزائی جماعتوں کو مرتد خارج اَزاِسلام یقین کرتے ہیں اور مرزائی جماعتیں سنی شیعہ کو کافر یہود ونصاریٰ اہلِ کتاب کے مساوی جانتے ہیں۔ اب مرزائی اور غیرمرزائی میں کفر واسلام کا فرق ہے۔ نہ ان کی ان کے ہاں شادی ہوسکتی ہے اور نہ ان کی ان کے ہاں کفن دفن، نماز، زکوٰۃ، جنازہ بھی الگ الگ ہے، اور یہ امر بالکل روزِروشن کی طرح ظاہر ہے، اس میں کسی قسم کا خفا نہیں۔ مگر باوجودیکہ اہلِ سنت شروع سے ہی الگ رہے ہیں، آج کل ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ اہلِ سنت کی لڑکیاں جبراً مرزائی جماعت کے عقد نکاح میں دی جاتی ہین، یہ صاف ان کی حق تلفی ہے، اہلِ سنت اور شیعہ اسلام میں قدیمی دو فرقے چلے آئے ہیں، اور مرزائی جماعت آج ہم سے الگ ہوتی ہے، اور اپنے لئے الگ نبی مانتی ہے، مگر یہ ظلم ہے کہ گورنمنٹ کے نزدیک وہ تو اِسلام میں داخل شمار کئے جاتے ہیں، اور ہم (سنی وشیعہ) اہلِ کتاب یہود اور نصاریٰ تصوّر ہونے لگے ہیں، ہم ان کی لڑکی سے سرکاری طور پر نکاح نہیں کرسکتے اور وہ اہلِ سنت کی لڑکی سے باقاعدہ نکاح کرسکتے ہیں۔ جب گورنمنٹ مذہبی معاملات میں اپنے قواعد کی رُو سے دخل اندازی نہیں کرتی تو کیا وجہ ہے کہ مردُم شماری کے قانون سے مرزائی جماعت کو ہم میں شامل کیا جاتا ہے؟ جب ایک ہندو یا سکھ اپنے مذہبی عقائد چھوڑنے سے قانوناً اپنی قوم اور مذہب سے الگ کردیا جاتا ہے، سخت حیرت ہے کہ اہلِ اسلام میں جب ایک جماعت ایک نئے نبی کی پیرو بن جاتی ہے، تو کیوں اس کو قدیمی اسلام سے خارج تصوّر نہیں کیا جاتا؟ بلکہ کجرو جماعت کو اَصل قرار دے کر قدیم الاصول مسلمانوں کو خارج اَزاِسلام قرار دِیا جاتا ہے، اس لئے ہم گورنمنٹ کی خدمت میں اِستدعا کرتے ہیں کہ اوّلاً جب وہ ہم سے متنفر ہیں اور ہم ان سے متنفر ہیں تو کس لئے ان کے ساتھ باہمی نکاح وطلاق کا سلسلہ قائم رکھا جاتا ہے؟ اور ثانیاً جب اہلِ سنت قدیمی مسلمان ہیں اور مرزائی جماعت کل پیدا ہوئی ہے تو ہمارے حقوق کی پاسداری کیوں نہیں کی جاتی؟ کیونکہ وہ ہم سے خارج ہوئے ہیں نہ کہ ہم ان سے، اور انہوں نے نیا نبی تسلیم کیا ہے، نہ کہ ہم نے۔
شاید یہ خیال ہوگا کہ مرزائی اور غیرمرزائی میں فروعی اِختلاف ہے، اس لئے درحقیقت دو نوں فریق ایک دُوسرے کے نزدیک اسلام میں داخل ہیں، یا کم از کم گورنمنٹ کے نزدیک ان میں کچھ فرق نہیں۔ اس لئے یہ بتادینا ضروری ہے کہ فریقین میں
389
اُصولی اِختلاف ہے نہ فروعی، اور ایک دُوسرے کو خارج اَزمذہب ہی نہیں سمجھتے، بلکہ خارج اَزاِسلام یقین کرتے ہیں۔ ذیل میں چند اُمور پیش کئے جاتے ہیں، جن سے یہ امر بالکل صاف اور مدلل ہوجاتا ہے کہ مرزائی اور غیرمرزائی (فریقین) میں اِعتقادی اور اُصولی اِختلاف ہے، جس کا انجام کفر واِسلام کا فرق قرار پاتا ہے۔
اوّل:۔۔۔ (وفاتِ مسیح) اس کے متعلق سنی شیعہ دونوں متفق الاعتقاد ہیں کہ وفاتِ مسیح کی کوئی اصلیت نہیں، تیرہ سو سال سے تمام فِرَقِ اسلامیہ میں یہ مسئلہ تسلیم ہوچکا ہے، روایات میں صاف بیان ہے کہ: ’’ان عیسٰی لم یمت وإنہ راجع إلیکم‘‘ (تفسیر طبری ج:۳ ص:۲۸۹، طبع دارالفکر، تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۴۶۶، زیر آیت: ’’یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ‘‘ آل عمران:۵۵):
’’والذی نفس ابی قاسم (محمد) بیدہ! لینزلنّ عیسَی ابن مریم‘‘
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۱۴، باب ذکر الأنبیاء صلی اللہ علیہم وسلم)
عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت عدمِ موت کا ذِکر ہے، موت کا ثبوت مذکور نہیں۔ مرزاقادیانی کے نزدیک حضرت مسیح مرگئے، یہودیوں نے صلیب پر چڑھایا تھا، مگر وہاں سے بچ کر کشمیر سری نگر میں آکر مرے، قرآن شریف میں ’’توفی‘‘ کا لفظ مذکور ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ آیاتِ قرآنیہ کے خلاف ہے اور صرف وہمیات پر مبنی ہے۔ صاف لکھا ہے کہ: ’’وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ (النساء:۱۵۷) سری نگر میں اگر مسیح کی قبر ہے تو عیسائی سلطنتوں کو کیوں یقین نہیں دِلایا جاتا؟ بھلا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کی قوم برسرِ ترقی ہو اور ابھی تک اپنے نبی کی قبر سے بھی ناواقف رہی ہو۔ باقی رہا ’’توفی‘‘ کا لفظ! سو وہ موت کا مرادف نہیں۔ اسی طرح کے اور بھی مرزاقادیانی نے اِستدلال پیش کئے ہیں کہ جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت صریح موت کا لفظ پیش نہیں کرسکے، اور نہ آئندہ مرزائی جماعت پیش کرسکے گی، اِدھراُدھر کے وہمی اِستدلال پیش کئے ہیں کہ جن کی اسلام میں کچھ وقعت نہیں۔۔۔!
وفاتِ مسیح پر مرزائیوں نے تقریباً تیس آیتیں پیش کی ہیں کہ جن میں سے کچھ تو ایسی ہیں کہ جن سے عام انسانی فطرت کے متعلق کوئی حکم ثابت کیا جاتا ہے، خصوصیت کا کوئی ذِکر نہیں، جیسے کھاناپینا، نطفے سے پیدا ہونا، زمین پر مرناجینا وغیرہ، سو جیسے حضرت مسیح اپنی ولادت میں ایک نشانِ قدرت بن کر دُنیا میں آئے اور عام قانونِ قدرت سے مستثنیٰ ہیں، اسی طرح کچھ بعید نہیں کہ اس جہان سے رُخصت ہوتے ہوئے بھی کسی انوکھی صورت سے اُٹھالئے گئے ہوں۔ جیسے ’’وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَاللہُ‘‘ (آل عمران:۵۴) سے ثابت ہوتا ہے، ورنہ صلیب سے زندہ اُتارا جانا اور کشمیر میں جاکر مرنا، اور پھر کسی مخالف کو خبر تک نہ ہونا، ایک تو شانِ نبوّت اور منصبِ تبلیغ کے خلاف ہے۔ پھر اس میں نشانِ قدرت اور مقابلے کی کارگزاری نہیں پائی جاتی کہ جس کا مدعی خود قرآن ہے۔ ان کے ہاں بعض دلائل ایسے ہیں کہ جن سے ضمنی طور پر وفاتِ مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جیسے آیۃالتخاطب، آیۃالوفاۃ، آج کل آیت تخاطب پر بڑا زور دیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کا جواب نہیں ہوسکتا۔ دراصل یہ دلیل ایسی کمزور ثابت ہوئی ہے کہ آج تک اس کے پاؤں ایک سطح پر قائم ہی نہیں رہے۔ شروع شروع میں جب عیسائیوں نے اِسلام پر یہ اِعتراض کیا تھا کہ اِنجیل حضرت مسیح کو مصلوب قرار دیتی ہے اور قرآن غیرمصلوب بتاتا ہے، اب یہ انجیل کا مصدق کیسے ہوا؟ تو محمد احسن امروہی قادیانی نے جواب شائع کیا تھا کہ
390
ہمارے مفسر آج تک غلطی پر قائم رہے ہیں، قرآن حضرت مسیح کو غیرمصلوب اس مفہوم سے قرار دیتا ہے کہ ان کی صلب کی ہڈی توڑ کر ان کو مردہ نہیں کیا گیا بلکہ انجیل کے مطابق قرآن بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر کھینچے گئے ہیں۔ چند سطور کے بعد آپ لکھتے ہیں کہ ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ اور ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ دونوں لفظ وفات پر صراحۃً دلالت کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے یہی دونوں دلائل اپنی کتابوں میں پیش کردئیے، مگر جب اہلِ اسلام کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ متوفی میں ماضی کا زمانہ کہاں ہے؟ واو میں ترتیب کیسے؟ توفیت میں زمان ماضی کا مذکور کہاں؟ یہ تو قیامت کو سوال ہوگا، اور حضرت مسیح جواب دیں گے، اور اس سے پہلے حضرت مسیح کی وفات ہوچکی ہوگی۔ تو مرزاقادیانی نے خود، یا احسن قادیانی کے ایماء سے اس دلیل کا اور رُخ تبدیل کیا۔ وہ یہ کہ ’’کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷) میں نفی علم کرتے ہیں دوبارہ آئیں گے تو نفی علم کیسے کرسکیں گے؟ مگر اس کا جواب یوں دیا گیا کہ نفی رقابت اور شے ہے اور نفی علم اور شے، یہ ضروری نہیں کہ جو کسی چیز کا ذمہ دار نہ ہو وہ اس چیز کو جانتا بھی نہیں۔ پھر جب رقابت اور علم کو لازم ملزوم قرار دے کر دلیل پیش کی گئی تو یوں جواب دیا گیا کہ ان میں مساوات کا تلازم نہیں بلکہ عام خاص ہیں۔ غرضیکہ اس دلیل کا یہ پہلو بھی بودا نکلا۔ پھر ’’وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘(المائدۃ:۱۱۷) کا جزو منشا اِستدلال قائم کیا گیا کہ یہاں علم کا صاف اِنکار ہے، اگر اُتریں گے تو وجود تثلیث سے اپنی لاعلمی کیوں ظاہر کریں گے؟ لیکن اس کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے، ایک الزامی، دُوسرا تحقیق۔ اِلزامی پہلو یہ تھا کہ اس سے پہلے ایک لاعلمی کی آیت ہے کہ جس میں صاف مذکور ہے کہ:’’ یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا‘‘ (المائدۃ:۱۰۹) ’’خداتعالیٰ انبیاء سے سوال کرے گا کہ تمہاری قبولیت کیسے ہوئی؟ تو وہ ہیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں‘‘ اب جس جگہ صراحۃً تمام انبیاء اپنی خاص ڈیوٹی سے لاعلمی ظاہر کرتے ہیں تو حضرت مسیح اگر ضمناً لاعلمی ظاہر کریں گے تو کون سی بڑی بات ہوگی۔ اور تحقیقی پہلو یہ تھا کہ شہید اور عالم یا معائن آپس میں مرادف نہیں۔ ورنہ اُمتِ محمدیہ کو ’’شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ‘‘ (البقرۃ:۱۴۳) کاخطاب کیسے عطا ہوسکتا ہے؟ مان لیا کہ اُمتِ محمدیہ کو بطریقِ مشاہدہ نہ سہی بطریقِ اخبار یا انباء عن اللّٰہ تعالیٰ ہوگا، مگر حضرت مسیح بھی اسی طریق سے مخبر من اللّٰہ ہوکر عالم اشاعت عقیدۂ تثلیث ہوں گے نہ ذاتی مشاہدہ سے ان کو علم ہوگا اور اپنے چشم دید حالات سے انہیں کچھ خبر ہوگی۔ خود مرزا قادیانی کا بیان ہے کہ ستاسی سال تک کشمیر میں رہے۔ اب بتاؤ ’’وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ (المائدۃ:۱۱۷) کیسے صادق آتا ہے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ شہادت خواہ کسی معنی میں مراد ہو، وہ آپ کی تمام عمر کے ایام کو محیط نہیں ہوتی۔ یہ جواب دیکھ کر اس دلیل کے اور بھی پاؤں اکھڑے، پھر سارے لفظ چھوڑ کر ’’مَا دُمْتُ فِیْھِمْ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷) اِستدلال میں پیش کیا گیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت مسیح اپنا علم مشاہدہ اپنی مدۃالعمر میں منحصر کرتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’’مَا دُمْتُ فِیْھِمْ‘‘ کے علاوہ ’’وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ کا وجود نہیں۔ اس کا جواب صاف ظاہر ہے کہ ’’ما دام المسیح فی المسلمین‘‘ کا زمانہ بے شک اس میں مذکور نہیں اور ہم بھی یہی کہتے، ’’مَا دُمْتُ فِیْھِمْ‘‘ میں ’’ما دام المسیح فی المسلمین‘‘ مراد ہے، مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانے ذِکر کرنے سے دُوسرے زمانے کی نفی نہیں ہوسکتی، جب تک ذِکر میں حرفِ حصر بیان نہ کیا جائے، اور حرفِ حصر میں بھی یہ شرط ہے کہ نفی عن الغیر پر مشتمل ہو، ورنہ معمولی ذِکر یا سرسری حصر مفید مطلب نہیں ہوسکتا، وہ کون عقل کا دُشمن ہے کہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ
391
رَسُوْلُ اللہِ‘‘ پڑھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے سوا معاذاللّٰہ کوئی اور نبی نہین ہوا۔ اب جب سارے اِستدلال کے پہلو نکمّے ثابت ہوئے ہیں تو پھر وہی ’’توفی‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے یہ دلیل یوں پیش کی جاتی ہے کہ عقیدۂ تثلیث آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی موجود تھا، ظاہر ہے کہ توفی سے پہلے نہ تھا، بلکہ بعد میں پیدا ہوا ہے، جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ توفی اور عقیدۂ تثلیث میں تقدم وتأخر زمانی ہے، اب اس زمانے میں بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی وجود عقیدۂ تثلیث تسلیم کیا گیا ہے تو توفی کے ماننے سے کیوں اِنکار کیا جاتا ہے؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ ہم بھی یوں ہی کہتے ہیں کہ توفی پہلے ہوئی اور وجود عقیدۂ تثلیث بعد میں ہوا، مگر توفی کے معنی میں ذرا سا اشتباہ ہے،کیا توفی بمعنی موت ہے؟ کیا جس طرح مرزائی توفی بمعنی موت اس آیت میں لیتے ہیں، اسی طرز پر کسی اِمام یا مجتہد یا کسی مستند عالم باعمل نے لئے ہیں؟ ہرگز نہیں! وفاتِ مسیح کا قول یہود ونصاریٰ اور معتزلہ نے کیا ہے، اہلِ سنت میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں مگر قابلِ توضیح یہ امر ہے کہ کیا وفاتِ مسیح اب بھی ہے؟ اس وقت بھی حضرت مسیح مردہ ہیں؟ یا تھوڑی دیر مرکر حسب روایت اِنجیل زِندہ ہوکر آسمان پر چڑھ گئے ہیں؟ یہ سب اِحتمال ہیں۔ پہلے دونوں اِحتمال اہلِ اسلام میں سے کسی نے معتبر نہیں سمجھے، ہاں تیسرے اِحتمال کے بعض لوگ قائل ہیں، مگر وہ پہلے دو اِحتمالوں کے قائل نہیں۔ مرزاقادیانی نے ’’توفی‘‘ پر خود یا کسی کے مشورے سے ایک حاشیہ لگایا ہے کہ اس کا فاعل اللّٰہ اور مفعول انسان ہو تو موت کے معنی میں صریح ہے، ورنہ وہ وصولیت یا قبض مطلق کے معنی میں بھی آتا ہے؟ اس حاشیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک بھی ’’توفی‘‘ کا لفظ نص علی الموت نہیں، ورنہ شرائط لگانا بے فائدہ تھا، شرائط کا وجود صاف ظاہر کرتا ہے کہ مرزاقادیانی ’’توفی‘‘ کے لفظ کو مشتبہ المعانی سمجھتے ہیں کہ جس کے بعض جگہ کچھ معنی ہیں، اور کسی جگہ کچھ، ورنہ ایزادی شرائط کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر بایںہمہ جب آیۃالنوم:’’اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ‘‘(الزمر:۴۲) پیش کی جاتی ہے تو قبض رُوح ناقص کی تاویل کرلیتے ہیں، یہ تاویل بھی ’’توفی‘‘ کے مشتبہ الدلالۃ پر خود کافی دلیل ہے۔ مگر جب ہم توفی میں قبض بالاستیعاب وغیرہ یا واو بغیر ترتیب پیش کرتے ہیں تو صاف کہا جاتا ہے کہ یہ ’’قرآن وحدیث کے مخالف ہے اور لغت بھی اس کی تائید نہیں کرتی۔‘‘ مگر حیرت ہے کہ مرزاقادیانی کا ’’توفی‘‘ کو قیود سے مقید کرنا اور آیت النوم میں اپنی شرائط کی موجودگی میں اِنعامی روپیہ دینے سے گریز کرنا، صاف زبردستی اور تحکم نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ کونسی لغت ہے کہ جس میں مرزائی قیود مذکور ہیں؟ وہ کونسی کتاب ہے کہ جس میں ’’توفی‘‘ کا لفظ باوجود اتنی قیود کے صریح الدلالۃ علی الموت لکھا ہے۔۔۔؟
خلاصہ یہ ہے کہ ان کی بھاری دلیل آیت تخاطب تھی کہ جس کا خاکہ آپ کے سامنے کھینچا جاچکا ہے۔ اب رہا احادیث سے اِستدلال سو اس کی نسبت مرزائیوں کا عام خیال ہے کہ سوائے چند اَحادیث کے جن کی تصدیق مرزاقادیانی نے کی ہے باقی تمام غیرمعتبر ہیں۔ کچھ قصہ کہانیاں ہیں اور کچھ بناوٹی باتیں۔ بہرحال دونوں قسم کی احادیث معتبر نہیں۔ ہاں الزامی طور پر اَحادیث سے بھی اِستدلال کیا کرتے ہیں۔
چنانچہ ان کی طرف سے پہلی حدیث یوں بیان کی جاتی ہے کہ الیواقیت والجواہر میں یوں ہے کہ: ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیین‘‘ (الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۲۱،۲۲) ’’اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے‘‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔ جواباً
392
پیش کیا جاتا ہے کہ غیرمستند حدیث کیوں پیش کی جاتی ہے؟ اس کا راوی کون ہے؟ احادیث مستندہ صحیحہ کے خلاف ایک منکر حدیث کو پیش کرنا کونسا اِسلام ہے؟ الیواقیت والجواہر نے فتوحات کا حوالہ دیا ہے، اور فتوحات میں صرف ’’لو کان موسٰی حیًّا‘‘ مذکور ہے، تصحیح نقل کون کرے گا؟ اس حدیث پر اس قدر سوال پیش کئے گئے ہیں کہ کوئی انتہا نہیں، مگر مرزائیوں کی طرف سے ایک بھی جواب نہیں۔
دُوسری حدیث کا مضمون یوں ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام ایک سوبیس سال کی عمر پاکر مرچکے ہیں، اور یہ کہ نبی اپنے بھائی متقدم الرسالۃ نبی کی نصف عمر پاتا ہے، جیسے کہ حضور علیہ السلام نے تقریباً ساٹھ سال عمر پائی ہے۔‘‘ مگر یہ حدیث بھی موضوع ہے، کسی مستند کتاب میں صحیح روایت سے نقل نہیں ہوئی، اگر صحیح مانا جائے تو مرزاقادیانی کی عمر تیس سال کی ماننی پڑتی ہے، کیونکہ انہوں نے بھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، یا ان کی نبوّت مشکوک ہے۔ علاوہ بریں جب دُوسرے انبیاء کی عمروں پر یہ حدیث منطبق کی جاتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصلیت کچھ نہیں۔
تیسری حدیث ذکرالوفاۃ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات میں جب تک شک پیدا ہوا تھا تو ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (آل عمران:۱۴۴) سے وفاتِ محمدیہ پر اِستدلال کیا گیا تھا۔ سو اس کا جواب بھی یوں ہی دیا جاتا ہے کہ اوّلاً اس حدیث میں صاف ’’مات محمد‘‘ کا لفظ موجود ہے۔ ثانیاً ’’خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ خلو عہد رسالت انبیاء ثابت ہوتا ہے کہ جس سے موتِ انبیاء کی طرف بطریق کفایۃً ذہن منتقل ہوسکتا ہے، اس میں موت کی صراحت نہیں، ورنہ ’’وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ‘‘ (الحجر۱۳) میں ’’ماتت سنۃ الأوّلین‘‘ کہنا پڑے گا۔ جو صریح عقل ونقل کے خلاف ہے۔ ثالثاً ’’الرسل‘‘ میں جملہ رُسل بحیثیت مجموعی مراد ہیں، افرادی جماعت مراد نہیں، ورنہ اس کے بعد ’’کلھم اجمعین‘‘ کا لفظ بھی شامل ہوتا۔ اب بحالت مشتبہ تمام انبیاء کی موت ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں خوف ہے کہ ایسے عموم سے اَحکام یا اخبار کے مثبت کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ انسان اَزقسم نباتات ہے، جاندار نہیں، کیونکہ’’وَاللہُ اَنْبَتَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا‘‘ (نوح۱۷) قرآن میں موجود ہے۔ اور یہ بھی نہ کہہ دیں کہ تمام انسان دوزخی ہیں، کیونکہ قرآن شریف میں صاف صراحۃً مذکور ہے:’’لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘ (السجدۃ۱۳) خداتعالیٰ ایسے مجتہدین سے پناہ بخشے کہجن کا مبلغِ علم صرف خطاباتِ مرزا ہوں یا توہمات نفسانیہ یا حدیث النفسی
چوتھی حدیث میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضور صلی اللّٰہ عیلہ وسلم قیامت کے روز ’’اصحابی، اصحابی‘‘ پکاریں گے تو جواب ملے گا کہ جو کچھ انہوں نے آپ کے بعد میں کیا، آپ نہیں جانتے۔ پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں بھی وہی عذر پیش کروں گا جو حضرت مسیح پیش کریں گے کہ: ’’وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ الآیۃ طریق اِستدلال یوں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی توفی کو مسیحی توفی سے تشبیہ دی ہے مگر جب محمدی توفی بمعنی موت ہے تو مسیحی توفی بھی بمعنی موت ہوگی اور ہماری طرف سے یوں کہا جاسکتا ہے کہ حرف تشبیہ کہاں؟ وجہ شبہ کیا چیز ہے؟ کما کا لفظ قول کے درمیان مذکور ہے توفی کے درمیان کیسے مذکور ہوا ہے؟ علاوہ بریں جبکہ توفی بمعنی رفع جسمانی بھی مراد لے کر معنی صحیح ہوسکتے ہیں تو خواہ مخواہ کیا ضرورت ہے کہ توفی سے وفات مسیح مراد لیں؟
393
پانچویں حدیث میں حضرت اِمام حسنؓ کا خطبہ پیش کیا جاتا ہے کہ: ’’حضرت علی ابن ابی طالب کرّم اللّٰہ وجہہہ ۲۷؍رمضان کو شہید ہوئے، یہ وہ رات ہے کہ جس میں حضرت مسیح کی رُوح قبض ہوئی۔‘‘ اب اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں جب تک ان کا جواب نہ دیا جائے یہ قابلِ اِستدلال نہیں ہوسکتی۔ کیا تاریخی عبارتیں احادیثِ صحیحہ کا مقابلہ کرسکتی ہیں؟ کیا اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اب بھی مردہ ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ شاید راوی کا مذہب اناجیل کے مطابق حضرت مسیح کے چند گھنٹے تک موت کا ہو؟ کیا کوئی صحیح روایت واقعہ صلیب کے خلاف نہیں کہ جس میں موت کی نفی ہو؟ کیا واقعہ صلیب رات کو ہوا تھا؟ اسم موصول سے بیان کرنا مخاطب کے علم کا ثبوت دیتا ہے، مگر تعجب ہے کہ حضرت مسیح کی وفات ۲۷؍رمضان شریف کی رات کو نہ کسی اِسلامی تاریخ نے بیان کی ہے، اور نہ عیسائی تاریخیں اس کی تائید کرتی ہیں۔ کیا ہر ایک روایت کو صحیح تسلیم کرنا، خصوصاً روایاتِ صحیحہ کے مقابلے میں خارج اَزتدین نہیں۔۔۔؟
دوم:۔۔۔ (مسیح کی نوعیت) اسلام میں مسیح شخصِ واحد کا نام ہے، مگر مرزاقادیانی کے نزدیک مسیح دو ہیں، ایک مسیح ناصری جو ’’یسوع‘‘ کے نام سے مشہور ہے، دوم مسیح محمدی جس کے خود دعویدار ہیں، دلیل یوں ہے کہ روایات میں مسیح کے دو حلیے بیان ہوئے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ مختلف اوقات میں مشتبہ وضع قطع دو مختلف اور جزوی فرق سے بیان ہوسکتی ہے، ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دو ہوں گے۔
سوم:۔۔۔ (مسیح کی عصمت) اہلِ اسلام میں آپ کی عصمت میں اِتفاق ہے، مگر مرزائی جماعت آپ پر مسمریزم اور جھوٹ وغیرہ کا اِلزام لگاتی ہے، پھر طرفہ یہ کہ یہ اِلزام خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے (شرم)۔
چہارم:۔۔۔ ہمارے نزدیک مسیح ابن مریم الگ ہیں اور اِمام مہدی کا ظہور الگ۔ مگر مرزائیوں نے دونوں کو ایک تسلیم کیا ہے، دلیل یہ ہے کہ ’’لا مہدی إلّا عیسٰی‘‘ مگر ہم کہتے ہیں کہ بعد تسلیم صحت حدیث کے بموجب قرب زمانہ مراد ہے، کیونکہ دوسری روایات میں تصریح ہے کہ مہدی کا زمانہ دس سال پہلے ہوگا۔
پنجم:۔۔۔ (بروز مسیح) مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے کہ مسیح میں دُوسرے نبیوں کی رُوحیں ظہور پذیر ہوتی ہیں، مگر اِسلام میں یہ عقیدہ مردود ہے کیونکہ بروز اور تناسخ آپس میں تقریباً مترادف ہیں، بلکہ یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے، اس لئے قابلِ تسلیم نہیں ہوسکتا۔
ششم:۔۔۔ مرزاقادیانی کے نزدیک تمام انبیاء کے نام ایک قسم کی ڈگریاں تصوّر کی گئی ہیں، اور جب ظاہری علوم میں ایک شخص واحد مختلف اور بے شمار ڈگریاں حاصل کرسکتا ہے، تو نبوّت کے میدان میں ایک غلام احمد ترقی پاکر مختلف ڈگریاں کیوں نہ حاصل کرسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزاقادیانی کا پہلا قدم تصوّف پر ہے اور آخری قدم کرشن اوتار پر، درمیان میں کبھی مہدی، مریم، اِبراہیم، داؤد، سلیمان بنتے ہیں اور کبھی غلامِ اہلِ بیت اور خادمِ سلسلۂ نبوّت، پھر کبھی رنگت بدلتی ہے تو پکار اُٹھتے ہیں کہ:
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے!
