فتاویٰ ختمِ نبوّت
(جلد اوّل)
شاہین ختم نبوت مخدوم مکرم حضرت مولانا اللّٰہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں:
بیس سال قبل ایک بار ضمناً کسی بات کے تذکرے میں مخدومنا المحترم حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا
کہ: "آج تک قادیانیت کے خلاف اُمت مسلمہ کے جو فتاویٰ جات شائع ہوئے ہیں، انہیں یکجا کردینا چاہئے!" بہت اہم امر
تھا، تب سوچ لیا کہ اِسے کرنا ضروری ہے، شہیداسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور شہیدِ ختم نبوّت حضرت
مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ سے تذکرہ کیا، انہوں نے تصویب وتائید سے سرفراز فرمایا چنانچہ فتاویٰ جات کی ان کتب کو
حاصل کیا گیا، ان کو پڑھ کر ان سے وہ فتاویٰ جات جو قادیانیت کے خلاف دئیے گئے تھے، ان کو جمع کیا گیا، ان کی
تخریج وتحقیق کی گئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فتاویٰ ختمِ نبوّت
| ترتیب |
حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری شہیدؒ |
| زیرنگرانی |
مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب |
| جدید ایڈیشن |
اگست 2014 |
| ناشر |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی |
2
پیش لفظ
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلحَمدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی!
اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تخلیق کی، ان سے اَمّاں حوا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کو وجود دِیا، پھر دونوں کے ملاپ سے اولادِ آدم وجود میں آئی۔ اولادِ آدم کو سمجھانے اور ان کی ہدایت وراہنمائی کے لئے اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے نبوّت کا سلسلہ جاری فرمایا اور اس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو منتخب فرمایا، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے:
1:۔۔۔ ’’اللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللہَ سَمِیْعٌ بَصِیْرٌ ‘‘
(الحج:۷۵)
’’اللّٰہ تعالیٰ منتخب کرلیتا ہے فرشتوں میں سے اَحکام پہنچانے والے اور آدمیوں میں سے، یقینی بات ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘
2:۔۔۔ ’’اللہُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ‘‘
(الانعام:۱۲۴)
’’اس موقع کو تو خدا ہی خوب جانتا ہے جہاں جہاں اپنا پیغام بھیجتا ہے۔‘‘
سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ دِینِ متین کی تکمیل ہوگئی، نعمتِ رُوحانی تام ہوگئی اور دِینِ اِسلام کو اللّٰہ تعالیٰ نے پسندیدہ دِین قرار دِیا، جیسا کہ ارشاد ہے:
’’الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً ‘‘
(المائدۃ:۳)
’’آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دِین کو میں نے کامل کردیا اور میں نے تم پر اپنا اِنعام تمام کردیا اور میں نے اِسلام کو تمہارے دِین بننے کے لئے پسند کرلیا۔‘‘
قرآنِ کریم اور اَحادیثِ متواترہ کی بنا پر اُمتِ مسلمہ کا قطعی اور متواتر عقیدہ چلا آرہا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوّت پر قائم نہیں کیا جائے گا، اور یہ کہ جو شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے گا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ کذّاب ، دجال ہوگا، جیسا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی:
’’سیکون فی اُمّتی کذّابون ثلاثون، کلہم یزعم انہ نبی، انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘
(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۲۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے، ہر ایک کا یہ خیال ہوگا کہ وہ نبی ہے، میں خاتم النّبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
مسیلمہ کذّاب نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جب یہ خط لکھا:
3
’’من مسیلمۃ رسول ﷲ إلٰی محمد رسول ﷲ، سلام علیک، امّا بعد! فإنی قد اشرکت فی الأمر وإن لنا نصف الأمر ولقریش نصف الأمر، لٰکن قریش قوم یعتدون‘‘
(دلائل النّبوّۃ ج:۵ ص:۳۳۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللّٰہ کی طرف سے محمد رسول اللّٰہ کے نام، بعد اس کے میں بھی تمہاری نبوّت میں شریک کردیا گیا ہوں۔ آدھی حکومت ہماری اور آدھی حکومت قریش کی، لیکن قریش ایسی قوم ہے جو زیادتی کرتی ہے۔ ‘‘
تو اس کے جواب میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ اس کو خط کا جواب لکھا:
’’من محمد رسول ﷲ إلٰی مسیلمۃ الکذَّاب، سلام علٰی من اتبع الہدیٰ، امّا بعد! فإن الأرض ﷲ یورثہا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین۔‘‘
(دلائل النّبوّۃ ج:۵ ص:۳۳۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ محمد رسول اللّٰہ کی جانب سے مسیلمہ کذّاب کے نام، سلامتی اُس پر ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! زمین اللّٰہ کی ہے،اللّٰہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنادیتا ہے، اور اچھا انجام متقیوں کے لئے ہے۔‘‘
یمامہ کے مدعیٔ نبوّت مسیلمہ کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس خط میں ’’کذّاب‘‘ لکھا، اسی لئے علمائے اُمت اور بزرگانِ دِین نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والوں کو کذّاب اور دجال ہی قرار دِیا ہے۔ اور تیس تو بڑے بڑے دجال وکذّاب ہوں گے، چھوٹوں کی کیا تعداد ہوگی؟ اس کا کسی کو معلوم نہیں۔ بہرحال اسلامی تاریخ میں بہت سے طالع آزماؤں نے نبوّت، رسالت، مسیحیت اور مہدویت کے دعوے کرکے اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق کو دامِ تزویر میں لینے کی کوشش کی اور ان کو شکار کرنا چاہا، ان میں سے ایک ہندوستان کے شہر قادیان کا باسی مرزا غلام احمد قادیانی ہے، جس نے گزشتہ صدی میں سب سے پہلے مبلغِ اسلام، مجدّدِ اِسلام، مثیلِ مسیح، ظلِ مسیح، مسیحِ موعود اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور ابلہ فریبی سے قرآن وحدیث کی نصوص میں تحریف کی، انبیائے کرام علیہم السلام اور سلف صالحین کی توہین وتذلیل کی، علمائے اُمت کو مغلظات سے نوازا اور سادہ لوح مسلمانوں کو دِینِ اِسلام سے منحرف کرکے، اپنے آپ کو کفر کا سرغنہ اور انہیں مرتدین کی صفوں میں لاکھڑا کیا۔
علمائے اُمت نے شروع دن سے ہی اسے کافر، مرتد اور دائرۂ اِسلام سے خارج قرار دِیا اور اس کے خلاف ہر طبقے کے علمائے کرام نے فتاویٰ دئیے۔ انہی فتاویٰ کو جمع کرکے ’’فتاویٰ ختمِ نبوّت ‘‘کے نام سے مسلمان بھائیوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ اس کی سبیل کیا ہوئی اور کس طرح ان فتاویٰ کو جمع کرنے کا کام شروع ہوا؟ اس بارے میں شاہینِ ختمِ نبوّت مخدومِ مکرم حضرت مولانا اللّٰہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’بیس سال قبل ایک بار ضمناً کسی بات کے تذکرے میں مخدومنا المحترم حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہٗ نے فرمایا کہ: ’’آج تک قادیانیت کے خلاف اُمت ِ مسلمہ کے جو فتاویٰ جات شائع ہوئے ہیں، انہیں یکجا کردینا چاہئے!‘‘ بہت اہم امر تھا، تب سوچ لیا کہ اِسے کرنا ضروری ہے۔ شہیدِ اِسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور شہیدِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خانؒ سے تذکرہ کیا، انہوں نے تصویب وتائید سے سرفراز فرمایا۔
لیکن ’’کل أمر مرھون بأوقاتہا‘‘ کے بموجب اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوتی گئی۔ شہیدِ اِسلام حضرت لدھیانویؒ کی شہادت کے بعد اِحساس ہوا کہ حضرت مرحوم کی زندگی میں اور ان کی زیرِ نگرانی یہ کام ہوجاتا تو ’’نورٌ علٰی نورٍ‘‘ کا مصداق ہوتا۔ بہرحال اب مزید تاخیرنہیں ہونی چاہئے۔ چنانچہ مخدوم ومحترم حضرت مولانا
4
مفتی محمد جمیل خانؒ اور حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری رئیس دارالافتاء ختمِ نبوّت کراچی کی مشاورت سے اس کام کو ہنگامی بنیادوں پر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ہر دو حضرات نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل اور دارالافتاء ختمِ نبوّت کراچی کے رکن حضرت مولانا مفتی فخرالزمان صاحب کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ملتان دفتر مرکزیہ جاکر اس کام کو سراَنجام دیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ ملتان تشریف لائے، طریقۂ کار کے خطوط متعین کئے اور کام شروع کردیا، چنانچہ فتاویٰ جات کی ان کتب کو حاصل کیا گیا، ان کو پڑھ کر ان سے وہ فتاویٰ جات جو قادیانیت کے خلاف دئیے گئے تھے، ان کو جمع کیا گیا، ان کی تخریج وتحقیق کی گئی۔
قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ اور کتبِ قادیانیہ کے حوالہ جات کو ایڈیشنوں کی قید کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ کام برادرِ عزیز مولانا مفتی فخرالزمان، مولانا عبدالستار حیدری اور جناب عزیزالرحمن رحمانی نے سراَنجام دیا۔
مولانا مفتی فخر الزمان صاحب اس پورے مسوّدے کو کراچی ساتھ لے گئے، حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری مدظلہٗ نے ترتیب کے لئے خاکہ مرتب کیا، ایک ایک فتویٰ پر سرخی قائم کی، پھر تبویب وترتیب قائم کی۔ آپ کے گرامیٔ قدر رُفقاء مولانا مفتی محمد نعیم امجد سلیمی اور مولانا مفتی عبدالقیوم دین پوری نے بھی آپ کی راہ نمائی میں اس کام پر نظر ڈالی، یوں تقریباً اڑھائی سال کی محنت کے بعد مسوّدہ اس قابل ہوا کہ اسے کمپوزر کے سپرد کرسکیں۔‘‘
’’فتاویٰ ختمِ نبوّت‘‘ ابھی زیورِ طبع سے آراستہ ہونے کے مراحل میں ہی تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی شوریٰ کے اہم رکن اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزی، شہید کردئیے گئے، اس کے چارماہ دس دن بعد عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے بیرون ملک اُمور کے سفیر حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان اور ختمِ نبوّت کراچی کے مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی نوّر اللّٰہ مراقدہما کو بھی دن دیہاڑے شہید کردیا گیا۔ بہرحال ’’فتاویٰ ختمِ نبوّت‘‘ کی طباعت کے مراحل ان سانحات وحوادثات کی بنا پر کچھ عرصہ معرضِ التوا میں رہے، لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور ختمِ نبوّت کے صدقے اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا، اور ہاتھوںہاتھ بک گیا۔
اب جب اس نئے ایڈیشن کو نظرِثانی کے بعد جدید کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے تو افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت اس کام کے سرخیل اور عظیم راہنما حضرت اقدس مولانا سعید احمد جلالپوری اور حضرت مولانا فخرالزمان، بھائی محمد حذیفہ اور بھائی عبدالرحمن سری لنکن بھی مرتبۂ شہادت پر فائز ہوچکے ہیں۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ان تمام شہداء کی شہادتوں کو قبول فرمائیں اور ان کی قربانیوں کی بدولت اُمتِ مسلمہ کو ہر زیغ وضلال، باطل فتنوں اور خصوصاً قادیانیت، غامدیت اور ہر راہ زن کی راہ زنی سے محفوظ فرمائے۔
یہ اس کتاب کا دُوسرا ایڈیشن ہے، جس کی راقم الحروف نے نئے سرے سے کمپوزنگ کراکر اس کی پروف ریڈنگ کی ہے، تمام حوالہ جات کی اصل مأخذ کو سامنے رکھ کر تصحیح کی گئی ہے اور جہاں جہاں مزید تخریج کی ضرورت تھی، وہاں تخریج کی گئی ہے، اس کام کے لئے حضرت مولانا مفتی محمد عبداللّٰہ حسن زئی صاحب اور مفتی محمد زکریا صاحب نے اَنتھک محنت اور معاونت کی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرمائے۔
وصلی ﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ اجمعین
محمد اعجاز مصطفی
۴؍رجب۱۴۳۵ھ
۴؍مئی۲۰۱۴ء
5
حرفِ چند
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلحَمدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی!
محض اللّٰہ رَبّ العزّت کے فضل وکرم، احسان وتوفیق، عنایت ورحمت سے ’’فتاویٰ ختمِ نبوّت‘‘ کی مکمل تین جلدیں پیشِ خدمت ہیں۔ پہلی جلد میں تقریباً انتیس(۲۹) متداول فتاویٰ جات سے قادیانیت کے خلاف سینکڑوں فتاویٰ کو جمع کیا گیا ہے۔ جلدِثانی میں ان پندرہ(۱۵) رسائل کو جمع کردیا گیا ہے جو مختلف اوقات میں قادیانیت کے خلاف شائع ہوتے رہے۔ تیسری جلد میں بیس(۲۰) رسائل شامل ہیں، ان رسائل میں قادیانی ارتداد کی شرعی وقانونی حیثیت پر بحث کی گئی ہے۔ اللّٰہ رَبّ العزّت اپنے فضل وکرم کی بارش نازل فرمائیں ان حضرات کی اَرواحِ طیبہ پر جنہوں نے قادیانیت کے خلاف فتویٰ کے میدان کو سر کیا۔
چند توضیحات
1:۔۔۔ اس کتاب میں جواہر الفقہ جلد اول سے ’’وصول الافکار‘‘شامل نہیں، اس لئے کہ وہ ’’احتسابِ قادیانیت‘‘ جلد تیرہ میں شائع ہوچکا ہے۔
2:۔۔۔ بعض فتاویٰ جات ترک کردئیے گئے، مثلاً ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ اور ’’احسن الفتاویٰ‘‘ کے بعض فتاویٰ جات ترک کرنے پڑے، اس لئے کہ ہر دو بزرگ حضرات فتنۂ قادیانیت کے خلاف فتویٰ دیتے وقت فتاویٰ جات کو صرف رَدِّ قادیانیت تک محدود نہ رکھ سکے۔
3:۔۔۔ فتاویٰ حکیمیہ کے بعض فتاویٰ کو مختصر اور بعض کو قلم زَد کرنا پڑا، اس لئے کہ اس میں بعض دوسرے فتاویٰ جات کے فتووں کو من وعن اپنا فتویٰ ظاہر کیا گیا ہے، بعض دُوسرے حضرات کے رسالہ جات کو نام لئے بغیر اپنے فتویٰ کا جزو بنایا گیا، اور دُوسروں کے رسالہ جات کو اپنے فتویٰ میں ضم کرنے کے لئے سوال تیار کیا گیا، وغیرہ۔ ان تسامحات کے ہوتے ہوئے ہمارے لئے اس کے بغیر اور کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ اس کو ترک کرتے یا اختصار کرتے۔ علاوہ ازیں افسوس کہ اس فتویٰ میں بعض مقام پر فتویٰ کی جگہ خطابت نے لے لی ہے۔
4:۔۔۔ اس کے علاوہ تقریباً تمام فتاویٰ جات سے رَدِّ قادیانیت کے موضوع پر فتاویٰ شامل ہوگئے ہیں، کہیں سہو ہوا ہو تو
6
اللّٰہ رَبّ العزّت سے معافی کے طلب گار ہیں۔ ہر فتویٰ کے آخر میں جس کتاب سے وہ فتویٰ لیا گیا، اصل کتاب کا حوالہ بقید صفحہ وجلد دے دیا گیا ہے۔
5:۔۔۔ اس میں صرف مطبوعہ فتاویٰ جات کو جمع کیا گیا ہے اور وہ بھی وہ جو فتاویٰ کی کتب میں مل گئے۔ غیرمطبوعہ یا دیگر رسائل وغیرہ میں قادیانیت کے خلاف جو فتاویٰ شائع ہوئے، ان کو ہم اس میں شامل نہیں کرپائے۔
6:۔۔۔ اس کتاب میں شامل فتاویٰ جات پر مزید محنت کی ضرورت تھی ۔۔۔۔جو ہم نہیں کرپائے۔۔۔۔ تاہم جو کچھ ہوسکا، وہ پیش خدمت ہے، حق تعالیٰ اسے شرفِ قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔
7:۔۔۔ پہلے ایڈیشن کی پروف ریڈنگ کے لئے حضرت مولانا عزیزالرحمن ثانی، حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد، جناب الحاج رانا محمد طفیل جاوید اور برادرم قاری محمد حفیظ اللّٰہ نے معاونت کی۔ غرض ہر وہ شخص جس نے اس کتاب کی اِشاعت کے کسی مرحلے میں کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا، وہ سب عنداللّٰہ اجرِ عظیم اور عندالناس شکریہ کے مستحق ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ‘ ان سب دوستوں اور بزرگوں کو دارین میں جزائے خیر نصیب فرمائیں، آمین!
پہلی جلد میں شامل فتاویٰ جات جن کتب سے لئے گئے ہیں، ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
1:... فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، 2:... کفایت المفتی، 3:... آپ کے مسائل اور اُن کا حل، 4:... خیرالفتاویٰ، 5:... فتاویٰ مفتی محمودؒ، 6:... فتاویٰ محمودیہ، 7:... فتاویٰ رحیمیہ، 8:... امداد الفتاویٰ، 9:... امداد الاحکام، 10:... فتاویٰ حقانیہ، 11:... اَحسن الفتاویٰ، 12:... فتاویٰ نذیریہ (غیرمقلد)، 13:... فتاویٰ ثنائیہ (غیرمقلد)، 14:... فتاویٰ مولانا عبداللّٰہ روپڑی (غیرمقلد)، 15:... اَحکام ومسائل، 16:... فتاویٰ نعیمیہ (بریلوی)، 17:... فتاویٰ مہریہ (بریلوی)، 18:... اَحکامِ شریعت (بریلوی)، 19:... فتاویٰ رضویہ (بریلوی)، 20:... منہاج الفتاویٰ (بریلوی)، 21:... تفہیم الاحکام (مودودی)، 22:... فتاویٰ جماعتیہ (جماعت اسلامی)، 23:... فتاویٰ نظامیہ، 24:... فتاویٰ امجدیہ (بریلوی)، 25:... فتاویٰ حکیمیہ (بریلوی)، 26:... عبقات (علامہ خالد محمود)، 27:... فتاویٰ علماء اہلِ حدیث (غیرمقلد)، 28:... نظام الفتاویٰ، 29:... جواہر الفقہ
جلد دوم میں شامل کئے گئے رسائل کی تفصیل درج ذیل ہے:
1:... اقتباس اَز فتاویٰ قادریہ( مولانا محمد قادری)
2:... رجم الشیاطین بر اغلوطات البراہین( مولانا غلام دستگیر قصوری)
3:... فتویٰ علمائے پنجاب وہندوستان بحق مرزا غلام احمد ساکن قادیان( مولانا محمد حسین بٹالویؒ)
4:... فتاویٰ تکفیر منکر عروجِ جسمی ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام( مولانا قاضی عبیداللّٰہ)
5:... درّہ زاہدیہ بر فرقہ احمدیہ( مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ)
6:... قہر یزدانی بر دجالِ قادیانی( حافظ سیّد پیر ظہور شاہ قادریؒ)
7
7 :... القول الصحیح فی مکائد المسیح (مولانا محمد سہولؒ دیوبند)
8 :... فتویٰ تکفیرِ قادیان ( کتب خانہ اعزازیہ دیوبند)
9:... استنکاف المسلمین عن مخالطۃ المرزائیین (انجمن حفظ المسلمین امرتسر)
10:... مرزائی کا جنازہ اور مسلمان (مولانا احمد سعید گوجرانوالہ)
11:... مرزائی کا جنازہ اور اس کے نہ پڑھنے کا حکم ( حافظ عبدالحقؒ سیالکوٹ)
12:... عرب وعجم کے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ علماء کا متفقہ فتویٰ ( اہلیان علاقہ مانسہرہ)
13:... علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ: قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائی بھی کافر ہیں ( اراکین مسجد ووکنگ انگلینڈ)
14:... القادیانیۃ فی نظر علماء الاُمّۃ الإسلامیۃ (علمائے حرمین وشام)
15:... قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ، اسلامی عدل وانصاف کے عین مطابق ہے ( مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی)
جلد سوم میں شامل کئے گئے رسائل کی تفصیل درج ذیل ہے:
1:... استفسارات حول الطائفۃ القادیانیۃ (مجمع الفقہ الاسلامی جدہ)
2:... مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں کو دفن کرنا جائز نہیں ( مولانا عبداللّٰہ کلام)
3:... فتویٰ حیاتِ مسیح علیہ السلام ( مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ)
4:... علمی وتحقیقی فتویٰ (مولانا عبیداللّٰہ عفیف)
5:... فتویٰ شریعت غرّا (ا،۲) (انجمن اہل حدیث، وزیر آباد)
6:... اسلام میں مرتد کی شرعی حیثیت (مولانا محمد مراد صاحب مدظلہٗ)
7:... مرتد کے اَحکام اسلامی قانون میں ( جسٹس تنزیل الرحمن)
8:... قادیانیوں کی شرعی وقانونی حیثیت ( مولانا علامہ خالد محمود)
9:... گستاخِ رسول کی سزا قتل ( سیّد احمد سعید کاظمی)
10:... سوشل بائیکاٹ کی شرعی حیثیت ( مفتی محمد امین)
11:... اہلِ قبلہ کی تحقیق ( مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی)
12:... التحفۃ القادریۃ عن أسئلۃ المرزائیۃ ( صاحبزادہ مفتی عبدالقادر)
13:... اسلام میں شاتمِ رسول کی سزا ( مولانا مفتی انعام الحق)
14:... حرمۃ تدفین المرتدین فی مقابر المسلمین ( مولانا سیف اللّٰہ حقانی)
15:... مرتد کی سزا اسلامی قانون میں ( سیّد ابوالاعلیٰ مودودی)
16:... اِظہارِ حقیقت واِبطالِ قادیانیت ( ابوالسعود محمد سعداللّٰہ المکی)
17:... السوء العقاب علی المسیح الکذاب (مولوی احمد رضاخان)
18:... دفع الإلحاد عن حکم الإرتداد ( مولانا نور محمد خان)
19:... لاہوری اور قادیانی مرزائی، دونوں کافر ہیں ( مفتی ولی حسن ٹونکی)
20:... حفظِ ایمان از فتنۂ قادیان ( بابوپیربخش خان لاہوری)
8
: فقیر نے تحاریک ہائے ختمِ نبوّت پر کام شروع کیا، تو تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء پر ضخیم کتاب شائع ہوگئی۔ تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۷۴ء کی رُوئیداد تین ضخیم جلدوں میں مکمل ہوگئی۔ البتہ تحریکِ ختمِ نبوّت ۱۹۸۴ء پر لکھنا شروع کیا، تو وہ کام نہ صرف ادھورا رہ گیا، بلکہ اب تو اس کا مسوّدہ بھی نہیں مل رہا۔
: ’’اِحتسابِ قادیانیت‘‘ کی اٹھاون جلدوں پر کام ہوا، لیکن ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
: البتہ فتاویٰ ختمِ نبوّت پر تین جلدوں کے بعد کسی حد تک کام مکمل ہوگیا۔ اس کام کی تکمیل پر جتنی خوشی ہونی چاہئے، اس کا جو قارئین اندازہ فرمائیں، ان سے دُعاؤں کی درخواست ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ بقیہ متذکرہ بالا کام بھی مکمل کرادیں، وما ذٰلك علی ﷲ بعزیز! حق تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت نصیب فرمائیں۔ جو کچھ ہوا کریم کے کرم سے ہوا، جو ہوگا کریم کے کرم سے ہوگا۔
عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کا پلیٹ فارم قادیانی فتنے کے خلاف پوری اُمت کو جمع کرنے کا داعی ہے، گویا آگ اور پانی کو ایک ساتھ لے کر چلنا۔ فتاویٰ جات کی تمام جلدوں میں بالعموم، تیسری جلد میں بالخصوص متضاد سمتوں میں پھیلے ہوئے آگ کے الاؤ اور پانی کے سیلابوں کے بہاؤ کو ایک پُل سے نیچے سے گزارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے؟ یہ قارئین کے فیصلے پر منحصر ہے! ہماری مجبوری کو معاف کردیں تو بھی جان بچی لاکھوں پائے۔ اللّٰہ رَبّ العزّت جو دِل کے بھیدوں کو جاننے والی ذات ہے، کو گواہ بنا کر عرض کرتے ہیں کہ قادیانی فتنے کی چیرہ دستیوں اور سفاکانہ وارداتوں نے اُمتِ مسلمہ کو اِرتداد کے وہ چِرکے لگائے ہیں کہ جس سے اُمتِ محمدیہ مضمحل ہوگئی ہے۔ جس طرح بکریوں کے ریوڑ سے ایک ایک کرکے اِرتدادی بھیڑیے ہر روز اپنے لئے نیا تر نوالہ تلاش کرتے چلے جارہے ہیں، ہمیں اِرتدادی بھیڑیے سے ریوڑ کے بچاؤ کا اِہتمام کرنا ہے اور بس!
اللّٰہ تعالیٰ پوری اُمت کو قادیانی فتنے کی سنگینی کا احساس عنایت فرمائے۔ محراب ومنبر، مسجد ومدرسہ، مسندِ اِرشاد، ومسندِ اِفتاء سب اپنی ذمہ داری کا خیال فرمائیں تو اُمت کے درد کا کچھ درماں ہوجائے۔
اے اُمتِ محمدیہ! اس یقین کو اپنے دِل میں مستحکم کر، کہ قادیانی فتنہ دراصل آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے بغاوت کی تحریک ہے۔ اس سے بچنا اور پوری اُمت کو بچانا، اپنے اپنے دائرے میں ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے۔ اے مولائے پاک! تو سب کو اس کا اِدراک نصیب فرمادے، تیرے لئے کیا مشکل ہے۔۔۔؟ آمین بحرمۃ النبی الکریم! (a)
فقیر اللّٰہ وسایا
دفتر مرکزیہ ملتان
✨ 🌟 ✨
9
کتاب العقائد
بابِ اوّل
قادیانی اور کلمہ طیبہ
کلمہ شہادت اور قادیانی
سوال:۔۔۔ اخبار ’’جنگ‘‘ میں ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے عنوان کے تحت آنجناب نے ایک سائل کے جواب میں کہ کسی غیرمسلم کو مسلم بنانے کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا ہے کہ:
’’غیرمسلم کو کلمۂ شہادت پڑھادیجئے، مسلمان ہوجائے گا۔‘‘
اگر مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمۂ شہادت پڑھ لینا کافی ہے تو پھر قادیانیوں کو باوجود کلمۂ شہادت پڑھنے کے غیرمسلم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ اَزراہِ کرم اپنے جواب پر نظرِثانی فرمائیں۔ آپ نے تو اس جواب سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیردیا ہے۔ قادیانی اس جواب کو اپنی مسلمانی کے لئے بطورِ سند پیش کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کریں گے اور آپ کو بھی خدا کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔
جواب:۔۔۔ مسلمان ہونے کے لئے کلمۂ شہادت کے ساتھ خلافِ اسلام مذاہب سے بیزار ہونا اور ان کو چھوڑنے کا عزم کرنا بھی شرط ہے۔(۱) یہ شرط میں نے اس لئے نہیں لکھی تھی کہ جو شخص اسلام لانے کے لئے آئے گا، ظاہر ہے کہ وہ اپنے سابقہ عقائد کو چھوڑنے کا عزم لے کر ہی آئے گا۔ باقی قادیانی حضرات اس سے فائدہ نہیں اُٹھاسکتے، کیونکہ ان کے نزدیک کلمۂ شہادت پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا، بلکہ مرزاقادیانی کی پیروی کرنے اور ان کی بیعت کرنے میں شامل ہونے سے مسلمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے انہیں یہ اِلہام کیا ہے کہ:
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(تذکرہ طبع جدید ص:۳۳۶)
(۱) فلا یکون مسلمًا بالشھادتین، حتی یتبرأ من دینہ الذی یدین بہ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۴۲۳، کتاب السیر، بماذا یصیر الکافر مسلما، طبع دار الکلم الطیب، بیروت)۔
33
نیز مرزاقادیانی اپنا یہ اِلہام بھی سناتا ہے کہ:
’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ اِلہامات ص:۶۰۷ طبع دوم)
مرزاقادیانی کے بڑے صاحب زادے مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں:
’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص:۳۵)
مرزاقادیانی کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)
قادیانیوں سے کہئے کہ ذرا اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بات کیا کریں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۱۹۹،۲۰۰ طبع مکتبہ لدھیانوی)
مسلمان اور قادیانی کے کلمے اور اِیمان میں بنیادی فرق
سوال:۔۔۔ انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دِین کا زیادہ علم نہیں رکھتے، لیکن مسلمانوں کے آپس کے اِفتراق سے بیزار ہیں، قادیانیوں کے سلسلے میں بڑے گومگو میں ہیں۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے، جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ دُوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٔ نبوّت کیا تھا۔ برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں، کیونکر کافر ہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو پھر آپ لوگ مرزاقادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزاقادیانی کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے نے اپنے رسالے ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں اس سوال کے دو جواب دئیے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی صاحبان ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟
مرزا بشیر احمد قادیانی کا پہلا جواب یہ ہے کہ:
’’محمد رسول اللّٰہ کا نام کلمے میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النّبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں، ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں! حضرت مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیحِ موعود
34
(مرزاقادیانی) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللّٰہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) کی آمد نے محمد رسول اللّٰہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)
یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیرمسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق! جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمے کے مفہوم میں مرزاقادیانی بھی شامل ہے، اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ’’زیادتی‘‘ سے پاک ہے۔
اب دُوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے لکھتا ہے:
’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے، جیسا کہ وہ (یعنی مرزاقادیانی) خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللّٰہ ہی کا وجود بن گیا ہے ۔۔۔اَز ناقل)۔ نیز:’’مَن فرَّق بینی وبین المصطفٰی فما عرفنی وما راٰی‘‘ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفی کو الگ الگ سمجھا، اس نے مجھے نہ پہچانا، نہ دیکھا ۔۔۔ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النّبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، (نعوذباللّٰہ ۔۔۔ناقل) جیسا کہ آیت اٰخَرِینَ مِنہُم سے ظاہر ہے۔
پس مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللّٰہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللّٰہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔۔۔۔۔۔ فتدبروا۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلجنز جلد:۱۴، نمبر:۳،۴ باب ماہ مارچ واپریل ۱۹۱۵ء)
یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے میں دُوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم مراد ہیں، اور قادیانی جب ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔
مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے نے جو لکھا ہے کہ ’’مرزا قادیانی خود محمد رسول اللّٰہ ہیں جو اشاعتِ اسلام کے لئے دُنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں‘‘ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے۔ جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دُنیا میں دو بار آنا تھا۔ چنانچہ پہلے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دُوسری بار آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مرزا
35
غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزاقادیانی نے تحفۂ گولڑویہ، خطبہ اِلہامیہ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دُہرایا ہے۔ (دیکھئے: خطبہ اِلہامیہ ص:۲۵۴، خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۴) یاد رہے کہ قادیانیوں کا یہ بروزی فلسفہ بعینہٖ ہندوؤں کا اواگون ہے۔
اس نظریے کے مطابق قادیانی اُمت مرزاقادیانی کو ’’عین محمد‘‘ سمجھتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبے کے لحاظ سے مرزاقادیانی اور محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے، نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں، بلکہ دونوں ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی ۔۔۔غیرمسلم اقلیت۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو وہ تمام اوصاف والقاب اور مرتبہ ومقام دیتی ہے جو اہلِ اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزاقادیانی بعینہٖ محمد رسول اللّٰہ ہیں، محمدِ مصطفی ہیں، احمدِ مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، اِمامُ الرسل ہیں، رحمۃللعالمین ہیں، صاحبِ کوثر ہیں، صاحبِ معراج ہیں، صاحبِ مقامِ محمود ہیں، صاحبِ فتحِ مبین ہیں، زمین وزمان اور کون ومکان صرف مرزاقادیانی کی خاطر پیدا کئے گئے، وغیرہ وغیرہ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزاقادیانی کی ’’بروزی بعثت‘‘ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے رُوحانیت میں اعلیٰ واکمل ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ رُوحانی ترقیات کی اِبتدا کا زمانہ تھا، اور مرزاقادیانی کا زمانہ ان ترقیات کی اِنتہا کا۔ وہ صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا، اور مرزاقادیانی کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ اُس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا ۔۔۔جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی۔۔۔ اور مرزاقادیانی کا زمانہ چودہویں رات کے بدرِ کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزے دئیے گئے تھے، اور مرزاقادیانی کو دس لاکھ، بلکہ دس کروڑ، بلکہ بے شمار۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ذہنی اِرتقا وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک مرزاقادیانی نے ذہنی ترقی کی۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رُموز واَسرار نہیں کھلے جو مرزاقادیانی پر کھلے۔
مرزاقادیانی کی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر فضیلت وبرتری کو دیکھ کر ۔۔۔قادیانیوں کے بقول۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزاقادیانی پر اِیمان لائیں اور ان کی بیعت ونصرت کریں۔
خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزاقادیانی کی شکل میں محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود دوبارہ تشریف لائے ہیں، بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کے گھر پیدا ہونے والا قادیانی ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ اصلی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے، نعوذباللّٰہ، استغفر اللّٰہ!
چنانچہ مرزاقادیانی کے ایک مرید ۔۔۔یا قادیانی اِصطلاح میں مرزاقادیانی کے ’’صحابی‘‘۔۔۔ قاضی ظہورالدین اکملؔ نے مرزاقادیانی کی شان میں ایک ’’نعت‘‘ لکھی، جسے خوش خط لکھواکر اور خوبصورت فریم بنواکر قادیان کی ’’بارگاہِ رسالت‘‘ میں پیش کیا،
36
مرزاقادیانی اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوئے اور اسے بڑی دُعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدۂ نعتیہ مرزاقادیانی کے ترجمان ۔۔۔اخبار ’’بدر‘‘ جلد:۲ نمبر۴۳۔۔۔ میں شائع ہوا۔ وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے چار شعر ملاحظہ ہوں:
-
اِمام اپنا عزیزو! اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دارُ الاماں میں
-
غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
-
محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں!
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان، ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
یہ ہے قادیانیوں کا ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔۔۔!
چونکہ مسلمان، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین اور آخری نبی مانتے ہیں، اس لئے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحے کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصبِ نبوّت پر قدم رکھنے کی اِجازت دی جائے۔ کجا کہ ایک ’’غلامِ اَسوَد‘‘ کو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ بلکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ وافضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:
’’اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا اِنکار کفر ہے تو مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کا اِنکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے۔‘‘
’’اور اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو (نعوذباللّٰہ) نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا اِنکار کفر ہو، مگر دُوسری بعثت (قادیان کی بروزی بعثت ۔۔۔ناقل) میں جس میں بقول مسیحِ موعود آپ کی رُوحانیت اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ کا اِنکار کفر نہ ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۴۷)
دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو
37
مانتا ہے مگر مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)
ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں:
’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینۂ صداقت ص:۳۵)
ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں، تو قادیانی شریعت میں یہ ’’کفر کا فتویٰ‘‘ نازل نہ ہوتا۔ اس لئے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے کے الفاظ گو ایک ہی ہیں، مگر ان کے مفہوم میں زمین وآسمان اور کفر واِیمان کا فرق ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۱۹۴ تا ۱۹۹ مکتبہ لدھیانوی)
’’لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ ایوب خان رسول اللّٰہ‘‘ کا قائل کافر ہے
سوال:۔۔۔ ایک شخص نے بھری مجلس میں کہا کہ: ’’اگر صدر صاحب غلہ روک دیں اور لوگوں کو غلہ نہ ملے تو ہم ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ ایوب خان رسول اللّٰہ‘‘ کہیں گے۔‘‘ ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ کلمۂ طیبہ میں ’’ایوب خان رسول اللّٰہ‘‘ کے الفاظ اگر اِعتقاد اور اس معنی سے کہے گئے ہوں کہ کسی وقت ’’ایوب خان‘‘ بھی ’’رسول اللّٰہ‘‘ ہوسکتا ہے تو یہ کفریہ عقیدہ ہے، کیونکہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے بھی نبوّت ورِسالت کا اِعتقاد رکھنا کفر ہے۔
اور اگر یہ اِعتقاد کی وجہ سے نہ ہو، بلکہ کسی پر بطورِ تعریض کہے گئے ہوں، مثلاً قوم کی خوشامدی اور ذہنی غلامی پر طنز کے طور پر یہ کلمات کہے گئے ہو کہ یہ قوم اب اس قدر ذہنی غلامی میں گرفتار ہے کہ اپنے حکمرانوں کو کسی وقت بھی خدا کا پیغمبر کہنے کو تیار ہوسکتی ہے، تو یہ کفرنہیں۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ ’’ایوب خان رسول اللّٰہ‘‘ کہنے والے کے اِعتقاد کا ہمیں پورا علم نہیں ہے، اس لئے یقینی حکم اس پر نہیں لگایا جاسکتا۔
’’قال العلَّامۃ ظفر احمد العثمانیؒ: قال الموفق فی المغنی: ومن ادعی النبوّۃ أو صدق من ادعاھا فقد ارتد، لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوّۃ فصدقہ قومہ صاروا بذالک مرتدین۔
(إعلاء السُّنن ج:۲ ص:۵۹۸، باب من ادعی النبوۃ او صدق من ادعاھا، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۷۴)
✨ 🌟 ✨
38
بابِ دوم
قادیانیوں کا اِنکارِ ختمِ نبوّت
نبوّت کے متعلق عقائد کی وضاحت
سوال:۔۔۔ ایک عام مسلمان کو نبوّت ورِسالت کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟ اور ختمِ نبوّت کے بارے میں بھی وضاحت کریں کہ ایک مسلمان کو ختمِ نبوّت پر کس طرح اِیمان رکھنا چاہئے تاکہ قادیانیوں کے فتنہ وشر سے مسلمان محفوظ رہ سکیں، کیونکہ وہ خود بھی کہتے اور لکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں۔ لہٰذا مہربانی فرماکر تفصیلی جواب سے نوازیں۔
صابر حسین، میرپور
جواب:۔۔۔ نبوّت ورِسالت کے بارے میں ایک مسلمان کو جو عقیدہ رکھنا چاہئے، ان کو ہم خصوصیاتِ نبوّت کے نام سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ باقی جہاں تک قادیانیوں کی بدلتی ہوئی نئی پالیسی ہے، اس کے بارے میں صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ یہ لوگ زمانہ ساز ہیں، اسی طرح مرزاقادیانی بھی متلوّن مزاج تھا، اس نے خود اپنی زندگی میں اتنے دعوے کئے جن کی ضخیم کتاب تیار کی جاسکتی ہے، اور ہر روز نئے دعوؤں کے ساتھ آنا اس چیز کی دلیل ہے کہ ایسا آدمی جھوٹا ہے، اور جھوٹ کی کوئی بنیاد نہیں ہوا کرتی۔ اس لئے جھوٹا آدمی بھیس بدل بدل کر اِیمان پر ڈاکا ڈالتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ رکھ کر منکرینِ ختمِ نبوّت کی تکذیب کرنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتا ہو مگر منکرِ ختمِ نبوّت کو وَلی، یا غوث، یا قطب، یا اللّٰہ تعالیٰ کو مان کر شیطان کو دوست رکھتا ہو، اور مسلمان ہوکر کافر کو بھی اس کے کفر کے باوجود مسلمان سمجھتا ہو، ایسا شخص بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لہٰذا محض ختمِ نبوّت پر ہی اِیمان لانے سے اِیمان معتبر نہیں ہوگا، بلکہ منکرینِ ختمِ نبوّت کی تکذیب کرنا بھی ضروری ہے۔
اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ ایک مسلمان کو نبوّت ورِسالت کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟ اس کا جواب حسبِ ذیل ہے:
خصوصیاتِ نبوّت
’’نبوّت عہدۂ وہبی ہے، کسبی نہیں۔‘‘اللہُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ (الانعام:۱۲۴) ’’ اللّٰہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عہدۂ رِسالت کس کو دینا چاہئے؟‘‘
کوئی اپنی کوشش ومحنت اور ریاضت وعبادت سے نبی نہیں بن سکتا۔ (۱) ایسی آرزو سے عبادت وریاضت کرنے والا جھوٹا
(۱) ولا یبلغ ولی درجۃ الأنبیاء۔ (شرح العقائد النسفیۃ ص:۱۶۴)
39
کذّاب ہے اور ایسا شخص واجب القتل ہے۔ نبی کے علوم وہبی ہوتے ہیں، کسبی نہیں۔ وہ زمین کے کسی اُستاد سے تعلیم حاصل کیا ہوا نہیں ہوتا، اللّٰہ تعالیٰ تعلیم کرتا ہے۔ بالخصوص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جو علوم عطا فرمائے گئے ہیں، ان کا تعدّد وشمار اِحاطۂ اِنسانی سے باہر ہے۔ انہیں گننا اور شمار کرنا حماقت ہے، اور نفی کرنا بھی بدعقیدگی ہے۔ ہاں تمام علوم عطائی ہیں ذاتی نہیں۔ انبیاء حسنِ صورت وسیرت کے لحاظ سے بھی پوری اُمت پر ممتاز ہوتے ہیں۔ علمی اور عملی کمال یعنی نبی کا علم اور عمل دونوں کامل ہوتے ہیں۔ کمالِ علم یہ ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی، اور نبی کا عمل کامل ہوتا ہے۔ ہر گناہ سے پاک ہوتے ہیں (۱) چونکہ وہ اُمت کے لئے نمونۂ عمل ہوتے ہیں، ان کی طرف کسی قسم کی غلطی اور خطا کی نسبت کرنا گمراہی ہے۔ نبی مزکی ومطہر ہوتا ہے، وہ لوگوں کا تزکیہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تربیت یافتگان دیگر تمام اشخاص سے ممتاز ومنفرد ہوتے ہیں۔
نبی انسانوں کا خیرخواہ ہوتا ہے، وہ ہر وقت اِنسانوں کی فلاح کا چاہنے والا ہوتا ہے۔ ان کی تمام مساعیٔ جلیلہ کا مدعا نجاتِ انسانیت ہے۔ نبی کی معاشی زندگی اور اخلاقی کردار، امارت اور فقر دونوں صورتوں میں یکساں ہوتی ہے۔
نبی کی پوشاک، خوراک، مسکن میں، جو سادگی فقر کی حالت میں ہوتی ہے، بادشاہی، حکومت حاصل ہونے پر بھی وہی ہوتی ہے، دونوں حالتوں میں تواضع واِنکساری ہوتی ہے۔ وہ مفادِ عوام پر ذاتی مفاد کو قربان کرتے ہیں۔ غلبہ وسلطنت حاصل ہونے پر بھی ان کے عجز ونیاز اور شانِ عبدیت اور تواضع پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑتا۔ ان کے قلب ورُوح کی پاکیزگی کسی بھی ماحول سے متأثر نہیں ہوتی۔ نبی کی زندگی میں بناوَٹ، تکلف، نمائش، علو ذات، نمود وشخصیت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کا حب وبغض رَبّ العالمین کے لئے ہوتا ہے، وہ حقِ نفس کو معاف کرنے والا ہوتا ہے، لیکن حق اللّٰہ کو معاف نہیں کرتا۔ نبی اِطاعتِ اِلٰہی کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔ خلوَت، جلوَت، گھر میں، گھر سے باہر، دوستوں اور دُشمنوں میں، غصہ اور خوشی، الغرض کسی حالت میں بھی رضائے اِلٰہی کی راہ سے سرِمو تجاوز نہیں کرتا۔ حق کی اطاعت اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے۔ نبی کے دعویٔ نبوّت کی تائید میں خوارق اور معجزات کا ظہور ہوتا ہے، معجزے کے لئے سات شرطیں بیان کی گئی ہیں:
| ۱:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ کا فعل ہو۔ |
۲:۔۔۔ خارقِ عادت ہو۔ |
| ۳:۔۔۔ اس کا معارضہ ناممکن ہو۔ |
۴:۔۔۔ مدعیٔ نبوّت سے ظاہر ہو۔ |
| ۵:۔۔۔ دعویٰ کے موافق ہو۔ |
۶:۔۔۔ نبی کا مکذّب نہ ہو۔ |
| ۷:۔۔۔ دعوے پر مقدم ہو۔(۲) |
|
(۱) منزھون ای معصومون عن الصغائر والکبائر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۶۸، طبع مجتبائی دھلی)۔
(۲) معجزۃ وھی امر یظھر بخلاف العادۃ علٰی ید مدعی النبوۃ عند تحدی المنکرین علٰی وجہ یعجز المنکرین عن الإتیان بمثلہ۔
وفی الحاشیۃ: قولہ وھی أمر إلخ اشترط فی المعجزۃ امور تضمن ھٰذا التعریف الإشارۃ إلیھا۔ الأول: ان یکون فعلہ تعالٰی او ما یقوم مقامہ من الترک لیتصور کونہ تصدیقًا منہ تعالٰی ویفھم ذالک من قولہ امر یظھر إذ الأمر یتناول الفعل والترک ویفھم إسنادہ إلی اﷲ تعالٰی مما سبق من ان کل ما یظھر ویحدث من اجزاء العالم فمحدثہ ھو اﷲ تعالٰی۔ الثانی: أن یکون خارقًا للعادۃ، إذ لا إعجاز دونہ وقد دلَّ علیہ قولہ بخلاف العادۃ۔ الثالث: ان یکون ظھورہ علٰی ید مدعی النبوۃ لیعلم انہ تصدیق لہ، وقد صرح بہ۔ الرابع: ان یکون مقاربًا للدعویٰ إذ لا شھادۃ قبل الدعویٰ والتأخیر عنہ بزمان متطاول آیۃ الکذب، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
40
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی خالق ومخلوق کے درمیان وسیلہ ہوتا ہے، نبی کو علمِ غیب سے نوازا جاتا ہے، اس کی نفی کرنا جہالت وحماقت ہے، ہر نبی کی طرف وحی آتی ہے، ہر رسول نبی ہوتا ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔(۱) رسول صاحبِ کتاب وصحیفہ ہوتا ہے اور نبی کی طرف کتاب کا نازل ہونا لازمی نہیں ہوتا۔ نفسِ نبوّت میں سب انبیاء برابر ہیں، لیکن درجات ومراتب میں فرق ہے۔ (۲)
معجزے کی قسمیں
معجزے کی اُصولی دو قسمیں ہیں:
۱:۔۔۔ معجزۂ معنویہ۔ ۲:۔۔۔ معجزۂ حسیّہ۔
معجزۂ معنویہ خواص کے لئے ہوتا ہے، جیسے قرآن اور دیگر کتب وغیرہ۔ معجزۂ حسیّہ عوام کے لئے ہوتا ہے، جیسے شق القمر، تکثیر طعام ومیاہ، تکلم حیوانات وجمادات۔ معجزاتِ معنویہ کو ’’عقلی معجزات‘‘ بھی کہتے ہیں۔
نوٹ:۔۔۔ بنی اسرائیل کے اکثر معجزات حسی تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قوم بڑی کندذہن اور کم فہم تھی۔ اور اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے زیادہ تر معجزات عقلی ہیں، اس کی دو وجوہ ہیں: ایک وجہ اس اُمت کے افراد کی ذکاوت اور عقل کا کمال ہے۔ دُوسری وجہ یہ ہے کہ شریعتِ محمدیہ چونکہ تاقیامِ قیامت رہنے والی ہے، اس لئے اسے باقی رہنے والا معجزہ بصورت قرآن دیا گیا۔
معجزہ، کرامت اور سحر میں فرق
معجزہ وکرامت دونوں فعلِ خداوندی ہیں۔ معجزے کا ظہور نبی پر ہوتا ہے، اور کرامت کا مظہر ولی ہوتا ہے(۳) دونوں غیراِختیاری ہیں، کسب اور اِکتساب اور تعلیم وتعلّم کو اس میں کوئی دخل نہیں، دونوں کا سبب محض اِرادۂ اِلٰہی ہے۔ اس کے برعکس سحر ایسا
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔واما التأخیر بزمان قصیر فھو فی حکم العدم دلَّ علیہ قولہ عند تحدی المنکرین۔ الخامس: ان یکون موافقًا للدعویٰ إذ المخالف لا تفید تصدیقًا کشف الحل بعد فلق البحر۔ (شرح عقائد ص:۱۳۴، طبع مکتبہ خیر کثیر کراچی)۔
______________
(۱) النبی إنسان بعثہﷲ لتبلیغ ما اوحی إلیہ وکذا الرسول وقد یخص بمن لہ شریعۃ وکتاب فیکون اخص من النبی۔ (شرح المقاصد ج:۲ ص:۱۷۳، طبع دار المعارف النعمانیۃ، لاھور)۔
ایضًا: والصحیح الذی علیہ الجمھور ان کل رسول نبی من غیر عکس۔ (شرح فقہ اکبر ص:۷۳، طبع دھلی)۔/p>
(۲) قولہ تعالٰی: تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ مِّنْہُم مَّن کَلَّمَ اللّہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ (البقرۃ:۲۵۳)۔
(۳) والحاصل ان الأمر الخارق للعادۃ ھو بالنسبۃ إلی النبی صلی ﷲ علیہ وسلم معجزۃ، سواء ظھر من قِبَلِہ او قِبَل اُمَّتہ، لدلالتہ علٰی صدق نبوّتہ وحقّیۃ رسالتہ، فبھٰذہ الإعتبار جعل معجزۃ لہ، وإلَّا فحقیقۃ المعجزۃ ان تکون مقارنۃ للتحدی علٰی ید المدعی، وبالنسبۃ إلی الولی کرامۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۹۶)۔
ایضًا: ان المعجزۃ لا بُدّ أن تکون ممن یدعی الرسالۃ تصدیقًا لدعواہ، والولی لا بُدّ من ان یکون تابعًا لنبی وتکون کرامتہ معجزۃ لنبیہ، لأنہ لا یکون ولیًّا ما لم یکن محقًّا فی دیانتہ واتباعہ لنبیہ حتّٰی لو ادعی الإستقلال بنفسہ وعدم المتابعۃ لم یکن ولیًّا بل یکون کافرًا ولا تظھر لہ کرامۃ۔ فالحاصل ان الأمر الخارق للعادۃ بالنسبۃ إلی النبی معجزۃ سواء ظھر من قِبَلہ او من قِبَل آحاد اُمَّتہ وبالنسبۃ إلی الولی کرامۃ لخلوّہ عن دعوی النبوۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۵۵۱، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
41
فعل وعمل ہے جو مخفی اسباب پر مبنی ہو، یہ انسانی فعل ہے اور اس کے اِختیار میں ہے۔ سحر، تعلیم وتعلّم اور کسب واِکتساب اور مشق وتجربہ سے حاصل ہوسکتا ہے۔ (۱)
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۱۵۹، ۱۶۰)
خاتم النّبیین کا صحیح مفہوم وہ ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے
سوال:۔۔۔ ایک بزرگ نے ’’خاتم النّبیین‘‘ یا ’’خاتمیت‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’اسلام کو خاتم الادیان کا اور پیغمبرِ اِسلام کو خاتم الانبیاء کا خطاب دیا گیا ہے۔ خاتمیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی چیز ناقص اور غیرمکمل ہو اور وہ رفتہ رفتہ کامل ہوجائے۔ دُوسرے یہ کہ وہ چیز نہ اِفراط کی مد پر ہو، نہ تفریط کی مد پر، بلکہ دونوں کے درمیان ہو، جس کا نام اِعتدال ہے۔ اسلام دونوں پہلوؤں سے خاتم الادیان ہے، اس میں کمال اور اِعتدال دونوں پائے جاتے ہیں۔ رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اس عالیشان عمارت کی آخری اِینٹ ہوں، جس کو گزشتہ انبیاء تعمیر کرتے آئے ہیں۔ یہ اسلام کے کمال کی طرف اِشارہ ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے کہ مذہب اسلام ایک معتدل اور متوسط طریقے کا نام ہے، اور مسلمانوں کی قوم ایک معتدل قوم پیدا کی گئی ہے۔ اس سے اسلام کے اِعتدال کا ثبوت ملتا ہے۔‘‘
کیا ’’خاتم النّبیین‘‘ کا یہ مفہوم صحیح ہے اور سبھی فرقوں کا اس پر اِتفاق ہے؟ راہ نمائی فرماکر ممنون فرماویں۔
جواب:۔۔۔ ’’خاتم الانبیاء‘‘ کا وہی مفہوم ہے جو قرآن(۲) وحدیث کے قطعی نصوص سے ثابت اور اُمت کا متواتر اور اِجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’آخری نبی‘‘ ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی۔ (۳)
اس مفہوم کو باقی رکھ کر اس لفظ میں جو نکات بیان کئے جائیں، وہ سر آنکھوں پر! اپنی عقل وفہم کے مطابق ہر صاحبِ علم نکات بیان کرسکتا ہے، لیکن اگر ان نکات سے متواتر مفہوم اور متواتر عقیدے کی نفی کی جائے، تو یہ ضلالت وگمراہی ہوگی اور ایسے نکات مردود ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۱،۲۴۲)
عقیدے کی اہمیت
سوال:۔۔۔ عقیدہ اور اعمال کا باہمی کیا تعلق ہے؟ اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟ دلائل سے جواب دیں۔
محمد اِعجاز، میرپور
جواب:۔۔۔ اِیمانِ کامل کے دو اَجزاء ہیں:
(۱) والسحر ھو علم یستفاد منہ حصول ملکۃ نفسانیۃ یقتد بھا علٰی أفعال غریبۃ لأسباب خفیۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۴۴ طبع ایچ ایم سعید کراچی)
(۲) مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْما (الأحزاب:40)
(۳) عن ثوبان قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: لا تقوم الساعۃ حتّٰی تلحق قبائل من اُمّتی بالمشرکین وحتّٰی یعبدوا الأوثان، وانہ سیکون فی اُمّتی ثلاثون کذّابون کلھم یزعم انہ نبی، وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴۵، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتّٰی یخرج کذّابون)۔
42
۱:۔۔۔ عقائد، ان کا تعلق دِل سے ہے۔
۲:۔۔۔ اعمال، ان کا صدور اعضائے ظاہری سے ہوتا ہے۔
عقائد، اِیمانِ کامل میں اصل اور اَساس کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اَعمال فروع کا درجہ رکھتے ہیں۔ گویا کہ عقیدہ رُوح ہے اور اعمال جسم، اِیمان پھول کا نام ہے اور اس میں خوشبو عقیدے کا نام ہے، اور پھول کی پتیاں اعمال ہیں، اِیمان واِسلام ایک درخت ہے اور ان میں عقیدہ جڑ ہے، شاخیں اور ٹہنیاں اعمال ہیں۔ پس عقیدۂ صحیحہ سے دِل کی طہارت ہوتی ہے، بغیر دُرستیٔ عقیدہ کے کوئی عمل مقبول نہیں ہے۔ اور اِختلافِ مذاہب کا مدار اِختلافِ عقائد پر ہے نہ کہ اِختلافِ عمل پر، اسی لئے مذاہبِ اَربعہ باوجود اِختلافِ اعمال کے وحدتِ عقیدہ کی وجہ سے اہلِ سنت والجماعت کہلاتے ہیں۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۱۷۱)
ختمِ نبوّت یا اِجرائے نبوّت؟
سوال:۔۔۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ اور جناب محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد سلسلہ نبوّت کا قائم رہے گا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ہمارے پیارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد کسی قسم کا نیا نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
’’وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْماً یعنی ختم ﷲ بہ النبوۃ فلا نبوۃ بعدہ ای ولا معہ قال ابن عباس: یرید لو لم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیا۔ وعنہ قال: ان ﷲ لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطنی ولدًا یصیر رجلًا (وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْماً ) ای دخل فی علمہ انہ لا نبی بعدہ فإن قلتَ: قد صلح ان عیسٰی علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان بعدہ وھو نبی، قلتُ: ان عیسٰی علیہ السلام ممن نُبِّیئَ قبلہ وحین ینزل فی آخر الزمان ینزل عاملًا بشریعۃ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم ومصلیًّا إلٰی قبلتہ کأنہ بعض اُمَّتہ۔‘‘
(نقل از تفسیر خازن ج:۵ ص:۲۱۸)
’’ختم کردی اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے وجودِ گرامی پر نبوّت اور کسی قسم کی نبوّت آپ کے بعد نہ ہوگی، کیونکہ ’’لا نبی‘‘ میں ’’لَا‘‘ نفیٔ جنس کا ہے اس لئے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کے کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وجود پر سلسلہ نبوّت کا ختم نہ کرتا تو آپ کے لئے کوئی بیٹا عطا کرتا، جو بعد آپ کے نبی ہوتا۔ اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہے کہ جب خداوند کریم نے حکم دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، تو اس نے مجھے نرینہ اولاد نہ دی جو زِندہ رہتی اور خدا کے علم میں یہ پہلے ہی سے تھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اِعتراض کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو اَخیر زمانے میں نزول ہوگا تو وہ نبی ہوں گے، تو اس کا جواب یہ
43
ہے کہ وہ پہلے نبی مبعوث ہوچکے ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علی وسلم کی ذات خاتم النّبیین ہے اور ان کا دوبارہ آنا خاتم النّبیین کے منافی نہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کے عامل ہوں گے اور یہی بیت اللّٰہ ان کا قبلہ ہوگا۔‘‘
بخاری شریف (ج:۱ ص:۵۰۱) میں بہ ایں طور ہے:
’’عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: ان مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتًا فأحسنہ وأجملہ إلَّا موضع لبنۃ من زاویۃ، فجعل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون: ھلا وضعت ھٰذہ اللبنۃ! قال: فأنا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین۔‘‘
’’حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اور ان پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا، اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا، مگر ایک کونے میں ایک اِینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر میں پھرتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ ایسا آراستہ گھر! یہ اِینٹ کیوں نہ لگائی؟ تو وہ اِینٹ میں ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔‘‘
اور ایسا ہی ترمذی (ج:۲ ص:۴۵) وابوداؤد (ج:۲ ص:۱۲۷) میں ہے کہ فرمایا آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ:
’’انہ سیکون فی اُمّتی کذّابون ثلاثون، کلّھم یزعم انہ نبی ﷲ، وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔‘‘
’’قریب ہے کہ میری اُمت میں تیس کذّاب ہوں گے، وہ دعویٰ نبوّت کا کریں گے، لوگ ان کو نبی تصوّر کریں گے، اور حالانکہ میں نبوّت کے سلسلے کو ختم کرچکا ہوں، میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آئے گا۔‘‘
پس ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ جناب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات پر سلسلہ نبوّت کا ختم ہوچکا ہے، ان کے بعد کوئی نبی صادق نہیں آئے گا، اگر آئیں گے تو وہ کذّاب اور بے دِین ہوں گے۔
(فتاویٰ نظامیہ ج:۴ ص:۳۱۱ تا ۳۱۳)
ختمِ نبوّت کے وقت کے تعین کی تحقیق
سوال:۔۔۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین کس وقت سے تسلیم کرنا چاہئے؟ ولادت کے بعد سے یا نبوّت ملنے کے بعد سے یا بعد الوفات؟ مقصد یہ ہے کہ وحی کا دروازہ کس وقت سے بند تصوّر کیا جائے؟
جواب:۔۔۔ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِبتدائے امر سے ہی خاتم النّبیین ہیں۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس منصب مبارک کے لئے ازل سے ہی منتخب فرمادیا تھا۔
مشکوٰۃ (ص:۵۱۳) میں حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ نے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم
44
سے عرض کیا کہ آپ کو نبوّت کب ملی؟ ارشاد فرمایا: جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت بھی نہیں ہوئی تھی۔
البتہ عالمِ اجساد میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب انبیاء کے بعد آئے اور جب عمر مبارک چالیس برس ہوئی تو نبوّت ملی اور وحی کا نزول شروع ہوا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نئی شریعت اور نئی کتاب ملی، جو تمام انبیائے سابقین کی شریعتوں کے لئے ناسخ بنادی گئی، لہٰذا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کردے، تاہم نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اُٹھائے گئے ہیں اور قیامت کے قریب نزول فرمائیں گے اور شریعتِ محمدی کا اِحیا ء اور اس کی اِتباع کریں گے۔ اور احادیثِ صحیحہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر وحی بھی آئے گی لیکن یہ وحی شریعتِ مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بدلنے کے لئے نہ ہوگی، بلکہ اس وقت کے ضروری اُمور کے متعلق ہوگی، گویا اِنقطاعِ وحی سے مراد وہ وحی ہے جو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے۔
لما ورد فی الحدیث: قال ابوھریرۃ رضی ﷲ عنہ: قالوا: یا رسول ﷲ! متٰی وجبت لک النبوۃ؟ قال: والآدم بین الروح والجسد۔‘‘
(رواہ الترمذی، مشکوٰۃ ص:۵۱۳ باب فضل سید المرسلین صلی ﷲ علیہ وسلم، الفصل الثانی)
’’قال العلامۃ مُلَّا علی القاریؒ فی شرح ھٰذا الحدیث: وجبت لی النبوۃ والحال ان آدم بین الروح والجسد یعنی وانہ مطروح علی الأرض بلا روح والمعنیٰ انہ قبل تعلق روحہٖ بجسدہٖ۔ وروی ابو نُعیم فی الدلائل وغیرہ من حدیث ابی ھریرۃ مرفوعًا: کنتُ اوّل النبیین فی الخلق وآخرھم فی البعث۔‘‘
(مرقاۃ المصابیح ج:۵ ص:۳۶۷ طبع اصح المطابع بمبئی)
’’وقال العلَّامۃ جلال الدین السیوطی رحمہ ﷲ فبیناہ کذالک إذ اوحی ﷲ إلیہ یا عیسٰی! انی قد اخرجت عبادًا لی لا بد لأحد بقتالھم حول عبادی إلی الطور۔ وقال صحیح علی شرط الشیخین۔ ذالک صریح فی انہ وحی حقیقی، لا وحی إلھام والثانی ان ماتو ھمہ ھٰذا الزاعم من تعذر الوحی الحقیقی فاسد لأن عیسٰی علیہ السلام نبی فأی مانع من نزول الوحی إلیہ؟ فإن تخیل فی نفسہ ان عیسٰی علیہ السلام قد ذھب عنہ وصف النبوۃ وانسلخ منہ فھٰذا قول یقارب الکفر لأن النبی لا یذھب عنہ وصف النبوۃ ابدًا ولا بعد موتہٖ وإن تخیل اختصاص الوحی للنبی صلی ﷲ علیہ وسلم بزمن دون زمن فھو [قول] لا دلیل علیہ ویبطلہ ثبوت الدلیل علٰی خلافہ خاتمہ فی ان ما اشتھر علی السنۃ الناس ۔۔۔۔۔إلخ۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۵، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۸۹، ۳۹۰)
45
ختمِ نبوّت
سوال:۔۔۔ ختمِ نبوّت پر عقیدہ رکھنا کیوں ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر اِیمان معتبر نہیں؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
محمد احمد سعیدی، لاہور
جواب:۔۔۔ دِینِ اسلام کی اصل رُوح عقیدۂ ختمِ نبوّت ہے اور اسی عقیدے پر پختہ اِیمان ہی اسلام کی بنیاد ہے۔ اس عقیدے میں کسی قسم کا ریب وشک، گویا پورے دِین کو منہدم کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا ختمِ نبوّت کا عقیدہ بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ اس کے بغیر کسی کا بھی عقیدہ واِیمان مسلمانوں کے نزدیک معتبر نہیں ہوسکتا۔
تکمیلِ نبوّت
کمالاتِ نبوّت ایسی اِنتہا کو پہنچ کر مکمل ہوگئے جو اَب تک نہ ہوئے تھے، اور اَب جو نبوّت قائم ہے وہ خاتم کی ہے اور اس کامل نبوّت کے بعد کسی نئی نبوّت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ نبوّت جب سے شروع ہوئی اور جن کمالات کو لے کر شروع ہوئی تھی اور آخرکار جس حد پر رُکی اور ختم ہوئی اور اس کے اوّل سے آخر تک جس قدر بھی کمالاتِ نبوّت طبقہ انبیاء میں سے کسی کو ملے وہ سب کے سب خاتم النّبیین میں آکر جمع ہوگئے۔ یہ کمال جامعیت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کے ساتھ خاص ہے۔
قرآن اور ختمِ نبوّت
قرآنِ حکیم کی ایک سو سے زائد آیات میں مسئلۂ ختمِ نبوّت بیان کیا گیا ہے، چند آیات یہ ہیں:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْماً‘‘
(الاحزاب:40)
’’محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم باپ نہیں کسی کے تم مردوں میں سے، لیکن اللّٰہ کے رسول ہیں۔‘‘
اور انبیائے کرام میں کوئی بھی اس کمالِ جامعیت سے متصف نہیں ہوا، ورنہ جہاں بھی کمالِ جامعیت کا اِجتماع ہوتا وہیں پر نبوّت ختم ہوجاتی اور آگے بڑھ کر یہاں تک نہ پہنچتی۔
خاتم النّبیین ہونا کمالِ جامعیت کی دلیل ہے
خاتم النّبیین کا جامع علومِ نبوّت، جامع اخلاقِ نبوّت، جامع احوالِ نبوّت، اور جامع شئونِ نبوّت ہونا ضروری ٹھہرا، پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات جملہ انبیائے کرام کے کمالات کا خلاصہ ہوئی، بلکہ کائنات کے جملہ خصائل وفضائل کا خلاصہ ہوئی۔ ہر کمال آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع ہے اور ہر جمال آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات سے متصف ہے۔ گویا ہر جمال وکمال وخوبی وحسن وہی ہوگا جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع ہو، ورنہ وہ خوبی وکمال نہیں ہوگا۔ پس دامنِ مصطفی سے جدا ہوکر کوئی شے کمالِ خوبی کے نام سے تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ علم کمال ہے، بے علمی کمال نہیں۔ تصرف کمال ہے، عاجزی کمال نہیں۔ حیات کمال ہے،
46
موت کمال نہیں۔ لہٰذا جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جامع کمالات تسلیم کرنا ضروری ٹھہرا پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے علمی کمال اور تصرف کے کمال کو بعد از وصال حیات کے کمالات کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔ جیسے کمالات کی حد ہوئی اسی طرح شریعت بھی مکمل ہوئی، کیونکہ کمالات علم وعمل پر ہی شریعتوں کی بنیاد ہے۔ جب یہ کمالات اپنے آخری کنارے کو پہنچے تو اس کا صاف مطلب یہ نکلا کہ شریعت اور دِین بھی آکر خاتم پر مکمل ہوگیا اور شریعت ودِین کا بھی کوئی تکمیل طلب حصہ باقی نہیں رہا کہ اسے پہنچانے اور مکمل کرنے کے لئے کسی اور نبی کوبھیجا جائے، اس لئے جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہوئے تو خاتم الشرائع، خاتم الادیان اور خاتم الکتب یا بالفاظِ دیگر کامل الشریعت، کامل الدین اور کامل الکتاب ہونا بھی ضروری ہوا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کامل ہی ناقص کے لئے ناسخ بن سکتا ہے، نہ کہ ناقص کامل کے لئے، اس لئے شریعتِ محمدی بوجہ اپنے اِنتہائی کمال اور ناقابلِ تغیر وتبدل ہونے کے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرنے کی حق دار ٹھہرتی ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ناسخ آخر میں آتا ہے اور منسوخ اس سے مقدم ہوتا ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’انا خاتم النبیین لَا نبی بعدی‘‘(۱)
’’حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی۔‘‘
ختمِ نبوّت
لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ میں ’’اِلٰہ‘‘ نکرہ ہے جو عموم پر دال ہے، اور جب نکرہ پر حرفِ نفی داخل ہوجائے تو معنی حصر کا ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی طرح کا کوئی معبود نہیں، نہ اصلی، نہ ظلّی، نہ بروزی، نہ مراقی، نہ مذاقی۔ اسی طرح ہی’’لَا نبی بعدی‘‘ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’انی عبدﷲ وخاتم النبیین‘‘ (رواہ البیھقی)
’’میں اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ اور خاتم النّبیین ہوں۔‘‘
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نبوّت کو قصر (محل) سے تشبیہ دے کر اپنی ختمِ نبوّت کی حقیقت یوں واضح فرمائی:
’’فکنت انا سددت موضع تلک اللبنۃ فتم بی البنیان وختم بی الرسل‘‘
(کنز العمال ج:۱۱ ص:۴۵۳، حدیث نمبر:۳۲۱۲۷ طبع مؤَسسۃ الرسالۃ)
خاتم، خَتَمٌ سے بنا ہے، اس کے معنی افضل نہیں، ورنہ ’’خَتَمَ اللہُ عَلَی قُلُوبِہمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ ‘‘ (البقرۃ:۷) کے معنی یہ ہوتے اور کئے جاتے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کے دِل اور کان افضل کردئیے (العیاذباللّٰہ)۔ ختم کا معنی آخری ہی ہے جیسے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ کو فرمایا:
’’انت خاتم المھاجرین‘‘(۲)
(۱) ابو داوٗد ج:۲ ص:۲۲۸، کتاب الفتن، طبع ایچ ایم سعید کراچی۔
(۲) حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إطمئن یا عم فإنک خاتم المھاجرین فی الھجرۃ۔ إلخ (کنز العمال ج:۱۳ ص:۵۱۹، طبع مؤَسسۃ الرسالۃ
47
’’تم مہاجرین میں آخری مہاجر ہو۔‘‘
کیونکہ انہوں نے فتحِ مکہ کے دن ہجرت کی، اس کے بعد ہجرت بند ہوگئی۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا ھجرۃ الیوم‘‘(۱)
’’آج کے بعد اب مکہ سے ہجرت نہ ہوگی۔‘‘
یعنی مکہ فتح ہوجانے کے بعد مسلمانوں کے پاس ہی رہے گا۔ خاتم المہاجرین کے معنی افضل المہاجرین نہیں کئے جاسکتے۔
تمام مفسرین نے خاتم النّبیین کی یہی تفسیر کی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں اور خاتم النّبیین، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت کو ختم کیا اور اس پر مہر لگادی۔ پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کسی پر نہ کھولی جائے گی قیامت قائم ہونے تک۔ اور ایسا ہی اَئمہ تفسیر، صحابہؓ وتابعینؒ نے فرمایا۔ کسی قادیانی کے عقلی ڈھکوسلوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں، کیونکہ دِین نقل سے پہنچا ہے، عقل سے نہیں۔ دِین عقل کے مطابق ہے، لیکن ہر کس وناکس کی عقل میں دِین کی ہر ہر بات کا آجانا ضروری نہیں۔ باقی اگر اپنے اِیمان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صحبتِ بد کو ترک کردو۔ اِسلام کا آغاز ہی’’لا الہ الا ﷲ محمد رسول ﷲ‘‘ سے ہوا ہے، اِثبات بعد میں ہے، نفی پہلے ہے، لہٰذا توحید میں غیرِخدا کی نفی کرنا شرطِ اوّل ہے، اسی طرح محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی غلامی کی پہلی شرط دشمن وگستاخ اور منکرِ ختمِ نبوّت کا قولی وعملی رَدّ ہے۔ سو بار غلامی کا دعویٰ کیا جائے لیکن ان کی صحبت ترک نہ کی جائے تو یہ دعویٰ کامل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ان قادیانیوں کی صحبت سے خود بھی بچو اور دُوسروں کو بھی بچاؤ۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو ختمِ نبوّت کے منکرین کے عقلی ڈھکوسلوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
نوٹ:۔۔۔ مذکورہ بالا بحث کی مزید تفصیل کے لئے قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی ’’ختمِ نبوّت‘‘ کتاب لائقِ مطالعہ ہے۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۱۶۱ تا ۱۷۰)
✨ 🌟 ✨
(۱) وحدثنی الأوزاعی عن عطاء بن ابی رباح قال زرت عائشۃ مع عبید بن عمیر اللیثی فسألناھا عن الھجرۃ فقالت: لا ھجرۃ بعد الیوم۔ (بخاری ج:۱ ص:۵۵۱) باب ھجرۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم واصحابہ إلی المدینۃ، (طبع نور محمد کتب خانہ)۔
48
فتنۂ اِنکارِ ختمِ نبوّت
نبوّت ورِسالت کی اقسام
نبوّت تشریعی وغیرتشریعی
سوال:۔۔۔ صاحبِ شریعت کس نبی کو کہتے ہیں؟ اس کی تعریف کیا ہے؟ غیرتشریعی نبی کس کو کہتے ہیں؟ اس کی تعریف کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! جس کی شریعت مستقل ہو۔ (وہ صاحبِ شریعت نبی کہلاتا ہے ۔۔۔ناقل) اور جو دُوسرے نبی کے تابع ہو۔ (وہ غیرتشریعی نبی کہلاتا ہے ۔۔۔ناقل)
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱ ص:۳۷۲)
مرزا ظلّی وبروزی نبی
سوال مرزائی:۔۔۔ کیا مرزا قادیانی نبی ظلّی وبروزی تھے؟
جواب حنفی:۔۔۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص دعویٰ نبوّت کا نئے سرے سے کرے وہ کافر ومفتری وجہنمی ہے، کیونکہ یہ سلسلۂ نبوّت ختم ہے۔ ہاں! البتہ عالم، فاضل، مجدد، غوث، قطب، ہادی، مہدی، متبع نبی کے ہوکر، تااِنتظامِ عالم تک آتے رہیں گے، جن کے ذریعے سے تبلیغ اسلام ہر دور و ہر فرد کے کانوں تک پہنچتی رہے گی، اور قلبِ مؤمنین انوار تجلیاتِ اِلٰہیہ سے اپنے اپنے مقامات کو مشاہدہ فرماتے رہیں گے، لیکن یاد رکھنا کہ خاتم الانبیاء صاحبِ جامع کمالات والبرکات محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نئے نبی کا آنا محال ہے، چنانچہ ذیل کے دلائل سے ظاہر ہوتا ہے:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘
(الاحزاب:۴۰)
’’وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ ‘‘
(سبا:۲۸)
’’ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً ‘‘
(الاعراف:۱۵۸)
’’تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَی عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً ‘‘
(الفرقان:۱)
’’الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً‘‘
(المائدۃ:۳)
49
’’وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ ‘‘
(الانبیاء:۱۰۷)
’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللہِ ‘‘
(النساء:۶۴)
’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ‘‘
(ابراہیم:۴)
’’فَبَعَثَ اللہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ وَأَنزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ‘‘
(البقرۃ:۲۱۳)
’’لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ‘‘
(الحدید:۲۵)
’’فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللہِ ‘‘
(البقرۃ:۹۷)
’’إِنَّا أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا أَوْحَیْنَا إِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّیْنَ مِن بَعْدِہِ‘‘
(النساء:۱۶۳)
’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِیْ إِلَیْہِم‘‘
(یوسف:۱۰۹)
پس ان دلائلِ قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بعد نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ نبیٔ کامل اور اکمل نبی آچکے تو پھر کامل اور اکمل کے بعد ناقص کا آنا کون سی عقل ہے؟ اور خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
’’من نیستم رسول ونیا وردہ ام کتاب۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱)
خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
’’قرآنِ کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا، خواہ وہ نیا رسول ہو یا پُرانا، کیونکہ رسول کو علم دین بواسطہ جبرائیل ملتا ہے اور باب نزولِ جبرائیل بہ پیرایۂ وحیٔ رسالت مسدود ہے، اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دُنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلۂ وحیٔ رسالت نہ ہو۔‘‘
(عبارت ازالہ اوہام ص:۷۶۱ ایضاً)
اسی طرح کتاب ’’انجام آتھم‘‘ (ص:۲۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۷) میں ہے
’’ومن قال بعد رسولنا وسیدنا انی نبی او رسول علٰی وجہ الحقیقۃ والإفتراء وترک القرآن واحکام الشریعۃ الغراء فھو کافر کذَّاب‘‘
اور ’’شہادت القرآن‘‘ (ص:۲۸، خزائن ج:۶ ص:۳۲۳،۳۲۴) میں یوں لکھتے ہیں کہ:
’’ہمارے سیّد ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہے۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔‘‘
اور ایسے ہی ’’تریاق القلوب‘‘ (ملخص ص:۳۰۴، خزائن ج:۱۵ ص:۴۳۲) میں ہے کہ:
’’میرا منکر کافر نہیں چونکہ میں ایک ملہم ہوں، انبیاء کا منکر کافر ہوتا ہے۔‘‘
اور مرزا لکھتے ہیں:
50
-
"ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوّت را برو شد اختتام"
(دُرِّثمین فارسی ص:۱۱۴)
پس ان عباراتِ مرزا سے خود واضح ہوا کہ جو شخص بعد خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دعویٔ نبوّت کرے وہ خود کافر ودجال ومفتری ہے، لہٰذا مرزاقادیانی ان الفاظ کے مصداق ہوئے۔
اور چند کذب مرزاقادیانی کے بطورِ نمونہ پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ناظرین خود موازنہ کرلیں کہ مرزاقادیانی کس نمبر کے کذّاب تھے، وہو ھٰذا:
کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ (ص:۱۰۱، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۴ حاشیہ) میں بایں طور مسطور ہے کہ:
’’خدا کا قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مرگیا ہے اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔‘‘
اور اسی طرح ’’کشتی نوح‘‘ (ص:۵، خزائن ج:۱۹ ص:۵) میں مرقوم ہے کہ:
’’قرآن مجید میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیحِ موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔‘‘
’’تریاق القلوب‘‘ (برحاشیہ ص:۸۰، خزائن ج:۱۵ ص:۲۰۸) پر موجود ہے کہ:
’’احادیثِ نبویہ پر غور کرنے سے بصراحت معلوم ہوگا کہ وہ مسیحِ موعود حارث کہلائے گا۔ یعنی زمین دار اور زمین داری کے خاندان سے ہوگا۔‘‘
کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ (ص:۲۰۱، خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۸) پر ہے کہ:
’’احادیثِ صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیحِ موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا، سو وہ میں ہوں۔‘‘
’’ضمیمہ تحفۂ گولڑویہ‘‘ (ص:۱۷، خزائن ج:۱۷ ص:۵۳) پر مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’ضروری تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیحِ موعود جب ظاہر ہوگا تو اِسلامی علماء کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا، وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئیے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرۂ اسلام سے خارج اور دِین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔ سو ان دنوں میں وہ پیشین گوئی انہیں مولویوں نے اپنے ہاتھوں پوری کی۔‘‘
کتاب ’’شہادت القرآن‘‘ (ص:۴۱، خزائن ج:۶ ص:۳۳۷) پر تحریر ہے کہ:
’’وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی: ’’ھٰذا خلیفۃ ﷲ المہدی‘‘ آپ سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو اسی کتاب میں درج ہے جو ’’اصح
51
الکتب بعد کتاب ﷲ‘‘ ہے جس کا نام بخاری ہے۔‘‘
ناظرین انصاف کریں کہ کس حدیثِ صحیح میں ہے کہ قبر کشمیر میں ہے؟ پس ان تمام عبارتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی اپنے دعوے میں خود جھوٹے تھے، کیونکہ نہ تو کسی حدیثِ صحیح میں قبرِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر میں ہونے کا ذِکر ہے اور نہ ہی ان کے زمانے میں طاعون پڑنے کا ذِکر ہے، اور نہ ہی ان کے زمین دار ہونے کا بیان ہے، اور نہ ہی کہیں یہ لکھا ہے کہ مسلمان لوگ اس کے قتل کے لئے فتوے دیں گے اور اس کی توہین کریں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دائرۂ اسلام سے خارج کریں گے، اور نہ ہی بخاری شریف میں ’’ھٰذا خلیفۃ ﷲ المہدی‘‘ لکھا ہے۔
ناظرین! مرزاقادیانی آنجہانی کے اِفترا وکذبات ہیں، اگر کوئی مرزائی یہ کلمات پیش کردہ دِکھادے تو یک صد روپیہ اِنعام حاصل کرے۔ اور علاوہ اس کے خود مرزا آنجہانی اپنی کتاب ’’آئینۂ کمالاتِ اسلام‘‘ (ص:۲۸۸، خزائن ج:۵ ص:۲۸۸) میں لکھتا ہے کہ:
’’ہمارے صدق وکذب جانچنے کے لئے ہماری پیشین گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘
اور ’’چشمہ معرفت‘‘ (ص:۲۲۲، خزائن ج:۲۳ ص:۲۳۱) میں لکھتا ہے کہ:
’’جب کوئی ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری باتوں میں بھی اس پر اِعتبار نہیں رہتا۔‘‘
پس میں دعوے سے کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی کی یہ سب باتیں جھوٹی ہیں، لہٰذا کذّاب ودجال ٹھہرا۔ اگر کسی مرزائی کو شک ہو تو مردِ میدان بن کر ان سب باتوں میں سے ان کی ایک بات ہی صحیح کردے، اور علاوہ اس کے کتاب ’’قہرِیزدانی برقلعۂ قادیانی‘‘ میں حیات وممات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بدلائل قاطعہ پوری پوری بحث کی گئی ہے۔
(فتاویٰ نظامیہ ص:۸۹۱ تا ۸۹۵)
مہاتمابدھ کے متعلق عقیدۂ نبوّت دُرست نہیں
سوال:۔۔۔ قرآن مجید میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۱:۔۔۔’’لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ‘‘ (الرعد:۷)۔ ۲:۔۔۔ ’’وَإِن مِّنْ أُمَّۃٍ إِلَّا خلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ‘‘ (فاطر:۲۴) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کے لئے کوئی نہ کوئی پیغمبر آیا ہے۔ تو ہندوستان میں بھی کوئی پیغمبر آیا ہوگا، جبکہ مہاتمابدھ کی تعلیمات بھی انبیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ہیں، تو کیا اس کو بھی نبی ماننا دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مذکورہ بالا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی قوم یا اُمت ایسی نہیں گزری ہے جس میں ہادی (راہ بتلانے والا)، نذیر (ڈرانے والا) نہ آیا ہو۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا صریح غلطی ہے کہ جو بھی مذہبی راہ نما دُنیا میں گزرے ہیں، وہ پیغمبر ہی ہوں گے تاکہ ’’مہاتمابدھ‘‘ بھی نبی بن سکے۔
52
گزشتہ اقوام کے نبیوں کے بارے میں اسلامی شریعت کا قطعی فیصلہ یہ ہے کہ جن انبیاء کے متعلق کتاب وسنت میں کوئی تصریح نہ ہو تو ان کے متعلق ہم اِجمالی طور پر یہ عقیدہ رکھیں گے کہ جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے وہ نبی ہوگا، اور جس کویہ منصب نہیں ملا وہ نبی نہیں، اگرچہ اس کی تعلیمات شرائع آسمانی کے مطابق ہی کیوں نہ ہوں۔ زیادہ سے زیادہ اگر اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں تو وہ یہ کہ اس کی تعلیمات اگر شرک سے پاک اور توحید پر مشتمل ہوں تو وہ ایک نیک آدمی ہوگا۔
الحاصل! حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے بجز ان حضرات کے جن کی نبوّت پر قرآن وحدیث میں تصریح کی گئی ہو، کسی دُوسرے شخص کے بارے میں خصوصی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نبی ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ نبی نہیں، اِحتمال ہے کہ نبی ہو اور یہ بھی اِحتمال ہے کہ نبی نہ ہو۔
باقی رہا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کا معاملہ تو اس کے متعلق اسلام کا قطعی فیصلہ یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تاقیامت کسی شخص کو کسی قسم کی نئی نبوّت نہیں مل سکتی، خواہ وہ تشریعی ہو یا غیرتشریعی! اور جس کسی نے بھی نئی قسم کی نبوّت کا دعویٰ کیا تو وہ کافر ہوکر دائرۂ اسلام سے خارج ہوگا اور جو بھی اس کو نبی مانے گا وہ بھی کافر ہوگا۔
’’قال الشیخ ظفر احمد العثمانی: قال الموفق فی ’’المغنی‘‘: ومن ادعی النبوۃ او صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا بذالک مرتدین ۔۔۔۔۔۔إلخ۔‘‘
(إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۵۹۸، باب من ادعی النبوۃ او صدق من ادعاھا)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۵۶، ۱۵۷)
ختمِ نبوّت کا منکر کافر ہے
سوال:۔۔۔ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا عقیدہ رکھنا فرض ہے یا سنت یا مستحب؟ اور اِنکارِ ختمِ نبوّت کفر ہے یا معمولی گناہ؟
جواب:۔۔۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت بنص قرآن وحدیث فرض ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء والمرسلین اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کو خاتم الادیان سمجھنا فرض ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا منکر اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا معتقد کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قال ﷲ تبارک وتعالٰی:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘
’’عن ابی ھریرۃ رضی ﷲ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: مثلی ومثل الأنبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ تُرِکَ منہ موضع لبنۃٍ، فطاف بہ النظَّار یتعجبون من حسن بنیانہ إلَّا موضع تلک اللبنۃ، فکنتُ اَنَا فسَدَدْتُ موضع اللبنۃِ، ختم بی البنیان وختم بی الرُّسل۔ وفی
53
روایۃ: فأنا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔‘‘ متفقٌ علیہ
(بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، أیضًا: مشکوٰۃ ص:۵۱۱، باب فضائل سید المرسلین، الفصل الأوّل، طبع قدیمی)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۴۸)
منکرینِ ختمِ نبوّت کو مسلمان سمجھنا کفر ہے
سوال۱:۔۔۔ کیا جس جماعت میں خدا کے منکر کمیونسٹ، ختمِ نبوّت کے منکر مرزائی، جنت دوزخ، عذاب ثواب اور فرشتوں کے منکر نیچری بحیثیت مسلم شامل ہوں، اس جماعت میں شامل ہونا اور اسے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت قرار دینا، اور اس جماعت کے نمائندے کو مسلمانوں کا نمائندہ سمجھ کر اِنتخاب میں کامیاب بنانے کی کوشش کرنا، یا ووٹ دینا، شرعاً حلال ہے یا حرام؟ اور یہ تینوں گروہ مسلمان ہیں یا کافر؟ نیز ان تینوں گروہوں کے عقائدِ باطلہ سے واقف ہونے کے باوجود ان کو مسلمان قرار دینے والوں کا کیا حکم ہے؟
۲:۔۔۔ کیا جو شخص سوِل میرج ایکٹ کو اپنا ذاتی عقیدہ قرار دے، جس میں ہر مسلمان مرد اور عورت کا نکاح غیرمسلم عورت مرد سے جائز قرار دِیا گیا ہو، اور نکاح کے وقت فریقین کو اپنے مذہبی عقائد سے اِنکار کرنا پڑتا ہے، اس شخص کا کیا حکم ہے؟ اور جو لوگ ایسے شخص کے اس قسم کے عقیدے سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دیں، ان کا کیا حکم ہے؟
۳:۔۔۔ کیا وہ شخص جو اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو لیکن ایسے قرآنی اَحکام کو جو نصِ قرآنی سے ثابت ہیں، جیسے عقدِ نکاح، تقسیمِ وراثت وغیرہ کو موجودہ دورِ ترقی میں رُکاوٹ سمجھتا ہو، اور اَحکامِ قرآن کے خلاف جو قانون حکومت نے پاس کئے ہوں، ان کی پیروی کی ترغیب دیتا ہو، تاکہ مسلمان مقتضیاتِ زمانہ اور موجودہ ضروریات کا ساتھ دے سکیں، مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کے اس قسم کے عقائد سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دینے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟
۴:۔۔۔ کیا جو شخص قرآنِ کریم کے صریح اَحکام کی مخالفت کرنے والوں کو ترقی پذیر اور مبنی براِنصاف قرار دے ۔۔۔جیسا کہ مسٹر محمد علی جناح صاحب نے سوِل میرج ایکٹ کی ترمیم پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔۔۔ ایسا شخص مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کے اس قسم کے عقائد سے واقف ہونے کے باوجود اسے مسلمان قرار دینے والوں کے متعلق کیا حکم ہے؟
۵:۔۔۔ کیا جو شخص کلمہ گو ہونے کے باوجود مندرجہ بالا عقائد رکھتا ہو، مسلمان ہے یا کافر؟ اور ایسے شخص کو مسلمان قرار دینے والوں کا کیا حکم ہے؟
المستفتی: محمد یٰسین نعت خواں (لدھیانہ)
مورخہ ۲۰؍محرم ۱۳۶۵ھ
جواب۱:۔۔۔ جو شخص خدا کے منکروں، ختمِ نبوّت کے منکروں، عذاب وثواب کے منکروں کو مسلمان سمجھے، وہ خود بھی
54
اسلام سے خارج ہے۔(۱)
۲:۔۔۔ جو شخص سوِل میرج ایکٹ کے ماتحت نکاح کرے اور اپنے مذہب سے قطعی منکر ہوجائے، وہ اسلام سے خارج ہے اور جب تک توبہ کرکے دوبارہ اسلام نہ لائے، مسلمان نہیں۔
۳:۔۔۔ قرآنی اَحکام کو موجودہ دورِ ترقی کے خلاف اور مانعِ ترقی سمجھنا صریح گمراہی ہے، ایسا شخص اسلام کے خلاف ہے۔
۴:۔۔۔ جو شخص قرآنی اَحکام کے خلاف کرنے والوں کو ترقی پذیر بتائے اور ان کے افعال کو مبنی براِنصاف سمجھے، وہ مسلمان نہیں۔
۵:۔۔۔ ایسا شخص جو مذکورہ بالا عقائد رکھتا ہو، صرف نام کا مسلمان ہے، ورنہ اسلامی عقائد واَحکام کا مخالف اور حقیقی اسلام سے خارج ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ ، دہلی
(کفایت المفتی ج:۹ ص:۴۴۳، ۴۴۴)
ختمِ نبوّت کی تحریک کی اِبتدا کب ہوئی؟
سوال:۔۔۔ ختمِ نبوّت کی تحریک کی اِبتدا کب ہوئی؟ آیا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب جھوٹے مدعیانِ نبوّت نے دعویٰ کیا تھا، یا کسی اور دور میں؟
جواب:۔۔۔ ختمِ نبوّت کی تحریک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’انا خاتم النبیین لَا نبی بعدی‘‘ سے ہوئی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے مدعیانِ نبوّت کے خلاف جہاد کرکے اس تحریک کو پروان چڑھایا۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۵)
✨ 🌟 ✨
(۱)إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع بمبئی)
(۲)البدایۃ والنھایۃ ج:۶ ص:۳۱۱-۳۱۶، فصل فی تصدی الصدیق لقتال اھل الردۃ ومانعی الزکوۃ، (طبع دار الفکر بیروت)
55
بابِ سوم
قادیانی عقائد
قادیانی عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی ہی ۔۔نعوذباللّٰہ۔۔ محمد رسول اللّٰہ ہیں
سوال:۔۔۔ اخبار ’’جنگ‘‘ میں ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ کے زیرِ عنوان آپ نے مسلمان اور قادیانی کے کلمے میں کیا فرق ہے؟ مرزا بشیر احمد قادیانی کی تحریر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:
’’یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے میں دُوسرا فرق ہے کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم مراد ہیں، اور قادیانی جب ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔‘‘
مکرم جناب مولانا صاحب! میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں اور اللّٰہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ پڑھتا ہوں تو اس سے مراد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی ہوتے ہیں، ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ نہیں ہوتے۔ اگر میں اس معاملے میں جھوٹ بولتا ہوں تو اللّٰہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہزار بار لعنت ہو۔ اور اسی یقین کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی احمدی کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے مراد بجائے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ نہیں لیتا۔ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اسی طرح حلفیہ بیان اخبار ’’جنگ‘‘ میں شائع کروائیں کہ درحقیقت احمدی لوگ (یا آپ کے قول کے مطابق ’’قادیانی‘‘) کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا حلف شائع کروادیا تو سمجھا جائے گا کہ آپ اپنے بیان میں مخلص ہیں، اور پھر اللّٰہ تعالیٰ فیصلہ کردے گا کہ کون اپنے دعوے یا بیان میں سچا اور کون جھوٹا ہے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ظاہر ہوجائے گا کہ آپ کے بیان کی بنیاد، خلوص، دیانت اور تقویٰ پر نہیں، بلکہ یہ محض ایک کلمہ گو جماعت پر اِفترا اور اِتہام ہوگا، جو ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔
نوٹ:۔۔۔ اگر آپ اپنا حلف شائع نہ کرسکیں تو میرا یہ خط شائع کردیں تاکہ قارئین کو حقیقت معلوم ہوسکے۔
جواب:۔۔۔ نامہ کرم موصول ہوکر موجبِ سرفرازی ہوا۔ جناب نے جو کچھ لکھا، میری توقع کے عین مطابق لکھا ہے۔ مجھے یہی توقع تھی کہ آپ کی جماعت کی نئی نسل جناب مرزاقادیانی کے اصل عقائد سے بے خبر ہے، اور جس طرح عیسائی ’’تین ایک‘‘، ’’ایک تین‘‘ کا مطلب سمجھے بغیر اس پر اِیمان رکھتے ہیں، اور ساتھ ہی توحید کا بھی بڑے زور وشور سے اِعلان کرتے ہیں،
56
آپ نے لکھا ہے کہ آپ ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ سے مرزاقادیانی کو نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کی ذاتِ عالی کو مراد لیتے ہیں، اور یہ کہ اگر آپ ایسا عقیدہ رکھتے ہوں تو فلاں فلاں کی ہزار لعنتیں آپ پر ہوں۔ مگر آپ کے مراد لینے نہ لینے کو میں کیا کروں؟ مجھے تو یہ بتائیے کہ میں نے یہ بات بے دلیل کہی یا مدلل؟ اور اپنی طرف سے خود گھڑ کر کہہ دی ہے یا مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کے حوالوں سے؟ جب میں ایک بات دلیل کے ساتھ کہہ رہا ہوں تو مجھے قسمیں کھانے کی کیا ضرورت؟ اور اگر قسموں ہی کی ضرورت ہے تو میری طرف سے اللّٰہ تعالیٰ ’’اِنَّكَ لَرَسُولُ ﷲِ‘‘ کی قسمیں کھانے والوں کے مقابلے میں ’’اِنَّ المُنٰفِقِینَ لَكٰذِبُونَ‘‘ کی قسم کھاچکا ہے۔
میرے بھائی! بحث قسموں کی نہیں، عقیدے کی ہے۔ جب آپ کی جماعت کا لٹریچر پکار رہا ہے کہ مرزاقادیانی ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ ہیں، وہی رحمۃللعالمین، وہی ساقیٔ کوثر ہیں، انہی کے لئے کائنات پیدا کی گئی، انہی پر اِیمان لانے کا سب نبیوں سے (بشمول محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے) عہد لیا گیا، اور مصطفی اور مرزا میں سرے سے کوئی فرق ہی نہیں، بلکہ دونوں بعینہٖ ایک ہیں، وغیرہ وغیرہ، اور اسی پر بس نہیں، بلکہ یہ بھی فرمایا جاتا ہے کہ: ’’مرزاقادیانی بعینہٖ محمد رسول اللّٰہ ہیں، اس لئے ہمیں کسی اور کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! کوئی دُوسرا آتا تو ضرورت ہوتی۔‘‘ اور پھر اسی بنیاد پر پُرانے محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو منہ بھرکر کافر بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ نئے محمد رسول اللّٰہ کے منکر ہیں، تو فرمائیے کہ آپ کے ان سب عقائد کو جاننے کے باوجود میں کس دلیل سے تسلیم کرلوں کہ آپ نئے محمد رسول اللّٰہ کا نہیں بلکہ اسی پُرانے محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں۔۔۔؟ اگر جناب کو میرے درج کردہ حوالوں میں شبہ ہو تو آپ تشریف لاکر ان کے بارے میں اِطمینان کرسکتے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۰ تا ۲۰۲)
مرزا قادیانی کا دعویٔ نبوّت
سوال:۔۔۔ ثابت کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، ان کی تحریروں کے حوالے دیں۔ ہمارے محلے کے چند قادیانی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا نے نبوّت کا دعویٰ کیا۔
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کے ماننے والوں کے دو گروہ ہیں: ایک لاہوری، دُوسرا قادیانی (جن کا مرکز پہلے قادیان تھا، اب چناب نگر ہے) ان دونوں کا اس بات پر تو اِتفاق ہے کہ مرزاقادیانی کے الہامات اور تحریروں میں باصرار وتکرار نبوّت کاد عویٰ کیا گیا ہے۔ لیکن لاہوری گروہ اس دعوائے نبوّت میں تأویل کرتا ہے، جبکہ قادیانی گروہ کسی تأویل کے بغیر مرزاقادیانی کے دعوائے نبوّت پر اِیمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔
آپ سے جن صاحب کی گفتگو ہوئی ہے، وہ غالباً لاہوری گروہ کے ممبر ہوں گے۔ ان کی خدمت میں عرض کیجئے کہ یہ جھگڑا تو وہ اپنے گھر میں نمٹائیں کہ مرزاقادیانی کے دعوائے نبوّت کی کیا توجیہ وتأویل ہے؟ ہمارے لئے اتنی بات بس ہے کہ مرزاقادیانی
57
نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے اور دعویٰ بھی انہی لفظوں میں جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا تھا، مثلاً:
’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً‘‘
(الاعراف:۱۵۸)
’’قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوحَی إِلَیَّ‘‘
(الکہف:۱۱۰)
وغیرہ وغیرہ۔ مرزا کا انہیں الفاظ میں دعویٔ نبوّت کے لئے دیکھیں: تذکرہ ص:۳۵۲، ۸۹، ۲۴۵۔
اگر ان الفاظ سے بھی دعویٔ نبوّت ثابت نہیں ہوتا، تو یہ فرمایا جائے کہ کسی مدعیٔ نبوّت کو نبوّت کا دعویٰ کرنے کے لئے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔۔۔؟
رہیں دعویٔ نبوّت کی تأویلات! تو دُنیا میں کس چیز کی لوگ تأویلیں نہیں کرتے، بتوں کو خدا بنانے کے لئے لوگوں نے تأویلیں ہی کی تھیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننے والے بھی تأویلیں ہی کرتے ہیں۔ جس طرح کسی اور کھلی ہوئی غلط بات یا غلط عقیدے کی تأویل لائقِ اِعتبار نہیں، اسی طرح حضرت خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بھی قطعی غلط ہے اور اس کی کوئی تأویل ۔۔۔خواہ خود مدعی کی طرف سے کی گئی ہو، یا اس کے ماننے والوں کی جانب سے۔۔۔ لائقِ اِعتبار نہیں۔ دسویں صدی کے مجدد مُلَّا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲ میں فرماتے ہیں:
’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإجماع‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔‘‘
آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ:
’’اگر نبوّت کا دعویٰ کرنے والا ہوش وحواس سے محروم ہو تو اس کو معذور سمجھا جائے گا، ورنہ اس کی گردن اُڑادی جائے گی۔‘‘(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۲، ۲۰۳)
قادیانی عقائد
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:
۱:۔۔۔ ’’آیت ’’مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق میں ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع اوّل ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)
۲:۔۔۔ ’’مسیحِ موعود کے آنے کی خبر اَحادیث میں آئی ہے میں ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع اوّل ص:۶۶۶، ۶۶۷، خزائن ج:۳ ص:۴۶۰)
۳:۔۔۔ ’’میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔‘‘
(معیار الاخیار ص:۱۱)
(۱) فإن تاب فبھا وإلَّا قُتِل۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع بمبئی ھند)
58
۴:۔۔۔ ’’ان قدمی ھٰذہ علٰی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۷۰، خزائن ج:۱۶ ص:۷۰)
۵:۔۔۔ ’’لا تقیسونی بأحد ولا احدًا بی‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۵۲، خزائن ج:۱۶ ص:۵۲)
۶:۔۔۔ ’’میں مسلمانوں کے لئے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص:۳۳، خزائن ج:۲۰ ص:۲۲۸)
۷:۔۔۔ میں اِمام حسین سے افضل ہوں۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۳، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۳)
۸:۔۔۔
”وانی قتیل الحب لٰكن حسینكم
قتیل العدی فالفرق اجلی واظھر‘‘
(اعجاز احمدی ص:۸۱، طبع اوّل خزائن ج:۱۹ ص:۱۹۳)
۹:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زناکار تھیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۱۰:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱، ص:۲۸۹)
۱۱:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے، اس کے پاس بجز دھوکے کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘
(ملخصاً ازالہ اوہام ص:۳۰۲،۳۰۳، خزائن ج:۳ ص:۲۵۹، وضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷ خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۱۲:۔۔۔ ’’میں نبی ہوں اور اس اُمت میں نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶، ۴۰۷)
۱۳:۔۔۔ ’’مجھے الہام ہوا: یا ایھا الناس إنّی رسول ﷲ إلیکم جمیعًا‘‘
(معیار الاخیار ص:۱۱)
۱۴:۔۔۔ ’’میرا منکر کافر ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۱۵:۔۔۔ ’’میرے منکروں، بلکہ متأملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔‘‘
(فتاویٰ احمدیہ اوّل)
۱۶:۔۔۔ ’’مجھے خدا نے کہا: اسمع ولدی! اے میرے بیٹے سن۔‘‘
(البشریٰ ص:۴۹)
۱۷:۔۔۔ ’’لولاک لما خلقت الأفلاک‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۹۹، خزائن ج؛۲۲ ص:۱۰۲)
۱۸:۔۔۔ ’’میرا اِلہام ہے: وما ینطق عن الھوٰی‘‘
(اربعین ص:۳۶-۴۳، خزائن ج:۱۷ ص:۳۸۵)
۱۹:۔۔۔ ’’وما ارسلناک إلَّا رحمۃ للعالمین‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۸۵)
59
۲۰:۔۔۔ ’’انک لمن المرسلین‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۱:۔۔۔ ’’آتانی ما لم یؤْت احدًا من العالمین‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۲:۔۔۔ ’’ان ﷲ معک ان ﷲ یقوم اینما قمت‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۱۷، خزائن ج:۱۱ ص:۳۰۱)
۲۳:۔۔۔ ’’مجھے حوضِ کوثر ملا ہے، انا اعطینٰک الکوثر‘‘
(انجامِ آتھم ص:۵۸، خزائن ج:۱۱ ص:۵۸)
۲۴:۔۔۔ ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہوبہو اللّٰہ ہوں۔رایتنی فی المنام عین ﷲ وتیقنت اننی ھو ۔۔۔۔۔۔۔۔ فخلقت السمٰوٰت والأرض‘‘
(آئینہ کمالات ص:۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج:۵ ص:ایضاً)
۲۵:۔۔۔ ’’میرے مرید کسی غیرمرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔‘‘
(فتاویٰ احمدیہ ص:۷)
جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ مسلم غیرمصدق کا رِشتۂ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجبِ افتراق ہے یا نہیں؟ بینّوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال جو سوال میں نقل کئے گئے ہیں اکثر ان میں سے میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ان کے بے شمار اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنانے کے لئے کافی ہیں۔ پس خود مرزاقادیانی، اور جو شخص ان کا ان کلماتِ کفریہ میں مصدق ہو، سب کافر ہیں،(۱) اور ان کے ساتھ اسلامی تعلقات مناکحت وغیرہ رکھنا حرام ہے(۲) (۲) تعجب ہے کہ مرزاقادیانی اور ان کے جانشین تو اپنے مریدوں کو غیرمرزائی کا جنازہ پڑھنا بھی حرام بتائیں، اور غیراَحمدی انہیں مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ رشتے ناتے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔۔۔!
کفایت اللّٰہ، دہلی
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۲، ۳۱۳)
مرزا غلام احمد قادیانی کا معراجِ جسمانی کا اِنکار واِقرار
سوال:۔۔۔ ’’دعوت‘‘ کی کسی سابقہ اِشاعت میں نظر سے گزرا تھا کہ معراج شریف کے جسمانی ہونے پر تمام صحابہؓ کا
(۱) ومن رضی بکفر الغیر یصیر کافرًا۔ (فتاویٰ قاضی خان ج:۳ ص:۵۷۲)۔
ایضًا: إذا راٰی منکرًا معلومًا من الدِّین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ، لمُلَّا علی القاری ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع بمبئی)۔
(۲) ولا یجوز للمرتد أن یتزوّج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ وکذالک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد، کذا فی المبسوط۔ (عالگمیری ج:۱ ص:۲۸۲، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
60
اِجماع ہے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ: ’’یہ بالکل غلط ہے، اکثر صحابہؓ معراج کو رُوحانی مانتے تھے، یہ معراج جسمانی کا عقیدہ بہت بعد کی پیداوار ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر اُوپر اُٹھائے جانے کے خیال کی تائید کے لئے وضع کیا گیا تھا۔‘‘ اس اِجماع کا حوالہ مطلوب ہے۔
منصور علی، از کیمل پور
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتے ہیں کہ:
’’اس بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمانوں کی طرف اُٹھائے گئے تقریباً تمام صحابہ کا یہی اِعتقاد ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۴۷، خزائن ج:۳ ص:۲۴۷)
مرزاقادیانی نے اس کتاب کے ص:۱۴۸ کی آٹھویں سطر میں اس کے لئے اِجماعِ صحابہؓ کا لفظ بھی بیان کیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص:۱۴۸، خزائن ج:۳ ص؛۲۴۸)
اُمید ہے کہ اب آپ کے مرزائی دوست کا کوئی شبہ باقی نہیں رہا ہوگا۔ باقی رہا نہ ماننا! تو یہ دِلوں کی مہر کا ایک ظاہری نشان ہے۔(۱) حق تعالیٰ اِتباعِ حق کی توفیق عطا فرمائیں۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
۱۸؍جنوری ۱۹۶۳ء
(عبقات ص:۸۹،۹۰)
عقائدِ قادیانی
★ ۔۔۔ ’’انا انزلناہ قریبًا من القادیان‘‘ قرآن میں ہونا۔
(حقیقۃ الوحی ص:۹۱، خزائن ج:۲۲ ص:۹۱)
★ ۔۔۔ اور مرزاقادیانی کا زمین وآسمان نئے سرے سے بنانا۔
(کتاب البریہ ص:۸۷، خزائن ج:۱۳ ص:۱۰۵)
★ ۔۔۔ اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معراجِ جسمی سے اِنکار کرنا۔
(ازالہ اوہام ص:۴۷، خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)
★ ۔۔۔ اور قرآن مجید کو اپنے منہ کی باتیں کہنا۔
(اشتہار لیکھ رام، مارچ ۱۸۹۷ء، مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۳۳۷)
★ ۔۔۔ اور فرشتے کواکب کا نام تصور کرنا، فرشتوں کا نزول زمین پر نہ ہونا۔
(حمامۃ البشریٰ ص:۱۱۰، خزائن ج:۷ ص:۲۷۶)
★ ۔۔۔ اور انبیاء کا کاذب سمجھنا۔
(ازالہ ص:۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)
★ ۔۔۔ اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وحی کو غلط کہنا۔
(ازالہ ص:۳۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
★ ۔۔۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا فرزند سمجھنا۔
(ازالہ اوہام ص:۱۵۴، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
★ ۔۔۔ اور مسجد اپنے والد کی بنی ہوئی کو مسجدِ حرام سمجھنا۔
(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۵، خزائن ج:۱۶ ص:۱۵)
★ ۔۔۔ اور معجزات کو مسمریزم کہنا۔
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۵، خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)
(۱) خَتَمَ اللہُ عَلَی قُلُوبِہمْ وَعَلَی سَمْعِہِمْ وَعَلَی أَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ عظِیْمٌ (البقرۃ:۷)
61
★ ۔۔۔ اور اپنی کتاب براہین کو خدا کا کلام تصور کرنا۔
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۱، خزائن ج:۱۶ ص:۲۱)
★ ۔۔۔ اور اپنے آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھنا۔
(دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)
★ ۔۔۔ اور خداوند کریم کے لئے اولاد کا ثبوت کرنا، انت مِنِّی بمنزلۃ ولدی وانت مِنِّی انا منک۔
(دافع البلاء ص:۶، خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۷)
★ ۔۔۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے سے حقیر سمجھنا، وہ یہ ہے:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دُرِّثمین اُردو ص:۵۳)
علیٰ ھٰذا القیاس مشتے نمونہ از خروارے لکھے گئے۔
(فتاویٰ نظامیہ ج:۱ ص:۴۰،۴۱)
قادیانی کے جھوٹے خدا
مرزا ایسے کو ’’خدا‘‘ کہتا ہے:
★ ۔۔۔ جس نے چار سو جھوٹوں کو اپنا نبی کیا، ان سے جھوٹی پیشین گوئیاں کہلوائیں۔
(ازالہ اوہام ص:۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)
★ ۔۔۔ جس نے ایسے کو ایک عظیم الشان رسول بنایا جس کی نبوّت پر اصلاً دلیل نہیں بلکہ اس کی نفیٔ نبوّت پر دلائل قائم، جو (خاک بدہنِ ملعونان) ولدالزنا تھا۔
(اعجازِ احمدی ص:۱۳، خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۰)
★ ۔۔۔ جس کی تین دادیاں نانیاں زناکار کسبیاں تھیں۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
★ ۔۔۔ ایسے کو جس نے ایک بڑھئی کے بیٹے کو محض جھوٹ کہہ دیا کہ ہم نے بِن باپ کے بنایا اور اس پر یہ فخر کی جھوٹی ڈینگ ماری کہ یہ ہماری قدرت کی کیسی کھلی نشانی ہے۔
(کشتی نوح ص:۱۶، خزائن ج:۱۹ ص:۱۸حاشیہ)
★ ۔۔۔ ایسے کو جس نے ایک بدچلن، عیاش کو اپنا نبی کیا۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
★ ۔۔۔ جس نے ایک یہودی فتنہ گر کو اپنا رسول کرکے بھیجا، جس کے پہلے ہی فتنے نے دُنیا کو تباہ کردیا۔
(مواہب الرحمن ص:۷۲، خزائن ج:۱۹ ص:۲۹۰)
★ ۔۔۔ ایسے کو جو اسے ایک بار دُنیا میں لاکر دوبارہ لانے سے عاجز ہے۔
(دافع البلاء ص:۱۵، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۵)
★ ۔۔۔ وہ جس نے ایک شعبدہ باز کی مسمریزم والی مکروہ حرکات، قابلِ نفرت حرکات، جھوٹی بے ثبات کو اپنی آیاتِ بینات بتایا، ایسے کو جس کی آیاتِ بینات لہو ولعب ہیں، اتنی بے اصل کہ عام لوگ ویسے عجائب کرلیتے تھے اور اب بھی کر دکھاتے ہیں، بلکہ آج کل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں، اہلِ کمال کو ایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔ ایسے کو جس نے اپنا سب سے پیارا بروزی
62
خاتم النّبیین دوبارہ قادیان میں بھیجا، مگر اپنی جھوٹ، فریب، تمسخر، ٹھٹول کی چالوں سے اس کے ساتھ بھی نہ چوکا، اس سے کہہ دیا کہ تیری جورو کے اس حمل سے بیٹا ہوگا جو انبیاء کا چاند ہوگا، بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے، بروزی بیچارہ اس کے دھوکے میں آکر اسے اِشتہاروں میں چھاپ بیٹھا، اسے تو یوں ملک بھر میں جھوٹا بننے کی ذِلت ورُسوائی اوڑھنے کے لئے یہ جل دیا اور جھٹ پٹ میں اُلٹی کل پھرادی بیٹی بنادی، بروزی بیچارے کو اپنی غلط فہمی کا اقرار چھاپنا پڑا، اور اَب دُوسرے پیٹ کا منتظر رہا، اب کی یہ مسخرگی کی کہ بیٹا دے کر اُمید دِلائی اور ڈھائی برس کے بچے ہی کا دَم نکال دیا، نہ نبیوں کا چاند بننے دیا، نہ بادشاہوں کو اس کے کپڑوں سے برکت لینے دی، غرضیکہ اپنے چہیتے بروزی کا جھوٹا، کذّاب ہونا خوب اُچھالا اور اس پر مزہ یہ کہ عرش پر بیٹھا اس کی تعریفیں گا رہا ہے، اس پر بھی صبر نہ آیا بروزی کے چلتے وقت کمالِ بے حیائی کی ذِلت ورُسوائی تمام ملک میں طشت از بام ہونے کے لئے اسے یوں چاؤ دِلایا کہ اپنی بہن احمد بیگ کی بیٹی محمدی کا پیام دے، بروزی بیچارے کے منہ میں پانی بھر آیا، پیام پر پیام، لالچ پر لالچ، دھمکی پر دھمکی، اُدھر احمد بیگ کے دل میں ڈال دیا کہ ہر گز نہ پسیج، یوں لڑائی ٹھنواکر اپنے امدادی وعدوں سے بروزی کی اُمید بڑھائی کہ دیکھ محمدی کا باپ اگر دُوسری جگہ اس کا نکاح کردے گا تو ڈھائی برس میں وہ مرے گا، اور تین برس میں وہ شوہر، یا بالعکس، بروزی جی تو ہمیشہ اس کی چالوں میں آجاتے تھے، اسے بھی چھاپ بیٹھے، یہاں تک تو وہی جھوٹی پیشین گوئیاں رہتیں جو سدا کی تھیں۔ اب اس قادیانی کے خودساختہ خدا کو اور شرارت سوجھی، جھٹ بروزی کو وحی پھنٹادی کہ ’’زَوَّجْنَاکَھَا‘‘ محمدی سے ہم نے تیرا نکاح کردیا۔ اب کیا تھا، بروزی جی اِیمان لے آئے کہ اب محمدی کہاں جاسکتی ہے؟ یوں جل دے کر بروزی کے منہ سے اسے اپنی منکوحہ چھپوادیا، تاکہ وہ حد بھر کی ذِلت جو ایک چمار بھی گوارا نہ کرے کہ اس کی جورو اور اس کے جیتے جی دُوسرے کی بغل میں، یہ مرتے وقت بروزی کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہوا، اور رہتی دُنیا تک بے چارے کی فضیحت وخواری وبے عزّتی وکذّابی کا ملک میں ڈنکا ہوا، اِدھر تو عابد ومعبود کی یہ وحی بازی ہوئی، اُدھر سلطان محمد آیا اور نہ عابد کی چلنے دی نہ معبود کی، بروزی جی کی آسمانی جورو سے بیاہ کر ساتھ لیا، یہ جا، وہ جا، چلتا بنا، ڈھائی تین برس پر موت دینے کا وعدہ تھا، وہ بھی جھوٹا گیا، اُلٹے بروزی جی زمین کے نیچے چل بسے وغیرہ وغیرہ خرافاتِ ملعونہ۔۔۔!
یہ ہے قادیانی اور اس کا ساختہ خدا، کیا وہ خدا کو جانتا تھا، یا اب اس کے پیرو جانتے ہیں۔۔۔؟حاش ﷲ، سبحٰن ربّ العرش عمّا یصفون۔۔۔!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۵ ص:۵۴۱ تا ۵۴۳)
قادیانی اور اس کی کتابیں
سوال:۔۔۔ میں تبلیغی جماعت کا ایک خادم ہوں۔ ایک سفر میں میری ملاقات ایک قادیانی سے ہوگئی، میں نے اس سے دریافت کیا کہ علمائے دیوبند تم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ان لوگوں نے ہماری کتابوں کا مطلب غلط سمجھا، حالانکہ ان حضرات کو ہم سے مطلب معلوم کرنا چاہئے تھا اور کافر نہیں کہنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا کہ ان کتابوں کے نام کیا ہیں؟ انہوں نے ان کتابوں کے نام بتائے: ۱:۔۔۔ایک غلطی کا اِزالہ، ۲:۔۔۔انجامِ آتھم، ۳:۔۔۔حقیقۃ الوحی، ۴:۔۔۔ازالہ اوہام۔ سوال یہ ہے کہ یہ کتابیں کہیں ہیں اور اس پر عمل کرنا کیسا ہے؟ اس شخص کا کہنا دُرست ہے یا غلط؟
63
جواب:۔۔۔ حامداً ومصلیاً! مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا، اور ختمِ نبوّت کا اِنکار کیا ہے، حالانکہ حضرت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور یہ مسئلہ قرآن پاک اور احادیثِ مشہور اور اِجماع سے ثابت ہے۔ اس دعوے کی وجہ سے مرزا کافر ہے، اور جو شخص اس کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے وہ بھی اس کے حکم میں ہے۔ مرزا کی زندگی میں اس سے مناظرہ کیا گیا اور اس کے ہر غلط دعوے کی تردید قرآنِ پاک اور اَحادیث کے ذریعے سے کی گئی، اور اس پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔ وہ خود اپنی عبارات اور کتابوں کا کوئی صحیح مطلب نہیں بیان کرسکا، تو آج اس کے ماننے والے کس شمار میں ہیں۔۔۔؟ اگر وہ کوئی ایسا مطلب بیان بھی کریں جس کے خلاف صراحۃً مرزا نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے تو وہ خود ان کا مطلب ہے، مرزا کا مطلب نہیں ہوگا۔ اس کی تردید کے لئے ہدیۃ المفتری، إکفار الملحدین ، عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام، ختمِ نبوّت، عشرہ کاملہ وغیرہ بہت سی کتابیں تصنیف ہوکر عرصہ ہوا شائع ہوچکی ہیں۔ جن میں ان کی کفریات ایک دو نہیں بلکہ بڑی مقدار میں پوری تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ اس لئے اس کی کتابوں کا مطالعہ عوام ہرگز نہ کریں۔ اہلِ علم حضرات تردید کے لئے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرکے اس کی اور کفریات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک شعر کہا ہے:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دُرِّثمین اُردو ص:۵۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ:
’’انہوں نے اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس سال کی عمر تک نجاری (بڑھئی) کا کام سیکھا۔
(ازالہ اوہام ص:۳۰۳، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
اور خود ان کی قبر کشمیر میں ہے۔
(راز حقیقت ص:۱۱، خزائن ج:۱۴ ص:۱۶۳)
اور ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانیہ تھیں۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے، اور زِندہ آسمان پر اُٹھائے گئے، اور ان کی والدہ اور ان کی نانی کا تذکرہ قرآن شریف میں اِحترام کے ساتھ کیا گیا اور فرمایا گیا ہے: ’’وامہ صدیقۃ‘‘ غرض مرزا غلام احمد قادیانی نے کفریات لکھنے میں کچھ کمی نہیں کی۔ اس لئے وہ تمام علماء کے نزدیک کافر ہے۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
| الجواب صحیح |
|
حررہ |
| بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ |
|
العبد محمود عفی عنہ |
| دارالعلوم دیوبند |
|
دارالعلوم دیوبند |
| ۱۵؍۸؍۱۳۸۷ھ |
|
۱۵؍۸؍۱۳۸۷ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۱ ص:۳۲،۳۳)
64
مرزا کا قول کہ: ’’اللّٰہ نے مجھ سے ہم بستری کی اور مجھے حمل قرار پایا‘‘
سوال:۔۔۔ ایک دفعہ جنابِ والا نے قادیانی ملعون کا تذکرہ فرماتے ہوئے اس کا ایک اِلہام ذِکر فرمایا تھا کہ: ’’آج رات خدا نے میرے سے قوّتِ رُجولیت کا اِظہار کیا (ہم بستری کی) جس کے نتیجے میں مجھے حمل قرار پاگیا۔‘‘ یہ اِلہام کس کتاب میں ہے؟ جنابِ والا کو یاد ہو تو تحریر فرماویں۔
جواب:۔۔۔ حامداً ومصلیاً! صفحہ تو محفوظ نہیں، لیکن مرزا کی کتابوں سے ’’عشرہ کاملہ‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ (۱) فقط واللّٰہ اعلم!
حررہ العبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند
۶؍۱۱؍۱۳۸۵ھ
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ |
سیّد احمد علی سعید |
|
دارالعلوم دیوبند |
نائب مفتی دارالعلوم دیوبند |
|
۶؍۱۱؍۱۳۸۵ھ |
۶؍۱۱؍۱۳۸۵ھ |
مرزا کے اِلہاماتِ ذیل پر غور کریں:
الف:۔۔۔ مرزا کا حیض اور بچہ
یریدون ان یروا طمثک ۔ اس اِلہام کی تشریح مرزاقادیانی یوں بیان کرتے ہیں: بابو اِلٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اِطلاع پائے، مگر اللّٰہ تعالیٰ تجھے اپنے اِنعامات دِکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللّٰہ کے ہے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۴۳، خزائن ج:۲۲ ص:۵۸۱)
ب:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ کا نطفہ
انت من مائنا وھم من فثل ۔ یعنی اے مرزا! تو ہمارے پانی (نطفے) سے ہے، اور دُوسرے لوگ خشکی سے۔
(اربعین ص:۳۴، خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۳)
ج:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ سے ہم بستری (نعوذباللّٰہ)
زناشوئی کے فعل کا وقوع۔ مرزاقادیانی کے ایک خاص مرید یار محمد صاحب بی او ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر۳۴ موسوم بہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ: ’’جیسا کہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر
(۱) اسلامی قربانی ص:۱۲۔
65
فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے رُجولیت (مردانہ) طاقت کا اِظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لئے اِشارہ کافی ہے۔‘‘
(اسلامی قربانی ص:۱۲)
د:۔۔۔ اِستقرارِ حمل
مرزاقادیانی ’’کشتی نوح‘‘ ص:۴۷، خزائن ج:۱۹ ص:۵۰ پر لکھتے ہیں کہ: ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی رُوح مجھ میں نفخ کی گئی اور اِستعارہ کے رنگ میں مجھ حاملہ ٹھہرایا گیا اور کئی ماہ بعد جو دس ماہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اِلہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔‘‘
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۰ ص:۱۱۶،۱۱۷)
یہ دعویٰ کہ: ’’مجھ میں رسول اللّٰہ کی رُوح حلول کرگئی ہے‘‘ کفر ہے
سوال:۔۔۔ ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ: ’’رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رُوح مبارک اور حضرت اِمام مہدیؓ کی رُوح میرے بدن میں حلول کرگئی ہیں‘‘ وغیرہ، اس اِعتقاد کی نسبت کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ عقائدِ مذکورہ کفر کے عقائد ہیں۔ مدعیٔ مذکور گمراہ اور بے دِین ہے۔ (درمختار ج:۳ ص:۳۲۴، ۳۲۵، طبع رشیدیہ) اس سے مرید ہونا اور اس کا اِتباع کرنا دُرست نہیں ہے۔ وہ شخص مصداق ’’ضَلُّوْا فَاَضَلُّوْا‘‘ کا ہے، اس کی صحبت سے بچیں،ولنعم ما قال فی المثنوی المعنوی:
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۳۵)
اللّٰہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دعویٰ کرنا
سوال:۔۔۔ اللّٰہ جل جلالہٗ کا کلام کرنا اپنے بندے سے، اور بندے کا اللّٰہ تعالیٰ سے، یہ منصب ودرجہ خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے یا عام ہے؟ اگر خاص انبیاء علیہم السلام کا ہے اور نبوّت ختم ہوچکی ہے، اب فی زمانہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کلام فرمایا ہے تو اس پر اور اس کلام کو حق جاننے والا اور اس کے معتقد پر شرعاً کیا حکم ہوگا؟ بیّنوا بسند الکتاب، توجروا من ﷲ الوھّاب!
جواب:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کلام بالمشافہ اور بطور وحی کے خاصہ انبیاء علیہم السلام ہے، جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد قطعاً منقطع ہے، اور مدعی اس کا کافر ہے۔صرّح بہ فی شرح الشفاء۔
البتہ بصورت اِلہام عامۂ مؤمنین کو حاصل ہوسکتا ہے، لیکن اس کو عرفاً کلام نہیں کہا جاتا، اس لئے ایسے الفاظ بولنا کہ (اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام فرمایا) اگر اس کی مراد یہ ہے کہ بطور وحی کے بالمشافہ فرمایا، تب تو کفر ہے، اور اگر مراد اس سے بطور اِلہام دِل
66
میں ڈالنا ہے تب بھی دُرست نہیں۔ کیونکہ اس میں ایہام ہوتا ہے اِدّعائے وحی کا، اور کفر کے ایہام سے بچنا بھی ضروری ہے۔
(امداد المفتین ج:۲ ص:۱۲۸)
مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنی عمر کے بارے میں جھوٹا اِلہام
سوال:۔۔۔ مکرمی ومحترمہ جناب علامہ صاحب قبلہ!
السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ! آپ نے رحیم یارخاں مجلس کے دوران فرمایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی عمر کے متعلق جو اِلہام شائع کیا تھا وہ اَمرِ واقع کی روشنی میں بالکل غلط نکلا۔ قادیانی اس کا اِنکار کرتے ہیں اور حوالہ مانگتے ہیں۔ براہِ کرم مجھے اس کے مفصل حوالہ جات سے مطلع کریں۔ ممکن ہے اس سے کچھ لوگوں کے عقائد دُرست ہوجائیں۔
سائل: عبدالخالق، رحیم یارخان
جواب:۔۔۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللّٰہ!
مرزاقادیانی نے جولائی ۱۸۸۷ء میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ہے:
’’یأتی علیک زمان مختلف بأرواح مختلفۃ وتری نسلًا بعیدًا ولنحیینک حیاۃً طیبۃ ثمانین حولًا او قریبًا من ذالک۔‘‘
(ازالہ اوہام ج:۲ ص:۶۳۵)
خط کشیدہ عبارت کا ترجمہ یہ ہے:
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ہم تجھے ضرور ایک پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے، اسّی سال یا اس کے قریب قریب۔‘‘
مرزاقادیانی نے اپنی اس پیش گوئی کا اِشتہار شائع کیا تھا اور پھر اس اِلہام کو اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام، حصہ دوم‘‘ میں بھی نقل فرمایا۔ مرزاقادیانی اسے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیش گوئیاں بیان کی ہیں، درحقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص:۶۳۵، خزائن ج:۳ ص:۴۴۳)
اس تصریح سے یہ امر واضح ہے کہ اسّی سال عمر ہونے کی یہ پیش گوئی مرزاقادیانی کے صدق یا کذب کو جانچنے کے لئے کافی ہے۔ ہاں! مرزاقادیانی نے اس پیش گوئی کو’’او قریبًا من ذالک‘‘ یعنی یا اس کے قریب قریب کے الفاظ سے جس طرح گول کیا ہے، اب ہم اس کی بھی تحدید کئے دیتے ہیں کہ اس سے مراد کیا تھی۔
مرزاقادیانی حقیقۃ الوحی میں اپنا یہ اِلہام پیش کرتے ہیں:
’’اطال ﷲ بقاءک اسّی یا اس پر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۹۶، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۰)
پھر مرزاقادیانی نے احتیاطاً اس کی اور توسیع کی، خود لکھتے ہیں:
’’خدا نے صریح لفظوں میں اِطلاع دی تھی کہ تیری عمر ۸۰برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال
67
زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۹۷، ضمیمہ خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۸)
ان تصریحات کی روشنی میں مرزاقادیانی کی عمر کم از کم ۷۴سال اور زیادہ سے زیادہ ۸۶سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر افسوس کہ مرزاقادیانی ان تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ۱۳۲۶ھ میں تقریباً ۶۶سال کی عمر میں فوت ہوگئے، اور وہ پیش گوئی جسے انہوں نے خود اپنے صدق وکذب کا معیار ٹھہرایا تھا، انہیں یکسر کاذِب ٹھہراگئی۔
مرزا قادیانی کی عمر پر پہلا اِستدلال
مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
’’جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے اِلہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا، اور یہ عجیب اِتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے اِلہام کے ذریعے سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدّد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ضمیمہ۲ ص:۶۸، خزائن ج:۱۵ ص:۲۸۳)
’’غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے یعنی ۱۳۰۰ کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدّد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کر رہا ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۱۶، خزائن ج:۱۵ ص:۱۵۷،۱۵۸)
مرزاقادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے یہ دو باتیں ثابت ہیں:
۱:۔۔۔ مرزاقادیانی تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر مجدّد مبعوث ہوئے۔
۲:۔۔۔ اس وقت مرزاقادیانی کی عمر پورے چالیس برس کی تھی۔
مرزاقادیانی کی وفات بالاتفاق ۱۳۲۶ھ میں ہوئی ہے، چودھویں سدی کے یہ چھبیس سال، چالیس میں جمع کئے جائیں تو آپ کی کل عمر ۶۶سال کے قریب بنتی ہے۔
مرزا قادیانی کی عمر پر دُوسرا اِستدلال
’’خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعے سے اِطلاع دی ہے کہ سورۃالعصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہدِ نبوّت ہے یعنی تیئس برس کا تمام وکمال زمانہ یہ کل مدّت گزشتہ زمانہ کے ساتھ ملاکر ۴۷۳۹برس اِبتدائے دُنیا سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روزِ وفات تک قمری حساب سے ہیں۔‘‘
(تحفۂ گولڑویہ ص:۹۴، خزائن ج:۱۷ ص:۲۵۱، ۲۵۲)
اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت دُنیا کی عمر ۴۷۳۹ سے گیارہ برس سے کم یعنی
68
۴۷۲۸برس تھی۔ مرزاقادیانی کی وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کی وفات کے وقت دُنیا کی عمر ۴۷۲۸+۱۳۲۶=۶۰۵۴برس کے قریب تھی۔ اب مرزاقادیانی کی پیدائش کا وقت ان کے اپنے بیان کی رُو سے ملاحظہ کیجئے:
’’اس حساب سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔‘‘
(حاشیہ تحفۂ گولڑویہ ص:۹۵، خزائن ج:۱۷ ص:۲۵۲)
چھ ہزار سے گیارہ نکال دیں تو باقی ۵۹۸۹ رہ جاتے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ مرزاقادیانی کی پیدائش ۵۹۸۹ کے آغاز یا ۵۹۸۸ کے آخر میں کسی وقت ہوئی۔
خلاصہ اینکہ مرزاقادیانی کی پیدائش اس وقت ہوئی جب دُنیا کی پیدائش پر تقریباً ۵۹۸۸سال گزرچکے تھے اور وفات اس وقت ہوئی جب دُنیا کی عمر ۶۰۵۴برس کے قریب تھی۔ اس مدّت سے ۵۹۸۸ نکال دینے سے باقی ۶۶سال ہی رہ جاتے ہیں۔ مرزاقادیانی کی عمر کا یہ تعین ان کے دعوؤں اور اِلہامات پر مبنی ہے۔ ان کی بعثت اگر تیرھویں صدی کے ختم پر چودھویں صدی کے آغاز سے کچھ ایک دو سال پہلے تجویز کی جائے تو زیادہ سے زیادہ اس عمر کا تصور ۶۷ یا حد ۶۸سال ہوسکے گا، اس سے زیادہ کسی صورت میں ممکن نہیں۔ مشہور انگریز سرلیپل گریفن نے ’’پنجاب چیفس‘‘ (Punjab Chiefs) کے نام سے پنجاب کے زمین داروں کی ایک اہم تاریخ مرتب کی تھی، اس کی دُوسری جلد میں مرزاقادیانی کے خاندان کا بھی تذکرہ ہے، مورخ موصوف اس میں لکھتے ہیں:
’’غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا، مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا، یہ شخص ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا۔‘‘
(پنجاب چیفس ج:۲ ص:۶۲)
مرزاقادیانی کی وفات انگریزی حساب سے ۱۹۰۸ء کے اوائل میں واقع ہوئی۔ ۱۸۳۹ء میں پیدائش ہو تو ۱۹۰۷ء کے اِختتام تک مرزاقادیانی کی عمر ۶۸سال بنتی ہے۔
قادیانی سلسلے کے خلیفہ اوّل جناب حکیم نورالدین صاحب بھی اپنی کتاب ’’نورالدین‘‘ میں (جو مرزاقادیانی کی زندگی میں ہی لکھی گئی تھی اور ۱۹۰۴ء میں شائع ہوئی) مرزاقادیانی کی تاریخِ پیدائش ان الفاظ میں لکھی ہے:
’’سنہ پیدائش حضرت صاحب مسیحِ موعود ومہدی مسعود ۱۸۳۹ء۔‘‘
(نورالدین ص:۱۷۰، مطبع ضیاء الاسلام قادیان)
اِلہامات پر مبنی عمر ۶۶سال ہو یا تاریخی واقعات پر مبنی ۶۸ سال ہو، ہر دو اَعدادِ عمر مرزا غلام احمد کے اس اِلہام کو غلط ثابت کرنے کے لئے ۔۔۔کہ ان کی عمر کم از کم ۷۴سال ہوگی اور زیادہ سے زیادہ ۸۶سال کی ہوگی۔۔۔ کافی ووافی ہیں۔
اب ہم مرزاقادیانی کی اس عبارت کو پھر پیش کرتے ہیں جو انہوں نے اسّی سال کی عمر کی پیش گوئی تحریر فرمانے کے متصل بعد لکھی ہے:
’’اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیش گوئیاں بیان کی ہیں، درحقیقت میرے صدق یا کذب
69
کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۳۵، خزائن ج:۳ ص:۴۴۳)
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ قادیانیوں نے مرزاقادیانی کی خلافِ اِلہام وفات سے سبق لینے کی بجائے آپ کے واقعاتِ عمر میں ہی رَدّ وبدل کرنا شروع کردیا۔ وفات کی تاریخ تو وہ نہ بدل سکتے تھے، ناچار انہوں نے تاریخِ پیدائش میں اختلاف کرنا شروع کردیا، تاکہ کسی نہ کسی بہانے واقعات کو پیش گوئی پر منطبق کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ مرزاقادیانی کی زندگی میں ان کی پیدائش کبھی زیرِ اِختلاف نہیں آئی۔ ہم نے مرزائیوں کو بارہا چیلنج دیا ہے کہ مرزاقادیانی کی تاریخِ پیدائش کا کوئی اختلاف وہ مرزاقادیانی کی زندگی کے واقعات سے پیش کریں اور بتائیں کہ کبھی ان کے حینِ حیات بھی اس موضوع میں کوئی اِختلاف رُونما ہوا ہو۔ اگر یہ اِختلافات سب مرزاقادیانی کی وفات کے بعد ہی اُٹھے ہیں تو کیا یہ خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ اس کا واحد سبب مرزاقادیانی کی وہ اِلہامی پیش گوئی ہے جس پر مرزاقادیانی کی مدّتِ حیات کسی طرح منطبق نہ اُترسکی۔ مرزا بشیرالدین محمود نے ’’سیرتِ مسیحِ موعود‘‘ کے نام سے ایک مختصر رسالہ لکھا تھا، جو اَب پانچویں بار رَبوہ کے مرکزِ جدید سے شائع ہوا ہے، اس میں جماعت کے خلیفہ نے سرلیپل گریفن کی کتاب ’’پنجاب چیفس‘‘ سے مرزاقادیانی کا سنہ پیدائش نقل کرنے میں کھلم کھلا تحریف اور خیانت کی ہے، مرزا محمود اس رسالے کے صفحہ:۵ پر اسے یوں نقل کرتے ہیں:
’’غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا، مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا، یہ شخص ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا۔‘‘
(سیرتِ مسیحِ موعود ص:۵، مصنفہ: مرزا بشیرالدین محمود)
قارئینِ ’’دعوت‘‘ مطلع رہیں کہ اصل کتاب میں ۱۸۳۷ء نہیں بلکہ ۱۸۳۹ء ہے۔ یہ تحریف مرزاقادیانی کی عمر کو محض لمبا کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہے تاکہ اسے کچھ تو پیش گوئی کے قریب لایا جاسکے، لیکن افسوس کہ اس پر بھی مرزاقادیانی آنجہانی کی پیش گوئی واقعات کا ساتھ نہیں دے سکی۔
مرزائی حضرات سے دُوسرا سوال
۱:۔۔۔ اپنے قدیم تحریری ذخائر سے یہ ثابت کریں کہ مرزاقادیانی کی تاریخِ پیدائش کے متعلق اِختلاف کبھی ان کی زندگی میں بھی اُٹھا ہو۔
۲:۔۔۔ مرزا محمود نے ’’پنجاب چیفس‘‘ کے حوالے سے قادیانی کا سنہ پیدائش نقل کرنے میں تحریف اور خیانت نہیں کی؟ نقل کو اَصل کے مطابق ثابت کرکے خلیفہ قادیانی سے بددیانتی کے اس داغ کو دُور کریں۔
الحاصل! مرزاقادیانی کی عمر ۶۶ اور ۶۷ سال کے قریب ہی بنتی ہے، اور کسی صورت میں بھی ۷۴ سال ثابت نہیں ہوتی۔ مرزاقادیانی اپنی خلافِ اِلہام وفات سے اپنے دعوؤں کی پوری طرح تکذیب کرچکے ہیں۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
۲؍اکتوبر ۱۹۶۴ء
(عبقات ص:۳۶۰ تا ۳۶۴)
70
قادیانی عقائد
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ زید کہتا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سورۂ زلزال کے معنی غلط سمجھے‘‘، وہ کہتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے‘‘، وہ کہتا ہے کہ: ’’حضرت رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ابنِ مریم اور دجال کی خبر نہیں دی گئی‘‘، وہ کہتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ کا اِنتقال ہوگیا، کشمیر میں قبر ہے۔‘‘ ایسے شخص کی اِقتدا موجبِ نجات ہے یا نار؟ ایسا عقیدہ رکھنے والا کیسا ہے؟ اور وہ مدعی ہے کہ: ’’عیسیٰ موعود میں ہوں، اور کوئی عیسیٰ نہیں آئے گا، حضرت رسولِ اکرم خاتم النّبیین نہیں۔‘‘ اس کے اور ایسے صدہا عقیدے ہیں۔بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا بلاشبہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور ایسے شخص کی اِقتدا، سراسر ضلالت وموجبِ نار ہے۔ جتنی باتیں اس شخص کے سوال میں نقل کی گئی ہیں، وہ محض غلط وباطل ہیں، اور اِلحاد وزَندقہ کی باتیں ہیں، اس نالائق شخص نے رسول تو رسول خود اللّٰہ تعالیٰ کو جھوٹا بنایا (العیاذباللّٰہ) اللّٰہ تو فرماتا ہے: ’’وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی3 إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی4 ‘‘ (النجم:۳،۴) اور فرماتا ہے: ’’ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ‘‘ (القیامۃ:۱۹) یعنی قرآن کے معنی اور مطلب کا بیان کردینا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے، اور یہ نالائق کہتا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سورۂ زلزال کے معنی غلط سمجھے۔ نعوذ باللّٰہ من ذالک!
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’قَالَتْ أَنَّی یَکُونُ لِیْ غُلَامٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَلَمْ أَکُ بَغِیّاً. قَالَ کَذَلِکِ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَہُ آیَۃً لِلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَکَانَ أَمْراً مَّقْضِیّاً‘‘
(مریم:۲۰،۲۱)
یہ آیت اور مثل اس کے اور آیتیں صاف صاف ناطق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام بِن باپ کے پیدا ہوئے اور یہ نالائق کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘
(الاحزاب:۴۰)
اور یہ نالائق کہتا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین نہیں تھے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے اور پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کا پورا قصہ ونیز دجال کا مفصل حال بیان فرمایا ہے، کما ھو مروی فی کتب الأحادیث ، اور یہ نالائق مردُود کہتا ہے کہ آپ کو ابنِ مریم اور دجال کی خبر نہیں دی گئی، اور عیسیٰ کا انتقال ہوگیا اور اپنے آپ کو یہ مردُود عیسیٰ موعود بتاتا ہے، الحاصل! یہ شخص بالکل ملحد اور ضال ومضل اور دجال وکذّاب ہے، جمیع اہلِ اسلام کو لازم ہے کہ ایسے شخص سے نہایت ہی اِحتراز کریں۔
حررہٗ محمد علی عفی عنہ، سیّد محمد نذیر حسین
(فتاویٰ نذیریہ ج:۱ ص:۹،۱۰)
71
قادیانی شبہات
مفتری علی اللّٰہ کے خائب ہونے کا مفہوم
سوال:۔۔۔ قادیانی کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، اگر یہ محض افترا اور جھوٹ تھا تو وہ حیاتِ طبعی تک زندہ کیسے رہے؟ جو شخص خدا پر اِفترا باندھے وہ نہایت ذِلت کی موت مرتا ہے، حیاتِ طبعی تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر مرزاقادیانی کا سلسلہ تو ان کے بعد بھی قائم ہے، اس مغالطے کی وضاحت کیجئے۔
سائل: فضل رحیم از شیخوپورہ
جواب:۔۔۔ ’’فلاح نہ پانا اور فائز المرام نہ ہونا‘‘ یہ صرف انہیں کفار سے خاص نہیں جو اللّٰہ رَبّ العزّت پر اِفترا کرکے اللّٰہ پر جھوٹے دعوے کریں، بلکہ قرآن کی رُو سے کوئی کافر بھی فوز وفلاح کا مستحق نہیں، قرآنِ کریم میں ہے:
’’إِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُونَ‘‘
(المؤمنون:۱۱۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’بے شک کافر فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘
اس آیت کی رُو سے کوئی کافر خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی، دہریہ ہو یا یہودی، ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔ اب اس فلاح نہ پانے اور کامیاب نہ ہونے کو کسی خاص قسم کے کافروں سے مخصوص کرنا اور یہ کہنا کہ جو شخص نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ فلاح نہیں پائے گا۔ یہ محض سینہ زوری اور تحکم ہے۔ قرآنِ کریم اس خیال کی تائید نہیں کرتا۔ وہ شخص جو خدا پر اِفترا باندھے اور وہ شخص جو اللّٰہ کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلائے، قرآن میں دونوں کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے، اور پھر دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے، قرآن پاک کہتا ہے:
’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ‘‘
(انعام:۲۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے؟ جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے، بے شک ایسے ظالم ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘
پھر ایک دُوسرے مقام پر اِرشاد ہوتا ہے:
’’فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِہِ إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ‘‘
(یونس:۱۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے؟ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی، ایسے گنہگار یقینا فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘
72
ان آیاتِ کریمہ میں ’’مفتری علی اللّٰہ‘‘ اور ’’مکذّب بآیاتِ اللّٰہ‘‘ دونوں کو ایک ہی حکم میں داخل کیا گیا ہے، پس اس عدمِ فلاح اور ناکامی کو مفتری علی اللّٰہ سے خاص کرنا فہمِ قرآن سے خالی ہونے کی وجہ سے ہے۔
فلاح نہ پانے سے یہ مراد لینا کہ وہ عمرِ طبعی پوری نہ کریں گے، یا دُنیا میں کسی قسم کی عزّت نہ پائیں گے، یہ نظریہ بالکل غلط اور ہدایت کے خلاف ہے۔ جن لوگوں نے تاریخِ عالم کے نشیب وفراز دیکھے ہیں اور نیکوں اور بدوں کی دُنیوی تاریخ ان کی نظر سے اوجھل نہیں، انہیں یقین ہے کہ ان آیاتِ قرآنیہ میں کامیابی سے مراد دُنیا کی کامیابی نہیں، بلکہ آخرت کی فوز وفلاح مقصود ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے تمام ساتھیوں سے خطاب فرمایا تھا:
’’قَالَ لَہُم مُّوسَی وَیْلَکُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَی اللہِ کَذِباً فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَی‘‘
(طٰہٰ:۶۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا کہ تمہارے حال پر افسوس ہے! خدا تعالیٰ پر تم اِفترا نہ باندھو، ایسا کرنے سے خدا تمہیں کسی عذاب سے برباد کردے گا، بے شک جس نے خدا پر اِفترا باندھا وہ نامراد اور خاسر رہا۔‘‘
اس آیتِ شریفہ میں فرعون اور اس کے ماننے والوں سب کو مفتری علی اللّٰہ کہا گیا ہے، اور پھر سب کے لئے کہا گیا ہے کہ وہ یقینا نامراد رہیں گے۔ فرعون نے چار سو برس تک حکومت کی اور اس مدّتِ دراز میں اسے کبھی سردَرد دتک نہ ہوا، مگر بایں ہمہ وہ قرآن کی رُو سے خائب وخاسر اور محروم الفلاح تھا۔ مرزاقادیانی اس آیت کا آخری جملہ ’’قَد خَابَ مَنِ افتَرٰی‘‘ تو پیش کرتے ہیں مگر پوری آیت نقل نہیں کرتے تاکہ بات کھل نہ جائے اور حقیقت سے پردہ نہ اُٹھ جائے کہ خدا پر اِفترا باندھنے والے چار سو برس تک بھی کامیابی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ محض دُنیوی زندگی ہے، حقیقی زندگی میں یہ لوگ ایک آنِ واحد کے لئے بھی فائز الفلاح نہیں کہے جاسکتے۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
خالد محمود
(عبقات ص:۲۲۰، ۲۲۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی اُمت کے کفر کے اسباب!
سوال:۔۔۔ براہِ کرم ہفت روزہ ’’دعوت‘‘ میں مندرجہ ذیل اُمور کا جواب دیں۔ دلائل ایسے قطعی ہوں کہ ان کی تأویل نہ کی جاسکتی ہو:
۱:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی نبی کیوں نہیں تسلیم کئے جاتے؟
۲:۔۔۔ مرزا قادیانی مجدّد کیوں نہیں تسلیم کئے جاتے؟
۳:۔۔۔ مرزا قادیانی عالم کیوں نہیں تسلیم کئے جاتے؟
۴:۔۔۔ مرزا قادیانی عابد وزاہد کیوں نہیں تسلیم کئے جاتے؟
73
۵:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسلمان کیوں نہیں تسلیم کئے جاتے؟
آپ کا مخلص: نذیر احمد بٹ، رحیم اسٹریٹ، سردارپور، اچھرہ، لاہور
جواب۱:۔۔۔ مرزاقادیانی نبی اس لئے نہیں تسلیم کئے جاسکتے کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تیرھویں صدی میں پیدا ہوئے، اور حضور خاتم النّبیین کے بعد میں پیدا ہونے والا کوئی شخص کبھی نبی نہیں ہوسکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی آمد پر محض اس لئے نبی تسلیم کرلئے جائیں گے کہ وہ حضور ختمی مرتبت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بہت پہلے کے پیدا ہوئے ہیں، مگر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر طرح کی نبوّت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی ہے اور وحیٔ نبوّت کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں پیغمبروں کی شان یہ ہے کہ وہ اللّٰہ رَبّ العزّت کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے،قال ﷲ تعالٰی:
’’الَّذِیْنَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللہِ وَیَخْشَوْنَہُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلَّا اللہَ ‘‘
(الاحزاب:۳۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی رِسالت آگے پہنچاتے ہیں اور وہ اسی سے ڈرتے ہیں، اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘
اور مرزاقادیانی انگریزوں سے ڈرتے تھے، مسلمانوں سے ڈرنے کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حج نہیں کیا تھا، اور محض اس لئے نہیں کیا تھا کہ انہیں حجاز کے مسلمانوں سے جان کا خوف تھا۔ اور پھر یہ نہیں کہ یہ ڈر کوئی اَمرِ وقتی تھا، بلکہ زندگی بھر مرزاقادیانی کے ساتھ رہا۔ اور انگریزوں سے ڈرنے کی دلیل یہ ہے کہ ڈوئی کی عدالت میں انہوں نے محض ڈرتے ہوئے اپنے طریق کار کے خلاف آئندہ ضمانت کے طور پر دستخط کردئیے تھے، اور پھر ساری عمر انگریزوں کی مدح خوانی اور سلطنتِ برطانیہ کی قصیدہ خوانی کرتے رہے۔ پس ایسے اشخاص کے متعلق جن کی قلبی اور ذہنی کیفیت اس قدر کمزور ہو، نبوّت کے تصوّر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
۲:۔۔۔مرزاقادیانی مجدّد اس لئے تسلیم نہیں کئے جاسکتے کہ مجدّد کا کام قوم کو پہلی بدعات اور پہلی آلائشوں سے نجات دِلانا ہے، جو زمانے کے تاثرات اور رسم ورِواج سے وہ داخلِ دِین کرچکے ہوں، اور وہ بھی زیادہ تر علمی میدان میں، معروف کے قیام اور منکرات کی روک تھام کے لئے عمل میں آتا ہے۔ مرزاقادیانی بجائے اس کے کہ قوم کو کسی پہلے اِنتشار سے نجات دِلاتے، خود ایک وجۂ اِنتشار بن گئے۔ بجائے اس کے کہ پہلی فرقہ بندی میں کچھ کمی ہوتی، ایک اور فرقے کا ان میں اِضافہ ہوگیا، اور وہ فرقہ بھی ایسا بنا جو پوری قوم سے کٹ کر ایک جداگانہ ملت بن گیا۔ پس جبکہ مرزاقادیانی کا کوئی کام مجدّدینِ سابقین کے منہاج پر نہ تھا، انہیں مجدّد کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔۔۔؟
۳:۔۔۔ مرزاقادیانی کو ایک عالم اس لئے تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ معقول، منقول اور ادب ہر اِعتبار سے کمزور اور خام تھے۔ ادب عربی کے اِعتبار سے وہ متعدّد غلطیوں کے مرتکب ہوئے، جن کی تفاصیل سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔ منقول میں بھی انہوں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ حدیث کی بحث کرتے ہیں تو قواعدِ محدثین اور آدابِ محدثین سے ناواقف دِکھائی دیتے ہیں۔ تفسیر کرتے ہیں تو قرآنی علوم سے خالی نظر آتے ہیں۔ علیٰ ھٰذاالقیاس ان میں کوئی علمی ممتاز شان نہ تھی کہ انہیں اِمتیازی طور پر عالم تسلیم کیا جائے۔
74
۴:۔۔۔ مرزاقادیانی کا غیرمحرَم عورتوں سے عام اِختلاط اور متعدّد غلط بیانیوں کا اِرتکاب، انہیں ایک زاہد اور پرہیزگار اِنسان سمجھنے کی اِجازت نہیں دیتا۔
۵:۔۔۔ مرزاقادیانی کو مسلمان تسلیم کرنے سے یہ اُمور مانع ہیں:
1۔۔۔ انہوں نے مراق سے اِفاقے کی حالت میں بھی ختمِ نبوّت کے ان معنوں کا اِنکار جاری رکھا جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لے کر آخر تک اُمتِ مسلمہ نے بالاجماع سمجھ رکھے تھے اور ختمِ نبوّت کا یہ اِنکار ایک مستقل وجۂ کفر ہے۔
2۔۔۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی اور انہیں بہت سے نامناسب الفاظ کے ساتھ ذِکر کیا، اور قاعدۂ شرعیہ ہے کہ نبی کی توہین اور اس کی شان میں کسی قسم کی گستاخی ہر دو موجبِ کفر ہیں۔
3۔۔۔ مرزاقادیانی نے بعض ان اُمورِ شرعیہ کو جو حضور ختمی مرتبت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت میں عبادات تھے، حرام قرار دے کر تحریمِ حلال اور تحلیلِ حرام کا اِرتکاب کیا، جیسے جہاد کو حرام قرار دینا وغیرہ۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۱۹۴-۱۹۶)
چودھویں صدی ہجری کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں
سوال:۔۔۔ چودھویں صدی ہجری کی اسلام میں کیا اہمیت ہے؟ اور جناب کسی شخص نے مجھ سے کہا کہ ’’چودھویں صدی میں نہ تو کسی کی دُعا قبول ہوگی اور نہ ہی اس کی عبادات‘‘ آخر کیا وجہ ہے؟
جواب:۔۔۔ شریعت میں چودھویں صدی کی کوئی خصوصیت اہمیت نہیں۔ جن صاحب کا قول آپ نے نقل کیا ہے، وہ غلط ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص۲۷۹)
کیا چودھویں صدی آخری صدی ہے؟
سوال:۔۔۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ: ’’چودھویں صدی آخری صدی ہے، اور چودھویں صدی ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی ہے، اس کے بعد قیامت آجائے گی‘‘ جبکہ میں اس بات کو غلط خیال کرتا ہوں۔
جواب:۔۔۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا(۱) اور اس کی بڑی بڑی جو علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں، وہ ابھی شروع نہیں ہوئیں، ان علامتوں کے ظہور میں بھی ایک عرصہ لگے گا۔ اس لئے یہ خیال محض جاہلانہ ہے کہ چودھویں صدی ختم ہونے پر قیامت آجائے گی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۸،۲۷۹)
(۱) إِنَّ اللہَ عِندَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ (لقمان:۳۴)
عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ قال: بینما نحن عند رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ذات یوم، إذ طلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب، شدید سواد الشعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال: فأخبرنی عن الساعۃ؟ قال: ما المسئول عنھا بأعلم من السائل ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۲، کتاب الإیمان، الفصل الأوّل، طبع قدیمی)۔
75
پندرھویں صدی اور قادیانی بدحواسیاں
سوال:۔۔۔ جناب مولانا صاحب! پندرھویں صدی کب شروع ہورہی ہے؟ باعثِ تشویش یہ بات ہے کہ بندہ نے قادیانیوں کا اخبار ’’الفضل‘‘ دیکھا، اس میں اس بارے میں متضاد باتیں لکھی ہیں، چنانچہ مورخہ ۷؍ذی الحجہ ۱۳۹۹ھ، ۲۹؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کے پرچے میں لکھا ہے کہ:
’’سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے غلبۂ اِسلام کی صدی کے اِستقبال کے لئے جس کے شروع ہونے میں دس دن باقی رہ گئے ہیں، ایک اہم پروگرام کا اعلان فرمایا ہے۔‘‘
مگر ’’الفضل‘‘ ۱۲؍ذی الحجہ ۱۳۹۹ھ، ۳؍نومبر ۱۹۷۹ء کے اخبار میں لکھا ہے کہ سیّدنا وامامنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث پر آسمانی اِنکشاف کیا گیا ہے کہ پندرھویں صدی جس کی اِبتدا اگلے سال ۱۹۸۰ء میں ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اور ربوہ (چناب نگر) کے ایک قادیانی پرچے ’’انصار اللّٰہ‘‘ نے ربیع الثانی ۱۳۹۹ھ، مارچ ۱۹۷۹ء کے شمارے میں ’’چودھویں صدی ہجری کا اِختتام‘‘ کے عنوان سے ایک اِدارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ:
’’اسلامی کیلنڈر کے مطابق چودھویں صدی کے آخری سال کے چوتھے ماہ کا بھی نصف گزرچکا ہے، یعنی آج پندرہ ربیع الثانی ۱۳۹۹ھ ہے اور چودھویں صدی ختم ہونے میں صرف ساڑھے آٹھ ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے، پندرھویں صدی کا آغاز ہونے والا ہے (گویا محرم ۱۴۰۰ھ سے)۔‘‘
آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ پندرھویں صدی کب سے شروع ہو رہی ہے؟ اس ۱۴۰۰ھ سے یا اگلے سال محرم ۱۴۰۱ھ سے؟ یا ابھی دس سال باقی ہیں؟
جواب:۔۔۔ ’’صدی‘‘ سو سال کے زمانے کو کہتے ہیں۔ چودھویں صدی ۱۳۰۱ھ سے شروع ہوئی تھی، اب اس کا آخری سال محرم ۱۴۰۰ھ سے شروع ہو رہا ہے، اور محرم ۱۴۰۱ھ پندرھویں صدی کا آغاز ہوگا۔ باقی قادیانی صاحبان کی اور کون سی بات تضادات کا گورکھ دھندا نہیں ہوتی۔۔۔! اگر نئی صدی کے آغاز جیسی بدیہی بات میں بھی تضاد بیانی سے کام لیں تو یہ ان کی ذہنی ساخت کا فطری خاصہ ہے، اس پر تعجب ہی کیوں ہو۔۔۔؟
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۹،۲۸۰)
کیا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کنگن پہننے والی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی؟
سوال:۔۔۔ یہاں قادیانی یہ اِعتراض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں، لیکن وہ کنگن حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ پہن سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی پیش گوئی جھوٹی نکلی (نعوذباللّٰہ)۔ یہ حدیث کیا ہے؟ کس کتاب کی ہے؟ وضاحت سے لکھیں۔
جواب:۔۔۔ دو کنگنوں کی حدیث دُوسری کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قصۃ الاسود
76
العنسی ج:۲ ص:۶۲۸، اور کتاب التعبیر، باب النفخ فی المنام ج:۲ ص:۱۰۴۲ میں بھی ہے۔ حدیث کا متن یہ ہے: (۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میں سو رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں پر دو کنگن سونے کے رکھے گئے، میں ان سے گھبرایا اور ان کو ناگوار سمجھا، مجھے حکم ہوا کہ ان پر پھونک دو، میں نے پھونکا تو دونوں اُڑگئے، میں نے اس کی تعبیر ان دو جھوٹوں سے کی جو دعویٔ نبوّت کریں گے، ایک اسود عنسی اور دُوسرا مسیلمہ کذّاب۔‘‘
اس خواب کی جو تعبیر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمائی، وہ سو فیصد سچی نکلی، اس کو ’’جھوٹی پیش گوئی‘‘ کہنا قادیانی کافروں ہی کا کام ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۹۴)
مباہلہ اور خدائی فیصلہ
سوال:۔۔۔ مباہلے کی کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں کلام مجید کی کون کون سی آیات کا نزول ہوا ہے؟
جواب:۔۔۔ مباہلہ کا ذِکر سورۂ آل عمران، آیت:۶۱ میں آیا ہے، جس میں نجران کے نصاریٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصے میں بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی تو تو کہہ دے: آؤ! بلائیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جان اور تمہاری جان، پھر اِلتجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللّٰہ کی ان پر جو جھوٹے ہیں۔‘‘(۲)
(ترجمہ شیخ الہندؒ)
اس آیتِ کریمہ سے مباہلہ کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جب کوئی فریق حق واضح ہوجانے کے باوجود اس کو جھٹلاتا ہو اس کو دعوت دی جائے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوں اور گڑگڑاکر اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجے۔ رہا یہ کہ اس مباہلے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوجاتا ہے:
۱:۔۔۔ مستدرک حاکم (ج:۲ ص:۵۹۴) میں ہے کہ نصاریٰ کے سیّد نے کہا کہ ان صاحب سے (یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے) مباہلہ نہ کرو، اللّٰہ کی قسم! اگر تم نے مباہلہ کیا تو دونوں میں سے ایک فریق زمین میں دفنادیا جائے گا۔(۳)
۲:۔۔۔ حافظ ابونعیمؒ کی ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں ہے کہ سیّد نے عاقب سے کہا: ’’اللّٰہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ یہ صاحب نبیٔ برحق ہیں، اور اگر تم نے اس سے مباہلہ کیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی، کبھی کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ نہیں کیا کہ پھر ان کا کوئی بڑا باقی رہا
(۱) وقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: بینا انا نائم إذ اوتیت خزائن الأرض فوضع فی یَدیّ سواران من ذھب فکبرا علیّ واھمّانی فأوحی إلیّ ان انفخھما فنفختھما فاولتھما الکذابین الذَیْنِ أنا بینھما صاحب صنعاء وصاحب الیمامۃ۔ (بخاری ج:۲ ص:۱۰۴۲، کتاب التعبیر، باب النفخ فی المنام)۔
(۲) قال تعالٰی: ’’فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِن بَعْدِ مَا جَاء کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاء نَا وَأَبْنَاء کُمْ وَنِسَاء نَا وَنِسَاء کُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَۃَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ‘‘ (آل عمران:۶۱)۔
(۳) عن جابر أن وفد نجران أتوا النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فقال رئیسھم: لا تلاعنوا ھٰذا الرجل فواﷲ! لئن لاعنتموہ لیخسفن بأحد الفریقین۔ (الدر المنثور ج:۲ ص:۳۹، طبع إیران)۔
77
ہو یا ان کے بچے بڑے ہوئے ہوں۔‘‘(۱)
۳:۔۔۔ ابنِ جریرؒ، عبد بن حمیدؒ اور ابونعیم نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت قتادہؓ کی روایت سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: ’’اہلِ نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا، اور اگر وہ مباہلہ کرلیتے تو زمین سے ان کا صفایا کردیا جاتا۔‘‘ (۲)
۴:۔۔۔ ابنِ ابی شیبہؒ، سعید بن منصورؒ، عبد بن حمیدؒ، ابنِ جریرؒ اور حافظ ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں اِمام شعبیؒ کی سند سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے کہ: ’’میرے پاس فرشتہ اہلِ نجران کی ہلاکت کی خوشخبری لے کر آیا تھا اگر وہ مباہلہ کرلیتے تو ان کے درختوں پر پرندے تک باقی نہ رہتے۔‘‘(۳)
۵:۔۔۔ صحیح بخاری، ترمذی، نسائی اور مصنف عبدالرزاق وغیرہ میں حضرت ابنِ عباسؓ کا اِرشاد نقل کیا ہے کہ: ’’اگر اہلِ نجران آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرلیتے تو اس حالت میں واپس جاتے کہ اپنے اہل وعیال اور مال میں سے کسی کو نہ پاتے۔‘‘(۴)
(یہ تمام روایات دُرِّمنثور ج:۲ ص:۳۹ میں ہیں)
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والے عذابِ اِلٰہی میں اس طرح مبتلا ہوجاتے کہ ان کے گھربار کا بھی صفایا ہوجاتا اور ان کا ایک فرد بھی زندہ نہیں رہتا۔
یہ تو تھا سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے کا نتیجہ! اب اس کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے مباہلے کا نتیجہ بھی سن لیجئے۔۔۔!
۱۰؍ذیقعد ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷؍مئی ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم سے ایک دفعہ مرزاقادیانی کا عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مباہلہ ہوا۔
(مجموعہ اِشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۱ ص:۴۲۷، ۴۲۸)
مباہلے کے نتیجے میں مرزاقادیانی کا مولانا مرحوم کی زندگی میں انتقال ہوگیا (مرزا قادیانی نے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اِنتقال کیا، اور مولانا عبدالحق مرحوم، مرزاقادیانی کے نو سال بعد تک زندہ رہے، ان کا انتقال ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا)۔
(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۲)
مرزاقادیانی نے اپنی وفات سے ساتھ مہینے چوبیس دن پہلے (۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو) فرمایا تھا:
(۱) وأخرج أبو نُعیم فی الدلائل ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال السید للعاقب: قد واﷲ! علمتم ان الرجل نبی مرسل ولئن لاعنتموہ انہ یستأصلکم وما لاعن قوم نبیًّا فبقی کبیرھم ولا نبت صغیرھم ۔۔۔إلخ۔ (الدر المنثور ج:۲ ص:۳۹، طبع إیران)۔
(۲) واخرج عبد بن حمید وابن جریر وابو نُعیم فی الدلائل عن قتادۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال: ان کان العذاب لقد نزل علٰی اھل نجران ولو فعلوا لاستؤْصلوا عن جدید الأرض۔ (الدر المنثور ج:۲ ص:۳۹، طبع إیران)۔
(۳) واخرج ابن ابی شیبۃ وسعید بن منصور وعبد بن حمید وابو نُعیم عن الشعبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: لقد أتانی البشیر بھلکۃ اھل نجران حتی الطیر علی الشجر لو تموا علی الملاعنۃ۔ (الدر المنثور ج:۲ ص:۳۹ طبع إیران)۔
(۴) واخرج عبدالرزاق والبخاری والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نُعیم فی الدلائل عن ابن عباس قال: لو باھل اھل نجران رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم لرجعوا لا یجدون أھلًا ولا مالًا۔
(الدر المنثور ج:۲ ص:۳۹، طبع إیران)
78
’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۹ ص:۴۴۰)
مرزاقادیانی نے مولانا مرحوم سے پہلے مرکر اپنے مندرجہ بالا قول کی تصدیق کردی اور دو اور دو چار کی طرح واضح ہوگیا کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا تھا۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۳۹۷،۳۹۸)
قادیانی تحریک کی بنیاد
سوال:۔۔۔ ’’عبقات‘‘ پڑھنے کا موقع ملا ہے، ماشاء اللّٰہ! مطالعۂ شیعیت میں یہ حرفِ آخر ہے۔ لیکن اس میں جو قادیانی مباحث لکھے ہیں، اگر وہ نہ ہوتے تو یہ کتاب ایک موضوع پر رہتی۔ ملتمس ہوں کہ نئے ایڈیشن میں قادیانیوں کے رَدّ کو اس کتاب سے علیحدہ کردیں، اس میں زیادہ فائدہ ہوگا۔
سائل: عبداللطیف انور
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک دراصل شیعہ تحریکوں کی ہی ایک کڑی ہے۔ شیعیت میں چھپے مہدی کے تصوّر نے بہت سے لوگوں کو مہدی بننے کا شوق دیا۔ محمد علی باب کی تحریک، اور بہاء اللّٰہ ایرانی کی تحریک بھی دراصل اسی شیعہ عقیدے کی صدائے بازگشت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اِبتدا میں اسی راستے پر چلا ہے، سو قادیانیت کو بھی اس پہلو سے شیعیت کی ایک بدلی ہوئی صورت کہہ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے مصر کے ایک مشہور محقق علامہ رشید رضا مصری کو ایک خط لکھا اور اس میں اپنے دعاوی کا ذِکر کیا، علامہ رشید رضا نے وہ خط اور اس کا رَدّ اپنے رسالے ’’المنار‘‘ میں دے دیا۔ مرزا غلام احمد نے پھر اپنی تحریرات میں علامہ رشید رضا کو بہت بُرابھلا کہا اور اسے: ’’سیھزم فلا یریٰ‘‘ (اسے شکست ہوگی اور پھر وہ کہیں دیکھا نہ جائے گا) کے لفظوں سے موت کی دھمکی دی اور گمان کیا کہ یہ وحی ہے جو اپنے خدا کی طرف سے ملی ہے۔
علامہ رشید رضا لکھتے ہیں:
’’وتوعدنی بقولہ عنی ’’سیھزم فلا یریٰ‘‘ وزعم ان ھٰذا بنأوحی جائہ من ﷲ جل وعلا وقد کان ھو الذی انھزم ومات۔
کان ھٰذا الرجل یستدل بموت المسیح ورفع إلی السماء کما رفعت ارواح الأنبیاء علٰی انہ ھو المسیح الموعود بہ ولا یزال اتباعہ یستدلون بذالک وقد جری علٰی طریقۃ ادعیاء المھدویۃ من شیعۃ إیران (کالباب والبھاء) فی إستنباط الدلائل الوھمیۃ علٰی دعوتہ من القرآن ۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو یجد عن جاھلی اللغۃ وفاقدی الإستقلال العقلی من یقبل منہ کل دعویٰ۔‘‘
(تفسیر المنار ج:۶ ص:۵۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس شخص نے مجھے میرے بارے میں یہ کہہ کر ڈرایا کہ یہ عنقریب پسپا ہوگا، پھر کہیں دیکھا نہ جاسکے گا (میری موت کی پیش گوئی کردی)، اور گمان کیا کہ یہ وحی کی خبر ہے جو اسے خدا جل وعلا سے ملی ہے،
79
اور بات یوں نکلی کہ وہ خود ہی پسپا ہوا اور مرگیا۔ یہ شخص (اپنے لئے) موت مسیح سے مسیحِ موعود ہونے پر اِستدلال کرتا تھا اور اس بات سے کہ حضرت مسیح کی رُوح بھی اسی طرح آسمانوں میں چلی گئی ہے جس طرح اور انبیاء کے ساتھ ہوا۔ اور اس کے پیرو اس بات سے برابر اِستدلال کرتے چلے آرہے ہیں اور مرزا غلام احمد اس میں ایران کے شیعہ مدعیانِ مہدویت کے طریق پر چلا ہے، اپنے دعوے کے وہمی دلائل قرآن سے اخذ کرنے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ عربی زبان سے جاہل ہیں اور ان کی عقل اپنی جگہ قائم نہیں، ان میں ایسے بھی ہیں جو اس کے ہر دعوے پر اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔‘‘
سو اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت ایک بگڑی ہوئی شیعیت کا ہی دُوسرا نمود ہے۔ سو عبقات میں ان پر تنقید اپنے موضوع سے باہر نہیں۔ اور یہ بات تو آپ سے مخفی نہ ہوگی کہ عبقات کوئی مستقل کتاب نہیں، ہفت روزہ ’’دعوت‘‘ لاہور کے باب الاستفسار (جو مختلف موضوعات پر ہوئے تھے) کی ہی ایک مجموعی پیش کش ہے،فیتقبل ﷲ مِنّا ومنکم!
خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۴۸۳،۴۸۴)
مرزا قادیانی کی تردیدِ عیسائیت کی غرض؟
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ سلطنتِ برطانیہ کا خیرخواہ اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا، مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں کی تردید میں وہ بہت پیش پیش تھا، اگر وہ واقعی ان عیسائی قوموں کا نمک خوار تھا تو وہ پھر عیسائیوں کی تردید میں اس قدر کام کیوں کرتا رہا؟ اس کا جواب ہفت روزہ ’’دعوت‘‘ میں دیں۔
جواب:۔۔۔ سلسلۂ مرزائیت کے سربراہ اور قادیانیوں اور لاہوریوں ہر دو طبقوں کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی خود اس تناقض سے پردہ اُٹھاچکے ہیں۔ ان کی اپنی تحریر سے زیادہ کوئی بیان اس مسئلے کی وضاحت نہیں کرسکتا۔ مرزا قادیانی آنجہانی ۱۸۹۹ء کی ایک تحریر میں عیسائی پادریوں کی سخت تحریروں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے دِل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دِلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اِشتعال دینے والا اثر پیدا ہو، تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمتِ عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہوجائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو، تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدگمانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی، کیونکہ میرے کانشنس نے مجھے
80
قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں، ان کے غیظ وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اِشتعال میں آچکے تھے، ایک دفعہ ان کے اِشتعال فرو ہوگئے، کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے بالمقابل بہت نرم تھی۔ گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دی، کیونکہ مسلمانوں کے دِلوں میں دُودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں، ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچائے جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے۔ اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے ہوچکے ہیں، ایک عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں، جس کی تفصیل کے لئے اس جگہ موقع نہیں۔ سو مجھ سے پادیروں کے مقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمتِ عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا، اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجے کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں، کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیرخواہی میں اوّل درجے پر بنادیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ دوم اس گورنمنٹ کے اِحسانوں نے۔ تیسرے خدا تعالیٰ کے اِلہام نے۔ اب میں اس گورنمنٹِ محسنہ کے زیرِ سایہ ہر طرح سے خوش ہوں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج:۸ ص:۵۱-۵۳، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۱۴۲)
اس تحریر سے یہ بات نہایت واضح ہے کہ قادیانیوں کا مسیحی تبلیغات کا مقابلہ کرنا اسلام کی خیرخواہی کے لئے ہرگز نہ تھا۔ عیسائی قوتوں کو ہر ممکن اِضمحلال اور کمزوری سے بچانے کے لئے یہ ان کا ایک حکیمانہ طریقِ کار تھا۔ اسلام کی خیرخواہی اگر کچھ بھی ان کے دِلوں میں موجود ہوتی تو یہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّتِ جامعہ اور رِسالتِ جاریہ کے بعد کسی قسم کی نبوّت کے ملنے کے ہرگز قائل نہ ہوتے اور ان کا مرکزِ عقیدت مدینہ منوّرہ کی بجائے کسی صورت میں قادیان قرار نہ پاتا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انگریز کا خودکاشتہ پودا خود عیسائیوں کے ہی خلاف کام کرنے لگے؟ یہ جو کچھ دِکھائی دے رہا ہے، یہ فقط ظاہر ہے، حقیقت وہی ہے جسے مرزا قادیانی آنجہانی خود سپردِ قلم کرچکے ہیں۔ اس پر تعجب نہ کیا جائے کہ انہوں نے اپنا راز خود کیسے کھول دیا؟ یہ انگریزوں کو مطمئن کرنے کے لئے
81
ضروری تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسے صرف ایک اشتہار میں لکھا تھا، کتاب میں نہیں، اس کے پیروؤں نے یہ کیا کہ اس کے تمام اِشتہارات کتابی شکل میں جمع کردئیے۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
۲۶؍جون ۱۹۶۴ء
(عبقات ص:۳۳۱ تا ۳۳۳)
علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی
سوال:۔۔۔ بخدمت جناب حضرت علامہ دامت برکاتہم السلام علیکم
سمندری میں ۲۲؍اپریل کو دفتر بلدیہ سمندری کے چیئرمین کی زیرِ صدارت یومِ اقبال منایا گیا۔ جس میں چند مرزائی بھی مدعو تھے، میں نے اقبال اور ختمِ نبوّت کے موضوع پر تاریخی روشنی ڈالی، جس پر مرزائی مبلغ نے اِعتراض کیا کہ یہ واقعہ غلط ہے۔ میں نے بیان کیا تھا کہ کشمیر کمیٹی میں جب مرزا بشیرالدین محمود صدر تھے، ڈاکٹر اقبال نے استعفیٰ دیا تھا اور انجمن حمایتِ اسلام میں جب ڈاکٹر اقبال صدر تھے تو انہوں نے مرزائی ارکان انجمن حمایتِ اسلام سے خارج کردئیے تھے۔ میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے پر بھی ایک بیان دیا تھا۔ مرزائی مبلغین نے ان سب اُمور کا اِنکار کیا ہے، اس لئے آپ ان موضوعات کے متعلق ’’دعوت‘‘ کے باب الاستفسارات میں تفصیلاً بیان فرمائیں، بہت مشکور ہوں گا۔
محمد علی جانباز
جواب:۔۔۔ یہ صحیح ہے کہ علامہ اقبالؒ جب انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے صدر تھے تو ان کی تحریک اور عام مسلمانوں کی تائید سے انجمن حمایتِ اسلام نے ۱۹۳۶ء کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کی رُو سے مرزائی، انجمن حمایتِ اسلام کے ممبر نہیں ہوسکتے تھے۔ اور اس قرارداد کے مطابق اس وقت جتنے بھی مرزائی ممبر تھے، سب انجمن حمایتِ اسلام کی رُکنیت سے خارج ہوگئے تھے۔ سمندری کے مرزائی مبلغ نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ آپ اسے لاہور لاکر انجمن حمایتِ اسلام کا ریکارڈ دِکھاسکتے ہیں، ایسے روشن حقائق کا اِنکار بہت موجبِ تعجب ہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو نے ۱۹۳۶ء کے وسط میں پنجاب کے مختلف مقامات کا دورہ کیا تھا، اور مرزائیوں کی ایک سیاسی انجمن نے اس دوران میں پنڈت جی کو ایک دعوتِ استقبالیہ بھی دی تھی۔ اس پر بعض حلقوں سے مرزائیوں پر کافی اِعتراضات ہوئے اور مرزا بشیرالدین محمود خلیفہ قادیان نے اپنے خطبۂ جمعہ میں ان اِعتراضات کے جوابات دئیے تھے۔ ان جوابات کے ضمن میں مرزا بشیرالدین نے بیان کیا تھا کہ ڈاکٹر اقبال نے احمدیوں کو عام مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کی تحریک کی تھی، اور پنڈت جواہر لال نہرو نے اس کا رَد کیا تھا۔ اس لئے ایسے شخص کا اِستقبال بالکل حق بجانب ہے۔ خلیفہ قادیان کا یہ خطبہ اخبار ’’الفضل‘‘ میں شائع بھی ہوا۔ الفاظ یہ ہیں:
’’اگر پنڈت جواہر لال نہرو اِعلان کردیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لئے وہ اپنی تمام طاقت خرچ
82
کردیں گے، جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے، تو اس قسم کا اِستقبال بے غیرتی ہوتا، لیکن اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانے میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال کے ان مضامین کا رَدّ لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دئیے جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا احمدیت پر اِعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویے کے خلاف ہے، تو ایسے شخص کا جبکہ وہ صوبے میں مہمان کی حیثیت سے آرہا ہو، ایک سیاسی انجمن کی طرف سے اِستقبال بہت اچھی بات ہے۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۱؍جون ۱۹۳۶ء جلد:۲۲ شمار نمبر:۲۸۷ خطبہ جمعہ)
اس عبارت میں نہایت واضح اِقرار ہے کہ مرزائیوں کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کے محرکِ اوّل علامہ اقبالؒ ہی تھے۔ پس سمندری کے مرزائی مبلغ کا اِنکار حقیقت پر مبنی نہیں۔
ڈاکٹر یعقوب بیگ انجمن حمایتِ اسلام کے ایک پُرانے سرگرم کارکن تھے۔ وہ مرزائیوں کی لاہوری جماعت سے وابستہ تھے۔ علامہ اقبالؒ کی اسی مذکورہ بالا تحریک کی بنا پر وہ بھی انجمن حمایتِ اسلام کی رُکنیت سے علیحدہ کردئیے گئے، اس لئے علامہ اقبالؒ کی یہ تحریک لاہوری جماعت پر بھی بہت گراں تھی۔ انہی دِنوں لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے بھی اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ میں یہ بیان شائع ہوا تھا:
’’علامہ اقبال جیسے بلند پایہ انسان جسے آج سے چار برس پہلے ایک مسلمان کمیٹی کا صدر بنائیں، آج اسے کافر قرار دیں۔ مرزا محمود احمد قادیانی کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے میں سر محمد اقبال پیش پیش تھے اور جس جماعت کو سولہ سترہ سال پیشتر ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا نمونہ بتائیں، آج اسے کافروں کی جماعت قرار دیں، پس مناسب ہے کہ جو کچھ فتویٰ دیں وہ آج کی تحریرات پر دیں۔‘‘
(اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ جلد:۲۴ شمارہ:۲۸، فروری ۱۹۳۶ء)
گو ہمیں اس سے اتفاق نہیں کہ مرزا بشیرالدین محمود کو کشمیر کمیٹی کا صدر بنانے کے محرک علامہ اقبالؒ تھے، اس وقت اس سے بھی بحث نہیں کہ پھر علامہ اقبالؒ نے اس کمیٹی سے آخر کیوں اِستعفیٰ دے دیا تھا، اس وقت ہمیں صرف یہ دِکھانا ہے کہ قادیانی اور لاہوری دونوں جماعتوں کے بیان کے مطابق مرزائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت قرار دینے کو محرکِ اوّل علامہ اقبال مرحوم ہی تھے۔
ڈاکٹر یعقوب بیگ (لاہوری مرزائی) انجمن حمایتِ اسلام کے اس فیصلے کے پورے ایک ہفتے بعد فوت ہوگئے تھے، اور مرزائی اخبارات نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی وفات اسی صدمے سے ہوئی کہ ملتِ اسلامیہ انہیں کس طرح پوری ملت سے کٹا ہوا سمجھتی ہے۔
پھر اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ کی اسی جلد کے شمارہ نمبر:۶۰ کی اِشاعت میں یہاں تک مذکور ہے کہ ’’ان دِنوں اسمبلی کے اُمیدوار
83
یہ عہد کرتے پھرتے تھے کہ اسمبلی میں جاکر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
(پیغامِ صلح ص:۹، ستمبر ۱۹۳۶ء)
علامہ اقبالؒ کو اگر ایک وقت تک مرزائیوں کے تفصیلی نظریات کی اِطلاع نہ ہوسکی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ علامہ اقبالؒ کے اپنے نظریات میں کوئی کمزوری تھی۔ نہیں! ان کا اپنا اعتقاد اس وقت بھی اتنا ہی پختہ تھا جتنا کہ وہ بعد میں ظاہر ہوا۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کا ایک مضمون ۱۹۱۴ء کی اِبتدا میں ’’لمعات‘‘ شائع ہوا تھا، جسے اخبار ’’الفضل‘‘ نے بھی جلد نمبر:۳ کے شمارہ نمبر:۱۰۵ میں نقل کیا تھا:
’’وہ (ڈاکٹر اقبال) لکھتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے جس کا اِنکار مستلزمِ کفر ہو، وہ خارج اَز دائرۂ اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(الفضل ص:۱۱، اپریل ۱۹۱۴ء)
رہا یہ مسئلہ کہ قادیانی فرقے کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا اِنکار ’’مستلزم‘‘ کفر ہے یا نہیں؟ سو اس کے لئے اتنی بات یاد رکھیے کہ علامہ اقبال مرحوم کے والد مرحوم پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے وابستگان میں سے تھے، پھر جب وہ مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہوئے تو انہوں نے ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس پر مرزاقادیانی نے انہیں لکھا کہ آپ کا نام نہ صرف جماعت سے بلکہ اسلام سے ہی کاٹ دیا گیا ہے۔ اس واقعے کا کچھ تذکرہ مرزا بشیرالدین کے بھائی مرزا بشیراحمد نے بھی ’’سیرت المہدی‘‘ (دوسرا ایڈیشن مطبوعہ ۱۹۳۵ء) کی تیسری جلد، ص:۲۴۹ میں کیا ہے۔ اور اس مسئلے کی بحث کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا اِنکار ’’مستلزم‘‘ کفر ہے یا نہیں؟ احقر کی کتاب ’’عقیدۃ الاُمَّۃ فی معنیٰ ختم النُّبوَّۃ‘‘ میں نہایت مفصل طور پر موجود ہے۔ بہرحال اس سے اِنکار نہیں ہوسکتا کہ علامہ اقبالؒ کی اسلامی خدمات میں سے عقیدۂ ختمِ نبوّت کی خدمت ملتِ اسلامیہ پر ایک ایسا احسان ہے کہ اسے بیان کرنے کے بغیر یادِ اِقبال کا کوئی حق ادا نہیں ہوسکتا۔ آپ کی (مولانا محمد علی صاحب) یہ ہمت لائقِ تحسین ہے کہ آپ نے سمندری کے اس جلسہ یومِ اقبال میں علامہ اقبالؒ کی اس عظیم اسلامی خدمت کو تفصیل سے بیان کیا۔ رَبّ العزّت آپ کو جزائے خیر دے۔
والسلام!
احقر خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۳۱۴ تا ۳۱۷)
معراجِ نبوی، سیر رُوحانی تھا یا جسمانی؟
سوال:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیر، معراج کے متعلق صحیح عقیدہ کیا ہے؟ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ سیر جسمانی طور پر کرائی گئی یا یہ ایک رُوحانی سیر تھی؟ اگر یہ ایک جسمانی سیر تھی تو پھر بعض روایات میں واقعۂ معراج مذکور ہونے کے بعد یہ الفاظ کیوں کہے: ’’ثم استیقظت‘‘ کہ ’’پھر میں جاگ پڑا‘‘ اس سے پتا چلتا ہے کہ پہلے کا سارا واقعہ ایک خواب کا واقعہ تھا۔ پھر یہ معراج جسمانی طور پر کیسے صحیح ہوا؟
سائل: عبدالرزاق، از سعدی پارک، لاہور
84
جواب:۔۔۔ جمہور اہلِ اسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ سیر جسدِ عنصری کے ساتھ بحالتِ بیداری کرائی گئی اور معراج شریف کا واقعہ جسمانی طور پر ہی عمل میں آیا اور یہی ہمارا اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔
۱:۔۔۔ حافظ ابنِ قیمؒ فرماتے ہیں:
’’ثم اسری برسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بجسدہ علی الصحیح۔‘‘
(زاد المعاد ج:۱ ص:۹۹، طبع المنار الإسلامیۃ، بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’صحیح یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سیرِ معراج آپ کے جسدِ اَطہر سمیت کرائی گئی۔‘‘
۲:۔۔۔ حضرت اِمام شاہ ولی اللّٰہ صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
’’اسری بہ صلی ﷲ علیہ وسلم إلی المسجد الأقصٰی ثم إلٰی سدرۃ المنتھٰی وإلٰی ما شاء ﷲ وکل ذالک بجسدہ صلی ﷲ علیہ وسلم فی الیقظۃ‘‘
(حجۃ ﷲ البالغۃ ج:۲ ص:۲۰۶، مطبوعہ نور محمد کتب خانہ کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ تک، پھر وہاں سے سدرۃالمنتہیٰ تک، اور پھر وہاں سے اس مقام تک جہاں بھی خدا کو منظور تھا، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیر کرائی گئی اور یہ سب کچھ جسدِ اَطہر کے ساتھ عالم بیداری میں واقع ہوا۔‘‘
۳:۔۔۔ دارالعلوم دیوبند کے محدثِ جلیل شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒلکھتے ہیں:
’’ان الإسراء والمعراج وقعا فی لیلۃ واحدۃ فی الیقظۃ بجسد النبی صلی ﷲ علیہ وسلم وروحہ بعد المبعث وإلٰی ھٰذا ذھب الجمھور من العلماء المحدثین والفقھاء والمتکلمین وتواردت علیہ ظواھر الأخبار الصحیحۃ ولا ینبغی العدول عن ذالک إذ لیس فی العقل ما یحیلہ حتّٰی یحتاج إلٰی تأویل قلت ولا سیما فی ھٰذا العصر الذی شاھد الناس فیہ من التجارب الروحیۃ والأعمال الکھربائیۃ ما ترک الأوھام حائرۃ۔‘‘
(فتح الملھم ج:۱ ص:۳۱۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حافظ عسقلانی لکھتے ہیں کہ اسراء اور معراج دونوں ایک ہی رات میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسدِ اَطہر اور رُوحِ انور کے مجموعے کے ساتھ عالمِ بیداری میں واقع ہوئے اور یہ واقعہ بعثت شریفہ کے بعد عمل میں آیا، جمہور علماء محدثین، فقہاء اور متکلمین کا یہی فیصلہ ہے۔ صحیح احادیث کے ظاہر فیصلے بھی یہی ہیں جن سے روگردانی کرنا صحیح نہیں۔ عقل اسے محال قرار نہیں دیتی کہ اس کی کوئی تأویل کرنی پڑے۔ میرے خیال میں اس زمانے میں تو خاص کر اس کے اِنکار کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ رُوحی تجربات اور برقی اعمال نے انسانی فکر وگمان کو نہایت حیرت میں ڈال رکھا ہے۔‘‘
85
۴:۔۔۔ نواب صدیق حسن خاں صاحب تفسیر ’’فتح البیان‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’جس امر کی کثرت سے احادیثِ صحیحہ دلالت کرتی ہیں وہ، وہ ہے جس کی طرف سلف وخلف کے اکثر اکابر گئے ہیں کہ اسراء آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسد شریف اور رُوح کے ساتھ عالمِ بیدای میں تھا۔‘‘
(فتح البیان ج:۳ ص:۲۸)
’’ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ‘‘ کی روایات کا جواب
پہلا جواب
معراج شریف کا واقعہ اتنا طویل البیان ہے اور اس کی جزئیات اس قدر طویل ہیں کہ اس کے تذکرے میں بعض اُمور کا آگے پیچھے ہوجانا کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ یہاں جس جاگنے کا بیان ہے یہ وہ جاگنا ہے جو پہلے مسجدِ حرام میں واقع ہوا تھا، جبکہ حضرت جبریل آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لینے آئے تھے، اس وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور پھر یہ واقعہ معراج عمل میں آیا۔ کسی راوی نے اس جاگنے کا یہ جز آخر میں بیان کردیا، جس سے یہ وہم ہونے لگا کہ شاید یہ واقعہ خواب کا ہو۔ آئیے دیکھیں کہ اس حدیث کی روایات میں کوئی ایسا راوی تو نہیں جو تقدم وتأخر کا مرتکب ہوا ہو۔ صحیح بخاری، کتاب التوحید (ج:۲ ص:۱۱۲۰ سطر:۳، طبع دہلی) میں شریک بن عبداللّٰہ سے مروی ’’فاستیقظ‘‘ کی روایت موجود ہے کہ ’’حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر جاگ پڑے، اور شریک بن عبداللّٰہ تقدم وتاخر کا مرتکب ہوا ہے۔ صحیح مسلم کے متن میں واقعہ معراج میں ہی اِمام مسلمؒ کی یہ تصریح موجود ہے:
’’قدم فیہ شیئًا واخّر وزاد ونقص۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۹۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’شریک نے مضمون کو آگے پیچھے کردیا ہے اور کمی بیشی کا مرتکب ہوا ہے۔‘‘
حافظ ابن کثیرؒ نے معراج کی روایات میں راویوں کے ذِکر وحذف، اِختصار واِجمال اور تفسیر وتشریح کے ایک عمومی صورت میں واقع ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔
(البدایہ والنہایہ ج:۳ ص:۱۱۷ طبع مصر)
حافظ ابنِ قیمؒ نے زادالمعاد میں اس روایت کا جواب شریک بن عبداللّٰہ پر جرح کی صورت میں ہی پیش کیا ہے (دیکھئے: زادالمعاد ج:۱ ص:۹۹،۱۰۰، طبع مکتبۃ المنار الاسلامیہ بیروت)۔ علاوہ ازیں حافظ ابنِ حجر عسقلانی ؒ نے بھی ’’فتح الباری‘‘ (ج:۴ ص:۷۷۱ طبع دہلی) میں اسے ایک جواب کی صورت میں جگہ دی ہے۔ حافظ ابنِ کثیرؒ کہتے ہیں کہ شریک بن عبداللّٰہ کی روایت میں جوثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ کے الفاظ وارِد ہیں وہ شریک کی اغلاط میں شمار ہیں (البدایہ والنہایہ ج:۳ ص:۱۱۴)۔
دُوسرا جواب
اگر اس جاگنے کو آخری احوال پر محمول کیا جائے تو اس سے وہ جاگنا مراد ہے جو سیرِ معراج سے واپسی اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پھر سوجانے کے بعد حسبِ معمول ظہور پر آیا، علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں:
86
’’یحتمل ان یکون استیقاظًا من نومۃ نامھا بعد الإسراء لأن إسرائہ لم یکن طول لیلۃ۔‘‘
(البدایۃ والنھایۃ ج:۱ ص:۱۱۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہوسکتا ہے کہ اس میں وہ جاگنا مراد ہو جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم معراج سے واپسی پر سونے کے بعد پھر جاگے، کیونکہ سیرِ معراج ساری رات تو ہوتی نہ رہی تھی۔‘‘
تیسرا جواب
عربی محاورہ میں ایک حالت سے دُوسری حالت میں آنے کو بھی یقظہ یعنی جاگنے سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب طائف میں گئے اور لوگوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہایت غمگین حالت میں واپس ہوئے، اس غم کا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بہت اثر تھا۔ حضرت ابواُسیدؓ جب اپنے لڑکے کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس گُھٹی دِلانے کے لئے لایا تو اس نے اپنے لڑکے کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ران پر بٹھادیا اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم باتوں میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابواُسیدؓ نے اس دوران میں لڑکا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ران سے اُٹھالیا، جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی پہلی گفتگو کی حالت سے اس دُوسری حالت کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا کہ لڑکا کہاں ہے؟ حدیث میں آتا ہے:
’’ثم استقیظ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فلم یجد الصبی فسأل عنہ فقالوا: رفع، فسماہ المنذر۔‘‘
(البدایۃ والنھایۃ ج:۱ ص:۱۱۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس حالت سے اس طرف متوجہ ہوئے (یعنی یقظہ میں آئے) تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو اپنے پاس نہ پایا، پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اس کی بابت پوچھا، لوگوں نے کہا کہ اسے اُٹھالیا گیا تھا، پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کا نام منذر رکھا۔‘‘
اس ’’جاگنے‘‘ کے متعلق حافظ قرطبیؒ لکھتے ہیں:
’’ویحتمل ان یکون المعنی افقت مما کنت فیہ مما خامر باطنہ من مشاھدۃ الملأِ الأعلٰی لقولہ تعالٰی: لَقَدْ رَأَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی (النجم:۱۸) فلم یرجع إلٰی حالۃ البشریۃ إلَّا وھو فی المسجد الحرام۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجھے اس حالت سے اِفاقہ ہوا جس میں کہ میں پہلے تھا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ملأ الاعلیٰ کے مشاہدے میں اپنی باطنی پوری توجہ لگاچکے تھے اور اپنے پروردگار کی آیاتِ کبریٰ مشاہدہ فرماچکے تھے، پس جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر حالتِ بشری کی طرف لوٹے تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں ہی تھے۔‘‘
87
حافظ ابنِ کثیرؒ کی رائے یہ ہے کہ شریک بن عبداللّٰہ کی روایت کو اس معنی پر محمول کرنا اسے غلط قرار دینے کی نسبت زیادہ اچھا ہے۔ حاصل یہ کہ ’’فاستقظت‘‘ اور ’’فاستیقظ‘‘ کی روایت اصلاً صحیح نہیں اور یا ذُومعنی ہے جو اپنے معنوں پر محمول نہیں یا معنی خفی پر مشتمل ہے اور اس کے مقابلے میں اصح روایات اور اکثر روایات یہی کہہ رہی ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں مکہ آگیا۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی ؒ لکھتے ہیں:
’’بعض احادیث میں صاف لفظ ہیں: ’’صبحت بمکۃ یا أتیت بمکۃ‘‘ (پھر صبح کے وقت میں مکہ پہنچ گیا)۔ اگر معراج محض کوئی رُوحانی کیفیت تھی تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مکہ سے غائب ہی کہاں ہوئے تھے۔۔۔!‘‘
(فوائد تفسیریہ ص:۳۶۵)
واللّٰہ اعلم بالصواب
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۸۵ تا ۸۹)
معراج خواب تھا یا حقیقی رُؤیت؟
سوال:۔۔۔ قرآن پاک نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معراج کو لفظ ’’رُؤیا‘‘ سے بھی بیان کیا ہے، فی قولہ تعالٰی: ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤیَا الَّتِیْ أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘ (بنی اسرائیل:۶۰) اور ’’رُؤیا‘‘ خواب کو کہتے ہیں، پس معراج ایک واقعۂ خواب ہوا، یہ نہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود چشمِ مبارک سے یہ مشاہدات دیکھے تھے۔
عبدالحفیظ، ازکوہاٹ
جواب:۔۔۔ بے شک ’’رُؤیا‘‘ کا لفظ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہے، لیکن یہ لفظ کبھی کبھی مطلق رُؤیت کے معنی میں بھی آتا ہے، اور علامہ قسطلانی ؒ نے اس کی تصریح کی ہے۔ یہاں اس آیت سے مراد اگر یہ واقعۂ معراج ہی ہے تو لفظ ’’رُؤیا‘‘ حقیقی طور پر آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں وارِد سمجھئے نہ کہ خواب کے معنی میں۔ ترجمان القرآن حضرت ابنِ عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:
’’عن ابن عباس: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤیَا الَّتِیْ أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ قال ھی رؤْیا عین اریھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم لیلۃ اسریٰ بہ۔‘‘
(بخاری ج:۲ ص:۶۸۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت ابنِ عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد آنکھوں کا دیکھنا ہے، جو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دِکھایا گیا۔‘‘
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۸۹)
88
خواب میں زیارتِ نبوی اور مرزاقادیانی
سوال:۔۔۔ کیا خواب میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو کیسے پتا چلے کہ یہ خواب سچا ہے؟ بعض لوگ خواب میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کسی دُوسری شکل میں دیکھتے ہیں، کیا وہ بھی صحیح خواب ہوگا؟
جواب:۔۔۔ صحیحین کی روایت میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد متعدّد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے کہ:
’’من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فإن الشیطان لا یتمثل بی‘‘(۱)
(بخاری ج:۲ ص:۱۰۳۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’من راٰنی فقد رأی الحق۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۳۹۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جس نے مجھے دیکھا اس نے سچا خواب دیکھا۔‘‘
خواب میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارتِ شریفہ کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اصلی ہیئت وشکل اور حلیہ مبارک میں دیکھے۔ دوم یہ کہ کسی دُوسری ہیئت وشکل میں دیکھے۔ اہلِ علم کا اس پر تو اِتفاق ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارک میں ہو تو اِرشادِ نبوی کے مطابق واقعی آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔ لیکن اگر کسی دُوسری ہیئت وشکل میں دیکھے تو اس کو بھی زیارتِ نبوی کہا جائے گا یا نہیں؟ اس میں علماء کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ یہ زیارتِ نبوی نہیں کہلائے گی، کیونکہ اِرشادِ نبوی کے مطابق خواب میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اَصلی شکل وصورت اور حلیہ مبارک میں دیکھے۔ پس اگر کسی نے مختلف حلیہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا تو یہ حدیثِ بالا کا مصداق نہیں۔ اور بعض اہلِ علم کا قول یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواہ کسی شکل وصورت اور حلیہ میں دیکھے، وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کی زیارت ہے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارک سے مختلف شکل میں دیکھنا، خواب دیکھنے والے کے نقص کی علامت ہے۔ شیخ عبدالغنی نابلسیؒ ’’تعطیر الأنام فی تعبیر المنام‘‘ میں دونوں قسم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’فاعلم ان الصحیح بل الصواب کما قالہ بعضھم ان رؤْیاہ حق علی أی حالۃ فرضت ثم إن کانت بصورتہ الحقیقیۃ فی وقت ما سواء کان فی شبابہ او رجولیتہ او کھولتہ او آخر عمرہ لم تحتج إلٰی تأویل۔ وإلَّا احتیجت لتعبیر یتعلق بالرائی۔ ومن ثم قال بعض علماء
(۱) أیضًا عن انس بن مالک رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فإن الشیطان لا یتخیل بی۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۳۶، باب من راٰی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی المنام)۔
89
التعبیر من رآہ شیخًا فھو غایۃ سلم، ومن رآہ شابًّا فھو غایۃ حرب، ومن رآہ مبتسمًا فھو متمسک بسُنَّتہ۔
وقال بعضھم: من رآہ علٰی ھیئتہ وحالہ کان دلیلًا علٰی صلاح الرائی وکمال جاھہ وظفرہ بمن عاداہ۔ ومن رآہ متغیر الحال عابسًا کان دلیلًا علٰی سوء حال الرائی۔ وقال ابن ابی جمرۃ رؤْیاہ فی صورۃ حسنۃ حسن فی دین الرائی۔ ومع شین او نقص فی بعض بدنہ خلل فی دین الرائی۔ لأنہ صلی ﷲ علیہ وسلم کالمرآۃ الصقیلۃ ینطبع فیھا ما یقابلھا۔ وإن کانت ذات المرآۃ علٰی أحسن حال وأکملہ وھٰذہ الفائدۃ الکبریٰ فی رؤْیتہ صلی ﷲ علیہ وسلم إذ بھا یعرف حال الرائی۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پس معلوم ہوا کہ صحیح بلکہ صواب وہ بات ہے جو بعض حضرات نے فرمائی کہ خواب میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت بہرحال حق ہے، پھر اگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اصل حلیہ مبارکہ میں دیکھا، خواہ وہ حلیہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جوانی کا ہو، یا پختہ عمری کا، یا زمانہ پیری کا، یا آخری عمر شریف کا، تو اس کی تعبیر کی حاجت نہیں، اور اگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اصل شکل مبارک میں نہیں دیکھا، تو خواب دیکھنے والے کے مناسبِ حال تعبیر ہوگی۔ اسی بنا پر بعض علمائے تعبیر نے کہا ہے کہ جس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بڑھاپے میں دیکھا تو یہ نہایت صلح ہے، اور جس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جوان دیکھا تو یہ نہایت جنگ ہے، اور جس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مسکراتے دیکھا تو یہ شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت کو تھامنے والا ہے۔ اور بعض علمائے تعبیر نے فرمایا ہے کہ جس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اصلی شکل وحالت میں دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی دُرست حالت، اس کی کمالِ وجاہت اور دُشمنوں پر اس کے غلبے کی علامت ہے، اور جس نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو غیرحالت میں (مثلاً) تیور چڑھائے ہوئے دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی حالت کے بُرا ہونے کی علامت ہے۔ حافظ ابنِ ابی جمرہؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اچھی صورت میں دیکھنا، دیکھنے والے کے دِین کے اچھا ہونے کی علامت ہے، اور عیب یا نقص کی حالت میں دیکھنا، دیکھنے والے کے دِین میں خلل کی علامت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مثال شفاف آئینے کی سی ہے، کہ آئینے کے سامنے جو چیز آئے اس کا عکس اس میں آجاتا ہے، آئینہ بذاتِ خود کیسا ہی حسین وباکمال ہو (مگر بھدی چیز اس میں بھدی ہی نظر آئے گی)۔ اور خواب میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارتِ شریفہ کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے خواب دیکھنے والے کی حالت پہچانی جاتی ہے۔‘‘
اس سلسلے میں مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی ایک تحقیق ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ میں درج ہے جو حسبِ ذیل ہے:
90
’’سوال:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں اہلِ سنت اور شیعہ دونوں کو میسر ہوتی ہے، اور ہر فرقے کے لوگ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا لطف وکرم اپنے حال پر ہونا بیان کرتے ہیں، اور اپنے موافق اَحکام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سننا بیان کرتے ہیں، غالباً دونوں فرقوں کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں اِفراط کرنا اچھا معلوم نہیں ہوتا اور خطراتِ شیطانی کو اس مقام میں دخل نہیں، تو ایسے خواب کے بارے میں کیا خیال کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ یہ جو حدیث شریف ہے: ’’من راٰنی فی المنام فقد راٰنی‘‘ یعنی جناب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا تو اس نے فی الواقع مجھ کو دیکھا ہے۔ تو اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث خاص اس شخص کے بارے میں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس صورت مبارک میں دیکھے جو بوقتِ وفات آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورت مبارک تھی۔ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث عام ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کسی وقت کی صورت میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی اِبتدائے نبوّت سے تاوقتِ وفات، جوانی اور کلاںسالی اور سفر اور حضر اور صحت اور مرض میں جس وقت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جو صورت مبارک تھی، ان صورتوں میں سے جس صورت میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی فی الواقع اس نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوگا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورت میں سُنّی نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، اسی طرح شیعہ نے کبھی نہ دیکھا ہے، اور فرضیات کا اِعتبار نہیں۔
تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا چار قسموں پر ہے۔ ایک قسم رُؤیائے الٰہی ہے کہ اِتصال تعین کا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ اور دُوسری قسم ملکی ہے، اور وہ متعلقات آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھنا ہے، مثلاً آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دِین، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ورثہ، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نسبِ مطہر اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت اور محبت میں سالک کا درجہ اور اس کے مانند اور جو اُمور ہیں تو ان اُمور کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس میں دیکھنا پردۂ مناسبات میں ہو جو فنِ تعبیر میں معتبر ہے۔ اور تیسری قسم رُؤیائے نفسانی ہے کہ اپنے خیال میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جو صورت ہے اس صورت میں دیکھنا، اور یہ تینوں اقسام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں صحیح ہیں۔
چوتھی قسم شیطانی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس میں شیطان اپنے کو خواب میں دِکھلائے اور یہ صحیح نہیں ہوسکتا، یعنی ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورتِ مقدس کے مطابق
91
شیطان اپنی صورتِ خبیث بناسکے اور خواب میں دِکھلادے، البتہ مغالطہ دے سکتا ہے۔ اور تیسرے قسم کے خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسے میں ڈالتا ہے، چنانچہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سورۂ نجم پڑھتے تھے اور بعض آیات کے بعد جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا تو شیطان نے کچھ عبارت خود بناکر پڑھ دی کہ اس سے بعض سامعینِ مشرکین کا شبہ قوی ہوگیا اور یہ روایت اُوپر ایک مقام میں مفصل مذکور ہوئی ہے، تو جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانۂ حیات میں شیطان نے ایسا کیا تو خواب میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اسی وجہ سے شریعت میں ان اَحکام کا اِعتبار نہیں جو خواب میں معلوم ہوں اور خواب کی بات حدیث نہیں شمار کی جاتی۔ اور اگر کاش! کوئی بدعتی کہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فلاں حکم فرمایا ہے، کہ وہ حکم خلافِ شرع ہو تو اس بدعتی کے قول پر اِعتبار نہ کیا جائے گا۔ واللّٰہ اعلم!‘‘
(فتاویٰ عزیزی ج:۱ ص:۳۲۶ طبع ایچ ایم سعید)
گزشتہ دِنوں قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی کی ’’خلافت‘‘ کی تائید میں قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ ربوہ میں ’’آسمانی بشارات‘‘ کے عنوان سے بھی بعض چیزیں شائع کی گئیں، ان میں سے ایک کا تعلق خواب میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت سے ہے، اس لئے اس کا اِقتباس بلفظہٖ درج ذیل ہے:
’’دیکھا کہ (قادیانی عبادت گاہ) مبارک (ربوہ) میں داخل ہو رہا ہوں، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، جتنی تیزی سے وِرد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے۔ محراب میں حضرت باباگرو نانک رحمۃاللّٰہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ربوہ ۶؍نومبر ۱۹۸۲ء)
علمِ تعبیر کی رُو سے اس خواب کی تعبیر بالکل واضح ہے۔ صاحبِ خواب کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سکھوں کے پیشوا کی شکل میں نظر آنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا دِین ومذہب ۔۔۔جسے وہ غلط فہمی سے اسلام سمجھتے ہیں۔۔۔ دراصل سکھ مذہب کی شبیہ ہے، اور ان کے رُوحانی پیشوا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بروز نہیں، بلکہ سکھوں کے پیشوا بابانانک کے بروز ہیں۔
اور صاحبِ خواب کو انوارات کا نظر آنا جس کی وجہ سے وہ خواب کی اصل مراد کو نہیں پہنچ سکے، شیطان کی وہی تلبیس ہے جس کا تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فرمایا ہے۔ اور ان انوارات میں یہ اِشارہ تھا کہ ان کے پیشوا نے بابانانک کا بروز ہونے کے باوجود تلبیس وتدلیس کے ذریعے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے ان کی طرح بہت سے حقیقت ناشناس لوگوں نے دھوکا کھایا۔
92
چونکہ خواب کی یہ تعبیر بالکل واضح تھی، شاید اسی لئے صاحبِ خواب کو مرزا بشیر احمد قادیانی اور مرزا ناصر احمد قادیانی نے خواب کے اظہار سے منع کیا۔ چنانچہ صاحبِ خواب لکھتے ہیں:
’’پھر (مرزا بشیر احمد قادیانی نے) فرمایا: کسی سے خواب بیان نہیں کرنی۔ خلافتِ ثالثہ کا اِنتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر (مرزا ناصر احمد قادیانی کی خدمت میں) بھجوادیا، حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعے پیغام ملا کہ حضور (یعنی مرزا ناصر احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ خواب آگے نہیں بیان کرنی۔‘‘
(مرزا عبدالرشید وکالت تبشیر ربوہ)
مناسب ہے کہ اس خواب کی تائید میں بعض دیگر اکابر کے خواب کشوف بھی ذکر کردئیے جائیں۔
۱:۔۔۔ مولانا محمد لدھیانوی مرحوم ’’فتاویٰ قادریہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا صاحب (مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ صدر المدرّسین دارالعلوم دیوبند) نے حسب وعدہ کے ایک فتویٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں اِرسال فرمایا، جس کا مضمون یہ تھا کہ یہ شخص میری دانست میں غیرمقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے اِلہامات اولیاء اللّٰہ کے اِلہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے، اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللّٰہ کی صحبت میں رہ کر فیضِ باطنی حاصل نہیں کیا، معلوم نہیں کہ اس کو کس رُوح کی اویسیت ہے۔‘‘
(فتاویٰ قادریہ ص:۱۷)
حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ نے تو اس سے لاعلمی کا اظہار فرمایا کہ مرزاقادیانی کو کس رُوح سے ’’فیض‘‘ پہنچا ہے، مگر ’’الفضل‘‘ میں ذِکر کردہ خواب سے یہ عقدہ حل ہوجاتا ہے کہ مرزاقادیانی کو سکھوں کے مذہبی پیشوا سے رُوحانی اِرتباط تھا، مرزاقادیانی نے جو کچھ لیا ہے، انہی سے لیا ہے۔
۲:۔۔۔ ’’مرزا غلام احمد قادیانی نے شہر لدھیانہ میں آکر ۱۳۰۱ھ میں دعویٰ کیا کہ میں مجدّد ہوں۔ عباس علی صوفی اور منشی احمد جان مع مریدان اور مولوی محمد حسن مع اپنے گروہ اور مولوی شاہدین اور عبدالقادر اور مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی وغیرہ نے اس کے دعوے کو تسلیم کرکے اِمداد پر کمر باندھی۔ منشی احمد جان نے مع مولوی شاہدین وعبدالقادر ایک مجمع میں جو واسطے اہتمام مدرسہ اسلامیہ کے اُوپر مکان شاہزادہ صفدر جنگ صاحب کے تھا، بیان کیا کہ علی الصباح مرزا غلام احمد قادیانی اس شہر لدھیانہ میں تشریف لائیں گے، اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کرکے کہا کہ جو شخص اس پر اِیمان لائے گا گویا وہ اوّل مسلمان ہوگا۔
مولوی عبداللّٰہ صاحب مرحوم برادرم نے بعد کمال بُردباری اور تحمل کے فرمایا:
’’اگرہ اہلِ مجلس کو میرا بیان کرنا، ناگوار معلوم ہوگا، لیکن جو بات خدا جل شانہ‘ نے اس وقت میرے دِل میں ڈالی ہے، بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اِضطرار دُور نہیں ہوتا، وہ بات یہ ہے کہ مرزاقادیانی
93
جس کی تم تعریف کر رہے ہو بے دِین ہے۔ منشی احمد جان بولا کہ میں اوّل کہتا تھا کہ اس پر کوئی عالم یا صوفی حسد کرے گا۔‘‘
راقم الحروف (مولانا محمد عبدالقادر لدھیانویؒ) نے مولوی عبداللّٰہ صاحب کو بعد برخاست ہونے جلسہ کے کہا کہ: جب تک کوئی دلیل معلوم نہ ہو بلاتأمل کسی کے حق میں زبان طعن کی کھولنی مناسب نہیں۔ مولوی عبداللّٰہ صاحب نے فرمایا کہ: اس وقت میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا، لیکن آخرالامر یہ کلام خدا جل شانہ‘ نے جو میرے سے اس موقع پر سرزد کرایا ہے خالی اَز اِلہام نہیں۔
اس روز مولوی عبداللّٰہ صاحب بہت پریشان خاطر رہے بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہیں کیا۔ بوقتِ شب دو شخصوں سے اِستخارہ کروایا اور آپ بھی اسی فکر میں سوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ میں ایک مکان بلند پر مع مولوی محمد صاحب وخواجہ احسن شاہ صاحب بیٹھا ہوں، تین آدمی دُور سے دھوتی باندھے ہوئے چلے آتے معلوم ہوئے۔ جب نزدیک پہنچے تو ایک شخص جو آگے آگے آتا تھا، اس نے دھوتی کو کھول کر تہبند کی طرح باندھ لیا۔ خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت بیدار ہوگئے اور دِل کی پراگندی یک لخت دُور ہوگئی اور یقینِ کلی حاصل ہوا کہ یہ شخص پیرایۂ اسلام میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ موافق تعبیر خواب کے دُوسرے دن قادیانی مع دو ہندوؤں کے لدھیانہ میں آیا۔‘‘ (اس خواب میں بھی یہی اِشارہ تھا کہ یہ صاحب ہندومت کو اِسلام کا لبادہ اُڑھا رہے ہیں ۔۔۔ناقل)
(فتاویٰ قادریہ ص:۲)
۳،۴:۔۔۔ مولانا عبداللّٰہ لدھیانویؒ کے ساتھ جن دو شخصوں نے اِستخارہ کیا تھا، ان کے بارے میں مولانا محمد صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’اِستخارہ کنندگان میں سے ایک کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بے علم ہے، اور دُوسرے شخص نے خواب میں مرزا کو اس طرح دیکھا کہ ایک عورت برہنہ تن کو اپنی گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ مرزا دُنیا کی جمع کرنے کے درپے ہے، دِین کی کوئی پروا نہیں۔‘‘
(حوالہ بالا)
۵:۔۔۔ اسی فتاویٰ قادریہ میں ہے کہ:
’’شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری مرحوم نے ۔۔۔جو صاحبِ کشف وکرامت بزرگ تھے۔۔۔ بروقت ملاحظہ فرمایا کہ مجھ کو بعد اِستخارہ کرنے کے یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہوا کہ منہ اس کا دُم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو زنار اس کے گلے میں پڑا ہوا نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دِین ہونا ظاہر ہے، اور یہ بھی میں یقینا کہتا ہوں کہ جو اہلِ علم اس کی تکفیر میں اب متردّد ہیں، کچھ عرصہ بعد سب کافر کہیں گے۔‘‘ (زنار بھی بطورِ خاص کسی کے ہندو ہونے کی علامت ہے، اس سے ’’الفضل‘‘ میں درج شدہ
94
خواب کی تائید ہوتی ہے کہ یہ صاحب ہندوؤں سے مستفید ہیں ۔۔۔ناقل)
(فتاویٰ قادریہ ص:۱۷)
۶:۔۔۔ مولانا محمد اِبراہیم میر سیالکوٹی ’’شہادۃ القرآن‘‘ (ص:۹) میں (جو ۱۳۲۱ھ میں مرزاقادیانی کی زندگی میں شائع ہوئی) لکھتے ہیں:
’’جب اس فرقۂ مبتدعہ مرزائیہ کو کوئی پچھلی تفسیر بتائیں تو کفار کی طرح ’’اساطیر الاوّلین‘‘ کہہ کر جھٹ اِنکار کردیتے ہیں، اور اگر ان کے رُوبرو حدیثِ نبوی پڑھیں تو اسے بوجہ بے علمی کے مخالف ومعارض قرآن بناکر دُور پھینک دیتے ہیں اور اپنی تفسیر بالرائے کو جو حقیقت میں تحریف وتأویل منہی عنہ ہوتی ہے، مؤید بالقرآن کہتے ہیں (ظاہر ہے یہ طرزِ عمل کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا ۔۔۔ناقل) بیچارے کم علم لوگ اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور ورطۂ تردّدات وگردابِ شبہات میں گھر جاتے ہیں، سو ایسے شبہات کے وقت میں اللّٰہ عزیز وحکیم نے مجھ عاجز کو محض اپنے فضل وکرم سے راہِ حق کی ہدایت کی اور ہر طرح سے ظاہراً وباطناً معقولاً ومنقولاً مسئلہ حقہ سمجھایا۔ چنانچہ عنفوانِ شباب میں ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت بابرکت سے مشرف ہوا۔ اس طرح کہ آپ ایک گاڑی پر سوار ہیں اور بندہ اس کو آگے سے کھینچ رہا ہے، اس حالتِ باسعادت میں آپ سے قادیانی علیہ ماعلیہ کی نسبت عرض کی، آپ نے زبان وحی ترجمان سے بالفاظِ طیبہ یوں فرمایا کہ: کوئی خطرے کی بات نہیں، اللّٰہ تعالیٰ اس کو جلدی ہلاک کردے گا۔‘‘
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۹ ص:۳۲-۴۵)
✨ 🌟 ✨
95
بابِ چہارم
قادیانیوں کا شرعی حکم
کافر کو کافر کہنا حق ہے
سوال:۔۔۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث کی روشنی میں ’’کسی کافر کو بھی کافر نہیں کہنا چاہئے‘‘ چنانچہ قادیانیوں کو کافر کہنا دُرست نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی صرف زبان سے کلمہ پڑھ لے اور اپنے آپ کو مسلمان ہونے کا اِقرار کرے جبکہ حقیقت میں اس کا تعلق قادیانیت یا کسی اور عقیدے سے ہو تو کیا وہ شخص صرف زبانی کلمہ پڑھ لینے سے مسلمان کہلائے گا؟ اَزراہِ کرم مسئلہ ختمِ نبوّت کی وضاحت تفصیل سے بتائیے۔
جواب:۔۔۔ یہ تو کوئی حدیث نہیں کہ کافر کو کافر نہ کہا جائے۔ قرآنِ کریم میں بار بار ’’اِنَّ الَّذِینَ كَفَرُوا‘‘ ، ’’وَالكٰفِرُونَ‘‘، ’’لَقَد كَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا‘‘ کے الفاظ موجود ہیں، جو اِس نظریے کی تردید کے لئے کافی وشافی ہیں۔ اور یہ اُصول بھی غلط ہے کہ جو شخص کلمہ پڑھ لے (خواہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ ہی مانتا ہو) اس کو بھی مسلمان ہی سمجھو۔ اس طرح یہ اُصول بھی غلط ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، خواہ خدا اور رسول کو گالیاں ہی بکتا ہو، اس کو بھی مسلمان ہی سمجھو۔
صحیح اُصول یہ ہے کہ جو شخص حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پورے دِین کو مانتا ہو اور ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں سے کسی بات کا اِنکار نہ کرتا ہو، نہ توڑمروڑ کر ان کو غلط معانی پہناتا ہو، وہ مسلمان ہے۔ کیونکہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں سے کسی ایک کا اِنکار کرنا یا اس کے معنی ومفہوم کو بگاڑنا کفر ہے۔ ۔(۱) قادیانیوں کے کفر واِرتداد اور زَندقہ واِلحاد کی تفصیلات اہلِ علم بہت سی کتابوں میں بیان کرچکے ہیں۔ جس شخص کو مزید اِطمینان حاصل کرنا ہو، وہ میرے رسالے ’’قادیانی جنازہ‘‘، ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین‘‘ اور ’’قادیانیوں اور دُوسرے غیرمسلموں میں کیا فرق ہے؟‘‘ ملاحظہ کرلیں۔ دفتر ختمِ نبوّت، مسجد باب الرحمت، پُرانی نمائش، محمد علی جناح روڈ کراچی، اندرون اور بیرون ملک ختمِ نبوّت کے دفاتر سے یہ رسائل مل جائیں گے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۳۸۰، ۳۸۱)
(۱) فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات فقد آمن ببعض الکتاب وکفر ببعضہ، وھو من الکافرین۔ (إکفار الملحدین ص:۴، طبع دار الکتب العلمیۃ، پشاور)۔
96
مرزائی کافر ہیں
سوال:۔۔۔ بعض مقتدر وبااثر مسلمان مرزاقادیانی اور اس کے مریدوں کو پوری قوّت سے مسلمان کہتے ہیں۔ ان سے فیصلہ ہوا تھا کہ مندرجہ ذیل پانچ علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کرلیا جائے: مولانا ابوالکلام صاحب آزاد، حضرت مولانا مفتی کفایت اللّٰہ صاحب، مولانا سیّد سلیمان صاحب ندوی، حضرت مولانا حسین احمد صاحب، مولانا ثناء اللّٰہ صاحب امرتسری، اس سلسلے میں مولوی محمد داؤد صاحب پلیڈر قصور نے آنجناب کی خدمتِ اقدس میں ایک اِستفتاء اِرسال کیا تھا، اس کا جواب موصول ہوچکا ہے، چونکہ وہ جواب آنجناب کے قلم مبارک سے نہ تھا، اس لئے فریقِ ثانی نے اس کو قبول کرنے میں تأمل کیا۔
المستفتی نمبر:۴۹۱ حاجی عبدالقادر
میونسپل کمشنر کورٹ بدرالدین قصور
۳؍ربیع الاوّل ۱۳۵۴ھ، ۱۶؍جون ۱۹۳۵ء
جواب:۔۔۔ مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں نبوّت، مجدّدیت، محدثیت، مسیحیت، مہدویت کا اتنی صراحت اور اتنی کثرت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا اِنکار، یا اس کی تأویل ناممکن ہے۔ خاتم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔۔(۱) ملتِ اسلامیہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعیٔ نبوّت کو دائرۂ اسلام میں داخل کرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں، خواہ وہ نبوّت ظلّیہ، بروزیہ، جزئیہ کی تأویلات کرنے کی پناہ لے، یا کھلم کھلا نبوّتِ تشریعیہ کا مدعی ہو۔
مرزاقادیانی کے کفر کی اور بھی وجوہ ہیں، مثلاً عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی توہین، معجزاتِ قرآنیہ کا اِنکار اور ناقابلِ اِعتبار تأویلات سے ان کو رَدّ کرنا، یا اِستہزا کرنا، اور چونکہ یہ اُمور مرزاقادیانی کی تألیفات میں آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہیں، اس لئے لاہوری جماعت کا اِنکار اور تأویلیں بھی لاہوری جماعت کو کفر سے نہیں بچاسکتیں۔ اگرچہ یہ دونوں جماعتیں اسلام کی مدعی ہیں، لیکن عالمِ اسلامی کے معتمد علیہ علماء ان دونوں کو ملتِ اسلامیہ سے خارج قرار دے چکے ہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۴)
باتفاقِ علماء، قادیانی کافر ہیں
سوال:۔۔۔ ایک شخص داخل فرقہ قادیانی ہوگیا ہے، اور خیالات وعقائد مرزاقادیانی کے رکھتا ہے، اب اس کی تکفیر کی جائے یا نہیں؟ اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے خارج ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ علمائے اہلِ حق نے باتفاق قادیانی کی تکفیر فرمائی ہے، کیونکہ عقائد واقوال اس کے باتفاق کفر ہیں، پس جو شخص قادیانی ہوجائے اور عقائد اس کے مثل مرزاقادیانی کے ہوجائیں اور مثل عقائد قادیانیوں کے وہ مرزا کو نبی جانے، وہ کافر ومرتد ہے، اور مسئلہ فقہ کا ہے کہ مرتد ہوجانا کسی کا زوجین میں سے فوراً موجبِ فسخِ نکاح ہے، درمختار میں ہے: وارتداد احدھما فسخ عاجل۔
(۱) من ادعی النبوۃ لنفسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فھٰؤُلاء المذکورون کلھم کفار محکوم بکفرھم۔ (إکفار الملحدین ص:۵۷، طبع دار الکتب العلمیۃ پشاور)۔
97
(درمختار ج:۳ ص:۱۹۳، طبع ایچ ایم سعید کراچی) لہٰذا زوجہ اس شخص کی جو کہ قادیانی ہوگیا، اس کے نکاح سے خارج ہوگئی۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۴۶، ۳۴۷)
قادیانی اور اس کے پیروکار کافر ہیں
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار مسلمان ہیں یا کافر؟ برتقدیرِ ثانی اگر باپ سنی حنفی ہو اور اس کا بیٹا قادیانی ہوگیا ہو تو یہ بیٹا شرعاً باپ کا وارث ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی اور اس کے اَتباع کافر ہیں، اور یہ منصوص ہے کہ کافر، مسلمان کا وارث نہیں ہوتا (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)۔(۱)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۷۳)
قادیانیوں کا کفر قرآن وحدیث کی روشنی میں
سوال:۔۔۔ قادیانی جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ احمدی سچا مذہب ہے، باقی سب مذاہب باطل ہیں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ واقعی احمدی سچا مذہب اور قرآن وحدیث کے موافق ہے یا مخالف؟ بصورتِ دیگر ان کے ساتھ میل جول، رشتہ ناطہ کرنا کرانا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ تمام اُمتِ مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا،(۲) نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام سے اِنکار نہیں، اس لئے کہ ان کی نبوّت اور پیغمبری آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے تھی، لہٰذا ان کا حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت میں نازل ہونا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر اَثرانداز نہیں ہوگا۔ بہرحال ختمِ نبوّت کا عقیدہ تمام اُمتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، ایسے مُسلّمہ عقائد سے اِنکار کرنے والا کافر ومرتد ہے، اسلام اور مسلمانوں سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعوے نصوصِ قرآنیہ اور اَحادیثِ صحیحہ کی رُو سے بالکل جھوٹ اور بکواس پر مبنی ہیں، لہٰذا اس کے ان جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اس کے ماننے والے کافر اور مرتد ہیں۔ جب مسلمانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ایک شخص قادیانی ہے اور سمجھانے بجھانے پر بھی وہ باز نہیں آتا تو اس کے ساتھ اسلامی طریقے پر علیک سلیک اور اُٹھنا بیٹھنا جائز نہیں ہے، اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ‘‘ (ہود:۱۱۳) جمہور علمائے اسلام جب قادیانی عقائد ونظریات پر مطلع ہوئے تو سب نے ان کے کفر واِرتداد کے فتوے دئیے، جن کی بنا پر وہ لوگ جو باوجود ان عقائد کے معلوم ہونے کے قادیانیوں کو مسلمان سمجھیں (خواہ وہ مرزاقادیانی کو نبی مانتے ہوں یا مسیح ظلی یا بروزی) بہرحال کافر اور مرتد ہیں۔ مزید تحقیق کی ضرورت ہو تو ’’تکفیرِ قادیانی‘‘ نامی رسالے کا مطالعہ کریں جس میں سینکڑوں معتمد علیہ علماء کے دستخط ثبت ہیں۔
قال ﷲ تبارک وتعالٰی:
(۱) ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع بمبئی)۔
(۲) اوّل الأنبیاء آدم وآخرھم محمد علیھما السلام۔ (شرح العقائد النسفیۃ، ص:۱۳۵ طبع مکتبہ خیر کثیر)۔
98
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘
(الاحزاب:۴۰)
’’قال العلَّامۃ الحافظ ابن کثیر (تحت قولہ ’’وَخَاتَمَ النَّبِیِّنَ‘‘) فھٰذہ الآیۃ نص علٰی انہ لا نبی بعدہ وإذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بعدہ بطریق الأولٰی والاخریٰ لأن مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ، فإن کل رسول نبی ولا ینعکس، وبذالک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۹۳، مطبوعۃ: مصطفیٰ محمد، مصر)
ومثلہ فی الجامع لأحکام القرآن ج:۱۴ ص:۱۲۷، سورۃ الأحزاب۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۹۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے کفر میں شبہ نہیں ہے
سوال:۔۔۔ عموماً اور خصوصاً مبایعین اور مصدقین مرزا غلام احمد قادیانی اِعتراض کیا کرتے ہیں کہ کتبِ دِینیات میں یہ مسئلہ ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے وجہ کفر کی پائی جائیں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تو اس کو کافر نہ کہا جائے گا، اور حدیث میں ارشاد ہے کہ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ کو کافر نہ کہنا چاہئے۔ ’’عن انس انہ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: من صلّٰی صلاتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ ﷲ وذمۃ رسولہ فلا تخفروا ﷲ فی ذمتہ۔‘‘ (مثلہ بخاری ج:۱ ص:۵۷) ۔ دُوسری حدیث یہ ہے: ’’من قال لا إلٰہ إلَّا ﷲ دخل الجنَّۃ‘‘ اور رسالہ ’’استنکاف المسلمین‘‘ میں دربارہ ترکِ موالات مرزائیاں جو فتویٰ علمائے دِین نے مفتی بہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے معتقدین ومبایعین پر کفر کے لگائے ہیں، ان کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور حسبِ ذیل آیات کو پیش کرتے ہیں: ’’ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ‘‘ (الانفال:۴۶)، ’’وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ‘‘ (آل عمران:۱۰۳) ۔ اور مرزا کے مسلمان ہونے کے ثبوت میں ایک پرچہ بھی جس پر چند مبایعین ومصدقین کے دستخط ہیں پیش کرتے ہیں جو ہمرشتہ ھٰذا ہے۔ اب علمائے کرام سے یہ عرض ہے کہ جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے تو مرزا اور اس کے معتقدین بھی اہلِ قبلہ اور کلمہ گو ہیں، علمائے دِین ان پر کفر کا فتویٰ کیوں لگاتے ہیں؟ اور پرچہ منسلکہ پر اِعتبار کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور جو شخص مرزا اور اس کی جماعت کو مسلمان سمجھے، اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اَتباع ومریدین کے کفر واِرتداد میں کچھ شبہ اور تردّد نہیں ہے۔ اس میں ایک وجہ بھی اسلام کی باقی نہیں رہی، تمام وجوہ کفر واِرتداد کی ہیں، کیونکہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی پیغمبر کی توہین باتفاق کفر ہے اور سب وشتم انبیاء اِرتدادِ صریح ہے۔(۱) بعد اس کے کوئی وجہ اسلام کی اس شخص میں باقی نہیں رہتی، نہ توحید باقی رہتی ہے اور نہ اِقرارِ
(۱)الکافر بسب نبی من الأنبیاء فإنہ یقتل حدًّا ولا تقبل توبتہ مطلقًا۔ (در مختار ج:۴ س:۲۳۱، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
99
رسالت، اور تفصیل اس کی کتابوں اور رِسالوں میں موجود ہے، اس کو ملاحظہ کریں۔ اور مرزا مذکور کے تمام کفریات اور عقائدِ باطلہ کو علماء نے جمع کرکے ایک جگہ شائع کیا ہے اور طبع کرایا ہے، اس کو دیکھ لیں، اور اِشتہار منسلکہ بالکل کذبِ صریح ہے، اس میں مرزا کے کفر کو چھپایا گیا ہے، وہ قابلِ اِعتبار نہیں ہے۔ پس جو شخص مرزا مذکور اور اس کے اَتباع کو مسلمان سمجھے اور ان کے کفر کا اِظہار نہ کرے، وہ جاہل وعاصی ہے اور سخت گنہگار ہے، اس کے پیچھے نماز دُرست نہیں ہے، اس کو ہرگز اِمام نہ بنایا جائے۔(۱)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۶۷،۳۶۸)
مرزائیوں کا لاہوری فرقہ بھی کافر ہے
سوال:۔۔۔ مرزائیوں کا لاہوری فرقہ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا اور بظاہر اس کے نبی ہونے سے براء ت کا اِظہار کرتے ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ اسی طرح یہ فرقہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا بھی منکر ہے۔ کیا یہ عقیدہ رکھنے والے لوگ مسلمان ہیں یا قادیانی مرزائیوں کی طرح کافر ومرتد؟
جواب:۔۔۔ مرزائیوں کا لاہوری فرقہ اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی اور غیرنبی ہونے میں متردّد ہے، لیکن دیگر عقائدِ قطعیہ مثلاً: حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا ہونے سے اِنکار، اسی طرح ان کے رفع الی السماء سے بھی انکار کرنا،(صرّح بہ محمد علی لاہوری فی تفسیر بیان القرآن ج:۱ ص:۳۱۳) ۔ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا ماننا، اس قسم کا عقیدہ رکھنا قرآنی آیات، صحیح احادیث اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہے، لہٰذا مرزائیوں کا یہ (لاہوری) فرقہ بھی اپنی تأویلاتِ فاسدہ کی وجہ سے مسلمان نہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قال ﷲ تعالٰی حکایۃ عن مریم:
’’قَالَتْ إِنِّیْ أَعُوذُ بِالرَّحْمَن مِنکَ إِن کُنتَ تَقِیّاً- قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّکِ لِأَہَبَ لَکِ غُلَاماً زَکِیّاً- قَالَتْ أَنَّی یَکُونُ لِیْ غُلَامٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَلَمْ أَکُ بَغِیّاً- قَالَ کَذَلِکِ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَلِنَجْعَلَہُ آیَۃً لِلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَکَانَ أَمْراً مَّقْضِیّاً-‘‘
(مریم:۱۸تا۲۱)
وقال ﷲ تعالٰی:
’’وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہِ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ ‘‘
(التحریم:۱۲)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۹۷)
قادیانی کافر ہیں، روافض میں تفصیل ہے
سوال:۔۔۔ ایک مولوی صاحب نے بروز جمعہ یہ فتویٰ بیان فرمایا کہ: ’’شرعاً جملہ افراد اہلِ شیعہ واحمدی کافر ہیں، اور جو
(۱) ومبتدع لا یکفر بھا وإن کفر لا یصح بہ الإقتداء اصلًا۔ (درمختار ج:۱ ص:۵۵۹ طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
100
شخص ان کے ساتھ خوردونوش کرے گا یا ان کے ساتھ کسی تقریب میں شامل ہوگا، کافر متصوّر ہوگا، اور پھر اس کے ساتھ برتاؤ کرنے والا بھی کافر ہوگا، علیٰ ھٰذا القیاس سلسلۂ کفر جاری رہے گا، اور جملہ عورات کا نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہے، جو لڑکیاں اہلِ سنت والجماعت کی کسی شیعہ یا احمدی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں، ان کی اولاد ولدالحرام ہیں، اور وہ زِنا کرا رہی ہیں۔‘‘
۱:۔۔۔ کیا جملہ افراد اہلِ شیعہ کافر ہیں؟
۲:۔۔۔ کیا جملہ افراد احمدی جماعت کے کافر ہیں؟ ہم حنفی ہیں، اور جس فرقہ احمدیہ کا ہم سے تعلق ہے وہ کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے۔
۳:۔۔۔ کیا جملہ عورات کا نکاح ناجائز اور فسخ شدہ ہے جو اہلِ سنت والجماعت کی لڑکیاں ہیں اور کسی شیعہ یا احمدی سے بیاہی ہوئی ہیں اور وہ اس طرح زِنا کر رہی ہیں؟
۴:۔۔۔ کیا کسی معزّز شیعہ یا احمدی اہل برادری کی تعظیم کرنا کفر ہے؟ اور پھر جو اس کے ساتھ برتاؤ کرے گا یا اس کی کسی تقریب میں شریک ہوگا وہ بھی کافر ہوگا یا گنہگار؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سب باتفاق علمائے اہلِ حق کافر ومرتد ہیں، ان سے کسی قسم کا اِتحاد واِرتباط رکھنا اور بیاہ شادی کرنا سب حرام ہے (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)۔(۱)
اور روافض میں یہ تفصیل ہے کہ جو فرقہ ان کا قطعیات کا منکر ہے اور سبِّ شیخینؓ کرتا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتا ہے، یعنی اِفک کا معتقد ہے، اور صحابہؓ کی تکفیر کرتا ہے، وہ بھی کافر ومرتد ہے (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۳۷، باب المرتد، طبع ایچ ایم سعید)۔(۲)
ان سے مناکحت ومجالست حرام ہے۔ اور واضح ہو کہ روافض تبرّا گو، ہی ہوتے ہیں، اگرچہ بوجہ تقیہ کے جو ان کے نزدیک دِینی فعل ہے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقائدِ باطلہ مخفی رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کے قول وفعل کا اِعتبار نہ کیا جائے، بلکہ ان کے اُصولِ مذہب کو دیکھا جائے۔ پس بعد اس تمہید کے آپ خود اپنے سوالات کا جواب سمجھ سکتے ہیں۔
۱:۔۔۔ اکثر افرادِ شیعہ ایسے ہیں کہ ان کے کفر پر فتویٰ ہے اور اُصولِ مذہب کے اِعتبار سے ان کے کفر میں کچھ تردّد نہیں، لہٰذا ان کے ذبیحہ میں اور ان سے رشتہ مناکحت قائم کرنے میں اِحتیاط کی جائے اور اِحتراز کیا جائے۔
۲:۔۔۔ قادیانی قطعاً کافر ومرتد ہیں، اور یہ غلط ہے کہ وہ مسلمان کو کافر نہیں کہتے، ان کی کتبِ مذہب کو دیکھو کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کوئی مرزا کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے، اور جو اس کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔
۳:۔۔۔ یہ صحیح ہے کہ وہ نکاح نہیں ہوا، اور اس حالت میں صحبت وجماع کرنا زِنا ہے۔
۴:۔۔۔ یہ حکم عام نہیں ہے، مگر معصیت اور فسق ہونے میں اس کے کلام نہیں ہے، اور حدیث شریف میں ہے: ’’من وقَّر
(۱) ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)۔
(۲) تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ کیجئے:ردّ المحتار ج:۴ ص:۲۳۶تا۲۳۸، باب المرتد، مطلب مھم فی حکم سب الشیخین۔
101
صاحب بدعۃ فقد أعان علٰی ھدم الإسلام‘‘ (مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ ص:۳۱)۔
پس جبکہ مبتدع کی تعظیم وتوقیر کرنا گویا اسلام کو منہدم کرنا ہے تو ایسے گمراہ کافر ومرتد فرقوں کی تعظیم وتوقیر کس درجہ معصیت ہوگی۔۔۔! فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۹۵ تا ۳۹۷)
قادیانی اہلِ کتاب نہیں ہیں
سوال:۔۔۔ عیسائی اپنی نسبت انبیاء کی طرف کیوں کرتے ہیں؟ اور کیا ’’عیسائیت‘‘ کا نام قرآن نے ان کے لئے وضع کیا ہے؟
کافر لوگ اپنی کتاب میں تحریف کرتے تھے، پھر ان کو اہلِ کتاب کیوں کہا جاتا ہے؟ جبکہ مرزائی قادیانی بھی قرآن کو مانتے ہیں، ان کو اہلِ کتاب کیوں نہیں کہا جاتا؟
محمد سلیم، ملتان
جواب:۔۔۔ محترم محمد سلیم صاحب السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ وبرکاتہ!