(دافع البلاء ص:۲۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)
394
لیکن اہلِ اسلام کے نزدیک یہ سب کچھ خرافات میں داخل ہے، اس کی تائید نہ قرآن سے ملتی ہے اور نہ حدیث سے، بلکہ یہ توہم صرف غیرمتشرع صوفیاء کی شطحیات سے ملتاجلتا ہے، جس سے خود صوفی بھی دست بردار ہوئے ہیں
ہفتم:۔۔۔ (ختمِ رِسالت) مرزاقادیانی کے نزدیک ختمِ رِسالت کے صرف یہی معنی ہیں کہ جیسے ایک افسر کے پاس مہر ہوتی ہے، اسی طرح یہ بھی ہے جس سے قدرے نبی بن سکیں گے۔ اہلِ اسلام کے نزدیک یہ عقیدہ بالکل خلافِ عقل ونقل ہے۔ ’’ختم‘‘ کے لفظ میں جو تصرف کیا ہے وہ صرف پنجابی محاورات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہے، پنجاب میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں کے پاس ذیلداری یا نمبرداری کی مہر ہے، یعنی وہ افسر ہے، اور اہلِ موضع اس کے ماتحت ہیں۔ مگر یہ پنجابی محاورہ عرب کے الفاظ میں داخل کرنا، محض لاعلمی اور جہالت ہے، عرب کے محاورے میں ’’خاتم کل شیء آخرہ‘‘ (بحر المحیط ج:۷ ص:۳۱۴، طبع بیروت) کے لکھے ہیں یعنی آخری جزو کو کہتے ہیں، اور یہی مفہوم چودہ سوسال سے تسلیم کیا گیا ہے، نئے نئے تخیلات کے معانی قابلِ وثوق نہیں۔
ہشتم:۔۔۔ (اِمکانِ نبوّت) مرزاقادیانی کے نزدیک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دُوسرے نبیوں کا آنا ممکن بلکہ ضروری ہے، اِستدلال میں لفظ ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ‘‘ (الجمعہ:۳) پیش کیا جاتا ہے، اور کبھی یہ حدیث پیش کرتے ہیں: ’’لو کان ابراھیم حیًّا لکان نبیًّا‘‘ (رُوح المعانی ج:۸ ص:۳۱) مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے، اور اگر تسلیم کرلی جائے تو چونکہ جملہ شرطیہ ہے، اس لئے اس کے اطراف (شرط وجزا) سے کوئی حکم پیدا نہیں ہوسکتا۔ اور آیت پیش کردہ میں ’’مِنْھُمْ‘‘ کا قرینہ مرزاقادیانی کے خلاف ثابت ہے، علاوہ ازیں اہلِ سنت میں یہ قاعدہ مسلّم ہے کہ جو حکم صریح نصوصِ قطعیہ کے برخلاف اِستنباط کیا جائے وہ مردود ہوتا ہے۔ جب خاتم النّبیین اور ’’لا نبی بعدی‘‘، ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۰۹) وغیرہ جیسے الفاظ صریح موجود ہیں تو مرزاقادیانی کی دِماغ سوزی کب اور کہاں تک تسلیم ہوسکتی ہے، لفظ ’’بعد‘‘ میں بعدیہ متصلہ لینا مرزائیوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ بعدیت متصلہ کے معنی بھی تیرہ سوسال کہیں سے ثابت نہیں ہوئے، جس پر وہ اتنا اِتراتے پھرتے ہیں۔
نہم:۔۔۔ (بروز) ہمارے نزدیک بروز عقائدِ اِسلام میں کہیں تسلیم نہیں کیا گیا، ہم اس کو تناسخ کے مساوی سمجھتے ہیں، جیسے تناسخ کا مسئلہ اہلِ اسلام میں مُردہ ہے، ایسے بروز کی آڑ بھی دامِ تزویر سے کہیں دُور نہیں، ممکن ہے کہ مرزاقادیانی نے کرشن اوتار بننے کے لئے یہ مسئلہ ہندوؤں سے حاصل کیا ہو، مگر افسوس کہ ہندو ایک بھی معتقد نہ ہوا۔
دہم:۔۔۔ (منصبِ نبوّت) اہلِ اسلام کے نزدیک منصبِ نبوّت صرف خداداد نعمت ہے، کسی کے آداب اور اَخلاق کو اس میں دخل نہیں۔ اگرچہ حکمتِ اِلٰہی ہمیشہ سے منصبِ نبوّت عطا کرنے میں بظاہر اعمال وافعال کو علتِ تامہ ظاہر کرتی رہی ہے، مگر درحقیقت یہ علتِ تامہ نہیں۔ فلاسفہ یونان کے نزدیک (کہ مرزاقادیانی جن کے دلدادہ ہیں) تخلی عن الرذائل وتحلی بالفضائل تحصیل منصبِ نبوّت کے لئے علتِ تامہ ہے، اسی بنا پر فلاسفہ یونان کسی نبی کے ماتحت نہیں رہے۔ مرزاقادیانی کے نزدیک یہ امر مسلّم ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ترقی کے مرتبہ رِسالت تک پہنچ سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ میں منصبِ نبوّت مراد ہے، اور حقیقۃالوحی میں صراحۃً بیان کیا ہے کہ اسلام نے ہمارے سامنے ایک ایسا پاکیزہ کورس پیش کیا ہے کہ جس پر کاربند رہنے سے
395
ہر ایک انسان منصبِ نبوّت تک پہنچ سکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے نزدیک منصبِ نبوّت کسبی ہے اور اِسلام میں وہبی اور محض فضل ربی ہے، دلائل کے لئے ہزاروں آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔
یازدہم:۔۔۔ (وجود مجدد) اہلِ اسلام میں مجدّد کے یہ معنی ہیں کہ اہلِ اسلام میں مرور زمان اور دواعی ضلالت کے بروقت موجود ہونے سے جو جو اُصول اسلام میں یا فروعات میں اگر کچھ شدّت وضعف یا اولویۃً واولیتہ اورکمیۃ وکیفیتہ کا فر ق آگیا ہو تو مجدّد آکر رفع کرے، جس کی نسبت ہر صدی کے اَخیر پر آنے کی خبر دِی گئی ہے۔ اب اس میں اِختلاف ہے کہ ہر ایک صدی کے اخیر پر یا شروع پر کون کون مجدد ہوگزرے ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ مجدّد سے مراد جماعتِ علماء ہے، جو ہر ایک صدی میں لوگوں کو راہِ راست کی طرف بلاتی رہتی ہے، مجدّد کی شخصیت غیرمتیقن ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ہر ایک مذہب نے اپنے اپنے مجدّد الگ شمار کئے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ مجدّد خود مدعی بھی ہوکر اِشاعت کرے۔
مگر مرزاقادیانی کے نزدیک مجدّد کے افراد شخصیۃً گزرے ہیں، افراد کلیۃً نہیں، اسی واسطے عام طور پر ہم پر سوال کیا کرتے ہیں کہ اگر مرزاقادیانی مجدّد نہیں تو اس صدی کا اِمام اور مجدّد کون ہے؟ اگرچہ ہم اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ زمانۂ حال میں بہت سے ایسے علماء نامور موجود ہیں کہ جن کے عقیدت مند ان کو مجدّد کہتے ہیں، اور تھوڑی دیر ہی گزری ہے کہ مولانا محمد قاسم مرحوم اور مولانا رحمت اللّٰہ مرحوم مہاجر مکی اپنے وقت کے مجدّد کہے جاسکتے ہیں، جن کے خوشہ چیں مناظرین اہلِ اسلام عموماً اور مرزاقادیانی خصوصاً ثابت ہوئے ہیں، مگر تاہم یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زمانۂ حال میں علماء نامور تجدیدِ دِین میں کوشاں ہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے نزدیک تجدید کے یہ معنی ہوں کہ اہلِ اسلام کے متفقہ قدیمی اور مسلّمہ اُصول کی بیخ وبن نکال کر ان کی بجائے نئے تخیلات اور نئے عقائد اور اُسول قائم کئے جائیں اور ان کا نام اصلی اسلام رکھا جائے۔ سو اگر یہی معنی ہیں تو ہمیں مجبوراً تسلیم کرنا پڑے گا کہ بیشک مرزاقادیانی سے پہلے مرزامحمد علی ایرانی مجدّد ہوگزرے ہیں اور پھر خود مرزاقادیانی ان کے جانشین اور نعم البدل ثابت ہوئے ہیں۔
دوازدہم:۔۔۔ (وجود اِمامِ وقت) مرزاقادیانی کے نزدیک اِمام سے مراد خود ان کی ذات ہے یا وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو مدعی مہدویت یا مسیحیت ہو، یا کم از کم اس کا قائم مقام ہو۔ مگر اہلِ اسلام کے نزدیک سلطانِ وقت مراد ہے، انتظامی اُمور میں جو اس کی اِطاعت نہ کرے گا، وہ باغی تصوّر ہوگا اور حرام موت مرے گا۔
سیزدہم:۔۔۔ (آیاتِ قرآنی) ہمارے نزدیک سب سے بڑھ کر آیاتِ قرآنی ہیں۔ مرزائیوں اور خود مرزاقادیانی کے نزدیک اِلہاماتِ مرزا، آیاتِ قرآنی سے بڑھ کر ہیں۔ آیات متشابہات اور آیاتِ محکمات کے الفاظ ہمارے نزدیک غیرقرآن میں اِطلاق نہیں ہوسکتے، مگر مرزاقادیانی اپنے اِلہامات میں بھی یہ دونوںلفظ اِطلاق کرلیتے ہیں۔
چہاردہم:۔۔۔ اہلِ اسلام میں آیاتِ قرآنی کا اصل مطلب وہی معتبر ہے جو صحابہ اور اَئمہ کے اقوال اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث سے تائید پائے ہوئے ہو، اپنے من گھڑت خیالات کے مسائل کی اِسلام میں کوئی وقعت نہیں۔ مگر مرزائی صاحبان سب سے بڑھ کر وہ مطلب معتبر سمجھتے ہیں جو مرزاقادیانی نے اِختراع کیا ہے، یا جو ان کے عقیدت مندوں نے بعد دِماغ
396
سوزی کی ہے۔ پھر وہ طریق معتبر ہے کہ جس کی تائید کسی عیسائی مؤرخ یا اِنجیل اور تورات وغیرہ سے ہو، چنانچہ ان کی تمام تفاسیر کے ورق جابجا احادیث کی بجائے اِنجیل وتوراۃ وغیرہ کی عبارتوں سے بھرے پڑے ہیں۔
پانزدہم:۔۔۔ یہ کہ ان کے ہاں اہلِ اسلام کے مسلّمہ قصص (معراجِ جسمانی، اَصحابِ کہف، جنۃ آدم، قصہ بقر، ناقہ صالح، ذبح عظیم، شق قمر وغیرہ) تمام جھوٹے ہیں، کیونکہ عیسائیوں نے ایسے اُمور سچے تسلیم نہیں کئے۔
بالجملہ یہ مختصر پندرہ اُمور پیش کئے گئے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم میں اور مرزائیوں میں اُصولی فرق ہے، صرف فروعی نہیں، اور ایسے دُور دراز کے اِختلافات کے ہوتے ہوئے ہم انہیں اسلام میں داخل نہیں سمجھتے کیونکہ ان کی کوئی بات اہلِ اسلام کے اَئمہ اور صحابہؓ میں سے کسی ایک کے موافق نہیں، جو مسائل انہوں نے اپنے دستورالعمل بنائے ہیں، ان میں سے کچھ فلسفہ قدیم پر مبنی ہیں، اور کچھ تخیلاتِ جدید کا مجموعہ ہے، ہر ایک عقل مند اتنا کہے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔اور اُمید ہے کہ خود مرزائی بھی ہمیں یقین دلائیں گے۔۔۔ کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے مرزائی اِعتقادیات کا نام ونشان تک نہ تھا، انہوں نے اسلام کی پُرانی چاردِیواری مسمار کرکے ڈیڑھ اِینٹ کی الگ مسجد بنانی تجویز کی ہے۔ ان کی اس نئی بنیاد پر شروع سے ہی اہلِ اسلام کی طرف سے رَدّوقدح ہوتا رہا، مگر اس قوم نے ہمت نہ ہاری، مرزاقادیانی پر مختلف عنوانات سے اہلِ اسلام کی طرف سے تکفیر جاری ہوتی رہی، ۔۔۔کبھی نبوّت کے دعوے دار ہونے سے، اور کبھی مسیحِ موعود بننے سے، اور کبھی نصوصِ قطعیہ کے اِنکار کرنے سے۔۔۔ اور اہلِ اسلام کو جوجو ضرورتیں اور مجبوریاں پیش آتی رہیں، ان کے رفع کرنے کے واسطے مختلف کوششیں اور فتاوے عمل میں آئے، لیکن اس وقت چونکہ اہلِ اسلام کو حکام کی طرف سے یہ دِقت پیش آئی کہ اہلِ سنت والجماعت کی لڑکی جبراً مرزائی جماعت کے سپرد کردی جاتی ہے، اور ہمیں غیرمسلم اور ان کو مسلم قرار دِیا جاتا ہے، اور خواہ مخواہ ہماری حق تلفی کی جاتی ہے، اس لئے اب مرزائی جماعت کی نسبت اس قسم کے فتاوے علمائے سنی وشیعہ سے حاصل کئے گئے ہیں کہ جن میں مرزاقادیانی کی تکفیر کے ضمن میں مذکورہ بالا مسئلے کا پورا تصفیہ ہوگیا ہے۔
پیشتر اس کے کہ ہم ان فتوؤں کی مختصر نقلیں درج کریں، ہم یہ ظاہر کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس حق تلفی کے لئے صدائے اِحتجاج بلند کرنے میں ہم دونوں فریق (سنی شیعہ) متفق ہیں اور ذرّہ بھر بھی اِختلاف نہیں۔ نیز یہ کہ جس قدر اِسلامی ریاستیں یا اِسلامی انجمنیں یا مدارس مذہبی اُمور اِسلام میں اپنا دخل دینا فرضِ منصبی سمجھتی ہیں، اس پر ان سب نے بھی اِتفاق کرلیا ہے، چنانچہ وہ فتاوے ملکی تقسیم کے لحاظ سے پنجاب وہندوستان کے چیدہ چیدہ اورمعتبر مقامات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب وار درج کئے جاتے ہیں۔ ناظرین دیکھ کر خود فیصلہ کرلیں کہ مرزائیوں نے اِسلامی عمارت کو کس طرح مسمار کردیا ہے۔ انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے اس مسئلے میں جو سوال چھپواکر اہلِ علم کی خدمت میں روانہ کیا گیا تھا، وہ ذیل میں درج ہے، جس کے نیچے سب کے جوابات علیٰ حسب المدارج درج کئے جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ تمام جوابات صفحہ:۳۶۴ سے ۳۸۰ پر درج ہیں، لہٰذا وہاں موجود رسالے: ’’فتویٰ تکفیرِ قادیان، شائع کردہ: مکتبہ اعزازیہ دیوبند‘‘ میں دیکھ لئے جائیں، البتہ ’’۳۱نمبر فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور‘‘ کی عربی عبارت وہاں مختصر ہے اور یہاں مفصل۔
397
۳۱:۔۔۔ فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)
قال المرزا ما تعریبہ وتلخیصہ کنت اعتقد ان المسیح حی، فنزل الوحی بأنہ قد مات، ثبت بہ ان القول بحیاتہ من الشرک، والکشف علٰی ان الجنۃ والنار لذات وآلام روحانیۃ، وان ربنا اج (ناب الفیل) وھو قیوم ووجود لہ من الأیدی والأقدام والجوارح والقویٰ ما لا یدرکہ مدرک کک لہ من الأعصاب والعروق ما لا یحیط بہ محیط بھا تتم إرادتہ فی العالم ھٰذہ الأعضاء والعروق ھی المسماۃ ما لعالم، وان الأخبار بنزول المسیح وأشراط الساعۃ لیست علٰی ظواھرھا ولھا معان کانت مخزونۃ لم یطلع علیھا احدٌ إلٰی یومنا ھٰذا بل ولم ینکشف محمد صلی اللہ علیہ وسلم الاُمور الخمسۃ الدجال ودوابتہ، ودابۃ الأرض، وابن مریم، ویأجوج ومأجوج، فنزل الوحی بأن دابۃ الأرض علماء ھٰذا الزمان، ویأجوج ومأجوج اقوام اوروبا، والدجال علماء البریطانیۃ، ودابتھا مرکب الدخان، وابن مریم انا فی تحصیل صفاتہ الذاتیۃ ولما جرت سنۃ اللہ ببعثۃ الأنبیاء إذ غلبت داعیۃ الشر لم یکن بد من نبی فی ھٰذہ الأیام وقد کان اللہ وعد أنہ یبعث فی امتہ محمد نبینا کإبراھیم إذا تفرق علٰی فرق کثیرۃ فلن ینجو إلّا من تبعہ، فسمانی اللہ أسماء الأنبیاء من آدم إلٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ومن قل کنت احسب ان المسیح نبی عین انا منہ فی مرتبتہ وکنت إذ ظھر لی فضل ما احسبہ انھا فضیلۃ جزویۃ ولٰکن لما اخذت تنزل علی من الوحی الأمطار الموصلۃ الدر فلم یدعنی اللہ علیہ فأعطیت منہ النبوۃ وإنما اعطیتھا إذ فنسیت فإنی فی أتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم فنبوتی لا تنافی ختم الرسالۃ، والذی نفسی بیدہ! انہ ھو سمانی مسیحًا موعودًا وجعلنی نبیًّا صدقنی بالآیات فأنا آخر الخلفاء علٰی قدم عیسٰی وما کان لمؤْمن ان یکفر بی فإنہ کفر بکتاب اللہ ولا یفلح الکافر حیث اتی۔ ولم یختص احد بإسم النبوۃ سوای فی ھٰذا الزمان فما اوحی إلیّ فھومنزہ عن الخطأ والنسیان فیاایھا المسلمون! ما اعلمکم فھو ملاک النجاۃ من النار، واعلموا انہ ما یخالفنی من الأحادیث رمیتہ کمزجاۃ من البضاعۃ، فلما آمنت بما اوحی إلیّ کما آمنت بالقرآن إعتقدتہ قطعیًّا فکیف یریٰ ان آمن بالحدیث ظنیۃ او موضوعۃ تخالفہ وفضلنی اللہ علی المسیح الناصری، و اللہ لو کان المسیح الیوم لما ظھر لہ من الآیات ما ظھرت لی، بل ولم یظھرھا اللہ لنبی قبلی مثل ما اظھرھا لی ما خلا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم بل إنما ظھرت لہ ثلاث آلاف وظھرت لی ثلاث مائۃ آلاف ولم یخل منھا شھر فلما ثبت عند اللہ وعند جمیع المرسلین ان المسیح الموعود فی ھٰذا الزمان افضل من المسیح الناصری فلم یشق علی الناس افضل کنفسی علیہ إذ کان المسیح لیعتاد الکذب ویشرب الخمر ومن جدتہ بغایا ویحیٰی افضل منہ إذ لم یکن یشرب الخمر، ولو لم استنکف عن عمل الترب لما زادنی المسیح فی المعجزات وقد غلط اربع مائۃ نبی فی اخبارھم بالغیب لٰکن لم یغلط احدٌ منھم ما غلط المسیح فیہ۔ وقال لی ﷲ: لولاک لما خلقت الأفلاک، وکم من سریر قد تسفل وسریرک فوق السرر کلھا وانت من امئنا وھم من فشل وانت مِنّی بمنزلۃ أولادی وأنت منی وأنا منک وفضلنی
398
اللہ بخسف القمرین وفضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم بخسف القمر، ومرۃ جعلنی اللہ امرأۃ اظھر علیھا قوۃ الرجولیۃ فیریدون ان یرو مرۃ جالست اللہ وکتبت انا بیدی من الواقعات والحوادث کیف اریدھا وقبلہ اللہ وکتب التصدیق بقلمہ وفتطایر رشحات بقلمہ علٰی خادمی ولما غلب علی الألوھیۃ خلقت السماء والأرض وخلقت آدم۔ انتھی ما قال ولہ مثلہ ھفوات لا تحصٰی وما ذکرنا فیہ کفایۃ لما نرید ان نقول۔
فنقول: ان المرزا ادعی فیما ذکرنا وفات المسیح، القول بحیاۃ المسیح شرک، الجنۃ والنار لا حقیقۃ لھما، اللہ جسم غیر متناہ، النصوص لیست علٰی ظواھرھا، فوقیۃ نفسہ علٰی رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم علمًا، النبوۃ لنفسہ، دوامھا بعد ختم الرسالۃ، تحصیل النبوۃ بالإکتساب، التمثل بعیسٰی بل بجمیع الأنبیاء، فضیلۃ نفسہ علی المسیح، الإجراء الوحی، ضرورۃ الایمان بہ، المجالسۃ باﷲ، المجانستہ بہ، کونہ زوجۃ ﷲ، ولد ﷲ، کونہ قیم اللہ فی کائناتہ، واتحاد ذاتہ بذات ﷲ، شرکتہ فی صفۃ الخلق وقدرتہ، فھٰذہ عشرون امرًا کلہ کفر یخالف الإسلام، بل وتصدیق المرزا فیہ من الکفر وکفیٰ منھا الرجل فی کفرہ واحد فکیف إذا اجتمعت جمیعا فی قائلھا لا اقول ذالک وحدی بل صرح بکفرہ من الأئمۃ المتقدمین القاضی عیاض فی الشفاء والمُلَّا علی القاری فی شرح الفقہ الأکبر وابن حجر وآخرون فی مصنفاتھم، ونحن نذکر نبذۃ مما قالوا۔
قال علی القاری: دعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالإجماع۔
قال ابن حجر فتی فتاویٰ: من اعتقد وحیًا بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان کافرًا بإجماع المسلمین۔
قال الشیخ الأکبر فی الفتوحات: اسم النبی زال بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
قال القاضی عیاض: من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم او بعدہ کالعیسویۃ من الیھود القائلین بتخصیص رسالتہ إلی العرب، وکالخرمیۃ القائلین بتواتر الرسل وکالبریغیۃ والبیانیۃ منھم القائلین بنبوۃ بزیغ وبیان واشباہ ھٰؤُلاء ومن ادعی النبوۃ لنفسہ او جوز إکتسابھا والبلوغ بصفاء القلب إلٰی مرتبتھا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذلک من ادعی منھم انہ یوحی إلیہ وان لم یدع النبوۃ وانہ یصعد إلی السماء أو یدخل الجنۃ ویأکل من ثمارھا ویعانق الحور العین فھٰؤُلاء کلھم مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ اخبر انہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین وانہ لا نبی بعدہ، واخبر عن اللہ انہ خاتم النّبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجتمعت الاُمّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علی الظاھر وان مفھوم المراد بہ دون تأویل وتخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤُلاء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا سمعًا ومن اعتقد ان اللہ جسم او المسیح او بعض من یلقاہ فی الطریق فلیس بعارف بہ فھو کافر وکذلک من ادعی مجالسۃ اللہ والعروج إلیہ ومکالمۃ وحلولہ فی الأشخاص او استخف بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم أو بأحد من الأنبیاء، او آذاھم، او قتل نبیًّا، او حاربہ، او زری بالأنبیاء فھو کافر بإجماع المسلمین وکک من جوز علی الأنبیاء الکذب فیما اتوا بہ وادعی فی ذالک المصلحۃ او لم یدعھا فھو کافر بالإجماع
399
وکذالک من قال ان المراد بالجنّۃ والنَّار والحشر والنّشر والثّواب والعقاب معنی غیر ظاھرۃ وانھا لذات روحانیۃ ومعانی باطنۃ وکک تقطع بتکفیر کل قائل قولا یتوصل بہ إلٰی تضلیل الاُمّۃ او تکفیر جمیع الصحابۃ وقال محمد: من تنباء یستتاب اسر ذالک او اعلنہ وھو کالمرتد قالہ سخنون وغیرہ۔
فإن قیل: ان لکلام المرزا تأویلات کالصوفیۃ! قلنا: من قال بکلمۃ الکفر من الصوفیۃ کفر واستیب او رجع مما قال علا ان للتأویل مجالًا لمن آمن بنبوتہ ومن لا یحسن الظن بہ فیکفرہ قطعًا۔ وإن قیل: ان المرزائیۃ اھل القبلۃ! قلنا: انھم انکروا نصوصًا قطعیۃ عند جمیع المسلمین واولوھا لم یول بہ احد من الأئمۃ فلا ریب فی کفرھم وإن کانوا من اھل القبلۃ ونحن لم نکفرھم ما لم یأتوا الصریح الکفر ولم یخالفوا القطعیات الا تریٰ إلٰی قولہ علیہ السلام: لا یقبل اللہ لصاحب بدعۃ صومًا ولا صلاۃً ولا حجًّا ولا عمرۃً ولا جھادًا ولا صرفًا ولا عدلًا، یخرج من الإسلام کما تخرج الشعرۃ من العجین۔ یخرج فی آخر الزمان قوم یقولون من خیر قول الناس، یقرئون القرآن، لا یجاوز تراقیھم، یمرقون من الإسلام کما یمرق السھم من الرمیۃ۔ وعن ابی سعید ومالک بن انس مرفوعًا: قوم یحسنون القیل ویسیئون الفعل۔ فقلت: ان المرزائیۃ وإن کانوا من اھل القبلۃ کفار لأنھم انکرو بدیھیات الإسلام ومسلَّماتہ۔ قال علی القاری فی شرح الفقہ الأکبر: ثم اعلن لأن المراد بأھل القبلۃ الذین اتفقوا علٰی ما ھو من ضروریات الدین کحدوث العالم فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات مع إعتقاد قدم العالم او نفی الحشر لا یکون من اھل القبلۃ۔
فلما ثبت کفر المرزائیۃ وشرکھم لم یکونوا کفوًا للمسلمین، فلا یجوز التناکح بھم لقولہ تعالٰی: ’’وَلاَ تَنکِحُوْا الْمُشْرِکٰتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّن مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ وَلاَ تُنکِحُوْا الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَلَوْ أَعْجَبَکُمْ أُوْلٰئِکَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَاللہ یَدْعُوَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ‘‘ (البقرۃ:۲۲۱)، ’’ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّوْنَ لَہُنَّ.....وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ‘‘ (الممتحنۃ:۱۰)۔
رقمہ عبدالحی عفا اللہ عنہ
۴؍ذیقعدۃ ۱۳۳۸ھـ
ولا یجوز لأھل الإسلام ان یعاملوا المرزائیۃ فی امر دینًا کان او غیر دین۔
انا العاجز محمد فاضل
بن المولوی محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی
مرزائیوں سے نکاح ہی دُرست نہیں، چہ جائیکہ اِفتراق۔۔۔! محمد عبداللّٰہ فتح گڑھی
تمت ھٰذہ الفتاویٰ فالمرجو من المسلمین ان یعملوا بھا
اوائل ذی الحجۃ ۱۳۳۸ھجریۃ مقدسۃ
✨ ☪ ✨
400
مرزائی کا جنازہ اور مسلمان
ایک لمحۂ فکریہ!
از
حضرت مولانا احمد سعید گوجرانوالہ
401
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْـحَمْدُلِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ خُصُوْصًا عَلٰی خَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ سَیِّدِنَا وَشَفِیْعِنَا
مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
برادرانِ اسلام! تمام مسلمان خواہ وہ کسی مکتبِ فکر اور کسی بھی نظریۂ سیاست سے تعلق رکھتے ہوں، اس بات کو بخوبی جانتے ہیں اور اس پر اِیمان رکھتے ہیں کہ کائنات کا خالق ومالک صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے اور اِنسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے سچا یقینی مذہب اور دِین صرف اِسلام ہی ہے: ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامِ‘‘ (آل عمران:۱۹) اس کے سوا تمام مذاہب اور اَدیانِ باطل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ اس دِینِ اسلام کی شمع روشن کرنے والے اور جن واِنس کو راہِ راست بتانے والے ہادی حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کے آخری رسول نبی برحق رحمۃللعالمین ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اِنسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ تک مختلف اوقات میں انبیاء ورسول مبعوث فرمائے، سب سے آخری حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ختمِ نبوّت کا مبارک تاج عطا فرماکر نبوّت ورِسالت کا سلسلہ ختم وبند کردیا، اس پر سب مسلمانوں کا اِیمان ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی دَور وزمانے میں کسی قسم کا کوئی نبی ورسول نہیں ہوسکتا، نہ حقیقی نبی اور نہ ہی عکسی، ظلّی وبروزی وغیرہ، جیسا کہ متعدّد آیاتِ قرآنی میں اس کا ذکر ہے:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا‘‘ (الاحزاب۴۰)
’’حضرت محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللّٰہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں (یعنی تمام نبیوں سے آخر میں آنے والے ہیں)۔‘‘
یہ بات فیصلہ کن ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمام ممالک اور اَقوامِ عالم جن واِنس کے لئے ہے۔
’’اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ‘‘ (الرعد:۷)
’’بے شک آپ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں، اور ہر ایک قوم کی رہنمائی کرنے والے ہیں۔‘‘
اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ سورۂ اَعراف میں آپ کی نبوّت عام کا اِعلان فرماتے ہیں:
402
’’قُلْ یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا‘‘ (الاعراف:۱۵۷)
’’اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللّٰہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘
اور اَحادیثِ صحیحہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صاف اِرشادات موجود ہیں جو قرآنِ کریم کی تفسیر ہیں، جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘
(مشکوٰۃ المصابیح ص:۵۱۲، باب فضائل سید المرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میرے اُوپر اللّٰہ تعالیٰ نے نبوّت کا سلسلہ ہی ختم کردیا۔‘‘
’’اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۲۸، کتاب الفتن، طبع ایچ ایم سعید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میں نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں، میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
اور نہ ہی کسی قسم کی نبوّت کسی کو مل سکتی ہے، بلکہ آپ کی نبوّت ابدی ہمیشہ کے لئے قائم ودائم، ہر زمانے کے لئے مساوی ہے، تمام دُنیا کے مسلمانوں کا یہ اِجتماعی واِتفاقی فیصلہ کن عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص کسی زمانے میں کسی قسم کی نبوّت یا رِسالت کا دعویٰ کرے تو وہ اَزرُوئے قرآن وسنت اور اِجماعِ اُمت کے وہ شخص کافر، مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں جب مسیلمہ کذّاب اور اَسودعنسی جیسے بدبختوں نے نبوّت کا دعویٰ کیا تو صحابہ کرامؓ نے ان پر اِرتداد اور کفر کا قطعی حکم لگایا اور ان کی سرکوبی کی۔ اس کے بعد وقت بوقت ایسے خبیث بدباطن قسم کے انسان نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرتے رہے اور ساتھ ساتھ ان کی سرکوبی ہوتی رہی۔ پھر جب برصغیر پاک وہند میں مرزائے قادیانی نے انگریز کے زیرِسایہ اور اس کے حکم پر اُن کا خودکاشتہ پودا ہونے کی وجہ سے دعویٔ نبوّت کیا تو علمائے اُمت نے اِبتدائً دہلی میں جون ۱۸۹۱ء کے اِجتماعِ عظیم میں، اور پھر تمام دُنیا کے مسلمانوں نے بالاتفاق اس کے مرتد اور کافر ہونے کا فتویٰ دیا۔ اور مرزا کو کسی قسم کا پیشوا ماننے والے کو بھی اسی طرح مرتد وکافر کہا، اور مسلمانوں کو ہمیشہ لگاتار اس کی گمراہی سے بچانے کے لئے پوری جدوجہد اور کوشش کی۔ اس ملک کے باشندے اس جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں، ۱۹۵۳ء کی ’’تحریکِ ختمِ نبوّت‘‘ اور لاہور کا مارشل لاء جنرل اعظم خان کا فدایانِ ختمِ نبوّت پر فائرنگ اور مسلمانوں کا بخوشی جامِ شہادت نوش کرنا، پھر منیرانکوائری رپورٹ اس کا ایک بیّن ثبوت اور سرکاری شہادت ہے، تمام دُنیا کے مسلمانوں کا یہ اِتفاقی عقیدہ ہے کہ مرزائے قادیان کو کسی قسم کا پیشوا ماننے والے مرزائی قطعاً مسلمان نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے کسی گروہ یا فرقے میں شمار ہوسکتے ہیں۔ ان کا مذہب، ان کا فرقہ، اسلام اور مسلمانوں سے بالکل جدا ہے۔ ان کا نکاح، جنازہ، مرگ وخوشی مسلمانوں سے الگ ہیں، کوئی مرزائی اپنی لڑکی کسی مسلمان کے نکاح میں نہیں دیتا، اور نہ کسی مسلمان کو کسی مرزائی سے نکاح جائز ہے۔ اگر خاوند بیوی میں سے کوئی العیاذباللّٰہ مرزائی ہوجائے تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرزائی کا جنازہ پڑھے یا اس کے لئے دُعائے مغفرت کرے اور اس کی قبر پر جائے۔ قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ کا
403
صاف اِرشاد موجود ہے کہ کافر، مشرک اور منافق کے لئے اِستغفار کرنا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا قطعاً حرام ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُونَ‘‘ (التوبۃ۸۴)
’’اے نبی! اور نمازِ جنازہ نہ پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی بھی، اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر، وہ منکر (کفر کرنے والے) ہوئے اللّٰہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے، اور وہ مرگئے نافرمان۔‘‘
اللّٰہ تعالیٰ مزید دوبارہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تمام اِیمان والوں کو خطاب فرماکر منع کر رہے ہیں:
’’مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُواْ اُوْلِیْ قُرْبٰی مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ‘‘ (التوبۃ۱۱۳)
’’لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں (اللّٰہ سے) مشرکوں کے لئے اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے جبکہ صاف ظاہر ہوچکا ان پر یہ کہ وہ ہیں دوزخ والے۔‘‘
اور مرزائی تو کافر، مرتد ہیں، مرتد کا درجہ مشرک اور منافق سے زیادہ بدتر ہے! ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا اور دُعائے مغفرت کرنا، اللّٰہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صریح نافرمانی اور بغاوت ہے۔
مرزائی، مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں، یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ان سے زیادہ خطرناک گروہ کوئی نہیں، ان کی سازشوں کا جال بیرون ملک تک پھیلا ہوا ہے، صرف ایک تازہ واقعے کی طرف آپ کو توجہ دِلائی جاتی ہے کہ مرزائیوں نے تمام ممالکِ اسلامیہ کے دُشمن اِسرائیل (یہودی) جیسے مکار خبیث ملک میں اپنی تبلیغی مشنری وہاں کے عرب مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے قائم کررکھی ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اور اکثر اِسلامی ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
’’گوجرانوالہ کی میونسپل کمیٹی کے ذمہ دار مسلمان افسران سے‘‘
جس طرح مسلمانوں کو مرزائیوں کا جنازہ پڑنا جائز نہیں، اسی طرح مرزائیوں کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی اَزرُوئے شریعت جائز نہیں، ان کا قبرستان بھی عیسائیوں، یہودیوں کی طرح بالکل الگ ہونا چاہئے۔ مسلمانانِ گوجرانوالہ کے لئے یہ بات کس قدر شرمناک ہے کہ ان کے قدیم قبرستان میں ان کے اموات کے ساتھ ساتھ مرزائی بھی دفن کئے جاتے ہیں، اس سلسلے میں میونسپل کمیٹی کے مسلمان ممبران اَربابِ بست وکشاد افسران اور ذمہ دار حضرات کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات، اِحساسات اور مذہبی عقیدے کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمانوں کے قبرستان سے الگ اور جُدا مرزائیوں کے لئے قبرستان متعین اور مقرّر کریں، مرزائیوں کو مسلم قبرستان میں دفن ہونے کی ہرگز اِجازت نہ دیں، اور قانوناً ان کو روک دیں، کیونکہ اس سے دِین ومذہب کی رُوح مجروح ہوتی ہے اور عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھنے والے مسلمانوں کے دل زخمی ہوتے ہیں۔ افسرانِ بااِختیار کی اس چشم پوشی کی وجہ
404
سے مرزائی بعض سادہ لوح مسلمانوں کو یہ دھوکا دے دیتے ہیں کہ جب ہمارا قبرستان ایک ہے تو ہم سب مسلمان ہیں، تو وہ مسلمان ان کے جنازے میں بھی شریک ہوجاتے ہیں، اس کی تمام ذمہ داری میونسپل کمیٹی کے باختیار حضرات پر ہے۔
ہم اُمید کرتے ہیں کہ میونسپل کمیٹی کے افسران اور ذمہ دار حضرات اپنے اسلامی جذبات کے پیشِ نظر قریبی اِجلاس میں اس مسئلے پر غور وفکر فرماکر ہماری اس گزارش کو منظور کرکے اسلام اور مسلمانوں پر اِحسانِ عظیم اور ایک بہترین مثال قائم کریں گے۔
قادیانیوں کے نزدیک تمام دُنیا کے مسلمان کافر ہیں
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزائی، مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے مطابق مسلمان نہیں سمجھتے، بلکہ ہر وہ انسان جو مرزاآنجہانی کی نبوّت کا قائل نہ ہو، اس کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج یقین کرتے ہیں، مندرجہ ذیل حوالہ جات بطور نمونہ ملاحظہ کریں:
۱:۔۔۔ ’’مجھے خدا کا اِلہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول (مرزا غلام احمد قادیانی) کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘
(اِشتہار معیار الاخیار مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵)
۔۔۔ ’’اب ظاہر ہے کہ ان اِلہامات میں میری نسبت باربار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین، اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر اِیمان لاؤ اور اس کا دُشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص:۶۲، خزائن ج:۱۱ ص:۶۲)
۳:۔۔۔ ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم، تذکرہ ص:۶۰۷)
۴:۔۔۔ ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃالفصل ص:۱۱۰)
۵:۔۔۔ ’’ہمارا یہ فرضض ہے کہ غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں، اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی (مرزائے قادیان) کے منکر ہیں، یہ دِین کا معاملہ ہے، اور اس میں کسی کا اپنا اِختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔‘‘
(انوارِخلافت ص:۹۰)
۶:۔۔۔ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوتے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص:۳۵)
405
۷:۔۔۔ ’’پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اِطلاع دی ہے کہ تمہارے اُوپر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا اِمام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘
(اربعین ص:۲۸، حاشیہ نمبر۳، خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
قادیانی مذہب میں مسلمان کو مرحوم کہنا اور معصوم بچے تک کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں
۸:۔۔۔ ’’سوال:- کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلۂ احمدیہ میں شامل نہ ہو، یہ کہنا جائز ہے کہ: ’’خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے‘‘؟
جواب:- غیراحمدیوں (مسلمانوں) کا کفر بینات سے ثابت ہے، اور کفار کے لئے دُعائے مغفرت کرنا جائز نہیں۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ۷؍فروری ۱۹۲۱ء، جلد۸ نمبر۵۹)
۹:۔۔۔ ’’ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیرمبائع (لاہوری پارٹی کے مرزائی) کہتے ہیں کہ غیراحمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے؟ اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہوکر احمدی ہوتا؟ اس کے متعلق (میاں بشیرالدین محموداحمد خلیفہ قادیان) نے فرمایا: جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا، اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے، اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘
(ڈائری مرزامحموداحمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۲ء، جلد۱۰، نمبر۳۲، ص:۶)
۱۰:۔۔۔ ’’غیراحمدی تو حضرت مسیحِ موعود کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے، لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے؟ وہ تو مسیحِ موعود کا مکفر نہیں؟ میں سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات دُرست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟‘‘
(انوارِخلافت ص:۹۳)
مرزائی مذہب میں مسلمانوں کو لڑکیاں دینا حرام ہے
۱۱:۔۔۔ ’’حضرت مسیحِ موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے، اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔‘‘
(برکاتِ خلافت ص:۷۳، از مرزامحمودقادیانی)
۱۲:۔۔۔ ’’غیراحمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے، اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔‘‘
(برکاتِ خلافت ص:۷۳، از مرزامحمودقادیانی)
۱۳:۔۔۔ ’’جو شخص غیراحمدی کو رِشتہ دیتا ہے وہ یقینا حضرت مسیحِ موعود کو نہیں سمجھتا، اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیراحمدیوں میں سے ایسا بے دِین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے، ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو، مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے، مگر تم احمدی
406
کہلاکر کافر کو دیتے ہو۔‘‘
(ملائکۃاللّٰہ ص:۴۶ ازمرزامحمودقادیانی)
دو قسم کے تعلقات
۱۴:۔۔۔ ’’غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دِیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا ہے۔۔۔۔ جو ہم ان کے ساتھ مل کر کرسکتے ہیں، دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دِینی، دُوسرے دُنیوی، دِینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے، اور دُنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اِجازت ہے، تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اِجازت ہے۔‘‘
(کلمۃالفصل ص:۱۶۹، از مرزابشیراحمد پسر مرزاآنجہانی)
مقامِ عبرت!
مذکورہ بالا حوالہ جات کو باربار پڑھیں اور غور وفکر کریں کہ مسلمانوں کی نسبت جب مرزاآنجہانی اور اس کے تمام ماننے والوں کے یہ بدعقائد ہیں، تو اَب مرزائی ایک مستقل اور مسلمانوں سے الگ اُمت (فرقہ) نہیں تو اور کیا ہیں۔۔۔؟ بنابریں ان کو مسلمان سمجھنا، ان سے تعلقات بحال رکھنا، میل جول مسلمانوں کی طرح برت برتاؤ کرنا، ان کی غمی وخوشی میں شریک ہونا، ان کے مُردوں کا جنازہ پڑھنا، اِنتہائی بے غیرتی اور گمراہی ہے، جس مسلمان کو اللّٰہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے صحیح محبت وعقیدت ہے، اس کی غیرتِ ایمانی مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلق کو قطعاً نہیں برداشت کرسکتی۔ مسلمانوں کے لئے یہ مقامِ عبرت اور لمحہ فکریہ ہے، ایمان ومحبتِ رسول کا اِمتحان ہے، کل قیامت کے دن تم سے ضرر پُرسش ہوگی، جواب کے لئے تیار رہو! وہاں کسی کی رشتہ داری، برادری اور دوستی کام نہیں آئے گی، بلکہ صحیح ایمان، سچی محبت، ختمِ نبوّت کا صحیح عقیدہ اور دُرست اسلام کے مطابق اعمالِ صالحہ کام آئیں گے، اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صراطِ مستقیم اور اِسلام کے سچے عقیدے پر ثابت قدم رکھے۔
قائدِاعظم کا جنازہ اور سرظفراللّٰہ قادیانی
پاکستان کے بانی اور گورنر جنرل قائدِاعظم محمد علی جناح کا جب انتقال ہوا تو تمام ملک غم وسوگ میں ماتم کدہ بنا ہوا تھا، اور دُوردُور سے مسلمان جوق درجوق اپنے محبوب رہنما کے جنازے کے لئے کراچی پہنچ رہے تھے، جب نمازِ جنازہ شروع ہوئی تو سرظفراللّٰہ قادیانی جو اس وقت پاکستان کا وزیرخارجہ اور ملازم تھا، صفوں سے الگ ہوکر عیسائیوں میں بیٹھ گیا اور جنازے کی نما زنہ پڑھی، اور نہ ہی جنازے میں شریک ہوا۔ اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت مولانا محمد اِسحاق صاحب ہزاروی، ڈسٹرکٹ خطیب ہزارہ، ایبٹ آباد نے جب ظفراللّٰہ سے سوال کیا کہ تم نے قائدِاعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو ظفراللّٰہ قادیانی نے صاف جواب دیا کہ: ’’مولانا! آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم، یا مسلمان حکومت کا کافر ملازم سمجھیں!‘‘
407
یہ واقعہ اور بیان مسلمانوں کی غیرتِ اسلامیہ کے لئے ایک کھلا چیلنج اور دعوتِ فکر ہے کہ مرزائی تو مسلمانوں کے ایک معصوم بچے کا جنازہ نہ پڑھیں اور معصوم بچے کا جنازہ پڑھنا حرام سمجھیں، او ران کا بڑے سے بڑا مشہور آدمی کسی مشہور مسلمان اور خاص کر پاکستان کے بانی گورنر جنرل کا جنازہ بھی نہ پڑھے اور عیسائیوںں کی طرح جنازے کی صفوں سے الگ ہوکر بیٹھ جائے، اور جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو صاف جواب دے کہ کافر اور مسلمان ایک دُوسرے کا جنازہ نہیں پڑھتے! مگر یہاں مسلمان ہیں کہ محض برادری اور دوستانہ کی وجہ سے مرزائی کا جنازہ پڑھتے ہیں اور ان کو شرم نہیں آتی، مگر یہ شرم اور صداَفسوس کا مقام ہے۔۔۔!
گوجرانوالہ میں ایک ناخوشگوار واقعہ
گوجرانوالہ کے محلہ باغبان پور میں ایک مشہور مرزائی میّت کے جنازے میں بدقسمتی سے کئی مسلمان بھی محض برادری سسٹم کے لحاظ وملاحظہ کی وجہ سے شریک ہوگئے، اور سب سے زیادہ غم انگیز، قابلِ صداَفسوس بات یہ ہوئی کہ ایک مولوی صاحب نے مرزائیوں کی اِجازت سے مسلمانوں کو الگ نمازِ جنازہ پڑھائی، جبکہ مرزائی پہلے خود جنازہ پڑھ چکے تھے، جب اس کا چرچا شہر میں ہوا تو عوام اور خواص میں سخت ہیجان پیدا ہوا، چنانچہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے فتویٰ دریافت کیا گیا تو ہر ایک عالم نے الگ الگ فتویٰ لکھا، ان تمام جوابات کا قدرِ مشترک درج ذیل ہے:
اَزرُوئے شریعت، مرزائی مرتد، کافر، دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہیں۔ اور ان کو مسلمان سمجھنا کفر ہے، ان کا جنازہ جائز سمجھ کر پڑھنے پڑھانے والے عمداً یہ جانتے ہوئے کہ یہ میّت مرزائی ہے تو وہ سب لوگ میّت کی طرح کافر، مرتد ہوگئے، ان کو تجدیدِ اِسلام اور تجدیدِ نکاح کرنا چاہئے، توبہ اِستغفار کریں اور آئندہ کے لئے عہد کریں کہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں گے۔ البتہ وہ لوگ جو اِتفاقاً شریک ہوئے اور بالکل بے خبر تھے، ان کو میّت کے حال کا علم نہیں تھا، وہ صرف توبہ اِستغفار کریں اور آئندہ کے لئے محتاط رہیں، چنانچہ اس مختصر سے پمفلٹ میں ان تمام علماء کے فتاویٰ درج کردئیے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے پوری آگاہی ہو اور آئندہ اس قسم کی غلطی کے اِرتکاب سے محتاط رہیں۔
فتویٰ
اَلْاِسْتِفْتَاء :۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین کہ:
۱:۔۔۔ ایک مولوی صاحب باوجود علم ویقین کے ہوتے ہوئے کہ یہ میّت مرزائی کی ہے، عمداً نمازِجنازہ پڑھائے اور اس کے لئے دُعائے مغفرت کرے۔
۲:۔۔۔ اس اِمام کے پیچھے مسلمان مقتدی باوجود میّت کو مرزائی یقین کرتے ہوئے نمازِجنازہ پڑھیں اور دُعائے مغفرت کریں، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ مسلمان رہے یا نہ؟ اور ان کا پہلا نکاح باقی رہا یا نکاح ٹوٹ گیا، نکاح ثانی ہونا چاہئے؟ بیّنوا توجروا!
408
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جوابات
۱:۔۔۔ محقق العصر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا جواب
الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفیٰ خصوصًا علٰی سیّد الرسل والانبیاء الذی
لا رسول بعدہ ولا نبی ومن ادعی فقد شقی وھویٰ
اما بعد! دِینی طور سے دُنیا میں بڑے بڑے فتنے رُونما ہوئے ہیں، جن کے قلع قمع کے لئے علمائے اُمت اور صلحائے اُمت نے اپنی اِستطاعت کے مطابق کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی اور باطل پرستوں کے شکوک وشبہات کو دلائل وبراہین کے بے خطا ہتھیاروں سے چکناچور کرکے رکھ دیا اور فضائے آسمانی میں ان کی دھجیاں بکھیر دیں اور ان کے بخیے ایسے اُدھیڑے کہ دُنیا بھر کے رفوگر بھی ان کو ملا نہ سکے، ان فتنوں میں سے اس دور کا ایک عظیم فتنہ قادیانیت ہے جس کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جن کے کفر پر تمام علمائے اسلام متفق اور یک زبان ہیں۔
مرزاآنجہانی کی تکفیر کے تین اُصول ہیں:
۱:۔۔۔ حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اِنکار، اور ختمِ نبوّت کے مُسلَّم معنی میں بے جا تأویل اور اپنی مصنوعی اور خودساختہ نبوّت کے لئے چور دروازے کی گنجائش۔
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے نزول کا اِنکار اور اس کی دُوراَزکار اور لایعنی تأویلات۔
۳:۔۔۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین۔
یہ تین اُصول ہیں جن کی وجہ سے علمائے ملت نے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کی تکفیر کی ہے، اور اس میں وہ سوفیصدی حق بجانب ہیں، اور اس میں ایک رتی بھر شک وشبہ کی مطلقاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اصلِ اوّل:۔۔۔ مرزاقادیانی نے کھلے لفظوں میں نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، چند حوالے ملاحظہ ہوں:
۱:۔۔۔ ’’حق یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ، بلکہ صدہا دفعہ۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۲، خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۶)
۲:۔۔۔ ’’مگر میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا
409
ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰، حقیقۃالوحی ص:۲۱۱)
۳:۔۔۔ ’’اِلہامات میں میری نسبت باربار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مأمور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے، اس پر اِیمان لاؤ، اور اس کا دُشمن جہنمی ہے۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۶۲، انجامِ آتھم ص:۶۲)
۴:۔۔۔ ’’اور میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے، اور اسی نے مجھے مسیحِ موعود کے نام سے پکارا ہے، اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳، تتمہ حقیقۃالوحی ص:۶۸)
۵:۔۔۔ ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کہ یعنی اس عاجز کو ہدایت، دِینِ حق اور تہذیبِ اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۶، اربعین نمبر۳ ص:۳۶)
۶:۔۔۔ ’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت اِفترا کرکے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری، تو اَوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے، خدا نے اِفترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے، جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی اُمت کے لئے ایک قانون مقرر کیا، وہی صاحب الشریعت ہوگیا، پس اس تعریف کے رُو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی، مثلاً یہ اِلہام: قل للمؤْمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذٰلک ازکٰی لھم، یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵، اربعین نمبر۴ ص:۶)
اس عبارت سے صاف طور پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تشریعی نبوّت کا بھی تھا، اس لئے ان کے اَتباع واَذناب کی یہ تأویل کہ ’’وہ غیرتشریعی نبی تھے‘‘ سراسر باطل ہے۔ اور اسی طرح ظلّی اور بروزی کا دعویٰ بھی قطعاً مردُود ہے، کیونکہ سایہ ذی سایہ کے تابع ہوتا ہے، اگر اصل اور ذی سایہ مثلاً تین دفعہ اُٹھتابیٹھتا اور حرکت کرتا ہے تو سایہ بھی اتنی دفعہ اُٹھے بیٹھے گا اور حرکت کرے گا، یہ نہیں کہ ذی سایہ تو تین دفعہ حرکت کرے اور سایہ دس دفعہ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے تحفہ گولڑویہ ص:۴۰، خزائن ج:۱۷ ص:۱۵۳ میں حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معجزات کی تعیین تین ہزار لکھی ہے، اور اپنے معجزات اور نشانات کی تعداد دس لاکھ بتلائی ہے (براہین احمدیہ، حصہ پنجم ص:۵۶، خزائن ج:۲۱ ص:۷۲) گویا سایہ، ذی سایہ اور اصل سے بڑھ گیا، نعوذ با اللہ من ھٰذہ الخرافات۔۔۔!
410
ان صریح حوالوں سے یہ ثابت ہوگیا کہ مرزا غلام احمد تشریعی اور غیرتشریعی دونوں نبوتوں کا اپنے لئے مدعی تھا، حالانکہ قرآنِ کریم کی نصوصِ قطعیہ کے علاوہ احادیثِ متواترہ اور اِجماعِ قطعی اس اَمر پر دال ہے کہ حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کرے، اس کا دعویٰ یقینا مردُود ہے، قرآنِ کریم کے اس مضمون کو ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی اِجمالاً یا تفصیلاً جانتا ہے:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا‘‘ (الاحزاب۴۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہین، اور لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں، اور اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔‘‘
اور حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم: إنَّ الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولا نبی۔ وقال ھٰذا حدیث صحیح غریب۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۵۱، باب الرُّؤْیا)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رسالت (تشریعی نبوّت) اور نبوّت (غیرتشریعی نبوّت) دونوں بند ہوچکی ہیں، سو میرے بعد نہ تو کوئی شرعی نبی آسکتا ہے اور نہ غیرشرعی۔‘‘
اور ایک روایت میں یہ الفاظ وارِد ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’لانہ لا نبی بعدی ولا رسول۔‘‘
( مستدرک ج:۵ ص:۵۵۷، باب لا یبقی من النبوّۃ إلّا الرُّؤْیا الصالحۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کہ میرے بعد نہ تو غیرشرعی نبی آسکتا ہے اور نہ شرعی۔‘‘
حضرت مُلَّا علی القاریؒ فرماتے ہیں کہ:
’’ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالإجماع۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملنے کا مدعی ہو، تو وہ کافر ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی ہے، اس لئے ان کے تشریف لانے سے ختمِ نبوّت پر کوئی زَد نہیں پڑتی، چنانچہ علامہ الشہاب الخفاجیؒ لکھتے ہیں کہ:
’’لا نبی بعدی أی لا ینبیء أحد بعد نبوّتی۔‘‘ (خفاجی شرح شفا ج:۴ ص:۳۹۳)
’’یعنی لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ میری نبوّت کے بعد کسی کو نبوّت مل نہیں سکتی۔‘‘
411
سراج الامت حضرت اِمام اعظم ابوحنیفہؒ کا فتویٰ
حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا اور ایک شخص (الہلونی) نے کہا کہ: ’’میں جاکر اس سے کوئی نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں، تاکہ اس کا صدق وکذب عیاں ہو!‘‘ اس پر حضرت اِمام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ:
’’من طلب منہ علامۃ فقد کفر لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا نبی بعدی!‘‘
(مناقب صدر الأئمۃ المکی ج:۱ ص:۱۶۱، طبع دائرۃ المعارف حیدرآباد، دکن)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص اس سے علامت طلب کرے گا تو وہ کافر ہوجائے گا، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صاف فرمادیا ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی۔‘‘
غرضیکہ ختمِ نبوّت کا مسئلہ اس قدر واضح، ایسا روشن اور اتنا بے غبار ہے کہ اس میں تأمل کرنا بھی خالص کفر ہے۔
حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کا عقیدہ
چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہٗ لکھتے ہیں کہ:
’’اپنا دِین واِیمان ہے بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی اور نبی کے ہونے کا اِحتمال نہیں، جو اس میں تأمل کرے، اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۱۰۳، مطبوعہ سہارن پور)
اصلِ دوم:۔۔۔ مرزاآنجہانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ اور ان کے زمین پر نزول کا صاف الفاظ میں اِنکار کیا ہے، جو بجائے خود کفر ہے، چند عبارات ملاحظہ ہوں:
۱:۔۔۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو رفعِ جسمانی ٹھہرانا، سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ پنجم ص:۴۳، خزائن ج:۲۱ ص:۵۵)
۲:۔۔۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پانا کوئی مشتبہ امر نہ تھا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃالوحی ص:۲۴، خزائن ج:۲۲ ص:۴۵۶)
۳:۔۔۔ ’’فمن سوء الأدب ان یقال: ان عیسٰی علیہ السلام ما مات وان ھو إلّا شرک عظیم۔‘‘
(الاستفتاء ص:۳۹، خزائن ج:۲۲ ص:۶۶۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ بے ادبی کی بات ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، اور ان کی وفات کا اِقرار نہ کرنا بہت بڑا شرک ہے۔‘‘
۴:۔۔۔ ’’اور ایک بڑا بھاری معجزہ میرا یہ ہے کہ میں نے حِسّی اور بدیہی ثبوتوں کے ذریعے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ثابت کردیا ہے اور ان کی جائے وفات اور قبر کا پتا دے دیا ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۹، خزائن ج:۱۵ ص:۱۴۵)
412
۵:۔۔۔ ’’اما صعود عیسٰی علیہ السلام ونزولہٗ فھو امر یکذبہ العقل وکتاب اللہ القرآن۔‘‘
(الاستفتاء ص:۲، خزائن ج:۲۲ ص:۶۲۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کا معاملہ تو عقل اور اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب قرآنِ کریم اس کی تکذیب کرتی ہے۔‘‘
۶:۔۔۔ ’’و اللہ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم وانی نازل فی منزلہٖ ولٰکنی اخفیتہٗ نظرًا إلٰی تأویلہ۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۵۵۱، خزائن ج:۵ ص:ایضاً)
ترجمہ:۔۔۔ ’’بخدا میں کافی عرصے سے جانتا تھا کہ بلاشک میں مسیح ابن مریم بنادیا گیا ہوں، لیکن میں اسے چھپاتا رہا، اس کی تأویل کی طرف نظر کرتے ہوئے۔‘‘
۷:۔۔۔ ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیحِ موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ پھر ریویو صفحہ۴۷۸ میں لکھا ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ان مریم میرے زمانے میں ہوتا تو جو کام میں کرسکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں، وہ ہرگز دِکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۴۸، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
۸:۔۔۔ ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے، تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو؟‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۵۵، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
ان تمام عبارات سے یہ امر واضح ہوگیا کہ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ان کے رفع اِلی السماء، اور پھر نزول کا صاف اِنکار کیا ہے، اور خود مسیح بننے، بلکہ ان سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔۔۔معاذاللّٰہ!۔۔۔ حالانکہ نصوصِ قطعیہ صریحہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع، ان کی حیات اور پھر نزول ثابت ہے۔
قرآنِ کریم کا یہ حکم کس مسلمان سے مخفی ہے:
’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸)
’’بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے۔‘‘
حضرت اِمام رازیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’رفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء ثابت بھٰذہ الآیۃ۔‘‘
(تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۰۳، زیر آیت: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اِلی السماء اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہے۔‘‘
413
حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
’’لما اراد اللہ ان یرفع عیسٰی إلی السماء خرج إلٰی أصحابہ، وقال ابن کثیر: وھٰذا إسنادہ صحیح۔‘‘ (ج:۲ ص:۳۹۸، زیر آیت: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جب اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھانے کا اِرادہ فرمایا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے صحابہ کی طرف نکلے۔ اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔‘‘
اور اِمامِ اہلِ سنت ابوالحسن الاشعریؒ فرماتے ہیں کہ:
’’وأجمعت الاُمّۃ علٰی ان اللہ عز وجل رفع عیسٰی إلی السماء۔‘‘
(کتاب الدیانۃ عن اصول الدیانۃ ص:۵۳، ذکر الإستواء علی العرش)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تمام اُمت اس بات پر متفق ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھالیا ہے۔‘‘
علامہ ابوحیان اندلسیؒ لکھتے ہیں:
’’واجمعت الاُمّۃ علٰی ان عیسٰی علیہ السلام حی فی السماء وینزل الی الارض۔‘‘
(تفسیر نہر الماد ج:۲ ص:۴۷۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تمام اُمت کا اس امر پر اِجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں اور زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘
علامہ ابن عطیہؒ فرماتے ہیں کہ:
’’وأجمعت الاُمّۃ علٰی ما تضمنہ الحدیث المتواتر ان عیسٰی علیہ السلام فی السماء حیٌّ وانہ ینزل فی آخر الزمان۔‘‘ (بحر المحیط ج:۲ ص:۴۷۳، زیر آیت: ’’اِذْقَالَ اللہُ یٰعِیْسیٰ‘‘)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حدیثِ متواتر کے پیشِ نظر تمام اُمت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔‘‘
علامہ سفارینیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’فقد اجمعت الاُمّۃ علٰی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اھل الشریعۃ۔‘‘
(شرح عقیدۃ السفارینی ج:۲ ص:۹۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’بے شک ساری اُمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر متفق ہے اور اہلِ اسلام میں سے کوئی شخص اس کا مخالف نہیں ہے۔‘‘
علامہ ابنِ حزمؒ (المتوفیٰ ۴۵۶ھ) لکھتے ہیں کہ:
414
’’واما من قال: ان اللہ عزَّ وجلَّ ھو فلان لإنسان بعینہٖ، او أن اللہ تعالٰی یحل فی جسم من اجسام خلقہٖ، او أن بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسی بن مریم، فإنہ لا یختلف اثنان فی تکفیرہٖ لصحۃ قیام الحجۃ بکل ھٰذا علٰی کل احد۔‘‘
(الفصل والنحل ج:۲ ص:۲۶۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص یہ کہے کہ: ’’اللّٰہ تعالیٰ فلاں شخص کے رُوپ میں ہے‘‘، یا یہ کہے کہ: ’’اللّٰہ تعالیٰ اپنی کسی مخلوق کے جسم میں حلول کرتا ہے‘‘، یا یہ کہے کہ: ’’حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اور نبی آسکتا ہے‘‘ تو (اہلِ اسلام میں) دو آدمی بھی اس کے کفر میں مختلف نہیں، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی صحت، ہر ایک پر قائم ہوچکی ہے۔‘‘
اور دُوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
’’إلَّا ان عیسی بن مریم سینزل!‘‘ (محلی ج:۱ ص:۹۴ توحید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہاں مگر عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے!‘‘
اور خود مرزاقادیانی نے جب مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو صاف لکھا ہے کہ:
’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تواتر کا درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
گویا مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد کو تسلیم کرکے اپنے سابق فتویٰ کے رُو سے ہٹ دھرم، احمق، بے ادب اور بڑا مشرک بھی رہے۔ نہ معلوم وہی احمق اور بڑا مشرک ’’مسیحِ موعود‘‘ کیسے بن گیا؟ اور اس کو نبوّت کیونکر مل گئی؟ کیا مشرک کو بھی نبوّت مل سکتی ہے۔۔۔؟
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ نزول آسمان سے ہوگا، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’کیف انتم إذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وإمامکم منکم۔‘‘
(کتاب الأسماء والصفات للبیھقی ص:۴۲۴، باب اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تم کیسی اچھی حالت میں ہوگے جبکہ تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا اِمام (مہدی-علی التفسیر) تم میں سے ہوگا۔‘‘
اور ان کی ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ:
’’ثم ینزل عیسی ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم من السماء فیؤُم الناس۔ الحدیث۔‘‘
(مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۵۲، باب ما جاء فی الدجال)
415
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آسمان سے نازل ہوں گے، سو لوگوں کو اِمامت کرائیں گے۔‘‘
اور حضرت اِبنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’فعند ذالک ینزل اخی عیسی ابن مریم من السماء۔ الحدیث‘‘
(کنز العمال ج:۱۴ ص:۶۱۹، حدیث:۳۹۷۲۶، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تو اس وقت میرے بھائی حضرت عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی ایک روایت میں اس طرح آتا ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
’’یمکث عیسٰی علیہ السلام فی الأرض بعد ما ینزل اربعین سنۃ، ثم یموت ویصلّی علیہ المسلمون ویدفنونہ۔‘‘ (مسند طیالسی ج:۴ ص:۲۷۳،۲۷۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہونے کے بعد چالیس سال قیام فرمائیں گے، اس کے بعد ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھائیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔‘‘
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس کے اندر دفن کئے جائیں گے۔ چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہما کی روایت میں یہ جملہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
’’ثم یموت فیدفن معی فی قبری۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۷۹، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر ان کی وفات ہوگی اور میرے مقبرے اور روضے میں میری قبر مبارک کے ساتھ ہی وہ دفن کئے جائیں گے۔‘‘
اور خود مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ:
’’الا یعلمون ان المسیح ینزل من السماء بجمیع علومہ ولا یأخذ شیئًا من الأرض ما لھم لا یشعرون۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص:۴۰۹، خزائن ج:۵ ص:ایضاً)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اپنے تمام علوم کے ساتھ نازل ہوں گے اور زمین سے کوئی شے (علم) حاصل نہ کریں گے، یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے؟‘‘
اور دُوسرے مقام پر لکھتے ہی کہ جج الکرامۃ ص:۴۱۸ میں ابن واطیل وغیرہ سے روایت لکھی ہے کہ حضرت مسیح عصر کے وقت (صحیح روایت میں فجر کا وقت ہے، (مستدرک ج:۴ ص:۴۷۸) صفدر) آسمان پر سے نازل ہوگا (تحفہ گولڑویہ ص:۱۱۲، خزائن ج:۱۷ ص:۲۸۱)۔
416
اور ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ:
’’مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘ (اِزالہ اوہام ص:۸۱، خزائن ج:۳ ص:۱۴۲)
ہمارے پاس مسلم شریف کے جو نسخے ہیں، ان میں ’’آسمان‘‘ کا لفظ موجود نہیں ہے، لیکن مرزاقادیانی کے نسخے میں ’’آسمان‘‘ کا لفظ ضرور موجود ہوگا، اور آسمان پر اُٹھائے جانے کا مرزاقادیانی کو بھی اِقرار ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اس لئے وہ ایک خوش اِعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایامِ زندگی بسر کرکے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔‘‘ (فتح الاسلام حاشیہ ص:۲۵، خزائن ج:۳ ص:۱۵)
غرضیکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ان کا رفع الی السماء، اور پھر ان کا آسمان سے نزول قرآن وحدیث اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے، اور اس کا اِنکار اور تأویل سراسر کفر ہے۔
اصلِ سوم:۔۔۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم وتوقیر اور ان کا ادب واِحترام اِیمان کی بنیادی شرط ہے، اور ان کی توہین وتحقیر، اور بے ادبی خالص کفر ہے، جس میں ادنیٰ برابر شک نہیں ہے۔ قرآن وحدیث اور اِجماعِ اُمت کے واضح دلائل اس پر موجود ہیں، اور یہ ایک ایسی واضح اور روشن حقیقت ہے کہ اس کے اِثباتکے لئے دلائل اور براہین کا ذِکر کرنا غیرضروری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کا اِرتکاب کرکے اپنے کفر پر مہرِتصدیق ثبت کی اور آتشِ دوزخ مول خریدی ہے۔ صرف بطور نمونہ چند عبارات ملاحظہ کریں:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:
۱:۔۔۔ ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘ (حاشیہ ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۶، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
۲:۔۔۔ ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار، کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہورپذیر ہوا۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۳:۔۔۔ ’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار اِنسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زِناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
417
۴:۔۔۔ ’’ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۴، خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۱)
۵:۔۔۔ ’’یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی رُوح تھی ۔۔۔ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی ۔۔۔۔ آپ کو گالیاں دینی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین:
’’پس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجز (غلام احمد قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ عاجز قید کی دُعا کرکے بھی قید سے بچایا گیا، مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔‘‘
(براہین، حصہ پنجم ص:۷۶، خزائن ج:۲۱ ص:۹۹)
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین:
۱:۔۔۔ ’’چنانچہ ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تمام اِستغفار اسی بنا پر ہے کہ آپ بہت ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی ہے، یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت، اس کو جیسا کہ اس کا حق تھا میں ادا نہیں کرسکا۔‘‘ (حاشیہ ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص:۱۰۶، خزائن ج:۲۱ ص:۲۶۹)
۲:۔۔۔ ’’اس وقت ہمارے قلم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تلواروں کے برابر ہیں۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۱ ص:۳۴۶، طبع لاہوری)
اور مرزاآنجہانی کے یہ اشعار تو زبان زد خلائق ہیں:
اِبنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص:۲۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)
منم مسیحِ زمان ومنم کلیمِ خدا
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(نزول مسیح ص:۶، خزائن ج:۱۵ ص:۱۳۴)
الحاصل کہاں تک ان خرافات کو نقل کیا جائے، مرزاآنجہانی کی بیشتر کتابیں ایسی خرافات سے بھری پڑی ہیں، اندریں حالات ان کو، یا ان کے اَتباع کو مسلمان سمجھنا قرآن وحدیث اور اُمتِ مسلمہ کے اِجماع کا قطعاً اِنکار ہے اور ان کے ساتھ مذہبی اُمور
418
میں مسلمانوں کا سا سلوک اور برتاؤ کرنا، اور ان میں سے کسی کا ۔۔۔یہ جانتے ہوئے کہ وہ قادیانی ہے۔۔۔ جنازہ پڑھنا پڑھانا حرام ہے،(۱) اور بجز اس کے اور کیا صورت ہوسکتی ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا گیا ہے، اور ان کو مسلمان سمجھنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،(۲) اور اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور ایسے شخص کو جو قادیانیوں کو مسلمان سمجھے، تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِنکاح کرنا شرعاً ضروری ہے،(۳) اور اِیمانی غیرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانیوں کے جنازے میں مسلمانوں کو ہرگز شرکت نہیں کرنی چاہئے۔ مرزاآنجہانی کے ذیل کے حوالوں کی موجودگی میں بھلا کسی مسلمان کا ضمیر کس طرح اس کو گوارا کرسکتا ہے کہ ان کا جنازہ پڑھے۔۔۔؟ مرزاآنجہانی کا فتویٰ ملاحظہ ہو:
۱:۔۔۔ ’’پس یاد رکھو کہ خدا نے مجھے اِطلاع دی ہے کہ تمہارے اُوپر حرام ہے، اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفرّ اور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی اِمام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘
(اربعین نمبر۴، ص:۲۸، حاشیہ خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
۲:۔۔۔ ’’سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ اِمامِ نماز، حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ فرمایا: پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو، پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر، ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو، اور اگر کوئی خاموش رہے، نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب، تو وہ بھی منافق ہے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘ (نہج المعلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج:۱ ص:۸۳)
مسلمانوں کو اپنے اِیمان پر مضبوط رہنا چاہئے اور اِیمانی غیرت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، علمائے گوجرانوالہ نے بروقت، حق اور صحیح فتویٰ دیا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اہلِ حق کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین!
و اللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم
احقر الناس ابوالزاہد محمد سرفراز
خطیب جامع مسجد گکھڑ ومدرّس مدرسہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ
۲۴؍ربیع الاوّل ۱۳۸۶ھ - ۴؍جولائی ۱۹۶۶ء
(۱ تا ۳)قال تعالٰی: ’’ یٰآیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصٰرَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ط وَّمَن یَّتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ ط إِنَّ اللّہَ لَایَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (المائدۃ)۔
قال ابوبکر الجصّاص: وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم، لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ من الکفار والعداوۃ بھم، لأن الولایۃ ضد العداوۃ، فإذا امرنا بمعادۃ الیھود والنصاریٰ لکفرھم، فغیرھم من الکفار بمنزلتھم ویدل علی ان الکفر ملۃ واحدۃ۔ (احکام القرآن للجصّاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی)۔
وقال تعالٰی: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔
قال الإمام الجصّاص تحت ھٰذہ الآیۃ: وحطرھا (الصلٰوۃ) علٰی موتی الکفار۔ (احکام القرآن للجصّاص ج:۳ ص:۱۴۴، طبع سھیل اکیڈمی)۔
ایضًا: والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لا یکفر، وإن کان لعینہ، فإن کان دلیلہ قطعیًّا کفر، وإلّا فلا۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۲، باب احکام المرتدین، شامی ج:۳ ص:۳۱۱، عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۲)۔
419
حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان صاحب سواتی
باسمہٖ سبحانہ وتعالیٰ
علمائے اُمت اور جملہ مسلمانانِ عالم اور تمام طبقاتِ اُمت کے نزدیک مرزائے قادیانی کو نبی یا مجدّد ماننے والے مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، لہٰذا کسی مرتد کا جنازہ پڑھنا، یا اس کے لئے دُعا واِستغفار کرنا، قرآن وسنت اور اِجماعِ اُمت سے حرام ہے، اور دیدہ ودانستہ ایسا کرنے والا شخص خود کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا، لہٰذا تجدیدِاِسلام اور نکاح ضروری ہے۔
علماء نے جو فتاویٰ صادر کئے ہیں، صحیح اور دُرست ہیں، واللّٰہ اعلم!
احقر عبدالحمید سواتی
خطیب جامع مسجد نور
ومہتمم مدرسہ نصرۃالعلوم نزد گھنٹہ گھر گوجرانوالہ
اُستاذالعلماء حضرت مولانا قاضی شمس الدین کا جواب
الجواب:۔۔۔ قرآنِ کریم میں اِرشاد ہے کہ:’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ‘‘ (التوبۃ:۸۴) لہٰذا یہ جنازہ پڑھانے والے سب اس نہی صریح کے خلاف مرتکب ہوئے اور انہوں نے حدودِ شرعیہ سے تجاوز کیا، جو اِمام ہے اسے اِمامت سے علیحدہ کردیا جائے، اور جو عوام ہیں، ان سے ترکِ موالات کردی جائے، اب رہا تجدیدِنکاح کا معاملہ! اس کے متعلق فیصلہ شرعی یہ ہے کہ اگر انہوں نے یہ جنازہ جائز اور حلال سمجھ کر پڑھایا ہے اور کسی اِشتباہ میں مبتلا نہیں ہوئے تو پھر ان کے نکاح ٹوٹ گئے اور توبہ کے بعد تجدیدِنکاح ضروری ہے، ورنہ حرام کاری میں مبتلا رہیں گے۔ اور اگر کوئی اِشتباہ تھا جس کی بنا پر انہوں نے پڑھا، تو پھر بھی تجدیدِنکاح بہتر ہے، اور جب توبہ کرلیں تو پھر ان سے برتاؤ بھی کرسکتے ہیں اور وہ اِمامت بھی کراسکتے ہیں کہ: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ وَمَنْ تَابَ، تَابَ ﷲُ عَلَیْہِ‘‘۔
العبد شمس الدین عفی عنہ
ناظم جامعہ صدیقیہ گوجرانوالہ
۳؍۶؍۱۹۶۶ء
حضرت مولانا محمد چراغ، مہتمم مدرسہ عربیہ گوجرانوالہ کا جواب
جواب دُرست ہے۔
محمد چراغ، مہتمم مدرسہ عربیہ
حضرت مولانا محمد اِسماعیل، جامع مسجد اہلِ حدیث گوجرنوالہ
مرزا غلام احمد اور اس کے متعلق علمائے اُمت نے صراحۃً تکفیر فرمائی ہے، خود قادیانی بھی دُوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے اور ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھتے، پھر ایک مسلمان اِمام نے معلوم نہیں یہ جرأت کیوں کی؟ اندریں حالات اِمامِ مذکور اِمامت کے قابل نہیں، اگر اسے اپنے فعل پر اِصرار ہو تو یقینا اِرتداد ہے،اسے توبہ کرکے ایمان کی تجدید کرنا چاہئے، عامۃالمسلمین کو اسی طرح فعل توبہ
420
اور اِستغفار کرنا چاہئے۔
محمد اِسماعیل کان اللّٰہ لہٗ
مسجد اہل حدیث گوجرانوالہ
۶؍۴؍۱۹۶۶ء
حضرت مولانا عبدالقیوم، مدرسہ نصرۃالعلوم
الحمد اللہ وحدہٗ والصلٰوۃ علٰی من لا نبی بعدہٗ اما بعد!