’’عیسائی‘‘ عرفِ عام میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کریں، یہ الگ بات ہے کہ یہ نسبت فی الواقع دُرست ہے یا نہیں؟ جیسے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور میں صحابہ کرامؓ بھی اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے تھے اور منافقین بھی، عام اس سے کہ کس کی نسبت صحیح ہے؟ کس کی غلط؟
دراصل بلند مرتبت ہستیوں کی طرف قدیم زمانے سے لوگ اپنے آپ کو منسوب کرتے آئے ہیں، اس کی ایک مثال سیّدنا اِبراہیم علیہ السلام ہیں، ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ عرب کے مشرک بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے تھے، یہودی بھی، عیسائی بھی اور مسلمان بھی، حالانکہ سب کے عقائد ونظریات باہم مختلف ومتضاد ہیں۔ جس سے واضح ہوا کہ فی الواقع یہ تمام لوگ آپ کے پیروکار تھے نہ ہیں، لیکن عقیدت واِتباع کا دعویٰ جیسے صدیوں پہلے تھا، آج بھی ہے۔ اس حقیقت کو قرآنِ عزیز نے یوں بیان فرمایا:
’’مَا کَانَ إِبْرَاہِیْمُ یَہُودِیّاً وَلاَ نَصْرَانِیّاً وَلَکِن کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘
(آل عمران:۶۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’(حضرت) اِبراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے، نہ عیسائی، بلکہ ہر باطل سے الگ تھلگ مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘
’’إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ وَہَـذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَاللہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘
(آل عمران:۶۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’بے شک تمام لوگوں میں اِبراہیم سے قریب تر وہ ہیں جو اُن کے پیروکار ہوئے اور یہ
102
نبی، اور اِیمان والے، اور اِیمان والوں کا والی اللّٰہ ہے۔‘‘
تو ’’عیسائی‘‘ نہ قرآن کی اِصطلاح، نہ بائبل کی، بلکہ عرفِ عام ہے۔ قرآن نے ان کو ’’نصاریٰ‘‘ کہا ہے۔ بہرحال ’’عیسائی‘‘ کہلائیں یا ’’نصاریٰ‘‘ یا کچھ اور! یہ ان کی اپنی اِصطلاحیں ہیں جیسے ’’شیرِعالم‘‘ خواہ بزدل ترین ہی کیوں نہ ہو، ’’محمد فاضل‘‘ خواہ اَن پڑھ ہی کیوں نہ ہو، ’’محمد مسلم‘‘ خواہ اللّٰہ کے آگے کبھی سر جھکایا ہی نہ ہو، آپ خواہ کہیں یا نہ کہیں ’’مرزائی‘‘، ’’قادیانی‘‘ یا ’’احمدی‘‘ مرزاقادیانی کو نبی ماننے والے مرتدین ہیں۔ نہ ہم مسلمان کہیں، نہ قرآن وسنت، مگر جس طرح منافقین ’’آمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الآخِرِ‘‘ (البقرۃ:۸) کہہ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے اور قرآن نے ’وَمَا ہُم بِمُؤْمِنِیْنَ ‘‘ (البقرۃ:۸) کہہ کر ان کے اِیمان کی نفی کی، اسی طرح باقی جھوٹے مدعیانِ اسلام کو سمجھ لیں۔
ہم اس لئے ان (نصاریٰ) کو اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ قرآن نے انہیں اہلِ کتاب کہا ہے (یٰآ ہلَ الكِتٰبِ) ان کے علماء ومشائخ نے بادشاہوں اور سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے ایما پر، روپیہ بٹورنے کے لئے بے شک اللّٰہ کے کلام میں لفظی ومعنوی تحریفات کیں، مگر وہ اپنے اس جرم پر ہمیشہ پردہ ڈالتے تھے، اور کبھی کھل کر اپنے انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کا اِنکار نہیں کرتے تھے۔ آخر انہوں نے اپنے جاہل عوام پر حکومت تو کرنی تھی، جو اَنبیائے کرام اور بزرگانِ دِین سے عقیدت رکھتے تھے۔ البتہ عوام کی جہالت وسادہ لوحی سے اللّٰہ کے کلام ونظام میں من مانی تأویلات وتحریفات میں مصروف رہتے تاکہ حق بات عوام تک پہنچنے نہ پائے اور ان کا طلسم ٹوٹ نہ جائے۔ شریعت کے جس حکم میں فائدہ نظر آتا بیان کردیتے، جہاں ان کی بدعقیدگی وبدعملی کا ذِکر آتا یا وہ اَحکامِ شرع جو ان کی خواہشات ومفادات سے متعارض ہوتے ان میں ’’بقدرِ ضرورت‘‘ تبدیلی کردیتے۔
’’یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ‘‘
(المائدۃ:۱۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اللّٰہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں۔‘‘
ان کو اہلِ کتاب اس لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ اسے سربسر مانتے ہیں، بلکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچے نبی اور کتاب کی طرف منسوب کرتے ہیں، گو حقیقت میں یہ نسبت غلط اور ناقابلِ اِعتبار ہے۔ دیکھتے نہیں کہ مسلمان بھی ان تمام لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اِسلام واِیمان کا دعویٰ کرتے ہیں، عملاً ہم کتنے سچے مسلمان ہیں؟ اسے ہم خود سمجھتے ہیں اور خدا بھی اس پر گواہ ہے، ذرا اپنے عوام، نام نہاد مشائخ وعلماء ۔۔۔اِلَّاماشاء اللّٰہ۔۔۔ سیاست دان اور اہلِ دانش کو دیکھ لیں۔۔۔!
چو می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا اِلٰہ را
۱:۔۔۔ احمدیوں (قادیانیوں) کو مسلمان اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے پیشوا نے قرآن، انبیائے کرام اور دِینِ اسلام کی توہین کی۔
۲:۔۔۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت کا اِنکار کیا، چونکہ پہلے مسلمان تھے، اِرتداد کے بعد مرتد ہوگئے۔ (اور ان کی اولاد تمام قادیانیوں
103
کی طرح زِندیق وملحد) لہٰذا وہ مرتد ہیں، اہلِ کتاب نہیں، وہ خود بھی اہلِ کتاب نہیں کہتے، مسلمان کہلاتے ہیں، جو اِرتداد کی وجہ سے ختم ہوگیا، اسلام سے نکلے مرتد ہونے کی وجہ سے، اہلِ کتاب اس لئے نہیں کہ وہ اہلِ کتاب نہیں ہیں، نہ کہلاتے ہیں۔ واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۴۹ تا ۳۵۱)
کیا مرزائی اہلِ کتاب کے حکم میں ہیں؟
سوال:۔۔۔ عرض یہ ہے کہ کیا موجودہ مرزائی لوگ اہلِ کتاب ہیں؟ ان سے برتاؤ دُرست ہے؟ ان سے رشتہ لینادینا دُرست ہے؟ اگر یہ اہلِ کتاب نہیں ہیں تو قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
۲:۔۔۔ جو لوگ نسلاً مرزائی آرہے ہیں، کیا وہ مرتد عندالشرع ہیں؟ قرآن وحدیث اور فقہِ حنفیہ کی روشنی میں بحوالہ کتاب وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری، جمہور علماء حضرات کے نزدیک کافر اور مرتد ہیں۔ ہند اور بیرونِ ہند میں جن علماء حضرات کو ان کے مذہب پر اِطلاع ہوئی، سب نے باجماع تکفیر کی ہے۔
۱:۔۔۔ مرزائی لوگ اہلِ کتاب نہیں ہیں، ان سے برتاؤ کافر کی طرح کیا جائے گا، اور ان سے رشتہ کرنا حلال نہیں ہے،لقولہٖ تعالٰی: ’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘ (النساء:۱۴۱)
۲:۔۔۔ جو لوگ نسلاً مرزائی آرہے ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اولاد نابالغ ہیں، اور ان کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہے تو اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے ان بچوں کو مسلمان کہا جائے گا۔ اور اگر والدین دونوں مرتد ہیں تو ان بچوں کو والدین کی طرف نسبت کرتے ہوئے مرتد کہا جائے گا۔ البتہ اس اِرتداد کی وجہ سے ان نابالغ بچوں کو قتل نہ کیا جائے گا، بلکہ بالغ ہونے کے بعد قید اور سزا کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔
اور اگر اولاد بالغ ہیں، لیکن اسلام قبول نہیں کیا، انہیں کافر کہا جائے گا، لیکن عام کافروں کی طرح ان کو چھوڑا نہیں جائے گا، بلکہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن ان کو قتل نہ کیا جائے گا۔ لیکن ان کی اولادالاولاد کو عام کافروں کی طرح کافر کہا جائے گا، نہ ان کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، اور نہ قتل کیا جائے گا، بلکہ عام کافروں کی طرح ان کو چھوڑا جائے گا۔
مرتد کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر مجبور کرنے کے باوجود بھی اسلام کو قبول نہیں کیا، قتل کیا جائے گا۔
نوٹ:۔۔۔ ان پر سزا وغیرہ جاری کرنے کی ذِمہ دار حکومت ہے نہ کہ عام لوگ۔
’’المرتد عرفًا ھو الراجع عن دین الإسلام کذا فی نھر الفائق ورکن الردۃ اجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد وجود الإیمان۔‘‘
(عالمگیریۃ ج:۲ ص:۲۵۳)
104
’’زوجان ارتدا ولحق بدار الحرب فجعلت المرأۃ بدار الحرب وولدت ولدًا وولد لولدھما ولد فظھر علیھم فالولدان فیء یجبر الولد الأوّل علی الإسلام ولا یجبر ولد الولد علی الإسلام، ولو حبلت فی دارنا والجواب کذالک۔‘‘
(عالمگیری ج:۲ ص:۲۵۶)
’’ویلحق بالصبی من ولدتہ المرتدۃ بیننا إذا بلغ مرتدًا۔‘‘
(الدر المختار ج:۳)
وفی الدر المختار: من ارتد عرض الحاکم علیہ الإسلام إستحبابًا علی المذھب لبلوغہ الدعوۃ ۔۔۔۔إلٰی قولہٖ۔۔۔۔ فإن أسلم فبھا وإلَّا قتل۔‘‘
(ج:۳ ص:۳۱۲)
| الجواب صحیح |
واللّٰہ اعلم! |
| احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ |
کمال الدین درجہ تخصص |
|
(فتویٰ نمبر ۱۸۷۴/۳۸-ہ) |
|
۴؍۱۱؍۱۴۰۷ھ |
|
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
مذاہب: مرزائی، رافضی، چکڑالوی وغیرہ کافر ہیں یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ، مرزائیہ، چکڑالویہ، رافضیہ بلاتفضیلیہ وغیرہ وغیرہ فرقے، یہ قطعی کافر ہیں یا نہیں؟ نماز میں ان کی اِقتدا اور ان سے سلام ومصافحہ کرنا رَوا ہے یا نہیں؟ ان کا ورثہ مسلم کو، یا مسلم کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلم عورت کو ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہوجائے، مذہب اہلِ سنت والجماعت بدل لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بلاطلاق وہ دُوسری جگہ نکاح لے سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ان فِرَق کے گمراہ، زِندیق، ملحد، بدعتی ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں۔ البتہ کافر ہونے میں تفصیل ہے۔ مرزائیہ، چکڑالویہ تو بے شک کافر ہیں۔ معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ بھی تقریباً ایسے ہی ہیں، لیکن صاف کافر کہنا ذرا مشکل ہے، رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں، جو حضرت ابوبکرؓ وغیرہم کو مرتد کہتے ہیں، اور زیدیہ کافر نہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی اِمامت خطا نہیں ہے، مگر حضرت علیؓ افضل ہیں اور حضرت عثمانؓ کے بارے میں ساکت ہیں، نہ اچھا کہتے ہیں نہ بُرا۔
اگر ان فرقوں کی اور ان کے علاوہ باقی فرقوں کی تفصیل مطلوب ہو تو کتاب ملل والنحل ابنِ حزم اور شہرستانی وغیرہ کا مطالعہ کریں، اور نواب صدیق حسن خان مرحوم کا بھی ایک رسالہ ’’خبیئۃ الأکوان‘‘ اس بارے میں ہے، وہ بھی اچھا ہے۔
رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔ ابنِ کثیر جلد دوم ص:۲۰۱ میں مسند احمد وغیرہ سے یہ حدیث ذِکر کی ہے کہ جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو تو ان سے بچو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے ناطہ رشتہ وغیرہ کرنا یا ویسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں اِمام بنانا، اس قسم کا تعلق کوئی بھی جائز نہیں، بلکہ جو ان میں سے کافر ہیں، اگر اتفاقی طور پر ان
105
کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہوگیا ہو تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں، نماز کا اِعادہ کرنا چاہئے، بلکہ اگر نکاح پڑھا ہوا ہو اور بعد میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو حدِ کفر کو پہنچ گئی تو بھی نکاح خودبخود فسخ ہوجاتا ہے، طلاق کی ضرورت نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’وَلاَ تُنکِحُواْ الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُواْ‘‘ (البقرۃ:۲۲۱) یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔ اور دُوسری جگہ ہے:’’وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ‘‘ (الممتحنہ:۱۰) یعنی کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو۔ اگر اسی حالت میں مرجائیں، مسلمان ان کے وارث نہیں، اور یہ مسلمان کے وارث نہیں۔
عبداللّٰہ امرتسری
(فتاویٰ اہل حدیث ج:۱ ص:۲۰۱)
صحیح العقیدہ مسلمان کو بلاتحقیق قادیانی کہنا صحیح نہیں
سوال:۔۔۔ زید نے بکر کی نسبت کہ جو شہر کا اِمام اور تمام مسلمانوں کا دِینی پیشوا اور پکا حنفی ہے، یہ جھوٹا اِلزام لگایا کہ وہ قادیانی ہوگیا ہے، مسلمانوں کو اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور نکاح وغیرہ پڑھوانا نہیں چاہئے، اور اس اِفترا اور بہتان کی شہادت چند سامعین نے ایک مجمع کثیر کے سامنے کہ جن میں ہزاروں آدمی مجتمع تھے دی۔ پس زید کو اس کی سزا شرعاً کیا ہونی چاہئے؟
جواب:۔۔۔ کسی مسلمان سنی حنفی پر بلاتحقیق ایسی تہمت لگانا کہ وہ قادیانی ہوگیا ہے یا قادیانی ہے، گویا اس کو کافر کہنا ہے، اور حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی کو کافر کہا جائے اور وہ ایسا نہ ہو تو وہ اسی پر لوٹتا ہے جس نے کہا:
’’عن ابن عمر رضی ﷲ عنھما قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ایما رجل قال لأخیہ کافر، فقد باء بھا احدھما۔ متفق علیہ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان)
اور نیز حدیث شریف میں ہے:
’’سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۱۱، باب حفظ اللسان)
الغرض زید اس صورت میں فاسق ہے، اس کو توبہ کرنی چاہئے، اور جس کو تہمت لگائی ہے اس سے معافی کرانی چاہئے۔ قال ﷲ تعالٰی:
’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْراً مِّنْہُمْ (الٰی قولہٖ تعالیٰ) بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِیْمَانِ وَمَن لَّمْ یَتُبْ فَأُوْلَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ‘‘
(الحجرات:۱۱)
(فتاویٰ درالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۲۳۹،۲۴۰)
اہلِ قبلہ کو کافر کہنے کا مطلب!
سوال:۔۔۔ ’’کلمہ گو‘‘ اور ’’اہلِ قبلہ‘‘ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ قادیانی مرزائی ولاہوری مرزائی احمدی اہلِ قبلہ وکلمہ گو مسلمان ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟
جواب:۔۔۔ ’’کلمہ گو‘‘ اور ’’اہلِ قبلہ‘‘ ایک خاص اِصطلاح ہے اسلام اور مسلمانوں کی، جس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک
106
نہیں کہ جو کلمہ پڑھ لے، خواہ کسی طرح پڑھے، وہ مسلمان ہے، یا جو قبلے کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے، بلکہ یہ لفظ اِصطلاحی نام ہے اس شخص کا جو تمام اَحکامِ اسلامیہ کا پابند ہو۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ: ’’فلاں شخص ایم اے پاس ہے‘‘ تو ایم اے ایک اِصطلاحی نام ہے، ان تمام علوم کا جو اس درجے میں سکھائے جاتے ہیں، نہ یہ کہ جو ایم اے کے الفاظ میں پاس ہوتا ہو اور یاد رکھتا ہو۔ اس طرح ’’اہلِ قبلہ‘‘ کے معنی بھی باتفاقِ اُمت یہی ہیں کہ جو تمام اَحکامِ اسلامیہ کا پابند ہو۔ کما صرّح بہ فی عامۃ کتاب الکلام ۔ اور اس کی مفصل بحث رسالہ ’’إکفار الملحدین‘‘ مصنفہ حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ میں موجود ہے، ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمایا جائے۔ مگر رسالہ عربی زبان میں ہے۔ (اب اس کا ترجمہ بھی شائع ہوگیا ہے ۔۔۔مرتب) اُردو زبان میں بھی اس مضمون کا ایک رسالہ احقر کا ہے جس کا نام وصول الافکار ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(امداد المفتین ج:۲ ص:۱۱۳)
اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب
سوال:۔۔۔ ’’لا تکفر اھل قبلتک‘‘ حدیث ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب:۔۔۔ حدیث: ’’لا تکفر اھل قبلتک‘‘ کے متعلق جواباً عرض ہے کہ ان لفظوں کے ساتھ تو یہ جملہ کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا، لیکن اس مضمون کے جملے بعض احادیث میں وارِد ہیں۔ مگر قادیانی مبلغ جو ان الفاظ کو ناتمام نقل کرکے اپنے کفر کو چھپانا چاہتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جیسے قرآن سے کوئی شخص ’’لَا تَقرَبُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ نقل کرے، کیونکہ جن احادیث میں اس قسم کے لفظ واقع ہیں ان کے ساتھ ایک قید بھی مذکور ہے، یعنی: ’’بذنب او لعمل‘‘ وغیرہ جس کی غرض یہ ہے کہ کسی گناہ ومعصیت کی وجہ سے کسی اہلِ قبلہ کو یعنی مسلم مسلمان کو کافر مت کہو۔ چنانچہ بعض روایات میں اس کے بعد ہی یہ لفظ بھی منقول ہیں: ’’إلَّا اَن تروا کفرًا بوَّاحًا‘‘ یعنی جب تک کفرِ صریح نہ دیکھو، کافر مت کہو، خواہ گناہ کتنا بھی سخت کرے۔
یہ روایت ابوداؤد، کتاب الجہاد (ج:۱ ص:۲۵۲، باب الغزو مع اَئمۃ الجور) میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے اس طرح مروی ہے:
’’ثلاث من اصل الإیمان: الکف عمّن قال لا إلٰہ إلَّا ﷲ ولا تکفرہ بذنب ولا تخرجہ من الإسلام بعمل۔‘‘
نیز بخاری (ج:۱ ص:۵۷، باب فضل إستقبال القبلۃ) میں حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کیا ہے مرفوعاً:
’’من شھد ان لا إلٰہ إلَّا ﷲ واستقبل قبلتنا وصلّٰی صلاتنا واکل ذبیحتنا فھو المسلم۔‘‘
اہلِ قبلہ سے مراد باجماعِ اُمت وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریاتِ دِین کو مانتے ہیں، نہ کہ یہ قبلے کی طرف نماز پڑھ لیں، چاہے ضروریاتِ اسلامیہ کا انکار کرتے رہیں۔
کما فی شرح المقاصد (الجلد الثانی من صفحۃ:۲۶۹ إلٰی صفحۃ:۲۷۰) قال: المبحث السابع فی حکم مخالف الحق من اھل القبلۃ لیس بکافر ما لم یخالف ما ھو من ضروریات الدین إلٰی قولہ وإلَّا فلا نزاع فی کفر
107
اھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات بإعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی العلم بالجزئیات ونحو ذالک وکذا بصدور شیء من موجبات الکفر۔۔۔إلخ۔
وفی شرح الفقہ الأکبر: وإن غلا فیہ حتّٰی وجب إکفارہ لا یعتبر خلافہ وفاقہ ایضًا إلٰی قولہ وإن صلّٰی إلی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلمًا لأن الاُمَّۃ لیست عبارۃ عن المصلین إلی القبلۃ بل عن المؤْمنین۔ ونحوہ فی الکشف للبزدوی (ج:۳ ص:۲۳۸) لَا خلاف فی کفرہ المخالف فی ضروریات الإسلام وإن کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات۔ إکفار الملحدین (ص:۱۱، مطبوعہ دیوبند) وقال الشامی ایضًا: اھل القبلۃ فی إصطلاح المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الاُمور التی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر ومن انکر شیئًا من الضروریات الإسلام کحدوث العالم وحشر الأجساد ونفی العلم بالجزئیات وفرضیۃ الصلٰوۃ والصوم لم یکن من اھل القبلۃ ولو کان مجاھدًا بالطاعات إلٰی قولہ ومعنی عدم تکفیر اھل القبلۃ ان لا یکفر بارتکاب المعاصی ولا بإنکار الاُمور الخفیۃ غیر المشھورۃ ھٰذا ما حققہ المحققون فاحفظہ ومثلہ قال المحقق ابن امیر الحاج فی شرح التحریر لإبن ھمام والنھی عن تکفیر اھل القبلۃ ھو الموافق علٰی ما ھو من ضروریات الإسلام۔
ھٰذہ جملۃ قلیلۃ من اقوال العلماء نقلتھا واکتفیت بھا لقلۃ الفراغۃ وتفصیل ھٰذہ المسئلۃ فی رسالۃ إکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدین لشیخنا ومولانا الکشمیری مدظلہ وﷲ اعلم!
(إمداد المفتین ص:۱۱۱ تا ۱۱۳)
دارُالاسلام میں غیرمسلمین کو تبلیغی اِجتماع کی اِجازت نہیں
سوال:۔۔۔ اسلامی ریاست میں کفر وشرک کی تبلیغ کی اِجازت دی جاسکتی ہے؟ کیا بطور حسنِ سلوک یا رواداری، اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کو ان کے باطل دِین کی تبلیغ کی اِجازت دی جاسکتی ہے؟ بینّوا توجروا!
جواب:۔۔۔ دارُالاسلام میں غیرمسلمین اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں مذہبی تبلیغ کرسکتے ہیں، کھلے مقامات پر انہیں تبلیغی اِجتماع کی اِجازت نہیں دی جاسکتی، حتیٰ کہ وہ اپنی مذہبی کتاب بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے۔
قال العلامۃ العثمانی رحمہ ﷲ تعالٰی: قلت: ولا ینبغی للإمام أن یھادنھم علٰی ما یخالف شروط عمر --رضی ﷲ عنہ-- من غیر ضرورۃ فإنہ ھو القدوۃ فی ھٰذا الباب۔ قال الموفق: وینبغی للإمام عند عقد الھدنۃ ان یشترط علیھم شروطًا نحو ما شرطہ عمر --رضی ﷲ عنہ-- وقد رویت عن عمر --رضی ﷲ عنہ-- فی ذالک اخبار منھا ما رواہ الخلال باسنادہ فذکر ما ذکرناہُ فی المتن اھـ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۴۸۸، باب شروط اھل الذِّمَّۃ)۔ وقد حکی ابن تیمیۃ إجماع الفقہ وسائر الأئمۃ رحمھم ﷲ تعالٰی علٰی مراعاۃ تلک الشروط۔ قال: ولو لا شھرتھا عند الفقھاء لذکرنا الفاظ کل طائفۃ فیھا (إلٰی قولہ) ومن جملۃ الشروط ما یعود بإخفاء منکرات دینھم وترک إظھارھا کمنعھم من إظھار الخمر والناقوس والنیران والأعیاد ونحو ذالک ومنھا ما یعود بإخفاء شعائر
108
دینھم کأصواتھم بکتابھم۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۴۸۹)۔
فقط وﷲ تعالٰی اعلم!
۴؍صفر ۱۴۰۰ھ
(احسن الفتاویٰ ج:۱ ص:۱۸، ۱۹)
مدینہ منوّرہ کے علاوہ کسی دُوسرے شہر کو ’’منوّرہ‘‘ کہنا
سوال:۔۔۔ میری نظر سے ایک رسالہ گزرا ہے جس میں پاکستان کے ایک شہر کو ’’المنوّرۃ‘‘ کہا گیا ہے، حالانکہ ایسا لفظ ہم نے کبھی کسی اور جگہ نہیں پڑھا۔ مذکورہ شہر میں ایک مخصوص عقائد کے لوگ (قادیانی) بستے ہیں۔ کیا اس طرح کے الفاظ کا اِستعمال جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ’’المنوّرۃ‘‘ کا لفظ مدینہ طیبہ کے لئے اِستعمال کیا جاتا ہے۔ ’المدینۃ المنوّرۃ‘‘ کے مقابلے میں مخصوص عقائد کے لوگوں (قادیانیوں) کا ’’ربوۃ المنوّرۃ‘‘ کہنا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے چشم نمائی، شرانگیزی اور مسلم آزاری کی شرمناک کوشش ہے، اور یہ ان کے کفر وضلالت کی ایک تازہ دلیل ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۸ ص:۶۱،۶۲)
جھوٹے نبی کا انجام
سوال:۔۔۔ رسولِ پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اِمکانِ نبوّت پر روشنی ڈالئے اور بتائیے کہ جھوٹے نبیوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟ مرزاقادیانی کا انجام کیا ہوگا؟
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا حصول ممکن نہیں، جھوٹے نبی کا انجام مرزا غلام احمد قادیانی جیسا ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اسے دُنیا وآخرت میں ذلیل کرتا ہے، چنانچہ تمام جھوٹے مدعیانِ نبوّت کو اللّٰہ تعالیٰ نے ذلیل کیا۔ خود مرزاقادیانی منہ مانگی ہیضے کی موت مرا، اور دَمِ واپسیں دونوں راستوں سے نجاست خارج ہو رہی تھی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۱۹۴)
جھوٹے مدعی مسیحیت کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ عیسیٰ موعود میں ہوں اور وہ عیسیٰ مرگئے۔ سو ایسا دعویٰ کرنے والا کافر ہے یا مؤمن؟ اور جو ایسے شخص کا معتقد ہو، وہ کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ جو شخص اپنے کو عیسیٰ موعود کہتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا قائل ہے، وہ بڑا دجال، کذّاب، منکر قرآن واحادیثِ متواترہ کا ہے۔ قال ﷲ تعالٰی: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ (النساء:۱۵۹) ای قبل موت عیسٰی علیہ السلام، کما قال ابن عباس وابو ھریرۃ -رضی ﷲ عنھما- وغیرھما من السلف وھو الظاھر، (کما فی تفسیر ابن کثیر وفتح القدیر لشوکانی ھٰکذا فی الفتح)۔
یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں۔ احادیثِ صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے کہ آخر زمانے میں شام میں ان کا ظہور ہوگا، دجال کو قتل کریں گے، لوگوں کو اس کے شر وفساد سے بچاویں گے، ان کی دُعا سے یأجوج مأجوج
109
کی قوم ہلاک ہوگی، ان کے ہاتھ سے شر وفساد کا دروازہ بند ہوجائے گا، جمیع اقوام یہود ونصاریٰ وغیرہ اسلام قبول کریں گے، عدل وانصاف سے سارا زمانہ معمور ہوجائے گا، سات برس تک یہی حالت رہے گی، پھر آپ دُنیا سے رحلت فرمائیں گے۔ یہ قصہ تمام کتبِ احادیث وعقائد میں مرقوم ہے، اور اس پر تمام اہلِ سنت والجماعت کا اِعتقاد ہے۔ ہاں! بعض فرقۂ ضالہ نے احادیثِ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو ’’انا خاتم النّبیین‘‘ سے منسوخ سمجھا اور تناقض خیال کرکے جملہ احادیثِ صحاح کو رَدّ کیا۔ ان کی سوئِ فہمی نے انہیں چاہِ ضلالت میں ڈالا۔ فی الحقیقت کوئی تناقض نہیں ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آخر زمانے میں ہوگا، وہ مستقل وجدید شریعت کے ساتھ نہیں ہوگا۔ بالجملہ جمیع اہلِ سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور جو شخص ان کی حیات کا منکر اور مثل یہودِ مردُود کے قتل ہونے کا، یا خودبخود فوت ہونے کا قائل ہو اور اپنے آپ کو عیسیٰ کہتا ہو، ایسے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہیں، اور جو شخص ایسے اِعتقاد والے کا پیرو ہو، وہ بھی اِحاطۂ اِسلام سے باہر ہے۔
واللّٰہ اعلم!
حررہ عبدالحفیظ عفی عنہ
۳۰؍رجب ۱۳۱۷ھ
فتاویٰ نذیریہ (ج:۱ ص:۴،۵) سیّد محمد نذیر حسین
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۱ ص:۳۷۳ تا ۳۷۵)
حکم قائل بہ وفاتِ مسیح علیہ السلام
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا معتقد دائرۂ اسلام سے خارج ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اس نصِ قطعی الثبوت کا اگر یہ شخص منکر ہے تو اِسلام سے خارج ہے، اور اگر اس کو غیرقطعی الدلالت قرار دے کر تأویل کرتا ہے تو مبتدع وضال ہے۔
۶؍ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ (تتمہ اربعہ ص:۲۱)
(اِمدادُالفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳۳)
✨ 🌟 ✨
110
بابِ پنجم
لاہوری مرزائیوں کے متعلق شرعی حکم
لاہوری مرزائیوں کا حکم
سوال:۔۔۔ عرض یہ ہے کہ جو شخص لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں کہتا، بلکہ صاف لکھتا ہے کہ لاہوری مرزائی کافر نہیں، بلکہ بین الکفر والاسلام معلق ہیں، ایسے شخص کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ مسلمان ہے یا کافر؟
جواب:۔۔۔ علمائے اُمت کا یہ متفقہ اور اِجماعی فیصلہ ہے کہ مرزائی خواہ لاہوری فرقہ ہو یا قادیانی، دونوں کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان اور کوئی تیسری حالت نہیں ہے۔ اگر مذکورہ شخص اپنی لاعلمی کی بنا پر لاہوری مرزائی کو کافر نہیں جانتا، بلکہ بین الکفر والاسلام معلق سمجھتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس غلط عقیدے کی اصلاح کرے اور اس سے توبہ واِستغفار کرے اور آئندہ اس قسم کی غلط باتوں سے بالکلیہ اِجتناب کرے۔
|
الجواب صحیح |
واللّٰہ اعلم |
|
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ |
محمد کمال الدین غفرلہٗ |
|
|
۲۳؍۲؍۱۴۰۸ھ |
|
|
(فتویٰ نمبر۳۶۳/۲۹ب) |
|
|
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
مجدّد کو ماننے والوں کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔۔۔ ہر صدی کے شروع میں مجدّد آتے ہیں، کیا ان کو ماننے والے غیرمسلم ہیں؟
جواب:۔۔۔ ہر صدی کے شروع میں جن مجدّدوں کے آنے کی حدیثِ نبوی میں خبر دی گئی ہے ،(۱) وہ نبوّت ورِسالت کے دعوے نہیں کیا کرتے، اور جو شخص ایسے دعوے کرے وہ مجدّد نہیں۔ لہٰذا کسی مجدّد کو ماننے والا تو غیرمسلم نہیں، البتہ جو شخص یہ اِعلان کرے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں!‘‘ اس کو ماننے والے ظاہر ہے غیرمسلم ہی ہوں گے۔۔۔!
سوال:۔۔۔ چودھویں صدی کے مجدّد کب آئیں گے؟
(۱) عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ فیما اعلم عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: إن اﷲ یبعث لھٰذہ الاُمَّۃ علٰی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدِّد لھا دینھا۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۳، باب ما یذکر فی قرن المائۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
111
جواب:۔۔۔ مجدّد کے لئے مجدّد ہونے کا دعویٰ کرنا ضروری نہیں۔ جن اکابر نے اس صدی میں دِینِ اسلام کی ہر پہلو سے خدمت کی، وہ اس صدی کے مجدّد تھے۔(۱)گزشتہ صدیوں کے مجدّدین کو بھی لوگوں نے ان کی خدمات کی بنا پر ہی مجدّد تسلیم کیا۔
(آ پ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۸)
چودھویں صدی کے مجدّد حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ تھے
سوال:۔۔۔ مشہور حدیثِ مجدّد مسلمانوں میں عام مشہور ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہر سو سال کے سرے پر ایک نیک شخص مجدّد ہوکر آیا کرے گا۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ چودھویں صدی گزرگئی مگر کوئی بزرگ مجدّد کے نام اور دعوے سے نہ آیا، اگر کسی نے مجدّد کا دعویٰ کیا ہے تو اس کا پتا بتائیں؟
جواب:۔۔۔ مجدّد دعویٰ نہیں کیا کرتا، کام کیا کرتا ہے۔۔۔! چودہ صدیوں میں کن کن بزرگوں نے مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟ چودھویں صدی کے مجدّد حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ تھے، جنہوں نے دِینی موضوعات پر قریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں، اور اس صدی میں کوئی فتنہ، کوئی بدعت اور کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس پر آپ نے قلم نہ اُٹھایا ہو۔ اسی طرح حدیث، تفسیر، فقہ، تصوّف وسلوک، عقائد وکلام وغیرہ دِینی علوم میں کوئی ایسا علم نہیں جس پر آپ نے تالیفات نہ چھوڑی ہوں۔ بہرحال مجدّد کے لئے دعویٰ لازم نہیں، اس کے کام سے اس کے مجدّد ہونے کی شناخت ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد نے مجدّد سے لے کر مہدی، مسیح، نبی، رسول، کرشن، گرونانک، رودرگوپال ہونے کے دعوے تو بہت کئے، مگر ان کے ناہموار قد پر ان میں سے ایک بھی دعویٰ صادق نہیں آیا۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۸)
مرزا غلام احمد کو مجدّد اور فیضِ نبوّت سے مستفید سمجھنے والے بھی کافر ہیں
سوال:۔۔۔ ہم ان تمام اَحکامات پر جو حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کے ہیں، اِیمان رکھتے ہیں، اور اس کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں اور حضرت مرزاقادیانی کو مجدّد اور باتباع پیروی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کی طرف سے فیضِ نبوّت سے مستفید جانتے ہیں، از رُوئے شریعتِ محمدیہ ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ واضح ہو کہ اگر کسی شخص میں باوجود تمام عقائدِ اسلامیہ کے ماننے کے ایک عقیدہ بھی کفریہ ہو اور کسی ایک امر کا ضروریاتِ دِین سے بھی انکار کرے تو وہ بھی کافر ہوجاتا ہے۔(۲) پس جو شخص باوجود دعویٔ اسلام وعقائدِ اسلام کے ایک ایسے مرتد وملحد کو جس کی کتابوں سے اس کی کفریات ثابت ہیں مسلمان سمجھے بلکہ اس کو مجدّد اور فیضِ نبوّت سے مستفید سمجھے وہ بھی قطعاً کافر ہے، کیونکہ
(۱) یکثر العلم ویعز اھلہ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳، أیضًا: مجالس الأبرار ص:۵۹۴، مجلس نمبر:۸۳، طبع دار الاشاعت۔
(۲) فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات ۔۔۔۔۔۔ فھو من الکافرین۔ (إکفار الملحدین ص:۴، طبع دار الکتب العلمیۃ، پشاور)
112
اس نے کافر کو مسلمان، اور کفر کو اِسلام سمجھا۔ پس جبکہ محقق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ دعویٔ نبوّت وتوہینِ انبیائے کرام -علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام- وغیرہا کے قطعاً کافر ہے(۱) کیونکہ جو شخص ایسے کافر وملعون کو مجدّد ومستفید از فیضِ نبوّت سمجھے اس کے کفر میں کیا شبہ ہوسکتا ہے (شرح فقہ اکبر ص:۱۸۴)۔ فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۴۲۸،۴۲۹)
وحی، کشف واِلہام کی تعریف، مجدّد اور مہدی کی علامات
سوال:۔۔۔ مندرجہ ذیل چند سوالات بطور اِضافہ علمی سمجھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم مطالعہ وفرصت پر سمجھادئیے جائیں۔
۱:۔۔۔ کشف، اِلہام اور وحی میں کوئی فرق ہے یا نہ؟ اگر ہے تو کون سا اور کس قسم کا؟ اور وہ صوری ہے یا معنوی؟ اِستدلالی ہے یا یقینی؟ ان واردات کی تشریح فرمائی جائے۔
۲:۔۔۔ مہدی اور مجدّد کے منصب میں کیا تفاوت ہے اور ان مناصب کے حاملین کو نمبر۱ میں سے کون سا درجہ اور وصف حاصل ہوتا ہے؟
۳:۔۔۔ جیسا کہ نبی کے لئے دعویٔ نبوّت ضروری ہے، اسی طرح مجدّد اور مہدی کے لئے بھی دعویٔ مجدّدیت ومہدویت ضروری ہے یا نہ؟
۴:۔۔۔ کیا نبی اور پیغمبر کی طرح مجدّد بھی معصوم، یا مردِ کامل، خطا سے مبرّا ہوتا ہے؟
۵:۔۔۔ مجدّد اور مہدی کو نہ ماننے والے مسلمان کے لئے از رُوئے شرع کیا حکم ہے؟ اور ان کی بعض تعریفوں یا اوصاف کو نہ ماننے والے کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب۱:۔۔۔ وحی وہ علم ہے جو پیغمبر اور رسول کو بوقت انسلاخہ عن البشریۃ إلی الملکیۃ حاصل ہوتا ہے۔ پھر اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں:
1:۔۔۔ کسی وقت آواز مثل صلصلۃ الجرس (گھنٹہ کی سی آواز سنائی دیتی ہے)۔(۲)
2:۔۔۔ کسی وقت فرشتہ اپنی اصلی صورت میں یا انسانی صورت میں آتا ہے۔(۳)
3:۔۔۔ کسی وقت مکالمۂ اِلٰہی بلاواسطہ ہوتا ہے۔(۴)
(۱) من ادعی نبوۃ أحد مع نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم أو بعدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ أو من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوز اکتسابھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذا من ادعیٰ منھم أنہ یوحیٰ إلیہ وإن لم یدع النبوۃ فھٰؤُلاء کلھم کفّار مکذبون للنبی صلی ﷲ علیہ وسلم۔ (الشفاء لقاضی عیاض ج:۲ ص:۲۴۶،۲۴۷)۔ وأیضًا: قال الموفق فی المغنی: ومن ادعی النبوۃ أو صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا بذالک مرتدین۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۶، طبع إدارۃ القرآن)
(۲)عن عائشۃ اُمّ المؤْمنین رضی ﷲ عنھا ان الحارث بن ھشام سأل رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فقال: یا رسول ﷲ! کیف یأتیک الوحی؟ فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: أحیانًا یأتینی مثل صلصلۃ الجرس۔ (بخاری ج:۱ ص:۲)
(۳) ’’أَوْ یُرْسِلَ رَسُولاً فَیُوحِیَ بِإِذْنِہِ مَا یَشَاءُ‘‘ (الشوریٰ:۵۱)۔ ایضًا: وأحیانًا یتمثل لی الملک رجلًا فیکلمنی فأعی ما یقول۔ (بخاری ج:۱ ص:۲، باب کیف کان بدء الوحی إلٰی رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم، طبع قدیمی)
(۴) ’’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی = فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی= فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِہِ مَا أَوْحَی ‘‘ (النجم:۸تا۱۰)
113
4:۔۔۔ کسی وقت مکالمۂ اِلٰہی من وراء الحجاب ہوتا ہے۔(۱)
5:۔۔۔ کسی وقت رُؤیا کے ذریعے سے علم دیا جاتا ہے، اس لئے رُؤیائے انبیاء -علیہم السلام- وحی ہیں،(۲) نہ رُؤیائے غیر۔
6:۔۔۔ تفہیم عینی من جانب اللّٰہ انبیاء علیہم السلام پر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ ان کی قوّتِ نظریہ کو کھینچ کر رُشد وصواب کی طرف لے جایا جاتا ہے۔
اِلہام وہ علم ہے جو قلب مبارک میں بغیر اِکتساب اور اِستدلال کے اِلقا ہو، اگر نبی کو ہو تو وحی کہلاتا ہے،(۳) یعنی وہ وحی کا قسم ہوتا ہے اور وہ قطعی اور حجت ہوتا ہے، اور غیراَنبیاء کا اِلہام وحی کی قسم نہیں ہوتا اور وہ ظنی ہوتا ہے۔ یہی فرق نبی اور غیرنبی کے رُؤیا میں ہے۔
دُوسرا فرق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا اِلہام امر ونہی پر مشتمل ہوتا ہے، اور اولیاء کا اِلہام کسی بشارت یا تفہیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام پر اپنے اِلہام کی تبلیغ واجب ہے اور اولیاء پر نہیں، بلکہ اِخفاء اَولیٰ ہے جب تک کوئی ضرورتِ شرعیہ دِینیہ داعی نہ ہو۔(۴)
(۱) ’’أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ‘‘ (الشوریٰ:۵۱)
(۲) عن عائشۃ اُمّ المؤْمنین رضی ﷲ عنھا: أوّل ما بدء بہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم من الوحی الرؤْیا الصالحۃ فی النوم۔ (بخاری ج:۱ ص:۲)۔
(۳) وحی اور کشف واِلہام:۔۔۔ ۔۔۔۔۔ وحی صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے، اور کسی بھی غیرنبی کو خواہ وہ تقدس اور ولایت کے کتنے بلند مقام پر ہو، وحی نہیں آسکتی۔ البتہ بعض اوقات اللّٰہ تعالیٰ اپنے بعض خاص بندوں کو کچھ باتیں بتادیتا ہے، اسے ’’کشف‘‘ یا ’’اِلہام‘‘ کہا جاتا ہے، کشف اور اِلہام میں حضرت مجدّد الف ثانی ؒ نے یہ فرق بیان فرمایا ہے کہ کشف کا تعلق حسیات سے ہے، یعنی اس میں کوئی چیز یا واقعہ آنکھوں سے نظر آجاتا ہے، اور اِلہام کا تعلق وجدانیات سے ہے، یعنی اس میں کوئی چیز نظر نہیں آتی، صرف دل میں کوئی بات ڈال دی جاتی ہے، اسی لئے عموماً اِلہام کشف کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہوتا ہے۔ (فیض الباری ج:۱ ص:۱۹)۔
وحی کی آخری صورت یعنی ’’نفث فی الرّوع‘‘ بظاہر اِلہام سے بہت قریب ہے، کیونکہ دونوں کی حقیقت یہی ہے کہ دِل میں کسی بات کا القاء کردیا جاتا ہے، لیکن دونوں میں حقیقت کے اعتبار سے یہ فرق ہے کہ وحی میں -جو صرف نبی کو ہوتی ہے- ساتھ ساتھ یہ علم بھی ہوجاتا ہے کہ یہ بات کس نے دل میں ڈالی ہے؟ چنانچہ حاکمؒ کی مذکورہ روایت میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صراحۃً بتلادیا کہ ’’روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے۔‘‘ لیکن اِلہام میں ڈالنے والے کی تعیین نہیں ہوتی، بس یہ محسوس ہوتا ہے کہ دل میں کوئی ایسی بات آگئی ہے جو پہلے نہیں تھی۔ (الوحی المحمدی ص:۳۸)۔ اسی بناء پر انبیاء علیہم السلام کی وحی سو فی صد یقینی ہوتی ہے، اور اس کی پیروی فرض ہے، لیکن اولیاء اللّٰہ کا اِلہام یقینی نہیں ہوتا، چنانچہ نہ وہ دِین میں حجت ہے، اور نہ اس کا اتباع فرض ہے، بلکہ اگر کشف، اِلہام یا خواب کے ذریعے کوئی ایسی بات معلوم ہو جو قرآن وسنت کے معروف اَحکام کے مطابق نہیں ہے تو اس کے تقاضے پر عمل کرنا کسی کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ (الاعتصام للشاطبی ج:۱ ص:۳۵۱، علم الکلام ص:۳۹،۴۰، تالیف مولانا محمد اِدریس کاندھلوی رحمہ اللّٰہ)۔
(۴) اِلہامِ انبیاء اور اِلہامِ اولیاء میں فرق:۔۔۔ حافظ تورپشتی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ ’’المعتمد‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اِلہامِ انبیاء اور اِلہامِ اولیاء میں فرق ظاہر ہے، انبیاء کا اِلہام قطعی ہوتا ہے۔ جس طرح انبیائے کرام علیہم السلام معصوم عن الخطا ہوتے ہیں، اسی طرح ان کا اِلہام بھی معصوم عن الخطا ہوتا ہے، بخلاف اِلہامِ اولیاء کے کہ وہ ظنی ہوتا ہے اور خطا سے معصوم نہیں ہوتا، آھ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
114
اس تفصیل سے واضح ہوگیا ہوگا کہ وحی اور اِلہام میں کیا فرق ہے؟ اِلہام وحی کی قسم ہے، بنا بریں وحی اور اِلہام میں عموم وخصوص مطلق کی نسبت بن جاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’علم الکلام‘‘ مولانا محمد اِدریس صاحب ص:۱۴۵ تا ۱۶۴۔
اسی طرح ’’کشف‘‘ لغۃً کھولنے کو کہتے ہیں، اِصطلاح میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے کسی علم کو نبی یا ولی پر کھول دینا۔ نبی کے علم کشفی اور ولی کے علم کشفی میں وہی فرق ہے جو اِلہامِ نبی اور غیرِنبی میں بیان ہوا۔ کشف اور اِلہام مفہوم کے لحاظ سے متفاوت ہیں، اور مصداق کے لحاظ سے قریب قریب ہیں۔ اور نسبت کشف اور وحی میں وہی ہے جو اِلہام اور وحی میں بیان ہوئی۔
یہ تفصیل اور نسبت اس کشف کے متعلق ہے جو کہ نبی پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات کشف فساق پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ابنِ صیاد نے کہا تھا: ’’اری عرشًا علی الماء‘‘ ۔(۱) آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تری عرش إبلیس علی البحر‘‘۔ (۲) اور بعض اوقات بہائم پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ عذابِ قبر، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ثقلین کے ماسویٰ تمام بہائم وطیور سن لیتے ہیں۔ کشف کے اس معنی اعم کے درمیان اور وحی کے درمیان عموم وخصوص من وجہ کی نسبت ہوگی:
1:۔۔۔ مادّہ اجتماعی: وہ کشف جو نبی کو ہو، وہ وحی بھی ہے اور کشف بھی۔
2:۔۔۔ مادّہ افتراقی: جہاں کشف ہو اور وحی صادق نہ آئے، کشفِ اولیاء، کشفِ بہائم وغیرہ۔
3 :۔۔۔ جہاں وحی صادق آئے اور کشف نہ ہو، وحی کی وہ چھ قسمیں جو اِلہام سے پہلے نمبروں میں بیان ہوئیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ انبیاء اور اولیاء کے رُؤیائے صالحہ میں، انبیاء کا رُؤیائے صالحہ وحی ہوتا ہے، اولیاء کا نہیں۔
اِمامِ ربانی رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:
’’واِلہام کہ اولیاء را ہست مقتبس از انوار نبوت است واز برکات وفیوض متابعت انبیاء است علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات۔‘‘ (مکتوب:۲۳ جلد:۳ ص:۴۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اولیاء کا اِلہام انوارِ نبوّت سے مأخوذ ہوتا ہے، اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہی کی متابعت کے فیض اور برکت سے ہوتا ہے۔‘ فافہم واستقم!
یعنی جس طرح مؤمنین کا اِیمان اور ان کی دیگر صفات مثلاً زُہد ووَرَع، قناعت وتوکل، رضا وتسلیم وغیرہ وغیرہ انبیائے کرام علیہم السلام ہی کے اِیمان اور صفات کا ایک عکس ہوتا ہے۔ مؤمنین کے ایمان اور ان کے زُہد اور وَرَع کو انبیائے کرام علیہم السلام کے اِیمان اور زُہد ووَرَع سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔
اسی طرح اِلہامِ مؤمنین کو اِلہامِ انبیاء سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ اِلہامِ مؤمنین تو اِلہامِ انبیاء کا ایک ادنیٰ سا پرتو اور عکس ہوتا ہے، یہ کہاں اُس کے ہمسر ہوسکتا ہے؟ این الثَّریٰ مِن الثُّریّا۔۔۔!
نیز اِلہامِ اولیاء فقط کسی بشارت یا تفہیم پر مشتمل ہوتا ہے، اور اِلہامِ انبیاء میں امر ونہی اور اَحکامِ اِلٰہیہ جو بندوں کے متعلق ہوں وہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر اپنے اِلہام کی تبلیغ واجب ہے، اور اَولیاء پر نہیں، بلکہ اُس کا اِخفا اَولیٰ ہے، جب تک کوئی ضرورتِ شرعیہ ودِینیہ داعی نہ ہو۔ (علم الکلام ص:۱۶۵، تالیف: مولانا محمد اِدریس کاندھلوی رحمہ اللّٰہ)۔
(۱) مشکوٰۃ المصابیح ص:۴۷۸، باب قصۃ ابن صیاد، الفصل الأوّل، طبع قدیمی کتب خانہ۔
(۲) حوالہ مذکورہ۔
115
تنبیہ:۔۔۔ عموم وخصوص مطلق کی نسبت جو بیان ہوئی، وہ کشفِ نبی اور اِلہامِ نبی اور وحیٔ انبیاء کے درمیان تھی، ورنہ مطلق اِلہام اور مطلق کشف اور وحی کے درمیان بھی نسبت عموم وخصوص من وجہ بنتی ہے، کما لا یخفی علی المتأمل!
’’مہدی‘‘ ایک شخص معین ہے، کوئی عہدہ نہیں ہے کہ ہر شخص کو حاصل ہوسکے۔ مہدی کے متعلق علامات حدیثِ نبوی میں وارِد ہوئی ہیں جو کہ یہ ہیں:
1 :۔۔۔ اس کا نام حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق ہوگا۔
2 :۔۔۔ اس کے والد کا نام حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے والد کے ہم نام ہوگا۔(۱)
3 :۔۔۔ اہلِ بیت سے ہوگا، یعنی اولادِ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے ہوگا۔ (۲)
4 :۔۔۔ سات سال زمین میں خلافت کرے گا، اور زمین کو عدل سے پُر کردے گا۔ (۳)
5 :۔۔۔ بیعت کی صورت یہ ہوگی کہ کسی خلیفہ کے فوت ہونے کے بعد اِختلاف واقع ہوگا، تو اس وقت مہدی صاحب مدینہ طیبہ میں ہوں گے، اس ڈر سے مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف روانہ ہوں گے کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے خلافت کے لئے مجبور کیا جائے، کیونکہ اہلِ مدینہ اس کے فضل وکمال سے واقف ہوں گے، لیکن جب مکہ معظمہ پہنچیں گے تو اہلِ مکہ بھی انہیں پہچان لیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، درآنحالیکہ مہدی صاحب اس اَمرِ خلافت کے قبول کرنے کو مکروہ سمجھنے والے ہوں گے۔ یہ بیعت رکن اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ہوگی۔
6 :۔۔۔ اس کے بعد ایک لشکر شام سے بمقابلہ حضرت مہدی صاحب روانہ ہوگا، مقامِ بیداء میں پہنچ کر زمین میں دھنسادیا جائے گا۔
7 :۔۔۔ مہدی کی اس کرامت کو دیکھ کر اَبدال ملکِ شام اور اہلِ عراق آئیں گے اور بیعت کریں گے۔
8 :۔۔۔ اس کے بعد ایک اور صاحب قریش میں سے مہدی کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوں گے اور وہ اپنے اَخوال کلب سے آدمیوں کو جمع کرکے مہدی کے ساتھ لڑائی کریں گے، لشکرِ مہدی کو فتح ہوگی ۔(۴) (یہ سب علامات: ابوداوٗد، باب فی ذکر
(۱) عن عبداﷲ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لو لم یبق من الدنیا إلَّا یوم لطول اﷲ ذالک الیوم حتّٰی یبعث رجلًا منی او من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم أبی۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۲) عن اُمِّ سلَمۃ رضی اﷲ عنھا قالت: سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یقول: المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۳) عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یملأ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا ویملک سبع ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۴) عن اُمِّ سلَمۃ زوج النبی صلی اﷲ علیہ وسلم عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: یکون إختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من اھل المدینۃ ھاربًا إلٰی مکۃ فیخرجونہ وھو کارہ فیبایعونہ بین الرُّکن والمقام ویبعث إلیہ بعث من الشام فیخسف بھم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ، فإذا رأی الناس ذالک أتاہ أبدال الشام وعصائب أھل العراق فیبایعونہ ثم ینشؤُ رجل من قریش أخوالہ کلب فیبعث إلیھم بعثًا فیظھرون علیھم۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، کتاب المھدی، علامات: ۵تا۸)۔
116
المہدی، بذل المجہود ج:۵ ص:۱۰۱ سے لی گئی ہیں)۔
اب مجدّد کے متعلق تحقیق درج کی جاتی ہے۔ جو کہ ابوداؤد اور اس کی شرحبذل المجہود ج:۵ ص:۱۰۳،۱۰۴ باب ما یذکر فی قرن المائۃ سے اخذ کی گئی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی روایت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر سو سال کے اُوپر ’’من یجدّد لھا دینھا‘‘ کو بھیجا کریں گے۔ اس لفظ: ’’من یجدّد‘‘ کے اُوپر غور فرمایا جائے۔ لفظ ’’من‘‘ معنی میں جمع کے ہے، اور لفظ مفرد کا ہے، تو اَب اس سے ایک قرن میں ایک فردِ معین مراد لینا اور تیرہ قرن جو گزرچکے ہیں، ان میں سے تیرہ آدمیوں کا اِنتخاب کرنا اور یہ کہنا کہ: ’’اس صدی کا مجدّد فلاں تھا، اور اُس کا فلاں‘‘ تکلف سے خالی نہیں، اس لئے معنی حدیث کی بنا پر اَظہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر صدی میں اللّٰہ تعالیٰ ایک جماعت ایسی قائم فرماتے ہیں جن کا ہر فرد ہر بلد میں تقریر وتحریر کے ذریعے سے دِین کو قائم رکھتا ہے اور تحریفِ غالین ومبطلین سے حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ فرماتے ہیں:
’’ان المراد بمن یجدّد لیس شخصًا واحدًا بل المراد بہ جماعۃ یجدد کل واحد فی بلد فی فن او فنون من العلوم الشرعیۃ ما تیسر لہ من الاُمور التقریریۃ والتحریریۃ۔ ویکون سببا لبقائہ وعدم اندراسہ وانقضائہ إلٰی ان یأتی أمر ﷲ ولا شک ان ھٰذا التجدید امر إضافی لأن العلم کل سنۃ فی التنزل کما ان الجھل کل عام فی الترقی۔‘‘
(بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳، ۱۰۴)
’’مجدّد‘‘ اور ’’مہدی‘‘ کے مفہوم اور مراتب کو واضح کرنے کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات حسبِ ذیل ہیں:
۲:۔۔۔ ان مناصب کے حاملین کو وحیٔ نبوّت اور وحیٔ رِسالت میں سے کوئی حصہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اِلہام اور کشف وغیرہ سے اولیاء کو ظنی علم حاصل ہوتا ہے، وہ ان کو بھی حاصل ہونا ممکن ہے، مگر وہ قطعی علم جو اَنبیائے کرام علیہم السلام کو وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جو کہ لوگوں پر حجت ہوتا ہے، ان کو ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہوتا۔
۳:۔۔۔ نبی اور پیغمبر کو اپنی نبوّت کا اِعلان کرنا اور لوگوں کو اپنی نبوّت کی طرف بلانا لازم ہوتا ہے، لیکن مجدّد کو مجدّدیت کا دعویٰ کرنا اور اپنی مجدّدیت پر لوگوں سے بیعت کا مطالبہ کرنا، اور پھر اپنے علوم کو مجدّدیت کی سند کے ساتھ مستند قرار دیتے ہوئے قطعی قرار دینا، جائز نہیں۔ البتہ بطور تحدیث بالنعمت کے اگر کوئی عالمِ ربانی اِظہار کردے بطور ظن کے کہ: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے دِین کی یہ اہم خدمت لی ہے، اس لئے مجدّدین کے زُمرے میں داخل ہونے کی اُمید کرتا ہوں‘‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لیکن یہ اِدّعا کرنا کہ: ’’میں فلاں صدی کا مجدّد ہوں اور لوگوں کو میری مجدّدیت پر اِیمان لانا چاہئے، یا میرے ہاتھ پر بیعت ہوجانا چاہئے‘‘ بالکل جائز نہیں ہے۔
۴:۔۔۔ نبی اور پیغمبر معصوم ہوتے ہیں، ان کے علاوہ اُمت کا کوئی فرد حتیٰ کہ حضراتِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم بھی انبیاء علیہم
117
السلام کی طرح معصوم نہیں قرار دئیے جاسکتے، کما ھو مذھب اھل السُّنَّۃ والجماعۃ۔
۵:۔۔۔ مہدی اور مجدّد کو نہ ماننے سے کفر نہیں لازم آتا۔ مجدّد کے متعلق تو واضح ہوچکا ہے کہ کسی شخصِ معین کا نام نہیں ہے، بلکہ کسی کا مجدّد ہونا اَمرِ ظنی ہے، اس لئے اس کے نہ ماننے میں کوئی خاص نکیر نہیں ہوسکتی۔ البتہ مہدی کا ذکر ان صفات کے ساتھ جو اَحادیث میں آیا ہے، اور یہ حدیثیں ابوداؤد وغیرہ میں مذکور ہیں، حدیثیں صحیح اور حسن ہیں، اس لئے ان صفات کا جو منکر ہوگا، اس کے لئے وہ حکم ہوگا جو اَحادیثِ آحاد کے منکر کا ہوتا ہے، یعنی کفر لازم نہ آئے گا، لیکن فسق سے خالی نہ ہوگا۔ فقط واللّٰہ اعلم
| الجواب صحیح |
بندہ محمد عبداللّٰہ غفر لہٗ |
| خیر محمد عفا اللّٰہ عنہ |
خادم دارُالافتاء |
| مہتمم خیرالمدارس ملتان |
خیر المدارس ملتان |
|
مورخہ ۲۰؍شعبان ۱۳۷۰ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۶۷ تا ۷۱)
تجدیدِ دِین اور مرزا غلام احمد قادیانی
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اگر مجدّد مانا جائے تو بجا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی مذکور ہرگز مجدّدِ زمان نہیں مانے جاسکتے، کیونکہ مجدّد زمان کے لئے چند شرائط مقرّر اور معین ہیں۔ چنانچہ کتاب ’’مجالس الابرار‘‘ (مجلس:۸۳) میں بایں طور مسطور ہے کہ مجدّد وہ ہوسکتا ہے جس کی لیاقتِ علمی وبزرگی کو علمائے وقت تسلیم کرلیں،(۱) نہ کہ وہ اپنی زبان سے میاںمٹھو طوطے کی طرح مجدّد ہونے کا اپنے منہ سے دعویٰ کرے اور کہلائے۔ اور مرزاقادیانی میں یہ صفت کہاں؟ دیکھو اس کی عبارت عربی جو یہاں بطور مشتے نمونہ از خروارے ہے، تحریر کردی جاتی ہے۔ جس پر ادنیٰ لیاقت والے طالب علم بھی اِعتراض کرتے ہیں اور ہنسی اُڑاتے ہیں اور مرزاقادیانی کی چند تصنیفات سے کتاب ’’اِعجاز المسیح‘‘ کی چند غلطیاں پیرمہرعلی شاہ صاحبؒ نے ’’سیف چشتیائی‘‘ اور ’’فیصلہ آسمانی‘‘ میں (مولانا محمد علی مونگیریؒ) بایں طور نقل کردی ہیں:
’’وھو ھٰذا وانی سمیتہ إعجاز المسیح وقد طبع فی مطبع ضیاء الإسلام فی سبعین یومًا من شھر الصیام وکان من الھجر سنۃ ۱۳۱۸ من شھر النصاری ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء مقام الطبع قادیان ضلع گورداسپور۔‘‘
(ٹائٹل اعجاز المسیح، طبع اوّل، خزائن ج:۱۸ ص:۱)
اب ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ کیا ستر دِن کا مہینہ بھی ہوتا ہے؟ اُمید ہے کہ مرزائی صاحبان اس جگہ بھی کچھ تأویل کریں گے، حالانکہ یہ تمام عبارت بے ربط اور خلاف محاورۂ عرب کے ہے۔
غلطی دوم:۔۔۔ ضلع گورداسپور کی بجائے ’’غورداسفور‘‘ ہونا چاہئے تھا۔
غلطی سوم:۔۔۔ باہتمام الحکیم فضل الدین بعد التعریب فضل الدین۔
(۱)یکثر العلم ویعتر اھلہ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳)۔
118
غلطی چہارم:۔۔۔ اس کتاب کے ص:۳ خزائن ج:۱۸ ص:۵ من کل نوع الجناح۔ نوع للجناح کیونکہ کل معرفہ پر اِحاطہ اجزاء کا افادہ دیتا ہے، وہ یہاں پر مقصود نہیں۔
غلطی پنجم:۔۔۔ اس کتاب کے ص:۳ ایضاًکل امرھم علی التقوی ۔ اس مقام پر کل امر لھم ہونا چاہئے تھا، چونکہ کل مجموعی خلاف ہے۔
غلطی ششم:۔۔۔ اس کتاب کے ص:۴، خزائن ج:۱۸ ص:۸فلا إیمان لہ أو یضیع إیمانہ ، دو دفعہ اِیمان کے لفظ کا تکرار بے قاعدہ اور خلاف محاورۂ عرب ہے۔
غرضیکہ مرزاقادیانی نے کہیں تو مقاماتِ حریری وغیرہ کتب سے عبارتیں چرائی ہیں اور کہیں لفظی اور کہیں معنوی تحریف قرآن مجید واحادیث شریف کی گئی ہے جس کو پیر صاحب موصوفؒ نے اپنی تصنیف ’’سیف چشتیائی‘‘ میں صفحہ:۷تا۱۸ قلم بند کردیا ہے۔ اور اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ فقیر بھی ہر ایک جلد میں چند اغلاط مرزا غلام احمد قادیانی کے لکھتا رہے گا۔ (بابو پیربخش کی تمام کتب ’’قادیانیت‘‘ احتسابِ قادیانیت جلد یازدہم ودوازدہم میں شائع ہوئی ہیں ۔۔۔مرتب)۔
اور دُوسری شرط مجدّد کی یہ ہے کہ وہ اپنے ظاہر وباطن کو مطابق شریعت جناب محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رکھتا ہے اور اقوال وافعال اس کے ہرگز برخلاف شریعت کے نہیں ہوتے۔ اور مرزاقادیانی میں یہ ہر دو صفت موجود نہ تھیں، نہ تو مرزاقادیانی نے باوجود اِستطاعت البالی ومرفہ الحالی حج کیا اور نہ ہی پتلی روٹی گیہوں کی کھانے سے تین دن متواتر باز رہے، اور نہ ہی فرش چمڑے اور کھجوروں کے پتوں سے بنایا اور نہ ہی مرزاقادیانی نے کباب اور زردی اور پلاؤ کھانے سے منہ پھیرا اور نہ ہی جھوٹے اِلہام بیان کرنے سے زبان کو روکا، نہ ہی نبیوں کی توہین کرنے سے قلم کو بند کیا، اور نہ ہی ۲۲کروڑ مسلمانوں کی پارٹی پر کفر کا فتویٰ لگانے سے شرمایا اور نہ ہی قرآن مجید اور احادیثِ شریفہ اور اِجماعِ اُمت کے اقوال کی تحریفِ معنوی کرنے سے قلم کو تھاما۔
تیسری شرط مجدّد کی یہ ہے کہ جو بدعت اور بت پرستی اور بُرے کام لوگوں کے درمیان مروّج اور قائم ہوچکے ہوں، ان کو وہ اپنی اِیمانی طاقت اور اِستقامت اور حوصلہ اور حلیمی سے دُور کردیتا ہے ۔(۱) مرزاقادیانی نے تو بجائے ان باتوں کے بدعت اور بت پرستی کی بیخ قائم کی، چنانچہ اپنی تصویریں بنواکر ملکوں میں تقسیم کیں، حالانکہ یہ بالکل برخلاف قرآن مجید واحادیثِ صحیحہ واِجماعِ صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین ہے۔ اور علاوہ اس کے اپنے آپ کو خدا کہلانا، اور آسمان وزمین کے پیدا کرنے پر اپنے آپ کو قادر سمجھنا، جیسا کہ ’’کتاب البریہ‘‘ (ص:۸۵، خزائن ج:۱۳ ص:۱۰۳) و’’حقیقۃ الوحی‘‘ و ’’دافع البلاء‘‘ وغیرہ میں مذکور ہے۔ علاوہ اس کے خود مرزاقادیانی کا دعویٰ کرشن جی کا بھی ہے، (حقیقۃ الوحی، خزائن ج:۲۲ ص:۵۲۱) جس کی تعلیم شرک وبدعت سے بھری ہوئی ہے، چنانچہ گیتا ترجمہ فیضی سے:
(۱) ویقمع البدعۃ ویکسر اھلھا۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳)۔
119
ابیات
-
من از ہر سہ عالم جدا گشتہ ام
نبی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
-
منم ہر چہ ہستم خدا از من است
فنا از من است وبقا از من است
-
باشجار پیپل بدانی مرا
بر گ ہائے نار وبدانی مرا
-
اگر گوش داری چناں میشوری
خدا میشوری وخدا مے شوی
تناسخ
-
ہمہ شکل اعمال بگرفتہ اند
بہ تقلیب احوال دل گفتہ اند
-
گرفتار زندان آمد شد اند
زبیدانشی خصم جان خود اند
اب ناظرین ذرا مرزاقادیانی کے کلمات بھی بغور وہوش دیکھئے اور سنئے اور اِنصاف فرمائیے! وھو ھٰذا:
(ترجمہ) ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور یقین کیا کہ وہی ہوں، اللّٰہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا، اور میرا غضب اور حلم، اور تلخی اور شیریں، اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہوگیا، اور اسی حالت میں، میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اِجمالی صورت میں پیدا کیا، جس میں کوئی ترتیب وتفریق نہ تھی، پھر میں نے منشائِ حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی، اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے خلق پر قادر ہوں، پھر میں نے آسمانِ دُنیا کو پیدا کیا اور کہا:انا زینا السماء الدنیا بمصابیح۔ پھر میں نے کہا: اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کریں گے، پھر میری حالت کشف سے اِلہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا:اردت ان استخلف فخلقت آدم، انا خلقنا الإنسان فی احسن تقویم۔‘‘
(کتاب البریہ ص:۸۶،۸۷، خزائن ج:۱۳ ص:۱۰۴، ۱۰۵)
اور آگے چل کر اسی کتاب (کتاب البریہ ص:۲۰۷، خزائن ج:۱۳ ص:۲۲۵) میں جہاں یہ مضمون چھڑا ہوا ہے کہ اِمام
120
مہدی اور عیسیٰ مسیح میں ہوں، اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں اور جو لوگ ان کا زِندہ ہونا آسمان پر مانتے ہیں، وہ جاہل اور احمق اور نادان ہیں، قرآن مجید اور اَحادیث کو غور سے نہیں سمجھتے اور جب ان کو پوچھا جائے کہ اس کے آسمان سے اُترنے اور جانے کا کیا ثبوت ہے تو پھر نہ کوئی آیت پیش کرسکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث۔
پناہ بخدا! میرے صاحبان دیکھو! مرزاقادیانی کا کس قدر جھوٹ بولنا ثابت ہے، پیرمہرعلی شاہ صاحبؒ فاضل اجل لاہور میں خود بحث کرنے کے لئے مع بسیار علمائے دِین کے تشریف لائے اور مرزاقادیانی بھاگ گئے، اور ایسا ہی پیرجماعت علی شاہ صاحب علی پوریؒ کے مقابلہ کرنے سے بھاگتے رہے۔ آخر الامر اس کے دعوے کی تردید میں کتاب ’’سیف چشتیائی‘‘ و ’’شمس الہدایہ‘‘ تیار کیں۔ اس طرح ہزارہا علمائے دِین جواب بدلائلِ قاطعہ اب تک دے رہے ہیں اور خاص کر اب بھی رفیق پیربخش صاحب پنشنر پوسٹ ماسٹر انجمن تائیدالاسلام کی طرف سے مستقل طور پر رسالہ ماہواری (تائیدالاسلام) نکلتا ہے، جس کے جواب دینے میں مرزاقادیانی اور آپ کے پیرو لا نسلم کا سبق پڑھ کر لاجواب ہوگئے اور اِن شاء اللّٰہ ہوتے رہیں گے:
-
گر نہ بیند بروز شب پرہ چشم
چشمہ آفتاب را چہ گناہ
اور اَب فقیر بھی مرزاقادیانی کے گدی نشینوں اور متبعین کو نوٹس دیتا ہے کہ اگر مرزاقادیانی اور آپ لوگ سچے ہیں تو بیس ہزار روپیہ جو مرزاقادیانی نے بطورِ اِنعام اس دعوے پر اِرقام فرمایا ہے، براہِ مہربانی بصیغۂ منی آرڈر روانہ فرمایا جائے، ورنہ سرکاری طور پر درخواست کی جائے گی، وھو ھٰذا:
’’اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہ پاؤگے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانے میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپے تک تاوان دے سکتے ہیں، اور توبہ کرنا اور تمام اپنی کتابوں کو جلادینا اس کے علاوہ ہوگا، جس طرح چاہیں تسلی کرلیں۔‘‘
(کتاب البریہ ص:۲۰۷، خزائن ج:۱۳ ص:۲۲۵ حاشیہ)
اور اس کتاب کے ص:۲۰۸، خزائن ج:۱۳ ص:۲۲۶ میں یوں لکھا ہے کہ:
’’جہاں کسی کا واپس آنا بیان کیا جاتا ہے، عرب کے فصیح لوگ رُجوع بولا کرتے ہیں نہ نزول۔‘‘
اب ناظرین نے مرزاقادیانی کی عبارت نزول کا لفظ وارِد ہے وہ غیرفصیح ہے۔ یہ لفظ ذی عزّت آدمی کی خاطر بھی بولا جاتا ہے اور یہ عام محاورہ ہے۔نزول من السماء اور رُجوع کا کلمہ کسی حدیثِ وضعی کتاب مذہب اسلامیہ میں بھی اس کا ثبوت نہیں اور اگر کوئی شخص دِکھادے تو اس کو بیس ہزار روپیہ علاوہ سزا اور تاوان کے دُوں گا۔
میرے صاحب ذرا اِنصاف سے حدیثوں کو ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کیا ان میں رُجوع اور نزول من السماء کا کلمہ ہے یا
121
نہیں؟ اگر ہے تو مرزائی صاحبان تحریر شدہ تاوان لے دیں، اگر وہ نہ دیں تو سمجھ لیں کہ یہ لوگ کذّاب ہیں اور نہ ہی مرزاقادیانی صادق اور مجدّد ہوسکتے ہیں؟ اور وہ دلائل یہ ہیں:
حدیث۱:۔۔۔’’قال الحسن: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم للیھود: إن عیسٰی لم یمت وإنہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔‘‘
(نقل از تفسیر درمنثور ج:۲ص:۳۶، طبع دارالکتب العلمیۃ)
’’یعنی کہا حضرت حسن بصریؒ نے کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے واسطے مخاصمین اہلِ یہود کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک نہیں مرا، وہ تمہاری طرف واپس آنے والا ہے قیامت سے پہلے۔‘‘ (اس حدیث میں رُجوع کا لفظ موجود ہے اور حدیث صحیح ہے)۔
حدیث۲:۔۔۔’’روی اسحاق بن بشر وابن عساکر عن ابن عباس رضی ﷲ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: فعند ذالک ینزل اخی عیسی بن مریم من السماء۔‘‘
(کنز العمال ج:۱۴ ص:۶۱۹ حدیث نمبر:۳۹۷۲۶، مختصر ابن عساکر ج:۲۰ ص:۱۴۹)
’’یعنی کہا حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: نزدیک ہے کہ میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نزول فرمائے گا۔‘‘ (اس حدیث میں کلمہ ’’من السماء‘‘ کا موجود ہے)۔
حدیث۳:۔۔۔ ’’فإنہ لم یمت الآن بل رفعہ ﷲ إلی ھٰذہ السماء، روی ابن جریر وابن حاتم عن ربیع قال ان النصاریٰ اتوا النبی صلی ﷲ علیہ وسلم إلٰی ان قال: الستم تعلمون ربنا حیٌّ لا یموت وإن عیسٰی یأتی علیہ الفناء۔‘‘
(تفسیر طبری ج:۳ ص:۱۶۳)
’’یعنی کیا تم لوگوں کو علم نہیں رَبّ ہمارا زِندہ ہے، اس پر کبھی موت نہیں آئے گی، اور عیسیٰ پر موت آئے گی۔‘‘
حدیث۴:۔۔۔ ’’عن عبدﷲ بن سلام قال: یدفن عیسَی بن مریم مع رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعًا۔‘‘
(درمنثور ج:۲ ص:۲۴۵،۲۴۶)
’’یعنی فرمایا کہ دفن ہوگا عیسیٰ بن مریم ساتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اور ابوبکر وعمر رضی اللّٰہ عنہما کے اور اس کی قبر چوتھی ہوگی۔‘‘
حدیث۵:۔۔۔ ’’عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: کیف انتم إذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وإمامکم منکم‘‘
(رواہ البیھقی فی کتاب الأسماء والصفات ص:۴۲۴)
ناظرین کیا حدیث نمبر اوّل میں ’’رُجوع‘‘ اور حدیث نمبر۲ اور حدیث نمبر۵ میں کلمہ ’’من السماء‘‘ کا واقع ہے یا نہیں؟
اب مہربانی فرماکر مرزائی صاحبان کو لازم ہے کہ ایفائے وعدہ کریں یا مرزاقادیانی کے اِتباع سے توبہ کریں۔ اور علاوہ
122
اس کے مرزاقادیانی کے اور بھی کلمات ہیں، اصل کو غور سے دیکھیں اور اِنصاف کریں کہ کیا یہ مطابق قرآن مجید واحادیثِ شریفہ واِجماعِ مسلمین واَئمہ دِین ومجتہدین ومجدّدین کے ہیں یا نہیں؟ وھو ھٰذا:
’’انت مِنِّی بمنزلۃ اولادی انت مِنِّی وانا منک۔‘‘
(دافع البلاء ص:۶، خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۷)
’’انت مِنِّی بمنزلۃ ولدی‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۶، خزائن ج:۲۲ ص:۸۹)
اور معنی ان کے یوں کئے جاتے ہیں کہ: ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔‘‘
ناظرین! کیا یہ مرزاقادیانی کا کہنا سچ ہے؟ ہرگز نہیں! یہ صریح جھوٹ ہے اور خداوند کریم پر اِفترا باندھا ہوا ہے، چنانچہ قرآن شریف خود اس کی تردید کرتا ہے:
اوّل:۔۔۔ ’’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ‘‘ (الاخلاص:۳) یعنی نہیں جنا اس نے کسی کو، اور نہ وہ جنا گیا۔
دوم:۔۔۔ ’’وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ یَکُن لَّہُ شَرِیْکٌ فِیْ الْمُلْکِ‘‘ (الفرقان:۲) اور اس نے کسی کو ولد (بیٹا یا بیٹی) نہیں بنایا اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے۔
سوم:۔۔۔ ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللہِ کَذِباً أُوْلَـئِکَ یُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّہِمْ وَیَقُولُ الأَشْہَادُ ہَـؤُلاء الَّذِیْنَ کَذَبُواْ عَلَی رَبِّہِمْ أَلاَ لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ‘‘ (ہود:۱۸)
چہارم:۔۔۔ ’’فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِأَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ ہَـذَا مِنْ عِندِ اللہِ لِیَشْتَرُواْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً‘‘ (البقرۃ:۷۹)
پس ان تمام مذکورہ بالا آیاتِ بینات سے واضح ہوا کہ جو شخص اللّٰہ پر اِفترا باندھے یعنی خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے، یا خود خدا بنے، یا اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھ کر کہے کہ یہ اللّٰہ کا کلام ہے جو میرے منہ سے نکلتا ہے، سو وہ ظالم اور لعنتی اور دوزخی ہے۔
اور دیکھو مرزاقادیانی نے ’’حقیقت الوحی‘‘ (ص:۸۶، خزائن ج:۲۲ ص:۸۷) میں لکھا ہے: ’’قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ اور اپنی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ (ص:۱۵۴، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴) میں لکھا ہے کہ: ’’مسیح علیہ السلام یوسف نجار (یعنی یوسف ترکھان کا بیٹا) ہے۔‘‘ اور اسی کتاب (کے ص:۶۲۸، ۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۲۹) میں لکھا ہے کہ: ’’انبیاء علیہم السلام جھوٹے ہوتے ہیں۔‘‘ خدا کی پناہ ایسے مجدّدوں سے۔۔۔!
میرے صاحبان! اِنصاف فرمائیے کہ جس آدمی کے یہ الفاظ ہوں کیا وہ آدمی بہ قانونِ شریعت مسلمان بھی رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں! ہاں بقول شخصے: ’’سو چوہے کھاکے بلی حج کو چلی!‘‘ الغرض مرزاقادیانی کسی صورت میں مجدّد نہیں ہوسکتے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ نظامیہ ج:۳ ص:۲۵۲ تا ۲۶۰)
مرزا قادیانی مجدّد نہیں، کافر ومرتد تھا
سوال:۔۔۔ از نوشہرہ، تحصیل جام پور، ضلع ڈیرہ غازی خان، مسئولہٗ عبدالغفور صاحب ۱۴؍محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
123
ایک مرزائی قادیانی کا سوال ہے کہ ابنِ ماجہ کی حدیث ہے، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صدی کے بعد مجدّد ضرور آئے گا۔
مرزاقادیانی مجدّدِ وقت ہے۔ عالی جاہ! اس قوم نے لوگوں کو بہت خراب کیا ہے، ثبوت کے لئے کوئی رسالہ وغیرہ اِرسال فرمائیں، تاکہ گمراہی سے بچیں۔
جواب:۔۔۔ مجدّد کا کم از کم مسلمان ہونا تو ضروری ہے، اور قادیانی کافر مرتد تھا، ایسا کہ تمام علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا کہ: ’’من شکَّ فی کفرہ وعذابہ فقد کفر‘‘ (درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر۔
لیڈر بننے والوں کی ایک ناپاک پارٹی قائم ہوئی ہے، جو گاندھی مشرک کو رہبر، دِین کا اِمام وپیشوا مانتے ہیں، نہ گاندھی اِمام ہوسکتا ہے، نہ قادیانی مجدّد، السوء والعقاب وقہرالدیان وحسام الحرمین مطبع اہلسنّت بریلی سے منگوائیں۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۳۸۴)
✨ 🌟 ✨
124
بابِ ششم
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والوں کے بارے میں حکم
قادیانیوں کے کفر میں شک کرنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ عرض اینکہ اگر کوئی شخص مسلمان، قادیانیوں کے بارے میں مرتد ہونے کا فتویٰ سننے کے بعد بھی ان قادیانیوں کے مرتد، کافر ہونے میں شک کرے اور علمائے حق کے فتوے کو تسلیم نہ کرے تو ایسا شخص اَزرُوئے شرع کیسا ہے؟
۲:۔۔۔ ایک مسلمان جو کہ قادیانیوں کے پڑوس میں رہتا ہے، باوجود معلوم ہونے کے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں، قادیانی ہیں، پھر بھی ہر قسم کا لین دین، کھاناپینا، خوشی غمی میں شرکت کرتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی قادیانی مرجائے تو اس کی نمازِجنازہ بھی پڑھتا ہے، اور اپنی بچی کو قرآن کی تعلیم اسی قادیانی کی عورت سے دِلواتا ہے، اور اگر اس مسلمان کے گھر میں کسی کی موت ہوجائے تو ان ہی قادیانیوں سے قرآن پڑھواتا ہے۔ غرض ہر طرح ایک پڑوسی کا حق ادا کرتا ہے، اَزرُوئے شرع ایک مسلمان کا مرتد کے ساتھ اس طرح آناجانا جائز ہے یا ناجائز؟ کیا اس کو مسلمان سمجھا جائے یا فاسق اور فاجر؟
۳:۔۔۔ اگر کوئی مسلمان، قادیانیوں کی حمایت اور ہمدردی میں اس حد تک آگے بڑھ جائے کہ اپنی مسجد کے اِمام کو قادیانیوں کے خلاف تقریر کرنے پر بُرابھلا کہے اور اِمام کو ڈرائے اور دھمکائے کہ تم قادیانیوں کے خلاف آئندہ مسجد میں تقریر نہیں کروگے، اگر ایسا کیا تو اِمامت سے سبکدوش کردیا جائے گا۔ کیا اس شخص کا یہ قول قادیانیوں کی کھلم کھلا حمایت اور ہمدردی نہیں ہے؟ اور کیا اس حمایت سے یہ شخص بھی بدترین قسم کا فاسق نہیں ہوجاتا؟
جواب:۔۔۔ ۱- اگر یہ شخص قادیانیوں کی تأویلاتِ فاسدہ کی بنا پر ان کے کفر میں شک کرتا ہے اور خود ان کے عقائد ونظریات کا معتقد نہیں ہے تو یہ شخص کافر نہیں، البتہ سخت گمراہ اور فاسق ہے اور اس پر واجب ہے کہ اس گمراہی سے توبہ کرے۔
۲- قادیانیوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا اور ان کی غمی وخوشی میں برابر شریک رہنا، جائز نہیں ہے۔ ایسا شخص گناہگار اور فاسق ہے، اس پر لازم ہے کہ قادیانیوں سے تمام گہرے روابط ختم کرے اور موجودہ طرزِ عمل سے اِجتناب کرے۔
۳- قادیانیوں کی مذکورہ حمایت بلاشبہ ناجائز اور موجبِ فسق ہے، اور ایسی حمایت کرنے والا بدترین فسق کا مرتکب ہے،
125
اس پر واجب ہے کہ اس سے باز آئے اور صدقِ دِل سے توبہ کرے۔
|
واللّٰہ اعلم |
| الجواب صحیح |
بندہ عبدالرؤف سکھروی |
احقر محمد تقی عثمانی |
۳۰؍۴؍۱۴۰۸ھ |
|
(فتویٰ نمبر۸۴۷/۳۹ج) |
|
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں، اسلام میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو، اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اِسلام سمجھتا ہے۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۱۲،۲۱۳)
مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ جو شخص فرقۂ ضالہ مرزائیہ کو اِسلام پر سمجھتا ہو، اس کے بارے میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟
جواب:۔۔۔ جو اُن کو مسلمان کہے، وہ بھی اسی طرح مرزائی ہوجائے گا۔
(فتاویٰ علمائے حدیث ص:۱۲۷)
مرزاقادیانی کو سچا ماننے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک بزرگ جو اپنے آپ کو اللّٰہ والا اور رُوحانیت کا بادشاہ جتاتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد اور موجودہ جماعتِ احمدیہ کے قائل ہیں۔ قومِ ہنود کے ایک فرقے کے اوتار ہونے کے مدعی اور مأمور جماعتِ احمدیہ کے متمنی، مذکورہ اِعتقاد رکھنے والے کی رائے اُمورِ شرعیہ میں کیا حیثیت رکھتی ہے؟ ایسے بزرگ کا شرعی معاملات میں اِعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
المستفتی۸۷: سلطان احمد خاں
۲۳؍محرم ۱۳۵۵ھ مطابق ۱۶؍اپریل ۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ جو شخص غلام احمد قادیانی کو مانے اور ان کے دعوؤں کی تصدیق کرے اور اپنے آپ کو اوتار بتائے، وہ گمراہ اور اِسلام سے خارج ہے۔ اس کی بات ماننا اور اس کو پیر بنانا، یا اس کی جماعت میں شریک ہونا حرام ہے۔ مسلمانوں کو اس سے قطعاً محترز اور مجتنب رہنا چاہئے۔
محمد کفایت اللّٰہ
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۷)
(۱) إذا سکت القوم عن الذکر وجلسوا عندہ بعد تکلمہ بالکفر کفر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۳)۔
126
مرزائی کو کافر نہ سمجھنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین مسائلِ ذیل میں کہ ایک مولوی صاحب تعلیم یافتہ مدرسہ دارُالعلوم دیوبند کے ہیں، اور شاگرد حضرت مولانا شیخ الہند محمودحسن صاحبؒ کے ہیں اور نہایت صحیح العقیدہ اہلِ سنت ہیں، اور نہایت پختہ حنفی المذہب دیوبندی ہیں۔ صرف ان کا ہمیشہ سے عقیدہ مرزاقادیانی کو کافر نہ کہنے کا ہے، ہاں! بدعتی ملحد، بددِین، زِندیق، خارجی، دائرۂ سنت جماعت سے خارج، غرض ہر بُرے لفظ سے بُرا کہتے ہیں، لیکن کافر نہیں کہتے کہ مذہبِ اَثبت واَسلم یہی ہے، اس لئے کہ متقدمین فقہائے مجتہدین جس بدعتی کی بدعت خلافِ قطعیت تأویل کرنے سے کفر تک بھی پہنچ جائے، اس کو بھی بسبب اہلِ قبلہ ہونے کے کافر نہیں کہتے، اور بعض فقہائے مجتہدین کافر کہتے ہیں۔ چنانچہ ’’درمختار‘‘ (ج:۱ ص:۴۱۴،۴۱۵) وغیرہ کتب میں بشرح مسطور ہے:
’’کل من کان من قبلتنا لا یکفر بہ حتّی الخوارج الذین یستحلون دمائنا واموالنا ونسائنا وسب اصحاب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم وینکرون صفاتہ تعالٰی وجواز رؤْیتہ لکونہ تأویلًا وشبھۃ۔‘‘
پس ان کا اِعتقاد اسی سبب سے بگڑا کہ انہوں نے معانی نص کو اپنے مطلب کے موافق بنالیا، جو معانی سلف الصالحین سے مروی تھے ان کے پابند نہ ہوئے۔ وما من کفرھم اس پر اِمام شامیؒ نے فرمایا کہ مذہب معتمد اس کے خلاف اور ’’خلاصہ‘‘ سے ’’بحرالرائق‘‘ نے بعض ایسے فروع نقل کئے ہیں کہ جن بدعتیوں کا صریح کفر پایا جاتا ہے مگر ان کے لئے کہا ہے مذہب معتمد یہی ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے کسی کو بھی کافر نہ کہا جائے (ان کی تاویل کے سبب)۔ ’’درمختار‘‘ (ج:۳ ص:۳۳۸) میں ہے:
’’ثم الخارجون عن طاعۃ الإمام ۔۔۔۔۔۔۔ بتأویل یرون انہ علٰی باطل کفر أو معصیۃ توجب قتالہ بتأویلھم یستحلون دمائنا واموالنا ویسبون نسائنا ویکفرون اصحاب نبینا علیہ افضل الصلوٰۃ حکمھم حکم البغاۃ بإجماع الفقھاء کما حققہ فی الفتح۔‘‘
اس کے بعد صاحبِ درمختار نے فرمایا:
’’وإنما لم نکفرھم لکونہ عن تأویل وإن کان باطلًا بخلاف المستجل بلا تأویل کما مر فی باب الإمامۃ۔‘
(درمختار ج:۳ ص:۳۳۹)
’’فتح القدیر‘‘ میں ہے کہ جمہور فقہاء ومحدثین کے نزدیک کافر نہیں اور بعض محققین ان کے کفر کے قائل ہوئے ہیں۔ اور محیط میں ہے: بعض فقہاء تکفیر کے قائل ہیں اور بعض فقہاء تکفیر نہیں کرتے اس بدعت والے کی جس کی بدعت دلیلِ قطعی کے مخالف اور کفر ہو۔ صاحبِ محیط نے عدمِ تکفیر کو اَثبت واَسلم لکھا ہے۔ اِمام حلبیؒ نے کہا کہ یہ کلا وجھیہ ھٰکذا فی غایۃ الأوطار ۔ اس پر مولوی صاحب موصوف الصدر فرماتے ہیں کہ سلف الصالحین کا طریق اَفضل واَسلم ہے، مرزاقادیانی کے کفر بھی تمام تأویلاتِ باطلہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ واللّٰہ اعلم۔ اب اس مولوی صاحب کا کیا حال ہے؟ ان کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ اور پہلے جو عرصہ دراز
127
سے ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، ان سب کی قضا ہے یا نہ؟ اور مرزا مذکور کو کافر کہنا فرض یا سنت یا ترک اَولیٰ؟ مولوی صاحب مذکور کا اِستدلال صحیح ہے یا غلط؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کا دعویٔ نبوّت چونکہ ان کی ذاتی تحریرات اور لٹریچر سے اور اس کے متبعین کی عظیم جماعت کی سند سے متواتر ثابت ہوچکا ہے، اور ختمِ نبوّت کا عقیدہ ضروریاتِ دِین میں سے ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئی نبوّت (خواہ جس قسم کی بھی ہو) کا عطا ہونا بند ہوچکا ہے۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ اسی عقیدے پر گزرچکا ہے۔ اور ضروریاتِ دِین میں کسی تأویل کی گنجائش نہیں ہوتی، غیرضروریاتِ دِین میں خواہ قطعیات کیوں نہ ہوں، تأویل کرنے سے حکمِ کفر سے بچا جاسکتا ہے، لیکن ضروریاتِ دِین میں نہیں۔ (رسالہ إکفار الملحدین فی ضروریات الدین، مؤلفہ حضرت شاہ صاحب کشمیری) مولوی صاحب کو اس عقیدے سے توبہ کرنا لازم ہے۔
واللّٰہ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم، ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۳ تا ۲۰۵)
مرزاقادیانی کے دعویٔ مسیحیت ومہدویت سے واقف ہونے کے باوجود اس کو مسلمان کہنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ مرزاقادیانی کا دعویٔ مسیحیت اور مہدویت سے واقف وآشنا ہوکر بھی کوئی شخص مرزا کو مسلمان سمجھتا ہے تو کیا وہ کہنے والا شخص مؤمن ہوسکتا ہے؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کے عقائد ونظریات وخیالاتِ باطلہ اس حد تک غلیظ ہیں کہ ان سے واقف ہوکر کوئی مسلمان شخص مرزا کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ البتہ جسے اس کے عقائدِ باطلہ کا علم نہ ہو اور تأویل کرے اور اسے کافر نہ کہے تو ممکن ہے ورنہ نہیں۔ بہرحال جاننے کے بعد مرزا کو کافر کہنا ضروری ہے۔ البتہ جو شخص بہ سبب کسی شبہ اور تأویل کے کافر نہ کہے تو ایسے شخص کی تکفیر میں احتیاط کی جائے گی، پس اسے کافر نہ کہا جائے گا۔ معترض کا نفسیاتی تجزیہ کرکے دیکھا جائے کہ وہ مرزا کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ تب قول کیا جائے، اِحتیاط یہی ہے کہ عدمِ تکفیر کا قول کیا جائے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۲۹)
مرزاقادیانی کی تعریف کرنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ خواجہ کمال الدین لاہوری، مرزا غلام احمد قادیانی کی فصاحت بلاغت کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کا اِستقبال کرنا یا ان کو اپنے یہاں مہمان کرنا کیسا ہے؟ ایسا شخص مرتد ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرتد تو نہیں، فاسق وعاصی ضروری ہے کہ بے دِین کی تعظیم کرتا ہے۔ باقی جو معتقد عقائدِ قادیانی کا ہے، اس
128
کے اِرتداد پر فتویٰ علماء کا ہوچکا ہے (شرح فقہ اکبر ص:۱۸۴)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۳۴)
قادیانیوں سے نرمی کرنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین کثرہم اللّٰہ تعالیٰ ونصرہم وابدہم وایدہم اس مسئلے میں کہ ایک سنیوں کے محلے میں بکر قادیانی آکر بسا۔ زید سنی نے مردوں عورتوں کو اس کے گھر میں جانے سے، اس سے خلاملا، میل جول، حصہ بخرہ رکھنے سے منع کیا۔ ہندہ جس کے بیٹے وغیرہ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہیں، اس نے کہا کہ: ’’بڑے نمازئیے، پڑھ کر ملا ہوگئے، ہم عذاب ہی بھگت لیں گے، اس بیچارے قادیانی کو دق کر رکھا ہے۔‘‘ تو اَب ہندہ کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ ہندہ نماز کی تحقیر کرنے اور عذابِ اِلٰہی کو ہلکا ٹھہرانے اور قادیانی کو اس فعلِ مسلمانان سے مظلوم جاننے اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم وناحق سمجھنے کے سبب اسلام سے خارج ہوگئی، اپنے شوہر پر حرام ہوگئی، جب تک نئے سرے سے مسلمان ہوکر اپنے ان کلمات سے توبہ نہ کرے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اَحکامِ شریعت، احمد رضاخان ص:۱۹۷، مشملہ فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۶۵۴)
مسلمان کو مرزائی کہنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ چہ می فرمایند علمائے دِین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ شخصے بنام عبدالعزیز مرزا کہ من قسم بخدائے ذُوالجلال والاکرام صحیح العقیدہ مسلمان ہستم، مرزائی بگوید، وپروپیگنڈا بکند ایں را سزا از رُوئے قرآنِ کریم وحدیث شریف وفقہ چیست؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ من جملہ از شروط صحتِ اسلام ودُرستی عقیدہ ایں ہم است کہ یقین حاصل باشد، کہ بعد از ختم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہر کہ دعویٔ نبوّت کردہ آں دجال، کافر، کذّاب ہست۔ اگر فی الواقعہ شما ایں عقیدہ میدارید۔ ونیز دیگر ضروریاتِ دِین را یقین میکنید وباایں ہمہ کسے شمارا مرزائی یا کافر گوید۔ آںمجرم است وآںرا خوف کفر است توبہ کردن لازم۔ لیکن شرط ایں است کہ او بالیقیں ایں قسم جملہ گفتہ باشد۔ وباقاعدہ شہادت شرعی برگفتن او ازیں قسم جملہ ہائی موجود باشد۔ واللّٰہ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم، ملتان
۱۴؍۸؍۱۳۸۵ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۱۹۹)
✨ 🌟 ✨
129
بابِ ہفتم
ظہورِ مہدی وفتنۂ دجال
حضرت مہدیؓ کے بارے میں اہلِ سنت کا عقیدہ
سوال:۔۔۔ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمان کی رُو سے وہ ہمارے نبی آخرالزمان ہیں، یہ ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے، لیکن پھر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ ان کی وفات کے بعد اور قیامت سے پہلے ایک نبی آئیں گے حضرت مہدیؓ، جن کی والدہ کا نام حضرت آمنہ اور والد کا نام حضرت عبداللّٰہ ہوگا، تو کیا یہ حضرت مہدیؓ ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تو نہیں ہوں گے جو دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے؟ میرے نانا محترم مولوی آزاد فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خطبے میں فرما رہے تھے کہ قیامت سے پہلے حضرت مہدیؓ دُنیا میں تشریف لائیں گے۔ لوگوں نے نشانیاں سن کر پوچھا: یا رسول اللّٰہ! کیا وہ آپ تو نہیں؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسکراکر خاموش رہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی میں اس دُنیا میں دوبارہ آؤں گا۔ اس کا جواب تفصیل سے دے کر شکریہ کا موقع دیں۔
جواب:۔۔۔ حضرت مہدیؓ کے بارے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہلِ حق کا اِتفاق ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللّٰہ عنہا کی نسل سے ہوں گے، اور نجیب الطرفین سیّد ہوں گے، ان کا نامِ نامی ’’محمد‘‘ اور والد کا نام ’’عبداللّٰہ‘‘ ہوگا۔ (۱) جس طرح صورت وسیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ شکل وشباہت اور اَخلاق وشمائل میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ وہ نبی نہیں ہوں گے ،(۲) نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوّت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان کی نبوّت پر کوئی اِیمان لائے گا۔
ان کی کفار سے خونریز جنگیں ہوں گی، ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا، اور وہ لشکرِ دجال کے محاصرے میں َگھر جائیں گے، ٹھیک نمازِ فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لئے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدیؓکی اِقتدا میں پڑھیں گے۔ نماز کے بعد دجال کا رُخ کریں گے، وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب
(۱) ان المھدی من اولاد الحسن ویکون لہ انتساب من جھۃ الاُمّ إلی الحسین۔ (مرقاۃ ج:۵ ص:۶۸۶)۔
(۲) عن أبی إسحاق قال: قال علیٌّ ونظر إلی ابنہ الحسن قال: ان ابنی ھٰذا سیّد کما سمّاہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم، ویستخرج من صلبہ رجل یسمّٰی باسم نبیّکم یشبہ فی الخُلُق ولا یشبہ فی الخلق ثم ذکر قصّۃ بملء الأرض عدلًا۔ رواہ ابوداوٗد، مشکوٰۃ ص:۴۷۱، باب اشراط الساعۃ)۔
130
کریں گے اور اسے بابِ لُدّ پر قتل کردیں گے، دجال کا لشکر تہ تیغ ہوگا اور یہودیت ونصرانیت کا ایک نشان مٹادیا جائے گا۔(۱)
یہ ہے وہ عقیدہ جس کے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لے کر تمام سلف صالحین، صحابہؓ وتابعینؒ اور اَئمہ مجدّدین معتقد رہے ہیں۔ آپ کے نانا محترم نے جس خطبے کا ذِکر کیا ہے اس کا حدیث کی کسی کتاب میں ذِکر نہیں۔ اگر انہوں نے کسی کتاب میں یہ بات پڑھی ہے تو بالکل لغو اور مہمل ہے۔ ایسی بے سروپا باتوں پر اِعتقاد رکھنا صرف خوش فہمی ہے۔ مسلمان پر لازم ہے کہ سلف صالحین کے مطابق عقیدہ رکھے اور ایسی باتوں پر اپنا اِیمان ضائع نہ کرے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۷،۲۶۸)
حضرت مہدیؓ کا ظہور کب ہوگا اور وہ کتنے دِن رہیں گے؟
سوال:۔۔۔ اِمام مہدیؓ کا ظہور کب ہوگا؟ اور آپ کہاں پیدا ہوں گے؟ اور کتنا عرصہ دُنیا میں رہیں گے؟
جواب:۔۔۔ اِمام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا کوئی وقت متعین قرآن وحدیث میں نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ کہ ان کا ظہور کس صدی میں؟ کس سال ہوگا؟ البتہ احادیثِ طیبہ میں بتایا گیا ہے کہ ان کا ظہور قیامت کی ان بڑی علامتوں کی اِبتدائی کڑی ہے جو بالکل قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گی اور ان کے ظہور کے بعد قیامت کے آنے میں زیادہ وقفہ نہیں ہوگا۔
اِمام مہدیؓکہاں پیدا ہوں گے؟ اس سلسلے میں حضرت علی کرّم اللّٰہ وجہہ سے ایک روایت منقول ہے کہ مدینہ طیبہ میں ان کی پیدائش وتربیت ہوگی۔ مکہ مکرمہ میں ان کی بیعت وخلافت ہوگی اور بیت المقدس ان کی ہجرت گاہ ہوگا(۲)روایات وآثار کے مطابق ان کی عمر چالیس برس کی ہوگی۔ جب ان سے بیعتِ خلافت ہوگی،(۳)ان کی خلافت کے ساتویں سال کانا دجال نکلے گا۔(۴) اس کو قتل
(۱)وجلّھم ببیت المقدس وإمامھم رجل صالح فبینما إمامھم قد تقدم یصلّی بھم الصبح إذ نزل علیھم عیسی ابن مریم الصبح فرجع ذالک الإمام ینکص بمشی القھقری لیقدم عیسٰی یصلّی فیضع عیٰسی علیہ السلام یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصل فإنھا لک أقیمت، فیصلّی بھم إمامھم فإذا انصرف قال عیسٰی علیہ السلام: إفتحوا الباب! فیفتح وورائہ الدَّجَّال ومعہ سبعون ألف یھودی کلھم ذو سیف محلّی وساج فإذا نظر إلیہ الدَّجَّال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا ویقول عیسٰی: إن لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بھا! فیدرکہ عند باب اللُّدّ الشرقی فیقتلہ فیھزم اﷲ الیھود فلا یبقٰی شیء مما خلق ﷲ یتواری بہ یھودی إلَّا انطق ﷲ ذالک الشیء لا حجر ولا شجر ولا حائط ولا دابَّۃ إلَّا الغرقد فإنھا من شجرھم لا تنطق إلَّا قال: یا عبدﷲ المسلم! ھٰذا یھودی فتعال اقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۵۰،۱۵۱، طبع مکتبہ دار العلوم کراچی)۔
(۲)عن أمیر المؤْمنین علیّ بن ابی طالب رضی ﷲ عنہ قال: المھدی مولدہ بالمدینۃ من اھل بیت النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، واسمہ اسم نبی ومھاجرہ بیت المقدس ۔۔۔إلخ۔ (عقد الدرر فی اخبار المنتظر ص:۳۰، طبع بیروت)۔ عن اُمِّ سلَمۃ رضی ﷲ عنھا عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیبایعونہ بین الرُّکن والمقام ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۱، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔
(۳)وأخرج ابو نُعیم عن ابی اُمامۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: سیکون بینکم وبین الروم أربع ھدن یوم الرابعۃ علٰی یدی رجل من اھل ھرقل، یدوم سبع سنین فقال لہ رجل: یا رسول ﷲ! من إمام المسلمین یومئذٍ؟ قال: المھدی من ولدی ابن أربعین سنۃ ۔۔۔إلخ۔ (العرف الوردی فی أخبار المھدی ج:۲ ص:۵۷، للسیوطی رحمہ ﷲ، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
(۴)عن بشر بن عبدﷲ بن یسار قال: أخذ عبدﷲ بن بسر المازنی صاحب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بأذنی فقال: یا ابن أخی! لعلک تدرک فتح قسطنطینیۃ فإیَّاک إن أدرکت فتحھا أن تترک غنیمتک منھا، فإن بین فتحھا وبین خروج الدجال سبع سنین۔ (عقد الدرر فی أخبار المنتظر ص:۱۵۶، طبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت)۔
ایضًا: فیلبث المھدی سبع سنین خلیفۃ ثم یتوفّٰی ویصلّی علیہ المسلمون۔ قال ابوداوٗد: وقال بعضھم عن ھشام تسع سنین، فمن قال: سبع سنین فکأنہ أسقط السنین اللتین بقی فیھما مشغولًا بالقتال (بذل المجھودج۵ص۱۰۳، باب فی ذکر المھدی، طبع مکتبۃ سہارنپور)
131
کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے دو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں گزریں گے اور ۴۹برس میں ان کا وصال ہوگا۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۸)
حضرت مہدیؓکا زمانہ
سوال:۔۔۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں آپ کا مضمون ’’علاماتِ قیامت‘‘ پڑھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ہر مسئلے کا حل اطمینان بخش طور پر اور حدیث وقرآن کے حوالے سے دیا کرتے ہیں۔ یہ مضمون بھی آپ کی علمیت اور تحقیق کا مظہر ہے۔ لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ پورا مضمون پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کفار اور عیسائیوں سے جو معرکے ہوں گے ان میں گھوڑوں، تلواروں، تیرکمان وغیرہ کا اِستعمال ہوگا، فوجیں قدیم زمانے کی طرح میدانِ جنگ میں آمنے سامنے ہوکر لڑیں گی۔ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مہدیؓ قسطنطنیہ سے نو گھڑسواروں کو دجال کا پتا معلوم کرنے کے لئے شام بھیجیں گے۔ گویا اس زمانے میں ہوائی جہاز دستیاب نہ ہوں گے۔ پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ایک نیزے سے ہلاک کریں گے۔ اور یأجوج مأجوج کی قوم بھی جب فساد برپا کرنے آئے گی تو اس کے پاس تیرکمان ہوں گے، یعنی وہ اسٹین گن، رائفل، پسٹل اور تباہ خیز بموں کا زمانہ نہ ہوگا۔ زمین پر اِنسان کے وجود میں آنے کے بعد سے سائنس برابر ترقی ہی کر رہی ہے اور قیامت کے آنے تک تو اس میں قیامت خیز ترقی ہوچکی ہوگی۔ دُوسری بات یہ ہے کہ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللّٰہ کے حکم سے چند خاص آدمیوں کے ہمراہ یأجوج مأجوج کی قوم سے بچنے کے لئے کوہِ طور کے قلعے میں پناہ گزین ہوں گے، یعنی دُنیا کے باقی اربوں انسانوں کو جو سب مسلمان ہوچکے ہوں گے یأجوج مأجوج کے رحم وکرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اتنے انسان تو ظاہر ہے اس قلعے میں بھی نہیں سماسکتے۔ میں نے کسی کتاب میں یہ دُعا پڑھی تھی جو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فتنۂ دجال سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو بتائی تھی، مجھے یاد نہیں رہی۔ مندرجہ بالا باتوں کی وضاحت کے علاوہ وہ دُعا بھی تحریر فرمادیں تو عنایت ہوگی۔
جواب:۔۔۔ انسانی تمدن کے ڈھانچے بدلتے رہتے ہیں۔ آج ذرائع مواصلات اور آلاتِ جنگ کی جو ترقی یافتہ شکل ہمارے سامنے ہے، آج سے ڈیڑھ دو صدی پہلے اگر کوئی شخص اس کو بیان کرتا تو لوگوں کو اس پر ’’جنون‘‘ کا شبہ ہوتا۔ اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سائنسی ترقی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہے گی، یا خودکشی کرکے انسانی تمدن کو پھر تیر وکمان کی طرف لوٹادے گی۔۔۔؟ ظاہر ہے کہ اگر یہ دُوسری صورت پیش آئے، جس کا خطرہ ہر وقت موجود ہے، اور جس سے سائنس دان خود بھی لرزہ براندام ہیں، تو ان احادیثِ طیبہ میں کوئی اِشکال باقی نہیں رہ جاتا جن میں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔
فتنۂ دجال سے حفاظت کے لئے سورۂ کہف جمعہ کے دن پڑھنے کا حکم ہے، کم از کم اس کی پہلی اور پچھلی دس دس آیتیں تو ہر
132
مسلمان کو پڑھتے رہنا چاہئے۔(۱) اور ایک دُعا حدیث شریف میں یہ تلقین کی گئی ہے:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔‘‘(۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اے اللّٰہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے ہر فتنے سے، اے اللّٰہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ سے، اور قرض وتاوان سے۔‘‘
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۸ تا ۲۷۰)
حضرت مہدیؓ کے ظہور کی کیا نشانیاں ہیں؟
سوال:۔۔۔ آپ کے صفحہ ’’اقرأ‘‘ کے مطابق اِمام مہدیؓ آئیں گے، جب اِمام مہدیؓ آئیں گے تو ان کی نشانیاں کیا ہوں گی؟ اور اس وقت کیا نشان ظاہر ہوں گے جس سے ظاہر ہو کہ حضرت اِمام مہدیؓ آگئے ہیں؟ قرآن وحدیث کا حوالہ ضرور دیجئے!
جواب:۔۔۔ اس نوعیت کے ایک سوال کا جواب میں ’’اقرأ‘‘ میں پہلے دے چکا ہوں، مگر جناب کی رعایتِ خاطر کے لئے ایک حدیث لکھتا ہوں۔
حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ’’ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلے پر) اِختلاف ہوگا، تو اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آجائے گا (یہ مہدیؓ ہوں گے اور اس اندیشے سے بھاگ کر مکہ آجائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنادیا جائے)، مگر لوگ ان کے اِنکار کے باوجود ان کو خلافت کے لئے منتخب کریں گے۔ چنانچہ حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان (بیت اللّٰہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے۔
پھر ملکِ شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا، لیکن یہ لشکر ’’بیداء‘‘ نامی جگہ میں جو کہ مکہ ومدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسادیا جائے گا۔ پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص وعام کو دُور دُور تک معلوم ہوجائے گا کہ یہ مہدیؓ ہیں) چنانچہ ملکِ شام کے ابدال اور اہلِ عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی جس کی ننھیال قبیلہ بنوکلب میں ہوگی، آپ کے مقابلے میں کھڑا ہوگا، آپ بنوکلب کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجیں گے، وہ ان پر
(۱) عن ابی الدرداء رضی ﷲ عنہ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: من قرأ عشر آیات من آخر سورۃ الکھف عُصِمَ من فتنۃ الدَّجَّال۔ (مجمع الزوائد ج:۷ ص:۱۰۳، کتاب التفسیر، سورۃ الکھف، طبع بیروت)۔
وعن النواس بن سمعان قال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فمن أدرکہ منکم فلیقرأ علیہ فواتح سورۃ الکھف۔ وفی روایۃ: فلیقرأ علیہ بفواتح سورۃ الکھف فإنھا جوارکم من فتنتہ ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۳، باب العلامات بین یدی الساعۃ)۔
(۲) مستدرک حاکم ج:۱ ص:۵۳۳، و ۵۴۱، مشکوٰۃ ص:۸۷۔
133
غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے جو بنوکلب کے مالِ غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔ پس حضرت مہدیؓ خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اِسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (یعنی اسلام کو اِستقرار نصیب ہوگا)۔ حضرت مہدیؓ سات سال رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔(۱) (یہ حدیث مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۱ میں ابوداؤد کے حوالے سے درج ہے اور اِمام سیوطیؒ نے العرف الوردی فی آثار المہدیؓ ص:۵۹ میں اس کو ابنِ ابی شیبہ، احمد، ابوداؤد، ابویعلیٰ اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے)۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷)
مرزا قادیانی کے علاوہ پوری اُمت نے مہدی اور مسیح کو الگ قرار دیا
سوال:۔۔۔ مہدی اس دُنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی وجود ہیں؟
جواب:۔۔۔ حضرت مہدی رضوان اللّٰہ علیہ آخری زمانے میں قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گے، ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ۔(۲) اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیتیں ہیں، مرزاقادیانی نے خودغرضی کے لئے عیسیٰ اور مہدی کو ایک ہی وجود فرض کرلیا، حالانکہ تمام اہلِ حق اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۳)
فرقۂ مہدویہ کے عقائد
سوال:۔۔۔ فرقۂ مہدویہ کے متعلق معلومات کرنا چاہتا ہوں، ان کے کیا گمراہ کن عقائد ہیں؟ یہ لوگ نماز، روزہ کے پابند اور شریعت کے دعوے دار ہیں؟ کیا مہدویہ، ذکریہ ایک ہی قسم کا فرقہ ہے؟ مہدی کی تاریخ کیا اور مدفن کہاں ہے؟
(۱)عن اُمِّ سلَمۃ رضی ﷲ عنھا عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون إختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من اھل المدینۃ ھاربًا إلٰی مکۃ فیأتیہ ناس من اھل مکۃ فیخرجونہ وھو کارہ فیبایعونہ بین الرُّکن والمقام ویبعث إلیہ بعث من الشام فیخسف بھم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ، فإذا رأی الناس ذالک أتاہ أبدال من الشام وعصائب أھل العراق فیبایعونہ، ثم ینشأ رجل من قریش أخوالہ کلب، فیبعث إلیھم بعثًا فیظھرون علیھم وذالک بعث کلب ویعمل فی الناس بسُنَّۃ نبیھم ویلقی الإسلام بجرانہ فی الأرض، فیلبث سبع سنین ثم یتوفّٰی ویصلّی علیہ المسلمون۔ رواہ ابوداوٗد۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۱، باب اشراط الساعۃ)۔
(۲)وعنہ (ای ابی سعید) عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لیقومن علٰی اُمّتی من اھل بیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یملک سبع سنین۔ (مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۱۴، مشکوٰۃ ص:۴۷۰)۔
ایضًا: فیلبث المھدی سبع سنین خلیفۃ ثم یتوفّٰی ویصلی علیہ المسلمون۔ قال ابوداوٗد: وقال بعضھم عن ھشام تسع سنین، وقال بعضھم: سبع سنین، فمن قال سبع سنین فکأنہ اسقط السنتین اللتین بقی فیھما مشغولًا بالقتال ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳، کتاب الملاحم)۔
ایضًا: وینزل عیسَی بن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر فیقول لہ امیرھم: یا رُوح ﷲ! تقدم صلِّ، فیقول: ھٰذہ الاُمَّۃ اُمراء بعضھم علٰی بعض، فیقدم أمیرھم فیصلی، فإذا قضیٰ صلاتہ أخذ حربتہ فیذھب نحو الدَّجَّال، فإذا رآہ الدَّجَّال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربتہ بین ثندوتیہ فیقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
134
جواب:۔۔۔ فرقۂ مہدویہ کے عقائد ونظریات پر مفصل کتاب مولانا عین القضاۃ صاحب نے ’’ہدیۂ مہدویہ‘‘ کے نام سے لکھی تھی، جو اَب نایاب ہے، میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔
فرقۂ مہدویہ سیّد محمد جون پوری کو مہدیٔ موعود سمجھتا ہے، جس طرح کہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی سمجھتے ہیں۔ سیّد محمد جون پوری کا اِنتقال افغانستان میں غالباً ۹۱۰ھ میں ہوا تھا۔
فرقۂ مہدویہ کی تردید میں شیخ علی متقی، شیخ محمد طاہر پٹنی اور اِمامِ ربانی مجدد الف ثانی ؒ نے رسائل لکھے تھے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دیگر جھوٹے مدعیوں کے ماننے والے فرقے ہیں اور ان کے عقائد ونظریات اسلام سے ہٹے ہوئے ہیں، اسی طرح یہ فرقہ بھی غیرمسلم ہے۔
جہاں تک مختلف فرقوں کے وجود میں آنے کا تعلق ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ نئے نئے نظریات پیش کرتے ہیں، اور ان کے ماننے والوں کا ایک حلقہ بن جاتا ہے، اس طرح فرقہ بندی وجود میں آجاتی ہے۔ اگر سب لوگ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنت پر قائم رہتے اور صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دِینؒ کے نقشِ قدم پر چلتے تو کوئی فرقہ وجود میں نہ آتا۔
رہا یہ کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اس کا جواب اُوپر کی سطروں سے معلوم ہوچکا ہے کہ ہمیں کتاب وسنت اور بزرگانِ دِینؒ کے راستے پر چلنا چاہئے، اور جو شخص یا گروہ اس راستے سے ہٹ جائے، ہمیں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۱۹۲)
الامام المہدیؓ ۔۔۔سنی نظریہ!
سوال:۔۔۔ محترم المقام جناب مولانا لدھیانوی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
’’جنگ‘‘ جمعہ ایڈیشن میں کسی سوال کے جواب میں آپ نے مہدی منتظر کی ’’مفروضہ پیدائش‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے ’’اِمام مہدیؓ‘‘ کے پُرشکوہ الفاظ اِستعمال کئے ہیں جو صرف صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے لئے مخصوص ہیں۔ دُوسرے، قرآنِ مقدس اور حدیثِ مطہرہ سے ’’اِمامت‘‘ کا کوئی تصوّر نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں اس سلسلے میں جو روایات ہیں، وہ معتبر نہیں، کیونکہ ہر سلسلۂ رُواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذِب اور من گھڑت احادیث کے لئے مشہور ہے۔
ابنِ خلدون نے اس بارے میں جن موافق ومخالف احادیث کو یکجا کرنے پر اِکتفا کیا ہے، ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتیں، اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔
لہٰذا میں حق وصداقت کے نام پر درخواست کروں گا کہ مہدیٔ منتظر کی شرعی حیثیت قرآنِ عظیم اور صحیح احادیثِ نبوی کی روشنی میں بذریعہ ’’جنگ‘‘ مطلع فرمائیں، تاکہ اصل حقیقت اُبھر کر سامنے آجائے۔ اس سلسلے میں مصلحت اندیشی یا کسی قسم کا اِبہام یقینا قیامت میں قابلِ مؤاخذہ ہوگا۔
135
شیعہ عقیدہ کے مطابق مہدیٔ منتظر کی ۲۵۵ھ میں جناب حسن عسکری کے یہاں نرجس خاتون کے بطن سے ولادت ہوچکی ہے، اور وہ حسن عسکری کی رحلت کے فوراً بعد ۵سال کی عمر میں حکمتِ خداوندی سے غائب ہوگئے اور اس غیبت میں اپنے نائبین، حاجزین، سفرا اور وکلاء کے ذریعے خمس وصول کرتے، لوگوں کے احوال دریافت کرکے حسبِ ضرورت ہدایات، اَحکامات دیتے رہتے ہیں، اور انہیں کے ذریعے اس دُنیا میں اِصلاح وخیر کا عمل جاری ہے۔ اس کی تائید میں لٹریچر کا طویل سلسلہ موجود ہے۔
میرے خیال میں علمائے اہلِ سنت نے اس ضمن میں اپنے اِردگرد پائی جانے والی مشہور روایات ہی کو نقل کردیا ہے، مزید تاریخی یا شرعی حیثیت وتحقیق سے کام نہیں لیا، اور اغلباً اسی اِتباع میں آپ نے بھی اس ’’مفروضہ‘‘ کو بیان کرڈالا ہے۔ کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔۔۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے لئے ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کے ’’پُرشکوہ الفاظ‘‘ پہلی بار میں نے اِستعمال نہیں کئے، بلکہ اگر آپ نے مکتوباتِ اِمام ربانی ؒکا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مکتوباتِ شریفہ میں اِمام ربانی مجدّد الف ثانی ؒ نے حضرت مہدیؓ کو انہیں الفاظ سے یاد کیا ہے۔ پس اگر یہ آپ کے نزدیک غلطی ہے تو میں یہی عرض کرسکتا ہوں کہ اکابرِ اُمت اور مجدّدینِ ملت کی پیروی میں غلطی:
’’ایں خطا از صد صواب اَولیٰ تر است‘‘
کی مصداق ہے۔ غالباً کسی ایسے ہی موقع پر اِمام شافعیؒ نے فرمایا تھا:
-
إن کان رفضًا حُبّ آل محمد
فلیشھد الثقلان إنّی رافضٌ (۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اگر آلِ محمد ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ سے محبت کا نام رافضیت ہے، تو جن واِنس گواہ رہیں کہ میں پکا رافضی ہوں۔‘‘
آپ نے حضرت مہدی کو ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کہنے پر جو اِعتراض کیا ہے، اگر آپ نے غور وتأمل سے کام لیا ہوتا تو آپ کے اِعتراض کا جواب خود آپ کی عبارت میں موجود ہے، کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کے الفاظ صرف صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین کے لئے مخصوص رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مہدی علیہ الرضوان، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق ومصاحب ہوں گے، پس جب میں نے ایک ’’مصاحبِ رسول‘‘ ہی کے لئے ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو آپ کو کیا اِعتراض ہے؟ عام طور پر حضرت مہدی کے لئے ’’علیہ السلام‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا جاتا ہے، جو لغوی معنی کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے، اور مسلمانوںمیں ’’السلام علیکم‘‘، ’’وعلیکم السلام‘‘ یا ’’وعلیکم وعلیہ السلام‘‘ کے الفاظ روزمرّہ اِستعمال ہوتے ہیں، مگر کسی کے نام کے ساتھ یہ
(۱) الصواعق المحرقۃ لابن حجر المکی ص:۱۳۳، طبع مکتبۃ مجیدیۃ ملتان۔
136
الفاظ چونکہ انبیائے کرام یا ملائکہ عظام کے لئے اِستعمال ہوتے ہیں، اس لئے میں نے حضرت مہدیؓ کے لئے کبھی یہ الفاظ اِستعمال نہیں کئے، کیونکہ حضرت مہدیؓ نبی نہیں ہوں گے۔(۱)
جناب کو حضرت مہدیؓ کے لئے ’’اِمام‘‘ کا لفظ اِستعمال کرنے پر بھی اِعتراض ہے، اور آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’قرآنِ مقدس اور حدیثِ مطہرہ سے اِمامت کا کوئی تصوّر نہیں ملتا۔‘‘ اگر اس سے مراد ایک خاص گروہ کا نظریۂ اِمامت ہے، تو آپ کی یہ بات صحیح ہے۔ مگر جناب کو یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہئے تھی کہ میں نے بھی ’’اِمام‘‘ کا لفظ اسی اِصطلاحی مفہوم میں اِستعمال کیا ہوگا، کم سے کم اِمام مہدی کے ساتھ ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کے الفاظ کا اِستعمال ہی اس اَمر کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ ’’اِمام‘‘ سے یہاں ایک خاص گروہ کا اِصطلاحی ’’اِمام‘‘ مراد نہیں۔
اور اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں کسی شخص کو اِمام بمعنی مقتدا، پیشوا، پیش رو کہنے کی بھی اِجازت نہیں دی گئی، تو آپ کا یہ اِرشاد بجائے خود ایک عجوبہ ہے۔ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اکابرِ اُمت کے اِرشادات میں یہ لفظ اس کثرت سے واقع ہوا ہے کہ عورتیں اور بچے تک بھی اس سے نامانوس نہیں۔ آپ کو ’’وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَاماً‘‘ (الفرقان:۷۴) کی آیت اور ’’من بایع إمامًا‘‘ (۲) کی حدیث تو یاد ہوگی۔ اور پھر اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے ہزاروں افراد ہیں، جن کو ہم ’’اِمام‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں، فقہ وکلام کی اِصطلاح میں ’’اِمام‘‘ مسلمانوں کے سربراہِ مملکت کو کہا جاتا ہے (جیسا کہ حدیث: ’’من بایع إمامًا‘‘ میں وارِد ہوا ہے)۔
حضرت مہدیؓ کا ہدایت یافتہ اور مقتدا پیشوا ہونا تو لفظ ’’مہدی‘‘ ہی سے واضح ہے، اور وہ مسلمانوں کے سربراہ بھی ہوں گے، اس لئے ان کے لئے ’’اِمام‘‘ کے لفظ کا اِستعمال قرآن وحدیث اور فقہ وکلام کے لحاظ سے کسی طرح بھی محلِ اِعتراض نہیں۔
ظہورِ مہدی کے سلسلے کی روایات کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد کہ:
’’اس سلسلے میں جو روایات ہیں وہ معتبر نہیں، کیونکہ ہر سلسلۂ روایت میں قیس بن عامر شامل ہے، جو متفقہ طور پر کاذِب اور من گھڑت احادیث کے لئے مشہور ہے۔‘‘
بہت ہی عجیب ہے! معلوم نہیں جناب نے یہ روایات کہاں دیکھی ہیں جن میں سے ہر روایت میں قیس بن عامر کذّاب آگھستا ہے۔۔۔!
بہت ہی عجیب ہے! معلوم نہیں جناب نے یہ روایات کہاں دیکھی ہیں جن میں سے ہر روایت میں قیس بن عامر کذّاب آگھستا ہے۔۔۔!
میرے سامنے ابوداؤد (ج:۲ ص:۵۸۸، ۵۸۹) کھلی ہوئی ہے، جس میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، حضرت علی، حضرت
(۱)واما السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ ھو فی معنی الصلاۃ، فلا یستعمل فی الغائب ولا یفرد بہ غیر الأنبیاء، فلا یقال علیٌّ علیہ السلام۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۷۹، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۲) دیکھئے: مشکوٰۃ ص:۳۲۰، کتاب الإمارۃ والقضاء، طبع قدیمی کتب خانہ۔
137
اُمِّ سلمہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہم کی روایت سے احادیث ذِکر کی گئی ہیں، ان میں سے کسی سند میں مجھے قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔(۱)
جامع ترمذی (ج:۲ ص:۴۶) میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابنِ مسعود اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللّٰہ عنہم کی احادیث ہیں، ان میں سے اوّل الذکر دونوں احادیث کو اِمام ترمذیؒ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے اور آخرالذکر کو ’’حسن‘‘، ان میں بھی کہیں قیس بن عامر نظر نہیں آیا۔(۲)
سنن ابنِ ماجہ میں یہ احادیث حضرات عبداللّٰہ بن مسعود، ابوسعید خدری، ثوبان، علی، اُمِّ سلمہ، انس بن مالک، عبداللّٰہ بن حارث رضی اللّٰہ عنہم کی روایت سے مروی ہیں۔ ان میں بھی کسی سند میں قیس بن عامر کا نام نہیں آتا۔(۳)
(۱) ۱- حدثنا احمد بن ابراھیم قال: حدثنی عبیدﷲ بن موسٰی عن فطر المعنی کلھم عن عاصم عن زر عن عبدﷲ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لو لوم یبق من الدنیا إلَّا یوم قال زائدۃ لطول ﷲ ذالک الیوم حتّٰی یبعث رجلًا مِنّی او من أھل بیتی یواطیء اسمہ واسم ابیہ اسم ابی زاد فی حدیث فطر یملاُ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا۔
۲- حدثنا عثمان بن أبی شیبۃ ثنا الفضل بن دکین نا فطر عن القاسم بن أبی بزۃ عن ابی الطفیل عن علی عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لو لوم یبق من الدھر إلَّا یوم لبعث ﷲ رجلًا من أھل بیتی یملاُھا عدلًا کما ملئت جورًا۔
۳- حدثنا احمد بن ابراھیم حدثنی عبدﷲ بن جعفر الرقی ثنا ابو الملیح الحسن بن عمر عن زیاد بن بیان عن علی بن نفیل عن سعید بن المسیب عن ام سلمۃ قالت: سمعت رسول اﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ۔
۴- حدثنا سہل بن تمام بن بزیع نا عمران القطان عن قتادۃ عن ابی نضرۃ عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: المھدی مِنّی اجلی الجبھۃ اقنی الأنف یملأ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا ویملک سبع سنین۔
(۲)۱- حدثنا عبید بن اسباط بن محمد القرشی نا ابی نا سفیان الثوری عن عاصم بن بھدلۃ عن زرٍّ عن عبدﷲ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: لا تذھب الدنیا حتّٰی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی۔ وفی الباب عن علی وابی سعید وام سلمۃ وابی ھریرۃ، ھٰذا حدیث حسن صحیح۔
۲- حدثنا عبدالجبار ابن العلاء العطار نا سفیان ابن عیینۃ عن عاصم عن زرٍّ عن عبدﷲ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یلی رجل من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی۔ قال عاصم: ونا ابو صالح عن ابی ھریرۃ قال: لو لم یبق من الدنیا إلَّا یومًا لطوّل ﷲ ذالک الیوم حتّٰی یلی، ھٰذا الحدیث حسن صحیح۔
۳- حدثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر نا شعبۃ قال: سمعت زیدا العمّی قال: سمعت ابا الصّدیق الناجی یحدّث عن ابی سعید الخدری قال: خشینا ان یکون بعد نبینا حدث فسألنا نبی ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: ان فی امتی المھدی، یخرج یعیش خمسًا او سبعًا او تسعًا، زید الشاکّ قال: قلنا: وما ذاک؟ قال: سنین ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال: فیجیء إلیہ الرجل فیقول: یا مھدی! اعطنی اعطنی، قال: فیحثی لہ فی ثوبہ ما استطاع ان یحملہ، ھٰذا حدیث حسن۔
(۳)۱- حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ ثنا معاویۃ ابن ھشام ثنا علی بن صالح عن یزید بن ابی زیاد عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبدﷲ قال: بینما نحن عند رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم إذ اقبل فتیۃ من بنی ھاشم فلما رآھم النبی صلی ﷲ علیہ وسلّم اغر ورقت عیناہ وتغیر لونہ، قال: فقلت: ما نزال نریٰ فی وجھک شیئًا نکرھہ، فقال: إنّا اھل بیتٍ، اختار ﷲ لنا الآخرۃ علی الدُّنیا، وإنّ اھل بیتی سیلقون بعدی بلائً وتشریدًا وتطریدًا، حتّٰی یأتی قوم من قِبل المشرق معھم رایاتٌ سودٌ، فیسئلون الخیر فلا یعطونہ، فیقاتلون فینصرون، فیعطون ما سألوا، فلا یقبولنہ حتّٰی یدفعوھا إلٰی رجل من اھل بیتی فیملأھا قسطًا کما ملئوھا جورًا، فمن ادرک ذالک منکم فلیأتھم ولو حبوًا علی الثّلج!
۲- حدثنا نصر بن علی الجھضمی ثنا محمد ابن مروان العقیلی ثنا عُمارۃ بن ابی حفصۃ عن زید العمی عن ابی صدّیق الناجی عن ابی سعید الخدری انّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون فی امتی المھدی إن قصر فسبع وإلّا فتسع، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
138
مجمع الزوائد(۱) (ج:۷ ص:۴۳۱ تا ۴۳۸، طبع دار الکتب العلمیہ، بیروت) میں مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے اِکیس روایات نقل کی ہیں:
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتنعم فیہ امتی نعمۃ لم ینعموا مثلھا قط تؤْتی اکلھا ولا تدخر منھم شیئًا والمال یومئذ کدوس فیقوم الرجل فیقول یا مھدی اعطنی فیقول خذ۔
۳- حدثنا محمد بن یحیٰی واحمد بن یوسف قالا ثنا عبدالرزاق عن سفیان الثوری عن خالد الحذاء عن ابی قلابۃ عن ابی اسماء الرحبی عن ثوبان قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یقتتل عند کنزکم ثلاثۃ کلھم ابن خلیفۃ، ثم لا یصیر إلٰی واحد منھم، ثم تطلع الرایات السّود من قِبل المشرق فیقتلونکم قتلا لم یقتلہ قوم، ثم ذکر شیئًا لا احفظہ، فقال: فإذا رأیتموہ فبایعوہ ولو حبوا علی الثّلج، فإنہ خلیفۃ ﷲ المھدی۔
۴- حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ ثنا ابوداوٗد المحضری ثنا یاسین عن ابراھیم بن محمد بن الحنفیۃ عن ابیہ عن علی قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: المھدی منّا اھل البیت، یصلحہ ﷲ فی لیلۃ۔
۵- حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثنا احمد بن عبدالملک ثنا ابوالملیح الرقی عن زیاد بن بیان عن علی بن نفیل عن سعید ابن المسیب قال: کنّا عند امّ سلَمۃ فتذاکرنا المھدی، فقالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: المھدی من ولد فاطمۃ۔
۶- حدثنا ھذیۃ بن عبدالوھاب ثنا سعد بن عبدالحمید بن جعفر عن علی بن زیاد الیمامی عن عکرمۃ بن عمار عن اسحاق بن عبدﷲ بن ابی طلحۃ عن انس بن مالک قال: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: نحن ولد عبدالمطلب سادۃ اھل الجنۃ، انا وحمزۃ وعلی وجعفر والحسن والحسین والمھدی۔
۷- حدثنا حرملۃ بن یحیی المصری وابراھیم بن سعید الجوھری قالا ثنا ابوصالح عبدالغفار بن داوٗد الحرانی ثنا ابن لھیعۃ عن ابی زرعۃ عمرو بن جابو الحضرمی عن عبدﷲ بن الحارث بن جزء الزبیدی قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یخرج ناس من المشرق فیوطئون للھمدی یعنی سلطانہ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)باب ما جاء فی المھدی: ۱۲۳۹۳- عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: اُبشّرکم بالمھدی یُبعث فی اُمّتی علی اختلاف من الناس، وزلازل، فیملأ الأرض قسطًا وعلدًا، کما ملئت جورًا وظلمًا، یرضی عنہ ساکن السماء وساکن الأرض، یقسم المال صِحَاحًا۔ فقال لہ رجل: ما صِحَاحًا؟ قال: بالسّویّۃ بین الناس۔ قال: ویملأ ﷲ قلوب اُمّۃ محمد ۔۔۔صلی ﷲ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غنًی، ویسعھم عدلہ، حتّٰی یأمر منادیا فینادی، فیقول: من لہ فی مال حاجۃ؟ فما یقوم من الناس إلّا رجل واحد، فیقول: ائت السّدّان، یعنی الخازن، فقل لہ: إنّ المھدی یأمرک أن تعطینی مالًا، فیقول لہ: احث حتّٰی إذا جعلہ فی حجرہ وأبرزہ ندم، فیقول: کنت أجشع اُمّۃ محمد نفسًا، أو عجز عنّی ما وسعھم، قال: فیردہ فلا یقبل منہ، فیقال لہ: إنّا لا نأخذ شیئًا أعطیناہ، فیکون کذالک سبع سنین، أو ثمان سنین، أو تسع سنین، ثم لا خیر فی العیش بعدہ۔ او قال: ثم لا خیر فی الحیاۃ بعدہ۔ (أخرجہ الإمام أحمد فی المسند ج:۳ ص:۳۷، ۵۲) قلت: رواہ الترمذی، وغیرہ باختصار کثیر، رواہ أحمد بأسانید، وأبو یعلٰی باختصار کثیر، ورجالھما ثقات۔
۱۲۳۹۴- وعنہ، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یخرج عند انقطاع من الزمان، وظھور من الفتن، رجلٌ یقال لہ السّفّاح، فیکون إعطاؤُہ المال حثیًا۔ (أخرجہ الإمام أحمد فی المسند، ج:۳ ص:۸۰)۔ رواہ أحمد، وفیہ عطیۃ العوفی، وھو ضعیف، ووثقہ ابن معین، وبقیۃ رجالہ ثقات۔
۱۲۳۹۵- وعنہ، عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لیقومنّ علٰی أمّتی من أھل بیتی اقنی أجلی یوسع الأرض عدلًا کما وسعت ظلمًا وجورًا، یملک سبع سنین۔ رواہ أبویعلٰی، وفیہ عدی بن أبی عمارۃ، قال العقیلی: فی حدیثہ اضطراب، وبقیۃ رجالہ رجال الصحیح۔
۱۲۳۹۶- وعن قرۃ ابن إیاس، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: لتملأنّ الأرض ظلمًا وجورًا، فإذا ملئت جورًا وظلمًا بعث ﷲ رجلًا مِنّی اسمہ اسمی، واسم أبیہ اسم أبی، یملؤُھا عدلًا وقسطًا کما ملئت جورًا وظلمًا، فلا تمنع السماء شیئًا من قطرھا، ولا الأرض شیئًا من نباتھا، یلبث فیکم سبعًا أو ثمانیًا أو تسعًا، یعنی سنین۔ (أخرجہ الطبرانی فی الکبیر، ج:۱۹ ص:۳۲، وأوردہ المصنف فی کشف الأستار برقم:۳۳۲۵)۔ رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر والأوسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
139
۱:۔۔۔ حضرت ابوسعید خدریؓ ۴
۲:۔۔۔ حضرت اُمِّ سلمہؓ ۴
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔ من طریق داود بن المحبر بن قحذم عن أبیہ، وکلاھما ضعیف۔
۱۲۳۹۷- وعن أمّ سلَمۃ، قالت: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یبایع لرجل بین مکۃ والمقام عدۃ أھل بدر فیأتیہ عصایب أھل العراق، وأبدال أھل الشام، فیغزوھم جیش من أھل الشام، حتّٰی إذا کانوا بالبیداء خسف بھم، فیغزوھم رجل من قریش أخوالہ من کلب، فلیتقون فیھزمھم ﷲ فالخائب من خاب من غنیمۃ کلب۔ قلت: فی الصحیح طرف منہ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط باختصار، وفیہ عمران القطان، وثقہ ابن حبان وضعفہ جماعۃ، وبقیۃ رجالہ رجال الصحیح۔
۱۲۳۹۸- وعنھا، قالت: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یسیر مَلِکُ المشرق إلٰی ملک المغرب فیقتلہ، فیبعث جیشًا إلی المدینۃ، فیخسف بھم ثم یبعث جیشًا فینسی ناسًا من أھل المدینۃ، فیعود عائد من الحرم، فیجتمع الناس إلیہ کالطیر الواردۃ المتفرقۃ حتّٰی یجتمع إلیہ ثلاث مائۃ وأربعۃ عشر رجلًا فیھم نسوۃ فیظھر علٰی کل جبار وابن جبار ویظھر من العدل ما یتمنی لہ الأحیاء أمواتھم، فیحیا سبع سنین ثم ما تحت الأرض خیر مما فوقھا۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ لیث بن أبی سلیم، وھو مدلس، وبقیۃ رجالہ ثقات۔
۱۲۳۹۹- وعنھا، قالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ، فیخرج من بنی ھاشم، فیأتی مکۃ فیستخرجہ الناس من بیتہ بین الرکن والمقام، فیجھز إلیہ جزء من الشام أخوالہ من کلب، فیجھز إلیہ جیش فیھزمھم ﷲ فتکون الدائرۃ علیھم، فذالک یوم کلب، الخائب من خاب من غنیمۃ کلب، فیستفتح الکنوز ویقسم الأموال ویلقی الإسلام بجرانہ إلی الأرض، فیعیشون بذالک سبع سنین، أو قال: تسع۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، ورجالہ رجال الصحیح۔
۱۲۴۰۰- وعن أبی ھریرۃ، قال: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: المحروم من حرم غنیمۃ کلب۔ (أخرجہ الإمام أحمد فی المسند، ج:۲ ص:۳۵۶)، رواہ أحمد، وفیہ ابن لھیعۃ، وھو لین۔
۱۲۴۰۱- وعنہ، قال: حدثنی خلیلی أبو القاسم صلی ﷲ علیہ وسلم: قال: لا تقوم الساعۃ حتّٰی یخرج إلیھم رجل من أھل بیتی، فیضربھم حتّٰی یرجعوا إلی الحق۔ قال: قلت: وکم یملک؟ قال: خمس واثنتین، قال: قلت: ما خمس واثنتین؟ قال: لا أدری۔ رواہ أبویعلٰی، وفیہ المرجی بن رجاء وثقہ أبوزرعۃ وضعفہ ابن معین، وبقیۃ رجالہ ثقات۔
۱۲۴۰۲- وعن أمّ حبیبۃ، قالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: یأتی ناس من قِبل المشرق یریدون رجلًا عند البیت، حتّٰی إذا کانوا ببیداء من الأرض خسف بھم، فلیحق بھم من تخلف فیصیبھم ما أصابھم۔ قلت: یا رسول ﷲ! کیف بمن کان أخرج مستکرھًا؟ قال: یصیبھم ما أصاب الناس، ثم یبعث ﷲ کل امریء علٰی نیّتہ۔ (أخرجہ الإمام أحمد فی المسند، ج:۶ ص:۲۵۹)۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ سلَمۃ بن الفضل الأبرش وثقہ ابن معین وغیرہ وضعفہ جماعۃ۔
۱۲۴۰۳- وعن أمّ سلَمۃ، قالت: بینا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مضطجعًا فی بیتی إذ أحتفز جالسًا، وھو یسترجع، قلت: بأبی أنت وأمّی! ما شأنک تسترجع؟ قال: لجیش من اُمّتی یجیئون من قبل الشام یؤمون البیت لرجل یمنعھم، حتّٰی إذا کانوا بالبیداء من ذی الحلیفۃ خسف بھم ومصادرھم شتّٰی۔ قلت: بأبی أنت وامّی یا رسول ﷲ! کیف یخسف بھم ومصادرھم شتّٰی؟ قال: إنّ منھم من جبر، إنّ منھم من جبر، إنّ منھم من جبر۔ رواہ أبویعلٰی، وفیہ علی بن زید وھو حسن الحدیث، وفیہ ضعف۔ وروی بإسنادہ عن عائشۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال بمثلہ، ورجالہ ثقات۔
۱۲۴۰۴- وعن أنس، أنّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کان نائمًا فی بیت أمّ سلَمۃ فانتبہ، وھو یسترجع، فقلت: یا رسول ﷲ! مم تسترجع؟ قال: من قبل جیش یجیء من قبل العراق فی طلب رجل من المدینۃ یمنعہ اﷲ منھم، فإذا علوا البیداء من ذی الحلیفۃ خسف بھم، فلا یدرک أعلاھم أسفلھم ولا یدرک أسفلھم أعلاھم إلٰی یوم القیامۃ ومصادرھم شتّٰی۔ قیل: یا رسول ﷲ! یخسف بھم جمیعًا ومصادرھم شتّٰی؟ قال: إنّ فیھم، أو منھم من جبر۔ (أوردہ المصنف فی کشف الأستار برقم:۳۳۲۸)۔ رواہ البزار، وفیہ ھشام بن الحکم ولم أعرفہ، إلّا أنّ ابن أبی حاتم ذکرہ، ولم یجرحہ، ولم یوثقہ، وبقیۃ رجالہ ثقات۔
۱۲۴۰۵- وعن عبدﷲ، یعنی ابن مسعود، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: تجیء رایات سود من قِبل المشرق، وتخوض الخیل فی الدماء إلٰی ثندوتھا۔ فذکر الحدیث۔ وفیہ یزید بن أبی زیاد وھو لین، وبقیۃ رجالہ ثقات۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(باقی اگلے صفحے پر)
140
۳:۔۔۔ حضرت ابوہریرہؓ ۳
۴:۔۔۔ حضرت اُمِّ حبیبہؓ ۱
۵:۔۔۔ حضرت عائشہؓ ۱
۶:۔۔۔ حضرت قرۃ بن ایاسؓ ۱
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔
۱۲۴۰۶- وعن أبی ھریرۃ قال: ذکر إلٰی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم المھدی، فقال: إن قصر فسبع وإلا فثمان، وإلا فتسع، ولیملأن الأرض عدلًا وقسطًا کما ملئت جورًا وظلمًا۔ (أوردہ المصنف فی کشف الأستار برقم:۳۳۲۶)۔ رواہ البزار، ورجالہ ثقات، وفی بعضھم بعض ضعف۔
۱۲۴۰۷- وعن جابر، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یکون فی امّتی خلیفۃ یحثو المال فی الناس حثیًا لا یعدہ عدًّا۔ ثم قال: والذی نفسی بیدہ! لیعودان۔ (أوردہ المصنف فی کشف الأستار برقم:۳۳۲۷)۔ رواہ البزار، ورجالہ رجال الصحیح۔
۱۲۴۰۸- وعن طلحۃ بن عبیدﷲ، عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: ستکون فتنۃ لا یھدأ منھا جانب إلَّا جاش منھا جانب، حتّٰی ینادی مناد من السماء: أمیرکم فلان۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ مثنی بن الصباح، وھو متروک، ووثقہ ابن معین وضعفہ أیضًا۔
۱۲۴۰۹- وعن علی ابن أبی طالب، أنہ قال: أمِنّا المھدی أم من غیرنا یا رسول ﷲ؟ قال: بل مِنّا بنا یختم ﷲ کما بنا فتح، وبنا یستنقذون من الشرک، وبنا یؤَلف ﷲ بین قلوبھم بعد عداوۃ بینۃ کما بنا ألَّف بین قلوبھم بعد عداوۃ الشرک۔ قال علی: أمؤْمنون أم کافرون؟ قال: مفتون وکافر۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ عمرو بن جابر الحضرمی وھو کذاب۔
۱۲۴۱۰- وعن علی ابن ابی طالب أنّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون فی آخر الزمان فتنۃ تحصل الناس کما یحصل الذھب فی المعدن، فلا تسبوا أھل الشام ولٰکن سبوا شرارھم فإن فیھم الأبدال، یوشک أن یرسل علٰی أھل الشام سیب، فیفرق جماعتھم حتّٰی لو قاتلتھم الثعالب غلبتھم، فعند ذالک یخرج خارج من أھل بیتی فی ثلاث رایات المکثر یقول خمسۃ عشر ألفًا، والمقل یقول اثنا عشر ألفًا، أمارتھم أمت أمت، یلقون سبع رایات تحت کل رایۃ منھا رجل یطلب الملک فیقتلھم ﷲ جمیعًا، ویرد إلی المسلمین ألفتھم ونعمتھم وقاصیھم ودانیھم۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ ابن لھیعۃ وھو لین، وبقیۃ رجالہ ثقات۔
۱۲۴۱۱- وعن أبی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون فی اُمّتی المھدی إن قصر، فسبع وإلا فثمان، وإلا فتسع، تنعم اُمّتی فیھا نعمۃ لم ینعموا مثلھا، یرسل السما علیھم مدرارًا ولا تدخر الأرض شیئًا من النبات، والمال کدوس یقوم الرجل یقول: یا مھدی أعطنی فیقول: خذ۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، ورجالہ ثقات۔
۱۲۴۱۲- وعن أبی سعید الخدری، قال: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: یخرج رجل من اُمّتی یقول بسنتی، ینزل ﷲ عز وجل لہ القطر من السماء وینبت ﷲ لہ الأرض من برکتھا تملأ الأرض منہ قسطًا وعدلًا کما ملئت جورًا وظلمًا، یعمل علٰی ھٰذہ الاُمّۃ سبع سنین وینزل بیت المقدس۔ قلت: رواہ الترمذی وابن ماجہ باختصار۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ من لم أعرفھم۔
۱۲۴۱۳- وعن ابن عمر، قال: کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم جالسًا فی نفر من المھاجرین والأنصار، وعلی بن أبی طالب عن یسارہ، والعباس عن یمینہ، إذ تلاقی العباس، ورجل من الأنصار فأغلظ الأنصاری للعباس، فأخذ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بید العباس وید علی فقال: سیخرج من صلب ھٰذا فتًی یملأ الأرض جورًا وظلمًا، وسیخرج من ھٰذا فتی یملأ الأرض قسطًا وعدلًا، فإذا رأیتم ذالک فعلیکم بالفتی التمیمی، فإنہ یقبل من قبل المشرق، وھو صاحب رایۃ المھدی۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ ابن لھیعۃ، وفیہ لین ولٰکن الحدیث منکر، فإن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم لم یکن یستقبل أحدًا فی وجھہ بشیء یکرھہ وخاصہ عمہ العباس الذی قال فیہ: إنہ صنو أبیہ، وﷲ اعلم۔
۱۲۴۱۴- وعن عبدﷲ بن الحارث بن جزء الزبیدی، قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یخرج قوم من قبل المشرق فیوطئون للمھدی سلطانہ۔ رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ عمرو بن جابر، وھو کذاب۔ قلت: وحدیث علی الھلالی فی المھدی یأتی فی فضائل أھل البیت، إن شاء ﷲ۔
141
۷:۔۔۔ حضرت انسؓ ۱
۸:۔۔۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ ۱
۹:۔۔۔ حضرت جابرؓ ۱
۱۰:۔۔۔ حضرت طلحہؓ ۱
۱۱:۔۔۔ حضرت علیؓ ۱
۱۲:۔۔۔ حضرت ابنِ عمرؓ ۱
۱۳:۔۔۔ حضرت عبداللّٰہ بن حارثؓ ۱
ان میں سے بعض روایات کے راویوں کی تضعیف کی ہے اور دو روایتوں میں دو کذّاب راویوں کی بھی نشاندہی کی ہے، مگر کسی روایت میں قیس بن عامر کا نام ذِکر نہیں کیا۔ اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ: ’’ہر روایت کے سلسلۂ رُواۃ میں قیس بن عامر شامل ہے‘‘ محض غلط ہے۔
آپ نے مؤرِّخ ابنِ خلدون کے بارے میں لکھا ہے کہ: ’’انہوں نے اس سلسلے میں موافق اور مخالف احادیث کو یکجا جمع کرنے پر اِکتفا کیا ہے، ان میں کوئی بھی سلسلۂ تواتر کو نہیں پہنچتی اور ان کا انداز بھی بڑا مشتبہ ہے۔‘‘
اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفۂ عادل کے ظہور کی احادیث صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابنِ ماجہ اور دیگر کتبِ احادیث میں مختلف طریق سے موجود ہیں۔ یہ احادیث اگرچہ فرداً فرداً آحاد ہیں، مگر ان کا قدرِ مشترک متواتر ہے۔ آخری زمانے کے اسی خلیفۂ عادل کو اَحادیثِ طیبہ میں ’’مہدی‘‘ کہا گیا ہے۔ جن کے زمانے میں دجالِ اَعوَر کا خروج ہوگا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اُسے قتل کریں گے۔ بہت سے اکابرِ اُمت نے احادیثِ مہدی کو نہ صرف صحیح، بلکہ متواتر فرمایا ہے، انہی متواتر اَحادیث کی بنا پر اُمتِ اسلامیہ ہر دور میں، آخری زمانے میں ظہورِ مہدیؓ کی قائل رہی ہے۔ خود اِبنِ خلدون کا اِعتراف ہے:
’’اعلم ان المشھور بین الکافۃ من اھل الإسلام علٰی ممر الأعصار انہ لا بُدّ فی آخر الزمان من ظھور رجل من اھل البیت یؤَید الدین ویظھر العدل ویتبعہ المسلمون ویستولی علی الممالک الإسلامیۃ ویسمی بالمھدی ویکون خروج الدَّجَّال وما بعدہ من اشراط الساعۃ الثابتۃ فی الصحیح علٰی اثرہ وان عیسٰی ینزل من بعدہ فیقتل الدَّجَّال او ینزل معہ فیساعدہ علٰی قتلہ ویأتم بالمھدی فی صلاتہ۔‘‘
(مقدمۃ ابن خلدون ص:۳۱۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جاننا چاہئے کہ تمام اہلِ اسلام کے درمیان ہر دور میں یہ بات مشہور رہی ہے کہ آخری زمانے میں اہلِ بیت میں سے ایک شخص کا ظہور ضروری ہے جو دِین کی تائید کرے گا، عدل ظاہر کرے گا، اور
142
مسلمان اس کی پیروی کریں گے، اور تمام ممالکِ اسلامیہ پر اس کا تسلط ہوگا۔ اس کا نام مہدی ہے۔ اور دجال کا خروج اور اس کے بعد کی وہ علاماتِ قیامت جن کا احادیثِ صحیحہ میں ذِکر ہے، ظہورِ مہدیؓ کے بعد ہوں گی، اور عیسیٰ علیہ السلام مہدیؓ کے بعد نازل ہوں گے، پس دجال کو قتل کریں گے۔ یا مہدی کے زمانے میں نازل ہوں گے، پس حضرت مہدیؓ قتلِ دجال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفیق ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز میں حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے۔‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں بھی ’’علاماتِ قیامت‘‘ کے ذیل میں ظہورِ مہدیؓ کا عقیدہ ذِکر کیا گیا ہے، اور اہلِ علم نے اس موضوع پر مستقل رسائل بھی تالیف فرمائے ہیں۔ پس ایک ایسی خبر جو اَحادیثِ متواترہ میں ذِکر کی گئی ہو، جسے ہر دور اور ہر زمانے میں تمام مسلمان ہمیشہ مانتے چلے آئے ہوں اور جسے اہلِ سنت کے عقائد میں جگہ دی گئی ہو، اس پر جرح کرنا یا اس کی تخفیف کرنا، پوری اُمتِ اسلامیہ کو گمراہ اور جاہل قرار دینے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے خط کے آخر میں مہدیؓ کے بارے میں ایک مخصوص فرقے کا نظریہ ذِکر کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’میرے خیال میں علمائے اہلِ سنت نے اس ضمن میں اپنے اِردگرد پائی جانے والی مشہوررِوایات ہی کو نقل کردیا ہے، مزید تاریخی یا شرعی حیثیت وتحقیق سے کام نہیں لیا، اور اغلباً اسی اِتباع میں آپ نے بھی اس ’’مفروضہ‘‘ کو بیان کرڈالا، کیا یہ دُرست ہے؟‘‘
گویا حفاظِ حدیث سے لے کر مجدّد الف ثانی ؒاور شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ تک وہ تمام اکابرِ اُمت اور مجدّدینِ ملت جنہوں نے دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ کردِکھایا، آپ کے خیال میں سب دُودھ پیتے بچے تھے کہ وہ تاریخی وشرعی تحقیق کے بغیر گردوپیش میں پھیلے ہوئے افسانوں کو اپنی اسانید سے نقل کردیتے اور انہیں اپنے عقائد میں ٹانک لیتے تھے۔ غور فرمائیے کہ اِرشادِ نبوی:’’ولعن آخر ھٰذہ الاُمَّۃ اَوّلھا‘‘ کی کیسی شہادت آپ کے قلم نے پیش کردی۔ میں نہیں سمجھتا کہ اِحساسِ کمتری کا یہ عارضہ ہمیں کیوں لاحق ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے گھر کی ہر چیز کو ’’آوردۂ اَغیار‘‘ تصوّر کرنے لگتے ہیں۔ آپ علمائے اہلِ سنت پر یہ اِلزام لگانے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ انہوں نے ملاحدہ کی پھیلائی ہوئی روایات کو تاریخی وشرعی معیار پر پَرکھے بغیر اپنے عقائد میں شامل کرلیا ہوگا (جس سے اہلِ سنت کے تمام عقائد وروایات کی حیثیت مشکوک ہوجاتی ہے، اور اسی کو میں ’’اِحساسِ کمتری‘‘ سے تعبیر کر رہا ہوں)۔ حالانکہ اسی مسئلے کا جائزہ آپ دُوسرے نقطئہ نظر سے بھی لے سکتے تھے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفۂ عادل حضرت مہدیؓ کے ظہور کے بارے میں احادیث وروایات اہلِ حق کے درمیان متواتر چلی آتی تھیں، گمراہ فرقوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسی عقیدے کو لے کر اپنے انداز میں ڈھالا اور اس میں موضوع اور من گھڑت روایات کی بھی آمیزش کرلی، جس سے ان کا مطمحِ نظر ایک تو اپنے سیاسی مقاصد کو بروئے کار لانا تھا، اور دُوسرا مقصد مسلمانوں کو اس عقیدے ہی سے بدظن کرنا تھا تاکہ مختلف قسم کی روایات کو دیکھ کر لوگ اُلجھن میں مبتلا ہوجائیں اور ظہورِ مہدیؓ کے عقیدے ہی سے دستبردار ہوجائیں۔ ہر دور میں جھوٹے مدعیانِ
143
مہدویت کے پیشِ نظر بھی یہی دو مقصد رہے، چنانچہ گزشتہ صدی کے آغاز میں پنجاب کے جھوٹے مہدی نے جو دعویٰ کیا، اس میں بھی یہی دونوں مقصد کارفرما نظر آتے ہیں۔
الغرض سلامتیٔ فکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اس امر کا یقین رکھیں کہ اہلِ حق نے اصل حق کو جوں کا توں محفوظ رکھا، اور اہلِ باطل نے اسے غلط تعبیرات کے ذریعے کچھ کا کچھ بنادیا، حتیٰ کہ جب کچھ نہ بن آئی تو اِمام مہدی کو ایک غار میں چھپاکر پہلے غیبتِ صغریٰ اور پھر غیبتِ کبریٰ کا پردہ اس پر تان دیا۔ لیکن آخر یہ کیا اندازِ فکر ہے کہ تمام اہلِ حق کے بارے میں یہ تصوّر کرلیا جائے کہ وہ اغیار کے مالِ مستعار پر جیا کرتے تھے۔
جہاں تک ابنِ خلدون کی رائے کا تعلق ہے، وہ ایک مؤرِّخ ہیں ۔۔۔اگرچہ تاریخ میں بھی ان سے مسامحات ہوئے ہیں۔۔۔ فقہ وعقائد اور حدیث میں ابنِ خلدون کو کسی نے سند اور حجت نہیں مانا اور یہ مسئلہ تاریخ کا نہیں، بلکہ حدیث وعقائد کا ہے، اس بارے میں محدثین ومتکلمین اور اکابرِ اُمت کی رائے قابلِ اعتنا ہوسکتی ہے۔
’’اِمداد الفتاویٰ‘‘ جلد ششم میں ص:۲۵۹ سے ص:۲۶۷ تک’’مؤْخرۃ الظنون عن ابن خلدون‘‘ کے عنوان سے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ابنِ خلدون کے شبہات کا شافی جواب تحریر فرمایا ہے، اسے ملاحظہ فرمالیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ ’’مسئلہ مہدی‘‘ کے بارے میں اہلِ حق کا نظریہ بالکل صحیح اور متواتر ہے اور اہلِ باطل نے اس سلسلے میں تعبیرات وحکایات کا جو اَنبار لگایا ہے، نہ وہ لائقِ اِلتفات ہے اور نہ اہلِ حق کو اس سے مرعوب ہونے کی ضرورت ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۱ تا ۲۷۶)
کیا اِمام مہدیؓ کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہوگا؟
سوال:۔۔۔ کیا اِمام مہدیؓ کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہوگا؟
جواب:۔۔۔ اِمام مہدی علیہ الرضوان نبی نہیں ہوں گے، اس لئے ان کا درجہ پیغمبروں کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا۔(۱) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو حضرت مہدیؓ کے زمانے میں نازل ہوں گے، وہ بلاشبہ پہلے ہی سے اُولوالعزم نبی ہیں۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۶)
کیا حضرت مہدیؓ وعیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟
سوال:۔۔۔ مہدیؓ اس دُنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدیؓ اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی وجود ہیں؟
(۱)ان المھدی المبشر بہ لا یدعی نبوۃ بل ھو من أتباع النبی صلی اﷲ علیہ وسلم، وھو إلَّا خلیفۃ راشد مھدی۔ (المھدی: لمحمد أحمد إسماعیل ص:۱۱، طبع ریاض)۔
(۲)قال تعالٰی: ’’وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّیْنَ مِیْثَاقَہُمْ وَمِنکَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَأَخَذْنَا مِنْہُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً‘‘ (الأحزاب:۷)۔
144
جواب:۔۔۔ حضرت مہدی رضوان اللّٰہ علیہ آخری زمانے میں قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ ان کے ظہور کے قریباً سات سال بعد دجال نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے،(۱) یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۶)
ظہورِ مہدیؓ اور چودہویں صدی
سوال:۔۔۔ اِمام مہدیؓ ابھی تک تشریف نہیں لائے اور پندرہویں صدی کے اِستقبال کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔
جواب:۔۔۔ مگر اِمام مہدیؓ کا چودہویں صدی میں ہی آنا کیوں ضروری ہے؟
سوال:۔۔۔ علاوہ اس کے آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدّد ہوتا ہے؟
جواب:۔۔۔ ایک ہی فرد کا مجدّد ہونا نہیں، متعدّد اَفراد بھی مجدّد ہوسکتے ہیں، اور دِین کے خاص خاص شعبوں کے الگ الگ مجدّد بھی ہوسکتے ہیں،(۲) ہر خطے کے لئے الگ الگ مجدّد بھی ہوسکتے ہیں۔ حدیث میں ’’من‘‘ کا لفظ عام ہے، اس سے صرف ایک ہی فرد مراد لینا صحیح نہیں، اور ان مجدّدین کے لئے مجدّد ہونے کا دعویٰ کرنا اور لوگوں کو اس کی دعوت دینا بھی ضروری نہیں، اور نہ لوگوں کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ یہ مجدّد ہیں۔ البتہ ان کی دِینی خدمات کو دیکھ کر اہلِ بصیرت کو ظنِ غالب ہوجاتا ہے کہ یہ مجدّد ہیں۔
سوال:۔۔۔ حضرت مہدیؓ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام چودہویں صدی کے باقی ماندہ قلیل عرصے میں کیسے آجائیں گے؟
جواب:۔۔۔ مگر ان کا اس قلیل عرصے میں آنا ہی کیوں ضروری ہے؟ کیا چودہویں صدی کے بعد دُنیا ختم ہوجائے گی۔۔۔؟ جناب کی ساری پریشانی اس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ ’’حضرت مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں کا چودہویں صدی میں تشریف لانا ضروری تھا، مگر وہ اَب تک نہیں آئے۔‘‘
حالانکہ یہ بنیاد ہی غلط ہے، قرآن وحدیث میں کہیں نہیں فرمایا گیا کہ یہ دونوں حضرات چودہویں صدی میں تشریف لائیں گے، اگر کسی نے کوئی ایسی قیاس آرائی کی ہے تو یہ محض اٹکل ہے جس کی واقعات کی دُنیا میں کوئی قیمت نہیں اور اگر اس کے لئے کسی نے قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی کا حوالہ دیا ہے تو قطعاً غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ اس سے دریافت فرمائیے کہ چودہویں صدی کا لفظ قرآنِ
(۱)وعنہ (ای ابی سعید) عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لیقومن علٰی اُمّتی من اھل بیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یملک سبع سنین۔ (مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۱۴، مشکوٰۃ ص:۴۷۰)۔
ایضًا: فیلبث المھدی سبع سنین خلیفۃ ثم یتوفّٰی ویصلی علیہ المسلمون۔ قال ابوداوٗد: وقال بعضھم عن ھشام تسع سنین، وقال بعضھم: سبع سنین، فمن قال سبع سنین فکأنہ اسقط السنتین اللتین بقی فیھما مشغولًا بالقتال ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۳، کتاب الملاحم)۔
ایضًا: وینزل عیسَی بن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر فیقول لہ امیرھم: یا رُوح ﷲ! تقدم صلِّ، فیقول: ھٰذہ الاُمَّۃ اُمراء بعضھم علٰی بعض، فیقدم أمیرھم فیصلی، فإذا قضیٰ صلاتہ أخذ حربتہ فیذھب نحو الدَّجَّال، فإذا رآہ الدَّجَّال ذاب کما یذوب الرصاص فیضع حربتہ بین ثندوتیہ فیقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
(۲)ان المراد من یجدد لیس شخصًا واحدًا بل المراد بہ جماعۃ یجدد کل واحد فی بلد فی فن او فنون من العلوم الشرعیۃ ما تیسر لہ الأمور التقریریۃ أو التحریریۃ ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود ج:۵ ص:۱۰۴)۔
145
کریم کی کس آیت میں یا حدیث شریف کی کس کتاب میں آیا ہے۔۔۔؟
نوٹ:۔۔۔ جناب نے اپنا سرنامہ ایک ’’پریشان بندہ‘‘ لکھا ہے، اگر آپ اپنا اسمِ گرامی اور پتا نشان بھی لکھ دیتے تو کیا مضائقہ تھا؟ ویسے بھی گمنام خط لکھنا، اخلاق ومروّت کے لحاظ سے کچھ مستحسن چیز نہیں۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۷۷)
پہلی نماز کے علاوہ باقی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِمام ہوں گے
سوال:۔۔۔ اس رسالہ ’’مسیحِ موعود‘‘ کی پہچان از مفتی محمد شفیعؒ میں جابجا تناقض ہے، مثلاً ملاحظہ فرمائیں ص:۱۸ اور ص:۱۹، علامت نمبر۷۰ تا نمبر۷۶۔ ’’بوقتِ نزول عیسیٰ علیہ السلام یہ لوگ نماز کے لئے صفیں دُرست کرتے ہوں گے، اس جماعت کے اِمام اس وقت حضرت مہدیؓ ہوں گے، حضرت مہدیؓ عیسیٰ علیہ السلام کو اِمامت کے لئے بلائیں گے اور وہ اِنکار کریں گے۔ جب حضرت مہدیؓ پیچھے ہٹنے لگیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر انہیں اِمام بنائیں گے، پھر حضرت مہدیؓ نماز پڑھائیں گے۔‘‘ ان سب باتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ مولوی صاحب یہ منوانا چاہتے ہیں کہ اِمام، مہدی ہوں گے۔ چلو یہ بات مولوی صاحب کی تسلیم کرلی جائے تو پھر مولوی صاحب خود ہی بعد میں ص:۲۲، علامت نمبر۹۴ میں فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کی اِمامت کریں گے۔‘‘ یعنی اب اِمام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنایا اور بتایا گیا ہے۔ اب مولوی صاحب ہی بتائیں کہ ان کے رسالے میں صحیح اور غلط کی پہچان کیسے ہوسکتی ہے؟ یا سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کیسے کیا جائے؟
جواب:۔۔۔ پہلی نماز میں اِمام مہدیؓ اِمامت کریں گے، اور بعد کی نمازوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ تناقض کیسے ہوا۔۔۔؟(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۲،۲۲۳)
مسیح اور مہدی دو الگ شخصیتیں!
سوال:۔۔۔ یا پھر ایک ضمنی سوال یوں پیدا ہوتا ہے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام اور مسیحِ موعود، مولوی صاحب کی تحقیق کے مطابق ایک ہی جسمانی وجود کا نام ہے تو کیا کہیں مولوی صاحب، مسیحِ موعود اور مہدی کو بھی ایک ہی تو نہیں سمجھتے؟ اور اب بات یوں بنے گی کہ وہی عیسیٰ ہیں، وہی مسیحِ موعود ہیں، اور وہی مہدی ہیں، یا کم از کم مولوی صاحب کی تحقیق اور منطق تو یہی پکار رہی ہے۔
جواب:۔۔۔ جی نہیں! عیسیٰ اور مہدی کو ایک ہی شخصیت ماننا ایسے شخص کا کام ہے جس کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر
(۱)عند نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء فیجتمع عیسٰی بالمھدی وقد اقیمت الصلاۃ فیشیر المھدی لعیسٰی بالتقدم فیمتنع مُعَلَّلًا بأن ھٰذہ الصلاۃ اقیمت لک وانت أولٰی بأن تکون الإمام فی ھٰذا المقام فیقتدی بہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفی شرح العقائد: الأصح ان عیسٰی یصلی بالناس ویؤَمھم ویقتدی بہ المھدی لأنہ أفضل وإمامتہ أولٰی۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۳۶، ۱۳۷)
146
اِیمان نہ ہو۔ احادیثِ متواترہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی الگ الگ علامات اور الگ الگ کارنامے ذِکر فرمائے ہیں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۳)
حضرت مہدیؓ کے کارنامے
سوال:۔۔۔ یہ کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، کیونکہ اس سے زیادہ مسلمانوں کی اِمامت تو مولوی صاحب نے خود بھی کئی بار کی ہوگی۔
جواب:۔۔۔ حضرت مہدیؓ اس سے قبل بڑے بڑے کارنامے انجام دے چکے ہوں گے جو اَحادیثِ طیبہ میں مذکور ہیں، مگر وہ اس رسالے کا موضوع نہیں، اور نماز میں حضرت مہدیؓ کا اِمام بننا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان کی اِقتدا کرنا بجائے خود ایک عظیم الشان واقعہ ہے، اس لئے حدیثِ پاک میں اس کو بطورِ خاص ذِکر فرمایا گیا۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۴)
بعد میں پیدا ہونے والوں کو پیشگی ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کہنا
سوال:۔۔۔ اور مزید ایک ضمنی لیکن مضحکہ خیز سوال مولوی صاحب کی اپنی تحریر سے یوں اُٹھتا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ’’پھر حضرت مہدیؓ نماز پڑھائیں گے‘‘ ملاحظہ ہو ص:۱۹، علامت نمبر۷۶۔ یہاں مولوی صاحب نے ’’مہدیؓ‘‘ لکھا ہے، اور ایسا ہی کئی جگہوں پر ’’مہدیؓ‘‘ لکھا ہے۔ سب صاحبِ علم جانتے ہیں کہ ’’ ؓ‘‘ اِختصار ہے ’’رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ‘‘ کا۔ مطلب آسان ہے اور عموماً یہ ان لوگوں کے نام کے ساتھ عزّت اور اِحترام کے لئے اِستعمال ہوتا ہے جو فوت ہوچکے ہوں، دُنیا سے گزرچکے ہوں، اور حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل ہوں، یا ویسا رُوحانی درجہ رکھتے ہوں۔ ابھی مسیحِ موعود تو آئے بھی نہیں اور بقول مولوی صاحب مہدیؓ بھی ہوچکے، تو کیا نماز پڑھانے کے لئے یہ مہدی صاحب بھی دوبارہ زندہ ہوکر دُنیا میں واپس آئیں گے؟
جواب:۔۔۔ یہ سوال جیسا کہ سائل نے بے اختیار اِعتراف کیا ہے، واقعی مضحکہ خیز ہے۔ قرآنِ کریم نے’’وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالأَنصَارِ‘‘ (التوبۃ:۱۰۰) اور ان کے تمام متبعین کو ’’رضی اللّٰہ عنہم‘‘ کہا ہے جو قیامت تک آئیں گے۔ شاید سائل، پنڈت دیانند کی طرح خدا پر بھی یہ مضحکہ خیز سوال جڑدے گا۔ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒ نے بھی مکتوباتِ شریفہ میں حضرت مہدیؓ کو کہا ہے۔ معترض نے یہ مسئلہ کس کتاب میں پڑھا ہے کہ صرف فوت شدہ حضرات ہی کو ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کہہ سکتے ہیں؟ حضرت مہدی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہوں گے، اس لئے ان کو ’’رضی اللّٰہ عنہ‘‘ کہا گیا۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۳)
سوال:۔۔۔ یا وہ بھی بقول مولوی صاحب حضرت عیسیٰ کی طرح کہیں زندہ موجود ہیں (آسمان پر یا کہیں اور) اور مسیحِ موعود کے آتے ہی آموجود ہوں گے اور اِمامت سنبھال لیں گے۔
(۱) تفصیل کے لئے دیکھئے: مشکوٰۃ ص:۴۷۰ و ۴۷۹۔
147
جواب:۔۔۔ اِرشاداتِ نبوی کے مطابق حضرت مہدی رضی اللّٰہ عنہ پیدا ہوں گے۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۳)
حضرت مہدیؓ کی پیدائش کی سند؟
سوال:۔۔۔ کیا اس کی بھی کوئی سند قرآن مجید میں موجود ہے؟ اور کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ جی ہاں! ارشادِ نبوّت یہی ہے، اور قرآنی سند ہے: ’’وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ‘‘ (الحشر:۷) جس کو غلام احمد قادیانی نے بھی قرآنی سند کے طور پر پیش کیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۴)
نزولِ مسیح کے ساتھ ہی حضرت مہدیؓ کے مشن کی تکمیل
سوال:۔۔۔ مزید سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہدی نماز پڑھاتے ہی کہاں چلے جائیں گے؟ کیونکہ بعد میں تو جو کچھ بھی کرنا کرانا ہے وہ مسیحِ موعود ہی کی ذمہ داری، مولوی صاحب نے پورے رسالے میں خود ہی بیان فرمائی اور قرار دی ہے۔ محض ایک نماز کی اِمامت اور وہ بھی ایک جماعت کو جو ۸۰۰ (آٹھ سو) مردوں اور ۴۰۰ (چار سو) عورتوں پر مشتمل ہوگی
(ملاحظہ ہو ص:۱۹، علامت نمبر۷۲)
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد (جب حضرت مہدیؓ پہلی نماز کی اِمامت کرچکیں گے) حضرت مہدیؓ کا اِمام کی حیثیت سے مشن پورا ہوچکا ہوگا، اور اِمامت وقیادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں آجائے گی، تب حضرت مہدی کی حیثیت آپ کے اعوان وانصار کی ہوگی، اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کی وفات بھی ہوجائے گی (مشکوٰۃ ص:۴۷۱، باب اشراط الساعۃ)۔ پس جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دیگر اعوان وانصار اور مخصوص رُفقاء کے تذکرے کی ضرورت نہ تھی، اسی طرح حضرت مہدیؓ کے تذکرے کی بھی حاجت نہ رہی۔ کیا اتنی موٹی بات بھی کسی عاقل کے لئے ناقابلِ فہم ہے؟
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۴)
اِمام مہدیؓ کے آنے کے منکر کا حکم
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص مہدی آخرالزمان کے بارے میں وارِد شدہ احادیث کو موضوع اور من گھڑت کہے اور نزولِ مہدی سے صاف انکار کرے تو اَز رُوئے شریعت اس شخص کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ قیامت کے قریب اِمام مہدیؓ کا آنا صحیح احادیث اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ مسئلہ ہے، اس سے اِنکار کرنا صحیح احادیث اور اِجماع سے اِنکار کرنے کے مترادف ہے، جبکہ احادیث سے اِنکار کفر ہے۔
’’عن أبی سعید رضی ﷲ عنہ قال: ذکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بلائٌ یصیب ھٰذہ
(۱) یکون فی اُمّتی مھدیٌّ، قال النووی: المھدیُّ من ھداہ اﷲ إلی الحق وغلبت علیہ الإسمیۃ ومنہ مھدیّ آخر الزمان۔ وقال الزرکشی: ای الذی فی زمن عیسٰی علیہ السلام ویصلی معہ، ویقتلان الدَّجَّال ۔۔۔۔۔۔ ویولد بالمدینۃ یکون بعیتہ بین الرُّکن والمقام کرھًا علیہ۔ (سنن ابن ماجہ ص:۳۰۰، حاشیہ:۱)۔
148
الاُمَّۃ حتّٰی لا یجد الرجل ملجأً یلجأُ إلیہ من الظلم فیبعث ﷲ رجلًا من عترتی اھل بیتی فیملأ بہ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا یرضی عنہ ساکن الأرض۔ رواہ الحاکم وقال: صحیح، وھو ابو عبدﷲ محمد بن عبدﷲ النیسابوری إمام الحدیث فی وقتہٖ۔‘‘
(مشکوٰۃ، باب اشراط الساعۃ ص:۴۷۱، الفصل الثانی)
اس روایت سے اِمام مہدیؓ کی پوری تفصیل واضح ہوتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ دیگر کتبِ احادیث میں بھی متعدّد صحیح روایات موجود ہیں، تو اتنی صحیح روایات کے انکار کا کیا جواز ہے؟ اور زبان کی ایک جنبش سے صحیح احادیث کے ایک مکمل باب سے اِنکار کیا معنی رکھتا ہے؟ تاہم جو شخص مہدی آخرالزمان کا اِنکار کرتا ہے تو دراصل وہ احادیثِ نبوی کا اِنکار کرتا ہے اور اس پر وہی حکم لگایا جائے گا جو ایک منکرِ حدیث پر لگایا جاتا ہے۔
’’قال العلَّامۃ مُلَّا علی القاری رحمہ ﷲ: وفی المحیط من قال لفقیہ یذکر شیئًا من العلم او یروی حدیثًا صحیحًا ای ثابتًا لا موضوعًا: ھٰذا لیس بشیء، کفرٌ۔‘‘
(شرح الفقہ الأکبر ص:۱۷۵، فصل فی العلم والعلماء)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۶۵،۱۶۶)
اِمام مہدیؓ کے بارے میں روایات کی تحقیق
سوال:۔۔۔ کیا مہدیؓ کے آنے کے بارے میں جو باتیں زبان زدِ عام ہیں یہ صحیح روایات سے ثابت ہیں یا کوئی عام واقعہ ہے جس نے شہرت پائی ہے؟
جواب:۔۔۔ اِمام مہدیؓ کے بارے میں واقعات دُرست اور صحیح روایات سے ثابت ہیں، اور اَحادیث کی اکثر کتابوں میں مستقل باب کے تحت روایات کو جمع کیا گیا ہے، جن میں اِمام مہدیؓ کے حالات تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، مثلاً: جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابنِ ماجہ، مستدرک حاکم، مسند احمد، ابن حنبل، مسند ابویعلیٰ، مسند ابنِ ابی شیبہ، طبقات، صحیح ابنِ حبان وغیرہ۔
اور مجموعی لحاظ سے اِمام مہدیؓ کے بارے میں روایات تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، چنانچہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللّٰہ نے تواتر کو یوں نقل کیا ہے:
’’قال ابو الحسن الخسعی الأبدی فی مناقب الشافعی تواترت الأخبار بأن المھدی من ھٰذہ الاُمَّۃ وأن عیسٰی یصلی خلفہ۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۴، باب نزول عیسَی بن مریم علیہما السلام)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۲ ص:۲۱۷)
اِمام مہدی علیہ الرضوان
سوال:۔۔۔ کیا اِمام مہدیؓ کے ظہور کا عقیدہ اَز رُوئے قرآن وحدیث ضروریاتِ دِین میں سے ہے؟ اگر کوئی اِمام مہدیؓ
149
کے ظہور کا قائل نہ ہو تو اس کے متعلق شرع شریف کا کیا حکم ہے؟
رئیس احمد دیوریا
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا، خلیفۃ اللّٰہ المہدی کے متعلق ابوداؤد شریف میں تفصیل مذکور ہے ۔(۱) ان کی علامات، ان کے ہاتھ پر بیعت، ان کے کارنامے ذِکر کئے ہیں۔ جو شخص ان اِمام مہدیؓ کے ظہور کا قائل نہیں، وہ ان احادیث کا قائل نہیں، اس کی اِصلاح کی جائے تاکہ وہ صراطِ مستقیم پر آجائے۔ فقط
واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
حررہ العبد محمود غفر لہٗ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱ ص:۱۱۱)
علاماتِ ظہورِ مہدی
سوال:۔۔۔ کسی حدیث میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد موجود ہے کہ اِمام مہدیؓ کے ظہور کے وقت ایک ہی رمضان میں سورج گرہن اور چاند گرہن لگیں گے؟ چاند گرہن رمضان کی ۱۳؍تاریخ کو، اور سورج گرہن ۲۸؍رمضان کو ہوگا، اصل حقیقت کیا ہے؟ نیز مطلع فرمائیں کہ کیا یہ دونوں گرہن اپنی مذکورہ تاریخوں میں غلام احمد کے دعویٔ نبوّت کے دور میں لگے ہیں؟
سائل: سیّد ناصر علی از لاہور
جواب:۔۔۔ حدیث کی کتاب میں یہ پیش گوئی آنحضرت ختمی مرتبت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ سے منقول نہیں، اور نہ اسے حدیثِ نبوی کہا جاسکتا ہے۔ مرزائی مبلغین جب اسے حدیثِ نبوی کہہ کر پیش کرتے ہیں تو یہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایک صریح بہتان اور اِفترا ہے۔ سنن دارقطنی میں یہ پیش گوئی ایک بزرگ محمد بن علیؒ سے منقول ہے جو صحابی بھی نہیں، چہ جائیکہ اس روایت کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد کہا جائے، بلکہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ محمد بن علیؒ نے ایسا واقعی فرمایا ہو، کیونکہ اس قول کو محمد بن علیؒ سے نقل کرنے والے بھی تقریباً ایسے ہی ہیں جو ضعیف اور پایۂ اِعتبار سے ساقط ہیں۔ سنن دارقطنی میں محمد بن علی نامی کسی بزرگ کا یہ
(۱)عن عبدﷲ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لو لم یبق من الدُّنیا إلَّا یوم قال زائدۃ لطول ﷲ ذالک الیوم حتّٰی یبعث رجلًا مِنّی أو من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی۔ زاد فی حدیث فطر یملأ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا۔ وقال فی حدیث سفیان: لا تذھب أو لا تنقضی الدُّنیا حتّٰی یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی۔ عن اُمّ سلَمۃ قالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: المھدیّ من عترتی من ولد فاطمۃ۔ عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: المھدیّ مِنّی أجلی الجبھۃ أقنی الأنف ملأت ظلمًا وجورًا ویملک سبع سنین۔ عن اُمّ سلَمۃ زوج النبی صلی ﷲ علیہ وسلم عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من أھل المدینۃ ھاربًا إلٰی مکۃ فیأتیہ ناس من أھل مکۃ فیخرجونہ، وھو کارہٌ فیبایعونہ بین الرُّکن والمقام ویبعث إلیہ بعث من الشام فیخسف بھم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ فإذا رأی النَّاس ذالک أتاہ أبدال الشام وعصائب أھل العراق فیبایعونہ ثم ینشؤُ رجل من قریش أخوالہ کلب فیبعث إلیھم بعثًا فیظھرون علیھم وذالک بعث کلب والخیبۃ لمن لم یشھد غنیمۃ کلب فیقسم المال ویعمل فی الناس بسُنّۃ نبیھم صلی ﷲ علیہ وسلم ویلقی الإسلام بجرانہ إلی الأرض فیلبث سبع سنین ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون، قال أبوداوٗد: وقال بعضھم عن ھشام: تسع سنین۔ ۔۔۔۔۔۔۔ عن اُمّ سلَمۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بقصۃ جیش الخسف، قلت: یا رسول ﷲ! کیف بمن کان کارھًا؟ قال: یخسف بھم ولٰکن یبعث یوم القیامۃ علٰی نیتہٖ ۔۔۔۔۔۔۔ قال علی ونظر إلی ابنہ الحسن فقال: إنّ ابنی ھٰذا سید کما سماہ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، وسیخرج من صلبہ رجل یسمّٰی باسم نبیکم صلی ﷲ علیہ وسلم یشبہ فی الخُلُق ولا یشبہ فی الخَلْق، ثم ذکر قصۃ یملأ الأرض عدلًا۔ انتھیٰ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، ۲۳۳، اوّل کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
150
قول اس طرح منقول ہے:
’’عن عمرو بن شمر(۱) عن جابر عن محمد بن علی قال: ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السمٰوٰت والأرض، تنکسف القمر لأوّل لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ، لم تکونا منذ خلق ﷲ السمٰوٰت والأرض۔‘‘
(سنن دارقطنی ج:۲ ص:۶۵، طبع نشر السُّنَّۃ، ملتان باکستان)
ترجمہ:۔۔۔ ’’شمر کا بیٹا جابر جعفی سے نقل کرتا ہے کہ محمد بن علی (نامی کسی شخص) نے کہا کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہوں گے، اور وہ دونوں (اپنی اپنی جگہ پر مستقل طور پر) ایسے ہیں کہ زمین وآسمان جب سے پیدا ہوئے کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا، اوّل یہ کہ چاند کو گرہن رمضان کی پہلی رات ہوگا، اور دُوسرا یہ کہ سورج گرہن اسی رمضان شریف کے نصف میں واقع ہوگا، اور جب سے خداتعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کئے، ایسے گہنوں کا ظہور کبھی نہیں ہوا۔‘‘
شمر کا بیٹا عمرو(۲) جو محمد بن علی کے مذکورہ بالا قول کو نقل کررہا ہے، اس قابل نہیں کہ اس کی نقل پر اِعتماد کیا جائے، یہ شخص کذّاب اور تقیہ باز تھا۔ اس پر رافضی اور شاتمِ صحابہ ہونے کی جرح ’’میزان الاعتدال‘‘ ذہبی میں موجود ہے۔ اس کا اُستاذ جابر جعفی جو مذکورہ پیش گوئی کا راوی ہے، ضعیف ہے۔ اس کے متعلق سیّدنا اِمام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آج تک اس جیسا جھوٹا راوی کسی کو نہیں دیکھا۔ پس جب محمد بن علی سے نقل کرنے والوں کا بھی یہ حال ہے تو ہم اسے پورے اِعتماد کے ساتھ حضرت محمد بن علیؒ کا قول بھی نہیں کہہ سکتے، چہ جائیکہ اسے کسی صحابی کا قول یا اِرشادِ رسولِ خاتم ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ کہا جاسکے!
باقی یہ سوال کہ اگر یہ قول ایسا ہی کمزور اور مقطوع تھا تو پھر اسے اِمام دارقطنیؒ نے درج کیوں کیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث کی کتابوں میں اِرشاداتِ نبوی کے علاوہ صحابہؓ اور تابعینؒ کے آثار بھی منقول ہوتے ہیں، بعض مقامات پر اَئمہ وفقہاء کے اپنے اقوال بھی مندرج ہوتے ہیں۔ حدیث کی کتاب میں درج ہونا اس بات کو ہرگز لازم نہیں کہ یہ قول خود لسانِ شریعت سے منقول ہو، ایسا گمان محض جہالت اور نادانی پر مبنی ہے، اہلِ علم کے ہاں اس سوال کی کوئی قیمت نہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ اپنے اُصولِ حدیث کے رسالے ’’عجالہ نافعہ‘‘ کے صفحہ:۷ پر تصریح فرماتے ہیں کہ سنن دارقطنی حدیث کی تیسرے طبقے کی کتابوں میں سے ہے، جن کے جمع کرنے والوں نے روایات کی صحت کا اِلتزام نہیں کیا، بلکہ ہر طرح کی روایات ان میں جمع کر رکھی ہیں۔
مرزاقادیانی نے اس ضعیف اور بے بنیادی قول کو جو کذّاب قسم کے راویوں کے واسطے سے صرف محمد بن علیؒ تک پہنچتا ہے،
(۱) عمرو بن شمر عن جابر کلاھما ضعیفان۔ (التعلیق المفتی علٰی سنن الدارقطنی ج:۲ ص:۶۵)۔
(۲) ۶۳۸۴: عمرو بن شمر الجعفی الکوفی الشیعی ابو عبداﷲ عن جعفر بن محمد وجابر الجعفی والأعمش، روی عیاش عن یحیٰی لیس بشیء، وقال الجوزجانی: زائغ کذاب، وقال ابن حبان: رافضی یشتم الصحابۃ ویروی الموضوعات عن الثقات، وقال البخاری: منکر الحدیث۔ (میزان الإعتدال للذھبی ج:۳ ص:۲۶۸)۔
151
اگر حدیثِ رسول سمجھ لیا ہے تو ہمارے لئے بالکل قابلِ اِلتفات نہیں۔ مرزاقادیانی فنِ حدیث میں بہت کمزور تھے، انہیں یہ بھی پتا نہیں تھا کہ ’’صحیح‘‘ ایک خاص معیار کی کتب ہوتی ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ، اور یہ کہ حدیث کی ہر کتاب صحیح نہیں کہلاتی، اور وہ اس حقیقت سے بھی بے خبر تھے کہ سنن دارقطنی محدثین کے ہاں ہر قسم کی رطب ویابس روایات پر مشتمل ہے۔ مرزاقادیانی کی نادانی دیکھئے کہ وہ دارقطنی کو بھی صحیح کا نام دے رہے ہیں، لکھتے ہیں:
’’صحیح دارقطنی میں ایک حدیث ہے ۔۔۔۔الخ‘‘ یہ ’’سنن دارقطنی‘‘ ہونا چاہئے تھا۔
’’یہ حدیث اگر قابلِ اِعتبار نہیں تھی تو دارقطنی نے اپنی صحیح میں کیوں اس کو درج کیا۔‘‘
(تحفۂ گولڑویہ ص:۲۸، خزائن ج:۱۷ ص:۱۳۳)
حدیث کے اِبتدائی درجے کے طلبہ کو بھی معلوم ہے کہ حضرت اِمام بخاریؒ کا اسمِ گرامی محمد تھا، اِسماعیل نہ تھا، اِسماعیل ان کے باپ کا نام تھا، مگر مرزاقادیانی ’’ازالہ اوہام‘‘ میں اِمام بخاریؒ کا نام اِسماعیل بتاتے ہیں، حالانکہ اُس وقت اور اُن علاقوں میں اس طرح کے مرکب ناموں کا منہاج ہی نہ تھا (دیکھئے: اِزالہ اوہام ج:۱ ص:۱۱، ص:۱۳۹، خزائن ج:۳ ص:۲۳۹، ج:۲ ص:۲۵۹، ص:۶۴۵)۔
’’شہادت القرآن‘‘ میں مرزاقادیانی ایک حدیث صحیح بخاری کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، حالانکہ وہ صحیح بخاری میں بالکل نہیں ہے۔
اور پھر یہ نہیں کہ صحیح بخاری کا لفظ اتفاقاً قلم سے نکل گیا ہو، بلکہ اسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللّٰہ‘‘ کہہ کر اس نقل کی اور توثیق کرتے ہیں۔ پھر ’’اِزالہ اوہام‘‘ ص:۲۴ خزائن ج:۳ ص:۱۲۴ پر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ الفاظ بطور حدیث کے پیش کرتے ہیں: ’’بل ھو إمامکم منکم‘‘ ۔ لفظ ’’بل‘‘ عجیب اِضافہ ہے۔
حالانکہ یہ الفاظ اس طرح آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں نہیں ملتے، نہ ان کے لئے کوئی سند صحیح ہے اور نہ کوئی ضعیف، یہ محض ایک اِفترا اور بہتان ہے۔ الحاصل مرزا غلام احمد فنِ حدیث میں عام طلبہ کے بھی ہمسر نہیں تھے، پس اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم ان کے اِعتماد پر مذکورۃ الصدر پیش گوئی کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث تسلیم کرلیں (معاذاللّٰہ ثم معاذاللّٰہ)۔
۲:۔۔۔ مذکورہ گرہن مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کی تصدیق کے لئے قطعاً ثابت نہیں ہوئے، یہ محض پروپیگنڈا ہے۔ مرزائیوں کے اپنے دعوے کے مطابق گرہنوں کا وقوع ۱۳۱۰ھ میں پیش آیا، حالانکہ اس وقت تک مرزاقادیانی نے رِسالت کا دعویٰ ہی نہ کیا تھا۔ تعجب ہے کہ مرزاقادیانی نے ان گرہنوں کو اپنے دعویٔ نبوّت اور رِسالت کی تصدیق کے لئے کیسے پیش کردیا؟ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:
’’اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رمضان کے مہینے میں کبھی یہ دو گرہن جمع نہیں ہوئے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی مدعیٔ نبوّت یا رِسالت کے وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے، جیسا کہ حدیث کے
152
ظاہر الفاظ اسی پر دلالت کر رہے ہیں۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ کسی مدعیٔ نبوّت یا رِسالت کے وقت میں یہ دونوں گرہن رمضان میں کبھی کسی زمانے میں جمع ہوئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کا ثبوت دے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۹۶، خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۳)
اگر یہ کہا جائے کہ گرہن مہدویت کی علامت ہیں، نبوّت اور رِسالت کی نہیں، تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ مرزاقادیانی کے نزدیک مہدویت کا دعویٰ رِسالت کے دعویٰ کو بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کی مذکورہ عبارت میں اسے اپنے دعویٔ نبوّت رِسالت کے لئے آسمانی نشانی بتلا رہے ہیں۔ چونکہ مرزاقادیانی کا یہ دعویٔ رِسالت بہت بعد کا ہے، اور یہ وقوع گرہن اس سے بہت پہلے کا ہے، بنابرین ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے دعویٔ نبوّت کے دور میں ایسے گرہن کبھی نہیں لگے۔ یہ قادیانی حضرات کا محض پروپیگنڈا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ۱۲۱۲ھ کے اس مذکورہ گرہن سے پہلے اس طرح کے گرہن کبھی نہیں لگے، کیونکہ اس سے ایک سال قبل ۱۲۱۱ھ میں بھی چاند اور سورج کا گرہن امریکا میں لگا تھا اور وہاں بھی اس وقت ایک جھوٹا مدعیٔ نبوّت مسٹر ڈوئی موجود تھا۔ پس ایسے گرہن جو خرقِ عادت بھی نہیں، کسی دعوے کی تصدیق کے ضامن ہرگز نہیں ہوسکتے۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۱۱۴ تا ۱۱۷)
رفعِ عیسیٰ وظہورِ مہدی علیٰ نبینا وعلیہما السلام کے دلائل
سوال۱:۔۔۔ ثابت کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور وہ واپس آئیں گے۔
۲:۔۔۔ ثابت کرو کہ اِمام مہدیؓ اہلِ بیت سے ہوں گے، اور مدینہ منوّرہ یا کسی اور ملک میں پیدا ہوں گے۔
۳:۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ خردجال آچکا، اگر نہیں آیا تو ثابت کرو کہ پندرہویں صدی میں آئے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ چودہویں صدی آخری ہے، اس کے بعد قیامت ہے، اسی صدی میں جو کچھ ہونا تھا ہوچکا۔
اب آپ برائے مہربانی ہمیں تو ان سوالات کا جواب بمع ثبوت یعنی مکمل صفحہ، جلد، نام، حدیث وغیرہ لکھیں جس پر وہ اِعتراض نہ کرسکیں، اور ہمیں بھی تسلی ہو، اور ان کو بھی جواب دینے کے قابل رہ جائیں۔ ہم نے بہت سے علماء صاحبان کے پاس خطوط لکھے، بلکہ دیوبند تک لکھے، مگر کسی نے تسلی بخش جواب نہ دیا، کسی نے مرزاقادیانی کا حوالہ دے کر، کسی نے کچھ، کسی نے گالیاں دے کر ٹال دیا۔ جس کی وجہ سے ہمارا دِل بہت گھبرایا ہوا ہے، کیونکہ کسی طرف سے تسلی بخش جواب نہیں پایا۔ اور نہ ہمارے پاس اتنا وقت ہے کہ کسی عالم کے پاس جائیں۔ آپ خدا کے واسطے مکمل جواب لکھ کر ہمارے دِل کو یقین دِلائیں کہ ہمارا مذہب سچا ہے۔حسبنا ﷲ ونعم الوکیل، نعم المولٰی ونعم النصیر۔
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اُٹھایا جانا آسمان پر، قرآن مجید اور حدیث اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے،
153
دلائل تو بہت ہیں، مگر یہاں بوجہ تنگیٔ وقت کے صرف ایک دو تحریر کئے جاتے ہیں۔
’’وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘
(النساء:۱۵۷،۱۵۸)
اس آیت میں یہود کا قول نقل فرماکر اللّٰہ تعالیٰ نے تردید فرمائی ہے۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، انہوں نے نہ تو عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا اور نہ اس کو سولی پر چڑھایا، حقیقت میں ان پر شبہ پڑگیا، اور جو لوگ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اِختلاف کرتے ہیں، سب شک وشبہ میں مبتلا ہیں، یقینا عیسیٰ علیہ السلام کو کسی نے قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا اور اللّٰہ تعالیٰ زبردست ہے (اس کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالینا کیا مشکل ہے) اور حکمت والا ہے (اس کے کاموں میں ہزاروں حکمتیں ہوتی ہیں اگرچہ کوتاہ نظر نہ سمجھ سکیں)
اس سے مرزائیوں کے تمام شبہات زائل ہوگئے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیوں گیا؟ کیا کرتا ہے؟ کیا کھاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ شبہات پیش کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک ہی جواب دیا: ’’وَكَانَ اللہُ عَزِیزاً حَكِیماً‘‘ اللّٰہ تعالیٰ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت نے یہی چاہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالے، پھر قیامت کے قریب زمین پر اُتار دے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا تو آدم علیہ السلام جنت میں ہوتے تو اچھا تھا، کیوں ان کو زمین کی طرف بھیج دیا۔ مسلمان کا کام یہ ہے کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اسے قبول کرے۔ منافق کا کام ہے حجت بازی کرنا، لہٰذا یہ شبہات فضول ہیں۔ جب بھی مرزائی، عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق شبہ پیش کرے تو فوراً یہی آیت پڑھیں: ’’وَكَانَ اللہُ عَزِیزاً حَكِیماً‘‘ کہ اللّٰہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے، اس کی مرضی، وہ مختار ہے، عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا، کوئی اس پر کیا اِعتراض کرسکتا ہے؟
تفسیر رُوح المعانی (ج:۶ ص:۱۱) میں اس آیت کے ماتحت لکھا ہے:’’وھو حی فی السماء‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں۔ تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں۔ صرف مرزا غلام احمد قادیانی نے آکر فتنہ برپا کیا اور یہ صرف اس لئے کہ ’’میں عیسیٰ بنوں‘‘ برائے حلوا خوردن روئے باید۔
۲:۔۔۔ ابوداؤد حدیث کی کتاب ہے، اور صحاحِ ستہ میں داخل ہے، انہوں نے ایک مستقبل باب قائم کیا ہے جس کا نام ہے ’’باب ذکر المہدی‘‘ اس میں مندرجہ ذیل حدیثیں درج ہیں:
1:۔۔۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دُنیا کا ایک دِن بھی رہ جائے تو اللّٰہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردیں گے یہاں تک کہ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو کھڑا کریں گے، جس کا نام میرے نام کے، اور اس کے والد کا نام، میرے والد کے نام کے موافق ہوگا۔ وہ شخص دُنیا کو اِنصاف وعدل سے بھردے گا، جیسا کہ اس کے آنے سے پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی۔ (اب دیکھئے کہ مرزا اور اس کے باپ کا نام نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام کے مخالف ہے،
154
اور مرزا کے آنے سے دُنیا میں ظلم وستم زیادہ ہوگیا) (ابوداؤد ج:۲ ص:۱۳۱، طبع نور محمد اصح المطابع کراچی)۔(۱)
2:۔۔۔ دُوسری روایت ابوداؤد میں ہے، حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ: مہدی میری اولاد سے ہوگا، اور فاطمۃ کی نسل سے ہوگا۔(۲) (ص:ایضاً) (مرزا تو مغل تھا یا پنجابی، یا کوئی اور قوم ہوگی، سیّد اور فاطمہؓ کی اولاد سے ہرگز نہیں)
اور بھی بہت سی روایتیں اور حدیثیں ہیں، بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے مقامی علماء سے مدد حاصل کریں، ورنہ ہماری طرف لکھیں، اِن شاء اللّٰہ ان کے سب سوالوں کا جواب تسلی بخش دیا جائے گا۔
مرزائی جھوٹ بولتے ہیں کہ چودہویں صدی کے بعد قیامت ہے، قیامت کا علم اللّٰہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ نہ معلوم کہ دُنیا کی عمر کتنی باقی ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام ضرور تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔
اور حضرت مہدیؓ مدینہ شریف سے روانہ ہوں گے اور مکہ شریف تشریف لائیں گے تو سب لوگ مکہ والے اور دُوسرے مسلمان حضرت اِمام مہدیؓ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ یہ بیعت بیت اللّٰہ شریف کے میدان میں مقامِ اِبراہیم کے قریب ہوگی (ابوداؤد شریف، ص:ایضاً)۔(۳)
مرزا کو تو ساری عمر حج نصیب نہیں ہوا، نہ مدینہ دیکھا نہ مکہ دیکھا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مقامات میں اسے گھسنے ہی نہیں دیا۔
بہرحال آپ کو جو شبہ ہو، ہماری طرف تحریر فرمائیں، ہم وہ جواب دیں گے جو مرزائیوں کے لئے منہ توڑ ہوگا۔
فقط واللّٰہ اعلم
| الجواب صحیح |
بندہ محمد عبداللّٰہ غفر لہٗ |
| خیر محمد عفی عنہ |
مفتی خیرالمدارس، ملتان |
| ۲۷؍۱۱؍۱۳۶۹ھ |
|
(خیر الفتاویٰ ج:۱ ص:۷۱ تا ۷۳)
(۱)عن عبدﷲ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لو لم یبق من الدنیا إلَّا یوم قال زائدۃ: لطول ﷲ ذالک الیوم حتّٰی یبعث رجلًا مِنِّی او من اھل بیتی یواطیء اسمہ اسمی، واسم ابیہ اسم ابی، زاد فی حدیث فطر یملأ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا ۔۔۔إلخ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، اوّل کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۲)عن اُمِّ سلَمۃ قالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: المھدی من عترتی من ولد فاطمۃ۔ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۳۲، اوّل کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۳)عن اُمِّ سلَمۃ زوج النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یکون إختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من اھل المدینۃ ھاربًا إلٰی مکۃ فیأتیہ ناس من اھل مکۃ فیخرجونہ وھو کارہ فیبایعونہ بین الرُّکن والمقام ۔۔۔إلخ۔ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۳۳ اوّل کتاب المھدی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
155
دجال کی آمد
سوال:۔۔۔ دجال کی آمد کا کیا صحیح حدیث میں کہیں ذِکر ہے؟ اگر ہے تو وضاحت کریں۔
جواب:۔۔۔ دجال کے بارے میں ایک دو نہیں بہت سی احادیث ہیں اور یہ عقیدہ اُمت میں ہمیشہ سے متواتر چلا آیا ہے۔ بہت سے اکابرِ اُمت نے اس کی تصریح کی ہے کہ خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر ہیں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۸۰)
ایک قادیانی کے پُرفریب سوالات کے جوابات
ہمارے ایک دوست سے کسی قادیانی نے حضرت مفتی محمد شفیعؒ کے رسالے ’’مسیحِ موعود کی پہچان‘‘ پر کچھ سوالات کئے اور راقم الحروف سے جوابات سے ان کے جوابات کا مطالبہ کیا۔ ذیل میں یہ سوال وجواب قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔
تمہید:۔۔۔ رسالہ ’’مسیحِ موعود کی پہچان‘‘ میں قرآنِ کریم اور اِرشاداتِ نبویہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کی علامات جمع کردی گئی ہیں، جو اہلِ اِیمان کے لئے تو اِضافۂ اِیمان میں مدد دیتی ہیں، لیکن افسوس ہے کہ سوال کنندہ کے لئے ان کا اثر اُلٹا ہوا، قرآنِ کریم نے صحیح فرمایا: ’’ان کے دِلوں میں روگ ہے، پس بڑھادیا ان کو اللّٰہ نے روگ میں۔‘‘ بقول سعدیؔ:
-
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید ودر شورہ بوم خس
سائل نے اِرشاداتِ نبویہ پر اسی انداز میں اِعتراض کئے ہیں جو ان کے پیشرو پنڈت دیانندسرسوتی نے ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ میں اِختیار کیا تھا، اس لئے کہ اِرشاداتِ نبویہ نے مسیح علیہ السلام کی صفات وعلامات اور ان کے کارناموں کا ایسا آئینہ پیش کردیا ہے جس میں قادیانی مسیحیت کا چہرہ بھیانک نظر آتا ہے، اس لئے انہوں نے روایتی حبشی کی طرح اس آئینے کو قصوروَار سمجھ کر اسی کو زمین پر پٹخ دینا ضروری سمجھا، تاکہ اس میں اپنا سیاہ چہرہ نظر نہ آئے۔ لیکن کاش! وہ جانتے کہ:
-
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندن زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
رسالہ ’’مسیحِ موعود کی پہچان‘‘ پر سائل نے جتنے اِعتراضات کئے ہیں، ان کا مختصر سا اُصولی جواب تو یہ ہے کہ مصنفؒ نے ہر بات میں احادیثِ صحیحہ کا حوالہ دیا ہے، اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا، اس لئے سائل کے اِعتراضات مصنفؒ پر نہیں، بلکہ ۔۔۔خاکش بدہن۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ہیں۔ اگر وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت ورِسالت سے منکر ہیں، یا مسٹر پرویز کے ہم
(۱)وفی حاشیۃ سنن ابن ماجۃ: قال القاضی: نزول عیسٰی وقتلہ الدجال حق صحیح عند اھل السُّنَّۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذالک ۔۔۔إلخ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۲۹۹، حاشیہ نمبر۸، طبع نور محمد کتب خانہ کراچی)۔
156
مسلک ہیں تو بصد شوق پنڈت دیانند کی طرح اِعتراضات فرمائیں، اور اگر انہیں اِیمان کا دعویٰ ہے تو ہم ان سے گزارش کریں گے کہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پوچھ لیجئے۔۔۔! مگر جو لوگ اِرشاداتِ نبویہ کو سرمۂ چشمِ بصیرت سمجھتے ہیں، ان کا اِیمان برباد نہ کیجئے۔ اس کے بعد اَب تفصیل سے ایک ایک سوال کا جواب گوش گزار کرتا ہوں، ذرا توجہ سے سنئے۔۔۔!