سارے دِینِ اسلام کا دارومدار کلمے کے دو جزوں پر ہے، پہلا جز ہے: ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ ، دُوسرا جز ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ ، پہلے جز میں توحیدِ خالص ہے کہ جو کام بھی کرنا ہے، وہ صرف خداوند قدوس کے لئے ہوگا، اور دُوسرے جز میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رِسالت کا اِقرار ہے کہ ہر کام کی شکل وصورت وہی ہوگی جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتائی ہے، خداوندتعالیٰ کی ذات وصفات اگر کوئی شخص مانتا ہے، مگر اس طریقے سے نہیں مانتا جیسا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے، تو ایسا خداکا ماننا بھی اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں۔ معلوم ہوا کہ تمام دِین کا مدار کلمے کے دُوسرے جز ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ پر ہے، اگر محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات بدل جائے تو تمام دِین بدل جائے گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں لکھتا ہے کہ : محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء ۔۔۔إلخ ، اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد بھی رکھا گیا اور رسول اللّٰہ بھی۔ اب جو لوگ مرزا کو مانیں گے تو ضرور اس کو محمد رسول اللّٰہ تسلیم کریں گے، ...معاذاللّٰہ!... کیونکہ وہ کہتا ہے کہ مجھے خدا نے محمد رسول اللّٰہ کہا ہے، اس کے بعد بھی مرزائیوں کے کلمے کے بدلنے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ جاتا ہے؟ اب مرزائی اَحکامِ اِسلام، قرآن کی تلاوت اس لئے کریں گے کہ ان کو مرزا رسولِ قادیانی نے کہا ہے کہ اور مسلمان اعمالِ صالحہ اس لئے کریں گے کہ ان کو حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکی مدنی ہاشمی نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس کے بعد مرزائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک مکمل حدِفاصل علیحدگی اور جدائی خودبخود قائم ہوجاتی ہے اور دو اُمتوں کے دو مذہب الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ مرزائیوں کا دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر ہونا اظہر من الشمس ہے، پھر بھی کوئی اِمام کسی مرزائی کی ۔۔۔قادیانی ہو، یا لاہوری۔۔۔ نمازِجنازہ عمداً پڑھائے اور مسلمان مقتدی جنازہ عمداً پڑھیں تو اس اِمام اور ان مقتدیوں کے کفر میں کیا شک رہ جاتا ہے؟ ان تمام جنازہ پڑھنے پڑھانے والوں کو نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہئے اور نکاح کی بھی تجدید کرانی چاہئے۔
احقرالعباد عبدالقیوم
صدر مجلس احرار اِسلام، گوجرانوالہ
حضرت مولانا عزیزالرحمن، نائب مفتی جامعہ اشرفیہ نیلاگنبد، لاہور
الجواب:۔۔۔مبسملًا ومحمدلًا ومصلّیًا ومسلّمًا! اس مولوی صاحب اور مسلمانوں نے اگر اس مرزائی کو کافر سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو انہوں نے ایک امر حرام کا اِرتکاب کیا ہے، جو کفر ہے، کیونکہ کافر کا جنازہ پڑھنا اور اس کے حق میں دُعائے مغفرت کرنا حرام ہے، گناہ ہے۔ جیسا کہ بخاری (ج:۴ ص:۲۱۵) میں ہے: ’’ولا تصل علٰی احد منھم مات ابدًا إلخ، وذکر
421
عن الصبری انہ یجب ترک الصلٰوۃ علٰی معلن الکفر ومسرہ بھٰذا قال، ثم فرض علٰی جمیع الاُمّۃ ان لا یدعوا لمشرک ولا یستغفر لہ إذا ماتوا علٰی شرکھم إلخ ۔‘‘ تاوقت توبہ نہ کرے اِمام بنانا مکروہِ تحریمی ہے۔
چونکہ مرزائی عقائد نصوصِ شرعیہ قطعیہ کے خلاف ہیں، اس لئے ان عقائد والا قطعاً کافر ہے، ان عقائد والے کو کافر نہ سمجھنا بلکہ مسلمان سمجھنا گویا کہ ان عقائد کو صحیح اور اِسلام کے موافق سمجھنا ہے۔ لہٰذا اگر انہوں نے اس مرزائی میّت کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو یہ سب کے سب کافر ہوگئے، اسلام سے خارج ہوگئے، نہ ان کا نکاح باقی رہا اور نہ ان کو اِمام بنانا صحیح ہے، واللّٰہ اعلم!
کتبہ عزیزالرحمن
نائب مفتی جامعہ اشرفیہ، نیلاگنبد، لاہور
۲۳؍ربیع الاوّل ۱۳۸۶ھ
حضرت مولانا محمد سعید، مسجد لانگریاں، گوجرانوالہ
مرزاقادیانی اور اس کے متبعین اَزرُوئے شرع مرتد اور کافر ہیں، اور میں کہتا ہوں کہ مرزائی کا جنازہ پڑھنے پڑھانے والے بھی کافر اور مرتد ہیں۔ لہٰذا ان کو توبہ اور تجدیدِاِیمان اور نکاح دوبارہ کرنا فرض ہے۔
محمد سعید، خطیب جامع مسجد گلی لانگریاں، گوجرانوالہ
الجواب:۔۔۔ چونکہ کافر کی نمازِ جنازہ نصوص قطعی الثبوت والمعنی سے ممنوع ہے،(۱) اور قادیانی عقیدے والے باجماع الامت اَزرُوئے کتابُ اللّٰہ والسنۃ کافر ہیں، لہٰذا قادیانی مذہب والے کا جنازہ پڑھنا ممنوع، حرام وکفر ہے، اور محرماتِ قطعیہ جو قبیح بعینہٖ ہوں، اس کا حلال سمجھنا اِرتداد وکفر ہے، اور خروج ہے دائرۂ اسلام سے،(۲) اور کافر نہ قابلِ اِمامت ہے، اور نہ نکاحِ سابق بحال رہ سکتا ہے، اور غیراِمام (مقتدیوں) کا بھی یہی حال ہے، جو محرماتِ مذکورہ کو حلال سمجھے، لہٰذا تجدیدِ نکاح واِیمان عندالتوبہ ضروری ہے۔(۳)
قاضی عبدالسلام
مدرسہ انوارالعلوم جامع مسجد گوجرانوالہ
(۱) ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔ قال الإمام جصاص تحت ھٰذہ الآیۃ: وحظرھا (الصلاۃ) علٰی موتی الکفار۔ (احکام القرآن للجصَّاص ج:۳ ص:۱۴۴)۔
(۲) والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرامًا لغیرہ لا یکفر، وإن کان لعینہٖ، فإن کان دلیلہ قطعیًا کفر وإلَّا فلا۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۲، باب احکام المرتدین، ایضًا: عالمگیری ج:۲ ص:۲۷۲)۔
(۳)ایضًا۔ نیز: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح، وأولادہ أولاد الزنا، وما فیہ خلاف یؤْمر بالتوبۃ والإستغفار وتجدید النکاح۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۴۶،۲۴۷)۔
422
حضرت مولانا مفتی محمد خلیل، مدرسہ اشرف العلوم، گوجرانوالہ
الجواب:نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم وعلٰی آلہ وأصحابہ أجمعین! جن لوگوں نے مرزائی میّت کا جنازہ پڑھایا ہے، انہوں نے سخت ترین جرم کا اِرتکاب کیا ہے، جو کفر ہے، ان کا بائیکاٹ کرنا چاہئے، تاآنکہ توبہ کریں اور تجدیدِاِیمان کریں اور نکاح کی بھی تجدید کریں، اور عام لوگوں کے سامنے معافی مانگیں اور ناک سے لکیریں نکالیں، منہ کالا کرکے گدھے پر چڑھاکر پھرایا جائے، واللّٰہ اعلم!
محمد خلیل
مدرسہ اشرف العلوم باغبانپورہ، گوجرانوالہ
۱۵؍ربیع الثانی ۱۳۸۶ھ
مولانا مفتی بشیر حسین، جامع مسجد محلہ قبرستان گوجرانوالہ
الجواب:۔۔۔وھو الموفق للصواب! صورتِ مسئولہ میں تمام مکاتبِ فکر علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام مرزائی جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ماننے والے ہیں، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد ہیں، ایسے آدمیوں کے لئے نہ نمازِ جنازہ ہے اور نہ دُعائے مغفرت ہے۔ جب قرآن مجید کی نصوصِ قطعیات میں منافقین اور مشرکین کے لئے دُعائے مغفرت نہیں ہے، ’’مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُواْ اُوْلِیْ قُرْبٰی ۔۔إلخ‘‘ (التوبۃ:۱۱۳) منافقین کے لئے اللّٰہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے: اے نبی! اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دُعائے مغفرت کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ مرتد کا درجہ مشرک اور منافق سے زیادہ ہے، ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا اور دُعائے مغفرت کرنا اللّٰہ تعالیٰ اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صریح نافرمانی ہے، بلکہ بغاوت ہے۔ جن مسلمانوں نے اور اِمام صاحب نے عمداً نمازِجنازہ پڑھی ہے، وہ اپنے ایمان کی فکر کریں، تجدید اِیمان کی کریں اور اپنے نکاح بھی اَزسرِنو پڑھائیں۔ ایسا اِمام اِمامت کے فرائض کا اہل نہیں ہے، اس کو معزول کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اِمام ایسے کام کی جسارت نہ کرے، ھٰذا ما عندی و اللہ اعلم بالصواب!
مفتی بشیر حسین، فاضل دیوبند
خطیب جامع مسجد محلہ قبرستان، گوجرانوالہ
۳؍۶؍۱۹۶۶ء
مولانا محمد صادق، زینۃالمساجد محلہ روڈ، گوجرانوالہ
الجواب:۔۔۔ مرزائی چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اور اس کو نبی ومجدد مان کر اس کی طرح ختمِ نبوّت کے منکر اور توہین شانِ رسالت کے مرتکب ہیں، اس لئے علمائے عرب وعجم کے فتوے کی رُو سے کافر ودائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور جو شخص انہیں ختمِ نبوّت کا منکر ومرزائی جاننے کے باوجود انہیں مسلمان سمجھے، اور ان کے لئے دُعائے مغفرت کرے، وہ بھی ان کی طرح کافر ودائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لہٰذا بصورتِ مسئولہ جس مولوی نے مرزائی کو مسلمان ہوکر اس کا جنازہ پڑھایا اور اس کے لئے دُعائے مغفرت کی ہے، مسلمانوں کے لئے اس کو اِمام بنانا اور اپنی مسجد میں رکھنا ہرگز جائز نہیں، اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے۔
۲:۔۔۔ جس اِمام اور اس کے مقتدی نے مرزائی کو مسلمان سمجھ کر اس کا جنازہ پڑھا اور اس کے لئے دُعائے مغفرت کی،
423
ان کا نہ اسلام رہا، نہ نکاح! ان پر فرض ہے کہ نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوں، صدقِ دِل سے توبہ کریں اور ان کا نکاح دوبارہ پڑھیں، ورنہ مسلمان ان سے قطع تعلق کریں، واللّٰہ اعلم!
ابوداؤد محمد صادق غفرلہٗ
زینۃالمساجد، گوجرانوالہ
مولانا اِحسان الحق، مسجد حاجی مہتاب دین، گوجرانوالہ
غلام احمد قادیانی اور اس کو نبی یا مجدّد ماننے والے سب کے سب دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور مرتدین ہیں، انہیں مسلمان جاننا یا مرنے کے بعد دُعائے مغفرت کرنا، نمازِ جنازہ پڑھنا یا پڑھانا، کفر واِرتداد ہے، ایسوں پر تجدیدِ اِسلام وتجدیدِ نکاح لازم وضروری ہے، ورنہ اہلِ اسلام پر فرض ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں۔ حضرت مجیب مسئول کا جواب بالکل دُرست ہے، فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
ابوشعیب محمد اِحسان الحق قادری رضوی غفرلہٗ
جامعہ رضویہ منظرالاسلام، مسجد حاجی مہتاب دین، گوجرانوالہ
غلطی کا اِقرار اور توبہ!
علمائے کرام کے فتویٰ کے بعد جنازہ پڑھنے والے مسلمانوں نے اپنے جرم کا اِحساس کیا، اور بعض نے مسجدوں اور عام مجمع میں اپنی غلطی کا اِقرار اور توبہ کی، کلمۂ شہادت پڑھ کر نئے سرے سے اسلام واِیمان کی تجدید کی اور اپنے اپنے نکاح بھی دوبارہ پڑھوائے، چنانچہ مولوی گل حسن شاہ صاحب بریلوی، اِمام وخطیب مسجد حنیفہ، باغبان پورہ نے اپنی غلطی کا اِقرار کرتے ہوئے بعد اَز نماز، مسجد کے عام مجمع میں سب لوگوں کے سامنے توبہ کی، کلمہ پڑھ کر تجدیدِ اِیمان کی، اور اسی مجمع عام میں اپنا نکاح بھی دوبارہ پڑھوایا، اور اسی مجلس میں ایک توبہ نامہ (بدست حاجی صوفی عبدالعزیز صاحب) پیش کیا، جس پر پڑھ کر مولوی صاحب مذکور نے دستخط کئے، جو درج ذیل ہے:
مولوی صاحب کا توبہ نامہ
میں مولوی گل حسن شاہ، اِمام وخطیب جامع مسجد باغبان پورہ گوجرانوالہ، اِقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی تمام اُمتِ مسلمہ کے نزدیک کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور جو اس کو نبی یا کسی قسم کا پیشوا تسلیم کرے، وہ بھی کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چونکہ میں نے ایک مرزائی میّت کی نمازِ جنازہ پڑھی پڑھائی، جو صریح غلطی کی ہے، جس سے میرا اِسلام واِیمان جاتا رہا۔ اب اس عام مجمع میں رُوبرو ان مسلمانوں کے توبہ وتجدیدِ اِیمان کرتا ہوں اور اِقرار کرتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، ان کے بعد کسی قسم کی نبوّت نہیں ہوسکتی، جو اِقرار کرے گا، کافر ہوگا۔ اور رُوبرو گواہان کے اپنے نکاح کی بھی تجدید کرتے ہوئے پوری توبہ کر رہا ہوں، تاکہ اَحکامِ اسلام کی پوری پابندی نصیب ہوجائے۔ خداوندکریم مجھے اِستقامت نصیب فرمائے اور دِینِ اسلام پر قائم رکھے، آمین!
دستخط: گل حسن شاہ بقلمِ خود
گواہ: ۱:-صوفی عبدالعزیز ۲:-چودھری غلام محمد کشمیری، وغیرہ۔
424
اِسلامیانِ پاکستان سے اپیل!
حضرات! ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں، آئینِ اسلام اور دِینِ قیم کے ساتھ جو برتاؤ ہو رہا ہے، وہ کسی باشعور سے مخفی وپوشیدہ نہیں۔ اِلحاد وبے دِینی، فسق وفجور کا دور دورہ ہے، فحاشی، بے حیائی عام ہے۔ اسلام اور آئینِ اسلام کی برسرِعام توہین کی جارہی ہے، ملک میں اسلامی کلچر، ثقافت کے نام پر رقص وسرود، ننگے ناچ اور ڈانس کئے جاتے ہیں، خاندانی منصوبہ بندی اور عائلی قوانین جیسے خلافِ اسلام قوانین، قرآن وسنت کے مقابلے میں مسلمانوں پر جبراً مسلط کئے گئے ہیں، ایک طرف حج پر پابندی ہے تو دُوسری طرف اوقاف کے نام سے مساجد پر قبضہ، علمائے کرام پر ناجائز پابندیاں، زبان بندی اور ان کو برطرف کیا جارہا ہے، ادھر زکوٰۃ کی مقرّرکردہ اِسلامی شرح میں تبدیلی کی جارہی ہے اور زکوٰۃ کو حکومتی ٹیکس کا نام دیا جارہا ہے، اور یہ سب کچھ مظلوم ’’اسلام‘‘ کے نام پر ہو رہا ہے۔ عہدِحاضر کے گمراہ، زکوٰۃ، حج، نماز اور روزے کی شرعی حیثیت اور اہمیت کو نگاہوں سے اوجھل کرنے میں مصروف ہیں، الغرض ترمیم وتنسیخ کا ملک گیر سلسلہ شروع ہے۔
دِینی اقدار کو مسخ کرنے اور مٹانے کی کوشش پورے زور سے ہو رہی ہیں اور آپ میں سے اکثر حضرات یہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے کے لئے میدانِ عمل میں آنے سے تأمل کر رہے ہیں۔ آپ کی حمیتِ دِینی سے توقع رکھتے ہوئے اپیل کرتا ہوں کہ آپ دِین اور صرف دِینِ اسلام کی سربلندی، آئینِ اسلام کے نفاذ، توحیدِ باری تعالیٰ اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کی حفاظت کے لئے تمام دِین پسند جماعتوں اور علمائے حق کا ساتھ دیں، اور خصوصیت سے علمائے حق کی جماعت ’’جمعیت علمائے اسلام پاکستان‘‘ سے پوراپورا تعاون کریں جو پاکستان میں دِینی اقدار کی بحالی اور اِسلامی آئین کے نفاذ کے لئے کوشش کر رہی ہے، اور یہی اس کا مقصدِ وحید ہے۔ ہمارے اسلافِ کرام جس طرح مساجد، مدرسوں اور خانقاہوں کے منتظم، خدمت گزار تھے، اسی طرح وہ میدانِ جہاد کے شہسوار بھی تھے، اگر وہ دارالعلوم دیوبند کے منظم اور مدرّس ہیں تو شاملی کے میدانِ جہاد میں مجاہد وسپاہی بھی ہیں، اگر وہ خانقاہ اِمدادیہ کے بانی گوشہ نشین ہیں تو شاملی کے میدانِ جہاد میں بذاتِ خود مسلمان فوج کے جرنیل وسپہ سالار بھی ہیں، اگر ایک طرف وہ دارالعلوم دیوبند اور مسجدِنبوی کے شیخ الحدیث ہیں تو ساتھ ہی وہ جزیرہ مالٹا (کالے پانی) میں قید فرنگ اور ہندوستان کی آزادی کے قائد بھی ہیں۔ خداوندقدوس ہم کو دِین کی حفاظت کرنے والے بزرگانِ اسلاف کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین!
اس مختصر رسالے میں اِنتہائی اِختصار کے ساتھ چند معروضات پیش کردی ہیں، اور یہ ناچیز کوشش آپ حضرات کے سامنے ہے، کہاں تک اس میں کامیابی ہوئی، اس کا اندازہ آپ ہی لگاسکتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دِین کی خدمت اور رضا کے لئے قبول فرمائے، آمین! فقط
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین،
وصلی اللہ تعالٰی علٰی رسولہ خیر خلقہٖ محمد وآلہٖ وأصحابہ أجمعین
425
مرزائی کا جنازہ اور اس کے
نہ پڑھنے کا فتویٰ
حافظ عبدالحق سیالکوٹی
426
اِستفتاء
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ، اَمَّا بَعْدُ!
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین وہادیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے دعویٔ نبوّت اور جھوٹے اِلہامات وخرافات سے علمائے دِین بخوبی واقف ہیں، اس کا ایک مخلص مرید جو شرک فی الرسالۃ کے علاوہ انبیاء علیہم السلام، اور خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ مریم صدیقہ کی شان میں، اور ان کے علاوہ علمائے اسلام کی شان میں گستاخیاں کرکے ان سب کی توہین اور بے ادبی کیا کرتا تھا۔ لیکن جب وہ بغیر توبہ کے فوت ہوگیا تو مسلمانوں اور خصوصاً اَئمۂ مساجد میں سے ایک مسجد کے اِمام نے مرزا مذکور کے اس مرید کو خود غسل وکفن دے کر اس کی نمازِ جنازہ پڑھ دی ہے۔ کیا اب حنفی اور اہلِ حدیث مسلمان اس اِمامِ مذکور کی اِقتدا میں نماز باجماعت ادا کرسکتے ہیں؟ اور اس کو اپنا اِمام ومقتدا تسلیم کرکے اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر نفی میں جواب ہے تو جو مسلمان اس اِمامِ مذکور کی اِقتدا میں نماز اَدا کرے گا اور اس کے ساتھ تعاون کرے گا، اس مسلمان کے ساتھ باقی مسلمانوں کو کیا سلوک کرنا چاہئے؟ بیّنوا توجروا!
۱:۔۔۔عبدالحق (اِمام مسجد یتیم شاہ محلہ اٹاری، سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۲:۔۔۔مستری ولی محمد (جنرل سیکریٹری مجلس احرار محلہ میانہ پورہ سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۳:۔۔۔جعفرعلی (جنرل سیکریٹری مجلس احرار سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۴:۔۔۔عبدالرحیم گاہندی (پریذیڈنٹ انجمن فدایانِ اسلام ونائب صدر مجلس احرار اسلام سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۵:۔۔۔حکیم محمد عبداللطیف (انجمن اِصلاح المسلمین، نائب صدر مجلس احرار سیالکوٹ)۔ ۶:۔۔محمدالدین ولد پیروحجام (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۷:۔۔محمدالدین ولد فضل دین شیخ (محلہ کھٹیکاں شہر سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۸:۔۔محمد حسین (محلہ شاہ کاکاولی رنگ پورہ سیالکوٹ، بقلمِ خود)۔ ۹:۔۔۔مہرہیرا ولد فداآرائیں (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۱۰:۔۔۔مہربڈھا ولد فضل الدین آرائیں (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۱۱:۔۔سائیں گھدوتکیہ یتیم شاہ (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۱۲:۔۔مہرعلم الدین ولد کریم بخش آرائیں (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۱۳:۔۔مستری اِمام الدین ولد بلندا (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔ ۱۴:۔۔مہرچراغ الدین ولد فضل الدین آرائیں (محلہ اٹاری سیالکوٹ)۔
الجواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! مرنے والا چونکہ حالتِ کفر میں مرا ہے، اس لئے اس پر نماز ودُعا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔
427
’’مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا أَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ‘‘ (التوبۃ:۱۱۳) سے صریح ممانعت ہے، عملاً ایسا کرنے والا سخت گنہگار ہے۔ جب تک تائب نہ ہو، اس کی اِقتدا میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے اِحتراز لازم ہے۔ یہ قوم فروشی اور اِیمان ریزی کی بیّن دلیل ہے، ایسے قوم فروش انسانوں سے تعاون بھی نہ کرنا چاہئے۔ ’’فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظٰلِمِیْنَ‘‘ (الانعام)، اور: ’’وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ‘‘ (المائدۃ:۲) میں ایسے ہی مجرموں کی سزا ہے۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!
محمد علی کاندھلوی
مدرّس مدرسہ فلاحِ دِین ودُنیا، سیالکوٹ، ۱۸؍فروری ۱۹۳۵ء
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| حافظ سیّد نورشاہ بمہرخود |
محمد اِبراہیم میر بقلمِ خود |
محمد عبدالمنان بقلمِ خود عفی عنہ |
الجواب وبا اللہ التوفیق! مرزاقادیانی کا دعویٰ باطل، اور باطل کی مریدی کرنے والا بھی باطل ہے۔ اس کا اِیمان بھی باطل، باطل کا غسل کفن وتجہیز وتکفین کرنے والا اپنے اِیمان کو خطرے میں ڈالتا ہے، اور تمام اہلِ سنت کا مذہب اس حدیث کے مطابق ہے کہ: ’’لا نبی بعدی!‘‘ نبی علیہ السلام کے بعد کوئی ماں ایسا بیٹا نہ جنے گی جو حضور علیہ السلام کے بعد نبی ہوسکے۔ مرزاقادیانی نے اس حدیث کے خلاف اپنے آپ کو دعوے دار نبوّت کا ثابت کیا۔ پس ایسے آدمی کے مرید کو ایک سنی مسلمان ہرگز غسل نہیں دے سکتا، اور ایسا کرنے والا ایک مؤمنین کی جماعت میں اگر توبہ نہ کرے تو اس کی اِقتدا اہلِ سنت ہرگز نہیں کرسکتے، فقط!
محمدالدین، امامِ مسجد شیخاں محلہ کھٹیکاں سیالکوٹ
باسمہٖ سبحانہ! مرزاقادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کرکے نص قرآنی: ’’ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰) کا برملا اِنکار کرتے ہوئے جمہور کے نزدیک صریح کفر کا اِرتکاب کیا ہے، اور اس نے متعدّد ایسی احادیثِ صحیحہ کی تکذیب کی ہے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بابِ نبوّت کو مفتاح خاتمی سے تا نفخ صورِ اِسرافیلی مقفل کردیا ہے، اور قصرِ نبوّت ورِسالت میں خشت آخریں ثبت فرماکر تعمیر کو تاقیامت اکمل کردیا ہے۔ پس اگر متوفی مقرِ نبوّت مرزاقادیانی تھا تو بے شبہ وہ بھی مرتد اور کافر ہوا، ایسے مرتد کا غاسل طائفہ مؤمنین میں توبہ کرے، ورنہ اس کی اِقتدا سے مسلمان بالضرور مجتنب رہیں۔
حکیم محمد صادق، صادق المرقوم
۱۷؍ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
| عبدہ غلام مصطفی عفی عنہ خطیب مسجد گھماراں محلہ وہارووال سیالکوٹ |
محمد علی خطیب امام مسجد پٹھاناں عفی عنہ موری دروازہ سیالکوٹ |
محمد یوسف خطیب محلہ خراسیاں سیالکوٹ |
اِمام الدین رائے پوری خطیب جامع مسجد صدر بازار سیالکوٹ |
باسمہ سبحانہ! واقعی مرزاقادیانی اور اس کے ماننے والے باتفاق علمائے اہلِ سنت والجماعت بوجہ دعویٔ نبوّت وتوہین انبیاء
428
دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ جو شخص ان کی نمازِجنازہ پڑھے وہ بھی ملحد، بے دِین، گمراہ ہے، جب تک توبہ نہ کرے مسلمانوں کو اس کے ساتھ کسی قسم کا برتاؤ وغیرہ نہیں چاہئے۔
| جواب صحیح |
ابومحمود محمد مسعود |
| المسکین اللہ فتح علی شاہ الحنفی از کھروٹہ سیداں |
الہڑ ضلع سیالکوٹ |
واقعی مرزائیوں کے دفن کفن اور جنازے میں شامل ہونا اپنے آپ کو اِیمان سے خارج کرنا ہے، کیونکہ وہ صریح قرآن وحدیث کے مخالف ہیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی شان میں وہ تمام آیتیں پیش کی ہیں جو نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں ہیں، اور قرآنِ کریم کا فیصلہ ہے کہ: ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہ الْکَذِبَ وَہُوَ یُدْعٰی إِلَی الْإِسْلَامِ وَاللہُ لَا یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ (الصف۷) پس مرزاقادیانی کو اللّٰہ تعالیٰ نے خود ظالم واظلم کا فتویٰ دیا ہوا ہے، اور ظالموں کی نسبت صاف فرمایا کہ:’’وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ‘‘ (ہود:۱۱۳) ’’یعنی ظالموں سے میل جول نہ کرو، ورنہ تم بھی جہنمی ہوجاؤگے۔ لہٰذا جو شخص مسلمان ہوکر مرزائی کے کفن دفن اور جنازے میں شریک ہوتا ہے، وہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اس کی اِمامت اور اس کے ساتھ میل جول کرنا اور مسلمانوں کا برتاؤ کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ فقط واللّٰہ اعلم!
حررہ بندہ ذُوالمنن ابویوسف نورالحسن عفا اللّٰہ عنہ
خطیب جامع مسجد کلاں، تحصیل بازار سیالکوٹ
الجواب:۔۔۔ ھو الموفق للصواب! مرزا غلام احمد قادیانی اصل دِین منصوص علیہ متفق علیہ ختمِ نبوّت کا جاحد ومنکر ہے اور نیز وہ متعدّد دعاوی کفریہ کا مرتکب ہے، اس لئے وہ اور اس کے تمام پیروکار جمیع کفار سے اشنع واقبح اکفر ہیں، تمام اہلِ علم واہلِ اسلام اور جملہ مذاہبِ اسلام نے ان کو، اور جو ان کو کافر نہ سمجھے، کافر قرار دیا ہے۔ ایسوں کی تجہیز وتکفین کرنے والا دو حالت سے خالی نہ ہوگا: یا حلال سمجھ کر کرے گا، یا حرام سمجھ کر کرے گا۔
صورتِ اُولیٰ میں کافر ہے، اور اس کے اعمالِ سابقہ سب حبط ہوگئے اور اس کا نکاح فسخ ہوگیا ہے، توبہ صریحہ ظاہرہ اور تجدیدِ اِسلام ونکاح لازم ہے، ورنہ سب اولاد حرام کی ہوگی، دائماً ابداً جہنمی ہوگا۔
صورتِ ثانیہ میں پرلے درجے کا فاسق ہے۔ اشباہ والنظائر کا فتویٰ ہے کہ فاسق کو اِمام بنانا ناجائز ہے اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ واللّٰہ وحدہ لاشریک فرماتا ہے کہ:’’وَّمَن یَّتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ‘‘ (المائدۃ:۵۱) ’’تم میں سے جو اُن سے دوستی وموالات کرے گا وہ انہیں کا ہی ہوگا۔‘‘ اور فرماتا ہے کہ:’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ‘‘ (التوبۃ:۸۴) ’’ان میں سے جو مرجائے، اس کی نمازِ جنازہ مت پڑھے اور اس کی قبر پر مت کھڑے ہو!‘‘ اس مضمون کی آیات واحادیث بکثرت ہیں، بخوفِ طوالت ان پر ہی اِکتفا کی جاتی ہے!
کتبہ محمد عبدالغنی عفاعنہ
مہتمم جامعہ حنفیہ واقعہ کالج روڈ سیالکوٹ
۱۹؍اپریل ۱۹۳۵ء
429
ہم نے جہاں تک اقوال مرزاقادیانی کے دیکھے اور سنے، ان اقوال کی رُو سے قادیانی اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے، جو مسلمان ہو اور مولوی کہلائے اور ان کا جنازہ پڑھائے، وہ بھی اِحاطۂ اِسلام سے خارج ہے۔
خاکسار سیّد محمد نوراللّٰہ
خطیب جامع مسجد قصاباں، محلہ کشمیری سیالکوٹ
توبہ نامہ!
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
منکہ قاضی حبیب اللّٰہ ولد قاضی عطاء اللّٰہ صاحب اِمام مسجد موچیاں محلہ بوچڑخانہ شہر سیالکوٹ کا ہوں۔ مظہر نے پچھلے دنوں مسمّیٰ محمدالدین مرزائی فوت شدہ کو غسل دیا اور اس کا جنازہ پڑھا۔ یہ مظہر کا فعل عام مسلمانان کے نزدیک ایک بڑا شرعی جرم تھا، جس کے اِرتکاب کے سبب عام مسلمانوں نے مجھ سے عدم تعاون کرلیا، لہٰذا مظہر اپنے اس بُرے فعل سے پشیمان ہوکر مجلس عام مسلمانان میں تائب ہوتا ہوا تجدیدِاِسلام کرتا ہے اور آئندہ اِقرار کرتا ہوں کہ ایسے بُرے فعل کا کبھی مرتکب نہ ہوں گا، اور جو کچھ میرے اس قصور کے متعلق تعزیر شرعی بروئے شرعِ محمدی ہوگی اس کی ادائیگی میں مجھے کسی قسم کا کوئی عذر نہ ہوگا، اور میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کو جیسا کہ مسلمان کافر سمجھتے ہیں، کافر سمجھتا رہوں گا۔
العبد بقلمِ خود حبیب اللّٰہ احقرالعباداللّٰہ راجی الی اللّٰہ المدعو حبیب اللّٰہ
گواہان حاضرین مجلس: ۱:۔۔غلام یاسین ولد غلام حسین قوم قریشی، سکنہ سیالکوٹ محلہ اٹاری۔ ۲:۔۔عبدالغفور ولد عبدالصمد بٹ، محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ۳:۔۔۔محمدالدین ولد کرم الٰہی آرائیں، محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ۴:۔۔۔میاںعبدالحق، اِمام مسجد یتیم شاہ سیالکوٹ۔ ۵:۔۔۔میاںمحمدعلی، اِمام مسجد پٹھاناں سیالکوٹ۔ ۶:۔۔۔اللّٰہ دتا ولد مولاداد بافندہ، محلہ اٹاری سیالکوٹ۔ ۷:۔۔۔عمرخاں، بقلمِ خود۔
✨ ☪ ✨
430
عرب وعجم کے دیوبندی، بریلوی،
اہلِ حدیث اور شیعہ علمائے کرام کا
متفقہ فتویٰ
اہالیان علاقہ مانسہرہ، ضلع مانسہرہ
431
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوال نمبر۱:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ضلع ہزارہ، تحصیل مانسہرہ میں ایک گاؤں کے رہنے والے ایک صاحبِ اثر شخص نے اپنی لڑکی ایک قادیانی مرزائی کو یہ کہہ کر نکاح کرکے دے دی کہ یہ لڑکا مرزائیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوچکا ہے۔ چنانچہ ساری برادری کو اس کی توبہ کا ذِکر کرکے بوقت شادی بٹھالیا اور دعوتِ ولیمہ میں بھی شریک کرلیا۔ اس ہنگامی صورتِ حال کے بعد خود اس لڑکے سے پوچھا گیا اور اسے مسلمان ہونے کی مبارک باد دِی گئی تو اس نے غصّے میں آکر کہا کہ: ’’بیوی کی خاطر اپنا مذہب چھوڑنا (گالی دے کر کہا کہ) بڑے ایسے ویسوںں کا کام ہے، میں نے اپنا مذہب ہرگز نہیں چھوڑا!‘‘ آیا اَزرُوئے شریعتِ مطہرہ یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
سوال نمبر۲:۔۔۔ انہی بااثر صاحب نے پھر اپنے ایک لڑکے کی منگنی بھی مذکورہ لڑکے کے بڑے بھائی مرزائی عقیدے والے کی لڑکی سے اعلانیہ کی ہے، کچھ دِنوں تک شادی ہونے والی ہے۔ اس کے متعلق واضح فرمائیں کہ اس شادی میں برادری کے اہلِ سنت والجماعت عقیدہ رکھنے والے مسلمان اَزرُوئے شریعتِ پاک شریک ہوسکتے ہیں یا کہ نہیں؟ بیّنوا توجروا!
سوال نمبر۳:۔۔۔ انہی بااثر صاحب کے زیرِاثر اس گاؤں کی جامع مسجد کے سابق اِمام وخطیب کا تعلق بھی مرزائیوں سے ہے، اس نے صاف کہا ہے کہ: ’’میں مرزائیوں کو کافر نہیں کہتا، کسی کی مرضی ہو، میرے پیچھے نماز پڑھے، نہ ہو، نہ پڑھے، کسی کے ڈر سے اپنے تعلقات ان سے قطع کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں!‘‘ چنانچہ اپنے اس عقیدے کا مظاہرہ عملی طور پر اس نے اس طرح سے کیا ہے کہ شہرداتہ میں رہنے والے ایک قادیانی مبلغ کے خالص قادیانی عقیدے والے لڑکے کی شادی میں یہ اِمام صاحب مذکور اپنے کنبے کے سارے افراد سمیت شریک ہوئے اور اس شادی میں ضرورت سے زیادہ خوشی کا مظاہرہ بھی کیا۔ نیز اپنے حقیقی بھائی کو اس مذکور قادیانی لڑکے کا شادی والا دوست بھی بنادیا۔(۱) اسی پر بس نہیں، بلکہ سنا ہے کہ یہی اِمام صاحب اپنی حقیقی بھانجی کا رِشتہ اس قادیانی لڑکے کے بڑے بھائی قادیانی مرزائی کو، اور اس کی حقیقی بھانجی جو مرزائی کی لڑکی ہے، کا رشتہ اپنے حقیقی بھانجے کے لئے کرنے کا مصمم اِرادہ کرچکے ہیں۔ بات چیت تقریباً ہوچکی ہے، شاید معمولی سی کسر رہ گئی ہو۔ رِضائے الٰہی کے لئے اس مسئلے کو وضاحت سے بیان فرمائیں کہ آیا یہ شخص مسلمانوں کی نماز پنج گانہ کا اِمام، نیز مسلمانوں کی نمازِجنازہ کا اِمام بن سکتا ہے یا نہیں؟ نیز خطبہ جمعہ ونکاح کے
(۱) چنانچہ اسی مسجد میں مدرسہ تجویدالقرآن کے اساتذۂ کرام کو خطیب صاحب کی اس مرزائیت نوازی پر اِعتراض کرنے کی بنا پر اس صاحبِ اثر شخص نے پہلے ان کو ذِلت آمیز الفاظ میں سخت سست کہا، پھر انہیں مدرسے سے جواب دے کر تعلیمِ قرآن کے ہرے بھرے باغ کو اُجاڑنا اس لئے پسند کرلیا کہ خطیب صاحب کی دِل شکنی کیوں کی گئی؟ وہ اساتذۂ کرام آج بھی بہت دُور نہیں، بلکہ مانسہرہ لوہاربانڈہ میں قیام پذیر ہیں، (مزید لطف کہانی صرف انہی کی زبانی)۔
432
لئے بھی کسی اور شخص کا مستقل طور پر اِنتظام کرنا چاہئے کہ نہیں؟ بیّنوا توجروا!
سوال نمبر۴:۔۔۔ نیز انہی بااثر صاحب اور خطیب صاحب کو اس خطرناک مرزائیت نواز، بلکہ مرزائیت ساز پالیسی کی وجہ سے شہر کے اکثر عوام مردوزَن کو مرزائیوں کے کافر یا مسلمان ہونے کا کوئی علم ہی نہیں رہا، بلکہ ان دونوں نے مرزائیوں سے رشتوں کے لین دین والے اپنے خطرناک طرزِعمل سے مرزائی اور مسلمانوں کے اِمتیاز کو اس حد تک ختم کردیا ہے کہ اس گاؤں کے عوام مردوزَن مرزائیوں کے کفر واِرتداد سے بالکل بے خبر ہوتے جارہے ہیں، بلکہ ان ہی دونوں کے نقشِ قدم پر چل کر دُوسرے مسلمانوں نے بھی مرزائیوں سے رشتے کرنے شروع کردئیے ہیں۔ چنانچہ ابھی چند روز ہوئے کہ ایک واقعہ ہوچکا ہے۔ اسی طرح مرزائی میّت کی نمازِجنازہ اور دُعا میں شریک ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اس لئے راہ للّٰہ یہ مسئلہ روشن فرمائیں کہ آیا مرزائی قادیانی ہوں یا لاہوری، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں یا کہ نہیں؟ ان سے نکاح اور ان کی نمازِجنازہ اور دُعا میں شریک ہونا اَزرُوئے دِینِ حق وشریعتِ مطہرہ دُرست ہے یا نہیں؟ نیز قادیانی یا لاہوری مرزائی کا ذبح کردہ جانور حلال ہے یا حرام؟ بیّنوا توجروا!
سوال نمبر۵:۔۔۔ ہماری آخری دردمندانہ گزارش ہے کہ یہ دونوں مذکورہ بالا اَشخاص:
نمبر۱:۔۔۔ بااثر صاحب جو وقتاًفوقتاً علمائے کرام کو بُرابھلا کہتے ہوئے کہ یہ مولوی مرزائیوں کو کافر کہہ کر پھوٹ ڈالتے ہیں، اور اپنے موجودہ طرزِعمل کی تعریف وتحسین کرتے، او راپنے طرزِعمل پر فخر کرتے ہوئے اسے محبوب ومرغوب سمجھتے ہیں۔
نمبر۲:۔۔۔ اِمام وخطیب صاحب نے اللّٰہ کے گھر جامع مسجد مذکور میں مرزائیوں کو کافر نہ کہنے کا اِقرار، اور ان سے تعلق جاری رکھنے کا اِصرار کیا ہے، اور اس پر قائم ہیں۔ چنانچہ مرزائیوں کی شادی میں اپنے طرزِعمل کو واضح بھی کردیا ہے۔
یہ دو شخص جن کی خطرناک مرزائیت نواز ومرزائیت سازپالیسی کی وجہ سے اس وقت سارے کا سارا گاؤں کفر واِرتداد کی لپیٹ میں ہے۔ اَزرُوئے شرعِ متین ودِینِ مبین اور قرآن وحدیث ومذہبِ حنفیہ کی معتبر کتابوں سے ان دونوں کا حکم بھی بیان فرمائیں کہ جب تک یہ اِعلانیہ توبہ نہ کریں، عوام مسلمانوں کو ان سے کیسا تعلق رکھنا چاہئے؟ بیّنوا توجروا!
ان سوالات کا جواب اَزرُوئے قرآن وحدیث وکتبِ معتبرہ وحنفیہ، وضاحت سے بیان فرماکر عنداللّٰہ مأجور ہوں، اور اس گاؤں کے بے بس مسلمانوں کے اِیمان کو اِرتداد والی خطرناک لعنت سے بچانے میں اِمداد فرمائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو دُنیا وآخرت میں اَجرِعظیم عطا فرمائیں اور علمائے کرام کے وجود کو تابقیامت سلامت باکرامت رکھے اور کفر واِرتداد کے لئے تباہی کا باعث بنائے، آمین!
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین
والصلٰوۃ والسلام علٰی سیّد المرسلین وآلہٖ وأصحابہٖ أجمعین!
الجواب:
مرزا غلام احمد قادیانی کا کافر ہونا اور مرتد ہونا اور ان کے اقوال وکلمات غیرمحصورہ کا غیرمحتمل للتأویل ہونا اظہر من الشمس
433
ہوچکا ہے، اس لئے جمہور علمائے اُمت کے نزدیک وہ کافر ومرتد ہے، اور اسی طرح وہ لوگ جو اس کو باوجود ان اقوال وعقائد کے معلوم ہونے کے، مسلمان سمجھیں، خواہ نبی کہیں، یا مسیح، یا جو کچھ بھی کہیں، کافر ومرتد ہیں۔ اگر اس کی مفصل ومدلل تحقیق کرنا ہو تو مستقل رسائل مثل ۱:۔۔۔اشد العذاب، ۲:۔۔۔القول الصحیح فی مکائد المسیح، ۳:۔۔۔مطبوعہ فتاویٰ علمائے ہند دربارہ تکفیرِ قادیانی، جس میں ہر ضلع اور صوبے کے علماء کے سینکڑوں دستخط ہیں، ملاحظہ فرمالئے جائیں۔ اس لئے قادیانیوں ومرزائیوں سے عام مسلمانوں کا اِختلاط اور ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، یا خود ان کے جلسوں میں شریک ہونا، یا شادی وغمی اور کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، یا ان کے شریک ہونا، یا نمازِجنازہ میں ان کی شریک ہونا، یا شریک کرنا سخت گناہ ہے، مناکحت قطعاً حرام ہے، اور جو نکاح پڑھ بھی دیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا، بلکہ اگر بعد اِنعقادِ نکاح، مرزائی یا قادیانی ہوجائے تو نکاح فوراً فسخ ہوجاتا ہے۔
۱:۔۔۔ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، اگر ہوا بھی تھا تو اس لڑکے کے اس کہنے سے کہ: ’’میں نے اپنا مذہب ہرگز نہیں چھوڑا!‘‘ فوراً فسخ ہوگیا۔
۲:۔۔۔ اس شادی میں برادری اور اہلِ سنت والجماعت عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں کو ہرگز شریک ہونا جائز نہیں، اگر شریک ہوئے تو سخت گنہگار ہوں گے۔
۳:۔۔۔ صورتِ مذکورہ میں جامع مسجد کا اِمام وخطیب بھی خارج اَزاِسلام ہے، لہٰذا وہ مسلمانوں کی نمازِ پنج گانہ، جمعہ، عیدین اور نمازِجنازہ کا اِمام نہیں ہوسکتا، اس کے پیچھے مسلمانوں کا نماز پڑھنا جائز نہیں، اگر پڑھ لی تو نماز نہ ہوگی، اِعادہ نماز کا واجب ہوگا، خطبہ جمعہ اور نکاح اس سے نہ پڑھوایا جائے۔ اِمام اور نکاح خواں کسی دُوسرے شخص کو مقرّر کیا جائے۔
۴:۔۔۔ مرزائیوں کے دونوں فرقے قادیانی اور لاہوری اتنی بات پر متفق ہیں کہ وہ (مرزاقادیانی) اعلیٰ درجے کا مسلمان، بلکہ مجدّد ومحدث اور مسیحِ موعود تھا۔ اور ظاہر ہے کہ کسی کافر ومرتد کے متعلق، بعد اس کے عقائد معلوم ہوجانے کے ایسا عقیدہ رکھنا خود کفر واِرتداد ہے، اس لئے بلاشبہ دونوں فرقے کافر ومرتد ہیں۔ اور اَب تو لاہوری تحریفِ قرآن اور ضروریاتِ دِین کا خاص طور سے بیڑا اُٹھانے سے اپنے کفر واِرتداد میں مرزاقادیانی کے تابع ہوجانے سے مستغنی ہوکر خود بالذات اِرتداد کے عَلم بردار ہیں، ان سے نکاح یا ان کی نمازِجنازہ میں شریک ہونا جائز نہیں، سخت گناہ ہے۔
۵:۔۔۔ عام مسلمانوں کو ان سے بالکل تعلقات منقطع کرلینے چاہئیں۔ فقط واللّٰہ اعلم!
احقرالعباد محمد صابر
نائب مفتی دارالعلوم کراچی نمبر۱
نانک واڑہ، ۹؍۱؍۱۳۸۳ھ
| الجواب صحیح |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
المجیب مصیب |
جواب صحیح اور دُرست ہے |
| بندہ محمد شفیع عفا اللّٰہ عنہ |
بندہ محمد حیات |
عبدالحق عفی عنہ |
سیّد گل بادشاہ غفرلہٗ |
| ۹؍۱؍۱۳۸۳ھ |
۱۲؍۱؍۱۳۸۳ھ فاتح قادیان |
مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پشاور |
امیر جمعیت علمائے اسلام سرحد |
434
حضرت مولانا لال حسین اختر،ؒ صدرالمبلغین عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت، علمائے پاک وہند کے علاوہ پاکستان کے فاضل جج صاحبان بھی ان پر مہرتصدیق ثبت کرچکے ہیں۔ کیمبل پور اور راولپنڈی کا فیصلہ ملاحظہ فرمایا جائے۔
احقر منظور احمد عفا اللّٰہ عنہ
صدر مدرّس جامعہ عربیہ چنیوٹ
۱۱؍۶؍۱۹۶۳ء
مجھے داتا کے ایک اِمام نے خط لکھا کہ: ’’میں او رپیر صاحب مسلمان ہیں، لوگ جھوٹا پروپیگنڈا ہمارے متعلق کرتے ہیں۔‘‘ جس پر میں نے خوشی ظاہر کی اور کہا، بلکہ جواب لکھا کہ: ’’لوگوں کے کہنے سے آپ مرزائی نہیں ہوسکتے۔‘‘ لیکن جو واقعات اس اِستفتاء میں بتائے گئے ہیں، وہ خطرناک ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان کہنے والا کافر ہے۔ جو شخص اس کو مسلمان کہے، یا قادیانی، یا لاہوری مرزائیوں سے رشتے کرے، وہ کیسے مسلمان ہوسکتا ہے؟ ایسے آدمی کو اِمام بنانا حرام ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنی ناجائز ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کراچی کا فتویٰ بالکل صحیح ہے، فقط!
غلام غوث
ساکن بفہ ہزارہ، حال لاہور، بقلمِ خود
المجیب ھو المصیب!
ناچیز عبداللطیف غفرلہٗ
خطیب ومہتمم مدرسہ تعلیم الاسلام جامع مسجد گنبد والی جہلم
۲۲؍ربیع الاوّل ۱۳۸۳ھ - ۱۲؍اگست ۱۹۶۳ء
مفتیٔ اعظم مصر کا فتویٰ:
’’ولذا افتینا بکفر طائفۃ القادیانیۃ أتباع المفتون غلام احمد القادیانی الزاعم ھو وأتباعہ انہ نبی یوحٰی إلیہ۔ وانہ لا تجوز مناکحتھم ولا دفنھم فی مقابر المسلمین۔‘‘
’’اسی لئے ہم (علمائے حق) نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ ان سے رشتہ ناطہ کیا جائے اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔‘‘ (صفوۃالبیان لبیان القرآن نمبر۱۸۶)
علمائے مصر کے اس فتویٰ کے بعد حکومتِ شام اور مصر نے ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کی املاک ضبط کرلیں۔
| الجواب صحیح والمجیب مصیب |
المجیب مصیب |
المجیب مصیب |
| محمد عرفان عفی عنہ از ڈہانگری |
محمد عبداللّٰہ خالد عفی عنہ خطیب جامع مسجد مانسہرہ |
عبدالحی بقلمِ خود اِمام مسجد محلہ ناڑی مانسہرہ |
الجواب:
۱:۔۔۔ مرزائی، قادیانی ہو یا لاہوری، دونوں اسلام سے خارج ہیں اور مرتد ہین۔
435
۲:۔۔۔ جو شخص ہر دو فرقہ کو مسلمان تصوّر کرے، وہ بھی اسلام سے خارج ہے۔
۳:۔۔۔ جو شخص ہر دو فرقہ کو رِشتہ دیوے یا لیوے، (بشرطیکہ وہ مرزاقادیانی کے کفر کا اِقرار کرے اور مرزائیت سے توبہ کرے، تو ایسا شخص باعثِ عزّت وفخر ہے اور اس کو ثواب ملے گا) اس نے بسبب رشتہ کے اِرتداد سے نکال کر اِسلام میں داخل کیا۔
۴:۔۔۔ اگر بالا ثبوت ہونے کے ہر دو فرقہ کو رِشتہ دیوے یا کرلے وہ بھی ہر دو فرقہ سے ہوگا۔
۵:۔۔۔ اگر اِمام مسجد کا تعلق مرزائیوں سے اس حیثیت سے ہے کہ وہ ان کو مسلمان تصوّر کرتا ہے تو وہ اِمام بھی مسلمان نہیں رہتا، واللّٰہ اعلم بالصواب!
محمد اِسحاق عفی عنہ
خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد
جوابِ بالا بالکل صحیح ہے!
۱:۔۔۔ ہر مسلمان کو اِسلام اور کفر میں اِمتیاز کرنا ضروری ہے، کسی کافر کے لئے دُعا نمازِجنازہ گناہ ہے، ان سے کسی مسلمان کا نکاح مرد ہو یا عورت حرام کاری ہے، وہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
۲:۔۔۔ ایسے کافروں کو مسلمان سمجھنا اِسلام کی توہین ہے، کیونکہ ان کی کفریہ باتوں کو اِسلام قرار دینا ہے۔
۳:۔۔۔ لوگوں کی یہ مصلحت اندیشی کہ مسلمانوں کی تعداد میں اِضافہ ہونا چاہئے، اس لئے ہم ان کو اِسلام سے خارج نہیں قرار دینا چاہتے، سخت دھوکا ہے، یہ مسلمان کی تعداد میں اِضافہ نہیں، غیرمسلمان کو اِسلام کی تعداد میں داخل کرنا ہے، اور مسلمانوں کو ان کے میل جول سے غیرمسلم بنانے کی سبیل کرنا ہے، جو خود مسلمانوں کی تعداد میں روزبروز کمی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
۴:۔۔۔ یہ عذرِلنگ بھی غلط ہے کہ مسلمانوں میں تفریق پیدا ہوتی ہے، یہ ایسا عذر ہے جیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کی تشریف آوری کے وقت کفار نے پیش کیا تھا کہ تفریق پیدا ہوجائے گی کہ کچھ مسلمان ہوں گے، کچھ نہیں۔ تو جس طرح وہاں حق کے اِتباع کے لئے ان سے الگ ہونا ضروری تھا، یہاں بھی حق کے اِتباع کے لئے اپنے رسول اور دِین کی توہین سے بچنے کے لئے اپنے کو ان سے الگ اور ان کو اپنے سے الگ الگ کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو آپ نے خود تمام اسلام کی جڑوں پر کلہاڑی چلادی اور اس غلط طریقے کو اِسلام قرار دے کر اِسلام کو تباہ کردیا ہے۔ یہ امر ایک اسلام دُشمنی ہے، گو شیطان نے بہکاکر اِسلام دوستی کا عنوان رکھا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو مسلمان نام کے غیرمسلموں، بلکہ دُشمنانِ اسلام سے محفوظ رکھیں، و اللہ ولی التوفیق!
جمیل احمد تھانوی
مفتی جامعہ اشرفیہ، نیلاگنبد، لاہور
۱۶؍صفر ۱۳۸۳ھ
الجواب وھو الموفق للصواب!
۱:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں جبکہ اس قادیانی لڑکے سے دریافت کیا گیا اور اسے مسلمان ہونے کی مبارک باد دِی گئی تو اس نے صاف لفظوں میں اِنکار کردیا کہ میں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا تو اس صورت میں یہ نکاح نہیں ہوا۔ کیونکہ قادیانی مرزائی مرتد ہے اور
436
مرتد کا نکاح تو کسی مرتدہ عورت سے ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان عورت سے! شریعتِ اسلامیہ نے مرتد کا کوئی دِین تسلیم نہیں کیا (ردالمحتار ج:۳ ص:۳۳۲، کتاب المرتدین)۔ اور جو لوگ نکاح میں شریک ہوئے، اگر انہوں نے پیرصاحب کے کہنے پر سمجھ لیا کہ اس لڑکے نے توبہ کرلی ہے اور اپنا مذہب چھوڑ دیا ہے، اس صورت میں تو وہ گنہگار نہیں۔ اور وہ جانتے تھے کہ اس نے اپنے مذہب سے توبہ نہیں کی اور وہ مرزائی ہے، یہ بات سمجھتے ہوئے پھر اس کو مسلمان تصوّر کیا، اس صورت میں یہ لوگ کافر ہوگئے، ان پر لازم ہے کہ تجدیدِاِسلام ونکاح کریں اور توبہ کریں۔ اور اگر اس کو کافر مرزائی ہی سمجھتے ہوئے نکاح میں شرکت کی اور دُنیاوی رورعایت کو مدنظر رکھا، اس صورت میں وہ لوگ سخت گنہگار ہیں، ان پر لازم وواجب ہے کہ توبہ واِستغفار کریں۔ اور بااثر صاحب کے لئے بھی یہی حکم ہے، جس کی تینوں صورتیں بیان کردی گئی ہیں، اور ان کے اَحکام بھی بیان کردئیے گئے ہیں۔
۲:۔۔۔ اگر بااثر صاحب نے اپنے لڑکے کی منگنی مرزائیوں کے ہاں کی ہے، اور وہ انہیں مسلمان سمجھتا ہے، اس صورت میں وہ کافر ہوگیا، اس پر تجدیدِ اِسلام ونکاح لازم ہے، کیونکہ کافر کو مسلمان ماننا کفر ہے (درالمختار)۔ اور اگر دُنیاوی لالچ میں پھنس کر کررہا ہے تو سخت گنہگار ومستحقِ عذابِ نار ہے، اس کو توبہ واِستغفار کرنا چاہئے اور اپنے لڑکے کی شادی مرزائیوں کے ہاں کرنے سے باز آنا چاہئے۔ اور اس شادی میں برادری کے اہلِ سنت والجماعت کے لوگوں کو ہرگزش شریک نہیں ہونا چاہئے، اور پھر اگر یہ لوگ شریک ہوں تو اگر مرزائیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں تو اس صورت میں وہ کافر ہوگئے، ان پر تجدیدِ اِسلام ونکاح لازم ہے۔ اور اگر انہیں کافر ہی سمجھتے ہیں، پھر لالچ اور رورعایت کی وجہ سے شامل ہوں گے تو سخت عذابِ اُخروی کے مستحق ہوں گے۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘‘ (ہود:۱۱۳) ، ’’جن لوگوں نے گناہ کئے ہیں ان سے میل جول مت رکھو!‘‘ لہٰذا ایسے شخص اگر پہلی صورت میں تجدیدِاِسلام ونکاح، اور دُوسری صورت میں توبہ واِستغفار نہ کریں تو مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے کی صورت میں ان سے سلام، کلام، رِشتہ ناطہ بالکل قطع کردینا چاہئے، اور اگر اعلانیہ توبہ کئے بغیر مرجائیں تو ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے، اور نہ ہی ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ اور جو لوگ مرزائیوں کو مسلمان تو نہیں سمجھتے تھے، پھر وہ شادی میں شرکت کریں اور اس کے بعد وہ توبہ واِستغفار نہ کریں، ان سے بھی سلام وکلام اور رِشتے ناطے بند کئے جائیں، حتیٰ کہ توبہ واِستغفار کریں۔
۳:۔۔۔ سابق اِمامِ مسجد کا یہ کہنا کہ: ’’مرزائیوں کو میں کافر نہیں سمجھتا‘‘ اس کا یہ قول بھی کفر ہے۔ مکہ ومدینہ ۔۔۔زاد اللّٰہ شرفاً وتعظیماً۔۔۔ کے علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ کتاب حسام الحرمین میں ہے کہ جو شخص مرزاقادیانی کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، یعنی اس کے کفر پر مطلع ہونے کے بعد من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر! اور اس مبلغ قادیانی کے لڑکے کی شادی میں مولوی سابق اِمام مسجد کا اپنے سارے خاندان کو شامل کرانا، کافروں سے موالات (دوستی) کرنے کی زبردست دلیل ہے۔ اور نیز اپنی حقیقی بھانجی کا رِشتہ قادیانی مرزائی سے، اور قادیانی مرزائی کی سگی بھانجی کا رِشتہ اپنے حقیقی بھائی سے کرنا چاہتا ہے، اس کا یہ اِرادہ بالکل شریعتِ مطہرہ کے خلاف ہے، لہٰذا یہ مولوی سابق اِمام صاحب مسلمانوں کی نمازِ پنج گانہ اور نمازِجنازہ کا اِمام نہیں بن سکتا، کیونکہ کافر وفاسق ہے، اور اس کو مسلمانوں کی نکاح خوانی کے لئے بھی نہ بلایا جائے، مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں (ملخص ملفوظات اعلیٰ حضرت، حصہ اوّل ص:۴۴)۔
437
۴:۔۔۔ مرزائی، قادیانی ہو یا لاہوری ہر دو کافر ہیں، کیونکہ قادیانی تو اس (مرزاقادیانی) کو نبی مانتے ہیں، اور لاہوری مرزائی اس کو مجدّد اور مسلمان مانتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے دعویٔ نبوّت اور دیگر عقائد کفریہ کی وجہ سے کافر ومرتد ہے، اور جو شخص اس کے عقائد پر مطلع ہوکر اس کو نبی یا مجدّد اور مسلمان مانے، وہ شخص بھی کافر ہے۔ لہٰذا لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں، لہٰذا ان سے بیاہ شادی کرنا اور ان کی نمازِ جنازہ اور دُعا میں شریک ہونا اَزرُوئے شریعتِ مطہرہ ہرگز جائز نہیں۔ نبی علیہ السلام نے بدعقیدہ لوگوں کے حق میں فرمایا:’’ولَا تصلوا معھم الا ولَا تصلوا علیھم!‘‘ (اور ان کے ساتھ مل کر نماز مت پرھو، اور ان پر نمازِجنازہ مت پڑھو!)۔ اور مرزائی کی میّت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کی جائے، اور جو لوگ شریعتِ مطہرہ کی خلاف ورزی کرکے ان کے نکاح اور جنازے میں اگر ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوں تو اس صورت میں شرکت کرنے والے کافر ہوگئے اور ان کے نکاح ٹوٹ گئے، ان کو تجدیدِ اِسلام ونکاح کرنا چاہئے۔ اور اگر ان کو کافر ہی جانتے ہوئے ان معاملات میں ان کی شرکت کریں، اس صورت میں وہ سخت گنہگار ہیں، ان سے بھی سلام وکلام بند کیا جائے۔ مرزائی خواہ قادیانی ہو یا لاہوری، ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے، کیونکہ مرتد کا ذبح کردہ جانور مردار ہے۔
احقرالعباد مولوی محمد رمضان
نائب مفتی وفاضل دارالعلوم حزب الاحناف لاہور
مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۶۳ء
ذالک کذالک، وانی مصدق لذالک!
فقیر قادری ابوالبرکات سیّداحمد غفر لہٗ
ناظم ومفتی دارالعلوم مرکزی انجمن حزب الاحناف لاہور
الجواب ھو الجواب۔
فقیر قادری محمد اعجازالرضوی عفی عنہ
مہتمم مرکزی دارالعلوم جامعہ گنج بخش لاہور
الجواب وھو الموفق للصواب! مرزائی لوگ چونکہ قطعاً مرتد اور خارج اَزاِسلام ہیں، اس لئے ان سے نکاح وغیرہ کرنا، ان سے میل جو، سلام وکلام، رشتہ داری کے تعلقات رکھنا حرام قطعی ہے، جو شخص دانستہ ان سے یہ تعلقات نکاح وغیرہ قائم کرے گا، وہ بھی اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ بندہ کو جواب مذکورہ سے لفظ بہ لفظ اِتفاق ہے، واللّٰہ اعلم!
حررہ العبد الضعیف محمد سعید احمد عفی عنہ
مفتی جامعہ نعمانیہ ٹکسالی گیٹ لاہور، پاکستان
۹؍جولائی ۱۹۶۳ء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ! علمائے کرام کے جوابات بالکل صحیح اور دُرست ہیں، مرزائیوں کو کافر نہ سمجھنا بھی کفر ہے۔
حافظ عبدالقادر روپڑی
جامع مسجد قدس، لاہور، ۱۰؍ستمبر ۱۹۶۳ء
مرزائی، قادیانی ہوں یا لاہوری، ان کو مسلمان سمجھنے والے سب کافر ہیں۔ ان سے رِشتہ ناطہ کرنے والے سب انہی کے حکم میں ہیں۔ قرآن میں ہے: ’’اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ‘‘ (النساء:۱۴۰)۔
عبداللّٰہ امرتسری روپڑی
438
مذہب شیعہ اثناعشری کی رُو سے نکاحِ طرفین میں اسلام شرط ہے، ختمِ نبوّت کا منکر مسلمان نہیں، غیرمشروع عقد کا ممد وموجد عادل نہیں رہ سکتا، اور اِمام جماعت میں مذہب شیعہ اثناعشری کی رُو سے عدالت شرط ہے، غیرمسلم سے میل جول جس سے مسلمانوں کے اسلام میں ضعف واقع ہو، شرعاً جائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اخترعباس اللّٰہ
| محمد علی رضوان |
مدرّس جامع منتظر، لاہور |
| مدرّس مدرسہ اِمامیہ دارالتجوید پاکستان |
|
✨ ☪ ✨
439
علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ
قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں
اراکین مسجد ووکنگ انگلینڈ
440
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مسجد ووکنگ کی مختصر تاریخ
یہ مسجد تقریباً ۱۸۸۶ء میں بیگم شاہجہاں والیٔ بھوپال ریاست کے زَرِکثیر عطیے سے ایک انگریز ڈاکٹر لائٹز ریٹائرڈ پرنسپل اورینٹل کالج لاہور نے بنوائی تھی، اور اس کے ساتھ رہائشی مکانات بھی تعمیر کرادئیے گئے تھے۔ مگر بدقسمتی سے ۱۹۱۲ء میں مرزا کمال الدین لاہوری مرزائی نے چند دُوسرے مرزائیوں کی ہمراہی میں اس مسجد پر غاصبانہ قبضہ کرلیا اور جو اِمام اہلِ سنت والجماعت کا یہاں تعینات تھا، اس کو زبردستی نکال باہر کیا۔ پولیس وغیرہ آئی مگر دادرسی نہ ہوسکی، کیونکہ انگریز کے ہی تو یہ پروردہ تھے۔ ہندوپاک کی آزادی کے بعد مسجد ھٰذا کا اِنتظام واِنصرام سفارت خانہ پاکستان کے تحت چلاگیا، مگر عملی طور پر مرزائی اس پر قابض رہے اور اپنے باطل فرقے کی نشرواِشاعت اور تبلیغ کرتے رہے، اور ان کی طرف سے ہی یہاں اِمام متعین رہا، اور طرّہ یہ کہ اچھی خاصی رقم پاکستان سے زَرِمبادلہ کی شکل میں حاصل کرکے اس کے مصرف میں لائی جاتی رہی۔
۱۹۶۴ء میں جب مسلمانوں کی تعداد اس شہر میں بڑھنی شروع ہوئی تو اس وقت کے مرزائی اِمام محمد طفیل نے عجیب وغریب ہتھکنڈے مسلمانوں کو اس شہر سے بھگانے کے لئے اِستعمال کئے، سرکاری دفاتر میں رپورٹیں کیں کہ یہ گندے رہتے ہیں، ایک مکان میں زیادہ تعداد میں رہائش پذیر ہیں، اس طرح محکمہ حفظانِ صحت کے چھاپے پڑے، مگر یہ ملعون کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کے بعد دُوسرا اِمام بشیراحمد مصری کو مرزائیوں نے اس منصب پر مأمور کیا۔ ادھر علمائے حق مثلاً حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب مرحوم اور علامہ خالدمحمود صاحب جیسے علمائے حق اہل السنت والجماعت بھی میدانِ عمل میں اُترے اور اس فرقۂ باطلہ کی خوب خبر لی اور مسلمانوں میں مسئلۂ ختمِ نبوّت کی تڑپ پیدا کی اور توجہ دِلائی کہ یہ مسجد درحقیقت صحیح العقیدہ مسلمانوں کی میراث ہے، اور مرزائیوں نے اس پر اپنی جعل سازی اور سازشوں کی وجہ سے قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ تحریک آخر ایک دن رنگ لائی اور مسجدِ ھٰذا مسلمانوں کے قبضے میں آگئی۔ مگر کرنا یہ ہوا کہ اِمام کو مسلمانوں نے اِمامت کے فرائض پر مأمور کیا، لیکن پھر مسجد سفارت خانہ پاکستان کی مداخلت سے عجیب وغریب کیفیات کا شکار ہوگئی، اور سفارت خانے کی طرف ایک کلرک بنام خواجہ قمرالدین صاحب جس کا تعلق حیدرآباددکن (انڈیا) سے ہے، بطور اِمام مقرّر کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ عارضی اِمام ہے، بعد میں ایک مستند عالمِ دِین کی تقرّری عمل میں لائی جائے گی، جو کہ آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکی۔ یہ اِمام اِنتہائی درجے کا نااہل، فرقہ باز اور مسجد کی لائبریری کو اس نے جماعتِ اسلامی یعنی مودودی جماعت کی نشرواِشاعت کا اَڈّہ بنا رکھا۔ مسجد کا دیگر اِنتظام واِنصرام اِنتہائی ناگفتہ بہ ہے، سڑک اپنی زبوںحالی کا رونا رو رہی ہے، بچوں کی دِینی
441
تعلیم وتدریس کا اِنتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیز اس اِمام کا میل جول لاہوری مرزائیوں کے ساتھ ہے، اور اس نے چند دِن ہوئے ایک نئی مذموم حرکت کا اِرتکاب کیا ہے جو اِنتہائی دِلخراش اور مسلمانوں کے لئے یقینا ناقابلِ برداشت ہے۔
اس کے متعلق حضراتِ علمائے کرام ومفتیانِ شرعِ متین کی طرف رُجوع کیا گیا اور ان کی خدمت میں ایک اِستفتاء پیش کرتے ہوئے شرعی فتوے کی اِستدعا کی گئی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس واقعے کو سن کر مسلمانانِ عالم اِضطراب محسوس فرمائیں گے، اور شاید یہ واقعہ ان کے دِلوں پر نمک پاشی کا کام کرے، لیکن چونکہ ہم ممبران واراکین مسجد ووکنگ اپنے مسلمان بھائیوں کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کرنا اپنی مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، لہٰذا ان چند سطور کو مع فتاویٰ شائع کرنے پر مجبور ہیں، تاکہ مسلمان کم از کم اپنی نمازیں تو نہ خراب کریں، وما علینا إلَّا البلاغ، وما توفیقی إلّا باﷲ!
اراکین مسجد ووکنگ، انگلینڈ
۸؍۹؍۱۹۷۳ء
اِستفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین بیچ اس مسئلے کہ کل مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۳ء بوقت ساڑھے چاربجے دن سابق اِمام ووکنگ مسجد: محمدطفیل متعلقہ مرزائی فرقہ لاہوری کی ساس کا جنازہ مسجدِ ھٰذا میں لایا گیا، اور یہاں کے سرکاری اِمام نے محمدطفیل کی اِقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی، جبکہ چند معزّزین نے اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمرالدین سرکاری اِمام ووکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لئے جنازے میں شرکت کی ہے، کیونکہ مرزا محمدطفیل بسااوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، اور دُوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدّد تسلیم کرتے ہیں اور ہم کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرماکر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتوے سے کماحقہ‘ مطلع فرمائیں۔
عینی شاہدوں کے دستخط مندرجہ ذیل ہیں:
| صابر حسین |
محمد شریف |
عبدالرحمن |
ملک احمد خان |
حضرت مولانا قاضی مظہرحسین
فاضلِ دیوبند، امیر خدام اہل السنت والجماعت
خلیفہ مجاز حضرت سیّد حسین احمد مدنی صاحبؒ کا جواب
کتابُ اللّٰہ، احادیث رسول اللّٰہ ۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔ اور تعامل خلفائے راشدین: حضرت ابوبکر صدیق،ؓ حضرت عمر فاروق،ؓ حضرت عثمان ذُوالنورینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ اور اَصحابِ رسول اللّٰہ ۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔ کی روشنی میں اُمتِ محمدیہ کے تمام علمائے کرام کا یہ اِجتماعی فیصلہ ہے کہ نبی کریم، رحمۃللعالمین، خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، یعنی حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، اور اگر اس آخری اُمت میں سے کوئی شخص نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کرے تو وہ کافر، مرتد، دجال اور کذّاب ہے۔ اسی بناء پر ملتِ اسلامیہ کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ دعویٔ نبوّت کے خارج اَزاِسلام اور کافر ہے، اور اس کو نبی یا مجدّد ماننے والے بھی قطعی کافر ہیں۔ اور مسئلۂ ختمِ نبوّت اِسلام کا ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ اسلامی
442
جمہوریہ پاکستان کے نئے آئین میں بھی اس کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ صدر اور وزیراعظم پاکستان کے حلف نامے کی عبارت حسبِ ذیل ہے:
’’میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور خدا پر میرا یقین کامل ہے اور اس کی کتاب قرآن پاک پر جو کہ آخری کتاب ہے آخری نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر (جن پر خدا کی رحمت ہو) جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا، قیامت کے دن پر، رسول کی سنت وحدیث پر، قرآن کے اَحکام پر۔‘‘
(آئینِ پاکستان، تیسری شیڈول حلف صدر دفعہ۴۲)
سوال نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ ووکنگ مسجد کا اِمام خواجہ قمرالدین لاہوری مرزائیوں کو اس وجہ سے کافر نہیں کہتا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے، بلکہ مجدّد مانتے ہیں، اور اسی بنا پر ہی اس نے ایک لاہوری مرزائی محمدطفیل کی اِقتدا میں ایک مرزائی عورت کا جنازہ بھی پڑھ لیا ہے۔ لیکن خواجہ قمرالدین مذکور کی یہ تأویل صحیح نہیں، کیونکہ جب شریعت کی رُو سے مدعیٔ نبوّت مرزا غلام احمد قادیانی قطعی کافر ہے، تو جس شخص کو شرعاً کافر ماننا ضروری ہے، اس کو ولی اور مجدّد ماننے کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ کیا کوئی کافر بھی مجدّد ہوسکتا ہے۔۔۔؟ علاوہ ازیں یہ بھی ملحوظ رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں لاہوری پارٹی کا بانی مولوی محمدعلی لاہوری، مرزاقادیانی کو نبی ہی مانتا رہا ہے، اور اس کی تحریرات سے یہی ثابت ہے، مثلاً محمدعلی لاہوری نے لکھا ہے کہ:
’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خداتعالیٰ نے پورا کردِکھایا۔‘‘
(ری ویو آف ریلیجنز ج:۳ نمبر۱۱ ص:۴۱۱)
دراصل قادیانی مرزائیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے مشن کو ہی پھیلانے میں مصروف ہیں، دونوں کی دعوت مرزاقادیانی کی شخصیت کی طرف ہے، ان دونوں پارٹیوں کا مقصد یہی ہے کہ ۔۔۔العیاذباللّٰہ!۔۔۔ ناواقف مسلمان، مرزاقادیانی کے پیروکار بن جائیں۔ خواجہ قمرالدین نے لاہوری مرزائی محمدطفیل کی اِقتدا میں نمازِجنازہ پڑھ کے حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ غداری کی ہے، اب وہ مسلمانوں کی اِمامت کا مستحق نہیں رہا، اس کے پیچھے مسلمانانِ اہل السنت والجماعت کی نماز صحیح نہیں، اس کو اِمام بنانا حرام ہے، ایسے شخص کو فوراً معزول کرکے کسی صحیح العقیدہ سنی عالم کو اِمام بنانا چاہئے۔ لاہوری مرزائی کے پیچھے نمازِجنازہ پڑھنے کے بعد جن مسلمانوں نے غلط فہمی سے اس کی اِقتدا میں نمازیں پڑھیں ہیں، ان پر ان نمازوں کی قضا لازم ہے، اللّٰہ تعالیٰ اہل السنت والجماعت کو ہر فتنے سے محفوظ رکھیں، آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم!