سوال:۔۔۔ اُمتِ محمدیہ کے آخری دور میں ۔۔۔۔۔۔۔ دجالِ اکبر کا خروج مقدّر ومقرّر تھا۔‘‘ (ص:۵ سطرپہلی ودُوسری) اگر یہ دجالِ اکبر تھا تو لازماً کوئی ایک یا بہت سارے دجالِ اصغر بھی ہوں گے، ان کے بارے میں ذرا وضاحت فرمائی جائے، کب اور کہاں ظاہر ہوں گے؟ شناخت کیا ہوگی؟ اور ان کے ذمہ کیا کام ہوں گے؟ اور ان کی شناخت کے بغیر کسی دُوسرے کو یک دم ’’دجالِ اکبر‘‘ کیسے تسلیم کرلیا جائے گا؟
جواب:۔۔۔ جی ہاں! ’’دجالِ اکبر‘‘ سے پہلے چھوٹے چھوٹے دجال کئی ہوئے، اور ہوں گے۔ مسیلمہ کذّاب سے لے کر غلام احمد قادیانی تک جن لوگوں نے دجل وفریب سے نبوّت یا خدائی کے جھوٹے دعوے کئے، ان سب کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ’’دجَّالون کذَّابون‘‘ (۱) فرمایا ہے، ان کی علامت، یہی دجل وفریب، غلط تأویلیں کرنا، چودہ سو سال کے قطعی عقائد کا اِنکار کرنا، اِرشاداتِ نبویہ کا مذاق اُڑانا، سلف صالحین کی تحقیر کرنا اور غلام احمد قادیانی کی طرح صاف اور سفید جھوٹ بولنا، مثلاً:
⭐ :۔۔۔ ’’انا انزلناہ قریبًا من القادیان۔‘‘
(تذکرہ مجموعہ اِلہامات ص:۷۶ طبع دوم)
⭐ :۔۔۔ قرآن میں قادیان کا ذِکر ہے۔
(اِزالہ اوہام ص:۴، خزائن ج:۳ ص:۱۴۰)
⭐ :۔۔۔ وہ (مسیحِ موعود) چودہویں صدی کے سر پر آئے گا، اور پنجاب میں آئے گا، وغیرہ وغیرہ۔
(اربعین نمبر۲ ص:۲۹، خزائن ج:۱۷ ص:۳۷۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۱۷، ۲۱۸)
ظہورِ مہدی کے بعد دجال کا خروج اور اس کے فتنہ فساد کی تفصیل
سوال:۔۔۔ ’’جنگ‘‘ اخبار میں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے بارے میں حدیث کے حوالے سے ’’ان کا حلیہ اور وہ آکر کیا کریں گے؟‘‘ لکھا تھا، اب مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات بھی لکھ دیں تو مہربانی ہوگی۔
۱:۔۔۔ خرِ دجال کا حلیہ حدیث کے حوالے سے (کیونکہ ہم نے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ بہت تیز چلے گا، اس کی آواز کرخت ہوگی، وغیرہ وغیرہ)۔
۲:۔۔۔ کانا دَجال جو اس پر سواری کرے گا، اس کا حلیہ۔
جواب:۔۔۔ دجال کے گدھے کا حلیہ زیادہ تفصیل سے نہیں ملتا۔ مسندِ احمد اور مستدرک حاکم کی حدیث میں صرف اتنا
(۱)عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قال: لا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجَّالون کذَّابون قریبًا من ثلاثین، کلّھم یزعم انہ رسول۔ (مسلم ج:۲ ص:۳۹۷، طبع قدیمی کراچی)۔
157
ذِکر ہے کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا،(۱) اور مشکوٰۃ شریف میں بیہقی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ اس کا رنگ سفید ہوگا۔(۲)
دجال کے بارے میں بہت سی احادیث وارِد ہوئی ہیں، جن میں اس کے حلیہ، اس کے دعویٰ اور اس کے فتنہ وفساد پھیلانے کی تفصیل ذِکر فرمائی گئی ہے۔ چند اَحادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے:
۱:۔۔۔ رنگ سرخ، جسم بھاری بھرکم، سر کے بال نہایت خمیدہ اُلجھے ہوئے، ایک آنکھ بالکل سپاٹ، دُوسری عیب دار،(۳) پیشانی پر ’’ک۔ف۔ر‘‘ یعنی ’’کافر‘‘ کا لفظ لکھا ہوگا، جسے ہر خوادہ وناخواندہ مؤمن پڑھ سکے گا۔(۴)
۲:۔۔۔ پہلے نبوّت کا دعویٰ کرے گا، اور پھر ترقی کرکے خدائی کا مدعی ہوگا۔(۵)
۳:۔۔۔ اس کا اِبتدائی خروج اصفہان خراسان سے ہوگا، اور عراق وشام کے درمیان راستے میں اعلانیہ دعوت دے گا۔(۶)
(۱)عن جابر بن عبدﷲ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولہ حمار یرکبہ عرض ما بین اذنیہ اربعون ذراعًا۔ (مستدرک حاکم مع التلخیص ج:۴ ص:۵۳۰، کتاب الفتن، مسند احمد ج:۳ ص:۳۶۷)۔
(۲)عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یخرج الدَّجَّال علٰی حمار أقمر ۔۔۔إلخ۔ رواہ البیھقی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۷، باب العلامات بین الساعۃ وذکر الدَّجَّال، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۳)عن النواس بن سمعان رضی ﷲ عنہ قال: ذکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم الدَّجَّال ذات غداۃ ۔۔۔۔۔۔۔ انہ شاب قطط ۔۔۔۔۔ عینہ طافئۃ ۔۔۔۔۔ قلنا: یا رسول ﷲ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: اربعون یومًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلنا: یا رسول ﷲ! وما إسراعہ فی الأرض؟ قال: کالغیث استدبرتہ الریح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فبینما ھو کذالک إذ بعث ﷲ المسیح ابن مریم، فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقیّ دمشق، بین مھروذتین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیطلبہ حتّٰی یدرکہ باب لُدّ فیقتلہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۰۲ تا ۱۱۸)۔
ایضًا: عن عبدﷲ بن عمر ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: بینا انا نائم اطوف بالکعبۃ فإذا رجل آدم سبط الشعر ینطف -او یھراق- رأسہ ماء، قلت: من ھٰذا؟ قالوا: ابن مریم! ثم ذھبت التفت فإذا رجل جسیم احمر جعد الرأس اعور العین کأن عینہ عنبۃ طافیۃ، قالوا: ھٰذا الدَّجَّال ۔۔۔إلخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۰)۔
(۴)عن ابی امامۃ الباھلی قال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدثناہ عن الدَّجَّال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانہ یخرج من خلۃ بین الشام والعراق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیقول: انا نبی، ولا نبی بعدی، ثم یثنی فیقول: انا ربّکم! ولَا ترون ربَّکم حتّٰی تموتوا، وانہ أعور، وان ربّکم لیس بأعور، وانہ مکتوب بین عینیہ کافر یقرأہ کل مؤْمن کاتب أو غیر کاتب ۔۔۔۔۔۔۔۔ وانہ لا یبقی بشیء من الأرض إلَّا وطئہ وظھر علیہ إلَّا مکۃ والمدینۃ لَا یأتیھما من نقب من نقابھما إلَّا لقیتہ الملائکۃ بالسّیوف صلتۃ حتّٰی ینزل عند الظریب الأحمر عند منقطع السبخۃ فترجف المدینۃ بأھلھا ثلاث رجفات فلا یبقیٰ منافق ولا منافقۃ إلَّا خرج إلیہ فتنفی الخبث منھا کما تنفی الکیر خبث الحدید ۔۔۔۔۔۔۔۔ وجلھم ببیت المقدس وإمامھم رجل صالح فبینما إمامھم قد تقدم یصلّی بھم الصبح إذ نزل علیھم عیسَی بن مریم الصبح فرجع ذالک الإمام ینکص بمشی القھقریٰ لیقدم عیسٰی یصلی فیضع یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ: تقدم فصل فإنھا لک اقیمت، فیصلی بھم فإذا انصرف قال عیسٰی علیہ السلام: افتحوا الباب، فیفتح وورائہ الدَّجَّال معہ سبعون الف یھودی کلھم ذو سیف محلی وساج فإذا نظر إلیہ الدَّجَّال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھاربًا، ویقول عیسٰی علیہ السلام: ان لی فیک ضربۃ لن تسبقنی بھا! فیدرکہ عند باب اللُّد الشرقی فیقتلہ فیھزم ﷲ الیھود فلا یبقٰی شیء مما خلق ﷲ یتواری بہ یہودی إلَّا انطق ﷲ ذالک الشیء لا حجر ولا شجر ولا حائط ولا دابۃ إلَّا الغرقد فإنھا من شجرھم لا تنطق إلَّا قال: یا عبدﷲ المسلم! ھٰذا یہودی فتعال فاقتلہ ۔۔۔إلخ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۲۹۷، ۲۹۸، باب فتنۃ الدَّجَّال وخروج عیسَی بن مریم وخروجہ یأجوج ومأجوج)۔
(۵) ایضًا۔
(۶) ایضًا۔
158
۴:۔۔۔ گدھے پر سوار ہوگا، ستر ہزار یہودی اس کی فوج میں ہوں گے۔(۱)
۵:۔۔۔ آندھی کی طرح چلے گا اور مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس کے علاوہ ساری زمین میں گھومے پھرے گا۔(۲)
۶:۔۔۔ مدینہ میں جانے کی غرض سے اُحد پہاڑ کے پیچھے ڈیرہ ڈالے گا، مگر خدا کے فرشتے اسے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ وہاں سے ملکِ شام کا رُخ کرے گا اور وہاں جاکر ہلاک ہوگا۔(۳)
۷:۔۔۔ اس دوران مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے اور مدینہ طیبہ میں جتنے منافق ہوں گے، وہ گھبراکر باہر نکلیں گے اور دجال سے جاملیں گے۔(۴)
۸:۔۔۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچے گا تو اہلِ اسلام اس کے مقابلے میں نکلیں گے اور دجال کی فوج ان کا محاصرہ کرلے گی۔(۵)
۹:۔۔۔ مسلمان بیت المقدس میں محصور ہوجائیں گے، اور اس محاصرے میں ان کو سخت اِبتلا پیش آئے گا۔(۶)
۱۰:۔۔۔ ایک دن صبح کے وقت آواز آئے گی: ’’تمہارے پاس مدد آپہنچی!‘‘ مسلمان یہ آواز سن کر کہیں گے کہ: ’’مدد کہاں سے آسکتی ہے؟ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز ہے!‘‘(۷)
۱۱:۔۔۔ عین اس وقت جبکہ نمازِ فجر کی اِقامت ہوچکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے شرقی منارے کے پاس نزول فرمائیں گے۔(۸)
(۱) عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یخرج الدَّجَّال علٰی حمار أقمر ما بین اُذنیہ سبعون ذراعًا۔ رواہ البیھقی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۷)۔
وعن انس عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: یتبع الدَّجَّال من یھود اصفھان سبعون الفًا علیھم الطیالسۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۵، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدَّجَّال)۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۳، اور۴ ملاحظہ کیجئے، نیز موجودہ صفحے کا حاشیہ نمبر۳، ۶ ملاحظہ ہو۔
(۳) یجیء الدَّجَّال فیصعد اُحُدًا فیطلع فینظر إلی المدینۃ فیقول لأصحابہ: الا ترون إلٰی ھٰذا القصر الأبیض؟ ھٰذا مسجد أحمد، ثم یأتی المدینۃ فیجد بکل نقب من نقابھا ملکًا مصلتًا سیفہ، فیأتی سبخۃ الجرف فیضرب رواخہ، ثم ترجف المدینۃ ثلاث رجفات، فلا یبقی منافق ولا منافقۃ ولا فاسق ولا فاسقۃ إلَّا خرج إلیہ، فتخلص المدینۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم یأتی ایلیا فیحاصر عصابۃ من المسلمین ۔۔۔إلخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۴، طبع لاھور)۔
(۴) ایضاً۔
(۵) ایضاً حاشیہ نمبر۳ ملاحظہ ہو۔
(۶)ووقع فی حدیث سمرۃ المشار إلیہ قبل: یظھر علی الأرض کلھا إلَّا الحرمین وبیت المقدس فیحصر المؤْمنین فیہ ثم یھلکہ ﷲ ۔۔۔إلخ۔ (فتح الباری ج:۱۳ ص:۱۰۵، طبع لاہور)۔
(۷)عن عثمان بن ابی العاص ۔۔۔۔۔۔۔۔ فبینما ھم کذالک إذ نادیٰ مناد من السحر یا ایھا الناس! أتاکم الغوث، ثلاثًا، فیقول بعضھم لبعض إن ھٰذا لصوت رجل شبعان، وینزل عیسَی بن مریم علیہ السلام عند صلاۃ الفجر ۔۔۔إلخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۴، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
(۸) ایضاً، نیز گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۳،۴ ملاحظہ فرمائیں۔
159
۱۲:۔۔۔ ان کی تشریف آوری پر اِمام مہدیؓ (جو مصلیٰ پر جاچکے ہوں گے) پیچھے ہٹ جائیں گے اور ان سے اِمامت کی درخواست کریں گے، مگر آپ اِمام مہدیؓ کو حکم فرمائیں گے کہ نماز پڑھائیں، کیونکہ اس نماز کی اِقامت آپ کے لئے ہوئی ہے۔(۱)
۱۳:۔۔۔ نماز سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھولنے کا حکم دیں گے، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک چھوٹا سا نیزہ ہوگا۔ دجال آپ کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ آپ اس سے فرمائیں گے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے میری ایک ضرب تیرے لئے لکھ رکھی ہے، جس سے تو بچ نہیں سکتا۔ دجال بھاگنے لگے گا، مگر آپ ’’بابِ لُدّ‘‘ کے پاس اس کو جالیں گے اور نیزے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کا نیزے پر لگا ہوا خون مسلمانوں کو دِکھائیں گے۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۸۰، ۲۸۱)
کیا پاکستانی آئین کے مطابق کسی کو مہدی، مصلح یا مجدّد ماننا کفر ہے؟
سوال:۔۔۔ آپ کے اور میرے علم کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؓ دُنیا میں تشریف لائیں گے، لیکن پاکستانی آئین کے مطابق، جو بھٹو دور میں بنا تھا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی مصلح، کوئی مجدّد یا کوئی نبی نہیں آسکتا، اگر کوئی شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے تو وہ غیرمسلم ہے، اس لحاظ سے تو میں اور آپ غیرمسلم ہوئے، کیونکہ آپ نے بعض سوالات کے جوابات میں کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؓ تشریف لائیں گے۔ برائے مہربانی اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔
جواب:۔۔۔ جناب نے آئینِ پاکستان کی جس دفعہ کا حوالہ دیا ہے، اس کے سمجھنے میں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، اور آپ نے اس کو نقل بھی غلط کیا ہے۔ آئین کی دفعہ ۲۶۰(۳) کا پورا متن یہ ہے:
’’جو شخص محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم (جو آخری نبی ہیں) کے خاتم النّبیین ہونے پر قطعی اور غیرمشروط طور پر اِیمان نہیں رکھتا، یا جو شخص محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا جو شخص کسی ایسے مدعی کو نبی یا دِینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔‘‘
آئین کی اس دفعہ میں ایک ایسے شخص کو غیرمسلم کہا گیا ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت جاری ہونے کا قائل ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کے حصول کا مدعی ہو یا ایسے مدعیٔ نبوّت کو اپنا دِینی پیشوا تسلیم کرتا ہو۔
حضرت مہدیؓ نبی نہیں ہوں گے، نہ وہ نبوّت کا دعویٰ کریں گے، اور نہ کوئی ان کو نبی مانتا ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ نبی ہیں، مگر ان کو نبوّت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ملی بلکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے چھ سو سال پہلے مل چکی ہے، مسلمان ان کی تشریف آوری کے بعد ان کی نبوّت پر اِیمان نہیں لائیں گے، بلکہ مسلمانوں کا ان کی نبوّت پر پہلے سے اِیمان ہے،
(۱) صفحہ:۱۵۸ کا حاشیہ نمبر۴ دیکھیں۔
(۲)عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فلو ترکہ لانذاب حتّٰی یھلک ولٰکن یقتلہ ﷲ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ ۔۔۔إلخ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۳۲، نیز دیکھئے ص:۱۵۸ کا حاشیہ نمبر۴)۔
160
جس طرح حضرت نوح، حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ اور دیگر انبیائے کرام کی نبوّت پر اِیمان ہے ۔۔۔علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔۔۔ اس لئے آئینِ پاکستان کی اس دفعہ کا اِطلاق نہ تو حضرت مہدیؓ پر ہوتا ہے، کیونکہ وہ مدعیٔ نبوّت نہیں ہوں گے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہوتا ہے، کیونکہ ان کی نبوّت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے کی ہے، نہ کہ بعد کی۔ اور نہ ان مسلمانوں پر اس کا اِطلاق ہوتا ہے جو ان حضرات کی تشریف آوری کے قائل ہیں۔
اس دفعہ کا اِطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد حاصل ہونے والی نبوّت کا دعویٰ کیا، ’’یا ایھا الناس إنی رسول ﷲ إلیکم جمیعًا‘‘ (تذکرہ ص:۳۵۲) کا نعرہ لگایا، اور لوگوں کو اس نئی نبوّت پر اِیمان لانے کی دعوت دی، نیز اس کا اِطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو اپنا دِینی مصلح اور پیشوا تسلیم کیا اور ان کی جماعت میں داخل ہوئے۔
اُمید ہے یہ مختصر سی وضاحت آپ کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کافی ہوگی۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۴، ۲۴۵)
فرقۂ ذِکریان
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ایک گروہ جس کو ’’ذِکری‘‘ کہتے ہیں، یہ فرقۂ باطلہ ذِکریان صراطِ مستقیم سے منحرف ہے، مثلاً: ان ذِکری گروہ کے عقائد میں ایک شخص مسمّیٰ بہ ’’محمدی‘‘ جو اس فرقے کا مقتدا گزرا ہے، یہ لوگ اس کو اپنا پیغمبر ورسول تسلیم کرتے ہیں، اور اسی کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں، اور ضروریاتِ دِین مثلاً: نمازِ پنج گانہ، روزہ ماہِ رمضان وحج بیت اللّٰہ سے کلی طور پر منکر ہیں، لہٰذا کیا یہ لوگ مسلمان ہیں یا نہیں؟ اور ان کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ برائے کرم اس پر پوری روشنی ڈالتے ہوئے بحوالہ معتبرہ کتب صحیح جواب سے مستفید فرمائیں، تاکہ ہم غریب مسلمان اپنے دِین واِیمان کا پورا تحفظ کرسکیں۔بینوا توجروا!
عبدالفتاح ولد عبدالخالق القادری
ختلانی منزل، ملیرسٹی کراچی، پاکستان
۱۸؍شوال ۱۳۷۹ھ
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، جو شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین نہ مانے، بلکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کی نبوّت پر اِیمان لائے، وہ شخص کافر ہے، اس کے ساتھ مسلمانوں کو تعلقِ نکاح وغیرہ جائز نہیں۔ نماز، روزہ، حج، اَرکانِ دینِ اسلام ہیں، نصوصِ قطعیہ سے ان کی فرضیت ثابت ہے، جو شخص ان کی فرضیت کا اِنکار کرے وہ بھی کافر ہے، دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قال ﷲ تعالٰی:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘
(الاحزاب:۴۰)
161
وقال ﷲ تعالٰی:
’’وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘
(البقرۃ:۴۳)
وقال ﷲ تعالٰی:
’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ‘‘
(البقرۃ:۱۸۳)
وقال ﷲ تعالٰی:
’’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ ‘‘
(آل عمران:۹۷)
مسلمانوں کو ایسے عقیدوں سے اور ایسے عقیدے والوں سے اِنتہائی پرہیز کرنا چاہئے اور بالکل علیحدہ رہنا چاہئے۔ اللّٰہ پاک سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دے۔
فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود غفر لہٗ گنگوہی
۲۶؍شوال ۱۳۷۰ھ
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱ ص:۱۱۴،۱۱۵)
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٔ مہدویت ونبوّت جھوٹا ہے
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کے بارے میں ذہنی پریشانی ہے کہ ان سے کیسے تعلقات رکھنے چاہئیں؟ ایک طرف پمفلٹ چھپائے جاتے ہیں کہ ’’شیزان‘‘ قادیانیوں کی ملکیت ہے، لہٰذا اس کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دُوسری طرف ایک اخبار میں خبر چھپی کہ غیرمسلم سے اچھا برتاؤ کرنا چاہئے، جیسے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت سے ثابت ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے دُشمنوں اور گستاخوں کو بھی معاف کردیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری کچھ سہیلیاں قادیانی ہیں، ہم ان سے کیسے تعلقات رکھیں؟ وہ کہتی ہیں ہم آخری نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مانتی ہیں، مرزا غلام احمد کو صرف اِمام مہدی تسلیم کرتی ہیں۔ ہمیں ان کے عقائد کی تفصیل بیان فرمائیں تاکہ ہمیں رہنمائی مل سکے۔ مزید یہ کہ قطب کی طرف پاؤں کرنا کیسا ہے؟ چند دینی نصیحتیں بھی فرمائیں۔
فاطمہ عنبرین، نسرین کلاسوالہ
جواب:۔۔۔ محترمہ فاطمہ عنبرین صاحبہ ومحترمہ نسرین صاحبہ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
قادیانی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار، خواہ اس کو مہدی مانیں، خواہ نبی، خواہ مصلح ومجدد، سب کفار ومرتدین ہیں۔(۱) اس لئے کہ اس شخص نے اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اور قرآن وسنت اور تمام اُمت کا اس پر قطعی فیصلہ ہے کہ جو شخص رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اِجرائے نبوّت کا قائل ہو قطعاً کافر ومرتد اور واجب القتل ہے، اسے مسلمان ماننا بھی کفر ہے، چہ جائیکہ
(۱)قال الموفق فی المغنی: ومن ادعی النبوۃ أو صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدتہ قومہ صاروا بذالک مرتدین۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۶، طبع إدارۃ القرآن)۔
162
مجدّد، یا اِمام مہدی ماننا، لہٰذا مرزائیوں سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا حرام، حرام، قطعی حرام ہیں۔ اخبار میں جو کچھ لکھا ہے، غلط لکھا ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی وموجودگی میں جو شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اسے معاف کرسکتے تھے، لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی گستاخِ رسول کو معاف کرنا، اُمت کے لئے جائز نہیں، بلکہ اُمت پر واجب ہے کہ اسے قتل کردے۔ اپنا حق حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود معاف کرسکتے تھے، کسی اور کی یہ حیثیت ہی نہیں کہ گستاخ ومرتد کو معاف کرتا پھرے۔ کفار جو اِسلامی حکومت میں ذِمی بن کر رہیں، ہم ان کی جان ومال، عزّت ومعابد کی حفاظت کریں گے، مگر وہ بھی اگر گستاخیٔ رسول کا اِرتکاب کریں تو واجب القتل ہیں۔ لہٰذا آپ قادیانیوں سے میل ملاپ کرنا چھوڑ دیں، یہ حرام ہے۔
ہاں! مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین مانتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری رسول مانتے تو مسلمانوں سے الگ تھلگ کیوں ہوتے؟ مرزے کو بھی نبی ماننا اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی آخری رسول ماننا، دِین سے مذاق ہے۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم اللّٰہ کی توحید بھی مانتے ہیں اور بت پرستی بھی کرتے ہیں۔ ان سہیلیوں سے قطع تعلق کرنا فرض ہے۔
احترام قبلہ شریف کا لازم ہے، یعنی بیت اللّٰہ جو مکہ شریف میں ہے، قطب یعنی شمال کی طرف پاؤں کرنا جائز ہے۔
عشقِ رسول کی اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا مانگیں، نماز، ذِکر، دُرود وسلام اور تلاوتِ قرآنِ کریم پابندی سے کرتے رہیں۔ واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۵۴،۳۵۵)
✨ 🌟 ✨
163
بابِ ہشتم
مسیحِ موعود کی پہچان
سوال:۔۔۔ اس رسالہ (مسیحِ موعود کی پہچان ۔۔۔از حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ) کے مطالعے سے اِبتدا ہی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بن باپ کی پیدائش سے لے کر واقعہ صلیب کے انجام تک جس قدر بھی علامات یا دُوسری متعلقہ ظاہری نشانیاں اور باتیں بیان کی گئی ہیں، وہ اس وجود کے متعلق ہیں جسے مسیح، عیسیٰ بن مریم اور مسیح ناصری کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، اور اَب بھی جبکہ رسالہ مذکورہ کے مصنف کے خیال کے مطابق مسیحِ موعود یا مہدی موعود وغیرہ کا نزول نہیں ہوا (بلکہ انتظار ہی ہے) تب بھی پوری دُنیا اس مسیح کے نام اور کام اور واقعات سے بخوبی واقف ہے۔ یہ نشانیاں تو اس قوم نے آج کے لوگوں سے زیادہ دیکھی تھیں (محض سنی اور پڑھی ہی نہیں تھیں) جن کی طرف وہ نازل ہوا تھا، تب بھی اس قوم نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا، کیا وہ دُنیا سے چھپا ہوا ہے؟ اس وقت بھی اس قوم نے اسے اللّٰہ تعالیٰ کا نبی ماننے سے اِنکار کردیا تھا، اب اگر وہ (یا کوئی) آکر کہنے لگے کہ میں وہی ہوں جو بِن باپ کے پیدا ہوا تھا، میری ماں مریم تھی اور میں پنگوڑے میں باتیں کیا کرتا تھا اور مُردے زندہ کیا کرتا تھا، چڑیاں بناکر ان میں رُوح پھونکا کرتا تھا، اندھوں کو بینائی بخشتا تھا اور جذام کے مریض تندرست کردیا کرتا تھا وغیرہ وغیرہ، تو اَب بھی موجودہ تمام اقوام کو کیونکر یقین آسکے گا کہ واقعی پہلے بھی یہ ایسا کرتا رہا ہوگا اور یہ یقینا وہی شخص ہے اور جب پہلی بار نازل ہوا تو محض بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے آیا تھا، اور جب مقامی لوگوں نے دِل وجان سے قبول نہ کیا تو گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں اتنے سفر اِختیار کئے کہ ’’مسیح‘‘ کے لقب سے پکارا جانے لگا، لیکن اب جبکہ وہ دُوسری بار نازل ہوگا تو ایک سراپا قیامت بن کر آئے گا جیسا کہ رسالہ ھٰذا سے ظاہر ہے۔ مثلاً: ملاحظہ فرمائیں:
’’جس کسی کافر پر آپ کے سانس کی ہوا پہنچ جائے گی وہ مرجائے گا۔‘‘
(ص:۱۸ علامت:۶۴)
’’سانس کی ہوا اتنی دُور تک پہنچے گی جہاں تک آپ کی نظر جائے گی۔‘‘
(ص:۱۸ علامت:۶۵)
جواب:۔۔۔ اس سوال کا جواب کئی طرح دیا جاسکتا ہے:
۱:۔۔۔ مرزاقادیانی پر مسیحِ موعود کی ایک علامت بھی صادق نہیں آئی، مگر قادیانیوں کو دعویٰ ہے کہ انہوں نے مسیحِ موعود کو پہچان لیا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن پر قرآن وحدیث کی دوصد علامات صادق آئیں گی، ان کی پہچان اہلِ حق کو کیوں نہ ہوسکے گی۔۔۔؟
۲:۔۔۔ یہود نے پہچاننے کے باوجود نہیں مانا تھا، اور یہود اور ان کے بھائی (مرزائی) آئندہ بھی نہیں مانیں گے، نہ ماننے
164
کے لئے آمادہ ہیں۔ اہلِ حق نے اس وقت بھی ان کو پہچان اور مان لیا تھا، اور آئندہ بھی ان کو پہچاننے اور ماننے میں کوئی دِقت پیش نہیں آئے گی۔۔۔!
۳:۔۔۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا جو خاکہ اِرشاداتِ نبویہ میں بیان کیا گیا ہے، اگر وہ معترض کے پیشِ نظر ہوتا تو اسے یہ سوال کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ فرمایا گیا ہے کہ مسلمان دجال کی فوج کے محاصرے میں ہوں گے، نمازِ فجر کے وقت یکا یک عیسیٰ علیہ السلام کا نزل ہوگا،(۱) اس وقت آپ کا پورا حلیہ اور نقشہ بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیا ہے۔ ایسے وقت میں جب ٹھیک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ نقشے کے مطابق وہ نازل ہوں گے تو ان کو بالبداہت اسی طرح پہچان لیا جائے گا جس طرح اپنا جانا پہچانا آدمی سفر سے واپس آئے تو اس کے پہچاننے میں دِقت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی حدیث میں یہ نہیں آتا کہ وہ نازل ہونے کے بعد اپنی مسیحیت کے اِشتہار چھپوائیں گے، یا لوگوں سے اس موضوع پر مباحثے اور مباہلے کرتے پھریں گے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۱۸ تا ۲۲۰)
سوال:۔۔۔ لگے ہاتھوں مولوی صاحب اس رسالے میں یہ بھی بتادیتے تو مسلمانوں پر اِحسان ہوتا کہ ان کی (یعنی مسیحِ موعود کی) سانس مؤمن اور کافر میں کیونکر اِمتیاز کرے گی؟ کیونکہ بقول مولوی صاحب ان کی سانس نے صرف کافروں کو ڈھیر کرنا ہے۔ نظر ہر اِنسان کی بشرطیکہ کسی خاص بیماری کا شکار نہ ہو تو لامحدود اور ناقابلِ پیمائش فاصلوں تک جاسکتی ہے، اور جاتی ہے، تو کیا مسیحِ موعود اپنی نظروں سے ہی اتنی تباہی مچادے گا؟
جواب:۔۔۔ جس طرح مقناطیس لوہے اور سونے میں امتیاز کرتا ہے، اسی طرح اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی نظر بھی مؤمن وکافر میں اِمتیاز کرے تو اس میں تعجب ہی کیا ہے۔۔۔؟ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نظر (کافرکش) کا ذِکر مرزاقادیانی نے بھی کیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۰)
سوال:۔۔۔ اور اگر یہ سب ممکن ہوگا تو پھر دجال سے لڑنے کے لئے آٹھ سو مرد اور چار سو عورتیں کیوں جمع ہوں گی؟
(ملاحظہ ہو ص:۱۹، علامت نمبر۷۱)
جواب:۔۔۔ دجال کا لشکر پہلے سے جمع ہوگا اور دَمِ عیسوی سے ہلاک ہوگا، جو کافر کسی چیز کی اوٹ میں پناہ لیں گے، وہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۰)
سوال:۔۔۔ اور یأجوج مأجوج کو ہلاک کرنے کے لئے بددُعا کی ضرورت کیوں پیش آئے گی؟ (ملاحظہ ہو ص:۳۱، علامت نمبر۱۶۲)، کیا مسیحِ موعود کی ہلاکت خیز نظر یأجوج مأجوج کو کافر نہ جان کر چھوڑ دے گی؟ کیونکہ جیسا پہلے بتایا جاچکا ہے کہ کافر تو نہیں بچ
(۱) عن النواس بن سمعان رضی ﷲ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ فبینما ھو کذالک إذ بعث ﷲ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء الشرقی دمشق بین مھزودتین واضعًا کفیہ علٰی أجنحۃ ملَکین إذ طأطأ رأسہ قطر وإذا رفعہ تحدر مثل جمان کاللؤْلؤْ ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۳)۔
(۲) عن جابر عبدﷲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فیحاصرھم فیشتد حصارھم، ویجھدھم جھدًا شدیدًا، ثم ینزل عیسَی بن مریم ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان الشجر والحجر ینادی یا روح ﷲ ھٰذا یھودی فلا یترک ممکن کان یتبعہ احدًا إلَّا قتلہ۔ (مسند احمد ج:۲ ص:۳۶۷، ۳۶۸)۔
165
سکے گا، شاید اسی لئے آخری حربے کے طور پر بددُعا کی جائے گی۔
جواب:۔۔۔ یہ کہیں نہیں فرمایا گیا کہ دَمِ عیسوی کی یہ تأثیر ہمیشہ رہے گی، بوقتِ نزول یہ تأثیر ہوگی اور یأجوج مأجوج کا قصہ بعد کا ہے۔ اس لئے دَمِ عیسوی سے ان کا ہلاک ہونا ضروری نہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۰)
سوال:۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی طور پر یہ منوا بھی لیا جائے کہ مسیحِ موعود کا نام ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ بھی ہوگا، تو بھی یہ کیسے منوایا جائے کہ اس وقت یہ نام صفاتی نہیں ہوگا، بلکہ عیسیٰ بن مریم ہونے کی وجہ سے یقینی طور پر یہ وجود ہی وہی ہوگا جو کبھی مریم علیہا السلام کے گھر بغیر باپ کے پیدا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ، بلکہ مولوی صاحب اپنے رسالے میں خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ کبھی کبھی معروف نام اِستعمال تو ہوجاتا ہے لیکن ذات وہ مراد نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ نام مشہور ہوا ہو، مثلاً: ملاحظہ فرمائیں ص:۱۱ علامت نمبر۱۰، جہاں مولوی صاحب مسیحِ موعود کے خاندان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’آپ کے ماموں ہارون ہیں‘‘ (یا اُخت ہارون) لیکن مولوی صاحب فوراً چونک اُٹھتے ہیں اور ’’ہارون‘‘ پر حاشیہ جماتے ہیں: (ملاحظہ ہو حاشیہ زیر ص:۱۱) ’’ہارون سے اس جگہ ہارون نبی علیہ السلام مراد نہیں، کیونکہ وہ تو مریم سے بہت پہلے گزرچکے تھے، بلکہ ان کے نام پر حضرت مریم کے بھائی کا نام ہارون رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ تو جیسے یہاں مولوی صاحب کو ’’ہارون‘‘ کی فوراً تأویل کرنا پڑی تاکہ اُلجھن دُور ہو تو کیوں نہ جب مسیحِ موعود کو عیسیٰ بن مریم بھی کہا جائے تو اسے بھی صفاتی نام سمجھ کر تأویل کرلی جائے اور جسمانی طور پر پہلے والا عیسیٰ بن مریم مراد نہ لیا جائے، کیونکہ ابھی ابھی بتایا جاچکا ہے کہ مولوی صاحب کے اپنے حوالے کے مطابق بھی مسیح بن مریم کے اُٹھائے جانے کے بعد اس کا واپس آنا ممکن نہیں، کیونکہ کوئی آیت منسوخ نہیں ہوگی اور ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ والی آیت اُوپر ہی اُٹھائے رکھے گی، لوٹ آنے کی اجازت نہیں دی گے۔
جواب:۔۔۔ عیسیٰ بن مریم ذاتی نام ہے، اس کو دُنیا کے کسی عقل مند نے کبھی ’’صفاتی نام‘‘ نہیں کہا۔ یہ بات وہی مراقی شخص کہہ سکتا ہے جو باریش وبروت اس بات کا مدعی ہو کہ: ’’وہ عورت بن گیا، خدا نے اس پر قوّتِ رُجولیت کا مظاہرہ کیا‘‘، ’’وہ مریمی صفت میں نشوونما پاتا رہا، پھر وہ یکایک حاملہ ہوگیا، اسے دَردِ زہ ہوا، وضعِ حمل کے آثار نمودار ہوئے، اس نے عیسیٰ کو جنا، اس طرح وہ عیسیٰ بن مریم بن گیا۔‘‘ انبیاء علیہم السلام کے علوم میں اس ’’مراق‘‘ اور ’’ذیابیطس کے اثر‘‘ کی کوئی گنجائش نہیں
ہارون، حضرت مریم علیہ السلام کے بھائی کا ذاتی نام تھا، یہ کس احق نے کہا کہ وہ صفاتی نام تھا؟ اور خاندان کے بڑے بزرگ کے نام پر کسی بچے کا نام رکھ دیا جائے تو کیا دُنیا کے عقلاء اس کو ’’صفاتی نام‘‘ کہا کرتے ہیں؟ غالباً سائل کو یہی علم نہیں کہ ذاتی نام کیا ہوتا ہے اور صفاتی نام کس کو کہتے ہیں؟ ورنہ وہ حضرت مریم کے بھائی کے نام کو ’’صفاتی نام‘‘ کہہ کر اپنی ’’فہم وذکاوت‘‘ کا نمونہ پیش نہ کرتا۔ ہارون اگر ’’صفاتی نام‘‘ ہے تو کیا معترض یہ بتاسکے گا کہ ان کا ذاتی نام کیا تھا۔۔۔؟
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۱، ۲۲۲)
166
سوال:۔۔۔ مولوی صاحب نے اپنے رسالے ہی میں خود تأویل کا راستہ کھول دیا ہے، اور اس کا سہارا بھی لیا ہے (ملاحظہ ہو ص:۲۰، علامت نمبر۸۰)۔
۱:۔۔۔ ’’آپ صلیب توڑیں گے ۔۔۔۔۔ یعنی صلیب پرستی کو اُٹھادیں گے۔‘‘ یہ الفاظ جو مولوی صاحب نے خود لکھے ہیں، یہ محض تأویل ہے، اس حدیث شریف کی جس میں صرف صلیب کو توڑنے کا ذِکر ہے، صلیب پرستی اُٹھا دینے کی کوئی بات حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائی، کیا مولوی صاحب ایسے کوئی حدیث شریف کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ (پھر ملاحظہ ہو ص:۲۰، علامت نمبر۸۱)۔
۲:۔۔۔ ’’خنزیر کو قتل کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نصرانیت کو مٹائیں گے۔‘‘ یہ الفاظ بھی مولوی صاحب کی اپنی تأویل ہے، کیونکہ حدیثِ مذکور میں صرف خنزیر کو قتل کرنے کا اِرشاد ہوا ہے، باقی مولوی صاحب کے الفاظ وہاں موجود نہیں۔ کیا مولوی صاحب حدیث شریف میں یہ دکھاسکیں گے؟ ہرگز نہیں! کیونکہ یہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ نہیں، بلکہ مولوی صاحب یا دُوسرے علمائے کرام کی بیان فرمودہ تأویل ہے۔ اب یہ حق مولوی صاحب ہی کا کیوں ہے کہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں تأویل کرلیں۔‘‘
۳:۔۔۔ ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ کی بھی تأویل ہوسکتی ہے۔
جواب:۔۔۔ تأویل کا راستہ:۔۔۔ تأویل اگر علم ودانش کے مطابق اور قواعدِ شرعیہ کے خلاف نہ ہو تو اس کا مضائقہ نہیں، وہ لائقِ قبول ہے۔ لیکن اہلِ حق کی صحیح تأویل کو دیکھ کر اہلِ باطل اُلٹی سیدھی تأویلیں کرنے لگیں تو وہی بات ہوگی کہ:
’’ہر چہ مردم می کند بوز نہ ہم می کند‘‘
بندر نے آدمی کو دیکھ کر اپنے گلے پر اُسترا پھیر لیا تھا، مثلاً عیسیٰ بن مریم بننے کے لئے پہلے عورت بننا، پھر حاملہ ہونا، پھر بچہ جننا، پھر بچے کا نام عیسیٰ بن مریم رکھ کر خود ہی بچہ بن جانا، کیا یہ تأویل ہے یا مراقی سودا۔۔۔؟
۱:۔۔۔ ’’صلیب کو توڑ دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی صلیب پرستی کو مٹادیں گے‘‘ بالکل صحیح تأویل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک آدھ صلیب کے توڑنے پر اِکتفا نہیں فرمائیں گے، بلکہ دُنیا سے صلیب اور صلیب پرستی کا بالکل صفایا کردیں گے۔
۲:۔۔۔ ’’خنزیر کو قتل کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نصرانیت کو مٹادیں گے‘‘ یہ تأویل بھی بالکل صحیح ہے اور عقل وشرع کے عین مطابق، کیونکہ خنزیر خوری آج کل نصاریٰ کا خصوصی شعار ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصرانیت کے اس خصوصی شعار کو مٹائیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اہلِ جاہلیت کے کتوں کے ساتھ اِختلاط کو مٹانے کے لئے کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا۔(۱)
۳:۔۔۔ ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ کی تأویل:۔۔۔ یہ تأویل جو قادیانی کرتے ہیں، قرآنِ کریم اور اِرشاداتِ نبوی اور سلف صالحین کے عقیدے کے خلاف ہے، اس لئے مردُود ہے، اور اس پر بندر کے اپنا گلا کاٹنے کی حکایت صادق آتی ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۴، ۲۲۵)
(۱)عن ابن عمر ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم أمر بقتل الکلاب۔ (مسلم ج:۲ ص:۲۰)۔
167
سوال:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے تو حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مجید میں یہی حکم دیا تھا کہ ’’بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ‘‘ (المائدۃ:۶۷) ’’جو تیری طرف اُتارا گیا ہے اس کی تبلیغ کر‘‘ اور ساتھ ہی یہ توجہ بھی دلائی تھی کہ ”لَستَ عَلَیْہِم بِمُصَیْطِرٍ ‘‘ (الغاشیہ:۲۲) ۔ ’’میں نے تجھے ان پر داروغہ نہیں مقرّر کیا، بلکہ کھول کھول کر نشانیاں بیان کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔‘‘ اور یہ سب قرآن مجید میں بہ تفصیل موجود ہے۔
مولوی صاحب نے خود ہی فرمایا ہے کہ مسیحِ موعود خود بھی قرآن پر عمل کریں گے اور دُوسروں سے بھی کروائیں گے۔ (ملاحظہ ہو ص:۲۲ علامت نمبر۹۹) تو حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تو یوں خود عمل کرکے نہیں دِکھایا کہ اپنی نظروں سے لوگوں کو کھاگئے ہوں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں، یہودیوں کو چن چن کر قتل کردیتے رہے ہوں۔ (ملاحظہ فرمائیں ص:۲۱ علامت نمبر۸۷ اور نمبر۸۸) تو یہ کس قرآن مجید پر مسیحِ موعود کا عمل ہوگا؟ اور کس انداز کا عمل ہوگا؟ کیا ا سے مسیحِ موعود کی شان بلند ہوگی یا اسے دوبارہ نازل کرنے والے رحیم وکریم اللّٰہ تعالیٰ کی؟ (نعوذ باﷲ من ذالک)۔
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قیصر وکسریٰ کے تخت نہیں اُلٹے، خلفائے راشدینؓ نے کیوں اُلٹے؟ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہود کو جزیرۂ عرب سے نہیں نکالا تھا، حضرت عمرؓ نے کیوں نکالا؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بنو تغلب سے دوگنا زکوٰۃ وصول نہیں کی، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے کیوں کی؟ اگر یہ ساری چیزیں قرآنِ کریم اور منشائے نبوی کے مطابق ہیں، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سے کیوں ’’یہودیانہ‘‘ ضد ہے۔۔۔؟ وہ بھی تو جو کچھ کریں گے، فرموداتِ نبویہ کے مطابق ہی کریں گے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اُمور کی تفصیلات بھی بیان فرماچکے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۶)
سوال:۔۔۔ آج تک کتنی ہی باتیں مسلمانوں کے مختلف فرقے ابھی تک طے نہیں کرسکے، اور اگر تأویلات نہیں کی جائیں گی تو مولوی صاحب خود ہی اپنی بیان کردہ علامات کی طرف توجہ فرمائیں، سنجیدہ طبقے کے سامنے کیونکر منہ اُٹھاسکیں گے؟
جواب:۔۔۔ بہت سے جھگڑے تو واقعی طے نہیں ہوئے، مگر قادیانیوں کی بدقسمتی دیکھئے کہ جن مسائل پر مسلمانوں کے تمام فرقوں کا چودہ صدیوں سے اِتفاق رہا، یہ ان سے بھی منکر ہوبیٹھے، اور یوں دائرۂ اسلام ہی سے خارج ہوگئے۔ مثلاً: ختمِ نبوّت کا اِنکار، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا اِنکار، ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اِنکار، وغیرہ وغیرہ۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رُوح اللّٰہ‘‘ ہونا
سوال:۔۔۔ ایک عیسائی نے یہ سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ’’رُوح اللّٰہ‘‘ ہیں، اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’رسول اللّٰہ‘‘ ہیں، اس طرح حضرت عیسیٰ ’’رسول اللّٰہ‘‘ کے ساتھ ’’رُوح اللّٰہ‘‘ بھی ہیں، لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان بڑھ گئی۔
جواب:۔۔۔ یہ سوال محض مغالطہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’رُوح اللّٰہ‘‘ اس لئے کہا گیا کہ ان کی رُوح بلاواسطہ
168
باپ کے ان کی والدہ کے شکم میں ڈالی گئی، باپ کے واسطے کے بغیر پیدا ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ضرور ہے، مگر اس سے ان کا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے افضل ہونا لازم نہیں آتا۔ ورنہ آدم علیہ السلام کا عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونا لازم آئے گا کہ وہاں ماں اور باپ دونوں کا واسطہ نہیں تھا۔ پس جس طرح حضرت آدم علیہ السلام بغیر واسطہ والدین کے محض حق تعالیٰ شانہ کے کلمہ ’’كُن‘‘ سے پیدا ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر واسطہ والد کے کلمہ ’’كُن‘‘ سے پیدا ہوئے، اور جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کا بغیر ماںباپ کے وجود میں آنا ان کی افضلیت کی دلیل نہیں، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کی افضلیت کی دلیل نہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۳، ۲۶۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس طرح پہچانا جائے گا؟
سوال:۔۔۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر جسم کے ساتھ موجود ہیں تو جب وہ اُتریں گے تو لازم ہے کہ ہر شخص ان کو اُترتے ہوئے دیکھ لے گا، اس طرح تو پھر اِنکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں، اور سب لوگ ان پر اِیمان لے آئیں گے۔
جواب:۔۔۔ جی ہاں! یہی ہوگا اور قرآن وحدیثِ نبوی میں یہی خبر دی گئی ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے میں ہے:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے، مگر ضرور اِیمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ۔‘‘
اور حدیث شریف میں ہے:
’’اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے، کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا۔ قد میانہ، رنگ سرخ وسفید، بال سیدھے، بوقتِ نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو، ہلکے رنگ کی دو زرد چادریں زیبِ تن ہوں گی۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو بند کردیں گے، اور تمام مذاہب کو معطل کردیں گے، یہاں تک کہ اللّٰہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے، اور اللّٰہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کذّاب کو ہلاک کردیں گے، زمین میں امن وامان کا دور دورہ ہوجائے گا، یہاں تک کہ اُونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ، اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھلیں گے، ایک دُوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، پس
169
جتنا عرصہ اللّٰہ تعالیٰ کو منظور ہوگا زمین پر رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، پس مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے۔‘‘(۱)
(مسند احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳، مطبوعہ لاہور، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۷، ۲۴۸)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن کہاں ہوگا؟
سوال:۔۔۔ میں اس وقت آپ کی توجہ اخبار ’’جنگ‘‘ میں ’’کیا آپ جانتے ہیں‘‘ کے عنوان سے سوال نمبر۲ ’’جس حجرے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم دفن ہیں، وہاں مزید کتنی قبروں کی گنجائش ہے؟ اور وہاں کس کے دفن ہونے کی روایت ہے؟ یعنی وہاں کون دفن ہوں گے؟‘‘ اس کے جواب میںحضرت مہدیؓ لکھا ہوا ہے۔ جبکہ ہم آج تک علماء سے سنتے آئے ہیں کہ حجرے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔
جواب:۔۔۔ حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر حضرت مہدیؓ کی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۴)
حضرت مریمؓ کے بارے میں عقیدہ
سوال:۔۔۔ مسلمانوں کو حضرت مریمؓ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟ اور ہمیں آپؓ کے بارے میں کیا معلومات نصوصِ قطعیہ سے حاصل ہیں؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت آپؓ کی شادی ہوئی تھی؟ اگر ہوئی تھی تو کس کے ساتھ؟ کیا حضرت مریمؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’رفع الی السماء‘‘ کے بعد زندہ تھیں؟ آپؓ نے کتنی عمر پائی؟ اور کہاں دفن ہیں؟ کیا کسی مسلم عالم نے اس بارے میں کوئی مستند کتاب لکھی ہے؟ میری نظر سے قادیانی جماعت کی ایک ضخیم کتاب گزری ہے، جس میں کئی حوالوں سے یہ کہا گیا ہے کہ حضرت مریمؓ پاکستان کے شہر مری میں دفن ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر میں۔
(۱) عن ابی ھریرۃ رضی ﷲ عنہ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الأنبیاء إخوۃ لعلَّات، دینھم واحد، واُمَّھاتھم شتّٰی، وانا اولی الناس بعیسَی بن مریم لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبی وإنہ نازل فإذا رأیتموہ فاعرفوہ فإنہ رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض سبط کأنہ رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل بین ممصرتین فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویعطل الملل حتّٰی یھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا غیر الإسلام، ویھلک ﷲ فی زمانہ المسیح الدَّجَّال الکذَّاب وتقع الأمنۃ فی الأرض حتّٰی ترتع الإبل مع الأسد جمیعًا والنُّمور مع البقرۃ والذئاب مع الغنم ویلعب الصبیان والغلمان بالحیات لا یضر بعضھم بعضًا، فیمکث ما شاء ﷲ ان یمکث ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۱، طبع دارالعلوم کراچی)۔
(۲)عن عبدﷲ بن سلام قال: یدفن عیسَی بن مریم علیہ السلام مع رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم وصاحبیہ رضی ﷲ عنھما فیکون قبرہ رابع۔ (مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۷۰، طبع بیروت، ایضًا: مشکوٰۃ ص:۴۸۰)۔
170
جواب:۔۔۔ نصوصِ صحیحہ سے جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مریمؓ کی شادی کسی سے نہیں ہوئی۔(۱) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے وقت زندہ تھیں یا نہیں؟ کتنی عمر ہوئی؟ کہاں وفات پائی؟ اس بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی تذکرہ نہیں۔ مؤرّخین نے اس سلسلے میں جو تفصیلات بتائی ہیں، ان کا مأخذ بائبل یا اِسرائیلی روایات ہیں۔ قادیانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کی تائید قرآن وحدیث تو کجا، کسی تاریخ سے بھی نہیں ہوتی۔ ان کی جھوٹی مسیحیت کی طرح ان کی تاریخ بھی ’’خانہ ساز‘‘ ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۶۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق چند شبہات کا اِزالہ
سوال:۔۔۔ جناب مفتی صاحب! ہم صبح وشام سنتے ہیں کہ اسلام یہ کہتا ہے، اسلام وہ کہتا ہے، اور جب حوالہ پوچھا جائے تو کبھی کسی طبری، کسی ابنِ کثیر یا کسی غزالی کا نام بتادیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات مولانا رُومؒ، بلھے شاہ تک کے حوالے پیش کئے جاتے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ کسی کی بات کے اِسلامی یا غیراِسلامی ہونے کے لئے کسی اِنسان کے منہ کی بات دلیل نہیں ہوسکتی ہے، خدا اور رسول کے علاوہ کسی کو حوالے کے طور پر پیش کرنا کہاں کا اِنصاف ہے؟ اسلاف کا خیال ومقام جزئِ اِسلام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، کیونکہ عہدِ رسالت میں دِین کامل ہوچکا ہے، براہِ کرم درج ذیل سوالات کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل فرماکر عنداللّٰہ مأجور ہوں:
۱:۔۔۔ مریم سلام اللّٰہ علیہا صاحبِ حال ہیں، اچھا تو یہ تھا کہ وہ خود فرماتیں:وُلِدْتُ وَلَمْ اَتَزَوَّج۔
۲:۔۔۔ کیا کبھی عیسیٰ علیہ السلام نے خود اِقرار کیا ہے:ولدتنی اُمّی مریم الصدیقۃ ولم تتزوّج؟
۳:۔۔۔ کیا قرآن مجید میں کہیں اس کا ذِکر ہے کہ:ولدتہ مریم ولم تتزوّج؟
۴:۔۔۔ کیا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی یہ فرمایا ہے کہ مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر نکاح جنا ہے؟
۵:۔۔۔ یا کبھی یوں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت میں باپ کا کوئی تعلق نہیں؟
اگر ان سب صورتوں کا جواب نفی میں ہے، اور یقینا نفی میں ہے تو پھر بتایا جائے کہ مسلمانوں میں یہ نظریہ کب سے رائج ہے؟ اور سب سے پہلے کس نے اس کا اِظہار کیا ہے؟ نیز بغیر نکاح کے عمل کی کیا حقیقت ہے؟
کیا ہر نبی علیہ السلام کا حلال نکاح سے پیدا ہونا لازم تھا؟ جیسا کہ طبرانی میں اِرشادِ نبوی ہے کہ میرے سلسلۂ نسب میں کوئی
(۱) قال تعالٰی: وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاء الْعَالَمِیْنَ. ……إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ……قَالَتْ رَبِّ أَنَّی یَکُونُ لِیْ وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذَلِکِ اللّہُ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ ۔۔۔إلخ (آل عمران:۴۲ تا ۴۷)
وقال تعالٰی: قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّکِ لِأَہَبَ لَکِ غُلَاماً زَکِیّاً قَالَتْ أَنَّی یَکُونُ لِیْ غُلَامٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَلَمْ أَکُ بَغِیّاً (مریم)
ایضًا: واصطفٰک علٰی نسآء العٰلمین بأن وھب لک عیسٰی من غیر أب ولم یکن ذالک لأحد من النسآء۔ (تفسیر مدارک ج:۱ ص:۲۵۵ سورۃ آل عمران)۔
ایضًا: قال تعالٰی: واذکر فی الکتٰب مریم، وھی مریم بنت عمران من سلالۃ داوٗد علیہ السلام وکانت من بیت طاھر طیب فی بنی إسرائیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونشأت فی بنی إسرائیل نشأۃ عظیمۃ، فکانت إحدی العابدات الناسکات المشھورات بالعبادۃ العظیمۃ والتبتل والأووب۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۲۶۳ طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
171
بھی بغیر نکاح کے پیدا نہیں ہوا ہے، جس قدر بھی انبیاء نبوّت سے سرفراز ہوئے سب شریف النسب اور نجیب الطرفین تھے۔
اگر عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اِعتقادیات اور اِیمانیات سے ہے تو پھر اس کا ثبوت اہلِ فن کے نزدیک متواتراتِ صریحہ سے لازم ہے، اور اِستدلالات پر اس کا ثبوت دُرست نہیں۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ثبوت میرے ذمہ نہیں، بلکہ نظامِ اِلٰہی میں یہ طے شدہ ہے، جیسا کہ مشاہدہ ہو رہا ہے اور کلامِ اِلٰہی میں بھی اصل ہے، جیسا کہ اِرشادِ ربانی ہے: ’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی ‘‘ (الحجرات:۱۳)، ’’وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاء‘‘ (النساء:۱) بچہ میاں بیوی دونوں سے ہوتا ہے، صرف احد الزوجین سے نہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے: ’’وکانت النفخۃ التی نفخھا فی درعھا فنزلت حتّٰی ولجت فرجھا بمنزلۃ نکاح الأب الاُم‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۸ ص:۱۹۴) جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں جو پھونک ماری تھی وہ اس طرح ان کی فرج میں داخل ہوئی جس طرح کسی کا باپ حمل ٹھہرانے کے لئے اس کی ماں سے ملاپ کرتا ہے۔
آپ لوگ تو اس عبارتِ محولہ کو مانتے ہیں، جبکہ میں اس سے انکار کرتا ہوں، کیونکہ یہ فعل ملائکہ کا نہیں بلکہ شوہر کا ہے، مجھے ہم جنس شریف انسان کو باضابطہ شرعی نکاح سے باپ ٹھہرانا پسند ہے، جبکہ آپ لوگ اس کو پسند نہیں کرتے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنا رکھے ہیں، کسی نے بلانکاح کے باپ ٹھہرایا، کسی نے غیرجنس فرشتے کو باپ ٹھہرایا، خلاصہ یہ ہے کہ باپ کا کوئی منکر نہیں، ہم جنس اور نکاح کا اِنکار ہے، اور یہ سارے عقیدے شریعت کے خلاف ہیں، میں شریعتِ اسلامیہ کے مطابق ہم جنس مسلمان پاکباز سے نکاح مان کر باپ ٹھہراتا ہوں، چاہے عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا کوئی دیگر بنی آدم سے ہو۔ جو کوئی بھی نبوّت سے سرفراز ہوا ہے وہ شریف النسب اور نجیب الطرفین ہے، کسی نبی کا نسب اس کے معاصروں کے نزدیک اندھیرے میں نہیں ہوتا۔
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کے ثبوت کے لئے جتنے مقدمات آپ نے بیان کئے ہیں، وہ تمام باطل اور اِستدلالات غلط اور ناقص ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بِن باپ ہونے کے لئے قرآن مجید کی یہ ایک آیت ہی کافی ہے:’’وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَلَمْ أَکُ بَغِیّاً‘‘ (مریم:۲۰) اس میں حرام وحلال دونوں قسم کے جماع کی نفی ہے، نیز اس آیت کے سیاق وسباق سے خارق العادت طور سے پیدا ہونا بھی ظاہر ہے۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۵۵، ۱۵۶)
مسیحِ موعود سے عیسیٰ ابن مریم ہی مراد ہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ قیامت کے قریب نازل ہونے والے مسیحِ موعود سے عیسیٰ ابن مریم مراد ہیں یا کوئی اور عیسیٰ ومسیح؟ کیونکہ آج کل کئی مسیحِ موعود بنے پھرتے ہیں، مخالفین کہتے ہیں کہ احادیث متعلقہ مہدی وعیسیٰ جو سُنّی حضرات بیان کرتے ہیں، وہ سب موضوع اور ضعیف ہیں۔ ایسے عقیدے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ اہلِ سنت والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اُٹھائے گئے ہیں اور قیامت سے قبل آسمانوں سے نزول فرمائیں گے۔ قرآنِ پاک کے کثیر نصوصِ قطعیہ سے یہ عقیدہ ثابت ہے، اس میں ذرّہ بھر
172
شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس کثرت سے احادیث وارِد ہوئی ہیں کہ جن کو جمع کرکے علمائے کرام نے کئی مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔
حضرت علامۃالعصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس موضوع پر ’’عقیدۃ الإسلام فی نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ اور ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ مرتبہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، ان حضرات نے اور اسی طرح دیگر علمائے محققین نے حیاتِ مسیح اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو محققانہ انداز میں بیان فرمایا ہے کہ تمام روایات معنی ’’تواتر‘‘ کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ رہا یہ کہ مسیحِ موعود سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں یا کوئی اور عیسیٰ ومسیح مراد ہے؟ تو اس بارے میں خود اِمام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احادیث نزولِ عیسیٰ میں صرف حضرت ابنِ مریم علیہ السلام کا تعین فرمادیا ہے کہ بعد میں آنے والا کوئی کذّاب یہ دعویٰ نہ کرسکے کہ میں وہی مسیحِ موعود ہوں جس کی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ روایات میں صرف عیسیٰ کے لفظ کا ذِکر ہی نہیں تاکہ کل کو کوئی دجال اس سے غلط فائدہ نہ اُٹھائے، بلکہ روایات میں ابنِ مریم (مریم کے بیٹے) کی تصریح موجود ہے اور نزولِ ابنِ مریم علیہ السلام کے بارے میں از اَوّل تا آخر علامات بیان کی گئی ہیں، ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی کذّاب مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا، یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیان کردہ علامات سے ہٹ کر مہدیٔ موعود یا نزولِ عیسیٰ یا دجال وغیرہ واقعات کے بارے میں قیاس آرائیاں کرے گا تو ایسے شخص کا عقیدہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، بلکہ قرآن پاک کی نصوصِ قطعیہ سے متصادم ہے۔
قال ﷲ تبارک وتعالٰی:
’’وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘
(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)
وقال الإمام فخرالدین الرازی (تحت ھٰذہ الآیۃ): رفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء ثابت بھٰذہ الآیۃ ونظیر ھٰذہ الآیۃ قولہ تعالٰی فی آل عمران: اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُكَ مِنَ الَّذِینَ كَفَرُوا
(تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۰۳، سورۃ النساء)
(فتاویٰ حقانیہ ص:۲۴۶،۲۴۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثلِ آدم علیہ السلام ہونا
سوال:۔۔۔ سورۂ آل عمران آیت نمبر۵۹ میں ارشادِ خداوندی ہے:’’اِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِندَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَ‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کا مثیل اور مشبہ بتایا گیا ہے، لیکن آدم علیہ السلام بغیر ماںباپ کے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے تھے، تو پھر یہ تشبیہ کیسے صحیح ہوسکتی ہے؟
173
جواب:۔۔۔ چونکہ سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عادتِ مستمرہ کے خلاف ہوئی تھی، جو بغیر باپ کے تھی، اور یہ ایک عجیب واقعہ تھا، لیکن اس سے زیادہ عجیب تر سیّدنا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش تھی جو ماںباپ دونوں کے بغیر اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوئی تھی، تو یہاں عجیب واقعہ کی عجیب تر واقعہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور تشبیہ وتمثیل میں مشبہ کا مشبہ بہ کے ساتھ تمام وجوہات میں متحد اور یکساں ہونا لازم نہیں ہے، بلکہ مشبہ بہ کی بعض صفات کا مشبہ میں پایا جانا تشبیہ اور تمثیل کے لئے کافی ہوتا ہے، جیسے کسی انسان کی بہادری کی تشبیہ شیر کے ساتھ دی جاتی ہے، اگرچہ من کل الوجوہ یکساں نہیں ہوتے۔
لما قال الشیخ علاء الدین تحت قولہ تعالٰی:
’’اِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِندَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَط قلت ھو مثلہ فی احد الطرفین فلا یمنع إختصاصہ دون بالطرف الآخر من تشبیھہٖ لأن المماثلۃ مشارکۃ فی بعض الأوصاف ولأنہ شبہ بہٖ فی ان لہ وجودًا خارجًا عن العادۃ المستمرۃ وھما فی ذالک نظیران لأن الوجود من غیر أبٍّ واُمٍّ أغرب فی العادۃ من الوجود من غیر أبٍّ فشبہ الغریب بالأغرب لیکون أقطع للخصم واختم لمارۃ شبھتہ۔‘‘
(خازن ج:۱ ص:۲۵۷، آل عمران:۵۹)
وقال القرطبی:
’’فیہ دلیل علٰی صحۃ القیاس والتشبیہ واقع علٰی ان عیسٰی خلق من غیر أبٍ کآدم لأعلٰی انہ خلق من تراب والشیء قد یشبہ بالشیء وإن کان بینھما فرق کبیر بعد ان یجتمعا فی وصف واحد فإن آدم خلق من ترابٍ ولم یخلق عیسٰی من ترابٍ فکان بینھما فرق من ھٰذہ الجھۃ ولٰکن شبہ ما بینھما انھما خلقًا من غیر ابٍ۔ (اَحکام القرآن ج:۱ ص:۱۰۲، تحت اِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِندَ اللہِ كَمَثَلِ اٰدَمَ آل عمران:۵۹، ومِثْلُہٗ فی تفسیرہ الشھیر بالصاوی ج:۱ ص:۱۵۹)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۲ ص:۱۳۹)
حدیث: ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین‘‘ کی تحقیق
سوال:۔۔۔ ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین‘‘ کی یہ حدیث کسی کتاب میں موجود ہے یا کہ بیہقی کا جو حوالہ دیا جاتا ہے، اس میں ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حدیث: ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین‘‘ کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں، البتہ تفسیر ابن کثیر میں ضمناً یہ الفاظ لکھے ہیں، اور اسی طرح اور بعض کتبِ تصوّف میں نقل کردیا ہے، مگر سب جگہ بلاسند نقل کیا ہے، اس لئے یہ حدیث بہ چند وجوہ احادیثِ مشہورہ کے معارض نہیں ہوسکتی۔
اوّلاً:۔۔۔ معارض کے لئے مساوات فی القوۃ شرط ہے اور اس حدیث کا کہیں پتا نہیں اور جہاں کہیں ہے تو وہ بلاسند ہے،
174
اور یہ قول اَئمہ حدیث کا مقبول ومشہور ہے کہ: ’’لو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء‘‘
ثانیاً:۔۔۔ اگر بالفرض یہ حدیث معتبر ہی ہو تو اَحادیثِ متواترہ دربارہ حیات ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے معارض ہوگی اور ترجیح کی نوبت آئے گی تو ظاہر ہے کہ احادیثِ کثیرہ متواترۃ المعنی کو اس کے مقابلے میں ترجیح ہوگی، نہ ایک اس حدیث کو جس کا حدیث ہونا بھی ہنوز متعین نہیں۔
ثالثاً:۔۔۔ اگر ان الفاظ کو صحیح اور ثابت بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے وفاتِ عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ عالمِ زمین پر حیات ہوتے، کیونکہ حدیث میں اِتباعِ نبوّت کا ذِکر ہے اور یہ اِتباع اس عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ سو یہ صحیح ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس عالم میں زندہ ہوتے تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِتباع کرتے۔ اب چونکہ ایک دُوسرے عالم میں ہیں زندہ ہیں، اس لئے اِتباع ان پر ضروری نہ رہا۔ سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ اور اگر اس مضمون کو مبسوط دیکھنا چاہیں تو مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب نے اس مضمون پر مستقل رسالہ لکھا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیے۔(۱)
(امدادُالمفتین کامل ص:۱۳۳،۱۳۴)
تحقیق اِستدلال بربطلان دعویٔ مرزا بہ آیت: ’’فَلَمَّا جَآءَ ہُم‘‘
سوال:۔۔۔ صاحب مطول نے جو ’’لما‘‘ بمعنی ظرف اور مستعمل علیٰ طریقۃ الشرط کے تحت میں تحریر کیا ہے۔یلیہ فعل ماضی لفظًا او معنًی وقال سیبویہ لما الوقوع اموال وغیرہ تو جس قدر لما کذائیہ قرآن مجید میں ہیں سب اسی معنی پر واقع ہیں، مگر تین جگہ لما اس قاعدہ کے خلاف ہیں:
اوّل:۔۔۔ سورۂ یونس آیت:۵۴ میں قولہ تعالیٰ: ’’وَأَسَرُّواْ النَّدَامَۃَ لَمَّا رَأَوُاْ الْعَذَابَ‘‘
دوم:۔۔۔ سورۂ شوریٰ آیت:۴۴ میں قولہ تعالیٰ: ’’وَتَرَی الظَّالِمِیْنَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ یَقُولُونَ ہَلْ إِلَی مَرَدٍّ مِّن سَبِیْلٍ‘‘
سوم:۔۔۔ قولہ تعالیٰ:’’فَلَمَّا رَأَوْہُ زُلْفَۃً سِیْئَتْ وُجُوہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا‘‘ سورۂ ملک آیت:۲۷ میں۔
اب جناب سے اِستفسار کیا جاتا ہے کہ کیا ’’لما‘‘ ان ہر سہ جگہ میں حقیقی معنی پر مشتمل ہے یا مجازی پر؟ اور جو صاحبِ مدارک وغیرہ نے یہاں ’’حین‘‘ کے ساتھ ’’لما‘‘ کی ظاہر کی ہے تو کیا مجازی طور پر ہے اور اس صورت میں شرط کے معنی دُرست ہوسکتے ہیں یا نہ؟ اور کیا ’’حین‘‘ شرط کے لئے مستعمل ہوتا ہے اور ’’إذا‘‘ جو اِستقبال کے لئے ہوتا ہے ’’لما‘‘ کو ان ہر سہ مواقع پر اس کے معنی میں کہنا دُرست ہے یا نہیں؟ اور صاحبِ مدارک نے اس کے ساتھ کیوں تفسیر نہیں کی؟ جناب ان سب اُمور سے مفصل طور پر جواب فرمادیں۔ حضرت صاحب! اصلی مدعا اس سے عاجز کو دریافت کرنے کا یہ ہے کہ ایک مرزائی بدعقیدہ نے مجھ کو کہا کہ آیت:’’یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶) کا مصداق غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ ہے، تو میں نے اس کو جواب دیا کہ قطع نظر اور اَدّلہ کے خود یہی آیت اس مصداق بننے کی تردید کر رہی ہے، کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ: ’’فَلَمَّا جَاء ہُم بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوا ہَذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ‘‘ (الصف:۶)
(۱) الحمدللّٰہ! ’’اِحتسابِ قادیانیت‘‘ جلد دہم کے ص:۳۳۸ تا ۳۵۶ پر یہ رسالہ مکمل شائع ہوگیا ہے ۔۔۔مرتب۔
175
یعنی جس کی بابت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی وہ آچکے ہیں، یہ نہیں کہ آئندہ کو آئیں گے تو اس نے تین مواقع قرآن سے اِعتراضاً میرے پر پیش کئے، اور کہا کہ کیوں اسی جگہ پر ان مواقع کی طرح ہی معنی کئے نہ جائیں؟ لہٰذا آپ کے پاس بغرض تفصیل کے یہ سوال بھیجا جاتا ہے، تاکہ احقرالعباد کو کسی معتبر تفسیر مثلاً کشاف وغیرہ سے بخوبی واضح کردیں، ہمارے پاس سوائے کتبِ نحو درسیہ کے اور کوئی کتاب نہیں ہے، اور نہ ہی اتنی لیاقت ہے، اس لئے ضرور بصد ضرور جواب سے مشرف فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ کیا مرزا کے اس دعوے کا بطلان اسی دلیل پر موقوف ہے؟ جو آپ اس کے سالم رہنے کی اس قدر سعی فرماتے ہیں۔۔۔! اس دلیل کو چھوڑ دیجئے، اور ظاہر ہے کہ دلیل کے انتفاء سے مدلول کا انتفاء لازم نہیں آتا، لأن الدلیل ملزوم والمدلول لازم اور انتفاء الملزوم لا یستلزم انتفاء للازم (تتمہ خامسہ ص:۲۵)۔
۲۵؍شعبان ۱۳۳۵ھ
(امدادُ الفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳۸،۴۳۹)
رفع تردّدات بعض مائلین سوئے قادیانی
سوال:۔۔۔ جناب بندہ تسلیم، مزاج شریف! اثناء تقریر میں جو آپ نے کل بمقام سہارنپور جلسے میں بڑے لطف سے فرمایا تھا کہ: ’’ہم تمام قسم کے شکوک کو رفع اور اِعتراضات کا بلا تعصب جواب دینے کو موجود ہیں، کوئی محرک بن کر دکھادے۔‘‘ اسی سے مجھے جرأت ہوئی ہے کہ آپ کے قیمتی وقت کا کچھ حصہ لوں، اگرچہ مجھ سے جناب مرزاقادیانی سے فی زمانہ کوئی سروکار نہیں اور میں ایک ایسی اسٹیج پر ہوں جو بباعثِ شکوک بالکل متزلزل اور قریب ہے کہ پھسل کر بالکل برباد ہوجانے والی ہو، زیادہ تر میلان آپ ہی لوگوں کی طرف ہے، مگر تاہم میں جس قدر سوالات کروں گا ان سے میرا مرجع طبیعت زیادہ تر جناب مرزاقادیانی ہی کی طرف ان کی مطابقت اُصول میں ثابت ہوگا۔
سوالِ اوّل:۔۔۔ مسیح کی حیات وممات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جناب مرزاقادیانی نے قرآن شریف کی تیس آیات(’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷)، ’’قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (آل عمران:۱۴۴) وغیرہ) سے ان کی ممات ثابت کی ہے، کیا آپ کسی آیت سے ان کی حیات کا ثبوت دے سکتے ہیں؟ مہربانی کرکے مرزاقادیانی کے دلائل کی تردید کرتے ہوئے اپنے دعاوی کا ثبوت قرآن شریف کی آیات اور احادیث سے مع پتا رُکوع وسورۃ تحریر فرمائیں۔
سوالِ دوم:۔۔۔ اگر مسیح کی وفات کو آپ تسلیم کرتے ہیں اور زمانۂ نزولِ مسیح بھی کہا جاتا ہے کہ یہی ہے اور جناب ختم رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی مثیل موسیٰ علیہ السلام مسلم ہوچکے ہیں تو پھر مرزاقادیانی کو مسیحِ موعود کیوں نہ مانا جائے؟ اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ مرزاقادیانی ہی مسیحِ موعود ہے تو کیا پھر ان کی مخالفت میں کفر لازم ہوگا؟ اور کیا یہ لازم نہیں کہ فی الفور ان کی بیعت کرلی جائے؟
سوالِ سوم:۔۔۔ کیا فرشتوں کا نزول زمین پر بہ جسد ہوتا رہا ہے؟ اور کیا کوئی مردہ پہلے زمانے میں اس طرح مستقل طور سے زندہ ہوا ہے کہ جینے کے بعد برسوں جیتا رہے اور خدا نے اس کی نسل میں برکت دی اور پھولا پھلا؟
176
سوالِ چہارم:۔۔۔ اگر مسیح زندہ ہیں اور ان کو دوبارہ تشریف لانا ہے، تو کیا اس سے جناب رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ رِسالت میں ۔۔۔معاذاللّٰہ!۔۔۔ کوئی فرق لازم نہیں آتا؟ فرض کرو! حضور ایڈورڈ کی عہدِ حکومت میں لارڈ کرزن انگلستان سے آکر ہندوستان میں کچھ زمانہ حکومت کرکے واپس بلایا جائے تو عمل داری حضور ایڈورڈ کی سمجھی جائے گی یا لارڈ کرزن کی؟ اور کیا حضور ایڈورڈ کی حکومت کے ساتھ لفظ قیام اور ختم کا اِستعمال کیا جائے گا، یا لاڑد کرزن کی حکومت کے ساتھ؟ اور کیا جب مسیح دوبارہ دُنیا میں رونق افروز ہوں گے، اس وقت بھی وہ رسول ہوں گے یا ان کا درجہ ان سے چھین لیا جائے گا؟ اور بہشت سے نکال کر پھر کیوں انہیں دُنیا میں بھیجا جائے گا؟ اَز راہِ کرم ان کے جواب سے مفصل مطلع فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ مکرم بندہ، السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ!
میں مسرور ہوا کہ آپ نے اپنے شبہات پیش فرمائے ہیں، آئندہ کے لئے بھی اس خدمت سے مشرف ہونا چاہتا ہوں، لیکن کچھ ضروری اُمور بطور اُصولِ موضوعہ کے عرض کردینا مناسب سمجھتا ہوں، جن کی رعایت سے آپ کو اور مجھ کو سہولت رہے گی۔
نمبر۱:۔۔۔ جس دعوے کی آپ دلیل پوچھیں، آپ کو تعینِ دلیل کا حق نہ ہوگا کہ قرآن سے ثابت ہو یا حدیث سے۔ شریعت کے اُصول میں سے جس اصل سے دِل چاہے مجیب کو جواب دینا جائز ہوگا، مع لحاظ درجہ دعویٰ۔
نمبر۲:۔۔۔ اپنی جس دلیل یا مضمون کا آپ جواب چاہیں اس دلیل اور مضمون کی پوری تقریر کردینا آپ کے ذمہ ہوگی، اِجمال اور اِشارہ کافی نہ سمجھا جائے گا، نہ کسی دُوسرے شخص کے بیان کا حوالہ کافی ہوگا، وہی تقریر آپ نقل کریں، مگر اپنی طرف منسوب کرکے۔
نمبر۳:۔۔۔ دلیل کے جواب میں مجیب کو اِختیار ہوگا کہ کسی خاص مقدمے پر دلیل کا مطالبہ کرے، جب تک اس مقدمے پر دلیل نہ پیش کی جائے گی، اس وقت تک یہی مطالبہ جواب ہوگا، اس کا نام منع ہے۔
نمبر۴:۔۔۔ اِستدلال یا جوابِ اِستدلال میں آپ کو تطویل کا حق نہ ہوگا، اگر جواب مختصر مگر کافی ہو، آپ اس پر یہ شبہ نہیں کرسکتے کہ یہ جواب چھوٹا ہے۔
نمبر۵:۔۔۔ وہی مضامین لکھ سکیں گے جو واقع میں آپ کو شبہ میں ڈال رہے ہیں، اور جواب کو خلو ذہن کے ساتھ معائنہ فرمانا ضرور ہوگا، کیونکہ محض سوچ کر کوئی شبہ زبردستی صرف رَدّ کرنے کی غرض سے پیش کردینا، یہ مجادلین کا کام ہے نہ کہ طالبینِ حق کا، اور اس سے کبھی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
۶:۔۔۔ جو سوال آپ کریں، اس کی غرض اور غایت کا ضرور ساتھ ساتھ اِظہار فرمایا جائے، اور جو وجہ اِشکال کی ہو، اس کو بھی ظاہر فرمادیا جائے، بدون اس کے کہ ایسے سوالوں کا جواب بذمہ مجیب نہ ہوگا، کیونکہ بے نتیجہ کام میں وقت صَرف کرنا عبث ہے۔ اب جواب عرض کرتا ہوں۔
جواب سوالِ اوّل:۔۔۔ حضرت مسیح علیہ السلام میرے عقیدے میں زندہ ہیں، ان آیتوں میں سے جس جس کی تقریر آپ
177
نقل کریں گے، اس کا جواب میرے ذمہ ہوگا (اُصولِ موضوعہ نمبر۲)۔ آپ کو ایسے سوال کا حق نہیں کہ آیت یا حدیث سے ثبوت دے سکتے ہیں، البتہ اتنا سوال کرسکتے ہیں کہ حیات کی کیا دلیل؟ پھر مجیب کو اِختیار ہے جو دلیل چاہے بیان کرے، اور آپ کو پھر اس پر موجہ شبہ کرنے کا حق ہے (اُصولِ موضوعہ نمبر۱)۔
جواب سوالِ دوم:۔۔۔ چونکہ اس سوال کے سب اجزاء اِعتقاد وفاتِ مسیح علیہ السلام پر متفرّع ہیں اور میں خود وفات کا قائل نہیں، اس لئے کسی جز کا جواب میرے ذمہ نہیں۔
جواب سوالِ سوم:۔۔۔ اس سوال کی غرض اور جو اس میں وجہ اِشکال ہے ظاہر فرمائیے تو جواب دیا جائے (اُصولِ موضوعہ نمبر۶)۔
جواب سوالِ چہارم:۔۔۔ فرق آنے کی وجہ لکھئے تو جواب دیا جائے (اُصولِ موضوعہ نمبر۲)۔ آگے جو مثال لکھی ہے اس کو ممثل لہ پر پورا بدلیل منطبق فرماکر پھر اِشکال کیجئے۔
ان سوالات کے لئے ان ہی اُصولِ موضوعہ کو کافی سمجھا گیا۔ اگر کسی جدید سوال سے کسی اور اصل موضوع کی ضرورت معلوم ہوگی، اُصولِ موضوعہ کا نمبر بڑھادیا جائے گا۔ اُصولِ موضوعہ کے لحاظ سے سوال فرمائیے تاکہ باضابطہ گفتگو ہو، البتہ اگر کسی اصل موضوع کو آپ غلط ثابت کردیں گے، اس کا جواب یا رُجوع میرے ذمہ ہوگا۔ والسلام
۱۱؍ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ (اِمداد رابع ۱۴۲)
(اِمدادُ الفتاویٰ ج:۶ ص:۱۳۹ تا ۱۴۱)
مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزۂ اِحیائِ موتیٰ کا کیوں منکر تھا؟
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزۂ اِحیائِ موتیٰ کا اس بنا پر منکر ہے کہ قرآن میں رَدِّمیراث ورَدِّنکاح کے (اگر اس کی بیوہ نے کسی اور سے نکاح کرلیا ہو) اَحکام بیان نہیں کئے۔ جبکہ میرا جواب یہ ہے کہ اگر رَدِّمیراث ورَدِّنکاح کی ضرورت ہوتی تو قرآن میں اس کے اَحکام ہوتے، چونکہ اس کے مرنے کے بعد اس کا مال اور اس کی ملک متعہ زائل ہوگئی، وہ محض اِحیاء سے واپس نہیں ہوسکتی، تاوقتیکہ اس کے مشروط اسباب وقیود نہ مہیا ہوں، یعنی وہ پھر مال کمائے یا وارث کسی کا بنے اور اَزسرِنو نکاح کرے وغیرہ، فما جوابکم فی ھٰذہ المسئلۃ؟
جواب:۔۔۔ قال فی الشامیۃ فی باب المفقود تحت قول الدر فإن ظھر قبلہ ای قبل موت اقرانہ حیا ۔۔۔إلخ ما نصہ لٰکن لو عاد حیًّا بعد الحکم بموت اقرانہ قال الظاھر انہ کالمیت إذا احیی والمرتد إذا اسلم فالباقی فی ید ورثتہ لہ ولا یطالب بما ذھب قال ثم بعد رقمہ رأیت المرحوم ابا السعود نقلہ عن الشیخ شاھین
(ج:۳ ص:۳۶۳ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
وفی البحر فی أحکام المرتدین وإن عاد مسلمًا بعد الحکم بلحاقہ فما وجدہ فی ید وارثہ اخذہ وإلَّا لا ای وإن لم یجدہ قائمًا فی یدہ فلیس لہ اخذ بدلہ منہ لأن الوارث انما یخلفہ فیہ لاستغنائہ وإذا عاد مسلمًا یحتاج إلیہ
178
فیقدم علیہ وعلٰی ھٰذا لو أحیا ﷲ میتًا حقیقۃ وأعادہ إلٰی دار الدُّنیا کان لہ اخذ ما فی ید ورثتہ واطلق فی قولہ وإلَّا لا فشمل ما إذا کان ھالکًا او ازالہ الوارث عن ملکہ وھو قائم سواء کان بسبب یقبل الفسخ کبیع او ھبۃ او لا یقبلہ کعتق وتدبیر وإستیلاء فإنہ یمضی ولا عود لہ فیہ ولا یضمنہ شمل ما لم یدخل فی ید وارثہ اصلًا کمد بریہ وامھات اولادہ المحکوم بعتقھم بسبب الحکم بلحاقہ فإنھم لا یعودون فی الرق لأن القضاء بعتقھم قد صح بدلیل مصحح لہ والعتق بعد نفاذہ لا یقبل البطلان۔ (ج:۵ ص:۱۳۴) قلت وکذا إذا تزوجت زوجۃ المیت بعد عدۃ الوفاۃ رجلًا فنکاحہ صحیح ولا یبطل بعود المیت حیًّا فإن الحکم بصحتہ قد تم بدلیل مصحح لہ وﷲ اعلم، واما لو تزوجت فی العدۃ فلا شک فی بطلان النکاح الثانی وھل تعود إلی الزوج الأوّل الذی اعید حیًّا فی عدتھا بدون تجدید نکاح بینھما او بالتجدید؟ فالظاھر الأوّل لقول الفقھاء المرأۃ تغسل زوجھا المیت لأن إباحۃ الغسل مستفاد بالنکاح والنکاح بعد الموت باق إلٰی ان تنقضی العدۃ (شامی ج:۲ ص:۸۹۷)۔
۱۳؍شوال ۱۳۴۶ھ از تھانہ بھون
(اِمدادُ الاحکام ج:۱ ص:۱۶۷،۱۶۸)
مسیحِ موعود کا دعویٰ کرنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو مسیحِ موعود کہتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ اور عربی میں کیا ’’موعود‘‘ کے معنی: ’’جس کے بارے میں وعدہ دیا گیا تھا‘‘ ملتے ہیں؟ اس کی وضاحت کیجئے۔
سائل: محمد اِسماعیل از شجاع آباد
جواب:۔۔۔ ’’موعود‘‘ کے معنی: ’’جو وعدہ کیا گیا‘‘ کے ہیں، جیسے ’’مقتول‘‘ کے معنی ہیں: ’’جو قتل کیا گیا‘‘۔ ’’موعود‘‘ کا یہ معنی نہیں ’’جس کے بارے میں وعدہ کیا گیا‘‘۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کے بارے میں (دوبارہ آنے کا) وعدہ کیا گیا تھا، تو اسے عربی میں یوں کہنا ہوگا: ’’انا المسیح الموعود بہٖ‘‘ اگر وہ کہتا ہے: ’’انا المسیح الموعود‘‘ تو عربی زبان کے اِعتبار سے دُرست نہیں ہوگا۔
مصر میں جب یہ بات پہنچی کہ ہندوستان میں ایک شخص نے وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کا (احادیث میں) وعدہ کیا گیا تھا، تو ان لوگوں نے اسے ’’المسیح الموعود بہٖ‘‘ کے لفظ سے ذِکر کیا، ’’مسیحِ موعود‘‘ سے نہیں۔ اور کوئی عربی دان کسی شخص کے بارے میں ’’موعود‘‘ کا لفظ اِستعمال نہیں کرسکتا، یہ مطلق اسمِ مفعول نہیں، سو اسے ’’مسیحِ موعود‘‘ نہیں کہا جاسکتا، اور کوئی عربی دان کسی شخص کے بارے میں ’’مسیحِ موعود‘‘ نہیں کہہ سکتا، اس کے ساتھ ’’باء‘‘ کا اِضافہ ضروری ہے، سو یہاں ’’المسیح الموعود بہٖ‘‘ چاہئے۔
۲:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو خود ’’مسیحِ موعود‘‘ لکھتا ہے، اور عربی میں بھی اپنے آپ کو ’’المسیح الموعود‘‘ کہتا ہے، اپنے خطبۂ اِلہامیہ میں کہتا ہے:
’’والعبد المنصور والمھدی المعھود والمسیح الموعود۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸، خزائن ج:۱۶ ص:۵۱)
179
علامہ رشید رضا مصری ایک مقام پر مرزا غلام احمد کے اس دعویٔ مسیحیت کا یوں تذکرہ کرتے ہیں:
’’وظھر فی الھند رجل آخر سلمی ادعی انہ ھو المسیح الموعود بہ وھو غلام احمد القادیانی۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہندوستان میں ایک اور بیوقوف نکلا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیحِ موعود بہ ہے۔‘‘
اور:
’’کان ھٰذا الرجل یستدل بموت المسیح ورفع روحہ إلی السماء کما رفعت ارواح الأنبیاء علٰی انہ ھو المسیح الموعود بہٖ۔‘‘
(تفسیر المنار)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ شخص مسیح کی وفات سے اِستدلال کرتا ہے کہ المسیح الموعود بہٖ وہ خود ہے۔‘‘
سو مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ وہ مسیحِ موعود ہے، علمی اِعتبار سے بالکل غلط ہے، اسے مسیحِ موعودبہٖ کہنا چاہئے تھا۔
خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۴۸۴،۴۸۵)
ظہورِ اِمام مہدیؓ اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فتویٰ
سوال:۔۔۔ جناب مفتی صاحب! دربارہ ظہورِ اِمام مہدیؓ ونزولِ حضرت عیسیٰ ۔۔۔علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ حسبِ ذیل مسائل کے بارے میں اہلِ سنت والجماعۃ کے صحیح عقائد سے آگاہ فرمائیں:
۱:۔۔۔ کیا اِمام مہدیؓ آخر الزمان حضرت حسینؓ کی اولاد سے ہوں گے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں؟ احادیثِ نبویہ کی روشنی میں حضرت مہدی کے اِمام حسینؓ یا اِمام حسنؓ کی اولاد میں سے ہونا بیان فرمائیں۔
۲:۔۔۔ حضرت مہدیؓ کب اور کہاں پیدا ہوں گے؟ ان کا اسمِ مبارک اور ان کے والدین کے اسمِ مبارک، ان کے بارے میں آوازِ غیب اور جامع حالات مہدیؓ وحضرت عیسیٰ علیہ السلام تحریر فرمائیں۔
۳:۔۔۔ نازل ہونے والے حضرت عیسیٰ سے ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ مراد ہیں یا کوئی اور عیسیٰ؟ کیونکہ آج کل کئی مسیحِ موعود بنے پھرتے ہیں، لامذہب حضرات یہ کہتے ہیں کہ: ’’احادیث متعلقہ مہدیؓ ونزولِ عیسیٰ جو سُنّی حضرات بیان کرتے ہیں، وہ موضوع اور ضعیف ہیں، بلکہ اعلیٰ مہدی ابن حسن عسکری یا مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔‘‘ جواب سے مطلع فرمادیں۔
جواب۱:۔۔۔ حضرت مہدیؓ کا فاطمی اور خانوادۂ رسول میں سے ہونا، احادیثِ قویہ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے، اکثر روایات میں حضرت مہدیؓ کے بارے میں:’’رجلٌ من اھل بیتی‘‘ (یعنی میرے خاندان اہلِ بیت میں سے ہوگا) اور: ’’من عترتی‘‘ (میری اولاد میں سے) کے الفاظ موجود ہیں۔ ترمذی شریف (ج:۲ ص:۴۶) میں متعدّد روایات میں، جنہیں اِمام ترمذیؒ نے ’’حدیث حسنٌ صحیحٌ‘‘ کہا ہے، نیز ابوداؤد کی روایت میں ہے:’’عن اُمّ سلَمۃ قالت: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم‘‘
180
حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا کہ: ’’یقول: المھدی من عترتی من أولاد فاطمۃ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۷۰) بروایت ابوداؤد شریف فرماتے ہیں کہ حضرت مہدیؓ سیّد اور فاطمۃ الزہراءؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ’’اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ‘‘ میں تحریر فرمایا کہ: اس بارے میں متعدّد روایات وارِد ہوئی ہیں، وہ معناً حدِ تواتر کو پہنچ چکی ہیں۔ رہی یہ بات حضرت مہدیؓ والدہ اور والد ماجد دونوں جانبوں سے نجیب الطرفین سیّد ہوں گے، والدین ایک سلسلہ حضرت اِمام حسنؓ اور ایک حضرت حسینؓ سے ہوگا جیسا کہ شیخ ابن حجر مکی ہیثمیؒ نے بھی یہی تصریح فرمائی ہے۔
۲:۔۔۔ حضرت مہدیؓ کے اِجمالی حالات، حضرت مہدیؓ کے علاماتِ ظہور، ان کے حالات شکل وشباہت اور شمائل اور عادات احادیثِ نبویہ میں مفصلاً مذکور ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین دہلویؒ نے علاماتِ قیامت کے ضمن میں ان چیزوں کوبھی مفصل اور یکجا جمع کیا ہے۔ اس رسالے کی بنیاد آیاتِ قرآنیہ اور مستند احادیثِ نبویہ پر ہے۔ یہاں ان کے رسالے ’’علاماتِ قیامت‘‘ سے اِجمالاً مختصر حالات نقل کئے جاتے ہیں۔
حضرت اِمام مہدیؓ کے ظہور کی علامت یہ ہوگی کہ اس سے قبل (اوّل) ماہِ رمضان میں چاند اور سورج گرہن لگ چکے گا، اور بیعت کے وقت آسمان سے ند ا آئے گی:
’’ھٰذا خلیفۃ ﷲ المھدی، فاستمعوا لہ واطعیوا!‘‘
یہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے، اس کا حکم سنو اور مانو! اس آواز کو اس جگہ تمام خاص وعام سنیں گے۔ حضرت اِمام سیّد، اور اولادِ فاطمہ سے ہوں گے۔ آپ کا قد وقامت قدرے لمبا بدن، رنگ کھلا ہوا، اور چہرہ پیغمبرِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مشابہ ہوگا۔ نیز آپ کے اخلاق پیغمبرِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہوں گے۔ آپ کا اسم شریف ’’محمد‘‘، والدہ صاحبہ کا نام ’’آمنہ‘‘ ہوگا۔ زبان میں قدرے لکنت ہوگی، جس کی وجہ سے تنگ دل ہوکر کبھی کبھی ران پر ہاتھ مارتے ہوں گے۔ آپ کا علم لدنی (خداداد ہوگا)، بیعت کے وقت عمر چالیس سال کی ہوگی، خلافت کے مشہور ہونے پر مدینہ کی فوجیں آپ کے پاس مکہ معظمہ چلی آئیں گی۔ شام، عراق اور یمن کے اولیائے کرام وابدالِ عظام آپ کی مصاحبت میں اور ملکِ عرب کے بے اِنتہا آدمی آپ کی افواج میں داخل ہوجائیں گے، اور اس خزانے کو جو کعبہ میں مدفون ہے، جس کو ’’تاج الکعبہ‘‘ کہتے ہیں، نکال کر لوگوں پر تقسیم فرمائیں گے۔ (آگے مفصل حالات میں یہاں تک کہ دجال کے دمشق پہنچنے سے قبل) حضرت اِمام مہدیؓ دمشق آچکے ہوں گے اور جنگ کی پوری تیاری اور ترتیب فوج کرچکے ہوں گے اور اَسبابِ حرب وضرب تقسیم کرچکے ہوں گے کہ مؤذِّن عصر کی اَذان دے گا، لوگ نماز کی تیاری میں ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر تکیہ کئے آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی منارے جلوہ افروز ہوکر آواز دیں گے کہ سلم (سیڑھی لے آؤ) سیڑھی حاضر کی جائے گی، آپ اس کے ذریعے سے فروش ہوکر حضرت اِمام مہدیؓ سے ملاقات فرماویں گے، اِمام مہدیؓ نہایت تواضع اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آئیں گے (صحیح مسلم وغیرہ)۔ اور فرمائیں گے: یا نبی اللّٰہ اِمامت کیجئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِرشاد فرمائیں گے کہ: اِمامت تم کرو، کیونکہ تمہارے بعض، بعض کے لئے اِمام ہیں، اور یہ عزّت اسی اُمت کو
181
خدا نے دی ہے۔ پس اِمام مہدیؓ نماز پڑھائیں گے، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اِقتدا کریں گے، (اس کے بعد دونوں اِکٹھے رہ کر دجال کا مقابلہ، کفر وضلالت کا اِستیصال کریں گے)، تمام زمین اِمام مہدیؓ کے عدل وانصاف کے چمکاروں سے منوّر وروشن ہوجائے گی، ظلم، بے انصافی کی بیخ کنی ہوگی، آپ کی عمر ۴۹سال ہوگی، بعد اَزاں حضرت اِمام مہدیؓ کا وصال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ کی جنازے کی نماز پڑھاکر دفن فرمائیں گے۔ اس کے بعد تمام چھوٹے بڑے اِنتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ آجائیں گے، دُنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیام چالیس سال رہے گا (یہ تمام حالات صحاحِ ستہ اور دیگر کتبِ حدیث میں مذکور ہیں، تفصیل کے لئے شاہ رفیع الدینؒ کی کتاب ’’علاماتِ قیامت‘‘ دیکھئے، واللّٰہ اعلم!
۳:۔۔۔ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ قیامت سے قبل ابن مریم علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے، قرآن کے بے شمار نصوصِ قطعیہ سے یہ عقیدہ ثابت ہے، اس میں ذرّہ برابر شبہ نہیں، نزولِ عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں اس کثرت سے احادیث وارِد ہوئی ہیں کہ علماء نے اسے مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے۔
حضرت علامۃالعصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے اس موضوع پر ’’عقیدۃ الإسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ اور ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ (مرتبہ مولانا مفتی محمد شفیعؒ) میں حیات ونزولِ عیسیٰ کو محققانہ انداز سے ثابت کیا ہے کہ تمام روایات متعددہ اور اَحادیث معنی تواتر کی حد تک پہنچ گئی ہیں، رہا یہ کہ عیسیٰ بن مریم ہیں یا کوئی اور عیسیٰ؟ تو اس بارے میں خود حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اَحادیث نزولِ عیسیٰ میں ابن مریم کہہ ان دجالین اور کذّابین کی جڑ کاٹ دی ہے، عیسیٰ کا لفظ اکثر روایات میں ذِکر ہی نہیں تاکہ کل کوئی دَجال اس نام سے غلط فائدہ نہ لے سکے، حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی مشہور حدیث ہے:
’’قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل ابن مریم حکمًا عدلًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احدٌ۔‘‘
(حدیث حسن صحیح، مشکوٰۃ ص:۴۷۹، بحوالہ مسلم ج:۲ ص:۴۷، ترمذی ج:۲ ص:۴۶)
’’فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: قسم رَبّ کی! قریب ہے کہ مریم کا بیٹا تم میں اُتریں جو عادل ومنصف فیصلہ کرنے والے ہیں، صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کرکے کفار سے جزیہ نہ قبول کرنے کے اَحکام صادر کرلیں گے۔ مال ودولت کی اتنی فراوانی ہوجائے گی کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا۔‘‘
بخاری شریف، مسلم شریف کی دُوسری حدیث میں ہے:
’’قال: کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم۔‘‘
(متفق علیہ، بحوالہ مشکوٰۃ شریف ص:۴۸۰)
’’اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب ابنِ مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارے اِمام (مہدی) تم ہی میں سے ہوں گے۔‘‘
182
حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ کی روایت میں ہے:
’’قال: فینزل عیسَی ابن مریم۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۷۹، بحوالہ مسلم شریف)
’’فرمایا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ: پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔‘‘
حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ سے روایت ہے:
’’قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ینزل عیسَی بن مریم علیہ السلام إلی الأرض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسًا واربعین سنۃً ثم یموت فیدفن معی فی قبری فأقوم انا وعیسَی بن مریم فی قبرٍ واحدٍ بین ابی بکر وعمر۔‘‘
(مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ص:۴۷۹)
’’حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ کی روایت ہے فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ عیسیٰ بن مریم زمین میں نازل ہوں گے، شادی کریں گے اور ان کی اولاد بھی پیدا ہوگی، اور ۴۵سال تک ٹھہریں گے، پھر وفات پاکر میرے پہلو میں دفن ہوں گے، پھر قیامت کے دن میں اور عیسیٰ بن مریم اِکٹھے ابوبکر وعمر کے درمیان قبر سے اُٹھیں گے۔‘‘
اس کے علاوہ کئی احادیث ہیں جن میں ابنِ مریم (مریم کے بیٹے) کی تصریح موجود ہے اور نزولِ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں از اوّل تا آخر علامات بیان کی گئی ہیں، ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی مسیحِ موعود یا مہدی آخری الزمان ہونے کا دعویٰ کرے، یا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیان کردہ علامات سے ہٹ کر کوئی شخص مہدیٔ موعود یا نزولِ مسیحِ موعود یا دجال وغیرہ واقعات کے بارے میں قیاس آرائیاں کرے تو اسے مجنون کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں دینی چاہئے۔
۴:۔۔۔ رہا اِمام بن حسن عسکری کا مہدیٔ موعود ہونا، اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اس کی کوئی حقیقت نہیں، شیعوں نے اِبتدائی خروجِ مہدی کے بارے میں از خود اَئمہ عظام اہلِ بیت کو منسوب کراکر قیاس آرائیاں کی ہیں جو ہمیشہ غلط ثابت ہوئی ہیں، شیعہ کتب میں مذکور ہے کہ:
۱:۔۔۔ ’’اَئمہ نے ۷۰ھ میں خروجِ مہدی کا وعدہ کیا تھا مگر وہ پورا نہ ہوا۔‘‘
(نصیحۃ الشیعۃ ج:۲ بحوالہ صافی فی شرح کافی)
۲:۔۔۔ ’’امام جعفر صادقؒ خود مہدی ہونے والے تھے، مگر نہ ہوئے۔‘‘
(نصیحۃ الشیعۃ ج:۲ ص:۲۳۸، بحوالہ کتاب الغیبت للطوسی)
۳:۔۔۔ ’’اِمام موسیٰ کاظمؒ نے خروجِ مہدی کے لئے ۲۰۰ھ مقرّر کیا تھا، وہ بھی پورا نہ ہوا۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۳۸)
یہ روایات اور یہ خروجِ مہدی کے اوقات اَئمہ کے نام پر شیعوں کو اِرتداد سے روکنے کے لئے گھڑے جاتے رہے کہ
183
مہدی کا وقت مقرّر ہے اور بہت جلد آنے والے ہیں، چنانچہ حسبِ روایات کتبِ شیعہ خود اِمام باقر ؒ نے ان کی تردید وتکذیب کی ہے، اُصولِ کافی کی روایت ہے:
’’عن الفضل بن یسار عن ابی جعفر علیہ السلام قال: قلت لھٰذا الأمر وقت؟ فقال: کذب الوقاتون کذب الوقاتون کذب الوقاتون۔‘‘
(نصیحۃ الشیعۃ ج:۲ ص:۲۳۸ بحوالہ اُصولِ کافی ص:۲۳۲)
’’فضل بن یسار اِمام باقر ؒ سے روایت کرتا ہے کہ میں نے پوچھا کہ کیا اس اَمر (خروجِ مہدی) کے لئے کوئی وقت مقرّر ہے؟ اِمام نے تین مرتبہ فرمایا کہ: جھوٹ بولا تھا وقت مقرّر کرنے والوں نے۔‘‘
فقط واللّٰہ اعلم!
(فتویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۰۳-۳۰۷)
کیا قتلِ خنزیر نبوّت کے منافی ہے؟
سوال:۔۔۔ در بخاری شریف ست کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام’’یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ‘‘ وایں اِصرار شانِ نبوّت بسے کمترست ایں را جملہ اگر تاویلے دیگر ست پس اگر احمدی لفظ ابن مریم را ہم چناں تاویل کنند قبول خواہد افتاد یا نہ؟
جواب:۔۔۔ در حدیث آمدہ بحق آنحضرت قتلِ کلاب یعنی برائے قتلِ کلاب(۱) (سگہیا) حکم فرمود اگر ایں فعل قتلِ کلاب منافی نبوّتِ محمدیہ نبود قتل الخنازیر ہم نباشد
(فتاویٰ علماء حدیث ص:۱۰۲)
ایک قادیانی کے چند سوالات مع جوابات
سوال:۔۔۔ ایک دن کا ذِکر ہے کہ فقیر مورخہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۱۹ء کو علاقہ لائل پور (فیصل آباد) موضع میترانوالی میں اپنے رفیقوں سے ملنے کی خاطر گیا، اور رفیقوں میں سے ایک رفیق مسمّیٰ عبدالحکیم عطار نے یہ اِعتراض تحریر شدہ فقیر کے پیش کردئیے اور کہا کہ یہ اِعتراض ایک مرزائی نے بندہ کی طرف تحریر کئے ہیں، اور کہتا ہے کہ ان اِعتراضوں کا جواب اب تک کسی حنفی یا شیعہ یا اہلحدیث نے نہیں دیا، اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔ لہٰذا عرض ہے کہ آپ مہربانی فرماکر ان اِعتراضوں کے جواب تحریر فرمائیں اور اُمید قوی ہے کہ آپ ان کے اِعتراضوں کے جواب باصواب دندان شکن دے سکتے ہیں، کیونکہ آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے علمِ ظاہری اور باطنی بذریعہ سلطان باہو رحمۃاللّٰہ علیہ عطا بے حساب کیا ہوا ہے۔ اور وہ اِعتراض تحریر شدہ یہ ہیں:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
چند سوالات بخدمت علمائے حنفیہ واہلحدیث واہلِ تشیع ومشائخ صوفیائی!
۱:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مسیح کی پیدائش کی خبر اس کی والدہ کو دِی اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیدائش کی بشارت ان کی والدہ کو
(۱)عن ابن عمر ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم امر بقتل الکلاب۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰)۔
184
نہیں دی، پس افضل کون ہوا؟
۲:۔۔۔ مسیح کی والدہ کی نسبت فرمایا کہ وہ صدیقہ ہے، مگر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی والدہ کو صدیقہ نہیں فرمایا، پس افضل کون ہوا؟
(بقلم الٰہ داد احمدی)
جواب:۔۔۔ (نوٹ) تمام اِعتراضوں کے جواب تحریر کرنے کے واسطے تو اَب اس جلد میں گنجائش نہیں رہی، صرف تھوڑا سا بیان سوال نمبر اوّل ودوم کے بارے میں تحریر کیا جاتا ہے جو مفصلہ ذیل ہے:
سوال نمبر۱ ونمبر۲ میں لکھا ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی والدہ کو آپ کی پیدائش کی بشارت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی والدہ کو صدیقہ کہا گیا ہے، اور مسیح کی والدہ کو بشارت بھی دی گئی اور صدیقہ بھی کہا گیا ہے، لہٰذا کون شان میں افضل ہے؟
افسوس! اب تک معترض کو معلوم نہیں ہوا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک باتفاق جمیع مسلمین تمام انبیاء علیہم السلام پر کئی وجوہات سے زیادہ ہے، اور فقیر اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ جلد چہارم میں نقشہ بناکر دِکھائے گا اور یہ جو معترض کے دِل میں خیال گزرا ہے کہ جس کی والدہ کو پیشگی بشارت دی گئی اس کی شان زیادہ ہے، اس کی نسبت انصاف فرمائیے کہ جس شخص کی نسبت بشارت روزِ میثاق سے لے کر آدم علیہ السلام تک، اور آدم علیہ السلام سے لے کر یکے بعد دیگرے انبیاء علیہم السلام مانند حضرت اِبراہیم واِسماعیل وحضرت موسیٰ علیہم السلام کی زبان فیض ترجمان سے ظاہر ہوئی، اس کی شان زیادہ ہوگی یا جس کی بشارت صرف ایک عورت کو دِی جائے؟ یعنی ایک شخص کی نسبت ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بشارت دی گئی ہو، اور دُوسرے شخص کی نسبت صرف ایک عورت عفیفہ کو بشارت ملی ہو، اب بتلائیے کس کی عزّت ومنزلت عنداللّٰہ زیادہ ہوگی؟ اور ان دلائلِ قاطعہ کے ثبوت میں دو تین آیات بھی تحریر کی جاتی ہیں تاکہ ناظرین کو یقین آجائے، وھو ھٰذا:
’’وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا آتَیْتُکُم مِّن کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ ‘‘
(آل عمران:۸۱)
’’یعنی جس وقت عہد لیا خداوند کریم نے پیغمبروں سے کہ جو کچھ دُوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے، پھر جب آئے تمہارے پاس سچا کرنے والا اس چیز کا جو پاس تمہارے ہے، ضرور اس کے ساتھ اِیمان لائیں اور ضرور مدد دینا۔‘‘
تب تمام ارواحِ انبیاء نے اس پر اِقرار کرلیا اور اس کی تائید پر یہ آیت ہے:
’’وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَأَخَذْنَا مِنْہُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً‘‘
(الاحزاب:۷)
’’یعنی جب ہم نے نوح واِبراہیم وموسیٰ وعیسیٰ بن مریم سے پکا اِقرار لیا۔‘‘
اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا تو انہوں نے بھی خود اپنی قوم کو بشارت دی اور کہا:
’’وَإِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ إِنِّیْ رَسُولُ اللَّہِ إِلَیْکُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ
185
وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘
(الصف:۶)
اور ایسا ہی اناجیل میں ہے، چنانچہ استثناء کی کتاب موسیٰ جلد۵ صفحہ:۱۵ سے۱۸ تک مذکور ہے۔
غرضیکہ عرب کے تمام مذاہب کے مردوں اور عورتوں کو پہلے سے ہی آپ کی تشریف آوری کی خبر کتابوں سے ظاہر ہوچکی تھی، یہاں تک کہ بوقتِ مصیبت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کا وسیلہ پکڑتے تھے، اور یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ خاندانِ اِسماعیل سے پشت بہ پشت نبی آخرالزمان نسب ہاشمی سے ہوگا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: ’’وَتَقَلُّبَکَ فِیْ السَّاجِدِیْنَ‘‘ (الشعراء:۲۱۹) یعنی اے میرے حبیب تو نمازیوں میں پھرتا چلا آیا ہے۔ پس اس آیت شریف سے معلوم ہوا کہ آپ کا خاندان حضرت آدم سے لے کر جہاں میں آپ نے ٹھکانا کیا ہے وہ سب کے سب صادقین وموحدین ہوئے اور مائی مریم پر جب مخالفین نے اِلزام زنا وغیرہ لگایا تو خداوند کریم نے ان کی بریت بیان کی اور کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو، وہ عفیفہ اور صادقہ ہے، اور مائی آمنہ رضی اللّٰہ عنہا پر تو کسی فرد نے کسی قسم کا اِلزام نہیں لگایا تو پھر خداوند کریم کو کیا ضرورت تھی کہ خواہ مخواہ ایک بے ضرورت قصہ بیان کرتا اور بشارتیں دیتا۔ باقی بیان اِن شاء اللّٰہ جلد چہارم وپنجم فتاویٰ نظامیہ وغیرہما میں کیا جائے گا۔
فقط والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
(فتاویٰ نظامیہ ج:۳ ص:۲۶۷ تا ۲۷۱)
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیحِ موعود ماننے سے کیا حرج ہے؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ میرے بھائی! مرزائیوں کے مقابلے میں مسئلہ حیاتِ مسیح علیہ السلام پر بحث کرنا اصل مبحث نہیں، بلکہ ان کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات پر بحث کرنی چاہئے، کیونکہ یہ سب اِختلافات مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے اور مسیحِ موعود بننے سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ مرزاقادیانی کی شخصیت پر بحث کرنی چاہئے کہ اس طرح کا بکواس لکھنے والا شخص کبھی مہذّب انسان بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ چہ جائیکہ ہم اسے مسیحِ موعود تسلیم کرلیں۔ مرزا نے اپنی ذِلت ورُسوائی کو چھپانے کے لئے مسئلہ حیات ووفات حضرت مسیح علیہ السلام اپنی عمارت کا بنیادی پتھر بنایا تاکہ مسلمانوں کو اس بحث میں اُلجھاکر ان کے اِیمان کو لوٹا جاسکے۔ پس اس پر بھی ہم نے ان کے شکوک وشبہات کا رَدِّبلیغ کردیا ہے تاکہ گم گشتہ راہ دوست ان کے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش نرالی تھی، اور پھر ان کی زندگی بھی نرالی ہے، سو اس طرح ان کا دورِ آخر پھر سے اس زمین پر آنا بھی کچھ نرالا ہونے کا متقاضی ہے۔ یہ نرالا ہونا عین عقل ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسمِ خاکی کے ساتھ اب تک آسمان میں زندہ رہنا اور قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہونا، قرآن وحدیث اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے،(۱) اس کا منکر گمراہ ہے۔ اگر مرزاقادیانی کو مسیحِ موعود تسلیم کرلیں تو قرآن وحدیث کی سینکڑوں نصوص کو ۔۔۔نعوذباللّٰہ!۔۔۔ جھوٹا تسلیم کرنا پڑے گا، کیونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صاف لفظوں میں اِرشاد فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم جو پہلے گزرا ہے وہ آنے والا ہے۔(۲) اگر کوئی بدبخت یہ مان لے کہ مرزا غلام احمد قادیانی
(۱،۲) حوالے اور تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے: ص:۱۸۹ تا ۲۳۰ کا فتویٰ اور اس کے حواشی۔
186
ولد غلام مرتضیٰ یا پنجاب کا رہنے والا سچا مسیحِ موعود ہے، تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سچی خبر نہیں دی اور آپ (اور باقی سوالوں کے جواب اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ جلد چہارم پنجم میں حسب اِستعداد فقیر تحریر ہوں گے) مخبرِ صادق نہیں تھے اور نہ آپ کی وحی کامل تھی اور آپ کا علم سچا تھا کہ آنا تھا مرزاقادیانی نے اور آپ نے اپنی اُمت کو غلط خبر دی کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم نبی ناصری ہے۔ پھر آنے والے نے قادیان آنا تھا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دمشق میں نازل ہوگا۔ پھر مسیحِ موعود نے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا تھا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان سے نازل ہوگا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں دفن ہوں گے۔(۱) مگر مرزاقادیانی کہتے ہیں: نہیں وہ تو فوت ہوچکے ہیں اور کشمیر میں جادفن ہوئے۔ نیز آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال مقامِ لد جو بیت المقدس میں ہے، حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے مقتول ہوگا، مگر مرزاقادیانی کہتا ہے کہ نہیں دجال مقامِ لدھیانہ میں قتل ہوگا اور قتل تلوار سے نہیں قلم سے ہوگا، وغیرہ وغیرہ، غرضیکہ ہر ایک بات میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مرزا نے مخالفت کی ہے، کیا اتنا جھوٹ بولنے والے کے بارے میں تصوّر کیا جاسکتا ہے کہ وہ انسانیت سے بھی آشنا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی بدبخت حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ مان لے تو قربِ قیامت میں ایک نئے مسیح کی آمد ماننی پڑے گی اور پھر مندرجہ ذیل باطل عقائد اس کو تسلیم کرنا پڑیں گے:
۱:۔۔۔ ختمِ نبوّت کا منکر ضرور ہوگا جو کہ باجماعِ اُمت کفر ہے۔(۲)
۲:۔۔۔ مرزا قادیانی کو نبی اور رسول بھی یقین کرنا ہوگا، چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول تھے، جب غیرعیسیٰ کوئی آئے گا، تو جدید نبی بعد از خاتم النّبیین کہلائے گا اور یہ کفر ہے۔(۳)
۳:۔۔۔ اور اس کے علاوہ نبی کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا، اور قادیانی کو مسیحِ موعود تسلیم کرنے سے گویا جھوٹا آدمی مسیحِ موعود ہوا تو یہ بھی کفر ہے۔
۴:۔۔۔ مرزاقادیانی کو خاتم الانبیاء ماننا پڑے گا، کیونکہ اس صورت میں آخرالنبی وہی ہوں گے اور اس طرح بھی کفر لازم آتا ہے۔
۵:۔۔۔ اُمتِ محمدیہ آخرالامم نہ رہے گی، کیونکہ پھر جدید نبی کی اُمت آخری اُمت ہوگی اور اس کا علیحدہ نام ہوگا، حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے۔
۶:۔۔۔ قرآنِ حکیم آخرالکتب نہ رہے گا، کیونکہ آخرالکتب مرزا کی وحی ہوگی، جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے:
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص:۹۹، خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
(۱) ص:۱۷۰ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔
(۲،۳) ص:۱۶۲ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
187
نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نامکمل نبی ثابت ہوں گے، کیونکہ کامل کے بعد نامکمل نہیں آتا، نامکمل کے بعد کامل اس لئے آتا ہے کہ اس کی تکمیل کرے۔ دین ناقص ثابت ہوتا ہے کیونکہ جب نبی آتا ہے تو ضرورت ثابت ہوتی ہے، اور ضرورت تب ہی ہوتی ہے کہ سابقہ دِین نامکمل ہوتا ہے۔ وفاتِ مسیح تسلیم کرنے سے کفر لازم آتا ہے، کیونکہ نصِ قرآنی: ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ (الزخرف:۶۱) سے ثابت ہے، جب علامتِ قیامت سے انکار ہوگا تو اَصل قیامت سے بھی اِنکار ہوگا، کیونکہ جب شرط فوت ہو تو مشروط بھی فوت ہوتا ہے، اور قیامت کا منکر کافر ہے۔ اگر نزولِ مسیح بروزی رنگ میں دُرست تسلیم کرلیں تو جتنے کاذب مسیح گزرے ہیں، سب سچ تسلیم کرنے پڑیں گے، کیونکہ وہ بھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔
وہ شخص کیسا بدبخت اور گمراہ کن ہے جو رِسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جھٹلائے اور تمام اَفرادِ اُمت سے الگ ہوکر یہ اِعتقاد بنائے کہ آپ کو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ قرآن مجید سمجھ نہیں آیا تھا اور آپ کا ذہن ایسا ناقص تھا کہ وفاتِ حضرت مسیح علیہ السلام کا ذِکر کئی مرتبہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں فرمایا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ سمجھے، اور ہر ایک حدیث میں عیسیٰ ابن مریم فرماتے رہے، اور اللّٰہ تعالیٰ نے ابھی تیرہ سو برس تک اُمتِ محمدیہ کو گمراہ رکھا کہ بروز نزول نہ بتایا ۔۔۔العیاذباللّٰہ۔۔۔!
خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا تمام کارخانہ ہی غلط ہے، اسے ایک عام آدمی سمجھنے سے بھی جھوٹ لازم آتا ہے، چہ جائیکہ اسے مسیحِ موعود تسلیم، دعوؤں میں کاذب ہے، کیونکہ اس کے دعوے کو تسلیم کرنے سے مسلمان کے دامن میں اِیمان نہیں رہ سکتا، اس جھوٹے اور دجال شخص نے انگریزوں کی نمک حلالی کے لئے پوری اُمتِ مسلمہ کو کافر کہا ہے۔ میں اپنے بھولے بھالے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیے تجدیدِ اِیمان کریں اور توبہ کریں اور ان رُسوائے زمانہ قادیانیوں کی غلیظ اور پراگندہ ذہنیت سے اپنے آپ کو محفوظ کرکے اپنا تعلق گنبدِ خضریٰ سے قائم کریں، اسی میں ہماری نجات ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو قادیانیوں کی پراگندیوں سے محفوظ رکھے، آمین! ذہن نشین کرلیں کہ آج کل انہوں نے اپنے پینترے بدلے ہوئے ہیں، اپنے جھوٹ کو اِقرارِ ختمِ نبوّت میں چھپا رہے ہیں، لہٰذا جب تک یہ منکرینِ ختمِ نبوّت مرزاقادیانی کی تکذیب نہ کریں، اس وقت تک ختمِ نبوّت پر اِیمان معتبر نہیں ہوسکتا۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۲۷ تا ۳۲۹)
✨ 🌟 ✨
188
بابِ نہم
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول قرآن وحدیث کی روشنی میں
سوال:۔۔۔ میرے دِل میں دو تین سوال آئے ہیں، جن کے جواب چاہتا ہوں، اور یہ جواب قرآن مجید کے ذریعے دئیے جائیں، اور میں آپ کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ میں ’’احمدی‘‘ ہوں، اگر آپ نے میرے سوالوں کے جواب صحیح دئیے تو ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے قریب زیادہ آجاؤں۔
۱:۔۔۔ کیا آپ قرآن مجید کے ذریعے یہ بتاسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اس جہان میں فوت نہیں ہوئے؟
۲:۔۔۔ کیا قرآن مجید میں کہیں ذِکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے؟ اور وہی آکر اِمام مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے؟
۳:۔۔۔ ’’كُلُّ نَفسٍ ذَآئِقَۃُ المَوتِ‘‘ کا لفظی معنی کیا ہے؟ اور کیا اس سے آپ کے دوبارہ آنے پر کوئی اثر نہیں پڑتا؟
جواب:۔۔۔ جہاں تک آپ کے اس اِرشاد کا تعلق ہے کہ: ’’اگر آپ نے میرے سوالات کے جواب صحیح دئیے تو ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے قریب آجاؤں‘‘ یہ تو محض حق تعالیٰ کی توفیق وہدایت پر منحصر ہے۔ تاہم جناب نے جو سوالات کئے ہیں، میں ان کا جواب پیش کر رہا ہوں، اور یہ فیصلہ کرنا آپ کا اور دیگر قارئین کا کام ہے کہ میں جواب صحیح دے رہا ہوں یا نہیں؟ اگر میرے جواب میں کسی جگہ لغزش ہو تو آپ اس پر گرفت کرسکتے ہیں، وباللّٰہ التوفیق!
اصل سوالات پر بحث کرنے سے پہلے میں اِجازت چاہوں گا کہ ایک اُصولی بات پیشِ خدمت کروں۔ وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا مسئلہ آج پہلی بار میرے اور آپ کے سامنے نہیں آیا، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے لے کر آج تک یہ اُمتِ اسلامیہ کا متواتر اور قطعی عقیدہ چلا آتا ہے، اُمت کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ رہا ہو، اور اُمت کے اکابر صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور اَئمۂ مجدّدینؒ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس عقیدے کا قائل نہ ہو۔ جس طرح نمازوں کی تعدادِ رَکعات قطعی ہے، اسی طرح اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آمد کا عقیدہ بھی قطعی ہے، خود جناب مرزا صاحب کو بھی اس کا اِقرار ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
189
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اَوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’اس اَمر سے دُنیا میں کسی کو بھی اِنکار نہیں کہ احادیث میں مسیحِ موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے، بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا، اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتبِ حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔
یہ خبر مسیحِ موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلو م ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہوگی کہ اس کے تواتر سے اِنکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اِسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کرکے اِکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔ ہاں! یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے جو اِسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہے۔‘ـ‘
(شہادۃ القرآن ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹۸)
مرزا صاحب، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی احادیث کو متواتر اور اُمت کے اِعتقادی عقائد کا مظہر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’پھر ایسی احادیث جو تعاملِ اِعتقادی یا عملی میں آکر اِسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار ٹھہرگئی تھیں، ان کو قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دِیوانگی کا ایک شعبہ ہے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۵، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۰۲)
جناب مرزا صاحب کے یہ اِرشادات مزید تشریح ووضاحت کے محتاج نہیں، تاہم اس پر اتنا اِضافہ ضرور کروں گا کہ:
۱:۔۔۔ احادیثِ نبویہ میں ۔۔۔جن کو مرزا صاحب قطعی متواتر تسلیم فرماتے ہیں۔۔۔ کسی گمنام ’’مسیحِ موعود‘‘ کے آنے کی پیش گوئی نہیں کی گئی، بلکہ پوری وضاحت وصراحت کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قربِ قیامت میں دوبارہ نازل ہونے کی خبر دِی گئی ہے۔ پوری اُمتِ اِسلامیہ کا ایک ایک فرد، قرآنِ کریم اور احادیث کی روشنی میں صرف ایک ہی شخصیت کو ’’عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے، جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے بنی اِسرائیل میں آئے تھے، اس ایک شخصیت کے علاوہ کسی اور کے لئے ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ کا لفظ اِسلامی ڈکشنری میں کبھی اِستعمال نہیں ہوا۔
۲:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمتِ اِسلامیہ میں جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا
190
عقیدہ متواتر رہا ہے، اس طرح ان کی حیات اور رفعِ آسمانی کا عقیدہ بھی متواتر رہا ہے، اور یہ دونوں عقیدے ہمیشہ لازم وملزم رہے ہیں۔
۳:۔۔۔ جن ہزارہا کتابوں میں صدی وار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا لکھا ہے، ان ہی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ آسمان پر زِندہ ہیں اور قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے، پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اِنکار مرزا صاحب کے بقول ’’دیوانگی اور جنون کا ایک شعبہ ہے‘‘ تو ان کی حیات کے اِنکار کا بھی یقینا یہی حکم ہوگا۔۔۔!
ان تمہیدی معروضات کے بعد اَب آپ کے سوالوں کا جواب پیشِ خدمت ہے۔
۱:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام:
آپ نے دریافت کیا تھا کہ کیا قرآنِ کریم سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ زندہ ہیں؟ جواباً گزارش ہے کہ قرآنِ کریم سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی گرفت سے بچاکر آسمان پر زِندہ اُٹھالیا۔
پہلی آیت:۔۔۔ سورۃ النساء آیت:۱۵۷،۱۵۸ میں یہود کا یہ دعویٰ نقل کیا ہے کہ: ’’ہم نے مسیح ابنِ مریم رسول اللّٰہ کو قتل کردیا۔‘‘ اللّٰہ تعالیٰ ان کے اس ملعون دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ’’انہوں نے نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا، نہ انہیں سولی دی، بلکہ ان کو اِشتباہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے آپ کو یقینا قتل نہیں کیا، بلکہ ہوا یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اُٹھالیا اور اللّٰہ تعالیٰ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘(۱)
یہاں جناب کو چند چیزوں کی طرف توجہ دِلاتا ہوں:
۱:۔۔۔ یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے قتل اور صلب ۔۔۔سولی دئیے جانے۔۔۔ کی تردید فرمائی، بعد اَزاں قتل اور رَفع کے درمیان مقابلہ کرکے قتل کی نفی کی اور اس کی جگہ رفع کو ثابت فرمایا۔
۲:۔۔۔ جہاں قتل اور رَفع کے درمیان اس طرح کا مقابلہ ہو، جیسا کہ اس آیت میں ہے، وہاں رفع سے رُوح اور جسم دونوں کا رَفع مراد ہوسکتا ہے، یعنی زندہ اُٹھالینا، صرف رُوح کا رَفع مراد نہیں ہوسکتا اور نہ رفعِ درجات مراد ہوسکتا ہے۔ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور محاوراتِ عرب میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ کسی جگہ قتل کی نفی کرکے اس کی جگہ رفع کو ثابت کیا گیا ہو، اور وہاں صرف رُوح کا رَفع یا درجات کا رَفع مراد لیا گیا ہو، اور نہ یہ عربیت کے لحاظ سے ہی صحیح ہے۔(۲)
۳:۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ‘ جہت اور مکان سے پاک ہیں، مگر آسمان چونکہ بلندی کی جانب ہے اور بلندی حق تعالیٰ کی شان کے لائق ہے، اس لئے قرآنِ کریم کی زبان میں ’’رفع الی اللّٰہ‘‘ کے معنی ہیں آسمان کی طرف اُٹھالیا جانا۔
(۱) ’’وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللّہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ… وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللّہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللّہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘ (النساء:۱۵۷، ۱۵۸)
(۲) قولہ (اِنِّی مُتَوَفِّیكَ) یدل علٰی حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضھا بالموت وبعضھا بالإصعاد إلی السماء فلما قال بعدہ (وَرَافِعُكَ اِلَیَّ) کان ھٰذا تعیینًا للنوع ولم یکن تکرارًا۔ (تفسیر کبیر ج:۸ ص:۶۸)
ایضًا: فالرفع فی الأجسام حقیقۃ فی الحرکۃ والإنتقال، وفی المعانی: محمول علٰی ما یقتضیہ المقام (المصباح المنیر ص:۱۳۹)
191
۴:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا، یہود کی دست بُرد سے بچاکر، صحیح سالم آسمان پر اُٹھالیا جانا آپ کی قدر ومنزلت کی دلیل ہے، اس لئے یہ رفعِ جسمانی بھی ہے اور رُوحانی اور مرتبی بھی۔ اس کو صرف رفعِ جسمانی کہہ کر اس کو رَفعِ رُوحانی کے مقابل سمجھنا غلط ہے، ظاہر ہے کہ اگر صرف ’’رُوح کا رفع‘‘ عزّت وکرامت ہے تو ’’رُوح اور جسم دونوں کا رَفع‘‘ اس سے بڑھ کر موجبِ عزّت وکرامت ہے۔۔۔!
۵:۔۔۔ چونکہ آپ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ عام لوگوں کی عقل سے بالاتر تھا اور اس بات کا اِحتمال تھا کہ لوگ اس بارے میں چہ میگوئیاں کریں گے کہ ان کو آسمان پر کیسے اُٹھالیا؟ اس کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اللّٰہ تعالیٰ زمین پر ان کی حفاظت نہیں کرسکتا تھا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کسی اور نبی کو کیوں نہیں اُٹھایا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان تمام شبہات کا جواب: ’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘ (النساء:۱۵۸) میں دے دیا گیا۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ زبردست ہے، پوری کائنات اس کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صحیح سالم اُٹھالینا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں اور ان کے وہاں زندہ رہنے کی اِستعداد پیدا کردینا بھی اس کی قدرت میں ہے، کائنات کی کوئی چیز اس کے اِرادے کے درمیان حائل نہیں ہوسکتی اور پھر وہ حکیمِ مطلق بھی ہے، اگر تمہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کی حکمت سمجھ میں نہ آئے تو تمہیں اِجمالی طور پر یہ اِیمان رکھنا چاہئے کہ اس حکیمِ مطلق کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالینا بھی خالی از حکمت نہیں ہوگا، اس لئے تمہیں چون وچرا کی بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ پر یقین رکھنا چاہئے۔
۶:۔۔۔ اس آیت کی تفسیر میں پہلی صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک کے تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زِندہ اُٹھایا گیا اور وہی قربِ قیامت میں آسمان سے نزولِ اِجلال فرمائیں گے۔ چونکہ تمام بزرگوں کے حوالے دینا ممکن نہیں، اس لئے میں صرف آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت ابنِ عباسؓ کی تفسیر پر اِکتفا کرتا ہوں، ’’جو قرآنِ کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک دُعا بھی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۲۴۷، خزائن ج:۳ ص:۲۲۵)
تفسیر درمنثور (ج:۲ ص:۳۶)، تفسیر ابنِ کثیر (ج:۱ ص:۳۶۶)، تفسیر ابنِ جریر (ج:۳ ص:۲۰۲) میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور بے شک وہ تمہاری طرف دوبارہ آئیں گے۔‘‘(۱)
تفسیر درمنثور (ج:۲ ص:۳) میں ہے کہ آنحضرت نے عیسائیوں کے وفد سے مباحثہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رَبّ زِندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا، اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔‘‘(۲)
(۱)قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم للیھود: إن عیسٰی لم یمت، وانہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔ (درمنثور ج:۲ ص:۳۶)۔
(۲)عن الربیع قال: ان النصاریٰ اتوا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فخاصموہ فی عیسَی بن مریم ۔۔۔۔۔۔۔ قال: الستم تعلمون ان ربّنا حیٌّ لا یموت وإن عیسٰی یأتی علیہ الفناء؟ قالوا: بلٰی! (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۳، طبع إیران)۔
192
تفسیر ابنِ کثیر (ج:۱ ص:۵۷۴)، تفسیر درمنثور (ج:۲ ص:۲۳۸) میں حضرت ابنِ عباسؓ سے بہ سندِ صحیح منقول ہے کہ: ’’جب یہود، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے آئے تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی شباہت ایک شخص پر ڈال دِی، یہود نے اسی ’’مثیلِ مسیح‘‘ کو مسیح سمجھ کر صلیب پر لٹکادیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے اُوپر سے زندہ آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘(۱)
جیسا کہ اُوپر عرض کرچکا ہوں اُمت کے تمام اکابر مفسرین ومجدّدین متفق اللفظ ہیں کہ اس آیت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اُٹھالیا گیا، اور سوائے فلاسفہ اور زَنادقہ کے سلف میں سے کوئی قابلِ ذِکر شخص اس کا منکر نہیں ہوا،(۲) اور نہ کوئی شخص اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی چڑھنے اور پھر صلیبی زخموں سے شفایاب ہونے کے بعد کشمیر چلے گئے اور وہاں ۷۳برس بعد ان کی وفات ہوئی۔
اب آپ خود ہی اِنصاف فرماسکتے ہیں کہ اُمت کے اس اِعتقادی تعامل کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی میں شک کرنا، اور اس کی قطعیت اور تواتر میں کلام کرنا، جناب مرزا صاحب کے بقول ’’درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ‘‘ ہے یا نہیں۔۔۔؟
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری:
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا مضمون قرآنِ کریم کی کئی آیتوں میں اِرشاد ہوا ہے، اور یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وہ متواتر اَحادیث جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی اِطلاع دی گئی ہے اور جن پر بقول مرزا صاحب کے ’’اُمت کا اِعتقادی تعامل چلا آرہا ہے‘‘(۳) وہ سب انہی آیات، کریمہ کی تفسیر ہیں۔
پہلی آیت:
سورۃ الصف آیت:۹ میں اِرشاد ہے: ’’وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول، ہدایت اور دِینِ حق دے کر تاکہ اسے غالب کردے تمام دِینوں پر، اگرچہ کتنا ہی ناگوار ہو مشرکوں کو۔‘‘(۴)
’’یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طورپر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب تک حضرت مسیح علیہ السلام
(۱)(وَقَولِہِم اِنَّا قَتَلنَا المَسِیحَ) عن ابن عباس قال: لما اراد ﷲ ان یرفع عیسٰی إلی السماء خرج إلٰی اصحابہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فالقیٰ علیہ (ای علٰی احد من حواریہ) شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت إلی السماء، قال: وجاء الطالب من الیھود فأخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۲۳۸، طبع إیران)
(۲) فإن قیل: فما الدلیل علٰی نزول عیسٰی علیہ السلام من القرآن؟ فالجواب: الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی: وَاِن مِّن اَہلِ الكِتٰبِ اِلَّا لَیُوٴمِنَنَّ بِہِ قَبلَ مَوتِہِ ای حین ینزل ویجمعون علیہ، وانکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیھود والنصاریٰ عروجہ بجسدہ إلی السماء۔ (الیواقیت والجواھر ص:۱۴۶، حصہ دوم، طبع مصر)
(۳) شہادۃ القرآن ص:۵، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۰۱۔
(۴) ’’ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ ‘‘ (الصف:۹)
193
دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا، لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور اِنکسار اور توکل اور اِیثار اور آیات اور اَنوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے، اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طو پر۔‘‘
(براہین احمدیہ، مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب ص:۴۹۸،۴۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۵۹۳، ۵۹۴)
’’یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دِین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دِین پر غالب کردے، یعنی ایک عالم گیر غلبہ اس کو عطا کرے، اور چونکہ وہ عالم گیر غلبہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اِتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالم گیر غلبہ مسیحِ موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت مصنفہ مرزا غلام احمد صاحب ص:۸۳،۹۱، رُوحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۱)
جناب مرزا صاحب کی اس تفسیر سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
۱:۔۔۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر دوبارہ آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
۲:۔۔۔ مرزا صاحب پر بذریعہ اِلہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کی پیش گوئی کا جسمانی اور ظاہری طور پر مصداق ہیں۔
۳:۔۔۔ اُمت کے تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اسلام کا غلبۂ کاملہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا۔
جناب مرزا صاحب کی اس ’’اِلہامی تفسیر‘‘ سے جس پر تمام مفسرین کے اِتفاق کی مہر بھی ثبت ہے، یہ ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کے اس قرآنی وعدے کے مطابق سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام ضرور دوبارہ تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے اسلام تمام مذاہب پر غالب آجائے گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بھی اِرشاد ہے کہ: ’’اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تمام مذاہب کو مٹادیں گے۔‘‘ (ابوداؤد ص:۵۹۴، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۰۶)۔(۱)
بعد میں جناب مرزا صاحب نے خود مسیحیت کا منصب سنبھال لیا، لیکن یہ تو فیصلہ آپ کرسکتے ہیں کہ کیا ان کے زمانے میں اسلام کو غلبۂ کاملہ نصیب ہوا؟ نہیں۔۔۔! بلکہ اس کے برعکس یہ ہوا کہ دُنیا بھر کے مسلمان جناب مرزا صاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ٹھہرے۔ ادھر مسلمانوں نے مرزا صاحب اور ان کی جماعت کو اِسلام سے الگ ایک فرقہ سمجھا، نتیجہ یہ کہ اسلام کا وہ غلبۂ کاملہ ظہور
(۱) ۔۔۔۔۔۔۔ ویھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلّھا إلَّا الإسلام ۔۔۔إلخ۔ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۳۸، باب خروج الدجال)
194
میں نہ آیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقدّر تھا۔ اس لئے جناب مرزا صاحب کے دعویٔ مسیحیت کے باوجود زمانہ قرآن کے وعدے کا منتظر ہے، اور یقین رکھنا چاہئے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام اس وعدے کے اِیفا کے لئے خود بنفسِ نفیس تشریف لائیں گے، کیونکہ بقول مرزا صاحب۔۔۔ ’’ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔‘‘
دُوسری آیت:
سورۃ النساء آیت:۱۵۹ میں بھی اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے اور تمام اہلِ کتاب کے ان پر اِیمان لانے کی خبر دِی ہے، چنانچہ اِرشاد ہے:(۱)
’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب سے مگر اَلبتہ اِیمان لاوے گا ساتھ اس کے موت اس کی کے پہلے اور دِن قیامت کے ہوگا اُوپر ان کے گواہ۔‘‘
(فصل الخطاب ج:۲ ص:۸۰، مؤلفہ حکیم نوردین قادیانی)
حکیم صاحب کا ترجمہ بارہویں صدی کے مجدّد حضرت شاہ ولی اللّٰہ صاحبؒ کے فارسی ترجمے کا گویا اُردو ترجمہ ہے۔ شاہ صاحبؒ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزول عیسیٰ را البتہ اِیمان آرند۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو یہودی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت موجود ہوں گے، وہ اِیمان لائیں گے۔‘‘
اس آیت کے ترجمے سے معلوم ہوا کہ:
۱:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں دوبارہ تشریف لانا مقدّر ہے۔
۲:۔۔۔ تب سارے اہلِ کتاب ان پر اِیمان لائیں گے۔
۳:۔۔۔ اور اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔
پورے قرآن مجید میں صرف اس موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذِکر ہے، جس سے پہلے تمام اہلِ کتاب کا ان پر اِیمان لانا شرط ہے۔
اب اس آیت کی وہ تفسیر ملاحظہ فرمائیے جو کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہؓ وتابعینؒ سے منقول ہے۔
صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات میں اِمام بخاریؒ نے ایک باب باندھا ہے: ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ اور اس کے تحت یہ حدیث ذِکر کی ہے:
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! البتہ قریب ہے کہ نازل ہوں تم میں ابنِ مریم حاکمِ عادل کی
(۱)’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹)
195
حیثیت سے، پس توڑ دیں گے صلیب کو، اور قتل کریں گے خنزیر کو، اور موقوف کریں گے لڑائی، اور بہہ پڑے گا مال، یہاں تک کہ نہیں قبول کرے گا اس کو کوئی شخص، یہاں تک کہ ایک سجدہ بہتر ہوگا دُنیا بھر کی دولت سے۔ پھر فرماتے تھے ابوہریرہؓؓ کہ پڑھو اگر چاہو قرآنِ کریم کی آیت: ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور اِیمان لائے گا (حضرت) عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور ہوں گے عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن ان پر گواہ۔‘‘(۱)
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ اِرشادِ گرامی قرآن کی اس آیت کی تفسیر ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے اس کے لئے آیت کا حوالہ دیا۔ اِمام محمد بن سیرینؒ کا اِرشاد ہے کہ ابوہریرہؓ کی ہر حدیث آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے۔(۲)
بخاری شریف کے اسی صفحے پر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کی خبر دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: ’’واِمامکم منکم‘‘ فرمایا۔ (۳)
یہ حدیث بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں حدیثوں سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ایک ہی مقصد ہے، اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں حاکمِ عادل کی حیثیت سے اس اُمت میں تشریف لانا۔
۲:۔۔۔ کنزالعمال ج:۱۴ ص:۶۱۹ (حدیث نمبر:۳۹۷۲۶) میں بروایت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’میرے بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے۔۔۔الخ۔‘‘(۴)
۳:۔۔۔ اِمام بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات ص:۴۲۴ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’تم کیسے ہوگے جب عیسیٰ بن مریم تم میں آسمان سے نازل ہوں گے، اور تم میں شامل ہوکر تمہارے اِمام ہوں گے۔‘‘(۵)
۴:۔۔۔ تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’میرے اور عیسیٰ بن مریم کے
(۱) قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الحرب، ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدُّنیا وما فیھا، ثم یقول ابوھریرۃ: واقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً (النساء:۱۵۹)
(بخاری، باب نزول عیسٰی علیہ السلام ج:۱ ص:۴۹۰)
(۲)عن محمد بن سیرین انہ کان إذا حدث عن ابی ھریرۃ فقیل لہ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فقال: کل حدیث ابی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم ۔۔۔إلخ۔ (طحاوی شریف ج:۱ ص:۱۹، طبع مکتبہ حقانیہ)
(۳) ان ابا ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم۔
(بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)
(۴)قال ابن عباس: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فعند ذالک ینزل اخی عیسَی ابن مریم من السماء۔۔۔إلخ۔
(۵) قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: کیف انتم إذا نزل فیکم ابن مریم من السماء وإمامکم منکم۔
(کتاب الأسماء والصفات للبیھقی ص:۴۲۴)
196
درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں ہوا، دیکھو! وہ میرے بعد میری اُمت میں میرے خلیفہ ہوں گے۔‘‘ (۱)
۵:۔۔۔ ابوداؤد ص:۵۹۴ اور مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’انبیائے کرام باب شریک بھائی ہیں، ان کی مائیں (شریعتیں) الگ الگ ہیں اور دِین سب کا ایک ہے، اور مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ بن مریم سے ہے، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، اور بے شک وہ تم میں نازل ہوں گے، پس جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، ان کا حلیہ یہ ہے: قدمیانہ، رنگ سرخ وسفید، دو زَرد رَنگ کی چادریں زیبِ بدن ہوں گی، سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ پہنچی ہو، پس لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، پس صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، اور اللّٰہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام مذاہب کو مٹادیں گے، اور مسیحِ دجال کو ہلاک کردیں گے، پس زمین میں چالیس برس ٹھہریں گے، پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔(۲)
یہ تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِرشادات ہیں جن سے آیتِ زیر بحث کی تشریح ہوجاتی ہے۔
اب چند صحابہؓ وتابعینؒ کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیے:
۱:۔۔۔ مستدرک حاکم ج:۲ ص:۳۰۹، درمنثور ج:۲ ص۲۴۱، اور تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی خبر دِی گئی ہے اور یہ کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو ان کی موت سے پہلے سب اہلِ کتاب ان پر اِیمان لائیں گے۔(۳)
۲:۔۔۔ اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہا اس آیت کی تفسیر یہ فرماتی ہیں کہ ہر اہلِ کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لائے گا اور جب وہ قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت جتنے اہلِ کتاب ہوں
(۱) عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: الَا إن عیسَی بن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول الا انہ خلیفتی فی اُمّتی من بعدی۔
(تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲، طبع إیران)
(۲)عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الأنبیاء إخوۃ لعلَّات اُمَّھاتھم شتّٰی ودینھم واحد، وانا اولی الناس بعیسَی ابن مریم لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبیٌّ، وانہ نازل، فإذا رایتموہ فاعرفوہ فإنہ رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران کأن رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویدعو الناس إلی الإسلام، فیھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا غیر الإسلام ویھلک ﷲ فی زمانہ المسیح الدَّجَّال الکذَّاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلّی علیہ المسلمون۔
(مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶)
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لیس بینی وبینہ یعنی عیسٰی علیہ السلام نبی وانہ نازل فإذا رأیتموہ فاعرفوہ، رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کأن رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل، فیقاتل الناس علی الإسلام، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا إلَّا الإسلام، ویھلک المسیح الدَّجَّال فیمکث فی الأرض أربعین سنۃ ثم یتوفّٰی فیصلّی علیہ المسلمون۔
(سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۲۳۸)
(۳) عن ابن عباس فی قولہ ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ قال: قبل موت عیسٰی۔ واخرج ابن جریر عن ابن عباس فی الآیۃ قال: یعنی انہ سیدرک اناس من اھل الکتاب حین یبعث عیسٰی سیؤْمنون بہ۔
197
گے، آپ کی موت سے پہلے آپ پر اِیمان لائیں گے (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۲۴۱)۔(۱)
۳:۔۔۔ درمنثور کے مذکورہ صفحے پر یہی تفسیر حضرت علی کرّم اللّٰہ وجہہ کے صاحبزادے حضرت محمد بن الحنفیہ رحمہ اللّٰہ سے منقول ہے۔(۲)
۴:۔۔۔ اور تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴ میں یہی تفسیر اکابر تابعین حضرت قتادہؒ، حضرت محمد بن زید مدنی ؒ (اِمام مالکؒ کے اُستاذ)، حضرت ابومالک غفاریؒ اور حضرت حسن بصریؒ سے منقول ہے۔ حضرت حسن بصریؒ کے الفاظ یہ ہیں: ’’آیت میں جس اِیمان لانے کا ذِکر ہے، یہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ہوگا، اللّٰہ کی قسم! وہ ابھی آسمان پر زِندہ ہیں، لیکن آخری زمانے میں جب وہ نازل ہوں گے تو ان پر سب لوگ اِیمان لائیں گے۔‘‘(۳)
اس آیت کی جو تفسیر میں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہؓ وتابعینؒ سے نقل کی ہے بعد کے تمام مفسرین نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے، لہٰذا کوئی شک نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کی خبر دی ہے اور دورِ نبوی سے آج تک یہی عقیدہ مسلمانوں میں متواتر چلا آرہا ہے۔
تیسری آیت:
سورۂ زخرف آیت:۶۱ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہے: ’’اور وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں مت شک کرو۔‘‘(۴)
اس آیت کی تفسیر میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔‘‘ (موارد الظمآن ج:۵ ص:۴۳۵، حدیث:۱۷۵۸)۔(۵)
۲:۔۔۔ حضرت حذیفہ بن اُسید الغفاری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے، اتنے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا کہ: کیا مذاکرہ ہورہا تھا؟ عرض کیا: قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے! فرمایا: قیامت نہیں
(۱) قال ﷲ: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ۔۔۔۔۔۔۔ فإذا کان عند نزول عیسٰی آمنت بہ احیاؤُھم کما آمنت بہ موتاھم ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال شھر وایم ﷲ ما حدثنیہ إلَّا اُمّ سلَمۃ۔ (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۲۴۱، طبع إیران)۔
(۲)واخرج عبد بن حُمید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عن محمد بن علی بن ابی طالب ھو ابن الحنفیۃ قال: لیس من اھل الکتاب احد إلَّا اتتہ الملائکۃ یضربون وجھہ ودبرہ ثم یقال: یا عدوَّ ﷲ! إن عیسٰی رُوح ﷲ وکلمتہ کذبت علی ﷲ وزعمت انہ ﷲ، إن عیسٰی لم یمت وانہ رفع إلی السماء وھو نازل قبل ان تقوم الساعۃ فلا یبقیٰ یھودی ولا نصرانی إلَّا آمن بہ۔ (درمنثور ج:۲ ص:۲۴۱)۔
(۳) عن الحسن البصری فی قولہ تعالٰی: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ قال: قبل موت عیسٰی، وﷲ إِنَّ الآن لحیٌّ عند ﷲ ولٰکن إذا نزل آمنوا بہ اجمعون۔ (تفسیر ابن جریر ج:۶ ص:۱۴، طبع بیروت)۔
(۴) ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا‘‘ (الزخرف:۶۱)
(۵) عن ابن عباس، عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فی قولہ: ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ قال: نزول عیسَی بن مریم قبل یوم القیامۃ۔
198
آئے گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو! دُخان، دَجال، دَابّۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا، یأجوج ومأجوج کا نکلنا۔۔۔الخ (صحیح مسلم، مشکوٰۃ ص:۴۷۲)۔(۱)
۳:۔۔۔ اور حدیثِ معراج جسے میں پہلے بھی کئی بار نقل کرچکا ہوں۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: معراج کی رات میری ملاقات حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، قیامت کا تذکرہ ہوا کہ کب آئے گی؟ حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اِظہار کیا، موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا:
’’قیامت کا ٹھیک ٹھیک وقت تو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں، البتہ مجھ سے میرے رَبّ کا ایک عہد ہے کہ قربِ قیامت میں دجال نکلے گا تو میں اُسے قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا۔ (آگے قتلِ دجال اور یأجوج مأجوج کے نکلنے کی تفصیل ہے، اس کے بعد فرمایا) پس مجھ سے میرے رَبّ کا عہد ہے کہ جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو قیامت کی مثال پورے دِنوں کی حاملہ جیسی ہوگی۔‘‘
(مسند احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابن ماجہ ص:۲۲۹، تفسیر ابنِ جریر ج:۱۷ ص:۷۲، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸،۵۴۵، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹، درمنثور ج:۴ ص:۳۳۶)(۲)
ان اِرشاداتِ نبویہ سے آیت کی تفسیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اِرشاد جو انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کے مجمع میں فرمایا اور جسے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے سامنے نقل کیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی نشانی کے طور پر دوبارہ تشریف لانا اور آکر دجالِ لعین کو قتل کرنا، اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا عہد، انبیائے کرام کا اِتفاق اور صحابہ کرامؓ کا اِجماع ہے، اور گزشتہ صدیوں کے تمام مجدّدین اس کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں، کیا اس کے بعد بھی کسی مؤمن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے میں شک رہ جاتا ہے۔۔۔؟
۴:۔۔۔ اس آیت کی تفسیر بہت سے صحابہؓ وتابعینؒ سے یہی منقول ہے کہ آخری زمانے میں سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے، حافظ ابنِ کثیرؒ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
’’یعنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا قیامت کی نشانی ہے، یہی تفسیر
(۱)عن حذیفۃ بن اسید الغفاری رضی ﷲ عنہ قال: اطلع النبی صلی ﷲ علیہ وسلم علینا، ونحن نتذاکر فقال: ما تذاکرون؟ قالوا: نذکر الساعۃ، قال: انھا لن تقوم حتّٰی تروا قبلھا عشر آیات، فذکر الدخان والدَّجَّال والدَّابَّۃ، وطلوع الشمس من مغربھا، ونزول عیسَی ابن مریم ویأجوج ومأجوج ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۷۲)۔
(۲) عن عبدﷲ بن مسعود قال: لما کان لیلۃ اسری برسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم لقی إبراھیم وموسٰی وعیسٰی فتذاکروا الساعۃ، فبدؤُا بإبراھیم فسألوہ عنھا فلم یکن عندہ منھا علم ثم سألوا موسٰی فلم یکن عندہ منھا علم فرد الحدیث إلٰی عیسَی بن مریم فقال: قد عھد إلیَّ فیما دون وجبتھا فأما وجبتھا فلا یعلمھا إلَّا ﷲ، فذکر خروج الدَّجَّال، قال: فأنزل فأقتلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فعھد إلیَّ متیٰ کان ذالک کانت الساعۃ من الناس کالحامل التی لا یدری اھلھا متیٰ تفجأھم بولادتھا ۔۔۔إلخ۔ (واللفظ لإبن ماجۃ ص:۲۹۹، مسند احمد ج:۱ ص:۳۷۵)۔
199
حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابنِ عباسؓ، ابوالعالیہؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، ضحاکؒ اور دُوسرے بہت سے حضرات سے مروی ہے، اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس مضمون کی احادیث متواترہ ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کی خبر دی ہے۔‘‘
(تفسیر ابنِ کثیر ج:۴ ص:۱۳۲)(۱)
چوتھی آیت:
سورۂ مائدہ کی آیت:۱۱۸ میں اِرشاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کریں گے:
’’اے اللّٰہ! اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں، اور اگر بخش دیں تو آپ عزیز وکریم ہیں۔‘‘(۲)
سیّدنا ابنِ عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے کہ: اِلٰہی! یہ تیرے بندے ہیں (مگر انہوں نے میری غیرحاضری میں مجھے خدا بنایا، اس لئے) واقعی انہوں نے اپنے اس عقیدے کی بنا پر اپنے کو عذاب کا مستحق بنالیا ہے، اور اگر آپ بخش دیں، یعنی ان لوگوں کو، جن کو صحیح عقیدے پر چھوڑ کر گیا تھا اور (اسی طرح ان لوگوں کو بھی بخش دیں جنہوں نے اپنے اس عقیدے سے رُجوع کرلیا، چنانچہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر لمبی کردی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ آخری زمانے میں دجال کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے زمین کی طرف اُتارے جائیں گے، تب عیسائی لوگ اپنے قول سے رُجوع کرلیں گے، تو جن لوگوں نے اپنے قول سے رُجوع کرلیا اور تیری توحید کے قائل ہوگئے اور اِقرار کرلیا کہ ہم سب (بشمول عیسیٰ علیہ السلام کے) خدا کے بندے ہیں، پس اگر آپ ان کو بخش دیں جبکہ انہوں نے اپنے قول سے رُجوع کرلیا ہے تو آپ عزیز وحکیم ہیں۔‘‘
(تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۳۵۰)(۳)
(۱)وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسَی بن مریم قبل یوم القیامۃ، وھٰکذا روی عن ابی ھریرۃ وابن عباس وابی العالیۃ وابی مالک وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والضحاک وغیرھم، وقد تواترت الأحادیث عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم انہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ إمامًا عادلًا وحَکَمًا مقسطًا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۱۳۲، قدیم نسخہ، طبع جدید ج:۵ ص:۵۳۰، رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۲)إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (المائدۃ:۱۱۸)
(۳) عن ابن عباس فی قولہ تعالٰی: إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یقول: عبیدک قد استوجبوا العذاب بمقالتھم، وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ ای من ترکتُ منھم ومُدَّ فی عمرہ حتّٰی اھبط من السماء إِلی الأرض لیقتل الدجال فنزلوا عن مقالتھم ووحَّدوک واقروا انا عبید وإن تغفر لھم حیث رجعوا عن مقالتھم فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۳۵۰، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۲۹۲،۲۹۳، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
200
حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ کی اس تفسیر سے واضح ہوا کہ یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کی دلیل ہے۔
آپ نے اپنے سوال میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اِمام مہدی ہونے کا دعویٰ کریں گے؟ اس کے جواب میں صرف اتنا عرض کردینا کافی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک اُمتِ اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؓ دو الگ الگ شخصیتیں ہیں،(۱) اور یہ کہ نازل ہوکر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اِقتدا میں پڑھیں گے۔(۲) جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اس کی دلیل نہ قرآنِ کریم میں ہے، نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں، اور نہ سلف صالحین میں سے کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی متواتر اَحادیث میں وارِد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدیؓ اس اُمت کے اِمام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اِقتدا میں نماز پڑھیں گے۔
۳:۔۔۔ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر شبہات:
جناب نے یہ بھی دریافت فرمایا ہے کہ ’’كل نفس ذآئقۃ الموت‘‘ کی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر اثرانداز نہیں ہوتی؟ جواباً گزارش ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آپ کو، مجھ کو، زمین کے تمام لوگوں کو، آسمان کے تمام فرشتوں کو، بلکہ ہر ذِی رُوح مخلوق کو شامل ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر متنفس کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موت آئے گی، لیکن کب؟ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا وقت بھی بتادیا ہے کہ آخری زمانے میں نازل ہوکر وہ چالیس برس زمین پر رہیں گے، پھر ان کا اِنتقال ہوگا، مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور میرے روضے میں ان کو دفن کیا جائے گا (مشکوٰۃ شریف ص:۴۸۰)۔(۳)
اس لئے آپ نے جو آیت نقل فرمائی ہے، وہ اسلامی عقیدے پر اَثرانداز نہیں ہوتی، البتہ یہ عیسائیوں کے عقیدے کو باطل کرتی ہے، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نجران کے پادریوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رَبّ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام کو موت آئے گی۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں‘‘ (درمنثور ج:۲ ص:۳)۔(۴)
(۱،۲) وتواترت الأخبار بأن المھدی من ھٰذہ الاُمَّۃ، وان عیسٰی یصلی خلفہ ذکر ذالک ردًّا للحدیث الذی اخرجہ ابن ماجۃ عن انس وفیہ لا مھدی إلَّا عیسٰی۔ (فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۴، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ، لاھور)۔
(۳) عن عبدﷲ بن عمرو قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ینزل عیسَی ابن مریم إلی الأرض فتیزوّج ویولد لہ، ویمکث خمسًا وأربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۸۰، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)۔
(۴) الستم تعلمون ان ربَّنا حیٌّ لا یموت وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء۔ (درمنثور ج:۲ ص:۳ طبع إیران)۔
201
آخری گزارش!
جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ووفات کا مسئلہ آج پہلی بار میرے آپ کے سامنے پیش نہیں آیا اور نہ قرآنِ کریم ہی پہلی مرتبہ میرے، آپ کے مطالعے میں آیا ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور سے قرآن مجید متواتر چلا آتا ہے اور حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ بھی۔ اس اُمت میں اہلِ کشف، ملہم ومجدّد بھی گزرے ہیں اور بلند پایہ مفسرین ومجتہدین بھی، مگر ہمیں جناب مرزا صاحب سے پہلے کوئی ملہم، مجدّد، صحابی، تابعی اور فقیہ ومحدث ایسا نظر نہیں آتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں دوبارہ تشریف آوری کا منکر ہو۔ قرآنِ کریم کی جن آیتوں سے جناب مرزا غلام احمد صاحب وفاتِ مسیح ثابت کرتے ہیں، ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ کیا یہ آیات قرآنِ کریم میں پہلے موجود نہیں تھیں؟ کیا چودہویں صدی میں پہلی بار نازل ہوئی ہیں؟ یا گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ قرآن کو سمجھنے سے معذور اور عقل وفہم سے عاری تھے۔۔۔؟
’’پس اگر اِسلام میں بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلّی طور پر نورِ نبوّت تھا، تو گویا خدا تعالیٰ نے عمداً قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دُنیا سے اُٹھالئے۔ مگر یہ بات اس کے وعدے کے برخلاف ہے، جیسا کہ وہ فرماتا ہے: ’’اِنَّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ وَاِنَّا لَہُ لَحٰفِظُونَ‘‘ یعنی ہم نے ہی قرآن اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اور حالی طور پر اِیمان لانے والے زاویۂ عدم میں مختفی ہوگئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اور وہ یہ ہے: ’’بَل ہُوَ اٰیٰت بَیِّنٰت فِی صُدُورِ الَّذِینَ اُوتُوا العِلمَ‘‘ یعنی قرآن آیاتِ بینات ہیں جو اہلِ علم کے سینوں میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ قرآن کا برباد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روزِ اوّل سے اس کا پودا دِلوں میں جمایا گیا، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۵۴،۵۵، مؤلفہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی)
بلاشبہ جس شخص کو قرآنِ کریم پر اِیمان لانا ہوگا اسے اس تعلیم پر بھی اِیمان لانا ہوگا جو گزشتہ صدیوں کے مجدّدین اور اکابرِ اُمت قرآنِ کریم سے متواتر سمجھتے چلے آئے ہیں، اور جو شخص قرآنِ کریم کی آیتیں پڑھ پڑھ کر اَئمہ مجدّدین کے متواتر عقیدے کے خلاف کوئی عقیدہ پیش کرتا ہے، سمجھنا چاہئے کہ وہ قرآنِ کریم کی حفاظت کا منکر ہے۔
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر میں نے جو آیات پیش کی ہیں، ان کی تفسیر صحابہؓ وتابعینؒ کے علاوہ خود آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی نقل کی ہے۔ ان کے علاوہ جس صدی کے اَئمہ دِین اور صاحبِ کشف واِلہام مجدّدین کے بارے میں آپ چاہیں، میں حوالے پیش کردُوں گا کہ انہوں نے قرآنِ کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور آخری زمانے میں دوبارہ آنے کو ثابت کیا ہے۔
202
جن آیتوں کو آپ کی جماعت کے حضرات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی دلیل میں پیش کرتے ہیں، من گھڑت تفسیر کے بجائے ان سے کہئے کہ ان میں ایک ہی آیت کی تفسیر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے، صحابہ کرامؓ سے، تابعینؒ سے یا بعد کے کسی صدی کے مجدّد کے حوالے سے پیش کردیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں، وہ آخری زمانے میں نہیں آئیں گے، بلکہ ان کی جگہ ان کا کوئی مثیل آئے گا۔ کیا یہ ظلم وستم کی اِنتہا نہیں کہ جو مسلمان آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہؓ وتابعینؒ اور اَئمۂ مجدّدین کے عقیدے پر قائم ہیں، ان کو تو ’’فیج اعوج‘‘ ۔۔۔یعنی گمراہ اور کجرو لوگ۔۔۔ کہا جائے، اور جو لوگ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تمام اکابرِ اُمت کے خلاف قرآن کی تفسیر کریں اور ان تمام بزرگوں کو ’’مشرک‘‘ ٹھہرائیں، ان کو حق پر مانا جائے۔۔۔!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں
سوال:۔۔۔ جیسا کہ احادیث وقرآن کی روشنی میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں، اب ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کون سے آسمان پر ہیں؟ اور ان کے اِنسانی ضروریات کے تقاضے کیسے پورے ہوتے ہوں گے؟ مثلاً کھاناپینا، سوناجاگنا اور اُنس واُلفت اور دیگر اشیائے ضرورت انسان کو کیسے ملتی ہوں گی؟ وضاحت کرکے مطمئن کریں۔
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر زِندہ اُٹھایا جانا، اور قربِ قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا تو اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔ جس پر قرآن وسنت کے قطعی دلائل قائم ہیں، اور جس پر اُمت کا اِجماع ہے۔(۱) حدیثِ معراج میں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دُوسرے آسمان پر ملاقات ہوئی تھی۔(۱) آسمان پر مادّی غذا اور بول وبراز کی ضرورت پیش نہیں آتی، جیسا کہ اہلِ جنت کو ضرورت پیش نہیں آئے گی۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۹،۲۵۰)
سیّدنا مسیح علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش
سوال:۔۔۔ بکر کہتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ یا فوت شدہ ماننا، بغیر باپ کے یا باپ والا ماننا، ہمارے لئے
(۱) وبہ صرح الحافظ عمادالدین ابن کثیر رحمہ ﷲ حیث قال فی تفسیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إنہ لعلم للساعۃ وقد تواترت الأحادیث عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم انہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ إمامًا عادلًا وحکمًا مقسطًا، وصرح بہ فی تفسیر سورۃ النساء ایضًا، وذکر الحافظ ابن حجر فی کتابہ (فتح الباری) تواتر نزول عیسٰی علیہ السلام عن ابی الحسین الآبری، وقال فی التلخیص الحبیر من کتاب الطلاق، واما رفع عیسٰی علیہ السلام فاتفق اصحاب الأخبار والتفسیر علٰی انہ رفع ببدنہ حیًّا۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۵۸ تا ۶۲ طبع دارالعلوم کراچی، تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۵۳۰ طبع رشیدیہ)۔
(۱) عن قتادۃ عن انس بن مالک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم صعد بی حتّٰی اتی السماء الثانیۃ فاستفتح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ففتح فلما خلصت إذا یحیٰی وعیسٰی وھما ابنا خالۃ۔ (مشکوٰۃ ص:۵۲۷، باب المعراج، طبع قدیمی)۔
(۲) إن الطعام إنما جعل قُوْتًا لمن یعیش فی الأرض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأما من رفعہ ﷲ إلی السماء فإنہ یلطفہ بقدرتہ ویغنیہ عن الطعام والشراب کما اغنی الملائکۃ عنھما فیکون حینئذٍ طعامہ التسبیح، وشرابہ التھلیل کما قال صلی ﷲ علیہ وسلم: إنی ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی۔ (الیواقیت والجواھر للشعرانی ج:۲ ص:۱۴۶)۔
ایضًا: عن جابر قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: إن اھل الجنۃ یأکلون فیھا ویشربون ولا یتفلون ولا یبولون ولا یتغوطون ولا یتمخطون، قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح کرشح المسک یلھمون التسبیح والتحمید کما تلھمون النفس۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۹۶)۔
203
جزوِ اِیمان نہیں ہے، بلکہ جزوِ اِیمان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بشر اور رسول مانے اور اُلوہیت میں شریک نہ کرے، کیونکہ حضرت مریمؓ کی شادی یوسف نامی بڑھئی سے ہوگئی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش مثل عام انسانوں کے ہوئی، اس لئے وہ اِبن اللّٰہ نہیں ہوسکتے۔‘‘
جواب:۔۔۔ قرآن مجید سے جو کچھ ثابت ہے اس پر اِیمان رکھنا ضروری ہے، چاہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دعویٔ رِسالت ہو، یا فرعون کا دعویٔ خدائی، یعنی یہ ماننا بھی داخلِ اِیمان ہے کہ فرعون نے کہا تھا: ’’أَنَا رَبُّکُمُ الْأَعْلَی‘‘ (النازعات:۲۴) پس ان معنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بلاباپ ماننا داخلِ اِیمان ہے، کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے: ’’مَا کَانَ أَبُوکِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا کَانَتْ أُمُّکِ بَغِیّاً‘‘ (مریم:۲۸) یوسف سے نکاح ہونا اِنجیل میں مذکور ہے، مگر اسی اِنجیل میں یہ بھی مرقوم ہے کہ مریمؓ یوسف کے ملاپ سے پہلے رُوح القدس سے حاملہ ہوچکی تھیں، اس لئے یہ نکاح مسیح علیہ السلام کی ولادت بے باپ ہونے کے مخالف نہیں۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۱ ص:۳۷۷)
ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں
جواب:۔۔۔ آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا، آپ کی فرمائش پر براہِ راست جواب لکھ رہا ہوں، اور اس کی نقل ’’جنگ‘‘ کو بھیج رہا ہوں۔
اہلِ اسلام قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اِجماعِ اُمت کی بنا پر سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں، خود جناب مرزاقادیانی کو اِعتراف ہے کہ:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اَوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزاقادیانی کے ماننے والوں کو اہلِ اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہئے، کیونکہ جناب مرزاقادیانی نے سورۃ الصف کی آیت:۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اِعلان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے، وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق واَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)
جناب مرزاقادیانی، قرآنِ کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی بنا پر نہیں
204
دیتے، بلکہ وہ اپنے ’’اِلہام‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں:
’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور اِنکسار اور توکل اور اِیثار اور آیات اور اَنوار کی رُو سے مسیح کی ’’پہلی زندگی‘‘ کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۴)
اور اسی پر اِکتفا نہیں، بلکہ مرزاقادیانی اپنے اِلہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی اِلہامی پیش گوئی بھی کرتے ہیں، چنانچہ اسی کتاب کے ص:۵۰۵ (خزائن ج:۱ ص:۶۰۲) پر اپنا ایک اِلہام:’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم‘‘ درج کرکے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں:
’’یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے ’’جلالی طور پر‘‘ ظاہر ہونے کا اِشارہ ہے، یعنی اگر طریق وحق اور نرمی اور لطف اور اِحسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینات سے کھل گیا ہے، اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدّت اور عنف اور قہر اور سختی کو اِستعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے۔۔۔۔۔ اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور اِرہاص کے واقع ہوا ہے، یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اِتمامِ حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رِفق اور اِحسان سے اِتمامِ حجت کر رہا ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ آنے پر اِیمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآنِ کریم کی قطعی پیش گوئی کی تکذیب ہے، بلکہ جناب مرزاقادیانی کی قرآن فہمی اور ان کی اِلہامی تفسیر اور ان کی اِلہامی پیش گوئی کی بھی تکذیب ہے۔ پس ضروری ہے کہ اہلِ اسلام کی طرح مرزاقادیانی کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر اِیمان رکھیں، ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن وحدیث کے علاوہ مرزاقادیانی کی قرآن دانی بھی حرفِ غلط ثابت ہوگی اور ان کی اِلہامی تفسیریں اور اِلہامی اِنکشافات سب غلط ہوجائیں گے، کیونکہ:
’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری باتوں میں بھی اس پر اِعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۲۲۲، خزائن ج:۲۳ ص:۲۳۱)
اب آپ کو اِختیار ہے کہ ان دو باتوں میں سے کس کو اِختیار کرتے ہیں؟ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانے کو؟ یا مرزاقادیانی کی تکذیب کو؟
205
جناب مرزاقادیانی کے ’’اِزالہ اوہام‘‘ صفحہ:۹۲۱ والے چیلنج کا ذِکر کرکے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوّے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔
آںعزیز کو شاید علم نہیں کہ حضراتِ علمائے کرام ایک بار نہیں، متعدّد بار اس کا جواب دے چکے ہیں۔ تاہم اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا، تو یہ فقیر ۔۔۔باوجودیکہ حضراتِ علماء احسن اللّٰہ جزاہم کی خاکِ پا بھی نہیں۔۔۔ اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے حاضر ہے۔ اسی کے ساتھ مرزاقادیانی کی ’’کتاب البریہ‘‘ (ص:۲۰۷، خزائن ج:۱۳ ص:۲۲۵) والے اِعلان کو بھی ملالیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تصفیے کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزاقادیانی کے موجودہ جانشین سے لکھوادیا جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزاقادیانی کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت ۔۔۔جس کے فیصلے پر فریقین اِعتماد کرسکیں۔۔۔ خود ہی تجویز فرمادیں۔ میں اس مُسلَّمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کردوں گا، عدالت اس پر جو جرح کرے گی، اس کا جواب دُوں گا، میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کردے کہ میں نے مرزاقادیانی کے کُلّیئے کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا ہے تو ۲۰ہزار روپے آںعزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو چھوڑتا ہوں۔ دُوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرادیجئے گا۔ اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اِعلان کرادیجئے گا کہ مرزاقادیانی کا چیلنج بدستور قائم ہے، اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیے کے لئے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت اِحسان کریں گے۔۔۔!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن کیا ہوگا؟
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے کا مقصد کیا ہے؟ اور ان کا مشن کیا ہوگا؟ جبکہ دِینِ اسلام اللّٰہ تعالیٰ کامکمل اور پسندیدہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی آمد عیسائیوں کی اِصلاح کے لئے ہوسکتی ہے، اگر اِسلام کے لئے تسلیم کرلیا جائے تو ہمارے آخرالزمان نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے درجے میں کمی ہوگی۔ برائے نوازش اخبار کے ذریعے میرے سوال کا جواب دے کر ایسے مطمئن کیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشن کیا ہوگا؟
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا مشن آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود پوری تفصیل اور وضاحت سے اِرشاد فرمادیا ہے۔ اس سلسلے میں متعدّد اَحادیث میں پہلے نقل کرچکا ہوں۔ یہاں صرف ایک حدیث پاک کا حوالہ دینا کافی ہے:
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ ہیں، مگر ان کا دِین ایک ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے سب زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، اور وہ نازل ہونے والے ہیں۔ پس جب ان کو دیکھو
206
تو پہچان لو، قامت میانہ، رنگ سرح وسفیدی ملا ہوا، ہلکے زرد رَنگ کی دو چادریں زیبِ تن کئے نازل ہوں گے، سر مبارک سے گویا قطرے ٹپک رہے ہیں، گو اس کو تری نہ پہنچی ہو، پس وہ نازل ہوکر صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، اور تمام لوگوں کو اِسلام کی دعوت دیں گے، پس اللّٰہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے، اور اللّٰہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے۔ رُوئے زمین پر اَمن وامان کا دور دورہ ہوجائے گا، شیر اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین میں چالیس برس ٹہریں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے۔‘‘(۱)
(مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۰۶، فتح الباری ج:۶ ص:۲۵۷، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۰)
اس اِرشادِ پاک سے ظاہر ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل مشن یہود ونصاریٰ کی اِصلاح اور یہودیت ونصرانیت کے آثار سے رُوئے زمین کو پاک کرنا ہے، مگر چونکہ یہ زمانہ خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت وبعثت کا ہے، اس لئے وہ اُمتِ محمدیہ کے ایک فرد بن کر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خادم اور خلیفہ کی حیثیت میں تشریف لائیں گے۔
چنانچہ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے:
’’سن رکھو! کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے اور میرے درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں ہوا، سن رکھو! کہ وہ میرے بعد میری اُمت میں میرے خلیفہ ہیں، سن رکھو! کہ وہ دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، جزیہ بند کردیں گے، لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے گی، سن رکھو! جو شخص تم میں سے اُن کو پائے، اُن کو میرا سلام کہے۔‘‘(۲)
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۶۹، درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲)
اس لئے اِسلام کی جو خدمت بھی وہ انجام دیں گے، اور ان کا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے اُمتِ محمدیہ میں آکر شامل ہونا، ہمارے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کمی کا باعث نہیں، بلکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیادت
(۱)عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الأنبیاء إخوۃ لعلَّات اُمَّھاتھم شتّٰی ودینھم واحد، وانا اولی الناس بعیسَی ابن مریم لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبیٌّ، وانہ نازل، فإذا رایتموہ فاعرفوہ فإنہ رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران کأن رأسہ یقطر ولم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویدعو الناس إلی الإسلام، فیھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا إلَّا الإسلام ویھلک ﷲ فی زمانہ المسیح الدَّجَّال، وتقع الأمنۃ فی الأرض حتّٰی ترتع الأسود مع الإبل، والنمار مع البقر، والذئاب مع الغنم، ویلعب الصبیان والغلمان بالحیَّات لا تضرھم، فیمکث اربعین سنۃ، ثم یتوفّٰی فیصلّی علیہ المسلمون۔ (مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶ واللفظ لہ، فتح الباری ج:۲ ص:۲۵۷، التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۰)۔
(۲)عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: الا! إن عیسَی ابن مریم لیس بینی وبینہ نبیٌّ ولا رسولٌ، الا! انہ خلیفتی فی اُمَّتی من بعدی، الا! إنہ یقتل الدَّجَّال، ویکسر الصلیب، ویضع الجزیۃ، وتضع الحرب اوزارھا، الا! من ادرکہ منکم فلیقرأ علیہ السلام۔ (درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲ واللفظ لہ، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۲۰۵)۔
207
وقیادت اور شرف ومنزلت کا شاہکار ہے۔ اس وقت دُنیا دیکھ لے گی کہ واقعی تمام انبیائے گزشتہ ۔۔۔علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطیع ہیں، جیسا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللّٰہ کی قسم! موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اِطاعت کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔‘‘(۱)
(مشکوٰۃ شریف، ص:۳۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۸،۲۴۹)
حیاتِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ نظریہ کہ وہ وفات پاچکے ہیں، اس بارے میں اہلِ سنت والجماعت کا کیا عقیدہ ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا مفصل ومدلل جواب عنایت فرمائیں۔بیّنوا توجروا!
از سنگاپور
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق مسلمانوں کا اِجماعی عقیدہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اُٹھالیا ہے اور آپ زندہ ہیں،(۲) قیامت کے قریب دُنیا میں تشریف لائیں گے، دجال کو قتل کریں گے اور اس کے بعد آپ کی وفات ہوگی، یہ عقیدہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور اس پر اُمت کا اِجماع ہے، لہٰذا جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے اور آپ کی وفات کا قائل ہو، وہ قرآن وحدیث اور اِجماع کا منکر ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، یہ اِجماعی مسئلہ ہے، اِجتہادی چیز نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
’’وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘
(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)
’’اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کو جو کہ رسول ہیں اللّٰہ تعالیٰ کے قتل کردیا، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اِختلاف کرتے ہیں، وہ غلط خیالی میں ہیں، ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ زبردست بڑے حکمت والے ہیں۔‘‘
اس آیت مبارکہ سے صراحۃً ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے ان کو ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ قتل کردیا، بالکل غلط ہے، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اُٹھالیا ہے، اور آپ زندہ ہیں۔
(۱) عن جابر عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم حین اتاہ عمر فقال ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی۔ (مشکوٰۃ ص:۳۰ باب الإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ)۔
(۲) صفحہ:۲۰۳ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ فرمائیں۔
208
’’رُوح المعانی‘‘ میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے:
’’وھو حیٌّ فی السماء الثانیۃ علٰی ما صح عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فی حدیث المعراج وھو ھنالک مقیمٌ حتّٰی ینزل إلی الأرض یقتل الدَّجَّال ویملؤُھا عدلًا کما ملئت جورًا۔‘‘
(رُوح المعانی ج:۶ ص:۱۱)
’’یعنی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام دُوسرے آسمان پر زِندہ ہیں، جیسا کہ یہ بات حدیثِ معراج میں صحیح طور پر مروی ہے، اور آپ آسمان پر مقیم ہیں، یہاں تک کہ آپ دُنیا میں تشریف لائیں گے اور دَجال کو قتل کریں گے، اور زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے، جیسا کہ آپ کی آمد سے قبل دُنیا ظلم وستم سے بھری پڑی تھی۔‘‘
حدیث میں ہے:
’’عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: وﷲ! لَیَنْزِلَنَّ ابن مریم حَکَمًا عادلًا فیکسر الصلیب۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ: اللّٰہ کی قسم! حضرت ابنِ مریم (یعنی عیسیٰ) علیہ الصلوٰۃ والسلام یقینا (قیامت کے قریب دُنیا میں) نازل ہوں گے (اور آپ) حاکمِ عادل ہوں گے، پس آپ صلیب کو توڑیں گے۔‘‘
(مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۹، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)
’’فائدہ:۔۔۔ بالتحقیق ثابت ہوا ہے صحیح حدیثوں سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اُتریں گے آسمان سے زمین پر اور دِینِ محمد ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ کے تابع ہوں گے اور حکم کریں گے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر۔‘‘
(مظاہرِ حق، بتغیر یسیر ج:۴ ص:۳۲۷، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
حکیم الامت حضرتِ اقدس مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے ’’بیان القرآن‘‘ میں اس پر علمی بحث فرمائی ہے، جو قابلِ مطالعہ ہے، اس میں آپ تحریر فرماتے ہیں
’’تنبیہ ضروری:۔۔۔ تقریر تفسیر سے بعض ان لوگوں کی غلطی ظاہر ہوگئی جو آج کل دعویٰ بلادلیل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور آپ مدفون ہوگئے او رپھر قیامت کے قریب تشریف نہ لائیں گے، اور اس پر جو اَحادیث عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری کے متعلق آئی ہیں، ان میں تحریف کی ہے کہ مراد اس سے مثیلِ عیسیٰ ہے، اور پھر اس مثیل کا مصداق اپنے کو قرار دِیا ہے (۔۔الیٰ قولہٖ۔۔) اور دُوسرے دلائل سے رفع وحیات ثابت ہے، پس اس کا قائل ہونا واجب ہے، رفع تو آیت ’’رَفَعَہُ اللہُ‘‘
209
سے جو اپنے حقیقی معنی کے اِعتبار سے نص ہے رفع مع الجسد میں، اور بلاتعذر معنیٔ حقیقی کے مجازی لینا ممتنع ہے، اور دلیلِ تعذر مفقود ہے، اور حیات اَحادیث واِجماع سے ثابت ہے، چنانچہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے: إن عیسٰی لم یمت وانہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔ رواہ السیوطی فی الدر المنثور واخرج ابن کثیر من آل عمران وقال ابن ابی حاتم: حدثنا ابی، حدثنا احمد بن عبدالرحمٰن، حدثنا عبدﷲ بن جعفر عن ابیہ، حدثنا الربیع بن انس عن الحسن اھ فذکر اثرًا عنہ ثم قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم للیھود: إن عیسٰی لم یمت وإنہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔ (۔۔۔الیٰ قولہٖ۔۔۔) اور اِجماع نہایت ظاہر ہے کہ کسی مستند عالم سے سلفاً وخلفاً اس کے خلاف منقول نہیں ۔۔۔الخ۔‘‘
(بیان القرآن ج:۲ ص:۴۰، سورۂ آل عمران، پارہ نمبر۳، رُکوع نمبر۱۳، طبع دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللّٰہ اپنی مشہور تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’مسئلۂ حیات ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام
دُنیا میں صرف یہودیوں کا یہ کہنا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول ومصلوب ہوکر دفن ہوگئے اور پھر زِندہ نہیں ہوئے، اور ان کے اس خیال کی حقیقت قرآنِ کریم نے سورۂ نساء کی آیت میں واضح کردی ہے، اور اس آیت میں بھیوَمَكَرُوا وَمَكَرَاللہُ (آل عمران:۵۴) میں اس کی طرف اِشارہ کردیا گیا ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دُشمنوں کے کید اور تدبیر کو خود انہی کی طرف لوٹادیا کہ جو یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے مکان کے اندر گئے تھے، اللّٰہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کی شکل وصورت تبدیل کرکے بالکل عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں ڈھال دیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ آسمان پر اُٹھالیا، آیت کے الفاظ یہ ہیں:-
وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ (النساء:۱۵۷)
’’نہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا، نہ سولی چڑھایا لیکن تدبیرِ حق نے ان کو شبہ میں ڈال دیا (کہ اپنے ہی آدمی کو قتل کرکے خوش ہولئے)۔‘‘
اس کی مزید تفصیل سورۂ نساء میں آئے گی۔
نصاریٰ کا کہنا یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول ومصلوب تو ہوگئے مگر پھر دوبارہ زندہ کرکے آسمان پر اُٹھالئے گئے، مذکورہ آیت نے اُن کے اس غلط خیال کی بھی تردید کردی، اور بتلادیا کہ جیسے یہودی اپنے ہی آدمی کو قتل کرکے خوشیاں منا رہے تھے، اس سے یہ دھوکا عیسائیوں کو بھی لگ گیا کہ قتل ہونے والے عیسیٰ علیہ
210
السلام ہیں، اس لئےشُبِّہَ لَہُمْ کے مصداق یہود کی طرح نصاریٰ بھی ہوگئے۔
ان دونوں گروہوں کے بالمقابل اسلام کا وہ عقیدہ ہے جو اس آیت اور دُوسری کئی آیتوں میں وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو یہودیوں کے ہاتھ سے نجات دینے کے لئے آسمان پر زِندہ اُٹھالیا، نہ ان کو قتل کیا جاسکا، نہ سولی پر چڑھایا جاسکا، وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہوکر یہودیوں پر فتح پائیں گے، اور آخر میں طبعی موت سے وفات پائیں گے۔
اسی عقیدے پر تمام اُمتِ مسلمہ کا اِجماع واِتفاق ہے، حافظ ابنِ حجرؒ نے تلخیص الحبیر ص:۳۱۹ میں یہ اِجماع نقل کیا ہے، قرآن مجید کی متعدّد آیات اور حدیث کی متواتر روایات سے یہ عقیدہ اور اس پر اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے، یہاں اس کی پوری تفصیل کا موقع بھی نہیں، اور ضرورت بھی نہیں، کیونکہ علمائے اُمت نے اس مسئلے کو مستقل کتابوں اور رِسالوں میں پورا پورا واضح فرمادیا ہے، اور منکرین کے جوابات تفصیل سے دئیے ہیں، ان کا مطالعہ کافی ہے، مثلاً حضرت حجۃالاسلام مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ کی تصنیف بزبانِ عربی ’’عقیدۃ الإسلام فی حیات عیسٰی علیہ السلام‘‘ ، حضرت مولانا بدرِعالم صاحب مہاجر مدنی کی تصنیف بزبانِ اُردو ’’حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘، مولانا سیّد محمد اِدریس صاحب کی تصنیف ’’حیاتِ مسیح علیہ السلام‘‘، اور بھی سینکڑوں چھوٹے بڑے رسائل اس مسئلے پر مطبوع ومشتہر ہوچکے ہیں۔ احقر نے باَمرِ اُستاذِ محترم حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ سو سے زائد اَحادیث جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ اُٹھایا جانا اور پھر قربِ قیامت میں نازل ہونا بتواتر ثابت ہوتا ہے، ایک مستقل کتاب: ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں جمع کردیا ہے، جس کو حال میں حواشی وشرح کے ساتھ حلب (شام) کے ایک بزرگ علامہ عبدالفتاح ابوغدّہ نے بیروت میں چھپواکر شائع کیا ہے۔
اور حافظ ابنِ کثیرؒ نے سورۂ زُخرف کی آیت وَاِنَّہُ لَعِلم لِلسَّاعَۃِ (الزخرف:۶۱) کی تفسیر میں لکھا ہے:-
’’وقد تواترت الأحادیث عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم إنہ اخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ إمامًا عادلًا ۔۔۔إلخ۔‘‘
(ج:۷ ص:۲۱۷ طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
یعنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث اس معاملے میں متواتر ہیں کہ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قبلِ قیامت نازل ہونے کی خبر دِی ہے۔‘‘
(معارف القرآن ج:۲ ص:۷۴،۷۵، پارہ نمبر۳، رُکوع نمبر۱۳، سورۂ آل عمران)
ایک شبہ کا جواب
اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ قرآن کی اس آیتِ مبارکہ ’’یٰعِیسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ
211
پہلے آپ کی وفات ہوگی پھر آپ کو آسمان پر اُٹھایا گیا۔ تو اس شبہ کا جواب سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس آیت میں جو وعدے مذکور ہیں، وہ اس وقت کئے گئے تھے جبکہ قومِ یہود نے آپ کو شہید کرنے کی خفیہ سازش بنائی تھی، اور اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو اس ناپاک سازش سے باخبر کردیا اور وعدہ فرمایا کہ آپ اِطمینان رکھیں کہ یہ لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں، مگر یہ اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے، بلکہ قیامت کے قریب وقتِ موعود پر آپ اپنی طبعی موت سے ہی وفات پائیں گے، اور فی الحال ان کے شر سے بچانے کے لئے آپ کو آسمان پر اُٹھالیا جائے گا۔ تو مذکورہ آیت ’’اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ میں جو دو وعدے مذکور ہیں، وہ یقینا پورے ہوں گے، البتہ ’’رَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ والا وعدہ اسی وقت پورا کیا گیا، اور دُوسرا وعدہ اس وقت پورا ہوگا جب قیامت کے قریب آپ دُنیا میں تشریف لائیں گے، تو آیت کے الفاظ میں تقدیم وتأخیر ہے، اور واؤ چونکہ ترتیب کے لئے وضع نہیں ہوا ہے، لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ پہلے ’’مُتَوَفِّیكَ‘‘ کا وقوع ہو، اور پھر ’’رَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ کا، اور اس تقدیم وتأخیر میں بھی مصلحت ہے جسے مفسرین نے بیان کیا ہے، کما سیأتی إن شاء ﷲ۔
تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ میں ہے:
’’(یٰعِیسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ) اخرج ابن ابی حاتم عن قتادۃ قال: ھٰذا من المقدم والمؤَخر ای رافعک إلیَّ ومتوفّیک وھٰذا احد تأویلات اقتضاھما مخالفۃ ظاھر الآیۃ المشھور المصرح بہ فی الآیۃ الاُخریٰ وفی قولہ صلی ﷲ علیہ وسلم: إن عیسٰی لم یمت وإنہ راجعٌ إلیکم قبل یوم القیامۃ، وثانیھا ان المراد انی مستوفی اجلک وممیتک حتف انفک لا اسلط علیک من یقتلک فالکلام کنایۃ عن عصمۃ من الأعداء وما ھم بصدرہ من الفتک بہ علیہ السلام لأنہ یلزم من استیفاء ﷲ تعالٰی اجلہ وموتہ حتف انفہ ذالک۔‘‘
(رُوح المعانی ج:۱ ص:۱۵۸، جزء:۳، سورۃ آل عمران، پارہ نمبر۳)
’’رُوح المعانی‘‘ میں اور بھی جوابات مذکور ہیں، تفصیل درکار ہو تو ’’رُوح المعانی‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللّٰہ نے بھی ’’معارف القرآن‘‘ میں اس پر کلام فرمایا ہے، چنانچہ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:
’’اس کے ساتھ ہی یہ بھی منقول ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ نے اس وقت جبکہ یہودی آپ کے قتل کے درپے تھے آپ کی تسلی کے لئے دو لفظ اِرشاد فرمائے، ایک یہ کہ آپ کی موت اُن کے ہاتھوں قتل کی صورت میں نہیں بلکہ طبعی موت کی صورت میں ہوگی، دُوسرا یہ کہ اُس وقت اُن لوگوں کے نرغے سے نجات دینے کی ہم یہ صورت کریں گے کہ آپ کو اپنی طرف اُٹھالیں گے، یہی تفسیر حضرت ابنِ عباسؓ سے منقول ہے۔
تفسیر ’’دُرّمنثور‘‘ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما کی یہ روایت اس طرح منقول ہے:-
212
’’اخرج اسحاق بن بشر وابن عساکر من طریق جوھر عن الضحاک عن ابن عباس فی قولہ تعالٰی اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان۔‘‘
(درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
’’اِسحاق بن بشر اور ابنِ عساکر نے بروایت جوہر عن الضحاک حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے آیتاِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّکی تفسیر میں یہ لفظ نقل کئے ہیں کہ میں آپ کو اپنی طرف اُٹھالوں گا، پھر آخر زمانے میں آپ کو طبعی طور پر وفات دُوں گا۔‘‘
اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’توفی‘‘ کے معنی موت ہی کے ہیں، مگر الفاظ میں تقدیم وتأخیر ہے، رَافِعُكَ کا پہلے اور مُتَوَفِّیكَ کا وقوع بعد میں ہوگا، اور اس موقع پر مُتَوَفِّیكَ کو مقدم ذِکر کرنے کی حکمت ومصلحت اس پورے معاملے کی طرف اِشارہ کرنا ہے جو آگے ہونے والا ہے، یعنی یہ اپنی طرف بلالینا ہمیشہ کے لئے نہیں، چند روزہ ہوگا اور پھر آپ اس دُنیا میں آئیں گے اور دُشمنوں پر فتح پائیں گے، اور بعد میں طبعی طور پر آپ کی موت واقع ہوگی، اس طرح دوبارہ آسمان سے نازل ہونے اور دُنیا پر فتح پانے کے بعد موت آنے کا واقعہ ایک معجزہ بھی تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اِعزاز واِکرام کی تکمیل بھی، نیز اس میں عیسائیوں کے عقیدۂ اُلوہیت کا اِبطال بھی تھا، ورنہ ان کے زندہ آسمان پر چلے جانے کے واقعے سے ان کا یہ عقیدۂ باطل اور پختہ ہوجاتا کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرح حی وقیوم ہیں، اس لئے پہلے مُتَوَفِّیكَ کا لفظ اِرشاد فرماکر ان تمام خیالات کا اِبطال کردیا، پھر اپنی طرف بلانے کا ذِکر فرمایا۔‘‘
(معارف القرآن ج:۲ ص:۷۴،۷۵)
فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ رحیمیہ ج:۷ ص:۱۸ تا ۲۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانوں پر زکوٰۃ ونماز کی ادائیگی؟
سوال:۔۔۔ ’’دعوت‘‘ میں حیاتِ مسیح پر ایک مسلسل مضمون کئی قسطوں میں آرہا ہے، اس موضوع پر ایک شبہ وارِد ہوتا ہے، اس کا جواب ’’دعوت‘‘ میں ہی دے کر مشکور فرمائیں۔ سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کی رُو سے ’’وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘ (مریم:۳۱) کے مطابق ہر وقت جب تک وہ زندہ ہیں نماز اور زکوٰۃ فرض ہے، اگر وہ اب آسمانوں میں زندہ ہیں تو وہاں نماز اور زکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہوں گے؟ اور وہ زکوٰۃ لیتا کون ہوگا؟ اس کا جواب مطلوب ہے۔
سائل: مختار حسن صدر، لاہور کینٹ
جواب:۔۔۔ آپ پہلے اس آیت کے معنی سمجھ لیجئے جو آپ نے نقل کی ہے، اس میں اِن شاء اللّٰہ العزیز تمام شبہات زائل ہوجائیں گے۔ آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے:
213
’’وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘
(مریم:۳۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا جب تک میں زندہ رہوں۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں:
’’یعنی جب تک زندہ رہوں، جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلوٰۃ وزکوٰۃ کا حکم ہو اس کی شروط حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں گا۔ جیسے دُوسری جگہ مؤمنین کی نسبت فرمایا:’’الَّذِیْنَ ہُمْ عَلَی صَلَاتِہِمْ دَائِمُونَ‘‘ (المعارج:۲۳) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہیں، بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیلِ حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات وانوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ: ’’ہم جب تک زندہ ہیں، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مأمور ہیں‘‘ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ: ’’ہر ایک مسلمان مأمور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا رہے، ہر وقت زکوٰۃ دیتا رہے، (خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو)، ہر وقت روزے رکھتا رہے، ہر وقت حج کرتا رہے‘‘؟ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی ’’مَادُمتُ حَیًّا‘‘ کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہئے۔ یاد رہے کہ لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ کچھ اِصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، قرآن نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف صلوٰۃ کی نسبت کی ہے: ’’أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ یُسَبِّحُ لَہُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیْحَہُ‘‘ (النور:۴۱) اور یہ بھی بتلادیا کہ ہر چیز کی تسبیح وصلوٰۃ کا حال اللّٰہ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ وتسبیح کس رنگ کی ہے؟ اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نماز، برکت، مدح کے ہیں، جن میں سے ہر ایک معنی کا اِستعمال قرآن وحدیث میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رُکوع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت’’غُلٰمًا زَكِیًّا‘‘ کا لفظ گزرچکا ہے جو زکوٰۃ سے مشتق ہے، اور یحییٰ علیہ السلام کو فرمایا: ’’وَحَنَاناً مِّن لَّدُنَّا وَزَکَاۃً‘‘ (مریم:۱۳) ، سورۂ کہف:۸۱ میں ہے:’’خَیْراً مِّنْہُ زَکَاۃً وَأَقْرَبَ رُحْماً‘‘ اسی طرح کے عام معنی یہاں بھی زکوٰۃ کے کئے جاسکتے ہیں، اور ممکن ہے:’’اَوصٰنِی بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ‘‘ سے ’’اوصانی بأن آمر بالصلوٰۃ والزکوٰۃ‘‘ مراد ہو جیسے اِسماعیل علیہ السلام کی نسبت فرمایا: ’’وَکَانَ یَأْمُرُ أَہْلَہُ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ‘‘ (مریم:۵۵) پھر لفظ’’اَوصٰنِی‘‘ اپنے مدلولِ لغوی کے اِعتبار سے اس کو مقتضی نہیں کہ وقت ایصاء ہی سے اس پر عمل درآمد شروع ہوجائے۔ نیز بہت ممکن ہے کہ ’’مَادُمتُ حَیًّا‘‘ سے یہ ہی زمینی حیات مراد لی جائے، جیسے ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جابرؓ کے والد کو اللّٰہ نے شہادت کے بعد زِندہ کرکے فرمایا کہ ہم سے کچھ مانگ، اس نے کہا: مجھے دوبارہ زندہ کردیجئے کہ دوبارہ تیرے راستے میں قتل کیا جاؤں۔ اس زندگی سے یقینا زندگی مراد ہے، ورنہ شہداء کے لئے نفسِ حیات کی قرآن میں اور خود اسی حدیث میں تصریح موجود ہے۔‘‘
214
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۲۰۲، ۲۰۴)
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے
سوال:۔۔۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ آسمان پر اُٹھایا گیا ہے یا دُوسرے انبیاء کی طرح وفات پاچکے ہیں؟ بحیثیت ایک مسلمان کے اس بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ تمام اُمتِ محمدیہ کا یہ منصوص اور بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زِندہ سلامت اُٹھایا گیا ہے، اور بعض فرائض کی انجام دہی تک زندہ رہیں گے، اللّٰہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۷، ۱۵۸) اور اسی طرح احادیثِ نبویہ بھی آپ کی زندگی پر ناطق ہیں۔
’’اخرج إسماعیل بن کثیر قال الحسن: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: إنّ عیسٰی لم یمت وإنہ راجعٌ إلیکم قبل یوم القیامۃ‘‘
(تفسیر ابن کثیر ص:۳۴۰، سورۃ النساء، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۵۴)
فرقۂ مرزائیہ کے آٹھ اہم اِشکالات کے جوابات
سوال:۔۔۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
جناب حضرتنا شیخنا سیّدنا ومولانا زُہدۃ المحققین ورئیس العارفین، بعد السلام علیکم کے عاجز یوں گزارش کرتا ہے کہ فرقۂ باطلہ مرزائی کی تائیدی مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک معتقد مرزا ابوالعطاء حکیم خدابخش قادیانی نے ایک ضخیم کتاب ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ لکھی ہے۔ اس کتاب میں مرزا موصوف نے اپنے زعم میں وفاتِ مسیح کو جہاں تک ہوسکا ثابت کیا، مرزاقادیانی نے تو (اِزالہ اوہام، مطبع ریاض ہند امرتسر ۱۲۰۸ھ کے صفحہ:۵۹۸ تا ۶۲۷ میں خزائن ج:۳ ص:۴۱۳ تا ۴۳۸، ۳۰) آیاتِ قرآنی سے وفاتِ مسیح کا اِستدلال پکڑا، مگر حکیم صاحب اپنے پیر سے بھی بڑھ کر نکلے، یعنی انہوں نے ساٹھ آیاتِ قرآنی سے وفاتِ مسیح کا اِستدلال پکڑا۔ مثل مشہور ہے: ’’گرو جنہاں دے جاندے ٹپ، چیلے جان شڑپ‘‘ راقم الحروف کی اکثر اوقات امرتسر کے مرزائیوں کے ساتھ گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ آپ کی کتاب ’’سیف چشتیائی‘‘ نے مجھے بڑا فائدہ دیا اور چند ایک مرزائیوں نے اسے پڑھا۔ چنانچہ حکیم اِلٰہی بخش صاحب مرحوم مع اپنے لڑکے کے آخر مرزائیت سے توبہ کرگئے اور اِسلام پر ہی فوت ہوئے اور باقی مرزائیوں کے دِل ایسے ہی سخت رہے۔ سچ ہے کہ:
خاک سمجھائے کوئی عشق کے دیوانے کو
215
زندگی اپنی سمجھتا ہے جو مرجانے کو
میری خود یہ حالت تھی کہ ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ کو پہلی بار پڑھنے سے دِل میں طرح طرح کے شکوک اُٹھے اور وفاتِ مسیح پر پورا یقین ہوگیا، مگر الحمدللّٰہ! کہ آپ کی ’’سیف چشتیائی‘‘ اور ’’شمس الہدایت‘‘ نے میرے متذبذب دِل پر تسلی بخش امرت ٹپکا۔ اُمید ہے کئی برشتہ آدمی اس سے اِیمان میں تروتازگی حاصل کریں گے۔ عرصہ ایک سال سے عاجز نے کمربستہ ہوکر یہ اِرادہ کرلیا ہے کہ ایک ضخیم کتاب بناکر ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ کی تردید بخوبی کی جائے اور اس کی تمام چالاکیوں کی قلعی کھولی جائے۔ چنانچہ راقم الحروف ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ کے رَدّ میں ایک کتاب ’’صاعقہ رحمانی بر نخلِ قادیانی‘‘ لکھ رہا ہے، اور اس کے پانچ باب ترتیب وار باندھے ہیں۔ ۱:۔۔۔ حیاتِ مسیح ۱۵ فصلوں پر۔ ۲:۔۔۔ حقیقت المسیح ۱۵ فصلوں پر۔ ۳:۔۔۔حقیقت النبوت ۱۵ فصلوں پر۔ ۴:۔۔۔حقیقت المہدی ۱۲ فصلوں پر۔ ۱۵:۔۔۔حقیقت الدجال ۸فصلوں پر۔
مصنفِ ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ نے چند ایک اِعتراضات حیاتِ مسیح اور رُجوعِ موتیٰ پر کئے ہیں۔ عاجز ذیل میں وہ اِعتراضات تحریر کردیتا ہے، اور آپ سے ان کے جوابات کا خواستگار ہے۔ میں نے امرتسر کے چند ایک عالموں مثلاً محمد بن داؤد بن عبدالجبار مرحوم غزنوی، خیرشاہ صاحب حنفی نقشبندی، ابوالفاء ثناء اللّٰہ وغیرہ سے ان اِعتراضوں کے جواب پوچھے، مگر افسوس کہ کسی نے بھی جواب تسلی بخش نہیں دئیے۔ اب اُمید ہے کہ آپ بخیال ثوابِ دارین ان اِعتراضوں کے جواب تحریر فرماکر فرقۂ مرزائیہ کے دامِ مکر سے اہلِ اسلام کو خلاصی دیں گے۔
اوّل ۱:۔۔۔ صحیح بخاری، مطبع احمدی ج:۱ ص:۴۸ میں ہے:
’’عن ابن عمر قال: قال النبی صلی ﷲ علیہ وسلم: رایت عیسٰی وموسٰی وإبراھیم، فأما عیسٰی فاحمر جعد عریض الصدر۔‘‘
۲:۔۔۔ پھر اسی بخاری میں ہے:
’’حدثنا احمد قال: سمعت إبراھیم عن ابیہ قال: لا وﷲ ما قال النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بعیسٰی احمر ولٰکن بینما انا نائم اطوف بالکعبۃ فإذا رجل ادم سبط الشعر یھادی بین رجلین ینظف رأسہ مائً او یھراق ۔۔۔إلخ۔‘‘
(ص:۴۸۹)
پہلی حدیث میں عیسیٰ مسیح بن مریم ناصری کا حلیہ سرخ رنگ، بال گھونگردار، سینہ چوڑا تھا اور دُوسری حدیث میں مسیحِ موعود کا حلیہ گندم گوں رنگ، بال کندھوں پر لٹکے ہوئے اور سر کے بالوں سے پانی ٹپکتا ہوا ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ مسیح ناصری اور ہے اور آنے والے مسیح جس نے دجال کو مارنا ہے اور ہے۔
دُوسری حدیث میں بھی ہے:
’’قال ثم رأیتُ رجلا وراء رجل جعدٍ قطط اعور العین الیمنیٰ کأن عینہ عنبۃ طافیۃ
216
کأشبہ من رأیت من الناس بابن قطن واضعًا یدیہ علٰی منکبی رجلین یطوف بالبیت۔‘‘
(ص:۴۸۹)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال کو بھی کعبہ کا طواف کرتے دیکھا مگر دوسری صحیح حدیثوں سے صاف عیاں ہے کہ دجال پر مکہ ومدینہ حرام کئے گئے ہیں۔ پھر مسیح اور دجال کا طواف کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
دوم:۔۔۔ صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۶۵ میں ہی ہے:
’’عن ابن عباس قال: خطب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فقال: یا ایھا الناس!
انکم محشورون إلی ﷲ حفاۃ عراۃ غرلا ثم قرأ کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ وعدًا علینا إنَّا کنَّ
ا فاعلین فأوّل من یکسی یوم القیامۃ إبراھیم علیہ السلام إلخ، ثم یؤْخذ برجال من اصحابی
ذات الیمین وذات الشمال فأقول: اصحابی! فیقال: إنھم لا یزالوا مرتدین علٰی اعقابھم منذ فارقتھم، فأقول کما قال العبد الصالح عیسَی بن مریم وکنت علیھم شھیدًا ما دمت فیھم فلما توفیتنی إلخ۔
مائدہ:۱۱۷ میں ذِکر ہے کہ مسیح پر سوال ہونے پر مسیح جواب دیں گے کہ:’’سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ. مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ‘‘ قیامت کے دن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ آیات اپنے اُوپر چسپاں کرکے فرمائیں گے، اور اپنے بیان کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بیان فرمائیں گے۔ اب یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوت ہوچکے ہیں، پس آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہی کہیں گے کہ جب تو نے مجھے وفات دی اور’’کما قال العبد الصالح‘‘ صاف ظاہر کرتا ہے کہ مسیح بھی یہی کہیں گے: ’’جب تو نے وفات دی‘‘
اب اس سے معنی وفات کے لے کر یہ کہا جائے کہ اس سے مراد وہ موت ہے جو مسیح کو زمین پر آنے کے ۴۵ سال بعد آئے گی تو اس پر یہ اِعتراض لازم آئے گا کہ مسیح کے پیرو مسیحی ابھی گمراہ نہیں ہوئے، بلکہ مسیح کی وفات کے بعد ہوں گے، اور اس جاآئندہ وفات مراد لینا اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ خدا تو مسیح کے اس زمانے کی نسبت سوال کر رہا ہے، جبکہ مسیح کو بنی اِسرائیل کی طرف بھیجا، نہ کہ آئندہ زمانے کی نسبت اور پھر مسیح اتنا زمانہ چھوڑ کر آئندہ موت کی بابت کس طرح گفتگو کرتے اور پھر تفسیر کمالین وحسینی وغیرہ میں ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے معنی رفع الی السماء نہ ہونا۔
اور گزشتہ زمانے میں یہ کہنے پر کہ: ’’جب تو نے مجھے آسمان پر اُٹھالیا‘‘ یہ اِعتراض آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پھر’’کما قال العبد الصالح‘‘ فرماکر قیامت کو یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ: ’’جب تو نے مجھے فوت کرلیا‘‘ ورنہ یوں کہنا چاہئے: ’’جب تو نے مجھے آسمان پر اُٹھالیا‘‘ اور یہ غلط ہے، جس حالت میں کہ مسیح کی طرح ہی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرمائیں گے تو یہ کیسے
217
ہوسکتا ہے کہ مسیح کی بابت تو آسمان پر اُٹھایا جانا معنی کریں اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بابت فوت ہوجانے کے معنی کریں، کیونکہ اس سے تو مماثلت دُرست نہیں رہتی۔
سوم:۔۔۔ صحیح بخاری میں کتاب التفسیر میں ہے: ’’قال ابن عباس: متوفک ممیتک‘‘ بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ ابنِ عباسؓ ایسے معنی کرنے میں آیت: ’’یٰعِیسٰی اِنِّی ۔۔۔الخ‘‘ میں تقدیم وتأخیر کے قائل ہیں، اس پر یہ اِعتراضات آتے ہیں:
۱:۔۔۔ صحیح بخاری سے یہ ثابت نہیں کہ ابنِ عباسؓ تقدیم وتأخیر کے قائل ہیں، کیونکہ کتاب التفسیر میں صرف ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’ممیتک‘‘ لکھے ہیں۔
۲:۔۔۔ اگر رافع کے بعدمتوفیک کو رکھیں تو لازم آئے گا کہ مسیح کا رفع تو ہوگیا ہے،ومطھرک وجاعل الذین إلخ کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا، بلکہ بعد وفات کے ہوگا اور یہ غلط ہے۔
۳:۔۔۔ اگر متوفیک کو مطھرک کے بعد رکھیے تو لازم آئے گا کہ مرفوع ومطہر ہونے کے وعدے تو پورے ہوگئے ہیں، مگر مسلمان کافروں پر غالب نہیں ہیں، بلکہ موت کے بعد ہوں گے، حالانکہ یہ غلط ہے۔
۴:۔۔۔ اگر متوفیک کو سب کے آخر میں رکھیں تو لازم آئے گا کہ قیامت کے دن جبکہ اور لوگ زندہ ہوکر اُٹھیں گے، مسیح فوت ہوجائیں گے، کیونکہ چوتھا وعدہ یہ ہے کہ قیامت تک تیرے پیروؤں کو کافروں پر غالب رکھوں گا۔
۵:۔۔۔ یہ چار وعدے ترتیب وار ہیں، اگر واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت کے پہلے پہلے یہ سب وعدے پورے ہوجانے چاہئیں تو ’’إلٰی یوم القیٰمۃ‘‘ کی ضرورت نہ تھی، اور اس کی نظیر میں کوئی اور آیت بھی پیش کرنی چاہئے۔
چہارم:۔۔۔ بعض مفسرین نے آیت: ’’وَاِن مِّن اَہلِ الكِتٰبِ ۔۔۔الخ‘‘ کے معنی یہ کئے ہیں کہ مسیحِ موعود کے وقت میں جتنے اہلِ کتاب ہوں گے، وہ سب مسیح کی موت کے پہلے پہلے اس پر اِیمان لائیں گے۔ اس پر ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ کے یہ اِعتراضات ہیں کہ:
۱:۔۔۔ آیت ’’وَجَاعِلُ الَّذِینَ‘‘ سے صاف عیاں ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے، پھر مسیح کے وقت کس طرح سب مؤمن ہوجائیں گے؟
۲:۔۔۔ مفسرین کے یہ معنی اس آیت کے مخالف ہیں، جہاں اِرشاد ہے کہ ہم نے یہود اور نصاریٰ کے درمیان تاقیامت بغض ڈالا ہے۔
۳:۔۔۔ اور اس آیت کے بھی مخالف ہے جس میں ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی اُمت پیدا کردیتا مگر یہ سنت اللّٰہ کے خلاف ہے۔
۴:۔۔۔ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں تمام اہلِ کتاب مسلمان نہیں ہوئے تو پھر مسیح کے زمانے کو کیا خصوصیت ہے؟
۵:۔۔۔ دجال یہودی ہوگا اور اس کے ساتھ ۷۰ہزار یہود ہوں گے، باوجود اہلِ کتاب ہونے کے پھر وہ کیسے اِیمان
218
لانے کے بغیر مرجائیں گے؟
پنجم:۔۔۔ ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ لکھنے والے نے مسیح کے معجزات اِحیائے موتیٰ، ابراہیم علیہ السلام کے: ’’رَبِّ اَرِنِی كَیفَ تُحیِ المَوتٰی۔۔۔الخ‘‘ ، عزیر علیہ السلام کے ۱۰۰سال کے بعد زِندہ ہوجانے اور بنی اِسرائیل کے ۷۰سرداروں کے زندہ ہوجانے سے صاف انکار کیا ہے، اور اس کی باطل تأویلیں کی ہیں، اور عدمِ رُجوعِ موتیٰ پر یہ آیاتِ قرآنی پیش کی ہیں:
۱:۔۔۔ ’’وَحَرَامٌ عَلَی قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا أَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُونَ‘‘
(الانبیاء:۹۵)
۲:۔۔۔ ’’أَلَمْ یَرَوْا کَمْ أَہْلَکْنَا قَبْلَہُم مِّنْ الْقُرُونِ أَنَّہُمْ إِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُونَ‘‘
(یٰسن:۳۱)
۳:۔۔۔ ’’حَتَّی إِذَا جَاء أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ. لَعَلِّیْ أَعْمَلُ صَالِحاً فِیْمَا تَرَکْتُ کَلَّا إِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَائِلُہَا وَمِن وَرَائِہِم بَرْزَخٌ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ‘‘
(المؤمنون:۹۹،۱۰۰)
۴:۔۔۔ ’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی ‘‘
(الزمر:۴۲)
۵:۔۔۔ ’’ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ لَمَیِّتُونَ. ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُونَ ‘‘
(المؤمنون:۱۵، ۱۶)
ششم:۔۔۔ جز۳ سورۃ البقرہ میں جہاں اِبراہیم علیہ السلام کا ذِکر ہے، فرمایا کہ ’’رَبِّ اَرِنِی كَیفَ۔۔الخ‘‘ اس پر مرزائی کہتے ہیں کہ مفسرین نے قیمہ کرنا اور کوٹنا کس لفظ کے معنی کئے ہیں؟ گو ’’فصرہن‘‘ کے معنی کوٹنا بھی ہیں، مگر یہاں ’’الیك‘‘ ایسے معنوں سے روکتا ہے، اگر کوٹنا ٹکڑے ٹکڑے کرنا معنی ہوتے تو صرف فصرہن کافی تھا نہ کہ فصرہن الیك ۔ اور جز صرف ٹکڑوں کو ہی نہیں کہتے، بلکہ ثابت جسم کو بھی کہہ سکتے ہیں، جیسے ۱۶آدمیوں کا جز ۴ آدمی، ۲آدمی وآٹھ آدمی وایک آدمی بھی ہوسکتا ہے۔ پس اسی طرح اِبراہیم علیہ السلام نے چار جانوروں میں سے ایک ایک جانور پہاڑ پر رکھا اور پھر آواز دے کر ان کو اپنے پاس بلالیا۔
ہفتم:۔۔۔ قرآن مجید کی بیس سے زیادہ آیتوں میں ’’متوفی‘‘ کے معنی موت کے آئے ہیں، تو پھر یہاں مسیح کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر اس سے ’’پورا کرلینے‘‘ کے معنی لیں تو پھر بھی یہ ایک معما باقی رہتا ہے کہ ۱:۔۔۔ کیا عمر کو پورا کرنا؟ ۲:۔۔۔کیا جسم ورُوح کو پورا کرلینا؟ ۳:۔۔۔ یا کوئی اور معنی؟ اور اگر جسم مع الروح پورا لینا مراد ہے تو باقی آیات میں جہاں توفی وغیرہ ہے تو کیا یہ معنی بنیں گے کہ خدا، یا فرشتے لوگوں کو جسم مع الروح اُٹھالیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے قبض کرنا کے معنی لئے ہیں، اور قبض ہمیشہ رُوح کا ہوا کرتا ہے۔
ہشتم:۔۔۔ جبکہ خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی ذِی رُوح مفعول تو ’’متوفی‘‘ کے معنی ہمیشہ قبضِ رُوح کے ہوا کرتے ہیں، اور اگر مرزائیوں کے آگے آیات ’’تُوَفّٰی كُلُّ نَفسٍ‘‘، ’’وَاِبرٰہِیمَ الَّذِی وَفّٰی‘‘ وغیرہ پیش کی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو بابِ تفعل سے نہیں ہیں گو اس کا مأخذ ’’وفا‘‘ ہی ہے۔
یہ آٹھ سوال گویا تمام ’’عسلِ مصفّٰی‘‘ کے اِعتراضوں کا خلاصہ ہیں، ان کا جواب دینا گویا مشنِ مرزائیہ کے سر پر آسمانی بجلی
219
گرانا ہے، اُمید ہے کہ آپ ان کے جوابات تسلی بخش تحریر فرمائیں گے۔
خادم الاسلام محمد حبیب اللّٰہ کٹڑہ مہاںسنگھ
کوچہ ناظر قطب الدین، پاس مسجد غزنویاں امرتسر
جواب:۔۔۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَہٗ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ
جواب سوال نمبر۱:۔۔۔ احمر اور آدم سے مراد ایک ہی شخص ہے، کیونکہ در صورتِ تغائر دُوسری حدیث کا جملہ ’’لا وﷲ ما قال النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بعیسٰی احمر ولٰکن قال بینما انا نائمٌ اطوف بالکعبۃ فإذا رجل آدم ۔۔۔إلخ‘‘ بے محل او رغیرمربوط ثابت ہوتا ہے۔ اگر احمر وآدم دو شخص ہوتے تو ایک شخص کا سرخ رنگ اور دُوسرے کا گندم گوں ہونا ناممکن اور غیرواقعی نہیں مانا جاسکتا تو پھر حلفی نفی کا کیا معنی؟ اس قدر تشدّد اور تاکید بالحلف اس صورت میں شایاں ہے کہ ایک ہی شخص کی نسبت حلیہ بیان کیا جاتا ہے، اور اسی شخص کو ایک راوی احمر بتاتا ہے اور دُوسرا آدم روایت کرتا ہے، اور راویٔ ثانی کو اِجتماع بین الحلیتین فی شخص واحد غیرواقعی نظر آتا ہو، یا صرف روایت باللفظ اس کا مقصود ہو، دراصل بات یہ ہے کہ مسیح ناصر وہی مسیحِ موعود ہے اور فی الواقع دونوں حدیثیں صحیح مانی جاسکتی ہیں۔ راویٔ ثانی کا مطلب اور مطمحِ نظر صرف روایت باللفظ ہے، نفیاً واِثباتاً مسیح علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی رنگت میں چونکہ سرخی وسپیدی ملی ہوئی تھی، کما فی ابوداوٗد وغیرہ فإذا رایتموہ فاعرفوہ فإنہ رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض ۔۔۔إلخ۔ (۱) ایسی رنگ والے کو اگر سرخ کہا جائے تو بھی اور اگر گندم گوں بتایا جائے تو بھی بجا ہے۔
رہا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مسیح اور دجال دونوں کو بیت اللّٰہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھنا، سو معلوم ہو کہ خیال متفصل اور عالمِ رُؤیا میں عالمِ شہادت کے محالات ممکنات دکھائی دیتے ہیں، ایسا ہی مجرّدات مجسم ہوکر۔ چنانچہ حق سبحانہ وتعالیٰ کا بروزِ حشر ایک صورت میں جلوہ گر ہونا جس کا مؤمنین اِنکار کریں گے، پھر دُوسری صورت میں متجلّی ہونے پر اِقرار۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا (علم) کو درصورت لبن مشاہدہ فرمانا۔ اور نیز واضح رہے کہ ہر ایک شخص اپنے خیالات اور اِعتقادات واعمال میں اپنے مرکز اِستعدادِ ذاتی کے اردگرد گھومتا رہتا ہے، یعنی اُن اسمائے اِلٰہیہ کے دائرے سے باہر نہیں جاسکتا کہ جن اسماء کے لئے اس کا عین ثابت فیض اقدس میں بغیر تخلل جعل مظہر قرار دیا گیا ہے۔ صدیقؓ عین ثابت ’’ہادی‘‘ اور ابوجہل کا عینِ ثابت ’’مضل‘‘ کے احاطے سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا عینِ ثابت اور دجال کا بھی۔
حدیث کا مطلب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مشاہدہ فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم اور دجال دونوں اپنے اپنے بیت اللّٰہ اسمائی کا طواف کر رہے ہیں، ایک ’’یَہدِی منَ یَّشَآءُ‘‘ کے اظہار میں اور دُوسرا ’’یُضِلُّ مَن یَّشَآءُ‘‘ کے اسباب میں سرگرم اور کمربستہ ہے، ’’ہادی‘‘ اور ’’مضل‘‘ کا موصوف چونکہ ذاتِ واحدہ ہے، لہٰذا عالمِ رُؤیا میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک ہی بیت اللّٰہ مشہود ہوا۔ یہ
(۱) سنن أبی داوٗد ج:۲ ص:۲۳۸، طبع ایچ ایم سعید کراچی۔
220
ہے مطلب مسیح اور دجال دونوں کے طواف کرنے کا، وﷲ اعلم وعلمہ الأتمّ!
دُوسری حدیث جس میں دجال کی عدم رسائی بیت اللّٰہ تک کا ذِکر ہے، وہ بھی صحیح وبجا ہے، ہمارا اِیمان ہے کہ حسبِ ارشادِ نبوی دجال کو عالمِ شہادت میں بیت اللّٰہ تک رسائی نہ ہوگی۔
جواب سوال نمبر۲ و۳:۔۔۔ توفی کا معنی موت نہیں، بلکہ موت ایک نوع ہے، معنی ’’توفی‘‘ کے انواع میں سے ’’توفی‘‘ کا معنی قبض کرلینا، اُٹھالینا، پورا کرلینا، سلانا، دیکھو: ’’لسان العرب‘‘، ’’قاموس‘‘، ’’صراح‘‘ وغیرہا ’’سیف چشتیائی‘‘ ملاحظہ ہو۔ پھر قبض کرلینا عام ہے، ایسا ہی اُٹھالینا، اگر اس قبض ورفع کا متعلق نفوس وارواح ہوں اور فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہو تو اس کے لئے دو صورتیں ہیں، ایک موت، دُوسری نیند، پس موت ونیند معنی ’’توفی‘‘ کے لئے جزئیات ومواد ٹھہرے۔ چنانچہ آیتِ ذیل سے صاف ظاہر ہے:’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا‘‘ (الزمر:۴۲) یعنی قبضِ نفوس وارواح کی دو صورتیں ہیں: ایک موت، دُوسری نیند۔ اگر توفی کا معنی صرف موت دینا اور مارنے کا لیا جائے تو کلامِ اِلٰہی ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ بالکل بے معنی ہوجاتا ہے، کیونکہ جب توفی کے مفہوم میں موت ہے تو پھر ’’حِینَ مَوتِہَا‘‘ لغو ٹھہرے گا، اور ’’وَالَّتِی لَم تَمُت‘‘ میں بوجہ عطف کے ’’اَلاَنفُسَ‘‘ پر اِجتماعِ ضدین موت وعدم موت کا سامنے آئے گا، وھو باطل۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ قبضِ نفوس گو دو صورتوں یعنی موت ونیند میں ہوتا ہے، مگر درصورت موت نفسِ مقبوضہ کو چھوڑا نہیں جاتا بخلاف نیند کے کہ اس میں نفسِ مقبوضہ کو اَجلِ مسمّیٰ ومیعادِ معین تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ساری آیت پڑھو:’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی‘‘ (الزمر:۴۲) پس ثابت ہوا کہ توفی کا معنی صرف قبض ہے ، اور مقبوض شدہ شے خواہ نفوس وارواح ہوں اور پھر چھوڑے نہ جائیں، جیسے موت کی صورت میں، یا پھر چھوڑ دئیے جائیں، جیسے بحالتِ نیند وبیداری یا غیرنفوس ہوں۔ چنانچہ توفیت مالی وغیرہ محاوراتِ عرب کما فی لسان العرب وغیرہ ، ایسا ہی متوفیك اورفلما توفیتنی خارج ہے موضوع لہٗ توفی سے کہالمضاف إذا اخذ من حیث انہ مضاف یکون التقیید داخلا والقید خارجًا قاعدۂ مُسلَّمہ ہے۔
فرض کیا کہ زید مرگیا اور عمرو سو رہا ہے، اور دونوں کے متعلقین نے زید کے مرجانے اور عمرو کے سوجانے کے بعد اِرتکابِ جرائم اِعتقادی وعملی کرنا شروع کیا۔ زید وعمرو دونوں سے سوال کرنے میں ایک ہی عبارت کا اِستعمال بحسبِ شہادت آیتِ مذکور بالا’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ‘‘ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً:أأنتما قلتما ان یعتقدوا ویعملوا کذا وکذا، ، بجواب اس کے دونوں کہہ سکتے ہیںکہ : ما کان لنا ان نقول لھم کذا وکذا إلَّا ما امرتنا وکنا علیھم شھیدین ما دمنا فیھم فلما توفیتنا کنت انت الرقیب علیھم وانت علٰی کل شیء شھید۔ یعنی برخلاف اِرشادِ اِلٰہی ان کو کہنا ہم کو شایاں نہیں تھا، ہم جب تک ان میں موجود تھے، ان کو ہدایت کرتے رہے، اور فرمانِ خداوندی پہنچاتے رہے، پھر جب تو نے ہمارے ارواح کو قبض کرلیا اور اُٹھالیا، پھر تو ان پر نگہبان تھا، بشہادت آیتِ مسطورہ بالا وکتبِ لغت (لسان العرب، قاموس، صراح) توفی کا معنی قبض ورفع کا ٹھہرا، اور موت ونیند انواع واقسام ٹھہرے معنی قبض کے لئے، اور مُسلَّمہ قاعدہ ہے کہ اِستعمال کلی کا جزئی میں مجاز ہے، نہ حقیقت، لہٰذا اہلِ لغت نے موت کو
221
معنی مجازی ٹھہرایا ہے، توفی کے لئے ’’سیف چشتیائی‘‘ ملاحظہ ہو۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور مسیح ابن مریم علیہما السلام بجواب سوالِ مذکور لفظ ’’فلما توفیتنی‘‘ اِستعمال فرما سکتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بایں معنی: ’’پھر جب قبض کرلیا تو نے رُوح میرا‘‘ اور مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام: ’’پھر جب قبض کرلیا تو نے مجھ کو یعنی میرے جسم کو مع الروح پکڑلیا اور اُٹھالیا۔‘‘ وجہ اس کی وہی ہے کہ توفی کا معنی مطلق قبض ورفع کا ہے، اور شیٔ مقبوض ومرفوع اس کے معنی سے خارج ہے۔ جملہ: ’’توفی ﷲ زیدًا‘‘ کو تینوں صورتوں میں بول سکتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے زید کو ماردیا، یعنی اس کی رُوح کو قبض کرنے کے بعد نہ چھوڑا، یا اللّٰہ تعالیٰ نے زید کو سلایا، یعنی اس کی رُوح کو بعدالقبض چھوڑ دیا، یا اللّٰہ تعالیٰ نے زید کو بالکلیہ (جسم مع الروح) قبض کرلیا اور اُٹھالیا۔ تیسری صورت محلِ نزاع ہے، اور پہلی دو صورتیں آیت: ’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ‘‘ سے صراحۃً ثابت ہیں، بلکہ اس آیت میں ’’یَتَوَفَّی‘‘ کے معنی میں غور کرنے پر یہ اِشکال جاتا رہتا ہے کہ جسم مع الروح کا اُٹھالینا جملہ مذکورہ سے کیسے مراد ہوسکتا ہے؟ حالانکہ محاورۂ قرآنیہ میں جس جگہ توفی کا فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہو، وہاں معنی موت ہی مراد ہے، کیونکہ مطلق قبض ورفع توفی کا معنی ہے، نہ خاص موت ہی۔
جولفظ کہ معنی کلی (مطلق رفع وقبض) کے لئے موضوع بشہادت لغت وقرآنِ کریم ہے، اس لفظ ’’توفی‘‘ کو ایک اس معنی کی جزئی کے لئے موضوع سمجھ لینا، مثلاً لفظ انسان کو خاص زید کے لئے موضوع قرار دے لینا سراسر جہالت ہے۔
سطحی فرقے کو دھوکا لگنے کی وجہ علاوہ قلّتِ مبلغِ علمی کے یہ بھی ہے کہ معنی کلی توفی کے جزئیات ومواد میں سے موت والا مادّہ فی الواقع بھی بہت ہے اور قرآنِ کریم میں بھی بکثرت وارِد ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس کثرت کی وجہ سے عوام نے موت کو معنی حقیقی توفی کے لئے سمجھ رکھا ہے۔ مگر اہلِ تحقیق واہلِ بصیرت کی نظر واقعات پر ہوتی ہے، مثلاً: وہ لوگ دیکھتے ہیں کہ گو قرآنِ کریم ہی میں خلقتِ انسان نطفہ سے بتائی گئی ہے اور اس کے نظائر وجزئیات کے لئے اس قدر وسعت وفراخی ہے کہ شمار میں نہیں آسکتے۔ اور’’أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ‘‘ (یٰسین:۷۷) اور ایسا ہی: ’’خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ. یَخْرُجُ مِن بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘‘ (الطارق:۶، ۷) بھی کثرتِ مذکور پر شاہد ہیں۔ مگر اس سے ہرگز ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ لفظ ’’خلق‘‘ کا معنی یہی قرار دیا جائے کہ نطفہ سے پیدا کرنا، بلکہ معنی ’’خلق‘‘ کا مطلق پیدا کرنا ہے خواہ نطفۂ والدین سے ہو، چنانچہ کثیرالوقوع ہے، یا صرف نطفۂ والدہ سے، چنانچہ مسیح ابن مریم، یا جسم انسانی کے پہلو سے، چنانچہ حوّا علیہا السلام، یا مٹی سے، چنانچہ آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام، لہٰذا توفی کا معنی صرف موت بشہادت کثرت نظائر قرآنیہ سمجھ لیا گیا ہے۔
یہاں پر بالطبع سوال ذیل پیدا ہوتا ہے کہ ’’أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِن نُّطْفَۃٍ‘‘ یا ’’خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ. یَخْرُجُ مِن بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘‘ کے عموم سے نصوصِ قرآنیہ مثلاً: ’’خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ‘‘ اور ’’اِنَّ مَثَلَ عِیسٰی عِندَاللہِ ۔۔۔إلخ‘‘ آدم وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہما السلام کو اِستثناء کنندہ موجود ہیں، اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو کونسی نصِ قرآنی کثیرۃ الوقوع جزئیات ومواد سے مستثنیٰ کرتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آیت: ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ عیسیٰ بن مریم علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے بتمامہٖ وزِندہ اُٹھائے جانے پر نصِ قطعی ہے۔
222
پھر یہ سوال کہ یہ ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ سے مراد رفع درجات واِعزاز ہے، کما قال سبحانہ: ’’وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ‘‘ (البقرۃ:۲۵۳) نہ یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو زِندہ اُٹھالیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ سے رفع درجات مراد لینا بالکل مخالف ہے سیاقِ کلامِ اِلٰہی کے۔ اس لئے کہ ماقبل میں قولِ یہود کا ذِکر ہے کہ: ’’اِنَّا قَتَلنَا المَسِیحَ عِیسٰی ابنَ مَریَمَ رَسُولَ اللہِ‘‘ یعنی یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم نے مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو بذریعہ صلیب مار ڈالا، جس کی تردید میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسیح کابذریعہ صلیب قتل کرنا یہ محض یہود کا غیرواقعی زعم ہے، انہوں نے مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو قتل نہیں کیا تھا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو اُٹھالیا، یعنی مسیح کو ان کے ہاتھ سے بچالیا۔ چنانچہ دُوسری جگہ فرماتا ہے:’’وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَنکَ‘‘ (المائدۃ:۱۱۰) یعنی اے مسیح! من جملہ ہمارے اِنعامات واِحسانات کے جو تجھ پر ہم نے کئے ہیں، اور جن کا ذِکر ماقبل میں ہے، مثلاً اِحیائِ موتیٰ واِبرائِ اَکمہ وتائید بروح القدس، ایک اِحسان یہ بھی ہے کہ ہم نے تم کو یہود کے ہاتھ سے بچالیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تردید اسی صورت میں تردید ماقبل یعنی قولِ یہود کی ہوسکتی ہے کہ ’’رَفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ سے رفع جسمانی لیا جائے، یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے مسیح کے جسم کو اُٹھالیا اور یہود کے پنجے سے بچالیا، کما قال: ’’وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَنکَ‘‘ (المائدۃ:۱۱۰) اور نیز درصورت رفع درجات واِعزاز کلمہ بل کے ماقبل اور مابعد یعنی قتل ورفع میں علاوہ مخالفت سیاقِ کلام کے تضاد بھی نہیں پایا جاتا جو کہ قصر قلب کا مفاد ہوتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: ’’ما اھنت زیدًا بل اکرمتہ‘‘ میں نے زید کی اہانت نہیں کی،بلکہ اس پر اِکرام کیا ہے اور اس کو عزّت بخشی ہے۔ اہانت اور اِکرام میں تضاد ہے، دونوں جمع نہیں ہوسکتے، ایسا ہی قتل اور رفع کا بھی اِجتماع نہ چاہئے، قتلِ جسمی اور رفعِ جسمی میں تو بے شک تضاد اور عدمِ اِجتماع ہے اور قتلِ جسمی اور رفعِ درجات میں تضاد نہیں کیونکہ جو شخص بے گناہ مقتول وشہید ہو اس کے لئے رفع درجات بھی ہوتا ہے، لہٰذا ’’رَفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ سے رفعِ جسمی مراد ہے نہ رفعِ درجات۔
ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ قتلِ صلیبی چونکہ حسبِ تصریحِ توراۃ موجبِ لعن وملعونیت ہے، لہٰذا ذِکر ملزوم واِرادہ لازم کے طریق پر گویا کلام مذکور بمنزلہ ’’وما کان ملعونًا بل رفعہ ﷲ إلیہ‘‘ کے ٹھہرا۔ اور ملعونیت اور رفع درجات روحی کے مابین تضاد ہے، دونوں باہم جمع نہیں ہوسکتے، اس کا جواب یہ ہے کہ مقتول صلیبی کا مستوجب لعن ہونا اسی صورت میں ہے جب مقتول مرتکبِ جرم ہو۔ ورنہ درصورتِ غیرمجرم ہونے کے مستحق اِعزاز واِکرام ہوتا ہے۔ دیکھو توراۃ، کتاب استثناء آیت:۲۲ اور۲۳ میں اس امر کی تصریح کردی گئی ہے جس کو ہم ’’سیف چشتیائی‘‘ میں توراۃ سے بعبارتہٖ نقل کرچکے ہیں۔ (اس وقت یہ قلم برداشتہ لکھ رہا ہوں اور کوئی کتاب سامنے نہیں)۔ آیت:’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ نصِ قطعی ہے، رفع جسمی وحیات ِ مسیح پر اور تحقق ہے اس وعدہ کے لئے جو کہ ’’متوفیك‘‘ اور ’’ورافعك‘‘ دونوں سے کیا گیا ہے۔ اور ’’فلما توفیتنی‘‘ میں وہی مطلق رفع مراد ہے یعنی درجواب سوال خداوندی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ومسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام دونوں اسی ’’توفیتنی‘‘ کو اِستعمال فرمائیں گے، جیسا کہ اُوپرلکھ چکا ہوں، پس ثابت ہوا کہ ’’انی متوفیك‘‘ اور ’’فلما توفیتنی‘‘ اور ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ میں رفع جسم والروح مراد ہے۔
واضح ہو کہ ابنِ عباس وبخاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کامذہب حیاتِ مسیح کا ہے، چنانچہ مرویاتِ ابنِ عباسؓ مندرجہ تفسیر
223
درمنثور وکتبِ احادیث اور تراجم بخاری سے ظاہر ہے، اور حدیث برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے بھی کل صحابہ علیہم الرضوان کا اِجماعی عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ ’’سیف چشتیائی‘‘ ملاحظہ ہو۔ لہٰذا قول ابنِ عباسؓ ’متوفیک ممیتک‘‘ مندرجہ بخاری سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ ان کا مذہب برخلاف عقیدہ اِجماعی کے ہو، ممکن ہے کہ متوفیک کا معنی ممیتک امتحاناً فرمادیا ہو۔ چنانچہ آپ (ابنِ عباسؓ) مباحثاتِ یومیہ میں جو فیما بین صحابہ آیاتِ قرآنیہ کے متعلق ہوا کرتے تھے، اثنائے تقریر میں مسح علی الرجلین کو مدلل طور پر اِمتحاناً بپایۂ ثبوت پہنچاتے تھے، حالانکہ مذہب ان کا غسل رجلین کا ہے، اور نیز یہ روایت معارض ہے دُوسری روایاتِ ابنِ عباسؓ سے جن کو درمنثور وغیرہ نے باسانیدِ صحیحہ ذِکر کیا ہے۔
جواب سوال نمبر۴:۔۔۔ آیت: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ (النساء:۱۵۹) (مسیحِ موعود کے وقت جتنے اہلِ کتاب ہوں گے وہ سب مسیح کی موت سے پہلے اس پر اِیمان لائیں گے) مرزائیوں کا اس پر یہ اِعتراض ہے کہ یہ آیت مخالف ہے آیت: ’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘ (آل عمران:۵۵) کے، کیونکہ دُوسری آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کافر قیامت تک رہیں گے، پھر مسیح کے وقت کس طرح سب مؤمن ہوجائیں گے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت تک غالب رہنے کا معنی مدّت دراز قربِ قیامت تک غالب رہنے کا ہے، نہ یہ کہ اِبتدائے یومِ حشر تک۔ عرصہ دراز سے قرآنِ کریم میں تعبیر نہ صرف’’إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘ کے ساتھ کی گئی ہے، بلکہ اس معنی کو ’’خٰلِدِینَ‘‘ کے ساتھ بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ دیکھو: ’’خَالِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء رَبُّکَ‘‘ (ہود:۱۰۸) حالانکہ مدّتِ دوام آسمان وزمین دُنیویہ معدود متناہی ہے نہ بطریق خلوو۔ اہلِ عرب کا ایک محاورہ ہے جس میں کہتے ہیں: ’’لا آتیک ما دامت السماوات والأرض وما اختلف اللیل والنھار‘‘ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں جب تک زندہ ہوں تیرے پاس نہ آؤں گا۔ اس سے اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ قائل ’’لا آتیک‘‘ تا مدّت بقائے آسمان وزمین اور تاتعاقب لیل ونہار زِندہ رہے گا تو یہ حماقت ہے، جس کا منشاء بغیر از جہالت اور نہیں۔ اسی تقریر سے مطلب آیت: ’’وَأَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘ (المائدۃ:۶۴) کا بھی معلوم ہوسکتا ہے۔ رہی آیت: ’’وَلَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِیْنَ‘‘ (النحل:۹) سو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہتا تم سب کو راہِ راست پر کردیتا، مگر ایسا نہیں چاہا، یعنی کسی کو کافر کسی کو مؤمن بنایا، اس سے یہ نہیں پایا جاتا کہ اگر مثلاً خطہ عرب کے سارے موجودہ لوگ مشرف بالایمان بعد از کفر وشرک ہوجائیں (چنانچہ ایسا ہوا ہے) تو یہ امر آیت: ’’لَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ‘‘ کے خلاف ہوگا۔ ایسا ہی کسی اور شہر یا کسی ملک یا رُوئے زمین کے مختلف المذاہب باشندے اگر مسلمان ہوجائیں تو آیتِ مذکورہ کی مخالفت نہیں۔ ایسا ہی اگر مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام کے وقت موجود لوگ جو قتل وہلاکت سے بچ رہے ہوں، سارے ہی مسلمان ہوجائیں تو ہوسکتا ہے۔
دجال معہ ستر ہزار یہود اگر بغیر اِیمان لانے کے مرجائیں تو اس سے کلیہ میں جو مدلول آیت: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ‘‘ کا ہے، کوئی خلل نہیں آتا، کیونکہ ’’لَیُؤْمِنَنَّ‘‘ قضیہ موجبہ ہے اور صدق ایجاب وجود موضوع کا مقتضی ہوتا ہے پس محکوم علیہا وہ افراد ہوں گے جو قتل وہلاکت سے بچ جائیں گے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ عرب میں سب لوگ مسلمان رہیں گے یا ہوں گے تو اس کا یہ مطلب ہوگا
224
کہ بعد جہاد ومقابلہ جو بچ رہیں گے وہ مسلمان ہی ہوں گے، صدق الإیجاب یقتضی وجود الموضوع قضیہ مُسلَّمہ ہے۔
یہ خیال کرنا کہ جب بعہدِ مبارک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم تمام اہلِ کتاب مسلمان نہیں ہوئے تو پھر مسیح کے زمانے کو کیا خصوصیت ہے، بالکل بے جا اور جہالت ہے۔
اگر کوئی کہے کہ اہلِ فارس ورُوم وغیرہ بعہدِ نبوی مشرف باسلام نہیں ہوئے تو بعہدِ خلیفہ اوّل یا ثانی یا ثالث یا رابع یا بعہدِ خلیفہ آخری (مہدیٔ موعود) کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں؟ تو ایسے قائل کو جواباً یہی کہا جائے گا کہ خلفاء علیہم الرضون کی کارروائی چونکہ تاسیسِ نبوی کی ترقی ہے اور اسی ڈالی ہوئی بنیاد کی تعمیر ہے، لہٰذا بعینہٖ نبوی کارروائی کہلانے کا اِستحقاق رکھتی ہے، بلکہ آیت:’’لِیَظہِرَہُ عَلَی الدِّینَ كُلِّہٖ‘‘ والی پیشین گوئی آخری خلیفہ نبوی کے زمانے میں بروقت نزولِ مسیح علیہ السلام متحقق ہوگی۔ چنانچہ وعدہ فتوح بلادِ شام مندرجہ توراۃ زمانۂ موسوی میں ظہور میں نہیں آیا تھا، بلکہ بعہدِ یوشع خلیفہ موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہما السلام متحقق ہوا۔ ایسا ہی وعدہ ’’لِیَظہِرَہُ عَلَی الدِّینَ كُلِّہٖ‘‘ بعہدِ خلیفہ آخری بروقت نزولِ عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام ظہور میں آئے گا، اور یہ سب کمالِ نبوی ہوگا۔
جواب سوال نمبر۵:۔۔۔ معجزات کا اِنکار مرزا اور مزائیوں سے کوئی نئی بات نہیں! فلاسفہ اور معتزلہ ان سے پہلے منکر چلے آئے ہیں، اور اہلِ سنت اپنی تفاسیر ومؤلفات میں جابجا مع مالہا وما علیہا ان کا ذِکر کرتے رہے ہیں۔ آیاتِ خمسہ ذیل میں:
۱:۔۔۔ ’’وَحَرَامٌ عَلَی قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا أَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُونَ‘‘
(الانبیاء:۹۵)
۲:۔۔۔ ’’أَلَمْ یَرَوْا کَمْ أَہْلَکْنَا قَبْلَہُم مِّنْ الْقُرُونِ أَنَّہُمْ إِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُونَ‘‘
(یٰسین:۳۱)
۳:۔۔۔ ’’حَتَّی إِذَا جَاء أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ‘‘
(المؤمنون:۹۹)
۴:۔۔۔ ’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ‘‘
(الزمر:۴۲)
۵:۔۔۔ ’’ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ لَمَیِّتُونَ‘‘
(المؤمنون:۱۵)
بیان ہے اکثریہ کا اور اِنتفاء امرِ طبعی کا، یعنی موتیٰ بحسب الطبع رُجوع کو نہیں چاہتے، کما قال: ’’لاَ یَرْجِعُونَ‘‘ ، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ موتیٰ کو اس عالم میں دوبارہ لائے تو بھی ناممکن اور غیرواقع ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ خرقِ عادت ہوگا، نہ بروفق عادت۔ اور قولہ تعالیٰ: ’’وَلَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبدِیلًا‘‘ خرق اور وفق دونوں کو شامل ہے۔
جواب سوال نمبر۶:۔۔۔ ’’رَبِّ اَرِنِی كَیفَ تُحیِ المَوتٰی‘‘ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ چار پرندے مار دئیے گئے تھے، بعد اَزاں زِندہ کئے جانے پر اِبراہیم علیہ السلام کے پاس دوڑ کر پہنچے۔(۱) قیمہ کوٹنا وغیرہ وغیرہ ہو یا نہ ہو، پہلے ان کی موت تو ضروری ٹھہرتی ہے، تاکہ اِحیائِ موتیٰ کا معنی متحقق ہو، بخلاف اس صورت کے کہ جب چاروں زِندہ پہاڑوں پر چھوڑ دئیے گئے ہوں اور بعض کو ان میں سے بلایا گیا ہو، کیونکہ اس صورت میں اِحیائِ موتیٰ والا معنی جس کو اِبراہیم علیہ السلام نے معائنہ کرنا چاہا تھا، نہیں پایا
(۱)فصرھن إلیک: اوثقھن، فلما اوثقھن ذبحھن ثم جعل علٰی کل جبل منھن جزئًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فدعاھن کما امرہ ﷲ عزَّ وجلَّ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واتینہ یمشین سعیًا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۶۲۳، طبع رشیدیہ)۔/samp>
225
جاتا۔(۱) مفسرین علیہم الرضوان کا بیان (قیمہ کوٹنا وغیرہ) بیان تاریخی ہے، نہ ترجمہ۔
جواب سوال نمبر۷:۔۔۔ قرآنِ کریم میں بیس کی بجائے اگر لاکھ جگہ بھی متوفی کا معنی موت لیا گیا ہو تو بھی کلیہ اس سے ثابت نہیں ہوسکتا، چنانچہ جواب سوال نمبر۲ سے آپ معلوم کرسکتے ہیں۔
آٹھویں سوال کا جواب بھی پہلے جواب سوال نمبر۲ سے آپ معلوم کرسکتے ہیں۔
والسلام خیر ختام والحمد للّٰہ اوّلًا وآخرًا والصلوٰۃ والسلام منہ باطنًا علیہ ظاھرًا
العبد الملتجی والمشتکی إلی ﷲ
المدعو بمہر علی شاہ عفی عنہ ربہ
بقلمِ خود اَز گولڑہ ۱۸؍ذوالحجہ ۱۳۳۴ھ
(فتویٰ مہریہ ص:۳۰ تا ۳۹)
اسی مضمون کا ایک اور خط اور اُس کا جواب
سوال:۔۔۔ بحضور فیض گنجور مدظلہ العالی
تسلیم! جنابِ عالی حسبۃً للّٰہ نیازمند کے شبہاتِ ذیل کو رفع فرمائیے، نہایت ہی مہربانی ہوگی۔
۱:۔۔۔ انبیاء میں سے کسی نبی کی موت قرآنِ کریم سے ثابت ہے یا نہ؟ اگر ہے تو کس آیت سے؟
۲:۔۔۔ لفظ انسان کا اِطلاق جسم پر ہے، یا رُوح پر، یا دونوں پر؟
۳:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم قبل الموت بگڑے گی، یا بعد الموت، یا ابھی نہیں بگڑی؟
۴:۔۔۔ ’’توفی‘‘ باب تفعل سے ہو یا تفعیل اور اِستفعال سے ہو تو اس کے حقیقی معنی کیا ہوں گے؟
۵:۔۔۔ جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کی شناخت کے واسطے کیا معیار ہوں گے؟ کیونکہ ان کو حیاتِ اولیٰ میں دیکھنے والے تو فوت شدہ ہیں اور مخبرِ صادق صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دو حلیہ بیان کردئیے ہیں۔
۶:۔۔۔ مہدی کے واسطے جو اَحادیث ہیں وہ بھی مختلف ہیں، بعض میں بنی عباس میں سے ہوگا، بعض میں بنی فاطمہ سے ہوگا، جب مہدی آئے گا تو اس کا کیا معیار ہوگا؟
۷:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے آیت: ’’وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ (آل عمران:۵۴) اور حضرت جناب رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واسطے : ’’وَیَمْکُرُ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ (الانفال:۳۰) دونوں پر یکساں منصوبہ ہوا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ تجھ کو اسی جسمِ عنصری کے ساتھ اپنے پاس اُٹھانے والا ہوں، اور اس کو اُٹھا بھی لیا۔ اور ہمارے حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کہا کہ تجھ کو بچانے والا ہوں، غارِ ثور میں تین دِن رہ کر مدینہ طیبہ چلے جانا۔ اب جو نبیوں کے نہ ماننے والا ہو، وہ
(۱)واتینہ یمشین لیکون أبلغ لہ فی الرؤْیۃ التی سألھا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۶۲۳، طبع رشیدیہ)۔
226
فضیلت کس کو دے گا؟ خاص کر کے جب اس کے ساتھ یہ اجزاء بھی شامل کردئیے جائیں کہ وہ پرند بھی بنالیتا تھا، مردے کو بھی بحکم اللّٰہ زندہ کرتا تھا، اندھوں، کوڑھیوں کو بھی اچھا کرتا تھا، گھر کی خوردہ نہادہ اشیاء سے بھی ان کو خبر کردیتا تھا۔
۸:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو صلیبوں کو توڑیں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے، تو اِسلام اور اہلِ اسلام کو اس سے کیا فائدہ متصوّر ہوگا؟ کیونکہ وہ تو صرف دجال کے واسطے تعینات تھے۔
۹:۔۔۔ ’’مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ‘‘ (المائدۃ:۷۵) خداوند کریم کا اس آیت شریف کو قیاسِ اِستقرائی کے طور پر لانا کیا حکمت ہے؟
۱۰:۔۔۔ اس صدی پر جس کو اَب پچّیس برس ہوئے کوئی مجدّد کیوں نہ ہوا؟ اور حدیث: ’’إنَّ ﷲَ عزَّ وجلَّ یبعث لھٰذہ الاُمَّۃ علٰی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدّد لھا دینھا‘‘ (مشکوٰۃ شریف، باب العلم) یہ حدیث صحیح ہے یا وضعی؟
ان کے جوابات جو دِل قبول کرلے، آیت اور حدیث سے تحریر فرمادیں تاکہ نیازمند کہیں حفرۃ من النار میں نہ گر جائے، فقط تلک عشرۃ کاملہ۔
جواب۱:۔۔۔ آیت: ’’قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ میں حکمی موت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی تعطیل از لوازمِ دُنیویہ اور حقیقی موت بمعنی قبض رُوح وعدمِ اِرسال باقی انبیاء کی علیٰ نبینا وعلیہم السلام ثابت ہے۔ بنائً علٰی قد خلت بمعنی مضت لا بمعنی توفت ۔ دیکھو: قاموس، لسان العرب وغیرہ کتبِ لغت۔
۲:۔۔۔ لفظِ ’’انسان‘‘ کا اِطلاق مجموع جسم ورُوح پر حقیقی اور فقط ایک ایک پر مجازی ہے، لما تقرر ان اللفظ موضوع لکل یستعمل فی کل جزئٍ مجازًا۔
۳:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم بعد الرفع الی السماء (موت حکمی) بگڑگئی تھی، اور قبل الرفع اطرا جس کو تمہید بگاڑ کہنا چاہئے شروع ہوگیا تھا۔
۴:۔۔۔ ’’توفی‘‘ باب تفعل سے بمعنی مطلق قبض، چنانچہ: توفیت مالی ای قبضت یا قبض رُوح مع الإمساک (موت) یا قبض روح مع الإرسال (نیند) پڑھو:’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضَی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْأُخْرَی إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی‘‘(الزمر:۴۲)۔
۵:۔۔۔ عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی شناخت کا معیار اَحادیثِ صحیحہ بخاری ومسلم وسائر صحاح ومسندِ اِمام احمد وغیرہم سے بالتفصیل آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ اگر بآسانی خلاصہ معلوم کرنا ہو تو کتاب ’’سیف چشتیائی‘‘ کو اوّل سے ملاحظہ کرو۔
۶:۔۔۔ اِمام مہدی علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی احادیث میں تطابق اور معیار شناخت اسی کتاب ’’سیف چشتیائی‘‘ میں مفصل لکھا ہوا ہے، ملاحظہ کریں۔
۷:۔۔۔ آیت:’’وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ اور ایسا ہی آیت: ’’وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اللہُ‘‘ کا مفاد النظم
227
صرف اتنا ہی ہے کہ یہود نے بحق عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منصوبہ بنایا اور مشرکینِ مکہ نے دربارہ سروَرِعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ اب رہا یہ کہ کون سا منصوبہ، سو یہ خارج میں معلوم ہوا ہے۔ آپ کا سوال میں یہ کہنا: ’’دونوں پر یکساں منصوبہ الخ‘‘ اگر اس سے یہ مطلب ہے کہ دونوں جگہ میں ایک ہی واقعہ ہوا ہے تو یہ مدلول آیت کا نہیں، محض اِفترا ہے، اور اگر یہ مطلب ہے کہ مطلق منصوبہ بازی دونوں جگہ میں پائی گئی تو ہم بھی اس کے قائل ہیں، اور آیت کا بھی صرف اسی قدر مفاد ہے۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خصوصیات وتشخصیات ہر واقعے کے متحد ہی ہوں۔ومن ادعیٰ فعلیہ البیان! خصوصیت واقعہ رفع وواقعہ غارِ ثور آیت کا مدلول نہیں، احادیث وآثار سے ثابت ہے، دیکھو ’’سیف چشتیائی‘‘۔ آپ لوگوں کے فہم پر تعجب ہے کہ دونوں آیتوں کے مدلولِ وضعی کے اِتحاد سے اِتحادِ واقعات سمجھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو چاہئے کہ بعینہٖ واقعہ غارِ ثور وہجرتِ مبارکہ واقعہ عیسویہ میں بھی ہو۔ کوئی عاقل ایسے جاہالانہ استنباطات کو وقعت کی نظر سے دیکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! تو پھر اہلِ سنت والجماعت پر انہیں آیتوں کی رُو سے کیوں بوجھ ڈالا جاتا ہے؟ چاہئے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی مرفوع الی السماء بجسدہ العنصری ہوں، نہ رونق افزائے مدینہ طیبہ۔ ہاں اگر اس خیال سے مستبعد معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے تو جواباً معروض ہے کہ مدارِ فضیلت آسمانی زمینی ہونے پر نہیں، ورنہ کل ملائکہ سماویہ کی افضلیت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر لازم آئے گی۔ شاید آپ لوگوں (فرقۂ مرزائیہ) کا یہی عقیدہ ہوگا، اور بحسب از خودتراشیدہ قوانین کے ایسا ہی ہو، ضروری ہے۔ کوڑھیوں کو باذن اللّٰہ اچھا کرنا یا مردہ کو زِندہ کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب فضیلت کا موجب نہیں ہوسکتے۔ مؤمن کو صرف ایک ہی حدیث شفاعتِ کبریٰ میں غور کرنے سے یہ وہم نہیں رہتا، جب ایسا ہے تو پھر ہم ’’ما جاء بہ الرسول علیہ السلام من القرآن والسُّنَّۃ‘‘ کے منطوق ومدلول منصوص کو اپنے جاہلانہ ڈھکوسلوں کی مداخلتِ بے جا کے ذریعے کیوں چھوڑ بیٹھیں اور ناری بنیں؟ آج تک کل اُمتِ مرحومہ یعنی سوادِ اعظم کا یہی مسلک چلا آیا ہے۔
۸:۔۔۔ اس مقام پر ’’سیف چشتیائی‘‘ کو ملاحظہ کرو۔
۹و۱۰:۔۔۔ قیاس اِستقرائی کو بے جا دخل مت دو، یوں کہو کہ ’’كَانَا یَا كُلٰنِ الطَّعَامَ‘‘ سے خلافِ عقیدہ قائلین برفع جسمانی معلوم ہوتا ہے، جواباً معروض ہے کہ ’’شمس الہدایۃ‘‘ اور ’’سیف چشتیائی‘‘ کو ملاحظہ کرو، علٰی رأس کل مائۃ والی حدیث کا مطلب بھی ’’سیف چشتیائی‘‘ میں ملاحظہ کرو، والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
(فتاویٰ مہریہ ص:۳۹-۴۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں
سوال:۔۔۔ در قرآن مجید است ’’وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (آل عمران:۸۱) اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقیدِ حیات فائز اند پس در کدام سن وسال ایمان بہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم آوردند بہ مدد ایشاں رسیدہ اند؟ بصورت دیگر دعویٔ حیات مزعومہ است؟
جواب:۔۔۔ حقیقت ایں جواب ہم بحوالہ خداست زیرا کہ مارا علم نیست کہ اطلاع نبوّتِ محمدیہ عیسیٰ علیہ السلام در کدام ساعت وکدام سال رسیدہ در وقتیکہ اطلاع نبوّتِ محمدیہ رسیدہ باشد ہموں ساعت ایمان آوردہ باشد واللّٰہ اعلم!
228
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۲، ۱۰۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کیسی؟
سوال:۔۔۔ آیتِ کریمہ: ’’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِکَ الْخُلْدَ‘‘ (الانبیاء:۳۴) ثابت مے کند از قبل آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہ حیات ابد ہیچ کس فائز نشدہ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام چہ طور حیات تسلیم کردہ شود؟
جواب:۔۔۔ بحیاتِ ابدی بحق عیسیٰ علیہ السلام ہیچ کسی قائل نے لیکن معنی ابد آں ست کہ منتہائش نہ باشد، فافہم!
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۳)
بحث مرزائی گروہ
1:۔۔۔ حیاتِ مسیح اور اِجماعِ اُمت۔ 2:۔۔۔ رفعِ مسیح۔
3:۔۔۔ رفعِ مسیح اور اِمام بخاریؒ۔ 4:۔۔۔ خاتم النّبیین کا معنی۔
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر اِجماع اُمت کا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، چنانچہ قرآن مجید واحادیثِ صحیحہ واِجماعِ مفسرین اس پر شاہد ہے، وھو ھٰذا: ’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ‘‘ یعنی نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے اور نہ سولی دئیے گئے ہیں۔ ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ اور انہوں نے ان کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف زندہ ہی اُٹھالیا ہے۔ پس اس آیت شریف سے اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ ہی اُٹھالیا گیا ہے کیونکہ فعل قتل اور صلیب کا جسمِ عنصری پر ہوا کرتا ہے، نہ رُوح پر، پس جس کو قتل اور صلیب سے بچالیا گیا ہے، اس کو اُٹھالیا گیا ہے۔
صاحبِ ’’فتح البیان‘‘ (ج:۲ ص:۳۴۴) اور علامہ سیوطیؒ کتاب اعلام میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرماکر ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے، اور اسی پر اِجماع اُمت کا ہے، ’انہ یحکم بشرع نبیّنا ووردت بہ الأحادیث وانعقد علیہ الإجماع وقد تواترت الأحادیث بنزول عیسٰی جسمًا۔‘‘
فتح البیان اور تفسیر بیضاوی (ج:۲ ص:۸۲) میں لکھا ہے: ’’روی ان عیسٰی ینزل من السماء یخرج الدجال فیھلکہ۔‘‘ اور تفسیر معالم (ج:۲ ص:۲۶۳) میں نیز بایں طور وارِد ہے: ’’بل رفع ﷲ عیسٰی إلیہ السماء۔‘‘ اور نیز تفسیر زاہدی (ورق:۶۴ صفحہ:۲) پر ’’رفع ﷲ عیسٰی حیًّا إلی السماء۔‘‘ اور ایسا ہی تفسیر حسینی وتفسیر اکسیر اعظم (ص:۴۰۲)، تفسیر غرائب القرآن (۶،۱۹) وتفسیر رؤفی وتفسیر قادری وخلاصۃ التفاسیر (ص:۴۷۲) وتفسیر جلالین وغیرہ میں اور ان کے علاوہ تمام علمائے دین وفقہائے کرام حنفیہ وشافعیہ وحنبلیہ ومالکیہ کا بھی اس بات پر اِتفاق ہے اور تمام نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور ایسا ہی تمام محدثین نے لکھا ہے۔
چنانچہ اِمام بخاری ومسلم ونسائی وطبرانی وغیرہ اور ایسا ہی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃاللّٰہ علیہ نے ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ (ج:۲
229
باب:۷۳) میں بایں طور لکھا ہے: ’’ان عیسَی ابن مریم نبی ورسول انہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان حکمًا مقسطًا عدلًا۔‘‘ یعنی بے شک عیسیٰ ابن مریم نبی ورسول ہے اور اس میں کوئی اِختلاف نہیں کہ وہ آخرالزمان میں عدل وانصاف آکر کریں گے۔‘‘ اور باقی بزرگان خدا کا بھی اسی پر اِتفاق ہے جیسا کہ اِمام شعرانی وحضرات پیر محی الدین وعلامہ ابوطاہر واِمام قرطبی وعلامہ نووی وشیخ احمد بن احمد حنبلی وعلامہ تفتازانی شرح عقاید نسفی وحضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ وخواجہ معین الدین اجمیری کتاب ’’انیس الارواح‘‘ وعلامہ قاضی عیاضؒ، صحیح مسلم وشاہ رفیع الدین کتاب ’’علاماتِ قیامت‘‘ اور مولانا خرم علی جونپوری ’’تحتہ الاخبار ترجمہ مشارق الانوار‘‘ میں بایں طور مذکور ہے۔
اِمام مہدیؓ کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے اور نصرانی دِین کو مٹائیں گے اور ایسا ہی مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ (ص:۴۷۹) کے حاشیہ پر ہے اور کتاب ’’عون المعبود شرح ابوداؤد‘‘ (ج:۴ ص:۱۰۳) میں بھی اس طرح مذکور ہے: ’’تواترت الأخبار عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فی نزول عیسٰی من السماء بجسد عنصری إلی الأرض عند قرب الساعۃ وإن عیسٰی حیٌّ فی السماء ینزل فی آخر الزمان۔‘‘ اور صاحبِ ’’درمنثور‘‘ (ج:۲ ص:۲۴۳) میں بایں طور لکھا ہے: ’’اخرج ابن ابی شیبۃ واحمد والطبرانی والحاکم عن عثمان قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ینزل عیسٰی عند صلوٰۃ الفجر۔‘‘ اور ایسا ہی حضرت مجدّد الف ثانی رحمۃاللّٰہ علیہ نے ’’مکتوبات‘‘ دفتر دوم (ص:۱۸۴) میں لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ از آسمان نزول خواہد فرمود ومتابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود۔‘‘ اور حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ’’تاویل الاحادیث مترجم رموز قصص الانبیاء (ص:۶۰، طبع احمدی دوم) میں لکھا ہے: ’’واجمعوا علٰی قتل عیسٰی ومکروا ومکر ﷲ وﷲ خیر الماکرین فجعل فیہ مسبھۃ برفعہ إلی السماء۔‘‘ اور ایسا ہی اِنجیل برنباس باب:۱۱۲آیت پر یوں حرف تحریر کئے ہیں: ’’اور جب حضرت مسیح دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق واَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘ خود مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ (ص:۳۶۱، خزائن ج:۱ ص:۴۳۱ حاشیہ) میں لکھتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ تو اِنجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔‘‘ اور نیز ’’تقویۃ الایمان‘‘ میں مولوی محمد اِسماعیل صاحب نے صفحہ:۱۲۹ میں لکھا ہے اور ایسا ہی ’’غنیۃالطالبین‘‘ میں ہے:’’والتاسع: رفع ﷲ عزَّ وجلَّ عیسَی ابن مریم إلی السماء۔‘‘ غرضیکہ تمام کتبِ احادیث واُصولِ فقہ وکتبِ تفاسیر وتواریخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ ان کے آنے پر پکار پکار کی آوازیں دے رہی ہیں اور اگر کسی صاحب کو شک ہو تو جلد سوم سلطان الفقہ کا مطالعہ کرے، اگر کوئی اِعتراض ہو تو مطلع کرے، فقط!
سوال:۔۔۔ رفع کے کیا معنی ہیں؟
جواب:۔۔۔ رفع کے معنی اَز رُوئے علمِ لغت اُونچا کرنے اور اُٹھانے کے ہیں، چنانچہ قرآن مجید واحادیث شریف وکتبِ فقہ بھی انہی معنوں پر شاہد ہیں، دیکھو سورۂ یوسف: ’’وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (یوسف:۱۰۰) اُونچا بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر۔ اور سورۂ بقرہ: ’’وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّورَ‘‘ (البقرۃ:۶۳) اُونچا کیا ہم نے تم پر پہاڑ۔ اور حدیث: ’’من رفع حجرًا عن طریق کتبت لہ
230
حسنۃ‘‘ جو شخص واسطے رفع تکلیف آدمیوں کے راستے سے پتھر اُٹھائے تو اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے۔ اور دُوسری حدیث میں اس طرح ہے:’’من رفع یدیہ فی الرکوع فلا صلوٰۃ لہ‘‘ یعنی جو رُکوع میں ہاتھ اُٹھائے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ کتبِ فقہ میں اس طرح لکھا ہے:’’وإذا اراد الدخول فی الصلوٰۃ کبّر رفع یدیہ حذاء اُذنیہ‘‘ یعنی جب اِرادہ کرے داخل ہونے نماز میں تو اللّٰہ اکبر کہے اور دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھائے۔ اور علاوہ ان دلائل کے خود مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ (ص:۵۵۹، خزائن ج:۱ ص:۶۶۷ حاشیہ) میں بھی تحریر کرتا ہے: ’’رُفِعْتُ وَجُعلْتُ مبارکًا‘‘ یعنی اُونچا کرنا اور اُٹھانا ہے۔ فقط!
سوال:۔۔۔ مرزائی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کسی حدیثِ صحیح سے زِندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اور خود اِمام بخاریؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔ کیا ان کی یہ بات سچی ہے؟ جواب دیں، اجر ملے گا۔
جواب:۔۔۔ یہ محض ان لوگوں کی کم فہمی وکم علمی کا سبب ہے۔ دیکھو مشکوٰۃ شریف، باب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام (ص:۴۷۹):
’’عن ابی ھریرۃ قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدُّنیا وما فیھا۔ ثم یقول ابوھریرۃ: وإن شئتم فاقرؤُا:وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ۔‘‘
(از بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، ومسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’یعنی کہا ابوہریرہؓ نے کہ فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے: قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ضرور اُتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے آسمان سے بیچ تمہارے، درآنحالیکہ وہ صاحبِ عدل واِنصاف ہوں گے، پس توڑ دیں گے سولی نصرانیوں کی، اور قتل کردیں گے خنزیروں کو اور رکھ دیں گے جزیہ (یعنی جزیہ جو اِسلامی ریاست میں غیرمسلم باشندوں یعنی آدمیوں پر ٹیکس ہوتا ہے اس کے ختم ہونے کا اِعلان کریں گے، اور فرمائیں گے کہ اب یا تو مسلمان ہوجاؤ، ورنہ قتل کئے جاؤگے، تو سب مسلمان ہوجائیں گے، یوں ہر گھر میں اسلام داخل ہوجائے گا، رُوئے زمین پر کوئی کافر نہ ہوگا، جیسا کہ حدیث شریف میں لکھا ہے) اور ان کے زمانے میں بہت مال ہوگا، یہاں تک کہ کوئی قبول نہ کرے گا اس کو، یہاں تک کہ ہوجائے گا ایک سجدہ بہتر دُنیا سے اور ہر چیز سے کہ دُنیا میں ہے۔ اور پھر سمجھانے کی خاطر کہا حضرت ابوہریرہؓ نے کہ: اگر تم کو شک ہو اس اَمر میں تو پڑھو اس آیت شریف کو، اگر چاہو کہ: نہیں ہے کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر کہ اِیمان لائے گا عیسیٰ پر پہلے مرنے ان کے۔۔۔الخ۔‘‘
مسلم ج:۱ ص:۸۷، وبخاری ج:۱ ص:۴۹۰ کی نیز ایک روایت میں بایں طور مذکور ہے:
’’قال: کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم‘‘
231
’’یعنی فرمایا جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہ: اے لوگو! کیا ہوگا حال تمہارا جس وقت کہ اُترے گا عیسیٰ مریم کا بیٹا درمیان تمہارے اور ہوگا تم سے اِمام تمہارا۔‘‘
یعنی قریب ہے کہ اِمام مہدیؓ کے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور نصرانی دِین کو مٹادیں گے اور محمدی دِین پر عمل کریں گے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ سے نیز بایں طور مذکور ہے:
’’قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ینزل عیسَی ابن مریم إلی الأرض، فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسًا وأربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری، فأقوم انا وعیسَی ابن مریم من قبر واحد بین ابی بکر وعمر۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
’’یعنی فرمایا ہے رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے: اُتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین کی طرف، پس پھر نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی اولاد ان کے لئے، اور ٹھہریں گے زمین میں پینتالیس برس، پھر مریں گے، پھر دفن کئے جائیں گے بیچ مقبرے میرے کے، پس اُٹھوں گا میں اور عیسیٰ بن مریم ایک مقبرے سے درمیان میں ابوبکر اور عمر کے۔‘‘
حدیث مسلم ج:۲ ص:۳۹۳، مشکوٰۃ، العلامات ص:۴۷۲ میں نیز حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ: قبل قیامت کے دس نشانیاں ظاہر ہوں گی، وہ یہ ہیں:
’’الدُّخان، والدَّجَّال، والدَّابَّۃ، وطلوع الشَّمس من مغربھا، ونزول عیسَی ابن مریم، ویأجوج ومأجوج، وثلاثۃ خسوف، خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب، وآخر ذالک نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلی المحشر، وفی روایۃ فی العاشرۃ: وریح تلقی الناس فی البحر۔‘‘
’’یعنی فرمایا: دُھواں نکلنا اور الدجال، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا اور آفتاب کا نکلنا مغرب کی طرف سے، اور اُترنا عیسیٰ بن مریم کا، اور ظاہر ہونا یأجوج ومأجوج کا، اور تین خسوفوں کا ایک خسف مشرق سے اور ایک مغرب سے اور ایک خسف عرب میں واقعہ ہوگی، ایک آگ یمن کی طرف سے ہانکے گی لوگوں کو طرف محشر کے اور ایک آگ نکلے گی کنارے عدن سے ہانکے گی لوگوں کو طرف محشر کے، اور ایک روایت میں ذِکر آیا ہے: ہوا لوگوں کو سمندر کی طرف دھکیل دے گی۔‘‘
پس ان تمام دلائل قاطع (یعنی یقینی دلائل) سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اب تک زِندہ آسمانوں پر ہیں
232
اور قریب زمانہ اِمام مہدیؓ کے نزول فرمائیں گے اور ان کے زمانے میں نہایت درجے کا عدل واِنصاف ہوگا، اور مال سے لوگ نہایت درجے پر غنی ہوں گے، اور بت پرست اور بدعت ورُسومات کا نام ونشان بھی دُنیا پر نہ رہے گا اور اِمام مہدیؓ اس وقت اِمام ہوں گے اور نصرانیوں کی عَلم داری نہ رہے گی، بلکہ ان کی صلیب اور بے غیرتی اور سوَرخوری کی بیخ کنی کی جائے گی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح کریں گے اور ان سے اولاد بھی ہوگی، اور ۴۵سال دُنیا میں تبلیغ فرمائیں گے، پس مدینہ طیبہ میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقبرہ شریف میں دفن ہوں گے۔ پس جائے اِنصاف ہے کہ مرزاقادیانی میں یہ باتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔۔۔؟
سوال:۔۔۔ مرزائی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم نبی نہ تھے، نبوّت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا، اور خاتم النّبیین قرآن میں وارِد ہے، اس کے معنی مہر کے ہیں، جو ان کے پیچھے آئیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے۔ کیا ان کی یہ بات سچ ہے؟
جواب:۔۔۔ یہ معنی ان کے بالکل غلط اور خلاف احادیثِ صحیحہ واَئمہ مفسرین ہیں، اور اصل میں ’’ختم‘‘ معنی بند اور تمام کرنے کے ہیں۔ چنانچہ ’’خَتَمَ اللہُ عَلَی قُلُوبِہمْ‘‘ (البقرۃ:۷) اور حدیث (بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، ومسلم ج:۲ ص:۲۴۸، ومشکوٰۃ، فضائل سیّدالمرسلین ص:۵۱۱) میں نیز اسی معنی پر وارِد ہے:
’’قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: مثلی ومثل الأنبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ، ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ إلَّا موضع تلک اللبنۃ، فکنت انا سددت موضع اللبنۃ، ختم بی البنیان وختم بی الرسل، وفی روایۃ: فأنا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔ متفق علیہ۔‘‘
’’یعنی کہا ابوہریرہؓ نے کہ فرمایا نبی علیہ السلام نے: مثل میری اور مثل انبیاء کے جیسے ایک محل ہے کہ اچھی بنائی گئی دیوار اس کے گرد کی، چھوڑی گئی اس محل سے ایک اِینٹ کی جگہ، پھر گرد پھرنے لگے اس کے دیکھنے والے اور حالانکہ تعجب کرتے تھے اس دیوار کی خوبی سے مگر ایک اِینٹ کی جگہ، سو میں ہی ہوں جس سے وہ خالی جگہ پُر ہوگئی، میرے ذریعے رسولوں کا سلسلہ اِختتام پذیر ہوا۔ ایک روایت میں ہے: پس میں ہوں مثال اس اِینٹ کی اور میں ہوں ختم کرنے والا سب نبیوں کا۔‘‘
اور ’’ترمذی‘‘ (ج:۲ ص:۲۰۹) میں ہے:
’’لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۵۸)
’’اگر بعد میرے کوئی نبی ہوتا تو ضرور عمر ہوتا۔‘‘
اور ’’ترمذی‘‘ (ج:۲ ص:۴۵، وابوداؤد ج:۲ ص:۱۲۷، مشکوٰۃ ص:۴۶۵، باب الفتن) میں بایں معنی شاہد ہے:
’’وانہ سیکون فی اُمَّتی کذَّابون ثلاثون، کلّھم یزعم انہ نبی ﷲ، وانا خاتم النبیین، لا نبی بعدی۔‘‘
233
’’میری اُمت میں تیس (بہت سے) جھوٹے ہوں گے جو سب کے سب اس کا دعویٰ کریں گے کہ وہ اللّٰہ کے نبی ہیں، حالانکہ میں ہوں آخری نبی، میرے بعد کوئی مبعوث نہ ہوگا)۔‘‘
بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ فرمایا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے:
’’انت مِنِّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی إلَّا انہ لا نبی بعدی۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۶۳)
’’یعنی اے علی! تو مجھ کو بمنزلہ ہارون کے موسیٰ کے ہے، مگر فرق یہ ہے کہ کوئی نبی نہیں میرے بعد۔‘‘
پس ان تمام دلائل قاطع سے یہ ثابت ہوا کہ بعد نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کوئی نبی اللّٰہ نہیں آئے گا، اگر آئیں گے تو کاذب اور مفتری تیس یا اس سے زیادہ جو کہ جھوٹا دعویٰ کریں گے۔ اور علاوہ اس کے خود مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’حمامۃالبشریٰ‘‘ (ص:۲۰، خزائن ج:۷ ص:۲۰۰، اِزالہ اوہام ص:۷۶۱، خزائن ج:۳ ص:۵۱۱) میں ’’ختم‘‘ کے معنی اِختتام اور بند ہونے کے لکھتے ہیں:
’’قرآنِ کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی اور رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا، خواہ وہ نیا رسول ہو یا پُرانا ہو، کیونکہ رسول کو علمِ دِین بتوسط جبرائیل ملتا ہے، اور بابِ نزولِ جبرائیل بہ پیرایۂ وحیٔ رسالت مسدود ہے، اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دُنیا میں رسول آئے مگر سلسلۂ وحیٔ رسالت نہ ہو۔
-
"ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوّت را برو شد اختتام"
(درثمین فارسی ص:۱۱۴)
(فتاویٰ نظامیہ ج:۴ ص:۳۳۹ تا ۳۴۵)
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیق
سوال:۔۔۔ تفسیر ابن کثیر سورۂ آل عمران میں حضور نبی علیہ السلام کی حدیث سند سے مذکور ہے، آپ نے فرمایا: ’’إنَّ عیسٰی لم یمت، وإنَّہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ کہ حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے، اور وہ قیامت سے پہلے ضرور واپس آئیں گے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اِمام حسن بصریؒ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں، حالانکہ حسن بصریؒ نے حضور علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا، جب تک اس درمیانے راوی کا پتا نہ چلے، اس کا اِعتبار نہیں۔
سائل: بشیر حسین چمن، چنیوٹ
جواب:۔۔۔ یہ ٹھیک ہے حضرت اِمام حسن بصریؒ نے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دُنیوی زمانہ نہیں پایا، آپ حضرت عمرؓ کے آخر زمانۂ خلافت میں پیدا ہوئے تھے، لیکن اس سے حدیث ناقابلِ اِعتبار نہیں ٹھہرتی۔ ایسی روایات ’’مرسل‘‘ کہلاتی ہیں، اور اِمامِ اعظمؒ اور اِمام مالکؒ کے نزدیک حدیثِ مرسل حجت ہے۔ پھر حضرت حسن بصریؒ کی مرسلات جو ثقہ راویوں سے مروی ہوں وہ تو صحاح کے حکم میں ہیں، اِمام علی المدینیؒ کہتے ہیں:
234
’’مرسلات الحسن إذا رووھا عنہ الثقات، صحیح‘‘
(موضوعات کبیر ص:۳۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حسن بصریؒ کی مرسلات جب ثقہ راوی نقل کریں تو یہ صحاح کے حکم میں ہیں۔‘‘
حافظ مزیؒ ’’تہذیب الکمال‘‘ میں ابونعیمؒ کے طریق سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ یہی سوال حضرت اِمام حسن بصریؒ سے پوچھا گیا، آپ نے فرمایا:
’’کل شیء سمعتنی اقول: ’’قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم‘‘ فھو عن علیٍّ، غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیًّا۔‘‘
(تھذیب الکمال، لإبن حجر ج:۲ ص:۲۱۰، طبع مکتبۃ الأثریۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہر وہ روایت جو میں نے اسی طرح سے پیش کی ہے، وہ حضرت علیؓ سے مروی ہے، لیکن میں ایسے زمانے (حجاج کے زمانے) میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا کھلم کھلا نام نہیں لے سکتا۔‘‘
اِمام بخاریؒ تاریخ میں سلیمان بن سالم قریشی کے ترجمے میں، اور حافظ عسقلانی ؒ تہذیب میں ابوزرعہ کے طریق سے حضرت حسن بصریؒ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کا باہمی ملنا جلنا بیان کرتے ہیں۔
(تہذیب ج:۲ ص:۲۱۰، ۲۱۱)
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۳۸۵،۳۸۶)
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اِشکال کا جواب
سوال:۔۔۔ ’’وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶) معنی آیتِ کریمہ است کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بشارت داد کہ بعد مردن من رسولے خواہد آمد کہ نامش احمد باشد اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہنوز زندہ است مے باید کہ بنام احمد رسول نیامدہ باشد اگر آمدہ است پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت شد۔
جواب:۔۔۔ در معنی آیت تحریف واقع شد بعد موت ترجمہ نیست بلکہ بعد ذہابی است یعنی رفتن من چنانچہ بحق موسیٰ علیہ السلام ہم بہمیں معنی گفتہ ’’بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِیْ مِن بَعْدِیَ‘‘ (الاعراف:۱۵۰) ای بعد ذہابی۔۔۔!
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۳)
’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیَّین‘‘ کی تحقیق
سوال:۔۔۔ یہاں ایک قادیانی مولوی صاحب کی اور پادری صاحب کی بحث چل کر ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیَّین‘‘ پر ٹھہرگئی، قادیانی مولوی حدیث کی کتب سے یہ الفاظ بتلادے تو پادری کے جامع مسجد کو پچاس روپیہ دینے پر بات ٹھہری ہے۔ قادیانی مولوی نے لاہور کی لائبریری سے کتب منگواکر بتلانا قبول کیا ہے، اور لائبریری کو مندرجہ ذیل کتب اِرسال کرنے کو لکھا ہے، اور لکھا ہے کہ یہ حدیث ان کتب میں ہے۔ آپ تحریر فرمائیں کہ یہ کتب حدیث کی کتب ہیں یا نہیں؟
۱:۔۔۔ زرقانی علیٰ مواہب اللدنیہ۔ ۲:۔۔۔ الیواقیت والجواہر۔
۳:۔۔۔ شرح فقہ اکبر۔ ۴:۔۔۔ مدارج السالکین۔
235
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا!
۱:۔۔۔ زرقانی، مواہب لدنیہ کی شرح ہے، حدیث شریف میں ہے۔
۲:۔۔۔ الیواقیت والجواہر میں شیخ اکبرؒ کی فتوحاتِ مکیہ کے مغلق مقامات کو حل کیا گیا ہے، روایاتِ حدیث جمع کرنے کا اس میں اِہتمام نہیں، بلکہ علم الاسرار وعلم التصوّف کے مضامین کو اس میں بیان کیا ہے۔
۳:۔۔۔ شرح فقہ اکبر علمِ کلام میں ہے، علمِ حدیث میں نہیں۔
۴:۔۔۔ مدارج السالکین ہمارے پاس موجود نہیں، اس کے نام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی تصوّف میں ہے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
|
عبداللطیف |
۳۰؍۸؍۱۳۵۵ھ |
|
یکم رمضان ۱۳۵۵ھ |
معین مفتی مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور |
یہ الفاظ روایاتِ صحیح کے خلاف ہیں، صحیح روایات میں صرف ’’لو کان موسٰی‘‘ ہے، عیسیٰ نہیں ہے۔ اگر تفصیل اس بحث کی دیکھنی ہو تو ’’عقیدۃالاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ دیکھو۔ فقط سعید احمد غفر لہٗ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۵ ص:۲۴۳،۲۴۴)
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر شبہ کا جواب
سوال:۔۔۔ علمائے کرام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے پر آیت: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷) پیش کرکے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زِندہ ہونا ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ مفسرین نے بھی لکھا ہے کہ توفی کے معنی رفع الی السماء ہے۔ اب مرزائی اِعتراض کرتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام زِندہ ہوں، اور قریب قیامت کے نزول فرمائیں اور اپنی اُمت کے عقائد تثلیث پرستی سے واقف ہوں تو قیامت کے دن کس طرح اپنی لاعلمی اور بے خبری ظاہر کریں گے؟ اس سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کذب لازم آتا ہے، بخشنا مرزائی کے جواب سے عاجز کو سرفراز فرمائیں، فقط!
جواب:۔۔۔ صحیح تفسیر معلوم ہونے کے بعد اگر کوئی سوال رہے تو لکھو۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ میں ان کی حالت سے مطلع رہا، جب تک ان میں موجود رہا، (سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے، اس کے متعلق بیان کرسکتا ہوں)، پھر جب آپ نے مجھ کو اُٹھالیا (یعنی اوّل بار میں تو زِندہ آسمان کی طرف، اور دُوسری بار میں وفات کے طور پر)۔ ومن ھٰھنا لم یقل رفعتنی ولا امتنی، والتوفّی عام لھما کما فی قولہ تعالٰی: ’’یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا‘‘ (الزمر:۴۲) تو اس وقت صرف آپ ان کے احوال پر مطلع رہے ۔۔۔الخ۔ وقد تقرر فی محلہ ان عدم دلیل لا یستلزم عدم المدعا خصوصًا مع وجود دلیل آخر۔
۸؍محرم ۱۳۵۶ھ
(’’النور‘‘ ص:۹، ربیع الثانی ۱۳۵۷ھ)
236
ایضاً السوال
سوال:۔۔۔ عرض یہ ہے کہ قادیانی مرزائیوں نے مندرجہ ذیل سوال کئے، ان کے جوابات تحریر فرمائیے:
۱:۔۔۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی رُو سے زِندہ جسمِ عنصری کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے تھے) قیامت سے پہلے دجال ملعون کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گے، تو آمدِ ثانی میں وہ نبی اللّٰہ ہوں گے یا صرف اُمتی ہوں گے؟
۲:۔۔۔ اگر محض اُمتی ہوں گے نہ کہ نبی اللّٰہ، تو ان سے نبوّت کیوں چھینی جائے گی؟ ان کا کیا قصور ہے؟
۳:۔۔۔ اگر نازل ہوں گے اور اس وقت بھی نبی اللّٰہ ہوں گے تو کیا ان کا نبی ہونا آیتِ قرآنی ’’خاتم النّبیین‘‘ اور حدیثِ نبوی: ’’انا خاتم النّبیین لَا نبی بعدی‘‘ کے خلاف نہ ہوگا؟
۴:۔۔۔ صحیح مسلم شریف (ج:۲ ص:۴۰۰،۴۰۱) اور مشکوٰۃ شریف (باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال، فصل اوّل) میں ہے: ’’إذ اوحی ﷲ إلٰی عیسٰی‘‘ کیا حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد وحی ونبوّت ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحیٔ اِلٰہی کا ہونا آیت خاتم النّبیین، وحدیث: ’’لا نبی بعدی‘‘ کے خلاف نہیں ہے؟
۵:۔۔۔ سورۂ آل عمران پارہ میں ہے: ’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ‘‘ معلوم ہوا کہ خدا نے ان کو توریت شریف اور اِنجیل شریف سکھادی ہے، نازل ہونے کے بعد وہ اِنجیل شریف پر عمل کریں گے یا قرآن مجید کی شریعت پر عمل کریں گے؟
۶:۔۔۔ کیا خدا نے آسمان میں ان کو قرآن مجید سکھلادیا ہے، یا نازل ہونے کے بعد کسی مولوی صاحب سے فرقانِ حمید اور سنت وحدیث شریف سیکھیں گے؟
ان سوالوں کے جواب قرآن مجید کی آیتِ مبارکہ، احادیثِ نبویہ، اقوالِ صحابہؓ اور اَقوالِ تابعینؒ کی رُو سے فرمائیے۔
جواب:۔۔۔ اوّل وثانی وثالث ورابع کا حاصل ایک سوال ہے، اور خامس وسادس کا حاصل ایک سوال ہے، ُکل دو سوال ہیں۔ پہلے سوال میں نبوّتِ عیسوی پر اِشکال کیا گیا ہے، اور دُوسرے سوال میں آپ کے قرآن وحدیث پر عمل کرنے پر اِشکال کیا گیا ہے۔ اور اِشکال دعویٰ ہے، اس کے جواب میں منع کافی ہے، دلیل کی حاجت نہیں، پس سائل مدعی ہے، اور مدعی مطالب بالدلیل ہوتا ہے، اور مجیب مانع ہے، اور مانع مطالب بالدلیل نہیں ہوتا، پس سوال کے اَخیر میں جو قرآن وحدیث واقوالِ صحابہؓ وتابعینؒ سے دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، محض بے اُصول ہے (جس شخص کے ذہن میں یہ کلیہ نہ آیا ہو، ماہرانِ فنِ مناظرہ سے سمجھ لے)۔ اب جواب عرض کرتا ہوں۔
اِشکال اوّل کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقتِ نزول نبی ہوں گے، اور آپ کی وحی بھی وحیٔ نبوّت ہوگی، مگر شریعتِ محمدیہ کے متبع ہوں گے، اور وہ وحی بھی خلاف شریعتِ محمدیہ نہ ہوگی۔ اور آپ کی نبوّت ختمِ نبوّت کے منافی اس لئے نہیں کہ ختمِ نبوّت سدِباب عطائے نبوّتِ لاحقہ ہے، نہ کہ سدِباب بقائے نبوّتِ سابقہ مع اتباع خاتم نبوّت۔
اور اِشکالِ ثانی کا جواب یہ ہے کہ چونکہ آپ شریعتِ محمدیہ کے تابع ہوں گے، اس لئے آپ کا عمل قرآن وحدیث پر ہوگا،
237
اور اس کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے آسمان پر پڑھا ہو یا نزول کے بعد کسی اُستاد سے پڑھیں، موہوب طور پر آپ کو قرآن وحدیث کا علم عطا ہوگا، جیسا بعض اولیائے اُمت کو بھی اس طریق پر علم دِیا گیا ہے۔
اس تقریر سے سب سوالوں کا جواب ہوگیا۔
اشرف علی
۲؍رمضان المبارک ۱۳۵۶ھ
(’’النور‘‘ ص:۱۰، رمضان المبارک ۱۳۵۷ھ، اِمدادُالفتاویٰ ج:۴ ص:۶۳۸-۶۴۰)
حیاتِ عیسیٰ واِدریس علیہما السلام
سوال:۔۔۔ مندرجہ ذیل مسائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہوں:
۱:۔۔۔ مریم:۵۷ میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اِدریس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:’’وَرَفَعْنَاہُ مَکَاناً عَلِیّاً‘‘
۲:۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں النساء:۱۵۸ میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘
۳:۔۔۔ عرض یہ ہے کہ کیا حضرت اِدریس علیہ السلام بھی حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی طرح زندہ اپنے جسدِ عنصری مبارک کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں؟
۴:۔۔۔ الفاظ ’’وَرَفَعْنَاہُ مَکَاناً عَلِیّاً‘‘ کے معنی بعض لوگ (یعنی مرزائی فرقے کے لوگ) یہ کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے درجات بلند کئے، وہ زِندہ آسمانوں پر نہیں اُٹھائے گئے۔ کیا یہ معنی صحیح ہیں؟
۵:۔۔۔ بعض لوگ الفاظ ’’وَرَفَعْنَاہُ مَکَاناً عَلِیّاً‘‘ کے یہ معنی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، کیا یہ معنی صحیح ہیں؟
۶:۔۔۔ اگر حضرت اِدریس علیہ السلام اپنے جسدِ مبارک کے ساتھ زِندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں تو آیا حضرت عیسیٰ بن مریم کی طرح وہ بھی کبھی نازل ہوں گے؟ اور نزول کے بعد وفات پائیں گے؟
۷:۔۔۔ کسی صحیح حدیثِ نبوی میں، یا کسی صحابی یا تابعی کے قول میں حضرت اِدریس علیہ السلام کے نازل ہونے اور پھر وفات پانے کی خبر آئی ہے یا نہیں؟
۸:۔۔۔ آیا قرآن شریف میں صحیح حدیثوں میں لفظ رفعِ جسمانی اور درجات کے بلند ہونے کے سوا کسی اور معنی (مثلاً اپنی طبعی موت سے مرنا) میں بھی اِستعمال ہوا ہے؟
۹:۔۔۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت اِدریس علیہ السلام سے مراد حضرت اِلیاس علیہ السلام ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
۱۰:۔۔۔ شیخ اکبر بن عربیؒ نے فتوحاتِ مکیہ جلد سوم صفحہ:۲۴۱، باب ۳۰ میں شبِ اِسراء کا ذِکرِ خیر کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا دُوسرے آسمان میں اور حضرت اِدریس علیہ السلام کا چوتھے آسمان میں زِندہ موجود ہونا، تحریر فرمایا ہے، کیا اہلِ سنت
238
مفسرین نے حضرت اِدریس علیہ السلام کے بارے میں ایسا ہی لکھا ہے؟
جواب:۔۔۔ بعض سوالات کا تو اَصل مبحث سے کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوا، ان کے جواب کی حاجت نہیں، اور باقی سوالوں کا منشا ایک مقدمہ ہے، جس کی کوئی دلیل نہیں، اِسی کے ظہورِ فساد سے سب کا جواب ہوجائے گا۔ اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بھی لفظِ ’’رفع‘‘ آیا ہے، اور حضرت اِدریس علیہ السلام کے قصے میں بھی، سو دونوں مقام پر ایک ہی معنی ہونا ضروری ہے۔ پس اگر رَفعِ عیسوی کو حِسّی کہا جائے تو رَفعِ اِدریسی کو بھی، اور اگر رَفعِ اِدریسی کو رُتبی کہا جائے تو رَفعِ عیسوی کو بھی۔ اسی مقدمے پر سب سوالات مبنی ہیں۔ سو یہ مقدمہ ہی خود فاسد ہے، کیونکہ لفظِ ’’رفع‘‘ مثل دُوسرے بے شمار الفاظ کے اپنے اِشتراکِ معنوی کے سبب سب اقسامِ رَفع کو عام ہے، اب جس مقام پر جس قسم کی ترجیح کو کوئی دلیل مقتضی ہوگی، مراد میں اسی کی تعیین ہوجائے گی، اور جس جگہ ترجیح کی کوئی دلیل نہ ہوگی، دونوں کو محتمل کہا جائے گا، چنانچہ رفع السماء میں مشاہدہ مرجح ہے اور رَفع حِسّی کو، اور ’’وَرَفَعنَا بَعْضَہُمْ فَوقَ بَعضٍ دَرَجَاتٍ‘‘ لفظِ ’’درجات‘‘ مرجح ہے اِرادہ رَفعِ رُتبی کو، وعلیٰ ھٰذا تمام مواردِ اِستعمال میں تعیین مراد کی حسبِ ذیل ہوگی۔ پس رَفعِ عیسوی میں دلائل مرجح ہیں رَفعِ حِسّی کو، پس وہاں رَفعِ حسِّی مراد ہوگا، اور وہ دلائل کتب تفسیر وحدیث وکلام میں مشبعًا مذکور ہیں، اور سب میں اقویٰ واَسلم اِجماع ہے اس رَفعِ حِسّی پر، خواہ یہ رَفع بعد وفات بساعۃ قلیلہ ہو، خواہ بدوں وفات۔ پس یہ اِختلاف اصل مقصود کو مضر نہیں۔ اور جن سلف سے وفات کا دعویٰ منقول ہے، اس کا محمل یہی ہے، رَفعِ حِسّی کا اِنکار وہ بھی نہیں کرتے، پس اس رَفع پر اِجماع ہوگیا، اس لئے آیت میں یہی مراد ہوگا۔ اور اس کی نفی میں علاوہ اِنکار دلائلِ نقلیہ کے ایک بڑا شنیع محذورِ عقلی لازم آتا ہے، وہ یہ کہ آلِ عمران:۵۴ ’’وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللہُ‘‘ جس کی تفصیل اسی کے متصل آیت: ’’إِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسَی‘‘ (آل عمران:۵۵) میں مذکور ہے، مثل نص کے ہے اِبطالِ مکرِ یہود میں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِہلاک کی تدبیر کر رکھی تھی، پس اگر رَفع وتوفی کو موتِ عرفی مقرون بالدفن پر محمول کیا جائے تو اس سے مکرِ یہود کا اِبطال کیا ہوا؟ بلکہ ان کی تدبیر کی تو تائید وتقویت وتقریر ہوگئی کہ انہوں نے ہلاک کرنا چاہا تھا، اللّٰہ تعالیٰ ہی نے ہلاک کردیا، تو اس میں اعداء کا خذلان کیا ہوا؟ ان کی مسرّت ومقصود کی تکمیل ہوگئی اور اس کا شناعتِ عظمیٰ وقباحتِ کبریٰ ہونا ظاہر ہے۔ اور آیت: ’’وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللہُ‘‘ معنی سے خالی ہوئی جاتی ہے، مؤمن تو مؤمن، کوئی عاقل بھی اس کو جائز نہیں رکھ سکتا، اس لئے یہاں رَفعِ حِسّی متیقن ہوگا اور ’’فِیْ بُیُوتٍ أَذِنَ اللہُ أَن تُرْفَعَ‘‘ (النور:۳۶) میں دلیل مرجح ہے، رَفعِ رُتبی کو اور وہ دلیل امر ہے تعظیمِ مساجد کا اور عدمِ وجوب ہے رَفعِ حِسّی کا۔ اور رَفعِ اِدریسی میں کسی قسم کی ترجیح یقینی کی کوئی دلیل نہیں، اس لئے وہ محتمل ہوگا دونوں کا، چنانچہ سلف کے اقوال دونوں طرف ہیں، اس تقریر سے سب سوالات متعلقہ مقام کا جواب ہوگیا، جو ادنیٰ تأمل سے سب پر منطبق ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کی تطبیق میں خفا ہو، مکرّر پوچھ لیا جائے۔
واللّٰہ اعلم!
کتبہ‘ اشرف علی
یکم رجب ۱۳۵۶ھ
(’’النور‘‘ جمادی الثانیہ ۱۳۵۷ھ، اِمدادُالفتاویٰ ج:۴ ص:۶۴۲،۶۴۳)
239
بابِ دہم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ جسمانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ جسمانی اور قرآن
سوال:۔۔۔ زید، یہ اِعتقاد رکھے اور بیان کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زِندہ آسمان پر اُٹھائے جانے یا وفات دئیے جانے کے بارے میں قرآن پاک خاموش ہے، جیسا کہ زید کی یہ عبارت ہے: ’’قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللّٰہ ان کو جسم ورُوح کے ساتھ کرۂ زمین سے اُٹھاکر آسمان پر کہیں لے گیا، اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف اُن کی رُوح اُٹھائی گئی، اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے اور نہ اِثبات۔‘‘ تو زید جو یہ بیان کرتا ہے، آیا اس بیان کی بنا پر مسلمان کہلائے گا یا کافر؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ جو عبارت سوال میں نقل کی گئی ہے، یہ مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کی ہے،(۱) بعد کے ایڈیشنوں میں اس کی اِصلاح کردی گئی ہے، اس لئے اس پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا، البتہ گمراہ کن غلطی قرار دیا جاسکتا ہے۔
قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رَفعِ جسمانی کی تصریح ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ اور ’’اِنِّی مُتَوَفِّیكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ میں موجود ہے۔ چنانچہ تمام اَئمہ تفسیر اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رَفعِ جسمانی کو ذِکر فرمایا ہے، اور رَفعِ جسمانی پر اَحادیثِ متواترہ موجود ہیں ۔(۲) قرآنِ کریم کی آیات کو اَحادیثِ متواترہ اور اُمت کے اِجماعی عقیدے کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ آیات رَفعِ جسمانی میں قطعی دلالت کرتی ہیں، اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رَفعِ جسمانی کی تصریح نہیں کرتا۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۶،۲۴۷)
سوال:۔۔۔ ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ میں زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا کیوں مراد لیا جائے؟
جواب:۔۔۔ ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ میں ’’زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا‘‘ مراد ہے، کیونکہ ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِینًا‘‘ میں ’’رفع إلی ﷲ‘‘ قتل کے مقابلے میں واقع ہوا ہے، جہاں رفع، قتل کے مقابلے میں ہو، وہاں ’’زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا‘‘ ہی مراد ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معنی قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور بزرگانِ دِین کے اِرشاد میں کہیں آیا ہو تو اس کا حوالہ دیجئے، قیامت تک ساری مرزائی اُمت
(۱) دیکھئے: ’’تفہیم القرآن‘‘ ج:۱ ص:۴۲۰ اٹھارواں ایڈیشن، مارچ ۱۹۸۱ء۔
(۲) والأحادیث الواردۃ فی نزول عیسٰی بن مریم متواترۃ۔ (الاذاعۃ للشوکانی ص:۱۵۸،۱۵۹)۔
240
مل کر بھی ایک آیت پیش نہیں کرسکتی۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۶)
رفعِ عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن سے ثبوت
سوال:۔۔۔ زید ’’إِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسَی اِنِّی مُتَوَفِّیكَ‘‘ الآیۃ کی تفسیر کا بیان ان الفاظ سے کرتا ہے کہ: ’’جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے، حیاتِ مسیح اور رَفع الی السماء قطعی طور پر ثابت نہیں، قرآن مجید کی مختلف آیات سے یقین نہیں، البتہ ظن کے درجے میں یہ اَمر ثابت ہے، کیونکہ صریح نص قطعی اس امر میں واقع نہیں ہے۔
عمرو کے بار بار توجہ دِلانے کے باوجود زید اپنے خیال پر جما رہتا ہے، آخر میں تنگ آکر کہتا ہے کہ: ’’عقیدہ تو میرا بھی وہی ہے، لیکن قرآن مجید سے یہ چیز قطعی الثبوت نہیں بلکہ ظنی ہے، اس کی صراحت احادیث میں موجود ہے۔‘‘ عمرو کے ساتھ دُوسرے لوگ بھی شریک ہوکر زید کو اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دِلاتے ہیں، لیکن زید اپنے خیال پر بضد قائم ہے۔ مسئلے کی صورتِ مسئولہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے زید کے متعلق شریعتِ بیضا کیا فیصلہ صادر فرماتی ہے؟
جواب:۔۔۔ رفع الی السماء قرآن سے قطعاً ثابت ہے: ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵)، ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸) ثبوتِ قطعی ہے، اور ہر دو آیت کی دلالت ’’رفع الی السماء‘‘ پر اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔ اُمتِ محمدیہ کا اِجماع باطل اَمر پر نہیں ہوسکتا، جو شخص یہ کہتا ہے کہ ’’رفع الی السماء‘‘ قرآن سے ثابت نہیں، وہ سخت غلطی پر ہے، اس کو قرآن وحدیث کے علم سے ذرا بھی مَس نہیں ہے، اور نہ اسے اِجماع کا علم ہے، لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرا عقیدہ بھی تمام مسلمانوں کے ساتھ متفق ہے، یعنی حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور رَفع الی السماء کا قائل ہے، گو اَحادیث کی بنا پر ہی سہی، تو اس کو کافر نہ کہا جائے گا۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات ملحوظ ہوں:
۱:۔۔۔ حافظ ابنِ کثیرؒ نے سورۂ نساء کی تفسیر میں اِجماعِ اُمت نقل کیا ہے کہ احادیثِ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام متواتر ہیں۔ (۱)
۲:۔۔۔ اِمام ترمذیؒ نے عیسیٰ علیہ السلام کا دجال کو قتل کرنے کے سلسلے میں پندرہ صحابہؓ کی روایات کا حوالہ دیا ہے۔
۳:۔۔۔ حافظ ابنِ حجرؒ نے ’’فتح الباری‘‘ میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا تواتر نقل کیا ہے، ابی الحسین آسیری سے۔(۲)
۴:۔۔۔تلخیص الحبیر، کتاب الطَّلاق میں لکھا ہے:
’’اما رفع عیسٰی علیہ السلام فاتفق اصحاب الأخبار والتفسیر علٰی انہ رفع ببدنہ حیًّا۔‘‘
(تلخیص الحبیر ج:۳ ص:۲۱۴، لإبن حجر، طبعہ مکتبہ الأثریہ)
۵:۔۔۔ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام اور رَفع الی السماء بالجسد لازم وملزوم ہیں۔
(۱)وانہ ینزل قبل یوم القیامۃ کما دلت علیہ الأحادیث المتواترۃ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۴۱۳، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۲) نوٹ: ’’فتح الباری‘‘ میں نام ابوالحسن الخسعی الابدی ہے۔ اور عبارت یہ ہے: ’’تواترت الأخبار بأن المھدی من ھٰذہ الاُمّۃ وأن عیسٰی یصلی خلفہ۔‘‘ (فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳، باب نزول عیسٰی علیہ السلام، طبع دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور پاکستان)۔
241
یہ اِشارات ہیں جو ہم نے ذِکر کئے ہیں، زیادہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘۔
فقط والسلام!
|
الجواب صواب |
بندہ محمد عبداللّٰہ غفر لہٗ |
|
خیر محمد |
خادم دارالافتاء خیر المدارس، ملتان |
|
مہتمم خیر المدارس ملتان |
|
|
۱۵؍۵؍۱۳۷۱ھ |
|
(خیر الفتاویٰ ج:۱ ص:۱۵۱، ۱۵۲)
مفتیٔ اعظم مصر اُستاذ العلماء شیخ حسنین محمد مخلوف کا علمی وتحقیقی فتویٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ آسمانی اور کفریاتِ مرزا غلام احمد قادیانی
ہفت روزہ ’’دعوت‘‘ کے باب الاستفسارات میں کافی عرصے سے ایسے سوالات موصول ہو رہے تھے کہ سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رَفعِ جسمانی اور حیاتِ آسمانی کے متعلق علمائے مصر کا عقیدہ کیا ہے؟ کیا وہ واقعی اسلام کے اس اِجماعی عقیدے کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہورِ ثانی علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت ہے، اور یہ کہ وہ آسمان پر بجسدِ عنصری زِندہ اور موجود ہیں، یا علمائے مصر اس باب میں باقی جمیع علمائے عرب اور پاک وہند کے خلاف ہیں؟ ان سوالات کا اصل محرک مصر کے ایک آزاد خیال پروفیسر شلتوت کا ایک مضمون تھا، جو آج سے پچّیس تیس سال پہلے شائع ہوا تھا اور جسے قادیانی حضرات اپنی ہم نوائی میں ہر سال شائع کرتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کا اس اِشاعت سے مقصد عوام کو یہ اثر دینا ہے کہ ان ابواب میں اکابر علمائے مصر ان کے ساتھ ہیں۔ اس مغالطے اور تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لئے حکومتِ مصر کے سابق مفتیٔ اعظم اُستاذالعلماء حضرت شیخ حسنین محمد مخلوف کا ایک فتویٰ ان کی بلند پایہ کتاب صفوۃ البیان لمعان القرآن طبع ۱۳۷۰ھ سے نقل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام اِستفسارات کا مشترک جواب ہے۔ جو اس سلسلے میں دفتر ’’دعوت‘‘ میں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ رہا پروفیسر شلتوت کا معاملہ تو آزاد خیال اور خودپسند ادیب کہاں نہیں ملتے؟ اگر مصر کے ایک غیرذمہ دار اور غیرمعتمد علیہ پروفیسر نے سلف کی شاہراہ سے ہٹ کر کتاب وسنت میں اِلحاد کی راہ اِختیار کی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جمہور علمائے مصر اور اَربابِ فتویٰ بھی ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ اسلام کے اِجماعی فیصلوں سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں مسٹر پرویز اِسلامی عنوانات کو ہی اپنا موضوعِ سخن بنا رہے ہیں اور ان کے قلم کی جولانگاہ یہ اسلامی موضوعات ہی ہیں۔ تاہم انہیں یہاں پاکستان کے اُونچے درجے کے علماء اور محققین کا اِعتماد حاصل نہیں اور علمی ابواب میں ان لوگوں کی رائے نہ صرف غلط ہے، بلکہ کفر کی سرحدوں سے ملتی ہے، اس طرح مصر کے آزاد خیال پروفیسر شلتوت بھی وہاں کے علمی، دِینی اور تحقیقی حلقوں میں کسی اِعتماد کے لائق نہیں رہے ہیں، انہوں نے جب وہ تحریر لکھی تھی جسے کہ یہ قادیانی حضرات آئے دن اس طرح شائع کرتے رہتے ہیں، گویا کہ یہ فتویٰ آج چھپ کر آیا ہے، تو وہاں کے اکابر علماء نے اسی وقت اس کی تردید
242
فرمادی تھی اور مختلف رسائل وجرائد نے اس پر پُرزور رَدِّعمل فرمایا تھا۔ بہرحال مصر کے معتمد عالم اور حکومتِ مصر کے سابق مفتیٔ اعظم کا یہ تحقیقی فیصلہ قارئین ’’دعوت‘‘ کے پیشِ خدمت ہے۔ ترجمہ مولانا منظور احمد صاحب (چنیوٹ) نے کیا ہے۔
(اِدارہ)
’’واعلم ان عیسٰی علیہ السلام لم یقتل ولم یصلب کما قال تعالٰی: ومَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلٰكِن شُبِّہَ لَہُم وقال: ومَا قَتَلُوہُ یَقِینًا۔ فاعتقاد النصاریٰ القتل وصلبہ کفر لا ریب فیہ وقد اخبر ﷲ تعالٰی انہ رفع إلیہ عیسٰی کما قال: وَرَافِعُكَ اِلَیَّ، وقال: بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ فیجب الإیمان بہ والجمھور علٰی انہ رفع حیا من غیر موت بجسدہ وروحہ إلی السماء والخصوصیۃ لہ علیہ السلام ھی فی رفعہ بجسدہ وبقاء وفیھا إلی الأمد المقدر لہ۔
واما التوفی المذکور فی ھٰذہ الآیۃ وفی قولہ تعالٰی: فَلَمَّا تَوَفَّیتَنِی فالمراد منہ ما ذکرنا علی الروایۃ الصحیحۃ عن ابن عباس والصحیح من الأقوال کما قالہ القرطبی وھو إختیار الأنباری وغیرہ۔
وَاِن مِّن اَہلِ الكِتٰبِ اِلَّا لَیُوٴمِنَنَّ بِہٖ قَبلَ مَوتِہٖ ای ما احد من اھل الکتاب الموجودین عند نزول عیسٰی علیہ السلام آخر الزمان إلَّا لیؤْمننَّ بأنہ عبدﷲ ورسولہ وکلمتہ قبل ان یموت عیسٰی علیہ السلام فتکون الأدیان کلھا دینًا واحدًا وھو دین الإسلام الحنیف دین إبراھیم علیہ السلام، ونزول عیسٰی علیہ السلام ثابتٌ فی الصحیحین وھو من اشراط الساعۃ۔‘‘
(صفوۃ البیان لمعان القرآن ص:۱۰۹،۱۱۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جاننا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ تو قتل ہوئے ہیں اور نہ ہی سولی دئیے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد تعالیٰ ہے: ’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلٰكِن شُبِّہَ لَہُم‘‘ ، اور اِرشاد ہے: ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِینًا‘‘ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل بھی نہیں کیا اور سولی بھی نہیں دیا، لیکن ان کے لئے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل بنادیا گیا اور یہ امر یقینی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ لہٰذا عیسائیوں کا قتل اور صلیب کا عقیدہ رکھنا بلاشبہ کفر ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں خبر دِی ہے کہ عیسیٰ کو اس نے اپنی طرف اُٹھالیا ہے، جیسا کہ اِرشاد فرمایا: ’’وَرَافِعُكَ اِلَیَّ‘‘ میں تجھے اپنی طرف اُٹھالوں گا۔ اور فرمایا: ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے، لہٰذا اس پر (جسمانی رفع پر) اِیمان لانا واجب ہے اور جمہور علمائے اسلام کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو موت یا نیند طاری کئے بغیر زِندہ آسمان پر اُٹھالیا گیا ہے اور جسم سمیت آسمان پر اُٹھایا جانا اور وہاں ایک مدّتِ مقرّرہ تک مقیم رہنا آپ ہی کی خصوصیت ہے۔
243
اور لفظِ ’’توفی‘‘ جو اس آیت اور آیت: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں مذکور ہے، اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ابنِ عباسؓ کی صحیح روایت کی بنا پر تحریر کردیا ہے، اور مفسرین کے اقوال میں سے صحیح قول وہی ہے جو ہم نے ذِکر کیا ہے، جیسا کہ اِمام قرطبیؒ کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے بھی تصریح کی ہے۔
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ کی تفسیر میں مفتیٔ اعظم فرماتے ہیں: آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت جو اہلِ کتاب بھی موجود ہوں گے، وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اس بات پر اِیمان لائیں گے کہ وہ اللّٰہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کے کلمہ ہیں۔ اور تمام مذاہب کی جگہ ایک ہی مذہب رہ جائے گا، اور وہ اِبراہیمی دِینِ اسلام ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کا (آسمان سے) نازل ہونا صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ثابت ہے اور یہ نزولِ سماوی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔‘‘
’’والمراد علی القرائتین انہ صلی ﷲ علیہ وسلم آخر انبیاء ﷲ ورسلہٖ فلا نبی ولا رسول بعدہ إلٰی قیام الساعۃ، فمن زعم النبوۃ بعدہ فھو کذَّابٌ، اَفَّاکٌ وکافرٌ بکتاب ﷲ وسُنَّۃ رسولہ، ولذا افتینا بکفر طائفۃ القادیانیۃ اَتباع المفتون غلام احمد القادیانی الزاعم ھو واَتباعہ انہ نبیٌّ یوحی إلیہ وانہ لا یجوز مناکحتھم ولا دفنھم فی مقابر المسلمین۔‘‘ (صفوۃ البیان لمعان القرآن ص:۱۸۱، لفضیلۃ الاُستاذ الشیخ الحسنین مخلوف، مفتی الدیار المصریۃ السابق وعضو جماعۃ کبار العلماء، طبع اُولٰی ۱۳۷۰ھـ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’زیرِ آیت خاتم النّبیین تحریر فرماتے ہیں اور لفظ خاتم کی مراد زیر وزبر والی دونوں قراء توں کی بنا پر یہ ہے کہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیوں اور رسولوں کے آخر میں آنے والے ہیں، آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور کوئی رسول نہیں بنایا جائے گا۔ لہٰذا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ پرلے درجے کا جھوٹا، بہت بڑا بہتان باندھنے والا، اور اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا منکر ہے۔ اسی لئے ہم علمائے حق نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی او راس کی تمام جماعت کا یہ دعویٰ کہ وہ نبی ہے اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے، کفر ہے۔ ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ ان کے ساتھ رشتہ کیا جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کیا جائے۔‘‘
(عبقات ص:۱۰۵ تا ۱۰۸)
244
حیات ورفع الی السماء پر اِشکال کا جواب
سوال:۔۔۔ اگر مسیح زندہ آسمان پر بلا اِیذا یہود چلا گیا تو وہ مسیح کا ہم شکل جو مصلوب ہوا تھا، اس کی نعش کدھر گئی؟ اگر وہ مصلوب کوئی اور تھا تو حواریوں کو اس کے چرانے کی کیا ضرورت تھی؟
جواب:۔۔۔ بحکم آنکہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد! پہلا اِلزام جو پیر صاحب پر لگایا تھا، یعنی اتباع قول عیسائیاں جلدی خیال سے جاتا رہا۔ اب فرمائیے یہ قول کس کا ہے اور صریح قول اللّٰہ تعالیٰ کے مخالف ہے یا نہیں؟ دیکھو: ’’وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَنکَ إِذْ جِئْتَہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ‘‘ (المائدۃ:۱۱۰) یعنی اے مسیح! من جملہ ہماری نعمتوں کے ایک نعمت یہ بھی ہے تم پر کہ ہم نے بنی اِسرائیل کو جب انہوں نے تیرے ایذا اور قتل کا اِرادہ کیا، روک دیا، اور تم کو ان کی ایذا سے بچالیا۔ مسیح کا قبل الرفع ۳۳سال کا ہونا، یا ۱۲۰، یا ۱۵۰ کہیں قرآن میںمذکور نہیں، ہم کو حواریوں سے کیا مطلب؟ آپ ہی چونکہ ان کے تابع ہیں، ان سے دریافت فرمالیں! خیر تبرّعاً ہم ہی سمجھا دیتے ہیں۔۔۔! جب حواریوں کو اِبتدا میں صلیب پر چڑھانے کے وقت دھوکا لگا تو اپنے اسی زعم کے مطابق نعش مصلوب کو بھی قبر سے چرایا۔
(فتاویٰ مہریہ ص:۴۲)
رفع الی السماء کے وقت عمرِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِشکال کا جواب
سوال:۔۔۔ پیر صاحب! عیسائیوں کے اس قول کی تائید کرتے ہیں کہ مسیح ۳۳سال کی عمر میں آسمان پر چلے گئے ہیں، مگر اپنے نانا صاحب سیّد الاوّلین والآخرین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس قول کو کیوں نہیں مانتے جو مستدرک اور طبرانی میں موجود ہے: ’’واخبرنی ان عیسَی ابن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘۔
جواب:۔۔۔ ناظرین، علمائے کرام اس میں نہایت ہی متعجب ہیں کہ اس سوال کو اہلِ اسلام کے عقیدۂ اِجمالیہ کے مدعی کی نسبت سے کیا خیال کیا جائے؟ آیا مناقضہ ہے، یا معارضہ یا منع؟ رفع خواہ ۳۳سال کے بعد ہوا ہو یا ۱۲۰سال یا۱۵۰ سال کے علیٰ حسب اختلاف الروایات حیاتِ مسیح الی الآن کو منافی نہیں، قطع نظر اس جہالت سے اِمامِ جلیل حافظ عمادالدین ابنِ کثیرؒ نے ۳۳سال مطابق حدیث صحیح کے لکھا ہے، اور خازن اور ابنِ سعد اور احمد اور حاکم نے اس کو صحابہ عظامؓ کی طرف منسوب کیا ہے۔
’’فإنہ رفع ولہ ثلاث وثلاثون سنۃ فی الصحیح وقد ورد ذالک فی حدیث فی صفۃ اھل الجنَّۃ انھم علٰی صورۃ آدم ومیلاد عیسٰی ثلاث وثلاثین سنۃ وامَّا ما حکاہ ابن عساکر عن بعضھم انہ رفع ولہ مائۃ وخمسون سنۃ فشاذ غریب بعید۔‘‘
(ابن کثیر ص:۲۴۵)
’’قال ابن عباس: ارسل ﷲ عیسٰی علیہ السلام وھو ابن ثلاثین سنۃ فمکث فی رسالتہ ثلاثین شھرًا ثم رفعہ ﷲ إلیہ۔‘‘
(تفسیر خازن ص:۵۰۴)
’’واخرج ابن سعد واحمد فی الزھد والحاکم من سعید بن المسیب قال: رفع عیسٰی ابن ثلاث وثلاثین سنۃ۔‘‘
(فتاویٰ مہریہ ص:۴۱،۴۲)
245
رفع ونزولِ مسیح علیہ السلام
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین شرعِ متین مسائلِ ذیل میں جو نمبروار درج کئے جاتے ہیں:
۱:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسمِ عنصری سے آسمان پر اُٹھائے گئے یا صرف رُوح؟
۲:۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام اب تک زندہ ہیں یا نہیں؟ اگر زِندہ ہیں تو کیا کھاتے ہیں؟ کیونکہ انسانی زندگی کا مدار اس پر ہے۔
۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے کب ہوگا؟ اور کس شریعت پر ان کا عمل ہوگا؟ اور اپنے آپ کو نبی کہلائیں گے یا اُمتی؟
۴:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس ذریعے سے آسمان پر گئے؟ ہوا، یا بجلی، یا کسی تخت پر سوار ہوکر چلے گئے؟
۵:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں دفن ہوں گے؟ اور کتنی مدّت دُنیا میں رہیں گے؟
۶:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزولِ آسمانی سے اِنکار کرنا کفر ہے یا نہیں؟
۷:۔۔۔ نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟ اور خلیفہ کے کیا معنی ہیں اور اس کی تعریف کیا ہے؟
۸:۔۔۔ مجدّد کے کیا معنی ہیں اور کس کو کہتے ہیں؟ اور مرزا غلام احمد قادیانی نے جو دعویٰ کیا کہ میں نبی اور رسول اور مجدّدِزمان اور کرشن جی ہوں، اب اس کو کیا مانا جائے؟ مسلمان یا اس کے برعکس یا اس کے دعوے کے موافق؟
۹:۔۔۔ مرزاقادیانی کو کوئی شخص نبی یا رسول یا مجدّد وکرشن جی مانے یا صرف اس کے افعال کو اچھا سمجھے تو ایسے شخص کا مذبوحہ یا ایسے شخص کے ساتھ کھانا پینا، ناطہ لینا دینا، از مذہبِ اہلِ سنت والجماعت جائز ہے یا نہیں؟ قرآن مجید واحادیث سے بلاتأخیر تحریر فرمائیں۔
جواب۱:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ جسمانی ہوا ہے نہ کہ صرف رُوحانی، کیونکہ قرآن شریف میں رُوح کا ذِکر نہیں، صرف قتل وصلیب کی تردید کی گئی ہے کہ:’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو نہ انہوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ اس نصِ قرآنی سے رَفعِ جسمانی ثابت ہے، کیونکہ قتل اور صلیب کا فعل جسم پر وارِد ہوتا ہے نہ کہ رُوح پر۔ پس جس چیز کو قتل اور صلیب سے بچایا، اس کو اُٹھایا، اور رُوح کو نہ کوئی قتل کرسکتا ہے اور نہ صلیب پر چڑھاسکتا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ جسم کا رَفع ہوا، کیونکہ قتل اور صلیب سے جسم ہی بچایا گیا۔
جسم ورُوح مرکبی کی حالت کا نام عیسیٰ تھا۔ ’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ‘‘ (النساء:۱۵۷) میں جو ضمیریں ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ رُوح وجسم کی مرکبی حالت کا نام ہے، ان کی طرف راجع ہیں۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کو مرکبی حالت میں بچایا گیا اور اس حالت میں اُٹھایا گیا جس سے ثابت ہوا کہ رَفع جسمانی ہوا، کیونکہ صرف رُوح نہ کھاتا ہے اور نہ ہاتھ اُٹھاکر دُعا کرسکتا ہے، پس جسم مع رُوح کا رَفع بحالت زندگی ہوا۔ چنانچہ شیخ شہاب الدین المعروف ابنِ حجر ’’تلخیص الحبیر‘‘ (مطبوعہ مکہ مکرمہ، مطبع عباس احمد البائر) ج:۳ ص:۴۶۲ پر لکھتے ہیں:
246
’’واما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الأخبار والتفسیر علٰی انہ رفع ببدنہ۔‘‘
’’یعنی اس پر اِتفاق ہے حدیثوں اور تفسیروں کا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی بدن کے ساتھ بحالتِ زندگی اُٹھائے گئے۔‘‘
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں جیسا کہ اِجماع سے ثابت ہے جیسا اُٹھایا گیا۔ ان کے کھانے پینے اور بول وبراز کا جواب یہ ہے کہ آسمانی کرہ ہر ایک زمین سے کئی حصے زیادہ ہے اور جدید علوم حکمت سے ثابت ہے کہ ہر ایک دُنیاوی اشیاء آسمانی تأثیرات سے معرضِ ظہور میں آتی ہیں، اور اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’وَفِی السَّمَآءِ رِزقُكُم‘‘ یعنی تمہارا رِزق یعنی روزی آسمان میں ہے۔
دوم:۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام کا ہبوط آسمان سے نصوصِ قرآنی سے ثابت ہے، پس جو کھانا پینا وغیرہ حضرت آدم وحوّا علیہما السلام کو ملتا تھا، وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملتا ہے، یہ کیونکر ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کھانا نہیں ملتا اور بھوکے رہتے ہیں؟ کوئی آسمان پر گیا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکایت سن کر آیا ہے تو بتائے۔۔۔! یہ صرف علومِ حکمت وفلسفہ سے ناواقفیت کا باعث ہے کہ ایسے ایسے اِعتراض کئے جاتے ہیں۔ جب آسمان پر ہیولے یعنی مادّہ اور عناصر موجود ہیں تو آسمانی مخلوق کو رِزق کا ملنا کیا قیاسِ فاسد ہے؟ جبکہ علومِ جدیدہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ مریخ، چاند وسورج وغیرہ اجرامِ فلکی میں نہریں اور جنگل ہیں اور آبادیاں ہیں، تو یہ اِعتراض بالکل غلط ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کھاتے کہاں سے ہوں گے؟
سوم:۔۔۔ جب نصِ قرآنی (البقرۃ:۵۷) سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے واسطے خوانچے بالکل تیار پکا پکایا آسمان سے نازل ہوتا تھا، تو پھر ایسے اِعتراض مضامینِ قرآنیہ سے ناواقفیت کا باعث ہے۔
۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (ترمذی شریف ج:۲ ص:۴۲ ابواب الفتن)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دابۃ الارض کا نکلنا، دجال کا خروج وغیرہ وغیرہ، پس جب قیامت آنے کو ہوگی، تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہوگا۔ معراج میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت اِبراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ کو دیکھا تو قیامت کے بارے میں گفتگو ہوئی، حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پہلے بات حضرت اِبراہیم علیہ السلام پر ڈالی گئی، انہوں نے فرمایا کہ: مجھ کو خبر نہیں کہ قیامت کب ہوگی؟ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بات ڈالی گئی تو انہوں نے بھی فرمایا کہ: مجھ کو خبر نہیں! پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ڈالی گئی، انہوں نے فرمایا کہ قیامت کی تو مجھ کو بھی خبر نہیں، مگر اللّٰہ تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں زمین پر جاکر دَجال کو قتل کروں گا (ابنِ ماجہ ص:۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسَی ابن مریم)۔(۱)
اس حدیث سے ثابت ہے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور دجال بھی نکلے گا۔ پس ثابت ہوا کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور اس کا علم اللّٰہ تعالیٰ کو ہے۔
(۱)عن عبدﷲ بن مسعود قال: لما کان لیلۃ اسری برسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم لقی اِبراھیم وموسٰی وعیسٰی فتذاکروا الساعۃ، فبدؤُا بإبراھیم، فسألوہ عنھا، فلم یکن عندہ منھا علم، ثم سألوا موسٰی، فلم یکن عندہ منھا علم، فرد الحدیث إلٰی عیسَی ابن مریم، فقال: قد عھد إلیَّ فیم دون وجبتھا فأما وجبتھا فلا یعلمھا إلَّا ﷲ فذکر خروج الدجال قال فأنزل فأقتلہ۔
247
۴:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ جسمانی بذریعہ بدلیوں کے ہوا، جیسا کہ اِنجیل اعمال باب آیت:۹ میں لکھا ہے کہ یہ کہ وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھایا گیا، اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپالیا، یہ بدلی کا لفظ ثابت کر رہا ہے کہ رَفع جسمانی، ورنہ رُوح اُٹھانے کے واسطے کبھی بدلی نہیں آتی، پس مسیح آسمان پر بدلی کے ذریعے سے اُٹھائے گئے ہیں۔
۵:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۴۵برس زمین پر رہ کر فوت ہوں گے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں:’’فیدفن معی فی قبری‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۸۰) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے مقبرے میں مدفون ہوں گے۔ چونکہ گنجائش ان مختصر جوابوں میں اس قدر نہیں کہ تمام حدیثیں لکھی جائیں، اگر کسی نے اِنکار کیا تو پھر پوری حدیثیں لکھی جائیں گی۔
۶:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اشراط الساعۃ میں سے ایک شرط ہے، یعنی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ (الزخرف:۶۱) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، یہ مسئلہ اُصول کا ہے کہ:’’إذا فات الشرط فات المشروط‘‘ یعنی جب شرط فوت ہو تو مشروط بھی فوت ہوجاتا ہے۔ جب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام شرط ہے قیامت کی، جب شرط یعنی نزولِ عیسیٰ سے اِنکار ہوا تو مشروط یعنی قیامت سے بھی اِنکار ہوا، اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت کا اِنکار کفر ہے، پس ثابت ہوا کہ نزولِ عیسیٰ کا منکر، منکرِ قیامت ہے اور قیامت کا منکر ہرگز مسلمان نہیں۔ نزول کے واسطے حیات شرط ہے، کیونکہ طبعی مردے کبھی واپس نہیں آتے، زندہ شخص دوبارہ واپس آسکتا ہے، جس سے ثابت ہے کہ حیاتِ مسیح کا منکر نزول کا اِصالۃً منکر ہے اور کافر ہے۔
۷:۔۔۔ نبی اور رسول میں فرق ہے کہ نبی صاحبِ کتاب وشریعت نہیں ہوتا، اور رسول صاحبِ شریعت ہوتا ہے۔ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ اپنی کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ فصل:۱۲ میں لکھتے ہیں:
’’نبی وہ ہے جو خلق کے پاس ہدایت کے لئے اور اس کمال کا راستہ بتلانے کے لئے بھیجا گیا ہو جو حضرت علیمیہ میں ان کے اعیانِ ثابتہ کی اِستعداد کے مقتضا پر ان کے لئے مقدّر ہے، اور وہ نبی کبھی صاحبِ شریعت ہوتا ہے جیسے رُسل علیہم السلام ہیں، اور کبھی صاحبِ شریعتِ جدید نہیں ہوتا، بلکہ پہلی شریعت میں اس کے حقائق کو ان کی اِستعداد کے موافق تعلیم کرتا ہے جیسے بنی اِسرائیل کے انبیاء ہیں۔‘‘
شیخ اکبرؒ کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ رسول صاحبِ شریعتِ جدید ہوتا ہے اور نبی صاحبِ شریعتِ جدید نہیں ہوتا۔ یعنی نبی صرف نبی ہوتا ہے، اور رسول نبی بھی ہوتا ہے اور رسول بھی۔
خلیفہ تو صاحبِ حکومت ہوتا ہے اور حدودِ شریعت کا نگہبان ہوتا ہے وہ رسول ونبی نہیں ہوتا۔ بعد خاتم النّبیین کے صرف خلفاء ہوں گے جو شریعت کی حفاظت کریں گے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اِسرائیل ادب سکھاتے جاتے تھے، نبیوں سے جب ایک نبی فوت ہوتا تو دُوسرا نبی مبعوث ہوتا، مگر چونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، یعنی غیرتشریعی نبی جو شریعتِ سابقہ کی پیروی کرے اور خود بھی نبی کہلائے نہ ہوگا، اس لئے میری اُمت کے امیر یا خلیفے یعنی بادشاہ حدودِ شریعت کی
248
نگہبانی کریں گے، اور چونکہ میں خاتم النّبیین ہوں اس واسطے نبی کوئی نہیں کہلائے گا۔ مشکوٰۃ شریف ص:۵۵۱ میں حدیث ہے مفصل دیکھنا ہو تو دیکھ لیں، اور خلیفوں کی صفات وغیرہ کا بھی ذِکر اس کتاب میں ہے، یہاں گنجائش نہیں کہ صفاتِ خلیفہ لکھی جائیں۔ مختصر یہ ہے کہ بزدل نہ ہو، بہادر ہو، تاکہ جنگ میں بھاگ نہ جائے اور اس قابل ہو کہ بیرونی دُشمن اسلام کا مقابلہ کرسکے اور جنگ سے ہرگز نہ گھبرائے اور حدودِ شریعت کی نگہبانی کرسکے اور حدود جاری کرے، تاکہ ملک میں امن قائم رہے۔
۸:۔۔۔ مجدّد کی تعریف رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمادی ہے کہ: ’’من یجدّد لھا دینھا‘‘ (۱) یعنی مجدّد ہر ایک صدی کے سر پر ہوا کرے گا، جو دِینِ اسلام کو تازہ کردیا کرے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز مجدّد نہ تھے، کیونکہ دِینِ محمدی کو ہرگز تازہ نہیں کیا اور نہ کسی مردہ سنتِ نبوی کو زِندہ کیا، بلکہ دِینِ عیسوی کو زِندہ کیا اور عیسائیوں کے مسئلہ ابن اللّٰہ کی تصدیق کی، دیکھو اِلہام مرزاقادیانی: ’’انت مِنِّی بمنزلۃ ولدی‘‘ یعنی اے مرزا! تو ہمارے ولد یعنی بیٹے کی جابجا ہے۔ (دیکھو صفحہ:۸۶ حقیقۃ الوحی، خزائن ج:۲۲ ص:۸۹)۔ دُوسری طرف مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مثل عیسیٰ ہوں اور عیسیٰ بقول عیسائیوں کے خدا کا بیٹا ہے تو مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا ہونا اپنے اِلہام سے ثابت کردیا، کیونکہ جب مثل عیسیٰ بمنزلتہ یعنی بجائے خدا کے بیٹے کے ہے تو اَصل عیسیٰ ضرور اَصل بیٹا خدا کا ثابت ہوا، کیونکہ جب مثیل مسیح (یعنی غلام احمد قادیانی جو مثیل مسیح ہونے کا مدعی ہے) کو خدا کہتا ہے تو میرے بیٹے کی جابجا ہے تو ثابت ہوا کہ اصل مسیح خدا کا اصلی بیٹا ہے۔ مجدّدِ دِینِ محمدی تو نصِ قرآن: ’’لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ‘‘ کے برخلاف ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ خدا نے مجھ کو اِلہام کیا ہے کہ تو میرے بیٹے کی جابجا ہے۔ پھر مرزاقادیانی نے مجسم خدا جو کہ عیسائیوں کا مسئلہ تھا اس کو تازہ کیا ہے کہ آپ اپنی کتاب ’’کتاب البریہ‘‘ ص:۸۵ (خزائن ج:۱۳ ص:۱۰۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘ جب مرزاقادیانی خود خدا بن گئے، پھر مرزاقادیانی نے تو یہ غضب کیا کہ خدا کے نطفے سے حقیقی صلبی بیٹے بن بیٹھے، چنانچہ اپنی کتاب ’’اربعین‘‘ نمبر۳ ص:۳۴ (خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۳) پر لکھتے ہیں کہ مجھ کو اِلہام کیا کہ: ’’انت من مائنا وھم من فشل‘‘ یعنی اے مرزا! تو ہمارے پانی (نطفے) سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے۔ اس اِلہام میں تو مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیسائیوں کو بھی مات کرگئے اور خدا کے حقیقی بیٹے بن گئے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ مرزاقادیانی دِینِ محمدی کے مجدّد ہیں یا دِینِ عیسوی کے۔۔۔! جن جن باطل مسائل کو ۱۳سو برس سے اہلِ اسلام نے مٹایا تھا وہ مرزاقادیانی نے اسلام میں داخل کئے اور پھر ’’مجدّدِ دِینِ محمدی‘‘۔۔۔!
کار شیطان میکند نامش ولی
گر ولی ایں است لعنت بر ولی
(مولانا رُومؒ کا شعر ہے کہ: شیطانی کام کرے اور ولی کہلائے، اگر یہ ولی ہے تو اس ولی پر لعنت!)
اگر یہی مجدّد کا نشان ہے تو بے شک ایسے مجدّد کا نہ آنا اُمتِ محمدی کے واسطے بہتر ہے۔ پھر مرزاقادیانی کا دعویٰ کرشن ہونے
(۱) ابوداوٗد، باب فی ذکر المھدی ج:۲ ص:۲۳۲۔
249
کا بھی ہے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو اِلہام کیا ہے رودرگوپال تیری مہماگیتا میں لکھی گئی ہے۔ دیکھو: ’’لیکچر سیالکوٹ‘‘ ص:۳۴، (خزائن ج:۲۰ ص:۲۲۹)۔ اگر مرزاقادیانی کا یہ اِلہام سچ ہے تو پھر مرزاقادیانی کھلے بندوں اسلام سے خارج ہیں، کیونکہ کرشن جی کا اوتار مرزاقادیانی تب ہی ہوسکتے ہیں جب ان کے مذہب کی پیروی کریں، اور کرشن جی کا مذہب یہی تھا جو آج کل آریہ صاحبان اہلِ ہنود کا ہے۔ یعنی قیامت سے اِنکار اور آواگون یعنی تناسخ کا اِقرار، اور قیامت کا اِنکار صریح کفر ہے۔ پس مرزاقادیانی اس پر مقرّر کردہ اُصولوں سے کہ میں متابعتِ تامہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے باعث محمد ہوگیا ہوں، درستی اُصول کی پابندی سے یعنی متابعتِ تامہ کرشن سے کرشن ہوئے۔ جب کرشن ہوئے تو تناسخ کے قائل ہوئے اور کافر ثابت ہوئے۔ میں نیچے کرشن کا مذہب لکھتا ہوں۔ کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں:
’’سوچ لو ہم تم اور سب راجے مہاراجے کبھی تھے یا نہیں؟ آئندہ ان کا کیا جنم ہوگا؟ ہم سب گزشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں پیدا ہوں گے۔ جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا ہوا کرتا ہے، اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
(دیکھو: گیتا مصنفہ کرشن جی مہاراج اشوک ۲۲ رادھائے رام)
شیخ فیضی نے بھی گیتا کا ترجمہ کیا ہے، وہ بھی سن لو:
-
زکار نکو میرود بہشت
بقعر جہنم بر درکار زشت
-
بقید تناسخ کند داورش
بانواع قالب دراں آردش
-
بہ تہائے معہود در میروند
بجسم سگ وخوگ در میروند
(ص:۱۳۶، گیتا مترجمہ فیضی تقطیع خورد)
اب صاف ہوگیا کہ کرشن جی قیامت کے منکر تھے، جب مرزاقادیانی قیامت کے منکر ہوئے، تو کافر ہوئے، کیونکہ متابعتِ تامہ سے یہ درجہ پایا ہے اور متابعتِ تامہ یہ ہے کہ پورا پورا پیرو ہو، پس کرشن جی کی پیروی یہی ہے کہ قیامت سے اِنکار کیا جائے اور تناسخ مانا جائے وغیرہ وغیرہ۔
۹:۔۔۔ جب مرزاقادیانی اُصولِ اسلام کے پابند ہی نہیں رہے جس امر کے واسطے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے تو قیامت کی خبر دیتے آئے اور تناسخ کی تردید کرتے آئے۔ پھر جب مرزاقادیانی نے قیامت سے اِنکار کردیا تو مسلمان کیسے؟ اب تو یہ معاملہ ہے:
250
’’جس جگہ تھا نورِ اِیماں اب وہاں ہے آواگون!‘‘
یعنی تناسخ اور مرزاقادیانی کے مرید بھی اسی اِعتقاد کے ہوں گے، کیونکہ پیر ومرید کا اِعتقاد ایک ہی ہوتا ہے، پس اگر مرزاقادیانی کا یہ اِلہام سچا ہے کہ میں کرشن ہوں تو پھر ہرگز مسلمان نہیں، اور مریدوں کو بھی ساتھ ہی لے ڈُوبے ہیں۔ پس ان سے لین دین اور معاملات مسلمانوں والے نہیں ہوسکتے، تاوقتیکہ توبہ نہ کریں اور تجدیدِ اِسلام نہ کریں۔
|
الجواب صحیح |
المجیب |
|
نظام الدین ملتانی |
پیربخش |
(فتاویٰ نظامیہ ج:۲ ص:۱۹۸ تا ۲۰۴)
✨ 🌟 ✨
251
بابِ یازدہم
نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کب آسمان سے نازل ہوں گے؟
جواب:۔۔۔ قرآنِ کریم اور اَحادیثِ طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے، اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دِی ہے۔ لیکن جس طرح قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔
قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا‘‘ (الزخرف:۶۱) اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو۔‘‘ بہت سے اکابر صحابہؓ وتابعینؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ اور صحیح ابنِ حبان میں خود آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی یہ تفسیر منقول ہے (موارد الظمآن ص:۴۳۵، حدیث نمبر۱۷۵۸)۔
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں:
’’یہ تفسیر حضرت ابوہریرہؓ، ابنِ عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ اور دیگر حضرات سے مروی ہے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اس مضمون کی متواتر اَحادیث وارِد ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت سے قبل تشریف لانے کی خبر دِی ہے۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۱۳۲)
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کرتے ہیں کہ: ’’شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ۔۔۔علیہم الصلوات والتسلیمات۔۔۔ سے ہوئی، تو آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا کہ کب آئے گی؟ پہلے حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی لاعلمی کا اِظہار کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کے وقوع کا ٹھیک وقت تو خداتعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ میرے رَبّ کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو
252
میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا، وہ مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، پس اللّٰہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ سے ہلاک کردیں گے، یہاں تک کہ شجر وحجر بھی پکار اُٹھیں گے کہ اے مسلم! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے اس کو قتل کردے۔ قتلِ دجال کے بعد لوگ اپنے اپنے علاقے اور ملک کو لوٹ جائیں گے۔ اس کے کچھ عرصے بعد یأجوج مأجوج نکلیں گے، وہ جس چیز پر سے گزریں گے، اسے تباہ کردیں گے، تب لوگ میرے پاس ان کی شکایت کریں گے، پس میں اللّٰہ تعالیٰ سے ان کے حق میں بددُعا کروں گا، پس اللّٰہ تعالیٰ ان پر یکبارگی موت طاری کردیں گے، یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے متعفن ہوجائے گی، پس اللّٰہ تعالیٰ بارش نازل فرمائیں گے جو ان کے اَجسام کو بہاکر سمندر میں ڈال دے گی۔ پس میرے رَبّ کا مجھ سے یہ عہد ہے کہ جب ایسا ہوگا تو قیامت کی مثال پورے دِنوں کی حاملہ اُونٹنی کی سی ہوگی، جس کے بارے میں اس کے مالک نہیں جانتے کہ اچانک دِن میں یا رات میں کسی وقت اس کا وضعِ حمل ہوجائے‘‘
(مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابنِ ماجہ ص:۲۹۹، باب خروج الدجال وعیسَی ابن مریم، مستدرک حاکم ج:۵ ص:۶۸۷ حدیث:۸۵۴۹، باب مذاکرۃ الانبیاء فی امر الساعۃ، ابنِ جریر ج:۱۷ ص:۹۱، سورۃ الانبیاء:۹۶ زیر آیت: ’’وَہُم مِّن کُلِّ حَدَبٍ یَنسِلُونَ‘‘)۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس اِرشاد سے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نقل کیا ہے، معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قربِ قیامت میں ہوگی۔
سوال:۔۔۔ نیز آپ کی کیا کیا نشانیاں دُنیا پر ظاہر ہوں گی؟
جواب:۔۔۔ آپ کے زمانے کے جو واقعات احادیثِ طیبہ میں ذِکر کئے گئے ہیں، ان کی فہرست خاصی طویل ہے، مختصراً:
⭐ :۔۔۔ آپ سے پہلے حضرت مہدیؓ کا ظہور۔
⭐ :۔۔۔ آپ کا عین نمازِ فجر کے وقت اُترنا۔
⭐ :۔۔۔ حضرت مہدیؓ کا آپ کو نماز کے لئے آگے کرنا اور آپ کا اِنکار فرمانا۔
⭐ :۔۔۔ نماز میں آپ کا قنوتِ نازلہ کے طور پر یہ دُعا پڑھنا: ’’قتل ﷲ الدَّجَّال‘‘
⭐ :۔۔۔ نماز سے فارغ ہوکر آپ کا قتلِ دجال کے لئے نکلنا۔
⭐ :۔۔۔ دجال کا آپ کو دیکھ کر، سیسے کی طرح پگھلنے لگنا۔
⭐ :۔۔۔ ’’بابِ لُد‘‘ نامی جگہ پر ۔۔۔جو فلسطین، شام میں ہے۔۔۔ آپ کا دجال کو قتل کرنا، اور اپنے نیزے پر لگا ہوا دَجال کا خون مسلمانوں کو دِکھانا۔
⭐ :۔۔۔ قتلِ دجال کے بعد تمام دُنیا کا مسلمان ہوجانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا عام حکم دینا۔
⭐ :۔۔۔ آپ کے زمانے میں امن وامان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑیے بکریوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں۔
253
⭐ :۔۔۔ کچھ عرصہ بعد یأجوج مأجوج کا نکلنا اور چارسو فساد پھیلانا۔
⭐ :۔۔۔ ان دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رُفقاء سمیت کوہِ طور پر تشریف لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی پیش آنا۔
⭐ :۔۔۔ بالآخر آپ کی بددُعا سے یأجوج مأجوج کا یک دم ہلاک ہوجانا اور بڑے بڑے پرندوں کا ان کی لاشوں کو اُٹھاکر سمندر میں پھینکنا۔
⭐ :۔۔۔ اور پھر زور کی بارش ہونا اور یأجوج مأجوج کے بقیہ اجسام اور تعفن کو بہاکر سمندر میں ڈال دینا۔
⭐ :۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلہ بنوکلب میں نکاح کرنا اور اس سے آپ کی اولاد ہونا۔
⭐ :۔۔۔ فج الروحا نامی جگہ پہنچ کر حج وعمرے کا اِحرام باندھنا۔
⭐ :۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری دینا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا روضۂ اطہر کے اندر سے جواب دینا۔
⭐ :۔۔۔ وفات کے بعد روضۂ اطہر میں آپ کا دفن ہونا وغیرہ وغیرہ۔
⭐ :۔۔۔ آپ کے بعد ’’مقعد‘‘ نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی وفات کے بعد قرآنِ کریم کا سینوں اور صحیفوں سے اُٹھ جانا
⭐ :۔۔۔ اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا، نیز دابۃ الارض کا نکلنا اور مؤمن وکافر کے درمیان امتیازی نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔
شبہات
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ان کی پہچان کیونکر ہوگی؟
سوال:۔۔۔ یہ کس طرح ظاہر ہوگا کہ آپ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟
جواب:۔۔۔ آپ کا یہ سوال عجیب دِلچسپ سوال ہے۔۔۔! اس کو سمجھنے کے لئے آپ صرف دو باتیں پیشِ نظر رکھیں۔
اوّل:۔۔۔ کتبِ سابقہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں پیش گوئی کی گئی تھی، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفات وعلامات ذِکر کی گئی تھیں، جو لوگ ان علامات سے واقف تھے، ان کے بارے میں قرآنِ کریم کا بیان ہے کہ وہ آپ کو ایسے پہچانتے ہیں جیسا اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔(۱) اگر کوئی آپ سے دریافت کرے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کیسے پہچانا تھا کہ آپ ہی نبیٔ آخرالزمان ہیں؟ تو اس کے جواب میں آپ کیا فرمائیں گے؟ یہی ناکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفات جو کتبِ سابقہ میں مذکور تھیں، وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر منطبق کرنے کے بعد ہر شخص کو فوراً یقین آجاتا تھا کہ آپ وہ نبیٔ آخرالزمان ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو صفات آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ذِکر کی ہیں، ان کو سامنے رکھ کر حضرت
(۱) ’’الَّذِیْنَ آتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمْ‘‘ (البقرۃ:۱۴۶)۔
254
عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی تعیین میں کسی کو اَدنیٰ سا شبہ بھی نہیں ہوسکتا۔ ہاں! کوئی شخص ان اِرشاداتِ نبویہ سے ناواقف ہو، یا کج فطری کی بنا پر ان کے چسپاں کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو، یا محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سے پہلو تہی کرے، تو اس کا مرض لاعلاج ہے۔۔۔!
دوم:۔۔۔ بعض قرائن ایسے ہوا کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں آدمی یقین لانے پر مجبور ہوجاتا ہے، اور اسے مزید دلیل کی اِحتیاج نہیں رہ جاتی۔ مثلاً: آپ دیکھتے ہیں کہ کسی مکان کے سامنے محلے بھر کے لوگ جمع ہیں، پورا مجمع افسردہ ہے، گھر کے اندر کہرام مچا ہوا ہے، درزی کفن سی رہا ہے، کچھ لوگ پانی گرم کر رہے ہیں، کچھ قبر کھودنے جارہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد آپ کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کیا یہاں کسی کا اِنتقال ہوگیا ہے؟ اور اگر آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ فلاں صاحب کافی مدّت سے صاحبِ فراش تھے اور ان کی حالت نازک تر تھی تو آپ کو یہ منظر دیکھ کر فوراً یقین آجائے گا کہ ان صاحب کا اِنتقال ہوگیا ہے۔
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی خاص کیفیت، خاص وقت، خاص ماحول اور خاص حالات میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ جب وہ پورا نقشہ اور سارا منظر سامنے آئے گا تو کسی کو یہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ یہ واقعی عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا نہیں؟
تصوّر کیجئے۔۔۔! حضرت مہدیؓ عیسائیوں کے خلاف مصروفِ جہاد ہیں، اتنے میں اِطلاع آتی ہے کہ دجال نکل آیا ہے۔ آپ اپنے لشکر سمیت بہ عجلت بیت المقدس کی طرف لوٹتے ہیں اور دجال کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں۔ دجال کی فوجیں اِسلامی لشکر کا محاصرہ کرلیتی ہیں، مسلمان انتہائی تنگی اور سراسیمگی کی حالت میں محصور ہیں۔ اتنے میں سحر کے وقت ایک آواز آتی ہے: ’’قد اتاکم الغوث‘‘ ۔۔۔تمہارے پاس مددگار آپہنچا۔۔۔ اپنی زبوں حالی کو دیکھ کر ایک شخص کے منہ سے بے ساختہ نکل جاتا ہے کہ: ’’یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز معلوم ہوتی ہے!‘‘ پھر اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے، سفید منارہ کے پاس نزول فرماتے ہیں، اور عین اس وقت لشکر میں پہنچتے ہیں جبکہ صبح کی اِقامت ہوچکی ہے اور اِمام مصلیٰ پر جاچکا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
یہ تمام کوائف جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں، جب وہ ایک ایک کرکے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آئیں گے تو کون ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شناخت سے محروم رہ جائے گا۔۔۔؟ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی صفات وعلامات، ان کا حلیہ اور ناک نقشہ، ان کے زمانۂ نزول کے سیاسی حالات اور ان کے کارناموں کی جزئیات اس قدر تفصیل سے بیان فرمائی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جب یہ پورا نقشہ لوگوں کے سامنے آئے گا تو ایک لمحے کے لئے کسی کو ان کی شناخت میں تردّد نہیں ہوگا، چنانچہ کسی کمزور سے کمزور روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ ان کی تشریف آوری پر لوگوں کو ان کے پہچاننے میں دِقت پیش آئے گی، یا یہ کہ ان کے بارے میں لوگوں میں اِختلاف ہوجائے گا، کوئی ان کو مانے گا اور کوئی نہیں مانے گا۔ اس کے برعکس یہ آتا ہے کہ مسلمان تو مسلمان، دجال کے لشکر سے نمٹنے کے بعد غیرمذاہب کے لوگ بھی سب کے سب مسلمان ہوجائیں گے اور دُنیا پر صرف اسلام کی حکمرانی ہوگی۔
255
یہ بھی عرض کردینا مناسب ہوگا کہ گزشتہ صدیوں سے لے کر اس رواں صدی تک بہت سے لوگوں نے مسیحیت کے دعوے کئے، اور بہت سے لوگ اصل ونقل کے درمیان تمیز نہ کرسکے، اور ناواقفی کی بنا پر ان کے گرویدہ ہوگئے، لیکن چونکہ وہ واقعتا ’’مسیح‘‘ نہیں تھے، اس لئے وہ دُنیا کو اِسلام پر جمع کرنے کے بجائے مسلمانوں کو کافر بناکر ان کے درمیان اِختلاف وتفرقہ ڈال کر چلتے بنے، ان کے آنے سے نہ فتنہ فساد میں کمی ہوئی، نہ کفر وفسق کی ترقی رُک سکی۔ آج زمانے کے حالات ببانگِ دہل اِعلان کر رہے ہیں کہ وہ اس تاریک ماحول میں اتنی روشنی بھی نہ کرسکے جتنی کہ رات کی تاریکی میں جگنو روشنی کرتا ہے، وہ یہ سمجھے کہ ان کی من مانی تأویلات کے ذریعے ان کی مسیحیت کا سکہ چل نکلے گا، لیکن افسوس کہ ان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اِرشاد فرمودہ علامات اتنی بھی چسپاں نہ ہوئیں جتنی کہ ماش کے دانے پر سفیدی۔ کسی کو اس میں شک ہو تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِرشاد فرمودہ نقشے کو سامنے رکھے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِرشاد فرمودہ ایک ایک علامت کو ان مدعیوں پر چسپاں کرکے دیکھے، اُونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے مگر ان مدعیوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات وعلامات منطبق نہیں ہوسکتیں۔ کاش! ان لوگوں نے بزرگوں کی یہ نصیحت یاد رکھی ہوتی:
بصاحب نظرے بنما گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۷ تا ۲۴۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس عمر میں نازل ہوں گے؟
سوال:۔۔۔ ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ حدیث کی روشنی میں بیان کریں کہ وہ دوبارہ اس دُنیا میں پیدا ہوں گے یا پھر اس عمر میں تشریف لائیں گے جس عمر میں آپ کو آسمان پر اللّٰہ تعالیٰ نے اُٹھالیا؟ میں ایک مرتبہ پھر آپ سے گزارش کروں گا کہ جواب ضرور دیں، اس طرح ہوسکتا ہے کہ آپ کی اس کاوش سے چند قادیانی اپنا عقیدہ دُرست کرلیں۔ یہ ایک قسم کا جہاد ہے، آپ کی تحریر ہمارے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے۔
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے، اسی عمر میں نازل ہوں گے، ان کا آسمان پر قیام، ان کی صحت اور عمر پر اَثراَنداز نہیں۔ جس طرح اہلِ جنت، جنت میں سدا جوان رہیں گے اور وہاں کی آب وہوا ان کی صحت اور عمر کو متأثر نہیں کرے گی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاں اس وقت قیام فرما ہیں، وہاں زمین کے نہیں، آسمان کے قوانین جاری ہیں۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’تیرے رَبّ کا ایک دن تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کے برابر ہے۔‘‘(۱)
اس قانونِ آسمانی کے مطابق ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہاں سے گئے ہوئے دو دِن بھی نہیں گزرے، آپ غور
(۱) ’’وَإِنَّ یَوْماً عِندَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ‘‘ (الحج)۔
256
فرماسکتے ہیں کہ صرف دو دِن سے انسان کی صحت وعمر میں کیا کوئی نمایاں تبدیلی رُونما ہوجاتی ہے؟
مشکل ہے کہ ہم معاملاتِ اِلٰہیہ کو بھی اپنی عقل وفہم اور مشاہدہ وتجربہ کے ترازو میں تولنا چاہتے ہیں، ورنہ ایک مؤمن کے لئے فرمودۂ خدا اور رسول سے بڑھ کر یقین واِیمان کی کونسی بات ہوسکتی ہے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ پیدا ہونے کا سوال تو جب پیدا ہوتا کہ وہ مرچکے ہوتے، زندہ تو دوبارہ پیدا نہیں ہوا کرتا، اور پھر کسی مرے ہوئے شخص کا کسی اور قالب میں دوبارہ جنم لینا تو ’’آواگون‘‘ ہے جس کے ہندو قائل ہیں۔ کسی مدعیٔ اِسلام کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رُوحانیت نے اس کے قالب میں دوبارہ جنم لیا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۵،۲۴۶)
قادیانی عقیدے میں مسیح کی رُوحانیت کے متعدّد نزول
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کے لٹریچر سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کے لٹریچر کا ماحصل نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح ایک رُوح کے لئے ایک بدن ضروری نہیں، وہ مختلف اوقات میں مختلف اَجسام میں اُترسکتی ہے، پس قادیانیوں کے نزدیک مسیح ایک فرد کا نام نہیں، یہ ایک رُوح ہے جو مختلف اوقات میں مختلف اجسام میں اُترتی رہی ہے، اور یہ ممکن ہے کہ قربِ قیامت میں وہ کسی بدن میں جلالی طور پر ظاہر ہو اور دُنیا کی صف لپیٹ دی جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
’’غور سے اس معرفت کے دقیقے کو سنو کہ حضرت مسیح کو جو دو دفعہ یہ موقع پیش آیا کہ ان کی رُوحانیت نے قائم مقام طلب کیا، اوّل جبکہ ان کے فوت ہوجانے پر چھ سو برس گزرگیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اِصرار کیا کہ وہ نعوذباللّٰہ بدکار، مکار اور کاذب تھا، اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا، اس لئے وہ مصلوب ہوا۔۔۔۔۔۔ تب بہ اعلامِ اِلٰہی مسیح کی رُوحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام اِلزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خداتعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص:۳۴۲ خزائن ج:۵ ص:۳۴۲)
الغرض! قادیانی عقیدے کے مطابق رُوحِ مسیح کا پہلا جوش نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صورت میں ظاہر ہوا۔
دُوسرا جوش مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں قادیان میں اُترا ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ اور مسیح کی رُوحانیت کا تیسرا جوش قیامت کے قریب ایک جلالی صورت میں ظاہر ہوگا، تب دُنیا کا اِختتام ہوگا۔ اس بات کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے کہ یہ بات کشف کے ذریعے مجھ پر منکشف ہوئی، قادیانیوں کے لٹریچر سے یہ چیز عیاں ہوتی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے خود لکھا ہے:
257
’’ہمیں اس سے اِنکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثل بن کر آئے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵، خزائن ج:۳ ص:۱۷۹)
’’ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں، کیونکہ یہ عاجز اس دُنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۰۰، خزائن ج:۳ ص:۱۷۹)
قادیانیوں کا لٹریچر خود مرزا کے دعوؤں کی تردید کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا ایک نشان ہیں، اور جب تک وہ نشان ظاہر نہ ہو اور تمام اہلِ کتاب ان پر اِیمان نہ لے آئیں، وہ علامات پوری نہ ہوں گی جو قرآن نے ان کی آمد کی بتلائی ہے، اور اس پر چودہ سو سال سے اُمت کا اِجماع چلا آرہا ہے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کے قول سے مرزاقادیانی کے لئے مسیح کی سیٹ خالی نہیں کرائی جاسکتی، یہ قادیانیوں کی دھوکادہی اور ڈھکوسلہ بازی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو قادیانیوں کے جدید حملوں سے محفوظ فرمائے، آمین! (مزید دلائل کا ذوق ہو تو اعلیٰ حضرت گولڑوی کی تصانیف کا مطالعہ کریں، اِن شاء اللّٰہ اِیمان واِیقان میں اِضافہ ہوگا)۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۲۹،۳۳۰)
احادیث اور نزولِ مسیح علیہ السلام
سوال:۔۔۔ حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو اَحادیث کتب میں وارِد ہیں، کیا یہ صحت کے اِعتبار سے دُرست ہیں؟ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کی کیا حکمتیں ہوسکتی ہیں؟ مہربانی فرماکر وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام اَئمہ حدیث نے نزولِ مسیح کے بارے میں وارِدشدہ احادیث کی صحت کو تسلیم کیا ہے، اکثر احادیث حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں، لہٰذا نزولِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔ باقی چند اَحادیث کو نقل کرنے کے بعد چند حکمتیں عرض کرتے ہیں۔
حیات ونزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حدیث کی روشنی میں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لینزل ابن مریم حَکَمًا عادلًا فلیکسرن الصلیب ولیقتلن الخنزیر ولیضعن الجزیۃ ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا ولتذھبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون إلی المال فلا یقبلہ احد۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’بخدا عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول ہوگا، جو عدل وانصاف سے فیصلے فرمائیں گے، صلیب توڑ ڈالیں
258
گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ موقوف کردیں گے، اُونٹوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا اور ان سے کوئی شخص کام نہیں لے گا، لوگوں کے دِلوں سے کینہ، بغض اور حسد نکل جائے گا، انہیں مال لینے کے لئے بلایا جائے گا اور کوئی مال لینے والا نہیں آئے گا۔‘‘
اس حدیث میں جزیہ موقوف کرنے کا بھی بیان کیا گیا ہے، لہٰذا یاد رہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دِینِ اسلام کے بعض اَحکام کو منسوخ کردیں گے، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود اس کے ناسخ ہیں، کیونکہ آپ نے خود جزیہ کی مدّت نزولِ مسیح تک بیان فرمائی ہے۔ دُوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام کفار اور مشرکین مسلمان ہوجائیں گے تو جزیہ عائد کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔ قرآنِ حکیم نے بھی تصریح کردی ہے:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘
(النساء:۱۵۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اہلِ کتاب میں سے ہر شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وصال سے پہلے ان پر اِیمان لے آئے گا۔‘‘
اور اَبھی تک یہودی اِیمان نہیں لے آئے اور نہ ہی عیسائیوں کا اس پر اِیمان ہے، بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ضروری ہے تاکہ یہودی اِیمان لاکر مسلمان ہوجائیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیف انتم إذا نزل ابن مریم فیکم وإمامکم منکم۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’اس وقت کیا شان ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور اِمام تم میں سے کوئی شخص ہوگا۔‘‘
حضرت جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لا تزال طائفۃ من اُمَّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسَی ابن مریم فیقول امیرھم: تعال صل لنا! فیقول: لا! إن بعضکم علٰی بعض اُمراء، تکرمۃ ھٰذہ الاُمَّۃ۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۸۷)
’’میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لئے لڑتا رہے گا اور قیامت تک حق پر قائم رہے گا اور ثابت رہے گا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے، مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا: آئیے نماز پڑھائیے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: نہیں! تمہیں میں سے بعض، بعض کی اِمامت کریں گے۔‘‘
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول اس اُمت کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے ہوگا۔
259
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان نبی نہیں، اور وہ اُتریں گے جب ان کو دیکھو تو پہچان لو، وہ قامت کے درمیانے ہیں، سرخ وسفید ہیں، دو زَرد کپڑوں میں اُتریں گے، سر کے بال ایسے معلوم ہوں گے کہ گویا ان سے پانی ٹپکتا ہے، اگرچہ پانی نہیں ہوگا، لوگوں سے جہاد کریں گے، صلیبی قوّت توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کریں گے، اس وقت سوائے اسلام کے تمام اَدیان کا خاتم ہوگا، دجال کو ختم کریں گے، زمین میں چالیس برس رہیں گے، پھر وفات پائیں گے اور مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔‘‘ (۱)
(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۸)
حضرت عبداللّٰہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم زمین پر اُتریں گے، شادی کریں گے اور اولاد پیدا ہوگی، پینتالیس سال زمین پر ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں دفن ہوں گے، قیامت کے دن ہم اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ایک مقبرے سے اِکٹھے اُٹھیں گے اور ہمارے دائیں بائیں ابوبکر وعمر ہوں گے۔(۲)
حضرت علامہ محی الدین ابن عربیؒ لکھتے ہیں:
’’فی حدیث معراج فلما دخل بجسدہ فإنہ لم یمت إلی الآن بل رفعہ ﷲ إلی ھٰذہ السماء واسکنہ بھا وحکمہ فیھا وھو شیخنا الذی رجعنا علٰی یدہ ولہ بنا عنایۃ عظیمۃ ولا یفضل عنا ساعۃ وارجو ان ادرکہ فی نزولہ إن شاء ﷲ تعالٰی۔‘‘
(فتوحات مکیۃ ج:۲ ص:۳۴۱، باب:۳۶۷)
’’حدیثِ معراج میں ہے کہ وہ داخل ہوئے تو ان کو حضرت عیسیٰ جسم کے ساتھ ملے، کیونکہ وہ اب تک نہیں مرے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو آسمان تک اُٹھایا اور اس میں بسایا اور اس کا حکم اس میں چلتا رہا، اور وہ ہمارے سچے شیخ ہیں، جن کے ہاتھ پر ہم نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف رُجوع کیا، ان کو ہم پر مہربانی ہے اور ہم سے وہ غفلت نہیں کرتے، مجھے اُمید ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو میں ان کے زمین پر نازل ہونے کا زمانہ پالوں گا۔‘‘
(۱)عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: لیس بینی وبینہ یعنی عیسٰی علیہ السلام نبی وانہ نازل فإذا رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع إلی الحمرۃ والبیاض بین ممصرتین کأن رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل، فیقاتل الناس علی الإسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویھلک ﷲ فی زمانہ الملل کلھا إلَّا الإسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الأرض اربعین سنۃ ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون۔
(۲) عن عبدﷲ بن عمرو قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ینزل عیسی ابن مریم إلی الأرض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسًا وأربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فأقوم أنا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر۔ رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء۔ (مشکوٰۃ ص:۴۸۰، الفصل الثالث)۔
260
حکمتِ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام بلحاظِ ختمِ نبوّت
عالمِ اَرواح میں جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں انبیائے کرام علیہم السلام سے عہد لیا گیا، اس کا ذِکر قرآن یوں کرتا ہے:
’’وَإِذْ أَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا آتَیْتُکُم مِّن کِتَابٍ وَحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاء کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنصُرُنَّہُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَی ذَلِکُمْ إِصْرِیْ قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُواْ وَأَنَاْ مَعَکُم مِّنَ الشَّاہِدِیْنَ‘‘
(آل عمران:۸۱)
’’یاد کرو اس وقت کو جب لیا اللّٰہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد کہ جو کچھ میں نے دیا کتاب اور حکمت اور پھر آئے تمہارے پاس عظیم الشان رسول تصدیق کرے تمہارے پاس والی کتاب کی، تو اس رسول پر اِیمان لاؤگے اور اس کی مدد کروگے۔ فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس شرط پر ہمارا عہد قبول کرلیا؟ بولے: ہم نے اِقرار کرلیا! فرمایا: تم اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔‘‘
اس نصرت کے مطابق تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کو اِعتقاداً اور اِقراراً تسلیم کیا اور نصرت بالواسطہ بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تمام انبیائے کرام نے تصدیق کردی اور اپنی اُمتوں کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نبی ہونے اور اِمداد دینے کی تاکید فرمائی۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں بشاراتِ بعثت دیتے رہے جو کتبِ سماویہ میں موجود ہیں۔ حدیثِ معراج میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی اِمامت فرمائی۔ دُوسری عملی صورت یہ ہوئی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے قریب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانے تک زندہ رکھ کر نبی ہونے کے باوجود اُمتی کی پوزیشن میں خدمتِ دینِ محمدی کے لئے آسمان سے نازل فرمانا طے کیا گیا، تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیائے سابقین کے نمائندے کے طور پر شرعِ محمدی کی خدمت ونصرت عملی رنگ میں انجام دیں اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فیضانِ نبوّت کو نمایاں کردیں، یہ عملی تکمیل آئندہ کسی نبی کے ذریعے ممکن نہ تھی، کیونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے، پس اس طرح نصرتِ دِینِ محمدی کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا۔
حکمتِ نزولِ مسیح علیہ السلام بلحاظِ فتنِ عالمی واِصلاحِ عمومی:
۱:۔۔۔ آپ کے نزول کا ایک مقصد دجالی فتنے کا اِستیصال اور قتلِ دجال ہے، دجال مدعی اُلوہیت ہوگا، اس جرم میں اسے قتل کریں گے اور اس سے آپ کو اللّٰہ ماننے والی قوم بھی باطل قرار پائے گی، اور نصاریٰ کو ذہن نشین ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اللّٰہ ماننا ایسا عقیدہ ہے جو موجب سزا قتل ہے۔
۲:۔۔۔ یہود آپ کے قتل اور مصلوب ہونے کے مدعی تھے، جب آپ کے ہاتھوں دجال یہودی اور اس کے ماننے والے قتل کئے جائیں گے تو یہ عملاً یہود کے اس جھوٹے دعوے کی تردید اور سزا ہوگی۔
261
۳:۔۔۔ کفر وطاغوت کی اِنتہا ہوچکی ہوگی، اِصلاحِ اَحوال کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہوں گی، پس اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، تاکہ آپ کی ذات سے کفر وطاغوت کا خاتمہ ہو، کیونکہ جتنی بڑی بُرائی ہوگی، اس طرح کی رُوحانی قوّت درکار ہوتی ہے جس سے بُرائی کا خاتمہ ہوسکے گا۔ دجالی فتنہ بہت بڑا ہوگا:’’ما بین خلق آدم إلٰی قیام الساعۃ امر أکبر من الدَّجَّال‘‘ (رواہ مسلم ج:۲ ص:۴۰۵) ’’دجالی فتنے سے بڑا کوئی فتنہ پیدائشِ حضرت آدم علیہ السلام سے قیامت تک نہیں۔‘‘
⭐ :۔۔۔ موجودہ دور کے عالمی فتنوں اور ایٹمی تباہیوں کے بانی یہود اور نصاریٰ ہیں۔
⭐ :۔۔۔ اِشتراکیت کا بانی ’’کارل مارکس‘‘ یہودی ہے۔
⭐ :۔۔۔ ایٹم بم کا موجد ’’شوبن ہار‘‘ یہودی ہے۔
⭐ :۔۔۔ سامراجیت کی بنیاد مسیحی طاقتوں نے قائم کی ہے۔
⭐ :۔۔۔ مسلمانوں کو بگاڑنے والی بھی عیسائی قومیں ہیں۔
اس لئے ضروری ہوا کہ ایک اِسرائیلی پیغمبر جو مسیحی اقوام کا پیشوا ہے انہی کے ہاتھوں ان کی اُمت کے پیدا کردہ فساد کا خاتمہ ہو۔ الغرض! عیسائی اقوام نے مادّی اور سائنسی اور ایٹمی جو فساد بپا کیا ہے اور زمینی قوتیں اس کے مقابلے سے عاجز ہیں اور اَب بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بغیر اس کی اِصلاح ناممکن ہے۔ پس اللّٰہ تعالیٰ کی تدبیر نے یہ سارا اِنتظام پہلے سے کر رکھا ہے جو آج عملاً واضح ہوتا جارہا ہے کہ نزولِ مسیح علیہ السلام ضروری ہے۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۴ تا ۳۳۷)
نزولِ مسیح علیہ السلام قرآن وسنت کی روشنی میں
سوال:۔۔۔ قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ نزولِ مسیح کی حقیقت کیا ہے؟ ایک مسلمان کو اس پر کیا عقیدہ رکھنا چاہئے؟ اور قادیانی جن احادیث اور آیات سے اپنے موقف کا اِستدلال کرتے ہیں، ان کا کیا جواب ہے؟ مہربانی فرماکر تفصیلی جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دِینِ اسلام عقلی نہیں بلکہ نقلی ہے، یعنی عقلاً نہیں پہنچا، بلکہ نقلاً پہنچا ہے۔ اور دُوسری بات یہ ہے کہ جن ذرائع سے دِین ہم تک پہنچا ہے، ان پر اِعتقاد کرنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن وسنت، فقہ، اُصولِ فقہ، وغیرہ جملہ علوم جو دِین کی معرفت کا سبب ہیں، یہ سب ان کی وساطت سے ملے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ قرآن وسنت کو اسلاف نے ہم سب سے بہتر سمجھا ہے، اور وہ سب سے بہتر اور مخلص تھے، کیونکہ حدیثِ نبوی ہے:
’’خیر اُمَّتی قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘‘
(مشکوٰۃ، باب مناقب الصحابۃ ص:۵۵۳)
چوتھی بات یہ ہے کہ جن مسائل وعقائد پر پوری اُمت کا اِجماع واِتفاق آرہا ہو، اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے، لہٰذا ان سب باتوں کو سمجھنے کے بعد اَب ہم تفصیلی جواب عرض کرتے ہیں، اور ان کے ممکنہ اِعتراضات کا جواب بھی دیتے ہیں۔
262
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِجماعِ اُمت:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کو اُٹھایا جانا، اور اس وقت زندہ ہونا، اور آخری زمانے میں نزول فرمانا، اس پر اِجماعِ اُمت ہے۔ اِمام ابنِ عطیہ سے اِجماع کے یہ الفاظ منقول ہیں:
’’حیات المسیح بجسمہ إلی الیوم ونزولہ من السماء بجسمہ العنصری مما اجمع علیہ الاُمَّۃ وتواتر بہ الأحادیث‘‘
(تفسیر المحیط ج:۲ ص:۷۵۶)
’’حضرت مسیح علیہ السلام کا جسم کے ساتھ اس وقت زندہ ہونا اور جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان سے اُتر کر آنا، ایسا عقیدہ ہے جس پر پوری اُمت کا اِتفاق ہے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی متواتر اَحادیث سے ثابت ہے۔‘‘
تفسیر جامع البیان میں ’’اِنِّی مُتَوَفِّیكَ‘‘ کے تحت یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں:
’’والإجماع علٰی انہ حیٌّ فی السماء ینزل یقتل الدَّجَّال ویؤَید الدِّین‘‘
(تفسیر جامع البیان ج:۳ ص:۲۹۱، بألفاظ غیرہ)
حضرت اِمام جلال الدین سیوطی رحمۃاللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
’’الإجماع علٰی انہ رفع ببدنہ حیًّا‘‘
’’اس پر اِجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بدن کے ساتھ زندہ اُٹھائے گئے ہیں۔‘‘
قرآن اور حیاتِ مسیح علیہ السلام:
’’وَمَکَرُواْ وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘
(آل عمران:۵۴)
’’یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف تدبیر کی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو بچانے کی تدبیر کی، اللّٰہ تعالیٰ کی تدبیر سب تدبیر کرنے والوں کی تدبیر سے بہتر ہے۔‘‘
اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف تدبیر کی کہ ان کو بے عزّت کرکے سولی پر چڑھادیا، لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی تدبیر بچانے والی تھی، لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ کی تدبیر غالب رہی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اُٹھالیا اور یہود ان کا بال تک بیکا نہ کرسکے۔
’’إِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسَی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ إِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ‘‘ (آل عمران:۵۵)
’’جس وقت کہا اللّٰہ تعالیٰ نے: اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اُٹھالوں گا تجھ کو اپنی طرف اور پاک کردوں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان لوگوں پر جو اِنکار کرتے ہیں
263
قیامت کے دن تک، پھر میری طرف تم سب کو آنا ہے، پھر میں فیصلہ کروں گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔‘‘
لفظ ’’توفی‘‘ کی تفسیر:
التوفی الإماتۃ وقبض الروح وعلیہ إستعمال العامۃ والإستیفاء، واخذ الحق وعلیہ إستعمال البلغا۔ ’’توفی‘‘ کا لفظ عوام کے نزدیک موت دینے اور جان لینے کے لئے اِستعمال ہوتا ہے، لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا ہے، گویا موت پر ’’توفی‘‘ کا اِطلاق اور حیثیت سے ہے کہ اس میں کسی خاص عضو سے نہیں، بلکہ پورے بدن سے جان لی جاتی ہے، تو اگر اللّٰہ تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لی تو اس پر ’’توفی‘‘ کا اِطلاق بطریقِ اَولیٰ ہوگا، رُوح مع الجسم لینا ’’توفی‘‘ کے مفہوم میں داخل ہے، عام طور پر چونکہ رُوح بدن کے بغیر لی جاتی ہے اس لئے موت پر بھی ’’توفی‘‘ کا اِطلاق کثرت سے آیا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لفظِ ’’توفی‘‘ کے اِستعمال کی حکمت:
قرآنِ حکیم نے لفظ ’’توفی‘‘ اس لئے اِستعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حالت چونکہ عام حالات سے مختلف تھی، اس لئے اہم ترین موقع پر بھی اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں موت کا اِطلاق نہیں کیا، بلکہ لفظ ’’توفی‘‘ کا اِستعمال کیا، جو بیک وقت قبضِ رُوح اور قبضِ رُوح مع الجسم دونوں کو شامل ہے۔ یہ اِستدلال غلط ہے کہ جب فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہو اور مفعول ذِی رُوح ہو تو ’’توفی‘‘ موت کے معنی میں ہوگا۔ (نوٹ) بالفرض اگر موت کے معنی کے اندر بھی مان لیا جائے تو حضرت ابنِ عباسؓ کے شاگرد ضحاکؒ نے معالم میں تقدم وتأخر کا قول نقل کیا ہے۔
’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ ’’میں تم کو موت دُوں گا، زمین پر اُتارنے کے بعد۔‘‘
اس کی دلیل یہ ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا:
’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا‘‘
(الزمر:۴۲)
’’اللّٰہ تعالیٰ جان لیتا ہے موت کے وقت اور وہ جان بھی لیتا ہے جو نیند کی حالت میں مرے نہیں۔‘‘
فاعل اللّٰہ تعالیٰ ہے اور مفعول ذِی رُوح ہے، مگر لفظ ’’توفی‘‘ کا اِطلاق نیند پر ہو رہا ہے، یعنی ’’توفی‘‘ عدمِ موت پر دلالت کر رہا ہے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’توفی‘‘ کے لفظ میں موت کا معنی مراد نہیں، بلکہ اُٹھالینے کا معنی مراد ہے۔
یہودی محاصرے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پریشانی کی وجوہات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی محاصرے کے وقت جو پریشانی لاحق تھی اس کی وجوہات درج ذیل اُمور کی وجہ سے تھیں کہ میں یہود کی دست بُرد اور جو ر وستم سے بچ جاؤں گا یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا:
’’یَا عِیْسَی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘
(آل عمران:۵۵)
’’میں تم کو لے لوں گا اور ان کی دست بُرد سے بچالوں گا۔‘‘
264
’’وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ عَنکَ‘‘ (المائدۃ:۱۱۰)
’’میں بنی اِسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روکوں گا۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دُوسری یہ تشویش لاحق تھی کہ میرا بچانا زمین کے کسی حصے میں ہوگا، یا کوئی اور صورت ہوگی؟ اس کے جواب میں فرمایا: ’’وَرَافِعُکَ إِلَیَّ‘‘ کہ میں تجھ کو اپنی طرف آسمان پر اُٹھالوں گا۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ آپ اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں پریشان تھے کہ خاندان والے حضرت مریم علیہا السلام پر داغ لگاتے تھے، اس کے متعلق کیا اِنتظام ہوگا؟ اس کے متعلق فرمایا گیا:
’’وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ‘‘ (آل عمران:۵۵)
’’میں منکرین سے تم کو اور تمہاری والدہ کو پاک کردوں گا۔‘‘
کہ میرے اُٹھائے جانے کے بعد میرے متبعین یعنی اُمت کا منکرین کے مقابلے میں کیا حال ہوگا؟ توا للّٰہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا کہ:
’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘‘ (آل عمران:۵۵)
’’قیامت تک تیرے متبعین تیرے منکرین پر غالب ہوں گے۔‘‘
یہ وعدہ آج بھی ایک حقیقت کی طرح زندہ ہے، قرآنِ حکیم نے یہودیت کے ناپاک عزائم کا اِنکشاف کرکے حیاتِ مسیح علیہ السلام پر روشنی ڈالی ہے:
’’وَبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلَی مَرْیَمَ بُہْتَاناً عَظِیْماً. وَقَوْلِہِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً. وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘
(النساء:۱۵۶تا۱۵۹)
’’یہود نامسعود کے دِلوں پر بندشِ ہدایت کی مہر لگ چکی ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم علیہا السلام پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو، جو اللّٰہ تعالیٰ کے رسول تھے، قتل کرڈالا، اور انہوں نے ان کو قتل نہ کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا، لیکن شبہ پڑگیا ان کو، اور جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اِختلاف کرتے تھے وہ شک میں ہیں، ان کو علم نہیں صرف اٹکل پچو پر چلتے ہیں، اور انہوں نے یقینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا اور وہ غالب اور حکمت والا ہے، اور اہلِ کتاب کا کوئی گروہ نہیں مگر وہ حضرت عیسیٰ پر ان کے وصال سے پہلے اِیمان لائے گا اور وہ ان کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔‘‘
265
آیت کے چند اُمور:
آیت کے مندرجہ ذیل اُمور قابلِ توجہ ہیں:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اور نہ ہی سولی پر چڑھائے گئے، قتل اور صلیب کے قائل قطعاً غلطی پر ہیں، جیسے یہود ونصاریٰ وغیرہ۔ ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً‘‘ کے بعد ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل نہیں ہوئے، اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا۔ ’’وَمَا قَتَلُوہُ‘‘ اور ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ‘‘ میں ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے، اور ’’عیسیٰ‘‘ نام ہے جسم اور رُوح کا، یعنی عیسیٰ جو مجموعہ رُوح وجسم کا ہے اس پر قتل واقع نہیں ہوا، بلکہ بجائے قتل کے رَفع اِلی اللّٰہ واقع ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت نفس الامری ہے کہ یہاں جس ذات سے قتل کے نفی ہو رہی ہے، اسی کے لئے رَفع کا اِثبات ہو رہا ہے، اور قتل نہ صرف جسم کا ممکن ہے، اور نہ صرف رُوح کا، بلکہ جسم اور رُوح دونوں کے مجموعے پر قتل واقع ہوسکتا ہے اور قتل کا مفہوم بھی واضح ہے کہ: ’’کسی خارجی مؤثر کے الگ کیا جائے‘‘ پس جب غیرمقتول جسم مع رُوح ہے تو مرفوع الی اللّٰہ بھی جسم ورُوح کا مجموعہ ہوگا، رُوحانی رفع مراد لینا دُرست نہیں ہے، کیونکہ رَفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واقع ہوا ہے تو جب تک اس کے خلاف قرینہ نہ ہو تو جسمانی ہی مراد ہوگا، جیسے ’’أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (یوسف:۱۰۰) حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر اُٹھالیا، جس کا معنی ومفہوم جسم ورُوح دونوں کا اُٹھانا ہے، نہ کہ والدین کی رُوح کو اُٹھانا ہے۔
’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ (الم نشرح:۴) ’’اے نبی!ہم نے آپ کے ذِکر کو آپ کے لئے بلند کیا۔‘‘
اس آیت میں بھی جہاں رُوحانی طور پر مراد ہوگا وہاں رُوح اور جسم دونوں بھی مراد ہوں گے، واقعہ معراج اس کی عملی تفسیر ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جسم مع الروح دونوں کو بلند کیا، ویسے بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم رُوح مع الجسم پوری اُمت پر بلند ہیں، اگر رُوحانی رَفع مراد لیا جائے تو کئی وجوہات کی بنا پر غلط ہے، ہم یہاں پر چند وجوہات کا ذِکر کرتے ہیں۔ مجاز کو بلاقرینہ اِختیار کرنا دُرست ہے، اس کے برعکس قرینہ کی موجودگی کے باوجود مجاز کا اِختیار کرنا غلط ہے۔ عدم قرینہ کی بنا پر مجاز کا اِختیار کرنا دُرست ہے، لیکن قرآنِ حکیم میں جہاں بھی رَفع اِستعمال ہوا ہے، وہاں اس کا قرینہ موجود ہے:
’’یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ‘‘
(المجادلۃ:۱۱)
اس مقام پر جسمانی رفع مراد ہی نہیں، بلکہ رُوحانی یعنی دِینی رَفع مراد ہے، لہٰذا یہاں پر درجات بطور لفظ قرینہ موجود ہے۔
’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ مِّنْہُم مَّن کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ‘‘
(البقرۃ:۲۵۳)
اس آیت میں بھی رفعِ جسمانی مراد نہیں، بلکہ درجات بطور لفظ قرینہ موجود ہے۔
’’وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ‘‘(الزخرف:۳۲) یہاں بھی درجات بطور قرینہ لفظاً موجود ہے۔ اس کے برعکس: ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ کا مطلب واضح ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا۔ اگر رُوحانی رفع مراد لیا جائے تو معنی یہ ہوا کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا
266
مرتبہ بلند کیا جو خلافِ حقیقت ہونے کے ساتھ قرآن میں تحریف ہوگی۔
نکتہ:۔۔۔ میرا رُوحانی رفع مراد لینے والوں سے سوال ہے کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واقعہ سے چالیس سال قبل پیغمبر کی حیثیت سے زمین پر نہیں رہے تھے؟ جب رہے تھے تو اس وقت ان کو مرتبے کی بلندی حاصل نہیں تھی؟ ہر حال میں تھی، اور جب یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر کو آغاز سے ہی مرتبے کی بلندی حاصل ہوتی ہے تو پھر اس کڑے وقت میں محض رُوحانی بلندی کی تخصیص کا کیا فائدہ؟ اُمید قوی ہے کہ عقلِ سلیم رکھنے والوں کے لئے اس میں وافر مقدار میں نصیحت وعبرت موجود ہے، جو وہ سمجھنے کے بعد حق کو پالیتے ہیں۔ آغاز سے ہی مرتبے کی بلندی ہونے کے باوجود یہاں پر بھی محض مرتبے کی بلندی مراد لینے سے ایسی تخصیص بے فائدہ ہوگی۔
’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء) میں لفظ ’’بل‘‘ کا اِستعمال بھی قابلِ توجہ ہے، لفظ ’’بل‘‘ کا اِستعمال دو مقابل چیزوں میں ہوتا ہے، لہٰذا یہاں اگر رَفع سے رُوحانی رَفع اور مرتبے کی بلندی مراد لی جائے تو مقابلہ فوت ہوجائے گا، جس سے لفظ ’’بل‘‘ کا اِستعمال غلط ہونے پر معنی یہ ہوگا کہ: ’’یہود نے حضرت عیسیٰ کو مصلوب ومقتول نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا مرتبہ بلند کیا۔‘‘ اس وجہ سے کہ اگر کوئی پیغمبر یا مؤمن ناحق مقتول ومصلوب ہوجائے تو وہ شہید ہوگا، اور شہید کا مرتبہ بلند ہوتا ہے، تو اس کا مقابلہ ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ کے لئے دُرست ہوگا۔ یہ مرزاقادیانی کی بدترین تحریف ہے جو بائبل کے خلاف جاتی ہے، حقیقتاً یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رُوحانی رَفع ہر نبی ورسول کو عطا کیا ہے، خصوصاً نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو پوری کائنات میں سب سے بڑھ کر رُوحانی رَفع عطا فرمایا، اگر رُوحانی رَفع کا معنی ہوتا اور رَفع جسمانی مراد نہ ہوتا تو ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ کے الفاظ ہر نبی کے حق میں مذکور ہوتے۔ بالخصوص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حق میں یہ الفاظ وارِد نہ ہونا اس چیز کی دلیل ہے کہ اس آیت سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رَفع جسمانی ہے اور یہ رَفع جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص ہے۔ اس آیت کے آخری الفاظ بھی دال ہیں:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ اس میں قدرت وقوّت کا اِظہار کیا گیا ہے، لفظ ’’عزیز‘‘ رفع جسمانی پر دلالت کر رہا ہے، لفظ ’’حکیماً‘‘ بھی اسی طرف اِشارہ کر رہا ہے، یعنی اللّٰہ تعالیٰ کا آسمان پر اُٹھانا حکمت پر مبنی ہے، آیتِ کریمہ کا خطاب خود دلیل ہے:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘
(النساء:۱۵۹)
یعنی اہلِ کتاب کا کوئی فرقہ نہ ہوگا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لائیں گے موت سے پہلے۔ ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ دونوں ضمیروں کا مرجع عیسیٰ ہے۔ لفظ ’’لَیُؤْمِنَنَّ‘‘ میں نون تاکید ثقیلہ ہے اور فعل مضارع کو مستقبل سے مختص کرتا ہے۔ لہٰذا اس مضمونِ آیت کا تعلق نزولِ قرآن کے مابعد زمانے سے ہے، اور ایسے زمانے سے ہے کہ حضرت مسیح کو اہلِ کتاب سے زمینی تعلق قائم رہے، تاکہ وہ آپ کے ہاتھ پر اِسلام قبول کرسکیں۔ پس ہمارا دعویٰ آیتِ کریمہ سے ہی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول برحق ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
267
’’فاقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘
(رواہ البخاری والمسلم، مشکوٰۃ ص:۴۷۹، الفصل الاوّل، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ نزولِ مسیح من السماء کے بعد اہلِ کتاب ان پر اِیمان لائیں گے۔ ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر اہلِ کتاب کی طرف لوٹانا صحیح نہیں ہے۔
وجہ:۔۔۔ اہلِ کتاب کی طرف نہ لوٹانے کی وجہ یہ ہے کہ انتشار ضمائر شان بلاغت کے خلاف ہے۔ ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی قید لگانے سے معنی یہ ہوگا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لائے گا، حالانکہ اِیمان تو مرنے سے پہلے لایا جاتا ہے، جیسے: نماز، روزے کو مرنے سے پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ مرنے سے پہلے اِیمان لائیں گے ایسا ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ: ’’میں نے روٹی کھائی مرنے سے پہلے‘‘، ’’پانی پیا مرنے سے پہلے‘‘ یہ ایک حقیقت کے خلاف ہے کہ حالتِ نزع میں اِیمان لانا تو معتبر بھی نہیں ہے، اگر حالتِ نزع کے وقت اِیمان کو معتبر تسلیم کرلیا جائے تو فرعون کا اِیمان بھی معتبر تسلیم کرنا پڑے گا، جس کا تصوّر کرنا بھی عبث ہے۔ اس کے علاوہ نزع کے وقت تو ہر کافر اپنے نبی پر اِیمان لاتا ہے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس امر کی تخصیص کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ لہٰذا ’’مَوْتِہٖ‘‘ میں ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی ماننے سے قرآنی مفہوم صحیح ہوگا، ورنہ نہیں۔
’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُونِ ہَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ. وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطَانُ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘‘ (الزخرف) ’’ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں، قیامت میں شک نہ کرو، اور میری پیروی کرو، یہی سیدھی راہ ہے، شیطان تم کو اس بات کے ماننے سے نہ روکے، وہ تمہارا کھلا دُشمن ہے۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی علامت ہونے کی وجہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کی علامت ہونے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں، جو یہ ہیں:
۱:۔۔۔ بلاباپ پیدائش۔
۲:۔۔۔ مُردوں کو دوبارہ زِندہ کرنا۔
۳:۔۔۔ نزول یعنی آسمان سے نازل ہونا۔
ان تینوں وجوہات کی بنا پر آپ کی شخصیت کا آسمان سے نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ٹھہرایا گیا۔ ’’إِنَّہُ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، علامہ ابنِ جریرؒ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک متواتر حدیث نقل کی ہے کہ آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے نزول ہوگا، اسی وجہ سے آپ کے آسمان سے نازل ہونے کو علامت قربِ قیامت قرار دیا گیا ہے۔ محض بلاباپ ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ آسمان سے نازل ہونے کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قربِ قیامت کی علامت ٹھہرایا گیا اور یہی مدد اِلٰہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے قربِ قیامت میں نزول ہے جو اس عقیدے سے روک دے وہ شیطان ہے۔’’یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطَانُ‘‘ تم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے سے شیطان روک نہ دے، لہٰذا
268
ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے کو نہ ماننا فعل شیطانی ہے اور روکنے والا اور نہ ماننے والا شیطان ہے۔
’’إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہاً فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘
(آل عمران:۴۵)
’’اس وقت کو یاد کرو جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم! بے شک اللّٰہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں، ایک کلمے کی جو من جانب اللّٰہ ہی ہوگا، اس کا نام مسیح ابنِ مریم ہوگا، بآبرو ہوں گے دُنیا میں اور آخرت میں اور من جملہ مقربین میں سے ہوں گے۔‘‘
اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مقرّب فرمایا گیا ہے۔
’’لَّن یَسْتَنکِفَ الْمَسِیْحُ أَن یَکُونَ عَبْداً لِّٰلہِ وَلاَ الْمَلآئِکَۃُ الْمُقَرَّبُونَ‘‘
(النساء:۱۷۲)
’’مسیح کو اللّٰہ تعالیٰ کے بندے ہونے سے عار نہیں اور نہ ملائکہ مقربین کو عار ہے۔‘‘
قرب سے مراد جسمی وحسی وسماوی ہے۔ علامہ فخرالدین رازی رحمۃاللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مقربین میں سے لیا گیا ہے جو اس اَمر کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ملائکہ کی صحبت میں ہیں۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۸-۳۴۴)
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت تواتر سے
سوال:۔۔۔ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام بوقتِ قیامت کیا آیتِ قرآنیہ سے ثابت ہے، اگر ثابت ہے تو کس آیت سے؟ اگر نہیں ثابت ہے، اس پر تواتر ہے یا اِجماع ہے یا نہیں؟ اس کا اِنکار باعثِ کفر ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔حامدًا ومصلیًا! اکثر مفسرین نے آیتِ قرآنی: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹) میں ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع قرار دے کر اس سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام مراد لیا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے:
’’عن ابن شھاب ان سعید بن المسیب سمع ابا ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل بینکم ابن مریم حکمًا عدلًا یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتّٰی لا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدُّنیا وما فیھا۔ ثم یقول ابو ھریرۃ: واقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۴۹۰)
اور آیتِ قرآنی: ’’وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُونِ ہَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ‘‘ (الزخرف:۶۱) کی ایک قراء ت: ’’لَعَلَم للساعۃ‘‘ (بفتح اللام) ہے، یعنی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام علاماتِ قیامت میں سے ہے۔ قال مجاھد وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسَی ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ وھٰکذا روی عن ابی ھریرۃ وابن عباس وابی
269
العالیۃ وابی مالک وعکرمۃ والحسن وقتادۃ وضحاک وغیرھم (عقیدۃ الإسلام)۔
نیز اَحادیثِ متواترہ سے بھی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہے، چنانچہ ابنِ کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں اس کی صراحت کی ہے:
’’وإنہ سینزل قبل یوم القیامۃ کما دلَّت علیہ الأحادیث المتواترۃ التی سنوردھا إن شاء ﷲ قریبًا۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر مع البغوی ج:۲ ص:۱۴)
اس مسئلے سے متعلق بہت سے رسائل چھپ چکے ہیں، مثلاً: التصریح بما تواتر فی نزول المسیح، عقیدۃ الإسلام فی حیات عیسٰی علیہ السلام وغیرہ کا مطالعہ کرلیا جائے۔
عقیدۂ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانا فرض ہے، اس کا اِنکار کفر ہے، اور اس کی تأویل کرنا زَیغ وضلال اور کفر واِلحاد ہے۔
’’فالإیمان بھا واجب والإنکار عنھا کفر والتأویل فیھا زیغ وضلال وإلحاد نزل اھل الإسلام فی حیاۃ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام‘‘
(مقدمۃ عقیدۃ الإسلام ص:۳۱)
|
الجواب صحیح |
فقط واللّٰہ اعلم |
|
بندہ نظام الدین عفی عنہ |
حررہ العبد محمود عفی عنہ |
|
دارالعلوم دیوبند |
دارالعلوم دیوبند |
|
۸؍۱؍۱۳۸۸ھ |
۸؍۱؍۱۳۸۸ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۲ ص:۱۴۶ تا ۱۴۸)
نزولِ رُوحانی کی نہیں، جسمانی کی ضرورت ہے
سوال:۔۔۔ اسلامی دوران یعنی رسالتِ محمدیہ میں نزولِ جسمانی ابنِ مریم کی کیا ضرورت ہے؟ بنی آدم پر تسلط شیطانی رُوحانی ہے، جس کے دفعیہ کے لئے نزولِ مسیح بھی رُوحانی ہونا چاہئے، مسیحیوں کا خود عقیدہ ہے کہ مسیح کا نزولِ ثانی جلالی ہوگا۔
شیخ قاسم علی اوورسیئر
جواب:۔۔۔ جتنے انبیائے کرام علیہم السلام آئے ہیں، وہ ایسے ہی اوقات میں آئے کہ شیطان کا لوگوں پر غلبہ تھا۔’’اسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطَانُ‘‘ (المجادلۃ:۱۹) تو کیا انبیاء کی پیدائش جسمانی تھی یا رُوحانی؟ ’’وَجَعَلْنَا لَہُمْ أَزْوَاجاً وَذُرِّیَّۃً‘‘ (الرعد:۳۸) ۔ مسیحیوں کا عقیدہ جلالی کے معنی ہیں: باحکومت۔ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے، بلکہ ہمارے زمانے کے غیراَصلی مسیح قادیانی کا بھی یہی عقیدہ ہے، ملاحظہ ہو: ’’براہین احمدیہ‘‘ (ص:۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)، اور ’’اِزالہ اوہام‘‘ (ص:۱، خزائن ج:۳ ص:۵۱)۔
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۲ ص:۱۵۲،۱۵۳)
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قرآن وحدیث کی وضاحت
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں میرے اور بہت سے اَحباب کے ذہنوں میں کافی
270
اُلجھن پائی جاتی ہے، میں نے اس موضوع پر تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے، قرآن کا بھی، لیکن میں نے ان دونوں چیزوں میں بڑا تضاد پایا ہے، یا پھر ہماری عقلِ ناقص کا قصور ہے۔
قرآنی آیات واحادیث سے قطع نظر سب سے پہلے اگر ہم عقلی دلائل سے اسی عقیدے کا جائزہ لیں تو کیا یہ بات سامنے نہیں آتی کہ یہ عقیدہ شیعوں اور یہودیوں سے منتقل ہوکر ہماری جماعت میں آگیا ہے، تمام مذاہب میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے، نزولِ عیسیٰ اور زِندہ اُٹھائے جانے کے بارے میں قرآن خاموش ہے، اور اَحادیث میں ملتا ہے، لیکن تضاد ہے۔
اِمام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ، اِمامِ اِنقلاب مولانا عبیداللّٰہ سندھیؒ وغیرہ جیسی اہم شخصیات بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی منکر ہیں۔ میرے خیال میں عقیدۂ ختمِ نبوّت اور عقیدۂ نزولِ مسیح ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ کیا یہ بات اِسرائیلی روایات سے منتقل ہوکر تو ہمارے پاس نہیں آگئی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور سولی پر چڑھانے کی سمجھ آتی ہے، مگر رَفع کی سمجھ نہیں آتی۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو کیا کریں گے؟
میری گزارش پر تنقیدی نگاہ ڈال کر قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنے حتمی خیالات سے آگاہ فرمائیں۔
ڈاکٹر ہمایوں مرزا، سیالکوٹ
جواب:۔۔۔ محترم ڈاکٹر ہمایوں مرزا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
آپ کے خط میں اُٹھائے گئے نکات پر ہماری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ آپ نے صرف ایک پہلو پر نظر فرمائی ہے جو منفی ہے، اور مثبت پہلو سے صَرفِ نظر فرمائی ہے، جبکہ ناقد کے لئے دونوں پر نظر رکھنا لازم ہوتا ہے۔ میں مختصراً ہی کچھ لکھ سکوں گا، تفصیلاً ان موضوعات پر سب کچھ لکھا جاچکا ہے۔ آپ جیسے حساس آدمی کی نظر سے اوجھل نہ ہونا چاہئے۔
آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی جس اُلجھن کا ذِکر فرمایا ہے، اگر اس کے بارے میں قرآنی آیات، احادیث یا باقی معلومات جو آپ کے ذہن اور مطالعے میں محفوظ ہیں، اگر آپ ان کو ذِکر فرمادیتے تو غور وفکر کی راہیں کھلتیں اور اِفہام وتفہیم میں سہولت ہوتی۔ آپ کے دلائل کا وزن بھی معلوم ہوتا اور ہمیں غور کرنے کے لئے کوئی نکتہ ہاتھ آتا۔
آپ نے لکھا ہے:
’’میں نے اس موضوع کی تمام احادیث کا بھی بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے ، اور اس بارے میں قرآن کیا کہتا ہے، وہ بھی میری نظر سے گزرا ہے، لیکن میں نے ان دونوں میں بڑا تضاد پایا ہے۔‘‘
(ملخصاً)
لیکن آپ نے پورے خط میں کوئی ایک تضاد بھی ثبوت میں پیش نہیں کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ: ’’آیات واحادیث میں ہرگز کوئی تضاد نہیں، تضاد آپ کے ذہن اور فہم میں ہے۔‘‘
قرآنی آیات واحادیث سے قطع نظر، آپ مسلمان ہیں، قرآنی آیات واحادیث سے آپ ایک آن کے لئے بھی قطع نظر نہیں کرسکتے، تاوقتیکہ اللّٰہ ورسول کے حکم سے آزاد ہوجائیں۔ عقلی دلائل قرآن وسنت کے بعد آتے ہیں۔ یاد رکھیں! عقل چراغِ راہ
271
ہے، منزل نہیں ہے۔ بہت افسوس ہے کہ آپ بلادلیل ان عقائد کو یہودیوں کی طرف سے فرما رہے ہیں۔ جناب! یہود ونصاریٰ ہوں یا کوئی اور، اسلام دُوسروں کی ہر بات کو رَدّ نہیں کرتا، وہ تو اہلِ کتاب کو دعوت دیتا ہے:
’’قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَی کَلَمَۃٍ سَوَاء بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہِ شَیْئاً وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللہِ‘‘
(آل عمران:۶۴)
’’ایسی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں (مشترک) ہے، یہ کہ ہم اللّٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں، اور ہم میں کوئی ایک دُوسرے کو رَبّ نہ بنائے اللّٰہ کے سوا۔‘‘
دیکھا! کتابی کافروں سے ایک نکتۂ وحدت پر متحد ہونے کی فرمائش ہو رہی ہے۔ کیا یہود ونصاریٰ یا ہندو، پارسی کوئی بھی خدا کو ماننے کا اِعلان کرے تو ہم اس کی اس بات سے انکار کریں گے؟ اگر وہ جان ومال، عزّت کی حرمت کا اِعلان کریں تو ہم مخالفت کریں گے؟ اگر وہ انبیائے کرام ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ کی نبوّت ورِسالت اور قیامت پر اِیمان لانے کا اِعلان کریں تو ہم ان باتوں میں بھی ان کی مخالفت کریں گے؟ اگر کوئی یہودی، بدکاری، شراب، جوا، قتلِ ناحق، سود، رِشوت وغیرہ کے خلاف تحریک چلائے تو ہم ان بُرائیوں کی حمایت کریں گے کہ یہودیت ہے؟ قرآنِ کریم نے واضح حکم دیا ہے:
’’وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ‘‘
(المائدۃ:۲)
’’نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دُوسرے کی مدد کرو، اور گناہ وزیادتی میں ایک دُوسرے کی مدد مت کرو۔‘‘
پس اِسرائیلی روایات تمام کی تمام نہ قابلِ رَدّ ہیں، نہ قابلِ تسلیم، جو اِسلامی اَحکام وروایات کے موافق ہیں، ان کو تسلیم کیا جائے گا، جو مخالف ہیں، ان کو رَدّ کیا جائے گا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’حدثوا عن بنی إسرائیل ولا حرج۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۹۱)
’’بنی اِسرائیل سے باتیں نقل کرو، کوئی حرج نہیں۔‘‘
کیا یہ عقیدہ یہود یا شیعہ سے نقل ہوکر ہمارے ہاں آگیا ہے؟
آپ کا یہ فرمانا کہ:
’’حیاتِ مسیح یا اِمام مہدی کا عقیدہ شیعہ اور یہود سے ہوکر ہماری جماعت میں آگیا ہے۔‘‘
دُرست نہیں۔ نہ اس پر آپ نے کوئی ثبوت دیا، نہ حوالہ، جبکہ صحیح احادیث سے یہ دونوں باتیں ثابت ہیں اور حیاتِ مسیح کا مسئلہ تو خود قرآنِ کریم میں موجود ہے۔
آپ کا یہ فرمانا بھی غلط ہے کہ:
’’قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زِندہ اُٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کے متعلق بالکل
272
خاموش ہے، یہ عقیدہ ہمیں صرف اور صرف احادیث میں ملتا ہے۔‘‘
جی نہیں! آپ کو مغالطہ ہوا ہے، یہودی، مسیح علیہ السلام کے دُشمن تھے، انہوں نے آپ کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ناکام کردیا، قرآن میں ان کے اس قول کو َردّ کیا گیا ہے کہ:
’’إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُولَ اللہِ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ… بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘
(النساء:۱۵۷،۱۵۸)
’’ہم نے مسیح اللّٰہ کے رسول کو قتل کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا، نہ آپ کو سولی دی، بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ (پھر فرمایا) بلکہ اللّٰہ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا۔‘‘
پھر اِرشاد فرمایا:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘
(النساء:۱۵۹)
’’کوئی اہلِ کتاب میں سے ایسا نہیں جو ان کی موت سے پہلے ان پر اِیمان نہ لائے۔‘‘
’’رَفع‘‘ یعنی اُٹھانے کا لفظ قرآن میں کہیں وفات اور موت کے معنی میں اِستعمال نہیں ہوا تو یہاں بھی موت کے معنی میں نہیں، بلکہ رَفع یعنی اُوپر اُٹھانے کے معنی میں ہی اِستعمال ہوا ہے جو اس کا حقیقی معنی ہے۔
احادیثِ مقدسہ:۔۔۔ حضرت نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے علاماتِ قیامت میں سے دجال کا ذِکر فرمایا، اس کے شعبدے بیان فرمائے، اسی اثنا میں آگے چل کر آپ نے فرمایا:
’’ھو کذالک إذ بعث ﷲ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھرودتین واضعًا کفَّیہ علٰی اجنحۃ ملَکین إذا طاْطاَ رأسہ قطر وإذا رفعہ تحدر منہ جمان کاللؤْلؤْ فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہ إلَّا مات ونفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ فیطلبہ حتّٰی یدرکہ بباب لد فیقتلہ ثم یأتی عیسٰی قوم قد عصمھم ﷲ منہ فیمسح عن وجوھھم ویحدثھم بدرجاتھم فی الجنَّۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
(الصحیح المسلم ج:۲ ص:۴۰۱)
’’دجال اسی حال میں ہوگا کہ اچانک اللّٰہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، وہ جامع دمشق کے سفید مشرقی منارے کے پاس اُتریں گے، زَرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس، دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے، سر جھکائیں تو پسینے کے قطرے گریں گے اور جب سر اُٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح قطرے جھڑیں گے، ان کے سانس کی خوشبو جو کافر سونگھے گا، مرجائے گا، ان کے سانس وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی، آپ دجال کو تلاش کریں گے، بابِ لُدّ کے پاس اسے پکڑ کر قتل کردیں گے، پھر عیسیٰ
273
علیہ السلام ان لوگوں کے پاس تشریف لائیں گے جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے اس سے بچایا ہوگا، ان کے چہروں سے غبار پونچھیں گے اور جنت میں ان کے درجے انہیں بتائیں گے۔‘‘
علاماتِ قیامت کے بارے میں طویل حدیث کا صرف متعلقہ حصہ ہم نے نقل کردیا ہے۔ نیز رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’لا یدخل المدینۃ رعب المسیح الدجال ولھا یومئذ سبعۃ ابواب علٰی کل باب ملَکان۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۵۵)
’’مسیحِ دجال کا رُعب مدینہ منوّرہ میں داخل نہ ہوگا، اس دن مدینہ منوّرہ کے سات دروازے ہوں گے، ہر دروازے پر دو فرشتے پہرہ دیں گے۔‘‘
آقائے دوجہان صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیحِ دجال مدینہ منوّرہ کے نواح میں آئے گا:
’’ترجف ثلاث رجفات فیخرج إلیہ کل کافر ومنافق۔‘‘
(ایضًا)
’’مدینہ منوّرہ میں تین زلزلے آئیں گے جن کے نتیجے میں ہر کافر ومنافق اس کی طرف چل نکلے گا۔‘‘
حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللّٰہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمد وثنا فرمائی، پھر دَجال کا ذِکر فرمایا اور فرمایا: میں تمہیں اس کے بارے میں خبردار کرتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے خبردار نہ کیا ہو، لیکن میں تمہارے سامنے اس کے متعلق ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی:
’’إنَّہ اعور، وإن ﷲ لیس بأعور۔‘‘
(ایضًا)
’’بے شک وہ کانا ہے، جبکہ اللّٰہ اس عیب سے پاک ہے۔‘‘
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’فینزل عیسَی ابن مریم فإذا رآہ عدو ﷲ ذاب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ لانذاب حتّٰی یھلک ولٰکن یقتلہ ﷲ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ۔‘‘
(الصحیح المسلم ج:۲ ص:۳۹۲)
’’عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے، لوگوں کی اِمامت فرمائیں گے، جب ان کو اللّٰہ کا دُشمن (دجال) دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک حل ہوتا ہے، اگر آپ اسے چھوڑ دیں تو پگھل کر ہی ہلاک ہوجائے، لیکن اللّٰہ تعالیٰ اس کو آپ کے ہاتھ سے قتل کرے گا، پھر اس کا خون نیزے میں لگا ہوا لوگوں کو دِکھائے گا۔‘‘
اِختصار کے پیشِ نظر یہ چند صحیح احادیث پیش کی گئی ہیں، اب ایک مسلمان تو اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمان پر اِعتماد ویقین کرتا ہے، رہے آپ کے اِمامانِ اِنقلاب۔۔۔! تو ان کے دلائل آپ تلاش کرکے ہمیں بھی بتائیں، ہمیں اپنے آقا صلی اللّٰہ
274
علیہ وسلم کے فرمان پر اِطمینان ہے اور ہم اس کے خلاف کسی رائے کو ذرّہ بھر وقعت نہیں دیتے، بلکہ بالکل سرے سے وقعت ہی نہیں دیتے اور اسے پائے حقارت سے ٹھکراتے ہیں۔
آپ کے تمام خدشات کا جواب ہوگیا ہے، لیکن حرف بہ حرف ظاہر ہے کہ ہمیں بیسیوں صفحات پُر کرنا پڑے، جس کے لئے ہمارے پاس وقت بھی نہیں، فرصت بھی نہیں اور کسی اُصول کی پابندی نہ کرنے والے حضرات کی آرا پر وقت ضائع کرنا ضروری بھی نہیں۔ اگر ان باتوں پر کسی کے پاس قرآن وسنت سے یا کم از کم عقل سے ہی کوئی مضبوط دلیل ہے تو پیش کرے۔ ویسے بولتے چلے جانا اور نصوص کی پروا نہ کرنا، کسی مسلمان کی رَوِش نہیں۔ ہم نے جو لکھا، باحوالہ لکھا ہے، ہم اپنے عقائد پر مطمئن ہیں، اللّٰہ تعالیٰ سب کو ہدایت واِطمینان دے، آمین۔
واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۴۴۷-۴۵۳)
نوٹ:۔۔۔ مولانا ابوالکلام آزاد، یا مولانا عبیداللّٰہ سندھی ۔۔۔رحمہما اللّٰہ۔۔۔ کی طرف نزولِ مسیح کے اِنکار کی نسبت بھی قادیانی دجل کا شاہکار ہے۔ یہ دونوں حضرات جمیع اُمتِ مسلمہ کی طرح حیات ونزولِ مسیح کے قائل تھے۔
(مرتب)
بیان اِمام الہند مولانا ابوالکلام آزاد
عرصہ ہوا، میں نے مرزاقادیانی کا نوشتہ ’’براہین احمدیہ‘‘ (ص:۴۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳) میں پڑھا تھا کہ آیت: ’’ہُوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسُولَہُ بِالہُدٰی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظہِرَہٖ عَلَی الدِّینِ كُلِّہٖ‘‘ سیاسی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں آئیں گے تو سب اَدیان پر اِسلام کو غلبہ ہوگا۔‘‘ میں، بلکہ بہت سے مسلمان، مرزاقادیانی کی اس تحریر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے منتظر رہے، جب ہماری آنکھیں پتھراگئیں تو خداخدا کرکے قادیان سے آواز آئی کہ جس عیسیٰ موعود کے تم منتظر تھے وہ میں ہوں، تو بیساختہ ہمارے منہ سے نکلا:
-
خواستیم آنچہ ما فراز آمد
آب از جوئے رفتہ باز آمد
اس لئے ہم اس سیاسی غلبے کے منتظر رہے جو جناب مرزاقادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے صفحہ:۴۹۹، خزائن ج:۱ ص:۵۹۳ پر مسیحِ موعود (کی آمد سے متعلق) لکھا تھا اور ہم بہت خوش تھے کہ اب مسلمانوں کو ایک ایسا رُوحانی لیڈر مل گیا، جو اُن کو اِسلام کے پہلے عروج پر بلکہ اس سے بھی اُوپر پہنچائے گا، مگر واقعات نے ثابت کردیا کہ:
جو آرزو ہے اس کا نتیجہ ہے انفعال
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو!
آہ! ہماری بدنصیبی اور سیاہ بختی کی کوئی حد نہیں رہی، جبکہ ہم نے اس مسیحِ موعود کو یہ کہتے سنا جو ہم کو غیروں کی غلامی سے آزاد
275
کرانے اور دِینِ اسلام کو بامِ عروج پر پہنچانے کو آیا تھا، اس کی قلم کے لکھے ہوئے الفاظ جب ہم نے پڑھے کہ: ’’انگریزوں کی حکومت کو اُولِی الاَمرِ مِنكُم کی حکومت سمجھو‘‘
(رسالہ ’’ضرورتِ امام‘‘ بہ تعبیرِ الفاظ، ص:۲۳، خزائن ج:۱۳ ص:۴۹۳)۔
ساتھ ہی اس کے یہ امر ہماری حیرت میں اِضافہ کرنے کو کافی سے زیادہ ثابت ہوا، جب ہم نے ان کی تحریروں میں یہ بھی پڑھا کہ:’’إنّ یأجوج ومأجوج ھم النصاریٰ من الروس والأقوام البرطانیۃ ۔ انگریزی قوم یأجوج مأجوج ہے۔‘‘
(حمامۃ البشریٰ ص:۲۸، خزائن ج:۷ ص:۲۰۹،۲۱۰)
ہم حیران ہوئے کہ اِلٰہی! یہ دو مقدمات کیسے صحیح ہیں۔۔۔؟
1:۔۔۔ انگریز یأجوج مأجوج ہیں۔ 2:۔۔۔ انگریز ہمارےاُولِی الاَمرِ مِنكُم ہیں۔
ان دونوں مقدموں کا نتیجہ منطقی اُصول سے تو یہی برآمد ہوتا ہے کہ ہم (مرزائی، یا مرزا کو ماننے والے) یأجوج مأجوج کے متبع ہیں، واللّٰہ! یہ نتیجہ سمجھ کر ہمارے دِل کانپ اُٹھے کہ اِلٰہی! یہ کیا ماجرا ہے؟ وہ عیسیٰ مسیحِ موعود جو مسلمانوں کے سیاسی غلبے اور دِینی ترقی کے لئے آئے تھے، انہوں نے آج اپنے اَتباع کو یأجوج مأجوج کے ماتحت رہنے کا، بلکہ ان کو اپنے میں سے جاننے کا حکم دیتے ہیں، یا للعجب۔۔۔!
اس کے علاوہ ہم نے دُنیا کے واقعات پر غور کیا تو ناقابلِ تردید صداقت یہ پائی کہ مرزاقادیانی کے پیدا ہونے اور دعویٔ مسیحیت کرنے سے پہلے مسلمانوں کی سیاسی حالت جو تھی، وہ آج سے بہت اچھی تھی، دُنیا کے بہت سے ملکوں میں ان کی آزاد حکومتیں تھیں، ان کو سیاسی اِعزاز حاصل تھا، مگر جوں ہی مسیحِ موعود نے ظہور فرمایا، وہ سیاسی کیفیت تبدیل ہونے لگی، یہاں تک کہ یہ منحوس آواز بھی ہم نے سنی کہ قسطنطنیہ پر غیر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا، جو بہادر، جواںمرد ۔۔۔غیرمسیحِ موعود۔۔۔ کی ہمت سے اُٹھ گیا،لِلّٰہِ الْحَمْدُ!
یہ تو ہوئی مسلمانوں کی سیاسی کیفیت! اس کے علاوہ مذہبی کیفیت میں بھی اسلام کچھ ترقی نہ کرسکا۔ نہ مسلمانوں کی مردُم شماری میں نمایاں ترقی ہوئی، نہ سیاسی اُمور میں کچھ کامیاب ہوئے، بلکہ جس مذہبِ عیسویت کو مٹانے کے لئے ۔۔۔فرضی۔۔۔ حضرت مسیحِ موعود تشریف لائے تھے، اس کی دِن دُگنی، رات چوگنی ترقی ہوئی۔ دُور نہ جائیں اور کبوتر کی طرح ہم آنکھیں بند نہ کریں، تو ہم کو مسیحِ موعود مرزاقادیانی کے اپنے ملک میں نظر آتا ہے کہ ان کے دعوے سے پہلے عیسائی چند نفوس تھے، مگر آج صرف پنجاب میں نصف کروڑ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
یہ ہیں واقعات جو ہم کو مرزاقادیانی کے مذہبی اور ملکی رہنما بنانے میں مانع ہیں، اور بے ساختہ ہمارے قلم سے یہ شعر نکل رہے ہیں:
-
یہ مان لیا ہم نے کہ عیسیٰ سے سوا ہو
جب جانیں کہ در ودل عاشق کی دوا ہو
(اہلحدیث امرتسر ص:۴، ۱۲؍صفر ۱۳۴۳ھ)
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۱ ص:۳۷۵ تا ۳۷۷)
276
خروجِ دجال ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام
سوال:۔۔۔ پنجاب کے بعض عالم کہتے ہیں کہ دجال کا کچھ وجود نہیں، دجال یہی حاکم ظالم ہیں، اور جنت ونار اس کی ہی ریل گاڑی ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے، عیسیٰ موعود میں ہوں، اس واسطے علمائے دِین دار اہلِ سنت والجماعت سے اِستفتاء ہے کہ پنجاب کے اس عالم کے یہ اقوال سچ ہیں یا محض غلط؟ بیان کرو کہ عوام کا شک وشبہ رفع ودفع ہوجائے۔
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بارہ تیرہ صحابی وصحابیہ حذیفہ بن اُسید الغفاری وابوہریرہ وعمران بن حصین وعبداللّٰہ بن مسعود وانس بن مالک وحذیفہ بن یمان ونواس بن سمعان وابوسعید خدری وابی بکرہ وفاطمہ بنت قیس وعبداللّٰہ بن عمر وابی عبیدۃ بن الجراح واسماء بنت یزید بن السکن ومغیرہ بن شعبہ ۔۔۔رضی اللّٰہ عنہم۔۔۔ روایت کرتے ہیں کہ قربِ قیامت کے دجال ظاہر ہوگا، اور شبیہ عبدالعزیٰ بن قطن کے ہوگا، کہ یہ مشرکین میں سے گزرا ہے، اور وہ مثل اَبر کے تمام دُنیا میں پھیل جائے گا اور قیام اس کا چالیس دن ہوگا۔ ایک دن مثل برس کے، اور ایک دن مہینے بھر کا ہوگا، اور ایک دن ہفتے بھر کا ہوگا، باقی دن اپنے حال پر بدستور رہیں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ: برس دن کی نماز کیونکر اَدا ہوگی؟ آیا ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ فرمایا: نہیں! وقت کا اندازہ کرکے پانچوں نمازیں پڑھتے رہنا۔ اور مشکوٰۃ شریف، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال ص:۴۷۴ میں دجال کا اَحوال دیکھنا چاہئے، یہاں ایک دو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں، اور دجال کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے اور وہ دجال کو قتل کریں گے۔ اور مشکوٰۃ میں ایک خاص باب نزول عیسیٰ علیہ السلام کا منعقد کیا ہے، سب اَحوال عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا اس باب میں دیکھنا چاہئے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بیان صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں مفصلاً مذکور ہے اور قرآن شریف میں سورۂ زُخرف سے نازل ہونا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صاف واضح ہوتا ہے۔وانہ ای عیسٰی لعلم للساعۃ تعلم بنزولہ وقرأ ابن عباس بفتحتین للمبالغۃ کذا فی الکمالین۔ (۱) اور اسی طرح سے تفسیر مدارک وبیضاوی وکبیر ومعالم وغیرہ میں مذکور ہے۔
وانہ بدر ستیکہ عیسیٰ علیہ السلام لعلم للساعۃ علم است مرساعت را یعنی بدو بدانیند، کہ نزدیک است قیامت چہ یکے از علامات قیامت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام است کہ بعد از تسلط دجال از آسمان برزمین فرود آید، نزدیک منارۂ بیضاء درطرف شرقی دمشق وجامہ رنگین پوشیدہ باشد وہر دو کف دست خود را بر بالہائے دو فرشتہ نہادہ در رخسارہ مبارکش عرق کردہ چون سر درپیش افگند قطرات از وریش ریزان گردد وچوں سر بالا کند آں قطرہا بر روئے وے چون مروارید روان شود، ونفس وے بر ہر کافر کہ رسد، مبیرد، وہر جا کہ چشم وے افند نفس وے برسد، پس در طلب دجال رواں گردد، در بابِ لُدّ کہ موضعے است در ولایتِ شام بد ورسد واورا بکشد انگہ یاجوج ماجوج بیروں آیند، وعیسیٰ علیہ السلام بکوہ طور بر ومومناں را وآنجا متحصن گردد، القصہ چوں معلوم شد، کہ عیسیٰ علیہ السلام نشانہ قربِ قیامت است، کذا فی التفسیر الحسینی۔
(۱) اور وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں، آپ کے نازل ہونے سے قیامت کے وقت کا قرب معلوم ہوجائے گا۔ عبداللّٰہ بن عباسؓ ’’لعلم‘‘ کو مبالغے کے لئے بفتحتین پڑھتے تھے، کمالین میں ایسا ہی منقول ہے۔
277
اور اس آیت کی مفسر حدیثیں صحاحِ ستہ کی ہیں،کما لا یخفی علی الماہر بھٰذا الفن، س منکر نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فاسق ہے، بلکہ کافر، کیونکہ صریح نص کا منکر ہے اور تأویل اس کی باطل اور مردود وخلاف سبیلِ مؤمنین کے ہے۔ ’’وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ‘‘ (۱) (النساء:۱۱۵) کا مصداق ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ وان عیسٰی العلم للساعۃ ای شرط من اشراطھا تعلم بہ فسمی الشرط الدال علی الشیء علما لحصول العلم بہ وقرأ ابن عباس یعلم وھو العلامۃ انتھی ما فی التفسیر الکبیر مختصرًا وانہ لعلم للساعۃ یعنی نزول من اشراط الساعۃ تعلم بہ وقرأ ابن عباس وابوھریرۃ وقتادۃ وانہ لعلم للساعۃ بفتح اللام والعین ای امارۃ وعلامۃ۔ انتھی ما فی معالم التنزیل۔ (۲)
مشکوٰۃ کے ’’باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال‘‘ (ص:۴۷۳) میں ہے:
’’عن النواس بن سمعان رضی ﷲ عنہ قال: ذکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم الدَّجَّال فقال: إن یخرج وانا فیکم فأنا حجیجہ دونکم، وإن یخرج ولست فیکم فأمرؤٌ حجیج نفسہٖ وﷲ خلیفتی علٰی کل مسلم، انہ شاب قطط عینہ طافیۃ کأنی اشبہہ بعبدالعزَّی بن قطن، فمن ادرکہ منکم فلیقرأ علیہ فواتح سورۃ الکھف، وفی روایۃ: فلیقرأ علیہ بفواتح سورۃ الکھف فإنھا جوارکم من فتنتہ، إنہ خارج خلۃ بین الشام والعراق، فعاث یمینًا وعاث شمالًا، یا عبادﷲ فاثبتوا! قلنا: یا رسول ﷲ! وما لبثہ فی الأرض؟ قال: اربعون یومًا، یوم کسنۃ، ویوم کشھر، ویوم کجمعۃ، وسائر ایامہ کأیامکم۔ قلنا: یا رسول ﷲ! فذالک الیوم الذی کسنۃ ایکفینا فیہ صلاۃ یوم؟ قال: لا! اقدروا لہ قدرہ۔ قلنا: یا رسول ﷲ! وما إسراعہ فی الأرض؟ قال: کالغیث استدبرتہ الریح فیأتی علی القوم فیدعوھم فیؤْمنون بہ فیأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت، فتروح علیھم سارحتھم اطول ما کانت ذری واسبغہ ضروعًا وامدہ خواصر ثم یأتی القوم فیدعوھم فیردون علیہ قولہ فینصرف عنھم فیصبحون ممحلین لیس بأیدیھم شیء من اموالھم، ویمر بالخربۃ فیقول لھا: اخرجی کنوزک! فتتبعہ کنوزھا کیعاسیب النحل، ثم یدعو
(۱) جو آدمی واضح ہدایت، واضح ہوجانے کے بعد بھی رسول کی نافرمانی کرے اور اِیمانداروں کی راہ چھوڑ کر کوئی اور راہ اِختیار کرے تو ہم اس کو جدھر جاتا ہے، جانے دیں گے اور بالآخر اس کو جہنم میں ڈال دیں گے۔
(۲) اور وہ قیامت کا ایک نشان ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں، ان کے آنے سے قیامت کا وقت قریب ہونا معلوم ہوجائے گا، شرط دال علی الشیء کو علم سے تعبیر کیا، کیونکہ ان کے آنے سے قیامت کا علم ہوجائے گا، عبداللّٰہ بن عباسؓ نے اس کو علم پڑھا ہے، جس کے معنی نشانی ہیں، تفسیر کبیر کا خلاصہ ختم ہوا۔ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ عبداللّٰہ بن عباسؓ، ابوہریرہؓ، قتادہؒ وغیرہ نے اس کو علم پڑھا، ہے، جس کے معنی علامت اور نشانی ہے۔
278
ممتلیا شبابًا فیضربہ بالسیف فیقطعہ جزلتین رمیۃ الغرض ثم یدعوہ فیقبل ویتھلل وجھہ یضحک فبینما ھو کذالک إذ بعث ﷲ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھزودتین واضعًا کفیہ علٰی اجنحۃ ملَکین إذا طأطأَ راْسہ قطر وإذا رفعہ تحدر منہ مثل جمان کاللؤْلؤْ، فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہ إلا مات، ونفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ، فیطلبہ حتّٰی یدرکہ بباب لُدّ فیقتلہ ثم یأتی عیسٰی قوم قد عصمھم ﷲ منہ فیمسح عن وجوھھم ویحدثھم بدرجاتھم فی الجنَّۃ، فبینما ھو کذالک إذ اوحی ﷲ إلٰی عیسٰی إنِّی قد اخرجت عبادًا لی لا یدان لأحد بقتالھم، فحرز عبادی إلی الطور، فیبعث ﷲ یأجوج ومأجوج وھم من کل حدب ینسلون، فیمر اوائلھم علٰی بحیرۃ طبریۃ فیشربون ما فیھا ویمر آخرھم فیقول: لقد کان بھٰذہ مرۃ ماء، ثم یسیرون حتّٰی ینتھوا إلی الجبل الخمر وھو جبل بیت المقدس فیقولون: لقمت قتلنا من فی الأرض ھلم فلنقتل من فی السماء! فیرمون بنشابھم إلی السماء فیرد ﷲ علیھم نشابھم مخضوبۃ دمًا ویحصر نبی ﷲ واصحابہ حتّٰی یکون راس الثور لأحدھم خیرًا من مائۃ دینار لأحدکم الیوم، فیرغب نبی ﷲ عیسٰی واصحابہ فیرسل ﷲ علیھم النغف فی رقابھم فیصبحون فرسی کموت نفس واحدۃ ثم یھبط نبی ﷲ عیسٰی واصحابہ إلی الأرض فلا یجدون فی الأرض موضع شبر إلَّا ملأہ زھمھم ونتنھم فیرغب نبی ﷲ عیسٰی واصحابہ إلی ﷲ فیرسل ﷲ طیرًا کأعناق البخت فتحملھم فتطرحھم حیث شاء ﷲ ………………… ثم یرسل ﷲ مطرًا لا یکِنُّ منہ بیت مدر ولا وبر فیغسل الأرض حتّٰی یترکھا کالزلفۃ ثم یقال للأرض: انبتی ثمرتک وردی برکتک فیومئذ تاکل العصابۃ من الرُّمَّانۃ ویستظلون بقحفھا ویبارک فی الرسل حتی ان اللقحۃ من الإبل لتکفی الفئام من الناس واللقحۃ من البقر لتکفی القبیلۃ من الناس، واللقحۃ من الغنم لتکفی الفخذ من الناس، فیناھم کذالک إذ بعث ﷲ ریحًا طیبۃ فتأخذھم تحت آباطھم فتقبض روح کل مؤْمن وکل مسلم ویبقی شرار الناس یتھارجون فیھا تھارج الحمر فعلیھم تقوم الساعۃ۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۲ ص:۴۰۱، ۴۰۲، باب ذکر الدَّجَّال، الروایۃ الثانیۃ، وھی قولھم تطرحھم النھبل إلٰی قولہ سبع سنین، رواہ الترمذی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت نواس بن سمعانؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دجال کا ذِکر کیا، پس فرمایا: اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو تم سب کی طرف سے میں اس سے جھگڑوں گا، اگر میرے
279
بعد نکلا، تو ہر شخص خود اس سے جھگڑے گا، اور اللّٰہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ وہ دجال جوان ہوگا، گھونگریالے بال والا، اس کی آنکھ نکلی ہوئی ہوگی، یعنی کانا ہوگا، بس ایسا ہوگا، جیسے عبدالعزیٰ بن قطن کو جانتے ہو، سو جو اس کو پائے، تو اس پر سورۂ کہف کی اِبتدائی آیتیں ضرور پڑھ لے، کیونکہ وہ اس کے فتنے سے اس کو بچائیں گی، وہ شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلنے والا ہے، اور داہنے بائیں (گویا ہر طرف) دوڑنے والا ہے، سو اللّٰہ کے بندو! ثابت رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! وہ زمین میں کس قدر ٹھہرا رہے گا؟ فرمایا: چالیس دن! ایک دن سال بھر کا، ایک دن مہینہ بھر کا، ایک دن ہفتہ بھر کا، اور باقی دن یہ تمہارے معمول کے دن ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: حضرت! تو اس سال بھر کے دن میں ایک دن کی نماز ہم کو کافی ہوگی؟ فرمایا: نہیں! ان معمولی دنوں کے اندازے سے پڑھتے رہنا (اور مہینے اور ہفتے بھر کا دِن بھی اسی قیاس پر) ہم نے پوچھا: حضرت! اس کا جلد جلد پھرنا زمین میں کیسا ہوگا؟ فرمایا: جیسے ہوا اَبر کو پھیلاتی ہے، سو وہ دجال ایک قوم کے پاس آئے گا، اور ان کو اپنے دِین طرف بلائے گا، وہ اس کا کہنا مان لیں گے، تو آسمان کو حکم کرے گا، خوب بارش ہوگی، اور زمین میں سبزی خوب اُگے گی، اور ان کے مویشی کھاکھاکر خوب پلیں گے، اور دُودھیلے ہوں گے۔ اور ایک قوم کے پاس آئے گا، ان کو بھی اپنی طرف بلائے گا، وہ اس کا کہنا نہ مانیں گے، وہاں سے چلا آئے گا، اور وہاں بارش بند ہوجائے گی، اور وہ لوگ نہایت مفلس ہوجائیں گے، پاس کچھ بھی تو نہ رہے گا۔ اور کھنڈرات میں جائے گا، اس کو کہے گا: اپنے سب خزانے نکال! تو سب کے سب دفینے نکل کر اس کے ساتھ شہد کی مکھیوں کی طرح ہولیں گے۔ اور پھر ایک جوان کو بلائے گا، اور پھر اس کو تلوار سے مار کر دو ٹکڑے کردے گا، اور اِدھر اُدھر نشانے کی طرف پھینک دے گا، اور پھر اس کو بلاکر دوبارہ مارے گا، اور وہ شخص منہ چمکتا ہوا ہنسے گا۔ سو دجال اسی اوج موج میں ہوگا کہ اتنے میں اللّٰہ تعالیٰ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو (آسمان سے) اُتارے گا، سو وہ دو رنگین کپڑے پہنے ہوئے دمشق کے شرقی سفید منارے پر اُتریں گے، دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے، سر کو جھکائیں گے تو پسینے کے قطرے گریں گے، اور جب سر اُٹھائیں گے تو موتیوں کے سے قطرے اُتریں گے، سو جس کافر کو ان کے سانس کی بو پہنچے گی، بس مرہی جائے گا، اور جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی،و ہیں تک ان کا سانس پہنچے گا، سو اس کو بابِ لُدّ پر پاکر مار ڈالیں گے۔ فقط۔‘‘
یہ ترجمہ ہم نے نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث کا بقدرِ ضرورت کیا ہے، سو سائل کو ثبوت خروجِ دجال لعنہ اللّٰہ اور نزول حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام میں کافی وافی شافی ہے، جس کو تفصیل درکار ہو، مشکوٰۃ شریف میں پورے باب کو تحقیق کی نظر سے دیکھ لے۔ یہی خلاصہ صحاحِ ستہ وغیرہ کتبِ حدیث کا ہے۔ اگر کوئی نہ مانے تو اس کو اِختیار ہے۔ اور وہ بعض عالم پنجاب کے
280
جو اس کے خلاف قائل ہیں، وہ نادان، جاہل وپاگل اور کاذب ہیں، بلکہ اہلِ علم کے زُمرے کی بو سے بھی بے نصیب اور محروم ہیں، اور من جملہ فرَقِ اہلِ اِلحاد ہیں، نعوذ باﷲ من شرہ!
حررہٗ ابواِسماعیل یوسف حسین الخائفوری عفی عنہ
’’وَاِنَّہُ لَعِلمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام خبر دینے والے ہیں قیامت کی، یعنی ان کا اُترنا آسمان سے ایک نشانی ہے قیامت کی، دجال کے پیدا ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، اور دَجال کو قتل کریں گے، پھر یأجوج مأجوج پیدا ہوکر سارے عالم کو خراب کریں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام مؤمنوں کو لے کر کوہِ طور پر جاکر چھپیں گے، غرضیکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہیں قیامت کی، تمام ہوئی عبارت شاہ عبدالقادر دہلوی رحمۃاللّٰہ علیہ کی۔
پس پنجاب کا وہ عالم بلاشبہ نصوصِ مذکورہ بالا کا منکر ملحد ہے، بلکہ کافر، کما لا یخفی علی الماھر بالشریعۃ الغراء۔
حررہٗ خادم العلماء الطاف حسین فاضل پوری
فی الواقع جواب اوّل ودوم بلاریب صحیح ہے، کیونکہ قریب قیامت کے ظاہر ہونا دَجال کا، بعد اس کے اُترنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے، اور قتل کرنا دجال کا برحق ہے، اور منکر اس کا ضال ومضل وملحد وبددِین اور مخالف اِجماع مسلمین کا ہے، چنانچہ کتبِ صحاحِ ستہ ودیگر کتبِ سیر اس پر شاہدِ عدل ہیں، اور تأویل مرزاقادیانی اور اس کے حواری کی نزدیک اہلِ حق کے باطل ومردود ہے۔
سیّد محمد نذیر حسین
(فتاویٰ نذیریہ ج:۱ ص:۱۲ تا ۱۷)
✨ 🌟 ✨
281
بابِ دوازدہم
بعد نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت نبی کی یا اُمتی؟
عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت اُمتی کے؟
سوال:۔۔۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے، کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے؟ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’خاتم النّبیین‘‘ کیسے ہوئے؟
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے،(۱) لیکن آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہوگئی اور ان کی نبوّت کا دور ختم ہوگیا، اس لئے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے (۲) اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختمِ نبوّت کے خلاف نہیں، کیونکہ نبی آخرالزمان آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی تھی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۶)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی ہوں گے یا اُمتی؟
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین بیچ اس مسئلہ اِستفتاء کے:
۱:۔۔۔ کیا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والا اور اس دعوے کی تصدیق کرنے والا مؤمن ہے یا کافر؟
۲:۔۔۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زِندہ اُٹھایا گیا؟ اگر اُٹھایا گیا ہے تو آپ قربِ قیامت میں نزول فرمائیں گے؟ اگر ہاں، تو بحیثیت اُمتی کے یا نبی کے؟
(۱) فإن قیل: قد ورد فی الحدیث نزول عیسٰی بعدہ، قلنا: نعم! لٰکنہ یتابع محمدًا علیہ السلام لأن شریعتہ قد نسخت فلا یکون إلیہ وحی ونصب الأحکام بل یکون خلیفۃ رسول ﷲ علیہ السلام۔ (شرح العقائد النسفیۃ للتفتازانی ص:۱۳۸، طبع خیر کثیر کراچی)
(۲) ینزل عیسٰی ابن مریم مصدقًا بمحمد صلی ﷲ علیہ وسلم وعلٰی ملّتہ۔ (الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۵۶، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
282
نوٹ:۔۔۔ جوابات قرآنی دلائل سے دئیے جائیں۔
حکیم سیّد عبدالمجید دہلوی
مالک شاہی مطب، منڈی پھلروان
شاہ پور، صوبہ پنجاب، پاکستان
جواب۱:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ’’خاتم النّبیین‘‘ ہونا، قرآنِ کریم میں مذکور ہے: ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘ (الاحزاب:۴۰) لہٰذا جو شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے وہ شخص نصِ قرآنی کا منکر ہے، اور قرآن شریف کی کسی ایک آیت کا اِنکار بھی کفر ہے۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو ایسے مدعیٔ نبوّت پر اِیمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کو زِندہ آسمان پر اُٹھایا گیا ہے: ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء۱۵۷، ۱۵۸) اور قربِ قیامت آپ نزول فرمائیں گے۔ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے اور آپ اس وقت اپنی نبوّت کی دعوت نہیں دیں گے، بلکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ملت کی دعوت دیں گے۔ اور خود اُن کی نبوّت بھی مسلوب نہیں ہوگی بلکہ وہ محفوظ رہے گی۔
’’اخرج الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی البعث بسند جید عن عبدﷲ بن مُغَفَّلْ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یلبث الدَّجَّال فیکم ما شاء ﷲ ثم ینزل عیسَی ابن مریم مصدقًا بمحمد وعلٰی ملّتہ إمامًا مھدیًّا وحَکمًا عدلًا فیقتل الدَّجَّال۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۵۶)
’’إنّ عیسٰی علیہ السلام مع بقائہ علٰی نبوۃ معدود فی امۃ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم وداخل فی زمرۃ الصحابۃ فإنہ اجتمع بالنبی صلی ﷲ علیہ وسلم وھو حی مؤْمنًا بہ ومصدقًا وکان اجتماعہ بہ مرات فی غیر لیلۃ الإسراء من جملتھا بمکۃ روی ابن عدی فی الکامل عن انس قال بینا نحن مع النبی صلی ﷲ علیہ وسلم إذا رأینا بردًا ویدًا فقلنا یا رسول ﷲ! ما ھٰذا البرد الذی رأینا والید؟ قال: قد رأیتموہ؟ قلنا: نعم! قال: ذالک عیسَی ابن مریم سلم علی۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۱، طبع بیروت)
’’انما یحکم عیسٰی بشریعۃ نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم بالقرآن والسُّنَّۃ عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول إلَّا انہ خلیفتی فی امتی من بعدی۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۱، طبع بیروت)
’’قال الذھبی فی تجرید الصحابۃ: عیسَی ابن مریم علیہ السلام نبی وصحابی فإنہ رای النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فھو آخر الصحابۃ موتًا۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۱، طبع بیروت)
اس مسئلے پر علمائے حق کے مستقل رسائل شائع شدہ ہیں، علامہ سیوطیؒ کا ایک رسالہ ہے: ’’کتاب العلام بحکم عیسیٰ علیہ
283
السلام‘‘ علامہ سبکیؒ کا ایک رسالہ ہے، مولانا انور شاہ صاحب کشمیریؒ کا بھی ایک رسالہ ہے: ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ نیز شروحِ حدیث: بذل المجہود، فتح الباری، عینی وغیرہ میں بھی اس کی تصریح ہے۔ فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
|
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود عفا اللّٰہ عنہ گنگوہی |
|
سعید احمد غفرلہٗ |
معین مفتی مظاہر علوم سہارنپور |
|
مفتی مظاہر علوم سہارنپور |
۳؍۵؍۱۳۷۱ھ |
|
۴؍۵؍۱۳۷۱ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱ ص:۱۱۲ تا ۱۱۴)
بعد نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوّت کی حیثیت
سوال:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے تشریف لائیں گے، تو کیا وہ اس وقت بھی نبی رہیں گے اور ان پر وحی آئے گی یا وہ نبوّت سے معزول ہوکر آئیں گے؟
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ تابعِ شریعتِ محمدیہ ہوں گے یا صاحبِ شریعت نبی ہوں گے؟ اگر وہ تابعِ شریعتِ محمدیہ ہوں گے تو شرعی اَحکام یعنی قرآنِ کریم میں درج شدہ اَوامر ونواہی اور سنتِ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا علم انہیں کیونکر حاصل ہوگا؟ اگر زبانِ عربی اور شریعت کے اَحکام کسی مولوی صاحب سے پڑھیں تو یہ اَمر ایک نبی کی شان کے خلاف نظر آتا ہے، اور پڑھیں بھی تو کس فرقے کے مولوی سے؟ تمام اسلامی فرقوں کا آپس میں اختلاف ہے، حتیٰ کہ ایک دُوسرے کو کافر کہنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اگر اس دُنیا میں وہ وحی کے ذریعے شریعتِ اسلامی کے اَحکام حاصل کریں، جس طرح ہمارے حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم حاصل کیا کرتے تھے، یعنی وحی سے، یا پردے کے پیچھے سے، یا فرشتے کی وساطت سے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں آتا ہے: ’’وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَہُ اللہُ إِلَّا وَحْیْاً أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولاً فَیُوحِیَ بِإِذْنِہِ مَا یَشَاء ُ إِنَّہُ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ. وَکَذَلِکَ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا‘‘ (الشوریٰ:۵۱، ۵۲) تو اس صورت میں بھی وہ ایک صاحبِ شریعت نبی بن جائیں گے۔ یا اگر آسمان پر بھی شریعت کے اَحکام کا علم حاصل کریں تو بھی بشر ہونے کے لحاظ سے مندرجہ بالا انہیں تین صورتوں سے حاصل کریں گے۔ پس شریعت کے اَحکام یعنی اَوامر ونواہی براہِ راست بذریعہ وحی حاصل کرنے کی وجہ سے صاحبِ شریعت نبی بن جائیں گے، حالانکہ ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری شریعت والے نبی ہیں۔ اس اِشکال کا تفصیلی جواب دے کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
جواب:۔۔۔ ان کی نبوّت سلب نہیں ہوگی، بلکہ وہ محفوظ رہے گی، اور وہ اَحکام اپنی سابقہ محفوظ نبوّت کے تحت جاری نہیں فرمائیں گے جو اُن کی اُمت کے ساتھ مخصوص تھے، بلکہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کے موافق جاری فرمائیں گے۔
ممکن ہے کہ عین وقت پر شریعتِ محمدیہ کے متعلق ان کو بذریعہ وحی علم ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرتِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے علم حاصل کریں، کیونکہ قبرِ اَطہر میں حی ہیں۔ یا رُوحِ عیسوی، رُوحِ محمدی سے مستفیض ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خود اِنجیل
284
میں اس شریعت کے اَحکام کا علم ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں کی ملاقات جب ہوئی، اُس وقت علم حاصل کرلیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ براہِ راست قرآنِ کریم سے ان کو علم حاصل ہوجائے۔
’’ثم علمہ بأحکام شرعا اما بعلمھا من القرآن فقط إذ لم یفرط فیہ من شیء انما احتجنا إلٰی غیرہ لحضورنا وقد کانت احکام نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کلھا مأخوذۃ من القرآن ومن ثم قال الشافعی: کل ما حکم بہ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فھو مما فھمہ من القرآن فلا یبعد ان عیسٰی صلی ﷲ علیہ وسلم یکون کذالک او بروایۃ السنۃ عن نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم اخرج ابن عدی عن انس بیننا نحن مع رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم إذ رأینا بردًا ویدًا فقلنا: یا رسول ﷲ! ما ھٰذا البرد الذی رأینا والید؟ قال: قد رأیتموہ؟ قلنا: نعم! قال: ذالک عیسَی ابن مریم سلم علی۔ وفی روایۃ ابن عساکر عنہ: کنت اطوف مع النبی صلی ﷲ علیہ وسلم حول الکعبۃ إذا رأیتہ صافح شیئًا ولم ارہ، قلنا: یا رسول ﷲ! رأیناک صافحت شیئًا ولا نراہ۔ قال: ذالک اخی عیسَی ابن مریم انتظرتہ حتّٰی قضی طوافہ فسلمت علیہ وحینئذٍ فلا مانع انہ حینئذٍ تلقی عن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم احکام شریعۃ المخالفۃ لشریعۃ الْإِنجیل لعلمہ انہ سینزل وانہ یحتاج لذالک فاخذھا منہ بلا واسطۃ۔ وفی حدیث ابن عساکر الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول إلَّا انہ خلیفۃ فی اُمَّتی من بعدی وقد صرح السبکی بأنہ یحکم بشریعۃ نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم بالقرآن والسُّنَّۃ اما لکونہ یتعلمھا من نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم شفاھا بعد نزولہ من قبرہ ویؤَیدہ حدیث ابی یعلٰی والذی نفسی بیدی! لینزلن عیسَی ابن مریم ثم لئن قام علٰی قبری وقال: یا محمد! لأجیبنہ اما بکونہ اوحاھا إلیہ فی کتابہ الإنجیل او غیرہ إلٰی قولہ یوحی إلیہ وحی حقیقی کما فی حدیث مسلم وغیرہ عن النواس بن سمعان رضی ﷲ عنہ وفی روایۃ صحیحۃ نعنی ھو کذالک إذ اوحی إلیہ یا عیسٰی! انی قد اخرجت عبادًا لی لا بد لأحد بقتالھم، حول عبادی إلی الطور وذالک الوحی علٰی لسان جبریل إلٰی قولہٖ وعیسَی ابن مریم بأن علٰی نبوّتہ ورسالتہ إلٰی آخر ما قال اھ۔ فقط واللہ وتعالیٰ اعلم!‘
(فتاویٰ حدیثیۃ ص:۲۴۲،۲۴۳، طبع قدیمی)
حررہ العبد محمود غفرلہٗ
دارالعلوم دیوبند
۷؍۱۳۹۳ھ؍۸ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۵ ص:۱۲۶ تا ۱۳۰)
285
حضرت عیسیٰ علیہ السلام وقتِ نزول نبی ہوں گے یا اُمتی؟
سوال:۔۔۔ میرا ایک قادیانی سے واسطہ پڑا، اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے لئے دلیل دی کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین نہیں بلکہ نبی آتے رہیں گے، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا، مُسلَّمہ عقائد میں سے ہے، پھر ختمِ نبوّت کیسی؟ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور وہ نبی ہوں گے یا اُمتی؟ وضاحت فرمادیں۔
زاہدالحق، کامونکی
جواب:۔۔۔ محترم زاہدالحق صاحب! السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ وبرکاتہ
جی ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب قربِ قیامت دُنیا میں تشریف لائیں گے تو نبی ہی ہوں گے، ان کو قرآن کی تعلیم وہی خدا دے گا جس نے پہلے ان کو توراۃ واِنجیل کی تعلیم دی ہے۔ قادیانی، جھوٹے دجال کی طرح، اسکول ماسٹروں سے نہ پڑھیں گے، نہ کسی انسان کی شاگردی کریں گے، نبی صرف خدا کے شاگرد ہوتے ہیں، کسی مخلوق کے نہیں۔ قرآنِ کریم میں سورۃ النساء میں ہے:
’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸) بلکہ اللّٰہ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے۔
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹)
’’کوئی اہلِ کتاب (کتابی) ایسا نہیں جو اُن کی موت سے پہلے ان پر اِیمان نہ لائے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘
حالانکہ آج سے دو ہزار سال پہلے تمام کتابی آنجناب پر اِیمان نہیں لائے، کوئی ایک یہودی بھی آپ پر اِیمان نہیں لایا، بلکہ یہود نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ پس یہ پیشین گوئی ابھی پوری ہونی ہے۔ رہی یہ بات کہ دُنیا میں دوبارہ کب تشریف لائیں گے؟ سو یہ بات اللّٰہ ہی جانے کب تشریف لائیں گے؟ ہاں! ان کا تشریف لانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، ہم اللّٰہ کے فرمان پر اِیمان رکھتے ہیں۔ کیسے آئیں گے؟ جو اللّٰہ لے گیا ہے، وہی فرشتوں کے ہمراہ بادلوں کے درمیان ان کو دوبارہ لائے گا۔
محترم! آپ مرزائیوں سے ایسی باتوں میں نہ اُلجھیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی نبوّت کا دعویٰ کیا، وہ جھوٹا، لعنتی، مرتد، جہنمی تھا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، اللّٰہ کے آخری رسول ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا، نہ ہی بنایا گیا ہے، واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۴۵۳،۴۵۴)
رفع ونزولِ مسیح ختمِ نبوّت کے منافی؟
سوال:۔۔۔ مسلمانوں کا عام عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے اور واپس تشریف لائیں گے۔ برائے رفع شبہ سوالاتِ ذیل کا جواب مطلوب ہے:
۱:۔۔۔ مخالفین نے سب نبیوں کو تکلیف دی، درپے قتل ہوئے، لیکن آسمان پر کوئی نہ اُٹھایا گیا، مسیح علیہ السلام کے لئے ضرورتِ رفع کیا تھی؟
286
۲:۔۔۔ ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰) ، حدیث:’’لَا نبی بعدی‘‘ (ترمذی) اس حدیث اور آیت نے کسی نئے اور پُرانے نبی کے آنے کی نفی کردی، اس لئے عہدِ رسالتِ محمدیہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نزولِ جسمانی ممتنع اور محال ہے۔ رہا یہ خیال کہ ابنِ مریم علیہ السلام بحیثیت اِمامت نازل ہوں گے، سو یہ گمان بھی دو وجہ سے ناجائز ہے:
۱- یہ کہ کوئی نبی اپنے منصبِ نبوّت سے معزول اور معطل نہیں ہوسکتا۔
۲- یہ کہ اس خاص زمانے میں اِمامت مہدی کے لئے مقرّر ہے۔
لہٰذا ابنِ مریم علیہ السلام جو اِسرائیلی نبی ہیں، اُمتِ محمدیہ کی ظاہری اِمامت کے لئے مستحق نہیں ہوسکتے۔
شیخ قاسم علی، اوورسیئر پنشنر
جواب:۔۔۔ پہلے نبی کو دوبارہ بھیجنا منظورِ خدا تھا، حضرت مسیح علیہ السلام کو دوبارہ بھیجنا ہے تاکہ ان کے ہاتھ سے اِشاعتِ اِسلام ہو۔ پچھلی مسلسل زندگی ختمِ نبوّت کے منافی نہیں، حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ آکر نبوّت سے معزول نہ ہوں گے، بلکہ بحال رہیں گے، ان کا کام قرآن کی تبلیغ بہ تفہیمِ اِلٰہی جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کی تھی۔ اس پر کیا سوال، نبوّت سے معزول کیسے ہوئے؟ انبیاء کی جماعت اللّٰہ کے نزدیک سب ایک ہے، ’’تِلكَ اُمَّۃٌ قَد خَلَت‘‘ (البقرۃ:۱۳۴)
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۱ ص:۳۷۲،۳۷۳)
نزولِ مسیح ختمِ نبوّت کے منافی نہیں
سوال:۔۔۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول خواہد فرمود وباز خواہد آمد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم چگونہ خاتم الانبیاء شد؟
جواب:۔۔۔ معنی خاتم النبی آنست کہ بعد اَز نبوّتِ محمد ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ ہیچ نبی پیدا نشود، نبوّتِ سابقہ مستمرہ مخالفِ ختمِ نبوّت نیست۔
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۲)
قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ختمِ نبوّت کے منافی نہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آسمانوں سے نزول فرمائیں گے تو بحیثیتِ پیغمبر نزول فرمائیں گے یا اِمام الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے؟
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ آسمانوں پر اُٹھایا جانا اور قیامت کے قریب ان کا نازل ہونا اور پھر متبع شریعتِ محمدی بن کر کچھ عرصہ اس دُنیا میں رہنا اُمتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔ قرآنی آیات اور اَحادیثِ متواترالمعنی سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذاتی حیثیت یقینا نبی اور پیغمبر کی ہوگی، انبیائے سابقین ۔۔۔علیہم الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کی طرح آپ پر اللّٰہ کی طرف سے وحی بھی ہوگی، اس کے باوجود آپ شریعتِ محمدی کے تابع ہوں گے، البتہ یہ وحی شریعتِ محمدی کو بدلنے کے لئے نہیں ہوگی، بلکہ اُس وقت کے حالات کے اِعتبار سے ضروری اَحکام ہوں گے۔ لہٰذا آپ نزول کے بعد دو صفات کے ساتھ متصف ہوں گے، ایک شانِ نبوّت اور دُوسرا شانِ اُمتِ محمدیہ، لیکن آپ کی یہ شانِ نبوّت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے منافی
287
نہیں ہوگی، اس لئے کہ ختمِ نبوّت کا مطلب یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو بھی منصبِ نبوّت سے نہیں نوازا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بن کر آئے تھے۔
’’لما قال الإمام فخرالدین الرازی: تحت قولہ تعالٰی: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ ای قبل موت عیسٰی المراد ان اھل الکتاب الذین یکونون موجودین فی زمان نزولہ لا بد ان یؤْمنوا بہٖ، قال بعض المتکلمین: انہ لا یمنع نزولہ من السماء إلی الدنیا الا انہ انما ینزل عند ارتفاع التکالیف او بحیث لا یعرف إذ لو نزل مع بقائِ التکالیف علٰی وجہ یعرف انہ عیسٰی علیہ السلام لکان اما ان یکون نبیًّا ولا نبی بعد محمد صلی ﷲ علیہ وسلم او غیر وغیر ذالک جائز علی الأنبیاء وھٰذا إشکال عندی ضعیف لأن انتھاء الأنبیاء إلٰی مبعث محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ فلا یبعد ان یصیر بعد نزول تبعًا لمحمد صلی ﷲ علیہ وسلم۔‘‘
(تفسیر کبیر ج:۱۱،۱۲ ص:۱۰۴، سورۃ النساء:۱۵۹)
قال العلامۃ ابن البزاز الکردی: واما الإیمان بسیّدنا علیہ السلام فیجب بأنہ رسولنا فی الحال وخاتم الأنبیاء والرسل فإذا آمن بأنہ رسول ولم یؤْمن بأنہ خاتم الرسل لا ینسخ دینہ إلٰی یوم القیامۃ لا یکون مؤْمنًا وعیسٰی علیہ السلام ینزل إلی الناس ویدعوا إلٰی شریعتہ وھو سائق لاُمَّتہٖ إلٰی دینہٖ۔‘‘ (فتاویٰ بزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۶ ص:۳۲۷، نوع فیما یتصل بھا مما یجب کفارہ من اھل البدع، الثالث فی الأنبیاء، ومثلہ فی شرح الفقہ الأکبر ص:۱۱۲)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۲۲۸)
سوال:۔۔۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام باز نزول فرماید از عہدۂ نبوّت معزول شدہ باز آید یاچہ؟
جواب:۔۔۔ نے زیرا کہ آں نبوّت سابقہ خادمۂ نبوّتِ محمدیہ ہست۔
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۲)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بعد اَز نزول تعلیم حاصل کرنا
سوال:۔۔۔ در آیتِ کریمہ: ’’وَیُعَلِّمُہُ الكِتٰبَ وَالحِكمَۃَ وَالتَّورٰۃَ وَالاِنجِیلَ‘‘ ثابت است کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجز توراۃ دیگر کتاب نخواندہ، پس تبلیغِ قرآن چگو نہ خواہد کرد؟
جواب:۔۔۔ بعد نزول از سماء بوحی اِلٰہی تعلیم یابد چنانکہ تعلیم توراۃ ہم بوحی اِلٰہی حاصل کردہ بود۔واللّٰہ اعلم!