خادم اہل السنت الاحقر مظہرحسین غفرلہٗ
خطیب مدنی جامع مسجد چکوال، امیر تحریک خدام اہل السنت والجماعت
صوبہ پنجاب (پاکستان)
۲۷؍رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ، ۲۵؍اکتوبر ۱۹۷۳ء
443
شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ محمد سرفراز خان صفدر کا جواب
الجواب ھو المصوب! لاہوری مرزائی بھی اسی طرح کافر ہیں، جس طرح قادیانی کافر ہیں، اور ان کے کافر ہونے کی کئی وجوہ ہیں:
۱:۔۔۔ کہنے کو تو یہ گروہ مرزاقادیانی کو مجدّد کہتا اور مانتا ہے، مگر محمدعلی لاہوری نے مرزاقادیانی کو نبی بھی کہا اور تسلیم کیا ہے، اس کے چند حوالے ملاحظہ ہوں:
الف:۔۔۔ ’’ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک اوتار کے ظہور کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا، اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود میں خداتعالیٰ نے پورا کردِکھایا۔‘‘
(ری ویو آف ریلیجنز ج:۳ ش:۱۱ ص:۴۱۱)
ب:۔۔۔ ’’اس آخری زمانے کے لئے تجدیدِ دِین کے واسطے بھی اللّٰہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ عظیم الشان ضلالت کے وقت میں جو اَخیر زمانے میں ظہور میں آنے والی ہے، اپنے ایک نبی کو دُنیا کی اِصلاح کے لئے مأمور کرے گا اور اس کا نام مسیحِ موعود ہوگا، سو ایسا ہی ہوا۔‘‘
(ری ویو آف ریلیجنز ج:۵ نمبر۶ ص:۲۱۴)
ج:۔۔ ’’ہر ایک نبی نے جو خدا کی طرف سے آیا ہے دو باتوں پر زور دِیا ہے، اوّل یہ کہ لوگ خدا پر اِیمان لائیں، اور دُوسرا یہ کہ اس کی نبوّت کو اور اس کے من جانب اللّٰہ ہونے کو تسلیم کریں، بعینہٖ اس قدیم سنتِ اِلٰہی کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت مرزاصاحب کو بھی مبعوث فرمایا۔‘‘
(ری ویو آف ریلیجنز ج:۴ نمبر۱۲ ص:۴۶۵)
ان صاف اور صریح عبارات سے معلوم ہوا کہ لاہوری پارٹی کا سربراہ اور سراسر گمراہ محمدعلی بھی مرزاقادیانی کو ۔۔معاذاللّٰہ تعالیٰ!۔۔ نبی تسلیم کرتا ہے اور ختمِ نبوّت کے ایک بنیادی عقیدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے وہ کافر ہے اور اس پر اُمت کا اِجماع اور اِتفاق ہے۔ مودودی صاحب اور ان کی جماعت کے سامنے یہ صاف اور صریح حوالے پیش کردینے چاہئیں، اگر سمجھنے کے بعد وہ لاہوری مرزائیوں کو کافر نہ کہیں تو وہ بھی پکے کافر ہیں، لا شک فیہ ولا ارتیاب!
۲:۔۔۔ محمدعلی لاہوری، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہے، (تفسیر بیان القرآن ج:۱ ص:۲۲۵، محمدعلی لاہوری)۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات کا اِنکار بالاجماع کفر ہے۔
۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا نصوصِ قطعیہ اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے، مگر محمدعلی لاہوری لکھتا ہے کہ: ’’حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش اِسلامی عقائد میں نہیں، عیسائیت کا اُصول ہے‘‘ (تفسیر بیان القرآن ج: ۱ ص:۲۱۳)۔ اور اسی صفحے پر تصریح کرتا ہے کہ: ’’حضرت مریم علیہاالسلام کے ساتھ یوسف (نجار) کا تعلق زوجیت کا تھا‘‘ اور یہ اس کے کافر ہونے کی ایک مستقل وجہ ہے۔۔۔!
444
۴:۔۔۔ محمدعلی لاہوری دوزخ کے دوام کا قائل نہیں، (ملاحظہ ہو تفسیر بیان القرآن ج:۱ ص:۶۶۸)۔
حالانکہ قرآنِ کریم کی نصوصِ قطعیہ اور اَحادیثِ متواترہ اور اِجماعِ اُمت سے دوزخ کا خلود اور دوام ثابت ہے، اور اس کا اِنکار کرنا کفر ہے۔
۵:۔۔۔ محمدعلی لاہوری، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اسی طرح دُوسرے تمام پیغمبروں کے معجزات کی جو قرآنِ کریم میں صراحت سے مذکور ہیں، تأویل کرتا ہے، جو خالص تحریف ہے، اور نصوصِ قطعیہ کی یہ تأویل بجائے خود کفر ہے۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی وجوہ ہیں، والعاقل تکفیہ الإشارۃ۔۔۔! جب لاہوری مرزائیوں کے یہ نظریات ہیں تو اُمت میں کون بدبخت ان کو مسلمان سمجھے گا۔۔؟ مودویوں کے سامنے یہ حوالے پیش کردئیے جائیں، اگر وہ ان کو سمجھ اور جان کر بھی لاہوری مرزائیوں کی تکفیر نہیں کرتے تو یقینا وہ بھی کافر ہیں۔
جب لاہوری مرزائی کافر ہیں تو ان کا جنازہ کیونکر دُرست ہوسکتا ہے؟ اور ان کے ایسے عقائد پر اِطلاع پانے کے بعد بھی ان کو مسلمان سمجھنے والا اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والا یقینا کافر ہے۔۔۔!
احقر ابوالزاہد محمد سرفراز
خطیب جامع مسجد گکھڑ، صدر مدرّس مدرسہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ
۲۶؍شعبان ۱۳۹۳ھ، ۲۵؍ستمبر ۱۹۷۳ء
حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کا جواب
مبسملًا ومحمدلًا ومصلّیًا ومُسلّمًا! تمام اہلِ حق علمائے پاک وہند کا متفقہ فتویٰ ہے کہ مدعیٔ نبوّت اور اس کو سچا سمجھنے والے خواہ نبی نہ کہیں، سچا قرار دیں، بزرگ، نیک یا مجدّد وغیرہ مانیں، سب کافر ہیں، مرتد ہیں، اور ظاہر ہے کہ نیک بزرگ سمجھنا، سچا کہنا ہے، اور مدعیٔ نبوّت اور تمام انبیاء کی تحقیر کرنے والے سچا قرار دینا، خود نبوّت وتوہینِ انبیاء کو سچا قرار دینا کفر ہے۔ اب ان لوگوں کے عقیدے اور نظریات ایسے نہیں رہے کہ کسی سے چھپے ہوئے ہوں، یا کسی کو شبہ بھی ہوسکے، ان سے مسلمانوں کا سا کوئی معاملہ دُرست نہیں، ان سے میل جول بھی کفر پھیلانے کی مدد ہوکر گناہ ہے۔
اسلام کے بعد مرتد ہونے والا کفرِعظیم کے ساتھ توہینِ اسلام کا بھی علی الاعلان مرتکب ہوتا ہے، اس لئے اس کا درجہ دُوسرے اصلی کافروں سے بھی بدتر ہے، نہ ان کا ذبح کیا ہوا حلال، نہ ان کے کسی مردعورت کا نکاح ان سے دُرست، نہ کسی مسلمان سے میراث کا حق، نہ جنازے میں شرکت جائز۔ منافق لوگ بھی مسلمانوں کی سی باتیں کیا کرتے تھے، مگر اللّٰہ نے ان کو کافر ہی قرار دِیا ہے، اس لئے تأویلیں کرنے والے خود غلطی پر ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُونَ‘‘ (التوبۃ۸۴) ’’اور مت نماز پڑھو تم ان میں کسی پر جو مرجائے کبھی بھی، اور نہ کھڑے رہو اس کی قبر پر، بے شک ان لوگوں نے اللّٰہ ورسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اِطاعتِ خدا سے نکلتے ہوئے مرے ہیں۔‘‘
ایسے صاف حکم کے بعد یہ تأویل کہ: ’’وہ میرے پیچھے نماز پڑھ لیتا تھا‘‘ بالکل غلط ہے، منافقین بھی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم
445
کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اور دھوکا دینے کے لئے بہت سی اِسلامی باتیں بگھارلیتے تھے، تو کیا وہ مسلمان شمار ہوسکتے ہیں ۔۔۔الخ۔
جمیل احمد تھانوی
مفتی جامعہ اشرفیہ، مسلم ٹاؤن لاہور
۲۶؍شعبان ۱۳۹۳ھ
حضرت مولانا حافظ محمد اِلیاس، جامع مسجد ٹپولیاں کا جواب
بلاشک وشبہ مدعیٔ نبوّت کو مجدّد یا مسلمان سمجھنے والا کافر ومرتد ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ مسلمانوں کاسا سلوک روا رکھنا کسی صورت جائز نہیں ہے۔ جو اِمامِ مسجد، لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا، اس کے پیچھے ہرگز نماز دُرست نہیں ہے، اس کو منصبِ اِمامت سے الگ کرنا ضروری ہے۔ ھٰذا ما عندی و اللہ اعلم بالصواب!
احقر خادم اہل سنت محمد اِلیاس غفرلہٗ
مدرسہ رشیدیہ چوک لوہاری منڈی لاہور
۵؍رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ
حضرت مولانا محمد حسین نعیمی، دارالعلوم نعیمیہ لاہور کا جواب
الجواب ھو الموقف للصواب! مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، جو اس کی ۱۹۰۱ء سے لے کر ۱۹۰۸ء تک کی تصانیف سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے، اپنے آپ کو کئی انبیاء سے افضل قرار دِیا، قرآنِ کریم کی تحریفِ معنوی کی، یہ تمام اُمور کھلے کھلے کفر ہیں۔ ایسے شخص کو مسلمان ماننا بھی کفر ہے، چہ جائیکہ اس کو مجدّد یا محدث مانا جائے۔ اس لئے تمام اہلِ اسلام کے نزدیک مرزاقادیانی کے تمام متبعین کافر ہیں، خواہ لاہوری ہوں یا غیرلاہوری، اور مرزاقادیانی کے متبعین کی تکفیر نہ کرنا بھی کفر ہے، اس لئے صورتِ مسئولہ میں اِمامِ مذکور کو، جب تک مرزاقادیانی اور اس کے تمام متبعین کا کفر تسلیم نہ کرے، اس وقت تک وہ خود کفر سے باہر نہیں ہے، نہ اس کا اِیمان صحیح رہا، نہ نکاح، نہ اس کی اِقتدا میں نمازیں صحیح ہوں گی، تاوقتیکہ وہ اس عقیدۂ کفریہ سے براء ت کا اِظہار کرے، الجواب ھو الموفق للصواب!
محمد حسین نعیمی
| غلام رسول سعیدی |
جامعہ نعیمیہ لاہور |
| مدرّس جامعہ نعیمیہ لاہور |
۲۴؍ستمبر ۱۹۷۳ء مطابق ۲۵؍رشعبان ۱۳۹۳ھ |
الجواب صحیح۔
محمد عبدالقادر آزاد
آزاد خطیب شاہی جامع مسجد لاہور
حضرت مولانا سمیع الحق صاحب، مدرّس دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک پشاور
محترم المقام زیدمجدکم! السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ وبرکاتہ، جواباً عرض ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ اپنے دعاویٔ باطلہ کے قرآن وسنت کی نصوصِ قطعیہ اور اِجماعِ اُمت کے بموجب قطعی کافر ہے اور مرتد ہے، اور انہی وجوہات کی وجہ سے مرزا غلام احمد
446
قادیانی کے ایسے معتقدات کو اَپنانے والے، یا اس کا اِتباع کرنے والے، یا اس کی تصدیق وتائید، یا تأویل کرنے والے بھی قطعی کافر، مرتد اور خارج اَزاِسلام ہیں۔
متنبیٔ کذّاب قادیانی کے مرنے کے بعد اس کے متبعین کی ایک جماعت نے ۔۔۔جو لاہوری جماعت کہلاتی ہے۔۔۔ مرزاقادیانی کے واضح اور قطعی دعاوی (نبوّتِ تشریعی وغیرتشریعی، بلکہ سارے انبیائے کرام بشمول حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت، انبیاء کی توہین وغیرہ) کے باوجود، اس کی تکفیر کرنے کے بجائے، جو ہر مسلمان کا لازمی عقیدہ ہونا چاہئے، اسے مصلح، مجدّد اور مسیحِ موعود کہنا شروع کردیا۔ نفاق، فریب اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کی یہ رَوِش جان بوجھ کر اِختیار کی گئی اور اسی بنا پر مرزاقادیانی کے کفریات اور خرافات پر مبنی دعوؤں کی تأویل وتوجیہ شروع کی، مگر برِصغیر کے محقق علماء خصوصاً علامہ انورشاہ کشمیریؒ اور دیگر حضرات نے اس فریب ونفاق کا پردہ قطعی دلائل سے چاک کیا، اور لاہوریوں کی تکفیر میں ’’إکفار الملحدین فی ضروریات الدین‘‘ نام سے مستقل کتاب لکھی، جس میں واضح کیا کہ قطعی یقینی اور متواتر معتقدات اور ضروریاتِ دِین میں تأویل وتحریف اور اِنکار گریز، قطعی کفر ہے، گو ایسا کرنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہے اور مسلمانوں کی ساری عبادات نماز وغیرہ میں شرکت کیوں نہ کرے۔
الغرض مسلمانوں کے لئے مرزائیوں کا لاہوری فرقہ، دُوسرے فرقے قادیانی جماعت سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے کہ عام مسلمان انہیں نمازوں وغیرہ میں شرکت کرتے دیکھ کر ان کے دامِ فریب میں آجاتے ہیں۔ الحاصل لاہوری مرزائی بھی قطعی کافر ہیں، لاہوری مرزائی کا کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اور اَب تو قادیانی فرقہ (جماعتِ ربوہ) نے بھی مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینے کی خاطر اپنے متبعین کو مسلمانوں کے ساتھ نماز وغیرہ پڑھنے کی اِجازت اَزراہِ تقیہ دے دی ہے، کیا اس طرح نماز پڑھنے سے وہ بھی مسلمان کہلاسکیں گے۔۔۔؟
لاہوری مرزائی اِمام کی اِقتدا میں مذکورہ شخص نے اگر غلط فہمی اور لاعلمی کی وجہ سے نماز پڑھی تو اسے نادم اور تائب ہوکر اپنے موقف سے رُجوع کرنا چاہئے، اور اگر اَب بھی وہ لاہوری مرزائیوں کے بارے میں اپنی سابقہ رائے پر قائم اور مصر ہے تو ایسے شخص کو منصبِ اِمامت سے ہٹانا اور معزول کرانا ضروری ہے، واللّٰہ اعلم!
سمیع الحق
مدرّس دارالعلوم حقانیہ، مدیر ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک،
ضلع پشاور (پاکستان)
۱۱؍رمضان المبارک ۱۳۹۳ھ
(فتویٰ نمبر:۴۶۸۴ھ)
✨ ☪ ✨
447
القادیانیۃ
فی نظر علماء الاُمَّۃ الإسلامیۃ
وفتویٰ علماء الحرمین الشریفین وغیرھم من
علماء الاُمَّۃ الإسلامیۃ بکفر الفرقۃ الضالۃ
المسماۃ بـ’’القادیانیۃ‘‘
از علمائے حرمین وشام
448
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب من رئیس الإشراف الدینی بالمسجد الحرام
والجواب من علماء الحرمین الشریفین وتوقیعاتھم
والجواب من علماء دمشق ودیار الشام المحروسۃ
تمھید الإستفتاء
الحمد اللہ الذی انزل القرآن الکریم خاتم الکتب السماویۃ، وجعل دین سیدنا محمد خاتم الأدیَان الإلٰھیۃ، کل ذالک بالآیات القرآنیۃ والأحادیث النبویۃ، ثم بإجماع الاُمَّۃ المحمدیۃ، فختم الکتب (السماویۃ) بالقرآن الکریم، وختم النّبوّۃ والرسالۃ بسیدنا محمد الرسول العظیم، فأشھد ان لا إلٰہ إلَّا اللہ وحدہ، وأشھد ان سیّدنا محمدًا عبدہ ورسولہ من لا نبی بعدہ، صلی اللہ علیہ وعلٰی آلہٖ وصحبہ وبارک وسلم إلٰی یوم الدین۔
امام بعد! فإن من اعظم الفتن فی آخری ھٰذہ العھود الإسلامیۃ الفتنۃ القادیانیۃ المرزائیۃ التی قام بھا رئیس اھل الضلال المیرزا غلام احمد القادیانی الھندی، فادعی دعاوی من المجددیۃ والمھدویۃ والمسیحیۃ حتّٰی انتھی إلٰی دعوی النبوۃ وفضل نفسہ علٰی سائر الأنبیاء، وفضل معجزاتہ علٰی معجزات سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وأھان سیّدنا المسیح علیہ السلام، بما تنشق منہ الأکباد والقلوب ۔۔۔۔۔۔واعلن بنسخ الجھاد مع الکفار وحج البیت الحرام۔۔۔۔۔۔ وحرف عدۃ من آیات التنزیل العزیز واولھا بوجودہ ۔۔۔۔۔۔
واثنیٰ ثناء بدیعًا علی الحکومۃ البریطانیۃ وجلعھا ظل اللہ فی الأرض واتبع البابیۃ والبھائیۃ فی تحریف آیات القرآن وادعاء نزول الوحی ونزول الملک علیہ وکانت الحکومۃ البریطانیۃ قد تعھدت ھٰذہ الحرکۃ بالحمایۃ والرعایۃ والتأیید حتّٰی تحقق للجمیع ان غلام احمد القادیانی وحرکتہ انما ھی تحرر بریطانی وولید سیاستھا الفاجرۃ الکافرۃ تلبیسًا علی المسلمین۔
فقام علماء الإسلام فی بلاد الھند للقضاء علیہ وابداء کفر ھٰذا المدعی المتنبیء الکاذب القادیانی، وکشفوا دور بریطانیۃ فی اتخاذ وسیلۃ للقضاء علٰی دین الإسلام وإدخال ھٰذہ الأکاذیب الفاجرۃ فی صمیم قلبھا
449
واخذوا یردون علیھا منذ ستین عامًا واکثر فی مؤَلفات ورسائل ومجلات وصحف ومحافل ۔۔۔۔۔۔۔ وصرحوا بأن أتباع ھٰذا المتنبیء مرتدون عن دین الإسلام وان حکم الإسلام فیھم القتل ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یختلف من علماء الإسلام فی بلاد الھند وباکستان والأفغان عن الحکم بکفرہ وارتدادہ وبکفر کل من اعتنق مذھبہ۔
والحکومۃ البریطانیۃ لھا تدابیر دقیقۃ فی ترسیخ ھٰذہ الفتنۃ وتأییدھا وإدخالھا إلی البلاد العربیۃ والإسلامیۃ بشتی الوسائل بأسماء المھندسین والأطباء والمستخدمین وانہ لمن الثابت ان القادیانیین انما ھم جواسیس وعمالًا لبریطانیۃ وإسرائیل وقد سمحت لھم إسرائیل تقدیرًا لخدماتھم تحقیقًا لأھدافھا الخبیثۃ فی تشوہ معالم الإسلام، سمحت لھم بفتح مرکز ضخم فی الأراضی العربیۃ المحتلۃ وسھلت امامھم کل الأمور لمزاولۃ نشاطھم الھدام ضد القضیۃ الإسلامیۃ ۔۔۔۔۔۔۔
فکان من اللازم فی مثل ھٰذہ الظروف ان ینتبہ زعماء المسلمین وملوک العرب وعلماء البلاد العربیۃ ان ینتبھوا لعواقب ھٰذہ الفرقۃ الضالۃ المرتدۃ وما لھا صلۃ بعدو الإسلام والمسلمین طاغیۃ بریطانیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فبدأنا بأخذ فتاویٰ علماء الحرمین الشریفین وعلماء البلاد العربیۃ، لکی نظھر أنّ کفر ھٰذہ الفئۃ المارقۃ عن دین الإسلام کلمۃ إتفاق وإجماع فی الاُمّۃ المحمدیۃ والملّۃ الإسلامیۃ لم یتخلف احد ممن وقف علٰی عقائدہ ۔۔۔۔۔۔ فقد حان لنا ان نقدم الإستفتائات عن علماء الحرمین الشریفین وغیرھم واجوبتھم وفتاواھم فی ذالک، لکی یتم حجۃ اللہ رب العالمین علی الأغمار والغافلین، و اللہ سبحانہ ھو الموفق لکل خیر وسعادۃ وھو مولی بأمرہ، علیہ توکلنا وإلیہ تسیب ولا حول ولا قوۃ إلَّا با اللہ العلی العظیم۔
’’مجلس تحفظ ختم النبوۃ فی ملتان، باکستان‘‘
✨ ☪ ✨
450
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فتوی الشیخ عبد اللہ بن حمید
الرئیس العلام للإشراف الدینی بالمسجد الحرام المکۃ المکرمۃ
الحمد اللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علٰی اشرف المرسلین وخاتم النبیین سیّدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ اجمعین والتابعین إلٰی یوم الدین۔
اما بعد! فیا علماء الاُمّۃ المحمدیۃ افذاذ الاُمّۃ الإسلامیۃ خصوصًا منکم اعلام البلاد العربیۃ، وبالأخص علماء الحرمین الشریفین والمملکۃ العربیۃ السعودیۃ: ما حکم الإسلام والشریعۃ الإسلامیۃ فی رجل ظھر فی بلاد الھند فی بقعۃ تسمّٰی قادیان وھی فی بلاد مقاطعۃ البنجاب الھندیۃ الیوم، ادعی اوّلًا انہ المھدی، ثم انہ مثیل المسیح الموعود، ثم ادعی النبوۃ الغیر التشریعیۃ، ثم ادعی انہ یوحیٰ إلیہ بالأمر والنھی، وان وحیہ کوحی سائر الأنبیاء معصوم من الخطأ والغلط، وأن من أنکر وحیہ فھو ملعون، ومن أنکر من إتباعہ وإقتدائہ فھو جھنمیٌّ، وان بیعی کسفینۃ نوح (أی من رکبھا نجا)، وادعی ان الجھاد مع الکفار منسوخ، وتأوّل فی خاتم النبیین تأویلات تجحد الفکر الصحیح والعلم الصحیح، کل ذالک فی ظل الحکومۃ البریطانیۃ وفی حمایتھا، وأعلن فی کتبہ ان بریطانیۃ ظل اللہ فی العالم، وان طاعتھا مفترضۃ، وأعلن ان کل من لا یؤْمن بنبوّتہ فھو کافر ومن ذریۃ البغایا، ولا ینکح احد من أتباعہ بنتہ، نعم ینکح منھم کأھل الکتاب، یجوز بالکتابیۃ نکاح المسلم۔ ثم ادعی ان المسیح ابن مریم قُتِل وصُلِب ولٰکنہ لم یمت بالصلب وبقی حیًّا وفرّ إلٰی کشمیر وھناک مات ودفن، وجاء فی حق سیّدنا المسیح ابن مریم بطامات تشق الأکباد من إھانۃ ولعن وانہ ابن یوسف النجَّار وما إلٰی ذالک من کفریات وھذیانات، وانہ قد اوحی إلیہ: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ أشدآء علی الکفار رحماء بینھم‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ھٰذا فی حقی وقد سمانی اللہ محمّدًا فی ھٰذا الوحی۔
وقال: ’’ لا یصلی احد من أتباعی الأحمدیۃ صلاۃ خلف غیر الأحمدی لأن ھٰؤُلاء الغیر الأحمدیین لم یؤْمنون بالنبوۃ ای بنبوّتی۔ وقال: ان معجزات محمد صلی اللہ علیہ وسلم بلغت إلٰی ثلاثۃ آلاف معجزۃ، ومعجزاتی بلغت إلٰی ملیون!
451
وقال: انی اخاف الکفر علٰی من یأتی مکۃ والمدینۃ، إلٰی کم تسترضعون ثدیی مکۃ والمدینۃ وقد انجمد اللبن فیھما، فمن لم یأت قادیان یقطع عن الإسلام صلتہ وان من خالفنی کان من خنازیر الفلاۃ والصحراء، وان نسائھم احط من الکلاب والکبات، ویدعی ان اکثر حیاتہ انقضت فی نصرۃ الحکومۃ البریطانیۃ وانہ قد الف فی منع الجھاد واطاعۃ الحکومۃ البریطانیۃ کتبا ورسائل ومجلات وجرائد لو جمعت لملأت خمسین دولابًا ۔۔۔۔۔۔ وقد ارسلت کمیۃ منھا إلٰی بلاد العرب ومصر والشام وبلاد الأفغان وکابل، وقال: إلٰی متیٰ انتم وراء تلک الروایات والخرافات فی حق المھدی والمسیح الذین یسفکان الدماء التی تغری قلوب المسلمین بالجھاد الفت ذالک لتمحو عن قلوب ھٰؤُلاء الحمقاء تلک الآثار۔
وھٰذہ الأفکار والمعتقدات کالنموذج والمثال من جملۃ ما ادعاہ من الأباطیل، وھٰذہ الأقاویل فی کتبہ التالیۃ:
۱-البراھین الأحمدیۃ، ۲-حقیقۃ الوحی، ۳-نزول المسیح، ۴-الأربعین، ۵-ایک غلطی کا إزالۃ، ۶-آئینہ کمالات، ۷-آئینہ صداقت، ۸-انوار خلافت، ۹-ملائکۃ ﷲ، ۱۰-کلمۃ الفصل (ج:۱ رقم:۴، ص:۱۶۹، من تألیف ابنہ بشیر احمد)، ۱۱-مکتوبات احمدیۃ، ۱۲-ضمیمۃ انجام آتھم، وغیرھا من التألیف وسمی أتباعہ ’’الأحمدیۃ‘‘ حیث ان إسمہ کان المرزا غلام احمد، والمسلمون یسمونھم: المرزائیۃ أو القادیانیۃ ۔۔۔۔۔۔ ثم بعد موتہ اذنابہ افترقت فرقتین، فرقۃ تسمّٰی بالقادیانیۃ او المرزائیۃ، یعتقدون انہ نبی۔ وفرقۃ اخریٰ تسمّٰی باللاھوریۃ تدعی انہ مجدّدٌ ولٰکن مع ھٰذا یعتقدون انہ افضل من سائر الأنبیاء غیر سیّدنا الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، فمع کونہ مجدّدًا یزعمونہ افضل من کل نبی ورسول غیر رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم۔
فیا علماء الإسلام! ماذا حکم ھٰذا المدعی وحکم أتباعہ فی الإسلام؟ وقد اشتد الخطر الیوم فی بلاد المسلمین وخصوصًا فی بلاد إفریقیا الشرقیۃ والغربیۃ للإعتناق بھٰذا المذھب حیث یصرف وراء ابلاغ ھٰذہ الدعوۃ فی النشأۃ الجدیدۃ وفی حیل الجدید فی تلک البلاد ملاینین الجنیھات والدولارات وان سیطرتھا فی البلاد اعادۃ لمجد بریطانیۃ الزائل ومکر عظیم للإسلام والمسلمین وتفصیل ذالک یطول۔۔۔!
فأفتونا مأجورین و اللہ سبحانہ وتعالٰی یجزل لکم الأجر بصیانۃ سیاج الإسلام ویبقیکم ذخرًا للمسلمین۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
المستفتی: احد علماء مجلس تحفظ ختم النبوّۃ فی باکستان
(1)
فتویٰ علمائے حرم
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وبعد: القادیانیۃ فرقۃ ضالۃ لھم مذھب خبیث ومعتقد فاسد،
452
خرجوا بہ عن دائرۃ المسلمین وھَدْیُ سیّد المرسلین بإعترافھم الصریح بأن لیس ھناک من شیء یجمع بینھم وبین المسلمین، فربّھم کما زعموا غیر ربّ المسلمین، وإسلامُھم غیر إسلامِھم، وقرآنُھم غیر قرآنِھم، وصلاتُھم غیر صلاتِھم، وصومُھم غیر صومِھم، قاتلھم اللہ أنّٰی یؤْفکون! فغلبت علیھم الشقاوۃ والجھل والتعصب والخذلان إلٰی ھٰذا لقولہ الشنعاء والإعتقاد الفاسد، ومعلوم انہ لیس لأحد ان یضع للناس عقیدۃ ولا عبادۃ من عندہ بل علیہ ان یتبع ولا یبتدع، ویقتدی ولا یبتدی، فإن اللہ سبحانہ وتعالٰی بعث محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم بالھُدیٰ ودین الحق، فعلّم العباد جمیع ما یحتاجون إلیہ فی دینھم من العبادات والإعتقادات فأقام الحُجّۃ وأنار السبیل، وقال: ترکتکم علی الحُجّۃ البیضاء، لیلھا کنھارھا، لا یزیغ عنھا بعدی إلَّا ھالک۔ ویقول صلوات اللہ وسلامہ علیہ: من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رَدٌّ! لقد حرص الإستعمار علٰی تکوین القادیانیۃ وإیجادھا ونصرۃ اھلھا ومدھم بالأموال الطائلۃ والمناصب العالیۃ وحمو دعوتھم وایدوا طریقتھم فشنوا الحرب علی الإسلام والمسلمین وادعوا الإستقلال الکلی بالدین والنبوۃ والإعتقاد، فلم یرضوا با اللہ ربًّا، ولا بالإسلام دینًا، ولا بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا، وتجروا علی اللہ سبحانہ وتعالٰی بکلام ساقط سخیف لا یقدر المرء ان ینطق بہ لو لا الحاجۃ إلٰی بیان ما ھم علیہ من کفر وضلال، تکاد السمٰوٰت یتفطرن منہ وتنشق الأرض وتخر الجبال ھدًّا ۔۔۔۔۔۔فزعموا ان اللہ یصوم ویصلی وینام ویصحوا ویکتب۔۔۔۔۔ ویوقّع ویصیب ویخطی ویجامع ویولد، تعالی اللہ عما یقول الجاحدون الظالمون علوًّا کبیرًا!
ومثل قول زعیمھم: انا رأیت فی الکشف بأنی قدمت اوراقًا کثیرۃ إلی اللہ تعالٰی لیوقّع علیھا ویصدق الطلبات التی اقترحتھا، فرأیت ان اللہ وقّع علی الأوراق بحبر أحمر وکان عندی وقت الکشف رجل من مریدی یقال لہ عبدﷲ، ثم نفض الرّبّ القلم وسقطت من قطرات الحبر الأحمر علٰی أثوابی وأثواب مریدی عبد اللہ ولما انتھی الکشف رأیت بالفعل ان أثوابی وأثواب عبد اللہ لطخت بھٰذہ الحمرۃ مع انہ لم یکن عندنا شیء من اللون الأحمر!
ویقول بعضھم: ان المسیح الموعود (ای الغلام) بین مرۃ حالۃ فقال: انہ رأی نفسہ کان امرأۃ وان اللہ اظھر فیہ قوّتہ الرجولیۃ۔
کما انتقصوا مقام الرسالۃ فیدعی زعیمھم: ان معجزاتہ تفوق معجزات سیّد الأوّلین والآخرین، صاحب المقام المحمود، والحوض المورود، والشفاعۃ العظمٰی، وینکرون ختم الرسالۃ، ویکذبون القرآن ویتأوّلونہ بتأویلات باطلۃ فاسدۃ۔
فیجب علٰی جمیع المسلمین وخاصۃ العلماء والحُکام مجاھدۃ ھٰذہ الفرقۃ الضالۃ بالحُجّۃ والبیان والسیف والسنان حتّٰی تھتک أستارھم وتفضح أحوالھم وینکشف للناس فساد معتقداتھم، لأنھم باعوا ضمائرھم، وحاربوا
453
الإسلام، وأیدوا المستعمرین، واظھروا لھم الطاعۃ والولاء والإخلاص والمودۃ۔ وقد ألّف العلماء الکثیر من الکتب فی الردّ علٰی مذھبھم وبیان کفرھم وفساد معتقداتھم۔ وبالجملۃ فمجرد تصور مذھبھم وما یدعون إلیہ کاف فی الردّ علیھم، وان القوم فی ضلال مبین۔ واعتقد ان کفرھم لا یشک فیہ مسلم سبر حالھم وعرف مذھبھم، و اللہ اعلم!
أملأہ الفقیر إلی اللہ عزّ شأنہ
عبد اللہ بن محمد بن حمید
الرئیس العام للإشراف الدینی علی المسجد الحرام
وکتبہ من إملائہٖ:
صالح بن عبدالعزیز الغصن
وصلّی اللہ علٰی محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلّم
(2)
فتویٰ علمائے حرم
بتوفیق اللہ سبحانہ وھو الملھم للصواب!