(’’اہلِ حدیث‘‘ امرتسر، ۲۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۵ھ)
(فتاویٰ علمائِ حدیث ص:۱۰۳)
288
بابِ سیزدہم
قادیانی شبہات کے جوابات
علمائے حق کی کتب سے تحریف کرکے قادیانیوں کی دھوکادہی
سوال:۔۔۔ مکرمی ومحترمی مولانا صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ!
ملتان سے آپ کا ایڈریس منگوایا، اس سے قبل بھی میں نے آپ کو خط لکھے تھے، شاید آپ کو یاد ہو، مگر اَب آپ کا ایڈریس بھول جانے کی وجہ سے ملتان سے منگوانا پڑا۔
عرض ہے کہ میں ایف ایس سی (میڈیکل) کرلینے کے بعد آج کل فارغ ہوں، میڈیکل کالج میں ایڈمشن میں ابھی کافی دیر ہے، اس لئے جی بھر کر مطالعہ کر رہا ہوں۔ مجھے شروع ہی سے مذہب سے لگاؤ ہے، ایک دوست (جو کہ احمدی ہے) نے مجھ اپنے لٹریچر سے چند رسائل دئیے، میں نے پڑھے۔ مولانا مودودی مرحوم کے رسائل ’’ختمِ نبوّت‘‘ اور ’’قادیانی مسئلہ‘‘ بھی پڑھے، اور احمدیوں کی طرف سے ان کے جوابات بھی۔ مولانا کے دلائل وشواہد کمزور دیکھ کر بڑی پریشانی ہوئی۔ آپ کا پمفلٹ ’’شناخت‘‘ بھی پڑھا، مگر اس کا جواب نہیں ملا۔ البتہ آج کل قاضی محمد نذیر (قادیانی) کی کتاب ’’تفسیر خاتم النّبیین‘‘ پڑھ رہا ہوں جو آپ کی شائع کردہ آیت خاتم النّبیین کی تفسیر کا جواب ہے۔ جس میں آپ نے مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ کے فارسی مضمون کا ترجمہ وتشریح کی ہے۔ اصل کتاب نہیں پڑھ سکا، اس لئے جواب کے اِستحکام کو محسوس کرنا قدرتی امر ہے۔ بہرحال احمدی لٹریچر پڑھ کر میں یہ سمجھ سکا ہوں کہ ہمارے علماء کوئی ایسی بات پیش نہیں کرتے جس سے احمدی لاجواب ہوجائیں، وہ ہر ایک بات کا مدلل جواب دیتے ہیں، وہ مشائخ کی عبارت دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ان کا نظریہ وہی ہے جو اِن مشائخِ عظام کا تھا۔ اس بات سے بڑی اُلجھن ہوتی ہے۔ کیا ہم ان شواہد کو جھٹلاسکتے ہیں؟ آخر ایسی باتیں لکھنے کا کیا فائدہ ہے جن کا مدلل جواب دیا جاسکتا ہے؟ آخر ایسی باتیں کیوں نہیں لکھی جاتیں جن سے دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی ہوجائے؟ پھر کسی کو دُودھ میں پانی ڈالنے کی جسارت نہ ہو۔ اگر ہم سچے ہیں تو ہماری سچائی مشکوک کیوں ہوجاتی ہے؟ جواب کا اِنتظار رہے گا۔
احقر عبدالقدوس ہاشمی
جواب:۔۔۔ اس ناکارہ نے قادیانیوں کی کتابیں بھی پڑھی ہیں، اور قادیانیوں سے زبانی اور تحریری گفتگو کا موقع بھی بہت آتا رہا ہے، قادیانی غلط بیانی اور خلطِ مبحث کرکے ناواقفوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ ہمارے اور ان کے بنیادی مسئلے دو ہیں۔ ایک: ختمِ نبوّت، دُوسرا: نزولِ عیسیٰ۔ یہ دونوں مسئلے ایسے قطعی ہیں کہ بزرگانِ سلف میں ان میں کبھی اِختلاف نہیں ہوا، بلکہ ان کے منکر کو قطعی
289
کافر اور خارج اَزاِسلام قرار دِیا گیا ہے۔ قادیانی صاحبان اپنا کام چلانے کے لئے اکابر کے کلام میں سے ایک آدھ جملہ جو کسی اور سیاق میں ہوتا ہے، نقل کرلیتے ہیں، کبھی کسی نے غلطی سے کسی بزرگ کا قول غلط نقل کردیا، اسی کو اُڑالیتے ہیں، ان کے ناواقف قاری یہ سمجھ کر کہ جن بزرگوں کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ بھی قادیانیوں کے ہم عقیدہ ہوں گے، دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہاں اس کی صرف ایک مثال پر اِکتفا کرتا ہوں۔
آپ نے بھی پڑھا ہوگا کہ قادیانی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی کتاب ’’تحذیرالناس‘‘ کا حوالہ دیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی آسکتا ہے، اور یہ کہ یہ امر خاتم النّبیین کے منافی نہیں۔ حالانکہ حضرتؒ کی تحریر اسی کتاب میں موجود ہے کہ: ’’جو شخص خاتمیتِ زمانی کا قائل نہ ہو، وہ کافر ہے‘‘ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’سو اگر اِطلاق اور عموم ہے تب تو خاتمیتِ زمانی ظاہر ہے، ورنہ تسلیم لزومِ خاتمیتِ زمانی بدلالت اِلتزامی ضرور ثابت ہے، ادھر تصریحاتِ نبوی مثل: ’’انت مِنِّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی، إلَّا انہ لا نبی بعدی‘‘ او کما قال (مشکوٰۃ ص:۵۶۳، باب مناقب علی ابن ابی طالبؓ) جو بظاہر بطرزِ مذکورہ اسی لفظ خاتم النّبیین سے مأخوذ ہے، اس باب میں کافی ہے۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اِجماع بھی منعقد ہوگیا، گو اَلفاظِ مذکورہ بہ سندِ تواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواترِ الفاظ، باوجود تواترِ معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواترِ اَعدادِ رکعاتِ فرائض ووتر وغیرہ، باوجودیکہ الفاظِ حدیث مشعر تعدادِ رکعات متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے، ایسا ہی اس کا منکر کافر ہوگا۔‘‘
(تحذیرالناس، طبع جدید ص:۱۸، طبع قدیم ص:۱۰)
اس عبارت میں صراحت فرمائی گئی ہے کہ:
الف:۔۔۔ خاتمیتِ زمانی، یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا، آیت خاتم النّبیین سے ثابت ہے۔
ب:۔۔۔ اس پر تصریحاتِ نبوی متواتر موجود ہیں، اور یہ تواتر رکعاتِ نماز کے تواتر کی مثل ہے۔
ج:۔۔۔ اس پر اُمت کا اِجماع ہے۔
د:۔۔۔ اس کا منکر اسی طرح کافر ہے، جس طرح ظہر کی چار رکعت فرض کا منکر۔
اور پھر اسی ’’تحذیرالناس‘‘ میں ہے:
’’ہاں! اگر بطور اِطلاق یا عموم مجاز اس خاتمیت کو زمانی اور مرتبی سے عام لے لیجئے تو پھر دونوں طرح کا ختم مراد ہوگا، پر ایک مراد ہو تو شایانِ شانِ محمدی خاتمیت مرتبی ہے نہ زمانی، اور مجھ سے پوچھئے تو میرے خیالِ ناقص میں تو وہ بات ہے کہ سامع منصف اِن شاء اللّٰہ اِنکار ہی نہ کرسکے، سو وہ یہ ہے کہ‘‘
(طبع قدیم ص:۹، طبع جدید ص:۱۵)
اس کے بعد یہ تحقیق فرمائی ہے کہ لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘ سے خاتمیتِ مرتبی بھی ثابت ہے اور خاتمیتِ زمانی بھی۔ اور
290
’’مناظرۂ عجیبہ‘‘ میں جو اسی ’’تحذیرالناس‘‘ کا تتمہ ہے، ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’مولانا! حضرت خاتم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خاتمیتِ زمانی تو سب کے نزدیک مُسلَّم ہے، اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مُسلَّم ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اوّل المخلوقات ہیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۹، طبع جدید)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’البتہ وجوہ معروضہ مکتوب تحذیرالناس تولدِ جسمانی کی تأخیرِ زمانی کے خواستگار ہیں، اس لئے کہ ظہورِ تأخرِ زمانی کے سوا تأخرِ تولدِ جسمانی اور کوئی صورت نہیں۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۱۰)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’اور اگر مخالفتِ جمہور اس کا نام ہے کہ مُسلَّماتِ جمہور باطل اور غلط اور غیرصحیح اور خلاف سمجھی جائیں، تو آپ ہی فرمائیں کہ تأخرِ زمانی اور خاتمیتِ عصرِ نبوّت کو میں نے کب باطل کیا؟ اور کہاں باطل کیا؟
مولانا! میں نے خاتم کے وہی معنی رکھے جو اہلِ لغت سے منقول ہیں، اور اہلِ زبان میں مشہور کیونکہ تقدم وتأخر مثل حیوان، انواعِ مختلفہ پر بطور حقیقت بولا جاتا ہے، ہاں تقدم وتأخر فقط تقدم وتأخر زمانی ہی میں منحصر ہوتا تو پھر درصورت ارادۂ خاتمیتِ ذاتی ومرتبی البتہ تحریفِ معنوی ہوجاتے، پھر اس کو آپ تفسیر بالرائے کہتے تو بجا تھا۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۵۲)
’’مولانا! خاتمیتِ زمانی کی میں نے تو توجیہ کی ہے، تغلیط نہیں کی، مگر ہاں! آپ گوشہ عنایت وتوجہ سے دیکھتے ہی نہیں تو میں کیا کروں۔ اخبار بالعلۃ مکذب اخبار بالمعلول نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مصداق ومؤید ہوتا ہے، اوروں نے فقط خاتمیتِ زمانی اگر بیان کی تھی تو میں نے اس کی علت یعنی خاتمیتِ مرتبی کو ذِکر اور شروع تحذیر ہی میں اِبتدائے مرتبی کا بہ نسبت خاتمیتِ زمانی ذِکر کردیا۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۵۳)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’مولانا! معنی مقبول خدام والا مقام ۔۔۔۔۔۔۔ مختار احقر سے باطل نہیں ہوتے، ثابت ہوتے ہیں۔ اس صورت میں بمقابلہ ’’قضایا قیاساتھا معھا‘‘ اگر من جملہ ’’قیاسات قضایا معھا‘‘ معنی مختار احقر کو کہئے تو بجا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کرلیجئے، صفحہ نہم کی سطر دہم سے لے کر صفحہ یازدہم کی سطر ہفتم تک وہ تقریر لکھی ہے جس سے خاتمیتِ زمانی اور خاتمیتِ مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں بدلالت مطابقی ثابت ہوجائیں اور اسی تقریر کو اپنا مختار قرار دیا ہے، چنانچہ شروع تقریر سے واضح ہے۔
سو پہلی صورت میں تو تأخرِ زمانی بدلالت اِلتزامی ثابت ہوتا ہے، اور دلالتِ اِلتزامی اگر دربارۂ توجہ
291
الی المطلوب، مطابقی سے کمتر ہو، مگر دلالتِ ثبوت اور دِل نشینی میں مدلول التزامی مطابقی سے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے کہ کسی چیز کی خبر تحقق اس کے برابر نہیں ہوسکتی کہ اس کی وجہ اور علت بھی بیان کی جائے۔ حاصلِ مطلب یہ کہ خاتمیتِ زمانی سے مجھ کو اِنکار نہیں، بلکہ یوں کہئے کہ منکروں کے لئے گنجائشِ اِنکار نہ چھوڑی۔ افضلیت کا اِقرار ہے، بلکہ اِقرار کرنے والوں کے پاؤں جمادئیے۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۷۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’اپنا دِین واِیمان ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کے ہونے کا اِحتمال نہیں، جو اس میں تأمل کرے، اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
(مناظرۂ عجیبہ ص:۱۴۴)
حضرت نانوتویؒ کی یہ تمام تصریحات اسی ’’تحذیرالناس‘‘ اور اس کے تتمے میں موجود ہیں، لیکن قادیانیوں کی عقل وانصاف اور دیانت وامانت کی داد دیجئے کہ وہ حضرت نانوتویؒ کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں، بلکہ آپ کے بعد بھی نبی آسکتے ہیں‘‘ جبکہ حضرت نانوتویؒ اس اِحتمال کو بھی کفر قرار دیتے ہیں، اور جو شخص ختمِ نبوّت میں ذرا بھی تأمل کرے، اسے کافر سمجھتے ہیں۔
اس ناکارہ نے جب مرزاقادیانی کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تو شروع شروع میں خیال تھا کہ ان کے عقائد خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، مگر کسی کا حوالہ دیں گے تو وہ تو صحیح ہی دیں گے، لیکن یہ حسنِ ظن زیادہ دیر قائم نہیں رہا، حوالوں میں غلط بیانی اور کتربیونت سے کام لینا مرزاقادیانی کی خاص عادت تھی، اور یہی وراثت ان کی اُمت کو پہنچی ہے۔
اس عریضے میں، میں نے صرف حضرت نانوتویؒ کے بارے میں ان کی غلط بیانی ذِکر کی ہے، ورنہ وہ جتنے اکابر کے حوالے دیتے ہیں، سب میں ان کا یہی حال ہے، اور ہونا بھی چاہئے! جھوٹی نبوّت، جھوٹ ہی کے سہارے چل سکتی ہے۔۔۔! حق تعالیٰ شانہ‘ عقل واِیمان سے کسی کو محروم نہ فرمائیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۱۳ تا ۲۱۷)
قادیانی اپنے کو ’’احمدی‘‘ کہہ کر فریب دیتے ہیں
سوال:۔۔۔ آپ کے مؤقر جریدے کی ۲۹؍دسمبر کی اِشاعت میں یہ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جہاں قادیانی حضرات کے مذہب کا شناختی کارڈ فارم میں اِندراج ہوتا ہے، وہاں شناختی کارڈ میں اس کا کوئی اِندراج نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی فروگزاشت ہے جس سے فارم میں اِندراج کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ یہاں میں یہ گزارش کروں گا کہ قادیانیوں کے لئے لفظ ’’احمدی‘‘ کا اِندراج کسی طور جائز نہیں۔ یہ غلطی اکثر سرکاری اِعلانات میں بھی سرزد ہوتی ہے، اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ بہت سے حضرات اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ قادیانیوں نے لفظ ’’احمدی‘‘ اپنے لئے کیوں اِختیار کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ: ’’قرآن مجید میں جو الفاظ ’’اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ آئے ہیں، وہ دراصل مرزاقادیانی کی مراجعت کی پیش گوئی ہے۔‘‘ حالانکہ چودہ سو سال سے جملہ مسلمین کا یہی اِعتقاد رہا ہے کہ لفظ’’اَحمَدُ‘‘ حضور مقبول رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے آیا ہے، اور آپ کا نام ’’احمدِ مجتبیٰ‘‘ بھی تھا۔ اور شاید مرزاقادیانی کے والد
292
بزرگوار کا بھی یہی اِعتقاد ہو، جنہوں نے آپ کا نام ’’غلام احمد‘‘ رکھا تھا۔ اسی طرح اِنجیل میں لفظ ’’فارقلیط‘‘ علمائے اسلام کے نزدیک حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی کی آمد کی طرف اِشارہ ہے، کیونکہ ’’فارقلیط‘‘ معرّب یونانی لفظ ’’پیری کلی ٹاس‘‘ کا، جو بذاتِ خود ترجمہ ہے عبرانی زبان میں ’’احمد‘‘ کا، جس زبان میں پہلے اِنجیل لکھی گئی تھی اسے بھی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ورودِ مسعود کی پیش گوئی شمار کیا جاتا رہا ہے، لیکن قادیانی حضرات اسے بھی مرزاقادیانی کی آمد کی پیش گوئی شمار کرتے ہیں، چنانچہ بجائے ’’قادیانی‘‘ کے لفظ ’’احمدی‘‘ کا اِستعمال قادیانی حضرات کے موقف اور ان کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ اس لئے میرا اَدنیٰ مشورہ یہ ہے کہ اس جماعت کے لئے لفظ ’’قادیانی‘‘ ہی اِستعمال کرنا مناسب ہے۔
جواب:۔۔۔ آپ کی رائے صحیح ہے۔ قادیانیوں کا ’’اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ کی آیت کو مرزاقادیانی پر چسپاں کرنا ایک مستقل کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ (ص:۹۶، خزائن ج:۱۷ ص:۲۵۴) میں لکھتا ہے:
’’یہی وہ بات ہے جو میں نے اس سے پہلے اپنی کتاب اِزالہ اوہام میں لکھی تھی، یعنی یہ کہ میں اسمِ احمد میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا شریک ہوں۔‘‘
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۴، ۲۰۵)
ایک قادیانی کا خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے گمراہ کن اِستدلال
سوال:۔۔۔ بخدمت جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہٗ
السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!
جنابِ عالی! گزارش ہے کہ جناب کی خدمت میں مکرم ومحترم جناب بلال انور صاحب نے ایک مراسلہ ختمِ نبوّت کے موضوع پر لکھ کر آپ کی خدمت میں اِرسال کیا تھا، آپ نے مراسلے کے حاشیہ پر اپنے ریمارکس دے کر واپس کیا ہے، یہ مراسلہ اور آپ کے ریمارکس خاکسار نے مطالعہ کئے ہیں، چند ایک معروضات اِرسالِ خدمت ہیں، آپ کی خدمت میں مؤدّبانہ اور عاجزی سے درخواست ہے کہ خالی الذہن ہوکر، خداتعالیٰ کا خوف دِل میں پیدا کرتے ہوئے، ایک خداترس اور محقق انسان بن کر، ضد وتعصب، بغض وکینہ دِل سے نکال کر ان معروضات پر غور فرماکر، اپنے خیالات سے مطلع فرمائیں۔ یہ عاجز بہت ممنون ومشکور ہوگا۔
۱:۔۔۔ جناب بلال صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی تھی کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مسلمان ہیں، کیونکہ قرآن مجید پر، جو خداتعالیٰ کا آخری کلام ہے، اس پر اِیمان رکھتے ہیں، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین مانتے ہیں، لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پر کامل اِیمان رکھتے ہیں، تمام آسمانی کتابیں، جن کی سچائی قرآن مجید سے ثابت ہے، ان سب پر اِیمان رکھتے ہیں، صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج تمام ارکانِ اسلام پر اِیمان رکھتے ہیں، اور اِسلام پر کاربند ہیں۔
آپ نے ریمارکس میں لکھا ہے کہ:
’’منافقین اسلام بھی اپنے مسلمان ہونے کا اِقرار کرتے تھے، مگر اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو منافق قرار دیا
293
ہے، یہی حال قادیانیوں کا ہے۔‘‘
مکرم جناب مولانا صاحب! یہ آپ کی بہت بڑی زیادتی، جسارت اور نااِنصافی ہے اور ضد وتعصب اور بغض وکینہ کی ایک واضح مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف میں منافق ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے، وہ کسی مولوی یا مفتی کا قول نہیں ہے، اور نہ ہی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے منافق ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا تھا، یہ حکم اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا اور ان کو منافق کہنے والی اللّٰہ تعالیٰ کی علیم وخبیر ہستی تھی جو کہ انسانوں کے دِلوں سے واقف ہے کہ جس کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود، یا آپ کے خلفاءؓ نے اپنے زمانے میں کسی کے متعلق کفر یا منافق کا فتویٰ صادر کیا ہو؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی مثال ہو تو تحریر فرمائیں، یہ عاجز بے حد آپ کا ممنون ومشکور ہوگا۔
۲:۔۔۔ مکرم مولانا! اگر آپ کے اس اُصول کو دُرست تسلیم کرلیا جائے کہ کسی انسان کا اپنے عقیدہ کا اِقرار تسلیم نہ کیا جائے تو مذہبی دُنیا سے اِیمان اُٹھ جائے گا۔ اس حالت میں ہر فرقہ دُوسرے فرقے پر کافر اور منافق ہونے کا فتویٰ صادر کردے گا، اور کوئی شخص بھی دُنیا میں اپنے عقیدے اور اپنے اِیمان کی طرف منسوب نہ ہوسکے گا، اور ہر ایک شخص کے بیان کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص اپنے بیان میں جھوٹا اور منافق قرار دِیا جائے گا، اور یہ سلوک آپ کے مخالفین آپ کے ساتھ بھی روا رکھیں گے، اور آپ کو بھی اپنے عقیدے اور اِیمان میں مخلص قرار نہ دیں گے، کیا آپ اس اُصول کو تسلیم کریں گے؟
کیا خداتعالیٰ اور اس کے مقدس رسول آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا کہنے کی اِجازت دی ہے؟ دُنیا کا مُسلَّمہ اخلاقی اُصول جو آج تک دُنیا میں رائج ہے اور مانا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا جو عقیدہ اور مذہب بیان کرتا ہے، اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ ایک مسلمان کو مسلمان اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، ایک ہندو کو ہندو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہندو کہتا ہے، اسی طرح ہر سکھ کہلانے والے، عیسائی کہلانے والے اور دیگر مذاہب کی طرف منسوب ہونے والوں سے معاملہ کیا جاتا ہے اور اس اخلاقی اُصول کو دُنیا میں تسلیم کیا گیا ہے، اور ساری دُنیا اس پر کاربند ہے، پس جب تک احمدی اس بات کا اِقرار کرتے ہیں کہ وہ:
1 ۱- اللّٰہ تعالیٰ پر اِیمان رکھتے ہیں۔
۲- اس کے سب رسولوں کو مانتے ہیں۔
۳- اللّٰہ تعالیٰ کی سب کتابوں پر اِیمان رکھتے ہیں۔
۴- اللّٰہ تعالیٰ کے سب فرشتوں کو مانتے ہیں۔
۵- اور بعث بعد الموت پر بھی اِیمان رکھتے ہیں۔
اور اسی طرح پانچ ارکانِ دِین پر عمل کرتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین دِل وجان سے تسلیم کرتے
294
ہیں، اور اِسلام کو آخری دِین مانتے ہیں، اور قرآن مجید کو اللّٰہ تعالیٰ کی آخری اِلہامی کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ اس وقت تک دُنیا کی کوئی عدالت، دُنیا کا کوئی قانون، دُنیا کی کوئی اسمبلی اور دُنیا کا کوئی حاکم اور کوئی مولوی، مُلَّاں اور مفتی، جماعت کو اِسلام کے دائرے سے نہیں نکال سکتی، اور نہ ہی ان کو کافر یا منافق کہہ سکتے ہیں، اس لئے کہ ہمارے پیارے نبی دِل وجان سے پیارے آقا حضرت خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور سے پوچھا ’’ایمان‘‘ کیا ہے؟ حضور نے فرمایا:
2 اللّٰہ تعالیٰ پر اِیمان لانا، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور بعث بعدالموت پر۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: درست ہے۔
پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا: یا رسول اللّٰہ! اسلام کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شہادت دینا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللّٰہ کا رسول ہوں، قائم کرنا نماز کا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور اگر اِستطاعت ہو تو ایک بار حج کرنا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام بولے: دُرست ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو اِنسان کی شکل میں ہوکر تمہیں تمہارا دِین سکھلانے آئے تھے۔
(ملاحظہ ہو: صحیح بخاری، کتاب الایمان ج:۱ ص:۱۲، باب سوال جبریل)
3 آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
۱- یہ ماننا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللّٰہ کا رسول ہوں۔
۲- نماز قائم کرنا۔
۳- رمضان کے روزے رکھنا۔
۴- زکوٰۃ دینا۔
۵- زندگی میں ایک بار حج کرنا (صحیح بخاری، کتاب الایمان ج:۱ ص:۶)۔
4 آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے، ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہے، اور ہمارے ذبیحے کو کھاتا ہے، وہ مسلمان ہے، اور اللّٰہ اور اس کے رسول کی حفاظت اس کو حاصل ہے، پس اے مسلمانو! اس کو کسی قسم کی تکلیف دے کر خداتعالیٰ کو اس کے عہد میں جھوٹا نہ بناؤ۔
(بخاری، جلد اوّل، باب فضل استقبال القبلۃ، کتاب الصلوٰۃ ص:۵۶)
5 حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: ’’ایمان کی تین جڑیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ کہہ دے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہ کر، اور اس کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ بنا اور اِسلام سے خارج مت قرار دے۔
295
پس مسلمان کی یہ وہ تعریف ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی اور جس کی تصدیق حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کی۔
اس کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جماعتِ احمدیہ اسلام کے دائرے میں داخل ہے اور مسلمان اور مؤمن ہے۔ اب اِنصاف آپ کریں کہ آپ کا بیان کہاں تک دُرست اور حق پر مبنی ہے؟
دوبارہ جماعتِ احمدیہ کے عقیدے پر غور کرلیجئے!
جن پانچ چیزوں پر اِسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے، ہم اس بات پر اِیمان لاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیّدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔
ہم اِیمان لاتے ہیں کہ ملائک حق، اور حشر حق، اور روزِ حساب حق، اور جنت حق، اور جہنم حق، اور جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے، اور جو کچھ ہمارے نبی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ حق ہے، اور ہم اِیمان لاتے ہیں کہ جو شخص شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرّہ کم کرے یا زیادہ کرے، وہ بے اِیمان اور اِسلام سے برگشتہ ہے، اور ہم ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہیں۔ غرض وہ تمام اُمور جن پر سلف صالحین کا اِعتقادی اور عملی طور پر اِجماع تھا، اور وہ اُمور جو اہلِ سنت کی اِجماعی رائے سے اِسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض جانتے ہیں۔
اور ہم آسمان اور زمین کو گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور اِلزام ہم پر لگاتا ہے، وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر اِفترا کرتا ہے، اور قیامت کے دن ہمارا اس پر دعویٰ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کرکے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دِل سے ان اقوال کے مخالف ہیں؟
ان حالات میں اب کس طرح ہم کو منکرِ اِسلام کہہ سکتے ہیں؟ اگر تحکم سے ایسا کریں گے تو آپ ضدی اور متعصب تو کہلاسکیں گے، مگر ایک خداترس اور متقی اِنسان کہلانے کے مستحق نہیں ہوسکتے۔
اُمید ہے کہ آپ اِنصاف کی نظر سے اس مکتوب کا مطالعہ فرماکر اس کے جواب سے سرفراز فرمائیں گے۔
محمد شریف
جواب:۔۔۔ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مکرم ومحترم ھدانا ﷲ وإیَّاکم إلٰی صراط مستقیم!
جناب کا طویل گرامی نامی، طویل سفر سے واپسی پر خطوط کے انبار میں ملا۔ میں عدیم الفرصتی کی بنا پر خطوط کا جواب ان کے حاشیہ میں لکھ دیا کرتا ہوں۔ جناب کی تحریر کا لبِ لباب یہ ہے کہ جب آپ دِین کی ساری باتوں کو مانتے ہیں تو آپ کو خارج اَز اِسلام کیوں کہا جاتا ہے؟
میرے محترم! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ آپ کے اور مسلمانوں کے درمیان بہت سی باتوں میں اِختلاف ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں، اور مسلمان اس کے منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی اگر واقعتاً
296
نبی ہیں تو ان کا اِنکار کرنے والے کافر ہوئے، اور اگر نبی نہیں تو ان کو ماننے والے کافر۔ اس لئے آپ کا یہ اِصرار تو صحیح نہیں کہ: ’’آپ کے عقائد ٹھیک وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔‘‘ جبکہ دونوں کے درمیان کفر واِسلام کا فرق موجود ہے، آپ ہمارے عقائد کو غلط سمجھتے ہیں، اس لئے ہمیں کافر قرار دیتے ہیں، جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نوردِین قادیانی، مرزا محمود قادیانی اور مرزا بشیر احمد قادیانی، نیز دیگر قادیانی اکابر کی تحریروں سے واضح ہے، اور اس پر بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں۔
اس کے برعکس ہم لوگ آپ کی جماعت کے عقائد کو غلط اور موجبِ کفر سمجھتے ہیں، اس لئے آپ کی یہ بحث تو بالکل ہی بے جا ہے کہ مسلمان، آپ کی جماعت کو دائرۂ اسلام سے خارج کیوں کہتے ہیں؟ البتہ یہ نکتہ ضرور قابلِ لحاظ ہے کہ آدمی کن باتوں سے کافر ہوجاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول چلی آتی ہیں، اور جن کو گزشتہ صدیوں کے اکابر مجدّدِین بلااِختلاف ونزاع، ہمیشہ مانتے چلے آئے ہیں ۔۔۔ان کو ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔ ان میں سے کسی ایک کا اِنکار کفر ہے، اور منکر کافر ہے، کیونکہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں سے کسی ایک کا اِنکار آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پورے دِین کے اِنکار کو مستلزم ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا اِنکار، پورے قرآن مجید کا اِنکار ہے، اور یہ اُصول کسی آج کے مُلَّا، مولوی کا نہیں، بلکہ خدا اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد فرمودہ ہے اور بزرگانِ سلف ہمیشہ اس کو لکھتے آئے ہیں۔ چونکہ مرزاقادیانی کے عقائد میں بہت سی ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِنکار پایا جاتا ہے، اس لئے خدا اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مسلمان ان کو کافر سمجھنے پر مجبور ہیں۔ پس اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کا حشر اِسلامی برادری میں ہو تو مرزاقادیانی اور ان کی جماعت نے جو نئے عقائد اِیجاد کئے ہیں، ان سے توبہ کرلیجئے، ورنہ ’’لَكُم دِینُكُم وَلِیَ دِّینِ‘‘ ، وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الہُدٰی!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۷ تا ۲۱۲)
قرآن پاک میں احمد کا مصداق کون ہے؟
سوال:۔۔۔ قرآن پاک میں ۲۸ویں پارے میں سورۂ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا، اس سے مراد کون ہیں؟ جبکہ قادیانی، مرزاقادیانی مراد لیتے ہیں۔
جواب:۔۔۔ اس سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم مراد ہیں، کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں (مشکوٰۃ ص:۵۱۵، باب اسماء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصفاتہ)۔(۱) قادیانی چونکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتے، اس لئے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۸،۲۲۹)
قادیانی کے دروازۂ نبوّت تاقیامت کھولنے کے معنی
سوال:۔۔۔ فتنۂ قادیان کے سلسلے میں ایک مسئلہ محض اپنی تشفیٔ قلب کے لئے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ جو اِلزام ہے
(۱)عن جبیر بن مطعم قال: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إنَّ لِی اسمائً، انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللّٰہ بی الکفر، وانا الحاشر، الذی یحشر الناس علٰی قدمیَّ، وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبیٌّ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۵۱۵)۔
297
کہ انہوں نے اِجرائے نبوّت کا دروازہ کھول کر فتنۂ عظیم برپا کردیا، اس کے جواب میں وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِجرائے نبوّت یعنی ظہورِ مسیح تو اہلِ سنت کا متفقہ مسئلہ ہے، اب گفتگو صرف تعیین شخصی میں رہ جاتی ہے کہ اس دعویٔ مسیحیت کا مصداق کون شخص ہے؟ اور اس میں خطائے اِجتہادی کی پوری گنجائش ہے۔ اس پر کچھ مختصراً اِرشاد فرمادیجئے۔
جواب:۔۔۔ اس کا دعویٰ صرف مسیح ہی کے ساتھ خاص نہیں، جس میں شبہ مذکورہ فی السوال کی گنجائش ہو وہ تو مسیح، غیرمسیح سب کے لئے نبوّت کو ممکن کہتا ہے، اس کے رسائل میں اس کی تصریح ہے، پھر مسیح میں بھی بقائے نبوّتِ سابقہ (جو کہ موصوف کا کمالِ ذاتی ہے، جو بعد عطا کے سلب نہیں ہوتا بدوں ظہور آثارِ خاصہ تشریع وغیرہ جیسا خود عالمِ برزخ میں یہ کمال سب حضرات کے ذوات میں باقی ہے) عطائے نبوّت کو مستلزم نہیں، اور منافی ختمِ نبوّت کے عطائے نبوّت ہے، جس کا وہ اپنی ذات کے لئے مدعی ہے، کیونکہ پہلے موجود نہ تھا، تاکہ اس نبوّت کو نبوّتِ سابقہ کہا جاسکے نہ بقا بہ شان مذکور اور یہ بالکل ظاہر ہے۔ (’’النور‘‘ ص:۸، صفر المظفر ۱۳۵۵ھ)
(اِمدادُالفتاویٰ ج:۶ ص:۱۱۵)
قادیانیوں کے دلائل اور ان کے جوابات
سوال:۔۔۔ ایک شخص حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے ثبوت اور حقانیت کے لئے مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے:
قادیانی کے دلائل:۔۔۔ ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘ (الاحزاب:۴۰)۔
ہمارا عقیدہ:۔۔۔ واضح ہو کہ یہ قرآن پاک کی آیت ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس کے کل یا جز سے اِنکار کرنا ہمارے نزدیک موجبِ کفر ہے، پس ہم جماعتِ احمدیہ والے سیّدنا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین تسلیم کرتے ہیں، اور جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین نہ مانے، وہ ہمارے نزدیک مسلمان ہی نہیں۔ لیکن لفظِ ’’خاتم‘‘ کا حقیقی معنی ومفہوم سمجھنا ضروری ہے، یہ ہمارا دعویٰ ہے کہ دُنیا کی کسی بھی لغت میں لفظِ ’’ختم‘‘ مقام درج میں آکر خاتم کا معنی بند کرنے والا یا روکنے والا نہیں ہے، حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے کا محاورہ یا عرب کا مقولہ یا کسی عرب شاعر کا کوئی شعر تمام عربی لٹریچر میں موجود نہیں، اور نہ ہی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی عربی کتاب میں ’’خاتم‘‘ کا لفظ بند کرنے اور روکنے کے معنی میں اِستعمال نہیں ہوا ہے، چنانچہ لغات کی چند مشہور کتابیں ملاحظہ ہوں:
-
لفظ
معنی
-
نمبر۱ خاتم
نگینہ، مہر، جس پر نام وغیرہ کندہ کئے جاتے ہیں۔
لسان العرب، تاج العروس، صحاح قاموس جوہری۔
298
-
نمبر۲ خاتم
انگشتری: مثل خاتم الذھب یعنی سونے کی انگوٹھی۔
لسان العرب، تاج العروس، صحاح قاموس جوہری۔
-
نمبر۳ خاتم
گھوڑے کی جو تھوڑی سی سفیدی ہوتی ہے۔
قاموس، تاج العروس، منتہی الادب۔
-
نمبر۴ خاتم
گھوڑی کے تھنوں کے پاس کا حلقہ بھی خاتم کہلاتا ہے۔
قاموس، تاج العروس، منتہی الادب۔
-
نمبر۵ خاتم
گدی کے نیچے جو گڑھا ہوتا ہے، اس کو بھی خاتم کہتے ہیں۔
قاموس، تاج العروس، منتہی الادب۔
-
نمبر۶ خاتم
مہر کا نقش جو کاغذ پر اُتر آتا ہے۔
لسان العرب وغیرہ۔
-
نمبر۷ خاتم النّبیین
نبیوں کی زینت اور رونق۔
مجمع البحرین جلد نمبر۱۔
۱:۔۔۔ اسی طرح مُلَّا علی قاریؒ ’’موضوعاتِ کبیر‘‘ ص:۴۹ میں خاتم النّبیین کا یہ معنی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دِین کو منسوخ کرے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت سے نہ ہو۔
۲:۔۔۔ شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ ’’تفہیماتِ اِلٰہیہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبیوں کے ختم ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس کو اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کے لئے شارع نبی بناکر بھیجے۔
۳:۔۔۔ ’’مجمع البحار‘‘ (مصنفہ: شیخ محمد طاہرؒ) میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ یہ تو کہو کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴:۔۔۔ ’’تفسیر صافی‘‘ میں ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ: ’’اے علی! میں خاتم الانبیاء ہوں اور تو خاتم الاولیاء ہے‘‘ تو کیا اس سے یہ مراد لیا جائے کہ حضرت علیؓ کے بعد کوئی ولی نہیں ہوگا؟
۵:۔۔۔ ’’دیلمی‘‘ کی حدیث ہے کہ: ’’میں فقراء المؤمنین کے ساتھ سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا، اور میں اپنے سے پہلے اور بعد کے سب نبیوں کا سردار ہوں۔‘‘
۶:۔۔۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ کو ’’خاتم المہاجرین‘‘ کہا ہے، تو کیا حضرت عباسؓ کے بعد کسی نے ہجرت نہیں کی؟
۷:۔۔۔ سیّدنا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم بمعنی مہر کے ہیں اور مہر کا کام تصدیق کرنا ہے، ایک سرکاری ملازم اس لئے مہر لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ رقم یا تنخواہ میں نے وصول کی ہے نہ کہ کسی اور نے۔
299
۸:۔۔۔ ایک عدالت کا حاکم اس لئے مہر لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ نوشتہ یا پروانہ میرے علم اور حکم سے جاری ہوا ہے۔
۹:۔۔۔ ایک بادشاہ اس لئے مہر لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ فرمان یا تحریر میرے علم اور حکم سے لکھا یا جاری ہوا۔
۱۰:۔۔۔ ایک ڈاک خانہ خط پر اس لئے مہر لگاتا ہے کہ تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ خط فلاں مقام سے فلاں تاریخ اور وقت پر روانہ ہوا یا پہنچا۔
۱۱:۔۔۔ ایک اپیل نویس اپنی مہر اس واسطے لگاتا ہے کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ مندرجہ وثیقے کی عبارت میری تحریر کردہ ہے۔
۱۲:۔۔۔ کسی پارسل، بوتل یا بند خط پر مہر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ یہ چیزیں میں نے بند کی ہیں، اگر مہر سلامت نہ رہے تو اس کے اندر کی چیز کے سلامت ہونے کا اِعتبار جاتا رہتا ہے۔
۱۳:۔۔۔ کسی مہر کے واسطے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی تحریر کے لازماً آخر میں ہو، خواہ آغاز پر خواہ انجام پر، مراد اس سے مہرکنندہ کی تصدیق ہوتی ہے نہ کہ اس تحریر کا بند ہونا اور بند کرنا۔
یہ تو قادیانی کے دلائل تھے۔ آپ حضرات سے اِستدعا ہے کہ ان دلائل کے دندان شکن جوابات تحریر فرماکر اس نوپید فتنہ کا قلع قمع کرنے میں تعاون فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ تمام اُمتِ مسلمہ کا یہ اِجماعی اور متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضور سیّد دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، سوائے حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کے، وہ قربِ قیامت میں آسمانوں سے نزول فرمائیں گے اور دِینِ محمدی کا اِحیاء اور تجدید کریں گے اور شریعتِ محمدی کے تابع ہوں گے۔ باقی قادیانی بدبخت اس اِجماعی عقیدے کو چھوڑ کر لفظ ’’خاتم‘‘ کے غیرمرادی اور غیرمعتبر معانی کے پیچھے لگ گئے اور ’’خاتم النّبیین‘‘ کا جو اِجماعی معنی ہے، جس پر تمام اُمت کا اِتفاق ہے، جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود سمجھایا اور صحابہ کرامؓ نے سمجھا تھا، اور اُمت کے تمام محققین، محدثین، مفسرین، اَئمہ کرام اور علمائے حق کا اسی پر اِتفاق ہے، لیکن بدبخت قادیانیوں نے ان کا سمجھا ہوا معنی جھٹلایا اور خود اپنے من گھڑت معنی کو معتبر قرار دِیا۔
قال ﷲ تعالٰی:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘
(الاحزاب:۴۰)
فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ، وَلَا اُمَّۃَ بَعْدِیْ۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ کئی احادیث کا مجموعہ ہے اور یہ مضمون کئی احادیث میں وارِد ہوا ہے (تفسیر القرآن العظیم ج:۴ ص:۷۱۴)۔ ’’لَا‘‘ نفیٔ جنس کا ہے، جب یہ اپنے مدخول پر آجاتا ہے تو اس کا بیخ نکال جاتا ہے، یعنی حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ’’خاتم النّبیین‘‘ کا معنی نبیوں
300
کا خاتمہ کرنے کا لیا، اسی لئے فرمایا: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ ۔۔۔إلخ‘‘ کہ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں، نہ تشریعی، نہ ظلّی، نہ بروزی، مگر قادیانی بدبختوں ۔۔۔علیہم ماعلیہم۔۔۔ نے خاتم النّبیین سے مراد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا لیا ہوا معنی چھوڑ کر، اور خود بھی لغت کے تمام معنوں کو چھوڑ کر، صرف ’’تصدیق‘‘ اور ’’مہر‘‘ کا معنی لیا، جو تمام کے لئے ہوئے معنی سے مخالف اور متضاد ہے۔
مُلَّا علی قاریؒ نے جو ’’موضوعاتِ کبیر‘‘ میں آیت خاتم النّبیین کا معنی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دِین کو منسوخ کردے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت سے نہ ہو۔‘‘ تو یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف اِشارہ ہے کہ آئیں گے، مگر شرعی نبی نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دِین کے حامی بن کر آئیں گے۔
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ کا قول ’’تفہیمات الکبیر‘‘ میں بھی بالکل ٹھیک ہے، قادیانی اس پر عمل نہیں کرتے، کیونکہ وہ پھر نئے نبی کے آنے کے قائل ہیں۔
ضروری اِنتباہ:۔۔۔ قادیانیوں کی تحریرات میں سب دھوکا ہے، سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکے سے بے دِینی کی طرف مائل کرتے ہیں، خاتم النّبیین اور ختمِ نبوّت کے اِجماعی عقیدے کے یہ لوگ منکر ہیں، لوگوں میں خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور عوام الناس کو اپنے دام میں پھنسانے کے لئے اس قسم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں تاکہ ان سادہ لوح لوگوں کو دھوکا دے سکیں، ان کے پلید مذہب کی حقیقت خود ان کی اپنی تحریرکردہ کتابوں سے واضح ہوتی ہے، اگر آپ قادیانی مذہب کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنا چاہیں تو مندرجہ ذیل کتابیں منگواکر مطالعہ کریں تاکہ اِیمان بھی تازہ ہو اور دِین واِیمان کے ڈاکوؤں کے فریب سے بھی نجات ملے: ۱-عشرہ کاملہ، ۲-ختمِ نبوّت، ۳-تحقیق الکفر والیمان بآیات القرآن، ۴-دعاویٔ مرزا، ۵-مسیحِ موعود کی پہچان، ۶-قادیانیوں کے کفر پر علمائے اسلام کا فتویٰ۔ یہ کتابیں طبع شدہ ہیں اور عام ملتی ہیں، کسی بھی مشہور کتب خانے سے منگواکر ضرور مطالعہ کریں۔
لفظِ ’’خاتم‘‘ کی لغوی تحقیق
خاتم کا معنی لغت کی رُو سے:
۱:۔۔۔ ’’صراح‘‘ ص:۲۸۸ میں ہے:
’’ختم کردن، مہر کردن،ختمت الشی فہو مختوم، ختم شد وتمام گردانیدن یقال خَتَمَ ﷲُ لَہٗ بِالْخَیْرِ، اتمام خواندن قرآن، اختتام بپایان بردن، نقیض الافتتاح، خاتم بفتح التاء وکسرہا، خاتم بالتاء، خاتام بالالف انگشتری جمع خواتیم، خاتم الشیٔ آخرہٗ، ومحمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء بفتح، صلوٰۃ اللّٰہ علیہ وعلیہم اجمعین، گلے وموم مہر کنندہ وقولہٗ تعالیٰ: ’’خِتٰمُہُ مِسكٌ‘‘ ۔‘‘
۲:۔۔۔ اور ’’غیاث‘‘ ص:۱۵۳ پر :
’’ختام بکسر موم ومک وغیرہ کہ براں مہر کنندہ۔‘‘
301
۳:۔۔۔ ’’المنجد‘‘ ص:۱۶۵:
’’الختم ما یتختم بہ الختام الطین او کل ما یتختم بہ علی الشیء جمع ختم الختم کل ما یتختم بہ الخاتم جمع الخواتیم، الختام ما یختم بہ وعاقبت کل شیء۔ جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر صادق آتا ہے۔
۴:۔۔۔ ’’مفردات القرآن‘‘ لامام راغب الاصفہانی ص:۱۴۲ پر ہے:
’’وخاتم النَّبیین لأنہ ختم النبوۃ ای تممھا بمجیئہ۔‘‘
مذکورہ بالا حوالہ جات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ لفظِ ’’خاتم‘‘ ختم کرنے اور منتہی الشیٔ کے معنی میں بھی اِستعمال ہوا ہے۔ اور خبیث قادیانی کے دھوکے کو دیکھو کہ یہ لفظ کہیں بھی ختم کرنے اور اِنتہا واِختتام الشیٔ کے معنی میں نہیں لایا، خاص کر اِمام راغب اصفہانی ؒ کی صرح کے الفاظ۔ ’’المنجد‘‘ کا مصنف تو عیسائی ہے، مسلمان نہیں، اس عیسائی کے الفاظ دیکھیں کہتا ہے: ’’عاقبت کل الشیء اور یہ معنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر صادق آتا ہے۔‘‘ اگر بالفرض کسی لغت میں لفظ خاتم بمعنی ختم کرنے والا نہ بھی ہو، تب بھی ہمارے مدعا اور اِجماعی عقیدے پر اَثرانداز نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ ہمارے نزدیک لغات کی کتابیں معتبر ہی نہیں ہیں اور نہ ہم اپنے مدعا کے ثبوت کے لئے ان سے اِستدلال کرنے کے پابند ہیں، بلکہ ہمارا یہ دعویٰ قرآن پاک کے قطعی اور یقینی نصوص، احادیثِ صحیحہ اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے، قرآن وحدیث کو چھوڑ کر لغات کی کتابوں سے اِستدلال کرنے والا حد درجے کا زِندیق اور ملحد ہے، اسلام سے کوسوں دُور، اِرتداد کی شدید ظلمات میں پڑا ہوا ہے، اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ جو شخص قادیانی مذہب اِختیار کرے تو عدمِ رُجوع کی صورت میں اُسے سزائے موت دے۔
قال ﷲ تعالٰی:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘
(الاحزاب:۴۰)
قال الحافظ ابن کثیر تحت ھٰذہ الآیۃ:
’’فھٰذہ الآیۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ وإذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بعدہ بالطریق الأولٰی، والاخریٰ لأن مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ، فإن کل رسول نبی ولا ینعکس، وبذالک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ۔‘‘
(تفسیر القرآن العظیم ج:۳ ص:۴۹۳، مطبوعۃ مصطفٰی محمد مصر)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۹۲ تا ۳۹۶)
غلام احمد قادیانی کے وسوسوں کا جواب
سوال:۔۔۔ مرزاقادیانی کے بارے میں شرعی حکم اور اس کے بیان کئے گئے وسوسوں کا جواب، نیز یہ کہ اس کے عقائدِ
302
فاسدہ کیا تھے؟ اور اس بدبخت شخص کا پس منظر کیا ہے؟ اور اُصولاً مسلمانوں کا ان سے کیا اِختلاف ہے؟ تفصیل تحریر فرمائیں۔
ساجد گیلانی، لاہور
جواب:۔۔۔ محترم ساجد گیلانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
قادیانی کافر ومرتد ہیں۔ مرزاقادیانی ذہناً نیم پاگل اور انگریزوں کا ایجنٹ تھا۔ قادیانی وسوسوں کا مختصر جواب حاضر ہے۔
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قرآنِ کریم میں آخری نبی بتایا گیا ہے۔ نبی شریعت والا اور بلاشریعت کی کوئی بات قرآن وحدیث میں نہیں۔ یہ قادیانی مرتدین کی باطل تأویلیں ہیں، چونکہ قرآن وسنت کے خلاف ہیں، لہٰذا مردود ہیں۔
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے کسی صاحبزادے کو نبی نہیں فرمایا، یہ صریح جھوٹ ہے، ثبوت دیں۔ اگر زِندہ رہتا تو نبی ہوتا، تعلیق المحال بالمحال ہے، یعنی اللّٰہ کے علم میں نہ انہوں نے زِندہ رہنا تھا، نہ نبی ہونا تھا، جیسے قرآن میں ہے:
’’قُلْ إِن کَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ‘‘
(الزخرف:۸۱)
’’آپ فرمائیں اگر اللّٰہ رحمن کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔‘‘
تو کیا اس سے اللّٰہ کے بیٹے کا جواز نکل آیا؟ نہ بیٹا ممکن، نہ اس کی عبادت کرنا۔ یونہی نہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت اِبراہیم کا زِندہ رہنا ممکن، نہ نبی بننا، کیونکہ اللّٰہ کے علم میں یہی طے تھا۔ ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ والی حدیث پاک کا جواب مرتد کے پاس نہ تھا، اس لئے اس نے جھلاکر پوچھا اس کا کیا تک تھا؟ اس سے پوچھیں اس آیت کا کیا تک ہے کہ بیٹا ہوتا تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اللّٰہ کا بیٹا ہوسکتا ہے؟
قرآنِ کریم میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین، یعنی آخری نبی کہا گیا ہے۔ حدیث پاک میں ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ سے اس کی تشریح وتفسیر کردی گئی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک مسلمان کے لئے یہی کافی ہے۔
اللّٰہ نے کہیں بھی قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس طرح وفات دی جس طرح باقی نبیوں کو۔ پس یہ مرزائی مرتد کا جھوٹ ہے۔ وہ زندہ آسمان پر ہیں اور قیامت کے قریب تشریف لائیں گے، جیسا قرآن وحدیث میں وضاحت ہے۔ اس مختصر میں تفصیل کی گنجائش نہیں۔
قرآنِ کریم میں ’’اَسرٰی بِعِبدِہٖ‘‘ فرمایا گیا ہے، یعنی اللّٰہ نے اپنے بندے کو سیر کرائی اور بندہ مکمل زندہ انسان پر بولا گیا ہے، صرف رُوح کو معراج ہوتی تو بروحہ کہہ دینا کوئی مشکل نہ تھا۔ اللّٰہ کو عربی زبان خوب آتی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اِسرائیل کے نبی ہیں۔ حضرت اِمام مہدی علیہ الرضوان حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت کے مجدّد اور مصلح ہوں گے۔ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ ایک کیسے ہوگئیں؟ قادیانی چونکہ اپنے مرتد کو کبھی مسیح اور کبھی مہدی کہتے ہیں، جیسا کہ اس نے خود ایسے دعوے کئے ہیں، اس لئے وہ دونوں کو ایک کہتے ہیں، حالانکہ قادیانی مرتد ایک پاگل بیوقوف شخص تھا، اس نے تو اپنی کتاب ’’براہین‘‘ وغیرہ میں اپنے آپ کو آدم، نوح، موسیٰ، عیسیٰ، مریم اور نہ جانے کیا کیا لکھا ہے، کیا ان تمام پاکیزہ ہستیوں کو بھی
303
ایک ہی کہا جائے گا؟ اگر اِیمان نہیں تو کم از کم عقل کو ہی اِستعمال کرلیتے۔ اگر یہ تمام حضرات ایک نہیں تو مرزا ان سب کا معجون ومرکب کیسے بن گیا؟ کیا ایک ہی شخص کبھی موسیٰ، کبھی عیسیٰ، کبھی داؤد، کبھی اِبراہیم، کبھی یہ، کبھی وہ بن سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو اس قادیانی مرتد کے پاگل ہونے اور گمراہ ہونے میں کیا شک رہ گیا؟ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے، آمین! والسلام۔
واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۵۷-۳۵۹)
مسئلۂ ختمِ نبوّت پر ایک دِلچسپ مناظرہ
(جمع وترتیب: مولانا اِحتشام الحق آسیاآبادی)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفیٰ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ، اَمَّا بَعْدُ!
میرے مربیٔ رُوحانی حضرت مفتی (رشید احمد لدھیانویؒ) صاحب دامت برکاتہم کی اِبتدائی تدریس کے زمانے میں ایک قادیانی مناظر سے اِتفاقاً ملاقات ہوگئی، قادیانی کے ساتھ ان کا ایک شاگرد بھی تھا، ملتے ہی قادیانی مناظر نے اپنی تعریف اور مہارت پر کافی تقریر کی اور کہا کہ: ’’میں نے بوعلی سینا کی کتابیں پڑھی ہیں، عیسائیوں اور آریوں سے بہت سے مناظرے کئے ہیں‘‘ خوب اپنی قابلیت اور مہارت جتاتا رہا اور حضرتِ والا خاموشی سے سنتے رہے، اس کے بعد مسئلہ جریانِ نبوّت پر بات شروع کردی۔ ذیل میں اس مختصر مگر دِلچسپ مناظرے کی رُوئیداد پیش کی جارہی ہے، جس میں خاص طور سے حضراتِ علمائے کرام کے لئے بڑی کارآمد اور مفید باتیں آگئی ہیں۔ اِختصار کی خاطر حضرتِ والا کو ’’مفتی صاحب‘‘ اور قادیانی کو ’’قادیانی مناظر‘‘ کے عنوان سے ذِکر کیا جائے گا۔ (آسیاآبادی)
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ آپ کا اصل دعویٰ تو اِثبات نبوّتِ مرزا ہے، مسئلہ جریانِ نبوّت آپ کے دعویٔ نبوّت پر دلیل کے لئے صغریٰ کا کام دیتا ہے یا کبریٰ کا؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ یہ ہماری دلیل نہیں ہے، بلکہ اس مسئلے کو ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی نبوّت پر بحث کرتے ہوئے اکثر علماء یہ بحث اَزخود چھیڑ دیتے ہیں کہ نبوّت ختم ہوچکی ہے، اس لئے ہمیں یہ بحث کرنا پڑتی ہے۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ یہ بحث آپ اس عالم سے کریں جو اسے چھیڑے، مجھ سے براہِ راست اپنے دعویٰ نبوّتِ مرزا پر بحث کریں، اس لئے کہ میں تو اس کا قائل ہوں کہ بفرضِ محال اگر نبوّت جاری ہو تو بھی مرزاقادیانی نبی نہیں ہوسکتے۔
حضرتِ والا کے اس اِصرار کے باوجود قادیانی مناظر جریانِ نبوّت ہی پر بحث کرنے پر مصر رہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ قادیانی مناظر اس مسئلے میں اصل مدعا کی طرف آتے ہوئے گھبراتے ہیں، انہیں یہ معلوم ہے کہ مرزاقادیانی کی نبوّت کو ثابت کرنے کے آگے کانٹوں کا انبار ہے، اس لئے حضرتِ والا ارخاء عنان کے لئے جریانِ نبوّت ہی پر بحث کرنے پر رضامند ہوگئے کہ کہیں وہ یہ
304
نہ سمجھیں کہ کسی کمزوری کی بنا پر اس بحث سے پہلوتہی کررہے ہیں۔ چنانچہ اب بحث شروع ہوتی ہے۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ یہ بحث ہے تو بالکل فضول، مگر جب آپ اپنے اصل مدعا کی طرف آنا نہیں چاہتے اور اسی پر مصر ہیں کہ جریانِ نبوّت ہی پر بحث ہو تو چلئے اس پر فرمائیے۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک بالاتفاق نبوّت جاری رہی، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ نبوّت ختم ہوگئی۔ جو شخص متفق علیہ حقیقت کے خلاف کا قائل ہوتا ہے، وہ مدعی کہلاتا ہے، اور مدعی کے ذمہ دلیل بیان کرنا ہوتا ہے۔ آپ مدعی ہیں، لہٰذا ختمِ نبوّت پر دلیل بیان کریں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ آپ میرا مدعی ہونا تسلیم کرتے ہیں؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ (ذرا ہچکچاکر) ہاں! اس حیثیت سے کہ آپ متفق علیہ حقیقت کے خلاف کے قائل ہیں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ آپ حیثیت وغیرہ چھوڑیں اور صاف اس کا اِقرار کریں کہ آپ مجھے مدعی مانتے ہیں۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ (دبی ہوئی زبان میں) ہاں! آپ مدعی ہیں۔
قادیانی مناظر کو حضرت مفتی صاحب مدظلہم کے مدعی تسلیم کرنے میں تردّد اس لئے ہو رہا تھا کہ مناظرے میں ہر شخص مدعی بننے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر یہاں خود حضرت مفتی صاحب اپنے مدعی ہونے کا ان سے اِقرار لے رہے ہیں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ یہ بتائیے کہ آپ کے ہاں نبوّتبشرط لا شیء جاری ہے لا بشرط شیء؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ آپ علمی اِصطلاحات اِستعمال نہ کریں، عام فہم زبان میں بات کرنا چاہئے۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ یہاں عوام کا کوئی ایسا مجمع نہیں، اس لئے علمی اِصطلاحات کے اِستعمال میں کوئی حرج تو نہیں، مع ھٰذا آپ کی خواہش کی رعایت کرتا ہوں، میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں مطلق نبوّت جاری ہے یا النبوۃ المطلقۃ؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ میں نے خیال کیا کہ آپ بوعلی سینا کی کتابیں دیکھے ہوئے ہیں، اس لئے سمجھ جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہاں نبوّت کی دو قسمیں ہیں: تشریعی اور ظلّی، یہ دونوں قسمیں جاری ہیں یا ایک؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ ایک قسم جاری ہے، یعنی ظلّی، تشریعی نبوّت ختم ہوگئی۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک نبوّت تشریعی جاری تھی، آپ اس کے ختم ہوجانے کے قائل ہیں۔ متفق علیہ حقیقت کے خلاف کہہ رہے ہیں، اس لئے آپ مدعی ٹھہرے۔ آپ اس پر دلیل بیان کریں۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ میں مدعی نہیں ہوں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ بعینہٖ جس طریقے سے آپ نے مجھے مدعی ٹھہرایا، اسی طریقے سے آپ مدعی بن رہے ہیں۔
305
قادیانی مناظر:۔۔۔ میں کسی طرح مدعی نہیں ہوں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ جس طریقے سے مجھے مدعی بنایا تھا، بعینہٖ اسی طریقے سے آپ مدعی بن گئے، اب اگر آپ مدعی نہیں تو میں بھی مدعی نہیں، قصہ ہی ختم ہوگیا۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ (مجبور ہوکر اپنے مدعی ہونے کا بادِلِ ناخواستہ اِقرار کرتے ہوئے دلیل پیش کرتے ہیں) نبوّت تشریعہ کے لئے کچھ شرائط ہیں (ان شرائط کی تفصیل بیان کرنے سے بچنے کے لئے کہا کہ) یہ شرائط آپ کو معلوم ہی ہیں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ مجھے ان شرائط کا علم نہیں، آپ ہی بیان کریں، نیز یہ بھی بتائیے کہ ان شرائط کا وجود ممکن ہی نہیں یا ممکن تو ہے واقع نہیں؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ ممکن ہے، مگر واقع نہیں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّتِ تشریعی ممکن تو ہے مگر واقع نہیں۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّتِ تشریعی ممکن ہی نہیں۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ شرط ممکن ہو اور مشروط ممتنع؟
قادیانی مناظر:۔۔۔ (کافی دیر تک اس بحث میں اُلجھتے رہے کہ شرائط ممکن ہیں اور نبوّتِ تشریعی ممکن نہیں، مگر بالآخر اس کا اِعتراف کرنا پڑا کہ نبوّتِ تشریعی کے شرائط بھی ممکن نہیں)۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ اب دو دعوؤں کا اِثبات آپ کے ذمے ہوگیا، ایک تو یہ کہ جو چیز آپ بیان کریں، اس کی شرطیت دلیل سے ثابت کریں۔ دُوسرا یہ کہ اس شرط کا ممتنع ہونا بھی ثابت کریں۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ (ایک آیت پڑھ کر) اس سے یہ ثابت ہوا کہ تشریعی رسول تب آتا ہے جبکہ اس سے پہلی کتاب میں تحریف ہونے لگے، چونکہ قرآنِ کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوسکتی، اس لئے تشریعی رسول بھی نہیں آسکتا۔
حضرت مفتی صاحب:۔۔۔ اس آیت سے تو سببیت ثابت ہوئی نہ کہ شرطیت، تحریف ماقبل نئی رسالت کا سبب ہے، شرط نہیں، یعنی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بغیر تحریف ماقبل کے کوئی نیا رسول نہیں آسکتا، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام تشریعی نبی تھے، مگر آپ سے قبل کسی دِین کی تحریف نہیں ہوئی۔ کیا نیا رسول آنے کی یہ وجہ نہیں ہوسکتی ہے کہ دِین ماقبل میں کوئی تحریف نہ بھی ہو، مکمل طور پر صحیح طریقے پر موجود ہو، اس کے باوجود اس کے اَحکام طبائع کے مناسب نہ رہے ہوں، اس لئے اللّٰہ تعالیٰ نئے رسول کے ذریعے اس زمانے کے طبائع کے مطابق اَحکام میں ترمیم فرمائیں۔ بہرحال شرطیت ثابت نہیں ہوتی۔
قادیانی مناظر:۔۔۔ (شرمندگی کی ہنسی طاری کرکے کہنے لگا کہ) شرطیت ہو یا سببیت، بات یوں ہی ہے۔
یہ کہہ کر اپنی چھیڑی ہوئی بحث کو خود ہی ختم کردیا اور حضرت مفتی صاحب مدظلہم کے بار بار اِصرار کے باوجود نہ اصل مدعا یعنی اِثباتِ نبوّتِ مرزا پر بات کرنے کو تیار ہوئے اور نہ ہی مسئلۂ جریانِ نبوّت پر مزید کلام کیا، بالکل ہی خاموش ہوگئے۔ حضرت مفتی
306
یہ کہہ کر اپنی چھیڑی ہوئی بحث کو خود ہی ختم کردیا اور حضرت مفتی صاحب مدظلہم کے بار بار اِصرار کے باوجود نہ اصل مدعا یعنی اِثباتِ نبوّتِ مرزا پر بات کرنے کو تیار ہوئے اور نہ ہی مسئلۂ جریانِ نبوّت پر مزید کلام کیا، بالکل ہی خاموش ہوگئے۔ حضرت مفتی
۳؍ربیع الاوّل ۱۳۹۶ھ
(اَحسن الفتاویٰ ج:۱ ص:۴۲ تا ۴۵)
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے پر اِشکال اور اس کا جواب
سوال:۔۔۔ بلاشبہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم ہوچکی، آپ صلی ا للّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، لہٰذا اب کوئی دُوسرا نبی نہیں آئے گا۔ لیکن اِشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللّٰہ تبارک وتعالیٰ قادرِ مطلق ہے اور اس نے جس طرح پہلے انبیاء بھیجے، اب بھی ان کے بھیجنے پر قادر ہے، پھر اَب وہ نبی کیوں نہیں بھیجے گا؟ براہِ کرم اس اِشکال کو دُور فرمادیں۔
جواب:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پاک نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری نبی اور خاتم النّبیین قرار دے دیا ہے، اس لئے وہ قادرِ مطلق ہونے کے باوجود اَب کسی نبی کو پیدا نہیں فرمائے گا۔
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۵ ص:۱۰۹،۱۱۰)
عقیدۂ اِجرائے نبوّت اور شیخ ابنِ عربیؒ کا قول
سوال:۔۔۔ شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ فرماتے ہیں کہ:’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوّت ختم ہوچکی، لیکن غیرتشریعی نبوّت ختم نہیں ہوئی۔ یہ صحیح ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ کا قول اِستدلال میں پیش کرنا، اَوّلاً تو اُصولاً غلطی ہے، کیونکہ مسئلۂ ختمِ نبوّت عقیدے کا مسئلہ ہے، جو باجماعِ اُمت بغیر دلیلِ قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا، اور دلیلِ قطعی قرآنِ کریم اور حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت کے سوا کوئی نہیں۔ ابنِ عربیؒ کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اسے اِستدلال میں پیش کرنا ہی اُصولی غلطی ہے۔ ثانیاً خود اِبنِ عربیؒ اپنی اسی کتاب ’’فتوحات‘‘ (ج:۳ ص:۳۸، مطبوعہ دارالکتب مصر) میں، نیز ’’فصوص‘‘ میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوّتِ شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے۔ اور جس عبارت کو سوال میں پیش کیا ہے، اس کا صحیح مطلب خود ’’فتوحات‘‘ کی تصریح سے یہ ہے کہ ’’نبوّت غیرتشریعی‘‘ ایک خاص اِصطلاح شیخ اکبرؒ کی ہے، جو مرادفِ ولایت ہے، نہ وہ نبوّت جو مصطلحِ شرع ہے، کیونکہ جمیع اقسامِ نبوّت کے اِنقطاع پر خود ’’فتوحات‘‘ کی بے شمار عبارتیں شاہد ہیں۔ ابنِ عربیؒ اور دُوسرے حضرات کی عبارتیں صریح وصاف رسائل مذکورۃالصدر میں کچھ مذکور ہیں، اور قلمی احقر کے پاس منقول، لیکن سب کے نقل کرنے کی فرصت وضرورت نہیں۔(۱)
اسی طرح صاحبِ ’’مجمع البحار‘‘ اور مُلَّا علی قاریؒ بھی اپنی دُوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوّت ختم ہوچکی ہے، آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اِمدادُ المفتین ج:۲ ص:۱۳۴)
دفع شبہ قادیانی وتفسیر آیت
سوال:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہ جو مولوی لوگ کہتے ہیں کہ نبوّت جزئی اور کلی طور پر ختم ہوچکی ہے، یہ بات
(۱) مزید وضاحت کے لئے دیکھئے مذکورہ کتاب کا صفحہ:۱۹۔
307
غلط ہے، حالانکہ اس آیت کے لفظی ترجمے سے ثابت ہوتا ہے کہ رِسالت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ وہ آیت سورۂ اَعراف میں یہ ہے:’’یَا بَنِیْ آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِیْ‘‘ (الاعراف:۳۵) اس آیت سے ضرور یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبوّت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے، اگر منقطع ہوچکا ہے تو اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب تسلی بخش اِرقام فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ آیت متصل ہے قصہ آدم علیہ السلام کے ساتھ بعد خطاب: ’’اہبِطُوا‘‘ کے، یہ بھی اِرشاد ہوا کہ:’’اِمَّا یَاتِیَنَّكُم رُسُلٌ‘‘ چنانچہ اس خطاب کے بعد بہت سے رُسل آئے، گو بعد ختمِ نبوّت پھر نہیں آئے۔
۱۳؍ذیقعدہ ۱۳۲۵ھ
(امداد ج:۳ ص:۱۴۷)
(اِمدادُالفتاویٰ ج:۴ ص:۵۵۹)
مرزاقادیانی کا ’’وَلَو تَقَوَّلَ عَلَینَا بَعضَ الاَقَاوِیلِ‘‘ سے اِستدلال باطل ہے
سوال:۔۔۔ مرزاقادیانی اپنے دعوے کی سچائی میں اس کو پیش کرتا رہا ہے، اور اس کے مرید پیش کرتے ہیں:’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ. لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ‘‘ (الحآقَّۃ:۴۴، ۴۵) وہ کہتا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا ہے کہ جو کوئی اِلہام کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے، وہ پکڑا جاتا ہے اور ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس آیت میں خاص حضرت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ذِکر ہے اور ان کی سچائی کی دلیل بیان کی گئی ہے کہ یہ اِفترا کرتے تو ہم پکڑتے اور قطعِ وَتین کردیتے۔ مگر یہ دلیل اس وقت ہوسکتی ہے کہ سنت اللّٰہ اس طرح جاری ہو کہ جھوٹوں پر اَخذ ہوا ہو، اور قطعِ وَتین یعنی ہلاک کردئیے گئے ہوں، اگر پہلے ایسا نہ ہوا، اور خاص جناب رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت اِرشاد ہو رہا ہو تو منکرین پر حجت کس طرح ہوسکتی ہے؟ اسی بنیاد پر مرزا کہتا ہے کہ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو ہمارے ساتھ یہی معاملہ ہوتا، ہمیں اس قدر ترقی وقبولیت نہ ہوتی، بہت جلد یا کچھ مہلت کے بعد ہلاک کردئیے جاتے، اور ایسا نہیں ہوا، بلکہ دعوے کے بعد ۲۳برس سے زیادہ آرام کے ساتھ رہا، اس لئے یہ آیت ہماری حقانیت کی دلیل ہے۔ تأمل کرکے اس کا جواب شافی عنایت فرمایا جائے، اس کی بھی شرح سمجھ میں نہیں آتی کہ اخذ بالیمین اور قطعِ وتین سے کیا مراد ہے؟ اگر موت مقصود ہے تو سچے اور جھوٹے سب مرتے ہیں، موت کی کیفیتیں بھی ہر ایک میں مختلف ہوتی ہیں، عمر میں بھی بیشی اور کمی ہر ایک کے ہوتی ہے، یعنی کسی کا سن زیادہ ہوتا ہے اور کسی کا کم۔ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ تقوّل کے بعد ہی معاً اخذ ہوتا ہے یا کچھ مہلت بھی ہوتی ہے؟ اگر مہلت ہوتی ہے تو اس کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں؟ مرزا ۲۳برس اس کی حد بیان کرتا ہے۔ بہرحال جو کچھ ہو، اس کی سند بھی بیان فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ اس آیت میں نہ کسی مدّت کی حد ہے، نہ خاص موت کی نص ہے۔ مدّت کی تعیین بلادلیل ہے، اور یہ دلیل کہ جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانۂ نبوّت ۲۳برس تھا، اس لئے کافی نہیں کہ اگر ایسا ہو تو اس مدّت کے اندر سخت تلبیس کو جائز رکھا جائے گا، وہو باطل، اس آیت کا حاصل تو جیسا ’’خازن‘‘ میں ہے، یہ ہے کہ مدعیٔ کاذب کی اِماتت کی جاتی ہے خواہ ہلاک سے یا مغلوبیت فی الحجۃ سے۔ بس اب دعویٰ مرزا کا باطل ہوگیا، اس لئے کہ اِماتت بالحجۃ ان کی ظاہر ہے۔ اور عاقل کے لئے یہ
308
تقریر کافی ہے۔ اور عوام کے لئے بہتر ہو کہ کچھ تاریخی نظائر بھی پیش کئے جائیں، جن کا پتا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یا مولوی ثناء اللّٰہ صاحب امرتسری سے ملنا آسان ہے، مجھ کو تاریخ پر نظر نہیں ہے، فقط۔
۲؍شوال ۱۳۲۹ھ (تتمہ اُولیٰ ص:۲۶۱)
(اِمدادُ الفتاویٰ ج:۶ ص:۲۷۳-۲۷۴)
اِزَالَۃُ الْاَوْھَامِ عَنْ خَتْمِ النُّبُوَّۃِ وَالرِّسَالَۃِ وَمَعْنَی الْوَحْیِ وَالْإِلْھَامِ
فرقۂ قادیانیہ کے اقوال کی تردید میں
سوال:۔۔۔ ذوالمجد والکرم حضرتِ اقدس مولانا صاحب مدظلکم العالی، بعد سلامِ مسنون آنکہ یہاں ایک مسجد پر قادیانیوں اور اہلِ اسلام میں آج کل مقدمہ چل رہا ہے، قادیانی مدعی اور اہلِ اسلام مدعاعلیہم ہیں، عدالت میں تمام اُمور مختلف فیہا زیرِ بحث آگئے ہیں، چند سوالات بغرضِ تحقیق ومزید اِطمینان خدمتِوالا میں اِرسال کئے جاتے ہیں، اُمید ہے کہ جوابات سے سرفراز فرمائیں گے۔ مفصل جوابات تحریر کرنے کے لئے تو بہت وقت اور دفتر چاہئے، آنجناب بقدرِ ضرورت اِختصار کو مدِنظر رکھ کر جوابات تحریر فرمائیں تاکہ ہم لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہوسکیں، ضرورۃً قلّتِ وقت کی وجہ سے ایک مکتوب میں کئی سوال درج کردئیے گئے، اُمید ہے کہ معاف فرمائیں گے۔
سوالات:
نمبر۱:۔۔۔ نبی اور رسول کی جامع مانع تعریف کیا ہے؟ ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟
نمبر۲:۔۔۔ فصوص الحکم، فتوحاتِ مکیہ، الیواقیت والجواہر وغیرہ میں صوفیائے کرام نے نبی تشریعی اور غیرتشریعی کی تقسیم کی ہے یا نہیں؟ اگر کی ہے تو ان حضرات کی اس سے کیا مراد ہے؟
نمبر۳:۔۔۔ کیا مولانائے رُوم اور دُوسرے بزرگوں نے کسی ولی کو نبی اور ان کے اِلہام کو وحی کہہ دیا ہے، اور اگر کہا ہے تو ان کی اس سے کیا مراد ہے؟
نمبر۴:۔۔۔ اِلہام، وحی غیرنبوّت، وحیٔ نبوّت کی جامع مانع تعریف کیا ہے؟ ان میں جو کچھ فرق ہو بیان فرمادیا جائے۔
نمبر۵:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں بحیثیت نبی ہونے کے نازل ہوں گے یا بحیثیت اُمتی محض اپنے فرائضِ نبوّت انجام دیں گے یا نہیں؟ ان پر جو وحی نازل ہوگی وہ وحیٔ نبوّت بواسطۂ جبریل ہوگی یا کیا؟
نمبر۶:۔۔۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللّٰہ کے مرثیہ میں حضرتِ اقدس مولانا گنگوہی قدس سرہٗ کی تعریف میں جہاں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام کا اسمِ گرامی آیا ہے، ان مواقع کو ملاحظہ فرماکر یہ بیان فرمادیا جائے کہ اس سے مخالف نبی کریم اور حضرت مسیح علیہما السلام کی اہانت پر تو نہیں اِستدلال کرسکتا؟ وغیرہ وغیرہ۔
جواب۱:۔۔۔ نبی کی تعریف شریعت میں یہ ہے:
’’واما فی الشرع فقال اھل الحق من الأشاعرۃ ھو من قال ﷲ تعالٰی لہ ممن اصطفاہ من
309
عبادہ: إنَّا ارسلناک إلٰی قوم کذا، او: إلی الناس جمیعًا، او: بلغھم عنی، ونحوہ من الألفاظ الدالۃ علٰی ھٰذا المعنی کبعَثْتُکَ ونَبِّئُھُمْ، قیل النبوۃ عبارۃ عن ھٰذا القول مع کونہ متعلقا بالمخاطب۔‘‘
(کشاف إصطلاحات الفنون ص:۱۳۵۹)
اور رسول کی تعریف یہ ہے:
’’والرسول إنسان بعثہ ﷲ تعالٰی إلی الخلق لتبلیغ الأحکام۔‘‘
(شرح عقائد نسفیۃ ص:۳۱)
اور یہ تعریف خاص اِصطلاحِ شرعی ہے، ورنہ لغۃً ’’رسول‘‘ ہر قاصد کو عام ہے، جیسے رسول الملک ورسول الخلیفہ، اور اسی لغوی معنی کے اِعتبار سے بعض نصوص میں ملائکہ کو بھی ’’رُسل‘‘ کہا گیا ہے، مگر جس طرح شریعت نے زکوٰۃ وصلوٰۃ وحج وصوم کو معنیٔ لغوی عام سے منتقل کرکے خاص معانی وافعال کے ساتھ مخصوص کردیا ہے، یونہی لفظ ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘ میں بھی تصرف کیا ہے، اب اس میں اِختلاف ہے کہ نبی ورسول شرعاً متحد ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے؟ بعض اہلِ علم اِتحاد کے قائل ہیں، اور جمہور اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک ’’نبی‘‘ عام ہے اور ’’رسول‘‘ خاص ہے، فَکُلُّ رَسُوْلٍ نَبِیٌّ وَلَا عَکْسَ ، پھر اس میں اِختلاف ہے کہ ’’رسول‘‘ کی وہ خصوصیت کیا ہے جس کے ساتھ وہ نبی سے ممتاز ہے؟ بعض نے یہ کہا کہ رسول کے لئے صاحبِ کتاب ہونا ضروری ہے، اور ’’نبی‘‘ کے لئے نہیں، قال التفتازانی فی شرح العقائد النسفیۃ:
’’وقد یشترط فیہ الکتاب بخلاف النبی فإنہ اعمّ۔‘‘
(ص:۱۳۲)
اور بعض نے شریعتِ متجدّدہ کی قید لگائی ہے،کما فی حاشیۃ العصام علٰی شرح العقائد، (صفحہ مذکورہ) مگر ان میں سے ہر ایک قید پر اِشکال ہے، کما صرح بہ الخیالی فی حاشیۃ شرح العقائد(ص:۱۴۰):
وقال بعضھم: الرسول من بعث إلٰی قوم کافرین مشرکین لدعوتھم إلی التوحید والرسالۃ، والنبی اعم منہ وممن بعث إلٰی قوم موحدین متبعین لرسول متقدم لتقریر شرعہ بوحی من ﷲ منزل علیہ ویؤَیدہ ما فی البخاری فی حدیث الشفاعۃ فیأتون نوحًا فیقولون: انت اوّل الرُّسُل فی الأرض، فاشفع لنا إلٰی ربنا، فقیل لنوح: ’’اوّل الرسل‘‘ مع تقدم الأنبیاء علیہ مثل آدم وشیث وإدریس لأنھم لم یکونوا رُسلًا لکونھم بعثوا إلٰی قوم موحدی مؤْمنین ونوح ارسل بعد ما ابتلی الناس بالشرک باﷲ وترکوا سبیل من تقدم من الأنبیاء، ولا یرد علٰی ذالک ما یرد علی التقیید بالکتاب والشرع المتجدد من زیادہ عدد الرسل علٰی عدد الکتب ومن کون إسماعیل علیہ السلام رسولًا مع إتحاد شرعہ بشریعۃ إبراھیم علیہ السلام فإن إسماعیل کان مبعوثًا إلٰی قوم جرھم وکانوا مشرکین فکان رسولًا وعلٰی ھٰذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالنبی إنسانٌ بعثہ ﷲ تعالٰی إلی الخلق لتبلیغ الأحکام وھو معنی قول اھل الحق من الأشاعرۃ ھو من قال ﷲ لہ ممن اصطفاہ من
310
عبادہ إنّا ارسلناک إلٰی قوم کذا، او: إلی الناس جمیعًا ونحو ذالک کبعثتک اونبئھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والرسول إنسان بعثہ ﷲ تعالٰی إلٰی قوم مشرکین کافرین لتبلیغ التوحید والرسالۃ والأحکام۔‘‘
اور حق یہ ہے کہ جمہور کا یہ قول تو صحیح ہے کہ رسول خاص اور نبی عام ہے، کیونکہ دلائل قرآنیہ وحدیثیہ اس پر شاہد ہیں۔اما الکتاب، فقولہ تعالٰی: ’’وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِیٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّی أَلْقَی الشَّیْطَانُ فِیْ أُمْنِیَّتِہِ‘‘ (الحج:۵۲) وامَّا الحدیث فما اخرجہ ابن حبان فی صحیحہ وصححہ الحافظ ابن حجر فی الفتح واخرجہ ایضًا اسحاق بن راھویہ وابن ابی شیبۃ ومحمد بن ابی عمرو وابویعلٰی عن ابی ذر عن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: کان الأنبیاء مائۃ ألف وأربعۃ وعشرین ألفًا وکان الرسل خمسۃ عشر وثلاث مائۃ رجل، منھم اوّلھم آدم ۔۔۔إلٰی قولہ۔۔۔ وآخرھم محمد صلی ﷲ علیہ وسلم۔ (من ھدیۃ المھدیین فی آیۃ خاتم النّبیین ص:۲۰)۔
باقی یہ کہ رسول کی خصوصیت کیا ہے؟ اور نبی ورسول میں مابہ الفرق کیا ہے؟ اس سے نصوص ساکت ہیں، اس لئے اس میں سکوت ہی اَسلم ہے، اپنی رائے سے بدون تصریح کے وجہ فرق متعین نہ کرنا چاہئے، کیونکہ مقاماتِ انبیاء میں نبی کے سوا کوئی تکلم نہیں کرسکتا، واللّٰہ اعلم!
۲:۔۔۔ حدیث بخاری ومسلم میں ہے:’’لَو عاش إبنی إبراھیم لکان نبیًّا ولٰکن لَا نبیَّ بعدی‘‘ اس کی شرح میں بعض مصنّفین نے تبرعاً یہ بات لکھی ہے کہ اگر بالفرض اِبراہیم صاحبزادہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ رہتے اور نبی ہوتے تو وہ کیسے نبی ہوتے؟ پھر اس سوال کا جواب دیا ہے کہ نبی غیرتشریعی ہوتے جیسا کہ بنی اِسرائیل میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد انبیاء غیرتشریعی ہوئے ہیں کہ وہ صاحبِ شریعت مجدّد وصاحبِ کتاب نہ تھے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت غیرتشریعیہ کسی کو حاصل ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کی نفی تو خود اسی حدیث میں ’’لٰکن لا نبیَّ بعدی‘‘ سے ہوچکی ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی، اس لئے اِبراہیمؓ زندہ نہ رہ سکے، اگر نبوّت غیرتشریعیہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد باقی ہوتی تو اِبراہیم بن محمد کے زِندہ نہ رہنے کی علت میں ’’ولٰکن لا نبی بعدی‘‘ کیونکر صحیح ہوگا؟ بہرحال یہ تو صحیح ہے کہ نبوّت کی دو قسمیں ہیں، نبوّتِ تشریع جس میں نبی صاحبِ شرع مستقل ہو، دُوسرے نبوّتِ غیرتشریع، جس میں نبی صاحبِ شرعِ مستقل نہ ہو، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کی نبوّت باقی نہ رہی، اگر باقی ہوتی تو آپ کے صاحبزادے اِبراہیمؓ ضرور زِندہ رہتے اور نبی ہوتے۔ حیرت ہے کہ اِبراہیم بن محمد کو تو اس لئے دُنیا سے اُٹھالیا جائے کہ خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ایک مغل بچہ قادیانی کو نبوّت مل جائے اور اس کی نبوّت خاتم النّبیین اور ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے منافی نہ ہو۔ اسی طرح بعض علماء نے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور حدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ پر سے ایک اِشکال کو رَفع کیا ہے، وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام بوقتِ نزول نبی ہوں گے یا اُمتی محض ہوں گے اور عہدۂ نبوّت سے معزول ہوکر آملیں گے؟ جواب کا
311
حاصل یہ ہے کہ وہ اس وقت نبوّت سے معزول نہ ہوں گے، بلکہ نبی ہوں گے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تو وہ نبی تشریعی تھے، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو نازل ہوں گے، وہ نبی غیرتشریعی ہوکر آئیں گے، کیونکہ اس وقت وہ شریعتِ محمدیہ کا اِتباع کریں گے، پس مقصود اس قائل کا صرف عیسیٰ علیہ السلام کی شانِ نزول کو بتلانا ہے کہ وہ اس وقت نبوّت سے معزول نہ ہوں گے، یہ مطلب نہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّتِ غیرتشریعیہ کا اِنقطاع نہیں ہوا اور یہ نبوّت کسی کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مل سکتی ہے، حاشا وکلا! رہا یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت غیرتشریعیہ ملی، اس کا جواب بالکل ظاہر ہے کہ ان کو کسی قسم کی نبوّت بھی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ملی، بلکہ ان کو تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی ہے، اور خاتم النّبیین ولا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں۔ وَلَا یُنَبَّأ اَحَدٌ بَعْدَہٗ کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا، ہاں! یہ ممکن ہے کہ انبیائے سابقین علیہم السلام میں سے کوئی نبی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تک زندہ رہے، جیسا کہ حیاتِ خضر کے بہت لوگ قائل ہیں اور ان کو نبی بھی مانتے ہیں، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو سمجھو کہ ان کی نبوّت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے ظہور میں آچکی، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تک وہ زِندہ رہیں گے، سو یہ امر ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے خلاف نہیں، اور نہ اس حالت میں نبی کا عزل نبوّتِ سابقہ سے لازم آیا، بلفظِ دیگر یوں کہئے کہ خاتم النّبیین ولَا نبی بعدی سے حدوث عطائِ نبوّت بعدہٗ ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ کی نفی ہوتی ہے، بقائِ نبوّت حاصلہ قبلہ‘ کی نفی نہیں ہوتی، کما سَنُوَضّحہ بعدہ، اور مرزا کا دعویٔ نبوّت یقینا ان نصوص کے خلاف ہے، کیونکہ وہ مردُود، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بہت بعد پیدا ہوا ہے، اور اپنے لئے نبوّت کا مدعی ہے، اس سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت دیا جانا لازم آتا ہے، جس کو مُلَّاعلی قاریؒ اور شیخ ابنِ عربیؒ وغیرہ کسی نے بھی جائز نہیں رکھا، بلکہ مقصود ان کا صرف یہ ہے کہ جس نبی کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی ہو، اس کا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد زِندہ رہنا اور نبوّتِ تشریعیہ سے نبوّتِ غیرتشریعیہ کی طرف منتقل ہوکر نازل ہونا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا متبع بن کر دُنیا میں آنا لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ اور خاتم النّبیین کے خلاف نہیں۔
قال الزمخشری إمام اللغۃ والعربیۃ فی تفسیرہ:
’’خاتم بفتح التاء بمعنی الطابع وبکسرھا بمعنی الطابع وفاعل الختم، وتقویہ قرائۃ ابن مسعود ولٰکن نبیًّا ختم النّبیین فإن قلتَ: کیف کان آخر الأنبیاء وعیسٰی علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان؟ قلتُ: معنی کونہ آخر الأنبیاء انہ لا ینبأ احدٌ بعدہ وعیسٰی ممن نبّیء قبلہ۔‘‘
(الکشاف ج:۳ ص:۵۴۴، سورۃ الأحزاب، آیت:۴۰، طبع دار الکتاب العربی، بیروت)
وقال العلَّامۃ النسفی فی تفسیرہ مدارک التنزیل:
’’(خاتم النّبیین) بفتح التاء عاصم بمعنی الطابع ای آخرھم یعنی لا ینبّأ احدٌ بعدہ وعیسٰی علیہ السلام ممن نبّیء قبلہ۔
(ج:۳ ص:۳۴، سورۃ الأحزاب، آیت:۴۰، طبع دار ابن کثیر، بیروت)
312
وقال افضل متأخری المفسرین صاحب روح المعانی:
’’والمراد بکونہ علیہ الصلٰوۃ والسلام خاتمھم إنقطاع حدوث وصف النُّبوۃ فی إحدی الثقلین بعد تحیۃ علی الصلٰوۃ والسلام بھا فی ھٰذہ النشأۃ ولا یقدح فی ذالک ما اجمعت علیہ الاُمَّۃ واشتھرت فیہ الأخبار ولعلھا بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق بہ الکتاب علٰی قول وجب الإیمان بہ واکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسٰی علیہ السلام فی آخر الزمان لأنہ کان نبیًّا قبل تحلی نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم بالنبوۃ فی ھٰذہ النشأۃ۔‘‘
(روح المعانی ج:۸ ص:۳۲ طبع إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ)
وقال الزرقانی فی شرح المواھب (ج:۵ ص:۲۶۷):
’’ومنھا (ای من خصائصہ علیہ السلام) انہ خاتم الأنبیاء والمرسلین کما قال تعالٰی ولٰكِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ای آخرھم الذی ختمھم او ختموا بہ علٰی قرائۃ عاصم بالفتح وروی احمد والترمذی والحاکم بإسناد صحیح عن انس مرفوعًا ان الرسالۃ والنُّبوۃ قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولا نبی، ولا یقدح نزول عیسٰی علیہ السلام بعدہ لأنہ یکون علٰی دینہ مع ان المراد انہ آخر من نبّیء۔‘‘
وقال الشیخ محی الدین ابن العربی فی الباب الرابع عشر من الفتوحات:
’’اعلم ان حقیقۃ النبی الذی لیس برسول ھو شخص یوحی ﷲ إلیہ بأمر یتضمن ذالک الشریعۃ یتعھد بھا فی نفسہ فإن بعث بھا إلٰی غیرہ کان رسولًا ایضًا واطال فی ذالک ثم قال واعلم ان الملک یأتی النبی بالوحی علٰی حالین، تارۃً ینزل بالوحی علٰی قلبہ وتارۃً یأتیہ فی صورۃ جسدیۃ من خارج ۔۔۔۔۔۔۔ قال: وھٰذا باب اغلق بعد موت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فلا یفتح لأحد إلٰی یوم القیامۃ ولٰکن بقی للأولیاء وحی الإلھام الذی لا تشریع فیہ إنما ھو بفساد حکم قال بعض الناس بصحۃ دلیلہ ونحو ذالک فیعمل بہ فی نفسہ۔‘‘
(الیواقیت ج:۲ ص:۳۷،۳۸)
وفیہ ایضًا:
’’اعلم ان الإجماع قد انعقد علٰی انہ صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم المرسلین کما انہ خاتم النّبیین۔‘‘ (الیواقیت والجواھر ج:۲ ص:۳۷، ۳۸، المبحث الخامس والثلاثون فی کون محمد صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم النّبیین کما صرح بہ القرآن، طبع مصر)
وقال الشیخ فی الباب الحادی والعشرین من الفتوحات:
313
’’من قال ان ﷲ تعالٰی امرہ بشیء فلیس ذالک بصحیح إنما ذالک تلبیس لأن الأمر من قسم الکلام وصفتہ وذالک باب مسدود دون الناس فإنہ ما بقی فی الحضرۃ الإلٰھیۃ امر تکلیفی إلَّا وھو مشروع فما بقی للأولیاء وغیرھم إلَّا سماع امرھا ولٰکن لھم المناجاۃ الإلٰھیۃ وذالک لا امر فیہا وإنما ھو حدیث وسمر وکل من قال من الأولیاء انہ مأمور بأمر إلٰھی فی حرکاتہ وسکناتہ مخالف لأمر شرعی محمدیّ تکلیفی فقد التبس علیہ الأمر وإن کان صادقًا فیما قال انہ سمعہ فلیس ذالک عن ﷲ وإنما ھو عن إبلیس فظن انہ عن ﷲ لأن إبلیس قد اعطاہ ﷲ تعالٰی ان یصور عرشًا وکرسیًّا وسمائً ویخاطب الناس منہ کما مرّ فی مبحث خلق الجنّ، انتھٰی۔‘‘
(ج:۲ ص:۳۸)
یہ شیخؒ کی تصریحات ہیں، جو اِجماعِ اُمت کے موافق ہیں، اور اسی پر تمام اُمتِ صوفیہ اور علماء کا اِجماع ہے کہ رسالت ونبوّت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی، اب کسی کے لئے بابِ نبوّت مفتوح نہیں ہوسکتا۔ اور شیخؒ کی طرف جو یہ قول منسوب کیا گیا ہے: ’’اعلم ان النُّبوۃ لم ترتفع مطلقًا بعد محمد صلی ﷲ علیہ وسلم وإنما ارتفع نبوۃ التشریع‘‘ اس کا مطلب یا تو وہی ہے جو ہم نے شروع میں بیان کیا ہے کہ شیخؒ کا مقصود عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے اِشکال کو دفع کرنا ہے کہ آیت خاتم النّبیین وحدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ سے عیسیٰ علیہ السلام کا نبوّت سے معزول ہوکر نازل ہونا لازم نہیں آتا، یا اس کا مطلب وہ ہے جو شرح قصیدۂ فارضیہ میں مذکور ہے:
’’واما الولایۃ فھی التصرف فی الخلق بالحق ولیست فی الحقیقۃ إلَّا باطن النبوۃ لأن النبوۃ ظاھرھا الأنباء وباطنھا التصرف فی النفوس بإجراء الأحکام علیھا والنبوۃ مختومۃ من حیث الأنباء ای الأخبار إذ لا نبی بعد محمد صلی ﷲ علیہ وسلم دائمۃ من حیث الولایۃ والتصرف لأن نفوس الأنبیاء من اُمَّۃ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم حملۃ تصرف ولایتہ یتصرف بھم فی الخلق بالحق إلٰی قیام الساعۃ فباب الولایۃ مفتوح وباب النُّبوۃ مسدود وعلامۃ صحۃ الولی متابعۃ النبی فی الظاھر۔‘‘
(کشاف إصطلاحات الفنون ص:۱۵۲۹)
جس کا حاصل یہ ہے کہ صوفیہ اپنی اِصطلاح میں ولایت کو باطنِ نبوّت کہتے ہیں، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ولایت نبوّت کی فرد یا قسم ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ نبوّت کے کمالات اور اَجزاء میں سے ہے، اور ظاہر ہے کہ جز پر کل کا اِطلاق صحیح نہیں، جیسے نمک کو پلاؤ نہیں کہہ سکتے۔ آخر حدیث میں مبشرات کو نبوّت کا چھیالیسواں جزء کہا گیا ہے، کیا اس سے یہ لازم آئے گا کہ مبشرات پر نبوّت کا، اور صاحبِ مبشرات پر نبی کا اِطلاق جائز ہے؟ ہرگز نہیں! اسی طرح ولایت بھی نبوّت کا جزء ہے، مگر اس پر اِطلاقِ نبوّت جائز نہیں۔اللّٰھم إلَّا أن یکون مجاز القیام القرائن علٰی عدم إرادۃ الحقیقۃ جس کی دلیل خود شرح قصیدۂ فارضیہ کا یہ قول ہے:
314
’’فباب الولایۃ مفتوح وباب النبوۃ مسدود‘‘ اگر ولایت نبوّت کی فرد یا قسم ہوتی تو باب النبوۃ کو مسدود کیوں کہتے؟ اور اس سے معلوم ہوا کہ ولایت پر نبوّت کا اِطلاق صحیح نہیں ہے۔ پس شیخؒ کے کلام میں نبوّتِ غیرتشریعیہ سے ولایت مراد ہے، چنانچہ فصوص الحکم میں فص عزیری میں لکھتے ہیں:
’’واعلم ان الولایۃ ھی الفلک المحیط العالم ولھٰذا لم تنقطع ولھا الأنباء العام واما نبوۃ التشریع والرسالۃ فمنقطعۃ وفی محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فقد انقطعت إلٰی أن قال فأبقی لھم النبوۃ العامۃ التی لا تشریع فیھا من الحل إلَّا قوم۔‘‘
(ص:۲۵)
اس میں تصریح ہے کہ نبوّتِ عامہ سے شیخؒ کی مراد ولایتِ عامہ ہے، جس کو اُوپر انبائِ عام کہا ہے، اور اس کو نبوّتِ غیرتشریعیہ اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ نبوّت کے کمالات اور اَجزاء میں سے ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی یا صاحبِ نبوّت ہوسکتا ہے، بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ اولیاء اللّٰہ بطریق وراثت کے اس کمالِ نبوّت سے جس کا نام ولایت ہے متصف ہوتے ہیں۔ اور اس معنی کا مراد لینا اس لئے ضروری ہے کہ شیخؒ کی دُوسری تصریحات اِنقطاعِ نبوّت پر صراحۃً دال ہیں، چنانچہ شیخؒ نے ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ (ج:۳ ص:۵۱۰) میں فرمایا ہے:
’’فما بقی للأولیاء بعد إنقطاع النبوۃ إلَّا التعریفات وانسدت ابواب الأوامر الإلٰھیۃ والنواھی فمن ادعاھا بعد محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فھو مدعی شریعۃ اوحی بھا إلیہ سواء واقف بھا شرعنا او خالف، کذا نقلہ بعض المعاصرین الثقات فی رسالتہ لہ، وقال الشعرانی فی الیواقیت بعد ذکر معناہ فإن کان مکلَّفًا ضربنا عنقہ وإلَّا ضربنا عنہ صفحًا۔‘‘
(ج:۲ ص:۳۷)
وفی العبقات للشاہ محمد إسماعیل الدھلوی الشھید:
’’فالإتصاف بکمالات النبوۃ لَا یستلزم الإتصاف بالنبوۃ من نقل ھٰذا البعض ایضًا۔‘‘
اور اس سے زیادہ واضح علامہ شعرانی ؒ کا قول ہے جو کہ شیخ ابنِ عربیؒ کے کلام کو بہت زیادہ سمجھنے والے ہیں، وہ فرماتے ہیں:
’’المبحث الثانی والأربعون فی بیان ان الولایۃ وان جلت مرتبتھا وعظمت فھی اخذۃ عن النبوۃ شھودًا ووجودًا فلا تلحق نھایۃ الولایۃ بدایۃ النبوۃ ابدًا ولو ان ولیا تقدم إلی العین التی یأخذ منھا الأنبیاء لاحترق فغایۃ امر الأولیاء انھم یتعبدون بشریعۃ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم قبل الفتح علیھم وبعدہ ۔۔۔۔۔۔ فلا یمکنھم ان یستقلوا بالأخذ عن ﷲ ابدًا۔‘‘
(ج:۲ ص:۷۱)
پھر علامہؒ نے شیخ ابنِ عربیؒ کے چند اَقوال اس مضمون کے تحت نقل فرمائے ہیں، جو اُن کی مراد کو اچھی طرح واضح کرتے ہیں:
315
’’فقال قال الشیخ فی الباب الرابع عشر من الفتوحات اعلم ان الحق تعالٰی قسم ظھور الأولیاء بانقطاع النبوۃ والرسالۃ بعد موت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم وذالک لفقدھم الوحی الربانی الذی ھو قوت ارواحھم إلٰی ان قال وإنما غایۃ لطف ﷲ بالأولیاء انہ ابقی علیھم وحی المبشرات فی المنام لیستأنسوا برائحۃ الوحی انتھیٰ۔‘‘
(الیواقیت ج:۲ ص:۷۲)
اس میں نبوّت اور رِسالت کے اِنقطاع کا صاف اِقرار ہے اور یہ کہ اولیاء کی کمر کو اس اِنقطاع نے توڑ دیا، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شیخ کے دُوسرے قول کا یہ مطلب نکالا جائے کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بقائِ نبوّت کے قائل ہیں ۔۔۔نعوذباللّٰہ منہ۔۔۔ بلکہ ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ نبوّت تو منقطع ہوچکی، لیکن اس کے بعض اجزاء وکمالات وروائح باقی ہیں جن کو ولایت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور کبھی مقامِ اِرث سے۔ چنانچہ چند اَقوال اور ملاحظہ ہوں:
’’وقال ایضًا فی الکلام علی التشھد من الفتوحات اعلم ان ﷲ تعالٰی قد سد باب الرسالۃ عن کل مخلوق بعد محمد صلی ﷲ علیہ وسلم إلٰی یوم القیامۃ وانہ لا مناسبۃ بیننا وبینہ صلی ﷲ علیہ وسلم لکونہ فی مرتبۃ لا ینبغی ان تکون لنا وقال فی شرحہ لترجمان الأشواق اعلم ان مقام النبی ممنوع لنا دخولہ وغایۃ معرفتنا بہ من طریق الإرث النظر إلیہ کما ینظر من ھو فی اسفل الجنۃ إلٰی من ھو فی اعلٰی علّیّین وکما ینظر أھل الأرض إلٰی کواکب السماء وقد بلغنا عن الشیخ ابی یزید انہ فتح لہ من مقام النبوۃ قدر خرم ابرۃ تجلیا لا دخولا فکاد ان یحترق وقال فی الباب الثانی والستین واربع مائۃ من الفتوحات اعلم انہ لا ذوق لنا فی مقام النبوۃ لنتکلم علیہ وإنما نتکلم علٰی ذالک بقدر ما اعطینا من مقام الإرث فقط لأنہ لا یصح لأحد منا دخول مقام النبوۃ وإنما نراہ کالنجوم علی الماء۔‘‘
(الیواقیت ج:۲ ص:۷۲)
پس جو لوگ شیخؒ کے اس قول سے:’’اعلم ان النبوۃ لم تنقطع مطلقًا بموت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم بل انقطعت نبوۃ التشریع فقط‘‘ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ ۔معاذاللّٰہ۔ ’’رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت من کل الوجوہ منقطع نہیں ہوئی، بلکہ من وجہٍ منقطع ہوئی اور من وجہٍ باقی ہے، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی دُوسری قسم کا نبی ہونا ممکن ہے‘‘ وہ شیخؒ کے ہاں اس دُوسرے اقوال سے اس مطلب کو منطبق کریں جن میں صاف تصریح ہے کہ بابِ نبوّت ورِسالت مسدود ہوچکا، اور یہ کہ اب مقامِ نبوّت میں کسی کے لئے دُخول ممکن نہیں، بلکہ دُخول تو کیا، مقامِ نبوّت کی تجلی بھی کسی پر نہیں ہوتی، اور شیخ ابویزیدؒ پر بقدر سوئی کے ناکہ کے مقامِ نبوّت کی صرف تجلی ہی ہوئی تھی، بغیر دُخول کے، تو وہ جلنے کے قریب ہوگئے۔ پس لامحالہ یہی کہنا پڑے گا کہ شیخ کا مطلب عبارتِ مذکورہ سے وہ ہرگز نہیں جو بعض نادانوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے یا تو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِشکال کو رَفع کرنا
316
منظور ہے، جس کو کبھی اس عنوان سے تعبیر کرتے ہیں جو نادانوں کو چکر میں ڈال رہا ہے، اور کبھی اس عنوان سے تعبیر کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وقت نزول من السماء کے جماعتِ اولیاء میں داخل ہوکر نازل ہوں گے نہ کہ جماعتِ رُسل میں۔
’’وعبارۃ الشیخ فی الباب الثالث والتسعین من الفتوحات: اعلم انہ لیس فی اُمَّۃ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم من ھو افضل من ابی بکر غیر عیسٰی علیہ السلام وذالک انہ إذا نزل بین یدی الساعۃ لا یحکم إلَّا بشرع محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فیکون لہ یوم القیامۃ حشران، حشر فی زمرۃ الرسل بلواء الرسالۃ، وحشر فی زمرۃ الأولیاء بلواء الولایۃ انتھٰی۔‘‘
(الیواقیت ج:۲ ص:۷۳)
یا یہ مطلب ہے کہ نبوّت کے منقطع ہونے سے یہ مت سمجھو کہ اس کی برکات اور روائح اور کمالات بھی منقطع ہوگئے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوّت تشریع یعنی وحی منقطع ہوچکی ہے اور نبوّت کا باطنی جزو یعنی وہ نسبتِ باطنیہ جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قلب میں تھی، جس کو ’’ولایت‘‘ کہتے ہیں، منقطع نہیں ہوئی، بلکہ اولیاء کو اس نسبتِ باطنیہ سے حصہ ملتا ہے، پھر اولیاء اس نسبتِ باطنیہ کے حامل ہوکر مقامِ نبوّت کے قریب بھی نہیں ہوتے، بلکہ صرف دُور سے اس کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں جس طرح زمین والے آسمان کے تارے دیکھتے ہیں۔ بتلائیے! اس توضیح وتفصیل کے بعد شیخؒ کے کلام سے یہ کیونکر مفہوم ہوسکتا ہے کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بقائِ نبوّت کے قائل ہیں؟ حاشاوکلا! اور اگر اس پر بھی کوئی ہٹ دھرمی کرے تو اس کے لئے دُوسرا جواب یہ ہے کہ:
ختمِ نبوّت واِنقطاعِ رسالت کا مسئلہ قرآن واحادیث میں نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے، اور اس پر تمام اُمت کا اِجماع ہے، اب تم اس کے خلاف اس دعوے پر کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو کسی قسم کی نبوّت مل سکتی ہے، کوئی نصِ قطعی پیش کرو، کیونکہ قطعی کی تخصیص قطعی ہی سے ہوسکتی ہے، اور شیخ ابنِ عربیؒ یا کسی اور بزرگ کا قول نصِ قطعی نہیں، بلکہ کسی درجے میں بھی حجت نہیں، کیونکہ شیخ ابنِ عربیؒ کے اقوال میں بعض یہودیوں کا خلافِ شرع اقوال ٹھونسنا درجۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے، جیسا کہ علامہ شعرانی ؒ نے یواقیت وبحر مورود وعہود محمدیہ میں اس کی تصریح کی ہے۔ نیز صوفیہ نے اس کی بھی تصریح کی ہے کہ ہم بہت سی باتیں رُموز میں کہا کرتے ہیں، جن کو دیکھنا اور بیان کرنا ہر شخص کو جائز نہیں، انہی وجوہ سے بہت سے مسائل میں صوفیہ پر زَندقہ وکفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے، کیونکہ یہودیوں کے دس وخلط کی وجہ سے بعض اقوالِ خلافِ شرع ان کی طرف منسوب کئے گئے تھے، یا رُموز کے نہ سمجھنے سے غلط مطلب ان کی طرف منسوب کیا گیا، پس ایسی حالت میں ان حضرات کی کتابوں سے کوئی قول نکال کر نصوصِ قطعیہ ومسئلہ اِجماعیہ کے معارضے میں پیش کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے؟ بلکہ ہم کو یہ کہنے کا حق ہے کہ جو قول نصوصِ قطعیہ واِجماع کے خلاف ہے وہ کسی کا اِلحاق ہے، جس کی دلیل خود ان حضرات کے وہ اقوال ہیں جو نصوص واِجماع کے موافق اور اس قولِ موہم کے خلاف ہیں، پھر خصوصاً مرزاقادیانی کو شیخؒ کا یہ قول تو کسی طرح بھی مفید نہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ تو اپنے لئے نبوّتِ تشریعیہ ورِسالت کا مدعی ہے، اس کے اقوال ملاحظہ ہوں،لعنہ ﷲ ولعن اَتباعہ واَخزاھم اجمعین۔
317
نمبر۱:۔۔۔ ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند اَمر اور نہی بیان کئے، اور اپنی اُمت کے لئے ایک قانون مقرّر کیا ہے، وہی صاحب الشریعۃ ہوگیا، پس اس تعریف کی رُو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں، کیونکہ میری وحی میں اَمر بھی ہے اور نہی بھی، مثلاً یہ اِلہام: قل للمؤْمنین یغضُّوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکٰی لھم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے، اور اس میں اَمر بھی ہے اور نہی بھی، اس پر تیس برس کی مدّت بھی گزرگئی، اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں اَمر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔‘‘
(دیکھو: اربعین نمبر۴ ص:۶، خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵، ۴۳۶)
نمبر۲:۔۔۔ رسالہ ’’نزول المسیح‘‘ مصنفہ مرزا (ص:۹۹، خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷،۴۷۸) میں ہے:
-
آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
-
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا لہ ہمیں ست ایمانم
اور اسی کتاب کے صفحۂ مذکورہ میں ہے:
-
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
-
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
ان تصریحات کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزا نبوّتِ تشریعیہ کا مدعی نہ تھا….؟
اسی رسالے "نزول المسیح" کے صفحۂ مذکورہ میں کہتا ہے:
-
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(دُرّثمین فارسی ص:۱۷۱)
کیا اس میں تصریح نہیں ہے کہ مرزا اپنے کو تمام انبیاء سے افضل کہتا ہے کہ جو تمام کمالات سارے انبیاء علیہم السلام میں تقسیم ہوئے تھے، وہ سب تنہا اس کو دے گئے،نعوذ با ﷲ من ھٰذہ الکفریات والھذیانات!
اور اُوپر ہم شیخ ابنِ عربیؒ کا قول نقل کرچکے ہیں کہ جو شخص حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اپنے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے امر ونہی کا دعویٰ کرے، وہ تلبیسِ اِبلیس میں مبتلا ہے، پس مرزا کے متبعین اگر مرزا کو شیخؒ کے کسی قول سے نبی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تو
318
وہ شیخؒ کے اس قول سے اس کی تشریح بھی کردیں کہ وہ نبی تو ہے مگر خدا کی طرف سے نہیں، بلکہ اِبلیس کی طرف سے! اور وہ وحی کو تو سنتا ہے، مگر خدا کی وحی کو نہیں، بلکہ شیطان کی وحی کو! فَاعتَبِرُوا یٰاُولِی الاَبصَارِ…!
اخبار ’’البدر‘‘ مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء میں ہے، جو قادیان سے شائع ہوتا تھا:
’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول ہیں اور نبی ہیں۔‘‘
نمبر۳:۔۔۔ ’’دافع البلاء‘‘ (ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱) میں ہے:
’’سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔‘‘
جواب سوالِ سوم:۔۔۔ مولانا رُومی یا اور کسی بزرگ نے کسی ولی کو نبی نہیں کہا، اور نہ اِلہام کو وحی کہا، ہاں! مولانائے رُوم کا ایک مصرعہ مرزائیوں کی زبان زد ہے اور کہتے ہیں کہ یہ مثنوی میں ہے:
’’او نبی وقت باشد اے مرید‘‘
جس میں مرشد کو نبیٔ وقت کہا ہے، مگر ان ناقلین سے تصحیحِ نقل کا مطالبہ کرنا چاہئے، اگر یہ مصرعہ مثنوی میں نکل آیا تو اسی مقام پر سیاق وسباق میں اس کا مطلب بھی مل جائے گا کہ مراد نائبِ نبی ہے جس کو مجازاً نبی کہہ دیا گیا، اور مجازاً تو بعض دفعہ اس سے زیادہ کہہ دیا جاتا ہے۔ خود قرآن میں ہے: ’’أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَاہُ‘‘ (الجاثیۃ:۲۳) ’’کیا تم نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اِلٰہ بنایا ہے؟‘‘ تو کیا اس مجاز سے کوئی شخص دعویٔ مصاحبتِ اُلوہیت کو جائز کرلے گا کہ: ’’میں بھی صاحبِ ہویٰ ہوں، اور ’’ہویٰ‘‘ کو قرآن میں ’’اِلٰہ‘‘ کہا گیا ہے تو میں بھی صاحبِ اِلٰہ ہوں۔‘‘ یا اگر کسی کلکٹر کو مجازاً بادشاہ کہہ دیا جائے کہ وہ بھی اپنے ضلع میں بادشاہ کی مثل ہے، کیونکہ اس کا نائب ہے، تو کیا اس سے کلکٹر کو دعویٔ سلطنت جائز ہوگا؟ ہرگز نہیں! اسی طرح بزگوں نے اِلہام کو وحی ہرگز نہیں کہا، ہاں! بعض کے کلام میں ’’وحی الالہام‘‘ کا لفظ وارِد ہے، جس میں تقیید موجود ہے، اور قید کے ساتھ ’’وحی‘‘ کا اِطلاق غیروحیٔ حقیقی پر جائز ہے، جیسے ’’وحی الشیطان‘‘ وغیرہ۔ اور اگر کسی کے کلام میں بغیر قید کے بھی غیروحی کو وحی کہا گیا ہو تو وہاں معنی لغوی مراد ہوں گے، نہ کہ اِصطلاحی معنی، جس کا قرینہ یہ ہوگا کہ اس شخص نے دعویٔ نبوّت نہیں کیا تھا۔ اور جو شخص اپنے اِلہام کو وحی کہہ کر دعویٔ نبوّت کرے گا، اس کے کلام میں یہ تأویل نہیں ہوسکتی۔
جواب سوالِ چہارم:۔۔۔ اِلہام اور وحی کی تعریف حسبِ ذیل ہے:
’’الوحی بالفتح والسُّکون فی الأصل الإعلام فی خفاء وقیل الإعلام فی سرعۃ وکل ما دلت بہ من کلام او کتابۃ او إشارۃ او رسالۃ فھو وحی (ای لغۃ) وفی إصطلاح الشریعۃ ھو کلام ﷲ تعالٰی المنزل علٰی نبی من انبیائہ، کذا فی الکرمانی والعینی وقال صدر الشریعۃ فی التوضیح فی رکن السنۃ الوحی ظاھر وباطن إلٰی ان قال وکل ذالک حجۃ مطلقا بخلاف الإلھام فإنہ لا یکون حجۃ علٰی غیرہ۔
(کشاف إصطلاحات الفنون للعلَّامۃ التھانوی ص:۱۵۲۳)
319
اور وحی انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے، اسی لئے کسی کا یہ دعویٰ کرنا کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے، موجبِ کفر ورَدّت ہے، شفاء قاضی عیاضؒ میں ہے:
’’ومن ادعی النبوۃ لنفسہ او جوَّز إکتسابھا والبلوغ بصفاء القلب إلٰی مرتبتھا کالفلاسفۃ وغلاۃ المتصوفۃ وکذالک من ادعی منھم انہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ وھٰؤُلآء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی ﷲ علیہ وسلم لأنہ اخبر انہ خاتم النّبیین وانہ لا نبی بعدہ، واخبر عن ﷲ انہ ارسل کافۃ للناس، واجمعت الاُمَّۃ علٰی ان ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ وان مفھومہ المراد منہ دون تأویل وتخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤُلآء الطوائف کلھا قطعًا وإجماعًا وسمعًا۔‘‘
(من شرح الشفاء للخفاجی ج:۴ ص:۵۴۲ و ۵۴۷)
ملاحظہ ہو رِسالہ ’’إکفار الملحدین‘‘ جس میں دیگر اَئمہ سے اسی کی مثل تصریح مذکور ہے۔
اگر اس پر کوئی یہ کہے کہ مرزاقادیانی نے بھی اپنے کو مجازاً نبی کہا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اِرادۂ مجاز کا دعویٰ بدون قرائن کے قبول نہیں ہوسکتا، اور مرزا کے اقوال میں اِرادۂ مجاز کا کوئی قرینہ نہیں، بلکہ وہ تو صاف صاف اپنے کو نبی، بلکہ رسول اور نبی تشریعی کہتا ہے، اور جو اس کی نبوّت کو نہ مانے اُسے کافر کہتا ہے، اور اپنے لئے جملہ انبیاء سے زیادہ معجزات کا دعویٰ کرتا ہے، ملاحظہ ہو رِسالہ ’’ہدیۃالمہدیین‘‘ (مطبوعہ قاسمی دیوبند)۔
دُوسرے اِرادہ مجازاً کے معنی تو یہ ہیں کہ متکلم عدم اِرادہ حقیقت کا مقر ہو یا اگر کوئی حقیقت کی نفی کرے تو اس پر نکیر نہ کرے، جیسے:زیدٌ اسدٌ کہا جائے تو متکلم زیدٌ لیس بأسدٍ ا بھی اِقرار کرے گا اور اس کی نفی نہ کرے گا۔ پس اگر مرزا نے اپنے کو مجازاً نبی کہا، بمعنی وارثِ نبی یا نائبِ نبی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے سے نبوّت کی نفی نہیں کرتا، اور نفی کرنے والوں کی تکفیر کرتا ہے، اور جب اس کی نبوّت سے آیت خاتم النّبیین، وحدیث: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کا معارضہ ہوا تو قرآن وحدیث میں تحریف کرنے لگا، اور نبوّت کی قسمیں اور اَنواع نکالنے لگا، صاف یونہی کیوں نہ کہہ دیا کہ: ’’میں نبی نہیں ہوں، ویسے ہی مجازاً میری زبان سے نبی کا لفظ نکل گیا تھا‘‘؟
’’والإلھام بالھاء لغۃ الإعلام مطلقًا وشرعًا، إلقاء معنی فی القلب بطریق الفیض ای بلا إکتساب وفکر ولا إستفاضۃ بل ھو وارد غیبی ورد من الغیب کذا فی الکشاف المذکور ص:۱۳۰۸۔ قال وھو ای الإلھام لیس سببًا یحصل بہ العلم لعامۃ الخلق ویصلح للإلزام علی الغیر لٰـکن یحصل بہ العلم فی نفسہ ھٰکذا یستفاد من شرح العقائد النسفیۃ وحواشیہ۔‘‘
(ص مذکور)
مگر اس تعریف میں ایک قید مذکور نہیں، یعنی ’’قلب غیرالنبی‘‘ اور بدون اس قید کے تعریفِ اِلہام نبی کے اِلہام کو بھی شامل
320
ہے، اور نبی کا اِلہام اگر تعریف میں داخل ہوا تو آگے یہ قول مطلقاً صحیح نہ ہوگا: ’’وھو لیس سببًا یحصل بہ العلم لعامۃ الخلق‘‘ کیونکہ نبی کا اِلہام وحی ہے، اور وہ حجت ہے، جیسا کہ اُوپر گزرا، پس تعریف جامع مانع یوں ہے: ’’ھو إلقاء معنی فی قلب غیر النبی بطریق الفیض‘‘
اور صوفیہ نے یہ فرق کیا ہے کہ وحی وہ ہے جو بواسطہ جبریل کے ہو، اور اِلہام وہ ہے جو بواسطہ ملکِ اِلہام کے ہو، جو دُوسرا فرشتہ ہے، مگر یہ تعریف جامع مانع نہیں، کیونکہ نبی کا منام اور رائے اس تعریفِ وحی سے خارج ہوجاتے ہیں، حالانکہ وہ بھی وحی میں داخل ہیں اور وحی غیرنبوّت شرعاً کوئی چیز نہیں، بعضے صوفیہ اِلہام ہی کو وحی الالہام سے تعبیر کردیتے ہیں، جس میں وحی سے مراد معنی لغوی ہیں نہ کہ شرعی، جس کا قرینہ خود یہی قید ہے۔ اگر مرزاقادیانی بھی اس کا دعویٰ کرے کہ میں نے بھی اِلہام کو مجازاً یا لغۃً وحی کہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تیرے صریح اقوال اس تأویل کو رَدّ کر رہے ہیں۔ اوّل تو ان کے غلط اور کذب ہونے کا اِقرار کرو،وقد ذکرناھا قبل، پھر تو اپنے اِقرار سے نبی نہ ہوگا، بلکہ مدعیٔ ولایت ہوگا، اور مدعیٔ ولایت کاذِب ہوا کرتا ہے، کیونکہ دعویٰ کرنا نبی کے لئے مخصوص ہے، ولی دعویٰ نہیں کیا کرتا۔ قال فی کشاف إصطلاحات الفنون نقلًا عن النفحات والرسالۃ القشیریۃ:
’’ونیز از شروطِ ولی آنست کہ اِخفائے حال خود کند چنانکہ از شروطِ نبی آنست کہ اظہارِ حال خود کند۔‘‘
وعن خلاصۃ السلوک الولی ما قال البعض ھو الذی یکون مستور الحال ابدًا والکون کلہ ناطقًا علٰی ولایتہ والمدعی الذی ناطق بالولایۃ الکون کلہ ینکر علیہ۔
جواب سوالِ پنجم:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقتِ نزول متبع شریعتِ محمدیہ بن کر تشریف لائیں گے، لیکن یہ اِتباع ان کی شانِ نبوّت کا مُنقِص نہیں،مُکمِل ہے، پس عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نبی بھی ہوں گے اور اُمتی بھی، مگر نبی صاحبِ شرع نہ ہوں گے، بلکہ نبی متبع ہوں گے، جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بعد بہت سے انبیاء متبع توراۃ ہوئے ہیں، اور گو اس وقت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی بواسطہ جبریل علیہ السلام توضیح مرادِ قرآن وحدیثِ نبوی کے لئے نازل ہونے میں بھی کوئی اِشکال نہیں، مگر شیخ ابنِ عربیؒ کے بعض اقوال سے، جو کشف پر مبنی ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس اس وقت جبریل علیہ السلام کے واسطے سے وحی نہ آئے گی (کما یفھم من الیواقیت ج:۲ ص:۳۸)۔
اور صورتِ اُولیٰ کے موجب اِشکال نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آیت خاتم النّبیین کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخرالنّبیین ہیں، جیسے کہا جاتا ہے فلاں خاتم الراکبین وآخر الراحلین، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص صفتِ رُکوب واِرتحال سے سب کے بعد موصوف ہوا، اس کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس سے پہلے راکبین وراحلین اس کے رُکوب واِرتحال کے وقت فنا ومعدوم ہوچکے ہوں، بلکہ ان کے بقاء کے ساتھ بھی یہ خاتم الراکبین وآخر الراحلین ہوگا، پس عیسیٰ علیہ السلام کا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت سے متحلی ہوکر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تک رہنا خاتم النّبیین اور ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے منافی نہیں، اور یہی معنی اِنقطاعِ وحی کے ہوسکتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اِبتدائً کسی پر وحی نہ آئے گی، اور جس پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے
321
آچکی ہو، اس پر وحی کا آتا رہنا اس کے خلاف نہیں۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو نبیٔ سابق یا وحیٔ سابق باقی رہے، وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت ووحی کے تابع ہوگی، ورنہ اس کا نسخ لازم آئے گا، حالانکہ یہ دِینِ اسلام اِجماعاً ناسخ الادیان کلہا ہے، اور اس کو کوئی نبی یا وحی منسوخ نہ کرسکے گی، اور آیاتِ قرآنیہ واحادیثِ نبویہ بکثرت اس پر شاہد ہیں، اگر تفصیل مطلوب ہو تو رسالہ ’’ختم النبوۃ فی القرآن‘‘ و ’’ختم النبوۃ فی الحدیث‘‘ و ’’ختم النبوۃ فی الآثار‘‘، و’’ہدیۃالمہدیین فی آیۃ خاتم النّبیین‘‘ و ’’إکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدین‘‘ مطبع قاسمی دیوبند سے طلب کرکے ملاحظہ ہوں۔
جواب سوالِ ششم:۔۔۔ میں نے مرثیہ تمام دیکھا، مجھے تو کوئی لفظ توہین کا موہم بھی نہیں ملا، اگر آپ کے نزدیک کچھ ایہام ہو تو اس کی تشریح فرماکر سوال کریں۔
۶؍جمادی الثانیہ ۱۳۴۵ھ
از تھانہ بھون، خانقاہ اِمدادیہ
(اِمدادُالاحکام ج:۱ ص:۱۵۱ تا ۱۶۷)
دفعِ شبۂ قادیانی
سوال:۔۔۔ عبارت ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ (ص:۲۲ مصنفہ: مرزاقادیانی): قرآن شریف اور اَحادیث میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو آگ سے چلے گی اور اُونٹ بیکار ہوجائیں گے۔
جواب:۔۔۔ اس مضمون کی تصریح کہاں ہے؟ جس سے اُونٹوں کے بیکار ہونے کو مستنبط کیا گیا ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اُونٹوں کے بیکار ہونے کے معنی اس میں منحصر ہیں۔
۲۶؍شوال ۱۳۲۱ھ
(اِمدادُ الفتاویٰ ج:۶ ص:۱۰۰)
دعویٔ نبوّت کے بعد زِندہ رہنے والا
سوال:۔۔۔ تاریخ کی رُو سے کیا کسی شخص کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جس نے جناب پیغمبرِ اِسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کیا ہو، اور پھر آخر عمر تک وہ باعزّت اور محفوظ رہا ہو؟ یہاں تک کہ اس کا سلسلہ اس کے بعد بھی چلتا رہا ہو، اس کی بھی تحقیق مطلوب ہے۔
فضل رحیم از شیخوپورہ
جواب:۔۔۔ اِنتہائے مغرب میں برغواطہ قوم کا ایک شخص صالح بن طریف گزرا ہے جس نے نبوّت کا دعویٰ کیا تھا، اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس پر ایک قرآن بھی اُترتا ہے، اس کے قرآن کی بعض سورتوں کے نام یہ تھے: سورۃالدیک، سورۃالخمر، سورۃآدم، سورۃ ہاروت وماروت، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ صالح کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ میں مہدی اکبر ہوں، جس کی خبر خود آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ دعویٔ نبوّت کے ساتھ اسے اتنا فروغ ہوا کہ اپنے پورے علاقے کا بادشاہ بن گیا۔ پینتالیس سال کے قریب اس نے حکومت کی، اور اپنی تمام سیاسی اور مذہبی مہمات کا سربراہ رہا۔ اس کے بعد سرداری اس کے بیٹے اِلیاس کو ملی، اس نے پچاس سال کے قریب حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا یونس برسرِ اِقتدار آیا، جس نے اپنے دادا صالح بن
322
طریف کے مذہب کو بہت ترقی دی اور چوالیس برس کے قریب حکومت کی۔ صالح بن طریف کے زمانے میں خلافتِ بغداد پر ہشام بن عبدالملک کا قبضہ تھا۔ مؤرِّخِ شہیر علامہ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:
’’زعم انہ المھدی الأکبر الذی یخرج فی آخر الزمان وان عیسٰی یکون صاحبہ ویصلی خلفہ وان اسمہ فی العرب صالح وفی سریانی مالک وفی العجمی عالم وفی العبرانی روبیا وفی البربری دربًا ومعناہ: الذی لیس بعدہ نبی۔‘‘
(تاریخ ابن خلدون ج:۶ ص:۲۰۹)
’’اس کا دعویٰ تھا کہ وہی مہدیٔ اکبر ہے جو قربِ قیامت میں ظاہر ہوگا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی کے ساتھی ہوں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ عرب میں اس کا نام صالح تھا، سریانی میں مالک، عجمی میں عالم، عبرانی میں روبیا، اور بربری میں دربا تھا، اور اس کا معنی ہے: ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ اس کے بعد اَب کوئی اور نبی نہ ہوگا۔‘‘
یونس کے بعد صالح کا پڑپوتا ابوغفیر برسرِ حکومت آیا (یہ معاذ بن الیسع بن طریف تھا) اس کے متعلق فاضل ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:
’’واشتدت شوکتہ وعظم امرہ‘‘
’’اسے عظیم شوکت حاصل تھی اور اس کی حکومت بلند پایہ تھی‘‘
ابوغفیر کے بعد ابوالانصار برسرِ اِقتدار آیا، جس نے اپنے باپ دادا کے مذہب کو بہت فروغ دیا، اس کے بعد ابومنصور عیسیٰ کا دور آیا، جو برغواطہ کا ساتواں بادشاہ تھا، اس نے بھی دعویٔ نبوّت کیا۔ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:
’’وادعی النبوۃ والکھانۃ واشتد امرہ وعلا سلطانہ ودانت لہ قبائل المغرب۔‘‘
(تاریخ ابن خلدون ج:۶ ص:۲۱۰)
’’اس نے بھی نبوّت اور غیب دانی کا دعویٰ کیا، اس کی حکومت اور سطوت بہت زور کی تھی، اور مغرب کے تمام قبائل اس کے آگے سر نگوں تھے۔‘‘
اس کے بعد اس خاندان کا سلسلہ نہایت ذِلت سے ختم ہوا۔
ان حقائق سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ دعویٰ کہ مفتری کے سلسلے کو بقاء نہیں ہوتی، یا ضروری ہے کہ وہ بیس یا تیئس سال کے اندر اندر ہلاک ہوجائے، اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔
مقامِ غور۔۔۔! علاوہ ازیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ کسی مدعیٔ نبوّت کا لازمی طور پر قتل ہونا اگر اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہو تو پھر وہ پیغمبرانِ کرام جو سچے ہوکر بھی مقامِ شہادت پاگئے اور انہیں ان کے مخالفین نے قتل کیا، ان کی صداقت کیونکر مشتبہ نہ ہوجائے
323
گی؟ جب لازم ممکن نہیں تو ملزوم بالبداہت خودبخود باطل ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ۳۲سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش فرمایا، حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں:
’’قُتِل یحیٰی قبل رفع عیسٰی علیہ السلام۔‘‘
(تفسیر ابی السعود ج:۲ ص:۵۰، تفسیر کبیر ج:۲ ص:۶۶۴)
’’حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُوپر اُٹھائے جانے سے بہت پہلے۔‘‘
ایسا ہی تاریخ طبری (ج:۲ ص:۱۳)، الاخبار الطوال (ص:۴۲)، تاریخ کامل (ج:۱ ص:۱۰۴)، فتوحاتِ اِلٰہیہ (ج:۱ ص:۷۲، ۲۶۲)، تفسیر فتح البیان (ج:۱ ص:۱۲۰)، بحر محیط (ج:۱ ص:۲۳۶)، تفسیر جمل (ج:۱ ص:۷۲)، کشاف (ص:۷۹)، درمنثور (ج:۴ ص:۲۶۲)، اور تفسیر مراح لبید الامام النووی، میں مذکور ہے۔وﷲ اعلم بحقیقۃ الحال!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۲۲۱ تا ۲۲۳)
نبوّتِ تشریعی اور غیرتشریعی میں فرق
سوال:۔۔۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں: ’’قولوا: إنّہ خاتم النّبیین، ولا تقولوا: لَا نبیَّ بعدہ‘‘۔
جواب:۔۔۔ ’’تکملہ مجمع البحار‘‘ (ج:۵ ص:۵۰۲) میں علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللّٰہ نے یہ قول نقل کرکے لکھا ہے: ’’وھٰذا ناظر إلٰی نزول عیسٰی‘‘ یعنی یہ اِرشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پیشِ نظر فرمایا۔
سوال:۔۔۔ اِمام عبدالوہاب شعرانی ؒ فرماتے ہیں: ’’مطلق نبوّت نہیں اُٹھائی گئی، محض تشریعی نبوّت ختم ہوئی ہے۔‘‘ جس کی تائید حدیث: ’’من حفظ القرآن ۔۔۔إلخ‘‘ سے بھی ہوتی ہے، (جس کے معنی یہ ہیں کہ جس نے قرآن حفظ کرلیا اس کے دونوں پہلوؤں سے نبوّت بلاشبہ داخل ہوگئی)۔ اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا رَسُوْلَ‘‘ سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو شریعت لے کر آئے۔
محی الدین ابنِ عربیؒ فرماتے ہیں: ’’جو نبوّت رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آنے سے منقطع ہوئی ہے، وہ صرف تشریعی نبوّت ہے، نہ کہ مقامِ نبوّت۔‘‘ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے، اس لئے اس نے ان کی خاطر غیرتشریعی نبوّت باقی رکھی۔ مذکورہ بالا دو اقوال واضح فرمادیں، تشریعی اور غیرتشریعی بھی واضح فرمادیں، کیا اس کو اپنے لئے دلیل بناسکتے ہیں؟
جواب:۔۔۔ شیخ ابنِ عربیؒ اولیاء اللّٰہ کے کشف واِلہام کو ’’نبوّت‘‘ کہتے ہیں، اور حضراتِ انبیائے کرام علیہما لسلام کو جو منصب عطا کیا جاتا ہے، اسے ’’نبوّتِ تشریعی‘‘ کہتے ہیں، یہ ان کی اپنی اِصطلاح ہے۔ چونکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوّت ان کے نزدیک تشریع کے بغیر نہیں ہوتی، اس لئے ولایت والی نبوّت واقعتا نبوّت ہی نہیں۔ علامہ شعرانی ؒ اور شیخ اِبنِ عربیؒ بھی انبیائے کرام علیہم السلام والی نبوّت (جو اُن کی اِصطلاح میں نبوّتِ تشریعی کہلاتی ہے) کو ختم مانتے ہیں اور ولایت کو جاری۔ اور یہی عقیدہ
324
اہلِ سنت والجماعت کا ہے، فرق صرف اِصطلاح کا ہے۔(۱) واللّٰہ اعلم!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۳، ۲۴۴)
کیا نبوّت جاری ہے؟
سوال:۔۔۔ سورۂ اَعراف:۳۵ کی آیت: ’’یَا بَنِیْ آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک نبی آتے رہیں گے، کیونکہ بنی آدم سے یومِ قیامت تک آنے والے تمام اَفراد مراد ہیں، ان کے انبیاء بھی قیامت تک آنے چاہئیں؟
جواب:۔۔۔ یہاں دو عموم ہیں، ایک افرادِ اِنسانی کا عموم، دُوسرا تمام اوقات میں عموم واِحاطۂ رُسل، حتیٰ کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی قیامت تک، ظاہر ہے کہ پہلا عموم دُوسرے عموم کو مستلزم نہیں۔ بایں طور ہر دور میں نئے نئے رسول آتے رہیں گے، بلکہ یہ چیز اِمکانِ وقوعی کے طور پر ثابت ہے کہ ایک ہی رسول قرونِ کثیرہ کے افرادِ اِنسانی کے لئے کافی ہو، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام اُمتِ عیسویہ کے قرونِ کثیرہ کے لئے کافی ہوئے (یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل پانچ صد سال)، یہ معاملہ باری تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، ہر ایک کے لئے جس قدر چاہتا ہے حد مقرّر فرماتا ہے، لہٰذا عین ممکن ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہم عصروں کے لئے اور مابعد میں قیامت تک آنے والوں کے لئے کافی ہوں، پس آیتِ مذکورہ سے مستدل کا اِستدلال کوئی قوّت نہیں رکھتا، بلکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوّت ورِسالت کا اِنقطاع نصِ قرآنی ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ سے ثابت ہے۔
سوال:۔۔۔ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابنِ عربیؒ نے فتوحات میں اور اِمام شعرانی ؒ نے یواقیت والجواہر میں کئی مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ نبوّتِ تشریعی کا سلسلہ منقطع ہوا ہے، مطلق نبوّت کا نہیں، لہٰذا جائز ہے کہ بعض کاملینِ اُمت کو نبی غیرتشریعی کہا جائے۔
جواب:۔۔۔ ایسا کہنا بالکل جائز نہیں۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت علیؓ سے اِرشاد فرماتے ہیں:’’انت مِنِّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی إلَّا انہ لَا نبیَّ بعدی‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۶۳) تم مجھ سے قرب ومنزلت میں اس طرح ہو جس طرح موسیٰ سے ہارون تھے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہاں مطلقاً اسم نبی کے اِطلاق کی نفی فرمادی خواہ وہ تشریعی کہلائے یا غیرتشریعی۔ اگر کہا جائے کہ پھر صاحبِ فتوحات وصاحبِ یواقیت نے اس حدیث کی خلاف ورزی کیوں کی ہے؟ تو جواباً یہ کہا جائے گا کہ ان اکابر کی غرض یہ ہے کہ اس اُمتِ مرحومہ میں اہل اللّٰہ کا ایسا گروہ موجود ہے جنہیں کشف یا اِلہام یا لوحِ محفوظ کے مطالعے کے ذریعے کتاب وسنت وغیرہ
(۱)…تنقسم النبوۃ البشریۃ علٰی قسمین، القسم الأوّل من ﷲ تعالٰی إلٰی غیرہ من غیر روح ملکی بین ﷲ تعالٰی وبین عبدہ بل اخبارات الٰھیۃ یجدھا فی نفسہ من الغیب أو فی تجلیات ولا یتعلق بذالک الاخبار حکم تحلیل ولا تحریم بل تعریف بمعانی الکتاب والسُّنَّۃ أو بصدق حکم مشروع ثابت انہ من عند ﷲ أو تعریف بفساد حکم وقد ثبت بالنقل صحتہ ونحو ذالک وکل ذالک تنبیہ من ﷲ تعالٰی وشاھد عدل من نفسہ قال: ولا سبیل لصاحب ھٰذا المقام أن یکون علی شرع یخصّہ یخالف شرع رسولہ الذی أرسل إلیہ وأمرنا باتباعہ أبدًا۔ القسم الثانی من النبوۃ البشریۃ وھو خاص بمن کان قبل بعثۃ نبینا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم وھم الذین یکونون کالتلامذۃ بین یدی الملک فینزل علیھم الروح الأمین بشریعۃ من ﷲ تعالٰی فی حق نفوسھم بتعبدھم بھا فیحل لھم ما یشاء ویحرم علیھم ما شاء ولا یلزمھم اتباع الرسول۔ (الیواقیت والجواھر ج:۲ ص:۲۵، طبع عباد بن عبدالسلام بن شقرون، مصر)
325
کے اسرار سے مطلع کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ اس معنی کے حصول سے انہیں نبوّت کا مقام مل جاتا ہے، یا ان پر اسمِ نبی کا اِطلاق صحیح ہے، بلکہ صاحبِ فتوحات خود فتوحات میں تصریح فرماتے ہیں: ’’لَا یصح لأحد ان ینال مقام النبوۃ انا نراہ کالنجوم علی السماء‘‘ کہ اب کسی کے لئے نہیں ہوسکتا کہ وہ نبوّت کا مقام پائے، ہم تو نبوّت کے مقام کو اپنے سے اتنا دُور دیکھتے ہیں جتنا کہ آسمان کی بلندی پر دُور سے ستارے نظر آتے ہیں۔ یواقیت میں بھی اسی طرح منقول ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد رسول ونبی کا اِطلاق اُمتِ مرحومہ کے کسی فرد پر جائز نہیں، ذٰلِكَ فَضلُ اللہِ یُوٴتِیہِ مَن یَّشَآءُ یہ وہبی چیز ہے، کسبی نہیں۔ قصیدہ بردہ میں ہے: ’’تبارک ﷲ ما وحی بمکتسب‘‘ یعنی وحی کسبی چیز نہیں۔ شرح عقائد وغیرہ میں ہے کہ کوئی ولی درجہ انبیاء تک نہیں پہنچ سکتا۔ صاحبِ سمجھ کے لئے یہی کچھ کافی ہے۔
وَاللہُ یَقُولُ الحَقَّ وَہُوَ یَہدِی السَّبِیلَ
والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ محمد وعلٰی آلہٖ واصحابہٖ اجمعین
(فتاویٰ مہریہ ص:۲۸،۲۹)
جھوٹا مدعیٔ نبوّت اور طوالتِ عمر
سوال:۔۔۔ مرزاقادیانی کے سچے نبی ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اس کو عمر نبوّت میں لمبی دی گئی، قرآن مجید اس بات پر شاہد ہے۔
جواب:۔۔۔ یہ بات کئی وجہ سے غلط ہے۔ دیکھو! عبداللّٰہ مہدی نے دعویٰ ۲۹۶ھ میں کیا، اور ۳۲۴ھ میں اپنی موت سے مرا، اور اس نے طرابلس ومصر بھی فتح کیا (تاریخ کامل ابنِ اثیرؒ ج:۸ ص:۹۰)۔ اور اکبر بادشاہ نے ۱۵۸۱ء میں دعویٰ نبوّت کا کیا، اور نبوّت کے دعوے میں ۲۵برس برابر جیتا رہا (تاریخِ ہند)۔ عبدالقادر صالح بن طریف ۱۶۰۵ء میں دعویٔ نبوّت کرکے برابر ۲۷برس اپنا کام چلاتا رہا، آخرالامر اپنی موت سے مرا۔
علاوہ اس کے فرمایا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی صادق نہیں آئے گا اور میرے بعد نبی ہوتا تو حضرت عمر فاروقؓ ہوتے، اور قرآن مجید اسی بات پر شاہد ہے اور جو نبی ہوتا ہے وہ تمام جہان کے علماء سے علم واِتقا میں زیادہ ہوتا ہے، اور مرزا غلام احمد قادیانی علمِ معقول سے جاہل تھا۔ (دیکھو: اِعجاز المسیح ص:۲۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳) تنکرون بإعجازی، یہاں پر تنکرون إعجازی ہونا چاہئے۔ اور (ص:۹، خزائن ج:۱۸ ص:۱۱) قالوا مفتری یہاں مفتر ہونا چاہئے تھا، اور اسی صفحہ اعجاز المسیح ایضاً میںواعطی ما طلبوہ یہاں واعطو ہونا چاہئے تھا، کیونکہ اس کا پہلا مفعول نائب عن الفاعل ہونے کا زیادہ مستحق ہے۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے مسیح کنجروں سے میل جول رکھتا تھا، اس کی تین دادیاں، نانیاں زناکار تھیں۔
(دیکھو: ضمیمہ انجام آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
مرزا نے لکھا:
326
-
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(دُرّثمین فارسی ص:۱۷۱)
اور کتاب ’’اعجاز المسیح‘‘ (ص:۳۰) میں لکھا ہے کہ:
’’میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ ان اِلہامات پر اس طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن مجید پر۔‘‘
پس ان عباراتِ مرزاقادیانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان بھی نہ تھا، نبی اور مجدّد کا درجہ کجا، فقط۔
(فتاویٰ نظامیہ ج:۴ ص:۴۱۳، ۴۱۴)
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے
سوال۱:۔۔۔ فرقۂ قادیان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور قریبِ قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے ہوگا، اور زمین پر تشریف لاکر خلیفۂ وقت ہوں گے اور دَجال کو ماریں گے۔ آپ آسمان پر زِندہ تشریف رکھتے ہیں یا اِنتقال فرماگئے؟
۲:۔۔۔ فرقۂ قادیان کہتے ہیں کہ ’’مِنم بَعدِی اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ جو آیت قرآن شریف کی ہے، وہ غلام احمد قادیانی کی نسبت ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ اس کے مصداق حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں، اور آپ کی ہی تشریف آوری کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔
۳:۔۔۔ قادیانی کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود ۱۴۰۰ہجری کے نبی تھے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے:’’ولٰكِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اس حالت میں غلام احمد نبی کیسے ہوئے جبکہ نبوّت کے ختم ہونے کا ثبوت قرآن شریف دیتا ہے؟
جواب:۔۔۔ صرف حنفیہ کا نہیں بلکہ تمام قبائے اہلِ سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام زِندہ آسمان پر تشریف رکھتے ہیں اور بے شک قریبِ قیامت نازل ہوکر دَجال کو قتل کریں گے۔ جو شخص ان کی وفات کا دعویٰ کرے، وہ زُمرۂ اہلِ سنت والجماعت سے خارج ہے، ایسا شخص ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کے قول پر کان لگایا جائے۔
۲:۔۔۔ آیت شریفہ:’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَّاتِیمِنم بَعدِی اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ کو مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے لئے بتلانا بالکل غلط ہے، کیونکہ اوّل تو باتفاقِ مفسرین یہ آیت حضرت رسولِ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کے متعلق ہے، جس میں خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ بشارت نقل فرمائی ہے جو انہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے متعلق بطور پیش گوئی اپنی اُمت کو دی تھی، تو اَب اس آیت میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوا کسی دُوسرے کو مراد لینا، اجماعِ مفسرین کا خلاف کرنا ہے۔
دوم:۔۔۔ یہ کہ مرزا غلام احمد کے متعلق یہ آیت کیسے ہوسکتی ہے؟ کیونکہ اس میں آنے والے رسول کا نام ’’احمد‘‘ بتایا
327
گیا ہے، اور مرزاقادیانی کا نام ’’غلام احمد‘‘ ہے نہ ’’احمد‘‘۔ تو ایسی صورت میں ان کا یہ دعویٰ کہ یہ آیت میرے متعلق ہے، صراحۃً غلط اور کھلم کھلا باطل ہے۔
سوم:۔۔۔ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس آنے والے کی بشارت دی ہے اس کو ’’رسول‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، اور ان کے بعد جو رسول آئے وہ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رُوحی فداہ ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ ہیں، اور آپ خاتم النّبیین اور خاتم الرسل ہیں، اور مرزاقادیانی یقینا وبداہۃً آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہوئے، پس اگر مرزاقادیانی کو دعویٔ رسالت نہ ہو تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق اس لئے نہیں ہوسکتے کہ یہ پیش گوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے رسول کے متعلق ہے، اور مرزاقادیانی رسول نہیں، اور اگر ان کو دعوائے رسالت ہو تو یہ دعویٰ صراحۃً آیتِ قرآنی’’ولٰكِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے خلاف اور حدیثِ رسول مقبول: ’’انا خاتم النّبیین لَا نبی بعدی‘‘ کے مخالف ہونے کی وجہ سے باطل اور مردُود ہے۔
چہارم:۔۔۔ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ پیشین گوئی اور بشارت جس نبی کے متعلق ارشاد فرمائی ہے، اسے اپنے بعد آنے والا بتایا ہے، اور بعدیت سے ظاہر اور متبادر بعدیتِ متصلہ ہے، اورظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک رسول یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے، جن کی رسالت کو قادیانی بھی مانتے ہیں، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت وپیش گوئی کا مصداق تو پورا ہوگیا، اب مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق بتانا تو جب صحیح ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس کلام میں ایک سے زائد رسولوں کے آنے کی بشارت ہوتی، حالانکہ نہیں ہے، بلکہ صرف ایک رسول کے آنے کا ذِکر ہے، جو آچکے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک رسول کے آنے کو تسلیم کرتے ہوئے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ٹھہرانا صریح ہٹ دھرمی اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ یاد رہے کہ ان کے اس دعوے میں حضورِ اَنور نبی ہاشمی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین بھی مضمر ہے۔ اور وہ منجر الی الکفر ہے۔
۳:۔۔۔ اس سوال کا جواب بھی مندرجہ بالا جواب کے ضمن میں آگیا ہے۔
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۰ تا ۳۱۲)
نزولِ مسیح کے وقت ساتھ آنے والے فرشتوں کی پہچان
سوال:۔۔۔ اور پھر بوقتِ نزول حضرت مسیحِ موعود دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اُتریں گے (ملاحظہ ہو ص:۱۷ علامت نمبر:۶۲) اس کی بھی تأویل ہی کرنی پڑے گی، ورنہ فرشتے کون دیکھے گا؟ اور اگر وہ اِنسانی شکل اِختیار کرکے اُتریں گے تو پھر یہ جھگڑا قیامت تک ختم نہیں ہوگا کہ وہ واقعی فرشتے تھے یا محض اِنسان تھے؟ اور اس کھینچ تان سے مولوی صاحب خوب واقف ہوں گے۔
جواب:۔۔۔ کیوں تأویل کرنا پڑے گی؟ اس لئے کہ غلام احمد قادیانی اس سے محروم رہے۔۔۔؟ رہا وہ جھگڑا جو آپ کے
328
دِماغ نے گھڑا ہے، یہ بتائیے کہ جب جبریل علیہ السلام پہلی بار آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس وحی لے کر آئے تھے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو کس طرح پہچانا تھا؟ حضرت اِبراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کو کس طرح یقین آگیا تھا کہ یہ واقعی فرشتے ہیں؟
آپ کا یہ اِعتراض ایسا مہمل ہے کہ اس سے سلسلۂ وحی مشکوک ہوجاتا ہے۔ ایک دہریہ آپ ہی کی دلیل لے کر یہ کہے گا کہ: ’’انبیاء کے پاس جو فرشتے آتے تھے، وہ انسانی شکل میں ہی آتے ہوں گے، اور یہ جھگڑا قیامت تک ختم نہیں ہوسکتا کہ وہ واقعی فرشتے تھے یا اِنسان تھے؟ اور جب تک یہ جھگڑا طے نہ ہو، سلسلۂ وحی پر کیسے یقین کرلیا جائے گا؟‘‘ تعجب ہے کہ قادیانی تعلیم نے دِین تو سلب کیا ہی تھا، عقل وفہم کو بھی سلب کرلیا ہے۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۶، ۲۲۷)
دفع شبہ قادیانی متعلقہ دعویٰ علامت مسیح درخود
سوال:۔۔۔ عبارت ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ (ص:۳۴ و۳۵، خزائن ج:۲۰ ص:۳۵،۳۶): ’’یہ سولہ مشابہتیں ہیں جو مجھ میں اور مسیح میں ہیں۔‘‘ دس ہزار نفوس کے قریب یا اس سے زیادہ لوگوں نے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے میری تصدیق کی، اور اس ملک میں جو بعض نامی اہلِ کشف تھے جن کا تین تین، چار چار لاکھ مرید تھا، ان کو خواب میں دِکھلایا گیا کہ یہ انسان خدا کی طرف سے ہے۔ یہ مُسلَّم ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شبیہ مبارک کوئی نہیں بن سکتا، خواب میں بھی، اس لئے اس کا جواب بعد غور عنایت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ ایسی مشابہتیں کھینچ تان کر ہر شخص اپنے اندر بتلاسکتا ہے، علاوہ اس کے اس پر کوئی دلیل عقلی نقلی قائم نہیں ہے، کہ دو چیزیں اگر بعض صفات میں ایک دُوسرے کی مشابہ ہوں تو بقیہ صفات میں بھی ان کا اِشتراک ضروری ہو، یہ محض مغالطہ ہے، جس کی مثال منطقیوں نے یہ لکھی ہے: ’’کما یقال لصورۃ الفرس علی الجدار ھٰذا فرس وکل فرس صھال فھٰذا صھال‘‘ اس پر تمام ادلّۂ قطعیہ واِجماع متفق ہیں، کہ کشف ومنام گو لاکھوں آدمیوں کا ہو دلائلِ شرعیہ کتاب وسنت اِجماع وقیاس پر تعارض کے وقت راجح نہیں، اگر ان میں تعارض ہوگا تو اگر مدعی غیرثقہ ہے تو اس کو کاذِب ومفتری کہیں گے، اور اگر صالح ہے تو اِشتباہ واِلتباس کے قائل ہوں گے، جیسا کسی نے خواب میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ’’اشرب الخمر!‘‘ علمائے مصر نے بالاتفاق یہ کہا تھا کہ اس کو شبہ ہوگیا ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کچھ اور فرمایا ہوگا، اور اس کا تعجب کیا ہے، جب بیداری میں ایسے اشتباہات اَحیاناً واقع ہوجاتے ہیں تو خواب کا کیا تعجب، بالخصوص جب خواب کا دیکھنے والا متہم ہو کسی عقیدۂ فاسدہ کے ساتھ، تو اس کا کذب یا اِشتباہ دونوں غیربعید ہیں۔
اس تقریر سے سب منامات ومکاشفات کا جواب ہوگیا، اور بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیکھنا حق اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو اصلی حلیہ میں دیکھے تو اس شرط پر دائرہ جواب کا اور وسیع ہوگا۔ علاوہ اس کے علمائے باطن نے فرمایا ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک برزخ میں مثل آئینہ کے ہے، کہ بعض اوقات دیکھنے والے خود اپنے حالات
329
وخیالات کا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اندر مشاہدہ کرلیتے ہیں، بہرحال اتنے اِحتمالات کے ہوتے ہوئے دلائل شرعیہ صحیحہ کو چھوڑنا کیسے ممکن ہے؟
۲۶؍شوال ۱۳۲۱ھ
(امداد ج:۴ ص:۱۰۲)
(اِمدادُالفتاویٰ ج:۵ ص:۳۶۶،۳۶۷)
نزولِ عیسیٰ اور ’’وَرَافِعُكَ‘‘ پر مطابقت
سوال:۔۔۔ اگر مسیح ابنِ مریم اور مسیحِ موعود ایک ہی وجود کا نام ہے (اور محض دوبارہ نزول کے بعد مسیح بن مریم نے ہی مسیحِ موعود کہلانا ہے) اور اس نے نازل ہوکر خود بھی قرآن وحدیث پر عمل کرنا ہے اور دُوسروں کو بھی اسی راہ پر چلانا ہے (ملاحظہ ہو ص:۲۲، علامت نمبر۹۹) تو بقول مولوی صاحب جب عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زِندہ اُٹھایا جانا وہ اس آیت سے ثابت کرتے ہیں: ’’إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ إِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) (ص:۱۶، علامت نمبر۴۹) تو کیا مولوی صاحب بتائیں گے کہ کیا یہ آیت قرآن مجید میں قیامت تک نہیں رہے گی اور اس کا مطلب ومفہوم عربی زبان اور اِلٰہی منشا کے مطابق وہی نہیں رہے گا جو اَب تک مولوی صاحب کی سمجھ میں آیا ہے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو نزول کے وقت بھی تو یہ آیت یہی اِعلان کر رہی ہوگی کہ عیسیٰ بن مریم کو آسمان پر اُٹھالیا، اُٹھالیا تو پھر واپسی کے لئے کیا یہ آیت منسوخ ہوجائے گی؟ یا عیسیٰ علیہ السلام اسے خود ہی منسوخ قرار دے کر اپنے لئے راستہ صاف کرلیں گے؟ کیونکہ قرآن مجید میں تو کہیں ذِکر نہیں کہ کوئی بھی آیت کبھی بھی منسوخ ہوگی، لہٰذا یہ آیت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا راستہ قیامت تک روکے رکھے گی اور یہ وعدہ تو اللّٰہ تعالیٰ نے خود کیا ہے اور مولوی صاحب خود بھی جانتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ذِکر ہم نے اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے، لہٰذا کسے حق حاصل ہے کہ اس میں یعنی اس کے متن میں رَدّوبدل کرسکے؟
جواب:۔۔۔ یہ آیت تو ایک واقعے کی حکایت ہے، اور اسی حکایت کی حیثیت سے اب بھی غیرمنسوخ ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد بھی غیرمنسوخ رہے گی، جیسا کہ: ’’إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً‘‘ (البقرۃ:۳۰)، ’’وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ‘‘ (البقرۃ:۳۴) وغیرہ بے شمار آیات ہیں۔ سائل بے چارا یہ بھی نہیں جانتا کہ نسخ اَمر ونہی میں ہوتا ہے، اور یہ آیت اَمر ونہی کے باب سے نہیں، بلکہ خبر ہے، اور خبر منسوخ نہیں ہوا کرتی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۰،۲۲۱)
’’خاتم النّبیین‘‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام
سوال:۔۔۔ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ آخری نبی یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں عطا کی جائے گی۔ مولانا صاحب! اگر ’’خاتم النّبیین‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو حضرت عائشہؓ کے قول کی وضاحت کردیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’اے لوگو! یہ تو کہو کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین تھے، مگر یہ نہ کہو کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا‘‘ (حضرت عائشہؓ، تکملہ مجمع البحار)۔
جواب:۔۔۔ اسی ’’تکملہ مجمع البحار‘‘ (ج:۵ ص:۵۰۲) میں لکھا ہے کہ: حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے یہ اِرشاد حضرت
330
عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے پیشِ نظر فرمایا ہے،(۱) چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے ملی تھی، اس لئے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا منشا یہ ہے کہ کوئی بددِین ’’خاتم النّبیین‘‘ کے لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نہ آنے پر اِستدلال نہ کرے، جیسا کہ مرزاقادیانی نے کہا ہے کہ آیت خاتم النّبیین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کو روکتی ہے۔ پس حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا یہ اِرشاد مرزاقادیانی کی تردید وتکذیب کے لئے ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۴۲)
حضرت عیسیٰ آسمان پر نماز وزکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہیں؟
سوال:۔۔۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں تو قرآن مجید کی رُو سے ’’وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘ (مریم:۳۱) کے مطابق ہر وقت جب تک وہ زندہ ہیں نماز اور زکوٰۃ فرض ہے، اگر وہ اب آسمانوں پر زِندہ ہیں تو وہاں نماز اور زکوٰۃ کیسے ادا کرتے ہوں گے؟ اور زکوٰۃ کون لیتا ہوگا؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ سب سے پہلے تو آیتِ قرآنیہ کا سمجھنا ضروری ہے۔
’’وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘
(مریم:۳۱)
’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز اور زکوٰۃ کا جب تک میں زندہ ہوں۔‘‘
اسی مفہوم کی دُوسری آیت جس میں مؤمنین کے بارے میں فرمایا:
’’الَّذِیْنَ ہُمْ عَلَی صَلَاتِہِمْ دَائِمُونَ‘‘
(المعارج:۲۳)
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہیں، بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح نماز کا حکم ہو، ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں، اور اس کی برکات وانوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں، کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز پڑھتا رہے، ہر وقت زکوٰۃ دیتا رہے، خواہ نصاب کا مالک ہو یا نہ ہو۔ ہر وقت روزہ رکھتا رہے، ہر وقت حج کرتا رہے، حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی ’’مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘ کا ایسا ہی مطلب سمجھنا چاہئے۔ لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ لفظ’’صلوٰۃ‘‘ کچھ اِصطلاحی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں۔ قرآنِ حکیم نے ملائکہ اور بشر سے گزر کر تمام جہان کی طرف ’’صلوٰۃ‘‘ کی نسبت کی ہے:
’’أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللہَ یُسَبِّحُ لَہُ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہُ وَتَسْبِیْحَہُ‘‘
(النور:۴۱)
اس سے ثابت ہوا کہ ہر چیز کی تسبیح وصلوٰۃ کا حال اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس کی صلوٰۃ وتسبیح کس رنگ کی ہے۔
اسی طرح زکوٰۃ کے معنی بھی اصل میں طہارت، نماز، برکت ومدح کے ہیں، جن میں سے ہر ایک معنی کا اِستعمال قرآن
(۱)عن عائشۃ رضی ﷲ عنھا: قولوا: إنہ خاتم الأنبیاء، ولا تقولوا: لا نبی بعدہ، ولھٰذا ناظر إلٰی نزول عیسٰی۔ (مجمع بحار الأنوار مع التکملۃ ج:۵ ص:۴۶۴، طبع دائرۃ المعارف العثمانیۃ، دکن، ھند)
331
وسنت میں اپنے اپنے موقع پر ہوا ہے۔ اسی رُکوع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت: ’’غُلٰمًا زَكِیًّا‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوا ہے، جو زکوٰۃ سے مشتق ہے، پس ’’مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘ سے زمینی حیات مراد ہے۔ اگر اس آیت سے یہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تمام زندگی نماز پڑھتے رہیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں، اور ہر وقت ان کی جیب روپوں سے بھری رہے تو یہ الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی صغرسنی میں کہے تھے، تو اس وقت بھی زندہ تھے، تو اب بتائیے اس وقت وہ کونسی نماز پڑھتے تھے؟ ان کے پاس کتنے روپے تھے؟ اور کونسے مستحقین ان سے زکوٰۃ وصول کیا کرتے تھے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت میں کسی امر کا حکم ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہر وقت، دِن رات، سوتے جاگتے، بیٹھتے اور اُٹھتے اس پر عمل کرتے رہیں، بلکہ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے اور شریعت میں اس کی حدود مقرّر ہیں، جیسے قرآن مجید میں ہے: ’’وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ یعنی نماز پڑھو تو کیا اس حکم کی تعمیل میں ہر وقت نماز پڑھتے رہیں؟ یہ مراد ہرگز نہیں، بلکہ: ’’إِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَاباً مَّوْقُوتاً‘‘ (النساء:۱۰۳) جب نماز کا وقت آئے گا تب نماز پڑھی جائے گی۔
اور اس کے علاوہ نماز بعد بلوغت اور زکوٰۃ بعد مال فرض ہوتی ہے، جب حضرت مسیح علیہ السلام بچے تھے، نماز فرض نہ تھی، جب بالغ ہوئے تو حکم بجا لائے، اسی طرح جب مال تھا زکوٰۃ دیتے تھے، اب آسمان پر ان کے پاس مال ہی نہیں، زکوٰۃ کیسے دیں؟ منکرینِ حیاتِ مسیح کا فرض ہے کہ آسمان پر پہلے ان کے ہاں مالِ زکوٰۃ ہونا ثابت کریں، پھر پوچھیں کہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ یہ سب عقلی ڈھکوسلے اور راہِ فرار کے جھوٹے راستے ہیں، جن کی اہلِ حق کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۲،۳۳۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث:’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے منافی نہیں
سوال۱:۔۔۔ کیا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیٔ آخرالزمان ہیں؟ آپ کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والا اور اس دعوے کو تسلیم کرنے والا مؤمن ہے یا کافر؟
۲:۔۔۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ اُٹھائے گئے ہیں؟ اور آپ قربِ قیامت میں نزول فرمائیں گے تو بحیثیت نبی کے یا اُمتی کے؟
جواب۱:۔۔۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبیٔ آخرالزمان ہیں، ان کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والا، خواہ کسی قسم کا ہو، کافر ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اس دعویٔ نبوّت پر اِیمان لائے وہ بھی کافر ہے۔
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ اُٹھائے گئے ہیں، اور قربِ قیامت میں نزول فرمائیں گے۔ ان کی تشریف آوری یقینی ہے۔ مرزائی جو دھوکا دیتے ہیں کہ ان کی تشریف آوری حدیث: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے مخالف ہے، غالباً اس کے ماتحت آپ نے یہ سوال تحریر فرمایا ہے کہ وہ نازل ہوں گے تو بحیثیت نبی کے ہوں گے یا اُمتی کے؟
جنابِ والا! اس سوال کو مرزائی یوں رنگ دے کر بیان کرتے ہیں کہ اگر نبی ہوکر آئیں گے تو ختمِ نبوّت باطل ہوتی ہے، اور اگر معزول ہوکر آئیں گے تو ایک پیغمبر کا نبوّت سے معزول ہونا لازم آتا ہے۔ یہ ایک اغلوطہ اور دھوکا ہے، اس کو ہم اس مثال سے واضح کرتے ہیں کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دُوسرے صوبے کے اندر جاتا ہے، جہاں دُوسرے وزیراعلیٰ کی حکومت ہے، کیا یہ کہنا صحیح
332
ہے کہ یہ وزیراعلیٰ جو دُوسرے صوبے میں گئے ہوئے ہیں، اپنی وزارت سے معطل ہوکر اپنے عہدے سے گرگئے ہیں؟ یا یہ کہنا دُرست ہے کہ یہ وزیراعلیٰ اپنے علاقے کے حاکم اور اَفسرِ اعلیٰ ہیں، ایک مقصد اور کام کے سلسلے میں دُوسرے صوبے میں گئے ہیں، جتنے دِن دُوسرے صوبے میں رہیں گے، وہاں کی حکومت اور قوانین کا اِحترام ان پر لازم ہوگا، باوجود اس بات کے کہ وہ اپنے عہدے اور اِعزاز کو بھی اپنے اندر باقی رکھے ہوئے ہیں اور اس سے کسی صورت معزول نہیں۔
محترم! اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سابقہ انبیاء علیہم السلام میں سے ہیں، اپنے عہدے اور اِعزاز پر قائم ہیں، ان کا اپنے عہدے سے معطل ہونا لازم نہیں آتا، اور نہ ان کے آنے سے ختمِ نبوّت پر اَثر پڑتا ہے، کیونکہ وہ تو پہلے کے نبی ہیں۔ مکانِ نبوّت میں ان کا پہلے سے مقرّر شدہ درجہ ومنصب ہے، ان کا آنا اس اُمت میں ایک سبب اور مقصد کے لئے ہوگا اور وہ ہے قتلِ دجال! جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ تشریف لانے کے بعد نبی ہوتے ہوئے قانونِ محمدیہ کا اِتباع کریں گے اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، ان کا آنا: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے منافی نہیں، کیونکہ ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملنے کی نفی کرتا ہے، ان کو تو پہلے سے نبوّت ملی ہوئی ہے، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تو نبوّت نہیں دی جارہی۔ اور دَجال قادیانی تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اپنے اُوپر نبوّت کے نزول کا مدعی ہے، جو تمام اِسلامی اِجماعی عقیدے کے منافی ہے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے ماتحت کہ:
’’لَا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث دجالون کذابون، کلھم یزعم عنہ نبی، وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔‘‘
(ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۲۷، مطبوعہ نورمحمد کراچی)
کا اِستعمال ان لوگوں کے لئے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت کرتے ہیں، ان کو دَجال بھی کہا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی سابقہ نبی کا آنا ختمِ نبوّت کے منافی نہیں۔ یہ جو وزیراعلیٰ کی مثال دی ہے، بطورِ توضیح مثال دی ہے، کہیں کوئی شخص اس تشبیہ کو حقیقت نہ سمجھ لے اور اِعتراض شروع کردے۔ فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
بندہ محمد عبداللّٰہ غفرلہٗ |
|
خیر محمد |
خادم دارالافتاء خیرالمدارس ملتان |
|
مہتمم خیرالمدارس ملتان |
۵؍۶؍۱۳۷۱ھ |
|
۶؍۶؍۱۳۷۱ھ |
|
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۱۵۰،۱۵۱)
نزولِ مسیح اور مسلمانوں کے سخت فقر وفاقہ اور مال وزَر کی کثرت پر تعارض کا اِشکال
سوال:۔۔۔ ’’مال وزَر لوگوں میں اتنا عام کردیں گے کہ کوئی قبول نہ کرے گا‘‘ (ص:۲۲، علامت نمبر۳۳)۔
’’ہر قسم کی دِینی ودُنیوی برکات نازل ہوں گی‘‘ (ص:۲۲، علامت نمبر۱۰۰)۔
’’ساری زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے‘‘ (ص:۲۴ علامت نمبر۱۰۹)۔
333
’’صدقات کا وصول کرنا چھوڑ دیا جائے گا‘‘ (ص:۲۴، علامت نمبر۱۱۰)۔
’’کیونکہ مسیحِ موعود مال وزَر اتنا عام کردیں گے کہ کوئی قبول نہ کرے گا‘‘ (ص:۲۲، علامت نمبر۹۳)۔
’’اس وقت مسلمان سخت فقر وفاقہ میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ بعض اپنی کمان کا چلہ جلاکر کھاجائیں گے‘‘ (ص:۲۶، علامت نمبر۱۲۴)۔
ملاحظہ فرمایا کہ ابھی ابھی تو مسلمان صدقہ دینا چاہتے تھے اور لینے والا کوئی نہیں تھا، مال وزَر اِتنا عام تھا کہ کوئی قبول کرنے والا نہیں تھا، اور ابھی مسلمانوں ہی کی یہ حالت بتائی جارہی ہے کہ وہ کمان کے چلے بھی جلاکر کھائیں گے تاکہ پیٹ کی آگ کسی طور ٹھنڈی ہو۔
کیا یہی وہ تحقیق ہے جس پر مولوی صاحب کو فخر ہے۔۔۔!
جواب:۔۔۔ ان احادیث میں تعارض نہیں، سلبِ ایمان کی وجہ سے سائل کو صحیح غور وفکر کی توفیق نہیں ہوئی۔ مسلمانوں پر تنگی اور ان کے کمان کے چلے جلاکر کھانے کا واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے ذرا پہلے کا واقعہ ہے، جبکہ مسلمان دجال کی فوج کے محاصرے میں ہوں گے، اور خوشحالی وفراخی کا زمانہ اس کے بعد کا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۷،۲۲۸)
حیاتِ مسیح اور ’’توفی‘‘ کے معنی
سوال:۔۔۔ مرزائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔
جواب:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر ہیں، چنانچہ جلد چہارم میں مفصل بحث اس کی گزرچکی ہے، اور علاوہ اس کے خود مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ (حاشیہ در حاشیہ ص:۱۲۳، ۳۶۱، خزائن ج:۱ ص:۴۳۱) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِنجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔فافہم فلا تعجل!
سوال:۔۔۔ ’’توفی‘‘ کے کیا معنی ہیں؟ کیونکہ مرزائی لوگ کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہر جگہ موت کے آتے ہیں۔
جواب:۔۔۔ یہ کہنا ان کا بالکل غلط ہے۔ ’’توفی‘‘ کئی معنی پر آتا ہے، چنانچہ:
۱:۔۔۔ توفی بمعنی نیند: ’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا‘‘
(الزمر:۴۲)
۲:۔۔۔ توفی بمعنی بدلہ:’’ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ‘‘
(البقرۃ:۲۸۱)
۳:۔۔۔ توفی بمعنی رفع: ’’تُوَفَّیتَنِی‘‘ یعنی رفعتنی من بینھم۔
(تفسیر عباس از ابنِ عباسؓ)
۴:۔۔۔ توفی بمعنی موت: ’’المجاز ادرکتۃ الوفاۃ ای الموت‘‘۔
(تاج العروس)
۵:۔۔۔ توفی بمعنی قبض:’’قد یکون الوفات قبضًا لیس بموت‘‘۔
(از مجمع البحار)
۶:۔۔۔ توفی بمعنی سوال: ’’إِذَا جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ‘‘ (الاعراف:۳۷) ای سألھم ملائکۃ الموت۔
۷:۔۔۔ توفی بمعنی گنتی: ’’توفیت عدد القوم مر‘‘۔
(از لسان العرب)
334
۸:۔۔۔ توفی بمعنی عذاب:’’إذا جائتھم ملائکۃ العذاب یتوفونھم عذابًا‘‘۔
۹:۔۔۔ توفی بمعنی ایک چیز کو تمام پکڑنا: ’’توفیت المال منہ واستوفیت إذا اخذت کلہ‘‘۔
غرضیکہ ’’توفی‘‘ کئی معنوں پر آتا ہے اور اس کا ذِکر مفصل کسی اور جلد میں ہوگا، فقط۔
تقریظِ بالا باعمل وفاضل بے بدل سیّد عبدالخالق بن غلام محمد القادری سجادہ نشین درگاہ پائے گا حضرت محمد دانا عرف حضرت شاہ صاحب قدسنا اللّٰہ سرہٗ، سکنہ موضع مدارس ضلع امرتسر۔
(فتاویٰ نظامیہ ج:۵ ص:۴۱۴، ۴۱۵)
حیات ونزولِ عیسیٰ پر بارہ اِشکالات وجوابات
سوال۱:۔۔۔ اُمتی کی صحیح تعریف کیا ہے؟
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ اُمتی ماننا جزوِ اِیمان ہے یا نہ؟
۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعدِ نزول نبی رہیں گے یا نہ؟ اگر ان کو کوئی نبی نہ مانے تو کیا وہ اسلام سے خارج ہوگا؟
۴:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بعدِ نزول وحی آئے گی یا نہیں؟ اگر آئے گی تو وہ وحیٔ نبوّت ہوگی یا وحیٔ اِلہام؟
۵:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول مثل دیگر انبیاء کے معصوم تسلیم کئے جائیں گے یا نہیں؟
۶:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حسبِ سابق نبی کی حیثیت سے ماننے میں اور ان پر وحی آنے کے قائل ہونے سے ختمِ نبوّت کے مسئلے پر اَثر پڑنے کا اِشکال صحیح ہے یا غلط؟
۷:۔۔۔ جو یہ کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعتِ محمدیہ ہی کا اِتباع کریں گے، مگر اُمتی نہ ہوں گے، تو وہ اسلام سے خارج ہوگا یا نہیں؟
۸:۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ افضل الامت ہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جنہوں نے دُنیوی زندگی میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بحالتِ اِیمان معراج کی رات دیکھا تھا؟
۹:۔۔۔ حضرت اِمام مہدیؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں یا یہ دو علیحدہ علیحدہ اشخاص ہیں؟
۱۰:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قبلہ تو بیت المقدس تھا، آپ نازل ہونے کے بعد کس طرح حج کریں گے؟ اور مکہ آئیں گے؟
۱۱:۔۔۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے:’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعھما إلَّا اتباعی‘‘ ؟ اگر یہ حدیث ہو تو کیا اس میں صاف مذکور نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب زندہ نہیں ہیں؟
۱۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر یہود ونصاریٰ ہر دو ملتیں ختم ہوجائیں گی، تو کیا حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی کے فقہی اِمتیازات باقی رہیں گے یا نہیں؟ یا سب کا مسلک فقہی بھی ایک ہوجائے گا؟
جواب:۔۔۔ آپ کے سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:
335
حامدًا ومصلیًا ومسلّمًا، امّا بعد
۱:۔۔۔ ’’اُمت‘‘ سے مراد مقتدی ہیں، جو لوگ کسی مقتدا کی اِقتدا پر جمع ہوں، وہ اس کے اُمتی ہوں گے۔ جس طرح ’’نخبہ‘‘ کے معنی ’’منتخب‘‘ کے، اور ’’رحلہ‘‘ کے معنی ’’مرحول الیہ‘‘ کے ہیں، اسی طرح لفظ ’’اُمت‘‘، ’’فعلۃ‘‘ کے وزن پر مفعول کے معنی میں ہے، جس کی اِمامت کی گئی وہ اُمت ہے۔
اِقتدا کرنے والے جب کسی مقتدا پر اِتفاق کرلیں تو جماعت بنتی ہے، اس پہلو سے اُمت اور جماعت الجیل من الناس کو کہا جاتا ہے، حق پر جمع ہونے والے افراد بھی ایک اُمت شمار ہوتے ہیں، کما نص علیہ صاحب القاموس، لیکن یہ معنی مجازی ہوں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، تو جن لوگوں کے لئے آپ کی بعثت ہوئی وہ سب آپ کی اُمت ہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جن لوگوں کے لئے پیشوا قرار پائے وہ سب آپ کی اُمتِ دعوت ہیں، اور مکلف ہیں کہ آپ کی بات مانیں۔ جنہوں نے مان لیا وہ اُمتِ اِجابت بن گئے۔ اُمتِ اِجابت سے مراد وہ لوگ ہیں جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعوت اور آپ کی تعلیمات پر جمع ہوگئے۔ ’’اُمتی‘‘ وہ ہے جس کو علمِ دِین پیغمبر سے ملے، اور ’’پیغمبر‘‘ وہ ہے جسے علمِ دِین خدا سے ملے۔ اگر کوئی اُمتی دعویٰ کرے کہ مجھے علم خدا سے ملتا ہے اور علم دِینی نوعیت کا ہے تو وہ اُمتی ہونے سے نکل جاتا ہے۔ اس کے لئے دو ہی صورتیں ہیں، یا وہ پیغمبر ہو، یا کذّاب، اُمتی وہ کسی صورت میں نہیں رہا۔۔۔!
۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مستقل صاحبِ شریعت اور صاحبِ اُمت نبی تھے، قیامت سے پہلے دُنیا میں ایک دفعہ پھر تشریف لائیں گے۔ آپ کے بعد حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کی اُمت ختم ہوگئی، نئے نبی پر نئی اُمت بنتی ہے، جب نیا نبی آئے تو ایک اور اُمت بن جاتی ہے۔ اب اس دور کے لئے صاحبِ اُمت نبی حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں، مگر چونکہ پہلے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی وفات نہیں آئی اور قیامت سے پہلے آپ کی دوبارہ تشریف آوری بھی مقدر تھی، اس لئے اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی اُمت کو ایک درجے میں باقی رکھا۔ وہ درجہ اہلِ کتاب کا ہے، آپ چونکہ شریعتِ توراۃ کے بھی کسی حد تک پیرو تھے، اس لئے اہلِ توراۃ کو بھی اہلِ کتاب میں رکھا گیا۔ یہود ونصاریٰ دونوں اُمتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر آپ پر اِیمان لے آئیں گی اور مسلمان ہوجائیں گی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کلیتہً ختم ہوجائے گی، سب اہلِ کتاب آپ پر صحیح تفصیل سے اِیمان لاکر اُمتِ محمدی میں شامل ہوجائیں گے اور یہ دور، دورِ محمدی ہوگا۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹) ’’اور اہلِ کتاب سے کوئی باقی نہ رہے گا، مگر یہ کہ حضرت عیسیٰ پر ان کی وفات سے پہلے وہ ضرور اِیمان لے آئے گا، اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ اُمت نبی جب صاحبِ اُمت نہ رہے اور زِندہ بھی ہو تو وہ کس درجے میں شمار ہوگا؟ کیا وہ نبی ہوگا یا اپنے وقت کے نبی کا تابع ہوگا؟ جواب یہ ہے کہ وہ اپنی پوری اُمت کے ساتھ اُمتِ محمدی میں شامل ہوجائے گا، اور اپنے اسی نئے دورِ زندگی میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِقتدا کرے گا، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت ہوکر رہے گا۔ نبی ہونے کے باوجود
336
اس کی نبوّت نافذ نہ ہوگی، یہ نہیں کہ ان حالات میں ان سے نبوّت واپس لے لی جائے۔ شرح مواقف میں ہے:
’’لا یتصوّر عزلہ عن کونہ رسولًا‘‘
(شرح مواقف ص:۷۶۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آپ کے رِسالت سے معزول کئے جانے کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی تشریف آوری کے فوراً ساتھ مسلمانوں کی اِمامت فرماتے تو اس میں دورِ محمدی کے ختم ہونے کا ایہام تھا۔ آپ دُوسری تشریف آوری پر پہلی نماز حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی کی اِقتدا میں پڑھیں گے اور اس سے آپ خود بھی اُمتی ہوجائیں گے۔ آپ کا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی کی اِقتدا کرنا گویا اِعلان ہوگا کہ یہ دور، دورِ محمدی ہے، اور پچھلے ایک نبی کے آنے پر بھی وہ دورِ محمدی ہی رہے گا۔ تاہم آپ رِسالت سے معزول نہ ہوں گے، جب موت پر بھی رِسالت منقطع نہیں ہوتی، تو اگر موت بھی نہ آئی ہو تو رِسالت کے ختم ہونے کا سوال بالکل بے موقع ہوگا۔ اللّٰہ تعالیٰ کریم ہے، کوئی مرتبہ عطا کرکے چھین لینا اس کی شانِ کریمی کے خلاف ہے۔ سو حق یہ ہے کہ ان کی آمدِثانی پر نبوّت آپ سے مسلوب نہ ہوگی، صرف اس کا حکم نافذ نہ ہوگا، کیونکہ دور، دورِ محمدی ہے اور اس میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہی رُوحانی بادشاہی ہے، ایک بادشاہ کسی دُوسرے ملک میں جائے تو وہ بادشاہ تو رہتا ہے، لیکن اس کی بادشاہی وہاں نافذ نہیں ہوتی، اس کا حکم نہیں چلتا، وہاں اسی کی بادشاہی ہی چلے گی جس کا وہ ملک ہے۔
۳:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’نبی‘‘ کے الفاظ:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اس دورِ ثانی میں ’’نبی‘‘ اور ’’وحی‘‘ کے الفاظ حدیث شریف میں ملتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ثم یأتی عیسٰی قوم قد عصمھم ﷲ منہ، فیمسح عن وجوھھم ویحدثھم بدرجاتھم فی الجنَّۃ، فبینما ھو کذالک إذ اوحی ﷲ إلٰی عیسٰی علیہ السلام …… ثم یھبط نبی ﷲ عیسٰی علیہ السلام واصحابہ إلی الأرض فلا یجدون فی الأرض۔‘‘
(مسلم شریف ج:۲ ص:۴۰۱)
اس حدیث میں صریح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے وحیٔ خداوندی آنے اور آپ کے لئے نبی اللّٰہ کے الفاظ ملتے ہیں۔
۴:۔۔۔ معلوم رہے کہ یہ قانونی وحی نہیں کہ آپ اس کی تصدیق کی کسی کو دعوت دیں اور اس پر اِیمان لانا ضروری قرار پائے، بلکہ یہ وحی عملی ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حجت ہوگی اور آپ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ اس قسم کی وحی کے لئے جبریل علیہ السلام کی آمد کا کتبِ حدیث میں کہیں ذِکر نہیں ملتا، سو یہ وحیٔ اِلہامی ہے، وحیٔ رِسالت نہیں۔ آپ شریعت کے طور پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور اسی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو توراۃ واِنجیل کے ساتھ قرآن وحدیث کی تعلیم بھی دے دی تھی، قرآنِ کریم میں ہے:
’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ‘‘
(آل عمران:۴۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اللّٰہ تعالیٰ عیسیٰ ابن مریم کو سیکھائے گا قرآن وحدیث اور توراۃ واِنجیل۔‘‘
337
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ دورِ محمدی پانا نہ ہوتا تو اللّٰہ تعالیٰ آپ کو قرآن وحدیث کی تعلیم نہ دیتے، کتاب وحکمت قرآن کے محاورے میں کتاب وسنت کا نام ہے۔
قدوۃ المتکلمین الشیخ ابومنصور البغدادیؒ (۴۲۹ھ) لکھتے ہیں:
’’کل من اقرَّ بنبوۃ نبیّنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم اقرَّ بأنَّہ خاتم الأنبیاء والرسل، واقرَّ بتأبید شریعتہ ومنع من نسخھا، وقال: ان عیسٰی علیہ السلام إذا نزل من السماء ینزل بنصرۃ شریعۃ الإسلام۔‘‘
(اصول الدین ص:۱۶۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ہر وہ شخص جس نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِقرار کرلیا، اس نے مان لیا کہ حضور خاتم الانبیاء والرسل ہیں، اس نے مان لیا کہ آپ کی شریعت ہمیشہ تک رہے گی، کبھی منسوخ نہ ہوگی، سو اس نے یہ بھی مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کی نصرت کے لئے آئیں گے، اپنی نبوّت کی دعوت نہ دیں گے۔‘‘
حضرت اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒلکھتے ہیں:
اِجتہاد حضرت رُوح اللّٰہ موافق اِجتہاد اِمامِ اعظمؒ خواہد بود نہ آنکہ تقلید ایں مذہب خواہد کرد کہ شانِ او ازاں بلند تر است کہ تقلید علمائے اُمت فرماید۔‘‘
(مکتوبات دفتر دوم، مکتوب ص:۱۵۴، ۱۵۵، طبع ایچ ایم سعید کمپنی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اِجتہاد اِمام ابوحنیفہؒ کے اِجتہاد کے موافق ہوگا، نہ یہ کہ وہ حنفی مذہب کے مقلد ہوں گے، آپ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ آپ اس اُمت کے علماء کی تقلید کریں۔‘‘
اس عبارت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ آپ عام علمائے اُمت کی طرح اس اُمت میں شامل نہیں ہیں، لیکن یہ بات اپنی جگہ طے شدہ ہے کہ آپ روایۃً اور اِجتہاداً شریعتِ محمدی کے تابع ہوں گے۔ ایک دُوسرے مکتوب میں حضرت مجدّد الف ثانی ؒ لکھتے ہیں:
’’عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعت او خواہد کرد وبعنوان امت او خواہد بود۔‘‘
(مکتوبات، دفتر دوم، مکتوب نمبر۶۷، ص:۱۸۴، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
اس میں تصریح ہے کہ آپ ۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آمدِ ثانی پر ایک جلالی شان سے تشریف لائیں گے، سب یہود ونصاریٰ آپ پر اِیمان لے آئیں گے، آپ کی تشریف آوری علاماتِ قیامت میں سے ہوگی۔ سو یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اس آمدِثانی پر آپ پر اِیمان نہ لائے۔ قرآنی آیت:’’لَیُوٴمِنَنَّ بِہٖ قَبلَ مَوتِہٖ‘‘ میں آپ پر صحیح ایمان لے آنے کی خبر دِی گئی ہے، اس وقت کوئی کافر نہ رہے گا، ہر کچے پکے مکان میں کلمۂ اِسلام داخل ہوجائے۔
338
۵:۔۔۔ معصومیت لوازمِ رِسالت میں سے ہے، اور یہ لوازمِ ذات میں سے ہے، جب نبوّت آپ سے مسلوب نہیں، تو ظاہر ہے کہ عصمت بھی آپ سے منتفی نہ ہوگی، آپ سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہوگا جو نبی کی شانِ عصمت کے خلاف ہو۔
۶:۔۔۔ آپ کی دوبارہ تشریف آوری عقیدۂ ختمِ نبوّت کے ہرگز خلاف نہیں۔ سیّدنا مُلَّا علی قاریؒ (۱۰۱۴ھ) لکھتے ہیں:
’’اقول: لا منافاۃ بین ان یکون نبیًّا ویکون متابعًا لنبینا صلی ﷲ علیہ وسلم فی بیان احکام شریعتہ وإتقان طریقتہ ولو بالوحی إلیہ کما یشیر إلیہ قولہ صلی ﷲ علیہ وسلم: لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی۔ ای مع وصف النبوۃ والرسالۃ وإلَّا فمنع سلبھما لا یفید زیادۃ المزیۃ فالمعنی انہ لَا یحدث بعدہ نبی لأنہ خاتم النّبیین السابقین۔‘‘
(مرقات ج:۵ ص:۵۶۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زمین پر زِندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اِتباع کے سوا چارہ نہ تھا۔ یعنی وہ نبوّت اور رِسالت سے موصوف ہونے کے باوجود میری اِطاعت کرتے، کیونکہ نبوّت اور رِسالت کے بغیر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مطیع ہونے سے حضور تاجدارِ ختمِ نبوّت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطاع ہونے میں کسی فضیلت کا اِظہار نہیں ہوتا، حالانکہ یہ مقامِ مدح۔ پس واضح ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِثانی پر ان کا نبی ہونا آیت ’’خاتم النّبیین‘‘ اور حدیث ’’لا نبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے خلاف نہیں۔ ان دونوں کا صحیح مطلب جو اُمت نے سمجھا ہے یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔‘‘
۷:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس آمدِثانی پر نبی بھی ہوں گے اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی۔ اُمتی نہ بھی کہیں تو حرج نہیں، معین تسلیم کرنا اور آپ کو تابع شریعتِ محمدی ماننا ضروری ہوگا۔ جو یہ کہے کہ آپ شریعتِ محمدی کا اِتباع تو کریں گے لیکن اُمتی نہ ہوں گے، وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ آپ کی ذاتِ گرامی میں چونکہ یہ دونوں وصف شامل ہوں گے، یعنی نبی بھی اور اُمتی بھی، تو مناسب تھا کہ اس اُمت میں افضل الامۃ علی الاطلاق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہی سمجھے جائیں، اس واسطے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف اُمتی نہیں، ساتھ نبی بھی ہوں گے، گو ان کی نبوّت نافذ نہ ہو، اور جو اَفراد صرف اُمت ہیں، ان سب کے سردار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہی ہیں۔
۸:۔۔۔ آپ کے لئے اُمتی ہونا، یا معین الامۃ ہونا، علمائے اسلام کے ہاں مختلف فیہ تعبیریں ہیں۔ کسی نے آپ کے اُمتی ہونے کا اِنکار کیا اور معین الامۃ وغیرہ کی تعبیر اِختیار فرمائی۔ سو اس اِختلاف کے پیشِ نظر مناسب تھا کہ آپ کو علی الاطلاق افضل الامۃ کہا جائے، سو اس خطاب کے لائق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ہی رہے۔
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ساری اُمت کا حشر آپ کے ساتھ ہوگا، دیگر سب اُمتیں اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گی،
339
قرآنِ کریم میں ہے:
’’فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِن کُلِّ أمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَـؤُلاء شَہِیْداً‘‘
(النساء:۴۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہی دینے والا لائیں گے، اور آپ کو ان لوگوں پر اَحوال بتانے والا کرکے لائیں گے۔‘‘
اس آیت کی روشنی میں پتا چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حشر اپنی اُمتِ سابقہ کے ساتھ ہی ہوگا، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت میں نہ ہوگا۔ اِلَّا یہ کہ بعض علماء کی بات مان لی جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے دو حشر ہوں گے۔ یہ قول بے شک موجود ہے، جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی آمدِثانی پر اِیمان لائیں گے، گو اس کے معاً بعد وہ لوگ اُمتِ محمدی میں داخل ہوجائیں گے اور آپ کی اُمت ختم ہوگی، لیکن ان کے اِیمان لانے کی گواہی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دیں گے۔
جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے:
’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً‘‘ (النساء:۱۵۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور کوئی نہ رہے گا اہلِ کتاب سے مگر یہ کہ ضرور اِیمان لائے گا عیسیٰ پر اس کی موت سے پہلے، اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علیحدہ حشر پر جو آپ کا اپنی اُمت کے ساتھ ہوگا، ایک اور شہادت ملتی ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک اور حدیث میں اِرشاد فرماتے ہیں:
’’فأقول کما قال العبد الصالح: وَكُنتُ عَلَیہِم شَہِیدًا مَّا دُمتُ فِیہِم۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۶۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’سو میں کہوں گا وہی بات جو عبدِ صالح ۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ پہلے کہہ چکے ہوں گے کہ میں ان پر ۔۔۔عیسائیوں پر۔۔۔ اسی مدّت تک گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا۔‘‘
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت پر گواہی دیں گے، گو وہ اس دور تک کی ہی ہو جب تک وہ ان میں رہے تھے، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنی اُمت پر گواہی دیں گے۔ حضرت عیسیٰ کے لئے قال کا صیغہ ماضی اقوال کی نسبت سے ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب یہ کہیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی بات کہہ چکے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی آمدِثانی کے بعد کے کسی حال پر اس لئے گواہی نہ دیں گے کہ یہ دورِ محمدی ہے، اس پر کوئی اور نبی گواہی کیسے دے سکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہوں گے۔
ملحوظ رہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں تشبیہ صرف اس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اس وقت تک کے گواہ ہوں گے جب تک وہ ان میں رہے، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی اسی وقت تک کے حالات براہِ
340
راست دیکھے ہوں گے، جب تک آپ ان میں رہے۔ باقی رہی اگلی بات کہ بعد کے حالات دونوں پیغمبروں کے اپنے اپنے تھے اور دونوں کی توفی اپنے اپنے طور پر ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی پہلے زِندہ اُٹھاکر ہوئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس کے بغیر، سو اس میں یہاں تشبیہ نہیں ہے، مشبہ اور مشبہ بہ میں کسی پہلو سے تشبیہ ہوجائے تو اِرادۂ تشبیہ پورا ہوجاتا ہے، ہر پہلو سے مشابہت ضروری نہیں۔ کما لا یخفی علٰی من لہ ادنٰی معرفۃ فی العلم۔
۹:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت اِمام مہدیؓ دو علیحدہ علیحدہ شخصیتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے، اور حضرت مہدیؓ اس اُمت میں پیدا ہوں گے۔ مگر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ اِمام مہدیؓ کی ولادت نہیں ہوگی، ظہور ہوگا، ولادت ان کی ہزار سال پہلے سے ہوچکی ہوئی ہے، اور اس وقت وہ کہیں چھپے ہوئے ہیں، آپؓ قیامت سے پہلے ظہور کریں گے۔ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے میں اِمام مہدیؓ عام اِنسانوں کی طرح پیدا ہوں گے، کسی غار سے نہ نکلیں گے۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’کیف انتم إذا انزل فیکم ابن مریم فإمامکم منکم۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں اُتریں گے، اور تمہاری اِمامت وہ کرائے گا جو تم میں سے ہوگا۔‘‘
پھر دونوں کا اِمامت کے لئے ہم کلام ہونا بھی حدیث میں مذکور ہے، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ یہ اس اُمت کا اِعزاز واِکرام ہے کہ اِمامت اسی کی رہے تو اس سے صریح طور پر دونوں کا علیحدہ علیحدہ شخصیت ہونا مفہوم ہوتا ہے۔
۱۰:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے اِسرائیلی نبی تھے، اِسرائیلی شریعت میں بیت اللّٰہ شریف کا حج نہیں۔ کعبہ مشرفہ اِسماعیلی تعمیر ہے اور اسی کی تولیت اور تعمیر اس سلسلے میں رہی ہے، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اِسماعیلی ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت میں حج اسی گھر کا قصد کرنا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس آمدِثانی پر اس گھر کا حج اور عمرہ کریں گے، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ فج روحاء کے مقام سے اِحرام باندھیں گے اور تلبیہ پکاریں گے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’والذی نفسی بیدہ! لیھلَّنَّ ابن مریم بفج الروحاء حاجًّا او معتمرًا او لیثنینَّھما۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۴۰۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابنِ مریم ضرور لبیک پکاریں گے فج روحاء کے مقام سے حج کا تلبیہ یا عمرے کا یا وہ دونوں کو جمع کریں گے۔‘‘
اس سے واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد شریعتِ محمدی کی اِتباع کریں گے، نماز میں بیت اللّٰہ شریف کا رُخ کریں گے اور اسی کے گرد طواف فرمائیں گے، اور آپ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تابعداری کرنے والے
341
ایک فرد ہوں گے۔ اس حیثیت میں آپ انہیں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اُمتی بھی کہہ سکتے ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کا متبع اور معین بھی۔ یہ مختلف تعبیرات ہیں۔ حقیقت اپنی جگہ ایک ہے کہ یہ دور، دورِ محمدی ہے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور میں اس زمین پر حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوئے تو ان کو آپ کی اِتباع سے چارہ نہ تھا، حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں:
’’والذی نفس محمد بیدہ! لو اصبح فیکم موسٰی ثم اتبعتموہ وترکتمونی لضللتم، انتم حظِّی من الاُمم، وانا حظَّکم من النّبیین‘‘
(المصنَّف عبدالرزاق ج:۶ ص:۱۱۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم میں موسیٰ آجائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو، تم گمراہ ہوگے۔ اُمتوں میں تم میرا حصہ ہو، اور نبیوں میں، میں تمہارا حصہ ہوں۔‘‘
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے ہیں:
’’والذی نفسی بیدہ! لو اتاکم یوسف وانا فیکم فاتبعتموہ وترکتمونی لضللتم۔‘‘
(ایضًا ص:۱۱۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام بھی آجائیں اور میں تم میں موجود ہوں اور تم اس کی اِتباع کرنے لگو اور مجھے چھوڑ دو، پھر بھی تم گمراہ شمار ہوگے (گو ایک پیغمبر کی اِتباع کر رہے ہوگے)۔‘‘
۱۱:۔۔۔ یہ روایت کہ: ’’اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام زندہ ہوتے تو انہیں میری اِتباع کے سوا چارہ نہ تھا‘‘ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں، اور نہ اس کی کوئی سند صحیح یا ضعیف کہیں ملتی ہے، اگر یہ روایت ثابت بھی ہوتی تو معنی یہی تھا کہ یہ دونوں پیغمبر اگر اس زمین پر زِندہ ہوتے تو انہیں میری شریعت کی اِتباع ہی کرنی پڑتی۔ ظاہر ہے کہ زمین پر دونوں حضرات میں سے کوئی زِندہ نہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام تو ویسے ہی وفات پاچکے ہیں، رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام! تو وہ آسمان پر زِندہ ہیں، نہ کہ زمین پر، اور جب زمین پر اُتریں گے تو وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِتباع ہی کریں گے، اور واقعی اُنہیں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی سے چارہ نہ ہوگا۔ حدیث کے جو اَصل الفاظ ملتے ہیں، صرف اتنے ہیں:
’’لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلَّا اتباعی‘‘
(رواہ احمد والبیھقی، مشکوٰۃ ص:۳۰)
اور حضرت مُلَّا علی قاریؒ نے شرح شفا میں بھی اس پر بحث کی ہے، اور پھر شرح فقہ اکبر میں بھی اس کا ذِکر کیا ہے۔ شرح فقہ اکبر کے مصری نسخے اور ہندی نسخے میں اِختلاف ہے، ایک نسخے میں:’’لو کان موسٰی وعیسٰی‘‘ کے الفاظ ہیں، اور ایک نسخے میں صرف:’’لو کان موسٰی حیًّا‘‘ کے الفاظ ہیں۔ ایسے موقع پر حدیث کی اصل کتابوں کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے۔ محدث عبدالرزّاق (۲۱۱ھ)، اِمام احمدؒ (۲۴۱ھ)، اِمام بیہقی (۴۵۸ھ) صرف موسیٰ کا ذِکر کرتے ہیں، مشکوٰۃ شریف میں بھی یہی ہے۔ اب مُلَّا علی قاریؒ (۱۰۱۴ھ) کی نقل میں اگر کہیں موسیٰ اور عیسیٰ کے الفاظ ملیں تو ظاہر ہے کہ اصل کتابوں کی روشنی میں اس کی اِصلاح کی جائے
342
گی۔ پھر جب شرح فقہ اکبر کا دُوسرا نسخہ بھی اس سے اِختلاف کرے، تو وہی نسخہ صحیح سمجھا جائے گا جو پہلوں کے مطابق ہو۔ پھر مُلَّا علی قاریؒ خود اس میں اپنی کتاب شرح شفاء کا بھی حوالہ دیتے ہیں، اس کی طرف مراجعت کریں تو اس میں بھی صرف: ’’لو کان موسٰی‘‘ کے الفاظ ملتے ہیں، ’’موسیٰ وعیسیٰ‘‘ کے الفاظ نہیں۔
سو شرحِ شفا کی طرف مراجعت کرنے سے شرح فقہ اکبر طبع ہند کا نسخہ صحیح قرار پاتا ہے، پس حدیث میں صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذِکر ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہیں، اور اگر ہو بھی تو ہم اس کی مراد پہلے واضح کرآئے ہیں۔
۱۲:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر مسلمانوں کا فقہی مسلک ایک ہوگا یا وہ اسی طرح مختلف مسالک پر عمل کرتے رہیں گے، جس طرح کہ آج مختلف چار طریقِ عمل رائج ہیں؟
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِتباعِ کامل کا نمونہ صحابہ کرامؓ ہیں، جب صحابہؓ کے دور میں بھی جو اس اُمت کے بہترین افراد تھے، مختلف فقہی مسلک قائم رہے تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِثانی پر بھی یہ مختلف پیرایۂ عمل قائم رہیں گے۔ اس لئے کہ ان میں صرف افضل ومفضول کا فرق ہے ۔۔۔حق وباطل کا فاصلہ نہیں۔۔۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنی سنن میں بہت وسعت تھی، اگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر اَدا اُمت کے مختلف طبقوں میں معمول بہ رہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہر سنت زندہ وقائم ہو تو اس سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ صحابہ کرامؓ بے شک معیارِ حق ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِثانی پر اگر مختلف فقہی مسلک ایک ہوجائیں تو اُمت کا یہ نقشۂ عمل پھر صحابہؓ کی ترتیب پر نہ ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طریق پر معمول بہ ٹھہرے گا، اور یہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ آپ تابع شریعتِ محمدی ہوں گے، اور ظاہر ہے کہ شریعتِ محمدی کے اصل عَلم بردار صحابہ کرامؓ ہیں، اس لئے انہی کا نقشۂ عمل تاقیامِ عالم باقی رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پہلی نماز میں حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کرنا، اس طرف مشیر ہے کہ شریعتِ محمدی کی تفصیلات میں آپ صحابہ کرامؓ کے نقشۂ عمل کی ہی تائید کریں گے اور فقہی مسالک میں وہی اندازِ عمل قائم رہے گا جو صحابہ کرامؓ کے دور میں تھا۔ یہ اور بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا فقہی مسلک کسی اِمام کے اِجتہاد سے توارد رکھتا ہو اور اس کے مطابق ہو، اور یہ صحیح ہے کہ وہ حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کے موافق ہوگا۔
واللّٰہ اعلم وعلمہ‘ اتم واحکم!
خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۴۶۲ تا ۴۷۱)
بحث ’’توفی‘‘ عیسیٰ علیہ السلام
سوال۱:۔۔۔ کیا قرآنِ کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چوتھے آسمان پر مجسم اُٹھایا جانا ثابت ہے اور پھر زمین پر اُترنا؟ اگر یہ صحیح ہے تو پھر وہ آیت نقل فرمادیں۔
۲:۔۔۔ ہمارے یہاں مسلمانوں میں یہ جھگڑا چل رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات شدہ ہیں یا حیات؟ از رُوئے قرآن دُرست کیا ہے؟
343
۳:۔۔۔ زید کہتا ہے کہ توفی بابِ تفعل سے ہے، اور اللّٰہ تعالیٰ فاعل ہے، اور حضرت عیسیٰ ذِی رُوح ہیں اور مفعول ہیں، ایسی صورت میں توفی کے معنی سوائے قبضِ رُوح کے اور کچھ نہیں ہوتے، اس کے خلاف قرآن سے کوئی مثال دیجئے۔
۴:۔۔۔ زید کہتا ہے کہ قرآن مجید، احادیث، تفاسیر اور محاورۂ عرب کی رُو سے لفظ رفع جب بھی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف یا کسی انسان کی نسبت بولا جائے گا، تو اس کے معنی ہمیشہ بلندیٔ درجات اور قربِ رُوحانی کے ہوتے ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ کلامِ عرب سے کوئی ایسی مثال دیں کہ لفظ ’’رفع‘‘ کا فاعل اللّٰہ تعالیٰ مذکور ہو اور کوئی ذِی رُوح اس کا مفعول ہو، اور رَفع کے معنی جسم سمیت آسمان پر اُٹھالینے کے ہیں۔
جواب:۔۔۔حامدًا ومصلیًا!
جواب سے پہلے اوّلاً بطور تمہید ایک بات ذہن نشین کرلیں، اس کے بعد جواب سمجھنے میں سہولت ہوگی۔
اِصالۃً ہدایت کا سرچشمہ قرآنِ پاک ہے: ’’ہُدًی لِّلنَّاسِ‘‘ (البقرۃ:۱۸۵) لیکن اس میں عموماً بنیادی اُصول دِینی اُمور کو بطور ضابطہ کلیہ مختصراً بیان کیا گیا ہے، تفصیلات وتشریحات کا بیان کرنا حضرت نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سپرد ہے:’’لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ‘‘ (النحل:۴۴)۔
مثال۱:۔۔۔ قرآنِ پاک میں ہے: ’’اَقِیمُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ (نماز قائم کرو) اس کی پوری تفصیل کہ کس نماز میں کتنی رکعات ہیں؟ یا کس رکعت کے بعد قعدہ ہے؟ یا کس رکعت میں صرف الحمد پڑھی جاتی ہے؟ کس میں آہستہ سے قراء ت کی جاتی ہے اور کس میں آواز سے؟ اور کس میں سورۃ ملائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ، حتیٰ کہ کس نماز کے وقت کی اِبتدا کب سے ہے؟ انتہا کہاں پر ہے؟ اس سب کا براہِ راست قرآنِ کریم سے بغیر حدیث کی مدد کے سمجھنا دُشوار ہے، اس کو حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔
مثال۲:۔۔۔ ’’وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ‘‘ (اور زکوٰۃ ادا کرو) اس کی تفصیل کہ چاندی کی کتنی مقدار میں زکوٰۃ لازم ہے، سونے کی کتنی مقدار میں؟ بکری، گائے، اُونٹ وغیرہ کی کس حساب سے؟ زمین کی پیداوار میں کس حساب سے؟ یہ سب احادیث سے معلوم ہوئی، قرآنِ کریم میں اس کا ذِکر نہیں۔
مثال۳:۔۔۔ ’’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ‘‘ (آل عمران:۹۷) (اور لوگوں کے ذمہ اللّٰہ کے گھر کا حج کرنا لازم ہے) اس کی تفصیل کہ طواف کا کیا طریقہ ہے؟ کتنے چکر ہیں؟ عرفات، مزدلفہ، منیٰ، رَمیٔ جمار وغیرہ کے مسائل کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔
قرآنِ پاک کو سمجھنے کے لئے حدیث شریف کی روشنی حاصل کرنا ضروری ہے، حدیث سے بے نیاز ہوکر قرآن شریف کو صحیح طور پر سمجھنا ناممکن ہے، اُمت کو حکم ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ تفصیلات کے تحت قرآن شریف سے ہدایت حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی ہی اِطاعت ہے:’’مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللہَ‘‘ (النساء:۸۰) (جس نے رسول کی اِطاعت کی اس نے اللّٰہ ہی کی اطاعت کی) اس لئے کہ یہ تفصیل وتشریح بھی وحی ہی کے
344
ذریعے ہے: ’’وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی. إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی ‘‘ (النجم:۳، ۴)۔
قرآن پاک عربی میں نازل ہوا، صحابہ کرامؓ عربی زبان اور محاورات کو خوب سمجھتے تھے، ان کی مادری زبان تھی، مگر یہ نہیں فرمایا گیا کہ جس طرح تمہاری سمجھ میں قرآن سے آئے، اس طرح نماز پڑھا کرو، بلکہ اِرشاد ہے: ’’صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ‘‘ (بخاری شریف ص:۱۰۷۲) یعنی جس طرح تم مجھ (حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو) نماز پڑھتا دیکھو، اسی طرح نماز پڑھو۔
الحاصل! یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہر چیز کی پوری تفصیل وتشریح قرآن پاک میں ہے، حدیث کی ضرورت نہیں۔ اور یہ مطالبہ قابلِ تسلیم نہیں کہ ہر چیز کو صرف قرآن سے ثابت کیا جائے اور حدیث کی طرف اِلتفات نہ کیا جائے۔ اور یہ بات کہ جو چیز پوری تفصیل کے ساتھ قرآن پاک میں مذکور نہ ہو اور اَحادیث سے ثابت ہو، وہ قابلِ تسلیم نہیں، صحیح نہیں، بالکل غلط ہے، ورنہ صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج اور اس طرح بے شمار دِینی اُمور کا بھی اِنکار کرنا پڑے گا۔ اس بنیادی تمہید کے بعد آپ کے سوالات کا جواب عرض ہے۔
۱:۔۔۔ قرآنِ کریم میں رفع مسیح علیہ السلام کا مختصراً تذکرہ ہے، جیسے کہ ’’وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ‘‘ میں زکوٰۃ کا تذکرہ ہے، باقی تفصیلات احادیث کے سپرد ہیں۔ اسی طرح زمین پر اُترنا بڑی تفصیل کے ساتھ احادیث میں مذکور ہے، اور یہ احادیث درجۂ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ حجرؒ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں اس کی تصریح فرمائی ہے، نیز حافظ ابنِ کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں تصریح کی ہے۔ نیز حافظ ابنِ حجرؒ نے ’’تلخیص الحبیر‘‘ (ج:۳ ص:۴۶۲) میں لکھا ہے:’’اما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الأخبار والتفسیر علٰی انہ رفع ببدنہ‘‘ حافظ ابنِ کثیرؒ نے دس صفحات میں وہ احادیث جمع کی ہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ مع جسمِ عنصری کے آسمان پر موجود ہونا، قربِ قیامت میں ان کا اُترنا مذکور ہے، دونوں چیزیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسمِ عنصری کے زندہ اُٹھایا جانا، اور قربِ قیامت میں زمین پر اُترنا، اِجماعی، اِتفاقی، قطعی ہیں، ان میں اختلاف نہیں، گزشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اس اِجماعی عقیدے کی مخالفت کی ہے، اور تیرہ سو سال کے اِجماعی عقیدے کو غلط کہا ہے، جس کی تردید میں مستقل کتابیں تصنیف کرکے دلائل جمع کردئیے گئے۔
۲:۔۔۔ ان کا اُٹھایا جانا قرآن پاک میں ہے، تشریح احادیث میں ہے، جیسا کہ جواب نمبر۱ میں گزرا، اس کے خلاف کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔
۳:۔۔۔ زید کا لفظ ’’توفی‘‘ کے متعلق یہ دعویٰ کہاں سے مأخوذ ہے؟ اس کے بالمقابل یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ: ’’قرآن پاک میں جہاں لفظ ’’توفی‘‘ باب تفعل سے آئے اور اللّٰہ تعالیٰ فاعل ہے اور معین شخص (عیسیٰ) مفعول ہیں، تو اس کے معنی جسمِ عنصری کے ساتھ زِندہ آسمان پر اُٹھالینے کے ہوں گے، اس کے خلاف کوئی ثابت ہی نہیں کرسکتا‘‘ تو کیا زید کے پاس اس کے خلاف کا ثبوت ہے؟
علاوہ ازیں جبکہ زندہ جسمِ عنصری کے ساتھ خاص طریقے سے آسمان پر اُٹھالینے کا واقعہ بطور معجزہ وخرقِ عادت صرف ایک دفعہ ایک شخص کے ساتھ پیش آیا ہے تو پھر اس کی نظیریں تلاش کرنا یا نظیروں کا مطالبہ کرنا بے محل ہے۔
345
(حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جو معراجِ جسمانی ہوئی ہے، اس کی شان جداگانہ ہے)
قرآن پاک میں ہے:’’اللہُ یَتَوَفَّی الْأَنفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا‘‘ (الزمر:۴۲) آیتِ پاک میں اللّٰہ تعالیٰ فاعل ہے اور ذِی رُوح مفعول ہے۔
کیا یہاں بھی ’’یتوفی‘‘ موت کے معنی میں ہے؟ اور نوم کی حالت میں رُوح قبض ہوجاتی ہے؟ اور کیا سونے والے پر میّت کے اَحکام، نمازِ جنازہ، تدفین، عدّتِ زوجہ، تقسیمِ میراث وغیرہ سب جاری ہوں گے؟ یہاں تک لفظ ’’توفی‘‘ کے متعلق زید کے مخصوص نظریے کا جواب تھا۔ اب اصل وضع محاورات عرب استعمال کی روشنی میں اس کی حقیقت عرض ہے۔
’’و، ف، ی‘‘ وفی، یفی، وفا، ثلاثی مجرد، اوفی، یوفی، ایفاء، باب افعال سے توفی، یتوفی، توفیًا تفعل سے ، استوفی، یستوفی، استیفاء، استفعال سے،وفی یوفی توفیۃً ً تفعیل سے، سب طرح یہ لفظ مستعمل ہے، اس کے معنی ہیں پورا کرنا، پورا لینا، پورا وصول کرنا، پورا دینا، اسی سے ہےفائٌ وفائٌ (عہد) وفائٌ وعدہ عرب بولتے ہیں، جیسے ’’کیل وانٍ‘‘ (پورا پیمانہ) اوفیت الکیل والوزن ۔ میں نے ناپ تول پورا کردیا، یعنی کچھ کمی نہیں کی۔ قرآن پاک میں ہے: ’’وَأَوْفُوا الْکَیْلَ إِذا کِلْتُمْ‘‘ (الاسراء:۳۵) یعنی جب تم کسی کے لئے تول کرو تو پورا پورا کیل کرکے دو۔ ’’وَأَوْفُواْ بِعَہْدِیْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ‘‘ (البقرۃ:۴۰) تم میرا عہد پورا کرو، میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ ’’یُوفُونَ بِالنَّذْرِ‘‘ (الدہر:۷) نذر پوری کرتے ہیں۔ ’’وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ‘‘ (آل عمران:۲۵) ہر ایک نے جو کچھ (دُنیا میں) کیا یا عمل کیا اس کو پورا دے دیا جائے گا۔ ’’وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَکُمْ‘‘ (آل عمران:۱۸۵) تم کو بلاشبہ تمہارا اَجر پورا کردیا جائے گا۔ ’’وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ یُوَفَّ إِلَیْکُمْ‘‘ (الانفال:۶۰) جو کچھ تم خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہو تم کو (اس کا پورا اَجر دے دیا جائے گا)۔ ’’فَوَفَّاہُ حِسَابَہُ‘‘ (النور:۳۹) اس کا حساب پورا پورا کیا۔ ’’إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ (آل عمران:۵۵) میں تجھ کو پورا پورا لے لوں گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دُشمن قتل کے درپے تھے اور منصوبہ بنارہے تھے تو اللّٰہ پاک نے فرمایا کہ میں تجھ کو پورا پورا لے لوں گا، ان دُشمنوں کو تجھ پر قتل کے لئے تجھ پر قابو نہیں دُوں گا۔ یہ چیز بطور تسلی کے فرمائی گئی ہے اور تسلی کی صورت یہی ہے کہ دُشمن قتل کرنے یا سولی دینے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اُٹھالیا اور دُشمن اِشتباہ میں رہے، اس کو فرمایا ہے:’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۷، ۱۵۸) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دُشمنوں نے بالیقین قتل نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا۔ اگر ’’توفی‘‘ سے مراد یہاں موت لی جائے تو اس میں تسلی کی کونسی بات ہے؟ اس وقت تو مطلب یہ ہوجائے گا کہ یہ لوگ آپ کو قتل نہیں کریں گے، بلکہ میں آپ کو موت دُوں گا۔ موت سے تسلی کیا ہوسکتی ہے؟ علاوہ ازیں اگر وہ دُشمنی میں قتل کردیتے تو یہ چیز باعثِ ترقیٔ درجات ہوتی، شہید کا درجہ بہت بلند ہے، حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شہادت کی تمنا کا ذِکر خاص انداز میں فرمایا ہے۔ درجہ بلند سے بچاکر عام موت کا وعدہ خاص اہمیت نہیں رکھتا، پھر یہ کہ لفظ موت یا اِماتت سے کیوں تعبیر نہیں کیا، ’’توفی‘‘ میں کیا نکتہ ہے؟ ’’توفی‘‘ کے اصل معنی موت کے نہیں، ہاں! کبھی موت کا مفہوم اس میں پیدا ہوجاتا ہے، وہ اس طرح بولتے ہیں: ’’فلان
346
توفی عمرہ‘‘ فلاں شخص نے اپنی عمر پوری کرلی۔ جب عمر پوری کرلی تو موت آہی جائے گی، آیت ’’إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا مفہوم یہ بھی ہے کہ تیری عمر پوری کروں گا، اور ان کی اسکیم فیل ہوجائے گی۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جتنی عمر یہاں ہوتی اس کے بعد اُٹھالیا گیا، پھر زمین پر نزول ہوگا، اس وقت بقیہ عمر پوری ہوگی، جیسا کہ احادیث میں تفصیل مذکور ہے۔ یہاں تک کہ جب اس وقت اِنتقال ہوگا، تو قبر کی جگہ بھی بتادی گئی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے قریب ایک قبر کی جگہ باقی ہے، وہاں دفن ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجموعی حالات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ نزول کے بعد شادی کریں گے۔
اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوچکی ہے، وہ آسمان پر زِندہ موجود نہیں اور قریبِ قیامت زمین پر نہیں اُتریں گے، تو وہ اِجماعی عقیدے کا منکر ہے، قرآن پاک کی آیات کا منکر ہے اور اَحادیثِ متواترہ کا منکر ہے۔ فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱ ص:۹۵ تا ۱۰۰)
وفاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر چند اِشکالات اور ان کا جواب
سوال۴:۔۔۔ ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین لما وسعھما إلَّا اتباعی‘‘ ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان ج:۱ ص:۳۷۸، الیواقیت الجواہر ج:۲ ص:۲۱، شرح فقہ اکبر ص:۱۰ میں بھی یہی مضمون ہے۔
۵:۔۔۔ ’’ان عیسَی ابن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘ (الحدیث کنز العمال ج:۶ ص:۱۲۰، جلالین ص:۵۲)۔
زیر آیت ’’فَیُوَفِّیْہِمْ أُجُورَہُمْ‘‘ (آل عمران:۵۷) حاشیہ پر حدیث نقل کی ہے۔ اس حدیث سے وفات ثابت ہوتی ہے۔
۶:۔۔۔ خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہمارے حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کیوں ہوئی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر کیوں نہ اُٹھائے گئے؟
۷:۔۔۔ ’’مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (المائدۃ:۷۵) اس آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اِستدلال کرنا کیسا ہے؟
۸:۔۔۔ ’’أَمْواتٌ غَیْرُ أَحْیَاءٍ‘‘ (النحل:۲۱) سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہوتی ہے؟
۹:۔۔۔ شیخ محی الدین ابنِ عربی فرماتے ہیں کہ: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوّت ختم ہوچکی، لیکن غیرتشریعی نبوّت ختم نہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب۱:۔۔۔ حدیث: ’’لو کان موسٰی عیسٰی حیّین‘‘ دو تین کتابوں میں مذکور ہے، مگر سب میں بلاسند لکھی ہے، اور جب تک سند معلوم نہ ہو، کیسے یقین کرلیا جائے کہ یہ حدیث صحیح قابلِ عمل ہے؟ اگر اسی طرح بلاسند روایات پر عمل کریں تو سارا دِین برباد ہوجائے۔ اسی لئے بعض اکابر محدثین نے (غالباً حضرت عبداللّٰہ بن مبارکؒ نے) فرمایا: ’’لو لا الإسناد لقال من شاء ما شاء‘‘ دُوسرے: اگر بالفرض سند موجود بھی ہو اور مان لو کہ صحیح بھی، تو غایت یہ ہے کہ یہ حدیث دُوسری اَحادیث سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر صریح ہیں اور درجۂ تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ ان کی معارض ہوگی، اور تعارض کے وقت شرعی اور عقلی قاعدہ یہی ہے
347
کہ اقویٰ کو ترجیح ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ ایک غیرمعروف حدیث ان تمام صحیح اور قوی متواتر روایات حدیث پر راجح نہیں ہوسکتی۔ یہ قادیانی ہی مذہب کی خصوصیت ہے کہ مطلب کے موافق نہ ہو تو صحیح بخاری ومسلم کی حدیث کو ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ ردّی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لئے تیار ہوجائیں، اور مطلب کے بزعم خود موافق ہو تو ضعیف روایت کو ایسا اہم بنائیں کہ صحیح اور متواتر روایات پر ترجیح دے دیں، کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا۔
حدیث:’’عاش مائۃ وعشرین سنۃ‘‘ سے وفاتِ مسیح کا شبہ اور اس کا جواب
۲:۔۔۔ اس حدیث سے وفات کا ثابت کرنا قادیانی فراست ہی کی خصوصیات سے ہے۔ اوّلاً: اس لئے کہ حدیث خود متکلم فیہ ہے، بعض محدثین نے اس کو قابلِ اِعتماد نہیں مانا۔ ثانیاً: اگر حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صحاحِ ستہ میں جو قوی اور صریح وصحیح روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور نزول فی آخرالزمان کے متعلق وارِد ہیں۔ یہ حدیث ان کا معارضہ عقلاً واُصولاً نہیں کرسکتی۔ ثالثاً: حدیث کی مراد صاف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک سوبیس سال زندہ رہے۔ آسمان پر زِندہ رہنا چونکہ بطور معجزہ ہے، اس لئے اس حیات کو حیاتِ دُنیوی میں شمار نہ کرنا چاہئے تھا اور نہ کیا گیا۔ اور اس حدیث میں زمین اور اس عالم عناصر کی حیات کا ذِکر ہے بطورِ اِعجاز، جو حیات کسی کے لئے ثابت ہو، اس کا اس میں شمار کرنا اور داخل سمجھنا عقل ونقل کے خلاف ہے۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آسمان پر کیوں نہ اُٹھایا گیا؟
۳:۔۔۔ حق تعالیٰ کے معاملات ہر شخص کے ساتھ جدا جداگانہ ہیں، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے یہ سوال کرے کہ جو معاملہ نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا، وہی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیوں نہ کیا اور جو اِبراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا، وہی ہمارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ کیوں نہ کیا اور صرف ان معاملات وواقعات سے ایک نبی کو دُوسرے نبی پر نہ کوئی ترجیح وتفصیل دی جاسکتی ہے، جب تک دُوسری صحیح وصریح روایات تفصیل پر دلالت نہ کریں۔ انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ بعض انبیاء کو آروں کے ذریعے دو ٹکڑے کردیا گیا، اور بعض کو آگ میں ڈالا گیا، اور بعض کو خندق وغیرہ میں، پھر کسی پر آفات ومصائب اوّل جاری کردئیے، پھر آخرالامر بچالیا، اور کسی کو اوّل ہی سے محفوظ رکھا۔ اب یہ سوال کرنا کہ: ’’جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھاکر زِندہ رکھا گیا ہے، ایسا ہی حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملہ کیوں نہ کیا گیا؟‘‘ یہ تو ایسا ہی سوال ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ: ’’جو معاملہ موسیٰ علیہ السلام اور لشکرِ فرعون کے ساتھ بہ نصِ قرآن کیا گیا، وہی معاملہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور کفارِ مکہ کے ساتھ کیوں نہ ہوا کہ جنگِ اُحد میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہونے اور چہرۂ انور زخمی ہونے کی نوبت آئی، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ہجرت کرکے وطن اور مکہ چھوڑنا پڑا، غار میں چھپنا پڑا، سب کفارِ قریش پر ایک دفعہ ہی آسمانی بجلی کیوں نہ آگئی یا دریا میں غرق کیوں نہ ہوگئے؟‘‘ جیسے یہ سوال حضرتِ حق تعالیٰ کے معاملات میں بے جا ہیں، ایسے ہی یہ بھی بالکل بے جا اور نامعقول سوال ہے کہ: ’’جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ رکھا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی زِندہ آسمان پر رکھنا چاہئے تھا‘‘ کیونکہ زیادہ دِنوں تک زندہ رہنا یا آسمان پر رہنا، ان سے کوئی فضیلت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ زیادتیٔ عمر
348
فضیلت ہوتی تو بہت سے صحابہ کرامؓ اور عوامِ اُمت کی عمریں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے دُگنی چوگنی ہوئی ہیں، ان کو بھی افضل کہہ سکیں گے؟ اور اسی طرح اگر آسمان میں رہنا یا چڑھنا ہی مدارِ فضیلت ہو تو فرشتوں کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے افضل ماننا لازم آئے گا، جو نصوصِ شرعیہ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہے۔
’’قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ اور ’’أَمْواتٌ غَیْرُ أَحْیَاءٍ‘‘ سے وفاتِ مسیح پر اِستدلال صحیح نہیں
۴:۔۔۔ ’’قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (آل عمران:۱۴۴) سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر اِستدلال کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جنہیں عربی عبارت سمجھنے سے کوئی علاقہ نہیں، اور جو محاوراتِ زبان سے بالکل واقف نہیں، کیونکہ اوّل تو اس جیسے عمومات سے کسی خاص واقعۂ مشہورہ پر کوئی اثر محاورات کے اِعتبار سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بیمار طبیب سے پوچھے کہ پرہیز کس چیز کا ہے؟ وہ کہہ دے کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، مضر نہیں۔ اب اگر یہ بیوقوف جاکر پتھر، یا لوہا کھائے، یا سنکھیا کھائے، اور اِستدلال میں قادیانی مجتہدین کا سا اِستدلال پیش کرے کہ: ’’حکیم صاحب نے کہا تھا کہ: ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، کوئی مضر نہیں۔ اور ساری چیزوں میں پتھر اور لوہا اور سنکھیا (زہر) بھی داخل ہے، لہٰذا میں جو کچھ کھاتا ہوں حکیم صاحب کے فرمانے سے کھاتا ہوں۔‘‘ اِنصاف کیجئے! کہ کوئی عقل مند اس کو صحیح العقل سمجھے گا؟ اور پھر یہ بھی اِنصاف کیجئے کہ اس قادیانی اِستدلال میں اور اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ ذرا غور سے معلوم ہوجائے گاکہ اگر بالفرض ’’خلت‘‘ کے معنی موت ہی ہوں تو بھی اس سے ان انبیاء کی موت ثابت نہیں ہوسکتی، جن کے لئے قرآن وحدیث کی دُوسری نصوص حیات ثابت کرتی ہیں۔ جیسے سب چیز کھاؤ کے قول سے پتھر اور زہر کا کھانا داخل مراد نہیں۔ اس کے علاوہ ’’خلت‘‘ کے معنی لغت میں موت کے نہیں بلکہ گزرجانے کے ہیں، خواہ مرکر، خواہ کسی دُوسرے طریقے سے، جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہوا۔ اِمام راغب اصفہانی ؒ ’’مفردات القرآن‘‘ میں اس لفظ کے یہی معنی لکھتے ہیں:
’’والخلو یستعمل فی الزمان والمکان لٰکن لما تصور فی الزمان المضی فسَّر اھل اللغۃ خلا الزمان یقول مضی الزمان وذھب، قال تعالٰی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘
(مفردات القرآن ص:۱۵۸)
یہ لفظ صریح ہیں کہ خلت کے معنی قرآن شریف میں چلے جانے اور گزر جانے کے ہیں، جس میں عیسیٰ علیہ السلام اور دُوسرے انبیاء بلاشبہ برابر ہوگئے۔ تعجب ہے کہ قادیانی خانہ ساز پیغمبر کے صحابی اتنی سی بات کو کیوں نہیں سمجھتے؟ اور اگر حق تعالیٰ ان کو چشمِ بصیرت عطا فرمائے اور وہ اب بھی غور کریں تو سمجھیں گے کہ آیت بجائے وفاتِ عیسیٰ پر دلیل ہونے کے حیات کی طرف مشیر ہے، کیونکہ صریح لفظ ’’ماتت‘‘ وغیرہ کو چھوڑ کر ’’خلت‘‘ شاید اللّٰہ تعالیٰ نے اسی لئے اِختیار فرمایا ہے کہ کسی بے وقوف کو موتِ عیسیٰ کا شبہ نہ ہوجائے، اگرچہ محاورہ شناس کو تو پھر بھی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔
۵:۔۔۔ ’’أَمْواتٌ غَیْرُ أَحْیَاءٍ‘‘ (النحل:۲۱) کی تفسیر بہ اِعتبار لغت بھی اور جو کچھ مفسرین نے تحریر فرمایا ہے، اس کے اِعتبار
349
سے بھی یہی ہے کہ یہ سب حضرات ایک معین مدّت کے بعد مرنے والے ہیں، نہ یہ کہ بالفعل مرچکے ہیں۔ اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے: ’’إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُم مَّیِّتُونَ‘‘ (الزمر:۳۰) تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت وفات پاچکے ہیں، بلکہ بالاتفاق وہی معنی مذکور مراد ہیں کہ ایک وقتِ معین میں وفات پانے والے ہیں۔ یہ بھی جھوٹی نبوّت کی نحوست ہے کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہ آئی۔
۶:۔۔۔ شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ کا قول اِستدلال میں پیش کرنا اوّل تو اُصولاً غلط ہے، کیونکہ مسئلۂ ختمِ نبوّت عقیدے کا مسئلہ ہے، جو باجماعِ اُمت بغیر دلیلِ قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا، اور دلیلِ قطعی قرآنِ کریم اور حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت کے سوا کوئی نہیں۔ ابنِ عربیؒ کا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اس کا اِستدلال میں پیش کرنا ہی اُصولی غلطی ہے۔ ثانیاً: خود ابنِ عربیؒ اپنی اسی کتاب ’’فتوحات‘‘ میں نیز ’’فصوص‘‘ میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوّتِ شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے۔ ابنِ عربیؒ اور دُوسرے حضرات کی عبارتیں صریح وصاف رسائل ذیل میں مذکور ہیں:’’عقیدۃ الإِسلام فی حیاۃ عیسٰی علیہ السلام‘‘، ’’التنبیہ الطربی فی الذب عن ابن العربی‘‘ وغیرہ۔
اسی طرح صاحبِ ’’مجمع البحار‘‘ اور مُلَّا علی قاریؒ بھی اپنی دُوسری تصانیف میں اسی کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوّت ختم ہوچکی ہے، آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔
(امدادُ المفتین ص:۱۲۹ تا ۱۳۳)
سوال:۔۔۔ استدلال الکادیانی علٰی موت عیسٰی علیہ السلام بقول تعالٰی: ’’وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ‘‘ (آل عمران:۱۴۴) بأن خلت بمعنی ماتت والرسل جمع معرف بلام الإستغراق فلذا فرع علیہ افائن مات الخ إذ لو لم یکن الخلو بمعنی الموت او لم تکن الرسول جمعًا مستغرق لما صح التفریع إذ صحتہ موقوفۃ علی اندراج نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم فی لفظ الرسل المذکور قطعًا وذالک بالإستغراق وکذا صحتہ موقوفۃ علٰی کون الخلو بمعنی الموت إذ علٰی تقدیر التادیر وعموم الخلو من الموت یلزم تفریع الأخص علی الأعم مع ان التفریع یتعقب إستلزام ما یتفرع علیہ للمتفرع ومن المعلوم عدم إستلزام الأعم للأخص فالتفریع الواقع فی قولہ تعالٰی یستدعی تحقق کلا الأمرین من کون الخلو بمعنی الموت ومن کون الجمع مستغرقًا وبعد کلتا المقدمتین یقال ان المسیح رسول وکل رسول مات وینتج ھٰذا القیاس المؤَلف من مقدمتین القطعیتین ان المسیح مات وھو المطلوب ولدلیل علی الصغریٰ قولہ تعالٰی: ’’وَرَسُولًا الٰی بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ‘‘، وقولہ: ’’مَاالمَسِیحُ ابنُ مَریَمَ اِلَّا رَسُولٌ‘‘، وامثالھما من الآیات وتسلیم جمیع الفرق الإِسلامیۃ برسالتہ علیہ السلام والدلیل علی الکبریٰ المقدماتان الممھدتان المذکورتان لأنہ متیٰ کان لخلو بمعنی الموت وقد اسند إلی الرسل وثبت کونہ جمعًا فیندرج فیہ المسیح علیہ السلام قطعًا فیلزم ثبوت الموت لہ فی ضمن الکبریٰ فثبت ما نحن بصدرہ۔
350
جواب:۔۔۔ الخلو عام لکل مضی من الدنیا إمَّا بالموت او بغیر الموت فصح التفریع وإن لم یمت عیسٰی علیہ السلام کما ھو ظاھر۔
۲۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۳ھ
(ترجیح ثالث ص:۱۳۸، امداد الفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳۱)
سوال:۔۔۔ استدل الکادیانی علٰی موت عیسٰی علیہ السلام بقولہ تعالٰی: ’’وَمَا جَعَلْنَاہُمْ جَسَداً لَّا یَأْکُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا کَانُوا خَالِدِیْنَ‘‘ (الأنبیاء:۸) بأنہ لو کان المسیح حیًّا فی السماء لزم کونہ جسدًا لَا یأکل الطعام وکونہٖ خالدًا وقد نفی ﷲ تعالٰی ذالک فإن مفاد الآیۃ الکریمۃ سلب کلی ای لا شیء من الرسل بجسد یأکل ولا احد منھم بخالد ومن المقرر ان تحقق الحکم الشخصی مناقض للسلب الکلی والدلیل علٰی کون المفاد سلبا کلیا قولہ تبارک وتعالٰی: ’’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِکَ الْخُلْدَ أَفَإِن مِّتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ‘‘ (الأنبیاء:۳۴) فإنہ صریح فی السَّلب الکلی فإذا ثبت الرفع والسَّلب کلیًّا بالنَّصِّ ارتفع الحکم الشخصی المستلزم الإیجاب الجزئی المناقض لذالک السَّلب المدلول بالنَّصِّ فإن احد المتناقضین لا یجامع النقیض الآخر کما لا یرتفع معہ وھٰذا بدیھی۔
جواب:۔۔۔ ھٰذان حکمان مقیدان بقید فی الدنیا فلم یبق إستدلال ولا إشکال۔
جمادی الاولیٰ ۱۳۳۳ھ
(ترجیح ثالث ص:۳۸، اِمدادُ الفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳۱، ۴۳۲)
سوال:۔۔۔ استدل الکادیانی علٰی موت عیسٰی علیہ السلام بقولہ تبارک وتعالٰی: ’’وَمِنکُم مَّن یُتَوَفَّی وَمِنکُم مَّن یُرَدُّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْلَا یَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئاً‘‘ (الحج:۵) بأن ھٰذا التقسیم حاضر لجمیع افراد البشر کحصر الزوج والفرد لجمیع افراد العدد بحیث لا یجتمع وصفا التوفی والرد إلٰی ارذل العمر فی فرد من البشر ولا یخلو فرد من کلیھما کما لا یجتمع الزوج الفرد فی عدد ولا یخلوا العدد من کلیھما فالقضیۃ منفصلۃ حقیقیۃ فإذا لم یمت المسیح ولم یعرضہ ارذل العمر لزم إرتفاع کلا جزئی الحقیقۃ وذا غیر ممکن فھٰذا المحال إنما لزم من فرص عدم موتہ فیکون باطلًا فیثبت تقیضہ وھو موت المسیح فذالک ھو المطلوب۔
جواب:۔۔۔ لا دلیل علی الحصر او لا لعدم کلمۃ دالۃ علیہ وإنما ھو بیان للعادۃ الأکثریۃ ویخص منھا ما یدل دلیل علٰی تخصیصہ ثم لا دلیل علٰی کون التوفی مرادفًا للموت بل یحتمل کونہ بمعنی القبض مطلقًا إمّا بالموت او بغیرہ وإذا انھدم البناء العدم المبنی۔
۲۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۳ھ
(ترجیح ثالث، ص:۱۳۹، امداد الفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳۲)
شبہ وفاتِ عیسیٰ کی حقیقت
سوال:۔۔۔ (از اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ مؤرخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۳۴ء)
۱:۔۔۔ ’’یَا عِیْسَی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ إِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ‘‘ اس آیت میں ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے کیا معنی ہیں؟
۲:۔۔۔ ’’مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ. بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیَانِ‘‘، ’’یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ‘‘ (الرحمن:۱۹، ۲۰،
351
۲۲) ایک مولوی صاحب نے آیاتِ مذکورہ کی تشریح میں بحوالہ تفسیر رُوح البیان یہ بیان کیا ہے کہ اوّل سے مراد حضرت علی کرّم اللّٰہ وجہہ، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللّٰہ عنہا ہیں، اور آیتِ ثانی کا تعلق حضرت حسن وحضرت حسین رضی اللّٰہ عنہما سے ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟
جواب۱:۔۔۔ آیت شریفہ کے معنی ہیں کہ اے عیسیٰ! میں ہی تم کو وفات دینے والا ہوں، یہود تم کو قتل نہیں کرسکتے، جب وفات کا وقت آئے گا تو تم میں تم کو قبض کروں گا اور تم کو اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تم کو کفار کی تہمت سے پاک کروں گا۔
۲:۔۔۔ یہ مطلب لغت اور محاورے کے لحاظ سے نہیں، بلکہ ایک تخیل ہے، جو کسی طرح حجت نہیں ہوسکتا۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۲ ص:۹۱،۹۲)
جواب بعض شبہات قادیانی
سوال:۔۔۔قولہ تعالٰی: ’’یَا عِیْسَی إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ إِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵)، ’’وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً‘‘ (النساء:۱۵۷)، ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸)، ’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ‘‘ (النساء:۱۵۷)، ’’وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ‘‘ (النساء:۱۵۹)، ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷)۔
جواب:۔۔۔ ان التوفی عام لکل قبض إن کان مع الجسد ثم لا دلالۃ فی الواو علی الترتیب ویقع الموت إجماعًا بعد النزول وکذا الرفع عام لما ھو بالجسد والنص الرابع لما احتمل عود الضمیر فی موتہ إلٰی عیسٰی علیہ السلام فکیف یدل علی المدعی وقد ذکر عموم معنی التوفی فلم یصح الإستدلال بشیء من الآیات۔
۲۶؍۱؍۱۳۳۳ھ
(ترجیح ثالث ص:۱۳۷، امدادُالفتاویٰ ج:۵ ص:۴۲۸)
سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے اور انبیاء کی لغزش قرآن میں مذکور ہونے سے فضیلت پر اِستدلال کا جواب اِلزامی وتحقیقی
سوال:۔۔۔ ایک شخص نے یہ شبہ پیش کیا کہ قرآن پاک میں سب نبیوں کی لغزش کا ذِکر تھوڑا بہت آیا ہے، حتیٰ کہ ہمارے رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی لغزش کا ذِکر بھی بعض جگہ آیا ہے، سوا حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہ ان کی لغزش کا ذِکر قرآن پاک میں کہیں نہیں ہے، اس سے ایک طرح کی فضیلت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دُوسرے نبیوں پر پائی جاتی ہے، اور فریقِ مخالف اس کو فضیلت حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں پیش کرسکتا ہے۔ اس شبہ کے متعلق مختلف تقریریں ہوئیں، لیکن کوئی تشفی دہ فیصلہ نہ ہوا، لہٰذا حضور کی طرف رُجوع کرتا ہوں، آپ تشفی دہ تقریر فرمادیں، فقط۔
جواب:۔۔۔ مناظرانہ جواب تو یہ ہے کہ اگر لغزش کا مذکور نہ ہونا دلیل افضلیت کی ہو تو بعضے ایسے انبیاء علیہم السلام کی بھی لغزشیں مذکور نہیں ہیں جو یقینا بعض ایسے انبیاء سے درجہ متأخر میں ہیں جن کی لغزشیں مذکور ہیں، مثلاً: اِسماعیل واِسحاق علیہما السلام کی کوئی لغزش مذکور نہیں، تو کیا یہ حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے افضل ہوجائیں گے؟ اور مثلاً: حضرت ہارون ویوشع وذُوالکفل
352
۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ جو کہ خلفائے موسویہ ہیں، ان کی کوئی لغزش مذکور نہیں تو کیا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوجائیں گے؟ اسی طرح اگر لغزش کا مذکور نہ ہونا دلیل افضیلت کی ہے تو معتوبیت کا مذکور نہ ہونا بدرجہ اوَلیٰ دلیل افضیلت کی ہوگی، کیونکہ لغزش کا ضرر یہی معتوبیت ہے وبس، پس اس بنا پر حضرت یحییٰ علیہ السلام افضل ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جن کا قصہ قرآن مجید میں بصورت بازپُرس مذکور ہے، ’’أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِیْ ۔۔۔إلخ‘‘ (المائدۃ:۱۱۶) حالانکہ اس کا کوئی عیسائی بھی قائل نہیں ہوسکتا۔ اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ یہ افضلیت جزئی ہے، اور مدار قرب وافضلیت کا فضیلتِ کلیہ ہے، جس کے لئے دُوسرے انبیاء علیہم السلام کے حق میں دلائلِ مستقلہ موجود ہیں، فقط۔
۴؍محرّم ۱۳۲۵ھ
(تتمہ اولیٰ ص:۲۴۷، اِمدادُالفتاویٰ ج:۵ ص:۴۰۰،۴۰۱)
رُجوعِ موتیٰ پر شبہ کا جواب
سوال:۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے عدمِ رُجوعِ موتیٰ فی الدنیا پر سورۃ الانبیاء پارہ نمبر۱۷، رُکوع نمبر۷ کی آیت نمبر۹۵: ’’وَحَرَامٌ عَلَی قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا أَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُونَ‘‘ ۔ اور مشکوٰۃ، باب جامع المناقب، فصل ثانی ص:۵۷۹ کی حدیث:
’’عن جابر قال: لقینی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فقال: یا جابر! ما لی اراک منکسرا؟ قلت: استشھد ابی وترک عیالًا ودَینًا۔ قال: افلا ابشرک بما لقی ﷲ بہ اباک؟ قلت: بلٰی یا رسول ﷲ! قال: ما کلم ﷲ احدا قط إلَّا من وراء حجاب واحیٰی اباک فکلمہ کفاحًا قال: یا عبدی! تَمَنَّ علیَّ اعطک، قال: یا رَبّ! تحیینی فاُقتل فیک ثانیۃ! قال الربُّ تبارک وتعالٰی: انہ قد سبق مِنّی انھم لا یرجعون، فنزلت: وَلَا تَحسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ اَموَاتًا الآیۃ۔ رواہ الترمذی۔‘‘
پیش کی ہے۔ اور فرقانِ حمید کی آیاتِ مبارکہ ۔۔۔جن میں اِحیائِ موتیٰ کا ذِکر ہے۔۔۔ سے مراد بے ہوشی سے ہوش میں آنا، نیز کشف وغیرہ لیا ہے، اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے معجزات ’’وَأُحْیِـیْ الْمَوْتَی بِإِذْنِ اللہِ‘‘ (آل عمران:۴۹) کے معنی یہ کرتے ہیں کہ کافروں کو مسلمان ومؤمن کرنا۔ برائے مہربانی اس آیتِ مبارکہ اور حدیث شریف کا صحیح مطلب تحریر فرمائیے۔
جواب:۔۔۔ اوّل چند مقامات ضروریہ تمہید بیان کرتا ہوں، پھر آیت کے متعلق عرض کروں گا۔
مقدمہ اُولیٰ:۔۔۔ کسی نص کی تفسیر میں ضرورت ہے اس کے سیاق وسباق میں بھی نظر کرنے کی، اور سیاق وسباق کے خلاف محض ایک دھوکے سے اِستدلال کرنا صحیح نہیں۔
مقدمہ ثانیہ:۔۔۔ تعارض کے وقت عبارۃ النص کو اِشارۃ النص پر مقدم رکھا جائے گا۔
مقدمہ ثالثہ:۔۔۔ خاص کے اِنتفاء سے عام کا اِنتفاء لازم نہیں آتا۔
مقدمہ رابعہ:۔۔۔ اذا جاء الإِحتمال بطل الإِستدلال۔
353
مقدمہ خامسہ:۔۔۔ مستدِل مدعی ہوتا ہے، اس کو اِحتمال مضر ہے۔ اور مانع طالبِ دلیل ہوتا ہے، اس کو اِحتمال مفید ہے۔
اب اس آیت کا صحیح مطلب سیاق وسباق پر نظر کرکے بیان کرتا ہوں۔ قال تعالٰی: ’’إِنَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِ‘‘ (الانبیاء:۹۲) إلٰی قولہ تعالٰی: ’’بَلْ کُنَّا ظَالِمِیْنَ‘‘ (الانبیاء:۹۷) تفسیر از بیان القرآن: اے لوگو! اُوپر جو اَنبیاء علیہم السلام کا طریقہ توحید کا معلوم ہوا، الیٰ قولہٖ: اس وقت منکرینِ رُجوع بھی رُجوع کے قائل ہوجائیں گے۔ (ج:۷ ص:۵۸، س:۲ تا ۱۷) اس تقریر سے معلوم ہوا کہ آیت میں مطلق رُجوع کی نفی نہیں، بلکہ رُجوع خاص للحساب والکتاب کی نفی ہے، جیسا سیاق وسباق سے معلوم ہوا۔ پس اس سے مطلق رُجوع کی نفی پر اِستدلال نہیں ہوسکتا، للمقدمۃ الثالثۃ ۔ اور صرف بیچ کا ایک حصہ لے کر اِستدلال کرنا صحیح نہیں، للمقدمۃ الاُولٰی، اور اگر بالفرض اس خاص حصے کی دلالت کو مان بھی لیا جائے تو وہ اِشارۃ النص کا مدلول ہوگا، اور مدلول مذکورہ بالا جو کہ سیاق وسباق سے مسوق لہ الکلام ہے عبارۃ النص کا مدلول ہے اور وہ اِشارۃ النص پر مقدم ہے، للمقدمۃ الثانیۃ ۔ اور بالفرض تقدیم بھی نہ ہو تو دونوں مدلول محتمل ہوجائیں گے، اور اِحتمال ہوتے ہوئے اِستدلال نہیں ہوسکتا،للمقدمۃ الرابعۃ۔ اور یہ اِحتمال ہم کو مضر نہیں، کیونکہ ہم مستدِل نہیں بلکہ مانع ہیں،للمقدمۃ الخامسۃ ۔ اور یہ آیت اگر مدعا میں قطعی الدلالۃ ہو تو کیا جمہور قائلین برجوع المسیح کی تکفیر کا اِلتزام کیا جاسکتا ہے، جو آیت پر مطلع ہوکر بھی رُجوعِ مذکور کے قائل ہیں؟ باقی حدیث سو اس میں عادت کی نفی ہے، یعنی خاص وقوع معتاد مستمر کی نفی ہے نہ کہ مطلق وقوع کی، پس خرقِ عادت کے طور پر کسی مادّہ میں اس کا واقع ہوجانا، اس کے معارض نہیں۔ جیسے: ’’‘‘ میں اِشکالِ مشہور کا ایک جواب یہ بھی دیا گیا ہے کہ مقصود اس سے عادت کا بیان کرنا ہے۔ یا جیسے یہود کی مغلوبیت یوم القیامۃ تک ارشاد فرمائی گئی ہے، اور درمیان میں چالیس روز دجال کا غلبہ ہوگا، جو کہ یہودی ہے، اس کو بھی عادتِ اکثریہ پر محمول کیا گیا ہے۔ یعنی مغلوبیت کو عادتِ غالبہ اور غالبیت کو عارض کہا جائے گا، اور آیات میں جو اِحیاء کی تأویل ہے، ہم کو اس لئے مضر نہیں کہ ہم اِمکانِ رُجوع پر ان سے اِستدلال نہیں کرتے، بلکہ اِمکانِ عقلی کے ساتھ خاص مستقل دلیلِ نقلی سے وقوع کا اِثبات کرتے ہیں۔ کما ہو مبسوط فی کلام العلماء ردًّا علٰی اھل الھواء ۔واللّٰہ اعلم!
اشرف علی - ۱۷؍صفر ۱۳۵۶ھ
(النور ص:۹، ربیع الثانی ص:۱۳۵۷ھ، اِمدادُ الفتاویٰ ج:۴ ص:۶۴۰، ۶۴۱)
دفع شبہ قادیانی متعلقہ وفاتِ مسیح
سوال:۔۔۔ ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی میں عبارت مندرجہ ذیل لکھی ہے، اس کا جواب اِرقام فرمادیں۔
صفحہ نمبر:۲، خزائن ج:۲۰ ص:۲۲ ’’مگر اس میں شک نہیں کہ اس وعظ صدیقی کے بعد کل صحابہ اس بات پر متفق ہوگئے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پہلے جتنے نبی تھے، سب مرچکے ہیں۔‘‘
جواب:۔۔۔ اس اِجماع کا کہیں پتا نہیں، محض دعویٰ بلادلیل ہے۔ مقصود وعظِ صدیقی کا یہ تھا کہ جنابِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کوئی اَمرِ عجیب نہیں، کیونکہ آپ سے پہلے سب انبیاء ورُسل دُنیا سے جاچکے، خواہ وفات سے، خواہ دُوسرے طریق
354
سے، بہرحال دُنیا میں کوئی نہیں رہا، پھر اگر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی نہ رہیں تو کیا تعجب ہے؟ رہا یہ کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نہ رہنا کس طریق سے ہے؟ سو چونکہ موت ایک اَمرِ محسوس ہے، اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں اس کے سب آثار مشاہدہ کئے گئے، لامحالہ اس طریق کی تعیین ہوگئی کہ وفات ہے، بخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ ان میں یہ آثار مشاہدہ نہیں کئے گئے، بلکہ برخلاف اس کے ان کا مرفوع اِلی السماء ہونا منصوصِ قرآنی ہے۔ اس میں یہ طریقہ ذھاب من الدُّنیا ا متعین ہوگیا، پس دُنیا سے جانا اَمرِ مشترک تھا، اور طریق مختلف اور اِجماع اسی اَمرِ مشترک پر تھا، جو اس وقت مقصود تھا نہ کہ وفاتِ عیسیٰ پر، اور یہ بالکل ظاہر ہے۔
۲۶؍شوال ۱۳۲۱ھ
(اِمدادُالفتاویٰ ج:۵ ص:۳۶۶)
دفع شبہ عدم حیاتِ عیسوی از حدیث از واقعہ وفات نبینا علیہ السلام
سوال:۔۔۔ قادیانیوں نے بذریعہ اِشتہار ایک حدیث شائع کی ہے، اس کا اثر بہت بُرا پڑا ہے، وہ یہ ہے: ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعھما إلَّا اتباعی‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۴۶، تفسیر ترجمان القرآن نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم ص:۴۶۱، کتاب الیواقیت والجواہر، امام سیّد عبدالوہاب شعرانی ص:۲۰۴، کتاب مدارج السالکین، اِمام ابن القیم ج:۲ ص:۳۱۳، شرح مواہب لدنیۃ ج:۶ ص:۷۶، اور تفسیر ابن کثیر مذکور حافظ ابوالفداء عمر قرشی دمشقی) میں تحریر فرمائی ہے۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ حدیث اگر صحیح ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب:۔۔۔ غالباً اس سے عدمِ حیاتِ عیسویہ پر اِستدلال کیا ہوگا، لیکن جواب ظاہر ہے کہ حیات سے مراد حیاتِ متعارفہ ہے، یعنی حیات فی الارض کہ دارُالتکلیف ہے، چنانچہ خود حدیث میں لفظ ’’اِتباعی‘‘ اس پر صریح دلیل ہے، کیونکہ تکلیفِ اِتباع اسی دارُالتکلیف میں ہے، اور ان کے لئے ثابت حیاۃ فی السماء ہے، جیسا قرآن مجید میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول منقول ہے: ’’وَأَوْصَانِیْ بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً‘‘ (مریم:۳۱) کہ یہاں بھی ظاہر ہے کہ تکلیف بالصلوٰۃ والزکوٰۃ اسی حیاۃ فی الارض کے ساتھ خاص ہے۔
۱۴؍صفر ۱۳۳۴ھ
(تتمہ رابعہ ص:۱۲، اِمدادُ الفتاویٰ ج:۵ ص:۴۳)
دفع شبہ اَز آیت بر وفاتِ عیسیٰ علیہ السلام
سوال:۔۔۔ زید اس آیتِ قرآنی سے ثبوت وفاتِ حضرت مسیح علیہ السلام کا دیتا ہے، اس کا کیا جواب ہے؟ ’’وَالَّذِیْنَ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللہِ لاَ یَخْلُقُونَ شَیْئاً وَہُمْ یُخْلَقُونَ. أَمْواتٌ غَیْرُ أَحْیَاء وَمَا یَشْعُرُونَ أَیَّانَ یُبْعَثُونَ‘‘ (النحل:۲۰، ۲۱) آج کل رُوئے زمین پر سب سے بڑھ کر مسیح کی پرستش ہو رہی ہے، اور معبود قرار دِیا گیا ہے، خود: ’’لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَآلُواْ إِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ (المائدۃ:۱۷) سے بھی ثابت ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے مردے ہیں زندہ نہیں۔ اموات، پھر غیر اَحیاء، ڈبل تاکید، یہ آیت صرف بتوں کے حق میں نہیں ہوسکتی، حضرت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رسالت عام تھی، کوئی قرینہ اس پر دال نہیں ’’ہُمْ یُخْلَقُونَ‘‘ سے بھی یہی نتیجہ نکل سکتا ہے، کیونکہ مسیح علیہ السلام پید ا کئے گئے ہیں۔ ’’أَیَّانَ یُبْعَثُونَ‘‘ پر غور ہو بقول شخصے کہ یہ ایسے معبودوں کے متعلق ہے جو قبر میں مدفون ہیں، چونکہ یہ آیت ہے اس کا جواب آیاتِ قرآنی سے دیا جاتا ہے ’’تِبیَانًا لِكُلِّ شَیءٍ‘‘
355
پر بھی نظر کرتے ہوئے کسی تفسیر کا حوالہ دینے کے بجائے قرآن کی تفسیر قرآن ہی سے کرنا بہتر ہے، جواب میں کسی فرقے کے بزرگ کو بُرا نہ کہا جائے، جو کچھ لکھیں انصاف سے، تعصب کا مطلقاً دخل نہ ہو، رائے آزادانہ ہو، تقلید کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی نہ ہو، ہر لفظ پر محققانہ بحث ہو، تمام ممکن الوقوع سوالوں کو پیشِ نظر رکھا جائے۔
جواب:۔۔۔ اس میں بت مراد ہوں اور اُلوہیت مسیح کی دُوسری آیت سے باطل ہو تو عمومِ رسالت کے کیا خلاف ہوا۔
۲۴؍رجب ۱۳۲۲ھ
(اِمدادُ الفتاویٰ ج:۵ ص:۳۶۹)
کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیرمسلم بنایا ہے؟
سوال:۔۔۔ ’’لَا اِكرَاہَ فِی الدِّینِ‘‘ یعنی دِین میں کوئی جبر نہیں، نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بناسکتے ہیں اور نہ ہی جبراً کسی مسلمان کو آپ غیرمسلم بناسکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم ۔۔۔جماعتِ احمدیہ۔۔۔ کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعے غیرمسلم کہلوایا؟
جواب:۔۔۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا، اس کو غیرمسلم بھی نہیں کہا جاسکتا، دونوں باتوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیرمسلم نہیں بنایا، غیرمسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں، البتہ مسلمانوں نے غیرمسلم کو غیرمسلم کہنے کا ’’جرم‘‘ ضرور کیا ہے۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۸)
’’قَد خَلَت مِن قَبلِہِ الرُّسُلُ‘‘ کا صحیح مفہوم
سوال:۔۔۔ کیا مذکورہ بالا آیت سے وفاتِ مسیح کا اِستدلال نہیں ہوتا؟ مہربانی فرماکر وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ’’خلت‘‘ کا معنی ماتت اور توفت خود تصریحاتِ مرزاقادیانی کے بھی خلاف ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’وہ ایک رسول ہیں اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے۔‘‘ خلت کا معنی آتے رہنا کیا ہے، ماتت نہیں کیا۔ باقی رہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے خطبے سے ثابت کرنا کہ جملہ انبیائے کرام علیہم السلام فوت ہوچکے ہیں، اور اسی پر اِجماعِ صحابہ بھی ہے، من جملہ ازاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت ہوچکے ہیں، یہ تصریحات خود مرزا کی تحریروں کے خلاف ہیں۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہے: ’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اوّل درجے کی پیشین گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاحِ ستہ میں پیشین گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، اور اِنجیل اس کی مصدق ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، خزائن ج:۳ ص:۴۴۰)
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام رفع جسمانی کے بارے میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو رَفع جسمانی کی طرف متوجہ کیا ہوا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ الشریف آسمان پر زِندہ ہیں اور قربِ قیامت نزول فرمائیں گے، نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باقی انبیاء علیہم السلام کی طرح وفات پاچکے ہیں۔
356
دُوسری بات یہ ہے کہ خلت خلو سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے تنہا ہونا، جدا ہونا، جگہ خالی کرنا، جیسا کہ اِرشادِ ربانی ہے:’’وَاِذَا خَلَوا اِلٰی شَیٰطِینِہِم‘‘ دُوسرا معنی گزرنا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ’’الاَیَّامِ الخَالِیَۃِ‘‘ ، ’’قرون خالیۃ‘‘ سالِ گزشتہ۔
اب آیتِ مبارک کا معنی یہ ہے کہ گزرچکے ہیں قبل اس کے رسول۔ اور یہ معنی ہر دو پر صادق آتا ہے، جو مرچکے ہوں ان پر بھی، اور جو زِندہ ہوں مگر فریضۂ رِسالت سے فارغ ہو، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ فلاں شہر میں ایک گورنر یا صدرِ مملکت ہوگزرا ہے، یہ ہر دو صورت میں صادق ہے، اگر مرگیا ہو تب بھی، اگر ملازمت سے علیحدہ ہو، یعنی بقیدِ حیات موجود ہو، تب بھی۔ الرسل کے الف لام کو بآیت: ’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ سے مخصوص البعض ماننا پڑے گا، جیسا کہ: ’’نَخلُقُكُّم مِّن مَّآءٍ مَّہِینٍ‘‘ (المرسلات:۲۰) مخصص ہے آیتِ مبارکہ:’’خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ‘‘ (آل عمران:۵۹) سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مادّہ منویہ نہیں ہے، بلکہ وہ حکم باقی انسانیت کا ہے، اگر خلت کا معنی توفت اور ماتت کریں اور ان کے سوا دُوسرا نہ کریں تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ رَبّ العزّت نے فرمایا: ’’سُنَّۃَ اللہِ الَّتِی قَد خَلَت‘‘ (الفتح:۲۳) یعنی سنتِ خداوندی مرچکی۔ اور دُوسری جگہ فرمایا:
’’فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِیْلاً وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَحْوِیْلاً‘‘ (فاطر:۴۳)
’’اللّٰہ تعالیٰ کی سنت نہ تو تبدیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی تحویل۔‘‘
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق عقائد ونظریات رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۳، ۳۳۴)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کا عقیدہ رکھنا کفر ہے
سوال:۔۔۔ مرزائیوں نے کتابیں چھپواکر بستی میں تقسیم کی ہیں، جس میں انہوں نے قرآن کی آیات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے شہید کیا ہے۔ کچھ مسلمان اس عقیدے کی طرف رُجوع بھی ہوگئے تو ان مسلمانوں کو مرتد خارج اَز اِسلام اور کافر سمجھا جائے یا ضعیف الایمان مسلمان؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ باسم ملہم الصواب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت کا عقیدہ رکھنے والے خارج اَزاِسلام اور بلاشبہ کافر ہیں، اس لئے کہ نصِ قرآن سے ثابت ہے کہ کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید نہیں کرسکا، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اُٹھالیا:
’’وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَـکِن شُبِّہَ لَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِیْناً. بَل رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزاً حَکِیْماً‘‘ (النساء:۱۵۷، ۱۵۸)
جب تک یہ لوگ توبہ واِستغفار کرکے تجدیدِ اِیمان نہ کریں، ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جیسا کہ قادیانی ودیگر مرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہر قسم کا تعلق وکاروبار وغیرہ ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں مرتد کا حالتِ اِرتداد میں کمایا ہوا مال، اس کے وارثوں کو نہیں مل سکتا، بلکہ مسلمانوں کا حق ہے اس لئے بیت المال کے مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔ نیز مرتد کے تصرفات: نکاح، شرکتِ مفاوضہ، ولایۃ علی الولد الصغیر، ہبہ، اِجارہ، قبض دَین وغیرہ نافذ نہیں ہوتے، اور اَحد الزوجین کے
357
اِرتداد سے نکاح باطل ہوجاتا ہے۔ قال فی التنویر:
’’ویبطل منہ النکاح والذبیحۃ والصید والشھادۃ والإرث ویتوقف منہ المفاوضۃ والتصرف علٰی ولدہ الصغیر والمبایعۃ والعتق والتدبیر والکتابۃ والھبۃ والإجارۃ والوصیۃ إن اسلم نفذ وإن ھلک او لحق بدار الحرب وحکم بطل۔‘‘
(ردالمحتار ج:۳ ص:۳۳۰، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۱۴؍محرّم ۱۳۹۶ھ
(احسن الفتاویٰ ج:۱ ص:۴۷)
✨ 🌟 ✨
358
بابِ چہاردہم
کلماتِ کفر، اِرتداد
خدا اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخانہ کلمات کہنے والے کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ علی اخترشاہ طرف فخرشاہ حضوربخش کے بارے میں جس نے یہ کہا ہے کہ: ’’خدا کا کوئی وجود نہیں، خدا کا وجود ایک بکواس ہے، حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک شہوت پرست انسان تھا، اس نے ایک نہیں نو عورتوں سے شادی کی تھی، قرآن صرف دو ہڑوں اور گانوں کی کتاب ہے، قرآن محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اپنا گھڑا ہوا ہے، یہ کوئی اِلہامی کتاب نہیں ہے، اِمام حسینؓ صرف اقتدار کا بھوکا تھا، یزید نے اس کے ساتھ بالکل ٹھیک سلوک کیا تھا، وگرنہ وہ بھی اپنے نانا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرح دُنیا میں فساد پھیلاتا۔ مسجد کے مینار مردوں کے آلۂ تناسل، اور اس کے گنبد عورتوں کے پستانوں، اور اس کی محراب عورت کے جائے مخصوص کے مشابہ ہے۔ نماز وقت کا ضیاع ہے، روزہ انسان کو بھوکا مارنے والا عمل ہے، زکوٰۃ سرمایہ داروں کو تحفظ دینے والا ایک نظام ہے، حج کو ممنوع قرار دے کر اس پر خرچ ہونے والی رقم کو غریبوں میں تقسیم کردینا چاہئے۔‘‘ حضرت نوح علیہ السلام کو بہن کی گالی دے کر کہا کہ: ’’وہ ساڑھے نوسو سال تبلیغ کرتا رہا، اس سے تو اس کا بیٹا بھی مسلمان نہ ہوسکا، کیونکہ اس کا بیٹا پختہ کامریڈ تھا۔ اسلام ایک چودہ سوسال پُرانا اور فرسودہ مذہب ہے، اس سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔ سگی بہن سے نکاح جائز ہے، کیونکہ وہ بھی تو عورت ہے۔ ہم سب انسان بشمول انبیاء بندروں کی اولاد ہیں۔‘‘
اب قرآن وسنت کی رُو سے مسلمان معاشرے میں علی اختر مذکور کی کیا حیثیت ہے مرتد یا کافر؟ کافر یا مرتد ہوجانے کی شکل میں اس کی شرعی سزا کیا ہے؟
اگر وہ اعترافِ جرم کرکے توبہ کرنے اور اَزسرِنو کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے اعمال کی تجدید کرے اور اپنے مذکورہ بالا خیالات کا بطلان کرے تو یہ بات قابلِ قبول ہوگی؟
کیا مدعی اور گواہان جن کی درخواست پر گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا، وہ اسے معاف کردینے کے مجاز ہیں؟ جبکہ مدعی اور گواہان واقعہ نے اپنے خدا سے یہ عہد کیا ہو کہ وہ علی اختر مذکور کو اس کی گستاخی اور دریدہ دہنی کی قانون رائج الوقت کے مطابق سزا
359
دِلوانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اور اپنے بیانات اخفائے واقعات کی غرض سے کسی قسم کی سفارش، تحریص، یا دھمکی میں آکر کتمانِ حق کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ تو کیا اب جذبہ ترحم کے تحت مدعی اور گواہان غلط بیانی کرنے کے شرعاً مجاز ہیں؟
ایف آئی آر کے اندراج سے قبل علی اختر مذکور نے اعترافِ جرم کرنے اور معافی مانگنے اور توبہ کرنے کے اِرادے سے کچھ مہلت طلب کی تھی، لیکن اس نے اس مہلت سے کوئی اِستفادہ نہیں کیا، بالآخر وہ گرفتار ہوکر جیل پہنچ گیا، کیا اس صورت میں وہ کسی مزید مہلت کا شرعاً حق دار ہے؟
جواب:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ صفات کا حامل بلاشبہ خارج عن الاسلام ہے، ایسے شخص کا حکم اسلامی حکومت میں یہ ہے کہ عدالت متعلقہ میں قاضی یعنی مسلم حاکم مجاز کے پاس اس کو حاضر کیا جاوے، اور دوبارہ مسلمان ہونے، توبہ واِستغفار کرنے کا حکم دیا جائے، اس پر اگر وہ تین دن یا اس سے کم وقت کے لئے مہلت طلب کرے یا کوئی شبہ اسلام کے متعلق بیان کرے تو اس کو مہلت دی جاوے، اور علمائے محققین کے ذریعے اس کے شکوک اور شبہات دُور کئے جاویں، اس کے بعد اگر وہ اسلام قبول کرنے اور توبہ واِستغفار کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کو مسلمان کرنے کے بعد اس فعلِ اِرتداد پر مناسب تعزیری سزا دِی جائے اور اس وقت تک قید رکھا جائے جب تک معلوم ہوجاوے کہ اس نے اِخلاص وصدقِ دِل سے اسلام کو قبول کیا ہے، اس کے بعد اس کو چھوڑ دیا جاوے، لیکن اس کے بعد پھر مرتد ہوجاوے تو بھی اس کے ساتھ سابقہ طریقہ کار اِختیار کیا جاوے، جب تک وہ اسلام کو قبول کرتا اور توبہ واِستغفار کرتا رہے، لیکن اگر وہ اسلام قبول کرنے سے اِنکار کرے خواہ شروع ہی سے یا بعد میں تو اس کو قتل کردیا جاوے۔
کما فی الھندیۃ، فی باب أحکام المرتدین:
’’إذا ارتد المسلم عن الإسلام -العیاذ باﷲ- عرض علیہ الإسلام، فإن کانت لہ شبھۃ ابدأھا کشف إلّا ان العرض علٰی ما قالوا غیر واجب بل مستحب، کذا فی فتح القدیر، ویحبس ثلاثۃ ایام، فإن أسلم وإلَّا قتل ھٰذا إذا استمھل فأما إذا لم یستمھل قتل عن ساعتہ ۔۔۔(إلٰی قولہ)۔۔۔ فإن تاب المرتد وعاد إلی الإسلام ثم عاد إلی الکفر حتّٰی فعل ذالک ثلاث مرات وفی کل مرۃ طلب من الإمام التأجیل فإنہ یؤَجلہ الإمام بثلاثۃ أیام فإن عاد إلی الکفر رابعًا فإنہ لا یؤْجلہ فإن أسلم وإلَّا قتل۔ وقال الکرخی فی مختصرہ: فإن رجع ایضًا عن الإسلام فأتی بہ الإمام بعد ثلاثۃ استبابہ ایضًا فإن لم یتب قتلہ ولا یؤَجلہ وإن ھو تاب ضربہ ضربًا وجیعًا ولا یبلغ بہ الحد ثم یحبسہ ولا یخرجہ من السجن حتّٰی یری علیہ خشوع التوبۃ ویری من حالہ حال إنسان قد اخلص، فإن فعل ذالک خلی سبیلہ، فإن عاد بعد ما خلّٰی سبیلہ فعل بہ مثل ما فعل ابدًا ما دام یرجع إلی الإسلام ولا یقتل إلَّا ان یأبی ان یسلم، قال ابوالحسن الکرخی: ھٰذا قول اصحابنا جمیعًا ان المرتد یستتاب ابدًا۔‘‘
360
واضح ہو کہ سابّ النبی کے لئے بھی احناف کے نزدیک استبابہ ہے مرتد کی طرح، علامہ شامیؒ کی تحقیق یہی ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے: شامی ج:۳ ص:۳۱۸، وج:۳ ص:۳۱۹۔
|
الجواب صحیح |
واللّٰہ اعلم |
|
احقر محمد تقی عثمانی |
محمد عبداللّٰہ |
|
|
۲۲؍۶؍۱۴۰۷ھ |
|
|
(فتویٰ نمبر۱۰۸۵/۳۸ج) |
|
|
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
’’ساب الانبیاء‘‘ کے بارے میں شرعی حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں اہلِ علم اس مسئلے میں کہ ’’ساب الانبیاء‘‘ کے بارے میں درمختار، باب المرتد کی عبارت ذیل ہے:
’’کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ إلّا الکافربسبّ نبیّ ۔۔۔۔إلخ۔‘‘
اور اس کے تحت فتاویٰ شامیہ جلد سوم، باب المرتد میں ہے:
’’وقولھما ای ابی حنیفۃ والشافعی ان کان مسلمًا یستتاب فإن تاب وإلَّا قتل کالمرتد۔‘‘
یہاں تک کہ بزازی کے قول کی تردید کی ہے، اُس نے کہا:فقتل حدٌّ ولا توبۃ لہ اصلًا الخ۔
اسی مقام پر تنویر کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا حکم مرتد کی طرح ہے، توبہ قبول ہوجائے گی، اِستفتا یہ ہے کہ عندالاحناف ایسے آدمی کی توبہ قبول ہوئی یا نہیں؟
جواب:۔۔۔الجواب ومنہ الصدق والصواب!
اَحناف کا مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ: (العیاذ باللّٰہ) سابّ الانبیاء کا حکم مثل مرتد کے ہے، اور مرتد کی توبہ بھی مقبول ہے۔ علامہ شامی رحمۃاللّٰہ علیہ کا اس مسئلہ پر ایک مستقل رسالہ ہے، جس میں بہت سی معتبر حنفی کتبِ فقہ سے اس کا حکم مثل مرتد کے لکھا ہے۔
’’فقد رأیت فی کتاب الخراج للإمام ابی یوسف فی باب احکام المرتدین عن الإسلام بعد نحو ورقتین منہ نصہ وقال ابو یوسف وایما رجل مسلم سبّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم او کذبہ عابہ او تنقصہ فقد کفر باللّٰہ تعالٰی وبانت منہ امرأتہ، فإن تاب وإلّا قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقد اشار بقولہ فإن تاب وإلّا قتل إلٰی أن تاب سقطت عنہ عقوبۃ الدنیا والآخرۃ فلا یقتل بعد إسلامہ والا لم یصح قولہ والا قتل فانہ علق القتل علٰی عدم توبتہ عندنا سقوط القتل عنہ فی الدنیا ونجاتہ من العذاب فی الآخرۃ ان طابق باطنہ ظاہرہ ۔۔۔۔ إلخ۔‘‘
(رسائل ابن عابدین ص:۳۲۴)
361
’’فھٰذا کلام الشفاء صریح فی ان مذھب ابی حنیفۃ واصحابہ بقبول التوبۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فقد علم ان البزازی قد تساھل غایۃ التساھل فی نقل ھٰذہ المسئلۃ ولیتہ حیث لم ینقلھا عن احد من اھل مذھبنا بل استند ما فی الشفاء والصارم امعن النظر فی المراجعۃ حتّٰی یری ما ھو صریح فی خلاف ما فھمہ ممن نقل المسئلۃ عنھم ولا حول ولا قوۃ إلَّا باﷲ العلی العظیم فلقد صار ھٰذا التساھل سببا لوقوع عامۃ المتأخرین عنہ فی الخطأ حیث اعتمدوا علٰی نقلہ وقلدوہ فی ذالک ولم ینقل احد منھم المسئلۃ عن کتاب من کتب الحنفیۃ بل المنقول قبل حدوث ھٰذا القول من البزازی فی کتبنا وکتب غیرنا خلافہ ۔۔۔۔إلخ۔‘‘
(شامیۃ ج:۴ ص:۲۳۳،۲۳۴، باب المرتد، مطلب مھم فی کم ساب الأنبیاء، طبع سعید کراچی)
’’من سب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فإنہ مرتد وحکمہ حکم المرتد یفعل بہ ما یفعل بالمرتد ۔۔۔إلخ۔‘‘
(النتف الفتاویٰ ج:۲ ص:۶۹۴)
وفی فتح القدیر:
’’فی اسقاط القتل یفید ان توبتہ مقبولۃ عند ﷲ تعالٰی وھو مصرح بہ ۔۔۔إلخ۔‘‘
(ج:۵ ص:۱۳۲)
’’قلت وما ذکرہ المحقق من عدم قبول التوبۃ السابّ لعلہ اخذہ عن البزازی وإلا فالمشھور من مذھب الحنفیۃ ان حکمہ حکم المرتد فی قبول توبتہ فإن تاب نکل وإن أبٰی قتل کما ذکرہ فی الدر والشامیۃ ۔۔۔إلخ۔‘‘
(إعلاء السُّنن ج:۱۳ ص:۴۶۷)
|
الجواب صحیح |
واللّٰہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم |
|
بندہ عبدالرؤف سکھروی |
کتبہ فخر الدین گوجرانوالی |
|
۵؍۳؍۱۴۰۵ھ |
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
|
|
۵؍۳؍۱۴۰۵ھ |
|
|
(فتویٰ نمبر ۳۶۸…۳۶-الف) |
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں فحش کلمات کہنے والا مرتد ہے
سوال:۔۔۔ ایک شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک میں نہایت فحش کلمات کہتا ہے، اور یہ بھی کہتا ہے کہ ۔۔۔نعوذباللّٰہ من ذالک۔۔۔ سوَر کا گوشت جناب کے دُشمنوں نے کھایا ہے، وغیرہ وغیرہ، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ وہ شخص مرتد ہوگیا،(۱) اگر وہ تجدیدِ اِسلام اور توبہ نہ کرے تو اس سے مسلمان بالکل قطع تعلق اور متارکت
(۱) ولفظ النتف من سبّ الرسول صلی ﷲ علیہ وسلم فإنہ مرتد وحکمہ حکم المرتد ویفعل بہ ما یفعل بالمرتد۔ انتھی۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۳۴، باب المرتد، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
362
کردیں۔ اگر حکومتِ اسلام ہوتی تو اس کو سخت سزا دِی جاتی، مگر اَب سوائے قطع تعلق کے مسلمان کیا کرسکتے ہیں؟ کیونکہ حدود(۱) وتعزیراتِ اسلامی حاکمِ اسلام ہی جاری کرسکتا ہے (درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، باب المرتد)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۸۷)
انبیاء علیہم السلام کی شان میں سب وشتم کرنے والا کافر ہے
سوال:۔۔۔ما قولکم من سبّ وشتم الأنبیاء علیھم السلام کلھم عامدًا صریحًا وسبّ کتابًا فیہ ذکرھم سبابًا قبیحًا فی جماعۃ من المسلمین وای الأحکام جاریۃ علیہ مع کونہ مسلمًا؟
جواب:۔۔۔ لا ریب فی کفر من تفوہ بھٰذا الکلام۔ (جو شخص ایسی ہفوات بکے، اس کے کفر میں کوئی شک وشبہ نہیں۔۔۔ناقل) (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳)۔(۲)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۶۲، ۳۶۳)
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ادنیٰ گستاخی بھی کفر ہے
سوال:۔۔۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کے باوجود بھی کیا کوئی مسلمان رہ سکتا ہے؟
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بال مبارک کی توہین بھی کفر ہے، فقہ کی کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کسی نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کے لئے تصغیر کا صیغہ اِستعمال کیا، وہ بھی کافر ہوجائے گا۔(۳)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۵۱،۵۲)
شانِ اقدس ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ میں گستاخی
سوال:۔۔۔ ایک مسلمان جس کے ہوش وحواس صحیح ہیں، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ: ’’حضرت یوسف علیہ السلام نبی نہیں تھے، اور ’’داستانِ یوسف‘‘ کتاب، جھوٹی کتاب ہے۔‘‘ اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتا ہے کہ ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ ’’حضور لگائی باز تھے، شہوت پرست تھے، ان کی گیارہ بیویاں تھیں۔‘‘ تو یہ شخص مسلمان کہلائے گا یا کافر؟ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ یہ شخص اگر اِنتقال کرجائے تو اس کے جنازے کی نماز پڑھی جائے گی یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حامدًا، ومصلیًا! جس کے دِل میں اِیمان ہے، وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا، اس لئے کہ اس سے اِیمان جاتا رہتا ہے، نکاح ختم ہوجاتا ہے، اس کی تجہیز وتکفین بھی اسلامی طریقے پر نہیں کی جاتی، اس کی نمازِ جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی۔ جب تک پوری طرح یقین کے ساتھ کسی کا ایسا کہنا ثابت نہ ہوجائے، کوئی سخت حکم لگانے میں پوری اِحتیاط لازم ہے، مبادا یہ حکم کہیں حکم
(۱)فیشترط الإمام لإستیفاء الحدود۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۵۴۹ کتاب الجنایات، طبع سعید کراچی)۔
(۲) سئل عمن ینسب إلی الأنبیاء الفواحش کعزمھم علی الزنا ونحوہ الذی یقولہ الحشویۃ فی یوسف علیہ السلام قال: یکفر لأنہ شتم لھم وإستخفاف بھم، قال ابو ذر من قال ان کل معصیۃ کفر وقال مع ذالک ان الأنبیاء علیھم السلام عصوا فکافر لأنہ شاتم۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، طبع کوئٹہ)۔
(۳)ولو قال لشعر النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: شعیر، یکفر عند بعضھم، وعند الآخرین لا إلَّا إذا قال بطریق الإھانۃ۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، طبع کوئٹہ)۔
363
لگانے والے پر نہ لوٹ جائے۔ اگر خدانخواستہ کسی مسلمان سے غلبۂ جہالت وضلالت کی بنا پر ایسی بات نکلے تو فوراً اس کو تجدیدِ اِیمان، نکاح اور توبہ کرادی جائے۔(۱)
فقط واللّٰہ اعلم
حررہ العبد محمود غفرلہٗ
دارالعلوم دیوبند ۸؍۲؍۱۳۸۹ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۴ ص:۵۳، ۵۴)
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کرنا اِرتداد ہے
سوال:۔۔۔ ایک صوفی کے مکان پر وعظ ہوا، جس میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک میں توہین کے الفاظ اِستعمال کئے گئے اور اہلِ مجلس میں سے ایک نے اُٹھ کر کہا کہ: ’’جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے، بہت صحیح ودُرست ہے۔‘‘ اور پھر ان تینوں شخصوں نے ایک جلسۂ عام میں توبہ کی۔ آیا ان کی توبہ قابلِ یقین ہے یا نہیں؟ اور نکاح رہا، یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر کوئی ایسا کلمہ زبان سے نکلا جو شرعاً توہین کا کلمہ ہے اور حکمِ اِرتداد اس پر ہوسکتا ہو تو ایسی حالت میں نکاح ان کا باقی نہیں رہا، اور توبہ واِسلام لانا ان کا قبول ہے، بعد توبہ کے تجدیدِ نکاح کرنی چاہئے (درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، باب المرتد)۔(۲) اور پوری بات جبھی معلوم ہو کہ آیا اس میں تأویل ممکن ہے یا نہیں؟
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۳۸)
شاتمِ رسول مرتد ومباح الدم ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص مسلمان ممتحن نے زیرِ نگرانی دو شخص مسلمان کے پرچہ زبان دانی انگریزی سے عربی میں ترجمہ کرنے کے لئے مرتب کیا، جس میں سب سے بڑے سوال میں نصف نمبر رکھے تھے، حضرت رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک میں گستاخی اور توہین کے فقرات اِستعمال کئے تاکہ مسلمان طالب علم لامحالہ مجبور ہوکر اپنے قلم سے جناب رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معصوم ومقدس شان میں بدگوئی لکھیں جو برائے فتویٰ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:
’’ابنِ عبداللّٰہ نے اس قبیلے میں تربیت پائی تھی جو عرب کی اصل زبان بولنے کے لحاظ سے شریف ترین تھا اور اس کی فصاحت کی سنجیدگی باموقع سکوت پر عمل کرنے تصحیح اور ترقی ہوتی رہی، باوجود اس فصاحت کے محمد ایک ناخواندہ وحشی تھا، بچپن میں اسے نوشت وخواند کی تعلیم نہیں دی گئی تھی، عام جہالت نے اسے شرم
(۱)سئل عمن ینسب إلی الأنبیاء الفواحش کعزمھم علی الزنا ونحوہ الذی یقولہ الحشویۃ فی یوسف علیہ السلام قال: یکفر لأنہ شتم لھم وإستخفاف بھم، قال ابو ذر: من قال: ان کل معصیۃ کفر، وقال مع ذالک: ان الأنبیاء علیھم السلام عصوا، فکافر لأنہ شاتم۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳، کتاب السیر، الباب التاسع فی احکام المرتدین، طبع کوئٹہ)۔
ایضًا: وفی شرح الوھبانیۃ لشرنبلالی: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد الزنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ اختلاف یؤْمر بالإستغفار والتوبۃ وتجدید النِّکاح۔ (الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔
(۲) ایضًا۔
364
اور ملامت سے مبرا کردیا تھا، مگر اس کی زندگی ایک ہستی کے تنگ دائرے میں محدود تھی اور وہ اس آئینے سے (جس کے ذریعے سے ہمارے دِلوں پر عقل مندوں اور نامور بہادروں کے خیالات کا عکس پڑتا ہے) محروم رہا، تاہم اس کی نظروں کے سامنے ان کتابوں کے اوراق کھلے ہوئے تھے جس میں قدرت اور اِنسان کا مشاہدہ کرتا کچھ تمدنی اور فلسفی توہمات جو اسے عرب کے مسافر پر محمول کئے جاتے ہیں، پیدا ہوگئے تھے۔‘‘
جس شخص نے پرچہ مرتب کیا اور جن لوگوں نے اس کی نظرِثانی کی وہ لوگ بوجہ استعمال الفاظ ناشائستہ جو بلاضرورت شانِ حضور ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ میں کئے گئے، وہ بوجہ اس گستاخی کے دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے یا نہیں؟ اور ان کی کیا سزا ہے؟ اور ان کی بابت شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ فقط۔
راقم: مسلمانانِ جون پور
جواب:۔۔۔ شخصِ مذکور فی السوال شرعاً ملعون وکافر ومرتد ہے۔(۱)
فی الأشباہ والنظائر: کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ فی الدُّنیا والآخرۃ إلَّا جماعۃ الکافر یسب النبی صلی ﷲ علیہ وسلم او یسب الشیخین او احدھما (الأشباہ والنظائر ص:۱۰۰، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)۔
اشباہ ونظائر میں ہے: ہر کافر توبہ کرے تو اس کی توبہ دُنیا وآخرت میں مقبول ہے، مگر کافروں کی وہ جماعت جس نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور شیخین ابوبکر وعمر رضی اللّٰہ عنہما، یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دی ہو(ت)۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والا مرتد ہے، اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی مقبول نہیں۔ ’’شفاء‘‘ (ج:۲ ص:۱۸۹) میں ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بُرا کہنے والا کافر ہے، اور اس پر علماء کا اِجماع ہے، من جملہ ان علماء کے اِمام مالکؒ اور اِمام لیث بن سعد مصریؒ اور اِمام شافعیؒ اور اِمام ابوحنیفہؒ اور اِمام احمد بن حنبلؒ واِمام ابویوسفؒ واِمام محمدؒ، وزُفرؒ وسفیان ثوریؒ واہلِ کوفہ واِمام اوزاعیؒ اور علمائے اسلام مکہ ومدینہ وبغداد ومصر ہیں، اور اس میں کسی نے بھی شاتم الرسول کے مباح الدم ہونے میں خلاف نہیں کیا۔(۲)
واللّٰہ اعلم!
کتبہ الفقیر الی اللّٰہ عزوجل
عبدالاوّل الحنفی الجونپوری
۱۳؍شعبان ۱۳۳۵ھ
ساب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا، کافر ہے، بغیر تجدیدِ اِیمان کے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، صحیح یہ ہے کہ تجدیدِ اِیمان کے
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
(۲)قال أبوبکر ابن المنذر: أجمع عوام أھل العلم علٰی أنّ من سبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم یقتل وممّن قال ذالک مالک بن أنس واللیث وأحمد وإسحاق وھو مذھب الشافعی قال القاضی أبو الفضل وھو مقتضیٰ قول أبی بکر الصدیق رضی ﷲ عنہ ولا تقبل توبتہ عند ھٰؤُلاء وبمثلہ قال أبو حنیفۃ وأصحابہ والثوری واھل الکوفۃ والأوزاعی فی المسلمین، لٰکنّھم قالوا ھی رِدّۃ وروی مثلہ الولید بن مسلم عن مالک وحکی الطبری مثلہ عن أبی حنیفۃ وأصحابہ فیمن تنقّصہ صلی ﷲ علیہ وسلم أو بریء منہ أو کذبہ وقال سحنون فیمن سبّہ ذالک ردّۃٌ کالزندقۃ وعلٰی ھٰذا وقع الخلاف فی استتابتہ وتکفیرہ وھل قتلہ حدٌّ أو کفر کما سنبیّنہ فی الباب الثانی إن شاء ﷲ تعالٰی ولا نعلم خلافًا فی استباحۃ دمہ بین علماء الأمصار وسلف الاُمَّۃ۔
365
بعد سزائے قتل نہ ہوگی، جیسا کہ تنقیح حامدیہ میں ہے، ہاں! اگر وہ مرتد توبہ نصوح کرے اور پھر سے اِیمان لائے اور اپنا اِسلام اور حال ٹھیک رکھے تو اس کی توبہ قبول ہونے پر بھی صاف نہ چھوڑا جائے گا، بلکہ تعزیر وحبس کا مستحق ہوگا، جیسا کہ تنقیح میں ہے:
’’ویکتفی بالتعزیر والحبس تأدیبًا‘‘ ادب کے پیشِ نظر صرف تعزیر اور قید کی سزا پر اِکتفا کیا جائے گا(ت)۔
رقمہ‘ راجی رحمۃ ربّ العباد
محمد حماد
نجل الشیخ عبدالاوّل الحنفی الجونپوری
۲۵؍شعبان ۱۳۳۵ھ
سابِ رسول اللّٰہ، قطعی دین سے خارج ومرتد ہوجاتا ہے، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ مجدّد خلیفہ راشد کا یہی مذہب ہے کہ سابِ رسول کو سزائے قتل دی جائے، مگر جبکہ تجدیدِ اِیمان وحسنِ اسلام لائے۔
حررہٗ عبدالباطن
بن مولانا الشیخ عبدالاول الجونفوری
’’رَّبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ. وَأَعُوذُ بِکَ رَبِّ أَن یَحْضُرُونِ‘‘ (المؤمنون:۹۷، ۹۸) اے میرے رَبّ! تیری پناہ شیطان کے وسوسوں سے، اور اے میرے رَبّ! تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔
’’وَالَّذِیْنَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ‘‘ (التوبۃ:۶۱)، ’’إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُونَ اللہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْناً‘‘ (الاحزاب:۵۷)، ’’أَلاَ لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ‘‘ (ہود:۱۸) اور جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اِیذا دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ بے شک جو اِیذا دیتے ہیں اللّٰہ اور اس کے رسول کو، ان پر اللّٰہ کی لعنت ہے دُنیا اور آخرت میں، اور اللّٰہ نے ان کے لئے ذِلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ارے ظالموں پر خدا کی لعنت(ت)۔
ان نام کے مسلمان کہلانے والوں میں جس شخص نے وہ ملعون پرچہ مرتب کیا، وہ کافر مرتد ہے، جس جس نے اس پر نظرِثانی کرکے برقرار رکھا، وہ کافر مرتد، جس جس کی نگرانی میں تیار ہوا، وہ کافر مرتد، طلبہ میں جو کلمہ گو تھے اور انہوں نے بخوشی اس ملعون عبارت کا ترجمہ کیا، اپنے نبی کی توہین پر راضی ہوئے، یا اسے ہلکا جانا، یا اسے اپنے نمبر گھٹنے یا پاس نہ ہونے سے آسان سمجھا، وہ سب بھی کافر مرتد، بالغ ہوں خواہ نابالغ، ان چاروں فریق میں ہر شخص سے مسلمانوں کو سلام کلام حرام، میل جول حرام، نشست وبرخاست حرام، بیمار پڑے تو اس کی عیادت کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے میں شرکت حرام، اسے غسل دینا حرام، کفن دینا حرام، اس پر نماز پڑھنا حرام، اس کا جنازہ اُٹھانا حرام، اس پر فاتحہ حرام، اسے کوئی ثواب پہنچانا حرام، بلکہ خود کفر وقاطع اسلام، جب ان میں کوئی مرجائے اس کے اعزہ اقربا مسلمین اگر حکمِ شرع نہ مانیں تو اس کی لاش دفع عفونت کے لئے مردار کتے کی طرح بھنگی چماروں سے ٹھیلے میں اُٹھواکر کسی تنگ گڑھے میں ڈلواکر اُوپر سے آگ، پتھر جو چاہیں پھینک پھینک کر پاٹ دیں کہ اس کی بدبو سے ایذا نہ ہو۔ یہ اَحکام ان سب کے لئے عام ہیں۔ اور جو جو ان میں نکاح کئے ہوئے ہوں، ان سب کی جوروئیں (بیویاں) ان کے نکاحوں سے نکل گئیں، اب اگر قربت ہوگی، حرام، حرام، حرام وزِنائے خالص ہوگی، اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی ولدالزنا ہوگی، عورتوں کو شرعاً
366
اِختیار ہے کہ عدّت گزرجانے پر جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ ان میں جسے ہدایت ہو اور توبہ کرے اور اپنے کفر کا اِقرار کرتا ہوا پھر مسلمان ہو، اس وقت یہ اس کام جو اس کی موت سے متعلق تھے منتہی ہوں گے، اور وہ ممانعت جو اس سے میل جول کی تھی، جب بھی باقی رہے گی، یہاں تک کہ اس کے حال سے صدقِ ندامت وخلوصِ توبہ وصحتِ اسلام ظاہر وروشن ہو، مگر عورتیں اس سے بھی نکاح میں واپس نہیں آسکتیں، انہیں اب بھی اِختیار ہوگا کہ چاہیں دُوسرے سے نکاح کرلیں یا کسی سے نہ کریں، ان پر کوئی جبر نہیں پہنچتا، ہاں! ان کی مرضی ہو تو بعد اِسلام ان سے بھی نکاح کرسکیں گی (شفاء شریف ج:۲ ص:۱۹۰، مطبوعہ مکتبہ مصطفی البانی، مصر)۔
’’اجمع العلماء ان شاتم النبی المتنقص لہ کافر والوعید جار علیہ بعذاب ﷲ تعالٰی لہ وحکمہ عند الاُمَّۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر۔‘‘
’’یعنی اِجماع ہے کہ حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے، اور اس پر عذابِ اِلٰہی کی وعید جاری ہے، اور اُمت کے نزدیک وہ واجب القتل ہے، اور جو اس کے کافر ومستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے، بے شک وہ بھی کافر ہوگیا۔‘‘
’’نسیم الریاض‘‘ میں اِمام ابنِ حجر مکیؒ سے ہے:
’’ما صرح بہ من کفر الساب والشاک فی کفرہ ھو ما علیہ ائمتنا وغیرھم۔‘‘
(ج:۴ ص:۳۳۸ طبع دار الفکر، بیروت)
’’یعنی جو یہ اِرشاد فرمایا کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر، اور جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے، وہ کافر۔ یہی مذہب ہمارے اَئمہ وغیرہم کا ہے۔‘‘
’’لو ارتد والعیاذ باﷲ تعالٰی تحرم امرأتہ ویجدد النکاح بعد إسلامہ والمولود بینھما قبل تجدید النکاح بالوطیء بعد التکلم بکلمۃ الکفر ولد زنا، ثم ان اتی بکلمۃ الشھادۃ علی العادۃ لا یجدیہ ما لم یرجع عما قالہ لأن بإتیانھما علی العادۃ لا یرتفع الکفر إلَّا إذا سبّ الرسول صلی ﷲ علیہ وسلم او واحدًا من الأنبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام فلا توبۃ لہ وإذا شتمہ علیہ الصلٰوۃ والسلام سکران لا یعفی واجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۔‘‘
(وجیز إمام کردی ج:۳ ص:۳۲۱)
’’یعنی جو شخص ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ مرتد ہوجائے، اس کی عورت حرام ہوجاتی ہے، پھر اِسلام لائے تو اس سے جدید نکاح کیا جائے، اس سے پہلے اس کلمۂ کفر کے بعد کی صحبت سے جو بچہ پیدا ہوگا، حرام ہوگا، اور یہ شخص اگر عادت کے طور پر کلمۂ شہادت پڑھتا رہے، کچھ فائدہ نہ دے گا، جب تک اپنے اس کفر سے توبہ نہ کرے کہ عادت کے طور پر مرتد کے کلمہ پڑھنے سے اس کا کفر نہیں جاتا جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، دُنیا میں بعد توبہ بھی اسے قتل کی سزا دِی جائے گی، یہاں تک کہ اگر نشے کی بیہوشی
367
میں کلمۂ گستاخی بکا، جب بھی معافی نہ دیں گے، اور تمام علمائے اُمت کا اِجماع ہے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے، اور کافر بھی ایسا کہ جو اس کے کافر ومستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے (ت)۔‘‘
’’کل من ابغض رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بقلبہ کان مرتدًّا فالساب بطریق اولٰی ۔۔۔۔۔۔۔ وإن سبّ سکران لا یعفی عنہ۔‘‘
(فتح القدیر، امام محقق علی الاطلاق ج:۵ ص:۳۳۲، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
’’یعنی جس کے دِل میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کینہ ہو، وہ مرتد ہے تو گستاخی کرنے والا بدرجۂ اَولیٰ کافر ہے، اور اگر نشہ بلااِکراہ پیا اور اس حالت میں کلمۂ گستاخی بکا جب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔‘‘
’’بحر الرائق‘‘ جلد پنجم ص:۱۲۶ میں بعینہٖ کلمہ مذکورہ ذِکر کرکے فرمایا:
’’سب واحد من الأنبیاء کذالک فلا یفید الإنکار مع البیّنۃ لأنا نجعل إنکار الردۃ توبۃ إن کانت مقبولۃ۔‘‘
’’یعنی کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، یہی حکم ہے کہ اسے معافی نہ دیں گے، اور بعد ثبوت اس کا اِنکار فائدہ نہ دے گا کہ مرتد کا اِرتداد سے مکرنا تو دَفعِ سزا کے لئے وہاں توبہ قرار پاتا ہے جہاں توبہ سنی جائے، اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، اس سے یہاں اصلاً معافی نہ دیں گے۔‘‘
در الحکام علامہ مولیٰ خسرو جلد اوّل ص:۲۹۹:
’’إذا سبہ صلی ﷲ علیہ وسلم او واحدًا من الأنبیاء صلوات ﷲ تعالٰی علیھم اجمعین مسلم فلا توبۃ لہ اصلًا واجمع العلماء ان شاتمہ کافر ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۔‘‘
’’یعنی اگر کوئی شخص مسلمان کہلاکر حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، اسے ہرگز معافی نہ دیں گے، اور تمام علمائے اُمتِ مرحومہ کا اِجماع ہے اس پر کہ وہ کافر ہے، اور جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔‘‘
غنیۃ ذوالاحکام ص:۳۰۱ میں ہے:
’’محل قبول توبۃ المرتد ما لم تکن ردّتہ بسبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فإن کان بہ لا تقبل توبتہ سواء جاء تائبًا من نفسہ او شھد علیہ بذالک بخلاف غیرہ من المکفرات۔‘‘/p>
’’یعنی نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی اور کفروں کی طرح نہیں، ہر طرح کے مرتد کو بعد توبہ معافی دینے کا حکم ہے، مگر اس کافر مرتد کے لئے اس کی اِجازت نہیں۔‘‘
368
اشباہ والنظائر ص:۱۰۰،۱۰۱ پر باب الردّۃ:
’’لا تصح ردّۃ السکران إلَّا الردّۃ بسبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فإنہ لا یعفی عنہ کذا فی البزازیۃ وحکم الردّۃ بینونۃ امرأتہ مطلقًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ (ای سواء رجع او لم یرجع غمز العیون) ۔۔۔۔۔۔۔۔ وإذا مات علٰی ردتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین ولا اھل ملۃ وإنما یلقی فی حفرۃ کالکلب، والمرتد اقبح کفرًا من الکافر الأصلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ وإذا شھدوا علٰی مسلم بالردّۃ وھو منکر لا یتعرض لہ لا لتکذیب الشھود العدول بل لأن إنکارہ توبۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ورجوع، فتثبت الأحکام التی للمرتد لو تاب من حبط الأعمال وبینونۃ الزوجۃ وقولہ لا یتعرض لہ إنما ھو فی مرتد تقبل توبتہ فی الدنیا لا الردۃ بسبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم الاولٰی تنکیر النبی کما عبر بہ فیما سبق اھـ۔ ملخّصًا غمز العیون۔‘‘
’’یعنی نشے کی بیہوشی میں اگر کسی سے کفر کی کوئی بات نکل جائے، اسے بوجہ بیہوشی کافر نہ کہیں گے، نہ سزائے کفر دیں گے، مگر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشے کی بیہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے، کذا فی البزازیۃ۔ اور ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ اِرتداد کا حکم یہ ہے کہ اس کی عورت فوراً اس کے نکاح سے نکل جاتی ہے، اگر یہ بعد کو پھر اِسلام لائے، جب بھی عورت نکاح میں واپس نہ جائے گی، اور جب وہ اسی اِرتداد پر مرجائے ۔۔۔والعیاذباللّٰہ تعالیٰ۔۔۔ تو اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، نہ کسی ملت والے مثلاً یہودی یا نصرانی کے گورستان میں دفن کیا جائے، وہ تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں پھینک دیا جائے، مرتد کا کفر اَصلی کافر کے کفر سے بدتر ہے۔ اور اگر کسی مسلمان پر گواہانِ عادل شہادت دیں کہ یہ فلاں قول یا فعل کے سبب مرتد ہوگیا اور وہ اس سے اِنکار کرتا ہو تو اس سے تعرض نہ کریں گے، نہ اس لئے کہ گواہانِ عادل کو جھوٹا ٹھہرایا، بلکہ اس لئے کہ اس کا مکرنا اس کفر سے توبہ ورُجوع سمجھیں گے، ولہٰذا گواہانِ عادل کی گواہی اور اس کے اِنکار سے یہ نتیجہ پیدا ہوگا کہ وہ شخص مرتد ہوگیا تھا، اور اَب توبہ کرلی، تو مرتد تائب کے اَحکام اس پر جاری کریں گے کہ اس کے تمام اعمال حبط ہوگئے اور جورُو نکاح سے باہر، باقی سزا نہ دی جائے گی۔ مگر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کہ یہ وہ کفر ہے جس کی اور یہ قول کہ اس سے تعرض نہ کیا جائے اس مرتد سے متعلق ہے جس کی توبہ دُنیا میں مقبول ہے، نہ وہ مرتد جو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرے کہ یہ وہ کفر ہے جس کی سزا یہ ہے کہ دُنیا میں بعد توبہ بھی معافی نہیں، یونہی نبی کی شان میں گستاخی، اولیٰ یہ تھا کہ لفظ نبی کو نکرہ ذِکر کرتے جیسا کہ گزشتہ عبارت میں تعبیر کیا ہے۔ ملخصاً غمزالعیون (ت)۔‘‘
فتاویٰ خیریہ علامہ خیرالدین رملیؒ اُستاذ صاحبِ درمختار، جلد اوّل ص:۹۵:
369
’’من سبّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فإنہ مرتد وحکمہ حکم المرتدین ویفعل بہ ما یفعل بالمرتدین ولا توبۃ لہ اصلًا واجمع العلماء انہ کافر ومن شک فی کفرہ کفر۔‘‘
’’جو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ کریم میں گستاخی کرے، وہ مرتد ہے، اس کا وہی حکم ہے جو مرتدوں کا ہے، اس سے وہی برتاؤ کیا جائے جو مرتدوں سے کرنے کا حکم ہے، اور اسے دُنیا میں کسی طرح معافی نہ دیں گے اور باجماع تمام علمائے اُمت وہ کافر ہے، اور جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر۔‘‘
مجمع الانہر شرح متلقی الابحر جلد اوّل ص:۶۱۸:
’’إذا سبّہ صلی ﷲ علیہ وسلم او واحدًا من الأنبیاء مسلم ولو سکران فلا توبۃ لہ تنجیہ کالزِّندیق ومن شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔‘‘
’’عینی جو مسلمان کہلاکر حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے، اگرچہ نشے کی حالت میں تو اس کی توبہ پر بھی دُنیا میں اسے معافی نہ دیں گے، جیسے دہریے، بے دِین کی توبہ نہ سنی جائے گی، اور جو شخص اس گستاخی کرنے والے کے کفر میں شک لائے گا، وہ بھی کافر ہوجائے گا۔‘‘
ذخیرۃ العقبیٰ علامہ اخی یوسف ص:۲۴۰:
’’قد اجمعت الاُمَّۃ علٰی ان الإِستخفاف بنبیّنا صلی ﷲ علیہ وسلم وبأی نبی کان علیھم الصلٰوۃ والسلام کفر، سواء فعلہ علیٰ ذالک مستحلًا ام فعلہ معتقد الحرمۃ ولیس بین العلماء خلاف فی ذالک ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر۔‘‘
’’یعنی بے شک تمام اُمتِ مرحومہ کا اِجماع ہے کہ حضورِ انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے، خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو، یا حرام جان کر، بہرحال جمیع علماء کے نزدیک کافر ہے، اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔‘‘
’’لا یغسل ولا یصلی علیہ ولا یکفن اما إذا تاب وتبرأ عن الإِرتداد ودخل فی دین الإِسلام ثم مات غسل وکفن وصلّی علیہ ودفن فی مقابر المسلمین۔‘‘
’’یعنی وہ گستاخی کرنے والا جب مرجائے تو نہ اسے غسل دیں، نہ کفن دیں، نہ اس پر نماز پڑھیں، ہاں! اگر توبہ کرے اور اپنے اس کفر سے براء ت کرے اور دِینِ اسلام میں داخل ہو، اس کے بعد مرجائے تو غسل، کفن، نماز، مقابر مسلمین میں دفن سب کچھ ہوگا۔‘‘
تنویر الابصار شیخ الاسلام ابوعبداللّٰہ محمد بن عبداللّٰہ غزی:
’’کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ إلَّا الکافر بسبّ نبی ۔۔۔إلخ۔‘‘
(درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعۃ مکتبہ رشیدیہ)
370
’’یعنی ہر مرتد کی توبہ قبول ہے، مگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا کافر ہے تو دُنیا میں سزا سے بچانے کے لئے اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔‘‘
’’الکافر بسبّ نبی من الأنبیاء لا تقبل توبتہ مطلقًا ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۔‘‘
(درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعۃ مکتبہ رشیدیہ)
’’یعنی کسی نبی کی توہین کرنا ایسا کفر ہے جس پر کسی طرح معافی نہ دیں گے، اور جو اس کے کافر ومستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے، خود کافر ہے۔‘‘
کتاب الخراج سیّدنا اِمام ابویوسفؒ ص:۱۹۷،۱۹۸:
’’قال ابو یوسف: وایما رجل مسلم سبّ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم أو کذبہ او عابہ او تنقّصہ فقد کفر باﷲ تعالٰی وبانت زوجتہ۔‘‘
’’یعنی جو شخص کلمہ گو ہوکر حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بُرا کہے، یا تکذیب کرے، یا کوئی عیب لگائے، یا شان گھٹائے، وہ بلاشبہ کافر ہوگیا اور اس کی عورت نکاح سے نکل گئی۔‘‘
بالجملہ اشخاصِ مذکورین کے کفر واِرتداد میں اصلاً شک نہیں، دربارۂ اسلام ورفع دیگر اَحکام ان کی توبہ اگر سچے دِل سے ہو، ضرور مقبول ہے، ہاں اس میں اِختلاف ہے کہ سلطانِ اسلام انہیں بعد توبہ واسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے، وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتبِ معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں، اس کے یہی معنی ہیں۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۲۹۶ تا ۳۰۴)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ اگر کوئی مسلمان ۔۔۔العیاذباللّٰہ۔۔۔ حضرت نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت ناجائز دشنام (گالی) دے، بصورت شرعِ محمدی کے اس شخص کا اب کیا حکم ہے؟ لائقِ توبہ واِستغفار ہے یا کہ لائقِ قتل ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! جو شخص شانِ اقدس میں ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ گالی بکے، وہ مرتد اور خارج اَزاِسلام ہے، اس کی توبہ اور تجدیدِ اِیمان وتجدیدِ نکاح لازم ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے ’’درمختار‘‘ (ج:۳ ص:۳۰۹ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) میں اس پر مفصل بحث مذکور ہے۔ علامہ شامیؒ نے ایک رسالہ مستقل لکھا ہے، دیگر اکابر علماء کے بھی رسائل ہیں۔ الصارم المسلول فی شاتم الرسول وغیرہ۔ لیکن اس حکم پر عمل کے لئے شرائط ہیں، ان کا بھی لحاظ چاہئے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود غفر لہٗ
دارالعلوم دیوبند ۱۹؍۳؍۱۳۹۰ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۲ ص:۱۶۲،۱۶۳)
371
وجوہِ اِرتداد
سوال:۔۔۔ جو شخص ہمارے نبی محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات سے کچھ ذرا بھی بغض رکھے، اور تمامی جہان پر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بزرگ وافضل ہونے کا قائل نہ ہو، اور شفاعت کا اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے کا اِنکار کرتا ہو، وہ کافر ہے یا نہیں؟ بیّنوا!
جواب:۔۔۔ جس نے ایسا اِعتقاد رکھا، وہ کافر ہے، جنت اس پر حرام ہے، ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دوست، وہ اللّٰہ کا دوست، اور کوئی چاہے کہ بعد بعثتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بلاوساطت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اللّٰہ سے دوستی رکھے، وہ مردُود ہے، ایسے ہی لوگوں کے واسطے اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’قُلْ إِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ‘‘ (آل عمران:۳۱) اور فضیلت وبزرگی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تمام جہان پر، قرآن وحدیث سے صاف ظاہر وباہر ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے، اور کسی نبی کو اس لقب سے یاد نہیں فرمایا ہے: ’’وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ (الانبیاء۱۰۷) اے نبی! ہم نے تم کو سب کے واسطے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اور ’’صحیح مسلم‘‘ کتاب الصلوٰۃ، باب المساجد ومواضع المساجد ج:۱ ص:۱۹۹ میں ہے:
’’عن ابی ھریرۃ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: فُضِّلتُ علی الأنبیاء بست: اُعطیت جوامع الکَلِم، ونُصرت بالرُّعب، واُحلّت لی الغنائم، وجُعلت لی الأرض طھورًا ومسجدًا، واُرسلت إلی الخلق کافۃ، وختم بی النبیُّون۔ وفی روایۃ: اُعطیت الشفاعۃ۔‘‘
اور دُوسرے مقام میں ہے: ’’انا سیّد وُلد آدم‘‘ ، اور خاتم الانبیاء ہونا بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مثل آفتاب نیم روز کے کتاب اللّٰہ وسنتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے واضح ولائح ہے۔
(آپ کہہ دیں اگر تم اللّٰہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللّٰہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دُوسرے انبیاء پر چھ فضیلتیں عطا کی گئی ہیں، میں جامع کلمات عطا کیا گیا ہوں، رُعب سے میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں، میرے لئے تمام زمین وضو کے قائم مقام اور مسجد بنادی گئی ہے، میں تمام لوگوں کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں، اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کیا گیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ’’مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے،۔ میں آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں۔)
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘ (الاحزاب:۴۰) عن أبی ھریرۃ ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: مثلی ومثل الأنبیاء من قبل کمثل رجل بنیٰ بیتًا فأحسنہ واجملہ إلَّا موضع لبنۃ من زاویۃ من زوایاہ، فجعل الناس یطوفون بہ یعجبون لہ ویقولون: ھلا وضعت ھٰذہ اللبنۃ! قال: فأنا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین، وفی روایۃ فأنا موضع اللبنۃ جئت فختمت الأنبیاء علیھم السلام‘‘
(مسلم ج:۲ ص:۲۴۸ باب ذکر کونہ صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم النبیین)
372
اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا شفاعت کرنا قیامت میں اپنی اُمت کے لئے، بلکہ تمام اُمتوں کے واسطے قرآن وحدیث سے خوب صاف ہر کسی کو معلوم ہوجاتا ہے، کچھ پوشیدہ امر نہیں ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’عَسٰی اَن یَّبعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحمُودًا‘‘ (الاسراء:۷۹) اور فرماتا ہے: ’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضَی‘‘(الضحیٰ:۵) حدیث میں ہے:
’’وعن عوف بن مالک قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: اتانی ات من عند ربی فخیّرنی بین ان یدخل نصف اُمّتی الجنَّۃ وبین الشَّفاعۃ، فاخترت الشَّفاعۃ وھی لمن مات لا یشرک باﷲ شیئًا۔‘‘
(رواہ الترمذی ج:۲ ص:۷۰، ابواب القیامۃ، باب ما جاء فی الشَّفاعۃ، ابن ماجۃ)
’’وعن انس ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قال: شفاعتی لأھل الکبائر من اُمّتی۔‘‘
(رواہ الترمذی ج:۲ ص:۷۰، ابواب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی الشفاعۃ، وابوداوٗد وابن ماجۃ)
(محمد تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللّٰہ کے رسول ہیں اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا خاتم النّبیین ہونا ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک آدمی جیسی ہے، جس نے ایک عمارت بنائی اور اچھی بنائی اور بہت خوبصورت بنائی، مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشے میں ایک اِینٹ کی جگہ خالی رہ گئی، لوگ اس کے گرد پھرنے لگے، اور اس کی خوبصورتی سے تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ: کاش! اس جگہ اِینٹ لگادی جاتی، تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہ اِینٹ ہوں، میں خاتم النّبیین ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے: میں اس اِینٹ کی جگہ آگیا ہوں، سو میں نے نبیوں کو ختم کردیا ہے۔ تم کو تمہارا رَبّ مقامِ محمود میں پہنچائے گا۔ آپ کو آپ کا رَبّ اِتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے اور عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس میرے رَبّ کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور مجھ کو اِختیار دیا کہ یا تو میری اُمت میں سے نصف اُمت جنت میں داخل ہوجائے گی اور یا پھر آپ شفاعت کرلیں۔ سو میں نے شفاعت کو پسند کرلیا اور وہ ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرجائے کہ وہ اللّٰہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ اس کو ترمذی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا اور انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری شفاعت میری اُمت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہوگی۔)
اور ایک بڑی حدیث میں بخاری ومسلم کے آیا ہے کہ قیامت یعنی حشر کے روز سب لوگ واسطے طلب شفاعت کے آدم ونوح وموسیٰ وعیسیٰ تمام انبیاء ۔۔۔علیہم السلام۔۔ کے پاس جاویں گے، وہ سب اپنا اپنا قصور بیان کریں گے، شفاعت نہیں کریں گے، حضرت عیسیٰ فرماویں گے کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے، پہلے دروازہ شفاعت کا ہمارے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھولیں گے، بعدہٗ وہ سب شفاعت کریں گے، حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آگے کسی کی دَم مارنے کی طاقت نہیں رہے گی، اللّٰہ تعالیٰ حد مقرّر فرمادے گا، اس کے موافق حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار حکم اللّٰہ کا لینے جائیں گے، سجدہ کرتے جائیں گے اور شفاعت کرتے جائیں گے اور صدہا احادیث اسی مضمون کی صحاحِ ستہ وغیرہ میں موجود ہیں، جس کا جی چاہے وہ دیکھ لے اور بعد اس کے بھی جو شخص پھر حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بزرگی اور خاتم ہونے کا اور قیامت میں شفاعت کرنے کا منکر ہو، تو بموجب آیت:’’فَمَاذَا بَعدَ الحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ‘‘ گمراہ، کافر، خالد مخلد دوزخ کا کندہ بن رہے گا۔
المجیب ابوالبرکات محمد عبدالحی تقی
عرف صدرالدین احمد حیدرآبادی
373
الجواب صحیح، والرأی نجیح، ومنکرھا مردود وکافر۔
حررہ العاجز محمد نذیر حسین عفی عنہ
(فتاویٰ نذیریہ ج:۱ ص:۱۰ تا ۱۲)
نبوّت کو کسبی کہنا کفر ہے
سوال:۔۔۔ جو شخص نبوّت کو کسبی کہے، اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ ایسا شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔(۱) واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۲۹)
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت کفر ہے
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص سرکارِ مدینہ کی تشریف آوری کے بعد مندرجہ ذیل عقائد میں سے کسی ایک عقیدے کا معتقد ہو تو وہ اہلِ کتاب میں داخل ہوگا یا نہیں؟ اور اس کے ہاتھ کا، ذبح کیا ہوا جانور ہمارے لئے حلال ہے یا نہ؟ اس مسئلے کی پوری وضاحت فرمائیں۔
۱:۔۔۔ حضور پیغمبرِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اور نبی بھی پیدا ہوسکتا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نبی صاحبِ کتاب ہو۔ قرآن پاک بے شک سچی اور حق کتاب ہے، مگر اَب یہ منسوخ ہے اور اس کے اَحکام اب باقی نہیں۔
۲:۔۔۔ حضور پیغمبرِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی پیدا ہوسکتا ہے جو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوکر رہے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختمِ نبوّت ہونے کا یہ معنی ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مرتبے کا کوئی پیدا نہ ہوگا۔
۳:۔۔۔ حضور پیغمبرِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوسکتا، لیکن اس کا معنی صرف یہ ہے کہ آپ کے بعد نبی کا نام یا نبی کا لفظ کسی نئے آنے والے کے لئے نہیں۔ نبوّت کی شرائط اور صفات، جیسے معصوم ہونا، مأمور من اللّٰہ ہونا، مفترض اطاعت ہونا، حلال وحرام میں لسانِ فیصل ہونا، یہ سب اُمور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی باقی اور جاری ہیں، ختمِ نبوّت صرف لفظ نبوّت کے لفظی روک ہے، صفاتِ نبوّت بہر صورت باقی ہیں اور ان کے حامل اَئمہ کرام اور اُولوالامر حضرات ہیں۔
۴:۔۔۔ حضور پیغمبرِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا، البتہ پہلے پیغمبروں میں سے اگر کوئی زِندہ ہو اور وہ آپ کے عہدِ مبارک میں دوبارہ آجائے تو اس کی آمد عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف نہ ہوگی۔
سائل: نذیر احمد، مدرّس مدرسہ عربیہ خیرالعلوم، کمالیہ
جواب:۔۔۔ سوالِ مذکورالصدر کی پہلی تینوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے، اور یہ تینوں طبقے ختمِ نبوّت کے اِسلامی معنوں
(۱)من ادعیٰ نبوۃ أحد مع نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم أو بعدہ ۔۔۔۔۔۔ أو من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوز اکتسابھا ۔۔۔۔۔۔ فھؤُلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی ﷲ علیہ وسلم۔ (الشفاء لقاضی عیاض، ج:۲ ص:۲۴۶،۲۴۷)
374
کے منکر ہیں، ختمِ نبوّت کا عقیدہ ضروریاتِ دِین میں سے ہے اور ضروریاتِ دِین میں تأویل قطعاً معتبر نہیں۔(۱) مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں صرف تأویل اور تعبیر کا اِختلاف ہے۔ حقیقت میں ختمِ نبوّت کے اِسلامی معنوں کے تینوں نہایت واضح طور پر خلاف ہیں۔ پہلی صورت کے قائل ختمِ زمانی کے منکر ہیں۔ ظاہر ہے کہ عقیدۂ نبوّت کے لئے صرف ختمِ نبوّت مرتبی کا اِقرار کافی نہیں، ختمِ نبوّت زمانی کا اِقرار بھی لازمی ہے، اور وہ اس عقیدے کا اساسی جزو ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی اور نیا نبی پیدا ہو اور وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ماتحت ہوکر رہے تو ختمِ نبوّت مرتبی کے عقیدے پر براہِ راست زَد نہیں پڑتی، لیکن ختمِ نبوّت زمانی کے اِنکار سے عقیدۂ ختمِ نبوّت بُری طرح زخمی ہوجاتا ہے۔ ختمِ نبوّت کے اِسلامی عقیدے کا تقاضا ہے کہ ختمِ نبوّت مرتبی ختمِ نبوّت زمانی اور ختمِ نبوّت مکانی کے ہر مفہوم کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ختمی مرتبت پر ختم مانا جائے۔ بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’اپنا دِین واِیمان ہے بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی اور نبی کے ہونے کا اِحتمال نہیں، جو اس میں تأمل کرے، اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
(جوابات محذورات ص:۱۰۳)
تیسری صورت کے منکر عنوانِ ختمِ نبوّت کے منکر نہیں، لیکن درحقیقت، ختمِ نبوّت کے صریحاً منکر ہیں۔ عقیدۂ ختمِ نبوّت کوئی لفظوں کا کھیل نہیں کہ لفظِ ’’نبی‘‘ کی روک تو تسلیم کرلی جائے اور نبوّت کی حقیقت اور معنویت ’’اِمامت‘‘ کے نام سے جاری رکھی جائے۔
حجۃالہند حضرت اِمام شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ شرح مؤطا میں لکھتے ہیں:
’’او قال ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم النبوۃ ولٰکن معنی ھٰذا الکلام انہ لا یجوز ان یسمی بعدہ احد بالنبی واما معنی النبوۃ وھو کون الإنسان مبعوثًا من ﷲ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطاء فیما یریٰ فھو موجود فی الأئمۃ بعدہ فذالک الزندیق وقد إتفق جماھیر المتأخرین من الحنفیۃ والشافعیۃ علٰی قتل من یجری ھٰذا المجری۔‘‘
(المسوّٰی شرح مؤْطا ج:۲ ص:۱۳۰)
حضرت شاہ صاحبؒ کے اس فیصلے کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کچھ ایسے افراد بھی اس اُمت میں پیدا ہوں گے جو مأمور من اللّٰہ اور معصوم ہوں تو ایسا اِعتقاد رکھنے والا عقیدۂ ختمِ نبوّت کا قطعاً قائل نہیں، خواہ زبان سے ہزار دفعہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ’’خاتم النّبیین‘‘ کہتا رہے۔
چوتھی صورت کے قائل اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اگر کوئی پُرانا نبی اس زمین پر دوبارہ آجائے تو خواہ اس کی اپنی پُرانی شریعت ’’شریعتِ محمدیہ‘‘ سے مختلف ہی تھی، لیکن اب وہ اس پر عمل پیرا نہیں ہوگا، بلکہ حضورِ اکرم
(۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: إکفار الملحدین للعلَّامۃ محمد انور شاہ الکشمیری ص:۱۲۱۔
375
صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابع ہوکر رہے گا تو بے شک ایسا عقیدہ رکھنے والا ختمِ نبوّت کے اِسلامی معنوں کا پورا قائل ہے اور عقیدۂ ختمِ نبوّت سے خارج نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی پُرانے نبی کی آمد کا اس صورت میں قائل ہو کہ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابع شریعت نہ رہے گا، تو یہ بھی عقیدۂ ختمِ نبوّت کے صریح طور پر خلاف ہے۔ محدّثِ شہیر حضرت علامہ سیّد انور شاہ صاحبؒ اپنی فارسی کتاب ’’خاتم النّبیین‘‘ میں اس اِعتقاد کو بھی لوازمِ ختمِ نبوّت سے قرار دیتے ہیں کہ پُرانا آنے والا نبی بھی ضروری ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تابع شریعت ہوکر رہے۔ اس کے بغیر ختمِ نبوّت زمانی کا اِقرار تو ہوجاتا ہے، لیکن ختمِ نبوّت مرتبی کا اِقرار قائم نہیں رہتا، اور مفہومِ ختمِ نبوّت کا تقاضا ہے کہ نبوّت ہر اِعتبار سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر ختم مانی جائے۔
پہلی تینوں صورتوں کے قائل قطعی طور پر اِسلام کے عقیدۂ ختمِ نبوّت کے منکر ہیں، اور ہرگزہرگز اہلِ کتاب میں شامل نہیں، قرآن پر عنوانی اِعتقاد رکھتے ہوئے زَندقہ واِلحاد کی راہ چلنا اہلِ کتاب کے حکم میں آنے کا موقع ہرگز نہیں دیتا، کتابی وہی ہے جو قرآن سے پہلے کسی ایسی کتاب پر اِیمان رکھتا ہو جو اَب منسوخ ہوچکی ہے۔ علامہ ابوالبقاءؒ کتابی ہونے کی یہ تعریف بیان کرتے ہیں:
’’الکافر إن کان متدینا ببعض الأدیان والکتب المنسوخۃ فھو الکتابی۔‘‘
(کلیات ص:۵۵۳)
’’کافر اگر پہلے کے کسی آسمانی دِین اور پہلے کی کسی آسمانی کتاب کا قائل ہو، تو وہ کتابی ہے۔‘‘
قرآنِ عزیز آخری اور دائمی کتاب ہے، جو ہرگز منسوخ نہیں۔ جس شخص کا اِعتقاد اس پر صحیح ہوگا، وہ مؤمن اور مسلم قرار پائے گا، اور جو شخص اس کے اساسی معنوں میں غلط راہ چلے گا، وہ زِندیق اور ملحد سمجھا جائے گا، کتابی اسے کسی صورت میں بھی نہیں سمجھا جاسکتا۔ کتابی صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ کسی منسوخ کتاب پر اِیمان رکھتا ہو، اور اس کے مصداق اس وقت صرف یہود اور نصاریٰ ہیں۔ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
’’الکتابی من یعتقد دینًا سماویًّا ای منزلًا بکتاب کالیھود والنصاریٰ۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۲۷۰)
پس وہ زَنادقہ وملحدین جو کتابی تعریف میں نہیں آتے، ان کا، ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لئے کھانا ہرگز جائز نہیں ہے۔
اہلِ کتاب کا ذبیحہ صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ اِصالۃً اہلِ کتاب ہوں، اِرتداداً نہ ہوں، اگر کوئی مسلمان، عیسائی ہوجائے تو اَب اس کا ذبح کیا ہوا جانور ذبیحۂ کتابی نہیں ہوگا، بلکہ ذبیحۂ مرتد ہوگا، کتابی وہ اسی صورت میں تھا کہ پہلے مسلمان نہ ہو، جو پہلے مسلمان ہو اور بعد اَزاں کسی اور دِین میں منتقل ہوجائے تو خواہ وہ نیا دِین مسیحی اور یہودی دِین ہی کیوں نہ ہو، وہ شخص بہرصورت مرتد سمجھا جائے گا۔
علامہ ابوالبقاء فرماتے ہیں:
’’الکافر ان طرأ کفرہ بعد الإِیمان فھو المرتد۔‘‘ (کلیات ابوالبقاء ص:۵۵۳)
376
اور حضرت علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
’’الراجع عن دین الإِسلام ورکنھا إجراء بکلمۃ الکفر علی اللسان بعد الإِیمان۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۰۹،۳۱۰)
پس مرتد ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ سارے اسلام کا ہی اِنکاری ہو، کسی ایک ایسے اَمر کا اِنکار جس کا اِسلام کی تعلیم ہونا قطعی اور یقینی طور پر معلوم ہو، جیسا کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت قطعی اور یقینی درجہ رکھتا ہے تو اس کے اسلامی مفہوم کا اِنکار بھی انسان کو دائرۂ اسلام سے یقینا دُور کردیتا ہے۔ ایمانِ شرعی کے لئے تو ضروری ہے کہ تمام قطعی تعلیماتِ اسلام کا اِقرار ہو، لیکن کفر اور اِرتداد کے لئے جمیع کی قید نہیں۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے اور کسی ایک قطعی عقیدۂ اسلام کا اِنکار بھی اِنسان کو اسی طرح اِرتداد کے جال میں لے آتا ہے جس طرح کہ پورے اِسلام کا اِنکار اِرتداد تھا۔
حاصل اینکہ سوالِ مذکورہ کی پہلی تینوں صورتیں عقیدۂ ختمِ نبوّت کا قطعی اِنکار ہیں، پس ان میں سے کوئی بھی کتابی کی تعریف کے تحت نہیں آتا، اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال ہے۔
علامہ شامیؒ فرماتے ہیں:
’’وشرط کون الذبح مسلمًا حلالًا خارج الحرم إن کان صیدًا فصید الحرم لا تحلہ الذکاۃ فی الحرم مطلقًا او کتابیًّا ذمیًّا او حربیًّا إلَّا إذا سمع منہ عند الذبح ذکر المسیح۔‘‘
(ج:۵ ص:۲۰۸)
’’اور ذابح کے لئے شرط ہے کہ وہ مسلمان ہو، حرم میں نہ ہو، حدودِ حرم سے باہر ہو، حرم کے اندر شکار کو ذبح کرنا اسے حلال نہیں کرسکتا۔ کتابی ذِمی ہو یا حربی اس کا ذبیحہ بھی جائز ہے مگر جبکہ وہ ذبح کے وقت مسیح کا نام ہے۔‘‘
’’لا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔‘‘
(درمختار، بحاشیہ ردالمحتار ج:۵ ص:۲۰۹)
مرتد ہونے کو علامہ شامیؒ نے عدمِ حلت کی علت قرار دِیا ہے، اس عبارت پر ’’لأنہ صار کمرتد‘‘ لکھتے ہیں:’’علۃ لعدم الحل‘‘۔ وﷲ اعلم بالصواب وعلمہٗ اتم واحکم فی کل باب!
خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
۲۷؍دسمبر ۱۹۶۳ء
(عبقات ص:۲۳۸ تا ۲۴۱)
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت کفر واِرتداد ہے
سوال:۔۔۔ جس شخص کا قول اپنی نسبت یہ ہو کہ جس کو اَمن واِیمان اور صراطِ مستقیم درکار ہو تو وہ سلطان الاولیاء خاتم
377
الولایت علیہ الصلوٰۃ کے موجودہ خلیفہ احمد زماں نامی کے پاس آکر صراطِ مستقیم کا راستہ دیکھیں۔ شخصِ مذکور اور اس کے معاونین کی نسبت شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اس دعویٰ کے ضمن میں مہدیٔ موعود اور رِسالت کے بھی دعویٰ ہیں۔ ایسا شخص مسلمان رہ سکتا ہے یا نہ؟ اور وہ شخص مریدوں سے احمد زماں رسول اللّٰہ کہلاتا ہے۔ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔
’’وعن ابی ھریرۃ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجَّالون کذَّابون یأتونکم عن الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم، فإیَّاکم وإیَّاھم! لا یضلونکم ولا یفتنونکم۔‘‘
(رواہ مسلم ج:۱ ص:۱۰، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء)
اور بعض روایات میں ہے کہ تیس دجال ہوں گے، ہر ایک ان میں سے دعویٔ نبوّت کرے گا، الحدیث۔ پس شخصِ مذکور جو کہ اپنے مریدوں سے اپنی نسبت ’’رسول اللّٰہ‘‘ کہلاتا ہے اور اس کلمے سے ان کو منع نہیں کرتا، اور ہدایت، صراطِ مستقیم کو اپنے اِتباع میں منحصر جانتا ہے اور کہتا ہے، وہ بالیقین دجال وکذّاب ہے اور اہلِ باطل اور ضال ومضل ہے، مسلمانوں کو اس کی صحبت سے اور اس کی گمراہی سے اِحتراز لازم ہے۔ زیادہ لکھنے کی اس میں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ بطلان اس کا اور اس کے طریقے کا اظہر من الشمس ہے، جبکہ حق تعالیٰ کا اِرشادِ صریح ہے: ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘(الاحزاب:۴۰) اور جناب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صاف فرماتے ہیں: ’’فلا نبی بعدی‘‘ (۱) کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، تو پھر مدعیٔ نبوّت کے اہلِ باطل واہلِ ضلال ہونے میں کسی مسلمان کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور اس کے کفر واِرتداد میں کیا ریب وتردّد ہے۔۔۔؟
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۳۴۸،۳۴۹)
حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منکر کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔۔۔ ایک آدمی اللّٰہ تعالیٰ پر مکمل یقین رکھتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، نماز بھی پڑھتا ہے، لیکن وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا، تو کیا وہ آدمی جنت کا حق دار ہے؟
جواب:۔۔۔ جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا، وہ خدا پر یقین کیسے رکھتا ہے۔۔۔؟
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۵۲)
شاتمِ رسول کی توبہ مقبول ہے
سوال:۔۔۔ اگر کوئی مسلمان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گالی دے اور بعد میں پشیمان ہو اور توبہ بھی کرے تو اَزروئے شریعت اس کی توبہ مقبول ہے کہ نہیں؟
جواب:۔۔۔ جناب رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج
(۱) ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۲۷، کتاب ذکر الفتن ودلائلھا۔
378
ہوجاتا ہے۔ قال العلَّامۃ ابن عابدین:
’’اجمع المسلمون إن شاتمہ کافر وحکمہ القتل۔‘‘
(ردالمحتار ج:۳ ص:۳۱۷، باب المرتد، مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء، طبع مکتبہ رشیدیہ)
تاہم اگر شاتمِ رسول اپنے اس فعل پر نادم ہوکر توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے، اور تجدیدِ اِیمان کے بعد دوبارہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ قال ابوالحسن علی بن الحسین اسعدی:
’’من سبّ رسول ﷲ فإنہ مرتد ویفعل بہ ما یفعل بالمرتد۔‘‘
(النتف فی الفتاویٰ ج:۲ ص:۶۹۴، باب المرتد)
قال العلَّامۃ ابن عابدین:
’’ظاھر فی قبول توبتہٖ کما لا یخفٰی۔‘‘
(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۵، باب المرتد)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۱۳۹)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ
سوال:۔۔۔ ایک مقام پر ایک گستاخ کافر نے حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جناب میں گستاخانہ حالات شائع کئے تھے۔ مسلمانوں کے مؤاخذے پر اس نے علماء کی ایک باقاعدہ جمعیت سے معافی چاہی اور آئندہ اِحتیاط رکھنے کا، اور فی الحال اپنی اس غلطی ودرخواستِ معافی کا اخباروں میں اِعلان کردینے کا وعدہ کیا۔ اس میں اکثر مسلمانوں کی رائے اس کو منظور کرلینے کی ہوگئی، اور بعض نے اِختلاف کیا، اور حکومتِ موجودہ میں اِستغاثہ دائر کرنے کی رائے دی، اور اِستغاثہ کے ناکام ہونے کے اِحتمال پر بھی اِستغاثہ ہی کو ترجیح دی، اور دلیل یہ بیان کی کہ یہ حق اللّٰہ کا ہے، اس کی معافی کا حق صرف سلطانِ اسلام کو ہے۔ اس کے متعلق سوال آیا تھا، جس کا جواب حسبِ ذیل لکھا گیا:
جواب:۔۔۔ معافی کی جو حقیقت صاحبِ شبہ نے سمجھی ہے، اس معنی کو یعنی بعد معافی کے ناگواری نہ رہنا، یہ معافی مذکور فی السوال صورۃً معافی ہے، اسی لئے بعض حضرات کو شبہ ہوگیا کہ حق اللّٰہ کے معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں، مگر واقع میں معافی نہیں، بلکہ صلح ہے، اور صلح سے کوئی اَمر مانع نہیں، اور صلح جیسے بلاشرط ہوسکتی ہے، اسی طرح شرط پر بھی ہوسکتی ہے، جیسے یہاں یہ شرط مقرّر کی جاتی ہے کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے، البتہ صلح میں شرعاً یہ قید ہے کہ مسلمانوں کے حق میں وہ مصلحت ہو اور یہاں مصلحت ہونا ظاہر ہے کہ فی الحال اِسلام کا اِعزاز اور کفر کا اِذلال ہے، اور فی المآل ایک منکر قبیح کفری کا اِنسداد ہی خود معاہدے میں بھی اور اُمید ہے کہ دُوسرے متبحرئین میں بھی، کہ اس منکر کا نتیجہ دیکھ کر بعضے عبرت پکڑیں گے اور بعضے مسلمانوں کی رواداری سے متأثر ہوں گے، اور یہ توقعات حکومت سے اِستغاثہ میں مظنون بھی نہیں، بلکہ مشکوک ہیں، چنانچہ فضائے موجود اس کی شاہد ہے، پھر اگر خدا نہ کردہ اِستغاثہ
379
میں کامیابی نہ ہوئی تو اس پر جو مفاسد یقینا مرتب ہوں گے، ان کے اِنسداد پر مسلمانوں کو کافی قدرت نہیں، ہمیشہ کے لئے ایسے لوگوں کی جرأت بڑھ جائے گی، بلکہ ترقی کرکے کہا جاتا ہے کہ اگر کامیابی بھی ہوگئی تو ظاہر ہے کہ سزائے موت کا تو اِحتمال بھی نہیں، صرف قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ سو بہت سے مفسد ایسے ہیں کہ قید وجرمانے کی پروا بھی نہیں کرتے، ان کو ایک نظیر ہاتھ آجائے گا اور گو اس صلح کے بعد بھی ایسے واقعات محتمل ہیں، مگر مفاسد کی قلّت وضعف ومشکوکیت اور بکثرت وشدّت ومظنونیت کا تفاوت ضرور قابلِ نظر وقابلِ عمل ہے، رہا یہ شبہ کہ معافی کا حق صرف سلطانِ اسلام کو ہے، عامۂ مسلمین کو نہیں، سو شبہ میں جو دلیل بیان کی گئی ہے کہ یہ حق اللّٰہ ہے، اس کا مقتضا تو یہ ہے کہ سلطان کو بھی یہ حق نہیں، کیونکہ سلطان حقوق اللّٰہ کو معاف نہیں کرسکتا، باقی اگر اس دلیل سے قطع نظر کرکے اورا س معافی کو صلح قرار دے کے، یا معافی کی تفسیر عدم اِنتقام فی الدنیا قرار دے کے یہ حکم کیا جائے تو اوّل تو اس حکم کے لئے ایسی دلیل کی حاجت ہے جو سلطان کے ساتھ خاص ہو، سلطان اور عامۂ مسلمین میں مشترک ہو، دُوسرے خود شریعت نے بہت سے اَحکام میں ضرورت کے وقت عامۂ مسلمین کو قائم مقام سلطان کے ٹھہرایا ہے، جیسے نصبِ اِمام وخطیبِ جمعہ ونصبِ متولّیٔ وقف اور یہاں اس معاملے کا اَحکامِ مذکورہ سے زیادہ مہتم بالشان اور ضرورت بھی ہونا ظاہر ہے، لفقدان السلطان المسلم۔ واللّٰہ اعلم!
۲۶؍جمادی الاخریٰ ۱۳۵۰ھ
(’’النور‘‘ ۱۰؍ذی الحجہ ۱۳۵۰ھ، اِمداد الفتاویٰ ج:۴ ص:۱۶۶، ۱۶۷)
بلاوجہ توہینِ رسالت کے بارے میں سوال بھی توہین ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک پروفیسر نے اپنی کلاس میں طلبہ سے سوال کیا کہ کوئی شخص حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو مسلمانوں کا اس شخص سے کیا معاملہ ہوگا؟ دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس پروفیسر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کرنے کو کتبِ مذہب میں اَشد ترین جرائم میں سے شمار کیا گیا ہے، اور ایسے گھناؤنے جرم کے اِرتکاب پر حکومت مرتکب کو قتل یا پھانسی تک سزا دے سکتی ہے۔ لیکن یہ حکومت کا کام ہے، عوام اس کے مجاز نہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں مسلمانوں کا رَدِّعمل یہ ہونا چاہئے کہ حکومت کے متعلقہ عملے میں مجرم کے خلاف شکایت کردیں۔
نفسِ مسئلہ معلوم کرنے کی غرض سے مناسب طریق پر یہ سوال دریافت کرنے میں حرج نہیں، لیکن بلاضرورت نامناسب طریق پر اس سوال کو چھیڑنا سوئِ ادبی سے خالی نہیں۔
فقط واللّٰہ اعلم!
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ
۱۷؍۱؍۱۳۷۹ھ
ساتھ ہی ہمارے کالج کے نوجوانوں کو بھی ٹھنڈے دِل سے غور کرنا لازم ہے، جو یہ فرماتے ہیں کہ علماء تنگ دِل ہیں، ان کو
380
وسیع الظرف اور فراخ دِل ہونا چاہئے، چاہے کسی قسم کا سوال ہو، اس پر ناراض نہ ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے عزیز ومحترم نوجوانوں کو معلوم ہو کہ سوال بھی نصف علم ہے، غلط سوال پر تنبیہاً ناراض ہونا، طبعاً غصہ آنا کوئی اِعتراض کی بات نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ سوال کیا ہے؟ بطورِ مثال اگر کسی شخص کو کہا جائے کہ: ’’اگر میں تیرے باپ کو گدھا کہوں تو تیرا رویہ کیا ہوگا؟‘‘ تو کیا وہ شخص ایسے سوال سے خوش ہوگا؟ اور ایسے سائل کو عقل مند کہے گا۔۔۔؟
تعجب ہے کہ ایک پروفیسر یہ سوال کرے کہ: ’’مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین ہو تو مسلمانوں کا کیا رَدِّعمل ہوگا؟‘‘ اور ایسے سوال نامے کو اخبارات میں شائع کرے، اس پر طبیعت کو اِشتعال نہ ہو۔ یہ تو کوئی انتہائی بے غیرت آدمی ہوگا کہ اس قسم کے سوال کو سن کر خاموش رہ جائے۔ پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان تو بہت اعلیٰ واَرفع ہے، اگر کوئی شخص یہ سوال نامہ شائع کرے کہ: ’’پاکستان میں ایک آدمی مسٹر محمد علی جناح کو خوب دِل کھول کر گالیاں دے، یا اقبال مرحوم کو بُرا بھلا کہے، تو بتلاؤ اے پاکستانیو! تمہارا کیا رَدِّعمل ہوگا؟‘‘ کیا یہ سوال مسلمانوں کو چڑانے کے مترادف نہ ہوگا؟ اور ایسے سائل پر غصہ آئے گا یا نہیں۔۔۔؟
اس لئے یہ سوال سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ ہمیں تو تعجب ہوتا ہے کہ پاکستان کے کالجوں میں کیا ایسے عقل مند پروفیسر موجود ہیں! غالباً وہ اِنتہائی ملحد اور بددِین ہیں جو مسلمانوں کی رَگِ اِیمان کو دُکھانا چاہتے ہیں۔ والجواب صحیح
محمد عبداللّٰہ غفر لہٗ
مفتی خیرالمدارس ملتان
۷؍۱؍۱۳۷۹ھ
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۳۲۰، ۳۲۱)
کیا گستاخِ رسول کو حرامی کہہ سکتے ہیں؟
سوال:۔۔۔ بعض لوگ سورۂ قلم کی آیت:۱۳ ’’زَنیم‘‘ سے اِستدلال کرکے گستاخِ رسول کو حرامی کہتے ہیں۔ کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی، یا کسی بھی رسول کی گستاخی کرنا بدترین کفر ہے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ مگر قرآنِ کریم کی اس آیتِ کریمہ میں جس شخص کو ’’زَنیم‘‘ کہا گیا ہے، اس کو گستاخیٔ رسول کی وجہ سے ’’زَنیم‘‘ نہیں کہا گیا، بلکہ یہ ایک واقعے کا بیان ہے کہ وہ شخص واقعتا ایسا ہی بدنام اور مشکوک نسب کا تھا۔ اس لئے اس آیتِ کریمہ سے یہ اُصول نہیں نکالا جاسکتا کہ جو شخص گستاخیٔ رسول کے کفر کا اِرتکاب کرے اس کو ’’حرامی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۵۲)
اِجرائے نبوّت کے قائل کا حکم
سوال:۔۔۔ مولانا صاحب! آج کل ایک نیا فتنہ قرآن ریسرچ سینٹر کے نام سے بہت زوروں پر ہے، (بلکہ اب اس کا نام ’’انٹرنیشنل اسلامک پروپیگیشن سینٹر‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔۔۔ناقل) اس کا بانی محمد شیخ انگلش میں بیان کرتا ہے، اور ضروریاتِ دِین کا
(۱) ’’عُتُلٍّم بَعدَ ذٰلِكَ زَنِیمٍ‘‘ دعی فی قریش وھو الولید بن المغیرۃ ادعاہ ابوہ بعد ثمانی عشرۃ سنۃ قال ابن عباس رضی ﷲ عنہ: لا نعلم ان ﷲ سبحانہ وتعالٰی وصف احد بما وصفہ من العیوب فالحق بہ عارًا لا یفارقہ ابدًا۔ (تفسیر جلالین ص:۴۶۸)
381
اِنکار کرتا ہے، ہم اس اِنتظار میں تھے کہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں آپ کی کوئی مفصل تحریر شائع ہوگی، مگر ’’آپ کے مسائل‘‘ میں ایک خاتون کے سوال نامے کے جواب میں آپ کا مختصر سا جواب پڑھا، اگرچہ وہ تحریر کسی حد تک شافی تھی، مگر اس سلسلے میں تفصیلی تحریر کی اب بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے ایسی کوئی تحریر لکھی ہو، یا کہیں شائع ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی فرمادیں، یا پھر اَزراہِ کرم اُمتِ مسلمہ کی اس سلسلے میں راہ نمائی فرمادیں۔
جواب:۔۔۔ آپ کی بات دُرست ہے، ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں میرا نہایت مختصر سا جواب شائع ہوا تھا، اور اَحباب کا اِصرار تھا کہ اس سلسلے میں کوئی مفصل تحریر آنی چاہئے۔ چنانچہ میری ایک مفصل تحریر ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی کے ’’بصائروعبر‘‘ میں شائع ہوئی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے افادۂ عام کے لئے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جائے، جو حسبِ ذیل ہے:
مسلمانانِ ہندوستان کی دِلی خواہش اور چاہت تھی کہ ایک ایسی آزاد ریاست اور ملک میسر آجائے جہاں مسلمان آزادی سے قرآن وسنت کا آئین نافذ کرسکیں اور انہیں دِین اور دِینی شعائر کے سلسلے میں کوئی رُکاوٹ نہ ہو۔ چونکہ مسلمانوں کا جذبہ نیک تھا، اس لئے اس میں جوان، بوڑھے، عوام وخواص اور عالم وجاہل سب برابر کے متحرک وفعال تھے۔ بالآخر لاکھوں جانوں اور عزّتوں کی قربانی کے بعد ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ قیامِ پاکستان کا مقصد اِسلامی نظامِ حکومت یعنی حکومتِ اِلٰہیہ کا قیام باور کرایا گیا تھا، جس کا عنوان تھا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ!‘‘ اور یہ ایسا نعرہ تھا جس کے زیرِ اَثر تمام مسلمان مرمٹنے کے لئے تیار تھے، حتیٰ کہ وہ مسلمان جن کے علاقے تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان کی حدود میں آتے تھے، وہ بھی اس کے قیام میں پیش پیش تھے، لیکن:
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستانی مسلمانوں کو اِسلامی نظامِ حکومت نصیب نہیں ہوا، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رٰجِعُونَ!
اُلٹا پاکستان روزبروز ’’مسائلستان‘‘ بنتا چلا گیا، اس میں مذہبی، سیاسی، رُوحانی غرض ہر طرح کے فتنے پیدا ہوتے چلے گئے، ایک طرف اگر انگلینڈ میں مرتد رُشدی کا فتنہ رُونما ہوا، تو دُوسری طرف پاکستان میں یوسف کذّاب نام کا ایک بدباطن دعویٔ نبوّت لے کر میدان میں آگیا۔ اسی طرح بلوچستان میں ایک ذِکری مذہب اِیجاد ہوا، جس نے وہاں کعبہ اور حج جاری کیا۔ یہاں رافضیت اور خارجیت نے بھی پَرپُرزے نکالے، یہاں شرک وبدعات والے بھی ہیں اور طلبہ سارنگی والے بھی، اس ملک میں ایک گوہرشاہی نام کا ملعون بھی ہے، جن کے مریدوں کو چاند میں اس کی تصویر نظر آتی ہے، اور خود اس کو اپنے پیشاب میں اپنے مصلح کی شبیہ دِکھائی دیتی ہے۔ اس میں ایک بدبخت عاصمہ جہانگیر بھی ہے، جو تحفظِ حقوقِ اِنسانیت کی آڑ میں کتنی لڑکیوں کی چادرِ عفت کو تارتار کرچکی ہے۔
اسی طرح اس ملک میں ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی ایک جماعت بھی ہے، جو پوری اُمت کی تجہیل وتحمیق کرتی ہے۔ یہاں
382
ڈاکٹر مسعود کی اولاد بھی ہے، جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں، ہاں غلام احمد پرویز کی ذُرّیت بھی ہے جو اُمت کو ذخیرۂ احادیث سے بدظن کرکے اپنے پیچھے لگانا چاہتی ہے۔ اور ان سب سے آگے اور بہت آگے ایک نیا فتنہ اور نئی جماعت ہے، جس کے تانے بانے اگرچہ غلام احمد پرویز سے ملتے ہیں، مگر وہ کئی اِعتبار سے غلام احمد پرویز کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، غلام احمد پرویز نے اُمت کو اَحادیث سے برگشتہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، ہاں! البتہ اس نے چند آیاتِ قرآنی پر بھی اپنی تأویلاتِ باطلہ کا تیشہ چلایا تھا، مگر اس نئی جماعت اور نئے فتنے کے سربراہ محمد شیخ نامی شخص نے تقریباً پورے اسلامی عقائد کی عمارت کو منہدم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ چنانچہ وہ توراۃ، زَبور، اِنجیل اور دُوسرے صحفِ آسمانی کے وجود اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دُوسرے انبیاء پر فضیلت وبرتری اور انبیائے کرام علیہم السلام کے مادّی وجود کا منکر ہے، بلکہ وہ بھی اصل میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مدعیٔ نبوّت ہے، مگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ناکام حکمتِ عملی کو دُہرانا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح براہِ راست نبوّت اور عقیدۂ اِجرائے وحی کا دعویٰ کرکے قرآن وسنت اور علمائے اُمت کے شکنجے میں نہیں آنا چاہتا، یہ تو وہ بھی جانتا ہے کہ وحیٔ نبوّت بند ہوچکی ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اپنے لئے اِجرائے وحی کا دعویٰ کرے، وہ دجال وکذّاب اور واجب القتل ہے۔ اس لئے محمد شیخ نامی اس شخص نے اس کا عنوان بدل کر یہ کہا کہ: ’’جو شخص جس وقت قرآن پڑھتا ہے، اس پر اس وقت قرآن کا وہ حصہ نازل ہورہا ہوتا ہے، اور جہاں قرآن مجید میں ’’قل‘‘ کہا گیا ہے وہ اس انسان ہی کے لئے کہا جارہا ہے۔‘‘ یوں وہ ہر شخص کو نزولِ وحی کا مصداق بناکر اپنے لئے نزولِ وحی اور اِجرائے نبوّت کے معاملے کو لوگوں کی نظروں میں ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کو یوں بھی تعبیر کرتا ہے کہ:
’’انبیاء اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی اِصلاح کرتے ہیں، اور میں یہی کام انجام دے رہا ہوں۔‘‘
نعوذباللّٰہ۔۔۔! منصبِ نبوّت کو اس قدر خفیف اور ہلکا کرکے پیش کرنا اور یہ جرأت کرنا کہ میں بھی وہی کام کر رہا ہوں جو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ انبیائے کرام کیا کرتے ہیں، کیا یہ دعویٔ نبوّت اور منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کی ناپاک کوشش نہیں۔۔۔؟
لوگوں کی نفسیات بھی عجیب ہے! اگر وہ ماننے پر آئیں تو ایک ایسا شخص جو کسی اِعتبار سے قابلِ اِعتماد نہیں، جس کی شکل وشباہت مسلمانوں جیسی نہیں، جس کا رہن سہن کسی طرح اسلاف سے میل نہیں کھاتا، اِبلیسِ مغرب کی نقالی اس کا شعار ہے، اُسوۂ نبوی سے اُسے ذرّہ بھر مناسبت نہیں، اس کی چال ڈھال، رفتار وگفتار اور لباس وپوشاک سے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا کہ یہ شخص مسلمان بھی ہے کہ نہیں؟ پھر طرّہ یہ کہ وہ نصوصِ صریحہ کا منکر ہے، اور تأویلاتِ فاسدہ کے ذریعے اسلام کو کفر، اور کفر کو اِسلام باور کرانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کان کاٹتا ہے، فلسفۂ اِجرائے نبوّت کا نہ صرف وہ قائل ہے، بلکہ اس کا داعی اور مناد ہے۔
وہ تمام آسمانی کتابوں کا یکسر منکر ہے، وہ انبیاء کے مادّی وجود کا قائل نہیں، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رُوحانی وجود کی بھول بھلیوں کے گورکھ دھندوں سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت ورِسالت اور مادّی وجود کا اِنکاری ہے، انبیائے بنی اسرائیل میں
383
سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ترجیح دیتا ہے۔
ذخیرۂ احادیث کو من گھڑت کہانیاں کہہ کر ناقابلِ اِعتماد گردانتا ہے، غرضیکہ عقائدِ اسلام کے ایک ایک جزو کا اِنکار کرکے ایک نیا دِین ومذہب پیش کرتا ہے، اور لوگ ہیں کہ اس کی عقیدت واِطاعت کا دَم بھرتے ہیں، اور اس کو اپنا پیشوا اور رَاہ نما مانتے ہیں۔۔۔!
اس کے برعکس دُوسری جانب اللّٰہ کا قرآن ہے، نصوصِ صریحہ اور اَحادیثِ نبوی کا ذخیرہ ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حضراتِ صحابہ کرامؓ کی سیرت وکردار کی شاہراہ ہے، اور اِجماعِ اُمت ہے، جو پکارپکار کر اِنسانوں کی ہدایت وراہ نمائی کے خطوط متعین کرتے ہیں، مگر ان اَزلی محروموں کے لئے یہ سب کچھ ناقابلِ اِعتماد ہے۔۔۔!
کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اِطاعت وفرماںبرداری کی بجائے اپنے گلے میں اس ملحد وبے دِین کی غلامی کا پٹہ سجانے اور اس کی اُمت کہلانے میں ’’فخر‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل ودانش اور دِین ومذہب پر جس کی بنیاد اِلحاد وزَندقہ پر ہو۔ جس میں قرآن وسنت کی بجائے ایک جاہلِ مطلق کے کفریہ نظریات وعقائد کو درجۂ اِستناد حاصل ہو۔ سچ ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل وخرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔
گزشتہ ایک عرصے سے اس قسم کی شکایات سننے میں آرہی تھیں کہ سیدھے سادے مسلمان اس فتنے کا شکار ہو رہے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں کچھ لکھنے کا خیال ہوا تو ایک صاحب راقم الحروف اور دارالعلوم کراچی کے فتاویٰ کی کاپی لائے اور فرمائش کی کہ اس فتنے کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔ اس لئے کہ حکومت اور اِنتظامیہ اس فتنے کی روک تھام کے لئے نہایت بے حس اور غیرسنجیدہ ہے، جبکہ یہ فتنہ روزبروز بڑھ رہا ہے۔ کس قدر لائقِ افسوس ہے کہ اگر کوئی شخص بانیٔ پاکستان یا موجودہ وزیراعظم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوجائے تو حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آجاتی ہے، لیکن یہاں قرآن وسنت، دِینِ متین اور حضراتِ انبیاء ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ اور ان کی نبوّت کا اِنکار کیا جاتا ہے، ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے ہیں، مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی، اور اِنتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۹ ص:۲۹۴ تا ۳۰۰)
✨ 🌟 ✨
384
بابِ پنج دہم
موجباتِ کفر، وجوہِ کفر
ضروریاتِ دِین جن کا اِنکار کفر ہے
سوال:۔۔۔ آج کل کفرسازی کا بازار خوب گرم ہے، مسلمان فرقے ایک دُوسرے کی تکفیر میں نہایت بے اِحتیاطی سے کام لیتے ہیں۔ ایک دُوسرے کی تکفیر کو اِظہارِ حق قرار دیتے ہیں، اپنے آپ کو بہادر اور حق گو گردانتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نئی پود خصوصیت سے کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر جدید تہذیب سے آراستہ مسلمان ان سے متنفر ہوکر اِلحاد وزَندقہ، مرزائیت وپرویزیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس بارے میں کچھ پریشان ہیں، اس لئے خیال آیا کہ اپنے ان اکابر کی طرف رُجوع کیا جائے جن کے علم واِخلاص پر ہمیں اِعتماد ہے، لہٰذا ہم آپ کے سامنے ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کی فہرست پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تصدیق اور قابلِ اِصلاح چیزوں کی اِصلاح کے متمنی ہیں۔ اور ثانیاً بعض چیزوں کے بارے میں اِستفسار کرتے ہیں کہ آیا یہ بھی ضروریاتِ دِین میں سے ہیں اور انہیں بھی مدارِ اِیمان وکفر قرار دِیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
ضروریاتِ دِین:۔۔۔ توحیدِ باری تعالیٰ، انبیاء علیہم السلام کا بشر ہونا، کتبِ اِلٰہیہ منزل من اللّٰہ ہیں، حیاتِ مسیح علیہ السلام، نزولِ مسیح علیہ السلام، جنت ودوزخ، وغیرہ۔
اب ہم ان چیزوں کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن کے متعلق ہمیں دریافت کرنا ہے کہ آیا یہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کا اِنکار باعثِ کفر ہے؟
۱:۔۔۔ عصمتِ انبیاء علیہم السلام۔
۲:۔۔۔ عدالتِ صحابہؓ (ان کی عدالت فی الروایات تو مُسلَّم ہے، لیکن زید اُن کے ذاتی افعال پر تنقید کرتا ہے اور ان کو ان کے افعال ومعاملات میں عادل قرار نہیں دیتا، تو آیا ایسا عقیدہ باعثِ کفر ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ حرمتِ متعہ۔
۴:۔۔۔ سنتِ لحیہ۔
ثانی الذکر اُمور کے بارے میں باحوالہ تحریر فرمائیں کہ آیا یہ بھی ضروریاتِ دِین ہیں یا نہیں؟ نیز آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صدر کے حلف اُٹھاتے وقت اِقرار کے الفاظ درج ذیل ہیں، اس بارے میں فرمائیں کہ اتنے اِقرار سے اسے مسلمان
385
کہہ سکتے ہیں یا بقیہ ضروریاتِ دِین کی وضاحت بھی ضروری ہے؟
’’میں قسم کھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور خدا پر میرا یقین کامل ہے، اور اس کی کتاب قرآن پاک آخری کتاب ہے، آخری نبی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں، جن کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا، قیامت کے دن پر، رسول کی سنت حدیث پر، قرآن پاک کے اَحکامات پر۔‘‘
(آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ص:۱۳۴)
مستفتی: (مولانا) عبدالمجید (صاحب)
شیخ الحدیث وصدر مدرّس
باب العلوم کہروڑپکا، ملتان
جواب:۔۔۔ ضروریاتِ دِین کا اِنکار کفر ہے،(۲) منکر کا تأویل کرنا معتبر نہیں۔ یہ دونوں اَمر مُسلَّمہ ہیں، اسی بنا پر پوری اُمتِ مسلمہ کا اِجماع ہوچکا ہے کہ مرزائی کافر ہیں۔ اسی طرح پرویزیوں کا کفر واِرتداد بھی مُسلَّمہ ہے۔
(۲) فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات فقد آمن ببعض الکتاب وکفر ببعضہ وھو من الکافرین۔
(إکفار الملحدین ص:۴، طبع پشاور)
ضروریاتِ دِین کی جو فہرست آپ نے پیش فرمائی ہے، باستثنائِ چند باقی صحیح ہے۔ ان ضروریاتِ دِین کی تفصیل جن کا اِنکار کفر ہے، ان کے لئے معیار کیا ہے؟ بندہ اس سلسلے میں دو کتابوں کے نام پیش کرتا ہے، ایک عربی ہے: ’’إکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدِّین‘‘ دُوسری اُردو میں ہے: ’’اِیمان وکفر‘‘ مصنفہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب (طرح) اس کا مطالعہ فرمایا جائے۔
بہرحال علمائے کرام کا، مل کر فیصلہ کرنا مناسب ہے، اور خود ہم اس کی جرأت مناسب خیال نہیں کرتے، کیونکہ تکفیرِ مسلمین کے مسئلے میں ہمارے اکابر نے اِحتیاط برتی ہے۔
باقی صدر کے حلف اُٹھانے کے لئے جو اَلفاظ ذِکر کئے گئے ہیں، وہ جامع مانع ہونے کی وجہ سے اِجمالی اِیمان کے لئے کافی ہیں، کھودوکرید کے بعد تو بہت کم لوگ مؤمن نکلیں گے، اِیمان کے لئے اِجمالی اِیمان بھی کافی ہے۔
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
محمد عبداللّٰہ عفا اللّٰہ عنہ |
| بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
بندہ محمد اِسحاق غفر لہٗ |
مفتی خیرالمدارس ملتان |
| نائب مفتی |
نائب مفتی |
۸؍۲؍۱۳۹۴ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۲۰۵ تا ۲۰۷)
کافر کی قسمیں اور مرزائیوں کو کیوں اقلیت قرار دیا گیا؟
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ آج احمدیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے سے کل شیعوں کو کافر قرار دینے، اور پرسوں وہابیوں کو مرتد قرار دینے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے، مسلمانوں کے تمام فرقے اہلِ قرآن، اہلِ حدیث، اہلِ
386
سنت، دیوبندی، اہلِ سنت والجماعت بریلوی، شیعہ وشیعہ اِسماعیلی، پرویزی، مودودی وغیرہ ایک دُوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، اور ہر ایک دُوسرے کو بدعتی، مشرک، منافق، کافر، مرتد، قابلِ گردن زدنی وغیرہ سمجھتے ہیں، تو پھر قادیانی فرقے کے جرم کی نوعیت کیا ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی جگہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعریف کی ہے، مثلاً:
وہ پیشوا ہمارا جس کا ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دِلبر میرا وہی ہے
(دُرّثمین اُردو ص:۷۷)
-
بعد از خدا بعشقِ محمد مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
دُرّثمین فارسی (ص:۸۱)
-
ما مسلمانیم با فضلِ خدا
مصطفی مارا اِمام وپیشوا
(دُرّثمین فارسی ص:۱۱۴)
-
ہمت او خیر الرسل خیر الانام
بر نبوّت را برو شد اختتام
(دُرّثمین فارسی ص:۱۱۴)
-
ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دِین
دِل سے ہیں خدام ختم المرسلین
(دُرّثمین اُردو ص:۱۱۱)
-
تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب
کیوں نہیں آتا تمہیں خوفِ عذاب
(دُرّثمین اُردو ص:۱۱۱)
اس لئے لاہوری مرزائی، مرزاقادیانی کو نبی نہیں مانتے، بلکہ سنیوں کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، لہٰذا فرمایا جائے کہ کیا وجہ ہے کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی اور اگر باری باری وہابی، شیعہ کو اقلیت قرار دِیا گیا تو کون مسلمان رہے گا؟
السائل: محمد انور
آفیسر مسلم کمرشل بینک، منگلا کالونی، براستہ دینہ ضلع جہلم
جواب:۔۔۔ بِعَوْنِ الْعَلَّامِ الْوَھَّابَ!
387
قانون شریعت کے مطابق کافر دو قسم کے ہیں:
۱:۔۔۔ کافر عنداللّٰہ۔ ۲:۔۔۔ کافر عند الشریعت۔
وہ لوگ جو عندالشریعت کافر نہیں مگر عنداللّٰہ کافر ہیں، جیسے بعض شیعہ، چکڑالوی اور اہلِ قرآن وغیرہ، ان کے متعلق شریعت کا حکم اور قانون دُوسرے کفار کے قوانین اور اَحکام سے مختلف ہیں، اور مندرجہ ذیل چند قوانین کی بنا پر ان پر شرعی فتوے کی نوعیت کچھ اس طرح ہوگی:
۱:۔۔۔ شرعاً ان کو اِجتماعی طور پر کافر نہیں کہا جاسکتا، بلکہ ہر شخص کی علیحدہ علیحدہ کفر لزومی کی تحقیق ہوگی۔
۲:۔۔۔ شرعی طور پر ان کو قومی کافر نہیں کہا جاسکتا، بلکہ بعد تحقیق اگر کسی بات سے کفر ثابت ہو تو ان کو اِنفرادی طور پر کافر کہا جائے گا، نہ کہ اِجتماعی۔
۳:۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو کسی بھی دارُالاسلام میں اقلیت قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اقلیت صرف اِجتماعی اور قومی کافروں کے لئے ہوتی ہے۔
۴:۔۔۔ اس قسم کے کافر کے ہر لفظ پر شرعی طور پر مفتیٔ اسلام خوب غور وفکر اور علمی تحقیق کرے گا، اگر ایسے شخص کے بولے ہوئے لفظ پر کوئی پہلو اِسلام کا نہیں نکلتا، ہر طرف سے کفر ہی ثابت ہوتا ہے، تب اس کے لئے اِنفرادی طور پر فتویٔ کفر جاری کیا جائے گا۔ مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو شیعہ یا وہابی یا چکڑالوی یا پرویزی کہتا ہے تو اس وقت یہ لفظ کہنے سے ہی اس کو کافر نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کے عقائد اس کے منہ سے سنے جائیں گے اور پھر وہ عقائد جن سے شرعی طور پر صرف کفر ہی ثابت ہو تو اس کو شرعاً کافر کہہ دیا جائے گا۔ دِینِ اسلام کے تمام فرقوں کا یہی حکم ہے۔ اس لئے ہر شیعہ یا دیگر فرقہائے باطلہ کو اِجتماعی طور پر کافر نہیں کہا جاسکتا۔ بخلاف دیگر کفار کے کہ وہ لوگ شرعی کافر ہیں، شرعی کافر اِجتماعی اور قومی کافر ہوتا ہے، ایسے کافروں کے عقائد اور الفاظ کی تحقیق یا تفتیش نہیں کی جاسکتی، یہ قومیت کے لحاظ سے کافر ہیں، مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو ہندو، سکھ، عیسائی یا یہودی کہتا ہے تو اس اِقرار سے ہی اس پر کفر کا فتویٰ جاری کردیا جائے گا، وہاں لفظی چھان بین نہ ہوگی، چنانچہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم ص:۲۷۹ پر ہے:
’’مسلم قال: انا ملحد، یکفر‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’مسلمان نے کہا: ’’میں ملحد ہوں‘‘ اتنا کہتے ہی کافر ہوجائے گا۔‘‘
ایسے کفار کو اقلیت قرار دِیا جاتا ہے۔ ہر دو کفر میں مندرجہ ذیل تین بنیادی اُصول ہیں:
۱:۔۔۔ نبوّت۔ ۲:۔۔۔ کتاب۔ ۳:۔۔۔ شریعت۔
موجودہ دور کے مرزائی لاہوری ہوں یا قادیانی، ان تین اُصول کی بنا پر قومی اور اِجتماعی کافر ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ اِسلامی فرقوں میں شامل نہیں ہوسکتے۔ اس وجہ سے حق مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مرتد قرار دنہیں دیا جاسکتا ہے، ان کا کلمہ پڑھنا بھی شرعی طور پر منافقت ہے نہ کہ اسلام، اور منافق کافر مطلق ہوتا ہے، نہ کہ مرتد بے دِین بدیں وجہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جانا شرعی حکم ہے۔ یہ
388
ہے وہ بنیادی فرق کہ جس کی بنا پر یہ اِسلامی فرقوں سے ممتاز ہے، قادیانی فرقہ مرزے کو نبی اور اس کی تصنیفات کو اللّٰہ کی وحی، اس کے اقوالِ بے ہودہ کو نئی شریعت مان کر شرعاً کافر، مرتد ہوئے۔ اور لاہوری فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی جیسے کافر کو جس کو شرعی مرتد کی حیثیت حاصل ہے، مسلمان کہہ کر کافر ہوئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر اور اِرتداد ان ہی تین مندرجہ بالا بنیادی اُصول سے ہے کہ اس نے پہلے اپنے آپ کو صحیح شرعی مسلمان بناکر پھر اپنے لئے نبوّت، نئی کتاب اور نئی شریعت کا دعویٰ کیا۔ مرزا غلام احمد کا نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کچھ نعتیں لکھنا، اس کے اسلام کی سند نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ ہمارے آقا دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نعتیں تو ہندوؤں، سکھوں نے لکھی ہیں۔واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ نعیمیہ ج:۲ ص:۱۹۲ تا ۱۹۴)
قادیانی کفریات
سوال:۔۔۔ (مسئلہ:۴۷،۴۸) مرسلہ عبدالواحد خان صاحب مسلم بمبئی اسلام پورہ، معرفت عبداللطیف ہیڈماسٹر میونسپل اُردو اسکول، ۴؍ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ۔
۱:۔۔۔ قادیانیوں سے کس طرح؟ کس پیرائے میں بحث کی جائے؟ یعنی ان کی تردید کے بھاری ذرائع کیا ہیں؟
۲:۔۔۔ کیا حدیثوں کے اِنکار سے انسان کافر ہوسکتا ہے؟ اگر ہاں تو کن حدیثوں کے اِنکار سے؟
جواب۱:۔۔۔ سب سے بھاری ذریعہ اس کے رَدّ کا اوّل اوّل کلماتِ کفر پر گرفت ہے جو اس کی تصانیف میں برساتی حشرات کی طرح اہلے گہلے پھر رہے ہیں، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہینیں، عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں (ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۲)۔ ان کی ماں طیبہ طاہرہ پر طعن، اور یہ کہنا کہ یہودی کے جو اِعتراض عیسیٰ اور ان کی ماں پر ہیں، ان کا جواب نہیں۔ اور یہ کہ نبوّتِ عیسیٰ پر کوئی دلیل قائم نہیں، بلکہ عدمِ نبوّت پر دلیل قائم ہے (اعجازِ احمدی ص:۱۳، خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۰)۔ یہ ماننا کہ قرآن نے ان کو اَنبیاء میں گِنا ہے، اور پھر صاف کہہ دینا کہ وہ نبی نہیں ہوسکتے، معجزاتِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے صراحۃً اِنکار، اور یہ کہنا کہ وہ مسمریزم سے یہ کچھ کیا کرتے تھے (ازالہ اوہام حاشیہ ۳۰۵، خزائن ج:۳ ص:۲۵۶)۔ اور یہ کہ میں ان باتوں کو مکروہ نہ جانتا تو آج عیسیٰ سے کم نہ ہوتا، تو وہ روشن معجزے جن کو قرآن مجید آیاتِ بینات فرما رہا ہے، یہ ان کو مسمریزم ومکروہ مانتا ہے، اپنے آپ کو اگلے انبیاء سے افضل بتانا اور یہ کہنا کہ: ’’ابن مریم کے ذِکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے‘‘ (دُرّثمین، اُردو ص:۵۳)۔ اور یہ کہنا کہ اگلے چار سو انبیاء کی پیش گوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے (ازالہ اوہام ص:۶۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)۔ اور یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چار دادیاں، نانیاں ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ زانیہ تھیں، اور یہ کہ اسی خون سے عیسیٰ کی پیدائش ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۷، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
اپنے آپ کو نبی کہنا، اپنی طرف وحیٔ اِلٰہی کا اِدّعا کرنا، اپنی بنائی ہوئی کتاب کو کلامِ اِلٰہی کہنا (خطبہ اِلہامیہ ص:۲۱، خزائن ج:۱۶ ص:۲۱)۔ اور یہ کہ آیۂ کریمہ: ’’وَمُبَشِّرًما بِرَسُولٍ یَّاتِی مِنم بَعدِی اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ (ان رسول کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے) سے مراد میں ہوں (اِزالہ اوہام ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳) اور یہ کہ مجھ پر
389
اُترا ہے: ’’إنّا انزلناہ قریبًا من القادیان وبالحق أنزلناہ وبالحق نزل‘‘ (ہم نے اسے قادیان میں اور حق کے ساتھ نازل کیا) (حقیقۃ الوحی ص:۸۸، خزائن ج:۲۲ ص:۹۱)۔ اور دُوسرا بھاری ذریعہ اس خبیث کی پیش گوئیوں کا جھوٹا پڑنا جن میں بہت چمکتے روشن حرفوں سے لکھنے کے قابل دو واقعے ہیں:
ایک:۔۔۔ اس کے بیٹے کا جس کی نسبت کہا تھا وہ انبیاء کا چاند پیدا ہوگا اور بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت لیں گے، مگر شانِ اِلٰہی کہ چوں دم برداشتم مادہ برآمد (جب میں نے دُم اُٹھاکر دیکھا تو مادہ پایا) بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کے اُوپر کہا کہ وحی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی، اب کی جو ہوگا وہ انبیاء کا چاند ہوگا۔ بیٹی، بیٹے ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں، اب کے ہوا بیٹا، مگر چند روز جی کر مرگیا۔ بادشاہ کیا، کسی محتاج نے بھی اس کے کپڑوں سے برکت نہ لی۔
دُوسری:۔۔۔ بہت بڑی بھاری پیش گوئی آسمانی جورو کی اپنی چچازاد بھائی احمد بیگ کو لکھ کر بھیجا کہ اپنی بیٹی محمدی میرے نکاح میں دے دے۔ اُس نے صاف اِنکار کردیا، اس پر پہلے طمع دِلائی، پھر دھمکیاں دیں، پھر کہا کہ وحی آگئی کہ ’’زوجناکھا‘‘ ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا، اور یہ کہ اس کا نکاح اگر تو دُوسری جگہ کرے گا تو ڈھائی یا تین برس کے اندر اس کا شوہر مرجائے گا۔ مگر اس خدا کے بندے نے ایک نہیں سنی، سلطان محمد خاں سے نکاح کردیا، وہ آسمانی نکاح دھرا ہی رہا، نہ وہ شوہر مرا، کتنے بچے اس سے ہوچکے اور یہ چل دئیے۔
غرض اس کے کفر وکذب حدِ شمار سے باہر ہیں، کہاں تک گنے جائیں، اور اس کے ہوا خواہ ان باتوں کو ٹالتے ہیں، اور بحث کریں گے تو کاہے میں کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اِنتقال فرمایا مع جسم کے اُٹھائے گئے یا صرف رُوح، مہدی وعیسیٰ ایک ہیں یا متعدّد، یہ ان کی عیاری ہوتی ہے، ان کفروں کے سامنے ان مباحث کا کیا ذِکر؟ فرض کیجئے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں، فرض کیجئے کہ وہ مع جسم نہیں اُٹھائے گئے، فرض کیجئے کہ مہدی وعیسیٰ ایک ہیں، پھر اس سے وہ تیرے کفر کیونکر مٹ گئے؟ کلام تو اس میں ہے کہ تو کہتا ہے کہ میں نبی ہوں، ہم کہتے ہیں تو کافر۔ اس کا فیصلہ ہونا چاہئے، انبیاء کی توہین، انبیاء کی تکذیب، معجزات سے اِستہزا، نبوّت کا اِدّعا، اور پھر دُوسرے درجے میں انبیاء کے چاند والا بیٹا، آسمانی جورو، یہ تیری تکفیر وتکذیب کو کافی ہیں۔
۲:۔۔۔ حدیثِ متواتر کے اِنکار پر تکفیر کی جاتی ہے، خواہ متواتر باللفظ ہو یا متواتر بالمعنی، اور حدیث ٹھہراکر جو کوئی اِستخفاف کرے تو یہ مطلقاً کفر ہے، اگرچہ حدیث آحاد بلکہ ضعیف، بلکہ فی الواقع سے اس بھی نازل ہو۔(۱) واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۲۷۹، ۲۸۰)
کافر بودن پیروان مرزا غلام احمد قادیانی
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کافر ہیں یا نہیں؟
(۱) وفی الخلاصۃ: من رَدّ حدیثًا قال بعض مشائخنا: یکفر، وقال المتأخرون: إن کان متواترًا کفر، اقول ھٰذا ھو الصحیح إلَّا إذا کان رَدّ حدیث الآحاد من الأخبار علٰی وجہ الإستخفاف والإستحقار والإنکار۔
(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۴، طبع بمبئی، ھند۔ ایضًا: فتاویٰ تاتارخانیۃ ج:۵ ص:۳۲۷، طبع إدارۃ القرآن کراچی)
390
۲:۔۔۔ کیا کسی مسلمان کو حق ہے کہ ان کو مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روکے؟ بینّوا توجروا!
جواب:۔۔۔ خود مرزا کے بقائے اسلام کے قائل ہونے کی تو اس کے اقوال دیکھنے کے بعد کچھ گنجائش نہیں، چنانچہ خود مرزا کے رسائل اور اس کے رَدّ کے رسائل میں وہ اقوال بکثرت موجود ہیں جن میں تأویل کرنا ایسا ہی ہے جیسے بت پرستی کو اس تأویل سے کفر نہ کہا جائے کہ توحیدِ وجودی کی بنا پر یہ شخص غیرخدا کا عابد نہیں۔ اب رہ گئے اس کے پیرو تو قادیانی پارٹی تو ان اقوال کو بلاتأمل مانتے ہیں، ان پر بھی حکم بالاسلام کی کچھ گنجائش نہیں۔ باقی لاہور پارٹی کے متعلق شاید کسی کو تردّد ہو، کیونکہ وہ مرزا کے دعویٔ نبوّت میں کچھ تأویل کرتے ہیں۔ سو اس تأویل کا صادق ہونا مرزا کے کاذب ہونے کو مستلزم ہے، جیسا کہ اُوپر اس تأویل کا متحمل نہ ہونا مذکور ہوا ہے، اور مرزا کا صادق ماننا اس تأویل کے باطل ہونے کو مستلزم ہے، پس اس جماعت پر حکم بالاسلام کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ مرزا کو کاذب کہیں، اور اگر اس کو صادق کہیں گے تو پھر ان پر بھی اسلام کا حکم نہیں کیا جاسکتا، اور جب ان سے نفی اسلام کی ثابت ہوچکی تو ان کے ساتھ کوئی معاملہ اہلِ سلام کا کرنا جائز نہ ہوگا۔ اور رسائلِ مذکورہ جابجا ملتے ہیں۔ اس وقت ایک چھوٹا سا رسالہ میرے سامنے موجود ہے کہ وہ بھی اس باب میں کافی ہے، اس کا نام ’’صحیفہ رنگون‘‘ ہے، جو غالباً ذیل کے پتے سے مل سکے، یا اگر رسالہ نہ مل سکے تو اس کے ملنے کا پتا مل سکے۔ (پتا) حاجی داؤد ہاشم رنگون، نمبر۴۸، مرچنٹ اسٹریٹ۔
۹؍ذُوالحجہ یومِ عرفہ ۱۳۴۱ھ
(تتمہ خامسہ ص:۲۴۸، اِمدادُالفتاویٰ ج:۶ ص:۵۹)
قادیانی کسی غیرمسلم کی سند سے مسلمان نہیں ہوسکتے
سوال:۔۔۔ اِستفتاء نمبر۱۹۵۲، مکرم ومحترم حضرت مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم لاجپوری صاحب، دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
جنوبی افریقہ ایک عیسائی ملک ہے، یہاں کی عدالت میں اسلامی قانون کا کوئی لحاظ نہیں، ایسی خالص غیراِسلامی عدالت میں ایک مرزائی احمدی نے یہ دعویٰ دائر کیا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور دُوسرے مسلمان ان کو کافر مرتد کہتے ہیں، اور اپنی مساجد میں عبادت نہیں کرنے دیتے، لہٰذا اس نے عدالت سے اِستدعا کی ہے کہ:
۱:۔۔۔ یہ غیرمسلم جج اس مرزائی احمدی کو مسلمان ہونے کا قطعی فیصلہ دے۔
۲:۔۔۔ یہ غیرمسلم جج اس مرزائی احمدی کو اِسلامی حقوق دِلوائے تاکہ وہ مسلمانوں کی مسجد میں عبادت کرسکے اور مسلمانوں کی قبرستان میں مدفون بھی ہوسکے۔
عدالت نے مسلمانوں کو طلب کیا کہ عدالت میں حاضر ہوکر اپنے دلائل پیش کریں کہ وہ مرزائی احمدی کو کیوں مسلمان قرار نہیں دیتے، اور مرزائی احمدی بھی آکر اپنے دلائل پیش کرے کہ وہ کس بنا پر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
یہ غیرمسلم یہودی یا عیسائی جج دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ وہ مرزائی احمدی مسلمان ہے یا نہیں؟ اب جواب طلب اَمر یہ ہے کہ:
391
۱:۔۔۔ غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین دائرۂ اسلام میں داخل ہیں یا نہیں؟
۲:۔۔۔ اسلامی حقوق ان کو حاصل ہیں یا نہیں؟
۳:۔۔۔ کیا غیرمسلم جج اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ وہ مرزائی قادیانیوں کے مسلمان ہونے کا فیصلہ دے؟
۴:۔۔۔ مسلمانوں کی جماعت کے لئے شرعاً کیا یہ جائز ہے کہ وہ ایسے مقدمے میں حاضر ہوکر ایک غیرمسلم عیسائی یا یہودی جج کو یہ موقع دے کہ وہ مسلمانوں کے خالص دِینی واِعتقادی معاملے میں فیصلہ کرے؟ براہِ کرم مدلل جواب تحریر فرماکر کرم فرمائیں، بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا ومسلّمًا وباﷲ التوفیق! مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ اہلِ سنت والجماعت کا اِختلاف اُصولی اِختلاف ہے، فروعی اور اِجتہادی اِختلاف نہیں ہے کہ اسے نظرانداز کیا جاسکے۔ پوری اُمتِ اسلامیہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، نبوّت کا سلسلہ آپ پر ختم ہوگیا ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ اور یہ عقیدہ قرآن وحدیث سے ایسے محکم اور قطعی طریقے پر ثابت ہے کہ اس میں ذرّہ برابر شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ’’خاتم النّبیین‘‘ کہا گیا ہے، اور خود آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ سلسلۂ نبوّت مجھ پر ختم کردیا گیا ہے، میں خاتم النّبیین ہوں، اور اَب میرے بعد کوئی نیا نبی، اللّٰہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔(۱) اسی لئے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانۂ خلافت سے لے کر آج تک پوری اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ جس طرح توحید ورِسالت، قیامت وآخرت اور قرآن کے کلام اللّٰہ ہونے کا منکر، پنج گانہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا منکر مسلمان نہیں ہوسکتا، اسی طرح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والا بھی کسی حال میں مسلمان نہیں ہوسکتا، ایسا شخص کذّاب ہے، ملعون ہے، دائرۂ اسلام سے قطعاً خارج ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ پہلے مسلمان تھا تو اس کو دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دِیا جائے گا۔(۲)
اُمت کی پوری تاریخ میں عملاً یہی ہوتا رہا ہے، مثلاً سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق اور تمام صحابہ کرام ۔۔۔رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین۔۔۔ نے مدعیٔ نبوّت مسیلمہ کذّاب اور اس کے ماننے والوں کے متعلق یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا، حالانکہ یہ بات محقق ہے کہ وہ لوگ توحید ورِسالت کے قائل تھے، ان کے یہاں اَذان بھی ہوتی تھی، اور اَذان میں ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ﷲ‘‘ اور ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ ﷲِ‘‘ بھی کہا جاتا تھا، ختمِ نبوّت سے متعلق یہ اِسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔
لیکن غلام احمد قادیانی نے اس بنیادی عقیدے سے بغاوت کی ہے اور اپنے لئے ایسے الفاظ کے ساتھ نبوّت کا دعویٰ کیا
(۱) ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الأحزاب:۴۰)۔ سیکون فی اُمّتی ثلاثون کلّھم یزعم انہ نبیٌّ وانا خاتم النَّبیین لا نبی بعدی۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۱۲۷، کتاب ذکر الفتن ودلائلھا، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲)إذا لم یعرف ان محمدًا صلی ﷲ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم، لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب المرتد، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ کراچی)۔
392
ہے کہ اس میں کسی طرح کی کوئی تأویل اور توجیہ کی گنجائش نہیں ہے، اور اس کے معتقدین اس کو دیگر اَنبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مثل ’’نبی‘‘ کہتے ہیں، اور اس غلط عقیدے پر ان کو بے حد اِصرار بھی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیرالدین محمود نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ ایک کتاب شائع کی تھی، جس کا موضوع ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کو ثابت کرنا تھا، اور اس کتاب میں مرزاقادیانی کے نبوّت کے دلائل خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے پیش کئے گئے ہیں، اس کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے لئے مسیحیت اور مہدویت کا اتنی کثرت سے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا اِنکار، یا اس کی تأویل ناممکن ہے۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام جو بالاجماع معصوم ہیں، ان کی بہت سخت توہین کی ہے، اور بہت سے مقامات پر خود کو اَنبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل بلکہ تمام انبیاء کی رُوح بتلایا ہے، نیز معجزات کا اِستہزا کیا ہے، قرآن میں تحریف کی ہے، احادیث کی بے حرمتی کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
دعویٔ نبوّت واقوالِ کفریہ قادیانی کی تحریر کے آئینے میں:
۱:۔۔۔ ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دِینِ حق اور تہذیبِ اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص:۳۶، خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۶)
۲:۔۔۔ ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔‘‘
(اِشتہار ایک غلطی کا اِزالہ ص:۷، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۱، حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۵)
۳:۔۔۔ ’’میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے، اور اسی نے مجھے مسیحِ موعود کے نام سے پکارا ہے، اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں، جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں، جن میں بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں لکھے گئے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۶۸، خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳)
۴:۔۔۔ ’’سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)
۵:۔۔۔ ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا آخری خط مندرجہ اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، حقیقۃ النبوۃ ص:۲۷۰)
۶:۔۔۔ ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول ونبی ہیں۔‘‘
(’’بدر‘‘ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء ، ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷)
۷:۔۔۔ ’’پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشین گوئیوں کے بعد دُنیا میں زلزلوں اور دُوسری آفات کا سلسلہ شروع ہوجانا میری سچائی کے لئے ایک نشانی ہے، یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصۂ زمین میں تکذیب ہو، مگر اس کی تکذیب کے وقت دُوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۱، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۵)
393
۸:۔۔۔ ’’سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتّٰی نَبعَثَ رَسُولًا‘‘ (الاسراء:۱۵) پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھارہی ہے اور دُوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے، اے غافلو! تلاش کرو شاید تم میں کوئی خدا کی طرف سے نبی قائم ہوگیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔‘‘
(تجلیاتِ اِلٰہیہ ص:۸،۹، خزائن ج:۲۰ ص:۴۰۰، ۴۰۱)
۹:۔۔۔ ’’خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۸، خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۹)
۱۰:۔۔۔ ’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دُنیا میں رہے، گو ستر برس رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۰)
۱۱:۔۔۔ ’’اِلہامات میں میری نسبت بار بار کہا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مأمور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کچھ کہتا ہے اس پر اِیمان لاؤ اور اس کا دُشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۶۲، خزائن ج:۱۱ ص:۶۲)
۱۲:۔۔۔ ’’انا ارسلنا احمد إلٰی قومہ فأعرضوا وقالوا کذاب اشر‘‘
(اربعین نمبر۳، ص:۳۳، خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۳)
۱۳:۔۔۔ ’’فکلمنی ونادانی وقال إنی مُرسلک إلٰی قوم مفسدین وإنی جاعلک للناس إمامًا وإنی مستخلفک إکرامًا کما جرت سُنّتی فی الأوّلین‘‘
(انجامِ آتھم ص:۷۹، خزائن ج:۱۱ ص:۷۹)
۱۴:۔۔۔ ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی، جس کی سچائی اس کے متواتر نشانیوں سے مجھ پر کھل گئی ہے، اور میں بیت اللّٰہ میں کھڑے ہوکریہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی، اور آسمان نے بھی، اسی طرح آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللّٰہ ہوں، مگر پیشین گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ اِنکار بھی کیا جاتا۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۶، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰، ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۴)
394
۱۵:۔۔۔ ’’آپ (یعنی مرزاقادیانی) نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسول نے ان ہی الفاظ میں آپ کو نبی کہا ہے جس میں قرآنِ کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۷۰)
۱۶:۔۔۔ ’’پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیحِ موعود قرآنِ کریم کے معنوں کی رُو سے بھی نبی ہیں اور لغت کے معنوں سے بھی نبی ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۱۶)
۱۷:۔۔۔ ’’پس شریعتِ اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس معنی کو حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں، بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۷۴)
۱۸:۔۔۔ ’’بلحاظِ نبوّت ہم بھی مرزاقادیانی کو پہلے نبیوں کی مطابق نبی مانتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۲۹۲)
مسیح ہونے کا دعویٰ:
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہمارا ۔۔۔یعنی اہلِ سنت والجماعت کا۔۔۔ عقیدہ یہ ہے کہ اللّٰہ نے ان کو زِندہ آسمان پر اُٹھالیا ہے، اور قیامت کے قریب آپ تشریف لائیں گے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ میرا بھی پہلے یہی عقیدہ تھا، مگر بعد میں ان کا یہ خیال ہوگیا کہ اللّٰہ نے اس کو بذریعہ وحی یہ بتلایا کہ یہ سراسر غلط خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں اور کسی وقت وہ دُنیا میں دوبارہ آئیں گے، بلکہ وہ مسیح اور عیسیٰ جو آنے والا تھا، وہ خود تو ہی ہے، تیرا ہی نام ابنِ مریم رکھا گیا ہے، اس سلسلے میں خود مرزاقادیانی کا بیان ملاحظہ ہو:
’’اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ ابنِ مریم اِسرائیلی تو فوت ہوچکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا، اس زمانہ اور اس اُمت کے لئے تو ہی عیسیٰ ابنِ مریم ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ج:۵ ص:۸۵، خزائن ج:۲۱ ص:۱۱۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ:
پہلے تو مرزاقادیانی مسیحِ موعود اور عیسیٰ ابنِ مریم ہی بنے تھے، لیکن پھر وہ اور آگے بڑھے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت کا اِعلان شروع کردیا، ان کے لڑکے مرزا بشیر احمد نے مرزاقادیانی کا یہ قول نقل کیا ہے:
’’میں مسیح کی خدائی کا منکر ہوں، ہاں بے شک وہ خدا کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا، مگر مجھے خدا نے اس سے برتر مرتبہ عطا کیا ہے۔‘‘
(تبلیغ ہدایت ص:۱۶۹)
’’اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۳، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۳)
مرزاقادیانی کا درج ذیل شعر بہت مشہور ہے اور خود مرزاقادیانی کو اَپنا یہ شعر بہت پسند تھا۔ اس لئے انہوں نے بار بار
395
اپنی تصنیفات میں اس کو نقل کیا ہے۔ شعر یہ ہے:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بڑھ کر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص:۲۰، خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)
مرزاقادیانی کا دُوسرا شعر ہے:
-
مرہمِ عیسیٰ نے دی تھی محض عیسیٰ کو شفا
میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک ودیار
(دُرّثمین اُردو ص:۱۳۹)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:
’’ہاں! آپ کو (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم حاشیہ نمبر۵ خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
’’یہ بھی یاد رہے کہ (آپ کو) کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘(استغفراللّٰہ!)
(ضمیمہ انجامِ آتھم حاشیہ ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم حاشیہ ص:۶، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآنِ کریم میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہیں رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۴، خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نسبت مرزاقادیانی کے خیالات:
’’کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دِکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دِکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانے میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ
396
اکثر صناع ایسی ایسی چڑیا بنالیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ کل کے ذریعے سے بعض چڑیا پرواز بھی کرتی ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص:۳۰۴، خزائن ج:۳ ص:۲۵۵)
’’کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اِطلاع دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک کے مارنے سے کسی طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو، کیونکہ حضرت مسیح ابنِ مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدّت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے، اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۰۳، ۱۲۸،۱۲۹، خزائن ج:۳ ص:۲۵۴)
نوٹ:۔۔۔ اس حوالے میں آخری عبارت پر غور کیجئے! حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ پر کس قدر گندہ بہتان لگایا ہے، قرآن مجید کی بیان کی ہوئی اس حقیقت پر تمام اہلِ اسلام کا بلاکسی شک وشبہ کے اِیمان ہے کہ اللّٰہ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بلاکسی شخص کی وساطت کے، اَمرِ ’’كُن‘‘ سے پیدا فرمایا تھا۔ حضرت مریم عفیفہ اور پاک دامن تھیں، آپ کا کسی شخص سے تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔(۱) قرآن کی اس صریح وضاحت کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے کس قدر غلط بات لکھی ہے، یہ قرآن کے بالکل خلاف ہے، اور قرآن کا اِنکار ہے، اس کے باوجود اس کو مسلمان سمجھنا اور اس کے متبعین کا اپنے کو مسلمان کہنا، کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔۔۔؟
’’اوائل میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابنِ مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ خدا کے نبی ہیں، اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد میں جو خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳، ۱۵۴)
’’اس اَمر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا نے مجھے انجام دینے کی قوّت دی۔وھٰذا تحدیث نعمۃ ﷲ ولا فخر‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
(۱) ’’وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللہَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاء الْعَالَمِیْنَ…… قَالَتْ رَبِّ أَنَّی یَکُونُ لِیْ وَلَدٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذَلِکِ اللہُ یَخْلُقُ مَا یَشَاء ُ إِذَا قَضَی أَمْراً فَإِنَّمَا یَقُولُ لَہُ کُن فَیَکُونُ‘‘ (آل عمران:۴۲، ۴۷)
397
حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ:
’’بس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجز اِسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ عاجز قید کی دُعا کرکے بھی قید سے بچالیا گیا، مگر یوسف ابنِ یعقوب قید میں ڈالا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ ج:۵ ص:۹۹، خزائن ج:۲۱ ص:۹۹)
میں سب کچھ ہوں:
مرزاقادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمام نبیوں کی رُوح اور ان کا خلاصہ ہوں، میری ہستی میں تمام انبیاء سمائے ہوئے ہیں، چنانچہ اس نے لکھا ہے:
’’میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابنِ مریم کے نام سے موسوم نہیں، بلکہ اور بھی میرے نام ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں اِبراہیم ہوں، میں اِسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اِسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابنِ مریم ہوں، میں محمد ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۵۲۱)
معجزات کی کثرت:
جب مرزاقادیانی نے پیغمبری اور نبوّت کا دعویٰ کیا تو معجزات کا دعویٰ بھی لازم تھا، چنانچہ انہوں نے معجزات کا دعویٰ بھی معمولی انداز سے نہیں کیا، بلکہ اللّٰہ کے تمام نبیوں کو معجزات کے معاملے میں بہت پیچھے چھوڑ دیا، چنانچہ لکھتا ہے:
’’خداتعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دِکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوّت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۳۱۷، خزائن ج:۲۳ ص:۳۳۲)
’’ہاں! اگر یہ اِعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں؟ تو میں صرف یہی جواب نہیں دُوں گا کہ میں معجزات دِکھلاسکتا ہوں، بلکہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دِکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دِکھائے ہوں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی ہے، اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶، خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۴)
’’اور خداتعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دِکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان
398
دِکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷، خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۵)
’’ان چند سطروں میں جو پیشین گوئیاں ہیں، وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہے جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گی اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اَوّل درجے پر خارق عادت ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۵۶، خزائن ج:۲۱ ص:۷۲)
’’اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ اِحتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۵۶، خزائن ج:۲۱ ص:۷۲)
احادیث کے متعلق مرزاقادیانی کا خیال
’’ہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی، ہاں تائیدی طور پر ہم حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں، اور دُوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اِعجازِ احمدی ص:۳۶، خزائن ج:۱۹ ص:۱۴۰)
شیخ المحدثین حضرت مولانا اِدریس کاندھلوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں:
’’فرقۂ قادیانیہ ومرزائیہ:
اس زمانے کے گمراہ ترین فرقوں میں سے ایک فرقہ قادیانیہ اور مرزائیہ ہے، جو مرزا غلام احمد قادیانی ساکن قصبہ قادیان ضلع گورداسپور کا پیرو ہے، اس کا دعویٰ یہ تھا کہ میں مسیحِ موعود اور مہدیٔ منتظر ہوں، اور نبی اور رسول ہوں، اور تمام پیغمبروں کا ظل وبروز ہوں اور سب سے افضل واکمل ہوں:
-
دمبدم گفتے کہ من پیغمبرم
وزہمہ پیغمبراں بالا ترم
اور نہایت ڈھٹائی اور بے حیائی سے یہ کہتا تھا کہ میں وہی رسولِ موعود اور مبشرِ معہود ہوں جس کی قرآن پاک میں بدیں الفاظ بشارت موجود ہے: ’’وَإِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ إِنِّیْ رَسُولُ اللہِ إِلَیْکُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶) گویا کہ مرزائے قادیان کے گمان میں یہ آیت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل نہیں ہوئی، بلکہ قادیان کے ایک دہقان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اسی طرح بہت سی آیات جو سیّدنا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئیں، ان کے متعلق کہتا ہے کہ یہ آیتیں میرے بارے میں نازل ہوئیں، کوئی دیوانہ ہی ہوگا جو اس بات کو مانے گا کہ قرآن کی آیتیں مرزائے قادیان کے بارے میں نازل ہوئیں:
399
آبلہ گفت دیوانہ باور کرد
اور کہا کہ میں کلمۃاللّٰہ ہوں، اور رُوح اللّٰہ اور عیسیٰ ہوں، بلکہ اس سے بڑھ کر ہوں، جیسا کہ خود اس کا قول ہے:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دُرّثمین اُردو ص:۵۳)
اور جب مرزا نے یہ دعویٰ کیا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں تو سوال ہوا کہ آپ عیسیٰ ابنِ مریم جیسے معجزات دِکھلائیے جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ وہ مُردوں کو زِندہ کرتے تھے اور کوڑھیوں اور اندھوں کو اَچھا کرتے تھے، تو جواب میں بولا کہ عیسیٰ کا یہ تمام کام مسمریزم تھا، میں ایسی باتوں کو مکروہ جانتا ہوں، ورنہ میں بھی کردِکھاتا۔
اور مرزا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا بتاتا تھا، اور بغیر باپ کے پیدا ہونے کا منکر تھا، اور طرح طرح سے ان کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتا تھا۔
علمائے ربانیین نے اس مسیلمہ پنجاب کے رَدّ میں بے مثال کتابیں لکھیں، مرزا غلام احمد قادیانی کی مایۂ ناز کتاب ’’ازالۃ الاوہام‘‘ ہے، حضرت مولانا انواراللّٰہ خان حیدرآبادی نے اس کی تردید میں بے مثال کتاب لکھی جس کا نام ’’افادۃ الافہام‘‘ رکھا اور اس ناچیز نے بھی متعدّد رسائل اس مسیلمہ پنجاب کے رَدّ میں لکھے جو چھپ چکے ہیں۔ اے مسلمانو! عہدِ رِسالت سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں مدعیٔ نبوّت ورِسالت اور مدعیٔ عیسویت اور مہدویت گزر چکے ہیں، جو مرزائیوں کے نزدیک بھی کافر اور مرتد اور ملعون تھے، جس دلیل سے گزشتہ مدعیانِ نبوّت مرزا کے نزدیک کافر اور مرتد تھے، اسی دلیل سے یہ جدید مدعیٔ نبوّت مرزائے قادیان بھی کافر ومرتد ہے۔‘‘
(عقائدِ اِسلام ص:۱۸۱، ۱۸۲، حصہ اوّل، اَز حضرت مولانا محمد اِدریس کاندھلویؒ)
مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوالِ کفریہ میں سے چند اَقوالِ کفریہ بطورِ نمونہ نقل کئے گئے ہیں، ان سے صراحۃً یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ نبوّت کا مدعی ہے اور اس کے معتقدین بھی اس کی نبوّت کے قائل ہیں، لہٰذا غلام احمد قادیانی قطعی طور پر اِسلام سے خارج اور اس کے متبعین بھی جو اس کی نبوّت کو تسلیم کرتے ہیں یا دعویٔ نبوّت کے باوجود اسے دائرۂ اسلام میں سمجھتے ہیں، وہ لوگ بھی قطعی طور پر کافر مرتد اور خارج اَز اِسلام ہیں۔
علمی لطیفہ:
موقع کی مناسبت سے ایک علمی لطیفہ ذہن میں آیا، رنگون میں خواجہ کمال الدین قادیانی پہنچا، بڑا عیار چالاک اور چالباز تھا،
400
اس نے اہلِ رنگون کے سامنے اپنے اسلام کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ہم غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہیں، اور یہ بات قسمیہ کہتا ۔۔۔جیسا کہ بہت سے قادیانی خصوصاً لاہوری کہتے ہیں۔۔۔ کہ خواہ مخواہ ہم کو بدنام کیا جاتا ہے، حالانکہ ہم پکے مسلمان ہیں، قرآن کو مانتے ہیں، حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللّٰہ کا سچا رسول سمجھتے ہیں۔ عوام اس کی باتوں میں آگئے، اس کی تقریریں ہونے لگیں، بہت سے مقامات پر نماز بھی پڑھائی، جمعہ تک پڑھایا، رنگون کے ذمہ دار بہت فکرمند تھے کہ عوام کو کس طرح اس فتنے سے محفوظ رکھیں، عوام میں دن بدن اس کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ مقامی علماء سے اس کی گفتگو بھی ہوئی، مگر اپنی چالبازی کی وجہ سے اپنی اصلیت ظاہر نہ ہونے دیتا۔
مشورہ کرکے یہ طے پایا کہ اِمامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ کو مدعو کیا جائے، چنانچہ تار دے دیا گیا، اور وہاں اس کی شہرت بھی ہوگئی کہ بہت جلد مولانا عبدالشکور صاحبؒ تشریف لارہے ہیں، وہ اس سے گفتگو کریں گے۔ خواجہ کمال الدین نے جو مولانا کا نام سنا تو راہِ فرار اِختیار کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی، چنانچہ مولانا کے وہاں پہنچنے سے پہلے پہلے چلاگیا۔ مولاناؒ تشریف لے گئے، مولانا کی تقریریں ہوئیں، عوام کو حقیقت سے خبردار کیا اور ذمہ داروں کی ایک مجلس میں فرمایا کہ آپ حضرت نے غور فرمایا کہ وہ کیوں یہاں سے چلا گیا؟ دراصل وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ میں اس سے یہ سوال کروں گا کہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کا قائل نہیں، مگر تو اسے مسلمان سمجھتا ہے یا کافر؟ اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا، جو جواب بھی دیتا پکڑا جاتا، وہ مرزا کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا، اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعیٔ نبوّت ہو، وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا، ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے۔ میں اس سے یہی سوال کرتا، اور اِن شاء اللّٰہ! اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہوجاتا اور اس کا راز فاش ہوجاتا، یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا، اس لئے آپ لوگ پریشان رہے۔
بہرحال یہ ایسا ظاہر وباہر مسئلہ ہے کہ اس میں کسی کو فیصل بنانے اور اس سے فیصلہ کرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا مرزائی احمدی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی غیرمسلم کے پاس اپنا مقدمہ لے جاکر اس سے اپنے مسلمان ہونے کی سند حاصل کرے، اور ایسی سند سے وہ مسلمان بھی نہیں ہوسکتا، اس کو سچا اور پکا مسلمان ہونا ہے تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ جس راہ پر وہ گامزن ہے، اس کو چھوڑ کر صدقِ دِل سے توبہ کرے، اور اس کا اِعلان کرے، مرزا غلام احمد کی نبوّت کا اِنکار کرے، اور اس کی تکفیر کرے، اور اس کے تمام عقائدِ باطلہ سے یکسر توبہ کرے، اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق تجدیدِ اِیمان وتجدیدِ نکاح کرے۔ جب وہ مسلمان ہی نہیں ہے تو اِسلامی حقوق بھی اس کو حاصل نہیں ہوں گے، اور اِسلامی اِصطلاحات کا اِستعمال بھی اس کے لئے جائز نہ ہوگا، لہٰذا اس کافر ومرتد فرقے کو اہلِ سنت والجماعت کی مسجد میں نماز پڑھنے اور مدارس میں داخلہ لینے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کا قطعاً حق حاصل نہیں ہے، اور اس کا یہ مطالبہ بالکل غلط ہے۔
یہ مسلمانوں کا خالص دِینی واِعتقادی مسئلہ ہے، ایسے معاملے میں جو دِین کے ماہر ہیں انہی کا فیصلہ قابلِ قبول ہوسکتا ہے، اس لئے عدالت کو چاہئے کہ اس معاملے کو علمائے محققین کی کمیٹی کے سپرد کردے، اس لئے کہ فیصلہ نافذ کرنے اور قاضی بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے اندر تمام شرائطِ شہادت موجود ہوں، اور شرائطِ شہادت میں سے پہلی شرط اِسلام ہے، جب پہلی ہی
401
شرط مفقود ہو تو وہ شرعی طور پر قاضی نہیں ہوسکتا، اور اس کا فیصلہ شرعی فیصلہ نہیں کہا جاسکتا، یہ شرط فقہ کی تمام کتابوں میں درج ہے، مثلاً البحرالرائق میں ہے:
’’(قولہ اھلہ اھل الشھادۃ) ای اھل القضاء ای من یصح منہ او من تصح تولیتہ لہ (إلٰی قولہ) وھو ان یکون حُرًّا مسلمًا بالغًا عاقلًا عدلًا (إلٰی قولہ) فلا تصح تولیۃ کافر وصبی۔‘‘
(ج:۶ ص:۲۶۰ کتاب القضاء)
’’یعنی قاضی وہ شخص بن سکتا ہے جس میں (مسلمانوں کے باہمی معاملات میں) شہادت دینے کی صلاحیت ہو، اور صلاحیت اس شخص کے اندر ہوسکتی ہے جو آزاد ہو (غلام نہ ہو)، مسلمان ہو (غیرمسلم نہ ہو)، بالغ ہو (نابالغ نہ ہو)، عاقل ہو (مجنون اور دِیوانہ نہ ہو)، عادل اور ثقہ ہو (فاجر اور فاسق نہ ہو)، ۔۔۔الیٰ قولہ۔۔۔ اسی بنا پر کافر اور بچے کو عہدۂ قضا سپرد کرنا صحیح نہیں ہے۔‘‘
اور کسی کمیٹی کو بھی اِسلامی حیثیت اسی وقت حاصل ہوگی، جب اس کے تمام اَرکان میں شرائطِ شہادت مجتمع ہوں، لہٰذا اگر کمیٹی کا ایک رُکن بھی غیرمسلم ہوگا تو کمیٹی کی اِسلامی حیثیت باقی نہ رہے گی اور اس کا فیصلہ اسلامی فیصلہ نہ ہوگا۔
مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عدالت میں اپنا موقف ظاہر کردیں، اور یہ بتلادیں کہ یہ ہمارے خالص اِیمان وعقائد کا مسئلہ ہے، اور اس خالص دِینی واِعتقادی مسئلے میں ہمارے لئے ماہرینِ دِین وعلمائے اسلام ہی کا فیصلہ قابلِ قبول ہوسکتا ہے، اور مُسلَّمہ اُصول ہے کہ ہر مسئلے اور ہر معاملے کے حل کے کچھ اُصول وضوابط ہوتے ہیں، اور مسئلہ انہیں ضوابط واُصول کے ماتحت حل کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہم اپنے اُصول وضوابط کی پابندی کر رہے ہیں، اس لئے عدالت کو چاہئے کہ اس مسئلے کے حل میں شریعتِ اسلام کے اُصول وضوابط کی قدر کرے اور یہ مسئلہ مسلمانوں کی کمیٹی کے حوالے کردے۔
فقط واللّٰہ اعلم بالصواب!