الجواب:
ان ھٰذا الرجل الذی ادعی ھٰذہ الدعاوی ھی بیانات مشکوفۃ علٰی کفرہ البواح لا یشک فی کفرہ مؤْمن عاقل وکیف بعالم فضلا عن محقق وذالک لوجوہ واضحۃ فی الشریعۃ المحمدیۃ۔
أمّا اوّلًا:۔۔۔۔ فعقیدۃ ختم النبوۃ وان سیّدنا محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین وانہ لا نبی بعدہ، عقیدۃ مقطوعۃ فی الإسلام، اصبح علٰی ھٰذہ العقیدۃ مدار دین الإسلام فھی عقیدۃ اساسیۃ من ضروریات الدین، فإنکارھا کفر، والتأویل فیھا کفر، کما حقق المسئلۃ الکلامیۃ ھٰذہ الإمام حُجّۃ الإسلام الغزالی فی کتابہ: ’’فیصل التفرقۃ بین الإسلام والزندقۃ‘‘ وھو اوّل من افرد ھٰذہ المسئلۃ بتألیف مستقل وآخر من حقق ھٰذہ المسئلۃ بما لا مزید علیہ إمام العصر مولانا محمد انور شاہ الکشمیری فی کتابہ: ’’إکفار الملحدین فی ضروریات الدین‘‘، واستوفی فیہ غرر النقل من اقدم العصور إلٰی عھدہ۔ فالعقیدۃ قطعیۃ واضحۃ ثابتۃ بالکتاب الکریم بدلالۃٍ قطعیۃ، ثم بالأحادیث المتواترۃ المقطوعۃ، ثم بإجماع الاُمَّۃ المحمدیۃ قدیمھا وحدیثھا فی کل عصر وزمان، فھی کلمۃ إتفاق وإجماع لم یتخلف عنھا احد من المسلمین۔
وأمّا ثانیًا:۔۔۔۔۔۔ فتاریخ الإسلام شاھد صدق علٰی ان کل من تنبّأ بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم قاتلوہ
454
وقتلوہ فأوّل من تنبّأ مسیلمۃ الکذّاب نبی الیمامۃ، ثم الأسود العنسی نبی الیمن، وھٰکذا کل من ظھر مدّعیًا للنبوۃ قتل بکفرہ الصریح۔
وأمّا ثالثًا:۔۔۔ فھٰذا المتنبیء، المدعی الکاذب لم یترک مما یکفر إلّا وأتیٰ بہٖ۔ فالسیّد المسیح عیسی ابن مریم علیہ السلام بنص القرآن الکریم نبی معصوم وقد اھانہ بما تفتتت القلوب والأکباد فھٰذا کفرٌ۔ ثم انہ رفع إلی السماء وینزل حیًّا من السماء علٰی ما تواترت بہ الأحادیث النبویۃ الکریمۃ، فالقول بموتہ وانہ لا ینزل ابدًا، کفرٌ۔ ثم إدعاء أنّ الدولۃ البریطانیۃ ظل اللہ فی الأرض، کفرٌ، ثم نصرھا وتأییدھا کفرٌ، ثم إدعاء نسخ الجھاد کفرٌ، ثم إھانۃ مکۃ المکرمۃ وفیھا الکعبۃ الإلٰھیۃ والقبلۃ الربانیۃ، وإھانۃ المدینۃ وفیھا حضرۃ سیّدنا الرسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدفون، کفرٌ، وما إلٰی ذالک من الوجوہ المذکورۃ کلھا واضحۃ صریحۃ ادناھا یکفی للحکم بأنہ کافرٌ مرتدٌّ مباح الدّم لو لم یکن فی عھد الحکومۃ البریطانیۃ لما تخلفت حکومۃ إسلامیۃ عن قتلہ۔ ولا شک ان أذنابہ من القادیانیۃ واللاھوریۃ کلھا کافرون، إمّا القائلون بکونہ نبیًّا ظاھر، وإمّا القائلون بکونہ مجدّدًا ایضًا لا شک فی کفرھم ححیث انہ کافرٌ مرتدٌّ لیس بمؤْمن، فالقول بکون الکافر مجدّدًا کفرٌ فضلًا عن ان ھٰؤُلاء یفضلونہ علٰی کل نبی غیر نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم فھٰذا ایضًا کفرٌ صریح فلا ینجیھم القول بالتجدید عن کفرھم۔ وبالجملۃ ھٰذہ الطائفۃ الملعونۃ کافرۃ مثیل البابیۃ والبھائیۃ الفرقتین التین ظھرتا بإیران۔ ومن جملۃ وجوہ کفرہ انہ یلتقف آیات القرآن وکلماتہ ویطبقھا علٰی نفسہ ومنھا انہ یفضل معجزاتہ علٰی معجزات نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم وحاشا لمثلہ ان یکون لہ معجزات إلَّا ان یکون معجزات کفرہ وإرتدادہ وإلحادہ وزیغہ وضلالہ وتسویلات شیطانہ ونفسہ ومنھا تکفیرہ کل من لم یؤْمن بنبوتہ وانہ جھنمی۔ ومنھا قولہ بأن المھدی علیہ السلام سفاک الدماء، وان المسیح علیہ السلام سفاک الدماء، کلہ کفرٌ طامات وطامات۔ وبالجملۃ فالقول بکفر ھٰذا المدعی حکم شرعی وکذا القول بکفر أتباعہ وأذنابہ، نسأل اللہ سبحانہ السلامۃ من کل کفر وإلحاد وزیغ وضلال، ونسألہ التوفیق لکل ھدایۃ وإرشاد وسداد، ونرجو من علماء الإسلام فی أقطار الأرض مشارقھا ومغاربھا، ان ینبھوا الاُمّۃ الإسلامیۃ عن کید ھٰذہ الفئۃ الملعونۃ ونحذر الحکومات الإسلامیۃ والعربیۃ والإفریقیۃ عن مکائد ھٰذہ الطائفۃ وعن تدخل أفرادھم فی البلاد بأسماء مختلفۃ وصیغ شتّٰی بإسم خدمۃ الإسلام۔ و اللہ سبحانہ ولی التوفیق والنعمۃ، وبیدہ التسدید والمنۃ، وھو حسبنا ونعم الوکیل، ولا حول ولا قوّۃ إلّا با اللہ العلی العظیم!
وأنا العبد المفتقر إلٰی رحمۃ ﷲ،
خادم العلم الشریف بمکۃ المکرمۃ، بالمسجد الحرام
حسن محمد المشاط
455
توقیعات علماء الحرمین
| محمد بن علوی المالکی |
قاری عبدالقادر |
قاری عباس |
| خادم العلم الشریف بالبلد الحرام |
مدرّس تحفیظ القرآن الکریم |
مدرّس تحفیظ القرآن الکریم |
| محمود نذیر الطرازی |
إسماعیل عثمان زین |
عبد اللہ سعید اللحجی |
| خادم العلم الشریف بالمسجد النبوی |
المدرّس بالمسجد الحرام والمدرسۃ الصولتیۃ |
المدرّس بالمدرسۃ الصولتیۃ والمسجد الحرام |
| محمد علی الصابونی |
محمد امین المصری |
| المدرّس بجامعۃ الملک عبدالعزیز، کلیۃ الشریعۃ والدراسات الإسلامیۃ |
مدرّس کلیۃ الشریعۃ بمکۃ المکرمۃ |
| محمد نور بن سیف بن ھلال |
إبراھیم داود قطانی |
| المدرّس بالمسجد الحرام |
مدرّس بالحرم المکی |
| محمد خیر الباکستانی |
طہ بن عبدالواسع البرکاتی |
| المدرّس بالحرم المکی |
مراقب التدریس بالمسجد الحرام |
۳
وفتویٰ آخری
ذالک حق صریح وکفر القادیانیۃ لا خلاف فیہ بین المسلمین فلیحذرھم کل مسلم وقد افتیت بذالک مرارًا۔
کتبہ حسنین محمد مخلوف
مفتی الدیار المصریۃ السابق وعضو جماعۃ کبار العلماء بالأزھر
وعضو المجلس التأسیسی للرابطۃ
أعتقد أن ھٰذا القادیانی یھودی لقیط جاسوس إنجلیزی حقیر لا حظَّ لہ فی الدین، فعلیہ لعنۃ اللہ وملائکتہ ورسلہ والناس أجمعین! وکل من یعقد إسلامہ بعد ھٰذا الذی رح بہ کتبہ فضلًا عن من اعتقد نبوّتہ وھو کافر مرتد حلال الدم۔
قال ھٰذا بلسانہ وکتبہ بقلمہ من وجد الآن فی مھمۃ إسلامیۃ فی ثلاثۃ عشر دولۃ من دول الشرق الأقصٰی۔
محمد المنتصر الکتانی
الاُستاذ بالجامعات السعودیۃ، بمکۃ المکرمۃ والمدینۃ المنورہ
والظھران والمدرّس للتفسیر والحدیث فی الحرمین الشریفین،
کراتشی ۱۹؍جمادی الثانیۃ ۱۳۹۳ھـ
456
| توقیع حضرۃ قاضی القضاۃ شمال نایجیریا وعضو رابطۃ العالم الإسلامی |
توقیع |
توقیع |
| الشیخ ابوبکر محمود جومی |
الشیخ احمد عمر بالعید المدرّس بالمسجد الحرام |
محمد امین کتبی عفا اللہ عنہ المدرّس بالمسجد الحرام |
۴
فتویٰ علمائے شام
بکفر الفرقۃ الضالّۃ المضلّۃ المسماۃ بالقادیانیۃ
نحن علماء المسلمین بحلب اطلعنا فیما نشرتہ الفرقۃ الضالّۃ المضلّۃ المسماۃ بالقادیانیۃ فی کتبھا وفیما نشرتہ المجلات الإسلامیۃ عنھا، وعن عقائدھا وعن زعیمھا الخامر وحامل لوائھا المنکوس (المرزا غلام احمد) ودعواہ انہ المھدی المنتظر، ثم انہ عیسٰی، ثم انہ نبی مشرع اطلعنا فی ھٰذا کلہ علٰی کفر ھٰذا الرجل، وضلال ما جاء بہ۔
وقد ظھر ان غرضہ من ذالک تضلیل المسلمین عن دینھم، وخدمۃ الإستعمار البغیض فی البلاد الإسلامیۃ، صانھا اللہ تعالٰی۔
من اجل ھٰذا نفتی المسلمین فی بقائع الأرض بکفر ھٰذا المدعی الکاذب، وکفر من یعقتد بشیء مما جاء بہ ویخالف الإسلام الحنیف، وکفر من یتبعہ ویروج دعوتہ الضالّۃ۔ وننصح المسلمین فی بقاع الأرض ان یلتفوا حول علمائھم العاملین، الأتقیاء الناصحین لیعتصموا بکتاب ربھم عزّ وجلّ، وسنّۃ نبیھم صلی اللہ علیہ وسلم ولیسلموا من النزعات والنزغات الضالّۃ المضلّۃ، والأھواء المفرقۃ۔
ونسأل اللہ تعالٰی للمسلمین ھدی ورحمۃ وسلامۃ مصیر فی ۲۳ من جمادی الاُولٰی ۱۳۹۳ھـ ، ۲۲؍۳؍۱۹۷۳م۔
توقیعات
إسم الموقّع ووصفہ
| محمد ابو الفتح البیانونی |
ظاھر خیرﷲ |
احمد القلاش |
| مدرّس فی کلیۃ الشریعۃ |
خطیب جامع الروضۃ |
خطیب جامع المیدانی |
| عبد اللہ خیرات |
احمد عزالدین البیانونی |
محمد السلقینی |
| مفتی جبل سمحان |
خطیب جامع العثمانیۃ |
مدرّس فی محافظۃ حلب |
| عبد اللہ علوان |
دکتور نورالدین |
محمد عوانۃ |
| مدرّس العلوم الشرعیۃ فی الثانویات |
اُستاذ التفسیر والحدیث فی کلیۃ الشریعۃ |
مدرّس فی التعلیم الشرعی |
457
| الشیخ عبدالمجید |
الشیخ عبدالقادر |
محمد الحجار |
| المدرّس فی التعلیم الشرعی |
مدرّس وخطیب وإمام جامع الصادلیۃ |
مدرّس وخطیب وإمام جامع الزکی |
| زھیر الناصر |
عبدالمجید معاذ |
حامد غریب |
| مدرّس فی جمعیۃ التعلیم الشرعی |
مدرّس فی جمعیۃ التعلیم |
إمام جامع المرعش وخطیب جامع |
| محمد عبدالمحسن حداد |
محمد ناجی ابو صالح |
محمد ادیب خسون |
| مدرّس الوعظ فی حلب |
مدرّس فی الجامع الاُموی الکبیر |
مدرّس وإمام وخطیب |
۵
فتویٰ علمائے شام
الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علٰی خاتم الأنبیاء والمرسلین محمد نبی الرحمۃ الذی انزل اللّٰہ علیہ القرآن العظیم وبعد! فقد وصلنا صورۃ من الإستفتاء الموجہ لعلماء المسلمین فی بلاد الإسلام من جمھرۃ من الإخوۃ المسلمین فی باکستان حول القادیانیۃ ومعقتداتھا الباطلۃ۔
وقد نظرنا فیما نسب إلٰی ھٰذہ الفرقۃ من معتقدات باطلۃ وأفکار شاذۃ زائغۃ، وقرأنا کثیرًا مما کتب عنھا، وبعد النظر فیھا ومحاکمتھا وفق اصول العقیدۃ الإسلامیۃ التی ھی معلومۃ من الدین بالضرورۃ أصدرنا الفتوی التالیۃ:
کل من اعتقد انّ النبوۃ لم تختم بمحمد صلی اللہ علیہ وسلّم، وأنّ جھاد الکفار منسوخ، وانّ المسیح قُتل وصُلب، وانّ احدًا یملک حق التشریع علی اللہ بعد خاتم النّبیین والمرسلین، او یملک نسخ احکام الإسلام وتبدیلھا فقد اعتقد تخالف عناصر أساسیۃ من عناصر أرکان الإیمان المعلومۃ من الدین بالضرورۃ، وھو بذالک یخرج عن دائرۃ الملۃ الإسلامیۃ التی کلف اللہ الناس جمیعًا بالإیمان بھا، وجعل من یجحدھا او ینکر شیئًا من اُصولھا المعلومۃ من الدین بالضرورۃ کافرًا۔
و اللہ نسأل ان یسلمنا من الزیغ والضلالۃ، ویرینا الحق حقًّا ویرزقنا اتباعہ، والباطل باطلًا ویرزقنا اجتنابہ، وان یھدی المفتونین بالباطل إلٰی صراط اللہ المستقیم والإستمساک بدین اللہ الحق عقیدۃ وعملا، وصلی اللہ وسلم علٰی خاتم أنبیاء ورسلہ محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ ومن تبعھم بإحسان إلٰی یوم الدین!
دمشق فی غرۃ رجب سنۃ ۱۳۹۳ھجریۃ
اقر ھٰذہ ا لفتویٰ عدد من علماء الشام فی مجلس الشیخ منھم شیخ القراء الشیخ حسین خطاب حسن حنبکۃ المیدانی عنہ بالأمر منہ ولدہ عبدالرحمٰن۔
✨ ☪ ✨
458
قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ
(اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے)
از
حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی
459
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو اس وقت کی حکومت نے قادیانیوں کے خلاف علماء اور عوام کے دباؤ سے مجبور ہوکر فیصلہ کیا، اس زمانے میں محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللّٰہ سرہ العزیز نے ایک اِستفتاء مرتب فرمایا تھا اور اس کا جواب اَربابِ فتویٰ سے طلب فرمایا۔ اس سلسلے میں یہ جواب تحریر کیا گیا تھا۔ حضرت مولانا کی کوششیں بارآور ہوئیں، لیکن۔۔۔! قادیانی ابھی تک خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں برابر جاری ہیں، کئی ایک علمائے کرام کو اغوا کیا گیا، جن کا حال ابھی تک معلوم نہیں، ساہیوال میں دو مسلمانوں کو شہید کیا گیا، سکھر میں دورانِ نماز ’’منزل گاہ‘‘ کی مسجد پر بم سے حملہ کیا گیا، جس سے بہت سے مسلمان شدید زخمی ہوئے اور دو مسلمان شہید ہوئے، لیکن آج اس کا علاج یہی ہے کہ قادیانیوں کو کافر حربی سمجھ کر ان سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ حضرت بنوری قدس اللّٰہ سرہ العزیز نے اس جواب کو پسند فرمایا تھا، مولاناؒ کے تبرکات میں اس کو فی الجملہ سمجھا جاسکتا ہے، اس لئے لائقِ مطالعہ ہے۔‘‘
(مرتب)
کیا فرماتے ہیں علمائے دِینِ متین ۔۔وفقہم اللہ للصواب۔۔ حسبِ ذیل مسئلے میں کہ کوئی شخص یا جماعت کسی مدعیٔ نبوّتِ کاذبہ پر اِیمان لانے کی وجہ سے جو باتفاقِ اُمت دائرۂ اسلام سے خارج ہو اور ان کا کفر یقینی اور شک وشبہ سے بالاتر ہو، اس کے علاوہ ان میں حسبِ ذیل وجوہ بھی موجود ہوں:
۱:۔۔۔ وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہوں اور تمام عالمِ اسلام اور ملتِ اِسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔
۲:۔۔۔ مسلمانوں کو جانی ومالی ہر طرح کی ایذا پہنچانے میں تامقدور کوتاہی نہ کرتے ہوں۔
۳:۔۔۔ ان کی مادّی قوّت اور مالی وسائل میں روزافزوں ترقی کا تمام تر اِنحصار مسلمانوں کے اِستحصال پر ہو، اور وہ سیاسی واِقتصادی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کررہے ہوں۔
۴:۔۔۔ ان کی سیاسی وعسکری تنظیمیں موجود ہوں، اور ان کی زیر زمین سرگرمیاں تمام ملتِ اِسلامیہ کے لئے بین الاقوامی سطح پر عظیم خطرہ ہوں۔
460
۵:۔۔۔ دُشمنِ اسلام بیرونی طاقتوں، یہودی اور مسیحی حکومتوں اور ہندوستان کی اِسلام دُشمن قوّت سے ان کے قوی روابط ہوں۔ الغرض مسلمانوں کے لئے دِینی، سیاسی، معاشی، اِقتصادی اور معاشرتی اِعتبار سے ان کا طرزِعمل سنگین خطرات کا باعث ہو، بلکہ ان کی وجہ سے ایک اسلامی مملکت کو بغاوت واِنقلاب کے خطرات تک لاحق ہوں۔
۶:۔۔۔ حکومت یا حکومت کی سطح پر یہ توقع نہ ہو کہ اس فتنے سے ملک وملت کو بچانے کی کوئی تدبیر کی جائے گی اور یہ اُمید نہ ہو کہ جس شرعی سزا کے وہ مستحق ہیں، وہ ان پر جاری ہوسکے گی، اندریں حالات بے بس مسلمانوں کو اس فتنے کی روک تھام کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ اس سلسلے میں شرعی طور پر ان پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے؟ کیا ان حالات میں اس جماعت یا فرد کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کے لئے حسبِ ذیل اُمور کے جواز یا وجوب کی شرعاً کوئی صورت ہے کہ:
الف:۔۔۔ اُمتِ اسلامیہ اس فرد یا جماعت کے ساتھ برادرانہ تعلقات منقطع کرے۔
ب:۔۔۔ ان سے سلام وکلام، میل وجول، نشست وبرخاست، شادی وغمی میں شرکت نہ کی جائے، بلکہ معاشرتی سطح پر ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا جائے۔
ج:۔۔۔ ان سے تجارت، لین دین اور خرید وفروخت کی جائے یا نہیں؟
د:۔۔۔ ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال خریدا جائے، یا ان کا مکمل اِقتصادی مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا جائے؟
ہ:۔۔۔ ان کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں، ریستورانوں میں جانا جائز ہے یا نہیں؟
و:۔۔۔ ان سے رواداری برتی جائے یا نہیں؟
ز:۔۔۔ ان کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات اِستعمال کی جائیں یا نہیں؟ غرض ان سے مکمل بائیکاٹ یا مقاطعہ کرنے کی اِجازت ہے یا نہیں؟ کیا تمام مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں راہِ راست پر لانے کے لئے ان کا بائیکاٹ کریں؟ جبکہ اس کے سوا اور کوئی چارہ اِصلاح موجود نہ ہو!
افتونا مأجورین، و اللہ سبحانہ یجزل لکم الأجر والثواب
وھو المسئول الملھم للحق والصواب!
المستفتی: مجلس عمل تحفظ ختم نبوۃ کراچی
الجواب واللّٰہ الہادی للصواب!
بلاشبہ قرآنِ کریم کی وحی قطعی جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیثِ متواترہ قطعیہ، اور اُمتِ محمدیہ کے قطعی اِجماع سے ثابت ہے کہ حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، اس لئے حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا مدعی کافر اور دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہے اور جو شخص اس مدعیٔ نبوّت کی تصدیق کرے اور اسے مقتدا وپیشوا مانے وہ بھی کافر اور مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کفر اور اِرتداد کے ساتھ اگر اس میں وجوہِ مذکور فی السؤال میں
461
سے ایک وجہ بھی موجود ہو تو قرآنِ کریم اور اَحادیثِ نبویہ اور فقہِ اِسلامی کے مطابق وہ اِسلامی اُخوّت اور اِسلامی ہمدردی کا ہرگز مستحق نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے ساتھ سلام وکلام، نشست وبرخاست اور لین دین وغیرہ تمام تعلقات ختم کردیں، کوئی ایسا تعلق یا رابطہ اس سے قائم کرنا جس سے اس کی عزّت واِحترام کا پہلو نکلتا ہو، یا اس کو قوّت وآسائش حاصل ہوتی ہو، جائز نہیں۔ کفار محاربین اور اَعدائے اسلام سے ترکِ موالات کے بارے میں قرآنِ حکیم کی بے شمار آیات موجود ہیں، اسی طرح احادیثِ نبویہ اور فقہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
یہ واضح رہے کہ کفار محاربین جو مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں، انہیں ایذا پہنچاتے ہوں، اسلامی اِصطلاحات کو مسخ کرکے اسلام کا مذاق اُڑاتے ہوں اور مارآستین بن کر مسلمانوں کی اِجتماعی قوّت کو منتشر کرنے کے درپے ہوں، اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی ان کافروں سے اِجازت دی گئی ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں، ورنہ کفار محاربین سے سخت معاملہ کرنے کا حکم ہے۔ علاوہ ازیں بسااوقات اگر مسلمانوں سے کوئی قابلِ نفرت گناہ سرزد ہوجائے تو بطور تعزیر وتادیب ان کے ساتھ ترکِ تعلق اور سلام وکلام ونشست وبرخاست ترک کرنے کا حکم شریعتِ مطہرہ اور سنتِ نبوی میں موجود ہے، چہ جائیکہ کفار محاربین کے ساتھ، اس سلسلے میں سب سے پہلے تو اِسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ!‘‘ کی شرعی تعزیر نافذ کرکے اس فتنے کا قلع قمع کرے اور اِسلام اور ملتِ اسلامیہ کو اس فتنے کی یورش سے بچائے۔
چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ نے فتنہ پرداز موذیوں اور مرتدوں سے جو سلوک کیا، وہ کسی سے مخفی نہیں، اور بعد کے خلفاء اور سلاطینِ اسلام نے بھی کبھی اس فریضے سے غفلت اور تساہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن اگر مسلمان حکومت اس قسم کے لوگوں کو سزا دینے میں کوتاہی کرے یا اس سے توقع نہ ہو تو خود مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے، تاکہ وہ بحیثیت جماعت اس قسم کی سزا کا فیصلہ کریں جو اس کے دائرۂ اِختیار میں ہو۔ الغرض اِرتداد، محاربت، بغاوت، شرارت، نفاق، ایذا، مسلمانوں کے ساتھ سازش، یہود ونصاریٰ وہنود کے ساتھ سازباز، ان سب وجوہ کے جمع ہوجانے سے بلاشبہ مذکورہ فی السوال فرد یا جماعت کے ساتھ مقاطعہ یا بائیکاٹ نہ صرف جائز ہے، بلکہ واجب ہے، اگر مسلمانوں کی جماعت بہ ہیئتِ اِجتماعی اس فتنے کی سرکوبی کے لئے مقاطعہ یا بائیکاٹ جیسے ہلکے سے اِقدام سے بھی کوتاہی کرے گی تو وہ عنداللّٰہ مسئول ہوگی۔
یہ مقاطعہ یا بائیکاٹ ظلم نہیں، بلکہ اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی محاربت اور ایذارسانی سے محفوظ کیا جائے، اور ان کی اِجتماعیت کو اِرتداد ونفاق کی دست برد سے بچایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ خود ان محاربین کے لئے بھی اس میں یہ حکمت مضمر ہے کہ وہ اس سزا یا تادیب سے متأثر ہوکر اِصلاح پذیر ہوں اور کفر ونفاق کو چھوڑ کر اِیمان واِسلام قبول کریں، اس طرح آخرت کے عذاب اور اَبدی جہنم سے ان کو نجات مل جائے، ورنہ اگر مسلمانوں کی ہیئت اِجتماعیہ ان کے خلاف کوئی تادیبی اِقدام نہ کرے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو مستحسن سمجھ کر اس پر مصر رہیں گے، اور اس طرح ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔
462
رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر اِبتداء ً یہی طریقہ اِختیار فرمایا تھا کہ کفارِ مکہ کے قافلوں پر حملہ کرکے ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے، تاکہ مال اور ثروت سے ان کو جو طاقت اور شوکت حاصل ہے، وہ ختم ہوجائے، جس کے بل بوتے پر وہ مسلمانوں کو اِیذا پہنچاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں اور مختلف سازشیں کرتے ہیں۔ قتلِ نفس اور جہاد بالسیف کے حکم سے پہلے مقاطعہ اور دُشمنوں کو اِقتصادی طور پر مفلوج کرنے کی یہ تدابیر اس لئے اِختیار کی گئی تھی، تاکہ اس سے ان کی جنگی صلاحیت ختم ہوجائے اور وہ اِسلام کے مقابلے میں آکر کفر کی موت نہ مریں۔ گویا اس اِقدام کا مقصد یہ تھا کہ ان کے اموال پر قبضہ کرکے ان کی جانوں کو بچایا جائے، کیونکہ اموال پر قبضہ ان کی جان لینے سے زیادہ بہتر تھا۔
علاوہ ازیں اس تدبیر میں یہ حکمت ومصلحت بھی تھی کہ کفارِ مکہ کے لئے غوروفکر کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ ایمان کی نعمت سے سرفراز ہوکر اَبدی نعمتوں کے مستحق بن سکیں اور عذابِ اُخروی سے نجات پاسکیں۔ لیکن جب اس تدبیر سے کفار ومشرکین کے عناد کی اصلاح نہ ہوئی تو ان کے شر وفساد سے زمین کو پاک کرنے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے جہاد بالسیف کا حکم بھیج دیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے قریش کے تجارتی قافلے کے بجائے ان کی عسکری تنظیم سے مسلمانوں کا مقابلہ کرادیا۔ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِبتدائی تدبیر سے اُمتِ مسلمہ کو یہ ہدایت ضرور ملتی ہے کہ خاص قسم کے حالات میں جہاد بالسیف پر عمل نہ ہوسکے تو اس سے اقل درجے کا اِقدام یہ ہے کہ کفار محاربین سے نہ صرف اِقتصادی بائیکاٹ کیا جائے، بلکہ ان کے اموال پر قبضہ تک کیا جاسکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف پر قادر ہیں، نہ انہیں اموال پر قبضہ کی اِجازت ہے، اندریں صورت ان کے اِختیار میں جو چیز ہے، وہ یہ ہے کہ ان موذی کافروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرکے ان کو معاشرے سے جدا کردیا جائے۔
بدنِ انسانی کا جو حصہ اس درجہ سڑگل جائے کہ اس کی وجہ سے تمام بدن کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو اور جان خطرے میں ہو تو اس ناسور کو جسم سے پیوستہ رکھنا دانش مندی نہیں، بلکہ اسے کاٹ دینا ہی عین مصلحت وحکمت ہے، تمام عقلاء اور حکماء واطباء کا اسی پر عمل واِتفاق ہے۔ اور پھر جب یہ موذی کفار، مسلمانوں کا خون چوس چوس کر پل رہے ہوں اور طاقتور بن کر مسلمانوں ہی کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان سے خرید وفروخت اور لین دین میں مکمل مقاطعہ کرنا اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے وجود وبقا کے لئے ایک ناگزیر ملّی فریضہ بن جاتا ہے، آج بھی اس متمدن دُنیا میں مقاطعہ یا اِقتصادی ناکہ بندی کو ایک اہم دِفاعی مورچہ سمجھا جاتا ہے اور اس کو سیاسی حربے کے طور پر اِستعمال کیا جاتا ہے، مگر مسلمانوں کے لئے یہ کوئی سیاسی حربہ نہیں، بلکہ اُسوۂ نبی، سنتِ رسول اور ایک مقدس مذہبی فریضہ ہے، اسلام کی غیرت ایک لمحے کے لئے یہ برداشت نہیں کرتی کہ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے دُشمنوں سے کسی نوعیت کا کوئی تعلق اور رابطہ باقی رکھا جائے۔
اب ہم آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ نبویہ اور فقہائے اُمتِ اسلامیہ کے وہ نقول پیش کرتے ہیں، جن سے اس مقاطعہ کا حکم واضح ہوتا ہے۔
۱:۔۔۔’ ’إِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللہِ یُکْفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ ‘‘ (النساء:۱۴۰)
463
ترجمہ:۔۔۔ ’’جب سنو تم کہ اللّٰہ کی آیتوں کا اِنکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جارہا ہے تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ترک کردو۔‘‘
۲:۔۔۔ ’’وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوضُوْنَ فِیْ اٰیٰتِنَا‘‘ (الانعام:۶۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو مذاق اُڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو ان سے کنارہ کشی اختیار کرلو۔‘‘
اس آیت کے ذیل میں حافظ الحدیث اِمام ابوبکر الجصاص الرازی لکھتے ہیں کہ:
’’وھٰذا یدل علٰی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لا یجوز علی اللہ تعالٰی إذا لم یمکنا انکارہ ۔۔۔إلخ۔‘‘ (ج:۳ ص:۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم (مسلمانوں) پر ضروری ہے کہ ملاحدہ اور سارے کافروں سے ان کے کفر وشرک اور اللّٰہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک نہ کرسکیں تو ان کے ساتھ نشست وبرخاست ترک کردیں۔‘‘
۳:۔۔۔ ’’ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرَی أَوْلِیَاء ‘‘ (المائدۃ:۵۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ!‘‘
اِمام ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ:
’’وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی أن الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم، لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ من الکفار والعداوۃ لھم، لأن الولایۃ ضد العداوۃ، فإذا اُمِرنا بمعاداۃ الیھود والنصاریٰ لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم ویدل علٰی ان الکفر کلہ ملۃ واحدۃ۔‘‘ (احکام القرآن ج:۲ ص:۴۴۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ کافر مسلمانوں کا ولی (دوست) نہیں ہوسکتا، نہ تو معاملات میں اور نہ اِمداد وتعاون میں۔ اور اس سے یہ اَمر بھی واضح ہوتا ہے کہ کافروں سے براء ت اِختیار کرنا اور ان سے عداوت رکھنا واجب ہے، کیونکہ ولایت عداوت کی ضد ہے، اور جب ہم کو یہود ونصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے عداوت رکھنے کا حکم ہے، دُوسرے کافر بھی انہی کے حکم میں ہیں، سارے کافر ایک ہی ملت ہیں۔‘‘
۴:۔۔۔ سورۂ ممتحنہ کا موضوع ہی کفار سے قطع تعلق کی تاکید ہے، اس سورۃ میں بہت سختی کے ساتھ کفار کی دوستی اور تعلق سے ممانعت کی گئی ہے، اگرچہ رشتہ دار، قرابت دار ہوں۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن تمہارے یہ رشتے کام نہیں آئیں گے، اور یہ کہ جو لوگ آئندہ کفار سے دوستی اور تعلق رکھیں گے، وہ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے اور ظالم شمار ہوں گے۔
464
۵:۔۔۔ ’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُّؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ اَوْ اَبْنَاء ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ ‘‘ (المجادلہ:۲۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تم نہ پاؤگے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللّٰہ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کے، خواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں۔‘‘
آگے چل کر اس آیتِ کریمہ میں اُن مسلمانوں کو جو باوجود قرابت داری کے، محارب کافروں سے دوستانہ تعلقات ختم کردیتے ہیں، سچا مؤمن کہا گیا ہے، انہیں جنت اور رِضوانِ الٰہی کی بشارت سنادی گئی ہے اور ان کو ’’حزبُ اللّٰہ‘‘ کے لقب سے سرفراز فرمایا گیا ہے، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا اور رسول کے دُشمنوں سے دوستی رکھنا کسی مؤمن کا کام نہیں ہوسکتا۔
بطور مثال ان چند آیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ورنہ بے شمار آیاتِ کریمہ اس مضمون کی موجود ہیں، اب چند اَحادیثِ نبویہ ملاحظہ ہوں:
۱:۔۔۔ جامع ترمذی کی ایک حدیث میں سمرۃ بن جندب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکوں اور کافروں کے ساتھ ایک جگہ سکونت بھی اِختیار نہ کریں، ورنہ مسلمان بھی کافروں جیسے ہوں گے (باب فی کراہیۃ المقام بین اظھر المشرکین ج:۱ ص:۱۹۴)۔(۱)
۲:۔۔۔ نیز ترمذی کی ایک حدیث میں جو جریر بن عبداللّٰہ البجلی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ:
’’انا بریئٌ من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین۔‘
یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِظہارِ برا ت فرمایا ہر اس مسلمان سے جو محارب کافروں میں سکونت پذیر ہو (باب فی کراھیۃ المقام بین اظھر المشرکین ج:۱ ص:۱۹۳)۔
۳:۔۔۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں قبیلہ عکل اور عرنیہ کے آٹھ نو اَشخاص کا ذِکر ہے جو مرتد ہوگئے تھے، ان کے گرفتار ہونے کے بعد حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور ان کی آنکھوں میں گرم کرکے لوہے کی کیلیں پھیر دِی جائیں اور ان کو مدینہ طیبہ کے کالے کالے پتھروں پر ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، یہ لوگ پانی مانگتے تھے، لیکن پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں: ’’یستسقون فلا یسقون‘‘ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ’’حتی ان احدھم یکدم بفیہ الأرض‘‘ ترجمہ:۔۔۔ ’’وہ پیاس کے مارے زمین چاٹتے تھے، مگر انہیں پانی دینے کی اِجازت نہ تھی۔‘‘
اِمام نوویؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
(۱)وروی سمرۃ بن جندب عن النبی صلی ا اللہ علیہ وسلم قال: تساکنوا المشرکین ولا تجامعوھم، فمن ساکنھم او جامعھم فھو مثلھم۔‘‘
465
’’ان المحارب المرتد لا حرمۃ لہ فی سقی الماء ولا غیرہ، ویدل علیہ ان من لیس معہ ماء إلّا للطھارۃ لیس لہ ان یسقیہ المرتد ویتیم بل یستعملہ ولو مات المرتد عطشا۔‘‘
(فتح الباری ج:۱ ص:۳۹۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس سے یہ معلوم ہوا کہ محارب مرتد کا پانی وغیرہ پلانے میں کوئی اِحترام نہیں، چنانچہ جس شخص کے پاس صرف وضو کے لئے پانی ہو تو اس کو اِجازت نہیں ہے کہ پانی مرتد کو پلاکر تیمم کرے، بلکہ اس کے لئے حکم ہے کہ پانی مرتد کو نہ پلائے، اگرچہ وہ پیاس سے مرجائے، بلکہ وضو کرکے نماز پڑھے۔‘‘
۴:۔۔۔ غزوۂ تبوک میں تین کبار صحابہ، کعب بن مالکؓ، ہلال بن اُمیہؓ، واقفی بدری اور مرارہؓ بن ربیع، بدری عمریؓ کو غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے سخت سزا دی گئی، آسمانی فیصلہ ہوا کہ ان تینوں سے تعلقات ختم کرلئے جائیں، ان سے مکمل مقاطعہ کیا جائے، کوئی شخص ان سے سلام وکلام نہ کرے، حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ بھی ان سے علیحدہ ہوجائیں اور ان کے لئے کھانا بھی نہ پکائیں۔ یہ حضرات روتے روتے نڈھال ہوگئے اور حق تعالیٰ کی وسیع زمین ان پر تنگ ہوگئی، وحیٔ قرآنی کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’ وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُواْ حَتّٰی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنفُسُہُمْ وَظَنُّواْ أَنْ لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللہِ اِلَّا إِلَیْہِ‘‘ (التوبۃ:۱۱۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ان تینوں پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہوگئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللّٰہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی، بجز اسی کی طرف۔‘‘
پورے پچاس دن تک یہ سلسلہ جاری رہا، آخرکار اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی یہ توبہ قبول فرمائی اور معافی ہوگئی۔
قاضی ابوبکر ابن العربی لکھتے ہیں کہ:
’’وفیہ دلیل علٰی ان للإمام ان یعاقب المذنب بتحریم کلامہ علی الناس ادبًا لہ ۔۔۔۔ وعلٰی تحریم اھلہ علیہ۔‘‘ (احکام القرآن لابن العربی ج:۲ ص:۱۰۲۶،طبع دار المعرفۃ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس قصے میں اس امر کی دلیل ہے کہ اِمام کو حق حاصل ہے کہ کسی گنہگار کی تادیب کے لئے لوگوں کو اس سے بول چال کی ممانعت کردے، اور اس کی بیوی کو بھی اس کے لئے ممنوع ٹھہرادے۔‘‘
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ:
’’وفیہ ترک السلام علٰی من اذن وجواز ھجرہ اکثر من ثلاث۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس سے ثابت ہوا کہ گنہگار کو سلام نہ کیا جائے اور یہ کہ اس سے قطع تعلق تین روز سے زیادہ بھی جائز ہے۔‘‘
466
بہرحال کعب بن مالکؓ اور ان کے رُفقاء کا یہ واقعہ قرآنِ کریم کی سورۂ توبہ میں مذکور ہے اور اس کی تفصیل صحیح بخاری، صحیح مسلم اور تمام صحاحِ ستہ میں موجود ہے۔
اِمام ابوداؤدؒ نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں کتاب السنۃ کے عنوان کے تحت متعدّد ابواب قائم کئے ہیں:
الف:۔۔۔ ’’باب مجانبۃ أھل الأھواء وبغضھم‘‘ (ج:۲ ص:۲۷۶)، اہلِ اہواء باطل پرستوں سے کنارہ کشی کرنے اور بغض رکھنے کا بیان۔
ب:۔۔۔ ’’باب ترک السلام علٰی أھل الأھواء‘‘ (ج:۲ ص:۲۷۶) اہل اہواء سے ترکِ سلام وکلام کا بیان۔
سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ عمار بن یاسر رضی اللّٰہ عنہ نے ’’خلوق‘‘ (زعفران) لگایا تھا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کا جواب نہیں دیا،(۱) غور فرمائیے کہ معمولی خلافِ سنت بات پر جب یہ سزا دِی گئی تو ایک مرتد موذی اور کافر محارب سے بات چیت، سلام وکلام اور لین دین کی اِجازت کب ہوسکتی ہے؟
اِمام خطابی ’’معالم السنن‘‘ (ج:۴ ص:۲۹۶) میں حدیثِ کعبؓ کے سلسلے میں تصریح فرماتے ہیں کہ: ’’مسلمانوں کے ساتھ بھی ترکِ تعلق اگر دِین کی وجہ سے ہو تو بلاقید اَیام کیا جاسکتا ہے، جب تک توبہ نہ کریں۔‘‘
۵:۔۔۔ مسند احمد وسنن ابی داؤد میں ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’القدریۃ مجوس ھٰذہ الاُمّۃ، إن مرضوا فلا تعودوھم، وإن ماتوا فلا تشھدوھم۔‘‘
(سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۸۸، باب فی القدر، طبع ایچ ایم سعید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تقدیر کا اِنکار کرنے والے اس اُمت کے مجوسی ہیں، اگر بیمار ہوں تو عیادت نہ کرو اور اگر مرجائیں تو جنازہ پر نہ جاؤ۔‘‘
۶:۔۔۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ:
’’لا تجالسوا اھل القدر ولا تفاتحوھم۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’منکرینِ تقدیر کے ساتھ نہ نشست وبرخاست رکھو اور نہ ان سے گفتگو کرو۔‘‘
بہرحال یہ تو حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِرشادات ہیں، عہدِ نبوّت کے بعد عہدِ خلافتِ راشدہ میں بھی اسی طرزِعمل کا ثبوت ملتا ہے، مانعینِ زکوٰۃ کے ساتھ صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کا اِعلانِ جہاد کرنا بخاری ومسلم میں موجود ہے، مسیلمہ کذّاب، اسودعنسی، طلیحہ اسدی اور ان کے پیروؤں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، اس سے حدیث وسِیَر کا معمولی طالبِ علم بھی واقف ہے۔ عہدِفاروقی میں ایک شخص صبیغ عراقی قرآنِ کریم کی آیات کے ایسے معانی بیان کرنے لگا جن میں ہوائے نفس کو دخل تھا، اور ان سے مسلمانوں کے عقائد میں تشکیک کا راستہ کھلتا تھا۔ یہ شخص فوج میں تھا، جب عراق سے مصر گیا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللّٰہ عنہ
(۱)عن عمار بن یاسر رضی ا اللہ عنہ قال: قدمت علٰی أھلی لیلًا وقد تشققت یدای فخلقونی بزعفران، فغدوت علی النبی صلی ا اللہ علیہ وسلم فسلّمت علیہ فلم یرد علیّ ۔۔۔إلخ۔ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۱۹، باب فی الخلوق للرجال، طبع ایچ ایم سعید)۔
467
گورنر مصر کو اس کی اِطلاع ہوئی تو انہوں نے اس کو حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے پاس مدینہ بھیجا اور صورتِ حال لکھی۔ حضرت عمرؓ نے نہ اس کا موقف سنا نہ دلائل، اس سے بحث ومباحثہ میں وقت ضائع کئے بغیر اس کا ’’علاج بالجرید‘‘ ضروری سمجھا، فوراً کھجور کی تازہ ترین شاخیں منگوائیں اور اپنے ہاتھ سے اس کے سر پر بے تحاشا مارنے لگے، اتنا مارا کہ خون بہنے لگا، وہ چیخ اُٹھا کہ: ’’امیرالمؤمنین! آپ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں تو مہربانی کیجئے، تلوار لے کر میرا قصہ پاک کردیجئے، اور اگر صرف میرے دِماغ کا خناس نکالنا مقصود ہے تو آپ کو اِطمینان دِلاتا ہوں کہ اب وہ بھوت نکل چکا ہے۔‘‘ اس پر حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا، اور چند دِن مدینہ رکھ کر واپس عراق بھیج دیا اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ کو لکھا کہ:
’’ان لا یجالسہ احد من المسلمین!‘‘ (کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے!)
اس مقاطعہ سے اس شخص پر عرصۂ حیات تنگ ہوگیا تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو لکھا کہ اس کی حالت ٹھیک ہوگئی ہے، تب حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دی۔
۷:۔۔۔ سنن کبریٰ للبیہقی (ج:۹ ص:۸۴ طبع دار المعرفۃ بیروت) میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ:
’’امرنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اغور ماء آبار بدر‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’جنگِ بدر میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ بدر کے کنوؤں کا پانی خشک کردوں۔‘‘
اور ایک روایت میں ہے کہ:
’’ان یغور المیاہ کلھا غیر ماء واحد فنلقی القوم علیہ۔‘‘
(سنن الکبریٰ للبیھقی ج:۹ ص:۸۵ طبع دار المعرفۃ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’سوائے ایک کنویں کے جو بوقتِ جنگ ہمارے کام آئے گا، باقی سب کنویں خشک کردئیے جائیں۔‘‘
۸:۔۔۔ صحیح بخاری (ج:۲ ص:۱۰۲۳) میں ہے کہ حضرت علی کرّم اللّٰہ وجہہ کے پاس چند بددِین زِندیق لائے گئے تو آپ نے انہیں آگ میں جلادیا۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ کو اس کی اِطلاع پہنچی تو فرمایا: ’’اگر میں ہوتا تو انہیں جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کی سزا مت دو، بلکہ میں انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ!‘‘ ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص مرتد ہوجائے، اسے قتل کردو!‘‘۔
۹:۔۔۔ صحیح بخاری (ج:۱ ص:۴۲۳) میں مصعب بن جثامہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ: ’’رات کی تاریکی میں مشرکین پر حملہ ہوتا ہے تو عورتیں اور بچے بھی زَد میں آجاتے ہیں؟ فرمایا: وہ بھی انہی میں شامل ہیں!‘‘(۱)
(۱)عن الصعب بن جثامۃ رضی ا اللہ عنہ قال: مَرّ بی النبی صلی ا اللہ علیہ وسلم بالأبواء او بوَدّان وسئل عن اھل الدار یُبَیَّتون من المشرکین فَیُصابُ من نسائھم وذراریھم، قال: ھم منھم! (صحیح البخاری ج:۱ ص:۴۲۲، باب اھل الدار یبیتون فیصاب الولدان ۔۔۔إلخ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
468
اب فقہ کی چند تصریحات ملاحظہ ہوں:
۱:۔۔۔ علامہ دردیر مالکی شرح کبیر میں باغیوں کے اَحکام میں لکھتے ہیں کہ:
’’وقطع المیرۃ والماء عنھم إلَّا ان یکون فیھم نسوۃ وذراری۔‘‘ (ج:۴ ص:۲۹۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ان کا کھاناپانی بند کردیا جائے، اِلَّا یہ کہ ان میں عورتیں اور بچے ہوں۔‘‘
۲:۔۔۔ کوئی قاتل اگر حرمِ مکہ میں پناہ گزین ہوجائے، اس سلسلے میں ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں کہ:
’’فقال ابو حنیفۃ وابو یوسف ومحمد وزفر والحسن بن زیاد: إذا قَتل فی غیر الحرم ثم دخل الحرم لم یقتص منہ ما دام فیہ، ولٰکنہ لا یبایع ولا یواکل إلٰی ان یخرج من الحرم۔‘‘ (احکام القرآن ج:۲ ص:۲۱) (۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اِمام ابوحنیفہؒ، ابویوسفؒ، محمدؒ، زُفرؒ اور حسن بن زیادؒ کا قول ہے کہ جب کوئی حرم سے باہر قتل کرکے حرم میں داخل ہو تو جب تک حرم میں ہے، اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، مگر نہ اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی جائے، نہ اس کو کھانا دیا جائے، یہاں تک کہ وہ حرم سے نکلنے پر مجبور ہوجائے۔‘‘
۳:۔۔۔ درمختار میں ہے کہ:
’’وأفتی الناصحی بوجوب قتل کل مؤْذ، وفی شرح الوھبانیۃ ویکون بالنفی عن البلد وبالھجوم علٰی بیت المفسدین وبالإخراج من الدار وبھدمھا۔‘‘
(الدر المختار ج:۴ ص:۶۴، طبع ایچ ایم سعید، مطلب یکون التعزیر بالقتل)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ناصحی نے فتویٰ دیا ہے کہ ہر موذی کا قتل واجب ہے، اور ’’شرح وہبانیہ‘‘ میں ہے کہ تعزیر یوں بھی ہوسکتی ہے کہ شہر بدر کردیا جائے اور ان کے مکان کا گھیراؤ کیا جائے، انہیں مکان سے نکال باہر کیا جائے اور مکان ڈھادیا جائے۔‘‘
۴:۔۔۔ اِبن عابدین الشامی ردّالمحتار (ج:۴ ص:۶۵، مطلب یکون التعزیر بالقتل، طبع ایچ ایم سعید) میں لکھتے ہیں کہ:
’’قال فی احکام السیاسۃ: وفی المنتقی: وإذا سمع فی دارہ صوت المزامیر فأدخل علیہ لأنہ لما أسمع الصوت فقد أسقط حرمۃ دارہ۔ وفی حدود البزازیۃ، وغصب النھایۃ وجنایۃ الدرایۃ: ذکر صدر الشھید عن أصحابنا انہ یھدم البیت علٰی من اعتاد الفسق وانواع الفساد فی دارہ، حتّٰی لا بأس بالھجوم علٰی بیت المفسدین، وھجم عمر رضی اللہ عنہ علٰی نائحۃ فی منزلھا وضربھا بالدرۃ حتّٰی سقط خمارھا، فقیل لہ فیہ، فقال: لا حرمۃ لھا بعد إشتغالھا بالمحرم والتحقت بالإماء ۔۔۔۔۔۔۔۔ وعن عمر رضی اللہ عنہ انہ احرق بیت الخمار وعن الصفار
(۱) زیر آیت: ’’فِیْهِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا‘‘ (آل عمران:۹۷)، طبع سہیل اکیڈمی لاہور۔
469
الزاھدی الأمر بتخریب دار الفاسق۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اَحکام السیاسۃ میں ’’المنتقیٰ‘‘ سے نقل کیا ہے کہ: جب کسی کے گھر سے گانے بجانے کی آواز سنائی دے تو اس میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ جب اس نے یہ آواز سنائی تو اپنے گھر کی حرمت کو خود ساقط کردیا ہے۔ اور ’’بزازیہ‘‘ کی کتاب الحدود، و’’نہایہ‘‘ کے باب الغصب اور ’’درایہ‘‘ کے کتاب الجنایات میں لکھا ہے کہ: صدرالشہید نے ہمارے اصحاب سے نقل کیا ہے کہ جو شخص فسق وبدکاری اور مختلف قسم کے فساد کا عادی ہو، ایسے شخص پر اس کا مکان گرادیا جائے، حتیٰ کہ مفسدوں کے گھر میں گھس جانے میں بھی مضائقہ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ ایک نوحہ گر عورت کے گھر میں گھس آئے اور اس کے ایسا دُرّہ مارا کہ اس کے سر سے چادر اُترگئی، اور اپنے طرزِعمل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: حرام میں مشغول ہونے کے بعد اس کی کوئی حرمت نہیں رہی، اور یہ لونڈیوں کی صف میں شامل ہوگئی۔ حضرت عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے ایک شرابی کے مکان کو آگ لگادی تھی۔ صفار زاہدی کہتے ہیں کہ فاسق کا مکان گرادینے کا حکم ہے۔‘‘
۵:۔۔۔ مُلَّا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ (ج:۴ ص:۱۰۷، طبع اصح المطابع بمبئی) باب التعزیر میں لکھتے ہیں کہ:
’’وھٰذا تنصیص علی ان الضرب تعزیر یملکہ الإنسان وإن لم یکن محتسبًا وصرح فی المنتقیٰ بذالک۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور یہ کہ اس امر کی تصریح ہے کہ مارنا ایسی تعزیر ہے جس کا انسان اِختیار رکھتا ہے، خواہ محتسب نہ ہو، ’’المنتقیٰ‘‘ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔‘‘
یاد رہے کہ اس قسم کے مقاطعہ کا تعلق درحقیقت بغض فی اللّٰہ سے ہے جس کو حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: ’’أحبّ الأعمال الحبُّ فی ﷲ‘‘ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۷۶، باب مجانبۃ أھل الأھواء وبغضھم، طبع ایچ ایم سعید) فرمایا ہے، (کما فی روایۃ ابی ذر فی کتاب السُّنَّۃ عند ابی داوٗد)۔
بغض فی اللّٰہ کے ذیل میں اِمام غزالیؒ اِحیاء العلوم (ج:۲ ص:۱۶۸،۱۶۹ طبع دار المعرفۃ بیروت) میں بطور کلیہ لکھتے ہیں کہ:
’’الأوّل: الکفر، فالکافر إن کان محاربًا فھو یستحق القتل والإرقاق ولیس بعد ھٰذین إھانۃ۔ الثانی: المبتدع، الذی یدعو إلٰی بدعتہ، فإن کانت البدعۃ بحیث یکفر بھا فأمرہ أشد من الذمی لأنہ لا یقر بجزیۃ ولا یسامح بعقد ذمۃ، وإن کان ممن لا یکفر بہ فأمرہ بینہ وبین اللہ اخف من امر الکافر لا محالۃ، ولٰکن الأمر فی الإنکار علیہ اشد منہ علی الکافر لأن شر الکافر غیر متعد، فإن المسلمین اعتقدوا کفرہ فلا یلتفتون إلٰی قولہ۔۔۔إلخ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اوّل: کافر، پس کافر اگر حربی ہو تو اس بات کا مستحق ہے کہ قتل کیا جائے یا غلام بنالیا
470
جائے اور یہ ذِلت واہانت کی آخری حد ہے۔ دوم: صاحبِ بدعت، جو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہے، پس اگر بدعت حدِکفر تک پہنچی ہوئی ہو تو اس کی حالت کافر ذِمی سے بھی سخت تر ہے، کیونکہ نہ اس سے جزیہ لیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو ذِمی کی حیثیت دی جاسکتی ہے، اور اگر بدعت ایسی نہیں جس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دِیا جائے تو عنداللّٰہ تو اس کا معاملہ کافر سے لامحالہ اَخف(ہلکا) ہے، مگر کافر کی بہ نسبت اس پر نکیر زیادہ کی جائے گی، کیونکہ کافر کا شر متعدی نہیں، اس لئے کہ مسلمان کافر کو ٹھیٹ کافر سمجھتے ہیں، لہٰذا اس کے قول کو لائقِ اِلتفات ہی نہیں سمجھیں گے ۔۔۔الخ۔‘‘
ردالمحتار (ج:۴ ص:۲۴۴ طبع ایچ ایم سعید) میں قرامطہ کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’ونقل عن علماء المذاھب الأربعۃ انہ لا یحل إقرارھم فی دیار الإسلام بجزیۃ ولا غیرھا، ولا تحل مناکحتھم ولا ذبائحھم ۔۔۔۔۔۔۔۔ والحاصل انھم یصدق علیھم إسم الزندیق والمنافق والملحد، ولا یخفیٰ ان إقرارھم بالشھادتین مع ھٰذا الإعتقاد الخبیث لا یجعلھم فی حکم المرتد لعدم التصدیق، ولا یصح إسلام احدھم ظاھرًا إلَّا بشرط التبری عن جمیع ما یخالف دین الإسلام، لأنھم یدعون الإسلام، ویقرّون بالشھادتین وبعد الظفر بھم لا تقبل توبتھم اصلًا ۔۔۔الخ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’مذاہبِ اربعہ سے منقول ہے کہ انہیں اسلامی ممالک میں ٹھہرانا جائز نہیں، نہ جزیہ لے کر، نہ بغیر جزیہ کے، نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے، نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے ۔۔۔۔۔ حاصل یہ ہے کہ ان پر زِندیق منافق اور ملحد کا مفہوم پوری طرح صادق آتا ہے، اور ظاہر ہے کہ اس خبیث عقیدے کے باوجود ان کا کلمہ پڑھنا انہیں مرتد کا حکم نہیں دیتا، کیونکہ وہ تصدیق نہیں رکھتے، اور ان کا ظاہری اسلام غیرمعتبر ہے، جب تک کہ ان تمام اُمور سے جو دِینِ اسلام کے خلاف ہیں، براء ت کا اِظہار نہ کریں، کیونکہ وہ اسلام کا دعویٰ اور شہادتین کا اِقرار تو پہلے سے کرتے ہیں (مگر اس کے باوجود پکے بے ایمان اور کافر ہیں) اور ایسے لوگ گرفت میں آجائیں تو ان کی توبہ اصلاً قابلِ قبول نہیں۔‘‘
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب معین الحکام بسلسلہ تعزیر ایک مستقل فصل میں لکھا ہے کہ:
’’والتعزیر لا یختص بفعل معین ولا قول معین، فقد عزَّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالھَجْر، وذالک فی حق الثلاثۃ الذین ذکرھم اللہ تعالٰی فی القرآن العظیم فھُجِرُوا خمسین یومًا، لا یکلّمھم احدٌ، وقصتھم مشھورۃ فی الصحاح۔
وعزّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالنفی فأمر بإخراج المخنثین من المدینۃ ونفاھم، وکذالک الصحابۃ من بعدہ۔
471
ونذکر من ذالک بعض ما وردت بہ السُّنَّۃ مما قال ببعضہ اصحابنا، وبعضہ خارج المذھب۔
فمنھا: امر عمر بھَجر صبیغ الذی کان یسأل عن الذاریات وغیرھا، ویأمر الناس بالتَّفقُّہ فی المشکلات من القرآن، فضربہ ضربًا وجیعًا ونفاہ إلی البصرۃ أو الکوفۃ، وأمر بھَجرہ، فکان لا یکلّمہ احد حتّٰی تاب وکتب عامل البلد إلٰی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یخبرہ بتوبتہ فأذن للناس فی کلامہ۔
ومنھا: ان عمر رضی اللہ عنہ حلق رأس نصر بن حجَّاج ونفاہ من المدینۃ لما شبَّب النساء بہ فی الأشعار وخشی الفتنۃ بہ۔
ومنھا: ما فعلہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بالعُرَنِیِّین۔
ومنھا: ان ابابکر رضی اللہ عنہ استشار الصحابۃ فی رجل یُنکح کما تُنکح المرأۃ، فأشاروا بحرقہ بالنَّار، فکتب ابوبکر بذالک إلٰی خالد بن الولید، ثم حرقھم عبد اللہ بن الزبیر فی خلافتہ، ثم حرقم ھشام بن عبدالملک۔
ومنھا: ان ابابکر رضی اللہ عنہ حرق جماعۃ من الردۃ۔
ومنھا: امرہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بکسر دِنان الخمر وشق ظروفھا۔
ومنھا: امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم خیبر بکسر القدور التی طُبخ فیھا لحم الحُمر الأھلیّۃ، ثم استأذنوہ فی غسلھا، فأذن لھم، فدلّ علٰی جواز الأمرین لأن العقوبۃ بالکسر لم تکن واجبۃ۔
ومنھا: تحریق عمر المکان الذی یباع فیہ الخمر۔
ومنھا: تحریق عمر قصر سعد بن ابی وقّاص لما احتجب فیہ عن الرعیۃ وصار یحکم فی دارہ۔
ومنھا مُصادرۃ عُمر عُمّالہ بأخذ شطر أموالھم فقسّمھا بینھم وبین المسلمین۔
ومنھا: انہ ضرب الذی زَوَّر علٰی نقش خاتمہٖ واخذ شیئًا من بیت المال مائۃً، ثم ضربہ فی الیوم الثانی مائۃً، ثم ضربہ فی الیوم الثالث مائۃً، وبہ أخذ مالک لأن مذھبہ التعزیر یزاد علی الحد۔
ومنھا: ان عمر رضی اللہ عنہ لما وجد مع السائل من الطعام فوق کفایتہ وھو یسأل، أخذ ما معہ وأطعمہ إبل الصدقۃ۔ وغیر ذالک مما یکثر تعدادہ، وھٰذہ قضایا صحیحۃ
472
معروفۃ۔۔۔إلخ۔‘‘
معین الحکام (ج:۳ ص:۷۵)
’’ولا بأس بأن یبیع المسلمون من المشرکین ما بدا لھم من الطعام والثیاب وغیر ذالک، إلَّا السلاح والکراع والسبی سواء دخلوا إلیھم بأمان أو بغیر أمان، لأنھم یتقوَّون بذالک علٰی قتال المسلمین ولا یحل للمسلمین اکتساب سبب تقویتھم علٰی قتال المسلمین، وھٰذا المعنی لا یوجد فی سائر الأمتعۃ، ثم ھٰذا الحکم إذا لم یحاصروا حصنًا من حصونھم، فلا ینبغی لھم ان یبیعوا من أھل الحصن طعامًا ولا شرابًا ولا سببًا یقوِّیھم علی المقام، لأنھم إنما حاصروھم لینفد طعامھم وشرابھم، حتّٰی یعطوا بأیدیھم ویخرجوا علٰی حکم اللہ تعالٰی، ففی بیع الطعام وغیرھ منھم اکتساب سبب تقویتھم علی المقام فی حصنھم، بخلاف ما سبق فإن اھل الحرب فی دارھم یتمکنون من اکتساب ما یتقوَّون بہ علی المقام، لا بطریق الشراء من المسلمین، وأمّا أھل الحصن لا یمتکنون من ذالک بعد ما احاط المسلمون بھم، فلا یحل لأحد من المسلمین ان یبیعھم شیئًا من ذالک، فمن فعلہ فعلم بہ الإمام أدَّبہ علٰی ذالک لارتکابہ ما لا یحل۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور تعزیر کسی معین فعل یا معین قول کے ساتھ مختص نہیں، چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان تین حضرات کو (جو غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کا واقعہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں ذِکر فرمایا ہے، مقاطعہ کی سزا دِی تھی، چنانچہ پچاس دن تک ان سے مقاطعہ رہا، کوئی شخص ان سے بات تک نہیں کرسکتا تھا، ان کا مشہور قصہ صحاحِ ستہ میں موجود ہے۔ نیز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جلاوطنی کی سزا بھی دی، چنانچہ مخنثوں کو مدینہ سے نکالنے کا حکم دیا اور انہیں شہربدر کردیا۔ اسی طرح آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرامؓ نے بھی مختلف تعزیرات جاری کیں، ہم ان میں سے بعض کو جو اَحادیث کی کتابوں میں وارِد ہیں، یہاں ذکر کرتے ہیں، ان میں سے بعض کے ہمارے اصحاب قائل ہیں، اور بعض پر دیگر اَئمہ نے عمل کیا:
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ صبیغ نامی ایک شخص کو مقاطعہ کی سزا دِی، یہ شخص ’’الذاریات‘‘ وغیرہ کی تفسیر پوچھا کرتا تھا، اور لوگوں کو فہمائش کیا کرتا تھا کہ وہ مشکلاتِ قرآن میں تفقہ پیدا کریں۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس کی سخت پٹائی کی اور اسے بصرہ یا کوفہ جلاوطن کردیا اور اس سے مقاطعہ کا حکم فرمایا، چنانچہ کوئی شخص اس سے بات تک نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ وہ تائب ہوا اور وہاں کے گورنر نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو اس کے تائب ہونے کی خبر لکھ بھیجی، تب آپ نے لوگوں کو اِجازت دی کہ اس سے بات چیت کرسکتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے نصیر بن حجاج کا سر منڈواکر اسے مدینہ سے نکال دیا تھا، جبکہ عورتوں نے
473
اَشعار میں اس کی تشبیب شروع کردی تھی اور فتنے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قبیلہ عرنیہ کے افراد کو جو سزا دِی (اس کا قصہ صحاح میں موجود ہے)۔
حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو بدفعلی کراتا تھا، صحابہؓ سے مشورہ کیا، صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ اسے آگ میں جلادیا جائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ کو یہ حکم لکھ بھیجا، بعداَزاں حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہما اور ہشام بن عبدالملکؒ نے بھی اپنے اپنے دورِ خلافت میں اس قماش کے لوگوں کو آگ میں ڈالا۔
حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے مرتدین کی ایک جماعت کو آگ میں جلایا۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شراب کے مٹکے توڑنے کا اور اس کے مشکیزے پھاڑ دینے کا حکم فرمایا۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خیبر کے دِن ان ہانڈیوں کو توڑنے کا حکم فرمایا جن میں گدھوں کا گوشت پکایا گیا تھا، پھر صحابہ کرامؓ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اِجازت چاہی کہ انہیں دھوکر اِستعمال کرلیا جائے تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِجازت دے دی۔ یہ واقعہ دونوں باتوں کے جواز پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ ہانڈیوں کو توڑ ڈالنے کی سزا واجب نہیں تھی۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس مکان کو جلادینے کا حکم فرمایا جس میں شراب کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ نے جب رعیت سے الگ تھلگ اپنے گھر ہی میں فیصلہ کرنا شروع کیا تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ان کا مکان جلاڈالا۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے عُمّال کے مال کا ایک حصہ ضبط کرکے مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔
ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی مہر پر جعلی مہر بنوالی تھی اور بیت المال سے کوئی چیز لے لی تھی، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اس کے سو دُرّے لگائے، دُوسرے دن پھر سو دُرّے لگائے، اور تیسرے دِن بھی سو دُرّے لگائے۔ اِمام مالکؒ نے اسی کو لیا ہے، چنانچہ ان کا مسلک ہے کہ تعزیر مقدارِ ’’حد‘‘ سے زائد بھی ہوسکتی ہے۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ جب ایک سائل ایسا دیکھا جس کے پاس قدرِ کفایت سے زائد غلہ موجود تھا، اور وہ پھر بھی سوال کرتا تھا، تو آپ نے اس سے زائد غلہ چھین کر صدقے کے اُونٹوں کو کھلادیا۔
ان کے علاوہ اس نوعیت کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں اور صحیح اور معروف فیصلے ہیں۔
474
اور شرح سیر کبیر (ج:۳ ص:۷۵) میں ہے:
اور کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان، کافروں کے ہاتھ غلہ اور کپڑا وغیرہ فروخت کریں، مگر جنگی سامان اور گھوڑے اور قیدی فروخت کرنے کی اِجازت نہیں، خواہ وہ امن لے کر ان کے پاس آئے ہوں یا بغیر اَمان کے، کیونکہ ان چیزوں کے ذریعے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کو جنگی قوّت حاصل ہوگی، اور مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی چیز حلال نہیں جو مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کو تقویت پہنچانے کا سبب بنے اور یہ علت دیگر سامان میں نہیں پائی جاتی۔ پھر یہ حکم جب ہے جبکہ مسلمانوں نے ان کے کسی قلعے کا محاصرہ نہ کیا ہوا ہو، لیکن جب انہوں نے ان کے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہوا ہو تو ان کے لئے مناسب نہیں کہ اہلِ قلعہ کے ہاتھ غلہ یا پانی یا کوئی ایسی چیز فروخت کریں جو ان کے قلعہ بند رہنے میں ممد ومعاون ثابت ہو، کیونکہ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ اسی لئے تو کیا ہے کہ ان کا رَسد اور پانی ختم ہوجائے، اور وہ اپنے کو مسلمانوں کے سپرد کردیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے حکم پر باہر نکل آئیں، پس ان کے ہاتھ غلہ وغیرہ بیچنا، ان کے قلعہ بند رہنے میں تقویت کا موجب ہوگا۔ بخلاف گزشتہ بالا صورت کے، کیونکہ اہلِ حرب اپنے ملک میں ایسی چیزیں حاصل کرسکتے ہیں جن کے ذریعے وہاں قیام پذیر رہ سکیں، انہیں مسلمانوں سے خریدنے کی ضرورت نہیں، لیکن جو کافر کہ قلعہ بند ہوں، اور مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہو، وہ مسلمانوں کے کسی فرد سے ضروریاتِ زندگی نہیں خرید سکتے، لہٰذا کسی بھی مسلمان کو حلال نہیں کہ ان کے ہاتھ کسی قسم کی کوئی چیز فروخت کرے، جو شخص ایسی حرکت کرے اور اِمام کو اس کا علم ہوجائے تو اِمام اسے تادیب اور سرزنش کرے، کیونکہ اس نے غیرحلال فعل کا اِرتکاب کیا ہے۔‘‘
مذکورہ بالا نصوص اور فقہائے اسلام کی تصریحات سے حسبِ ذیل اُصول ونتائج منقح ہوکر سامنے آجاتے ہیں:
۱:۔۔۔ کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے، وہ گمراہ اور ظالم اور مستحقِ عذابِ الیم ہے۔
۲:۔۔۔ جو کافر، مسلمانوں کے دِین کا مذاق اُڑاتے ہین، ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نشست وبرخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔
۳:۔۔۔ جو کافر، مسلمانوں سے برسرپیکار ہوں، ان کے محلے میں ان کے ساتھ رہنا بھی ناجائز ہے۔
۴:۔۔۔ مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے، اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں، یہاں تک کہ اگر پیاس سے جان بلب ہوکر تڑپ رہا ہو، تب بھی اسے پانی نہ پلایا جائے۔
۵:۔۔۔ جو کافر، مرتد اور باغی، مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں، ان سے خرید وفروخت اور لین دین
475
ناجائز ہے، جبکہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو، بلکہ ان کی اِقتصادی ناکہ بندی کرکے ان کی جارحانہ قوّت کو مفلوج کردینا واجب ہے۔
۶:۔۔۔ مفسدوں سے اِقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اُسوۂ رسول ہے۔
۷:۔۔۔ اِقتصادی اور معاشرتی مقاطعہ کے علاوہ مرتدوں، موذیوں اور مفسدوں کو یہ سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں: قتل کرنا، شہربدر کرنا، ان کے گھروں کو ویران کرنا، ان پر ہجوم کرنا وغیرہ۔
۸:۔۔۔ اگر محارب کافروں اور مفسدوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی عورتیں اور بچے بھی تبعاً اس کی زَد میں آجائیں تو اس کی پروا نہیں کی جائے گی، ہاں! اِصالۃً عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں۔
۹:۔۔۔ ان لوگوں کے خلاف مذکورہ بالا اِقدامات کرنا دراصل اِسلامی حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر حکومت اس میں کوتاہی کرے تو خود مسلمان بھی ایسے اِقدامات کرسکتے ہیں جو ان کے دائرۂ اِختیار کے اندر ہوں، مگر انہیں کسی ایسے اِقدام کی اِجازت نہیں جس سے ملکی امن میں خلل وفساد کا اندیشہ ہو۔
۱۰:۔۔۔ مکمل مقاطعہ صرف کافروں اور مفسدوں سے ہی جائز نہیں، بلکہ کسی سنگین نوعیت کے معاملے میں ایک مسلمان کو بھی یہ سزا دِی جاسکتی ہے۔
۱۱:۔۔۔ زِندیق اور ملحد جو بظاہر اِسلام کا کلمہ پڑھتا ہو، مگر اندرونی طور پر خبیث عقائد رکھتا ہو، اور غلط تأویلات کے ذریعہ اِسلامی نصوص کو اپنے عقائدِ خبیثہ پر چسپاں کرتا ہو، اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدتر ہے کہ کافر اور مرتد کی توبہ بالاتفاق قابلِ قبول ہے، مگر بقول شامی، زِندیق کا نہ اِسلام معتبر ہے نہ کلمہ، نہ اس کی توبہ قابلِ اِلتفات ہے، اِلَّا یہ کہ وہ اپنے تمام عقائدِ خبیثہ سے براء ت کا اِعلان کرے۔
ان اُصول کی روشنی میں زیرِبحث فرد یا جماعت کی حیثیت اور ان سے اِقتصادی ومعاشی، اور معاشرتی وسیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہوجاتا ہے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
کتبہ:
ولی حسن ٹونکی غفراللّٰہ لہٗ
دارالافتاء مدرسہ عربیہ اسلامیہ
نیوٹاؤن کراچی
✨ ☪ ✨
476