احقر سیّد عبدالرحیم لاجپوری ثم راندیری غفر لہٗ
راندیر - مؤرخہ ۲۵؍جمادی الاولیٰ ۱۴۰۶ھ
(فتاویٰ رحیمیہ ج:۷ ص:۲۵ تا ۳۹)
قادیانی اور لاہوری دونوں کافر، قادیانی کے تفصیلی اَحکام
سوال۱:۔۔۔ قادیانی مذہب کی لاہوری، محمودی دونوں جماعتیں کافر ہیں یا کوئی ایک؟
۲:۔۔۔ مرزاقادیانی کی جماعت کیوں کافر ہوئی؟ حالانکہ وہ اِیمانِ مفصل کی تمام باتوں پر اِعتقاد رکھتے ہیں۔
۳:۔۔۔ قادیانی کو لڑکی دینا لینا، ان کو اپنی قوم میں داخل وشامل رکھنا، ان کی غمی وشادی میں خود شریک ہونا، یا اپنی شادی وغیرہ میں ان کو برادری کی طرف سے شرکت کی دعوت دینا، ان کے اموات اپنے قبرستان میں داخل کرنا، جائز ہے یا نہیں؟
402
۴:۔۔۔ ایک مسلمان کا اگر قادیانی سے کچھ نسبتی رشتہ ہو تو اس کو برقرار رکھنا اور رِشتہ داری کے حقوق اپنے اُوپر عائد جان کر اَدا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
۵:۔۔۔ قادیانی سے اپنے تمام نسبتی تعلقات اور برادری وقومیت کے علاقے منقطع کرنا جب تک کہ وہ تائب نہ ہو، اَز رُوئے شرع شریف ہر مسلمان کو ضروری ہے یا نہیں؟ مدلل تحریر ہو۔
محمد ولی اللّٰہ غفرلہٗ
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کی گئی ہے، اور یہ تکفیر اہلِ حق متدین علماء نے کی ہے۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ فی الحال قادیانیوں کی دو پارٹیاں ہیں، ایک مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اِعتقاد کرتی ہے، دُوسری مجدّد اور بہت بڑے درجے کا ولی مانتی ہے۔ یہ بھی آپ پر شاید مخفی نہیں کہ اسبابِ تکفیر کیا ہیں؟ جگہ جگہ نبوّت کا دعویٰ، اپنے اُوپر وحی کا نزول، کتبِ سابقہ سماویہ میں اپنی نبوّت کی بشارت، حضرت نوح علیہ السلام کے معجزات پر اپنے معجزات کی زیادتی اور فوقیت، انبیائے سابقین علیہم السلام کی توہین وتحقیر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب وسب شتم، اور آپ کے خاندان پر زِنا کا اِفترا، اللّٰہ پاک سے اپنی ہم بستری وغیرہ وغیرہ جیسا کہ اِعجازِ احمدی، اِزالۃ الاوہام، حقیقۃ الوحی، ضمیمہ انجامِ آتھم، دافع البلاء، حاشیہ کشتی نوح وغیرہ کتب کے مطالعے سے ظاہر ہے۔ اگر ان اشیاء میں سے کوئی شے فی الحال آپ کے علم میں نہ ہو تو کتبِ بالا کے مطالعے سے اِستحضار ہوسکتا ہے۔ آپ کے اِستفتاء سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر منشائے شبہ دو چیزیں ہیں:
اوّل:۔۔۔ یہ کہ اِیمانِ مفصل کا قائل ہوکر آدمی کیسے کافر ہوسکتا ہے؟
دوم:۔۔۔ یہ کہ جو پارٹی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی، وہ کس بنا پر کافر ہے؟
سو اَمرِ اوّل کے متعلق عباراتِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
۱:۔۔۔ ’’من انکر شیئًا من شرائع الإسلام فقد ابطل قول لا إلٰہ إلَّا ﷲ۔‘‘
(السیر الکبیر ج:۳ ص:۳۶۵، جزء:۵، باب ما یکون رجل بہ مسلمًا)
۲:۔۔۔ ’’إذا لم یعرف الرجل ان محمدًا صلی ﷲ علیہ وسلم آخر الأنبیاء، علیھم وعلٰی نبینا السلام، فلیس بمسلم، کذا فی الیتیمیۃ اھـ۔ قال ابو حفص الکبیر کل من اراد بقلبہ بغض نبی کفر وکذا لو قال: انا رسول ﷲ، او قال بالفارسیۃ: من پیغام برم، یرید من پیغام می برم یکفر، ولو انہ حین قال ھٰذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا: إن کان غرض الطالب توجیزہ وافتضاحہ لا یکفر۔‘‘
(فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۶۳)
۳:۔۔۔ ’’وفی البزازیۃ: یجب الإیمان بالأنبیاء بعد معرفۃ معنی النبی وھو المخبر عن ﷲ تعالٰی بأوامرہ ونواھیہ وتصدیقہ بکل ما اخبر عن ﷲ تعالٰی، واما الإیمان بسیّدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم یجب بأنہ رسولنا فی الحال وخاتم الأنبیاء والرسل فإذا آمن بأنہ رسول ولم یؤْمن
403
بأنہ خاتم الأنبیاء لا یکون مؤْمنًا۔ وفی فصول العماد: من لم یقر ببعض الأنبیاء بشیء او لم یرض بسُنَّۃ من سُنن المرسلین علیھم السلام فقد کفر۔‘‘
(مجمع البحار ج:۱ ص:۶۹۹)
۴:۔۔۔ ’’ولو عاب نبیًّا کفر۔‘‘
(اوجز ج:۳ ص:۳۲۷)
۵:۔۔۔ ’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کُفرٌ بالإِجماع۔
(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
’’ثم لا نزاع فی ان من المعاصی ما جعلہ الشارع امارۃ التکذیب وعلم کونہ کذالک بالأدلۃ الشرعیۃ کسجود الصنم وإلقاء المصحف فی القازورات والتلفظ بکلمۃ الکفر ونحوہ ذالک مما ثبت بالأدلۃ انہ کفر وبھٰذا یندفع ما یقال ان الإِیمان إذا کان عبارۃ عن التصدیق والإِقرار فینبغی ان لا یصیر المقر باللسان المصدق بالجنان کافرًا بشیء من افعال الکفر والفاظہ ما لم یتحقق منہ التکذیب او الشک۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۹۳)
دیکھئے! اس میں کتنی صورتیں ہیں کہ باوجود اِیمانِ مفصل کی تمام باتوں پر ظاہراً اِعتقاد رکھتے ہوئے فقہاء نے اِجماعاً تکفیر فرمائی ہے۔ اگر محض ’’آمنت باﷲ‘‘ کا اِعتراف زبان سے کافی ہوتا اور یہ کفر کے منافی ہو تو فقہاء قاطبہ کیوں تکفیر فرماتے ہیں؟ اگر دعویٔ نبوّت منافیٔ اِیمان نہیں تو مسیلمہ کذّاب کی تکفیر بھی بے محل ہوگی، اور پھر اس کا قتل جو اکابر صحابہؓ کے اِرشاد سے قرونِ اُولیٰ میں ہوا ہے، محتاجِ تأمل ہوگا، حالانکہ وہ اِجماعی ہے۔ اس نے چند آیات بنائی تھیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی قصیدۂ اِعجازیہ پیش کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفعِ جسمانی اور بغیر باپ کے پیدا ہونا قطعی اور اِجماعی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصانیف میں متعدّد مقامات پر ہر دو کا اِنکار کیا ہے۔ ملائکہ کے متعلق بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بہت سی تحریرات میں خلافِ تصریحاتِ اسلام خرافات موجود ہیں۔ اگر بعض شرائع کو تسلیم بھی کیا ہے اور بعض کا اِنکار کیا ہے یہ بالکل وہی شان ہے:’’وَیْقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُونَ أَن یَتَّخِذُواْ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاً. أُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْنا‘‘ (النساء:۱۵۰، ۱۵۱) جو شخص ملائکہ اور رُسل کو سب وشتم کرے، اور ان سے عداوت رکھے، اس کے متعلق کلامِ پاک میں اِرشاد ہے: ’’مَن کَانَ عَدُوّاً لِّلّٰہِ وَمَلآئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَالَ فَإِنَّ اللہَ عَدُوٌّ لِّلْکَافِرِیْنَ‘‘ (البقرۃ:۹۸) اُمید ہے کہ اب دِل میں کوئی شبہ نہیں رہا ہوگا۔ اگر اَب بھی کوئی شبہ ہو تو شرح شفا خفاجی، الصارم المسلول، ردالمحتار، شرح مقاصد کو تفصیل سے دیکھئے کہ کن اشیاء سے اِرتداد کا حکم ہوجاتا ہے؟ اور خصوصیت سے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق إکفار الملحدین اور فیصلہ مقدمہ بہاولپور میں کافی تفصیل موجود ہے، جو جماعت مرزا کی ہم عقیدہ ہے اور اس کو نبی مانتی ہے، اس کا حکم عباراتِ مذکورہ سے ظاہر ہوگیا۔
اَمرِ دوم! جس شخص کی تکفیر کے متعلق نصوصِ بالا ناطق ہوں، اس کو مجدّد، ولی اِعتقاد کرنا بھی کفر ہے۔ خود خیال کیجئے کہ اللّٰہ تعالیٰ جس کے عدو ہوں، اس سے محبت اور اِعتقاد صراحۃً اللّٰہ تعالیٰ کی مخالفت ہے یا نہیں۔۔۔؟ مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت
404
صرف کافرِ اَصلی کی نہیں، بلکہ مرتد کی تھی، اور اِرتداد بھی وہ جو کہ زِندیق میں ہوتا ہے۔ آج بھی جو شخص مرزا کے عقائد کو اِختیار کرے گا اس پر بھی شریعت مرتد کا حکم لگائے گی۔ زِندیق اور مرتد کے اَحکام ’’ردالمحتار‘‘ (ص:۴۵۷) میں دیکھئے۔ اِجمالی طور پر آپ کے جملہ سوالات کا جواب ظاہر ہوگیا، تاہم تفصیل سے نمبروار سنئے:
۱:۔۔۔ ہر دو کا حکم ایک ہے۔
۲:۔۔۔ قطعیات اور اِجماعیات کے اِنکار کی وجہ سے۔
۳:۔۔۔ یہ جملہ اُمور شرعاً ناجائز ہیں۔
’’ولا الوثنیات وھو بالإِجماع والنص ویدخل فی عبدۃ الأوثان عبدۃ الشمس والنجوم والصور التی استحسنوھا والمعطلۃ والزنادقۃ الباطنیۃ والإِباحیۃ وفی شرح الوجیز وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔‘‘
(فتح القدیر ج:۳ ص:۱۳۷)
’’ولا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ وکذالک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط۔‘‘
(ھندیۃ ج:۱ ص:۲۸۲)
’’موتی المسلمین إذا اختلطوا بموتی الکفار او قتلی المسلمین بقتلی الکفار إن کان للمسلمین علامۃ یعرفون بھا یمیز بینھم، وإن لم تکن علامۃ إن کانت الغلبۃ للمشرکین فإنہ لا یصلی علی الکل، ولٰکن یغسلون ویکفنون ویدفنون فی مقابر المشرکین۔‘‘
(عالمگیری ج:۱ ص:۱۰۹)
’’مختصرًا اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘
(درمختار ج:۱ ص:۶۴۰)
۴:۔۔۔ مرتد کا رِشتہ تو باقی رہتا ہے، مگر حقوقِ رشتہ داری منقطع ہوجاتے ہیں، حتیٰ کہ اگر کسی کا کوئی رِشتہ دار ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ قادیانی ہو تو اس کا نفقہ واجب نہیں ہوگا:
’’ولا نفقۃ مع الإِختلاف دینًا إلَّا للزوجۃ والاُصول والفروع الذمیین إلخ (تنویر)۔ قولہ: مع الإختلاف دینًا: ای کالکفر والإسلام فلا یجب علٰی احدھما الإنفاق علی الآخر وفیہ اشعار بأنَّ نفقۃ السُّنِّیِّ علی الموسر الشِّیعِیِّ کما اُشیر إلیہ فی التکمیل قھستانی، والمراد الشیعی المفضِّل بخلاف السابّ القاذف فإنہ مرتد یقتل إن ثبت علیہ ذالک، فإن لم یقتل تساھلًا فی إقامۃ الحدود فالظاھر عدم الوجوب، لأن مدار نفقۃ الرحم المحرم علٰی اھلیّۃ الإِرث، ولا توارث بین مسلم ومرتد۔ نعم! لو کان یجحد ذالک ولا بینۃ یعامل بالظاھر وإن اشتھر حالہ بخلافہ۔ وﷲ سبحانہ اعلم!‘‘
(ردالمحتار ج:۲ ص:۷۴۲، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
۵:۔۔۔ اگر تعلقات باقی رکھنے سے ان کی اِصلاح اور ہدایت کی توقع ہو تو تعلقات کو برقرار رکھنا مناسب ہے۔ اور ایسی
405
حالت میں نرمی وتلطف سے اُن کے عقائد کی خرابی کو آہستہ آہستہ اُن پر ظاہر کرتے رہنا چاہئے۔ اگر تعلقات رکھنے سے اپنے اُوپر خراب اثر پڑنے کا اندیشہ ہو، یا اُن کی اِصلاح کی توقع نہ ہو، یا دُوسرے لوگوں کی بدگمانی کا خطرہ ہو، یا ترکِ تعلق سے ان کی توبہ اور اِصلاح کی توقع نہ ہو تو تعلق منقطع کردیا جائے۔ یہ چیز ایسی ہے کہ ہر شخص کے لئے یکساں نہیں، بلکہ ماحول کے اِختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے۔ جس صورت میں اُخروی نفع کی توقع ہو، اس کو اِختیار کرنا چاہئے، اور دُنیاوی نفع کو اُخروی نفع پر ترجیح دینا دُرست نہیں۔ البتہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دُشمن سے قلبی محبت رکھنا حرام ہے۔ قال تبارک وتعالٰی:
’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء تُلْقُونَ إِلَیْہِم بِالْمَوَدَّۃِ‘‘ (الممتحنہ:۱)
’’روی انھا فی حاطب ابن ابی بلتعۃ حین کتب إلٰی کفار قریش ینصح لھم فاطلع ﷲ نبیّہ علٰی ذالک، فدعاہ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فقال: انت کتبت ھٰذا الکتاب؟ قال: نعم! قال: وما حملک علٰی ذالک؟ قال: اما وﷲ! ما ارتبت فی ﷲ منذ اسلمت، ولٰکنی کنت امرأً غریبًا فی قریش وکان لی بمکۃ مال وبنون فأردت ان ادفع بذالک عنھم۔ فقال عمر: ائذن لی یا رسول ﷲ! فأضرب عنقہ؟ فقال النبی صلی ﷲ علیہ وسلم: مھلًا یا ابن الخطاب! انہ قد شھد بدرًا وما یدریک لعل ﷲ قد اطلع علٰی اھل بدر فقال: إعملوا ما شئتم، فإنی غافر لکم۔‘‘
(احکام القرآن ج:۳ ص:۵۳۳)
’’وفیہ دلیل علٰی ان الکبیرۃ لا تسلب اسم الإیمان۔‘‘
(مدارک التنزیل ج:۴ ص:۱۸۶)
فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ
۲۴؍۲؍۱۳۶۱ھ
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
|
مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
مدرسہ مظاہر علوم |
|
۲۸؍صفر ۱۳۶۱ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۰ ص:۳۳-۳۸)
نماز کا اِنکار کرنے والا اِنسان کافر ہے
سوال:۔۔۔ ایک شخص جو کہ اپنے آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کا ’’خاص بندہ‘‘ کہتا ہے، اس کے بقول ہمارا کلمہ ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ نہیں ہے، بلکہ کچھ یوں ہے: ’’ﷲ اکبر ﷲ اکبر لا إلٰہ إلَّا ﷲ وحدہ لا شریک لہٗ‘‘
۲:۔۔۔ پورے دِن میں صرف ایک مرتبہ خداتعالیٰ کو سجدہ کرلیا جائے بہت ہے، یعنی پانچ وقت کی نماز فرض نہیں ہے، نماز
406
پڑھنے کا رُخ کعبۃ اللّٰہ کی مخالف سمت میں ہے۔
۳:۔۔۔ رمضان کے روزے فرض نہیں ہیں، بلکہ سب دِن اللّٰہ کے ہیں، جب چاہیں روزہ رکھیں۔
۴:۔۔۔ فطرہ اور زکوٰۃ واجب نہیں ہیں۔
۵:۔۔۔ اس وقت جو حج ہو رہا ہے، وہ ایک ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ دِکھلاوا اور ڈھکوسلا ہے۔
۶:۔۔۔ بینک میں پیسہ فکسڈ ڈپازٹ کروانے سے جو سود (یا منافع) ملتا ہے، وہ جائز ہے۔
۷:۔۔۔ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کے نبی ہیں، لیکن یہ بات خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کوئی نبی آئے گا یا نہیں۔
۸:۔۔۔ قرآن شریف میں تحریف ہوچکی ہے۔
۹:۔۔۔ ولی اللّٰہ نبی کی اُمت میں سے نہیں ہیں۔
یہ میں نے صرف چند موٹی موٹی باتیں لکھی ہیں، جبکہ تفصیلاً اس سے بہت کچھ زیادہ ہے۔
جواب:۔۔۔ یہ شخص جس کے عقائد آپ نے لکھے ہیں، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دِین کا منکر اور خالص کافر ہے۔(۱) اور ’’خاص بندہ‘‘ ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ اس کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اَحکام آتے ہیں تو یہ شخص نبوّت کا مدعی اور مسیلمہ کذّاب اور مرزاقادیانی کا چھوٹا بھائی ہے۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۵۱)
غیرمسلم کے زُمرے میں کون لوگ آتے ہیں؟
سوال:۔۔۔ جمعہ مؤرخہ ۲۳؍فروری کے ’’جنگ‘‘ میں زیرِ عنوان: ’’غیرمسلم کے لئے مسجد کی اشیاء کا اِستعمال‘‘ آپ نے دو سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ غیرمسلم کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، غیرمسلم کی میّت کو غسل دینا جائز نہیں، غیرمسلم کو مسلم قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ یہ سب کچھ کرنے سے کرنے والے اور شرکاء کا اِیمان جاتا رہا اور نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ براہِ کرم یہ بات صاف کردیں کہ کیا غیرمسلم کی اس تعریف میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور ہوش سنبھالنے سے مرتے دَم تک دہریہ رہے، یا کافی عرصے تک اسلام کی پابندی اور پیروی کی، پھر اِسلام کو ترک کردیا۔ دونوں طرح کے لوگ علی الاعلان کہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ سوَر کھاتے ہیں، شراب پیتے ہیں، کیا یہ لوگ بھی غیرمسلموں کے زُمرے میں آتے ہیں؟ اور کیا ان کے جنازوں کے معاملے میں بھی وہی قباحتیں موجود ہیں؟ یعنی اِیمان اور نکاح کی تجدید لازم ہوجاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں میرے یورپ کے دورانِ قیام ایسے لوگوں کی وہاں آؤبھگت بھی
(۱)لا نزاع فی تکفیر من انکر من ضروریات الدین۔ (إکفار الملحدین ص:۱۲۱)۔ والمراد بالضروریات علٰی ما اشتھر فی الکتب: ما علم کونہ من دین محمد صلی ﷲ علیہ وسلم بالضرورۃ بأن تواتر عنہ واستفاض، علمتہ العامۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کالبعث والجزاء ووجوب الصلاۃ ۔۔۔إلخ۔ (ایضًا ص:۱۲۱)۔
(۲) ودعوی النبوَّۃ بعد نبیّنا صلی ﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإِجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۳ طبع بمبئی)۔
407
ہوتی رہی ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے اور بہت سوں کو جانتا ہوں، چنانچہ اس اِستفسار کا جواب معاشرتی حیثیت رکھتا ہے۔
جواب:۔۔۔ اسلام نام ہے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تمام باتوں کو ماننے کا، اور کفر نام ہے کسی ایک بات کو نہ ماننے کا، جس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا۔ پس جو شخص ایسی قطعیات اور ضروریاتِ دِین میں سے کسی ایک کا منکر ہو، یا وہ علی الاعلان کہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے، اس کا حکم مرتد کا ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہو، اور اس کا نام بھی مسلمانوں جیسا ہو۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۸ ص:۴۰۹، ۴۱۰)
معاش کے لئے کفر اِختیار کرنا
سوال:۔۔۔ میرے ایک محترم دوست نے چند دِن پہلے معاشی حل کے لئے قادیانیت کو قبول کیا، ان سے بات کرنے پر انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا جو فارم میں نے پڑھا ہے اس کی شرائط میں کہیں بھی کفریہ کلام نہیں۔ مثلاً: زِنا نہ کرنا، بدنظری نہ کرنا، رِشوت نہ لینا، جھوٹ نہ بولنا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مہدی ماننا۔ اور اس نے صرف ضرورت پوری ہونے تک قادیانیت قبول کی ہے، اور بعد میں وہ لوٹ آئے گا۔ کیا اس کے اس فعل کے بعد اِسلام رہا؟ اگر نہیں تو بیوی بچوں کو کیا رویہ اِختیار کرنا چاہئے؟ اگر گھر والوں کو چھوڑنے پر بھی تیار نہ ہو، اور اس کی چند جوان اولاد بھی ہیں، اور جو مال وہ دے تو اسے اِستعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے کافر ومرتد ہونے میں کسی قسم کا شبہ اور تردّد نہیں،(۲) اللّٰہ تعالیٰ کی عدالت بھی ان کو کافر ومرتد قرار دے چکی ہے، اور عالمِ اسلام کی اعلیٰ عدالتیں بھی، اس شخص کو اگر اس مسئلے میں کوئی شبہ ہے تو وہ اہلِ علم سے تبادلۂ خیال کرے۔
قادیانیت کا فارم پُر کرنا اپنے کفر واِرتداد پر دستخط کرنا ہے۔(۳) جہاں تک معاشی مسئلے کا تعلق ہے معاش کی خاطر اِیمان کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ اور ان صاحب کا یہ کہنا کہ وہ بعد میں لوٹ آئے گا، قابلِ اِعتبار نہیں۔ جب ایک چیز صریح کفر ہے تو اس کو اِختیار کرنا ہی ناروا ہے، اور اس کو اِختیار کرتے ہی آدمی دِین سے خارج ہوجاتا ہے، تو اس کے واپس لوٹنے کی کیا ضمانت۔۔۔؟
اس شخص کو قادیانیت کی حقیقت اور ان کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا جائے، اگر اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ ان سے توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اس کے بیوی بچوں کا فرض ہے کہ اس شخص سے قطع تعلق کرلیں اور یہ سمجھ لیں کہ وہ مرگیا ہے۔
(۱) المرتد ھو لغۃ: الراجع مطلقًا، وشرعًا: الراجع عن دین الإسلام ورکنھا إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الإیمان، وھو تصدیق محمد صلی ﷲ علیہ وسلم فی جمیع ما جاء بہ عن ﷲ تعالٰی مما علم مجیئہ ضرورۃ۔ وفی الشامیۃ: معنی التصدیق، قبول القلب، واذعانہ لما علم بالضرورۃ أنہ من دین محمد صلی ﷲ علیہ وسلم بحیث تعلمہ العامۃ من غیر إفتقار إلٰی نظر وإستدلال کالوحدانیۃ والنُّبوۃ والبعث والجزاء، ووجوب الصلٰوۃ والزکوٰۃ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۲۲۱، باب المرتد)۔
ایضًا: فمن جحد شیئًا واحدًا من الضروریات فقد آمن ببعض الکتاب وکفر ببعضہ، وھو من الکافرین۔ (إکفار الملحدین ص:۴، طبع پشاور)۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱،۲ ملاحظہ ہو۔
(۳)ان من عزم علی الکفر ولو بعد مأۃ سنۃ یکفر فی الحال ۔۔۔۔۔۔ إن من ضحک مع الرضا عمن تکلم بالکفر کفر۔
(شرح فقہ الأکبر ص:۳۰۳)
408
چونکہ یہ شخص قادیانی فارم پُر کرچکا ہے، اس لئے اگر یہ تائب ہوجائے تو اس کو اپنے اِیمان کی بھی تجدید کرنی ہوگی، اور نکاح بھی دوبارہ پڑھوانا ہوگا۔(۱) (جس کی تفصیل میرے رسائل ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ اور ’’خدائی فیصلہ‘‘ وغیرہ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے)۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۹ ص:۲۵۹،۲۶۰)
شہریت کے حصول کے لئے اپنے کو کافر لکھوانا
سوال:۔۔۔ یورپ کے کچھ ممالک کی حکومتوں کی یہ پالیسی ہے کہ وہ دُوسرے ملکوں کے ان لوگوں کو سیاسی پناہ دیتے ہیں، جو اپنے ملک میں کسی زیادتی یا اِمتیازی سلوک کے شکار ہوں، ہمارے کچھ پاکستانی بھی حصولِ روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور مستقل قیام یا شہریت حاصل کرنے کے لئے وہاں کی حکومت کو تحریری درخواست دیتے ہیں کہ وہ قادیانی ہیں، چونکہ پاکستان میں قادیانیوں سے زیادتی کی جاتی ہے، اس لئے ان کو وہاں پر سیاسی پناہ دی جائے۔ اس طرح وہاں پر قیام کرنے کی اِجازت حاصل کرلیتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد ان کو وہاں کی شہریت بھی مل جاتی ہے۔
ان لوگوں کو اگر سمجھایا جائے کہ اس طرح قادیانی بن کر روزگار حاصل کرنا شرعی طور پر گناہ ہے، اور اس طرح وہ اِسلام سے خارج ہوجاتے ہیں، مگر ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ صرف روزگار حاصل کرنے کے لئے قادیانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ورنہ وہ اب بھی دِل وجان سے اِسلام پر قائم ہیں۔
وہاں کی شہریت حاصل کرکے وہ پاکستان آکر یہاں مسلمان گھرانوں میں شادی بھی کرلیتے ہیں، اور لڑکی والوں سے یہ بات چھپائی جاتی ہے کہ لڑکے نے قادیانی بن کر غیرملکی شہریت حاصل کی ہے اور لڑکی والے بھی اس لالچ میں کہ ان کی لڑکی کو بھی یورپ کی شہریت مل جائے گی، کوئی تحقیق نہیں کرتے۔ حالانکہ لڑکے کے قریبی عزیز واقارب کو یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح جھوٹ موٹ اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنے سے چاہے وہ صرف وہاں رہائش حاصل کرنے کے لئے بولا گیا ہو، کیا وہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں؟
جواب:۔۔۔ جو شخص جھوٹ موٹ کہہ دے کہ: میں ہندو ہوں، یا عیسائی ہوں، یا قادیانی ہوں، وہ اس کہنے کے ساتھ ہی اِسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس کا حکم مرتد کا حکم ہے۔(۲)
نکاح
سوال:۔۔۔ ایسے لوگ اگر کسی مسلمان لڑکی سے شادی کریں تو کیا ان کا نکاح جائز ہے؟ اگر ان کا نکاح جائز نہیں تو اَب
(۱) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤْمر بالإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔
(درمختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد، طبع ایچ ایم سعید کراچی)
(۲)رجل کفر بلسانہ طائعًا وقلبہ مطمئن بالإیمان یکون کافرًا ولا یکون عند اﷲ مؤْمنًا۔ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۸۳)
ایضًا: اما رکنھا فھو إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد وجود الإیمان، إذا الردّۃ عبارۃ عن الرجوع من الإیمان، فالرجوع عن الإیمان یسمّٰی ردۃ فی عرف الشرع۔
(بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۴)
409
ان کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ ایسے شخص سے کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوتا،(۱) اگر دھوکے سے نکاح کردیا گیا تو پتا چلنے کے بعد اس کے نکاح کو کالعدم سمجھا جائے اور لڑکی کا عقد دُوسری جگہ کردیا جائے، چونکہ نکاح ہی نہیں ہوا، اس لئے طلاق لینے کی ضرورت نہیں۔
سوال:۔۔۔ کیا لڑکی کے والدین اور لڑکی جس کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں، وہ بھی گناہ میں شامل ہیں؟
جواب:۔۔۔ جی ہاں! وہ بھی گناہگار ہوں گے، مثلاً: مسلمان لڑکی کا نکاح کسی سکھ سے کردیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ کام کرنے والے عنداللّٰہ مجرم ہوں گے۔(۲)
سوال:۔۔۔ لڑکے کے وہ عزیز واقارب جو یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی لڑکی والوں سے بات چھپاتے ہیں اور نکاح میں شریک ہوتے ہیں، کیا وہ بھی گناہگار ہوں گے؟
جواب:۔۔۔ جن عزیز واقارب نے صورتِ حال کو چھپایا، وہ خدا کے مجرم ہیں، اور اس بدکاری کا وبال ان کی گردن پر ہوگا۔(۳)
مرتد کی توبہ قبول ہے
سوال:۔۔۔ کیا وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو اس کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟ اور کیا کوئی کفارہ بھی دینا ہوگا؟
جواب:۔۔۔ دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اعلان کردیں کہ وہ قادیانی نہیں، اور وہاں کی حکومت کو بھی اس کی اِطلاع کردیں۔(۴)
فسخِ نکاح
سوال:۔۔۔ جو شادی شدہ آدمی وہاں جاکر یہ حرکت کرتے ہیں، کیا ان کا نکاح قائم ہے؟ اگر نہیں تو ان کو کیا کرنا چاہئے تاکہ ان کا نکاح بھی قائم رہے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوسکیں؟
جواب:۔۔۔ چونکہ ایسا کرنے سے وہ مرتد ہوجاتے ہیں، اس لئے ان کا پہلا نکاح فسخ ہوگیا، تجدیدِ اِسلام کے بعد نکاح کی بھی تجدید کریں۔(۵)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۸ ص:۳۵۲ تا ۳۵۴)
(۱)ولا یجوز للمرتد ان یتزوّج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۲۸۲)۔
(۲)عن عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ قال: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: من کثر سواد قوم فھو منھم، ومن رضی عمل قوم کان شریکًا لمن عملہ۔ (المطالب العالیۃ ج:۲ ص:۴۲، طبع مکتبۃ الباز، مکۃ المکرمۃ)۔
(۳) قال تعالٰی: ولا تکتموا الشھادۃ، ای لا تخفوھا وتغلوھا، ولا تظھروھا۔
قال ابن عباس رضی ﷲ عنہ وغیرہ: شھادۃ الزور من اکبر الکبائر، وکتمانھا کذالک وھٰذا قال ومن یکتمھا فإنہ آثم قلبہ۔ (ابن کثیر ج:۳ ص:۶۶۵، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۴)وتوبتہ ان یأتی بالشھادتین ویبرأ عن الدِّین الذی انتقل فیہ۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۵) مـا یکون کفرًا إتفـاقًا یبطـل العمـل والنـکاح ۔۔۔۔۔۔۔ ویـؤْمر بالإستغـفـار والتـوبۃ وتـجدید النـکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۶، باب المرتد)۔
410
بابِ شش دہم
مرتد واِرتداد کے اَحکام
سوال:۔۔۔ (از اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ سہ روزہ دہلی مؤرخہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۲۸ء)
یہ گروہ جو قادیانی اور احمدی کے نام سے مشہور ہے، حقیقۃ مرتد ہے؟ اگر مرتد ہے تو ان لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ جو شخص پہلے مسلمان ہو، پھر قادیانی ہوجائے، وہ مرتد کے حکم میں ہے،(۱) اور جو اِبتدائے شعور سے ہی قادیانی ہو، وہ اگرچہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے، مگر مرتد کے حکم میں نہیں ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ غفرلہٗ
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۹،۳۲۰)
کافر، زِندیق، مرتد کا فرق
سوال۱:۔۔۔ کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟
۲:۔۔۔ جو لوگ کسی جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو مانتے ہوں، وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟
۳:۔۔۔ اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے؟ اور کافر کی کیا سزا ہے؟
جواب۱:۔۔۔ جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں، وہ تو کافرِ اَصلی کہلاتے ہیں۔(۲) جو لوگ دِینِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہوجائیں وہ ’’مرتد‘‘ کہلاتے ہیں۔(۳) اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں، لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن وحدیث کے نصوص میں تحریف کرکے انہیں اپنے عقائدِ کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں، انہیں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے۔(۴) اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان کا حکم بھی ’’مرتدین‘‘ کا ہے، بلکہ ان سے بھی سخت۔
(۱) وإن طرء کفرہ بعد الإسلام خص باسم المرتد لرجوعہ عن الإسلام(شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۶۸، طبع دار المعارف النعمانیۃ)
(۲)قد ظھر ان الکافر اسم لمن لا إیمان لہ۔ (شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۶۸، طبع دار المعارف النعمانیۃ)۔
(۳) ایضًا۔
(۴) وإن کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم وإظھارہ شعائر الْإسلام ببطن عقائد ھی کفر بالإتفاق خص بإسم الزندیق ۔۔۔إلخ۔ (ایضًا شرح مقاصد)۔
ایضًا: والزندیق ھو الذی یظھر الإسلام ویبطن الکفر۔ (المجموع شرحح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۲، طبع بیروت)۔
411
۲:۔۔۔ ختمِ نبوّت اِسلام کا قطعی اور اَٹل عقیدہ ہے، اس لئے جو لوگ دعویٔ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو مانتے ہیں اور قرآن وسنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں، وہ مرتد اور زِندیق ہیں۔
۳:۔۔۔ مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دِن کی مہلت دی جائے اور اس کے شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے، اگر ان تین دِنوں میں وہ اپنے اِرتداد سے توبہ کرکے پکاسچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کردیا جائے، لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اِسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کردیا جائے۔(۱) جمہور اَئمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے، البتہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبسِ دوام کی سزا دِی جائے۔(۲)
زِندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے، لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ اِمام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔(۳) اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اِعتبار نہیں، وہ بہرحال واجب القتل ہے۔(۴) اِمام احمدؒ سے دونوں روایتیں منقول ہیں، ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور دُوسری روایت یہ ہے کہ زِندیق کی سزا بہرصورت قتل ہے، خواہ توبہ کا اِظہار بھی کرے۔(۵) حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے اَزخود توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہوجائے گی، لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اِعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زِندیق، مرتد سے بدتر ہے، کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اِختلاف ہے۔(۶)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۴۵، ۴۶)
مرتد اور زِندیق میں فرق
سوال:۔۔۔ اور اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ مرتد تو وہ ہوتا ہے جو دِینِ اسلام سے پھرجائے، یعنی پہلے مسلمان تھا، بعد میں
(۱)وإذا ارتد المسلم عن الإسلام والعیاذ باﷲ عرض علیہ الْإسلام، فإن کانت لہ شبھۃ کشف عنہ ویحبس ثلاثۃ ایام فإن اسلم وإلَّا قتل ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۵۸۰)۔
(۲)واما المرأۃ فلا یباح دمھا إذا ارتدت ولا تقتل عندنا ولٰکنّھا تجبر علی الإسلام وإجبارھا علی الإسلام ان تحبس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویعرض علیھا الإسلام فإن أسلمت وإلَّا حبست ثانیًا ھٰکذا إلٰی أن تسلم او تموت ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۳۵ طبع ایچ ایم سعید)۔
(۳) والزندیق ۔۔۔۔۔۔۔۔ فإنہ یستتاب وإن تاب وإلَّا قتل فإن استتیب فتاب قبلت توبتہ۔ (المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۳ طبع بیروت)۔
(۴)والزندیق ۔۔۔۔۔۔۔ لم یستتب وإن تاب ویقتل ولو اظھر توبتہ لأن إظھار التوبۃ لا یخرجہ عما بیدیہ من عادتہ ومذھبہ ۔۔۔إلخ۔ (مواھب الجلیل شرح مختصر الخلیل ج:۶ ص:۲۸۲)۔
(۵) إذا تاب قبلت توبتہ ولم یقتل ای کفر کان وسواء کان زندیقًا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والروایۃ الأخریٰ: لا تقبل توبۃ الزندیق۔ (المغنی لابن قدامۃ ج:۱۰ ص:۷۸)۔
(۶)لا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفی الخانیۃ: قالوا إن جاء الزندیق قبل أن یؤْخذ فأقرَّ انّہ زندیق فتاب عن ذالک تقبل توبتہ وإن اُخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۶)۔
412
۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ کافر ہوگیا۔ اس لئے جو شخص پہلے مسلمان تھا، پھر اس نے مرزائی مذہب اِختیار کرلیا، وہ تو مرتد ہوا، لیکن جو شخص پیدائشی قادیانی ہو، وہ تو مرتد نہیں، کیونکہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی کفر اِختیار نہیں کیا، بلکہ وہ ابتدا ہی سے کافر ہے، وہ مرتد کیسے ہوا؟
جواب:۔۔۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ہر قادیانی ’’زِندیق‘‘ ہے، اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اِسلام کے خلاف عقائد رکھتا ہو، اس کے باوجود اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو اور تأویلاتِ باطلہ کے ذریعے اپنے عقائد کو عین اِسلام قرار دیتا ہو۔(۱) اور ’’زِندیق‘‘ کا حکم بعینہٖ مرتد کا ہے، البتہ ’’زِندیق‘‘ اور ’’مرتد‘‘ میں یہ فرق ہے کہ مرتد کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے،(۲) اور زِندیق کی توبہ کے قبول کئے جانے یا نہ کئے جانے میں اِختلاف ہے۔(۳) اس ایک فرق کے علاوہ باقی تمام اَحکام میں مرتد اور زِندیق برابر ہیں۔ اس لئے قادیانی مرزائی خواہ پیدائشی مرزائی ہوں یا اِسلام کو چھوڑ کر مرزائی بنے ہوں، دونوں صورتوں میں ان کا حکم مرتد کا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۵ ص:۷۱)
اپنے کو خدا ورسول کہنے والا کافر ومرتد وملحد ہے
سوال:۔۔۔ یحییٰ خان ایک جادرہ میں مقیم ہے، پہلے اس نے مہدیٔ موعود، پھر مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اس کے بعد رسول بنا، اور اپنے نام کا کلمہ بنایا: ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ یحییٰ عین اللّٰہ‘‘ اور اپنے کو ’’عین اللّٰہ‘‘ کہتا ہے، اور ایک کتاب لکھی ہے اس کا نام: ’’فرمان‘‘ بالمقابل قرآن رکھا ہے، اور خود کو فرمانروا کہتا ہے اور اَب اللّٰہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ آیاتِ قرآنی کم وزیادہ کرکے پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن میں غلطی ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ کو لہوولعب کرنے والا کہتا ہے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ یحییٰ خان کے لئے کیا حکم ہے؟ اور جو مسلمان اس کو واجب التعظیم سمجھیں اور اس کے اقوال کی تصدیق کریں اور اس کی اِعانت کریں اور اس کے ساتھ خوردونوش کریں، ان کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ یحییٰ خان مذکور کا مرتد ہونا اس کے اقوال سے ثابت ومحقق ہے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کو ملنا اور اس کی
(۱) ان الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ وھٰذا معنی إبطان الکفر فلا ینافی إظھارہ الدعویٰ۔ (الرد المحتار، ج:۲ ص:۲۴۲، باب المرتد، طبع سعید کراچی)۔ ایضًا: بیان ذالک ان المخالف للدین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذعن لہ لا ظاھرًا ولا باطنًا فھو کافر ۔۔۔۔۔۔۔ وإن اعترف بہ ظاھرًا لٰکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدین بالضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ رضی ﷲ عنھم والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزندیق ۔۔۔۔۔۔۔ ثم التأویل، تأویلان: تأویل لا یخالف قاطعًا من الکتاب والسُّنَّۃ واتفاق الاُمّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذالک الزندقۃ۔ (مسویٰ شرح مؤَطا، لشاہ ولی ﷲ الدھلوی، ج:۲ ص:۱۳۰، طبع رحیمیہ دھلی)۔
(۲)وکل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ۔ (الدر المختار، ج:۴ ص:۲۳۱، باب المرتد)۔
(۳)والثانی یفید الزندقۃ، فبعد أخذہ لا تقبل توبتہ إتفاقًا فیقتل، وقبلہ اختلف فی قبول توبتہ، فعند ابی حنیفۃ تقبل فلا یقتل، وعند بقیۃ الأئمۃ لا تقبل ویقتل حدًّا۔ (وفی الشامیۃ) وحاصل کلامہ أن الزندیق لو تاب قبل أخذہ أی قبل أن یرفع إلی الحاکم تقبل توبتہ عندنا وبعدہ لا إتفاقًا، وورد الأمر السلطانی للقضاۃ بأن ینظر فی حال ذالک الرجل إن ظھر حسن توبتہ یعمل بقول أبی حنیفۃ وإلَّا فبقول باقی الأئمۃ وأنت خبیر بأن ھٰذا مبنی علٰی ما مشی علیہ القاضی عیاض من مشھور مذھب مالک وھو عدم قبول توبتہ، وإن حکمہ حکم الزندیق عندھم، وتبعہ الرازی کما قدمناہ وکذا تبعہ فی الفتح، وقد علمت ان صریح مذھبنا خلافہ کما صرح بہ القاضی عیاض وغیرہ۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج:۴ ص:۲۳۵،۲۳۶، باب المرتد، مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
413
محبت واِعانت کرنا حرام ہے۔ اور جو لوگ اس کو بزرگ اور واجب التعظیم سمجھیں، اور اس کی تصدیق کریں، وہ بھی کافر ہیں، اس میں کچھ شک نہیں ہے۔ قال ﷲ تعالٰی:
’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰)
وقال ﷲ تعالٰی:
’’وَمَن یَقُلْ مِنْہُمْ إِنِّیْ إِلَہٌ مِّن دُونِہِ فَذَلِکَ نَجْزِیْہِ جَہَنَّمَ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (الانبیاء:۲۹)
فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۴۰۶)
مرتد ہونے کے لئے شرائط
سوال:۔۔۔ کیا مرزائی کافر ہیں یا مرتد؟ اِرتداد کے لئے کن شرائط کا ہونا ضروری ہے؟
جواب:۔۔۔ ہر مرتد کافر ہوتا ہے۔ مرزائی ہر صورت میں کافر ہیں، خواہ مرتد ہوں یا نہ، جو اِسلام سے نکل کر مرزائی ہوگئے، وہ مرتد ہیں، اور جو مرزائیوں کے گھر پیدا ہوئے، یا کسی اور دِین سے نکل کر مرزائی ہوئے، وہ اہلِ کتاب کے حکم میں ہیں۔ اِرتداد کے لئے صرف اتنی شرط ہے کہ پہلے اسلام میں ہو، پھر اس سے نکل جائے، قرآن مجید میں ہے: ’’وَمَن یَرْتَدِدْ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ‘‘ (البقرۃ:۲۱۷)۔
(فتاویٰ اہلِ حدیث ج:۱ ص:۹)
نوٹ اَز مرتب:۔۔۔ ہر قادیانی چاہے ان کی سو نسلیں بھی بدل جائیں، سب زِندیق ہیں۔ اس لئے کہ وہ اپنے کفر کو اِسلام ثابت کرتے ہیں، وہ اہلِ کتاب کے حکم میں قطعاً نہیں جیسا کہ جگہ جگہ اس کتاب میں دُوسرے فتاویٰ موجود ہیں۔ یہ اہلِ حدیث فقہ کا لہو یا تفرّد ہے جو لائقِ قبول نہیں۔
آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو لوگ مرتد ہوگئے
سوال:۔۔۔ عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’میں حوضِ کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا، اور تم میں کے چند لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے، یہاں تک کہ میں ان کو (کوثر کا) پیالہ دینا چاہوں گا تو وہ لوگ میرے پاس سے کھینچ لئے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے پروردگار! یہ لوگ تو میرے صحابی ہیں، تو خداتعالیٰ فرمائے گا کہ: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا بدعتیں کی ہیں؟‘‘(صحیح بخاری، کتاب الحوض ج:۲ ص:۹۷۳،۹۷۴، باب قول ﷲ تعالٰی: ’’اِنَّا اَعطَینٰكَ الكَوثَرَ‘‘)۔
ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سب سے پہلے حضرت اِبراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے، اور ہوشیار رہو! چند آدمی میری اُمت کے لائے جائیں گے، اس وقت میں کہوں گا: اے رَبّ! یہ تو میرے صحابی ہیں۔ اللّٰہ کی جانب سے ندا آئے گی کہ تو نہیں جانتا انہوں نے تیرے بعد کیا کیا۔ یہ لوگ (اصحاب)
414
تیرے (محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) جدا ہونے کے بعد مرتد ہوگئے تھے‘‘(صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۹۳، کتاب التفسیر، باب قولہ: ’’كَمَا بَدَانَآ اَوَّلَ خَلقٍ نُّعِیدُہُ‘‘)۔
مذکورہ بالا دو اَحادیثِ مبارکہ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیں، ان احادیثِ مبارکہ میں جن اصحاب کو صاف لفظوں میں مرتد اور بدعتی کہا گیا ہے، وہ اصحاب کون ہیں؟
جواب:۔۔۔ ان کا اَوّلین مصداق وہ لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مرتد ہوگئے تھے، اور جن کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے جہاد کیا۔ ان کے علاوہ وہ تمام لوگ بھی اس میں داخل ہیں، جنہوں نے دِین میں گڑبڑ کی، نئے نظریات اور بدعات اِیجاد کیں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۴۶، ۴۷)
مرتد سے سمجھوتا
سوال:۔۔۔ اگر کوئی مسلمان کسی مرزائی یا دُوسرے مرتد کی پروَرِش یا حمایت کرے، یا کسی قسم کا سمجھوتا کرے، یا پھر وہ مسلمان شخص، مرتد کو کافر نہ کہتا ہو، جبکہ وہ شخص یہ بھی جانتا ہے کہ مرتد کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے، اور پھر سمجھانے کے باوجود باز نہ آئے اور مرتد کو کافر نہ کہتا ہو، اور وہ کسی قسم کا سمجھوتا کرے، خواہ وہ کسی سطح کا ہو، یا حمایت کرے، اس کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا اس شخص کو دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑے گا؟ اور کیا اس کا سوشل بائیکاٹ بھی کرنا پڑے گا؟ واضح رہے کہ اسلام میں کسی مرتد کو کافر نہ کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے، اور نہ اسلام کسی مرتد سے دوستی کی اِجازت دیتا ہے۔ اور سمجھوتا اسی وقت ہوتا ہے جب دوستی پیدا ہو، اور دوستی بھی اسی وقت ہوتی ہے جب مرتد کو کافر نہ کہا جائے۔
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! آپ سوال بھی کر رہے ہیں، اور خود جواب بھی بتار رہے ہیں۔ جب آپ کو جواب معلوم ہے تو دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔؟
تنبیہ:۔۔۔ ہر سمجھوتے کے لئے دوستی کہاں ضروری ہے؟ صلحِ حدیبیہ میں اہلِ مکہ سے سمجھوتا کیا گیا تھا، حالانکہ وہ اس وقت بھی دُشمن تھے، رسول کے بھی دُشمن تھے، اسلام کے بھی دُشمن تھے، مسلمانوں کے بھی دُشمن تھے۔ اسی سمجھوتے کا تذکرہ قرآنِ کریم میں ہے اور اس کو فتح فرمایا گیا۔ آپ کے یہاں کس طرح اور کن شرائط پر سمجھوتا کیا ہے؟ مجھے اس کا علم نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اس کے متعلق وہیں کے باخبر حضرات سے اِستصوابِ رائے کریں۔
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود غفر لہٗ |
|
بندہ نظام الدین عفی عنہ |
دارالعلوم دیوبند |
|
دارالعلوم دیوبند |
۲۰؍۹؍۱۳۹۰ھ |
|
۲۰؍۹؍۱۳۹۰ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۴ ص:۹۳،۹۴)
(۱) تفصیل کے لئے دیکھئے: عمدۃ القاری ج:۱۲ ص:۱۳۷، طبع دارالفکر بیروت۔
415
مرزائیت سے توبہ کی ضروری شرط
سوال:۔۔۔ مسمّیٰ مشتاق احمد جو مرزائی جماعت سے تعلق رکھتا ہے، وہ پچاسوں مسلمانوں کی موجودگی میں میرے ہاتھ پر مسلمان ہوا اور اس نے یہ کہا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے وہ لعنتی ہے۔ اس نے مرزاقادیانی کا نام لے کر کافر یا لعنتی نہیں کہا۔ اب شہر میں کچھ لوگ ہیں جن کا موقف یہ ہے کہ یہ آدمی مسلمان نہیں ہوا، کیونکہ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر نہیں کہا، صرف مدعیٔ نبوّت کو لعنتی کہا ہے، جبکہ لاہوری مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی مدعیٔ نبوّت ہی نہیں تھا۔ جب تک یہ مرزا غلام احمد کا نام لے کر اس کو کافر، مرتد، لعنتی نہ کہے اور اس کے پیروکار دونوں جماعتوں لاہوری اور قادیانی کو کافر نہ کہے تو یہ مسلمان نہیں، اس نے دھوکا دیا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ یہ آدمی مسلمان ہوا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں اس شخص سے صراحۃً مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں پوچھا جائے، اگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کی ہر دو جماعتوں کو برملا کافر اور ان کے مرتد ہونے کا اِعلان کردے، اور مرزائیت اور ہر دِینِ باطل سے توبہ کرے تو مسلمان سمجھا جائے، وگرنہ اس کا صرف اتنا کہہ دینا کہ ’’جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں‘‘ اس پر مسلمان کا حکم لگانے کے لئے کافی نہیں۔
’’وفی الخامس بھما مع التبری عن کل دین یخالف دین الإسلام بدائع وآخر کراھیۃ الدرر وحینئذ یستفسر من جھل حالہ بل عم فی الدرر إشتراط التبری من یھودی ونصرانی ومثلہ فی فتاوی المصنف۔‘‘ (درمختار ج:۳ ص:۳۱۴، ۳۱۵، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
اگر یہ شخص مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اِسلام قبول بھی کرلے تو اسے ایک عرصے تک کوئی دِینی، اِجتماعی یا اِنفرادی ذمہ داری نہ سونپی جائے، اور اس کے بارے میں محتاط رویہ اِختیار کیا جائے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
محمد انور عفا اللّٰہ عنہ |
|
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
نائب مفتی خیرالمدارس ملتان |
|
مفتی خیرالمدارس ملتان |
۴؍۴؍۱۴۰۷ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۸۰،۸۱)
مرتد کی توبہ کی شرائط
سوال:۔۔۔ زید عرصۂ دراز سے اِسلام چھوڑ کر مرزائیت کی طرف اِرتداد اِختیار کرچکا تھا، اب دوست واحباب کے اِفہام وتفہیم سے مرزائیت سے علیحدگی کا اِعلان واِظہار کرتا ہے، اور اِعلان میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرتا ہے، مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کوئی اِظہارِ نفرت یا اس سے اِعلانِ براء ت نہیں کرتا، اور باوجود اِصرار کے یہ کہتا ہے کہ میں کسی کو بُرا کہنے کے لئے تیار نہیں۔ اب زید کو مسلمان سمجھا جائے یا نہ؟
المستفتی: فاضل حبیب اللّٰہ جالندھری
ناظم جمعیت علمائے اسلام وناظمِ اعلیٰ جامعہ رشیدیہ منٹگمری
416
جواب:۔۔۔ مرزائی کا اِسلام میں آنا صرف کلمۂ شہادت کے پڑھنے سے اور حضور علیہ السلام کو آخری نبی ماننے سے مکمل نہیں ہوتا، اور نہ اس طرح اسے مسلمان سمجھا جائے گا، بلکہ اس کی توبہ کے صحیح ہونے اور اِسلام لانے کے لئے لازم ہے کہ مرزاقادیانی کی نبوّت ومجدّدیت کا کھلے لفظوں میں اِنکار کرے، اور اس کے کذّاب ودجال ہونے کی تصریح کرے، تب مسلمان سمجھا جائے گا۔ ورنہ منافقت اور دھوکابازی ہے۔
’’وإسلامہ ای المرتد ان یأتی بکلمۃ الشھادۃ ویتبرأ عن الأدیان کلھا سوی الإسلام وان یتبرأ عمّا انتقل إلیہ اھـ۔‘‘ (عالمگیری ج:۲ ص:۲۵۳، مطبوعہ ماجدیہ کوئٹہ)
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
بندہ محمد عبداللّٰہ غفرلہٗ |
|
خیر محمد عفا اللّٰہ عنہ |
۱۱؍۷؍۱۳۷۱ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۱۴۵)
✨ 🌟 ✨
417
بابِ ہفت دہم
اِرتداد کی سزا
منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟
سوال:۔۔۔ خلیفہ اوّل بلافصل سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسیلمہ کذّاب نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرینِ ختمِ نبوّت کے خلاف اِعلانِ جہاد کیا، اور تمام منکرینِ ختمِ نبوّت کو کیفرِکردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرینِ ختمِ نبوّت واجب القتل ہیں۔ لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دینے پر ہی اِکتفا کیا۔ اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ: ’’اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دئیے ہیں، وہ حقوق انہیں پورے پورے دئیے جائیں گے۔‘‘ ہم نے قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کئے ہوئے ہیں، بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ منکرینِ ختمِ نبوّت اسلام کی رُو سے واجب القتل ہیں، یا اِسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق اور تحفظ کے حق دار؟
جواب:۔۔۔ منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے عمل کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان ومال کی حفاظت کرنا، ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے۔ لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں، بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذّاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی مملکت میں مرتدین اور زَنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔(۱) یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اِسلامی ممالک کے اربابِ حل وعقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۳، ۲۰۴)
جنگِ یمامہ مسیلمہ کذّاب کے دعویٔ نبوّت کی وجہ سے تھی
سوال:۔۔۔ مرزائی کمپنی کے ایجنٹ یہ اِعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب کے
(۱)قال تعالٰی: ’’یٰآیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِّن دُونِكُم إلخ‘‘ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی انہ لا یجوز الإستعانۃ بأھل الذمۃ فی امور المسلمین من العمالات والکتبہ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۳۷)۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: جواہر الفقہ ج:۲ ص:۱۹۵، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی۔
418
خلاف جو چڑھائی کی تھی، وہ اس کی بغاوت کی بنا پر کی تھی، اس کے دعویٔ نبوّت کی بنا پر نہ تھی۔ اس کی تحقیق مقصود ہے کہ کس بنا پر وہ چڑھائی کی گئی تھی؟
سائل: ماسٹر محمد اِبراہیم
جواب:۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب کے خلاف جو چڑھائی کی، وہ بغاوت کی بنا پر نہ تھی، اِنکارِ ختمِ نبوّت کی بنا پر تھی۔ مسیلمہ کے ایلچی ایک مرتبہ خود حضور ختمی مرتبت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے تھے اور اپنے مسیلمہ کذّاب پر اِیمان لانے کا اِقرار کیا تھا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا تھا:
’’لو لا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما۔‘‘ (سنن ابی داوٗد ج:۲ ص:۳۸۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اگر ایلچیوں کا قتل کرنا خلافِ اُصول نہ ہوتا تو میں تمہاری گردنیں اُڑادیتا۔‘‘
ان کا سرغنہ اور مسیلمہ کذّاب کا مؤذِّن عبداللّٰہ بن نواحہ جب آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات شریفہ کے مدتوں بعد حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوا تو حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ نے فرمایا:
’’سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: لو لا انک رسول لضربت عنقک، فأنت الیوم لست برسول۔‘‘ (معجم طبرانی ج:۹ ص:۱۹۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میں نے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تو اگر ایلچی نہ ہوتا تو تیری گردن اُڑادیتا۔ لیکن آج تو تو ایلچی نہیں ہے۔‘‘
پھر آپ نے امیرِ کوفہ قرظہ بن کعب کو حکم دیا اور انہوں نے اسے برسرِ عام قتل کردیا۔ اس طرح وہ سالہا سال پہلے کا منشائے رِسالت، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھوں پر پورا ہوا۔(۱)
سننِ دارمی کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان مرتدین کی مسجد کے بھی گرانے کا حکم دیا اور وہ نام نہاد مسجد منہدم کردی گئی (جمع الفوائد من جامع الاصول ومجمع الزوائد ج:۱ ص:۲۸۴، طبع میرٹھ)۔(۲)
اب سوال یہ ہے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے انہیں باغی سمجھا ہوا تھا یا مرتدین؟ اس کے لئے ہمیں ان کے بارے میں صراحت سے مرتدین کے الفاظ ملتے ہیں، صحیح بخاری، کتاب الکفالہ میں ہے:
’’قال جریر والأشعث لعبدﷲ بن مسعود فی المرتدین استبھم وکفلھم فتابوا وکفلھم
(۱) أتی عبدﷲ بالکوفۃ فقال ما بینی وبین أحد من العرب حنتہ، وانی مررت بمسجد لبنی حنیفۃ فإذا ھم یؤْمنون بمسیلمۃ فارسل إلیھم عبدﷲ فجیء بھم فاستتابھم غیر ابن النواحۃ قال لہ: سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یقول: لولا انک رسول لضربت عنقک، فأنت الیوم لست برسول، فأمر قرصۃ بن کعب وکان أمیرًا علی الکوفۃ فضرب عنقہ بالسوق، ثم قال: من أراد أن ینظر إلی ابن النواحۃ فلینظر إلیہ قتیلًا بالسوق۔ (جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد، ج:۱ ص:۴۹۰، حد الردۃ وسب النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، رقم الحدیث:۵۳۲۵، طبع المکتبۃ الإسلامیۃ)۔
(۲)(ابن مغیرۃ السعدی) خرجت أسفر فرسًا لی من السحر فمررت علٰی مسجد من مساجد بنی حنفیۃ فسمعتھم یشھدون أن مسیلمۃ رسول ﷲ فرجعت إلٰی عبدﷲ بن مسعود فأخبرتہ فبعث إلیھم الشرط ۔۔۔۔۔۔۔ وأمر بمسجدھم فھدم، للدارمی۔ (جمع الفوائد من جائع الأصول ومجمع الزوائد، ج:۱ ص:۴۹۰، رقم الحدیث:۵۳۲۶، طبع المکتبۃ الإسلامیۃ)۔
419
عشائرھم۔‘‘
(بخاری ج:۱ ص:۳۰۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جریر اور اَشعث نے حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی توجہ اس طرف منعطف کرائی کہ آپ ان مرتدین کو توبہ کی طرف بلائیں اور ان کی کفالت کریں، پس وہ تائب ہوگئے اور آپ نے ان کے کنبوں کی کفالت فرمائی۔‘‘
شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ ۔۔۔جنہیں مرزائی حضرات اپنے وقت کا مجدّد تسلیم کرتے ہیں۔۔۔ لکھتے ہیں:
’’انما قاتل بنی حنیفۃ لکونھم آمنوا بمسیلمۃ الکذاب واعتقدوا بنبوّتہٖ۔‘‘
(منھاج السُّنَّۃ ج:۲ ص:۲۳۰، مطبوعہ مصر)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے بنی حنیفہ سے اس لئے جہاد کیا تھا کہ وہ مسیلمہ کذّاب پر اِیمان لائے ہوئے تھے اور اس کی نبوّت کے قائل تھے۔‘‘
پس یہ خیال غلط ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی مذکورہ بالا چڑھائی بنی حنیفہ کی بغاوت کی بنا پر تھی، دعویٔ نبوّت کی بنا پر نہ تھی۔ حافظ ابنِ تیمیہؒ یہ بھی لکھتے ہیں:
’’فإن الصدیق لم یقاتل احدًا علٰی طاعتہ ولا الزم احدًا بیعتہ۔‘‘ (ایضًا ج:۲ ص:۲۳۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نے کسی شخص کے ساتھ اس کی بغاوت پر یا اپنی خلافت منوانے کے لئے جہاد نہیں کیا۔‘‘
اس سے پہلے حافظ ابنِ تیمیہؒ اس پر اِجماع ان لفظوں میں نقل کرچکے ہیں:
’’فلم نعلم احدًا انکر قتال اھل الیمامۃ وان مسیلمۃ الکذّاب ادعی النبوۃ وانھم قاتلوہ علٰی ذالک۔‘‘ (ایضًا ج:۲ ص:۲۳۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آج تک کسی نے اس اَمر سے اِنکار نہیں کیا کہ حضرت ابوبکرؓ کا بنی حنیفہ سے جہاد مسیلمہ کذّاب کے دعویٔ نبوّت کی بنا پر ہی تھا۔‘‘
پس مرزائی مبلغ کی مذکور فی السوال تأویل نہایت رکیک اور غلط ہے، اور کسی حقیقت پر مبنی نہیں۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمد عفا اللّٰہ عنہ
(عبقات ص:۳۲۲ تا ۳۲۳)
گستاخِ رسول واجب القتل ہے
سوال:۔۔۔ گستاخِ رسول کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا گستاخانہ کلام میں تأویل کی گنجائش ہے؟ کیا گستاخانہ کلام میں
420
نیت کا اِعتبار کیا جائے گا؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔ اکرام حسین، جہلم
جواب:۔۔۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کرنا بالاجماع کفر ہے، اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے۔ توہین کا تعلق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نسب کے ساتھ ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کسی صفت کے ساتھ ہو، اور یہ اہانت خواہ صراحۃً ہو، کنایۃً ہو، یا تعریضاً ہو، یا تلویحاً جس شخص سے ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اہانت ظاہر ہو وہ کافر ہے، اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔ علامہ قاضی عیاض مالکیؒ لکھتے ہیں:
’’قال محمد بن سخنون اجمع العلماء علٰی ان شاتم النبی المنقص لہ کافر والوعید جار علیہ بعذاب ﷲ لہ وحکمہ عند الاُمّۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر۔‘‘
(الشفاء ج:۲ ص:۱۹۰)
’’محمد بن سخنون نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اہانت کرنے والا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تنقیص یعنی آپ کی شان میں کمی کرنے والا کافر ہے، اور اس پر عذابِ اِلٰہی کی وعید جاری ہے، اور اُمت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے، اور جو کوئی شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔‘‘
گستاخِ رسول کی توبہ قبول کرنے میں اَئمہ مذاہب میں مختلف قول ہیں، بعض فقہائے احناف کے نزدیک گستاخِ رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، علامہ علاء الدین حصکفی حنفیؒ لکھتے ہیں:
’’والکافر ویسب نبی من الأنبیاء فإنہ یقتل ولا یقبل توبتہ مطلقًا ولو سبّ ﷲ تعالٰی قبلت انہ حق ﷲ تعالٰی والأوّل حق عبد ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۔‘‘
(الدرمختار ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعۃ مکتبہ رشیدیہ)
’’جو کوئی شخص کسی نبی کو گالی دینے سے کافر ہوگیا اس کو بطورِ حد قتل کیا جائے گا، اور اس کی توبہ مطلق قبول نہیں ہے، (یا خود توبہ کرے یا توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللّٰہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا حق ہے، اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے، اور جو کوئی شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔‘‘
بعض فقہائے شافعیہ کا بھی یہی قول ہے کہ گستاخِ رسول کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے۔ علامہ ابنِ حجر عسقلانی شافعیؒ لکھتے ہیں:
’’وقد نقل ابن المنذر الإتفاق علٰی ان من سب النبی صلی ﷲ علیہ وسلم صریحًا وجب قتلہ ونقل ابوبکر الفارسی احد ائمۃ الشافعیۃ فی کتاب الإجماع: ان من سبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم مما ھو قذف صریح کفر بإتفاق العلماء، فلو تاب لم یسقط عنہ القتل لأن حد قذفہ
421
القتل وحد القذف لا یسقط بالتوبۃ۔‘‘
(فتح الباری شرح صحیح بخاری ج:۱۲ ص:۲۴۸، مطبع دار المعرفۃ، بیروت)
’’علامہ ابنِ منذرؒ نے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اِتفاق ہے کہ جس کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو صراحۃً گالی دی، اس کو قتل کرنا واجب ہے، اور اَئمہ شافعیہ میں سے علامہ ابوبکر فارسی نے کتاب الاجماع میں لکھا ہے کہ: جس شخص نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قذف صریح کے ساتھ گالی دی،ا س کے کفر پر علماء کا اِتفاق ہے، اگر وہ توبہ کرلے گا تب بھی اس سے قتل ساقط نہیں ہوگا، کیونکہ یہ حدِ قذف ہے، اور حدِ قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔‘‘
علامہ ابنِ قدامہ حنبلیؒ لکھتے ہیں:
’’ومن سبّ ﷲ تعالٰی، کفر، سوائٌ کان مازحًا او جادًّا، وکذالک من استھزاَ باﷲ تعالٰی او بذاتہ او برسلہ، او کتبہ، قال ﷲ تعالٰی: ’’وَلَئِن سَأَلْتَہُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّٰہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنتُمْ تَسْتَہْزِئُونَ. لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ کَفَرْتُم بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ‘‘ (التوبۃ:۶۵، ۶۶)‘‘
(المغنی ج:۹ ص:۳۳)
’’جس کسی شخص نے اللّٰہ تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہوگیا خواہ مذاق سے یا سنجیدگی سے، اور جس کسی شخص نے اللّٰہ تعالیٰ سے اِستہزا کیا، یا اس کی ذات سے، یا اس کے رسولوں سے، یا اس کی کتابوں سے، وہ کافر ہوگیا۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ کہیں گے: ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے، آپ کہئے: کیا تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کا اِستہزا کر رہے تھے؟ اب عذر نہ کرو، کیونکہ اِیمان لانے کے بعد یقینا کافر ہوچکے ہو۔‘‘
علامہ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’وقال محمد بن سخنون: اجمع العلماء علٰی ان شاتم النبی والمتنقص لہ کافر والوعید جار علیہ بعذاب ﷲ لہ وحکمہ عند الاُمّۃ القتل ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر وتحریر القول فیہ ان الساب إن کان مسلمًا فإنہ یکفر ویقتل بخلاف وھو مذھب الأئمۃ الأربعۃ وغیرھم وقد تقدم ممن حکی الإجماع علٰی ذالک إسحاق بن راھویہ وغیرہ إن کان ذمِّیًّا فإنہ یقتل ایضًا فی مذھب مالک واھل المدینۃ حکایۃ الفاظھم وھو مذھب احمد وفقھا الحدیث وقد نص احمد علٰی ذالک فی مواضع متعددۃ قال حنبل سمعت ابا عبدﷲ یقول: کل من شتم النبی صلی ﷲ علیہ وسلم او تنقصہ مسلمًا کان او کافر فعلیہ القتل واری ان یقتل ولا یستتاب۔‘‘
(الصارم المسلول علٰی شاتم الرسول ص:۷،۸، طبع مکتبہ عباس احمد الباز، مکۃ المکرمۃ)
422
’’محمد بن سخنون فرماتے ہیں کہ: علمائے اُمت کا اس بات پر اِجماع ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کے متعلق عذابِ اِلٰہی کی وعید ہے، اور اُمت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے، اور جو کوئی شخص اس کے کفر اور اس کے عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، اس مسئلے میں تحقیق یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کو بالاتفاق قتل کیا جائے گا، اور یہی اَئمہ اَربعہؒ وغیرہ کا مذہب ہے، اِسحاق بن راہویہؒ وغیرہ نے اس اِجماع کو بیان کیا ہے۔ اور اگر گالی دینے والا ذِمی ہو تو حضرت اِمام مالکؒ اور اہلِ مدینہ کے نزدیک اس کو بھی قتل کیا جائے گا، اور عنقریب ہم ان کی عبارت نقل کریں گے۔ اور اِمام احمدؒ اور محدثین کا بھی یہی مذہب ہے۔ اِمام احمدؒ نے متعدّد مقامات پر اس بات کی تصریح کی ہے۔ اِمام حنبلؒ کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللّٰہ (اِمام احمدؒ) سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دی یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تنقیص کی، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اس کو قتل کرنا واجب ہے، اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔‘‘
خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ اَئمہ اَربعہؒ میں گستاخِ رسول کی توبہ قبول کرنے کے بارے میں معمولی اِختلاف ہے، لیکن ہمارے نزدیک اس آدمی کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر قتل نہ کیا گیا تو گستاخیوں کا دروازہ کھل جائے گا، لہٰذا گستاخی وبے ادبی کی تحقیق کرنے کے بعد اسے قتل کیا جائے گا۔
اب ہم سوال کے دُوسرے جزو کا جواب عرض کرتے ہیں۔
گستاخانہ کلام میں تأویل کی گنجائش:
عام طور پر یہ مشہور ہے کہ کلام میں ننانوے۹۹ اِحتمال کفر کے ہوں اور ایک اِحتمال اسلام کا ہو، اس کلام کو اِسلام پر محمول کیا جائے گا اور قائل کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ علامہ علاء الدین حنفی حصکفیؒ لکھتے ہیں:
’’وفی الدرر وغیرھا: إذا کان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر وواحد یمنعہ فعلی المفتی المیل لما یمنعہ ثم لو نیتہ ذالک فمسلم وإلَّا لم ینفعہ حمل المفتی۔‘‘
(الدرمختار ص:۱۲، طبع مکتبہ رشیدیہ)
’’درر وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلے میں کچھ وجوہ کفر کو واجب کرتی ہوں، اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر واجب ہے کہ اس کو منع عن الکفر پر محمول کرے، بشرطیکہ قائل کی بھی وہی نیت ہو، ورنہ مفتی کے عن الکفر پر محمول کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
لیکن اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ قائل کی نیت بھی وہی ہو، ہاں! اگر قائل کی نیت فی الواقع گستاخی کی ہو اور گواہ بھی موجود ہوں، تو ایسے آدمی کو قتل کرنا واجب ہے۔
423
’’وفی الخلاصۃ وغیرھا: إذا کان فی المسئلۃ وجوہ توجب التکفیر ووجہ واحد یمنعہ فعلی المفتی ان یمیل إلی الوجہ الذی یمنع التکفیر تحسینًا للظن بالمسلم۔ زاد فی البزازیۃ: إلَّا إذا صرح بإرادۃ موجب الکفر فلا ینفعہ التأویل حیئنذ۔ وفی التتارخانیۃ: لا یکفر بالمحتمل، لأن الکفر نھایۃ فی العقوبۃ فیستدعی نھایۃ فی الجنایۃ ومع الإحتمال لا نھایۃ۔‘‘
(ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۳۱۲)
’’خلاصہ وغیرہ میں ہے: جب کسی مسئلے میں متعدّد وجوہ سے کفر لازم ہو اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اس وجہ کی طرف میلان کرکے جو کفر سے روکتی ہو، کیونکہ مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا چاہئے۔ اور بزازیہ میں ہے کہ: جب قائل خود اس اِحتمال کا اِلتزام کرے جس وجہ سے تکفیر ہو، تب تأویل سے فائدہ نہیں ہوگا۔ اور تاتارخانیہ میں ہے: جس کلام میں کئی اِحتمال ہوں، اس پر تکفیر نہیں کی جائے گی، کیونکہ کفر اِنتہائی سزا ہے، جو اِنتہائی جرم کا تقاضا کرتی ہے، اور دُوسرا اِحتمال موجود ہو تو یہ اِنتہائی جرم نہیں ہے۔‘‘
دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ جس لفظ یا جس جملے میں متعدّد اِحتمالات ہوں اور ان اِحتمالات میں سے کچھ کفریہ ہوں اور کچھ غیرکفریہ تو اس وقت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مفتی کو چاہئے کہ وہ قائل کے کلام کو غیرکفریہ معنی پر محمول کرے، لیکن اگر کسی کلام کے متعدّد اِحتمالات نہ ہوں، بلکہ صرف ایک معنی ہو اور وہ معنی کفریہ ہو، تو اَب مفتی کے لئے قائل کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔
اب ہم تیسرے سوال کا جواب عرض کرتے ہیں۔
کیا گستاخانہ کلام میں نیت کا اِعتبار ہوگا؟
فرض کیا کوئی شخص نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمہ بولتا ہے اور جب اس کی تکفیر کی جائے تو وہ اپنے دِفاع میں کہتا ہے کہ اس کلمے سے میری نیت یہ نہیں تھی، تو اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ جس لفظ کے متعدّد معنی ہوں، اس کے متعلق تو قائل یہ کہہ سکتا ہے کہ میری نیت میں فلاں گستاخانہ معنی نہیں تھا، بلکہ یہ تھا، جو دُرست ہو، لیکن جس لفظ کا اَزرُوئے لغت یا عرفِ عام یا شریعت میں ایک ہی معنی ہو اور وہ معنی ہو بھی گستاخانہ اور کفریہ تو اَب قائل کی تکفیر کی نیت کا اِعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں ہوگا۔ مثلاً لفظ ’’طلاق‘‘ عرفِ عام اور شرع میں عورت کی جدائی کے لئے معین ہے، اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو: ’’انتِ طالق‘‘ کہہ دے تو طلاق واقع ہوجائے گی، تو اس کی نیت کا اِعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ لفظِ صریح میں نیت کا اِعتبار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح فقہاء نے لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ’’ولدالحرام‘‘ یا ’’حرام زادہ‘‘ کہتا ہے، تو اس پر تعزیر لگائی جائے گی، اور اگر قائل یہ کہے کہ حرام سے میری نیت ناجائز نہیں، بلکہ حرمت اور کراہت تھی تو اس کی نیت کا اِعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ عرفِ عام میں یہ الفاظ ناجائز اولاد کے لئے معین ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو غصّے میں ’’کافر‘‘ کہہ دے تو اس کو تعزیر لگائی جائے
424
گی۔ اس میں بھی اس کی نیت کا اِعتبار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ عرفِ عام میں ’’کافر‘‘ کفر باللّٰہ کے لئے معین ہے۔ پس ان تصریحات کے پیشِ نظر جو کوئی شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں ایسا کلام کہتا ہے جو عرفِ عام میں توہین کے لئے معین ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی، خواہ اس نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
’’ان ما کان دلیل الإستخفاف یکفر بہ وإن لم یقصد الإستخفاف۔‘‘
(ردالمحتار ج:۳ ص:۳۱۱)
’’جو چیز توہین کی دلیل ہو، اس پر تکفیر کی جائے گی، خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔‘‘
علامہ مُلَّا علی قاری حنفیؒ اور علامہ شہاب الدین خفاجیؒ فرماتے ہیں کہ: صریح لفظ میں تأویل قبول نہیں ہوتی (شرحِ شفا علی ہامش نسیم الریاض ج:۴ ص:۳۳۵)۔ علامہ وشتافی مالکیؒ لکھتے ہیں کہ لفظِ صریح میں گستاخی کی توبہ قبول نہیں ہوتی، کیونکہ صریح لفظ تأویل کو قبول نہیں کرتا (اکمال المعلم ج:۳ ص:۱۹۲)۔
علامہ قاضی عیاض مالکیؒ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے جائیں، توہین کا قصد ہو یا نہ ہو، قائل کی تکفیر کی جائے گی۔
’’ان یکون القائل لما قال فی جھتہ صلی ﷲ علیہ وسلم غیر قاصد للسب والازراء ولا معتقد لہ ولٰکنہ تکلم فی جھتہ صلی ﷲ علیہ وسلم بکلمۃ الکفر من لعنہ او سبہ او تکذیبہ او إضافۃ ما لا یجوز علیہ او نفی ما یجب لہ مما ھو فی حقہ صلی ﷲ علیہ وسلم نقیصۃ مثل ان ینسب إلیہ اتیان کبیرۃ او مداھنۃ فی تبلیغ الرسالۃ او فی حکم بین الناس او بغض من مرتبتہ او شرف نسبہ او وفور علمہ او زھدہ او یکذب بما اشتھر من امور اخبر بھا صلی ﷲ علیہ وسلم وتواتر الخبر بھا عن قصد لردہ خبرہ او یاتی بسیفہ من القول او قبیح من الکلام ونوع من السب فی جھتہ وان ظھر بدلیل حالہ ان لم یعتمد ذمہ ولم یقصد سبہ اما لجھالۃ حملتہ علٰی ما قالہ او لضجر او سکر اضطرہ إلیہ او قلۃ مراقبۃ وضبط للسانہ وعجرفۃ وتھور فی کلامہ فحکم ھٰذا الوجہ حکم الوجہ الأوّل القتل دون تلعثم إذ لا یعذر احد فی الکفر بالجھالۃ ولا بدعوی زلل اللسان ولا بشیء مما ذکرناہ إذا کان عقلہ فی فطرتہ سلیمًا إلّا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالإیمان۔‘‘
(الشفاء ج:۲ ص:۲۰۳، ۲۰۴)
’’جو کوئی شخص نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بات کہے اور اس کا اِرادہ گالی دینے کا نہ ہو اور نہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کا، اور نہ وہ اس کا اِعتقاد کرتا ہو، لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں ایسا کلمہ کفریہ کہے جس میں لعنت یا گالی ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تکذیب ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف کسی ایسی چیز کی اضافت کرے جو ناجائز ہو یا اس چیز کی نفی کرے جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے
425
واجب ہو، یا وہ بات کہے جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حق میں نقص ہو، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف گناہِ کبیرہ کی نسبت کرے، یا تبلیغِ رِسالت میں مداہنت کی نسبت کرے، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مرتبے اور شرفِ نسب یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے علم کی عظمت یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زُہد میں کمی کرے یا جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اوصاف مشہور اور متواتر ہیں، ان کی تکذیب کرے، یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی نازیبا بات کہے جو گالی کی قسم ہو، اس کے حال سے یہ ظاہر ہو کہ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کا اِرادہ نہیں کرتا، نہ اس پر اِعتماد کرتا ہے، یا اس نے جہالت کی وجہ سے کہا ہو، یا رَنج اور قلق کی بنا پر یا نشے کی وجہ سے کہا ہو یا سبقتِ لسانی سے ایسا کہا ہو، یا یوں ہی بے سوچے سمجھے یا جوشِ غضب سے ایسا کہہ دیا ہو تو ایسے شخص کا بلاتوقف یہ حکم ہے کہ اس کو قتل کیا جائے، کیونکہ جہالت تکفیر میں عذر نہیں ہے، نہ سبقتِ لسانی کا دعویٰ، نہ مذکورالصدر اسباب میں سے کوئی اور سبب جبکہ اس کی عقل صحیح ہو، سوا اس شخص کے جس کو ان کلمات کے کہنے پر مجبور کیا گیا ہو، اور اس کے دِل میں اِیمان ہو۔‘‘
علامہ قاضی عیاض مالکیؒ کی عبارت کا خلاصہ یہ ہوا کہ جس کسی شخص نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی صفات مثلاً کمالِ علم کے متعلق کوئی نازیبا بات کہی خواہ اس کا اِرادہ اور نیت توہین نہ ہو، اور نہ وہ اس کا اِعتقاد رکھتا ہو، بلکہ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کمالات کا قائل ہو، پھر بھی اس نازیبا بات کی وجہ سے وہ کافر ہوجائے گا اور اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ خلاصہ جواب یہ ہوا۔ گستاخِ رسول واجب القتل ہے جیسا کہ تفصیل اَئمہ کے اقوال میں بیان ہوچکی ہے۔ صریح الفاظ میں کوئی گنجائش نہیں، ہاں! غیرواضح الفاظ میں تأویل کی گنجائش ہے۔ اس کا بھی جواب تفصیلاً ہوچکا ہے۔ نیت کے اعتبار کے بارے میں بھی واضح کرچکا ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو تعظیمِ رسول کی نعمتوں سے مالامال فرمائے، آمین! اور تمام تر بے ادبیوں اور گستاخیوں سے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے، آمین۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۱۷۸ تا ۱۸۲)
گستاخِ رسول کے واجب القتل ہونے کی وجوہات
سوال:۔۔۔ گستاخِ رسول کو علمائے اسلام بڑی سزا سناتے ہیں، اس سے قرآنی آیت: ’’لَآ اِكرَاہَ فِی الدِّینِ‘‘ ’’دِین میں جبر نہیں‘‘ کی شدید مخالفت ہوتی ہے، اور گستاخِ رسول کی سزا کیا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔
زبیر احمد زبیری، مالاکنڈ ایجنسی
جواب:۔۔۔ محترم زبیر احمد زبیری صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
’’دِین میں جبر نہیں‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لانا چاہے لائے، اگر نہیں لانا چاہتا، نہ لائے، جبر نہیں۔ لیکن جبر نہ ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ آپ مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیں، جو چاہیں کریں۔ ہر حکومت اپنے شہریوں کی عزّت، جان اور مال کی حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ ملکی قوانین کی حفاظت کرتی ہے، قانون شکنی کی کسی کو اِجازت نہیںدیتی، قانون شکنی یا بغاوت کرنے پر بڑی سے بڑی سزا دیتی ہے۔ آئین وقانون پر زبردستی عمل درآمد کرواتی ہے، اور کوئی شخص اسے جبر وجور کا نام نہیں دیتا، بلکہ چاہتا ہے
426
کہ ایسے لوگوں کو بڑی سے بڑی سزا دے کر معاشرے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک وپاکیزہ کردیا جائے۔ اسلامی حکومت کا جواز یہ ہے کہ اس میں خدا ورسول کی عزّت محفوظ ہو، اِسلامی نظام ریاست قائم ہو اور لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ گستاخِ رسول بیک وقت آئین کی خلاف ورزی، قانون شکنی اور قرآنی حکم سے بغاوت کرتا ہے۔
’’وَلِلَّہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُونَ‘‘ (المنافقون:۸)
’’عزّت، اللّٰہ، اس کے رسول اور اِیمان والوں ہی کے لئے ہے، لیکن منافق نہیں جانتے۔‘‘
اِرشاد ہے:
’’إِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُونَ اللہَ وَرَسُولَہُ لَعَنَہُمُ اللہُ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأَعَدَّ لَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْناً‘‘ (الاحزاب:۵۷)
’’بے شک جو لوگ اللّٰہ اور اس کے رسول کو اِیذا دیں (بے ادبی کریں) ان پر اللّٰہ نے دُنیا اور آخرت میں لعنت کردی اور ان کے لئے رُسواکن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
آگے چل کر وہ رُسواکن عذاب ان الفاظ میں بیان فرمایا:
’’مَلْعُونِیْنَ أَیْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلاً‘‘ (الاحزاب:۶۱)
’’لعنتی، جہاں پائے جائیں پکڑ لئے جائیں اور ذِلت کے ساتھ قتل کردئیے جائیں۔‘‘
اسلامی ریاست کا ایک نظریہ ہے، اور وہ ہے اسلام کی سربلندی، اور اس کی بنیاد، توحید، رِسالت اور عقیدۂ آخرت ہے، تو جو شخص نبی کی شان میں گستاخی کرے، وہ دراصل اسلامی ریاست کی جڑ کاٹ رہا ہے، لہٰذا واجب القتل ہے۔ دُنیا کا ہر ملک اور ہر حکومت کسی بنیاد پر قائم ہے اور اس بنیاد پر وار کرنے والا باغی کہلاتا ہے اور واجب القتل قرار پاتا ہے۔ اسلام غیرمسلموں کی جان، مال اور عزّت کا محافظ ہے، مگر یہ ذمہ مشروط ہے کہ وہ لوگ ہماری بنیاد پر وار، نہ کریں، بصورتِ دیگر مباح الدم ہیں۔ اس موضوع پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا پمفلٹ ’’گستاخِ رسول کی سزا قتل ہے‘‘ مطالعہ کریں۔
واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۲۶۵،۲۶۶)
مرزائی مرتد ہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ مرزائی کافر، مرتد اور واجب القتل ہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزائی کافر، مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور اسی پر اِجماعِ اُمت ہے۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۲)
427
قتلِ مرتد
قتلِ مرتد کا مسئلہ اگرچہ غیرمسلموں کی نظر میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے، لیکن چونکہ افغانستان میں نعمت اللّٰہ خاں کو جو قادیانی ہوگیا تھا، سنگسار کیا جاچکا تھا، اس وجہ سے ذہنوں پر پھر مسلط ہوگیا اور منظم تبلیغ اگرچہ شدھی کے جواب میں اِرتداد کے سدِباب کے طور پر تھی، مگر ناگوار ہو رہی تھی۔
جب قرارداد کی پہلی تجویز حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کے علم میں آئی تو ان کا دِل تڑپ اُٹھا اور مولاناؒ نے فوراً پے درپے مندرجہ ذیل مسلم وغیرمسلم زُعما کو تار اور خطوط بھیجے: مدیر اخبار شوکت بمبئی، مہاتماگاندھی، پنڈت موتی لال نہرو، مولانا محمد علی، مولانا کفایت اللّٰہ، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد، مولانا حفیظ اللّٰہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء۔
یہ تمام مفصل خط وکتابت ایک رسالے کی صورت میں بنام ’’سرالاصلاح‘‘ منشی مظفر علی نے مرتب کرکے شائع کردی تھی، یہاں صرف چند خطوط درج کئے جاتے ہیں۔
خط اَز مولانا عبدالباریؒ بنام مولانا حسین احمدؒ (دہلی)
مکرمی دام مجدہٗ - السلام علیکم- آپ کا تار آیا، مجھے تعجب ہے کہ میرا مقصد صاف وواضح غالباً آپ حضرات تک نہیں پہنچا، میں ابھی تک یہ نہ سمجھ سکا کہ کس سبب سے مبحث عنہ تحریک مذہب کے خلاف نہیں ہے، اگر اس کے الفاظ کا مفہوم غلط ہے تو یہ بات مانی جاسکتی ہے، اگر شائع شدہ الفاظ صحیح ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس کو ہم مذہب کے اَحکام کے خلاف نہ سمجھیں۔
مولانا! نفسِ مسئلہ حکم قتلِ مرتد میں موجودہ حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلام نہیں ہے، اگر کوئی سزا دے مرتد کو تو اس پر نفرت کی جائے، یہ مابہ النزاع ہے۔ اس میں تو تمام افعال واقوال واَحکام اگلے پچھلے اندرون، ہند، بیرونِ ہند سب داخل ہیں، اور فرض کیا جائے کہ اندرونِ ہند اور وہ بھی برٹش انڈیا کے ساتھ تحریک مخصوص ہے تو اس میں بھی ایسی صورت داخل ہے کہ جس میں کسی کا لڑکا مرتد ہوجائے ۔۔۔والعیاذباللّٰہ۔۔۔ اور وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کو چند دِن اپنے گھر میں باندھ رکھے اور فہمائش کرے، اس کو گمانِ غالب ہے کہ اگر ایسا کیا جائے وہ دِین میں پھر واپس آجائے گا، جیسا کہ خود موتی لال صاحب کی لڑکی کے بارے میں گاندھی صاحب نے کیا تھا۔ اب یہ صورت بھی اس ریزولیشن میں قابلِ نفرت وملامت ہے، لیکن اس پر خاک ڈالئے اور اس تأویل سے مان بھی لیجئے تو میں اس پر کد نہ کروں گا۔ اگر قدمائے مقدسین کے افعال کو کسی طرح مستثنیٰ کردیا جاتا، مجھے بھائی محمد علی وشوکت علی صاحبان سے فروگزاشت پر تعجب نہیں ہے، مگر آپ ایسے علمائے متبحرین سے اس فروگزاشت کو سخت قابلِ تعجب سمجھتا ہوں، پھر اگر مان بھی لیا جائے کہ ہم قتلِ مرتد، بلکہ کوئی سزا مرتد کو ہم نہیں دے سکتے، غور فرمائیے کہ اگر کوئی ادنیٰ سزا دے اور سمجھے کہ اس سزا کو دینا مرتد کی اِصلاح کا باعث ہوگا، تو اس پر بھی آپ کی نفرت وملامت موجود ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کسی نصرانی حربی مثل دھوبی کے قاتل پر اگر کسی نے نفرت کی حالانکہ ہندوستان میں اس قسم کے قتل کی فرضیت کا کوئی قائل نہیں، اور اُصول ترکِ موالات بلاتشدّد مجوّزہٗ گاندھی جی کے بھی خلاف ہے، اس پر اِظہارِ نفرت کرنا بُرا ہوا، اور اس قسم کی سزا مرتد کو دینا جس سے اِصلاح کی اُمید ہے، قابلِ
428
نفرت سمجھا جائے، بلکہ اس پر مجمع میں نفرت کی جائے۔ صاف اور واضح بات کو چھوڑ کر کہ ’’ہم ہندوستان میں نہ قبل سوراج، نہ بعد سوراج قتلِ مرتد کرنے کا حکم نہیں دیتے‘‘ ایسی لغو اور بے معنی عام تحریک کرنا کیا ضروری تھا اور اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ مانا کہ اس ریزولیشن سے فتنۂ اِرتداد رَفع ہوتا ہے، گو اس کی اُمید نہیں، لیکن مقصود اس کا یہی سمجھا جائے تو بھی جملہ مابہ النزاع سے جو مذہبی خرابی اب پیش ہے، اس سے تو فتنۂ اِرتداد بڑھا جاتا ہے۔
-
شادم کہ از رقیباں دامن کشاں گزنتی
گو مشت خاک ماہم برباد رفتہ باشد
ایک فتویٰ جو علمائے ندوہ نے آج بھیجا ہے، اس کی نقل مرسل ہے۔
فقیر عبدالباری
۲؍ربیع الاوّل ۱۳۴۳ھ
خط اَز مولانا شوکت علیؒ بنام مولانا عبدالباری
دہلی یکم اکتوبر ۱۹۲۴ء- حضورِ والا! السلام علیکم۔ کل ایک تار پنڈت موتی لال نہرو، محمد علی اور مولانا کفایت صاحب کے نام آیا۔ جب میں لکھنؤ حاضر ہوا تھا تو عرض کیا تھا کہ اس وقت لکھنؤ حاضر ہونے کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ موجودہ کانفرنس میں پیش ہونے والے مسائل کے بارے میں شرعی اَحکام کے متعلق حضور کی یا کم از کم مولوی عنایت اللّٰہ صاحب کی اِعانت حاصل کروں۔ اِبتدائے تحریک سے بار بار اور مسلسل عرض کرتا رہا ہوں کہ میں فقہ سے اور اَحکامِ شرعیہ کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوں، اس لئے ہمیشہ ہر مسئلے میں حضور کی رائے دریافت کرلیا کرتا ہوں۔ یہ ایک نازک موقع تھا، جس میں اکثر مذہبی اُمور پر بحث ہونے والی تھی، اس لئے میں نے چاہا تھا کہ مولوی عنایت صاحب ضرور شریک ہوں، مگر وہ تشریف نہیں لائے۔ اب مجبوراً ہم کو یہاں ان علماء کی رائے پر اِعتماد کرنا پڑا جو کانفرنس میں تشریف رکھتے ہیں۔ مولانا کفایت اللّٰہ صاحب، مولانا حسین احمد صاحب، مولانا احمد سعید صاحب وغیرہ، اس لئے ہم لوگوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، جیسا علماء نے یہاں فتویٰ دیا اس پر عمل کرکے تحریک پیش کی گئی، پاس کی گئی، جس وقت یہ تحریک پیش کی گئی ہے تو سب سے پہلے علماء کی رائے اس مسئلے میں دریافت کی گئی، مولانا کفایت اللّٰہ صاحب نے بلاکسی شرط یا مشتبہ الفاظ کے صاف اور واضح طور پر بیان کیا کہ مرتد کی سزا یقینا اَز رُوئے شرع شریف قتل ہے، مگر اس سزا کا نفاذ ہندوستان میں اب یا بعد حصول سوراج نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ اس کے نفاذ کے لئے سلطان کی موجودگی، قانونِ اسلام کا نفاذ اور محکمۂ قضاۃ وغیرہ وغیرہ کا موجود ہونا ضروری ہے، جو یہاں نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوسکتا ہے۔ پھر ان سے سوال کیا گیا کہ کوئی سزا علاوہ قتل کے دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس کا بھی انہوں نے یہی جواب دیا۔ اب انہیں کے الفاظ ریزولیشن میں رکھ دئیے گئے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، حضور کو شاید غلط فہمی ہوئی کہ اس ریزولیشن کا کسی طرح کا بھی تعلق اس قانونِ مرتد سے ہے، جس کا اس وقت نفاذ ریاست بھوپال میں ہے۔ اس کے متعلق شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ریاستوں سے ہم کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے کسی ریزولیشن کا کوئی اثر ریاست کے
429
قوانین پر نہ اب پڑسکتا ہے اور نہ آئندہ کبھی پڑنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ مثلاً اگر ریاست نظام میں اس وقت چور کا ہاتھ کاٹنے یا مرتد کے قتل کا حکم جاری کردیا جائے تو ہم کو اس سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اسی طرح ریاست جے پور میں گاؤکشی پر پھانسی کی سزا کا حکم ہے، مگر ہم کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اس وقت مسئلے کی نوعیت صرف اس قدر ہے کہ ہندوؤں کی طرف سے ایک سوال قتلِ مرتد یا سزائے مرتد کے بارے میں کیا جاتا ہے، ہم اس کے جواب میں جو صحیح حکمِ شریعت ہے اس کو بیان کردیتے ہیں، نہ ہندوؤں کو اس وقت اس سوال سے زائد کا حق تھا، اور نہ ہم کو حق تھا کہ کوئی قانون بناتے۔ کانفرنس کا کوئی فیصلہ ناطق نہیں ہے سزائے مرتد یا قتلِ مرتد کے بارے میں اگر کوئی سوال پیدا بھی ہوسکتا ہے تو بعد سوراج۔ مسلمانوں کو پورا حق ہے کہ جس وقت چاہیں گے پارلیمنٹ میں جو قانون چاہیں پاس کرائیں، اس کانفرنس میں صاف صاف برابر اِعلان کیا جاتا رہا ہے کہ اس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ موجودہ فسادات کے رَفع کرنے اور ان کے اسباب کے دریافت پر غور کیا جائے۔ ہندو، مسلمانوں میں کوئی دوامی شرائط صلح نہیں طے کئے جارہے ہیں۔ قتلِ مرتد کے بارے میں اس وقت ایک جماعت کو فکر تھی کہ اس کے متعلق مسئلے کو واضح کیا جائے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ لکھنؤ کی حاضری کا ایک سبب اس مسئلے کو دریافت کرنا بھی ہے۔ مجھ کو یاد ہے اور اسی بنا پر میں نے یہاں حضور کے مشورے کا حوالہ دے کر اِعلان کیا کہ مسئلہ یوں ہی ہے، جس طرح مولانا کفایت اللّٰہ صاحب نے بیان کیا۔ آخر میں نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کروں گا کہ حضور اس وقت تک سکوت فرمائیں، جب تک یہاں کے حالات مولانا کفایت اللّٰہ صاحب اور دیگر حاضرین سے سن نہ لیں اور صحیح حالات معلوم نہ کرلیں۔ دوچار روز کی تأخیر میں کوئی نقصان نہ ہوگا، اور حضور ہم پر کم سے کم یہ تو بھروسہ کرلیں کہ ہم اپنی موجودگی میں شریعت کی تحقیر نہ ہونے دیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ حضور کو کس درجہ ہندو، مسلمان کے اتحاد کا خیال ہے، اس لئے ہم کو تو اس کے خلاف گمان کرنا بھی اب نادانی اور جہالت ہے۔ واقعات صحیح آپ کو سب معلوم ہوجائیں گے اور اس وقت باقی ماندہ شکوک اور دقتیں باہمی حالت رواداری کے ساتھ فیصلہ پاجائیں گی۔ ازحد مصروف ہوں اور تھکا ہوا، حضور کا خادم!
خادمِ کعبہ شوکت علی
خط مولانا حسین احمدؒ بنام مولانا عبدالباریؒ
-
شب تاریک وییم موج دگر دا بے چنیں ہائل
کجا دانند حال ما سبکساراں ساحلہا
مولانا المحترم زیدت معالیکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
والانامہ مع تار باعثِ سرفرازی ہوا۔ مولانا! ایک دو اَمر ہوں تو ان کو ذِکر کیا جائے۔ دِل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ صنفِ علماء کی خودپسندی، تشتّت، خودرائی، حبِ جاہ ومال، خوفِ اَغیار کی تاریک گھٹاؤں نے عرصہ دراز سے جو کچھ نہ دیکھا تھا، وہ دِکھا ہی رکھا تھا۔ مگر اس زمانۂ پُرآشوب میں اس صنف کے اِستغناء اور غفلت نے تو اَساسِ اسلام کے کھود ڈالنے کی تیاری کرلی ہے۔ اس
430
مؤتمر اِتحاد نے ہر طبقے اور ہر صنف اور ہر فریق کے لوگوں کو دعوت دی، قریب اور بعید کے تقریباً چار سو ستر یا زیادہ آدمیوں کو بلایا۔ مگر اوّل تو مسلمان بہت کم آئے، پھر ان میں علماء کی جماعت اقل قلیل تھی، علمائے دیوبند کو متعدّد تار گئے، کوئی نہیں آیا۔ علمائے بدایوں میں سے کوئی نہیں آیا، اور علیٰ ھٰذا القیاس، دُوسرے مقامات سے بھی کوئی نہیں آیا۔ فقط سیّد سلیمان ندوی تشریف لائے تھے، جو فقط دو تین دِن ٹھہرکر چلے گئے، کوئی معتد بہ دِلچسپی انہوں نے نہیں کی۔ مولانا! مجمعِ اَغیار تھا۔ ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی مجتمع تھے، قادیانی، روشن خیالی کے مدعی انگریزی خواں حضرات ۔۔۔جو بزعمِ خود اپنے سامنے ابوحنیفہ رحمۃاللّٰہ علیہ اور شافعی ومالک واحمد بن حنبل وغیرہم رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کو نہ صرف طفلِ مکتب، بلکہ مضر لِلدِّین والاسلام سمجھتے اور کہتے ہیں۔۔۔ موجود تھے۔ ہر فریق نے اپنے چیدہ چیدہ متکلم اشخاص کو بھیجا اور جمع کیا تھا، مگر کیا اِسلام کے مذہبی اور علمی طبقے کو اس کی کوئی پروا ہوئی تھی؟ اس کا جواب سوائے نفی کے اور کچھ نہیں۔
مولانا! اس مجمع میں جو کچھ مشکلات ہم کو پیش آئیں، اس کو ہم ہی اندازہ کرسکتے ہیں، اور آپ اتنی دُور بیٹھے ہوئے اندازہ نہیں کرسکتے۔ ہر ہر لفظ اور ہر ہر مسئلے پر دُشواریوں کے پہاڑ اَڑ جاتے تھے، جن کا اُٹھانا بھی دُشوار، اور ہٹانا بھی دُشوار تر ہوتا تھا۔ نہ کوئی صحیح مشورہ دینے والا ہوتا تھا، نہ کوئی ہمدردی اور اِعانت کرنے والا۔ خود ہمارے معزّز لیڈروں کے بات بات پر حملے اور سخت حملے ہوتے رہے۔ اگر مجمعِ اَغیار میں ان کا جواب دیں تو اِسلام، مسلمانوں، علماء کی توہین ہوتی ہے، اور اگر چپ رہیں تو مداہنت کا دَھبّہ، عجب کشمکش کا عالم تھا! شیر نری کا دعویٰ کرنے والے، اَغیار کے سامنے بزِاَخفش بنے ہوئے نظر آتے تھے، آپ خود خیال فرماسکتے ہیں کہ مخالف فریق اور مدعیانِ اِجتہاد وعلمیت پر جماعت کا جو اثر پڑسکتا ہے، وہ ایک دو کا نہیں ہوسکتا۔ پھر چند دِماغ جو چیز پیدا کرسکتے ہیں، ان کے لئے ایک یا دو دِماغ کافی نہیں ہوسکتے، اور جبکہ اپنوں ہی میں ایسے حضرات ہوں جو کہ دُوسروں کے سیلاب میں اپنے آپ اور اپنی قوم کو بہا دینے کے لئے تیار ہوں تو اس کا کیا حشر ہوگا۔۔۔؟
-
قَوْمِی ھُمُ قَتَلُوا اُمَیْم اَخِی
فإذا رمَیْتُ یُصیبنی سَھْمی
-
ولَئِنْ عَفَوْتُ لأعفُوَن جَللًا
ولَئِنْ کَسَرتُ لاُوْھِنَنْ عَظْمِی
مولائی المحترم! پہلے ہی دن فریقِ غیر کی طرف سے مجھ سے کہا گیا کہ یہ صلح کس طرح ہوسکتی ہے جبکہ تمہارے مذہب میں مرتد کے لئے سزائے قتل ہے۔ میں نے جواب دیا کہ بے شک یہ حکم مذہب کا ہے، مگر ہم ہندوستان کے لئے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ بصورت برٹش راج یا سوراج اس مسئلے کا ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔ کہا گیا کہ بصورت سوراج خالص اسلامی ریاستیں ممکن ہے اس پر عمل کریں۔ میں نے جواب دیا کہ یہ ریاستیں غالباً اس وقت بھی اسی قسم کی خودمختار ہوں گی جیسی کہ اب ہیں، یا جمہوریت کے اِعضاء میں سے ہوکر خالص اسلامی خودمختار کامل نہ ہوں گی، اس لئے وہ بھی ہمارے مسئلے سے خارج ہیں۔
431
تھوڑی دیر کے بعد اِجلاس شروع ہوا، تمہیدی تقاریر شروع ہوئیں، چند انگریزی تقریروں کے بعد پنڈت مالویہ جی نے تقریر کی اور اِشتراکِ مذہب، اِتحادِ عمل کی ضرورت اور فوائد وغیرہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دِلائی کہ وہ اپنے مذہب میں سے سزائے مرتد اور تبلیغ کو نکال ڈالیں تاکہ امن واِتحاد قائم ہو۔ یہ تقریر غالباً آدھ گھنٹے ہوئی تھی۔
مجھ کو کہا گیا کہ تو اس کے بعد تقریر کر۔ مگر مولانا کفایت اللّٰہ کے موجود ہوتے ہوئے، ان کی قوّتِ تقریر وتحریر، ذکاوت وفطانتِ علمی بلند پائے گی وغیرہ مجھ کو ہر طرح مجبور کرتی تھی کہ میں اس کی اپیل ان کی خدمت میں کروں۔ چنانچہ مولانائے موصوف کھڑے ہوئے اور نہایت واضح اور روشن طریقے پر ثابت کیا کہ مختلف المذاہب اور متبائن الاعتقاد اَقوام واَدیان ایک سرزمین میں کس طرح بسر کرسکتے ہیں، اور ان کے لئے طرزِ عمل کیا کیا اِختیار کرنا ضروری ہے۔ آخر میں مولانائے موصوف نے فرمایا کہ بے شک شریعتِ اسلامیہ میں یہ مسئلہ مُسلَّم ہے کہ مرتد کو سزائے قتل دی جائے، مگر اس کا تعلق ہندوستان سے نہیں، اس سزا کا اِختیار سلطانِ اسلام کو ہے، وہ اپنی قلمرو میں اس کو جاری کرسکتا ہے۔ موجودہ حالت میں اور بعد اَز سوراج ہندوستان اس سے خارج ہے۔ اس بیان کو وضاحت کے ساتھ مولانا نے روشن فرمایا، جس پر تمام حاضرین کی کامل توجہ منعطف تھی۔
اس پر پنڈت رام چندر نے یہ کہا کہ جہاں سلطانِ اسلام نہ ہو، یا حکم نہ دے، وہاں کوئی مسلمان فرد یا جماعت خود کسی مرتد کو قتل کرسکتے ہیں یا نہیں؟ مولانا نے فرمایا: نہیں! اس نے کہا کہ: اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کی کیا سزا ہے؟ مولانا نے کہا کہ یہ امر مفوّض الی رأی السلطان ہے۔ یہ گفتگو جب ہو رہی تھی اس پر مالویہ جی اور دُوسرے لیڈر ہنود بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ اس کی تنقیح کی اب ہم کو ضرورت نہیں، جبکہ ہم کو یہ معلوم ہوگیا کہ اس مسئلے کا تعلق ہندوستان کی موجودہ اور مستقبلہ حالت سے نہیں تو ہم کو کافی ہے۔ مولانا کفایت اللّٰہ نے اس وقت کہا بھی کہ اگر اس مسئلے کے متعلق اور کچھ کسی کو پوچھنا یا کہنا ہو تو پوچھے، میں جواب کے لئے تیار ہوں۔ اس پر ان کے عام لیڈروں نے خصوصاً بڑوں نے کہا کہ یہ قدر ہم کو کافی ہے۔ مسئلۂ تبلیغ کے متعلق مولانا نے فرمایا کہ: مذہبِ اسلام اِبتدا ہی سے تبلیغی مذہب ہے، اور ہمیشہ سے وہ تبلیغ کا کام کرتا رہا، اور یہی اس کی تعلیم ہے، مگر نہایت حکیمانہ اور عادلانہ طریقے پر، بلااِکراہ واِجبار وغیرہ۔
غرضیکہ اس مفصل تقریر پر سبھوں کو اِطمینان ہوا۔ اس میں مولانا آزاد نے فرمایا کہ: مولانا! یہ تفصیل کردیجئے کہ یہ حکم قضائً ہے یا تشریعاً؟ مگر مولانا موصوف کی گزشتہ تقریر پر سبھوں نے کہا کہ: اب اس کی کوئی حاجت نہیں۔ محمد علی (لاہوری مرزائی) بولے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق قادیانی کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی تقریر میں بھی یہ کہا کہ حقیقت میں مسئلہ مرتد ہندوستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا، یہاں کوئی سزا انہیں نہیں دی جاسکتی، بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہندوستان کے باہر بھی اس کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی، اور نہ سلطانِ اسلام کو اس کا اِختیار ہے۔ اس پر میں نے چِلَّاکر کہا کہ یہ محض آپ کی رائے ہے، مذہبِ اسلام میں یہ نہیں ہے۔ سیّد سلیمان صاحب ندوی نے مجھے روکا اور یہ کہا کہ یہ بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ: ’’میں کہتا ہوں!‘‘۔
خلاصہ یہ کہ ان مباحث پر جن میں یہ تسلیم کرلیا گیا تھا کہ مذہبِ اسلام میں یہ سزا مقرّر مگر یہاں بوجہ مانع اس کا اِجراء نہیں
432
ہوسکتا۔ جملہ احضار جلسہ کو اِطمینان ہوگیا، اس کے بعد مختلف اَشخاص کی تقریریں ہوئیں۔
صدر جلسہ اور دیگر مقرّرین نے بار بار اپنے الفاظ کہے کہ اس جلسے میں گزشتہ اعمال وافعال کی تحقیق وتفتیش کرنی مطلوب نہیں ہے، اور نہ ان کی نسبت کوئی فیصلہ ظاہر کرنا ہے، بلکہ آئندہ کے متعلق ایک نظامِ عمل تیار کرنا ہے تاکہ وہ اُمور جن کی وجہ سے فضائے ہندوستان مکدّر ہوگئی ہے، ظاہر نہ ہوں، اسی بنا پر متعدّد اوقات میں جبکہ سوامی شردھانند نے اپنی کتاب اور اخبار لے کر جناب کے فتویٔ قتلِ مرتد پر اِظہارِ رائے کرنا اور اسپیچ دینا چاہا، صدرِ جلسہ نے روک دیا۔ ہم سب تیار تھے کہ اگر سوامی جی نے تقریر کی تو اِن شاء اللّٰہ پوری وضاحت کے ساتھ جواب دیں گے۔ مگر چونکہ صدرِ جلسہ نے یہ بھی کہا تھا کہ عنقریب اس کے متعلق خاص طور سے ریزولیشن آنے والا ہے، اس وقت آپ کو جو کچھ فرمانا ہے فیصلے کے بعد آپ فرمائیں۔ تو ہم نے بھی یہ مناسب سمجھا کہ اب اس قت ہم کو اُلجھنا نہ چاہئے، ورنہ ہم بھی روک دئیے جائیں گے۔
اور ہم بعد ممانعت صدر گزشتہ اُمور پر تبصرہ کرنا بھی غیرضروری خیال کرتے تھے، اسی طرح جبکہ ریزولیشن نمبر۱ میں منادر کے متعلق اِظہارِ افسوس کا جملہ آیا اور اس میں ترمیم زیادت لفظ مساجد یا ابدال لفظ معابد کی احقر نے پیشین کی اور بحث جاری ہوئی تو میں نے مساجد بھرت پور کا ذِکر کیا، اس پر کہا گیا کہ وہ معاملہ اسٹیٹ کا ہے، ہم اسٹیٹ کے افعال میں حسب اُصولِ کانگریس کوئی مداخلت نہیں کرسکتے۔
الحاصل اس کانفرنس کے اُصول وقواعد میں سے جن کا بار بار تذکرہ آچکا تھا، یہ چند اُمور تھے:
نمبر۱:۔۔۔ اُمورِ اِستقبالیہ کے متعلق فیصلہ اور غور۔
نمبر۲:۔۔۔ جو اُمور باعثِ فساد وفتنہ ہیں ان کا تصفیہ۔
نمبر۳:۔۔۔ اُمورِ متعلقہ برٹش ہند پر اِتفاق۔
گزشتہ اُمور پر نہ تبصرہ وتنقید تھی اور نہ ممالکِ خارجہ اَز ہند، یا ریاستیں ان میں داخل ہیں، اس لئے ذبیحہ گاؤ ودیگر حیوانات یا آرتھی اور اَذان وغیرہ کے متعلق تصفیہ جات ریاستوں سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے، جہاں پر کہ یہ اعمال جبراً روکے جارہے ہیں اور ریواں راج وغیرہ میں تبدیلِ مذہب پر سزائیں مقرّر ہیں۔
مولائے محترم! ریزولیشن نمبر۴ کے تمہید کے ان الفاظ کو بھی مدِنظر رکھیں جن کا تعلق خاص ریزولیشن نمبر۱ سے ہے، اور وہ اس پر پوری روشنی ڈالتے ہیں۔ ’’ریزولیشن نمبر۱ میں ہندوستان کی مختلف قوموں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے جو عام اُصول قرار دئیے گئے ہیں، ان کو مدِنظر رکھ کر اور تمام مذاہب، عقائد واعمالِ مذہبی کے لئے کامل رواداری حاصل کرنے کی غرض سے یہ کانفرنس اپنی یہ رائے قائم کرتی ہے کہ۔‘‘
مولانا المحترم! جب آنجناب ان الفاظ پر غور فرمائیں گے تو کسی طرح بھی زمانۂ اسلاف کرام رضی اللّٰہ عنہم پر ریزولیشن نمبر۱ کے الفاظ کو اگرچہ وہ کسی درجے میں موہم یا صریح بھی ہوں صادق نہ فرماسکیں گے اور نہ بیرونِ ہند کسی کو اس کا مصداق بناسکیں گے،
433
بلکہ اندرونِ ہند بھی ریاستیں بالاتفاق اس سے خارج ماننی پڑیں گی۔
مولانا المحترم! ہم نے حتی الوسع جہاں تک بھی ممکن ہوا اپنی پوری سعی اِصلاح میں صَرف کی ہے، اور اس کی پوری رعایت کی ہے کہ اپنے حقوقِ شرعیہ اور ارکاناتِ مذہبیہ محفوظ رہیں، جس میں ہم کو اَحباب سے بہ نسبت اَغیار زیادہ دِقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً مولانا کفایت اللّٰہ نے اس میں نہایت جانفشانی کی ۔۔۔فشکر ﷲ مسعاہ۔۔۔ ہم یقینا کہتے ہیں کہ اگر ان کی ذات اس میں سعیٔ بلیغ نہ کرتی یا موجود نہ ہوتی تو خدا جانے کیا ہوجاتا۔
مولانا! ضروری ہے کہ علمائے کرام ذرا توجہ کریں اور اِسلام کے سنبھالنے کی کوشش اور اِتحادِ صنفی میں پورا اِجتہاد صَرف کریں۔ ورنہ یہ ایک یا دو باہمت حضرات بھی تھک کر بیٹھ جائیں گے، کہاں تک گالیوں اور اِلزامات لایعنی کا بوجھ اُٹھائیں گے۔ گورنمنٹ کے نمک خوار علیحدہ ان کے بدنام کرنے کی کوششیں عمل میں لارہے ہیں۔ پبلک کے کج فہم رائے اشخاص علیحدہ ان پر بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ حضرات علیحدہ طرح طرح کی لسانی، تحریری، عملی کارروائیاں پیش کر رہے ہیں۔ پھر بھی ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، ایک دُوسرے کی نہ رواداری کرتا ہے، نہ ہمدردی اور خبرگیری کے لئے تیار ہے۔ دُشمن ہر طرح نورِ اِسلام کو بجھانے پر تلا ہوا ہے، اور ہم اپنے زوایے میں آرام کر رہے ہیں۔ اگر آپ جیسی مقدم ہستیاں جنہوں نے جمعیت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی تھی، وہ بالکل علیحدہ رہا کریں تو کیونکر نتیجہ نکل سکتاہے؟ اور اس کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی نہیں ہے تو بند کردیجئے قبل اس کے کہ اَغیار واَحباب اس کی کونچیں کاٹ کر اس کو ہبائً منثورا کردیں۔ فإن کنت مأکولًا فکن خیر اَکل وإلا فأدرکنی ولما امزق!
پھر میں عرض کرتا ہوں کہ ریزولیشنوں میں اس کا بھی بہت زیادہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ اسلام کی تبلیغ واِشاعت اور افزونی میں موجودہ کشمکش کو لحاظ رکھتے ہوئے کونسی صورت مفید ہوسکتی ہے؟ اپنے فہم وتجربے کے مقدار پر کوشش کی گئی ہے، وﷲ اعلم بالصواب، وإلیہ المرجع والمآب، وما اُبرّیُٔ نفسی إِنّ النَّفس لأمَّارۃٌ بالسُّوء ، والسلام خیر ختام۔
دستخط: حسین احمد
جواب خط مذکور اَز مولانا عبدالباری بنام مولانا حسین احمد
مولانا المحترم! السلام علیکم۔ مکرمت نامہ صادر ہوا۔ میں تأسف کرتا ہوں کہ میرے پہلے تار کا جواب مختصر دینے کے بجائے تھوڑی بات طویل کردی گئی۔ یہی جواب تھا اس کا جو بعد کو موتی لال صاحب نے اور مولانا کفایت اللّٰہ صاحب نے دیا۔ حسبِ اطلاع جناب کے اس کی وضاحت بعد کے ریزولیشنوں میں کردی گئی، لیکن جس وقت صدر کا پیش کردہ ریزولیشن گاندھی صاحب کی فاقہ شکنی کی اِستدعا میں شائع ہوا تھا اس وقت کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی اور اس وقت تک وہ مباحث ہی نہیں ہوئے تھے جو بعد کو ہوئے۔ اس وقت تو علماء کی موجودگی بھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ اس واسطے یہ تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آپ حضرات اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ میں مولانا کفایت اللّٰہ صاحب کی مشکلات کو اچھی طرح اِحساس کرتا ہوں۔ ان کو جیسا میں بے نظیر سمجھتا ہوں، اس کے ظاہر کرنے میں مجھے کبھی کوئی تأمل نہیں ہوا۔ مجھے یقین ہے اور ایسا ہی مجھے صبح اخبارات سے بھی معلوم ہوا کہ مولانا کفایت صاحب
434
نے جو خدمات اسلام کی اس کانفرنس میں انجام دئیے وہ ہماری جماعت علماء کے مباہات واِفتخار کا باعث ہے۔ سوائے اس کے کہ ہم عرض کریں کہ اللّٰہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کو ہمیشہ اُمتِ محمدی کی اِعانت کے لئے زندہ سلامت رکھے۔ انہیں کی ایک ذات جمعیت علماء سے مراد ہوسکتی ہے اور کیا کہا جائے۔
مولانا! جلسہ دہلی کی وہ وقعت جو اس کے بانئین نے سمجھی تھی، ہمارے ذہنوں میں نہ تھی، اس میں ہمارے علماء نے اگر شرکت نہیں کی تو اِلزام کے قابل نہیں ہیں، اور جو شریک ہوئے وہ خود اس شرکت سے دُشواریوں میں گرفتار ہوئے۔ اور امتحان ہوگیا کہ کون علماء باللّٰہ ہیں۔ بہرحال معاملہ بہت تھوڑا تھا۔ موتی لال صاحب کے تار میں تأخیر ہوئی، بڑھ گیا، مگر تار آجانے سے اِطمینان ہوگیا۔ مولانا کفایت اللّٰہ صاحب نے قتلِ مرتد کے بارے میں جو کچھ خیال ظاہر فرمایا، وہ بالکل صحیح ہے۔ اس میں مجھے کوئی کلام نہیں۔ مجھے اس عام اور بے قید ریزولیشن پر اِعتراض تھا اور ان الفاظ کے ساتھ اب بھی میں قابلِ اِعتراض سمجھتا ہوں۔ لیکن وضاحت کے بعد مجھے اِطمینان ہوگیا۔
والسلام
فقیر محمد عبدالباری عفا عنہ
خط اَز مولانا کفایت اللّٰہ بنام مولانا عبدالباری فرنگی محلی
مولانا المحترم! دامت فیوضکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ۔ مجھے سخت ندامت اور افسوس ہے کہ میں مفصل طور پر جناب کے تاروں کا جواب اس سے قبل نہ دے سکا، ایک اِجمالی تار اِرسال خدمتِ اقدس کردیا تھا، جناب کے تاروں سے جنابِ والا کا تیقظ اور اِسلامی غیرت اس پایہ کا ثابت ہوگیا کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔
مولانا! واقعہ یہ ہے کہ پہلے دِن کے اِجلاس مؤتمر میں خاکسار اگرچہ شریک تھا، مگر پہلا ریزولیشن انگریزی میں پڑھا گیا اور اس کا اُردو ترجمہ یا حاصل مطلب بیان کیا گیا، مگر میں حلفاً عرض کرتا ہوں کہ مجھے اس فقرے کا جو سزائے اِرتداد کے متعلق ہے اس وقت بالکل علم اور اِحساس نہ ہوا۔ واللّٰہ اعلم کہ اُردو میں وہ بیان سے رہ گیا، یا میں نے نہیں سنا، تجویز پاس ہوگئی۔
دُوسرے روز جناب کا تار ملا، اس سے مجھے فوری خیال ہوا، اور میں نے پہلی تجویز کو تلاش کرکے دیکھا تو اس میں وہ الفاظ موجود تھے۔ سخت افسوس ہوا۔ اگرچہ معاملہ سب کا سب ہندوستان کے متعلق تھا، تاہم الفاظ میں عموم ضرور تھا۔ میں سخت کشمکش میں پڑگیا۔ بالآخر سوائے اس کے کوئی تدبیر نہ کرسکا کہ ریزولیشن نمبر۴ کی تمہید میں، میں نے اپنی ترمیم بایں الفاظ پیش کی اور صدر صاحب کو معاملہ سمجھاکر اور ہاؤس میں اپنے بعض مہربانوں سے بحث مباحثہ کرکے یہ الفاظ بڑھوائے کہ: ’’ریزولیشن نمبر۱ میں ہندوستان کی مختلف قوموں کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے جو عام اُصول قرار دئیے گئے ہیں ۔۔۔الخ۔‘‘ اب ریزولیشن نمبر۴ بتاتا ہے کہ ریزولیشن نمبر۱ کا عموم مطلقاً نہیں ہے، بلکہ وہ ہندوستان کے ساتھ مقید ہے اور ہندوستان سے بھی برٹش انڈیا مراد ہے۔ ہندوستانی ریاستیں بھی اس میں داخل نہیں ہیں۔ نیز جبکہ بعض ہندو مقرّرین کی طرف سے یہ مضمون بیان کیا گیا کہ جب تک مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ مرتد کو واجب القتل سمجھتے رہیں گے اور گویا قتل کرتے رہیں گے، اس وقت تک ہندو مسلمانوں میں نباہ نہیں ہوسکتا۔
435
میں نے بھرے مجمع میں اس کا جواب دیا کہ بے شک اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور اِرتداد اسلام کے نزدیک ہولناک گناہ اور بدترین جریمہ ہے اور یہ اسلام کا ایک کھلا ہوا روشن اُصول ہے، اس کے ظاہر کرنے اور بیان کرنے میں کسی قسم کا تأمل نہیں، مگر یہ کہنا کہ ہندوستان کے فسادات اس عقیدے کے نتائج ہیں، اور مسلمان اس لئے ہندوؤں سے لڑتے ہیں کہ ان کو اِرتداد یا اِشاعتِ اِرتداد کی سزا دیں، غلط ہے، اس لئے کہ جیسا یہ اسلام کا مستحکم اُصول ہے کہ اِرتداد کی سزا قتل ہے، اسی طرح یہ بھی اِسلام کا اُصول ہے کہ اس سزا کو جاری کرنے کا اِختیار سلطانِ اسلام کو ہے، پس موجودہ حالت میں ہندوستان میں مرتد کی سزا قتل ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح تمام حدود وقصاص یہاں جاری نہیں، اسی طرح مرتد کی سزا بھی جاری نہیں اور نہ مسلمان اس پر قادر ہیں۔
اس پر مولانا ابوالکلام صاحب نے فرمایا کہ مولانا یہ تو فرمائیے کہ بعد سوراج کیا ہوگا؟ میں نے کہا کہ سوراج کے بعد واضعانِ قانون کے اِختیارات کی جو نوعیت ہو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا، اگر سوراج کے بعد اِسلامی قانون کی ترویج کا کوئی موقع ہوا تو یقینا اس کے موافق اَحکام جاری ہوں گے، اور نہ ہوا تو حالت جس کی مقتضی ہوگی وہ ہوگا۔
تبلیغ کے متعلق میں نے صاف کہہ دیا کہ اسلام کی بنیاد تبلیغ پر ہے، اور اس کے خمیر میں تبلیغ داخل ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا تبلیغی مذہب ہے، اس کا دروازہ تمام دُنیا کے لئے کھلا ہوا ہے، اور اس کے دامن کے نیچے تمام بنی آدم آسکتے ہیں، اس کو حقِ تبلیغ سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور ہندوستان کی موجودہ فضا میں مسلمانوں کو بھی یہ موقع نہیں کہ وہ کسی کو تبلیغِ مذہب سے روک سکیں، ہاں! جس طرح اسلام کی تبلیغ جبر واِکراہ، اِطماع وخداع وغیرہ سے پاک ہے، اسی طرح دُوسرے بھی ان ذمائم سے علیحدہ رہ کر صرف تبلیغ کرسکتے ہیں۔ یہ ذمائم درحقیقت تبلیغِ مذہب کے لئے نہیں بلکہ اَغراضِ نفسانی کے لئے کام میں لائے جاتے ہیں۔
ان مضامین کو میں نے بھرے مجمع میں پوری بلند آہنگی اور وضاحت کے ساتھ بیان کردیا حتیٰ کہ سوامی شردھانند اور پنڈت مدن موہن مالویہ وغیرہ بڑے بڑے ہندوؤں نے بھی کہہ دیا کہ اب ہمیں کوئی اِعتراض نہیں۔ ہاں! پنڈت رام چندرجی نے کہا کہ کیوں صاحب! اگر سلطانِ اسلام کے حکم کے بغیر کوئی مسلمان مرتد کو قتل کردے تو اس کی کوئی سزا ہے؟ میں نے کہا: ہاں! وہ افتیات علی السلطان کے جریمہ کا مرتکب ہے اور اس کی سزا بادشاہ کی رائے پر ہے۔
ہاں! مفتی صادق قادیانی نے کہا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں ہے، بلکہ اسلام ہر شخص کو ضمیر کی آزادی دیتا ہے، تو اس پر مولانا حسین احمد صاحب نے نہایت بلند آہنگی سے اور میں نے بھی کہہ دیا کہ یہ آپ کی رائے ہے، اسلامی اُصول نہیں ہے، اسلام میں بے شک مرتد کی سزا قتل ہے۔
مولانا! ایک ہفتے تک رات دن معاملات کو سلجھانے اور حقوقِ اسلامیہ وقومیہ کی حفاظت کی غرض سے کام کرنے میں جن دقتوں کا سامنا ہوا، اس کا بیان مشکل ہے۔ جن حضرات نے دیکھا ہے، وہی اندازہ کرسکتے ہیں۔ میں صرف اس قدر عرض کرسکتا ہوں کہ میری شرکت شخصی حیثیت سے تھی، اور اس کی تصریح بھی کردی گئی تھی، اور میں نے اپنی عقلِ فاتر وفہمِ قاصر اور اپنی بساط کے موافق مذہبی اور قومی حقوق کی حفاظت میں کوئی فروگزاشت نہیں کی۔ اپنوں سے بھی اور غیروں سے بھی پوری نبردآزمائی ہوئی۔ ہاؤس میں
436
تقریراً وبحثاً ہر طرح حقوق کی حفاظت کا مطمحِ نظر صرف یہ تھا کہ ہندوستان میں آپس کا نفاق اور جنگ وجدل بند ہو اور ہر فریق اپنی جگہ اپنے فرائضِ مذہبی میں آزاد ہو، اور دُوسروں کے لئے رُکاوٹ نہ ڈالے۔ ہندوستان کی موجودہ حالت میں یہی ہماری پوزیشن ہے اور اس کو پیشِ نظر رکھ کر تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔ باوجود اس کے اگر مجھ سے کوئی غلطی یا فروگزاشت ہوئی ہو تو میں اس کے اِعتراف کے لئے تیار ہوں۔ اُمید ہے کہ جنابِ والا دُعا سے فراموش نہ فرمائیں گے۔
خاکسار محمد کفایت اللّٰہ غفرلہٗ
(کفایت المفتی ج:۹ ص:۳۴۹ تا ۳۶۱)
مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھنے پر سزا کا گمراہ کن پروپیگنڈا
سوال:۔۔۔ میرے ساتھ ایک عیسائی لڑکی پڑھتی ہے، وہ اسلام میں دِلچسپی رکھتی ہے، میں اسے اسلام کے متعلق بتاتی ہوں، لیکن جب میں نے اسے اسلام قبول کرنے کو کہا تو وہ کہنے لگی: ’’تمہارے یہاں تو کلمہ پڑھنے پر سخت سزا دِی جاتی ہے، اخبار میں بھی آیا تھا۔‘‘ برائے مہربانی مجھے بتائیں میں اُسے کیا جواب دُوں؟
جواب:۔۔۔ اسے یہ جواب دیجئے کہ اسلام قبول کرکے کلمہ پڑھنے سے منع نہیں کرتے، نہ اس پر سزا دی جاتی ہے۔ البتہ وہ غیرمسلم جو منافقانہ طور پر اِسلام کا کلمہ پڑھ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں، ان کو سزا دِی جاتی ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۰۰)
وفاقی شرعی عدالت پاکستان کا حکمِ شرعی
سوال:۔۔۔ محترم مفتی صاحب! السلام علیکم
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی ذاتی اِنتقام نہیں لیا، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صرف اور صرف اِسلام کی بقا کے لئے قتال کا حکم دیا۔ خلفائے راشدینؓ بھی اسی سنتِ رسول پر عمل کرتے رہے۔ قتل کی سزا اس شخص کو دِی جاتی ہے جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری پیغمبر تسلیم نہ کرے اور اپنی طرف سے کوئی متبادل پیغمبر تجویز کردے، لیکن وفاقی شرعی عدالت نے قادیانیوں کے لئے موت کی شرعی سزا تجویز نہیں کی ہے۔ مندرجہ بالا ٹھوس حقیقت کے پیشِ نظر وفاقی شرعی عدالت کا قادیانیوں کی تردیدِ رِسالت کے ناقابلِ معافی جرم کو نظراَنداز کردینا، توہینِ سنت اور توہینِ خلفائے راشدین ہے۔ اگر ہم وفاقی شرعی عدالت کی اس توہینِ سنت اور توہینِ خلفائے راشدین کے فیصلے کو چیلنج نہیں کرتے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کو لوٹ کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف جانا ہے، فقط والسلام!
جواب:۔۔۔ وباﷲ التوفیق! قادیانیوں کا تردیدِ رِسالت کا جرم ناقابلِ معافی جرم ہے، اس کو نظراَنداز کرنا شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے، اور ایسے مجرم کو شرعاً ثبوتِ جرم ہوجانے کے بعد سزائے موت دے دینا توہینِ سنت اور توہینِ خلفائے راشدین نہیں ہے، بلکہ سنتِ صدیق کے عین مطابق ہوگا، کما یظھر من ھٰذہ العبارۃ:
437
’’فقاتلھم ابوبکر قتل ﷲ المسیلمۃ بالیمامۃ والأسود العنسی بصنعاء۔‘‘
(نووی شرح مسلم ج:۱ ص:۳۸)
اور اس سنتِ صدیق کی اور ان دونوں مجرموں کے کیفرِکردار تک پہنچنے اور پہنچانے کی مزید کیفیت وتفصیل ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ کی جلد ششم کے صفحہ:۳۰۵ اور صفحہ:۴۳۰ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا شرعی ضابطے سے قابو پانے کے بعد کوتاہی کرنا عنداللّٰہ ناقابلِ معافی جرم ہوگا، اور آخرت میں جواب دہی بھاری ہوجائے گی، اور حضرت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو منہ دِکھانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
کتبہ العبد نظام الدین
مفتی دارالعلوم دیوبند
۱۷؍۵؍۱۴۱۱ھ
(نظام الفتاویٰ ج:۲ ص:۲۰)
آئینِ پاکستان میں گستاخیٔ رسول ایکٹ میں ترمیم کا حکم
سوال:۔۔۔ جناب مفتی صاحب! پاکستانی آئین میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے موت کی سزا تجویز کی گئی ہے، جس میں اب اَربابِ اِقتدار ترمیم کرکے اس سزا کو کم یا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیا شرعاً اَربابِ اِقتدار کو یہ سزا کم یا ختم کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور جو شخص کسی گستاخِ رسول کے کفر میں شک کرے تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ پیغمبرِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں نازیبا الفاظ کہنا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، اس لئے علمائے اُمت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ گستاخِ رسول مرتد اور واجب القتل ہے۔ ’’فتاویٰ شامیہ‘‘ میں ہے کہ:
’’اجمع المسلمون انّ شاتمہ کافر۔‘‘ (ج:۴ ص:۲۳۲ طبع ایچ ایم سعید)
’’یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ گالی دینا بالاجماع کفر ہے۔‘‘
اور ’’الدر المختار‘‘ میں ہے:
’’صح فی آخر الشفاء بأن حکمہ کالمرتد۔‘‘
(الدر المختار علٰی ھامش ردالمحتار ج:۴ ص:۲۳۲ طبع ایچ ایم سعید)
’’یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گستاخ کا حکم مرتد کا ہے اور اس پر مرتد کے اَحکام جاری کئے جائیں گے۔‘‘
قال العلّامۃ ابن عابدین:
’’قال ابوبکر بن المنذر: اجمع عوام اھل العلم علٰی ان من سبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم یقتل وممن قال ذالک مالک بن انس واللیث واحمد وإسحاق ومذھب الشافعی وھو مقتضی قول ابی بکر ولا تقبل توبتہ عند ھٰؤُلاء وبمثلہ قال ابوحنیفۃ واصحابہ والثوری واھل
438
الکوفۃ والأوزاعی فی المسلم لٰکنھم قالوا ھی ردۃ وروی مثلہ الولید بن مسلم عن مالک وروی الطبرانی مثلہ عن ابی حنیفۃ واصحابہ فیمن ینقصہ صلی ﷲ علیہ وسلم او بریء منہ او کذبہ اھـ۔ وحاصلہ انہ نقل الإجماع علٰی کفر الساب ثم نقل عن مالک ومن ذکر بعدہ ان لا تقبل توبتہ فعلم ان المراد من نقل الإجماع علٰی قتلہ قبل التوبۃ ثم قال وبمثلہ قال ابوحنیفۃ واصحابہ الخ قال انہ یقتل یعنی قبل التوبۃ لا مطلقًا۔۔۔إلخ۔‘‘
(ردالمحتار ج:۴ ص:۲۳۲ طبع ایچ ایم سعید)
حاصلِ ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گستاخ بالاجماع کافر، مرتد اور واجب القتل ہے، ہاں! اِختلاف اس میں ہے کہ گستاخِ رسول توبہ سے قتل سے بچ جاتا ہے یا نہیں؟ نیز ’’ردالمحتار‘‘ (ج:۳ ص:۳۱۷) میں ہے:
’’اجمع المسلمون ان شاتمہ کافر وحکمہ القتل ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر۔‘‘
’’یعنی گستاخِ رسول کافر ہے، اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرتا ہو، وہ بھی کافر ہے۔‘‘
اور ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے کہ اہانت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بالاجماع کفر واِرتداد ہے (ج:۲ ص:۲۶۳ باب المرتد)۔
ان حوالہ جات مذکورہ اور عبارتِ مسطورہ سے واضح ہوا کہ گستاخِ رسول بالاجماع کافر اور مرتد ہے، اس کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر اور خارج عن الاسلام ہے۔ اور مرتد کی سزا قتل ہے، لہٰذا گستاخِ رسول کی سزا بھی قتل ہی ہے۔ حدیث میں ہے: ’’من بدّل دینہ فاقتلوہ‘‘ ۔(۱) نیز: ’’وکذا العرب لما ارتدت بعد وفات النبی صلی ﷲ علیہ وسلم اجمعت الصحابۃ علٰی قتلھم‘‘ (ج:۷ ص:۱۳۴)۔ اور ’’رسائل ابنِ عابدین‘‘ (ج:۱ ص:۳۱۸، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) میں ہے: ’’اعلم ان المرتد یقتل بالإجماع کما مر‘‘۔ یعنی اس پر اُمتِ مسلمہ کا اِجماع ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہی ہے۔
راقم الحروف کہہ رہا ہے کہ اس سے پہلے یہ گزرچکا ہے کہ اُمت کا اس پر بھی اِجماع ہے کہ گستاخِ رسول کافر اور مرتد ہے۔ نیز ’’العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ‘‘ میں ہے:
’’فمن سب النبی -صلی ﷲ علیہ وسلم- او احدًا من الأنبیاء صلوات ﷲ علیھم وسلامہ فإنہ یکفر ویجب قتلہ۔‘‘ (ج:۱ ص:۱۰۴، باب المرتد)
’’شاتم النبی او نبی من الانبیاء کافر اور مرتد ہے، اور دونوں واجب القتل ہیں۔‘‘
وقال ابن نجیم:
’’کل من ابغض رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بقلبہ کان مرتدًّا فالسابّ بطریق الأولٰی ثم یقتل حدًّا عندنا فلا تقبل توبتہ فی إسقاطہ القتل۔‘‘
(البحر الرائق ج:۵ ص:۱۲۵، ۱۲۶، باب احکام المرتدین)
(۱)مشکوٰۃ المصابیح، باب قتل اھل الردۃ والسعاۃ بالفساد، الفصل الأوّل، ص:۳۰۷، طبع قدیمی کتب خانہ۔
439
’’یعنی جو شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھے یا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرے، تو وہ شخص کافر، مرتد اور واجب القتل ہے۔‘‘
اور ’’کفایت المفتی‘‘ میں ہے کہ جناب رسالت مآب رُوحی فداہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، یا اُمّ المؤمنین سیّدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی شانِ رفیع میں گستاخی کرنے والا، یا کسی گستاخی کرنے والے سے ناراض نہ ہونے والا کافر ہے۔ فقہاء رحمہم اللّٰہ تعالیٰ اجمعین اس پر متفق ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے (ج:۱ ص:۷۱، باب المرتد)۔
اور ’’فتاویٰ محمودیہ‘‘ میں ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں ۔۔۔نعوذباللّٰہ، استغفراللّٰہ۔۔۔ گالی بکے، وہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کو چاہئے کہ فوراً توبہ اور تجدیدِ اِسلام وتجدیدِ نکاح لازم ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے (ج:۱۲ ص:۱۶۲)۔
اور ’’اِمدادُالفتاویٰ‘‘ میں ہے: ’’اہانت وگستاخی کردہ جناب انبیاء علیہم السلام کفر است‘‘ (ج:۵ ص:۳۹۱، باب العقائد)۔
اور ’’فتاویٰ دارُالعلوم دیوبند‘‘ (ج:۲ ص:۳۵۹، باب المرتد) میں ہے کہ: ’’سب النبی کفر ہے۔‘‘
اور ’’الاشباہ والنظائر‘‘ میں ہے:
’’لا تصح ردّۃ السکران إلَّا الردّۃ بسبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم فإنہ یقتل ولا یعفی عنہ۔ کذا فی البزازیۃ کل کافر تاب فتوبتہ مقبولۃ فی الدنیا والآخرۃ إلَّا جماعۃ الکافر بسبّ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم وسائر الأنبیاء۔‘‘
(الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۸۹، کتاب السیر، باب الردّۃ)
سب النبی کفر ہے، اگرچہ حالتِ سکر میں ہو، اور سابّ النبی کی توبہ قبول نہیں۔ نیز فتاویٰ البزازیۃ علیٰ ہامش الہندیۃ میں ہے کہ استخفاف النبی کفر ہے (ج:۶ ص:۳۳۸)۔
اور فتاویٰ قاضی خان علیٰ ہامش الہندیۃ میں ہے:
’’إذا عاب الرجل النبی علیہ السلام فی شیء کان کافرًا ۔۔۔إلٰی قولہ۔۔۔ وذکر فی الأصل ان شتم النبی صلی ﷲ علیہ وسلم کفر۔‘‘
(ج:۳ ص:۵۷۴، طبع بلوچستان، کوئٹہ)
یعنی اِستخفاف واہانت النبی، اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالی دینا کفر واِرتداد ہے۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۲ ص:۳۷۴ تا ۳۷۷)
✨ 🌟 ✨
440
کتاب الصلٰوۃ
بابِ اوّل
مرزائی اور تعمیرِ مسجد
سوال:۔۔۔ کیا غیرمسلم اپنی عبادت گاہ تعمیر کرکے اس کا نام ’’مسجد‘‘ رکھ سکتا ہے؟
جواب:۔۔۔ ’’مسجد‘‘ کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں، اور اِسلام کی اِصطلاح میں مسجد اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کردی جائے۔ مُلَّا علی قاریؒ ’’شرح مشکوٰۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’والمسجد لغۃ محل السجود وشرعًا المحل الموقوف للصلٰوۃ فیہ۔‘‘
(مرقاۃ المفاتیح ج:۲ ص:۱۸۲، باب المساجد وموضع الصلوٰۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مسجد لغت میں سجدہ گاہ کا نام ہے، اور شریعتِ اسلام کی اِصطلاح میں وہ مخصوص جگہ جو نماز کے لئے وقف کردی جائے۔‘‘
’’مسجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے:
مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے، چنانچہ قرآن کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذِکر کرتے ہوئے ’’مسجد‘‘ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے:
’’وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللہِ کَثِیْراً‘‘
(الحج:۴۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اگر اللّٰہ تعالیٰ ایک دُوسرے کے ذریعے لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوَت خانے، عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللّٰہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرادی جاتیں۔‘‘
اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’صوامع‘‘ سے راہبوں کے خلوَت خانے، ’’بِیَع‘‘ سے نصاریٰ کے گرجے، ’’صلوات‘‘ سے یہودیوں کے عبادت خانے، اور ’’مساجد‘‘ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔
441
اِمام ابوعبداللّٰہ محمد بن احمد القرطبیؒ (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ’’اَحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وذھب خصیف إلٰی ان القصد بھٰذہ الأسماء تقسیم متعبدات الاُمم، فالصَّوامع للرّھبان والبِیَع للنصاریٰ والصلوات للیھود والمساجد للمسلمین۔‘‘
(ج:۱۲ ص:۷۲، طبع دار الکاتب العربی، القاھرۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اِمام خصیفؒ فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذِ کر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے، چنانچہ ’’صوامع‘‘ راہبوں کی، ’’بِیَع‘‘ عیسائیوں کی، ’’صلوات‘‘ یہودیوں کی اور ’’مساجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔‘‘
اور قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ’’تفسیر مظہری‘‘ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’ومعنی الآیۃ: لو لا دفع ﷲ الناس لھدمت فی کل شریعۃ نبی مکان عبادتھم فھدمت فی زمن موسٰی الکنائس، وفی زمین عیسٰی البِیَع والصوامع، وفی زمن محمد صلی ﷲ علیہ وسلم المساجد۔‘‘
(مظہری ج:۶ ص:۳۲۴، طبع ندوۃ المصنّفین دہلی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو اُن کی عبادت گاہ تھی، اُسے گرادیا جاتا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کنیسے، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوَت خانے اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرادی جاتیں۔‘‘
یہی مضمون تفسیر ابنِ جریر (ج:۹ ص:۱۱۴)، تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابنِ جریر (ج:۹ ص:۶۳)، تفسیر خازن (ج:۳ ص:۲۹۱)، تفسیر بغوی (ج:۵ ص:۵۹۴) برحاشیہ ابنِ کثیر، اور تفسیر رُوح المعانی (ج:۱۷ ص:۱۶۴) وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیت اور حضراتِ مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، اور یہ نام دیگر اقوام ومذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِبتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے علاوہ کسی غیرمسلم فرقے کی عبادت گاہ کے لئے اِستعمال نہیں کیا گیا، لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی واخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ’’غیرمسلم فرقے‘‘ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔
مسجد اِسلام کا شعار ہے:
جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص ہو، وہ اس کا شعار اور اس کے تشخص کی خاص علامت سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ مسجد بھی اسلام کا خصوصی شعار ہے، یعنی کسی قریہ، شہر یا محلے میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔ اِمام الہند شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ (۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں:
442
’’فضل بناء المسجد وملازمتہ وانتظار الصلٰوۃ فیہ ترجع إلٰی انہ من شعائر الإسلام وھو قولہ صلی ﷲ علیہ وسلم: إذا رأیتم مسجدًا، او سمعتم مؤَذِّنًا فلا تقتلوا احدًا۔ وانہ محل الصلٰوۃ ومعتکف العابدین ومطرح الرحمۃ ویشبہ الکعبۃ من وجہ۔‘‘
(حجۃ ﷲ البالغۃ ج:۱ ص:۱۹۲، طبع نور محمد کتب خانہ کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مسجد بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا اِنتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اِسلام کا شعار ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو، یا وہاں مؤذِّن کی اَذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘‘ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اَذان کا ہونا، اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں)۔ اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اِعتکاف کا مقام ہے، وہاں رحمتِ اِلٰہی کا نزول ہوتا ہے، اور وہ ایک طرح سے کعبے کے مشابہ ہے۔‘‘
اگر فوج کا شعار غیرفوجی کو اَپنانا جرم ہے، اور جج کا شعار کسی دُوسرے شخص کو اِستعمال کرنے کی اِجازت نہیں، تو یقینا اِسلام کا شعار بھی کسی غیرمسلم کو اَپنانے کی اِجازت نہیں ہوسکتی، کیونکہ اگر غیرمسلموں کو کسی اِسلامی شعار مثلاً تعمیرِ مسجد اور اَذان کی اِجازت دی جائے تو اِسلام کا شعار مٹ جاتا ہے اور مسلم وکافر کا اِمتیاز اُٹھ جاتا ہے۔ اسلام اور کفر کے نشانات کو ممتاز کرنے کے لئے جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان کفر کے کسی شعار کو نہ اَپنائیں، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ غیرمسلموں کو کسی اِسلامی شعار کے اَپنانے کی اِجازت نہ دی جائے۔
تعمیرِ مسجد عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں:
نیز مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اِسلامی عبادت ہے، اور کافر اس کا اہل نہیں۔ چونکہ کافر میں تعمیرِ مسجد کی اہلیت ہی نہیں، اس لئے اس کی تعمیر کردہ عمارت ’’مسجد‘‘ نہیں ہوسکتی۔ قرآنِ کریم میں صاف صاف اِرشاد ہے:
’’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَن یَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ اللہ شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ أُوْلَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ وَفِیْ النَّارِ ہُمْ خَالِدُونَ‘‘ (التوبۃ:۱۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللّٰہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں درآنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں، ان لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
اس آیت میں چند چیزیں توجہ طلب ہیں۔ اوّل یہ کہ یہاں مشرکین کو تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم قرار دِیا گیا ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں:’’شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ‘‘ اور کوئی کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں۔ گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیرِ مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائدِ کفر کا اِقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس اَمر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔
443
اِمام ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفیؒ (۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:
’’عمارۃ المسجد تکون بمعنیین احدھما زیارتہ والکون فیہ والآخر ببنائہ وتجدید ما استرم منہ، فاقتضت الآیۃ منع الکفار من دخول المسجد ومن بنائھا وتولی مصالحھا والقیام بھا لانتظام اللفظ لأمرین۔‘‘ (احکام القرآن ج:۳ ص:۸۷، طبع سہیل اکیڈمی لاہور)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں، ایک مسجد کی زیارت کرنا، اس میں رہنا اور بیٹھنا، دُوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست وریخت کی اِصلاح کرنا۔ پس یہ آیت اس اَمر کی متقاضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہوسکتا ہے، نہ اس کا بانی ومتولّی اور خادم بن سکتا ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیرِ ظاہری وباطنی دونوں کو شامل ہیں۔‘‘
دوم:۔۔۔ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا کافر ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ دُنیا میں کوئی کافر بھی اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہنے کے لئے تیار نہیں، بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کا برملا اِعتراف کرتے ہیں جنہیں اسلام، عقائدِ کفر قرار دیتا ہے، یعنی ان کا کفریہ عقائد کا اِظہار اپنے آپ کو کافر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے۔
سوم:۔۔۔ قرآنِ کریم کے اس دعوے پر کہ کسی کافر کو اپنے عقائدِ کفریہ پر رہتے ہوئے تعمیرِ مسجد کا حق حاصل نہیں۔ یہ سوال ہوسکتا تھا کہ کافر تعمیرِ مسجد کی اہلیت سے کیوں محروم ہیں؟ اگلے جملے میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے:’’أُوْلَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ‘‘ کہ ’’ان لوگوں کے عمل اکارت ہیں‘‘ چونکہ کفر سے انسان کے تمام نیک اعمال اکارت اور ضائع ہوجاتے ہیں، اس لئے کافر نہ صرف تعمیرِ مسجد کا بلکہ کسی بھی عبادت کا اہل نہیں۔ یہ کفر کی دُنیوی خاصیت تھی، اور آگے اس کی اُخروی خاصیت بیان کی گئی ہے: ’’وَفِیْ النَّارِ ہُمْ خَالِدُونَ‘‘ کہ ’’کافر اپنے کفر کی بنا پر دائمی جہنم کے مستحق ہیں‘‘ اس لئے ان کی اِطاعت وعبادت کی اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ پس یہ آیت اس مسئلے میں نصِ قطعی ہے کہ غیرمسلم کافر تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، اس لئے انہیں تعمیرِ مساجد کا حق حاصل نہیں۔ اس سلسلے میں حضراتِ مفسرین کی چند تصریحات حسبِ ذیل ہیں:
اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ لکھتے ہیں:
’’یقول ان المساجد انما تعمر لعبادۃ ﷲ فیھا، لا للکفر بہ، فمن کان باﷲ کافرًا فلیس من شأنہ ان یعمر مساجد ﷲ۔‘‘ (تفسیر ابن جریر ج:۱۰ ص:۸۳، طبع دار الفکر بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللّٰہ کی عبادت کی جائے۔ کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتی، پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللّٰہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔‘‘
اِمامِ عربیت جاراللّٰہ محمود بن عمر الزمخشری (م۵۲۸ھ) لکھتے ہیں:
’’والمعنی ما استقام لھم ان یجمعوا بین امرین متنافیین عمارۃ متعبدات ﷲ مع الکفر
444
باﷲ وبعبادتہ ومعنی شھادتھم علٰی انفسھم بالکفر ظھور کفرھم۔‘‘
(تفسیر کشاف ج:۲ ص:۲۵۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح دُرست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دُوسری طرف اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں، اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔‘‘
اِمام فخرالدین رازیؒ (م۶۰۶ھ) لکھتے ہیں:
’’قال الواحدی دلَّت علٰی ان الکفار ممنوعون من عمارۃ مسجد من مساجد المسلمین، ولو اوصٰی بھا لم تقبل وصیتہ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۱۶ ص:۷، مطبوعہ مصر)
ترجمہ:۔۔۔ ’’واحدی فرماتے ہیں: یہ آیت اس مسئلے کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیرکی اِجازت نہیں، اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
اِمام ابوعبداللّٰہ محمد بن احمد القرطبیؒ (م۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:
’’فیجب إذًا علی المسلمین تولّی احکام المساجد ومنع المشرکین من دخولھا۔‘‘
(تفسیر قرطبی ج:۸ ص:۸۹، طبع دار الکاتب العربی القاھرۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اِنتظامِ مساجد کے متولّی خود ہوں، اور کفار ومشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔‘‘
اِمام محی السنۃ ابومحمد حسین بن مسعود الفراء البغویؒ (م۵۱۶ھ) لکھتے ہیں:
’’اوجب ﷲ علی المسلمین منعھم من ذالک لأن المساجد إنما تعمر لعبادۃ ﷲ وحدہ فمن کان کافرًا باﷲ فلیس من شأنہ ان یعمرھا۔ فذھب جماعۃ إلٰی ان المراد منہ العمارۃ المعروفۃ من بناء المسجد ومرمتہ عند الخراب فیمنع منہ الکافر حتّٰی لو اوصٰی بہ لا یمتثل۔ وحمل بعضھم العمارۃ ھٰھنا علٰی دخول المسجد والقعود فیہ۔‘‘
(تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۲ ص:۷۰، طبع بمبئی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیرِ معروف ہے، یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست وریخت کی اِصلاح ومرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا۔ چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کرکے مرے تو پوری نہیں کی جائے گی۔ اور بعض نے عمارۃ کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں
445
بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔‘‘
شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازنؒ (م۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلے کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔
مولانا قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتیؒ (م۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں:
’’فإنہ یجب علی المسلمین منعھم من ذالک لأن مساجد ﷲ إنما تعمر لعبادۃ ﷲ وحدہ، فمن کان کافرًا باﷲ فلیس من شأنہ ان یعمرھا۔‘‘
(تفسیر مظہری ج:۴ ص:۱۴۶، طبع ندوۃ المصنّفین دھلی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں تو اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کہ کافر ہو، وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔‘‘
اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (م۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
’’اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بنادے، اس کو منع کرئیے۔‘‘ (موضح القرآن)
ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں، اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔
تعمیرِ مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے:
قرآنِ کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیرِ مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے، چنانچہ اِرشاد ہے:
’’إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللہَ فَعَسَی أُوْلَـئِکَ أَن یَکُونُواْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ‘‘ (التوبۃ:۱۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اللّٰہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللّٰہ پر اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھتا ہو، نماز اَدا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو، اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے، پس ایسے لوگ اُمید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔‘‘
اس آیت میں جن صفات کا ذِکر فرمایا، وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دِینِ محمدی پر اِیمان رکھتا ہو، اور کسی حصۂ دِین کا منکر نہ ہو، اسی کو تعمیرِ مسجد کا حق حاصل ہے۔ غیرمسلم فرقے جب تک دِینِ اسلام کی تمام باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے، تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم رہیں گے۔
غیرمسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے:
اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کبھی کسی غیرمسلم نے یہ جرأت نہیں کی کہ اپنا عبادت خانہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرے۔
446
البتہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض غیرمسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی، جو ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو وحیٔ اِلٰہی سے ان کے کفر ونفاق کی اِطلاع ہوئی تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا۔ قرآنِ کریم کی آیاتِ ذیل اسی واقعے سے متعلق ہیں:
’’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ مَسْجِداً ضِرَاراً وَکُفْراً وَتَفْرِیْقاً بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَإِرْصَاداً لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُولَہُ مِن قَبْلُ وَلَیَحْلِفَنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی وَاللہُ یَشْہَدُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ. لاَ تَقُمْ فِیْہِ أَبَداً۔۔إلٰی قولہ۔۔ لاَ یَزَالُ بُنْیَانُہُمُ الَّذِیْ بَنَوْاْ رِیْبَۃً فِیْ قُلُوبِہِمْ إِلاَّ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُہُمْ وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘‘ (التوبۃ:۱۰۷، ۱۰۸، ۱۱۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہلِ اِیمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں، اور اللّٰہ ورسول کے دُشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا اِرادہ نہیں کیا، اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ اس میں کبھی قیام نہ کیجئے ۔۔۔الیٰ قولہ۔۔۔ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دِل کا کانٹا بنی رہے گی، مگر یہ کہ ان کے دِل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں، اور اللّٰہ علیم وحکیم ہے۔‘‘
ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ:
الف:۔۔۔ کسی غیرمسلم گروہ کی اِسلام کے نام پر تعمیر کردہ مسجد ’’مسجدِ ضرار‘‘ کہلائے گی۔
ب:۔۔۔ غیرمسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسبِ ذیل ہوں گے:
۱-اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔
۲- عقائدِ کفر کی اِشاعت کرنا۔
۳- مسلمانوں کی جماعت میں اِنتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا۔
۴- خدا اور رسول کے دُشمنوں کے لئے ایک اڈّہ بنانا۔
ج:۔۔۔ چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابل برداشت ہیں، اس لئے حکم دیا گیا کہ ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کردیا جائے۔ تمام مفسرین اور اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے ’’مسجدِ ضرار‘‘ منہدم کردی گئی اور اسے نذرِ آتش کردیا گیا۔(۱) مرزائی منافقوں کی تعمیرکردہ نام نہاد مسجدیں بھی ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہیں، اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ’’مسجدِ ضرار‘‘ سے روا رکھا تھا۔
(۱) فلما رجع إلٰی سول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم من سفرہ ۔۔۔۔۔۔ فقال: انطلقا إلٰی ھٰذا المسجد الظالم اھلہ، فاھدماہ واحقرقاہ، فخرجا سریعین حتّٰی اتیا بنی سالم بن عوف وھم رھط مالک فقال مالک لصاحبہ انظرنی حتّٰی اخرج لک بنار من اھلی فخدل إلٰی اھلہ فأخذ سعفًا من النخل فاشغل فیہ نارًا ثم خرجا یشتدان حتّٰی دخلاہ وفیہ اھلہ فاحرقاہ وھدماہ وتفرقوا عنہ ونزل فیھم من القرآن ما نزل ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر روح المعانی ج:۱۰ ص:۱۸، سورۃ التوبۃ:۱۰۷، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
447
کافر ناپاک، اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع:
یہ اَمر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ قرآنِ کریم نے کفار ومشرکین کو ان کے ناپاک اور گندے عقائد کی بنا پر نجس قرار دِیا ہے۔ اور اس معنوی نجاست کے ساتھ ان کی آلودگی کا تقاضا یہ ہے کہ مساجد کو ان کے وجود سے پاک رکھا جائے۔ اِرشادِ خداوندی ہے:
’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَـذَا‘‘ (التوبۃ:۲۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجدِ حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
اِمام ابوبکر جصاص رازیؒ (م۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:
’’إطلاق إسم النجس علی المشرک من جھۃ ان الشرک الذی یعتقدہ یجب إجتنابہ کما یجب إجتناب النجاسات والأقذار فلذالک سماھم نجسا۔ والنجاسۃ فی الشرع تنصرف علٰی وجھین، احدھما نجاسۃ الأعیان والآخر نجاسۃ الذنوب، وقد افاد قولہ: اِنَّمَا المُشرِكُونَ نَجَسٌ منعھم عن دخول المسجد إلَّا لعذر، إذ کان علینا تطھیر المساجد من الأنجاس۔‘‘ (احکام القرآن ج:۳ ص:۱۰۸، طبع سھیل اکیڈمی لاہور)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مشرک پر ’’نجس‘‘ کا اِطلاق اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جس شرک کا وہ اِعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا، اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے، اسی لئے ان کو نجس کہا۔ اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں: ایک: نجاستِ جسم، دوم: نجاستِ گناہ۔ اور اِرشادِ خداوندی: ’’اِنَّمَا المُشرِكُونَ نَجَسٌ‘‘ بتاتا ہے کہ کفار کو دُخولِ مسجد سے باز رکھا جائے گا، اِلَّا یہ کہ کوئی عذر ہو، کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔‘‘
اِمام محی السنۃ بغویؒ (م۵۱۶ھ) معالم التنزیل میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
’’وجملۃ بلاد الإسلام فی حق الکفار علٰی ثلاثۃ اقسام: احدھا الحرم فلا یجوز للکافر ان یدخلہ بحال ذمّیًّا کان او مستأمنًا بظاھر ھٰذہ الآیۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وجوز اھل الکوفۃ للمعاھد دخول الحرم دون الحربی۔ والقسم الثانی: من بلاد الإسلام الحجاز فیجوز للکافر دخولھا بالإذن، ولٰکن لا یقیم فیھا اکثر من مقام السفر، وھو ثلاثۃ ایام ۔۔۔۔۔۔۔۔ والقسم الثالث: سائر بلاد الإسلام، یجوز للکافر ان یقیم فیھا بذمۃ او امان، ولٰکن لا یدخلون المساجد إلَّا بإذن مسلم۔‘‘ (تفسیر بغوی ج:۲ ص:۷۵، مطبوعہ الحمورہ، بمبئی)
448
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور کفار کے حق میں تمام اسلامی علاقے تین قسم پر ہیں۔ ایک: حرمِ مکہ، پس کافر کو اس میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں، خواہ کسی اسلامی مملکت کا شہری ہو یا امن لے کر آیا ہو، کیونکہ ظاہر آیت کا یہی تقاضا ہے۔ اور اہلِ کوفہ نے ذِمی کے لئے حرم میں داخل ہونے کو جائز رکھا ہے۔ اور دُوسری قسم: حجازِ مقدس ہے، پس کافر کے لئے اِجازت لے کر حجاز میں داخل ہونا جائز ہے، لیکن تین دن سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اِجازت نہ ہوگی۔ اور تیسری قسم: دیگر اِسلامی ممالک ہیں، ان میں کافر کا مقیم ہونا جائز ہے بشرطیکہ ذِمی ہو یا امن لے کر آئے، لیکن وہ مسلمانوں کی مسجدوں میں مسلمان کی اِجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔‘‘
اس سلسلے میں دو چیزیں خاص طور سے قابلِ غور ہیں:
اوّل:۔۔۔ یہ کہ آیت میں صرف مشرکین کا حکم ذِکر کیا گیا ہے، مگر مفسرین نے اس آیت کے تحت عام کفار کا حکم بیان فرمایا ہے، کیونکہ کفر کی نجاست سب کافروں کو شامل ہے۔
دوم:۔۔۔ یہ کہ کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں تو اِختلاف ہے، اِمام مالکؒ کے نزدیک کسی مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز نہیں۔ اِمام شافعیؒ کے نزدیک مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کفار کو مسلمان کی اِجازت سے داخل ہونا جائز ہے۔ اور اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بوقتِ ضرورت ہر مسجد میں داخل ہوسکتا ہے (رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۷۷)۔(۱) لیکن کسی کافر کا مسجد کا بانی، متولّی یا خادم ہونا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد ۹ھ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تھا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد کے ایک جانب ٹھہرایا اور مسجدِ نبوی ہی میں انہوں نے اپنی نماز بھی ادا کی۔
حافظ ابنِ قیمؒ (م۷۵۱ھ) اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فصل فی فقہ ھٰذہ القصۃ ففیھا جواز دخول اھل الکتاب مساجد المسلمین، وفیھا تمکین اھل الکتاب من صلاتھم بحضرۃ المسلمین وفی مساجدھم ایضًا إذا کان ذالک عارضًا ولا یمکنوا من اعتیاد ذالک۔‘‘ (زاد المعاد ج:۳ ص:۶۳۸، مطبوعہ مکتبۃ المنار الإسلامیۃ، کویت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’فصل اس قصے کے فقہ کے بیان میں، پس اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کا مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونا جائز ہے، اور یہ کہ ان کو مسلمانوں کی موجودگی میں اپنی عبادت کا موقع دیا جائے گا، اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی، جبکہ یہ ایک عارضی صورت ہو، لیکن ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس کو اپنی مستقل عادت ہی بنالیں۔‘‘
(۱)الحاصل ان الإمام الأعظم یقول بالمنع عن الحج والعمرۃ ویحمل النھی علیہ، ولا یمنعون من دخول المسجد الحرام وسائر المساجد عندہ، ومذھب الشافعی ۔۔۔۔۔۔۔ انہ لا یجوز للکافر ذمّیًّا کان او مستأمنًا ان یدخل المسجد الحرام بحال من الأحوال ۔۔۔۔۔۔۔ ویجوز دخولہ سائر المساجد عند الشافعی علیہ الرحمۃ، وعن مالک کل المساجد سواء فی منع الکافر عن دخولھا۔ (رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۷۷، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
449
اور قاضی ابوبکر ابن العربیؒ (م۵۷۳ھ) لکھتے ہیں:
’’دخول ثمامۃ فی المسجد فی الحدیث الصحیح، ودخول ابی سفیان فیہ علی الحدیث الآخر کان قبل ان ینزل: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَـذَا‘‘ فمنع ﷲ المشرکین من دخول المسجد الحرام نصًّا، ومنع دخول سائر المساجد تعلیلًا بالنجاسۃ ولوجوب صیانۃ المسجد عن کل نجس وھٰذا کلہ ظاھر لا خفاء بہ۔‘‘ (احکام القرآن ج:۲ ص:۹۰۲، طبع دار المعرفۃ، بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ثمامہ کا مسجد میں داخل ہونا اور دُوسری حدیث کے مطابق ابوسفیان کا اس میں داخل ہونا، اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ: ’’اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، پس اس سال کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘ پس اللّٰہ تعالٰ نے مشرکوں کو مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے صاف صاف منع کردیا اور دیگر مساجد سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ناپاک ہیں، اور چونکہ مسجد کو نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے، اس لئے کافروں کے ناپاک وجود سے بھی اس کو پاک رکھا جائے گا، اور یہ سب کچھ ظاہر ہے جس میں ذرا بھی خفا نہیں۔‘‘
منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے:
جو شخص مرزائیوں کی طرح عقیدہ رکھنے کے باوجود اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو، وہ اِسلام کی اِصطلاح میں منافق ہے، اور منافقین کے بارے میں یہ حکم ہے کہ انہیں مسجدوں سے نکال دیا جائے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا: اے فلاں اُٹھ، یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو منافق ہے، او فلاں! تو بھی اُٹھ، نکل جا، تو منافق ہے۔‘‘ اس طرح آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ایک کا نام لے کر ۳۶ آدمیوں کو مسجد سے نکال دیا۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کو آنے میں ذرا دیر ہوگئی تھی، چنانچہ وہ اس وقت آئے جب یہ منافق مسجد سے نکل رہے تھے، تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید جمعہ کی نماز ہوچکی ہے اور لوگ نماز سے فارغ ہوکر واپس جارہے ہیں، لیکن جب اندر گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی، مسلمان ابھی بیٹھے ہیں۔ ایک شخص نے بڑی مسرّت سے حضرت عمرؓ سے کہا: ’’اے عمر! مبارک ہو، اللّٰہ تعالیٰ نے آج منافقوں کو ذَلیل ورُسوا کردیا اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بیک بینی ودوگوش انہیں مسجد سے نکال دیا‘‘ (تفسیر رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۱۱)۔(۱)
(۱)عن ابن عباس رضی ﷲ عنہ قال: قام رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یوم الجمعۃ خطیبًا، فقال: قم یا فلان، فاخرج فإنک منافق، اخرج یا فلان فإنک منافق، فاخرجھم بأسمائھم ففضحھم ولم یک عمر بن الخطاب شھد تلک الجمعۃ لحاجۃ کانت لہ فلقیھم وھم یخرجون من المسجد فإختبأ منھم إستحیائً انہ لم یشھد الجمعۃ وظن أن الناس قد انصرفوا، وإختبأوا ھم منہ وظنوا أنہ قد علم بأمرھم فدخل المسجد فإذا الناس لم ینصرفوا فقال لہ رجل: أبشر یا عمر! فقد فضح ﷲ تعالٰی المنافقین الیوم فھٰذا العذاب الأوّل، والعذاب الثانی عذاب القبر۔ (رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۱۱، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
450
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو غیرمسلم فرقہ منافقانہ طور پر اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو، اس کو مسجدوں سے نکال دینا ہی سنتِ نبوی ہے۔
منافقوں کی مسجد، مسجد نہیں:
فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم مرتد کا ہے، اس لئے نہ تو انہیں مسجد بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے، اور نہ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو مسجد کا حکم دیا جاسکتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں:
’’ولو بنوا مسجدًا لم یصر مسجدًا ففی تنویر الأبصار من وصایا الذمی وغیرہ وصاحب الھویٰ إذا کان لا یکفر فھو بمنزلۃ المسلم فی الوصیۃ وإن کان یکفر فھو بمنزلۃ المرتد۔‘‘ (إکفار الملحدین طبع جدید ص:۱۲۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ایسے لوگ اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی۔ چنانچہ ’’تنویرالابصار‘‘ کے وصایا ذمی وغیرہ میں ہے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی حدِ کفر کو پہنچی ہوئی نہ ہو تب تو وصیت میں ان کا حکم مسلمان جیسا ہے، اور اگر حدِ کفر کو پہنچی ہوئی ہو تو بمنزلہ مرتد کے ہیں۔‘‘
منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط:
یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ کسی گمراہ فرقے کا دعویٔ اسلام کرنا یا اِسلامی کلمہ پڑھنا، اس اَمر کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام عقائد سے توبہ کا اِعلان کرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔
چنانچہ حافظ بدرالدین عینیؒ عمدۃالقاری شرح بخاری میں لکھتے ہیں:
’’یجب علیھم ایضًا عند الدخول فی الإسلام ان یقروا ببطلان ما یخالفون بہ المسلمین فی الإعتقاد بعد إقرارھم بالشھادتین۔‘‘ (الجزء الرابع، ص:۱۲۵، مطبوعہ دارالفکر)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ان کے ذمے یہ بھی لازم ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے توحید ورِسالت کی شہادت کے بعد ان تمام عقائد ونظریات کے باطل ہونے کا اِقرار کریں جو وہ مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں۔‘‘
اور حافظ شہاب الدین ابنِ حجر عسقلانیؒ فتح الباری شرح بخاری میں قصہ اہلِ نجران کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’وفی قصۃ اھل نجران من الفوائد ان إقرار الکافر بالنبوۃ لا یدخلہ فی الإسلام حتّٰی یلتزم احکام الإسلام۔‘‘ (ج:۸ ص:۷۴ طبع دار النشر الکتب الإسلامیۃ، لاہور)
ترجمہ:۔۔۔ ’’قصہ اہلِ نجران سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کی جانب
451
سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِقرار اسے اسلام میں داخل نہیں کرتا، جب تک کہ اَحکامِ اسلام کو قبول نہ کرے۔‘‘
علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
’’لا بد مع الشھادتین فی العیسوی من ان یتبرأ من دینہ۔‘‘
(ردالمحتار ج:۱ ص:۲۵۹، مطبوعہ مکتوبہ رشیدیہ کوئٹہ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’عیسوی فرقے کے مسلمان ہونے کے لئے اِقرارِ شہادتین کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے براء ت کا اِعلان کرے۔‘‘
ان تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی فرقہ اس وقت تک مسلمان تصوّر نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ وہ اہلِ اسلام کے عقائد کے صحیح اور اپنے عقائد کے باطل ہونے کا اِعلان نہ کرے۔ ورنہ اگر وہ اپنے عقائدِ کفر کو صحیح سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد کو غلط تصوّر کرتا ہے تو اس کی حیثیت مرتد کی ہے، اور اسے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی حیثیت سے تعمیر کرنے کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔
کسی غیرمسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا:
اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے کہ کیا کوئی غیرمسلم اپنی عبادت گاہ (مسجد کے نام سے نہ سہی لیکن) وضع وشکل میں مسجد کے مشابہ بناسکتا ہے؟ کیا اسے یہ اِجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں قبلہ رُخ محراب بنائے، مینا بنائے، اس پر منبر رکھے، اور وہاں اِسلام کے معروف طریقے پر اَذان دے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ:
’’وہ تمام اُمور جو عرفاً وشرعاً مسلمانوں کی مسجد کے لئے مخصوص ہیں، کسی غیرمسلم کو ان کے اَپنانے کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے کہ اگر کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد کی وضع وشکل پر تعمیر کی گئی ہو، مثلاً اس میں قبلہ رُخ محراب بھی ہو، مینار اور منبر بھی ہو، وہاں اسلامی اَذان اور خطبہ بھی ہوتا ہو تو اس سے مسلمانوں کو دھوکا اور اِلتباس ہوگا، ہر دیکھنے والا اس کو ’’مسجد‘‘ ہی تصوّر کرے گا، جبکہ اسلام کی نظر میں غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد نہیں بلکہ مجمع الشیاطین ہے۔‘‘(۱)
(شامی ج:۱ ص:۳۸۰، مطلب تکرہ الصلوٰۃ فی الکنیسۃ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی، البحر الرائق ج:۷ ص:۲۱۴، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت)
حافظ ابنِ تیمیہؒ (م۷۲۸ھ) سے سوال کیا گیا کہ: آیا کفار کی عبادت گاہوں کو ’’بیت اللّٰہ‘‘ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں فرمایا:
’’لیست بیوت ﷲ وإنما بیوت ﷲ المساجد، بل ھی بیوت یکفر فیھا باﷲ وإن کان قد
(۱)(تنبیہ) یؤْخز من التعلیل بأنہ محل الشیاطین کراھۃ الصلاۃ فی معابد الکفار لأنھا مأوی الشیاطین کما صرح بہ الشافعیۃ ویؤْخذ مما ذکروہ عندنا ففی البحر من کتاب الدعویٰ عند قول الکنز: ولا یحلفون فی بیت عبادتھم۔ فی التاترخانیۃ: یکرہ للمسلم الدخول فی البِیعۃ والکنیسۃ، وإنما یکر من حیث انہ مجمع الشیاطین لا من حیث انہ لیس لہ حق الدخول۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۳۸۰، مطلب تکرہ الصلاۃ فی الکنیسۃ، طبع سعید، ایضًا: البحر الرائق ج:۷ ص:۲۱۴)۔
452
یذکر فیھا، فالبیوت بمنزلۃ اھلھا واھلھا کفار فھی بیوت عبادۃ الکفار۔‘‘
(فتاویٰ ابن تیمیۃ ج:۱ ص:۱۱۲، مطبوعہ مصر قدیم)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ بیت اللّٰہ نہیں، بیت اللّٰہ مسجدیں ہیں۔ یہ تو وہ مقامات ہیں جہاں کفر ہوتا ہے، اگرچہ ان میں بھی ذِکر ہوتا ہو، پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے، ان کے بانی کافر ہیں، پس یہ کافروں کی عبادت گاہیں ہیں۔‘‘
اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ (م۳۱۰ھ) ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے بارے میں نقل کرتے ہیں:
’’عمد ناس من اھل النفاق فابتنوا مسجدًا بقباء لیضاھوا بہ مسجد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم۔‘‘ (تفسیر ابن جریر ج:۱۱ ص:۳۵ مطبوعۃ مصر)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اہلِ نفاق میں سے چند لوگوں نے یہ حرکت کی کہ قبا میں ایک مسجد بناڈالی، جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسجد سے مشابہت کریں۔‘‘
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے منافقانہ طور پر ’’مسجدِ ضرار‘‘ بنائی تھی، ان کا مقصد یہی تھا کہ اپنی نام نہاد مسجد کو اِسلامی مساجد کے مشابہ بناکر مسلمانوں کو دھوکا دیں، لہٰذا غیرمسلموں کی جو عبادت گاہ مسجد کی وضع وشکل پر ہوگی وہ ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے، اور اس کا منہدم کردینا لازم ہے۔ علاوہ ازیں فقہائے کرامؒ نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیرمسلم شہریوں کا لباس او ران کی وضع قطع مسلمانوں سے ممتاز ہونی چاہئے، (یہ مسئلہ فقہِ اسلامی کی ہر کتاب میں ’’باب احکام اہل الذِّمّۃ‘‘ کے عنوان کے تحت موجود ہے)۔
چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ نے ملکِ شام کے عیسائیوں سے جو عہدنامہ لکھوایا تھا، اس کا پورا متن اِمام بیہقیؒ کی ’’سننِ کبریٰ‘‘ (ج:۹ ص:۲۰۲) اور ’’کنز العمال‘‘ (ج:۴ ص:۵۰۴) میں حدیث نمبر۱۱۴۹۳ کے تحت درج ہے، اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں:
’’ولا نتشبہ بھم فی شیء من لباسھم من قلنسوۃ ولا عمامۃ ولا نعلین ولا فرق شعر، ولا نتکلم بکلامھم ولا نکتنی بکناھم۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ہم، مسلمانوں کے لباس اور ان کی وضع قطع میں ان کی مشابہت نہیں کریں گے، نہ ٹوپی میں، نہ دستار میں، نہ جوتے میں، نہ سر کی مانگ نکالنے میں، اور ہم مسلمانوں کے کلام اور اِصطلاحات میں بات نہیں کریں گے اور نہ ان کی کنیت اپنائیں گے۔‘‘
اندازہ فرمائیے! جب لباس، وضع قطع، ٹوپی، دستار، پاؤں کے جوتے اور سر کی مانگ تک میں کافروں کی مسلمانوں
453
سے مشابہت گوارا نہیں کی گئی تو اِسلام یہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ غیرمسلم کافر اپنی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجد کی شکل ووضع پر بنانے لگیں۔
مسجد کا قبلہ رُخ ہونا اِسلام کا شعار ہے:
اُوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ مسجد اِسلام کا بلند ترین شعار ہے۔ ’’مسجد‘‘ کے اوصاف وخصوصیت پر الگ الگ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ایک ایک چیز مستقل طور پر بھی شعارِ اِسلام ہے۔ مثلاً: اِستقبالِ قبلہ کو لیجئے، مذاہبِ عالم میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس کی اہم ترین عبادت ’’نماز‘‘ میں بیت اللّٰہ شریف کی طرف منہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اِستقبالِ قبلہ کو اِسلام کا خصوصی شعار قرار دے کر، اس شخص کے جو ہمارے قبلے کی جانب رُخ کرکے نماز پڑھتا ہو، مسلمان ہونے کی علامت قرار دیا ہے:
’’من صلّٰی صلاتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ ﷲ وذمۃ رسولہ، فلا تخفروا ﷲ فی ذمتہ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھتا ہو، ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہو، ہمارا ذَبیحہ کھاتا ہو، پس یہ شخص مسلمان ہے، جس کے لئے اللّٰہ کا اور اس کے رسول کا عہد ہے، پس اللّٰہ کے عہد کو مت توڑو۔‘‘
ظاہر ہے کہ اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ ایک شخص خواہ خدا اور رسول کا منکر ہو، قرآنِ کریم کے قطعی اِرشادات کو جھٹلاتا اور مسمانوں سے الگ عقائد رکھتا ہو، تب بھی وہ ان تین کاموں کی وجہ سے مسلمان ہی شمار ہوگا؟ نہیں! بلکہ حدیث کا منشا یہ ہے کہ نماز، اِستقبالِ قبلہ اور ذبیحے کا معروف طریقہ صرف مسلمانوں کا شعار ہے، جو اس وقت کے مذاہبِ عالم سے ممتاز رکھا گیا تھا، پس کسی غیرمسلم کو یہ حق نہیں کہ عقائدِ کفار رکھنے کے باوجود ہمارے اس شعار کو اَپنائے۔ چنانچہ حافظ بدرالدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’واستقبال قبلتنا مخصوص بنا۔‘‘ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۲۹۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرنا، ہمارے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘
اور حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:
’’وحکمۃ الإقتصار علٰی ما ذکر من الأفعال ان من یقر بالتوحید من اھل الکتاب وإن صلَّوا واستقبلوا وذبحوا لٰکنھم لا یصلون مثل صلاتنا ولا یستقبلون قبلتنا ومنھم من یذبح لغیر ﷲ ومنھم لا یأکل ذبیحتنا والإطلاع فی حال المرء فی صلاتہٖ واکلہ یمکن بسرعۃ فی اوّل یوم بخلاف غیر ذالک من امور الدین۔‘‘
(فتح الباری ج:۱ ص:۴۱۷، طبع دار النشر الکتب الإسلامیۃ، لاہور)
454
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مذکورہ بالا اَفعال پر اِکتفا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ توحید کے قائل ہوں، وہ اگرچہ نماز بھی پڑھتے ہوں، قبلے کا اِستقبال کرتے ہوں، اور ذبح بھی کرتے ہوں، لیکن وہ نہ تو ہمارے جیسی نماز پڑھتے ہیں، نہ ہمارے قبلے کا اِستقبال کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض غیراللّٰہ کے لئے ذبح کرتے ہیں، بعض ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے۔ اور آدمی کی حالت، نماز پڑھنے اور کھانا کھانے سے، فوراً پہلے دن پہچانی جاتی ہے، دِین کے دُوسرے کاموں میں اتنی جلدی اِطلاع نہیں ہوتی، اس لئے مسلمان کی تین نمایاں علامتیں ذِکر فرمائیں۔‘‘
اور شیخ مُلَّا علی قاریؒ لکھتے ہیں:
’’انما ذکرہ مع اندراجہ فی الصلٰوۃ لأن القبلۃ اعرف، إذ کل احد یعرف قبلتہ وإن لم یعرف صلٰوتہ ولأن فی صلاتنا ما یوجد فی صلاۃ غیرنا واستقبال قبلتنا مخصوص بنا۔‘‘
(مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۷۲ طبع بمبئی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’نماز میں اِستقبالِ قبلہ خود آجاتا ہے، مگر اس کو اَلگ ذِکر فرمایا کیونکہ قبلہ اسلام کی سب سے معروف علامت ہے، کیونکہ ہر شخص اپنے قبلے کو جانتا ہے، خواہ نماز کو نہ جانتا ہو، اور اس لئے بھی کہ ہماری نماز کی بعض چیزیں دُوسرے مذاہب کی نماز میں بھی پائی جاتی ہیں، مگر ہمارے قبلے کی جانب منہ کرنا یہ صرف ہماری خصوصیت ہے۔‘‘
ان تشریحات سے واضح ہوا کہ ’’اِستقبالِ قبلہ‘‘ اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کی معروف ترین علامت ہے۔ اسی بنا پر اہلِ اسلام کا لقب ’’اہلِ قبلہ‘‘ قرار دِیا گیا ہے، پس جو شخص اِسلام کے قطعی، متواتر اور مُسلَّمہ عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھتا ہو، وہ ’’اہلِ قبلہ‘‘ میں داخل نہیں، نہ اسے اِستقبالِ قبلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
محراب اِسلام کا شعار ہے:
مسجد کے مسجد ہونے کے لئے کوئی مخصوص شکل ووضع لازم نہیں کی گئی، لیکن مسلمانوں کے عرف میں چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں۔ ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے جو قبلے کا رُخ متعین کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے۔ حافظ بدرالدین عینیؒ عمدۃالقاری میں لکھتے ہیں:
’’ذکر ابو البقاء ان جبریل علیہ الصلاۃ والسلام وضع محراب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مسامۃ الکعبۃ وقیل کان ذالک بالمعاینۃ بأن کشف الحال وازیلت الحوائل فرأی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم الکعبۃ فوضع قبلۃ مسجدہ علیھا۔‘‘
(عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۴ ص:۱۲۶، طبع دار الفکر بیروت)
455
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ابوالبقاء نے ذِکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبے کی سیدھ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے محراب بنائی۔ اور کہا گیا کہ یہ معائنے کے ذریعے ہوا، یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹادئیے گئے اور صحیح حال آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر منکشف ہوگیا، پس آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کعبے کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رُخ متعین کرلیا۔‘‘
اس سے دو اَمر واضح ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ محراب کی ضرورت تعینِ قبلہ کے لئے ہے، تاکہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رُخ متعین کرسکے۔ دوم یہ کہ جب سے مسجدِ نبوی کی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگادیا گیا، خواہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کی نشاندہی کی ہو، یا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشف خود ہی تجویز فرمائی ہو۔
البتہ یہ جوف دار محراب جو آج کل مساجد میں قبلہ رُخ ہوا کرتی ہے، اس کی اِبتدا خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے (وفاء الوفاء ص:۵۲۵ ومابعد)، یہ صحابہؓ وتابعینؒ کا دور تھا، اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔
فتاویٰ قاضی خان میں ہے:
’’وجھۃ الکعبۃ تعرف بالدلیل والدلیل فی الأمصار والقریٰ المحاریب التی نصبتھا الصحابۃ والتابعون رضی ﷲ عنھم اجمعین، فعلینا إتباعھم فی إستقبال المحارب المنصوبۃ۔‘‘
(البحر الرائق ج:۱ ص:۲۸۵، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور قبلے کا رُخ کسی علامت سے معلوم ہوسکتا ہے، اور شہروں اور آبادیوں میں قبلے کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ وتابعین رضی اللّٰہ عنہم نے بنائیں، پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔‘‘
یعنی یہ محرابیں جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہؓ وتابعینؒ کے زمانے سے چلی آتی ہیں، دراصل قبلے کا رُخ متعین کرنے کے لئے ہیں، اور اُوپر گزرچکا ہے کہ اِستقبالِ قبلہ ملتِ اِسلامیہ کا شعار ہے، اور محراب جہتِ قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے۔ اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں محراب کا ہونا، ایک تو اِسلامی شعار کی توہین ہے، اس کے علاوہ ان محراب والی عبادت گاہوں کو دیکھ کر ہر شخص انہیں ’’مسجد‘‘ تصوّر کرے گا، اور یہ اہلِ اسلام کے ساتھ فریب اور دَغا ہے، لہٰذا جب تک کوئی غیرمسلم گروہ مسلمانوں کے تمام اُصول وعقائد کو تسلیم کرکے مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا، تب تک اس کی ’’مسجدنما‘‘ عبادت گاہ عیاری اور مکاری کا بدترین اَڈّہ ہے، جس کا اُکھاڑنا مسلمانوں پر لازم ہے، فقہائے اُمت نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم بے وقت اَذان دیتا ہے تو یہ اَذان سے مذاق ہے:
’’إن الکافر لو اَذَّن فی غیر الوقت لا یصیر بہ مسلمًا لأنہ یکون مستھزئًا۔‘‘
(شامی ج:۱ ص:۲۵۹، کتاب الصلوٰۃ، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
456
ترجمہ:۔۔۔ ’’کافر اگر بے وقت اَذان کہے تو وہ اس سے مسلمان نہیں ہوگا، کیونکہ وہ دراصل مذاق اُڑاتا ہے۔‘‘
ٹھیک اسی طرح سے کسی غیرمسلم گروہ کا اپنے عقائدِ کفر کے باوجود اِسلامی شعائر کی نقالی کرنا اور اپنی عبادت گاہ مسجد کی شکل میں بنانا، دراصل مسلمانوں کے اِسلامی شعائر سے مذاق ہے، اور یہ مذاق مسلمان برداشت نہیں کرسکتے۔
اَذان:
مسجد میں اَذان نماز کی دعوت کے لئے دِی جاتی ہے، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اِطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے یہ کہہ کر رَدّ فرمادیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دُوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجادیا جائے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلے پر برخاست ہوئی کہ ایک شخص نماز کے وقت کا اِعلان کردیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد اَزاں بعض حضراتِ صحابہؓ کو خواب میں اَذان کا طریقہ سکھایا گیا، جو انہوں نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، اور اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اَذان رائج ہوئی (فتح الباری ج:۲ ص:۶۴،۶۵، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔(۱)
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ اس واقعے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وھٰذہ القصۃ دلیل واضح علٰی ان الأحکام إنما شرعت لأجل المصالح وإن لإجتھاد فیھا مدخلا، وإن التیسیر اصل اصیل، وإن مخالفۃ اقوام تمادوا فی ضلالتھم فیما یکون من شعائر الدین مطلوب وان غیر النبی قد یطلع بالمنام والنفث فی الروح علٰی مراد الحق لٰکن لا یکلف الناس بہ ولا تنقطع الشبھۃ حتّٰی یقررہ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم واقضت الحکمۃ الإلٰھیۃ ان لا یکون الأذان صرف اعلان وتنبیہ، بل یضم مع ذالک ان یکون من شعائر الدین بحیث یکون النداء بہ علٰی رؤُس الخامل والتنبیہ تنویھا بالدین ویکون قبولہ من القوم آیۃ انقیادھم لدین ﷲ۔‘‘ (حجۃ ﷲ البالغۃ ج:۱ ص:۴۷۴، مترجم)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس واقعے میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے، اوّل یہ کہ اَحکامِ شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرّر ہوئے ہیں۔ دوم یہ کہ اِجتہاد کا بھی اَحکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ اَحکامِ شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ
(۱) لما کثر الناس ان یعلموا وقت الصلاۃ بشیء یعرفونہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن عطاء عن خال عن ابی الشیخ ولفظہ، فقالوا: لو اتخذنا ناقوسًا؟ فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ذاک للنَّصاریٰ!، فقالوا: لو اتخذنا بوقًا؟ قال: ذاک للیھود! فقالوا: لو رفعا نارًا؟ فقال: ذاک للمجوس۔ (فتح الباری ج:۲ ص:۸۰)۔ وفی حدیث ابن عمر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال عمر: اولا تبعون رجلًا ینادی بالصلاۃ، فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یا بلال! قم فناد بالصلاۃ۔ (فتح الباری ج:۲ ص:۷۷، طبع دار نشر الکتب الإسلامیۃ لاھور)۔
457
رکھنا بہت بڑا اصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائرِ دِین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں، شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیرنبی کو بھی بذریعہ خواب یا اِلقاء فی القلب کے مرادِ اِلٰہی کی اِطلاع مل سکتی ہے، مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بناسکتا اور نہ اس سے شبہ دُور ہوسکتا ہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہ فرمائیں، اور حکمتِ اِلٰہی کا تقاضا ہوا کہ اَذان صرف اِطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائرِ دِین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اَذان کہنا تعظیمِ دِین کا ذریعہ ہو اور لوگوں کا اس کو قبول کرلینا ان کے دِینِ خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔‘‘
حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اَذان اِسلام کا بلندترین شعار ہے اور یہ کہ اِسلام نے اپنے اس شعار میں گمراہ فرقوں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔ ’’فتح القدیر‘‘ (ج:۱ ص:۱۶۷)، ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘ اور ’’البحر الرائق‘‘ (ص:۲۵) وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اَذان دِینِ اسلام کا شعار ہے۔ فقہائے کرامؒ نے جہاں مؤذِّن کی شرائط شمار کی ہیں، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذِّن مسلمان ہونا چاہئے۔
’’واما الإسلام فینبغی ان یکون شرط صحۃ فلا یصح اَذان کافر علٰی ای ملّۃ کان۔‘‘
(البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۴، دارالمعرفۃ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مؤذِّن کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ضروری ہے، پس کافر کی اَذان صحیح نہیں، خواہ کسی مذہب کا ہو۔‘‘
فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذِّن اگر اَذان کے دوران مرتد ہوجائے تو دُوسرا شخص اَذان کہے:
’’ولو إرتد المؤَذِّن بعد الأذان لا یعاد وإن اعید فھو افضل، کذا فی السراج الوھاج، وإذا ارتد فی الأذان فالأولٰی ان یبتدیء غیرہ وإن لم یبتدی غیرہ واتمہ جاز، کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۵۴، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی فی الأذان، طبع ماجدیہ کوئٹہ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اگر مؤذِّن اَذان کے بعد مرتد ہوجائے تو اَذان دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اگر لوٹائی جائے تو افضل ہے۔ اور اَگر اَذان کے دوران مرتد ہوگیا تو بہتر یہ ہے کہ دُوسرا شخص نئے سرے سے اَذان شروع کرے، تاہم اگر دُوسرے شخص نے باقی ماندہ اَذان کو پورا کردیا تب بھی جائز ہے۔‘‘
مسجد کے مینار:
مسجد کی ایک خاص عالمت، جو سب سے نمایاں ہے، اس کے مینار ہیں۔ میناروں کی اِبتدا بھی صحابہؓ وتابعینؒ کے زمانے سے ہوئی۔ مسجدِ نبوی میں سب سے پہلے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے مینار بنوائے (وفاء الوفاء ص:۵۲۵)۔ حضرت مسلمہ بن مخلد انصاریؓ جلیل القدر صحابی ہیں، وہ حضرت معاویہؓ کے زمانے میں مصر کے گورنر تھے، انہوں نے مصر کی مساجد میں مینار
458
بنانے کا حکم فرمایا (الاصابہ ج:۳ ص:۴۱۸)۔(۱) اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں مسجد کے لئے مینار ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مسجد کے مینار دو فائدوں کے لئے بنائے گئے: اوّل یہ کہ بلند جگہ نماز کی اَذان دی جائے، چنانچہ اِمام ابوداؤدؒ نے اس پر ایک مستقل باب باندھا ہے: ’’الأذان فوق المنارۃ‘‘۔
حافظ جمال الدین الزیلعی نے نصب الرایہ میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللّٰہ عنہ کا قول نقل کیا ہے:
’’من السُّنَّۃ الأذان فی المنارۃ والإقامۃ فی المسجد۔‘‘
(نصب الرایۃ ج:۱ ص:۲۹۳، طبع مجلس علمی بالھند)
ترجمہ:۔۔۔ ’’سنت یہ ہے کہ اَذان مینارے میں ہو اور اِقامت مسجد میں۔‘‘
مینارِ مسجد کا دُوسرا فائدہ یہ تھا کہ مینار دیکھ کر ناواقف آدمی کو مسجد کے مسجد ہونے کا علم ہوسکے، گویا مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رُخ محراب ہو، منبر ہو، مینار ہو، وہاں اَذان ہوتی ہو، اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوںں کا پایا جانا اِسلامی شعار کی توہین ہے، اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم تسلیم کیا جاچکا ہے اور ان کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے تو انہیں مسجد یا مسجد نما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اَذان واِقامت کہنے کی اِجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے اَربابِ اِقتدار اور عدلیہ کا فرض ہے کہ غیرمسلم قادیانیوں کو اِسلامی شعائر کے اِستعمال سے روکیں، اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوّت اور شدّت سے اس مطالبے کو منوائیں۔ حق تعالیٰ شانہ‘ اس ملک کو منافقوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۲ ص:۱۱۳ تا ۱۳۳)
قادیانیوں کو مسجد بنانے سے جبراً روکنا کیسا ہے؟
سوال:۔۔۔ احمدیوں کو مسجدیں بنانے سے جبراً روکا جارہا ہے، کیا یہ جبر اِسلام میں آپ کے نزدیک جائز ہے
جواب:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مسجدِ ضرار کے ساتھ کیا کیا تھا؟ اور قرآنِ کریم نے اس کے بارے میں کیا اِرشاد فرمایا ہے؟ شاید جناب کے علم میں ہوگا! اس کے بارے میں کیا اِرشاد ہے۔۔۔؟ آپ حضرات دراصل معقول بات پر بھی اعتراض فرماتے ہیں۔ دیکھئے! اس بات پر تو غور ہوسکتا تھا ۔۔۔اور ہوتا بھی رہا ہے۔۔۔ کہ آپ کی جماعت کے عقائد مسلمانوں کے سے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ اِسلام میں ان عقائد کی گنجائش ہے یا نہیں؟ لیکن جب یہ طے ہوگیا کہ آپ کی جماعت کے نزیک مسلمان، مسلمان نہیں، اور مسلمانوں کے نزدیک آپ کی جماعت مسلمان نہیں، تو خود اِنصاف فرمائیے کہ آپ مسلمانوں کو اور مسلمان آپ کو اِسلامی حقوق کیسے عطا کرسکتے ہیں؟ اور اَز رُوئے عقل واِنصاف کسی غیرمسلم کو اِسلامی حقوق دینا ظلم ہے؟ یا اس کے برعکس نہ دینا ظلم ہے۔۔۔؟
میرے محترم! بحث جبر واِکراہ کی نہیں بلکہ بحث یہ ہے کہ آپ نے جو عقائد اپنے اِختیار واِرادے سے اپنائے ہیں، ان پر
(۱) مسلمۃ بن مخلد ۔۔۔۔۔۔ الأنصاری الخزرجی ۔۔۔۔۔۔۔ وقال محمد بن الربیع: ولی إمرۃ مصر وھو اوّل من جمعت لہ مصر والمغرب وذالک فی خلافۃ معاویۃ ۔۔۔۔۔۔۔ وقال ابن السکن: ھو اوّل من جعل علٰی اھل مصر بنیان المنار۔ (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۳ ص:۴۱۸ حرف المیم، القسم الأوّل، طبع دار صادر مصر)۔
459
اِسلام کا اِطلاق ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر ان پر اِسلام کا اِطلاق ہوتا ہے تو آپ کی شکایت بجا ہے، نہیں ہوتا، تو یقینا بے جا ہے۔ اس اُصول پر تو آپ بھی اِتفاق کریں گے اور آپ کو کرنا چاہئے۔
اب آپ خود ہی غور فرمائیے کہ آپ کے خیال میں اسلام کس چیز کا نام ہے؟ اور کن چیزوں کے اِنکار کردینے سے اِسلام جاتا رہتا ہے۔۔۔؟
اس تنقیح کے بعد آپ اصل حقیقت کو سمجھ سکیں گے، جو غصّے کی وجہ سے اب نہیں سمجھ رہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۳)
قادیانی کی بنائی ہوئی مسجد کے بارے میں
سوال:۔۔۔ ایک قادیانی نے مسجد بنائی ہے، کیا یہ مسجد کے حکم میں ہے؟ اور اس کا گرانا جائز اور ضروری ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں پر ’’مسجد‘‘ کا اِطلاق دُرست نہیں ہے، ایسے ہی غیرمسلموں کو یہ بھی اِجازت نہیں کہ وہ اپنے عبادت خانوں کی تعمیر، مساجد کی طرز پر کریں یا ان کا نام ’’مسجد‘‘ رکھیں۔
’’ولو جعل ذمی دارہ مسجدًا للمسلمین وبناہ کما بنی المسلمون واذن لھم بالصلٰوۃ فیہ فصلوا فیہ ثم مات یصیر میراثًا لورثتہ وھٰذا قول الکل۔‘‘ (عالمگیری ج:۲ ص:۳۵۳)
احقر محمد انور عفا اللّٰہ عنہ
۱۶؍۴؍۱۳۹۶ھ
(خیر الفتاویٰ ج:۲ ص:۷۶۰)
قادیانیوں کا ’’مسجد‘‘ کے نام سے عبادت گاہ بنانا
سوال:۔۔۔ کیا مرزائی ’’مسجد‘‘ کے نام سے اپنی کوئی عبادت گاہ بناسکتے ہیں؟
جواب:۔۔۔ الحمد للّٰہ وحدہٗ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہٗ!
’’مسجد‘‘ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔(۱) اُمتِ مسلمہ کا اس پر اِجماع ہے کہ کسی بھی کافر کو مسجد کے نام سے کوئی عمارت بنانا جائز نہیں۔(۲) قرآنِ کریم کی آیات کی تصریحات اور اَحادیثِ رسول کے منطوقات اس کے شاہدِ عدل ہیں۔(۳) مسجدِ ضرار کی
(۱) والمسجد لغۃ محل السجود، وشرعًا المحل الموقوف للصلٰوۃ فیہ (مرقاۃ المفاتیح ج:۲ ص:۱۸۲، باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ
(۲،۳)قال تعالٰی: ’’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَن یَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ اللہ شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ أُوْلَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ وَفِیْ النَّارِ ہُمْ خَالِدُونَ‘‘ قال الطبری تحت ھٰذہ الآیۃ: ان المساجد انما تعمر لعباۃ ﷲ فیھا لا للکفر بہ فمن کان باﷲ کافرًا فلیس من شأنہ ان یعمر مساجد ﷲ۔ (تفسیر ابن جریر ج:۱۰ ص:۸۳، طبع دارالفکر)۔
قال البغوی: اوجب ﷲ علی المسلمین منعھم من ذالک لأن المساجد ان تعمر لعبادۃ وحدہ، فمن کان کافرًا باللّٰہ فلیس من شأنہ ان یعمرھا، فذھب جماعۃ إلٰی ان المراد من العمارۃ المعروفۃ، من بناء المسجد ومرمتہ عند الخراب فیمنع منہ الکافر حتّٰی لو اوصٰی بہ لا یمتثل ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر معالم التنزیل ج:۲ ص:۷۰)۔
460
تعمیر اور پھر اسے گرانا اور جلانا ثابت کرتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کافروں اور منافقوں کی اس تعمیرشدہ مسجد کو مسجد تسلیم نہ فرمایا۔(۱) اگرچہ انہوں نے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کرکے اسے تعمیر کیا تھا، لہٰذا مرزائیوں کی بنائی ہوئی مسجد کو بھی مسجد تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ اسلام کا ظاہری دعویٰ کرنے کے باوجود بھی وہ دستورِ پاکستان کی دُوسری ترمیم کی رُو سے کافر ہیں، اور ان کی تعمیر کردہ مسجد، مسجدِ ضرار کے ساتھ پوری مماثلت ومشابہت بلکہ یگانگت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس کا بھی شرعی حکم وہی ہوگا۔ واللّٰہ تعالیٰ علم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان شہر
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۴۵۰، ۴۵۱)
مسلمانوں کے چندے سے بنائی گئی مسجد پر قادیانیوں کا کوئی حق نہیں
سوال۱:۔۔۔ مرزائی خواہ وہ انجمن احمدیہ اِشاعتِ اسلام لاہور سے تعلق رکھتے ہوں یا انجمن احمدیہ قادیان سے، مسلمان ہیں یا نہیں؟
۲:۔۔۔ انجمن احمدیہ اِشاعتِ اسلام لاہور نے تمام مسلمانوں سے روپیہ اکٹھا کرکے برلن میں ۱۹۲۷ء میں مسجد تعمیر کی، لیکن وہ مسجد جناب صدرالدین صاحب نمائندہ جماعتِ احمدیہ لاہور کی ذاتی ملکیت ہے، کیا اَز رُوئے اَحکامِ اسلام مسجد کسی شخص کی ذاتی جائیداد ہوسکتی ہے؟
۳:۔۔۔ کیا اس مسجد کا اِمام ایسا شخص ہوسکتا ہے جس نے اکثر دفعہ مرزائی اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ کے ذریعے برلن مشن کے بارے میں محض اس لئے جھوٹ بولا ہو کہ آمدنی اچھی ہو اور ہندوستان سے زیادہ رقم آئے؟
۴:۔۔۔ کیا اس مسجد کے اِمام کو حق ہے کہ ایک جرمن نومسلم کو مسجد میں داخل ہونے کی ممانعت کردے؟
۵:۔۔۔ کیا یہ جائز ہے کہ برلن کی مسجد میں جرمنوں کو چائے کی دعوت دی جائے اور مسجد میں کرسیاں بچھادی جائیں اور سگریٹ نوشی ہو؟
۶:۔۔۔ کیا یہ جائز ہے کہ مسجد کا اِمام اکثر احمدی رسالوں میں یہ پروپیگنڈا کرے کہ برلن میں اس مسجد میں پانچوں وقت نماز واَذان ہوتی ہے، حالانکہ درحقیقت جمعہ تک کی نماز نہیں ہوتی؟
المستفتی نمبر۶۲۴: حبیب الرحمن
سیکریٹری جماعتِ اسلامیہ برلن
۲۴؍۶؍۱۳۵۴ھ - ۲۳؍۹؍۱۹۳۵ء
(۱) فلما رجع إلٰی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ سلم من سفرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقال: انطلقا إلٰی ھٰذا المسجد الظالم اھلہ، فاھدماہ واحرقاہ، فخرجا سریعین حتّٰی أتیا بنی سالم بن عوف وھم رھط مالک، فقال مالک لصاحبہ: انظرنی حتّٰی اخرج لک بنار من اھلی فدخل إلٰی اھلہ فأخذ سعفًا من النخل فاشتعل فیہ نارًا ثم خرجا یشتدان حتّٰی دخلاہ وفیہ اھلہ فاحرقاہ وھدماہ وتفرقوا عنہ، ونزل فیھم القرآن ما نزل۔‘‘ (تفسیر رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۱۸، سورۃ التوبۃ:۱۰۷، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
461
جواب۱:۔۔۔ مرزائی فرقۂ ضالہ کی دونوں شاخیں لاہوری اور قادیانی جمہور علمائے اسلام کے متفقہ فتوے کے بموجب دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا، یہ دعویٰ ان کی تالیفات میں اتنی کثرت اور صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ کسی شخص کو اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ قادیانی جماعت تو اس کا اِلتزام ہی کرتی ہے اور مرزاقادیانی کی نبوّت ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے، اور لاہوری جماعت اگرچہ اِلتزام نہیں کرتی، اور مرزاقادیانی کی عبارتوں کی تأویلیں کرتی ہے، مگر وہ تأویلیں کسی حالت میں بھی مقبول نہیں ہوسکتیں، اس لئے ان کا نبوّتِ مرزا اور اِدّعائے نبوّت سے اِنکار کرنا مفید نہیں۔ اس کے علاوہ اس فرقۂ ضالہ کے خارج اَزاِسلام ہونے کی اور بھی وجوہ ہیں۔(۱)
۲:۔۔۔ اگر کوئی شخص اپنے ذاتی روپے سے بھی مسجد تعمیر کرکے وقف کردے اور وہ مسجد باقاعدہ مسجد ہوجائے تو اس کو بھی وہ اپنی ذاتی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔ بانی جبکہ وہ خود واقف بھی ہو، اِنتظام کے بعض حقوق رکھتا ہے، لیکن اگر وہ مالکانہ حقوق کا مدعی ہو تو خائن قرار دِیا جائے گا اور مسجد اس کے قبضۂ تولیت سے نکال لی جائے گی۔ اور مسجد جبکہ عام مسلمانوں کے چندے سے تعمیر ہوئی ہو تو پھر تو بنانے والے کو کوئی مزید حقوق حاصل ہی نہیں ہوسکتے، بلکہ چندہ دینے والوں کی مرضی سے کوئی جماعت یا کوئی فرد اِنتظام کے لئے مقرّر یا معزول کیا جاسکتا ہے۔(۲)
۳:۔۔۔ اگر اِمام کا کاذِب ہونا اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنا ثابت ہوجائے تو وہ اِمامت کا اہل نہیں۔(۳)
۴:۔۔۔ مسجد میں آنے سے کسی کو روکنے کا بلاوجۂ شرعی کسی کو حق نہیں، اگر کسی کو دُخولِ مسجد سے روکا جائے تو اس کے لئے کوئی شرعی وجہ بیان کرنی لازم ہوگی۔(۴)
۵:۔۔۔ سگریٹ نوشی مسجد میں حرام ہے، اور چائے کی پارٹی دینی بھی ان لوازم کے ساتھ جو فی زماننا مروّج ہیں، اور جو اِحترامِ مسجد کے منافی ہیں، مکروہ ہے۔(۵)
۶:۔۔۔ اگر مسجد میں پنج وقتہ نماز جماعت بلکہ جمعہ کی نماز بھی اِلتزام کے ساتھ نہیں ہوتی تو یہ شائع کرنا کہ مسجدِ مذکور میں پانچ وقت اَذان ونماز ہوتی ہے، کذبِ صریح اور دھوکادہی ہے، اور کسی طرح اس جھوٹے پروپیگنڈے کی شریعتِ مقدسہ اِجازت
(۱) وإن انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۵۶۱، باب الإمامۃ)۔
(۲)من بنی مسجدًا لم یزل ملکہ عنہ حتّٰی یفرزہ عن ملکہ بطریقہ ویأذن بالصلاۃ فیہ، اما الإفراز فلأنہ لا یخلص ﷲ تعالٰی، فلو جعل وسط دارہ مسجدًا واذن للناس فی الدخول والصلاۃ فیہ إن شرط فیہ الطریق صار مسجدًا ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۴۵۴، کتاب الوقف، الفصل الأوّل فیما یصیر بہ مسجدًا، طبع ماجدیہ کوئٹہ)۔
ایضًا: قال فی البحر: قدمنا ان الولایۃ للواقف ثابتۃ مد حیاتہ ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۴۲۱، کتاب الوقف، مطلب ولایۃ نصب القیم للواقف، طبع سعید کراچی)۔
(۳)ویکرہ إمامۃ عبد، واَعرابی، وفاسق۔ (تنویر الأبصار مع درمختار ج:۱ ص:۵۵۹، باب الإمامۃ، طبع سعید کراچی)۔
(۴) قال تعالٰی: ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللہِ أَن یُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہُ‘‘ (البقرۃ:۱۱۴)۔
(۵) عن جابر قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم من اکل من ھٰذہ الشجرۃ المنتنۃ فلا یقربن من مسجدنا، فإن الملائکۃ تتأذّٰی ما یتأذّٰی منہ الإنس۔ (مسلم ج:۱ ص:۲۰۹، طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔
462
نہیں دے سکتی۔ اور اگر اس جھوٹے پروپیگنڈے سے جلبِ زَر مقصود ہو تو اس کی قباحت دوچند ہوجاتی ہے۔(۱)
محمد کفایت اللّٰہ
(کفایت المفتی ج:۳ ص:۲۰۰، ۲۰۱)
قادیانیوں کو مسجد میں آنے سے منع کرنا چاہئے
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کا مسجد میں آنا کیسا ہے؟ اس معاملے میں انتظامیہ مسجد کی کیا ذمہ داری ہے؟
جواب:۔۔۔ اگر کوئی کافر ہماری مسجد میں اپنی طرز سے عبادت کرنے نہیں آتا، بلکہ صرف دیکھنے کی غرض سے آتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔ یہ حکم عام کفار کا ہے۔
باقی قادیانی چونکہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اس لئے اگر وہ مسجد میں آئیں گے اور مسلمانوں کی طرح عبادت کریں گے تو مسلمانوں سے ان کا اِلتباس لازم آئے گا، لہٰذا قادیانیوں کو ہر حال میں مسجد میں آنے سے منع کیا جائے گا۔ واللّٰہ اعلم
|
الجواب صحیح |
محمد عبدالرحمن میمن |
|
محمد رفیع عثمانی |
|
قادیانیوں کا شعائرِ اِسلام کا اِستعمال کرنا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مرزائیوں کے دونوں فرقوں کو تین ماہ کی کامل تحقیق وتفتیش کے بعد آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دِیا جاچکا ہے، مگر وہ بدستور اپنی عبادت گاہیں ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرتے ہیں، اور وہاں مسلمانوں کی سی اَذانیں دیتے ہیں، جس سے بسااوقات ایک نووارِد اور ناواقف اسے مسلمانوں کی عبادت گاہ سمجھ کر وہاں چلا جاتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی اسلامی حکومت میں کسی غیرمسلم گروہ کو یہ اِجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کریں اور اس میں اسلامی اَذان کہیں؟
سائل: راؤ عبدالمنان سرگودھا
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا ومسلّمًا! مسجد شعائر اللّٰہ اور شعائرِ اِسلام میں سے ہے، جو صرف اہلِ اسلام کی عبادت گاہ ہوسکتی ہے۔ قرآنِ کریم نے یہ اُصول وضع کیا کہ کوئی غیرمسلم کافر اس کی تعمیر وتولیت کا اہل نہیں، چنانچہ اِرشاد ہے:
’’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَن یَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ اللہ شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ أُوْلَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ وَفِیْ النَّارِ ہُمْ خَالِدُونَ. إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ‘‘ (التوبۃ:۱۷، ۱۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مشرکوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اللّٰہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں، جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال حبط ہوچکے ہیں اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللّٰہ کی مسجدوں
(۱)وفی الدر المختار ج:۱ ص:۶۶۱ کتاب الصلٰوۃ: احکام المساجد، واکل نحو ثوم ویمنع منہ کذا کل مؤْذ ولو بلسانہ۔
463
کی تعمیر وہی شخص کرسکتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر (غرض پورے دِینِ محمدی پر) اِیمان رکھتا ہو۔‘‘
پھر دورِ نبوی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے اس اَمر کا دوٹوک فیصلہ ہوگیا کہ اگر کوئی غیرمسلم اسلام کا دعوے دار بن کر کوئی جگہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اور اِسلامی حکومت اس سے کیا معاملہ کرے گی؟ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ منافقینِ مدینہ نے جو اپنے عقائدِ کفریہ کے باوجود قسمیں کھاکھاکر اِسلام کا دعویٰ کیا کرتے تھے، اسلام کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کی جماعت کے درمیان تفریق ڈالنے کی غرض س اپنی ڈیڑھ اِینٹ کی مسجد الگ بنالی تھی، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ برکت کے لئے وہاں ایک نماز اَدا فرمالیں، قرآنِ کریم نے ان کی اس ناپاک سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے اس نام نہاد مسجد پر بلیغ تبصرہ فرمایا، وہ یہ تھا:
’’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ مَسْجِداً ضِرَاراً وَکُفْراً وَتَفْرِیْقاً بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَإِرْصَاداً لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُولَہُ مِن قَبْلُ وَلَیَحْلِفَنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَی وَاللہُ یَشْہَدُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ. لاَ تَقُمْ فِیْہِ أَبَداً‘‘ (التوبۃ:۱۰۷، ۱۰۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جن لوگوں نے اس غرض کے لئے مسجد بناکر کھڑی کردی کہ اِسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں، خدا اور رسول کے ساتھ کفر کریں، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں، اور جو شخص خدا اور رسول کے ساتھ پہلے ہی لڑچکا ہے، اس کے لئے ایک اَڈّا بنالیں۔ وہ قسمیں کھاجائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا قصد کیا ہے، مگر اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ قطعاً جھوٹے ہیں۔ آپ اس میں جاکر کھڑے بھی نہ ہوں۔‘‘
یہ آیات نازل ہوئیں تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چند صحابہؓ کو حکم فرمایا اور اسے نذرِ آتش کرکے پیوندِ زمین کرڈالا۔(۱) قرآنِ کریم کی یہ آیاتِ بینات اور حضرت خاتمِ رِسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ طرزِعمل اس اَمر کا صاف فیصلہ کردیتا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم ٹولہ اِسلام کا لبادہ اوڑھ کر ’’مسجد‘‘ کے نام سے کوئی مکان تعمیر کرتا ہے تو اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس مسجدِ ضرار کو کفر وبددِینی کا اَڈّا بنایا جائے، مسلمانوں میں تفریق ڈالی جائے اور کفر کے سرغنہ کے لئے ایک پناہ گاہ مہیا کردی جائے، اور یہ کہ اِسلام اس کھیل کو برداشت نہیں کرتا، بلکہ اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کفر کے ان اَڈّوں کو مسمار کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ۔۔۔اس واقعے کے بعد۔۔۔ کبھی کسی غیرمسلم منافق کو یہ جرأت نہیں ہوسکی کہ وہ اپنی عبادت گاہ کے لئے ’’مسجد‘‘ کا مقدس نام اِستعمال کرے۔
مرزائی گروہ کا کفر واِرتداد آفتاب نصف النہار کی طرح کھل چکا ہے اور آئینی طور پر انہیں قطعی غیرمسلم قرار دِیا جاچکا ہے، اس کے باوجود ان کا اِدّعائے اسلام انہیں منافقینِ مدینہ کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے اور ان کی بنائی ہوئی مسجد، مسجدِ ضرار کا حکم رکھتی ہے۔ اب یہ اِسلامی حکومت کا فرض ہے کہ انہیں اپنی عبادت گاہیں مسجد کے نام پر تعمیر کرنے سے باز رکھے۔ اور مسجد کے تقدس کی بے حرمتی کو برداشت نہ کرے۔
(۱) ص:۴۶۱ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ فرمائیں۔
464
یہی حکم ’’مسجد‘‘ کے علاوہ دیگر اِسلامی شعائر اور اِسلامی اِصطلاحات کا ہے، ان کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے، اور اِسلام کبھی اس اَمر کو برداشت نہیں کرتا کہ اس کی مقدس اِصطلاحات وعلامات کو منافقین ومرتدین کی دست بُرد کا کھلونا بناڈالا جائے۔ فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیرمسلم باشندوں کا لباس، وضع قطع اور مکان تک مسلمانوں سے ممیز ہونا چاہئے، (دیکھئے: شامی، باب احکام الجزیہ ج:۴ ص:۲۰۶)، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی شعائر کے معاملے میں اسلام کے اِحساسات کس قدر نازک ہیں۔۔۔!
علمائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ غیرمسلموں کو مسجد بنانے کی اِجازت نہیں دی جاسکتی، اگر وہ یہ حرکت کریں تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ انہیں اس سے باز رکھیں۔ قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتیؒ (المتوفیٰ ۱۲۲۵ھ) فرماتے ہیں:
’’فإنہ یجب علی المسلمین منعھم من ذالک لأن مساجد ﷲ إنما یعمر لعبادۃ ﷲ وحدہ، فمن کان کافر باﷲ فلیس من شأنہ ان یعمرھا۔‘‘ (تفسیر مظھری ج:۴ ص:۱۴۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ کفار کو تعمیرِ مساجد سے باز رکھیں، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی مسجدیں صرف عبادتِ اِلٰہی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں، پس کسی کافر کا یہ کام نہیں کہ انہیں تعمیر کرے۔‘‘
اِمام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
’’فیجب إذًا علی المسلمین تولی احکام المساجد ومنع المشرکین من دخولھا۔‘‘
(تفسیر قرطبی ج:۸ ص:۸۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اندریں صورت مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ خود اَحکامِ مساجد کے متولّی ہوں، اور کافروں کو ان میں مداخلت سے باز رکھیں۔‘‘
شیخ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں:
’’ولو بنوا مسجدًا لم یصر مسجدًا ففی تنویر الأبصار من وصایا الذی وغیرہ وصاحب الھویٰ إن کان لا یکفر فھو بمنزلۃ المسلم فی الوصیۃ، وإن کان یکفر فھو بمنزلۃ المرتد۔‘‘
(إکفار الملحدین ص:۱۲۸، طبع جدید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ملحدین اگر کوئی مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی، چنانچہ ’’تنویرالابصار‘‘ کے باب الوصایا الذی وغیرہ میں لکھا ہے: اہلِ ہویٰ کے عقائد اگر کفر کی حد تک پہنچے ہوئے نہ ہوں، تو اس کا حکم ’’تعمیرِ مسجد‘‘ کی وصیت میں مسلمان جیسا ہے، اور کفر کے عقائد رکھتا ہو تو وہ بمنزلہ مرتد کے ہے۔‘‘
اور مرتد کا حکم ساری دُنیا کو معلوم ہے کہ اسے اسلامی مملکت میں آزادنہ نقل وحرکت کی بھی اِجازت نہیں، چہ جائیکہ اسے اسلامی شعائر کو پامال کرنے کی کھلی چھٹی دی جائے۔ بہرحال مرزائیوں کا، اپنے عقائدِ کفریہ کے باوجود مسجد، اَذان اور دیگر اِسلامی
465
شعائر کو اِستعمال کرنا درحقیقت اسلام سے کھلا مذاق ہے۔ جس کی اِجازت کسی حال میں نہیں دی جاسکتی۔ تاہم یہ فرض حکومت پر عائد ہوتا ہے کہ وہ مساجد اور دیگر اِسلامی شعائر کے تقدس کو قادیانیوں کی دست بُرد سے بچانے کا فرض انجام دے۔ عام مسلمانوں کو ہم مشورہ دیں گے کہ وہ اَزخود براہِ راست ان اُمور میں مداخلت کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، اور ملک میں امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ ہونے دیں، بلکہ اس کے لئے اسلامی عدالت کی طرف رُجوع کریں۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۴۵۲ تا ۴۵۴)
مرزائی کی تعمیرکردہ مسجد میں نماز کی ادائیگی
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ مرزائی کی خریدشدہ زمین مسجد تعمیر شدہ میں زید اِمامت کرتا ہے، مسلمان اہلِ سنت جماعت نماز پڑھتے، آیا اس مسجد میں نماز ہوگی یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ اگر اس شخص نے قربت کی نیت سے مسجد تعمیر کی ہے، تو اس میں نماز جائز ہے، اور زید کی اِمامت دُرست ہے۔
’’قال فی النھریۃ: وإمامۃ (الوقف) فطلب الزلفی (إلٰی قولہ) واما الإسلام فلیس بشرط، وفی کتاب الوقف من شرح التنویر ذکرہ بدلیل صحتہ من الکافر، وفی الشامیۃ حتّٰی یصح من الکافر (إلٰی قولہ) بخلاف الوقف فإنہ لا بد فیہ من ان یکون فی صورۃ القربۃ وھو معنی ما یأتی فی قولہ ویشترط ان یکون قربۃ فی ذاتی إذ لو اشترط کونہ قربتہ حقیقۃ لم یصح من الکافر۔‘‘ (شامی ج:۳ ص:۳۹۲،۳۹۳)
فقط واللّٰہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۴۵۱)
مسجد کی بجلی سے قادیانی کو کنکشن دینا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مسجد کا متولّی برضامندی مقتدیوں کے قریبی ایک مرزائی قادیانی دُکان دار سے تعاون بایں معنی کرتا ہے کہ مسجد سے مرزائی مذکور کی دُکان کو بجلی کا کنکشن دیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں چند مقتدیوں کے اس مرزائی سے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ان سے علیک سلیک اور ان کو مذکورہ بالا تعاون میں رضامندی کی وجہ سے کوئی شرعی عذر یا عدمِ جواز اور حرج تو واقع نہیں ہوگا؟ ایسی حالت میں اس دُکان دار سے سودا وغیرہ خریدنے اور مسجد کے متولّی سے روابط قائم رکھنا صحیح ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ بشرطِ صحت متولّی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ مسجد کی بجلی سے کسی مرزائی کو کنکشن دے، لہٰذا متولّی پر لازم ہے کہ وہ مرزائی کی دُکان سے کنکشن منقطع کردے۔ باقی اس مسجد میں نماز جائز ہے، نماز میں کوئی حرج نہیں آتا۔ نیز مرزائیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنا جائز نہیں، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ’’نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے مرزائی سے
466
دوستانہ تعلقات منقطع کردیں۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۵۸۳، ۵۸۴)
قادیانی کا مسجد کے لئے جائیداد وقف کرنا
سوال:۔۔۔ ایک نقشے میں ایک مسجد کی جائیداد ظاہر کی گئی ہے، اس میں آٹھ دُکانیں ہیں، جو آٹھ نمبروں سے ظاہر کی گئی ہیں۔ درمیان میں مسجدِ ھٰذا کا دروازہ ہے، دُکانوں کے سامنے کچھ زمین ہے، جو ایک صاحب کی ہے، جو قادیانی مذہب کا ہے، اور قادیانی مذہب کا پکا پیرو بھی ہے۔ وہ صاحب اسی زمین کو مسجدِ ھٰذا کو وقف کرتے ہیں۔ قادیانی صاحب کا یہ وقف ہماری مسجد یا جائیدادِ مسجد کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر وہ صاحب یہ جائیداد وقف یا کسی طرح مسجد کی زمین نہ دیں تو مسجد یا دُکانوں کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ یہ زمین مسجد میں کس صورت میں جائز ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! جو مسلمان اپنا اصلی مذہب اسلام چھوڑ کر قادیانی ہوجائے، وہ اسلام سے خارج ہوکر مرتد قرار دِیا جاتا ہے۔ مرتد کی کوئی عبادت قبول نہیں۔ اِمام محمدؒ فرماتے ہیں کہ جس فرقے میں داخل ہوا ہے، اس فرقے کے نزدیک جن اُمور میں وقف صحیح ہوتا ہے، ان اُمور میں اس کا وقف صحیح ہے۔ اس طرح مسجد اس کا وقف بھی معتبر ہے۔ علاوہ ازیں جب اس نے اپنے مالکانہ حقوق ختم کردئیے اور مسجد کے حوالہ زمین کردی اور یہ شخص خود قادیانی نہیں ہوا، بلکہ اس کا والد قادیانی ہوا تھا، اس سے یہ پیدا ہوا ہے، تو اس کا وقف بھی معتبر ہوگا۔
فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم!
|
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود غفر لہٗ |
|
بندہ نظام الدین غفر لہٗ |
دارالعلوم دیوبند |
|
دارالعلوم دیوبند |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۵ ص:۳۳۵،۳۳۶)
لاہوری مرزائی کا مسجد کے لئے چندہ
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک اِمامِ مسجد نے اپنی ایک مسجد کے لئے مرزائی جماعت کے لاہوری فرقے کے ایک مال دار سے مسجد کے لئے چندہ حاصل کیا ہے۔ کیا اس اِمام کے پیچھے نماز پڑھنا دُرست ہے؟ نیز وہ مسجد جس میں لاہوری مرزائی کا روپیہ صَرف کیا گیا ہے، اس مسجد میں مسلمانوں کا نماز پڑھنا کیسا ہوگا؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ فی نفسہٖ جس کافر کے نزدیک مسلمانوں کے لئے مسجد تعمیر کرانا کارِخیر ہو تو وہ مسجد بھی تعمیر کراسکتا ہے، اور اس کا چندہ مسجد کی تعمیر میں بھی لگ سکتا ہے، اور مسجدِ مذکور مسجد کے حکم میں ہی ہوگی، اور مسلمانوں کا اس میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز ہے۔
قال فی العالمگیریۃ (ج:۲ ص:۳۵۳):
’’ولو جعل الذمی دارہ علٰی بِیعۃ او کنیسۃ او بیت نار فھو باطل، کذا فی المحیط،
467
وکذا علٰی إصلاحھا ودھن سراجھا ولو قال یسرج بہ بیت المقدس او یجعل فی مرمۃ بیت المقدس جاز۔‘‘
لیکن اگر مسلمانوں پر کل کو اس کے اِحسان جتلانے کا اندیشہ ہو تو ایسے کافر کا چندہ لینے سے اِحتراز کرنا چاہئے (فتاویٰ رشیدیہ ص:۴۰۹)۔ تعمیر ومرمتِ مسجد میں شیعہ وکافر کا روپیہ لگانا دُرست ہے۔ اور ’’اِمدادالفتاویٰ‘‘ ج:۲ ص:۶۰۴ پر ہے:
’’(الجواب) اگر یہ اِحتمال نہ ہو کہ کل اہلِ اسلام پر اِحسان رکھیں گے اور یہ اِحتمال ہو کہ اہلِ اسلام ان کے ممنون ہوکر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت کریں گے، یا ان کی خاطر سے اپنے شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے، اس شرط سے قبول کرلینا جائز ہے۔‘‘ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۴۵۰)
قادیانی کا چندہ مسجد میں لگانا
سوال:۔۔۔ اگر کوئی قادیانی مسجد کی تعمیر کے لئے اِینٹیں وغیرہ دے، تو کیا ان اِینٹوں کو مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی چونکہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور مرتد کے حالتِ اِرتداد میں کئے ہوئے تصرفات موقوف ہوتے ہیں، اگر وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے تو حالتِ اِرتداد میں کئے ہوئے اس کے تصرفات صحیح ہوجائیں گے، اور اگر وہ حالتِ اِرتداد میں ہی مرجائے، یا قتل کردیا جائے، یا دارُالحرب چلا جائے تو حالتِ اِرتداد کے تصرفات باطل ہوجائیں گے۔ لہٰذا کسی بھی قادیانی مرتد کی طرف سے دی ہوئی اِینٹیں اور دُوسرا تعمیراتی سامان مسجد میں لگانا جائز نہیں، جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائے۔
قال العلَّامۃ برھان الدین المرغینانی:
’’وما باعہ او اشتراہ او اعتقہ او وھبہ او رھنہ او تصرف فیہ من اموالہ فی حال ردّتہ فھو موقوف فإن اسلم صحت عقودہ، وإن مات او قتل او لحق بدار الحرب بطلت۔‘‘
(الھدایۃ ج:۲ ص:۵۶۸،۵۶۹، کتاب الجھاد، باب المرتد)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۴،۳۳۵)
مسجد کے لئے قادیانی سے چندہ لینا
سوال:۔۔۔ تعمیرِ مسجد کے لئے قادیانی سے چندہ وصول کرنا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ باسم ملھم الصواب! قطعاً حرام ہے، قادیانی زِندیق ہیں، اس لئے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاملہ جائز نہیں۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۲۷؍رجب ۱۳۹۵ھ
(اَحسن الفتاویٰ ج:۶ ص:۴۶۰)
468
مسجد کے لئے قادیانی چندے کا حکم
سوال:۔۔۔ حضور کی خدمتِ اقدس میں دست بستہ عرض ہے کہ اگر کوئی قادیانی، مسجد کے خرج کے واسطے روپیہ وغیرہ دے یا کسی طالبِ علم یا اور شخص کو مکان پر بلاکر کھانا کھلائے، یا بھیج دے، ان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ یا وہ روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ نہ وہ روپے لئے جائیں، نہ کھانا کھایا جائے، اور اس کے یہاں جاکر کھانا سخت حرام ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۲۴ ص:۳۲۸، مسئلہ۱۰۴)
مرتدوں کو مساجد سے نکالنے کا حکم
سوال:۔۔۔ اگر کوئی قادیانی ہماری مساجد میں آکر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے، کیا ہم اس کو اس کی اِجازت دے سکتے ہیں کہ وہ ہماری مسجد میں اپنی مرضی سے نماز پڑھے؟
جواب:۔۔۔ کسی غیرمسلم کا ہماری اِجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٔ نجران کا جو وَفد بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تھا، انہوں نے مسجدِ نبوی ۔۔۔علیٰ صاحبہ الف الف صلوٰۃ وسلام۔۔۔ میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیرمسلموں کا ہے۔(۱) لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوگیا ہو، اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح جو مرتد اور زِندیق اپنے کفر کو اِسلام کہتے ہوں ۔۔۔جیسا کہ قادیانی، مرزائی۔۔۔ ان کو بھی مسجد میں آنے کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۷۱)
دارُالاسلام میں غیرمسلمین کو نئی عبادت گاہ بنانے کی اِجازت نہیں
سوال:۔۔۔ کیا اِسلامی ریاست میں غیرمسلم اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرسکتے ہیں؟ واضح رہے کہ نئی عمارت کی تعمیر مقصود ہے۔ بیّنوا توجروا!
(۱) قال ابن اسحاق: وفد علٰی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم وفد نصَاریٰ نجران بالمدینۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال: لما قدم وفد نجران علٰی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم دخلوا علیہ مسجدہ بعد صلاۃ العصر، فحانت صلاتھم فقاموا یصلون فی مسجدہ فأراد الناس منعھم، فقال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: دعوھم! فاستقبلوا المشرق، فصلوا صلاتھم۔ (زاد المعاد ج:۳ ص:۶۲۹، طبع مؤَسسۃ الرسالۃ بیروت)۔
فصل فی فقہ ھٰذا القصۃ ففیھا جواز دخول اھل الکتاب مساجد المسلمین، وفیھا تمکین اھل الکتاب من صلاتھم بحضرۃ المسلمین وفی مساجدھم ایضًا إذا کان عارضًا ولا یمکنون من إعتبار ذالک۔ (زاد المعاد ج:۳ ص:۶۳۸)۔
(۲) قال تعالٰی: إنما المشرکون نجس ۔۔۔۔۔۔۔۔ فمنع ﷲ المشرکین من دخول المسجد الحرام نصًّا، ومنع دخولہ سائر المساجد تعلیلًا بالنجاسۃ بوجوب صیانۃ المسجد من کل نجس وھٰذا کلہ ظاھر لا خفاء فیہ۔ (احکام القرآن لمفتی محمد شفیع رحمہ ﷲ ج:۲ ص:۹۰۲)۔
ایضًا: الکفر من المرتد اغلظ من کفر مشرکی العرب۔ (الأشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی ج:۲ ص:۲۴۹)۔
ایضًا: والمرتد اقبح کفرًا من الکافر الأصلی۔ (ایضاً حوالہ بالا، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
469
جواب:۔۔۔ الجواب باسم ملھم الصواب! غیرمسلمین کو دارُالاسلام میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اِجازت نہیں، پُرانی عبادت گاہیں باقی رکھ سکتے ہیں۔ ان کی مرمت بھی کرسکتے ہیں، مگر قدیم عمارت پر اِضافہ نہیں کرسکتے۔ اسی طرح ان کا کوئی شہر فتح ہونے کے وقت اس میں اگر کوئی عبادت گاہ ویران تھی تو اسے اَزسرِنو آباد کرنے کی اجازت نہیں۔
قال العلَّامۃ العثمانی رحمہ ﷲ تعالٰی معزیا لأصحاب الحدیث:
’’حدثنا عبدﷲ بن صالح عن اللیث بن سعد حدثنی توبۃ بن النمر الحضرمی قاضی مصر عمن اخبرہ قال قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: لا خصاء فی الإسلام ولا کنیسۃ۔ رواہ ابوعبید فی الأموال وتوبۃ النمر قال الدارقطنی کان فاضلًا عابدًا (تعجیل المنفعۃ) فالحدیث حسن الأسناد مرسل وجھالۃ الصحابی لا تضر واخرجہ البیھقی فی سننہ عن ابن عباس رضی ﷲ عنھما مرفوعًا وضعفہ واخرجہ ابن عدی فی الکامل عن عمر رضی ﷲ عنہ مرفوعًا بإسناد ضعیف (زیلعی) وتعدد الطرق یفید الحدیث قوۃ۔
حدثنی ابو الأسود عن ابن لھیعۃ عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر قال: قال عمر بن الخطاب: لا کنیسۃ فی الإسلام ولا خصاء۔ رواہ ابوعبید ایضًا وسندہ حسن وابو الخیر ھو مرثد بن عبدﷲ الیزنی المصری ثقۃ فقیہ من الثالثۃ (تقریب) ورواہ ابن عدی عن عمر مرفوعًا بلفظ: لا یبنی کنیسۃ فی الإسلام ولا یجد ما خرب منھا (التلخیص الحبیر) وسکت الحافظ عنہ۔
وفی الحاشیۃ وتجدید ما کان خرابا عند الفتح احداث ایضًا فیمنع منہ وھو محمل ما رواہ ابن عدی بلفظ ولا یجدد ما خرب منھا واما ما کان عامرًا عند الفتح وخرب بعدہ فتجد یدہ بناء لما استھدم فاشبہ بناء بعضھا إذا انھدم ورم شعثھا فلا یرد علینا ما اوردہ الموفق فی المغنی ج:۱۰ ص:۶۱۲۔‘‘ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۳۶۸)
وقال فی التنویر:
’’ولا یجوز ان یحدث بِیعۃ ولا کنیسۃ ولا صومعۃ ولا بیت نار ولا مقبرۃ فی دار الإسلام ویعاد المنھدم من غیر زیادۃ علی البناء الأوّل۔‘‘
(رد المحتار ج:۳ ص:۲۹۶، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۴؍صفر ۱۴۰۰ھ
(اَحسن الفتاویٰ ج:۶ ص:۱۹،۲۰)
470
اسلامی مملکت میں غیرمسلموں کی نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا اسلامی مملکت میں غیرمسلموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اِعلانیہ تبلیغ کریں، یا کوئی نئی عبادت گاہ تعمیر کریں، یا اپنے مذہب کے مطابق جملہ رُسومات ادا کرتے رہیں؟
جواب:۔۔۔ ایک اسلامی مملکت میں مسلمان حاکم پر لازم ہے کہ غیرمسلم اقلیت کی جان ومال کا تحفظ کرے، لیکن شریعت نے غیرمسلموں کو یہ اِختیار نہیں دیا کہ وہ بازاروں اور حجروں اور دیگر پبلک مقامات میں اپنے مذہب کا پرچار کریں۔ غیرمسلموں کی عبادت اپنے گھروں اور اپنی قدیم عبادت گاہوں ۔۔۔مندروں، گرجاگھروں اور چرچوں۔۔۔ تک محدود رہے گی۔ اسی طرح غیرمسلم اپنے لئے کوئی نئی عبادت گاہ تعمیر نہیں کرسکتے، اور نہ ہی کوئی نیا قبرستان یا اپنے مُردوں کو جلانے کے لئے کوئی نئی جگہ تعمیر کرسکتے ہیں۔
لما قال العلَّامۃ علاء الدین الحصکفی رحمہ ﷲ:
’’ولا یجوز ان یحدث بِیعۃ ولا کنیسۃ ولا صومعۃ ولا بیت نار ولا مقبرۃ ولا صنَمًا حاوی فی دار الإسلام ولو قریۃ فی المختار۔‘‘
(الدر المختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۳ ص:۲۹۶، کتاب السیر)
تاہم جہاں کہیں غیرمسلموں کی کوئی عبادت گاہ یا قبرستان وغیرہ ان کی کثرتِ آبادی اور مردُم شماری کی زیادت کی وجہ سے ناکافی ہوجائے، تو اس ضرورت کے تحت وہ نئی عبادت گاہ اور قبرستان وغیرہ صرف ایسے دیہاتوں میں تعمیر کرسکتے ہیں جہاں پر جمعہ اور عیدین کی نمازیں نہیں پڑھی جاتی ہوں۔
لما قال العلَّامۃ علاء الدین الکاسانی رحمہ ﷲ:
’’ولا یمکنون من إظھار صلیبھم فی عیدھم لأنہ إظھار شعائر الکفر فلا یمکنون من ذالک فی امصار المسلمین ولو فعلوا ذالک فی کنائسھم لا یتعرض لھم وکذا لو ضربوا الناقوس فی جوف کنائسھم القدیمۃ لم یتعرض کذالک لأن إظھار الشعار لم یتحقق فإن ضربوا بہ خارجًا منھا لم یمکنوا منہ لما فیہ من إظھار الشعائر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وإنما الکنائس والبِیَع القدیمۃ فلا یتعرض لما ولا یھدم شیء فیھا واما احداث کنیسۃ اخریٰ فیمنعون عنہ فبما صار مصرًا من امصار المسلمین۔‘‘ (بدائع الصنائع ج:۷ ص:۱۱۳، ۱۱۴ کتاب السیر)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۲ ص:۳۳۸ تا ۳۴۰)
غیرمسلم متروکہ اراضی پر مسلمان مسجد بنالیں تو وہ شرعاً مسجد ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کمشنری بازار میں ایک پلاٹ سکھوں کی ملکیت تھا، جو انہوں نے گرودوارہ اور شادی گھر، رفاہِ عامہ کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ تقسیم کے بعد بطور مسجد کے مہاجر
471
مسلمانوں نے اس پر نماز پڑھنا شروع کردی۔ اسی دور میں مجاہدِ ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وہاں تقریر بھی ہوئی۔ پھر ۱۹۵۲ء میں اِنتظامیہ نے مرزائیوں کو یہ پلاٹ بطور مسجد کے ناجائز قبضے کے طور پر دے دیا، جبکہ محکمہ متروکہ وقف اَملاک بھی نہیں بنا تھا۔ مگر ۱۹۸۲ء میں انتظامیہ نے مرزائیوں کو نکال دیا، جس کے بعد مسلمانوں نے اس میں نمازیں ادا کیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر مولابخش نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد جو درخواست دی، اس میں تصریح ہے کہ ہم نے ناجائز قبضہ کیا تھا، دراصل یہ مسلمانوں کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے ایک حکم کے ذریعے غیرمسلم متروکہ اوقاف پر تعمیر شدہ مساجد، مدارس، اِمام باڑے اور دِینی اِدارے منتظمین کو دینے کا حکم دیا۔ جس پر چیف سیکریٹری متروکہ اوقاف لاہور پاکستان نے عمل درآمد کرایا۔
اب انتظامیہ (غیرمسلم اوقاف) مسلمانوں کو مسجد کا قبضہ نہیں دے رہی، اور بجائے مسجد کے سی-۴۷۱۲ میں دفتر بنانا چاہتی ہے، جبکہ موقع پر ’’مسجد ختمِ نبوّت‘‘ محراب ومنبر، مینار اور حجرہ سب چیزیں موجود ہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے کہ مذکورہ جگہ اور تعمیر شدہ مسجد شرعاً مسجد ہے یا نہیں؟ نیز محکمہ متروکہ وقف اَملاک کو کیا مداخلت کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
المستفتی: محمد ریاض الحسن گنگوہی
امیر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت
ضلع ڈیرہ اِسماعیل خان
جواب:۔۔۔ وﷲ ھو الملھم للحق والصواب، اما بعد! مسئولہ مسجد، شرعاً مسجد ہے، اس لئے کہ شہر ڈیرہ اِسماعیل خان کی اِبتدائی بنیاد مسلمانوں کی ہی رکھی ہوئی ہے، اور اس کی قدیم سے نسبت اِسماعیل خان نامی شخص کی طرف اس کے بانیٔ اوّل پر دلیل ہے۔ اور اس نوع کے مسائل میں اتنی کچھ ترجیح شرعاً مکمل شہادت ہے۔کما لا یخفٰی علٰی من بہ ممارسۃ فی ضوابط الشرع!
مسلمانوں کے تعمیر کردہ شہروں میں غیرمسلم عبادت گاہوں کی کوئی وجودی حیثیت نہیں، نہ اِبتدائً، نہ بقائً۔
’’امصار المسلمین ثلاثۃ: احدھا ما مصرہ المسلمون کالکوفۃ والبصرۃ وبغداد والواسطۃ فلا یجوز فیھا إحداث بِیعۃ ولا کنیسۃ ولا مجتمع صلاتھم ولا صومعۃ بإجماع اھل العلم۔‘‘ (فتح القدیر ج:۵ ص:۳۰۰، مطبوعہ مکتبہ رشدیہ کوئٹہ، وغیرہ ذالک من کتب المذھب)
تو اس قطعے کی شرعی حیثیت گرودوارہ کی نہ تھی، بلکہ املاکِ مرسلہ میں سے ایک سفید قطعہ غیرمملوکہ کی تھی جو کہ مسلم آبادی دیہہ کے وسط میں واقع تھی، اور ایسے قطعات پر سربراہی مسلم حقوقِ شہریت کے اندر رہتے ہوئے مسلم سرکار حاصل ہے، کما فی کتب احیاء الموات۔
تو اِبتداءً اس قطعے کو مسلمانوں کے جائے نماز مقرّر کرنے میں کوئی شرعی ممانعت نہ تھی، پھر مسلم سرکار کی اس قطعے کی تقرّری برائے مسجد صحیح ہے کہ اسے یہ اِختیار حاصل ہے، اور اس مسجد پر تولیت (سربراہی) جو گورنمنٹ نے غیرمسلموں کو سونپی صحیح نہیں، کالعدم ہے کہ یہ معاملہ گورنمنٹ کے اِختیار سے باہر ہے۔ پھر ۱۹۸۲ء میں جو غیرمسلموں کی مسجد پر تولیت ختم کردی گئی، صحیح ہے،
472
رُجوع الی الاصل ہے کہ غیرمسلم مسجد کی تولیت کا اہل ہی نہیں ہے، التوبہ:۱۶،۱۷، وھٰکذا فی التفاسیر۔
اور اس مسجد پر جو قادیانیوں نے خرچ کیا ہے، اس کی وجہ سے اس خطے کے مسجد ہونے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا، کیونکہ قادیانی ایک ایسا غیرمسلم فرقہ ہے جس کے بنیادی، مذہبی دستور میں مسجد بنانا کارِثواب ہے (قربۃ ہے)، بعینہٖ ایسے جیسا کہ یہودی وعیسائی بیت المقدس پر خرچ کرنا قربت سمجھتے ہیں، یا کفارِ مکہ بیت اللّٰہ شریف پر خرچ کرنا قربت سمجھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ کفار کے حق میں باعثِ اَجر نہیں، لیکن جو شے مسلم اور غیرمسلم دونوں کے نزدیک کارِ ثواب ہے، اس پر غیرمسلم کے خرچ کرلینے سے اس شے کی حیثیت میں فرق نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ بیت اللّٰہ شریف کی کافروں والی تعمیر کو باقی رکھا گیا اور یہی شرعی قانون ہے۔
’’بخلاف الذمی لما فی البحر وغیرہ ان شرط وقف الذمی ان یکون قربۃ عندنا وعندھم کالوقف علی الفقراء او علٰی مسجد القدس۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۹۵، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، وفتاویٰ عالگمیری)
اگر قادیانی غیرمسلم فرقے کے بنیادی عقائد میں اسلامی طرز کی مساجد بنانا قربۃ نہ ہوتی تو پھر اس مسجد کے تعمیری سامان میں قادیانیوں کی خرچ کرنے والے کی ملکیت ہوتی اور وہ اپنی تعمیر کو اُٹھالیتے۔
کما فی العالمگیریۃ:
’’ولو جعل الذمی دارہ مسجدًا۔‘‘ (ج:۲ ص:۳۵۳)
تاہم اس خطہ زمین کا بحق مسجد ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ جعلتہ مسجدًا کہہ دینے سے مسجد ہوجاتی ہے اور یہی معتبر للحکم ہے، بشرطیکہ قائل اس کا اہل ہو، کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ نیز یہ مسجد ظاہری مبینہ طور پر مذہبِ اسلام کے خلاف قلعۂ کفر وکمین گاہ کے طور پر بھی نہ ہو، لہٰذا مسجدِ مسئولہ مسجد ہی ہے کیونکہ اس وقت کی مسلم گورنمنٹ نے مسجد بنوائی تھی نہ کہ کفریہ قلعہ، یہ باعتبار ظاہر کے ہے، اور شرعی اَحکام کا محل ورود بھی ظاہری حالات ہی ہوتے ہیں، واما فی الحقیقۃ فھو ﷲ تعالٰی اعلم!
حررہٗ عبدالرحمن غفرلہٗ
صدر تخصص فی الفقہ
جامعہ قاسم العلوم ملتان
۱۴؍۱۲؍۱۹۸۹ء
الجواب صحیح، کما فی الفتاویٰ دارالعلوم دیوبند وکفایۃ المفتی وعزیزالفتاویٰ وفتاویٰ محمودیہ وغیرہ، فقط!
منظور احمد
نائب مفتی جامعہ قاسم العلوم
۴؍جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰ھ
واقعاتی لحاظ سے جبکہ مسلمانوں کو مسجد کی ضرورت اور انہوں نے اس غیرمملوکہ پلاٹ کو اپنی اِنتہائی ضرورت کو پورا کرنے
473
کے لئے مخصوص کرلیا، اور اس پر باقاعدہ نماز باجماعت ہوتی رہی، اور اس سے رفاہِ عامہ کے مفادات پر کوئی زَد نہیں پڑتی تو شرعی اُصول وقواعد کے مطابق مذکورہ جگہ مسجدِ شرعی بن گئی، لہٰذا اب اسے بدستور مسلمانوں کے لئے مسجد ہی باقی رکھنا ضروری ہے۔ ’’بحرالرائق‘‘ (ج:۵ ص:۲۵۵) میں ہے
’’وفی الخانیۃ طریق بلا عامۃ وھی واسع فبنی فیہ اھل المحلۃ مسجدًا للعامۃ ولا یضر ذالک بالطریق قالوا لا بأس بھا وھٰکذا روی عن ابی حنیفۃ ومحمد ان الطریق للمسلمین والمسجد لھم ایضًا۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور خانیہ میں ہے کہ عوام کا ایک راستہ ہے اور وہ وسیع ہے، محلہ والے اگر اس میں مسجد تعمیر کرلیں اور اس تعمیر سے راستے کی آمد ورفت میں کوئی رُکاوٹ نہ ہو تو فقہاء اس کو جائز سمجھتے ہیں، اِمام ابوحنیفہ اور اِمام محمد رحمہما اللّٰہ تعالیٰ سے بھی یہی مروی ہے کہ راستہ بھی مسلمانوں کا ہے اور مسجد بھی انہیں کی ہے۔‘‘
فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۴۵۶ (مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ) میں مرقوم ہے:
’’ذکر فی المنتقی عن محمد فی الطریق الواسع بنی فیہ اھل المحلۃ مسجدًا وذالک لا یضر بالطریق فمنعھم رجل فلا بأس ان یبنوا۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’منتقیٰ میں اِمام محمدؒ سے روایت ہے کہ ایک وسیع راستہ ہے، محلہ والوں نے اس میں مسجد تعمیر کرلی اور راستے کی آمد ورفت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو اگر کوئی شخص منع بھی کرے تب بھی مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
’’فتاویٰ حمادیہ‘‘ (ج:۱ ص:۳۴۸) میں ہے:
’’من الغیاثیۃ فھو لاھل قریۃ فأراد جماعۃ ان یبنوا علیہ مسجدًا فلا بأس بہ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’فتاویٰ غیاثیہ میں ہے کہ کسی گاؤں کی نہر ہے، ایک جماعت اس کے اُوپر ایک مسجد تعمیر کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘
جزئیاتِ بالا کے تحت جب یہ جگہ مسلمانوں کی مسجد بن چکی تو اَب احمدی فرقے کا ناجائز طور پر اپنے حق میں الاٹ کرانا، یا اپنا معبد بنانا جائز نہ تھا۔ اور پھر خصوصاً جبکہ اِنتظامیہ نے ۱۹۸۲ء میں انہیں ناجائز قابض سمجھتے ہوئے بے دخل کردیا اور قبضہ کسی اور کو دِلادیا۔ پھر اس کے بعد ۱۹۸۹ء کے آخر تک اس پر مسجد ختمِ نبوّت کا بورڈ آویزاں رہا ہے، تو اَب حق یہی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں اس کی وہی اوّلین پوزیشن یعنی مسجد والی بحال رہنی چاہئے۔ تفصیلِ بالا سے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی قانونی موشگافی سے اس کی مسجدیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا اور اسے دفتری مقاصد کے لئے اِستعمال کرنا دُرست نہ ہوگا۔ مروّجہ قانون کے مطابق اس کی الاٹمنٹ
474
وغیرہ میں اگر کوئی قانونی کمی ہو تو اس کا اِزالہ کردیا جائے، نہ یہ کہ اس کی مسجدیت کو ہی ختم کردیا جائے۔
فقط واللّٰہ اعلم
احقر محمد انور عفا اللّٰہ عنہ
مفتی جامعہ خیر المدارس ملتان
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
محمد صدیق غفر لہٗ |
|
رئیس دارالافتاء جامعہ خیرالمدارس ملتان |
مدرّس وناظمِ اعلیٰ جامعہ خیرالمدارس ملتان |
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
بندہ محمد عبداللّٰہ عفا اللّٰہ عنہ |
محمد حنیف جالندھری |
|
نائب مفتی خیر المدارس ملتان |
مہتمم جامعہ خیرالمدارس ملتان |
(خیر الفتاویٰ ج:۲ ص:۷۹۸ تا ۸۰۲)
✨ 🌟 ✨
475
بابِ دوم
اِمامت اور جماعت کے متعلق اَحکام
منکرِ رِسالت کی نجات کا عقیدہ رکھنے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ زید، توحید ورِسالت اور جمیع ضروریاتِ دِین کو تسلیم کرتے ہوئے اور عمل کرتے ہوئے یہ عقیدہ بھی رکھتا ہے کہ جو شخص صرف توحید کا قائل ہو اور رِسالت اور قرآن کو نہ مانتا ہو، وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا، بلکہ آخر میں اس کی بھی مغفرت ہوجائے گی۔ زید کو اِمام بنانا جائز ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۹۲ محمد اِبراہیم خاں، ضلع غازی پور
۹؍رجب ۱۳۵۲ھ موافق ۳۰؍اکتوبر ۱۹۳۳ء
جواب:۔۔۔ جو شخص آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت کو نہ مانے اور قرآن مجید کو اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب تسلیم نہ کرے، وہ جماہیر اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا ازکی السلام والتحیۃ۔۔۔ کے نزدیک ناجی نہیں ہوگا، ایسا شخص جو اس کی نجات کا عقیدہ رکھتا ہو، اس کو اِمام بنانا جائز نہیں ہے۔(۱)
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۳ ص:۴۰)
اپنے کو مرزائی کہنے والے کی اِمامت
سوال۱:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک اِمامِ مسجد جس نے گزشتہ دنوں اپنے مقتدیوں کے سامنے اعلان کیا کہ: ’’میں مرزائی ہوگیا ہوں، میرا مسلک وہی ہے جو مرزائیوں کا ہے۔‘‘ اب اِمامت بھی کر رہا ہے اور توبہ نامہ تحریری کسی عالم کے پاس جاکر تائب ہونے کا اس کے کوئی ثبوت نہیں ہے، کیا ایسے اِمام کے پیچھے نماز جائز ہے؟ شرعاً وہ اِمام مسلمان ہے؟
۲:۔۔۔ شیعہ حضرات میں سے کسی نے صف خرید کر سنیوں کی مسجد میں ڈال دی۔ کچھ لوگ اِعتراض کر رہے ہیں کہ شیعہ حضرات صحابہ کرامؓ کو بُرا کہتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں، اس لئے ان لوگوں کا ہماری مسجد پر پیسہ لگانا ناجائز ہے۔ سنیوں کی مسجد پر پیسہ خرچ کرنے والا کہتا ہے کہ میں صحابہؓ کو گالیاں نہیں دیتا ہوں، بلکہ صحابہ کی تعریف کرتا ہوں اور مدح کا قائل ہوں۔ دلائل سے روشنی ڈالیں۔
(۱) وإن انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا ۔۔۔۔۔۔ فلا یصح الإقتداء أصلًا۔ (الدر المختار ج:۱ ص:۵۶۱، باب الإمامۃ، طبع سعید کراچی)۔
476
۳:۔۔۔ کنجر جس کی آمدنی قطعی طور پر حرام کی ہے، وہ رقم مسجد پر لگ سکتی ہے؟ دلائل سے واضح فرمائیں۔ جس مسجد میں پانچوں وقت کی نماز باجماعت نہ ہوتی ہو، اس مسجد میں نمازِ جمعہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب۱:۔۔۔ اس اِمام کے بارے میں تحقیق کی جائے، اگر واقعی اس نے مرزائیوں والے عقیدے اِختیار کرلئے ہوں تو جب تک وہ توبہ تائب نہ ہو، اس کی اِمامت جائز نہیں ہے۔
۲:۔۔۔ اگر واقعی یہ شیعہ سنیوں جیسا عقیدہ رکھتا ہو اور صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو بُرا یاد نہ کرتا ہو، جیسا کہ وہ کہتا ہے، تو اس کی خرید کردہ صف پر نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ مالِ حلال سے خرید کی ہو۔ حرام مال مسجد پر صَرف کرنا جائز نہیں،لحدیث: ’’إنّ ﷲ طیب لا یقبل إلَّا طیّبًا‘‘ (مشکوٰۃ ص:۱۶۷، باب فضل الصدقۃ)۔
۳:۔۔۔ ایسی مسجد میں نمازِ جمعہ جائز ہے، بشرطیکہ جمعہ کے دیگر شروط پائے جائیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس مسجد کو پانچ وقتہ نماز کے ساتھ آباد کریں۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ محمود ج:۲ ص:۵۷، ۵۸)
قادیانی کی اِمامت دُرست نہیں ہے
سوال:۔۔۔ فرقہ قادیان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ دُرست نہیں ہے، کیونکہ ان کے کفر پر فتویٰ ہے، فقط الدر المختار، باب للإمامۃ ج:۱ ص:۴۱۵ (طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۲۱۰)
قادیانی کی اِمامت دُرست ہے یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ جو لوگ مرزاقادیانی کے مرید ہوں، یا اس کو اچھا سمجھتے ہوں، ان کی اِمامت جائز ہے یا نہیں؟ ان کے پیچھے ادا کردہ نماز کا اِعادہ واجب ہے یا کچھ؟
جواب:۔۔۔ جائز نہیں، فتاویٰ شامی، باب الإمامۃ ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۲۲۵)
قادیانی کی اِمامت
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہئے، فتاویٰ شامی، باب الإمامۃ ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۳۱۰)
دِین دار انجمن کا اِمام کافر، مرتد ہے، اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی
سوال:۔۔۔ نیوکراچی میں قادیانیوں کی عبادت گاہ ’’فلاحِ دارین‘‘ میں ’’دِین دار جماعت‘‘ کا قادیانی یاسین پیش اِمام
477
ہے، جو بہت چالاک، جھوٹا، مکار اور غاصب ہے۔ اس نے مکاری سے کئی کوارٹر حاصل کر رکھے ہیں، کئی غریب اور کمزور لوگوں کے کوارٹروں پر خود قبضہ کر رکھا ہے، اور کئی غریب اور کمزور لوگوں کے کوارٹروں کے تالے توڑ کر اپنے پالتو بدمعاشوں کا قبضہ کروا رکھا ہے، اور کئی مسلمانوں کو دھوکا دے کر مسجد کے نام سے رقم وصول کی اور مسجد میں لگانے کے بجائے اپنے گھر میں خرچ کی، اور اپنے پالتو بدمعاشوں کی سرپرستی اور عیاشی پر خرچ کی۔ براہِ کرم آپ یہ بتائیں جن لوگوں نے لاعلمی میں مسجد کے نام پر اس کو رَقم دی اس کا ثواب ان کو ملے گا یا وہ رقم برباد ہوگئی؟ اور ہمارے محلے کے کچھ لوگ لاعلمی میں اس کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، جب ان کو اس کے قادیانی ہونے کا علم ہوا تو نماز چھوڑ دی اب لوگ قریبی بلال مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں جو نمازیں ہم لوگ اب تک قادیانی یاسین کے پیچھے لاعلمی میں پڑھ چکے ہیں، وہ نمازیں ہوگئیں یا ان کی قضا کرنا پڑے گی، یا کوئی اور طریقہ ہے؟
جواب:۔۔۔ ’’دِین دار انجمن‘‘ قادیانیوں کی جماعت ہے، اور یہ لوگ کافر ومرتد ہیں۔ کسی غیرمسلم کے پیچھے پڑھی گئی نماز اَدا نہیں ہوتی۔ جن لوگوں نے غلط فہمی کی بنا پر یاسین مرتد کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، وہ اپنی نمازیں لوٹائیں، اور مسلمانوں کو لازم ہے کہ ’’دِین دار انجمن‘‘ کے افراد جہاں جہاں مسلمانوں کو دھوکا دے کر اِمامت کر رہے ہوں، ان کو مسجد سے نکال دیں، ان کی تنظیم کو چندہ دینا اور ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۵،۲۳۶)
مرزائیوں کو کافر نہ سمجھنے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص اپنے آپ کو اہلِ سنت والجماعت کہے اور ظاہراً نمازیں پڑھتا ہو اور روزے رکھتا ہو اور شکل مسلمانوں والی ہو، اور حافظِ قرآن ہو اور دیوبندی ہو، لیکن مرزا ملعون اور اس کے متبعین کو کافر نہ کہے، بلکہ اصلی مسلمان سمجھے، اور اس کے گھر سے شادی کی ہو، اور اس کے ساتھ تعلق اور برت برتاؤ ہو۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل ہو، اور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جسمانی معراج کا منکر ہو، اور شفاعت اور کرامتِ اولیاء اللّٰہ کا منکر ہو، آیا ایسے عقیدے والا شخص عنداللّٰہ شریعتِ محمدیہ میں مسلمان ہے یا کافر ہے؟ اور اس کے پیچھے نمازِ جمعہ وعید وغیرہ پڑھنی دُرست ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۲۱۶۴ خلیل الرحمن، منڈی بہاء الدین
۲۸؍شوال ۱۳۵۶ھ موافق یکم جنوری ۱۹۳۸ء
جواب:۔۔۔ جو شخص مرزا اور مرزائی جماعت کو کافر نہ سمجھے، اور مرزائیوں سے رِشتہ ناتا رکھتا ہو، اور وفاتِ عیسیٰ کا قائل ہو، اور معراجِ جسمانی کا منکر ہو، اور شفاعت کا منکر ہو، وہ گمراہ اور بددِین ہے، اس کی اِمامت جائز نہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ، دہلی
(کفایت المفتی ج:۳ ص:۷۱،۷۲)
قادیانی کو مسلمان کہنے والے کی اِمامت
سوال:۔۔۔ جس شخص کا عقیدہ حسبِ ذیل ہو، اس کو اِمام بنانا کیسا ہے؟
’’تقلید ناجائز اور بدعت ہے، مرزائی اور مرزا مسلمان ہیں، مقلدوں کا مذہب قرآن میں نہیں۔ ‘‘
478
ایسے شخص کو اِمام بنانا اور ترجمہ قرآن شریف اس سے پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ ایسے شخص کو اِمام بنانا جس کے عقائد سوال میں درج کئے ہیں، دُرست نہیں ہے، اور اس سے ترجمہ قرآن شریف بھی نہ پڑھنا چاہئے، فقط۔ الدر المختار، باب الإمامۃ ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵ (طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۱۰۶)
قادیانی سے لڑکی کی شادی کرنے والے کی اِمامت
سوال:۔۔۔ جس کا داماد احمدی ہو، اور وہ اس سے تعلق رکھے، اس کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ وہ شخص لائق اِمام بنانے کے نہیں ہے، تاوقتیکہ اس کا داماد توبہ وتجدیدِ اِیمان کرکے دوبارہ نکاح نہ کرے، یا وہ شخص اپنی دُختر کو اس سے علیحدہ کردے، فقط۔ الدر المختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵، باب الإمامۃ (طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(احمدی (قادیانی) متفقہ طور پر کافر ہیں، لہٰذا اس سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز نہیں ہے، اور نہ اس سے اپنا دِینی تعلق ہی قائم رکھنا دُرست ہے۔ ظفیر)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۱۴۲)
لاہوری مرزائی کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ کل مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۷۳ء بوقت سواچار بجے دِن سابق اِمام مسجد ووکنگ مسجد محمد طفیل ایم اے متعلقہ مرزائی فرقہ لاہوری کی ساس کا جنازہ مسجدِ ھٰذا میں لایا گیا، اور یہاں کے سرکاری اِمام خواجہ قمرالدین نے جو کہ اپنے آپ کو اہلِ سنت والجماعت ظاہر کرتے ہیں، مرزائی سابق اِمام محمد طفیل کی اِقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی۔ جب چند معزّزین نے اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمرالدین سرکاری اِمام ووکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لئے جنازے میں شرکت کی ہے کیونکہ مرزا محمد طفیل بسااوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں۔ اور دُوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد کو صرف مجدّد تسلیم کرتے ہیں، اور ہم کو کافر نہیں کہتے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرماکر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتویٰ سے کماحقہ‘ مطلع فرمادیں۔
دستخط کنندگان عینی شاہد:۔۔۔ صابر حسین، محمد شریف، عبدالرحمن، ملک احمد خان سکنائی لنڈن، ووکن مسجد وہ مسجد ہے جس پر مرزائیوں نے پچاس سال غاصبانہ قبضہ رکھا، مولانا لال حسین مرحوم کے تبلیغی دورے کے وقت آج سے پانچ برس قبل اہلِ اسلام کو دوبارہ قبضہ ملا۔ حاجی محمد اشرف گوندل، لنڈن، انگلینڈ
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٔ نبوّت اس کی کتابوں سے ظاہر ہے، اور تواتر سے ثابت ہے۔ مدعیٔ نبوّت کو
479
مجدّد تسلیم کرنا تو کجا، اسے مسلمان خیان کرنا بھی کفر ہے۔(۱) ختمِ نبوّت کا عقیدہ اِسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، جس پر قرآن وسنت سے قطعی دلائل علمائے اُمت نے پیش کئے ہیں۔ مسئلہ بہت واضح ہے، علمائے اُمت کا اس پر اِجماع ہے۔
بنابریں اگر ثابت ہوجائے کہ ووکنگ مسجد کا سرکاری اِمام خواجہ قمرالدین، لاہوری مرزائیوں کو ۔۔۔جو مدعیٔ نبوّت مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدّد مانتے ہیں۔۔۔ مسلمان یقینا کرتا ہے، تو وہ خود دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔(۲) مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی اِقتدا میں نماز نہ پڑھیں، اور اسے ووکنگ مسجد کی اِمامت سے فوراً علیحدہ کردیں۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۴؍رمضان ۱۳۹۳ھ،
مطابق ۲۲؍اکتوبر ۱۹۷۳ء
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۱۹۹، ۲۰۰)
مرزائی سے تنخواہ لے کر اِمامت کرنا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین کہ یہاں ہمارے شہر میں ایک کپڑے کا کارخانہ ہے، جس کا مالک مرزائی ہے، کارخانے کے قریب جتنی مسجدیں آباد ہیں، ان کے اِماموں کی تنخواہ کارخانۂ ھٰذا دیتا ہے، وہ اس طرح کہ ہر روز اِمام صاحب کارخانۂ ھٰذا کے دفتر میں حاضری دے دیتے ہیں، اور یہی مل مالک ایک جامع مسجد بھی تیار کر رہا ہے، جیسے مظفرآباد میں ہوچکی ہے، آپ فوراً جواب دیجئے کہ اِمام کو کارخانے کی روزانہ حاضری کی شرط پر تنخواہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہ؟ اور تعمیرِ مسجد مرزائی کرائے تو ہم اس میں نماز اَدا کریں یا نہ؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ اگر یہ اِحتمال ہو کہ اِمامِ مسجد اس مرزائی کا ممنون ہوکر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت یا ان کی خاطر اپنے مذہبی شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے تو اس وقت ان اِماموں کے لئے مرزائی سے تنخواہ لینا ٹھیک نہیں۔ نیز تعمیرِ مسجد میں بھی ان اُمور کا خاص خیال رکھا جائے گا، اگر یہ مذکورہ بالا اِحتمال ہو۔ یعنی اگر کوئی مرزائی کی بنوائی ہوئی مسجد میں نماز پڑھے اور اس پر مرزائی اِحسان رکھے، یا اس تعمیرِ مسجد کے ذریعے اہلِ اسلام کو اپنے دِین کی طرف مائل کرنا چاہے تو اس میں نماز پڑھنا دُرست نہیں ہے، اگر یہ اِحتمال نہ ہو، تو دُرست ہے۔ الغرض کافر کا اِحسان اہلِ اسلام پر جائز نہیں، مسلمان اس اِحسان کو ہرگز نہ اُٹھائیں، ولا یجوز ان یصیر الکافر صاحب المنّۃ علی المسلمین۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۴۵۵)
اِمام کا مرزائی سے تنخواہ لینے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک مسجد میں ایک مولوی صاحب اِمامت کرتے ہیں، اور اس
(۱،۲) فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإسلام وکذا من لم یقل بکفرہ وإرتدادہ وظنہ ولیًّا او مجدّدًا او مصلحًا فإنہ کذّاب دجّال قد افتری علی ﷲ ورسولہ کذبًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۷ طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
480
کی ماہوار تنخواہ مرزائی ادا کرتا ہے، کیا مرزائی سے چندہ لینا دُرست ہے یا نہ؟
جواب:۔۔۔ نظرًا إلٰی بعض العوارض کالإحسان علٰی اھل الإسلام من اھل الکفر ۔ یعنی بوجہ اِحتمالِ اِحسان علی المسلمین فی اَمر الدین کے مرزائی کا چندہ یا تنخواہ لینا دُرست نہیں۔ نیز یہ بھی اِحتمال ہے کہ اہلِ اسلام ان کے ممنون ہوکر ان کے مذہبی شعائر میں شرکت یا ان کی خاطر سے اپنے شعائر میں مداہنت کرنے لگیں گے۔ اس لئے مرزائی کی تنخواہ قبول کرنا مناسب نہیں۔فإن الإسلام یعلو ولا یعلٰی (کنز العمال ج:۱ ص:۶۶ حدیث:۲۴۶)۔ والید العلیا (المعطیۃ) خیر من الید السفلٰی (السائلۃ والآخذۃ) (مشکوٰۃ ص:۱۶۲، باب من لا تحل لہ المسئلۃ)۔ مسلمانوں کو چاہے کہ خود اپنی حلال کمائی سے چندہ کریں، اِمام کی تنخواہ ادا کریں، اور مسجد کے اِنتظام کے لئے خود کمیٹی مقرّر کریں، اور اس مرزائی سے بیزاری اِختیار کریں۔ اس سے جو تیری نافرمانی کرے (ترجمہ) دُعائے قنوت پر عمل کرتے ہوئے ان سے دُور رہیں۔
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۲)
مرزائی کا نکاح پڑھانے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین دریں مسئلہ کہ زید خطیب واِمام ہے قوم کا، اور اس کو سردارپور میں مقتدا سمجھا جاتا ہے، اور قصبہ سردارپور میں ایک مرزائی قادیانی آدمی رہتا ہے۔ وہ نہری محکمے میں افسر ہے، اس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا ہے، خدا جانے وہ عورت کس قسم کی ہے؟ زید مذکورہ معہ چند چیدہ مسلمانوں کے اس مجلس میں شریک ہوکر نکاح خواں بنا ہے اور دس روپے عوض بھی وصول کیا ہے، اور مٹھائی وچائے بھی تناول کی۔ اب مسلمانوں کو بڑی پریشانی ہے کہ ہمارے مقتدا صاحب نے کیا کیا ہے؟ لہٰذا شریعتِ صافیہ کے مطابق جواب عنایت فرماویں جو ممانعت ہو اور جس قسم کا گناہ ہو اور جو تعزیر مناسب ہو۔ پوری تفصیل سے جواب فرمادیں۔ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزائی بالاجماع دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے نکاحوں میں شریک ہونا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں، چہ جائیکہ خطیبِ قوم ان کے نکاح میں شرکت کرے یا ان سے میل جول رکھے۔ بوجوہ مذکورہ جب خطیب کا فسق متیقن ہوجائے تو اس کی اِمامت ناجائز ہے اور اس کا عزل مسلمانوں پر لازم ہے۔ عامۃالمسلمین پر لازم ہے کہ اس کی تعظیم نہ کریں اور تعلقات اس سے منقطع کرکے اسے توبہ کرنے پر مجبور کریں۔ اس کی اِمامت اور تعظیم کے بارے میں حوالہ ذیل شامی کا ملاحظہ ہو، ردالمحتار (ج:۱ ص:۴۱۴) میں لکھا ہے:
’’فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ (ای فاسق) بأنہ لا یتھم لأمر دینہ وبأنّ فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا۔‘‘
واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم واحکم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۲،۵۳)
481
مرزائی متولّی کی ولایت میں اِمامت دُرست نہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرمات ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اندریں مسئلہ کہ ایک جگہ نماز پڑھانی ہے، نماز پڑھنے والے تو سب اہلِ سنت والجماعت ہیں، لیکن جو آدمی تنخواہ دیتا ہے اور جس کے اِختیار میں اِمام مقرّر کرنا اور ہٹانا ہے، وہ ایک مرزائی ہے، جو اپنی گرہ سے رقم دیتا ہے، اور جو اِمام رکھتا ہے اس کو یہ حکم دیتا ہے کہ کوئی اِختلافی مسئلہ نہ بیان کرنا۔ اس حکم سے اصل مقصد اس کا یہ ہے کہ مرزائیوں وغیرہ کو کچھ نہ کہنا۔ اب دریافت طلب یہ اَمر ہے کہ مذکورہ بالا قسم کی اِمامت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی شرط کے موافق کوئی اِختلافی مسئلہ نہ بیان کرنا خواہ وہ مسئلۂ ختمِ نبوّت کیوں نہ ہو، یہ کتمانِ حق ہے یا نہیں؟ بیّنوا بالکتاب وتوجروا یوم الحساب!
جواب:۔۔۔ مرزائی چونکہ بالاتفاق مرتد اور خارج اَز اِسلام ہیں، اس لئے ان سے عقدِ اِجارہ کرنا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ ان کا اِحسان لینا مسلمان کے لئے خلافِ مروّت ہے، جس سے بچنا لازم ہے، اور کتمانِ حق بہت بڑا گناہ ہے، اس لئے اس صورت میں اِمامت کرنا جائز نہیں ہے۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مدرسہ قاسم العلوم ملتان شہر
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۷)
مرزائی سے تعلق رکھنے والے کی اِمامت
سوال:۔۔۔ اگر کوئی مرزائی مسجد کے حجرے میں اِمامِ مسجد کے پاس بیٹھ کر نمازیوں میں نفاق پیدا کراکر گروہ بندی کرائے اور اِمام جو اس کی باتوں پر عمل کرتا ہے، نمازیوں کے روکنے پر بھی نہ مانے تو ایسا اِمام مسجد میں رکھنے کے لائق ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اِمامِ مذکور سے صاف کہا جائے کہ اگر تو نے مرزائی کے ساتھ تعلق اور رَبط رکھا اور اس کو اپنے پاس رکھا تو تجھ کو اِمامت سے علیحدہ کردیا جائے گا۔ اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس کو اِمامت سے علیحدہ کردیا جائے، الدر المختار ج:۱ ص:۴۱۴، ۴۱۵، باب الإمامۃ (طبع مکتبہ رشیدیہ)۔ اور اس مرزائی کو مسجد کے حجرے میں نہ رکھا جائے، فوراً نکال دیا جائے، فقط۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۳ ص:۱۸۱،۱۸۲)
مرزائیوں سے میل ملاپ والے کی اِمامت
سوال۱:۔۔۔ ایک بستی کے مسلمانوں نے ایک شخص کو اِمام بنایا، پھر اِمام کے حالات خراب ہوگئے، لوگ شک کی نظر سے دیکھنے لگے، اور علاوہ ازیں اِمامِ مذکور کا مرزائیوں کے ساتھ بہت میل ملاپ ہے، ایسا کئی دفعہ عید کے موقع پر بستی کے شریف مسلمانوں نے اپنا اِمام اور مقرّر کرلیا۔ کیا اِمامِ اوّل کو اِمامت سے ہٹانا اور دُوسرا مقرّر کرنا دُرست ہے۔
۲:۔۔۔ کوئی مسلمان کہلانے والا شخص کسی مسجد کے مالک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ اِمامِ اوّل اس مسجد کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
۳:۔۔۔ کیا کسی بستی کے اکثر مسلمان بستی کی کچی مسجد کو گراکر اس جگہ پر پہلے کی نسبت مضبوط اور پختہ مسجد بنواسکتے ہیں؟
482
۴:۔۔۔ اگر کوئی اِمامِ مسجد جس کا کریکٹر (چال چلن) خراب ہو، اور مرزائیوں کے ساتھ سخت میل جول رکھتا ہو، وہ بلاثبوت مسجد کے متولّی ہونے کا دعویٰ کرے تو شریف اہلِ محلہ اس کو اِمامت اور خودساختہ تولیت سے ہٹاسکتے ہیں؟
المستفتی نمبر۲۱۹۵: قاضی محمد شفیع صاحب، لاہور
۱۸؍ذیقعدہ ۱۳۵۶ھ-۱۸؍جنوری ۱۹۳۸ء
جواب۱:۔۔۔ ان حالات میں پہلے اِمام کو علیحدہ کردینا، اور دُوسرا اِمام مقرّر کرلینا جائز ہے۔
۲:۔۔۔ مسجد کا مالک کوئی نہیں ہوسکتا۔ ہاں! متولّی کو تولیت کے اِختیارات حاصل ہوتے ہیں، مگر ملکیت کا دعویٰ کوئی نہیں کرسکتا۔
۳:۔۔۔ ہاں! بستی والوں کو یہ حق ہے کہ وہ کچی مسجد کو پختہ بنانے کے لئے گرادیں اور پختہ بنالیں۔
۴:۔۔۔ اِستحقاقِ تولیت کا ثبوت نہ ہو تو متولّی ہونے کے مدعی کو ہٹایا جاسکتا ہے، بالخصوص جبکہ اس کے حالات بھی صلاحیت کے خلاف ہوں۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۳ ص:۷۳،۷۴)
مرزائیوں سے تعلقات رکھنے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعی متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص اِمامِ مسجد ہے اور اس کے اِعتقادات علمائے دیوبند کی طرح ہیں، مگر اس کے رشتہ دار مرزائی ہیں، جن کے ساتھ اس مولوی اِمام کا کھانا پینا، اُٹھنا بیٹھنا عموماً ہوتا رہتا ہے۔ اب آیا اس مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی دُرست ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزائی مرتد ہیں، اسلام سے خارج ہیں،(۱) اسلام سے خارج ہوجانے کے بعد ان سے سارے رِشتے ٹوٹ جاتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ تعلقات رکھنا، رشتہ ناتہ کرنا ناجائز ہے۔(۲) اگر سوال میں مذکورہ صورتِ حال صحیح ہے تو مولوی صاحب مذکور کو لازم ہے کہ اس سے توبہ کرے،(۳) ورنہ اس کو اِمامت سے معزول کردیا جائے۔
واللّٰہ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۷؍ذُوالقعدہ ۱۳۷۲ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۴،۵۵)
(۱)إذا لم یعرف ان محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب المرتد، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
ایضًا: وإن انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ج:۱ ص:۵۶۱، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۲)قال تعالٰی: ’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
(۳)ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤْمر بالتوبۃ والإستغفار وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجھاد، باب المرتد، طبع سعید)۔
483
مرزائیوں سے تعلق رکھنے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین:
۱:۔۔۔ ایسے عالمِ دِین کے بارے میں جو ایک مرکزی جامع مسجد کا خطیب ہو، اور تنخواہ دار ہو، مرزائیوں کے ساتھ پُرتپاک انداز میں ملتا جلتا ہو، بڑی عزّت اور اِحترام بجالاتا ہو۔ جب موصوف سے عرض کرتے ہوئے دریافت کیا گیا ہو کہ آپ کا دُشمنِ ختمِ نبوّت سے اس انداز میں میل جول رکھنا عوام کے لئے نہایت ناپسندیدہ وناگوار ہے۔ تو جواباً کہتا ہے کہ: ’’ہم علماء کے لئے ایسا کرنا جائز ہے، اور عوام کے لئے جائز نہیں۔‘‘ کیا ان کا یہ جواب دُرست ہے؟ اگر نہیں تو خدا کے لئے شرعی دلائل سے فتویٰ فرماکر مشکور فرماویں۔
۲:۔۔۔ تنخواہ دار عالمِ دِین کے لئے فتویٰ لکھ کر دینے کی فیس لینی جائز ہے؟
۳:۔۔۔ آیا ایسے عالمِ دِین کے لئے بازار میں چلتے پھرتے چیز کھانا جائز ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایسے اِمام کی اِمامت میں نماز اَدا کرنی جائز ہے؟ لہٰذا عرض ہے کہ اَزراہِ کرم شرعی دلائل سے فتویٰ صادر فرماکر مشکور فرمائیں تاکہ عوام کی عبادت میں فرق نہ آئے۔
جواب۱:۔۔۔ اگر یہ عالمِ دِین مستقل طبیعت کا پختہ کار عالم ہے اور وہ اپنے اخلاق کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت کرتا ہے، اس کے لئے برتاؤ سے منکرِ ختمِ نبوّت متأثر ہوکر صحیح العقیدہ بن سکتا ہے تو جائز ہے اور یہ رویہ اس کا دُرست ہے، ورنہ نہیں۔
۲:۔۔۔ اگر تنخواہ فتویٰ نویسی کی لیتا ہے تو فتویٰ نویسی کی فیس جائز نہیں ہے۔ اور اگر تنخواہ کسی دُوسرے عمل کی ہے، اور اس کے علاوہ اپنے مخصوص اوقات میں فتویٰ نویسی کرتا ہے تو فیس لینا جائز ہے۔
۔۔۔ بازار میں چلتے پھرتے کھانے کی عادت غلط اخلاق کی علامت ہے، مروّت کے خلاف ہے، اِمام کو ایسی عادت ترک کرنی چاہئے۔ اگر ترک نہ کرے تو کسی ایسے شخص کو جو زیادہ باوقار اور بااَخلاق ہو، اِمام بنالیا جائے، لیکن اس کے باوجود بھی اس کے پیچھے نماز جائز ہے۔
واللّٰہ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۸،۵۹)
مرزائیوں کے رکھے ہوئے اِمام کے پیچھے نماز کا حکم
سوال:۔۔۔ کارخانے میں ایک مسجد ہے، جس کی سرپرستی فرقہ مرزائیہ لاہوری پارٹی کو حاصل ہے، ان کی جانب سے باتنخواہ اِمام مقرّر ہے، ایسے اِمام کی اِقتدا میں نماز پڑھنا دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر اِمام کے عقائد اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کے مطابق ہیں تو اس کی اِقتدا میں نماز پڑھنا دُرست
484
ہے۔ اہلِ سنت پر لازم ہے کہ مسجد کا اِنتظام اپنے ذمے لے لیں۔
|
الجواب صحیح |
فقط واللّٰہ اعلم |
|
بندہ محمد عبداللّٰہ غفرلہٗ |
بندہ اصغر علی غفرلہٗ |
|
مفتی خیرالمدارس ملتان |
نائب مفتی خیرالمدارس ملتان |
(خیرالفتاویٰ ج:۲ ص:۳۷۴)
مرزائیوں کے خلاف تحریک میں جیل جانے کے بعد معافی پر رہائی حاصل کرنے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ہمارے چک کے اِمامِ مسجد صاحب جو کہ عالم فاضل ہیں، اور ان میں اِمامت کی صلاحیت بھی ہے، مظاہرالعلوم سہارن پور کے مستند بھی ہیں، وہ تحریکِ خلافِ مرزائیت ستر میں رضاکاروںں کے ساتھ جیل میں گئے تھے، پھر وہ معافی مانگ کر باہر آگئے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار تھا اور بیماری کی وجہ سے میں معذور تھا۔ اب چند لوگوں کو یہ بہانہ مل گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ دریافت طلب یہ اَمر کہ جن لوگوں نے معافیاں مانگی تھیں، وہ مسلمان ہیں یا نہیں؟ اور ان کی اِمامتِ نماز شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر اِمامِ مذکور میں اور کوئی خلافِ شرع باتیں نہ ہوں تو اس کی اِقتدا میں نماز پڑھنا دُرست ہے۔ فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۱۷۵)
مرزائیوں کے لئے اِمام بننے کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک گاؤں میں تین مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ شیعہ، مرزائی، اہلِ سنت والجماعت، مگر اِمام حنفی عقیدہ رکھتا ہے، یعنی اہلِ سنت والجماعت ہے۔ کیا وہ اِمام ہر سہ مذہب کے لوگوں کی اِمامت کرسکتا ہے اور ان کی شادی، غمی ودیگر مواقع پر شریک ہوسکتا ہے یا نہیں؟ جواب بہ سند ہو، مرزائی وشیعہ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانے میں اِستعمال کرنا اِمام کے لئے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! شیعہ اور مرزائی اپنے مذہب والوں سے خود دریافت کریں گے کہ حنفی اِمام کے پیچھے ان کی نماز دُرست ہے یا نہیں؟ آپ کو ان کی کیا فکر پڑی؟ اور وہ آپ کے مذہبی مسائل کو تسلیم ہی کب کریں گے؟ علمائے اہلِ سنت والجماعت کے فتویٰ کے مطابق مرزائی عقیدے والے کافر ہیں، ان کی شادی غمی میں شرکت، ان کی میّت پر نمازِ جنازہ، ان کے اِمام کا اِقتدا کرنا وغیرہ جملہ اُمور ناجائز وممنوع ہیں، ان کا ذبیحہ بھی ناجائز ہے۔ شیعہ کا جو فرقہ نصوصِ قطعیہ کا منکر ہے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اور جو فرقہ نصوصِ قطعیہ کا منکر نہیں وہ کافر نہیں، اس کا ذبیحہ دُرست ہے۔ لیکن حتی الوسع اِختلاط اس سے بھی نہیں چاہئے کہ فسادِ عقائد کا قوی اندیشہ ہے۔
’’نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیّدۃ عائشۃ رضی ﷲ عنھا او انکر صحبۃ الصدیق
485
رضی ﷲ عنہ او اعتقد الاُلوھیۃ فی علی رضی ﷲ عنہ او ان جبریل علیہ السلام غلط فی الوحی او نحو ذالک من الکفر الصریح المخالف للقرآن اھـ۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۲۱، طبع مکتبہ رشیدیہ)
’’ومنھا ای من شرائط الذکاۃ ان یکون مسلمًا او کتابیًّا فلا تؤْکل ذبیحۃ اھل الشرک والمرتد اھـ۔‘‘
(ھندیۃ ج:۵ ص:۲۸۵)
فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ
معین مفتی مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
|
مفتی مدرسہ مظاہر العلوم |
۲۴؍جمادی الثانیہ ۱۳۵۹ھ |
|
۲۴؍جمادی الثانیہ ۱۳۵۹ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۷ ص:۶۷،۶۸)
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص (جو کہ اِمام بھی ہے) نے ایک مرزائی کی نمازِ جنازہ پڑھائی، کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ باوجود اس بات کے جاننے کے کہ یہ مرزائی ہے، اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے والا شخص عاصی وفاسق ہے، اس کو اِمام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ توبہ تائب ہوجائے۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
حررہٗ محمد انور شاہ غفرلہٗ
۱۷؍ذُوالحجہ ۱۳۹۰ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۲ ص:۵۲)
مرزائی کا جنازہ پڑھانے والے کی اِمامت کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے کے بارے میں:
۱:۔۔۔ ایک شخص جو غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے، یا اس کے تابع ہے، وہ فوت ہوگیا، اس کا جنازہ اہلِ سنت والجماعت کے اِمام صاحب نے پڑھایا اس بنا پر کہ میّت کے وارثوں میں سے کچھ لوگ مسلمان تھے، جو غلام احمد کو نبی نہیں مانتے تھے، نہ اس کے پیروکار تھے ان کے کہنے پر پڑھایا گیا۔
486
۲:۔۔۔ اِمام صاحب نے اس بات سے توبہ کرلی ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں اس بات کی اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں۔ کیا اتنی بات کرنے سے یہ اِمام اِمامت کے قابل ہے یا نہیں، کیا حکم ہے؟
۳:۔۔۔ وہ لوگ جو اس میّت کے وارثوں کے برادر مسلمان تھے، انہوں نے اس اِمام کے پیچھے نمازِ جنازہ پڑھا، اِمام اہلِ سنت والجماعت تھا اور میّت مرزائی تھی، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
۴:۔۔۔ میّت مرزائی کے وارثوں نے مسلمان اِمام کے پیچھے نمازِ جنازہ نہیں پڑھا، بلکہ اپنا اِمام مرزائی مقرّر کرکے نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھا، نہ مسلمان اس میں شامل ہوئے اور نہ مرزائی مسلمانوں کے ساتھ جنازے میں شامل ہوئے۔ لہٰذا مہربانی فرماکر جو بھی حکم ہو اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک وہ تحریر فرمایا جائے، اِمام کے بارے میں اور لوگوں کے بارے میں جنہوں نے نمازِ جنازہ پڑھا۔ ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُواْ وَہُمْ فَاسِقُونَ‘‘ (التوبۃ:۸۴)
وفی الدر المختار: ’’اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب‘‘ (درمختار ج:۱ ص:۶۵۷) ای لا یغسل ولا یکفن (درالمختار، باب صلوٰۃ والجنازۃ)۔ بنابریں صورتِ مسئولہ میں دُوسرے مسلمانوں کے کہنے کے باوجود بھی ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہ تھا، جن مسلمانوں نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھ لیا ہے، وہ سب گنہگار ہوگئے ہیں، سب کو توبہ کرنا لازم ہے، اِمام صاحب جبکہ اپنی غلطی کا اِعتراف واِقرار کرتے ہوئے توبہ تائب ہوگیا ہے تو اس کی اِمامت بلاکراہت دُرست ہے، لقولہ علیہ السلام: ’’التائب من الذنب کمن لا ذنب لہٗ‘‘ الحدیث۔
۳،۴:۔۔۔ ان کا جواب اُوپر کے جوابات میں آچکا ہے۔ فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۵۹،۶۰)
قادیانی کا جنازہ پڑھانے والے اِمام کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے شہر مری کی ایک مسجد کے پیش اِمام مولوی صدیق اکبر نے ایک ایسے متمول مقامی مرزائی کی نمازِ جنازہ کی اِمامت کی جو عرصہ قریباً پچاس سال سے اس شہر میں سکونت پذیر تھا، اور شہر کا بچہ اور بوڑھا بخوبی اسے پہچانتا تھا۔ شہر بھر کے عوام اور مقتدی مولوی صاحب کی اِمامت سے سخت متنفر اور حد درجہ مشتعل ہیں، کیا ایسا شخص اہلِ سنت والجماعت کی مسجد کا اِمام باقی رہ سکتا ہے؟
۲:۔۔۔ مولوی صاحب مذکور نے مبین گراںقدر رقم لے کر یہ خدمت انجام دی ہے، اس قسم کی اُجرت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور ایسا کرنے والا شریعتِ حقہ کے نزدیک کیسا ہے؟
487
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور اس کے پیروکار یعنی اس کو اپنے دعاوی میں سچا سمجھنے والے کافر، مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنا بالکل دُرست نہیں ہے۔ اور کسی اِمامِ مسجد کا یہ فعل بالکل قبیح ہے، اور اگر درپردہ اِمام بھی ایسے ہی عقائد رکھتا ہے تو اِسلام سے خارج ہوگا۔
۲:۔۔۔ ایسے شخص کی اِمامت صحیح نہیں، جب تک کہ اس فعل سے اِعلانیہ توبہ نہ کرے اور مرزائیوں کے کافر ہونے کا صحیح اِقرار نہ کرے، یوں بھی کسی کے لئے جائز نہیں کہ نمازِ جنازہ کی اُجرت لے، اور بدوں مقتدیوں کی رضامندی کے اِمامت کروائے،، جبکہ دِین کی وجہ سے اس کی اِمامت کو ناپسند کرتے ہیں۔ فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۶)
مرزائی کے لئے دُعائے مغفرت کرنے والے کی اَذان کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک آدمی جو کہ احمدی جماعت کا تھا، وہ مرگیا، اس کو کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ کہتا ہے کہ میری قبر پر دو رکعت نفل پڑھیں اور مغفرت کی دُعا مانگیں۔ اسی کا ماموں اہلِ سنت والجماعت کا تھا، اس نے قبرستان پر جاکر اس کی قبر پر نفل ادا کی اور دُعا مانگی اس مرزائی کے لئے۔ جب پھر واپس آیا تو مولوی صاحب نے ان کو کہا کہ تمہارا عقیدہ ٹھیک نہیں، مرزائی تو کافر ہیں، کافر کے لئے دُعائے مغفرت مانگنا ٹھیک نہیں، بالکل گناہ ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ کلمہ پڑھنے والوں کو کافر نہیں سمجھنا چاہئے۔ وہ مرزائی بھی ہے اس پر مولوی صاحب نے ان کو اَذان اور تکبیر پڑھنے سے روکا، آئندہ اَذان اور تکبیر ہماری مسجد میں نہ پڑھا کریں، جب تک تم اپنا عقیدہ ٹھیک نہ کرو، اور توبہ نہ کرو، تب تک تم اہلِ سنت کی مسجد میں نہ اَذان نہ تکبیر پڑھا کرو۔ اس کے متعلق آپ فتویٰ دیں کہ اس آدمی کو اہلِ سنت کی مسجد میں اَذان وتکبیر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزائی چونکہ باتفاق جمیع علمائے اسلام کافر ہیں، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، جو شخص ان کو اپنی جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے مسلمان سمجھتا ہے تو اگرچہ ان کے معتقدات کو اچھا نہیں سمجھتا، تب بھی بہت بڑا گناہگار بنتا ہے، جب تک وہ اس سے توبہ نہ کرے، اسے اَذان وتکبیر نہ کہنے دی جائے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۶۲۰،۶۲۱)
مرزائی اگر جماعت میں شریک ہوجائے تو نماز مکروہ نہیں ہوگی
سوال:۔۔۔ لاہوری جماعت کے مرزائی، حنفیوں کی جماعت نماز میں شریک ہوجاتے ہیں تو نماز میں کوئی کراہت آتی ہے یا نہیں؟ خصوصاً ایسی حالت میں کہ حنفی ایسے جاہل ہوں کہ اگر اِمام مرزائی کو روکے تو خوف فتنے کا ہو؟
جواب:۔۔۔ نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔ البتہ مسلمانوں کی جماعت میں تابمقدور ان کو شریک نہ ہونے دیا جائے، کیونکہ اس سے عام مسلمان ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے دھوکے میں آجاتے ہیں، اور ان کو اپنی مفسدانہ ریشہ دوانیوں کا موقع مل جاتا ہے۔ ہاں! اگر منع کرنے میں فتنے کا اندیشہ شدید ہو تو چندے صبر کیا جائے، اور آہستہ آہستہ لوگوں کو ان کے عقائدِ باطلہ اور مکائد پر مطلع کرتے رہنا چاہئے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۳۳۲)
(الحمدللّٰہ! اب قادیانیوں کی طرح لاہوری مرزائیوں کا کفر بھی اُمتِ مسلمہ کے سامنے الم نشرح ہوچکا ہے، پوری دُنیا میں
488
کہیں کوئی لاہوری یا قادیانی، مسلمانوں کے ساتھ کسی دِینی امر میں اِتحاد نہیں رکھتے۔ اس کے باوجود اب بھی اگر کہیں لاہوری مرزائی، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوتا ہو تو ان کو علیحدہ کرنا مسلمانوں پر ضروری ہے، اب چپ رہنا دِینی واِیمانی غیرت کے منافی ہے۔ اِحقاقِ حق اور اِبطالِ باطل کے بعد مصلحت کوشی کفر واِسلام کی حدود کو خلط ملط کرنا ہے، جو حرام ہے ۔۔۔مرتب)
قادیانی کا مسجد میں نماز کے لئے آنا
سوال:۔۔۔ قادیانی مذہب کے اَشخاص بروقت ہونے جماعت مسجد سنت والجماعت علیحدہ کھڑے ہوکر نماز خود اَدا کرتے ہیں اور وضو بھی آفتابہ مسجد وپانی مسجد سے کرتے ہیں، بوجہ فتویٔ کفر ہونے کے قادیانی فرقے کے لوگ نماز مسجدِ اہلِ سنت والجماعت میں ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اَدا کرسکتے ہیں تو اہلِ سنت والجماعت پر تو کوئی مؤاخذہ نہیں ہے؟
ریاض الحق کلیانوی، از تھانہ بھون
جواب:۔۔۔ قادیانی جب مسلمان نہیں تو ان کی نماز نہیں، ان کو مسجد میں آکر نماز اَدا کرنے سے روک دینا چاہئے، اگر اندیشۂ فساد نہ ہو۔
حررہ العبد محمود گنگوہی غفرلہٗ
۲۳؍۳؍۱۳۵۳ھ
|
الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
|
سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف عفا اللّٰہ عنہ |
|
|
۲۶؍ربیع الاوّل ۱۳۵۳ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۵ ص:۳۰۷،۳۰۸)
جمعہ کے خطبے میں منکرینِ ختمِ نبوّت کی تردید کرنا
سوال:۔۔۔ اس موجود پُرفتن دور میں عام طور پر مسلمانوں کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی اہمیت جتلانے اور صحیح اِعتقاد پر قائم رہنے کی خاطر کیا اس وقت خطباء اپنے خطبات میں جمعہ کے روز فقط عربی زبان میں مندرجہ الفاظ بڑھا سکتے ہیں؟ تاکہ مذہب اہلِ سنت والجماعت کی پوری ترجمانی ہوسکے، جو درحقیقت اسلام اور دِینِ حق ہے۔ خطبہ معروفہ کے اولیٰ خطبے میں:
’’ونشھد ان من ادّعی النبوۃ بعد سیّدنا صلی ﷲ علیہ وسلم سواء کان تشریعیًّا وغیر تشریعی کمسیلمۃ الکذّاب وغلام احمد القادیانی کذّاب، دجّال، کافر، مرتد، خارج عن الإسلام، لا نبی بعد سیّدنا صلی ﷲ علیہ وسلم تسلیمًا کثیرًا کثیرًا۔‘‘
اور دُوسرے خطبے میں بھی مندرجہ ذیل الفاظ قابلِ اِضافہ ہیں:
’’اللّٰھم اشدد وطأتک علی المرزائیین ومن یتولھم من المنافقین والکافرین اعدائک اعداء الدِّین، اللّٰھم إنَّا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم۔‘‘
489
جواب:۔۔۔ خطبۂ جمعہ کے اندر الفاظ مندرجہ بالا جن میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا تذکرہ ہو، اور دیگر مدعیانِ نبوّت کی تردید ہو، پڑھنا جائز ہے، بلکہ جس ملک یا علاقے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے خلاف کوششیں ہو رہی ہوں، وہاں اس قسم کے الفاظ ضرور پڑھنے چاہئیں، اور مسلمانوں کو خصوصاً حکامِ اسلام کو ان الفاظ پر اِعتراض نہ کرنا چاہئے، ورنہ ان کے اِیمان کے سخت ضعف کا خطرہ ہے۔ جمعوں، خطبوں اور دُعاؤں میں اللّٰہ سے موجودہ دور کے فتنوں سے پناہ مانگنا عین عبادت ہے، اور عبادت سے روکنا کسی مسلمان کے لئے لائق نہیں۔
فقط واللّٰہ اعلم!
بندہ محمد عبداللّٰہ
خادم الافتاء، خیرالمدارس ملتان
(خیرالفتاویٰ ج:۳ ص:۹۲،۹۳)
ایک ہی مسجد میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی نماز
سوال:۔۔۔ از شاہجہاںپور محلہ خلیل مسئولہ امیر خاں مختار عام ۲شوال۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ شاہجہاںپور میں ایک مسجد ہے، اس میں یہ قرار پایا کہ اوّل ہر وقت یہاں تک کہ جمعہ کی نماز قادیانی پڑھیں، بعد کو اہلِ سنت مع خطبہ جمعہ کے۔ تو حضور! فرمائیے کہ ہماری نماز ہوگی یا نہیں؟ پہلے قادیانی خطبہ پڑھ چکے، ہم دوبارہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ نہ قادیانیوں کی نماز ہے، نہ ان کا خطبہ، اس لئے کہ وہ مسلمان ہی نہیں۔ اہلِ سنت اپنی اَذان کہہ کر اسی مسجد میں اپنا خطبہ پڑھیں، اپنی جماعت کریں، یہی اَذان وخطبہ وجماعت شرعاً معتبر ہوں گے، اور اس سے پہلے جو کچھ قادیانی کرگئے، باطل ومرودِ محض تھا۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۸ ص:۴۶۶)
✨ 🌟 ✨
490
کتاب الجنائز
بابِ اوّل
قادیانی جنازہ
قادیانیوں کا جنازہ جائز نہیں
سوال۱:۔۔۔ موضع داتہ ضلع مانسہرہ جو کہ ربوہ ثانی ہے، میں ایک مرزائی مسمّیٰ ڈاکٹر محمد سعید کے مرنے پر مسلمانانِ ’’داتہ‘‘ نے ایک مسلمان اِمام کے زیرِ اِمامت اس قادیانی کی نمازِ جنازہ ادا کی، اور اس کے بعد قادیانیوں نے دوبارہ مسمّیٰ مذکور کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ شرعاً اِمامِ مذکور اور مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے؟
۲:۔۔۔ مسلمان لڑکیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیوی کے طور پر رہ رہی ہیں، اور مسلمان والدین کے ان قادیانیوں کے ساتھ داماد اور سسرال جیسے تعلقات ہیں۔ کیا شریعتِ محمدی کی رُو سے ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد حلالی ہوگی یا ولدالحرام کہلائے گی؟
۳:۔۔۔ عام مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ کافروں جیسے تعلقات نہیں، بلکہ مسلمانوں جیسے تعلقات ہیں، ان کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور ان کی شادیوں اور ماتم میں شرکت کرتے ہیں، اور جب ایک دُوسرے سے ملتے ہیں تو ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ملتے ہیں۔ شادی، ماتم میں کھانے دیتے ہیں، فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں۔ شریعتِ محمدی کی رُو سے وہ قابلِ مؤاخذہ ہیں یا کہ نہیں؟ اور شرع کی رُو سے وہ مسلمان بھی ہیں یا کہ نہیں؟
جواب:۔۔۔ جواب سے پہلے چند اُمور بطورِ تمہید ذِکر کرتا ہوں۔
۱:۔۔۔ جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اِسلام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور نصوصِ شرعیہ کی غلط سلط تأویلیں کرکے اپنے عقائدِ کفریہ کو اِسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے۔ علامہ شامیؒ ’’باب المرتد‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فإن الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ وھٰذا معنی إبطان الکفر۔‘‘ (شامی ج:۳ ص:۳۲۴، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رِواج دینا چاہتا ہے، اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘
491
اور اِمام الہند شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ مسوّٰی شرح عربی مؤطا میں لکھتے ہیں:
’’بیان ذالک ان المخالف للدین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذعن لہ لا ظاھرًا ولا باطنًا فھو کافر، وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا لٰکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورۃ بخلاف ما فسَّرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الاُمَّۃ فھو الزندیق۔‘‘ (ج:۲ ص:۱۳۰، مطبوعہ رحیمیہ دھلی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’شرح اس کی یہ ہے ہ جو شخص دِینِ حق کا مخالف ہے، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو، اور نہ دِینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر تو وہ کافر کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے تو اِسلام کا اقرار کرتا ہو، لیکن اس کا دِل کفر پر ہے (دِل میں کفر رکھتا ہو) تو وہ منافق کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو، لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو، جو صحابہ رضی اللّٰہ عنہم، تابعین اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو، تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘
آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’ثم التأویل، تأویلان: تأویل لا یخالف قاطعًا من الکتاب والسُّنَّۃ وإتفاق الاُمَّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذالک الزندقۃ۔‘‘ (ج:۲ ص:۱۳۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تأویل جو کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے، پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘
آگے زِندیقانہ تأویلوں کی مثالیں ذِکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
’’او قال: ’’ان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم النبوۃ ولٰکن معنی ھٰذا الکلام انہ لا یجوز ان یسمّٰی بعدہ احد بالنبی، واما معنی النبوۃ وھو کون الإنسان مبعوثًا من ﷲ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذُّنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما بری فھو موجود فی الأمۃ بعدہ‘‘ فھو الزِّندیق۔‘‘ (مسوّٰی ج:۲ ص:۱۳۰، مطبوعہ رحیمیہ دھلی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النّبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا، لیکن نبوّت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اِطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُمت میں موجود ہے‘‘ تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘
492
خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اِسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اِسلام کے قطعی ومتواتر عقائد کے خلاف قرآن وسنت کی تأویلیں کرتا ہو، ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔
دوم:۔۔۔ یہ کہ زِندیق مرتد کے حکم میں ہے، بلکہ ایک اِعتبار سے زِندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ قبول ہونے یا نہ ہونے میں اِختلاف ہے، چنانچہ ’’درمختار‘‘ میں ہے:
’’(و) کذا الکافر بسبب (الزندقۃ) لا توبۃ لہ وجعلہ فی الفتح ظاھر المذھب لٰکن فی حظر الخانیۃ الفتویٰ علٰی انہ (إذا اخذ) الساحر او الزندیق المعروف الداعی (قبل توبتہ) ثم تاب، لم تقبل توبتہ ویقتل، ولو اخذ بعدھا قبلت۔‘‘ (شامی ج:۳ ص:۳۲۴، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا ہو، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہوں، توبہ سے پہلے گرفتار ہوجائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘
’’البحرالرائق‘‘ میں ہے:
’’لا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لا یتدین بدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفی الخانیۃ: قالوا إن جاء الزندیق قبل ان یوخذ فأقر انہ زندیق فتاب عن ذالک تقبل توبتہ، وإن اخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔‘‘ (ج:۵ ص:۱۲۶، طبع دار المعرفۃ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔۔ ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فتاویٰ قاضی میں ہے کہ اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا، پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘
سوم:۔۔۔ قادیانیوں کا زِندیق ہونا بالکل واضح ہے، کیونکہ ان کے عقائد اِسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں، اور وہ قرآن وسنت کی نصوص میں غلط سلط تأویلیں کرکے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں، ان کے سوا باقی پوری اُمت گمراہ اور کافر وبے اِیمان ہے، جیسا کہ قادیانیوں کے دُوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود لکھتے ہیں کہ:
’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (یعنی مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینۂ صداقت ص:۳۵)
493
مرزائیوں کے ملحدانہ عقائد حسبِ ذیل ہیں:
۱:۔۔۔ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوسکتا۔(۱) اس کے برعکس قادیانی نہ صرف اسلام کے اس قطعی عقیدے کے منکر ہیں، بلکہ ۔۔نعوذباللّٰہ۔۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے بغیر اِسلام کو مُردہ تصوّر کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کا کہنا ہے کہ:
’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دِین میں نبوّت کا سلسلہ نہ ہو، وہ مُردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دِین کو جو ہم مُردہ کہتے ہیں، تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اِسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دُوسرے دِینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں؟ آخر کوئی اِمتیاز بھی ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں، اس لئے ہم نبی ہیں، اَمرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہ رکھنا چاہئے۔‘‘
(ملفوظاتِ مرزا ج:۱۰ ص:۱۲۷، طبع شدہ ربوہ)
۲:۔۔۔ اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ وحیٔ نبوّت کا دروازہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکا ہے، اور جو شخص آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد وحیٔ نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔(۲) لیکن قادیانی مرزا غلام احمد کی خودتراشیدہ وحی پر اِیمان رکھتے ہیں اور اسے قرآنِ کریم کی طرح مانتے ہیں۔ قرآنِ کریم کے ناموں میں سے ایک نام ’’تذکرہ‘‘ ہے، قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی ’’وحی‘‘ کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا ہے اور اس کا نام ’’تذکرہ‘‘ رکھا ہے، یہ گویا ’’قادیانی قرآن‘‘ ہے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ اور یہ قادیانی وحی کوئی معمولی قسم کا اِلہام نہیں جو اولیاء اللّٰہ کو ہوتا ہے، بلکہ ان کے نزدیک یہ وحی قرآنِ کریم کے ہم سنگ ہے، ملاحظہ فرمائیے:
1- ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۶، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰)
2- ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور اِنجیل اور قرآنِ کریم پر۔‘‘
(اربعین ص:۱۱۲، خزائن ج:۱۷ ص:۴۵۴)
3- ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام
(۱) قال تعالٰی: ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْماً‘‘ (الأحزاب:۴۰)
(۲) إن الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولا نبیَّ۔ (الجامع الصغیر ج:۱ ص:۸۰)
ایضًا: ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
494
جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اُوپر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۲۰، خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰)
۳:۔۔۔ اسلام کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد معجزہ دِکھانے کا دعویٰ کفر ہے، کیونکہ معجزہ دِکھانا صرف نبی کی خصوصیت ہے، پس جو شخص معجزہ دِکھانے کا دعویٰ کرے، وہ مدعیٔ نبوّت ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔ ’’شرح فقہ اکبر‘‘ (ص:۲۰۲) میں علامہ مُلَّا علی قاری رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں:
’’التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کفر بالإجماع۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’معجزہ دِکھانے کا دعویٰ فرع ہے، دعویٔ نبوّت کی، اور نبوّت کا دعویٰ ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔‘‘
اس کے برعکس قادیانی، مرزا غلام احمد کی وحی کے ساتھ اس کے ’’معجزات‘‘ پر بھی اِیمان رکھتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے معجزات کو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ قصے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسی صورت میں نبی ماننے کے لئے تیار ہیں، جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی مانا جائے، ورنہ ان کے نزدیک نہ تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبی ہیں، اور نہ دِینِ اسلام، دِین ہے۔ مرزا غلام احمد لکھتے ہیں:
’’وہ دِین، دِین نہیں ہے، اور نہ وہ نبی، نبی ہے، جس کی متابعت سے اِنسان خداتعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہی سے مشرف ہوسکے۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے، جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر (یعنی اسلامی شریعت پر جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔۔۔ناقل) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے، اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رَحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸، خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۶)
’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی اُمید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے کہ جس میں براہِ راست خداتعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔ میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا، میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رَحمانی۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۸۳، خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۴)
495
’’اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآنِ کریم پر رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بھی اسی (مرزا) کے ذریعے اِیمان حاصل ہوا۔ ہم قرآنِ کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے آپ (مرزا) کی نبوّت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت پر اس لئے اِیمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ (مرزا) کی نبوّت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اِعتراض کرتا ہے کہ ہم حضرت مسیحِ موعود (مرزا) کو نبی مانتے ہیں، اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں؟ وہ نہیں جانتا کہ قرآنِ کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا، اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت پر یقین اس (مرزا) کی نبوّت سے ہوا ہے۔‘‘
(مرزا بشیرالدین کی تقریر ’’الفضل‘‘ قادیان جلد نمبر:۳ مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۲۵ء)
مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے واضح ہے کہ اگر مرزاقادیانی پر وحیٔ اِلٰہی کا نزول تسلیم نہ کیا جائے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ مانا جائے تو حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت بھی ان کے نزدیک ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ باطل ہے اور دِینِ اسلام محض قصوں، کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ مرزاقادیانی ایسے اسلام کو لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اِظہار کرتے ہیں، بلکہ سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ ہونے کا اِعلان کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو نظرِ عبرت سے دیکھنا چاہئے! کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر واِلحاد اور زَندقہ اور بددِینی ہوسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور دِینِ اسلام کو اس طرح پیٹ بھر کر گالیاں نکالی جائیں۔۔۔؟
۴:۔۔۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اِشتہار ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں اپنے اِلہام کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ’’مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ ہے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔۔ چونکہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’وحی‘‘ پر قطعی اِیمان رکھتے ہیں، اس لئے وہ مرزاآنجہانی کو ’’مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ مانتے ہیں، اور جو شخص مرزا کو ’’‘‘ نہ مانے، اسے کافر سمجھتے ہیں۔
۵:۔۔۔ قرآنِ کریم اور اَحادیثِ متواترہ کی بنا پر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ آسمانوں پر اُٹھایا گیا، اور وہ قربِ قیامت میں نازل ہوکر دَجال کو قتل کریں گے۔(۱) لیکن مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، عیسیٰ ہے، اور قرآن وحدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر دِی گئی ہے، اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
قادیانیوں کے اس طرح بے شمار زِندیقانہ عقائد ہیں، جن پر علماء نے بہت سی کتابیں تالیف فرمائی ہیں، اس لئے مرزائیوں کا کافر ومرتد اور ملحد وزِندیق ہونا روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔
(۱)قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر۔ (بخاری ج:۱ ص:۴۹، باب نزول عیسٰی علیہ السلام، طبع نور محمد)۔
ایضًا: وعن ابن عباس فی قولہ تعالٰی: ’’اِن تُعَذِّبہُم فَاِنَّہُم عِبَادُكَ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ مد فی عمرہ حتّٰی اھبط من السماء إلی الأرض یقتل الدَّجَّال۔۔۔إلخ۔ (تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۳۵۰، ایضًا: التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۲۹۲،۲۹۳، طبع مکتبہ دارالعلوم کراچی)۔
496
چہارم:۔۔۔ نمازِ جنازہ صرف مسلمانوں کی پڑھی جاتی ہے، کسی غیرمسلم کا جنازہ جائز نہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُواْ وَہُمْ فَاسِقُونَ‘‘ (التوبۃ:۸۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ان میں کوئی مرجائے تو اس (کے جنازے) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ (دفن کے لئے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجئے، کیونکہ انہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور وہ حالتِ کفر ہی میں مرے ہیں۔‘‘
اور تمام فقہائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ جنازے کے جائز ہونے کے لئے شرط ہے کہ میّت مسلمان ہو، غیرمسلم کا جنازہ بالاجماع جائز نہیں، نہ اس کے لئے دُعائے مغفرت کی اِجازت ہے، اور نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنا ہی جائز ہے۔
ان تمہیدات کے بعد اَب بالترتیب سوالوں کا جواب لکھا جاتا ہے۔
جواب سوالِ اوّل:۔۔۔ جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے، اگر وہ اس کے عقائد سے ناواقف تھے تو انہوں نے بُرا کیا، اس پر ان کو اِستغفار کرنا چاہئے، کیونکہ مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھ کر انہوں نے ایک ناجائز فعل کا اِرتکاب کیا ہے۔
اور اگر ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد کو ’’نبی‘‘ مانتا ہے، اس کی ’’وحی‘‘ پر اِیمان رکھتا ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے، اس علم کے باوجود انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازے میں شریک تھے، اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے، کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اِسلام سمجھنا کفر ہے،(۱) اس لئے ان کا اِیمان بھی جاتا رہا، اور نکاح بھی باطل ہوگیا۔(۲) ان میں سے کسی نے اگر حج کیا تھا تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔(۳)
یہاں یہ ذِکر کردینا بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کا جنازہ جائز نہیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے معصوم بچے کا جنازہ بھی قادیانیوں کے نزدیک جائز نہیں۔ چنانچہ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود اپنی کتاب ’’انوارِ خلافت‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیراحمدی (یعنی مسلمان) تو حضرت مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے، لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا
(۱) وفی المحیط من رضی بکفر نفسہ فقد کفر ای إجماعًا وبکفر غیرہ اختلف المشائخ، وذکر شیخ الإسلام ان الرضا بکفر غیرہ إنما یکون کفرًا إذا یستجیزہ ویستحسنہ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۲۱، طبع دھلی)۔
ایضًا: وفی ردالمحتار: قولہ من ھزل بلفظ کفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذا مخالفۃ او إنکار ما اجمع علیہ بعد العلم بہ لأن ذالک دلیل علٰی ان التصدیق مفقود۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۴ ص:۲۲۲، باب المرتد، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲) وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح واولادہ، اولاد الزنا، وما فیہ خلاف یؤْمر بالإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۴ ص:۲۴۷)۔
(۳)ومن ارتد ثم اسلم وقد حج مرۃ فعلیہ ان یحج ثانیًا۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۸۳، کتاب الفاظ الکفر، طبع کوئٹہ، ایضًا: رد المحتار ج:۴ ص:۲۵۲ باب المرتد)۔
497
جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیحِ موعود کا مکفر نہیں؟
میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات دُرست ہے کہ تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماںباپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب بچے کا قرار دیتی ہے، پس غیراحمدی کا بچہ غیراحمدی ہوا، اس لئے اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ گنہگار نہیں ہوتا، اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بچے کا جنازہ تو دُعا ہوتی ہے اس کے پس ماندگان کے لئے، اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں، بلکہ غیراحمدی ہوتے ہیں، اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘
(انوارِ خلافت ص:۹۳)
اخبار ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود کا ایک فتویٰ شائع ہوا کہ:
’’جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا ہے، اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے، اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘
چنانچہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے چوہدری ظفراللّٰہ خان نے قائدِاعظم کا جنازہ نہیں پڑھا، اور منیر انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا:
’’نمازِ جنازہ کے اِمام مولانا شبیراحمد عثمانی، احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے، اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کرسکا جس کی اِمامت مولانا کر رہے تھے۔‘‘
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص:۲۱۲)
لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائدِاعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو اس نے جواب دیا:
’’آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں، یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔‘‘
(’’زمیندار‘‘ لاہور ۸؍فروری ۱۹۵۰ء)
اور جب اخبارات میں چوہدری ظفراللّٰہ خان کی اس ہٹ دھرمی کا چرچا ہوا تو جماعتِ احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا گیا:
’’جناب چوہدری محمد ظفراللّٰہ خان پر ایک اِعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائدِاعظم کا جنازہ نہیں پڑھا، تمام دُنیا جانتی ہے کہ قائدِاعظم احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعتِ احمدیہ کے کسی فرد کا، ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابلِ اِعتراض بات نہیں۔‘‘
(ٹریکٹ ۲۲، احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، ناشر مہتمم نشر واِشاعت انجمن احمدیہ ربوہ، ضلع جھنگ)
قادیانیوں کے اخبار ’’الفضل‘‘ نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
498
’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائدِاعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے، مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسولِ خدا نے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۲ء)
کس قدر لائقِ شرم بات ہے کہ قادیانی تو مسلمانوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح کافر سمجھتے ہوئے، نہ ان کے بڑے سے بڑے آدمی کا جنازہ پڑھیں، اور نہ ان کے معصوم بچوں کا۔ کیا ایک مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھے؟ کیا اس کی غیرت اس کو برداشت کرسکتی ہے۔۔۔؟
جواب سوالِ دوم:۔۔۔ جب یہ معلوم ہوا کہ قادیانی، کافر ومرتد ہیں، تو اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی مرتد سے نہیں ہوسکتا،(۱) بلکہ شرعِ اسلام کی رُو سے یہ خالص زِنا ہے۔ اگر کسی مسلمان نے لاعلمی اور بے خبری کی وجہ سے کسی مرزائی کو لڑکی بیاہ دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ علم ہوجانے کے بعد اپنے گناہ سے توبہ کرے اور لڑکی کو قادیانیوں کے چنگل سے واگزار کرائے۔
واضح رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے نزدیک یہودیوں اور عیسائیوں کی ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں سے لڑکیاں لینا تو جائز ہے، لیکن مسلمانوں کو دینا جائز نہیں۔ مرزا محمود کا فتویٰ ہے:
’’جو شخص اپنی لڑکی کا رِشتہ غیراحمدی لڑکے کو دیتا ہے، میرے نزدیک وہ احمدی نہیں، کوئی شخص کسی کو غیرمسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔
سوال:- جو نکاح خواں ایسا پڑھائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:- ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے، جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔
سوال:- کیا ایسا شخص جس نے غیراحمدیوں سے اپنی لڑکی کا رِشتہ کیا ہے، وہ دُوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کرسکتا ہے؟
جواب:- ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیانی، ۲۳؍مئی ۱۹۲۱ء)
پس جس طرح مرزا محمود کے نزدیک وہ شخص مرزائی جماعت سے خارج ہے جو کسی مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی بیاہ دے، اسی طرح وہ مسلمان بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے جو قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہونے کے بعد کسی مرتد مرزائی کو اپنی لڑکی دینا جائز سمجھے۔ اور جس طرح مرزا محمود کے نزدیک کسی مرزائی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان لڑکے سے پڑھانا ایسا ہے جیسا کہ کسی ہندو یا عیسائی سے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی مرزائی مرتد کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ، چوہڑے کو داماد بنالیا جائے۔
جواب سوالِ سوم:۔۔۔ کسی مسلمان کے لئے مرزائی مرتدین کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرنا حرام ہے، ان کے
(۱) ولا یصلح ان ینکح مرتد او مرتدۃ احدًا من الناس مطلقًا۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۲۰۰ طبع سعید)۔
499
ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، ان کی شادی غمی میں شرکت کرنا، یا ان کو اپنی شادی غمی میں شریک کرانا حرام اور قطعی حرام ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں ’’رواداری‘‘ سے کام لیتے ہیں، وہ خدا اور رسول کے غضب کو دعوت دیتے ہیں، ان کو اس سے توبہ کرنی چاہئے، اور مرزائیوں سے اس قسم کے تمام تعلقات ختم کردینے چاہئیں۔ قادیانی خدا اور رسول کے دُشمن ہیں، اور خدا اور رسول کے دُشمنوں سے دوستانہ تعلق رکھنا کسی مؤمن کا کام نہیں ہوسکتا۔۔۔!
قرآن مجید میں ہے:
’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ أُوْلَئِکَ حِزْبُ اللہِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو لوگ اللّٰہ پر اور قیامت کے دِن پر (پورا پورا) اِیمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللّٰہ اور رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ، یا بیٹے، یا بھائی، یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو، ان لوگوں کے دِلوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے اِیمان ثبت کردیا ہے، اور ان (کے قلوب) کو اپنے فیض سے قوّت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللّٰہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللّٰہ کا گروہ ہے، خوب سن لو! کہ اللّٰہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔‘‘ (ترجمہ: حضرت تھانویؒ)
اخیر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دِیا گیا، لیکن قادیانیوں نے تاحال نہ تو اس فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور نہ انہوں نے پاکستان میں غیرمسلم شہری (ذِمی) کی حیثیت سے رہنے کا معاہدہ کیا ہے، اس لئے ان کی حیثیت ذِمیوں کی نہیں، بلکہ ’’محارِب کافروں‘‘ کی ہے، اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل جدید ج:۴ ص:۳۶۱ تا ۳۷۰)
قادیانی کا جنازہ پڑھنا
سوال:۔۔۔ ایک شخص جو مرزائی عقائد رکھتا تھا، مگر نہایت نیک اور پابندِ صوم وصلوٰۃ، علمِ احادیث وفقہ سے واقف، عالمِ ربانی کے خصائل وشمائل سے متصف مغرب کی نماز کے لئے وضو کیا اور روزہ اِفطار کرنے کے اِنتظار میں مصلیٰ پر دوزانو ہوکر بیٹھا کہ اچانک دِل
(۱)یعلم مما ھنا حکم الدروز والتیامنۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویتکلمون فی جناب نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کلمات فظیعۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونقل عن علماء المذاھب الأربعۃ انہ لا یحل إقرارھم فی دیار الإسلام بجزیۃ ولا غیرھا ولا تحل مناکحتھم ولا ذبائحھم ویفھم فتوی الخیریۃ ایضًا فراجعھا، والحاصل انھم یصدق علیھم اسم الزندیق والمنافق والملحد ۔۔۔إلخ۔
(ردالمحتار ج:۴ ص:۲۴۴، باب المرتد، طبع سعید)
500
میں گھبراہٹ ہوئی اور بآوازِ بلند ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ پڑھا، حالت بدل گئی اور اسی حالت میں روزہ اِفطار کیا، پھر دوچار منٹ میں ہی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی۔ اہلِ سنت والجماعت نے اس کا جنازہ پڑھا۔ کیا جنازہ پڑھنے والوں پر کوئی شرعی تعزیر عائد ہوسکتی ہے یا نہیں؟ نیز فرمانِ نبوی: ’’الصلاۃ علٰی بر وفاجر‘‘ کیسے لوگوں کے لئے ہے؟
المستفتی نمبر۲۰۵۱: محمد اِسماعیل صاحب، جہلم
۱۵؍رمضان ۱۳۵۶ھ - ۲۰؍نومبر ۱۹۳۷ء
جواب:۔۔۔ مرزائی عقائد رکھنے والا، یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت پر اِیمان لانے والا، اسلامی اُصول سے خارج اَزاِسلام ہے،(۱) اس کے جنازے کی نماز پڑھنا دُرست نہیں تھا۔ اس کے اِنتقال کے وقت کے یہ حالات جو سوال میں مذکور ہیں، اس کے غیراِسلامی عقیدے کو بدل نہیں سکتے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۹)
کافر کی صرف تعزیت جائز ہے، جنازہ پڑھنا یا قبرستان جانا جائز نہیں
سوال:۔۔۔ ہمارے ہاں ایک مرزائی فوت ہوگیا ہے، لوگ اس کے جنازے میں بھی شریک ہوئے، اس کے گھر تعزیت کے لئے بھی گئے، اور قبرستان بھی ساتھ گئے۔ ان کا یہ عمل کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ کافر کی صرف تعزیت جائز ہے، اس کا جنازہ پڑھنا، یا اس کے لئے دُعائے مغفرت کرنا ناجائز ہے، ایسے ہی اس کی قبر پر جانا بھی جائز نہیں۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، وہ مجمعِ عام کے سامنے سخت شرمندگی کے ساتھ اللّٰہ سے توبہ کریں۔
’’وفی النوادر جار یھودی او مجوسی مات ابن لہ او قریب ینبغی ان یعزیہ ویقول اخلف ﷲ علیک خیرًا منہ واصلحک۔ وکان معناہ اصلحک ﷲ بالْإسلام یعنی رزقک الإسلام ورزقک ولدًا مسلمًا کفایۃ۔‘‘
(شامی ج:۵ ص:۲۷۴، طبع مکتبہ رشیدیہ، عالمگیری ج:۵ ص:۴۸، طبع مکتبہ ماجدیہ)
۲:۔۔۔بیان القرآن میں ہے کہ کافر کے جنازے پر نماز اور اس کے لئے اِستغفار جائز نہیں (ج:۴ ص:۱۳۱)۔
رُوح البیان میں ہے:
’’ولا تقم علٰی قبرہ ای ولا تقف عند قبرہ للدفن او للزیارۃ والدعاء، اھـ۔‘‘
(ج:۳ ص:۴۷۸)
فقط واللّٰہ اعلم
احقر محمد انور عفا اللّٰہ عنہ
۱۰؍۱۱؍۱۴۰۹ھ
(خیرالفتاویٰ ج:۳ ص:۲۲۵،۲۲۶)
(۱) صفحۂ گزشتہ حاشیہ نمبر۱۔
501
ایسے کلمہ پڑھنے کا اِعتبار نہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین کہ مثلاً زید اپنی زندگی میں ختمِ نبوّت کا منکر تھا، اور غلام احمد کو نبی مانتا تھا، اور چندہ بھی ربوہ (چناب نگر) میں بھیجتا رہتا تھا، اور جب مرنے لگا تو وصیت بھی کی کہ مجھے ربوہ (چناب نگر) میں دفن کرنا، اور دفن کے لئے زمین بھی قیمتاً ربوہ (چناب نگر) میں بطور دستور مرزائیوں کے لے رکھی تھی۔ اور مرنے سے قبل زید کا رِشتہ دار بکر آیا اور اس نے کہا: ’’توبہ کرلو!‘‘ لیکن اس نے جواب دیا کہ: ’’مجھے درد ہے، چھوڑو!‘‘ اور جب مرگیا تو اس کے لڑکوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ وہ کلمہ پڑھ رہا تھا، اور ایک مولوی صاحب نے اس کا جنازہ پڑھادیا کہ وہ مسلمان ہے، کیونکہ کلمہ پڑھ رہا تھا۔ اب دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس کا جنازہ پڑھنا جائز تھا یا نہ؟ اور جائز نہ تھا تو مولوی صاحب کو کیا کرنا چاہئے؟ اور اس کے لڑکوں کے سوا کوئی بھی شہادت نہیں دیتا کہ شہادت قبول ہو یا نہ؟ آیا اس اِمام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہ؟ بیّنوا توجروا عند ﷲ!
جواب:۔۔۔ ختمِ نبوّت کا اِنکار کفر ہے،(۱) جو شخص اس کفر کا آخر دَم تک ۔۔۔العیاذباللّٰہ۔۔۔ اِظہار کرتا رہے، اسے کافر سمجھ کر ہی اس کے ساتھ معاملہ تجہیز وتکفین وغیرہ کیا جائے گا۔ اس کی جنازے کی نماز پڑھنی مسلمانوں کے لئے جائز نہ ہوگی۔
نفسِ کلمہ شریف ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ ‘‘ کے پڑھ لینے اور اس کے ثابت ہوجانے کے باوجود اس پر مسلمان کے اَحکام جاری نہیں ہوں گے۔ مرزائی تو توحید کے بھی قائل ہوتے ہیں، اور حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کو بھی مانتے ہیں اور اس کلمہ شریف کا مطلب تو اتنا ہی ہے، اس کے تو وہ مرزائی ہوکر بھی قائل تھے۔ مرزائی کا کفر تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کاذِب مدعیٔ نبوّت کی نبوّت کے اِقرار سے لازم آیا تھا، اور اس کلمہ شریف کے پڑھنے سے اس مذکورہ کفر کی براء ت لازم نہیں آتی، لہٰذا اس کلمے کو ایسے مبینہ کفر سے بیزاری کا قرینہ نہیں قرار دیا جائے گا۔
البتہ اگر اس نے ختمِ نبوّت کا اِقرار اور مدعیٔ نبوّت کی نبوّت سے اِنکار کا اِظہار کیا ہو، اور اس پر گواہ ہوں، خواہ اس کے لڑکے ہی کیوں نہ ہوں، تو اس صورت میں مسلمان ہوگا، اور اس کا جنازہ پڑھنا دُرست ہوگا۔
مولوی صاحب مذکور نے یقینا غلطی سے اس کا جنازہ پڑھا ہوگا، اسے کافی اِحتیاط سے کام لینا چاہئے، اور اس گزشتہ غلطی سے توبہ کرنی چاہئے۔ غلطی کا اِقرار کرنے کی صورت میں توبہ کرکے اس کی اِمامت دُرست ہوگی۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۷)
مرزائی کا جنازہ پڑھنے والے مسلمان کو توبہ کرنا ضروری ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک مرزائی فوت ہوگیا جو کہ مرزائیت کا بڑا پرچار بھی کرتا رہا، اور
(۱) إذا لم یعرف ان محمدًا صلی ﷲ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب الردۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔
ایضًا: وإن انکر بعض ما علم من الدین بالضرورۃ کفر بھا۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۵۶۱)۔
502
مسلمانوں میں تفریق بھی ڈالتا رہا۔ تو اس کی نمازِ جنازہ جبکہ ان کی پارٹی کے اِمام نے پڑھائی تو کئی مسلمانوں نے اس میں شرکت کی۔ تو اَب جن مسلمانوں نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، ان کے بارے میں جو شرعی حکم ہے، بتلایا جائے۔
جواب:۔۔۔ مرزائی شرعاً وقانوناً دائرۂ اسلام سے خارج ہیں،(۱) ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔(۲) جو مسلمان ان کے جنازے میں شریک ہوئے ہیں، گنہگار ہیں، ان پر توبہ تائب ہونا لازم ہے، اور ’’وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ کے عہد پر قائم رہنا چاہئے۔ فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۵۵،۵۶)
کسی مرزائی کے قبولِ اسلام کے حق میں گواہیوں کے سبب جنازہ پڑھانے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے مرزائی (جو کہ متفقہ طور پر کافر ہے) کا جنازہ پڑھایا، جب اس شخص سے پوچھا گیا کہ تو نے کافر کا جنازہ کیوں پڑھا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ چار پانچ آدمیوں نے گواہی دی ہے کہ وہ مرزائی شخص ہمارے سامنے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تھا۔ لیکن لوگوں نے اس سے کہا کہ جو لوگ گواہی دیتے ہیں، ان سے یہی گواہی لکھواکر واضح کرو، تو اس شخص کے کہنے پر گواہوں نے گواہی دینے سے اِنکار کردیا کہ ہم لکھ کر نہیں دیتے۔ اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وہ شخص جس نے جنازہ پڑھایا ہے، وہ مسلمان رہا ہے یا نہیں؟ اور اس کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر قرآن وسنت کی روشنی میں اس اَمر کی وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ اگر واقعی اس شخص کے مسلمان ہوجانے پر پانچ آدمیوں کی شہادت دینے کی بنا پر اِمام نے اس کا نمازِ جنازہ پڑھایا ہے تو شرعاً گنہگار نہیں ہوگا۔ اگر گواہ زبانی شہادت دیتے ہیں تو بھی شہادت کافی ہے۔ گواہوں پر تحریری شہادت لازم نہیں۔
اس اِمام نے مرزائی کو اس شہادت کی بنا پر مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھایا ہے، لہٰذا اس اِمام کے کفر یا فسخِ نکاح کا حکم نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس کے مسلمان ہونے کی کوئی شہادت موجود نہیں تو مرزائی کو مسلمان سمجھنا کفر ہے، اور مرزائی کو کافر سمجھتے ہوئے اس کی نمازِ جنازہ پڑھانا فسق اور گناہِ کبیرہ ہے۔ بہرحال اِمام پر کفر کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ مرزائی بالاتفاق کافر ہیں، اور ان کا جنازہ پڑھانا اور ان سے میل جول رکھنا حرام اور ناجائز ہے۔ اس لئے آئندہ پوری اِحتیاط کریں کہ جب تک مسلمان ہونے کا یقینی ثبوت نہ ہو، جنازہ نہ پڑھایا جائے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۶۴)
جنازہ پڑھانے والا خود گواہ ہے کہ متوفی مرزائیت سے تائب ہوگیا تھا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے مرزائی کا جنازہ پڑھایا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مرتے وقت میرے سامنے کلمہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ ‘‘ پڑھا اور کہا کہ جو شخص نبی علیہ السلام کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
(۲) قال تعالٰی: ’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنہُم مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُم عَلٰی قَبرِہٖ ۔۔۔إلخ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔
503
کافر ہے۔ نیز اس مرزائی کے رِشتہ دار کہتے ہیں کہ متوفی نے کلمہ نہیں پڑھا، بلکہ کافر مرا ہے۔ کیا اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے اِمام کا نکاح باطل ہوتا ہے یا نہیں؟ یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھانا کیسا ہے؟ ویسے مرزائی کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزائی بالاتفاق اہلِ سنت والجماعت کی نظر میں کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔(۱) مسلمانوں کے لئے ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا ہرگزہرگز جائز نہیں۔(۲) لہٰذا جس مولوی صاحب نے دیدہ دانستہ مرزائی کی نمازِ جنازہ پڑھی ہے، اس پر توبہ واِستغفار لازم ہے۔ اور اگر مرزائی مذکور نے مرنے سے قبل ہوش کی حالت میں کلمہ طیبہ پڑھ لیا ہے، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اور مدعیٔ نبوّت کو کافر کہا ہے تو پھر وہ شرعاً مسلمان ہوگیا تھا۔ تمام مسلمانوں کو اس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا چاہئے تھا۔ فقط واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۶۵)
مرزائی کے جنازے کا حکم
سوال۱:۔۔۔ مرزائیوں کے جنازے میں مسلمانوں کا شامل ہونا کیسا ہے؟
۲:۔۔۔ مرزائی کے مرنے کے بعد مرزائی کے وارثوں کے پاس فاتحہ خوانی کے لئے جانا کیسا ہے؟
۳:۔۔۔ اہلِ سنت والجماعت کے جنازے میں مرزائی کا شامل ہونا کیسا ہے؟
۴:۔۔۔ مسلمانوں کے قبرستان میں مرزائی کا دفن کرنا کیسا ہے؟
۵:۔۔۔ پہلی صورت میں مرزائی کا جنازہ پڑھنے والوں کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟
جواب۱:۔۔۔ اگر مرنے والے کا مرزائی ہونا معلوم تھا، تو اس کا جنازہ پڑھنے والوں نے سخت غلطی کی ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی ہندو، سکھ کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ ان مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہئے اور مجمعِ عام کے سامنے اس فعل پر ندامت کا اِظہار کرکے توبہ کریں۔
۲:۔۔۔ اگر پڑوسی ہو تو تعزیت کی کچھ گنجائش ہے، فاتحہ ہرگز نہیں پڑھنی چاہئے۔
۳:۔۔۔ وہ شامل ہوکر یہ دھوکا دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں، لہٰذا ان کو شامل نہ کیا جائے۔
۴:۔۔۔ ناجائز ہے، شرعاً کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔
۵:۔۔۔ اگر انہوں نے مرزائیوں کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو وہ اِحتیاطاً اپنے اپنے اِیمان ونکاح کی تجدید کریں۔
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
محمد انور عفا اللّٰہ عنہ |
|
بندہ محمد عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
|
(خیر الفتاویٰ ج:۲ ص:۳۰۷،۳۰۸)
(۱) ص:۵۰۰ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔
504
قادیانی کی نمازِ جنازہ دُرست نہیں
سوال:۔۔۔ ایک شخص قادیانی ہوگیا، اس کے مرنے پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے یا نہیں؟ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ وہ کافر ومرتد ہے، اگر مرے تو اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھیں، اور مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دَفن نہ کریں، فقط۔ شامی ج:۱ ص:۶۵۷، باب صلاۃ الجنائز۔(۱)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۵ ص:۲۹۰،۲۹۱)
قادیانیوں پر نمازِ جنازہ پڑھنے اور ان سے مناکحت جائز قرار دینے والے شخص کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ قادیانی واحمدیہ لاہوری شریعتِ غراء کی نگاہ میں کیسے ہیں؟
۱:۔۔۔ آیا وہ کافر ہیں یا نہیں؟
۲:۔۔۔ ان پر جنازہ پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ ان پر نمازِ جنازہ کی اِمامت کیسی ہے؟ اور اس اِمام کا جس کو وہ جائز قرار دیتا ہے، کیا حکم ہے؟
۴:۔۔۔ ان کے ساتھ نکاح کیسا ہے؟ اور نکاح کے جائز قرار دینے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جدید نبوّت کا مدعی یقینا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اسے نبی ماننے والے قادیانی ہوں، یا مجدّد اور مسلمان ماننے والے لاہوری ہوں، دونوں طرح کے لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔(۲) ان کی نمازِ جنازہ پڑھانی یا پڑھنی جائز نہیں ہے،(۳) ان سے کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا،(۴) اگر نکاح کے بعد خاوند مرزائی مذہب اِختیار کرلے، تب بھی بوجہ مرتد ہونے کے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
ان کے ساتھ نکاح جائز قرا ردینے والا شخص، یا ان کی نمازِ جنازہ کے جواز کا قائل، اگر مرزاقادیانی کے دعویٔ نبوّت کو جان کر یہ فتویٰ اس بنا پر دیتا ہے کہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ اس کے نزدیک اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں ہے، تو وہ بھی کافر ہے۔ اور اگر ختمِ نبوّت کا
(۱) أما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب (در مختار) أی لا یغسل ولا یکفن۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۳۰، باب صلاۃ الجنائز)۔
(۲)فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإسلام، وکذا من لم یقل بکفرہ وارتدادہ، وظنہ ولیًّا او مجدّدًا او مصلحًا فإنہ کذّاب، دجّال قد افتری علی ﷲ ورسولہ کذبًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۷، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
(۳)قال تعالٰی: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’قادیانی مردے کا حکم‘‘ (ص:۵۱۶ تا ۵۳۰)۔
(۴)فلا یجوز لہ ان یتزوّج إمرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذمیۃ ولا مملوکۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)۔ ایضًا: ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤْمنۃ الکافر لقولہ تعالٰی: ’’وَلاَ تُنكِحُوا المُشرِكِینَ حَتّٰی یُوٴمِنُوا‘‘ ولأنَّ فی إنکاح المؤْمنۃ الکافر خوف وقوع المؤْمنۃ فی الکفر ۔۔۔إلخ‘‘۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷، کتاب النکاح)۔ أیضًا: ولا یجوز للمرتد أن یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ أصلیۃ وکذالک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع أحد کذا فی المبسوط۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲، القسم السابع، المحرمات بالشرک)۔
505
اِجماعی عقیدہ جو کتاب وسنت سے صراحۃً ثابت ہے، اس پر کامل عقیدہ رکھ کر مرزاقادیانی کے دعویٔ نبوّت یا اس کے عقائدِ باطلہ اور اس کے ضلال سے مطلع نہیں ہے، تو وہ کافر نہیں ہے۔ البتہ اس کا فرض ہے کہ بغیر تحقیق مذہب قادیانی اس طرح کا فتویٰ نہ دے، اور اس فتویٰ سے رُجوع کرکے توبہ کرے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۵۷،۵۸)
مرزائیوں اور شیعوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے والوں اور پڑھنے کا حکم
سوال:۔۔۔ مسلمانوں کے بعض چکوں میں ایک ایک یا دو دو گھر مرزائیوں اور بددِین شیعوں کے ہیں، جب ان میں سے کوئی مرتا ہے تو اِمامِ مسجد ان کے چھوٹوں اور بڑوں کی نمازِ جنازہ پڑھاتا ہے، اور چک والے مسلمان اِمام کے پیچھے کھڑے ہوکر نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں۔ اِمام کا نظریہ اپنا ’’فصلانہ‘‘ ہوا کرتا ہے۔ اگر جنازہ نہ پڑھاویں تو مرزائیوں اور شیعوں کا فصلانہ بند۔ سوال یہ ہے کہ اِمام اور مسلمانوں کو یہ فعل دُرست ہے یا کہ اس فعل سے اِجتناب اور توبہ کریں؟
جواب:۔۔۔ مرزائی جو ختمِ نبوّت کے قطعی مسئلے سے ۔۔۔جو ضروریاتِ دِین میں سے ہے۔۔۔ اِنکار کرتے ہیں، نیز وہ شیعہ جو نصوصِ قرآنیہ کے منکر ہیں۔ مثلاً: ’’قول بالإفک فی حق سیّدتنا عائشۃ رضی ﷲ عنھا‘‘ (شامی ج:۳ ص:۳۲۱، مطبوعہ: مکتبہ رشیدیہ) وہ اسلام سے خارج ہیں، اور ان کا جنازہ پڑھنا اور پڑھانا، ناجائز ہے۔ بالخصوص جب طمعِ دُنیوی اور حرص کی وجہ سے اس فعلِ شنیع کا اِرتکاب کر رہے ہوں، ایسے پیش اِمام اور مقتدیوں کو جو جنازے میں شریک ہوتے ہیں، سب کو توبہ کرنا لازم ہے۔ اگر پیش اِمام توبہ نہ کرے تو اسے اِمامت سے معزول کرنا واجب ہے۔ واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۵۸،۵۹)
قادیانی کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والا توبہ وتجدیدِ نکاح کرے
سوال:۔۔۔ قادیانی کی نمازِ جنازہ پڑھانے اور پڑھنے والوں کے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا توبہ سے تجدیدِ اِیمان وتجدیدِ نکاح ہوجائے گا؟ اور کیا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں، شکریہ۔
محمد ثاقب علی شاہ، لاہور
جواب:۔۔۔ محترم ثاقب علی شاہ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
قرآن کی نصوصِ قطعیہ، سنتِ متواترہ متوارثہ اور صحابہ کرامؓ کے دور سے آج تک تمام اُمت کا اس بات پر اِجماع واِتفاق ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے، نہ رسول۔ اگر کوئی شخص حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت یا رِسالت کا دعویٰ کرے، خواہ کسی معنی میں ہو، وہ کافر، مرتد، خارج اَزاِسلام ہے، جو شخص اس کے کفر وعذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ومرتد ہے۔
مرزائے قادیانی نے یقینا اپنی نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کیا، جو اس کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس دعوے کے بعد اس نے توبہ نہیں کی، لہٰذا وہ قرآن، سنت اور اُمت کے متفقہ فیصلے کی بنا پر کافر ومرتد ہے۔
جو لوگ مرزائے قادیانی مذکور کے کفر وعذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ومرتد جہنمی ہے۔
506
علم کے باوجود جن لوگوں نے قادیانی کی نمازِ جنازہ پڑھی، وہ اَحکامِ قرآنی، حدیث اور اِجماعِ اُمت کے باغی ہیں۔ وہ فوری طور پر توبہ کریں اور اَزسرِنو اِیمان لائیں۔ چونکہ جان بوجھ کر کفر اِختیار کرنے والا کافر ومرتد ہوجاتا ہے، جبکہ اس کی بیوی مسلمان تھی، اور مسلمان کا نکاح کافر ومرتد سے نہیں ہوتا، اور اس جرم کے ساتھ ہی وہ لوگ کافر ومرتد ہوگئے، پس ان کے مسلمان بیویوں سے نکاح فوراً ٹوٹ گئے، لہٰذا وہ عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔
اگر یہ لوگ اپنے فعل پر نادم ہوں اور صدقِ دِل سے توبہ کرکے تجدیدِ اِیمان کرلیں تو دوبارہ ان بیویوں کی رضامندی سے نکاح کرسکتے ہیں، ورنہ ان کی بیویاں شرعاً آزاد ہیں، جہاں چاہیں نکاح کرلیں۔ یہی حکمِ شرعی ہے اور یہی ملکی قانون ہے۔ قادیانی جیسا کہ ذِکر ہوا کافر ومرتد ہیں، لہٰذا ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں: ’’ینفسخ النکاح بالردّۃ‘‘ مرتد ہونے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
(فتح القدیر ج:۵ ص:۳۱۰)
’’إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعیاذ باﷲ عرض علیہ الْإِسلام فإن کانت لہ شبہ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ ایام فإن اسلم وإلَّا قُتل۔‘‘ (ھدایۃ مع فتح القدیر ج:۵ ص:۳۰۷،۳۰۸)
’’جب مسلمان، اسلام سے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ پھرجائے، اس پر اِسلام پیش کیا جائے، اگر کوئی شبہ ہو تو اس کا اِزالہ کیا جائے، اسے تین دِن قید کیا جائے، اگر مسلمان ہوجائے تو بہتر، ورنہ قتل کردیا جائے۔‘‘
اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُواْ وَہُمْ فَاسِقُونَ‘‘ (التوبۃ:۸۴)
’’ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر کبھی نماز نہ پڑھنا، اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا، بے شک انہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول کا اِنکار کیا، اور فسق ہی میں مرگئے۔‘‘
واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۶۰،۳۶۱)
قادیانیوں کا جنازہ پڑھنے والوں کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین وفقہ ومفتیانِ شرعِ متین کہ:
۱:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے قادیانی یا لاہوری مسلمان ہیں یا کافر؟
۲:۔۔۔ ان کو مسلمان سمجھنے والے کیسے ہیں؟ قادیانی یا لاہوری مرزائیوں کی نمازِ جنازہ پڑھنی یا پڑھانی جائز ہے کہ ناجائز؟
۳:۔۔۔ نیز نمازِ جنازہ پڑھنے یا پڑھانے والوں کو کوئی سزا یا کفارہ تو اَدا نہیں کرنا پڑے گا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ
507
پڑھنے والوں کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں۔
مذکورہ سوالات کے جوابات شریعتِ محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور فقہِ حنفیہ کی روشنی میں فتویٰ کی صورت میں حل فرمائیں۔
سائل: محمد علی مستری آرے والا، نارووال ضلع سیالکوٹ
جواب:۔۔۔ بعونہٖ تعالیٰ قانونِ شریعتِ اسلامیہ اور قانونِ پاکستان کے مطابق قادیانی مرزائی ۔۔۔جو مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔۔۔ مطلقاً کافر ہیں۔ اسی طرح لاہوری ۔۔۔جو کہ مرزا کو مجدّد مانتے ہیں۔۔۔ بھی قطعاً کافر ہیں۔ یہ لوگ ہرگز مسلمان نہیں ہیں، بلکہ کافر، مرتد، خارج اَزاِسلام ہیں۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
’’ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لأنہ انکر النَّصّ۔‘‘
’’جو شخص ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبی تسلیم کرے، وہ کافر ہے، کیونکہ وہ نصِ قطعی کا منکر ہے، اور نصِ قطعی کا منکر کافر ہے۔‘‘
تفسیر رُوح البیان میں ہے:
’’ومن ادعی النبوۃ بعد موت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم لا یکون دعواہ إلّا باطلًا۔‘‘
’’اور جس شخص نے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کیا، وہ جھوٹا اور کذّاب ہے۔‘‘
چونکہ مرزائی تمام کافر ہیں، جو ان کو مسلمان سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ جن لوگوں نے ان کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے، وہ کافر ہوگئے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کریں، اور جن لوگوں نے ان کا جنازہ ان کو غیرمسلم سمجھتے ہوئے پڑھا ہے، ان کا یہ جنازہ پڑھنا بھی ممنوع اور حرام اور ناجائز ہے، لأنھا غیر مشروعۃ لقولہٖ تعالٰی:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً‘‘ (التوبۃ:۸۴)
’’اگر کافروں سے کوئی مرجائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھیے۔‘‘
اور جنازے میں شرطِ اوّل میّت کا مسلمان ہونا ہے، فتاویٰ شامیہ (ج:۱ ص:۶۴۰) میں ہے کہ:
’’وشرطھا إِسلام المیت‘‘
’’میّت کا مسلمان ہونا نمازِ جنازہ کے لئے شرط ہے۔‘‘
اور مرزائی چونکہ کافر ہیں، لہٰذا ان کا جنازہ پڑھنا ناجائز ہے۔ جن لوگوں نے جنازے میں شرکت کی ہے، ان کو چاہئے کہ توبہ علی الاعلان کریں اور اِحتیاطاً اپنے اپنے نکاح اور اِیمان کی یہ لوگ بھی تجدید کریں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ جماعتیہ ص:۲۰۹ تا ۲۱۱)
بدعقیدہ سے میل جول اور نمازِ جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ میرا ایک دوست ہے جو قادیانی ہے، لیکن اس کا عقیدہ دُرست ہے، یعنی وہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم
508
النّبیین اور افضل الانبیاء مانتا ہے۔ کیا میں ایسے شخص کے ساتھ میل جول رکھ سکتا ہوں اور اس کے عزیز واقارب کا نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہوں؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قادیانی اپنی خباثت کو چھپانے کے لئے ہر دِن اپنی تبلیغ کی پالیسی بدلتے رہتے ہیں، اور مسلمانوں کے اِیمان کو لوٹنے کا انہوں نے یہی انداز اِختیار کر رکھا ہے۔ بہرحال ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی بدترین آدمی تھا کہ جس نے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر ڈاکا ڈال کر اپنے آپ کو آگ کا اِیندھن بنایا۔ اس نے ۱۹۰۱ء میں نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا، اس سے پہلے وہ خود اس شخص کو کافر سمجھتا تھا جو نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔ پس مرزاقادیانی کو نبی تسلیم کرنے والے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ اب جدید لٹریچر میں مرزا کی وہی تحریریں شائع کر رہے ہیں جو دُرست ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسایا جاسکے۔ پس جو شخص مرزاقادیانی کو نبی اور رسول تو نہ سمجھے، لیکن اسے خلیفہ یا صالح انسان سمجھے اور یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے جھوٹی نبوّت کا دعویٰ بھی کیا تھا، تو ہمارے نزدیک ایسا آدمی بھی سخت قابلِ نفرت ہے، یا تو وہ ناواقف ہے اور سادہ لوح آدمی ہے، اسے ان کی ناپاک سازشوں سے آگاہی نہیں ہے، اسے سمجھایا جائے، یا ایسا آدمی جو سمجھنے وجاننے کے باوجود اسے اچھا سمجھتا ہے، پس ایسا آدمی حیلہ ساز آدمی ہے، ہمارے نزدیک اس کا اِیمان معتبر نہیں ہے، لہٰذا ایسے آدمی سے قطع تعلق کرلینا ہی اِیمان کی سلامتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی صحبت ومجلس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:
’’وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللہِ یُکَفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُواْ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ إِنَّکُمْ إِذاً مِّثْلُہُمْ‘‘ (النساء:۱۴۰)
’’اور بے شک کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو اللّٰہ کی آیات کا اِنکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جارہا ہے تو ان کے ساتھ مت بیٹھو حتیٰ کہ وہ کسی دُوسری بات میں مشغول ہوجائیں (ورنہ) بلاشبہ تم بھی انہی کی مثل ہوجاؤگے۔‘‘
’’عن ابی ھریرۃ یقول: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: یکون فی آخر الزمان دجّالون کذّابون یأتونکم من الأحادیث بما لم تسمعوا انتم ولا آبائکم، فإیَّاکم وإیَّاھم! لا یضلّونکم ولا یفتنونکم۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۰)
’’حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانے میں دجال اور کذّاب ہوں گے، جو تم سے ایسی احادیث بیان کریں گے جو پہلے تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے، سو تم ان سے دُور رہو، وہ تم سے دُور رہیں، وہ تم کو گمراہ نہ کریں اور تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔‘‘
مرزاقادیانی سے بڑھ کر اور کون بڑا دجال ہوسکتا ہے کہ جس نے انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کے اِجماعی
509
نظریۂ ختمِ نبوّت پر ڈاکا ڈال کر دُنیا وآخرت میں اپنے آپ کو رُسوا کیا، لہٰذا مرزاقادیانی کو خلیفہ یا صالح آدمی سمجھنے یا ماننے والوں کی صحبت سے اِجتناب کرنا واجب ہے، کیونکہ نبوّت کے منکر کی تکذیب کرنا بھی واجب ہے۔ پس جس طرح مسلمان کو مسلمان کہنا ضروری ہے، اسی طرح کافر کو کافر کہنا بھی ضروری ہے، اللّٰہ تعالیٰ کو معبودِ حقیقی مانتے ہوئے دُوسرے جھوٹے اِلٰہ کی نفی کرنا واجب ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین سمجھتے ہوئے اس عقیدے کے منکر کو کافر کہنا بھی واجب ہے۔ آپ صاحبِ علم وفکر ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے دِل میں یہ بات ڈال دی، لہٰذا اس سوال کا اِلقا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت سے اپنے آپ کو محفوظ کرلو، ورنہ اِیمان خطرے میں رہے گا، کیونکہ قادیانی چال باز ہیں، ان کی چال بازیوں سے اِجتناب واجب ہے، جو شخص ان سے اِجتناب نہیں کرتا، گویا کہ وہ ان کی چال بازیوں پر راضی ہے، اور ان کی چال بازیوں پر راضی رہنا کفر پر راضی رہنا ہے، کیونکہ منکرینِ ختمِ نبوّت کافر ہیں۔ بازی گروں کا نوجوانوں کو پھنسانے کا یہی طریقۂ کار ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا بھی اسی حکم میں ہے، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا: ’’إِنَّکُمْ إِذاً مِّثْلُہُمْ‘‘ سو ہر وہ شخص جو کسی اپنی مجلس میں بیٹھا اور اس نے ان کی خباثتوں یعنی مرزاقادیانی کی تعریف پر تکذیب نہ کی تو وہ ان لوگوں کے جرم میں برابر کا شریک ہے۔ اس پر لازم ہے کہ جب قادیانی، مرزا کی تعریف کریں تو ان پر اِنکار کیا جائے، اگر اِنکار کی قدرت نہیں رکھتا تو اُٹھ جائے تاکہ اس آیت کا مصداق نہ بنے۔ پس ایسے شخص اور اس کے عزیز واقارب کی نمازِ جنازہ پڑھنا شرعاً ممنوع ہے۔ ایسے لوگوں کی شرعاً عیادت کرنا، جنازہ پڑھنا، شادی بیاہ میں شریک ہونا، سلام کرنا یعنی میل جول رکھنا منع ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اِستقامت کے ساتھ بدعقیدہ لوگوں کی نحوست سے محفوظ رکھے، آمین!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۲۴-۳۲۶)
قادیانی کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص قادیانی کی لڑکی فوت ہوگئی، اس نے اور اس کے باپ نے بیٹی اور پوتی کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی، اس لئے کہ اِمام ومقتدی اہلِ سنت والجماعت تھے۔ کیا قادیانی مذہب رکھنے والے کی اولاد یا عورت کی نمازِ جنازہ اہلِ سنت والجماعت کو پڑھنی چاہئے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جنہوں نے بخیال برادری نماز اَدا کی، ان پر کچھ سزا شرعی عائد ہوگی یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ھو الموفق للصواب! قادیانی لوگ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہیں، اور نماز مسلمان کے جنازے کی پڑھی جاتی ہے، کافر کے جنازے کی نماز نہیں پڑھی جاتی۔ جس کے متعلق معلوم ہو کہ یہ قادیانی ہے، اس کے جنازے کی نماز دُرست نہیں۔(۱) اس کی عورت اگر مسلمان ہے تو اس کی نماز اور اس کے نابالغ بچے کی نماز دُرست ہے، کیونکہ نابالغ اولاد خیر الابوین کے تابع ہوتی ہے، البتہ بالغ میں مسلمان ہونے کے لئے ماںباپ کا اِعتبار نہ ہوگا، بلکہ وہ خود اگر مسلمان ہے تو اس کی نمازِ جنازہ جائز ہوگی، ورنہ نہیں۔ جن لوگوں نے غیرمسلم کے جنازے کی نماز پڑھی ہے، ان کو توبہ کرنا لازم ہے، اگر مسئلے سے ناواقفیت کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا
(۱) حوالے کے لئے ملاحظہ ہو: صفحہ:۵۰۵ کا حاشیہ نمبر۲،۳۔
510
ہے، تو ان کے لئے اور کوئی سزا نہیں، اگر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو برادری کو بعد تفہیم کوئی مناسب تدارک مثل ترکِ تعلقات کرنے میں مضائقہ نہیں۔
(فتاویٰ محمودیہ ج:۵ ص:۳۰۷،۳۰۸)
قادیانی کے ساتھ تعلقات اور اس کا جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص اہلِ سنت، قادیانی ہوجائے تو وہ خارج اَزاِسلام ہوجاتا ہے یا نہیں؟ اس شخص سے رسم تعلقات باقی رکھنا، اس کی دعوت کھانا، اس کے یہاں تقریباتِ نکاح وغیرہ میں شریک ہونا، یا اس کو اپنے یہاں دعوت کھلانا، اگر وہ اِنتقال کرجائے تو اس کی تجہیز وتکفین میں شرکت کرنا، یا کسی عالم کو باوجود جملہ حالات معلوم ہونے کے اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور اس کو مسلمانوں کے مدفن میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟ عالم صاحب کے واسطے کیا حکم ہے؟ کیونکہ عوام الناس کی شرکت کا بھی باعث ہوا، فقط!
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! علمائے اسلام کے فتوے کے مطابق قادیانی کافر ہیں۔ جو شخص قادیانی ہوجائے، وہ مرتد کے حکم میں ہے، اس سے تعلق رکھنا، اس کے نکاح وغیرہ میں شریک ہونا، یا اپنے یہاں اس کو شریک کرنا، ناجائز ہے۔ اس کے جنازے میں شرکت اور نمازِ جنازہ بھی منع ہے۔ جو شخص باوجود علم کے قادیانی کے جنازے کی نماز پڑھے یا پڑھائے، وہ گنہگار ہے، اس کو توبہ لازم ہے۔ قادیانی کو اہلِ اسلام کے قبرستان میں بھی دفن نہیں کرنا چاہئے۔والحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر درمختار وشرطھا (ای صلوٰۃ الجنازۃ) إسلام المیّت ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۱ ص:۶۴۰) تنویر اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب ای ولا یغتسل ولا یکفن ولا یدفن إلٰی من نتقل لی دینھم۔ بحر عن الفتح (رد المحتار ج:۱ ص:۶۵۷)۔
فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود گنگوہی
معین مفتی مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور
۲۸؍۱۱؍۱۳۵۵ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۵ ص:۳۰۸،۳۰۹)
قادیانی کے جنازے کی نماز
سوال:۔۔۔ جس اِمام نے پہلے بھی غلطی کی، اسی نے ایک قادیانی کی نماز پڑھائی، مگر لوگوں نے کہا کہ: اس کی نماز پڑھانی جائز نہ تھی! کہہ دیا: ضرور! مگر بلائے تھے تو میں نے اس وجہ سے نماز پڑھائی تاکہ قادیانی اس کی عورت سے نہ کہلوائیں کہ جنازہ ہمیں ملے۔ قادیانی آئے اور دُعائے خیر مانگ کر چلے گئے، مگر عورت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرا مذہب قادیانی نہیں، اس بات پر شریعت کا کیا حکم ہے؟ بعض اپنے قیاس سے جائز کہتے ہیں۔ جو قادیانی تھا، اس نے اپنے ماںباپ سے کہہ دیا تھا کہ میری
511
نماز قادیانی پڑھیں اور ان کو بلانا، اس وجہ سے ان کو بلایا گیا تھا، فقط۔
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلیًا! اگر واقعۃً وہ شخص قادیانی تھا تو اِمام اس کی نماز پڑھانے سے سخت گنہگار ہوا، اس کو علی الاعلان توبہ لازم ہے۔ قادیانی پر کفر کا فتویٰ ہے اور کافر کی نماز پڑھانا اور اس کے لئے دُعائے مغفرت کرنا حرام ہے۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
| سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
| مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
۲۲؍۱۲؍۱۳۶۰ھ |
| ۲۳؍۱۲؍۱۳۶۰ھ |
۲۳؍ذی الحجہ ۱۳۶۰ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۳ ص:۴۳۷،۴۳۸)
قادیانی کی نمازِ جنازہ کا حکم
سوال:۔۔۔ میرے رِشتہ داروں میں ایک شخص قادیانی ہے، اس کے مرنے کے بعد میرے لئے اس کے جنازے میں شرکت کرنا اور اس پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ چونکہ قادیانی مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اس بنا پر ان میں سے کسی کی بھی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور نہ ہی قادیانیوں کے مذہب کے مطابق موت کی رُسومات میں ان کے ساتھ شامل ہونا جائز ہے، اور اگر ایسے رشتہ دار کی تدفین کے لئے اس کا ہم مذہب کوئی آدمی نہ ہو تو تدفین کے شرعی طریقے سے ہٹ کر صرف زمین میں گڑھا کھود کر اسے دفن کیا جائے گا۔کما قال العلَّامۃ علاء الدین الحصکفی:
’’اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘
(الدر المختار علٰی ھامش رد المحتار ج:۱ ص:۶۵۷، باب صلوٰۃ الجنازۃ)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۵)
مرزائی کو مسلمان سمجھنے والا نکاح کی تجدید کرے
سوال:۔۔۔ ایک سنی مسلمان شخص نے مرزائی کے جنازے میں شرکت کی، کیا مرزائی کے جنازے میں شرکت سے اس کا نکاح باقی رہا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر اس نے مرزائی کو مسلمان سمجھ کر جنازہ پڑھا ہے تو وہ اپنے اِیمان ونکاح کی تجدید کرے،کما قال خاتم المحدثین علَّامۃ محمد انور شاہ الکشمیری رئیس المحدثین بجامعۃ دارالعلوم دیوبند: من ذب عنہ او تأوّل
512
قولہٗ یکفر قطعًا لیس فیہ توان۔
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
محمد انور عفا اللّٰہ عنہ |
|
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
۲۱؍۴؍۱۴۰۳ھ |
(خیر الفتاویٰ ج:۴ ص:۵۹۳،۵۹۴)
جس کی نمازِ جنازہ غیرمسلم نے پڑھائی، اس پر دوبارہ نماز ہونی چاہئے
سوال:۔۔۔ نئی کراچی سیکٹر۵ڈی میں ایک غیرمسلم گروہ کی مسجد ہے، فلاحِ دارین، اس کے پیش اِمام کا تعلق ایک دِین دار جماعت سے ہے، جو چن بشویشور کو مانتے ہیں، لیکن یہ ظاہر نہیں کرتے ہیں، لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں، جب ان کو علم ہوتا ہے تو پچھتاتے ہیں۔ یہاں ایک صاحب کا اِنتقال ہوگیا جو سنی عقیدہ تھے، ان کی نمازِ جنازہ اس مسجد کے اِمام صاحب نے پڑھائی۔ آپ یہ بتائیں کہ سنی عقیدہ رکھنے والوں کی نمازِ جنازہ قادیانی اِمام پڑھاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو دوبارہ نماز کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب:۔۔۔ ’’دِین دار انجمن‘‘ کے لوگ قادیانیوں کی ایک شاخ ہے، اس لئے یہ لوگ مسلمان نہیں۔ اس اِمام کو اِمامت سے فوراً الگ کردیا جائے۔ غیرمسلم، مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھاسکتا، اگر کسی غیرمسلم نے مسلمان کا جنازہ پڑھایا ہو تو دوبارہ جنازے کی نماز پڑھنا فرض ہے، اور اگر بغیر جنازے کے دفن کردیا گیا ہو تو تمام مسلمان گنہگار ہوں گے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۳ ص:۱۶۱)
لاہوری مرزائی کی اِقتدا میں جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ کل مؤرخہ ۸؍ستمبر بوقت ساڑھے چاربجے دِن سابق اِمام مسجد ووکنگ مسجد محمد طفیل متعلقہ مرزائی لاہوری فرقے کی ساس کا جنازہ مسجدِ ھٰذا میں لایا گیا، اور یہاں کے سرکاری اِمام خواجہ قمرالدین جو کہ اپنے آپ کو اہلِ سنت والجماعت ظاہر کرتے ہیں، مرزائی سابق اِمام محمد طفیل کی اِقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی، جبکہ چند معزّزین نے ان کی اس حرکت کا محاسبہ کیا تو خواجہ قمرالدین سرکاری اِمام ووکنگ مسجد نے یہ دلیل پیش کی کہ میں نے اس لئے جنازے میں شرکت کی ہے کیونکہ مرزا محمد طفیل بسااوقات میرے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں۔ اور دُوسری دلیل یہ پیش کی کہ میں لاہوری مرزائیوں کو کافر نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف مجدّد تسلیم کرتے ہیں، اور ہم کو کافر نہیں سمجھتے۔ لہٰذا آپ مہربانی فرماکر قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے شخص کے متعلق شرعی فتوے سے کماحقہ‘ مطلع فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی بوجہ اپنے دعاویٔ باطلہ کے قرآن وسنت کی واضح اور بدیہی نصوص اور اِجماعِ اُمت کی بنا پر قطعی کافر اور مرتد ہے، انہی وجوہات کی وجہ سے مرزا کے ایسے معتقدات کو اَپنانے والے، یا اس کی اِتباع کرنے والے، یا اس کی تصدیق وتائید، یا کسی طرح تأویل کرنے والے بھی قطعی کافر اور مرتد ہیں۔
متنبی کذّاب مرزاقادیانی کے مرنے کے بعد ان کے متبعین کی ایک جماعت نے ۔۔۔جو لاہوری مرزائی جماعت کہلاتی
513
ہے اور جس کی قیادت مولوی محمد علی لاہوری نے کی۔۔۔ مرزا کے واضح بدیہی اور غیرمبہم دعاوی کے باوجود اس کی تکفیر کرنے کی بجائے ۔۔۔جو ہر مسلمان کا لازمی عقیدہ ہونا چاہئے۔۔۔ ایسے تمام دعاوی اور اَقوالِ کفریہ کی تأویل شروع کردی، جبکہ وہ خود اپنے دعوؤں میں پکار پکار کر کہتا ہے کہ میں نبی ہوں تشریعی بھی اور غیرتشریعی بھی، سارے انبیاء بشمول حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اپنی برتری کا دعویٰ کرتا رہا، اپنے منکر تمام مسلمانوں کو جہنمی اور کافر قرار دیتا رہا، مگر مولوی محمد علی لاہوری اور اس کی پارٹی نے مرزاقادیانی کو کافر سمجھنے کی بجائے چودھویں صدی کا مجدّدِ اعظم، مصلحِ اکبر اور اس سے بڑھ کر مسیحِ موعود تک مانا۔ (ملاحظہ ہو اس کی تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ حصہ اوّل ص:۳۱۷، ریویو آف ریلجنز ج:۵ ص:۳۱۴، ج:۱۲ ص:۴۶۵ وغیرہ)۔ اس نے اپنی تفسیر میں بے شمار مقامات پر تحریفِ معنوی اور ایسے تلاعب سے کام لیا جو کہ اِلحاد کا دروازہ کھولتا ہے۔ پھر نبوّتِ مرزا سے اِنکار اور مصلح ومجدّد کہنے کا بھی راستہ جان بوجھ کر نفاق وتلبیس اور مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے اِختیار کیا گیا، ورنہ درحقیقت لاہوری اور قادیانی ہر دو پارٹیوں کے معتقدات میں کوئی فرق نہیں۔ ملاحظہ ہو: ’’پیغامِ صلح‘‘ ۷؍ستمبر۱۹۱۲ء جو کہ لاہوری پارٹی کا ترجمان ہے، اس میں مرزاقادیانی کو رسول ماننے کا اِعلان موجود ہے۔ اپنے رسالے ’’ریویو‘‘ (ج:۲ نمبر۱۱،ص:۳۱۱) میں مرزا کو نہ صرف رسول اللّٰہ اور نبی بلکہ سارے رسولوں سے افضل کہا۔
بہرحال اگر حقیقتِ حال یہ ہوتی کہ وہ مرزا کو صرف مصلح ومجدّد سمجھتے تب بھی ان کی تکفیر میں کوئی پس وپیش نہ ہوتی۔ برصغیر کے محقق علماء، خصوصاً علامہ سیّد انور شاہ کشمیریؒ نے اس فریب ونفاق کا پردہ بھی قطعی دلائل سے چاک کیا اور لاہوری گروپ کی تکفیر ہی کے ضمن میں ’’إکفار الملحدین فی ضروریات الدین‘‘ جیسی معرکۃالآرا کتاب لکھی، جس میں واضح فرمایا کہ قطعی، یقینی اور متواتر عقائد اور ضروریاتِ دِین میں تأویل وتحریف واِنکار، قطعی کفر ہے، اگرچہ ایسا کرنے والا خود اپنے آپ کو مسلمان کہے اور اپنے کو اہلِ قبلہ میں سے سمجھے، اور سارے ارکانِ اسلام، عبادات وغیرہ بھی ادا کیوں نہ کرے۔
مسلمانوں کے لئے تو مرزائیوں کا لاہوری فرقہ قادیانی اور ربوائی جماعت سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے کہ عام مسلمان انہیں نمازوں وغیرہ میں شرکت کرتے دیکھ کر ان پر حسنِ ظن کرلیتے ہیں، اور بالآخر ان کے مکائد اور خبائث کا شکار ہوجاتے ہیں، اور ان کی زبانی مرزاقادیانی کے محامد اور محاسن، سن سن کر اس کے بارے میں بھی خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں، جو ضیاعِ دِین واِیمان بن کر رہ جاتا ہے۔
الحاصل! لاہوری مرزائی بھی قادیانی مرزائیوں کی طرح قطعی کافر ہیں، نہ تو کسی مسلمان کے پیچھے ان کا نماز پڑھنا ان کے مسلمان ہونے کی دلیل بن سکتا ہے، نہ ان کا یہ کہنا کہ ہم تو مسلمانوں کو کافر نہیں سمجھتے۔ اور اَب تو قادیانیوں کی ربوہ جماعت کے اِمام نے بھی اَزراہِ تقیہ مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینے کی خاطر اپنے متبعین کو مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور معاشرتی وسماجی تعلقات قائم کرنے کی اِجازت دے دی ہے، کیا ان کے اس طرح کرنے سے وہ مسلمان کہلاسکیں گے؟ اگر مرزائی ہم مسلمانوں کو کافر نہ بھی کہیں تو کیا وہ دائرۂ کفر سے نکل سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔۔۔! بلکہ جب تک وہ مرزا کے بارے میں اپنے کفریہ عقائد سے رُجوع نہ
514
کرلیں، اسلام انہیں کافر، مرتد، واجب القتل اور جہنمی قرار دے گا۔
آپ نے اپنے سوال میں جس شخص ۔۔۔سرکاری اِمام خواجہ قمرالدین۔۔۔ کا ذِکر کیا ہے، اگر اس نے غلط فہمی اور لاعلمی کی وجہ سے لاہوری مرزائی کی اِقتدا کی، یا اسے مسلمان سمجھتا رہا، تو اسے نادم اور تائب ہوکر اپنے موقف سے رُجوع کرنا چاہئے، اور اگر اَب بھی وہ لاہوری مرزائیوں کے بارے میں اپنی رائے پر مصر ہے تو اسے منصبِ اِمامت سے ہٹانا اور معزول کرانا ضروری ہے، واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۹۸،۳۹۹)
✨ 🌟 ✨
515
بابِ دوم
قادیانی مُردے کا حکم
قادیانی مُردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور فاتحہ، دُعا واِستغفار کرنا حرام ہے
سوال:۔۔۔ قادیانی مُردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا جانا، فاتحہ پڑھنا، گھر میں جاکر سوگ اور اِظہارِ ہمدردی کرنا، اِیصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی میں شرکت کرنا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ قادیانی، کافر ومرتد اور زِندیق ہیں، ان کے دفن میں شرکت کرنا، ان کی فاتحہ پڑھنا، ان کے لئے دُعا واِستغفار کرنا حرام ہے۔ مسلمانوں کو ان سے مکمل قطع تعلق کرنا چاہئے۔(۱)
قادیانی مُردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس سلسلے میں کہ بعض دفعہ قادیانی اپنے مُردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کردیتے ہیں، اور پھر مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان کو نکالا جائے۔ تو کیا قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں؟ اور مسلمانوں کے اس طرزِ عمل کا کیا جواز ہے؟
جواب:۔۔۔ قادیانی غیرمسلم اور زِندیق ہیں، ان پر مرتدین کے اَحکام جاری ہوتے ہیں۔ کسی غیرمسلم کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں اس کی صاف ممانعت موجود ہے، اِرشادِ خداوندی ہے:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُواْ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُواْ وَہُمْ فَاسِقُونَ‘‘ (التوبۃ:۸۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجائے کبھی، اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر، وہ منکر ہوئے اللّٰہ سے اور اس کے رسول سے، اور وہ مرگئے نافرمان۔‘‘ (ترجمہ: حضرت شیخ الہندؒ)
اسی طرح کسی غیرمسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، جیسا کہ آیتِ کریمہ کے الفاظ: ’’وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘
(۱)قال تعالٰی: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔
قال الآلوسی تحت ھٰذہ الآیۃ: والمراد من الصلاۃ المنھی عنھا صلاۃ المیّت المعروفۃ وھی متضمنۃ للدعاء والإِستغفار والإِستشفاع ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر رُوح المعانی ج:۱۰ ص:۱۵۵، سورۃ التوبۃ، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
516
سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے قبرستان ہمیشہ الگ الگ رہے، پس کسی مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ علامہ سعدالدین مسعود بن عمر بن عبداللّٰہ تفتازانی (المتوفیٰ۷۹۱ھ) ’’شرح مقاصد‘‘ میں اِیمان کی تعریف میں مختلف اقوال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر اِیمان دِل وزبان سے تصدیق کرنے کا نام ہو تو اِقرار رُکنِ اِیمان ہوگا، اور اِیمان تصدیق مع الاقرار کو کہا جائے گا، لیکن اگر اِیمان صرف تصدیقِ قلبی کا نام ہو:
’’فإن الإِقرار حینئذ شرط لإِجراء الأحکام علیہ فی الدنیا من الصلاۃ علیہ وخلفہ، والدّفن فی مقابر المسلمین والمطالبۃ بالعشور والزکوات ونحو ذالک۔‘‘
(شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۴۸، مطبوعہ دار المعارف النعمانیہ، لاہور)
ترجمہ:۔۔۔ ’’تو اِقرار اس صورت میں، اس شخص پر دُنیا میں اسلام کے اَحکام جاری کرنے کے لئے شرط ہوگا، یعنی اس کی نمازِ جنازہ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا، اس سے زکوٰۃ وعشر کا مطالبہ کیا جانا، اور اس طرح کے دیگر اُمور۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی ان اسلامی حقوق میں سے ایک ہے جو صرف مسلمان کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ کہ جس طرح کسی غیرمسلم کی اِقتدا میں نماز جائز نہیں، اس کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، اور اس سے زکوٰۃ وعشر کا مطالبہ دُرست نہیں۔ ٹھیک اسی طرح کسی غیرمسلم مُردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دینا بھی جائز نہیں، اور یہ کہ یہ مسئلہ تمام اُمتِ مسلمہ کا متفق علیہ اور مُسلَّمہ مسئلہ ہے، جس میں کسی کا کوئی اِختلاف نہیں۔ چنانچہ ذیل میں مذاہبِ اَربعہ کی مستند کتابوں سے اس مسئلے کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں، وﷲ الموفِّق!
فقہِ حنفی:
شیخ زین الدین ابنِ نجیم المصری (المتوفیٰ۹۷۰ھ) ’’الاشباہ والنظائر‘‘ کے فن اوّل قاعدۂ ثانیہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’قال الحاکم فی الکافی من کتاب التحری: وإذا اختلط موتی المسلمین وموتی الکفار فمن کانت علیہ علامۃ المسلمین صلی علیہ ومن کانت علیہ علامۃ الکفار ترک، فإن لم تکن علیھم علامۃ والمسلمون اکثر غسلوا وکفنوا وصلی علیھم، وینوون بالصلاۃ والدعاء للمسلمین دون الکفار، ویدفنون فی مقابر المسلمین، وإن کان الفریقان سواء او کانت الکفار اکثر لم یصل علیھم، ویغسلون ویکفنون ویدفنون فی مقابر المشرکین۔‘‘
(الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۱۵۲، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اِمام حاکم ’’الکافی‘‘ کی کتاب التحری میں فرماتے ہیں: اور جب مسلمان اور کافر
517
مُردے خلط ملط ہوجائیں تو جن مردوں پر مسلمانوں کی علامت ہوگی، ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اور جن پر کفار کی علامت ہوئی، ان کی نمازِ جنازہ نہیں ہوگی، اور اگر ان پر کوئی شناختی علامت نہ ہو، تو اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو سب کو غسل وکفن دے کر ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اور نیت یہ کی جائے گی کہ ہم صرف مسلمانوں پر نماز پڑھتے ہیں اور ان کے لئے دُعا کرتے ہیں، اور ان سب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، اور اگر دونوں فریق برابر ہوں یا کافروں کی اکثریت ہو تو ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، ان کو غسل وکفن دے کر غیرمسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔‘‘
نیز دیکھئے ’’نفع المفتی والسائل‘‘ از مولانا عبدالحی لکھنوی (المتوفیٰ۱۳۰۴ھ) اواخر کتاب الجنائز۔
مندرجہ بالا مسئلے سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان اور کافر مُردے مختلط ہوجائیں اور مسلمانوں کی شناخت نہ ہوسکے، تو اگر دونوں فریق برابر ہوں، یا کافر مُردوں کی اکثریت ہو تو اس صورت میں مسلمان مُردوں کو بھی اِشتباہ کی بنا پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہ ہوگا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جو مردہ قطعی طور پر غیرمسلم، مرتد قادیانی ہو، اس کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بدرجہ اَولیٰ جائز نہیں، اور کسی صورت میں بھی اس کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔
نیز ’’الاشباہ‘‘ فن ثانی، کتاب السیر، باب الردّۃ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’وإذا مات او قتل علٰی ردّتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین ولا اھل ملّۃ وإنما یلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۱۰۱، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جب مرتد ہوجائے یا اِرتداد کی حالت میں قتل کردیا جائے تو اس کو نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ کسی ملت کے قبرستان میں، بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔‘‘
مندرجہ بالا جزئیہ قریباً تمام کتب فقہیہ میں کتاب الجنائز اور کتاب السیر ’’باب المرتد‘‘ میں ذِکر کیا گیا ہے، مثلاً: ’’درمختار‘‘ (ج:۱ ص:۶۵۷ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) میں ہے:
’’اما المرتد فیلقی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’لیکن مرتد کو کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔‘‘
علامہ محمد امین ابن عابدین شامیؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’ولا یغسل ولا یکفن ولا یدفع إلٰی من انتقل إلٰی دینھم، بحر عن الفتح۔‘‘
(ردالمحتار ج:۲ ص:۲۳۰، مطبوعہ کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یعنی نہ اسے غسل دیا جائے، نہ کفن دیا جائے، نہ اسے ان لوگوں کے سپرد کیا جائے جن کا مذہب اس مرتد نے اِختیار کیا۔‘‘
518
قادیانی چونکہ زِندیق اور مرتد ہیں، اس لئے اگر کسی کا عزیز قادیانی مرتد ہوجائے تو نہ اسے غسل دے، نہ کفن دے، نہ اسے مرزائیوں کے سپرد کرے، بلکہ گڑھا کھود کر اسے کتے کی طرح اس میں ڈال دے۔ اسے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، بلکہ کسی اور مذہب وملت کے قبرستان یا مرگھٹ مثلاً یہودیوں کے قبرستان اور نصرانیوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔
فقہِ مالکی:
قاضی ابوبکر محمد بن عبداللّٰہ المالکی الاشبیلی المعروف بابن العربیؒ (المتوفیٰ۵۴۳ھ) سورۃ الاعراف کی آیت:۱۷۲ کے تحت متأوّلین کے کفر پر گفتگو کرتے ہوئے ’’قدریہ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اختلف علماء المالکیۃ فی تکفیرھم علٰی قولین، فالصریح من اقوال مالک تکفیرھم۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’علمائے مالکیہ کے ان کی تکفیر میں دو قول ہیں، چنانچہ اِمام مالکؒ کے اقوال سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہ کافر ہیں۔‘‘
آگے دُوسرے قول ۔۔۔عدمِ تکفیر۔۔۔ کی تضعیف کرنے کے بعد اِمام مالکؒ کے قول پر تفریع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فلا یناکحوا ولا یصلی علیھم فإن خیف علیھم الضیعۃ دفنوا کما یدفن الکلب، فإن قیل: واین یدفنون؟ قلنا: لا یؤْذی بجوارھم مسلم۔‘‘
(احکام القرآن لابن العربی ج:۲ ص:۸۰۲، مطبوعہ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پس نہ ان سے رشتہ ناتا کیا جائے، نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور اگر ان کا کوئی والی وارث نہ ہو، اور ان کی لاش ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔
اگر یہ سوال ہو کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ: کسی مسلمان کو ان کی ہمسائیگی سے اِیذا نہ دی جائے، یعنی مسلمانوں کے قبرستانوں میں انہیں دفن نہ کیا جائے۔‘‘
فقہِ شافعی:
الشیخ الامام جمال الدین ابواِسحاق اِبراہیم بن علی بن یوسف الشیرازی الشافعیؒ (المتوفیٰ۴۷۶ھ) اور اِمام محی الدین یحییٰ بن شرف النوویؒ (المتوفیٰ۶۷۶ھ) لکھتے ہیں:
’’قال المصنف رحمہ ﷲ: ولا یدفن کافر فی مقبرۃ المسلمین ولا مسلم فی مقبرۃ الکفار۔ الشرح: إتفق اصحابنا رحمھم ﷲ علٰی انہ لا یدفن مسلم فی مقبرۃ کفار، ولا کافر فی مقبرۃ مسلمین، ولو ماتت ذمیۃ حامل بمسلم ومات جنینھا فی جوفھا ففیہ اوجہ۔ (الصحیح)
519
انھا تدفن بین مقابر المسلمین والکفار، ویکون ظھرھا إلی القبلۃ، لأن وجہ الجنین إلٰی ظھر اُمّہ ھٰکذا قطع بہ ابن الصباغ والشاشی وصاحب البیان وغیرھم وھو المشھور۔‘‘
(شرح مھذب ج:۵ ص:۲۸۵، مطبوعہ بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مصنف رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: اور نہ دفن کیا جائے کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں اور نہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں۔ شرح: اس مسئلے میں ہمارے اَصحاب ۔۔۔شافعیہ۔۔۔ کا اِتفاق ہے کہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں اور کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ذِمی عورت مرجائے جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرجائے تو اس میں چند وجہیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس کو مسلمانوں اور کافروں کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے گا اور اس کی پشت قبلے کی طرف کی جائے گی، کیونکہ پیٹ کے بچے کا منہ اس کی ماں کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔ ابن الصباغ، شاشی صاحب البیان اور دیگر حضرات نے اسی قول کو جزماً اِختیار کیا ہے، اور یہی ہمارے مذہب کا مشہور قول ہے۔‘‘
فقہِ حنبلی
الشیخ الامام موفق الدین ابو محمد عبداللّٰہ بن احمد بن محمد بن قدامۃ المقدسی الحنبلیؒ (المتوفیٰ۶۲۰ھ) ’’المغنی‘‘ میں، اور اِمام شمس الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن محمد بن احمد بن قدامۃ المقدسی الحنبلیؒ (المتوفیٰ۶۸۲ھ) ’’الشرح الکبیر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مسألۃ: قال: وإن ماتت نصرانیۃ وھی حاملۃ من مسلم دفنت بین مقبرۃ المسلمین ومقبرۃ النصاریٰ، إختار ھٰذا احمد، لأنھا کافرۃ لا تدفن فی مقبرۃ المسلمین فیتأذوا بعذابھا، ولا فی مقبرۃ الکفار لأن ولدھا مسلم فیتأذی بعذابھم، وتدفن منفردۃ، مع انہ روی عن واثلۃ بن الأسقع مثل ھٰذا القول، وروی عن عمر انھا تدفن فی مقابر المسلمین، قال ابن المنذر: لا یثبت ذالک، قال اصحابنا: ویجعل ظھرھا إلی القبلۃ علٰی جانبھا الأیسر لیکون وجہ الجنین إلی القبلۃ علٰی جانبہ الأیمن لأن وجہ الجنین إلٰی ظھرھا۔‘‘
(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۲ ص:۴۲۳، مطبوعہ بیروت ۱۴۰۳ھـ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اگر نصرانی عورت، جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی مرجائے تو اسے (نہ تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ نصاریٰ کے قبرستان میں، بلکہ) مسلمانوں کے قبرستان اور نصاریٰ کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے۔ اِمام احمدؒ نے اس کو اس لئے اِختیار کیا ہے کہ وہ عورت تو کافر ہے، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا کہ اس کے عذاب سے مسلمان مُردوں کو اِیذا نہ ہو، اور نہ اسے کافروں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، کیونکہ اس کے پیٹ کا بچہ مسلمان ہے، اسے کافروں
520
کے عذاب سے اِیذا ہوگی، اس لئے اس کو الگ دفن کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حضرت واثلہ بن الاسقعؓ سے اسی قول کے مثل مروی ہے، اور حضرت عمرؓ سے جو مروی ہے کہ ایسی عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، ابن المنذرؒ کہتے ہیں کہ: یہ روایت حضرت عمرؓ سے ثابت نہیں۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس نصرانی عورت کو بائیں کروَٹ پر لٹاکر اس کی پشت قبلے کی طرف کی جائے تاکہ بچے کا منہ قبلے کی طرف رہے، کیونکہ پیٹ میں بچے کا چہرہ عورت کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعتِ اسلامی کا متفق علیہ اور مُسلَّم مسئلہ ہے کہ کسی غیرمسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ شریعتِ اسلامی کا یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ جھوٹے مدعیانِ نبوّت کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے:
’’حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیانِ نبوّت کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں، وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرّہ قابلِ اِعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعویٰ پر اِصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اِصرار کیونکر ثابت ہوسکتا ہے جب تک اسی زمانے کی کسی تحریر کے ذریعے سے یہ اَمر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اسی اِفترا اور جھوٹے دعویٔ نبوّت پر مرے اور ان کا کسی اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔‘‘
(تحفۃ الندوۃ ص:۷، خزائن ج:۱۹ ص:۹۵ مطبوعہ لندن)
اسی رسالے میں آگے چل کر لکھا ہے:
’’پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرضِ محال کوئی کتاب اِلہامی مدعیٔ نبوّت کی نکل آئے، جس کو وہ قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعویٰ ہے) خدا کی ایسی وحی کہتا ہوں، جس کی صفت میں لاریب فیہ ہے، جیسا کہ میں کہتا ہوں اور پھر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ وہ بغیر توبہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا۔‘‘
(تحفۃالندوۃ ص:۱۲، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۹۹،۱۰۰ مطبوعہ لندن)
مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دونوں عبارتوں سے تین باتیں واضح ہوئیں:
ایک:۔۔۔ یہ کہ جھوٹا مدعیٔ نبوّت کافر ومرتد ہے، اسی طرح اس کے ماننے والے بھی کافر ومرتد ہیں، وہ کسی اِسلامی سلوک کے مستحق نہیں۔
دوم:۔۔۔ یہ کہ کافر ومرتد کی نمازِ جنازہ نہیں، اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔
سوم:۔۔۔ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوّت کا دعویٰ ہے، اور وہ اپنی شیطانی وحی کو ۔نعوذباللّٰہ۔ قرآنِ کریم کی طرح سمجھتا ہے۔
521
پس اگر گزشتہ دور کے جھوٹے مدعیانِ نبوّت اس کے مستحق ہیں کہ ان کو اِسلامی برادری میں شامل نہ سمجھا جائے، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے، تو مرزا غلام احمد قادیانی ۔۔۔جس کا جھوٹا دعویٔ نبوّت اظہر من الشمس ہے۔۔۔ اور اس کی ذُرّیتِ خبیثہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے۔
رہا یہ سوال کہ اگر قادیانی چپکے سے اپنا مُردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا کیاکیا جائے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ علم ہوجانے کے بعد اس کا اُکھاڑنا واجب ہے، اور اس کی چند وجہیں ہیں:
اوّل:۔۔۔ یہ کہ مسلمانوں کا قبرستان مسلمانوں کی تدفین کے لئے وقف ہے، کسی غیرمسلم کا اس میں دفن کیا جانا ’’غصب‘‘ ہے، اور جس مُردے کو غصب کی زمین میں دفن کیا جائے اس کا نبش (اُکھاڑنا) لازم ہے۔ جیسا کہ کتبِ فقہیہ میں اس کی تصریح موجود ہے،(۱) کیونکہ کافر ومرتد کی لاش، جبکہ غیرمحل میں دفن کی گئی ہو، لائقِ اِحترام نہیں، چنانچہ اِمام بخاریؒ نے صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ میں باب باندھا ہے: ’’باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ‘‘ اور اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے کہ مسجدِ نبوی کے لئے جو جگہ خریدی گئی اس میں کافروں کی قبریں تھیں۔
’’فأمر النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بقبور المشرکین فنبشت۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۶۱، باب ھل نبش قبور، مطبوعہ حاجی نور محمد اصح المطابع)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پس آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اُکھاڑنے کا حکم فرمایا، چنانچہ وہ اُکھاڑ دی گئیں۔‘‘
حافظ ابنِ حجرؒ، اِمام بخاریؒ کے اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’ای دون غیرھا من قبور الأنبیاء واتباعھم لما فی ذالک من الإھانۃ لھم بخلاف المشرکین فإنھم لا حرمۃ لھم۔‘‘ (فتح الباری ج:۱ ص:۴۳۷، مطبوعہ دارالمعرفۃ، بیروت)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یعنی مشرکین کی قبروں کو اُکھاڑا جائے گا، انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین کی قبروں کو نہیں، کیونکہ اس میں ان کی اہانت ہے، بخلاف مشرکین کے، کہ ان کی کوئی حرمت نہیں۔‘‘
حافظ بدرالدین عینیؒ (المتوفیٰ۸۵۵ھ) اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’(فإن قلت) کیف یجوز إخراجھم من قبورھم والقبر مختص بمن دفن فیہ فقد حازہ
(۱) إذا دفن المیّت فی ارض غیرہ بغیر مالکھا، فالمالک بالخیار إن شاء امر بإخراج المیّت وإن شاء سوَّی الأرض وزرع فیھا، کذا فی التجنیس۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۶۷، کتاب الصلٰوۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل السادس فی القبر والدفن، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
ایضًا: إذا دفن فی ارض مغصوبۃ او کفن فی ثوب مغصوب ولم یرض صاحبہ إلَّا بنقلہ عن ملکہ او نزع ثوبہ جاز ان یخرج منہ بإتفاق۔ (مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح مع حاشیۃ الطحطاوی ص:۳۳۷، فصل فی حملھا ودفنھا، طبع میر محمد کتب خانہ)۔
522
فلا یجوز بیعہ ولا نقلہ عنہ۔ (قلت) تلک القبور التی امر النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بنبشھا لم تکن املاکا لمن دفن فیھا بل لعلھا غصبت، فلذالک باعھا ملاکھا، وعلٰی تقدیر التسلیم انھا حبست فلیس بلازم، انما اللازم تحبیس المسلمین لا الکفار، ولھٰذا قالت الفقھاء إذا دفن المسلم فی ارض مغصوبۃ یجوز إخراجہ فضلا عن المشرک۔‘‘
(عمدۃ القاری ج:۲ ص:۳۵۹، طبع دار الطباع العامرۃ)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اگر کہا جائے کہ مشرک وکافر مُردوں کو ان کی قبروں سے نکالنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ جبکہ قبر مدفون کے ساتھ مختص ہوتی ہے، اس لئے نہ اس کی جگہ کو بیچنا جائز ہے او رنہ مُردے کو وہاں سے منتقل کرنا جائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبریں جن کے اُکھاڑنے کا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، غالباً دفن ہونے والوں کی مِلک نہیں تھیں، بلکہ وہ جگہ غصب کی گئی تھی، اس لئے مالکوں نے اس کو فروخت کرایا۔ اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ جگہ ان مُردوں کے لئے مخصوص کردی گئی تھی، تب بھی یہ لازم نہیں، کیونکہ مسلمانوں کا قبروں میں رکھنا لازم ہے، کافروں کا نہیں۔ اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جب مسلمان کو غصب کی زمین میں دفن کردیا گیا ہو تو اس کو نکالنا جائز ہے، چہ جائیکہ کافر ومشرک کا نکالنا۔‘‘
پس جو قبرستان کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے، اس میں کسی قادیانی کو دفن کرنا اس جگہ کا غصب ہے، کیونکہ وقف کرنے والے نے اس کو مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہے، کسی کافر ومرتد کو اس وقف کی جگہ میں دفن کرنا غاصبانہ تصرف ہے، اور وقف میں ناجائز تصرف کی اِجازت دینے کا کوئی شخص بھی اِختیار نہیں رکھتا، بلکہ اس ناجائز تصرف کو ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے، اس لئے جو قادیانی، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہو، اس کو اُکھاڑکر اس غصب کا اِزالہ کرنا ضروری ہے۔ اور اگر مسلمان اس تصرفِ بے جا اور غاصبانہ حرکت پر خاموش رہیں گے اور اس غصب کے اِزالے کی کوشش نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے، اور اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوگی کہ جگہ مسجد کے لئے وقف ہو، اس میں گرجا اور مندر بنانے کی اِجازت دے دی جائے۔ یا اگر اس جگہ پر غیرمسلم قبضہ کرکے اپنی عبادت گاہیںتعمیر کرلیں تو اس ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضے کا اِزالہ مسلمانوں پر فرض ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کے قبرستان میں، جو کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے، اگر غیرمسلم قادیانی ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کرلیں تو اس کا اِزالہ بھی واجب ہوگا۔
دُوسری وجہ:۔۔۔ یہ ہے کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا مسلمان مُردوں کے لئے اِیذا کا سبب ہے، کیونکہ کافر اپنی قبر میں معذّب ہے اور اس کی قبر محلِ لعنت وغضب ہے۔ اس کے عذاب سے مسلمان مُردوں کو اِیذا ہوگی۔(۱) اس لئے کسی کافر
(۱) ویکرہ ان یدخل الکافر قبر احد من قرابتہ من المؤْمنین، لأنہ الموضع الذی فیہ الکافر تنزل فیہ السخطۃ واللعنۃ فینزہ قبر المسلم عن ذالک۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۳۱۹، صلاۃ الجنازۃ، سنۃ الدفن، طبع سعید کراچی)۔
523
کو مسلمانوں کے درمیان دفن کرنا جائز نہیں، اور اگر دفن کردیا گیا ہو تو مسلمانوں کو اِیذا سے بچانے کے لئے اس کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے۔ اس کی لاش کی حرمت کا نہیں، بلکہ مسلمان مُردوں کی حرمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ اِمام ابوداؤدؒ نے کتاب الجہاد، ’’باب علٰی ما یقاتل المشرکین‘‘ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کیا ہے:
’’انا بریء من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین، قالوا: یا رسول ﷲ! لم؟ قال: لا ترایا نارھما۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۱ ص:۳۵۶، مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میںبَری ہوں ہر اس مسلمان سے جو کافروں کے درمیان مقیم ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! یہ کیوں؟ فرمایا: دونوں کی آگ ایک دُوسرے کو نظر نہیں آنی چاہئے۔‘‘
نیز اِمام ابوداؤدؒ نے آخر کتاب الجہاد، ’’باب فی الإقامۃ بأرض الشرک‘‘ میں یہ حدیث نقل کی ہے:
’’من جامع المشرک وسکن معہ فإنہ مثلہ۔‘‘
(ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۹، طبع ایچ ایم سعید کراچی)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جس شخص نے مشرک کے ساتھ سکونت اِختیار کی، وہ اسی کی مثل ہوگا۔‘‘
پس جبکہ دُنیا کی عارضی زندگی میں کافر ومسلمان کی اِکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اِجتماع کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے۔۔۔؟
تیسری وجہ:۔۔۔ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان کی زیارت اور ان کے لئے دُعا واِستغفار کا حکم ہے،(۱) جبکہ کسی کافر کے لئے دُعا واِستغفار اور اِیصالِ ثواب جائز نہیں۔(۲) اس لئے لازم ہوا کہ کسی کافر کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں نہ رہنے دی جائے، جس سے زائرین کو دھوکا لگے اور وہ کافر مُردوں کی قبر پر کھڑے ہوکر دُعا واِستغفار کرنے لگیں۔
مرزا غلام احمد کے ملفوظات میں ایک بزرگ کا حسبِ ذیل واقعہ ذِکر کیا گیا ہے:
’’ایک بزرگ کسی شہر میں بہت بیمار ہوگئے اور موت تک کی حالت پہنچ گئی، تب اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ دوست حیران ہوئے کہ یہ عابد وزاہد آدمی ہیں، یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی کیوں خواہش کرتے ہیں؟ شاید اس وقت حواس دُرست نہیں رہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ تم میرے فقرے پر تعجب نہ کرو،
(۱)عن بریدۃ قال: کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یعلّمھم إذا خرجوا إلی المقابر السلام علیکم اھل الدیار من المؤْمنین والمسلمین، وإنا إن شاء ﷲ بکم لاحقون، نسأل ﷲ لنا ولکم العافیۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۱۵۴، باب زیارۃ القبور، الفصل الأوّل، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۲) قال تعالٰی: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘ (التوبۃ:۸۴) قال ابن کثیر: امر ﷲ تعالٰی رسولہ صلی ﷲ علیہ وسلم ان یبراٴ من المنافقین، وان لا یصلّی علٰی احد منھم إذا مات، وان لا یقوم علٰی قبرہ لیستغفر لہ او یدعو لہ، لأنھم کفروا باﷲ ورسولہ وماتوا علیہ، وھٰذا حکم عام فی کل من عرف نفاقہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۲۵، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
524
میں ہوش سے بات کرتا ہوں۔ اور اصل واقعہ یہ ہے کہ تیس سال سے میں دُعا کرتا ہوں کہ مجھے موت طوس کے شہر میں آئے، پس اگر آج میں یہاں مرجاؤں تو جس شخص کی تیس سال کی مانگی ہوئی دُعا قبول نہیں ہوئی، وہ مسلمان نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس صورت میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہوکر اہلِ اسلام کو دھوکا دُوں اور لوگ مجھے مسلمان جان کر میری قبر پر فاتحہ پڑھیں۔‘‘
(مرزا غلام احمد قادیانی کے ملفوظات ج:۷ ص:۳۹۶، مطبوعہ لندن)
اس واقعے سے بھی معلوم ہوا کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے مسلمانوں کو دھوکا ہوگا اور وہ اسے مسلمان سمجھ کر اس کی قبر پر فاتحہ پڑھیں گے۔
حضراتِ فقہاء نے مسلم وکافر کے اِمتیاز کی یہاں تک رعایت کی ہے کہ اگر کسی غیرمسلم کا مکان مسلمانوں کے محلے میں ہو تو اس پر علامت کا ہونا ضروری ہے کہ یہ غیرمسلم کا مکان ہے، تاکہ کوئی مسلمان وہاں کھڑا ہوکر دُعا وسلام نہ کرے، جیسا کہ کتاب السیر، باب اَحکام اہل الذمۃ میں فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔(۱)
خلاصہ یہ کہ کسی غیرمسلم کو خصوصاً کسی قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، اور اگر دفن کردیا گیا ہو تو اس کا اکھاڑنا اور مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کرنا ضروری ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۳ ص:۱۳۲ تا ۱۵۶)
’’دِین دار انجمن‘‘ کے پیروکار مرتد ہیں، ان کا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے
سوال:۔۔۔ ہمارے محلے میں ’’دِین دار انجمن‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کام کر رہی ہے، جس کے نگرانِ اعلیٰ سعید بن وحید صاحب ہیں، جو کہ ہمارے علاقے میں ہی رہائش رکھتے ہیں، ان کے صاحبزادے کا حال ہی میں حادثے کی وجہ سے اِنتقال ہوگیا، علاقے کے مسلمانوں کے رَدِّعمل کی وجہ سے اس کی نمازِ جنازہ علاقے میں نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد اسی قبرستان میں تدفین کردی گئی۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ ’’دِین دار انجمن‘‘ کے حالات وعقائد پروفیسر اِلیاس برنی مرحوم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں ذِکر کئے ہیں۔ اور جناب مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس فرقے کے عقائد پر مستقل رسالہ ’’بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا‘‘ کے نام سے لکھا ہے۔
یہ جماعت، قادیانیوں کی ایک شاخ ہے، اور اس جماعت کا بانی بابو صدیق دِین دار ’’چن بسویشور‘‘ خود بھی نبوّت، بلکہ خدائی کا مدعی تھا۔ بہرحال یہ جماعت مرتد اور خارج اَز اِسلام ہے۔ ان سے مسلمانوں کا سا معاملہ جائز نہیں، ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے، نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے، ان مرتدین کا جو مُردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے، اس کو اُکھاڑنا
(۱)ویأخذ الذمی بالتمیز عما فی المرکب والملبس۔ وتجعل علٰی دورھم علامۃ۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۱۷۷ احکام الذمی)
525
ضروری ہے، اس کے خلاف اِحتجاج کیا جائے اور ان سے کہا جائے کہ مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کریں۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۶)
مرزائی میّت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا
سوال:۔۔۔ کیا مرزائی میّت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے؟ از دفتر مجلس تحفظ ختمِ نبوّت، ملتان۔
جواب۱:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک تعاملِ مسلمین یہی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے قبرستان علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں، اور تعاملِ اُمت حجتِ قطعیہ ہے، لہٰذا مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔(۲)
(۲) ایضاً حوالہ بالا۔
۲:۔۔۔ قبرستان میں داخلے کے وقت سلام سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا دفن مسلمانوں کے قبرستان میں جائز نہیں، وہ الفاظ یہ ہیں: ’’السلام علیکم دار قوم مؤْمنین‘‘ اِضافت دار مؤمنین کی طرف علامت تخصیص ہے، اور یہ الفاظ حدیث میں وارِد ہیں (شامی ج:۱ ص:۶۶۵، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
۳:۔۔۔ اگر اِتفاقاً چند مسلمان اور کافر مُردے باہم مل جائیں اور کوئی اِمتیازی علامت موجود نہ ہو تو فقہاء نے لکھا ہے کہ ان کو بھی علیحدہ دفن کیا جائے، ہرچند ان میں مسلمان بھی ہیں، لیکن مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے لامحالہ کافر بھی وہیں دفن ہوں گے (اور یہ جائز نہیں ہے)۔
۴:۔۔۔ اگر کوئی ذِمیہ عورت مسلمانوں سے حاملہ ہو اور بحالتِ حمل اس کا اِنتقال ہوگیا، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ یہ صراحت ہے اس بات کی کہ غیرمسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہے۔
’’لو اختلط موتانا بکفار ولا علامۃ اعتبر الأکثر قالوا والأحوط دفنھا علیحدۃ۔ (درمختار) قولہ کدفن ذمیۃ جعل الأوّل شبھًا بھٰذا الخ اختلف فیھا الصحابۃ رضی ﷲ عنھم علٰی ثلاثۃ اقوالٍ، فقال بعضھم: تدفن فی مقابرنا ترجیحًا لجانب الولد، وبعضھم فی مقابر المشرکین لأن الولد فی حکم جزئٍ منھا ما دام فی بطنھا، وقال واثلۃ بن الأسقع یُتَّخذ لھا مقبرۃٌ
(۱) إذا مات (المرتد) او قتل علٰی ردّتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین، ولا اھل ملّۃ وإنما یلقی فی حفرۃ کالکلب۔ (الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱، الفن الثانی، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
ایضًا: عن انس بن مالک قال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فأمر النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بقبور المشرکین، فنبشت ۔۔۔إلخ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۶۱، طبع نور محمد کراچی)۔
وفی العمدۃ: فإن قلت کیف یجوز إخراجھم من قبورھم، والقبر مختص بمن دفن فیہ فقد جازہ فلا یجوز بیعہ ولا نقلہ عنہ، قلت: تلک القبور التی امر النبی صلی ﷲ علیہ وسلم بنبشھا لم تکن املاکًا لمن دفن فیھا بل لعلھا غصبت فلذالک باعھا ملاکھا، وعلیٰ تقدیر التسلیم انھا حبست فلیس بلازم، إنما اللازم تحبیس المسلمین لا الکفار، ولھٰذا قالت الفقھاء: إذا دفن المسلم فی ارض مغصوبۃ یجوز إخراجہ فضلًا عن المشرک۔ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۱۷۹، جزء رابع، طبع دار الفکر بیروت)۔
526
علٰی حدۃ قال فی الحلیۃ: وھٰذا احوَط۔ (شامی ج:۱ ص:۶۳۵، طبع مکتبہ رشیدیہ)
فقط واللّٰہ اعلم
|
الجواب صحیح |
الاحقر محمد انور عفا اللّٰہ عنہ |
|
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
نائب مفتی خیر المدارس، ملتان |
|
مفتی خیرالمدارس، ملتان |
۲۵؍۷؍۱۳۹۷ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۳ ص:۲۴۱،۲۴۲)
مرزائی کا جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک مرزائی فوت ہوا ہے، اس کی قبر مسلمانوں نے کھودی ہے اور اس کا جنازہ مسلمانوں اور مرزائیوں نے الگ الگ اپنے مسلک کے مطابق پڑھا، جنازہ قبر تک مرزائی اُٹھاکر لے گئے، اور لحد میں اُتارنے والے مسلمان تھے، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ مسلمان، مرزائیوں کے ساتھ ماتم وغیرہ میں بھی شریک رہے، گھر سے کھانا پکواکر مرزائیوں کو دِیا ہے۔ اب شرعاً اس مدفون کو قبرستان سے نکال کر باہر کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور جن مسلمانوں نے جنازے میں شرکت کی ہے ان سے شرعی بائیکاٹ جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کی سزا کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزائی باتفاق اہلِ سنت والجماعت، کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، مسلمانوں کو اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت جائز نہیں ہے اور نہ ہی مرزائی میّت کو اہلِ اسلام کے قبرستان میں دفنانا جائز ہے۔(۱) فقط واللّٰہ اعلم
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۳ ص:۵۵)
قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی ضروریاتِ دِین سے اِنکار کی بنا پر کافر اور مرتد ہیں، ان کو اہلِ اسلام کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ کما قال العلَّامۃ ابن نجیم المصری رحمہ ﷲ:
’’اما المرتدّ فلا یغسل ولا یکفن وإنما یلقی فی حفیرۃ کالکلب ولا یدفع إلٰی من انتقل إلٰی دینھم۔‘‘ (البحر الرائق ج:۲ ص:۱۹۱، کتاب الجنائز، فصل فی السلطان احق بصلاتہٖ)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۶)
✨ 🌟 ✨
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ کیجئے۔
527
بابِ سوم
قادیانی وراثت کے اَحکام
اِرتداد کی وجہ سے مال مِلک سے نکل جاتا ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ میرا بیٹا اور اس کی بیوی دونوں قادیانی ۔۔۔مرتد۔۔۔ ہوگئے ہیں، اور اپنے قادیانی ہونے کا اِقرار بھی کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے ورثاء کے مال کے وارث ہوسکتے ہیں؟ اس کی بیوی کا جہیز اور سامان میرے پاس ہے، اس کا وارث کون ہے؟ میں اپنے لڑکے سے اس حالت میں تعلق رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ تنبیہاً ان سے رشتہ نہ رکھیں۔ مرتد رہتے ہوئے جائیداد کے وارث نہیں ہوسکتے، ہر دو کی ملکیت اپنے مملوکہ اموال سے زائل ہوچکی ہے، اگر وہ اِسلام لے آئیں تو دوبارہ لے سکتے ہیں اور اگر معاذاللّٰہ ان کا اس میں اِنتقال ہوجائے تو ان کا مال ہر دو کے ورثاء کو منتقل ہوجائے گا۔
’’ویزول مِلک المرتد عن مالہ زوالًا موقوفًا فإن اسلم عاد ملکہ وإن مات او قتل علٰی رّدتہٖ ورث کسب إسلامہ وارثہ المسلم۔‘‘ (شامیۃ ج:۳ ص:۳۲۸ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)(۱)
فقط واللّٰہ اعلم!
|
الجواب صحیح |
محمد انور |
|
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
جامعہ خیرالمدارس ملتان |
|
|
۲۵؍۹؍۱۴۰۶ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۸۰)
قادیانی مسلمانوں کے ترکہ کے وارث نہیں بن سکتے
سوال:۔۔۔ بی بی زینب حنفی المذہب نے اِنتقال کیا اور جائیدادِ منقولہ وغیرمنقولہ ومندرجہ ذیل ورثا کو چھوڑا: تین لڑکی، وایک شوہر قادیانی المذہب، اور تین بھائی جن میں سے ایک قادیانی اور دو حنفی المذہب کو چھوڑا۔ واضح رہے کہ مسماۃ بی بی زینب کے شوہر نے درمیان میں تبدیل مذہب کرلیا، مگر بحیثیت زن وشوہر کے تادَمِ آخر باوجود اِختلافِ مذہب کے رہے۔ بیان کیا جائے کہ
(۱) الدر المختار، ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد، طبع سعید۔
528
ان ورثا میں کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ کس کو نہیں ملے گا؟
المستفتی نمبر:۲۵۳۵ عبدالرحمن عرف ناکومیاں، مونگیر
۲۹؍جمادی الثانی ۱۳۵۸ھ موافق ۱۷؍اگست ۱۹۳۹ء
جواب:۔۔۔ چونکہ قادیانی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اس لئے ایک حنفی مسلمہ عورت کی میراث قادیانیوں کو نہیں ملے گی۔(۱) پس اس زینب بی بی کی میراث اس کے قادیانی شوہر اور قادیانی بھائی کو نہیں ملے گی۔ اس کی لڑکیوں کو دے کر باقی دونوں سنی المذہب بھائیوں کو دِیا جائے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۸ ص:۴۰۶)
مرتد، مسلمانوں کے ترکہ کا وارث نہیں
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکی نہایت متقی حنفی المذہب مسلمان ۔۔۔مرحوم۔۔۔ کی بیٹی ہے۔ اسلامی قانونِ وراثت کے تحت مرحوم کی متروکہ جائیداد میں سے کچھ غیرمنقولہ جائیداد لڑکی کو حصے میں مل سکتی ہے، اگر یہ خاتون اپنے خاوند کے مرزائی، قادیانی ہونے کی وجہ سے خود بھی قادیانی ہوجائے یا قادیانی نہ ہو، مگر اپنے مرتد خاوند کا ساتھ نہ چھوڑے، تو کیا بموجب شرعِ محمدی بدستور جائیداد کی وارث بن سکتی ہے؟ اور کیا ایک مسلمان کی متروکہ جائیداد ایک مرتد کو منتقل ہوسکتی ہے؟ جبکہ مرحوم کی اور اولادِ نرینہ اہلِ سنت والجماعت موجود ہو؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ وباللّٰہ التوفیق! جو شخص ۔۔مرد یا عورت۔۔ پہلے مسلمان تھا، پھر قادیانی ہوگیا، وہ مرتد ہے، اور جو شخص ۔۔مرد یا عورت۔۔ پیدائشی طور پر قادیانی ہو، وہ غیرمسلم ۔۔کافر۔۔ ہے۔ اور جب وارث اور مورث میں دِین کا اِختلاف کفر واِسلام سے ہو، تو وراثت نہیں ملتی۔ پس کوئی وارث نہیں ہوسکتا، سراجی موانع الإرث میں مانع وراثت واختلاف الدین لکھا ہے، وھٰکذا فی عامۃ کتب الفقہ، اور یہ اِجماعی مسئلہ ہے۔ لقولہ تعالٰی: ’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘ (النساء:۱۴۱) ولقولہ علیہ السلام: ’’لا یتوارث اھل ملّتین شتّٰی‘‘ (رواہ ابوداوٗد ج:۳ ص:۴۷، باب ھل یرث المسلم الکافر، والدارمی وغیرھما)۔ پس یہ لڑکی جو قادیانی کے ساتھ کی وجہ سے خود بھی قادیانی ہوگئی اور تائب ہوکر اِسلام میں لوٹ کر نہیں آئی، وہ اپنے باپ کے ترکہ میں ہرگز وارث نہیں ہوسکتی، قطعاً محروم رہے گی۔ نیز مرتدہ تو شرعِ اسلامی میں کسی سے وارثت نہیں پاسکتی۔ ھٰکذا فی الشامی۔
فقط واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ الاحقر نظام الدین عفی عنہ
مفتی دارالعلوم دیوبند
(نظام الفتاویٰ ج:۲ ص:۲۶۰،۲۶۱)
قادیانی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص قادیانی ہو، اور اس کا بیٹا مسلمان ہو تو بیٹے کے فوت ہوجانے کے بعد باپ اس کے مال میں
(۱) واما المرتد فلا یرث من احد، لا من مسلم، ولا من مرتد مثلہ۔ (السراجی فی المیراث ص:۷۵، فصل فی المرتد)۔
529
میراث کا حق دار بن سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی اور مسلمان ایک دُوسرے کی میراث کے حق دار نہیں بن سکتے، مذکورہ بالا صورت میں قادیانی مرتد کی میراث بیت المال میں داخل کی جائے گی، اسی طرح کوئی قادیانی کسی مسلمان کی میراث میں حق دار نہیں بن سکتا، بلکہ مسلمان کی میراث اس کے مسلمان ورثاء میں قاعدۂ شرعی کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لما قال الشیخ سراج الدین السجاوندی:
’’واما المرتد فلا یرث من احدٍ لا من مسلم ولا من مرتد مثلہ۔‘‘
(السراجی ص:۷۵، فصل فی المرتد)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۶)
قادیانی کی وراثت کا حکم
سوال۱:۔۔۔ زید، مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدّد ومثیلِ مسیح سمجھتا تھا، بعدہٗ بعض علماء کی ہم کلامی سے اس کے خیالات میں تبدیلی ہوکر وہ اس عقیدے سے رُجوع کرلیا، زید مقر ہے کہ وہ اہلِ سنت حنفی الملت ہے، زید کا رُجوع اور اِقرار شرعاً دُرست ہے یا نہیں؟
۲:۔۔۔ زید کے خدمات موروثی جو حسبِ قوانین سلطنت توریثاً اِجراء ہوتے ہیں زید کے وارث خالد پر جو کہ اہلِ سنت حنفی المشرب ہے، بحال ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ اور زید کی جائیداد کا خالد ۔۔۔فرزندِ زید۔۔۔ وارث ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب۱:۔۔۔ جب زید نے اپنے عقیدۂ سابقہ سے رُجوع کرلیا اور وہ اِقرار کرتا ہے کہ میں اہلِ سنت حنفی المذہب ہوں، تو شرعاً اس کا رُجوع اور اِقرار بہتر ہے، اس کو مسلمان سنی المذہب سمجھنا چاہئے۔
۲:۔۔۔ جب زید شرعاً مسلمان ہے تو اس کی خدمات موروثی خالد کو جو اس کا وارث ہے، دے دینا جائز ہے، اور خالد، زید کی جائیداد کا بھی وارث ہوگا۔ واللّٰہ اعلم!
۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۰ھ
(امداد الاحکام ج:۱ ص:۱۵۱)
✨ 🌟 ✨
530
کتاب الذبائح
بابِ اوّل
قادیانی ذبیحہ
مرزائی کا ذَبیحہ حرام ہے
سوال:۔۔۔ جو شخص احمدی فرقہ ۔۔۔المعروف مرزائی فرقہ۔۔۔ سے تعلق رکھتا ہو، خواہ مرزاآنجہانی کو نبی مانتا ہو یا ولی ومجدّد وغیرہ، کیا اس کے ہاتھ کا مذبوحہ حلال ہے یا حرام؟
المستفتی نمبر۴۶۹: عبداللّٰہ، بھاولپور
۲۰؍محرم ۱۳۵۴ھ - ۲۵؍اپریل ۱۹۳۵ء
جواب:۔۔۔ اگر یہ شخص خود مرزائی عقیدہ اِختیار کرنے والا ہو، یعنی اس کے ماںباپ مرزائی نہ تھے، تو یہ مرتد ہے، اس کے ہاتھ کا ذَبیحہ دُرست نہیں۔(۱) لیکن اگر اس کے ماںباپ یا ان میں سے کوئی ایک مرزائی تھا تو یہ اہلِ کتاب کے حکم میں ہے، اور اس کے ہاتھ کا ذَبیحہ دُرست ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۸ ص:۲۶۸)
(نوٹ از مرتب:۔۔۔ کفایت المفتی کا یہ مسئلہ بوجہ تسامح غلط ہے، جبکہ ذیل کے فتویٰ میں وضاحت ہے۔)
قادیانیوں کا کیا حکم ہے؟ اور ان کا ذَبیحہ حلال ہے یا حرام؟
سوال:۔۔۔ محترمی ومعظمی حضرت مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم لاجپوری صاحب دامت فیوضہم وبرکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ، خدا کرے مزاجِ گرامی بعافیت ہو
ایک مسئلے کی تحقیق مطلوب ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ: ’’اگر کوئی شخص پہلے سے مسلمان تھا، بعد میں قادیانی ہوا تو وہ مرتد ہے، اور اس پر مرتدین ہی کے اَحکام جاری ہوں گے۔ لیکن جو شخص شروع ہی سے قادیانی ہے ۔۔۔یعنی پیدائش سے قادیانی ہے، جو آج کل کے اکثر قادیانیوں کا حال ہے۔۔۔ تو وہ اہلِ کتاب کے حکم میں ہیں‘‘ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر یہ بات صحیح ہو تو ان کے ذَبیحے کا کیا حکم
(۱)لا یحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔ (شامی ج:۶ ص:۳۹۸، ایضًا: البحر الرائق ج:۸ ص:۱۹۱، کتاب الذبائح، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
531
ہوگا؟ اُمید ہے کہ اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے، بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کی اولاد ۔۔۔نسلی مرزائی قادیانی۔۔۔ غلام احمد قادیانی کو نبی یا کم از کم مسلمان مانتی ہو تو بھی وہ کافر ہیں، ان کا ذَبیحہ حرام اور مردار ہونا چاہئے، ان کو ’’اہلِ کتاب‘‘ کے حکم میں قرار دینا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ علامہ شامیؒ غالی روافض کو کافر مانتے ہیں، او ران کو اہلِ کتاب نہیں سمجھتے، تو قادیانیوں کی اولاد کا شمار اہلِ کتاب میں کیسے ہوگا؟
’’والظاھر ان الغلاۃ من الروافض المحکوم بکفرھم لا ینفکون عن إعتقادھم الباطل فی حال اتیانھم بالشھادتین وغیرھما من احکام الشرع کالصوم والصلٰوۃ فھم کفار لا مرتدون ولا اھل کتاب۔‘‘ (رسائل ابن عابدین ص:۴۷۰، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم جو اس موضوع پر کافی بصیرت رکھتے ہیں، رَدِّقادیانیت پر کئی رسائل تصنیف فرمائے ہیں، وہ تحریر فرماتے ہیں:
’’ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
⭐ :۔۔۔ جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا، وہ مرتد بھی ہے اور زِندیق بھی۔
⭐ :۔۔۔ اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زِندیق بھی۔
⭐ :۔۔۔ اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں، بلکہ خالص زِندیق ہے۔
⭐ :۔۔۔ مرتد اور زِندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا ذَبیحہ حرام اور مردار ہے، اس لئے کسی قادیانی کا ذَبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔‘‘
(رسالہ: ’’قادیانی ذَبیحہ‘‘ ص:۲۴،۲۵، شائع کردہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت، حضوری باغ روڈ ملتان)
فقط واللّٰہ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ رحیمیہ ج:۷ ص:۶۷-۶۹)
قادیانیوں کو قربانی کے جانور میں شریک کرنا اور اس کا ذَبیحہ
سوال:۔۔۔ وہ لوگ جو اس وقت سیّدنا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کے دُنیا میں بھیجے جانے کے قائل ہوں، اور بالفعل کسی ایسے شخص کو نبی اور رسول قرار دیں جو پیغمبرِ اِسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینکڑوں سال بعد پیدا ہوا، تو سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لئے کھانا کیسا ہے؟ اور ان میں سے اگر کوئی دُوسرے مسلمان کے ساتھ گائے کی قربانی میں شریک ہو تو باقی چھ مسلمانوں کی قربانی شرعاً جائز سمجھی جائے گی یا نہیں؟ اس مسئلے کو تشریح کے ساتھ بیان کریں۔
سائل: عزیز احمد، از نواب شاہ، سندھ
جواب:۔۔۔ مسئلے کی تفصیل سے پہلے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ شریعت کی رُو سے ان منکرینِ ختمِ نبوّت کا کیا حکم ہے؟
532
سو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے تمام لوگ اکابر علمائے اسلام ۔۔۔خصوصاً شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی۔ؒ۔۔ کے متفقہ فیصلے کی رُو سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ان میں سے جو لوگ پہلے مسلمان تھے اور بعد میں وہ کسی نئی نبوّت کے قائل ہوئے، شریعتِ اسلام اُنہیں مرتد قرار دیتی ہے۔ اور جو عیسائیوں یا ہندوؤں سے اس نئے مسلک میں آئے، ان کے ہاں ہی پیدا ہوئے وہ شریعت کی رُو سے زِندیق ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ مرتد اور زِندیق کی سزا شرع میں ایک ہے (المسوّٰی عربی شرح مؤطا ج:۲ ص:۱۲۷)۔
اگر کہا جائے کہ: ’’یہ حضرات اگرچہ دِین کے بعض ضروری مسائل کا اِنکار کرتے ہیں، لیکن جبکہ کلمہ پڑھتے ہیں اور اہلِ قبلہ میں سے ہیں، تو مرتد کیسے ہوگئے؟‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ جمیع اُمورِ دِینیہ پر اِیمان ہو۔ لیکن کافر ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام اُمورِ دِینیہ کا ہی اِنکار ہو، بلکہ ضروریاتِ دِین میں سے کسی ایک کا اِنکار کردینے سے بھی اِنسان مرتد ہوجاتا ہے۔ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے ایمان میں جمیع کی قید ہے اور کفر میں یہ قید نہیں۔ شامی میں مرتد کی تعریف یہ ہے:
’’الراجع عن دین الإِسلام ورکنھا إجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الإِیمان۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۰۹،۳۱۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’دِین سے ہٹ جانے والا مرتد ہے، اور اس کی بنیاد مسلمان ہونے کے بعد کسی ایک کفریہ کلمے کو اپنی زبان پر لانا ہے۔‘‘
حضرت صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانے میں کچھ لوگوں نے اسلام کے صرف ایک رُکن ۔۔۔زکوٰۃ۔۔۔ کا اِنکار کیا تھا، نمازوں اور روزوں کو وہ بدستور مانتے تھے، مگر بایں ہمہ صحابہ کرامؓ نے انہیں مرتد قرار دِیا ہے۔ اِمام بخاریؒ نے مانعینِ زکوٰۃ اور قتالِ ابی بکرؓ کے واقعے پر مندرجہ ذیل باب باندھا ہے: ’’باب قتل من ابٰی قبول الفرائض وما نسبوا إلی الردَّۃ‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۲۳)۔
یہاں صریح طور پر رَدّت اور اِرتداد کے الفاظ موجود ہیں۔ شیخ الاسلام اِمام ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’السلف قد سموا مانعی الزکاۃ مرتدین مع کونھم یصومون ویصلُّون۔‘‘
(فتاویٰ ابن تیمیۃ ج:۴ ص:۲۹۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’سلف نے زکوٰۃ روکنے والوں کا نام مرتد رکھا ہے، حالانکہ وہ روزے بھی رکھتے تھے اور نمازیں بھی پڑھتے تھے۔‘‘
اِمام الائمہ اِمام محمدؒ جن پر فقہِ حنفی کا مدار ہے وہ لکھتے ہیں:
’’من انکر شیئًا من شرائع الإسلام فقد ابطل قول لا إلٰہ إلَّا ﷲ‘‘
(سیر کبیر ج:۳ الجزء:۵ ص:۳۶۸)
533
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص اسلام کی شرائع میں سے کسی ایک بات کا بھی اِنکار کرے، اس نے اپنا کلمہ پڑھنے کو باطل کرلیا۔‘‘
اِمام ابنِ حزم علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
’’وصح الإِجماع ان کل من جحد شیئًا صح عندنا بالإِجماع ان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اتٰی بہ، فقد کفر، وصح بالنص ان کل من استھزاٴ باﷲ تعالٰی او بملَک من الملائکۃ، او بنبی من الأنبیاء علیھم السلام، او بآیۃ من القرآن، او بفریضۃ من فرائض الدِّین، فھی کلھا آیات ﷲ بعد بلوغ الحجۃ إلیہ، فھو کافر، ومن قال بنبی بعد النبی علیہ الصلوٰۃ والسلام او جحد شیئًا صح عندہ بأن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم قالہ، فھو کافر۔‘‘
(کتاب الفصل ج:۳ ص:۲۵۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اس بات پر اِجماع دُرست ہوچکا ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا اِنکار کرے جو اِجماعی طور پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہو، وہ کافر ہے، اور یہ امر نص کے ساتھ ثابت ہے کہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرے، یا اس کے فرشتے کے ساتھ، یا قرآن پاک کی کسی آیت کے ساتھ، یا نبیوں میں سے کسی نبی کے ساتھ، یا دِین کے فرائض میں سے کسی ایک فریضے کے ساتھ اِستہزاء کرے، اس کے بعد کہ اس تک حجتِ شرع پہنچ چکی ہو تو وہ کافر ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص سروَرِ دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کے پیدا ہونے کا قائل ہو، یا ایسی بات کا اِنکار کرے جو اس کے ہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیم ہو، تو وہ کافر ہے۔‘‘
ایسے لوگوں کا ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا انہیں اہلِ قبلہ میں داخل نہیں کردیتا۔ جب تک کہ تمام ضروریاتِ دِین پر اِیمان نہ لے آئے۔ اِمام المتکلّمین مُلَّا علی قاریؒ فرماتے ہیں:
’’اعلم ان المراد من اھل القبلۃ الذین اتفقوا علٰی ما ھو من ضروریات الدین۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۸۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اہلِ قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ساری ضروریاتِ دِین پر اِیمان رکھتے ہیں۔‘‘
اِمام ابنِ حزمؒ ذرا تفصیل فرماتے ہیں:
’’اھل القبلۃ فی إصطلاح المتکلّمین من یصدق بضروریات الدین ای الاُمور التی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر، فمن انکر شیئًا من الضروریات کحدوث العالم، وحشر الأجساد، وعلم ﷲ سبحانہ بالجزئیات، وفرضیۃ الصلاۃ والصوم لم یکن من اھل القبلۃ ولو کان مجاھدًا بالطاعات۔‘‘ (الفصل ج:۴ ص:۵۷۴)
534
ترجمہ:۔۔۔ ’’متکلمینِ اسلام کی اِصطلاح میں اہلِ قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو ساری ضروریاتِ دِین کو سچا مانیں، اور ’’ضروریاتِ دِین‘‘ سے وہ اُمور مراد ہیں جن کا ثبوت شرع میں اس طرح ہو کہ انہیں اسلام میں شہرت کا درجہ حاصل ہو۔ پس جو کوئی ایسے ضروری مسئلوں سے اِنکار کرے، جیسے دُنیا کا حادث ہونا، قیامت کو تمام جسموں کا اکٹھا ہونا، خداتعالیٰ کے علم کا محیط ہونا، نمازوں اور روزوں کا فرض ہونا، تو ایسے مسائل کا منکر اہلِ قبلہ میں سے نہیں ہوسکتا، اگرچہ عبادات میں وہ کسی قدر مجاہدہ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
’’ولا نکفر احدًا من اھل القبلۃ إلَّا بما فیہ نفی القادر للمختار او عبادۃ غیر ﷲ او إنکار المعاد والنبی وسائر ضروریات الدین۔‘‘ (العقیدۃ الحسنۃ ص:۹)
اب دیکھنا چاہئے کہ یہ منکرینِ ختمِ نبوّت کسی ایسے امر کا اِنکار کرتے ہیں یا نہیں جس کے نہ ماننے کی وجہ سے انسان کافر ہوجاتا ہے، سو معلوم ہونا چاہئے کہ ان میں تقریباً وہ تمام وجوہ موجود ہیں جو اِمام ابنِ حزمؒ کی تحریر میں موجود ہیں، لیکن ان سب میں نمایاں ختمِ نبوّت کے اِسلامی معنوں کا اِنکار ہے۔ ہمارا اِن پر اِلزام ہے کہ تم خاتم النّبیین کے بعد ایک نئے نبی کے قائل ہو، وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں! ہم ایک نئے نبی کی پیدائش کے بے شک قائل ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی دُوسرے شخص کو نبی ماننے والے کا حکم شرعاً کیا ہے؟ علامہ ابو شکور السالمی ’’التمہید‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فإنہ یصیر کافرًا ومن طلب منہ المعجزات فإنہ یصیر کافرًا لأنہ لا شک فی النص ویجب الإِعتقاد بأنہ ما کان لأحدٍ شرکۃ فی النبوۃ لمحمد صلی ﷲ علیہ وسلم بخلاف ما قالت الروافض ان علیًّا کان شریکًا لمحمد صلی ﷲ علیہ وسلم وھٰذا منھم کفر۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص اس زمانے میں نبوّت کا دعویٰ کرے یا اس سے معجزہ طلب کرے، وہ کافر ہوجاتا ہے، کیونکہ خاتم النّبیین کی نص میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس بات پر اِیمان لانا واجب ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، بخلاف شیعوں کے جو حضرت علیؓ کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت میں شریک مانتا ہو، وہ سب کافر ہیں۔‘‘
شرح فقہ اکبر میں ہے:
’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإِجماع۔‘‘ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا اِجماعی طور پر کفر ہے، وہ اِجماع مراد ہے جو صحابہ کرامؓ کا مسیلمہ کذّاب کے بارے میں منعقد ہوا تھا۔
535
حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانیٔ دارالعلوم دیوبند اِرشاد فرماتے ہیں:
حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ بانیٔ دارالعلوم دیوبند اِرشاد فرماتے ہیں:’’اپنا دِین واِیمان ہے بعد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کسی اور نبی کے ہونے کا اِحتمال نہیں، جو اس میں تأمل کرے، اس کو کافر سمجھتا ہوں۔‘‘
(جوابات محذورات ص:۱۰۳)
اس بات کے واضح ہونے کے بعد ایسے حضرات قطعاً مسلمان نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرتد کے ذبیحے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ درمختار میں ہے:
’’لا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔‘‘ (شامی ج:۵ ص:۲۰۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کتابی کے سوا کسی بت پرست، مجوسی ۔۔۔آتش پرست۔۔۔ اور مرتد کا ذَبیحہ مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے۔‘‘
اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لئے کھانا حرامِ قطعی ہے، کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے، اسے یا تو واپس کردینا چاہئے، یا دفن کردینا چاہئے، حرام چیز کو عمداً جانوروں کو بھی کھلانا دُرست نہیں۔
’’وشرط کون الذابح مسلمًا حلالًا خارج الحرم إن کان صید فصید الحرم لا تحلہ الذکاۃ فی الحرم مطلقًا او کتابیًّا ذِمّیًّا او حربیًّا إلَّا إذا سمع منہ عند الذبح ذکر المسیح۔‘‘
(شامی ج:۵ ص:۲۰۸، ونحوہ فی البخاری ج:۲ ص:۸۲۸)
آپ نے جن منکرینِ ختمِ نبوّت کے متعلق پوچھا ہے، وہ ’’کتابی‘‘ کے ذیل میں بھی نہیں آتے، کیونکہ ’’کتابی‘‘ وہ ہے جو قرآنِ کریم سے پہلے کی کسی کتاب پر اِیمان رکھتا ہو، قرآن پاک میں متعدّد مقامات پر ’’اُوتُوا الكِتٰبَ‘‘ کے ساتھ ’’مِن قَبلِكُم‘‘ موجود ہے۔ جو شخص قرآن پاک پر اِیمان کا اِظہار کرتا ہے، تو اگر اس کا اِیمان صحیح معنوں میں ہے تو وہ مسلمان ہے، اور اگر صحیح معنوں میں نہیں تو کافر ہے، ’’کتابی‘‘ نہیں ہوسکتا، ’’کتابی‘‘ یہود اور نصاریٰ ہی ہیں۔ شامی میں ہے:
’’الکتابی من یعتقد دینًا سماویًّا ای منزلًا بکتاب کالیھود والنصاریٰ۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۸۰)
اسی طرح کلیات ابوالبقاء میں ہے:
’’الکافر إن کان متدینًا ببعض الأدیان والکتب المنسوخۃ فھو الکتابی۔‘‘
(کلیات ص:۵۵۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کتابی اس کافر کو کہتے ہیں جو کسی پُرانے دِین اور منسوخ کتاب پر اِیمان رکھتا ہو۔‘‘
پس جبکہ منکرینِ ختمِ نبوّت ’’کتابی‘‘ کے ذیل میں بھی نہیں آسکتے تو ان کا ذَبیحہ مسلمانوں کے لئے کسی طرح بھی حلال نہیں ہوسکتا۔ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مجوسیوں کا ذَبیحہ مسلمانوں کے لئے صاف لفظوں میں حرام فرمایا تھا، اس سے پتا چلتا ہے کہ
536
عقائدِ کفریہ کا اثر ذَبیحے پر بھی ضرور پڑتا ہے۔ اِمام عبدالرزّاقؒ اور اِمام ابنِ ابی شیبہؒ حضرت حسنؓ سے مرسلاً نقل کرتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ’’ہجر‘‘ کے مجوسیوں کے بارے میں اِرشاد فرمایا تھا:
’’من لم یسلم ضربت علیہ الجزیۃ غیر ناکحی نسائھم ولا آکلی ذبائحھم۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’ان میں سے جو شخص مسلمان نہ ہو، اس پر جزیہ لگایا جائے، ہاں! ان کی عورتوں سے نکاح دُرست نہیں اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور مسلمانوں کے لئے کھانا حلال نہیں۔‘‘
شیخ الاسلام ابنِ حجر عسقلانی ؒ اس حدیث کی اسناد کو جید قرار دیتے ہیں (الدرایہ ص:۳۸)۔
سیّدنا حضرت اِمام بخاریؒ اپنی کتاب خلق افعال عباد میں جو مسائلِ کلامیہ میں اہلِ علم کی بہت راہنمائی کرتی ہے، فرقۂ جہمیہ کے متعلق اِرشاد فرماتے ہیں:
’’لا یسلم علیھم ولا یعادون ولا یناکحون ولا توکل ذبائحھم۔‘‘
اس میں ایسے لوگوں کے ذبیحے کے ناجائز ہونے پر صاف تصریح موجود ہے۔
نوٹ:۔۔۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جو شخص اسلام سے اہلِ کتاب کے دِین میں چلا جائے تو باوجودیکہ وہ اہلِ کتاب کے دِین میں ہے، اسے حکمِ شرع میں ’’کتابی‘‘ نہیں کہا جائے گا، وہ ’’مرتد‘‘ کہلائے گا۔ ’’کتابی‘‘ وہ اسی صورت میں تھا کہ پہلے اسلام پر نہ ہوتا۔ پس ایسے شخص کا ذَبیحہ کتابی کا ذَبیحہ نہیں ہوگا، بلکہ اسے مرتد کا ذَبیحہ کہا جائے گا، جو مسلمان کے لئے حرام ہے، پس ایسے حضرات ’’کتابی‘‘ بھی نہیں کہلاسکتے، کیونکہ وہ دِینِ اسلام سے تأویلاً منحرف ہوکر اس نئے دِین میں گئے ہیں۔
خلاصہ مافی الباب یہ ہے کہ جس طرح ذبح ہونے والے جانور کے لئے کچھ شرطیں ہیں کہ حرام جانور نہ ہو، جیسے: کتا، بلّی، بندر وغیرہ، اور نیز یہ کہ حدودِ حرم میں نہ ہو۔ اسی طرح ذبح کرنے والے کے لئے بھی کچھ شرطیں ہیں کہ وہ مسلمان ہو اور یہ کہ حالتِ اِحرام میں نہ ہو۔ اس کے علاوہ صرف کتابی کا ذَبیحہ جائز ہے، بشرطیکہ وقتِ ذبح مسیح کا نام نہ لیا گیا ہو۔ جب تک ذبح کرنے والے میں ذبح کرنے کی شرطیں نہ پائی جائیں گی، اس کا ذبح کیا ہوا جانور وہی حکم رکھتا ہے جو مردار کے گوشت یا حرام جانور کے ذبیحے کا ہے۔ پہلے معاملے میں ذابح ہونے کی، اور دُوسرے معاملے میں مذبوح ہونے کی اہلیت مفقود ہے۔ بنائً علیہ مرتد کے ذبیحے اور ذبح کئے ہوئے حرام جانور میں حکماً کوئی فرق نہیں ہے، کھانا دونوں کا ایک مسلمان کے لئے حرام ہے۔
جس طرح مسلمان ان منکرینِ ختمِ نبوّت کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور اسے بے جا تعصب یا منافرت پر محمول نہیں کیا جاتا، اسی طرح اِنصاف یہ ہے کہ ان کے ذَبیحے کو بھی حرام سمجھا جائے اور اسے بے جاتعصب اور شرانگیزی پر محمول نہ کیا جائے۔ اگر وہ لوگ ہمارا ذَبیحہ کھالیتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں اہلِ کتاب میں سے شمار کرتے ہیں، اور ان کے نزدیک ہمارا دِین دِینِ سماوی ہے، اور چونکہ ہمارے نزدیک وہ ’’کتابی‘‘ نہیں، اور ان کا دِین ہمارے دِین سے پہلے کا نہیں، بلکہ بعد کا ہے، اس لئے ہمارا اپنے عمل کو ان کے عمل پر قیاس کرنا دُرست نہیں ہوگا، واللّٰہ اعلم بالصواب!
537
قربانی کرنا ایک خالص اسلامی عبادت ہے۔ گائے کی قربانی میں جو سات افراد شریک ہیں، ان کی اس مجموعی عبادت کے سارے شرکاء کا مسلمان ہونا ضروری ہے، ان میں سے اگر ایک بھی ختمِ نبوّت کے اسلامی معنوں کا منکر ہوگا، تو قربانی کسی کی ادا نہ ہوگی۔
واللّٰہ اعلم بالصواب!
کتبہ‘ خالد محمود عفا اللّٰہ عنہ
۳؍اپریل ۱۹۶۴ء
(عبقات ص:۳۰۲ تا ۳۰۷)
قربانی کی کھال بیچ کر رَدِّقادیانیت کی کتابیں منگوانا
سوال:۔۔۔ میں سیّد ہوں، صاحبِ نصاب ہوں، قربانی کا چمڑا گاؤں والوں نے مجھے دیا، اس کو فروخت کرکے رَدِّقادیانیت کی کتابیں منگالیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ اس میں غریب کو مالک بنانا شرط ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۱۹۷: احمدالنبی صاحب، ضلع پوری
۲۵؍شوال ۱۳۵۲ھ-۱۰؍فروری ۱۹۳۴ء
جواب:۔۔۔ گاؤں والے قربانی کی کھالیں جو آپ کو دیتے ہیں، وہ آپ کی مِلک ہوجاتی ہیں، آپ ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت سے کتابیں منگاسکتے ہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ
(کفایت المفتی ج:۸ ص:۲۴۲)
اِستفتاء
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ:
۱:۔۔۔ کیا قادیانی کا ذَبیحہ جائز ہے یا ناجائز؟
۲:۔۔۔ کیا اس مسئلے میں قادیانی یا اس کی اولاد کے ذَبیحے میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ مولانا مفتی کفایت اللّٰہ صاحب نے ’’کفایت المفتی‘‘ میں قادیانیوں کی اولاد کو ’’اہلِ کتاب‘‘ قرار دے کر ان کے ذَبیحے کو حلال قرار دِیا ہے۔ لیکن اس سے تسلی نہیں ہوتی، کیونکہ اہلِ کتاب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر اِیمان لائے ہیں، جن پر ہم بھی اِیمان لائے ہیں، توراۃ اور اِنجیل کو ہم بھی مانتے ہیں، جبکہ قادیانی مرزا کو نبی مانتے ہیں، اور ’’براہین احمدیہ‘‘ اور دیگر خودساختہ اِلہامات پر بھی یقین رکھتے ہیں، کیا یہ قیاس مع الفارِق نہیں؟
یہاں پر ایک مولوی صاحب نے ۔۔۔جو کہ اِمامِ مسجد بھی ہیں۔۔۔ قادیانیوں کے ذَبیحے کے حلال ہونے کا مطلق فتویٰ دیا ہے، اور وجہ یہ بتائی ہے کہ: ’’ذَبیحے کا تعلق عقیدۂ رِسالت سے نہیں، عقیدۂ توحید سے ہے۔ اور چونکہ قادیانی لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں، اس لئے ان کا ذَبیحہ جائز ہے‘‘ کیا یہ بات صحیح ہے؟
538
اگر ان کا ذَبیحہ جائز ہے تو پھر ان کے ساتھ رشتہ ناطہ بھی صحیح ہوگا، اور دیگر کئی مسائل متفرّع ہوں گے، اور اس سے قادیانیوں کو ایک قانونی دلیل بھی مل جائے گی کہ وہ بھی اسلامی معاشرے میں مدغم ہوسکتے ہیں۔ مہربانی فرماکر تفصیل سے جواب دیں، آپ کو اللّٰہ تعالیٰ اَجرِ عظیم عطا فرمائے، آمین!
المستفتی: محمد اِدریس
اِمام مرکزِ ثقافتِ اسلامیہ،کوپن ہیگن، ڈنمارک
جواب:۔۔۔
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ ِلِلّٰہِ وَکَفٰی وَالصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَہٗ
آپ کے دونوں سوالوں کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ کسی قادیانی کا ذَبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں، بلکہ مردار ہے، خواہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب اِختیار کیا ہو، یا قادیانی والدین کے یہاں پیدا ہوا ہو۔
مگر چونکہ اس مسئلے میں عوام ہی نہیں، بلکہ بہت سے اہلِ علم کو بھی اِشتباہ ہوجاتا ہے ۔۔۔جیسا کہ سوال میں دئیے گئے تو فتووں سے ظاہر ہے۔۔۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ اس مسئلے پر کسی قدر تفصیل سے لکھا جائے، تاکہ قادیانیوں کی حیثیت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے اور کسی صاحبِ فہم کو اس میں اِشتباہ کی گنجائش نہ رہے۔
مرتد کے اَحکام:
جو شخص پہلے مسلمان تھا، بعد میں اس نے ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ قادیانی مذہب اِختیار کرلیا، وہ بغیر کسی شک وشبہ کے مرتد ہے، اور اس پر مرتد کے اَحکام جاری ہوں گے۔ مرتد کے ضروری اَحکام حسبِ ذیل ہیں:
1:۔۔۔ مرتد واجب القتل ہے، مرتد کو تین دِن کی مہلت دی جائے گی، اس عرصے میں اسے توبہ کرکے دوبارہ اسلام لانے کی دعوت دی جائے گی، اور اس کے شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اگر وہ تین دن کے اندر اپنے کفر واِرتداد سے تائب ہوکر مسلمان ہوجاتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے ۔
اس مسئلے پر کہ مرتد واجب القتل ہے، تمام فقہائے اُمت اور مذاہبِ اَربعہ کا اِجماع ہے۔ حسبِ ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
فقہِ حنفی:۔۔۔ ہدایہ میں ہے:
’’وإذا ارتد المسلم عن الإِسلام ۔۔۔والعیاذ باﷲ۔۔۔ عرض علیہ الإسلام، فإن کانت لہ شبھۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ ایام فإن اسلم وإلَّا قُتِل۔‘‘ (ھدایۃ اوّلین ج:۱ ص:۵۸۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جب کوئی مسلمان ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ اسلام سے پھر جائے تو اس پر اِسلام پیش کیا جائے، اس کو کوئی شبہ ہو تو دُور کیا جائے، اس کو تین دِن قید رکھا جائے، اگر اِسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے۔‘‘
539
فقہِ شافعی:۔۔۔ المجموع شرح المہذب میں ہے:
’’إذا ارتد الرجل وجب قتلہ سواء کان حُرًّا او عبدًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقد انعقد الإِجماع علٰی قتل المرتد۔‘‘ (المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۲۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور جب آدمی مرتد ہوجائے تو اس کا قتل واجب ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور قتلِ مرتد پر اِجماع منعقد ہوچکا ہے۔‘‘
فقہِ حنبلی:۔۔۔ المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:
’’واجمع اھل العلم علٰی وجوب قتل المرتد وروی ذالک عن ابی بکر وعثمان وعلی ومعاذ وابی موسٰی وابن عباس وخالد وغیرھم ولم ینکر ذالک فکان إجماعًا۔‘‘
(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۷۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’قتلِ مرتد کے واجب ہونے پر اہلِ علم کا اِجماع ہے، یہ حکم حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاذ، ابی موسیٰ، ابنِ عباس، خالد اور دیگر حضراتِ صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم سے مروی ہے، اور اس کا کسی صحابی نے اِنکار نہیں کیا، اس لئے یہ اِجماع ہے۔‘‘
فقہِ مالکی:۔۔۔ ابنِ رُشد مالکیؒ ’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’والمرتد إذا ظفر بہ قبل ان یحارب فاتفقوا علٰی انہ یقتل الرجل لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: من بدَّل دینہ فاقتلوہ!‘‘ (بدایۃ المجتھد ج:۲ ص:۳۴۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مرتد جب لڑائی سے قبل پکڑا جائے تو تمام علمائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے: جو شخص اپنا مذہب بدل کر مرتد ہوجائے اس کو قتل کردو۔‘‘
2:۔۔۔ زوجین میں سے ایک مرتد ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور اِرتداد کی حالت میں مرتد کا نکاح کسی عورت سے صحیح نہیں، نہ کسی مسلمہ سے، نہ غیرمسلمہ سے، نہ مرتدہ سے۔ اگر وہ کسی عورت سے نکاح کرے گا تو اس کا نکاح کالعدم ہوگا اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد ولدالحرام ہوگی۔
3:۔۔۔ مرتد کا ذبیحہ مردار ہے، عام اس سے کہ مرتد نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یا کسی اور مذہب کی طرف۔ اہلِ کتاب کا ذَبیحہ حلال ہے، لیکن جس شخص نے مرتد ہوکر اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار کرلیا ہو، اس کا ذَبیحہ حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔
ان دونوں مسئلوں میں فقہاء کی تصریحات حسبِ ذیل ہیں:
540
فقہِ حنفی:۔۔۔ تنویر الابصار متن درمختار میں ہے:
’’ویبطل منہ النکاح، والذبیحۃ، والصید، والشھادۃ، والإرث‘‘ (شامی ج:۴ ص:۲۴۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اِرتداد سے نکاح، ذبیحہ، صید، شہادت اور وراثت باطل ہوجاتی ہے۔‘‘
’’اخبرت بإرتداد زوجھا فلھا التزوّج بآخر بعد العدۃ۔‘‘ (شامی ج:۴ ص:۲۵۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’کسی عورت کو خبر دِی گئی کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا ہے تو اس عورت کو عدّت کے بعد دُوسری جگہ عقد کرلینا جائز ہوگا۔‘‘
ہدایہ میں ہے:
’’إعلم ان تصرفات المرتد علٰی اقسام ۔۔۔۔۔۔۔۔ وباطل بالإتفاق کالنکاح والذبیحۃ لأنہ یعتمد الملَّۃ ولا ملَّۃ لہ۔‘‘ (ھدایۃ اوّلین ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات چند قسموں پر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک قسم وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہے جیسے نکاح اور ذبیحہ، کیونکہ نکاح اور ذبیحہ مبنی ہے ملت پر، اور مرتد کا کوئی دِین نہیں ہوتا۔‘‘
’’ولا تؤْکل ذبیح المجوسی ۔۔۔۔۔۔۔۔ والمرتد لأنَّہ لا ملَّۃ لہ، فإنہ لا یقر علٰی ما انتقل إلیہ۔‘‘ (ھدایۃ آخرین، کتاب الذبائح ص:۴۳۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مجوسی کا ذَبیحہ حلال نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مرتد کا بھی، کیونکہ اس کا کوئی دِین ومذہب نہیں، کیونکہ اس نے جو مذہب اِختیار کیا ہے، اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔‘‘
’’لا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔‘‘
(الشامی مع الدر المختار ج:۶ ص:۲۹۸)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور کتابی کے سوا کسی غیرمسلم کا ذَبیحہ حلال نہیں، جیسے بت پرست، مجوسی اور مرتد۔‘‘
فقہِ شافعی:۔۔۔
’’ذبیحۃ المرتد حرام عندنا وبہ قال اکثر العلماء منھم ابوحنیفۃ واحمد وابویوسف وابو ثور۔‘‘ (المجموع شرح المھذب ج:۹ ص:۷۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مرتد کا ذَبیحہ ہمارے نزدیک حرام ہے، اور اکثر علماء اسی کے قائل ہیں، جن میں اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام احمدؒ، اِمام ابویوسفؒ اور ابوثورؒ بھی شامل ہیں۔‘‘
فقہِ حنبلی:۔۔۔
’’ذبیحۃ المرتد حرام وإن کانت ردّتہ إلٰی دین اھل الکتاب ھٰذا قول مالک والشافعی واصحاب الرأی۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۸۷)
541
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مرتد کا ذَبیحہ حرام ہے، خواہ اس نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یہی اِمام شافعیؒ اور اَصحاب الرائے ۔۔۔اَحناف۔۔۔ کا قول ہے۔‘‘
’’ولا تحل ذبیحتہ ولا نکاح نسائھم وإن انتقلوا إلٰی دِین اھل الکتاب۔‘‘
(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۷ ص:۱۷۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مرتد کا نہ ذَبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے، خواہ انہوں نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو۔‘‘
’’ولا یؤْکل صید مرتد ولا ذبیحتہ وإن تدین بدین اھل الکتاب۔‘‘
(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۱ ص:۳۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مرتد کا ذَبیحہ اور اس کا شکار کیا ہوا گوشت نہ کھایا جائے، چاہے اس نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو۔‘‘
فقہِ مالکی:۔۔۔
’’واما المرتد فإن الجمھور علٰی إن ذبیحتہ لا تؤْکل۔‘‘ (بدایۃ المجتھد ج:۱ ص:۳۳۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’لیکن مرتد، پس جمہور اس پر ہیں کہ اس کا ذَبیحہ حلال نہیں۔‘‘
ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ مرتد کا ذَبیحہ کسی حالت میں بھی حلال نہیں، خواہ اس نے کوئی سا مذہب بھی اِختیار کیا ہو۔ اس لئے جن مولوی صاحب نے قادیانیوں کے ذَبیحے کو جائز کہا ہے، ان کا یہ فتویٰ بالکل غلط اور قواعدِ شرعیہ کے خلاف ہے۔
مرتد کی اولاد کا حکم:
جس نے خود اِرتداد اِختیار کیا ہو، وہ اصلی مرتد ہے، اس کو اِسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر وہ اِسلام نہ لائے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
مرتد والدین کی صلبی اولاد بھی والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد کہلاتی ہے، اس لئے ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ حبس وضرب کی سزا دِی جائے گی۔
البتہ تیسری پشت میں مرتد کی اولاد پر مرتد کے اَحکام جاری نہیں ہوتے، بلکہ کافرِ اَصلی کے اَحکام جاری ہوتے ہیں۔ چنانچہ درمختار میں ہے:
’’(زوجان ارتدا ولحقا فولدت)) المرتدۃ (ولد او ولد لہ) ای لذالک المولود (ولد فظھر علیھم) جمیعًا (فالولدان فیء) کأصلھما الولد (الأوّل یجبر) بالضرب -ای وبالحبس
542
نھر- (علی الإسلام) وإن حبلت بہ ثمۃ لتبعیتہ لأبویہ (لا الثانی) لعدم تبعیۃ الجد علی الظاھر فحکمہ کحربی۔‘‘ (الشامی مع الدر المختار ج:۴ ص:۲۵۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’میاں بیوی مرتد ہوکر دارُالحرب چلے گئے، وہاں مرتد عورت نے بچہ جنا، اور آگے اس لڑکے کے لڑکا ہوا، پھر یہ سب جہاد میں مسلمانوں کے قابو میں آگئے، تو مرتد جوڑے کی طرح ان کا بیٹا اور پوتا بھی مالِ غنیمت ہیں، ان کے بیٹے کو تو ضرب (وحبس) کے ذریعے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، خواہ وہ دارُالحرب میں حاملہ ہوئی تھی، کیونکہ وہ اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے، مگر پوتے کو مجبور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ظاہر روایت کے مطابق پوتا دادے کے تابع نہیں ہوتا، پس اس کا حکم عام حربی کافر کا حکم ہے۔‘‘
مرتد کی اولاد کا ذَبیحہ:
اور جب یہ معلوم ہوچکا کہ تیسری پشت میں جاکر مرتد کی اولاد کا حکم عام کافروں کا ہوجاتا ہے، تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس نے کونسا دِین ومذہب اِختیار کیا ہے؟ اور یہ کہ اس مذہب کے لوگوں کا ذَبیحہ حلال ہے یا نہیں؟
سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے صرف اہلِ کتاب کا ذَبیحہ حلال قرار دِیا گیا ہے، اور بت پرستوں اور مجوسیوں کا ذَبیحہ حلال نہیں، پس اگر مرتد نے اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار کرلیا تھا، تو تیسری پشت میں جاکر اس کی اولاد کا حکم اہلِ کتاب کا ہوگا اور ان کا ذَبیحہ حلال ہوگا۔
اور اگر اس نے ہندوؤں، سکھوں یا مجوسیوں کا مذہب اِختیار کرلیا تھا تو تیسری پشت میں اس کی اولاد بھی ہندو یا سکھ یا مجوسی شمار ہوگی، اور اس کا ذَبیحہ حلال نہیں ہوگا۔
اور اگر اس نے ان مذاہبِ معروفہ میں سے کوئی مذہب بھی اِختیار نہیں کیا، بلکہ یا تو لامذہب اور دَہریہ بن گیا، یا اس نے کوئی نیا مذہب ایجاد کرلیا تو اس کا ذَبیحہ بھی حلال نہیں ہوگا، پس یہ جو مشہور ہے کہ مرتد کی اولاد کا ذَبیحہ جائز ہے، یہ مطلقاً صحیح نہیں، بلکہ اس میں مندرجہ بالا تفصیل کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قادیانیوں نے اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار نہیں کیا، بلکہ انہوں نے ایک نیا دِین اِختیار کیا ہے، لہٰذا ان کی اولاد کا ذَبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں ہوگا۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللّٰہ صاحبؒ کے فتوے میں قادیانی اور اس کی اولاد میں جو فرق کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں۔
کفرِ زَندقہ:
مندرجہ بالا تفصیل سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا ذَبیحہ کسی حال میں حلال نہیں، خواہ انہوں نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی
543
مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یا وہ قادیانیوں کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے ’’پیدائشی قادیانی‘‘ ہوں، دونوں صورتوں میں ان کا ذَبیحہ حرام اور مردار ہے۔
اس مسئلے کے سمجھنے کے لئے ایک اور نکتے پر غور کرنا بھی ضروری ہے، اور وہ یہ کہ قادیانیوں کے کفر واِرتداد کی نوعیت معلوم کی جائے۔
اہلِ علم جانتے ہیں کہ کفر کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے ایک کا نام ’’کفرِ زَندقہ‘‘ ہے اور جو لوگ ایسے کفر کو اِختیار کرتے ہیں، انہیں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے۔
فقہی اِصطلاح میں ’’زِندیق‘‘ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو، مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو، اور اپنے کفر کو اِسلام کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہو۔
علامہ تفتازانی ؒ شرح مقاصد میں کافروں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وإن کان مع إعترافہ بنبوۃ النبی صلی ﷲ علیہ وسلم وإظھارہ شعائر الإسلام یبطن عقائد ھی کفر بالإتفاق خص بإسم الزندیق۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۶۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اگر وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کا قائل ہونے اور اِسلامی شعائر کا اِظہار کرنے کے باوجود ایسے عقائد کو چھپاتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں تو ایسے شخص کا نام ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘
اسلام کے پردے میں کفر کو چھپانے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ کسی کو ان عقائد کی ہوا ہی نہ لگنے دے، عام لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان ہے اور مسلمانوں ہی کے عقائد رکھتا ہے، حالانکہ وہ درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہے ۔۔۔جن کا اِظہار کبھی بے ساختہ ہوجاتا ہے۔۔۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین کا حال تھا، عہدِ نبوی کے بعد ایسے منافق بھی ۔۔۔جن کے نفاق کا علم کسی ذریعے سے ہوجائے۔۔۔ ’’زِندیق‘‘ شمار کئے جائیں گے۔
حافظ ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلیؒ ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’والزندیق الذی یظھر الإسلام ویستسر الکفر وھو الذی کان یسمّٰی منافقًا فی عصر النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، ویسمَّی الیوم زِندیقًا۔‘‘
(المغنی ج:۷ ص:۱۷۱، الشرح الکبیر ج:۷ ص:۱۶۷)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو، اور کفر کو چھپاتا ہو، ایسے شخص کو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ’’منافق‘‘ کہا جاتا تھا، اور آج اس کا نام ’’زِندیق‘‘ رکھا جاتا ہے۔‘‘
’’والزندیق ھو الذی یظھر الإسلام ویبطن الکفر فمتی قامت بیّنۃ انہ تکلم بما یکفر بہ فإنہ یستتاب وإن تاب وإلَّا قتل۔‘‘ (مجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۲)
544
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب شہادت قائم ہوجائے کہ اس نے کلمۂ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ لی جائے گی، اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔‘‘
حافظ بدرالدین عینیؒ لکھتے ہیں:
’’واختلف فی تفسیرہ، فقیل ھو المبطن للکفر المظھر للإسلام کالمنافق۔‘‘
(عمدۃ القاری ج:۲۴ ص:۷۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’زِندیق کی تفسیر میں اِختلاف ہوا ہے، پس ایک قول یہ ہے کہ زِندیق وہ شخص ہے جو منافق کی طرح کفر کو چھپاتا ہو، اور اِسلام کا اِظہار کرتا ہو۔‘‘
حافظ ابنِ حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ زِندیق دراصل ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو دیصان، مانی اور مزدک کے پیروکار تھے۔
’’واظھر جماعۃ منھم الإِسلام خشیۃ القتل ومن ثم اطلق الإِسم علٰی کل من اسر الکفر واظھر الإِسلام حتّٰی قال مالک: الزندقۃ ما کان علیہ المنافقون وکذا اطلق جماعۃ من الفقھاء الشافعیۃ وغیرھم ان الزندیق ھو الذی یظھر الإِسلام ویخفی الکفر فإن ارادوا اشتراکھم فی الحکم فھو کذالک وإلا فأصلھم ما ذکرت۔‘‘ (فتح الباری ج:۱۲ ص:۲۷۱)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ان میں سے ایک جماعت نے قتل کے اندیشے سے اسلام کا اِظہار کیا تھا، اسی بنا پر ’’زِندیق‘‘ کا لفظ ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو کفر کو چھپاتا ہو اور اِسلام کا اِظہار کرتا ہو، یہاں تک کہ اِمام مالکؒ نے فرمایا کہ زندیقیت وہی ہے جس پر منافق تھے۔ اسی طرح فقہائے شافعیہ اور دیگر حضرات نے ’’زِندیق‘‘ کا لفظ اس شخص کے لئے اِستعمال کیا ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم بھی زِندیق کا ہے تو یہ صحیح ہے، ورنہ زِندیقوں کی اصل میں ذِکر کرچکا ہوں۔‘‘
کفر کو چھپانے کی دُوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کفریہ عقائد کا تو بَرملا اِظہار کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی دعوت بھی دیتا ہے، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر اِسلام کا لیبل چپکاتا ہے، کتاب وسنت کی غلط تأویل کے ذریعے اپنے عقائدِ فاسدہ کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور لوگوں کے سامنے ایسی ملمع سازی کرتا ہے کہ ناواقف لوگ ان عقائدِ باطلہ ہی کو اِسلام سمجھنے لگیں۔
درمختار میں ہے کہ: ’’جو زِندیق کہ معروف اور داعی ہو، اگر وہ پکڑا جائے تو اس کی توبہ نہیں۔‘‘ اس کے ذیل میں علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
’’قولہ المعروف ای: بالزندقۃ الداعی أی الذی یدعو الناس إلٰی زندقتہ، فإن قلت:
545
کیف یکون معروفًا داعیًا إلی الضلال، وقد اعتبر فی مفھومہ الشرعی ان یبطن الکفر؟ قلت: لا بُعد فیہ، فإن الزندیق یموہ کفرہ، ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ، وھٰذا معنی إبطان الکفر۔‘‘ (شامی ج:۴ ص:۲۴۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’معروف سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زَندقہ میں معروف ہو، اور داعی کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے زَندقہ کی دعوت دیتا ہو۔ اگر تم کہو کہ: ’’زِندیق معروف اور داعی الی الضلال کیسے ہوسکتا ہے جبکہ زِندیق کے مفہومِ شرعی میں یہ بات ملحوظ ہے کہ کفر کو چھپاتا ہو؟‘‘ میں کہتا ہوں کہ: اس میں کوئی بُعد نہیں، کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ باطلہ کو رِواج دینا چاہتا ہے، اور وہ اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘
اِمام الہند شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ مسوّٰی شرح عربی مؤطا میں منافق اور زِندیق کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بیان ذالک ان المخالف للدین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذعن لہ لا ظاھرًا ولا باطنًا فھو کافر، وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا، لٰکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورۃ بخلاف ما فسّرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الاُمَّۃ فھو الزندیق۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دِینِ حق کا مخالف ہو، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو تو وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے تو اِسلام کا اقرار کرتا ہو اور اس کا دِل کفر پر ہو (دِل میں کفر ہو) تو وہ منافق کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو، لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو جو صحابہ کرامؓ وتابعینؒ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘
آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’ثم التأویل تأویلان: تأویل لا یخالف قاطعًا من الکتاب والسُّنَّۃ وإتفاق الاُمَّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذالک الزندقۃ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تأویل جو کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے، پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘
آگے زندیقانہ تأویلوں کی مثالیں ذِکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللّٰہ تعالیٰ لکھتے ہیں:
’’او قال: ’’إن النبی صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم النبوۃ ولٰکن معنی ھٰذا الکلام انہ لا یجوز ان یسمّٰی بعدہ احدٌ بالنّبی، واما معنی النبوۃ وھو کون الإنسان مبعوثًا من ﷲ تعالٰی إلی الخلق
546
مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فھو موجود فی الأئمۃ بعدہ‘‘ فذالک ھو الزندیق۔‘‘ (مسوّٰی ج:۲ ص:۱۳۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النّبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام ’’نبی‘‘ نہیں رکھا جائے گا، لیکن نبوّت کا مفہوم کسی انسان کا اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، یہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی اِماموں میں موجود ہے‘‘ تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘
اکابرِ اُمت کی مندرجہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایسا شخص شرعی اِصطلاح میں ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے:
⭐ :۔۔۔ جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو۔
⭐ :۔۔۔ جو دعویٔ اِسلام کے باوجود کفریہ عقائد رکھتا ہو۔
⭐ :۔۔۔ اور جو اپنے کفریہ عقائد کو تأویلِ باطل کے پردے میں چھپاتا ہو، اور کتاب وسنت کے نصوص کو توڑمروڑ کر ان سے اپنا عقیدۂ باطلہ کشید کرتا ہو، یا اِسلام کے عقائدِ متواترہ پر طعن کرتا ہو۔
قادیانی زِندیق ہیں:
زِندیق کی یہ تعریف قادیانیوں پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے، وہ خالص کفریہ عقائد رکھتے ہیں، جن کا اِسلام کے ساتھ ذرا بھی تعلق نہیں، مثلاً:
⭐ :۔۔۔ وہ ختمِ نبوّت کے منکر ہیں، جو اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے، اور وہ اس اسلامی عقیدے کو ’’لعنت‘‘ قرار دیتے ہیں ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔۔
⭐ :۔۔۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رَفع ونزول کے منکر ہیں، جو اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔
⭐ :۔۔۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال کو مسیحِ موعود، مہدیٔ معہود، نبی ورسول اور ظلّی ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ مانتے ہیں، جو سراسر کفر ہے۔
⭐ :۔۔۔ وہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تمام کمالات، مع نبوّتِ محمدیہ کے، لعینِ قادیان کے لئے ثابت کرتے ہیں۔
⭐ :۔۔۔ وہ غلام احمد قادیانی کو ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ صاحبِ تجدید شریعت نبی مانتے ہیں۔
⭐ :۔۔۔ وہ غلام احمدقادیانی پر وحیٔ قطعی کا نزول مانتے ہیں، اسے توراۃ واِنجیل اور قرآن کی طرح واجب الایمان کہتے ہیں، اور اس میں شک وتردّد کو موجبِ کفر قرار دیتے ہیں۔
⭐ :۔۔۔ وہ مرزاقادیانی الدجال الاعوَر کی وحی وتعلیم اور اس کی تجدیدِ شریعت کو تمام اِنسانیت کے لئے واجب الاتباع اور مدارِ نجات قرار دیتے ہیں۔
⭐ :۔۔۔ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں، پہلی بعثت مکہ میں ہوئی، اور دُوسری بعثت
547
۔۔۔مرزاقادیانی کی بروزی شکل میں۔۔۔ قادیان میں ہوئی۔ تیرہ صدیوں تک پہلی بعثت کا دور رہا، اور چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا دور شروع ہوا۔
⭐ :۔۔۔ وہ ان خالص کفریہ عقائد کے باوجود بڑی شدّومدّ سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، گویا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین جس کے مسلمان قائل ہیں، اور جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک طبقہ در طبقہ متواتر چلا آرہا ہے، وہ قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔
⭐ :۔۔۔ ان کے نزدیک محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا، جب تک کہ مرزاقادیانی کو ’’محمد رسول اللّٰہ‘‘ مان کر اس کا کلمہ نہ پڑھے۔ گویا قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہوچکا، جیسا کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا کلمہ منسوخ ہے۔
مرزا بشیرالدین قادیانی لکھتا ہے:
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے، مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)
مرزا بشیر احمد دُوسری جگہ لکھتا ہے:
’’مسیحِ موعود (مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللّٰہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! محمد رسول اللّٰہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ فتدبر!‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)
⭐ :۔۔۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ شریعتِ محمدیہ کی پیروی موجبِ نجات نہیں، جب تک کہ مرزاقادیانی کی وحی وتعلیم کی پیروی نہ کی جائے، پس جس طرح کہ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حضراتِ انبیائے سابقین علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں، اور اب ان کی پیروی موجبِ نجات نہیں، اسی طرح قادیانیوں کے نزدیک شریعتِ محمدیہ بھی منسوخ ہوچکی ہے، اور مرزاقادیانی کی پیروی کے بغیر نجات نہیں۔
⭐ :۔۔۔ قادیانیوں کے اس طرح کے سیکڑوں کفریہ عقائد ہیں، مثلاً ملائکہ کا اِنکار، حشرِ جسمانی کا اِنکار، معراجِ جسمانی کا اِنکار، وغیرہ، جن کی تفصیل علمائے اُمت مختلف کتابوں میں فرما چکے ہیں۔ اور اس ناکارہ نے ان کے مندرجہ بالا عقائد اپنے رسالے ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ میں باحوالہ درج کردئیے ہیں، اس کا مطالعہ ضرور کیا جائے، او راسے زیرِ نظر تحریر کا ایک حصہ تصور کیا جائے۔ ان تمام کفریات کے باوجود وہ پوری ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ، قرآن وسنت میں تحریف اور تأویلِ باطل کا اِرتکاب کرتے ہیں، اور دِینِ مرزائیت کو اِسلام اور دِینِ محمدی کو کفر ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر اِلحاد وزَندقہ
548
کیا ہوسکتا ہے؟ اس لئے قادیانی بلاشبہ ملحد وزِندیق ہیں، اور ان کا وہی حکم ہے جو علامہ شامیؒ نے دروزیہ، تیامنہ، نصیریہ اور قرامطہ کا لکھا ہے کہ یہ واجب القتل ہیں، اور ان کی توبہ قبول نہیں۔
علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:
’’یعلم مما ھنا حکم الدروز والتیامنۃ فإنھم فی البلاد الشامیۃ یظھرون الإسلام والصوم والصلاۃ مع انھم یعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وان الاُلوھیۃ تظھر فی شخص بعد شخص ویجحدون الحشر والصوم والصلاۃ والحج، ویقولون المسمی بہ غیر المعنی المراد ویتکلمون فی جناب نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کلمات فظیعۃ، وللعلامۃ المحقق عبدالرحمٰن العمادی فیھم فتویٰ مطولۃ، وذکر فیھما انھم ینتحلون عقائد النصیریۃ والإسماعیلیۃ الذین یلقبون بالقرامطۃ والباطنیۃ الذین ذکرھم صاحب المواقف، ونقل عن علماء المذاھب الأربعۃ انہ لا یحل إقرارھم فی دیار الإسلام بجزیہ ولا غیرھا۔ ولا تحل مناکحتھم ولا ذبائحھم وفیھم فتویٰ فی الخیریۃ ایضًا، فراجعھا۔ والحاصل انھم یصدق علیھم إسم الزندیق والمنافق والملحد، ولا یخفی ان إقرارھم بالشھادتین مع ھٰذا الإعتقاد الخبیث لا یجعلھم فی حکم المرتد لعدم التصدیق، ولا یصح إسلام احد ثم ظاھرًا إلّا بشرط التبری عن جمیع ما یخالف دین الإسلام لأنھم یدعون الإسلام ویقرون بالشھادتین ویعد الظفر بھم لا تقبل توبتھم اصلًا۔‘‘ (درالمختار للشامی ج:۴ ص:۲۴۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہیں سے دروزیہ اور تیامنہ کا حکم معلوم ہوجاتا ہے، یہ لوگ شام کے علاقوں میں اسلام کا اِظہار کرتے ہیں، نماز روزہ کرتے ہیں، حالانکہ وہ تناسخِ اَرواح کے قائل ہیں، اور خمر اور زِنا کو حلال سمجھتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ اُلوہیت یکے بعد دیگرے مختلف اشخاص میں ظہور کرتی ہے، وہ حشر ونشر، نماز روزہ اور حج کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسمّیٰ بہ معنی مراد کے علاوہ ہے، اور وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جناب میں ناشائستہ کلمات بکتے ہیں۔ علامہ محقق عبدالرحمن عمادیؒ کا ان کے بارے میں ایک طویل فتویٰ ہے، اس میں موصوف نے ذِکر کیا ہے کہ یہ لوگ نصیری اور اِسماعیلی لوگوں کے عقائد رکھتے ہیں، جن کو قرامطہ اور باطنیہ کہا جاتا ہے، اور جن کا ذِکر صاحبِ مواقف نے کیا ہے۔ اور انہوں نے مذاہبِ اربعہ کے علماء سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا حلال نہیں، نہ جزیہ لے کر اور نہ اس کے بغیر، نہ ان سے رشتہ ناطہ جائز ہے اور نہ ان کا ذَبیحہ حلال ہے، ان کے بارے میں فتاویٰ خیریہ میں بھی ایک فتویٰ ہے، اس کی طرف مراجعت کی جائے۔
حاصل یہ ہے کہ ان پر ’’زِندیق‘‘ اور ’’ملحد‘‘ کا مفہوم صادق آتا ہے، ظاہر ہے کہ ان خبیث عقائد کے باوجود ان کا شہادتین کا اِقرار کرنا، ان کو مرتد کے حکم میں قرار نہیں دیتا، کیونکہ یہاں تصدیق مفقود ہے، اور
549
ان میں سے کوئی شخص اسلام کا اِظہار کرے تو وہ قابلِ قبول نہیں، جب تک کہ ان تمام عقائد سے براء ت کا اِظہار نہ کرے جو دِینِ اسلام کے خلاف ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی سے اسلام کے مدعی ہیں اور شہادتین کا اِقرار کرتے ہیں، اگر یہ لوگ قابو میں آجائیں تو ان کی توبہ قطعاً قبول نہیں۔‘‘
زِندیق کا حکم:
تمام اَئمہ کے نزدیک زِندیق کا حکم وہی ہے جو مرتد کا ہے، چنانچہ:
۱:۔۔۔ زندیق، مرتد کی طرح واجب القتل ہے۔
۲:۔۔۔ اس سے رشتہ ناطہ ناجائز اور باطل ہے۔
۳:۔۔۔ اور اس کا ذَبیحہ حرام اور مردار ہے۔
بلکہ ایک اِعتبار سے زِندیق کا کفر، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ باجماعِ اُمت مرتد کو توبہ کی تلقین کی جاتی ہے، اور اگر وہ توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجاتی ہے۔ لیکن زِندیق کی توبہ میں اِختلاف ہے، اِمام شافعیؒ اور مشہور روایت میں اِمام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ سچے دِل سے تائب ہوجائے تو اس سے قتل ساقط ہوجائے گا۔ اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں، یعنی وہ توبہ کا اِظہار کرے تب بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ اِمام ابوحنیفہؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ زِندیق کی توبہ نہیں۔ اِمام احمدؒ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ فتاویٰ قاضی خان، بحرالرائق اور درمختار وغیرہ میں یہ تفصیل ذِکر کی گئی کہ اگر زِندیق اَزخود آکر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ کا کوئی اِعتبار نہیں، اور وہ واجب القتل ہے۔ فقہِ مالکی کی معروف کتاب ’’المواہب الجلیل‘‘ میں بھی یہی تفصیل ذِکر کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں فقہاء کی درج ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:
اِمام ابوبکر جصاصؒ لکھتے ہیں:
’’قال ابوحنیفۃ: اقتل الزندیق سرًّا فإن توبتہ لا تعرف، قال مالک: یقتل الزنادقۃ ولا یستتابون۔‘‘ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۲۸۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اِمام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ: زِندیق کو موقع پاکر چپکے سے قتل کردو، کیونکہ اس کی توبہ معروف نہیں۔ اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ: زِندیقوں کو قتل کیا جائے گا، اور ان سے توبہ نہیں لی جائے گی۔‘‘
درمختار میں ہے:
’’وکذا الکافر بسبب الزندقۃ لا توبۃ لہ وجعلہ فی الفتح ظاھر المذھب لٰکن فی حظر الخانیۃ: الفتویٰ علٰی انہ إذا اخذ الساحر او الزندیق المعروف الداعی قبل توبتہ ثم تاب لم تقبل
550
توبتہ ویقتل، ولو اخذ بعدھا قبلت۔‘‘ (درالمختار ج:۴ ص:۲۴۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا ہو، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خاں، کتاب الحظر والإباحۃ میں ہے کہ: فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے گرفتار ہوجائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘
البحرالرائق میں ہے:
’’لا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لا یتدین بدین ۔۔۔۔۔۔۔۔ فی الخانیۃ: قالوا إن جاء الزندیق قبل ان یؤْخذ فأقر انہ زندیق فتاب عن ذالک تقبل توبتہ، وإن اخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔‘‘ (البحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۶)
ترجمہ:۔۔۔ ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فتاویٰ قاضی خاں میں ہے کہ: اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرلے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا، پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘
فقہِ مالکی کی کتاب مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل میں ہے:
’’الزندیق وھو من یظھر الإسلام ویسر الکفر فإذا ثبت علیہ الکفر لم یستتب ویقتل ولو اظھر توبتہ لأن إظھار التوبۃ لا یخرجہ عما یبدیہ من عادتہ ومذھبہ فإن التقیۃ عند الخوف عین الزندقۃ اما إذا جاء بنفسہ مقرًّا بزندقتہ ومعلنًا توبتہ دون ان یظھر علیہ فتقبل توبتہ۔‘‘
(مواھب الجلیل شرح مختصر الخلیل ج:۶ ص:۲۸۲، بحوالۃ التشریع الجنائی الإسلامی ج:۲ ص:۷۲۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’زِندیق وہ شخص ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس کا کفر ثابت ہوجائے تو اس سے توبہ نہیں لی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا، خواہ وہ توبہ کا اِظہار کرے، کیونکہ توبہ کا اِظہار اس کو اس کی اس عادت ومذہب سے نہیں نکالتا جس کو وہ ظاہر کیا کرتا ہے، کیونکہ خوف کے وقت بچاؤ کے لئے توبہ کا اِظہار عین زَندقہ ہے۔ البتہ اگر وہ گرفتار ہوئے بغیر خود آکر اپنے زَندقہ کا اِقرار کرے اور توبہ کا اِعلان کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے (اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجائے گی)۔‘‘
فقہِ شافعی کی کتاب ’’المجموع شرح المھذب‘‘ میں ہے:
551
’’المرتد إذا اسلم ولم یقتل صح إسلامہ سواء کانت ردّتہ إلٰی کفر مظاھر بہ اھلہ کالیھودیۃ والنصرانیۃ وعبادۃ الأصنام او إلٰی کفر یستتر بہ اھلہ کالزندقۃ، والزندیق ھو الذی یظھر الإسلام ویبطن الکفر فمتی قامت بیّنۃ انہ تکلم بما یکفر فإنہ یستتاب وإن تاب وإلّا قتل، فإن استتیب فتاب قبلت توبتہ، وقال بعض الناس إذا اسلم المرتد لم یحقن دمہ بحال لقولہ صلی ﷲ علیہ وسلم: ’’من بدَّل دینہ فاقتلوہ!‘‘ وھٰذا قد بدل۔ وقال مالک واحمد وإسحاق: لا تقبل توبۃ الزندیق ولا یحقن دمہ بذالک وھو إحدی الروایتین عن ابی حنیفۃ والروایۃ الاُخریٰ کمذھبنا۔‘‘ (المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مرتد جب مسلمان ہوجائے اور اسے قتل نہ کیا جائے تو اس کا اسلام صحیح ہے، خواہ وہ ایسے کفر کی طرف مرتد ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ ظاہر کرتے ہیں جیسے یہودیت، نصرانیت، بت پرستی۔ خواہ اس کا اِرتداد ایسے کفر کی طرف ہوا ہو، جس کو اس مذہب کے لوگ چھپاتے ہیں، جیسے زَندقہ۔ اور زِندیق وہ ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو۔ پس جب اس پر شہادت قائم ہوجائے کہ اس نے کلمۂ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ کے لئے کہا جائے گا، اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک۔ ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ اگر اس سے توبہ لی گئی اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اگر اس سے توبہ لی گئی اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جب مرتد مسلمان ہوجائے تو اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا، کیونکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’جو شخص اپنے دِین کو بدل لے یعنی مرتد ہوجائے، اس کو قتل کردو‘‘ اور اس نے دِین بدل لیا تھا۔ اِمام مالکؒ، اِمام احمدؒ اور اِمام اِسحاقؒ فرماتے ہیں کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
اور فقہِ شافعی میں بھی ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کفرِ خفی کی طرف مرتد ہوجائے اس کی توبہ قبول نہیں، جیسے زَنادقہ اور باطنیہ۔
اِمام نوویؒ ’’منہاج‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وقیل لا یقبل إسلامہ، إن ارتد إلٰی کفر خفی کزندقۃ وباطنیۃ۔‘‘
(نھایۃ المحتاج شرح المنھاج ج:۷ ص:۳۹۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور ایک قول یہ ہے کہ مرتد کا اِسلام قبول نہیں کیا جائے گا، اگر اس نے کفرِ خفی کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، مثلاً اس نے زَندقہ، یا باطنیت اِختیار کرلی ہو۔‘‘
فقہِ حنبلی کی کتاب المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:
’’إذا تاب (المرتد) قبلت توبتہ ولم یقتل ای کفر کان سواء کان زندیقًا ویستسر بالکفر او لم یکن وھٰذا مذھب الشافعی والعنبری ویروی ذالک عن علی وابن مسعود وھو
552
إحدی الروایتین عن احمد واختیار ابی بکر الخلال وقال انہ اولٰی علٰی مذھب ابی عبدﷲ والروایۃ الاُخریٰ لا تقبل توبۃ الزندیق ومن تکررت ردتہ وھو قول مالک واللیث وإسحاق وعن ابی حنیفۃ روایتان کھاتین واختیار ابوبکر انہ لا تقبل توبۃ الزندیق۔‘‘
(المغنی ج:۱۰ ص:۸۷، الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۸۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’مرتد جب توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل نہیں کیا جائے گا، خواہ اس نے کوئی سا کفر اِختیار کیا ہو، خواہ زندیق ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، یا زِندیق نہ ہو۔ یہ اِمام شافعیؒ اور عنبریؒ کا مذہب اور یہ حضرت علیؓ اور حضرت ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے۔ اور یہی ایک روایت اِمام احمدؒ سے ہے، ابوبکر خلال نے اسی کو اِختیار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اِمام احمدؒ کے مذہب میں یہی روایت رائج ہے۔ دُوسری روایت یہ ہے کہ زندیق اور جو شخص بار بار مرتد ہوتا ہو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
یہی قول ہے اِمام مالکؒ، اِمام لیثؒ اور اِمام اِسحاقؒ کا، اور اِمام ابوحنیفہؒ سے دونوں طرح کی روایتیں ہیں، اور ابوبکرؒ کے نزدیک مختار یہی ہے کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
اِمام شمس الدین ابنِ قدامہ مقدسیؒ مرتد کے نکاح کے باطل ہونے اور اس کے ذَبیحے کی حرمت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’والزندیق کالمرتد فیما ذکرنا۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۷ ص:۱۷۱)
ترجمہ: ۔۔۔ ’’اور مذکورہ اَحکام میں زِندیق، مرتد کی طرح ہے۔‘‘
دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’وحکم سائر الکفار من عبدۃ الأوثان والزنادقۃ وغیرھم حکم المجوس فی تحریم ذبائحھم وصیدھم۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۱ ص:۳۹)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اہلِ کتاب کے علاوہ باقی کفار، بت پرست اور زِندیق وغیرہ کا حکم مجوسیوں کا حکم ہے کہ ان کا ذَبیحہ اور شکار حرام ہے۔‘‘
المجموح شرح المھذب میں ہے:
’’ولا تحل ذبیحۃ المرتد ولا الوثنی ولا المجوسی لما ذکرہ المصنف وھٰکذا حکم الزندیق وغیرہ من الکفار الذین لیس لھم کتاب۔‘‘ (المجموع شرح المھذب ج:۹ ص:۷۵)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور حلال نہیں ذبیحہ مرتد کا، نہ بت پرست کا، نہ مجوسی کا، اور یہی حکم ہے زِندیق وغیرہ ان کفار کا جن کے پاس آسمانی کتاب نہیں۔‘‘
خلاصۂ بحث:
ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
⭐ :۔۔۔ جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا ہو، وہ مرتد بھی ہے اور زِندیق بھی۔
553
⭐ :۔۔۔ اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زِندیق بھی۔
⭐ :۔۔۔ اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں، بلکہ خالص زِندیق ہے۔
⭐ :۔۔۔ مرتد اور زِندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔ اس لئے کسی قادیانی کا ذَبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔
قادیانیوں کے معاملے میں اِشکال کی وجہ:
جن حضرات نے قادیانیوں کے یا ان کی اولاد کے ذَبیحے کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، انہیں قادیانی مذہب کی حقیقت سمجھنے میں اِشکال پیش آیا۔ اور اس اِشکال کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی اُمت دجل وتلبیس کے فن میں ماہر ہے۔ وہ عام مسلمانوں کے سامنے اپنے اصل عقائد کا اِظہار نہیں کرتے، بلکہ اپنی تقریر وتحریر میں مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ: ’’ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بنیادی اِختلاف نہیں، بس ذرا سا اِختلاف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی ابھی آنے والا ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک جس کو آنا تھا، وہ آگیا۔ اس نکتے کے سوا ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اِختلاف نہیں!‘‘ قادیانیوں کے اس دجل وتلبیس سے نہ صرف عام مسلمانوں کو قادیانیوں کی اصل حقیقت کا سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے، بلکہ وہ اہلِ علم، جنہوں نے قادیانی لٹریچر کا گہرا مطالعہ نہیں کیا، وہ اِشکال اور تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن جن حضرات نے قادیانی لٹریچر کا بغور مطالعہ کیا ہو، اور انہیں قادیانیوں سے گفتگو اور بحث ومناظرے کا موقع ملا ہو، ان کے سامنے یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ:
⭐ :۔۔۔ قادیانیت، اسلام کے متوازی ایک مستقل دِین ومذہب ہے۔
⭐ :۔۔۔ قادیانی نبوّت، محمدِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ایک نئی، متوازی نبوّت ہے۔
⭐ :۔۔۔ قادیانیوں کے نزدیک محمدِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ اور شریعت منسوخ ہیں، اور نبوّتِ محمدیہ کو ماننے اور محمدِ عربی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے سب کافر ہیں۔
اس لئے اسلام اور قادیانیت کا اِختلاف چند مسائل یا نکات کا اِختلاف نہیں، بلکہ قادیانیت نے نبوّتِ محمدیہ کے بالمقابل ایک نئی نبوّت، شریعتِ محمدی کے مقابلے میں ایک نئی شریعت اور اِسلام کے مقابلے میں ایک نیا دِین تصنیف کیا ہے۔
کیا دُنیا کا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اس کی جماعت کا مسلمانوں کے ساتھ معمولی سا اِختلاف تھا۔۔۔؟
کیا کوئی عالمِ دِین یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اس کی جماعت کا ذَبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال اور ان سے رشتہ ناطہ جائز تھا۔۔۔؟
جو حکم مسیلمہ کذّاب کا تھا، ٹھیک وہی حکم مسیلمہ پنجاب غلام احمد قادیانی کا ہے، اور جو حکم مسیلمہ کذّاب کے ماننے والوں کا تھا، وہی مسیلمہ پنجاب کے ماننے والوں کا ہے، ان کے ساتھ رشتہ ناطہ کے جائز ہونے اور ذَبیحہ کے حلال ہونے کا سوال ہی خارج اَزبحث ہے۔۔۔!
وَاٰخِرُدَعوٰنَا اَنِ الحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ
554
کتاب النکاح
بابِ اوّل
قادیانی کا مسلمان سے نکاح
قادیانی لڑکے سے مسلمان لڑکی کا نکاح جائز نہیں
سوال:۔۔۔ مسلمان لڑکی ۔۔۔جانتے ہوئے بھی۔۔۔ اگر قادیانی لڑکے کے ساتھ عشق میں مبتلا ہوکر اس سے شادی کی خواہش ظاہر کرے، اس صورت میں لڑکی اپنے مذہب پر رہے اور لڑکا اپنے مذہب پر، نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر لڑکی شادی کرلیتی ہے تو آخرت میں کن لوگوں میں شامل ہوگی؟
جواب:۔۔۔ قادیانی مرتد ہیں،(۱) ان سے نکاح نہیں ہوگا،(۲) لڑکی ساری عمر زِنا کے گناہ میں مبتلا رہے گی، جیسے کسی سکھ کے عشق میں مبتلا ہوکر اس سے شادی کرلے۔
سوال:۔۔۔ شادی کے لئے لڑکی کی معاونت وحمایت کرنے والے کے لئے ۔۔۔جبکہ قادیانی لڑکا اَزخود شادی کرنے سے کئی بار اِنکار کرچکا ہو۔۔۔ اور اسے عاشق لڑکی کی سہیلی وغیرہ نے کسی طور پر رضامند کیا ہو، جس میں لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے کے اِمکانات کو رَدّ نہیں کیا جاسکتا، اور خود لڑکی کے لئے شریعت میں سزا کی حد کیا ہے؟ کیا لڑکی جبکہ مسلم گھرانے کی ہے اور غیرمسلم لڑکے سے شادی کا اِرادہ کرنے کے شرعی جرم میں اور معاونت کرنے والے بھی واجب القتل نہیں ہیں؟
(۱) إذا لم یعرف ان محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر لإبن نجیم ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب الردّۃ، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
ایضًا: وإن انکر بعض ما علم من الدین بالضرورۃ کفر بھا۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۱ ص:۵۶۱، طبع ایچ ایم سعید کراچی)
(۲)فلا یجوز لہ ان یتزوّج إمرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذمیۃ ولا مملوکۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)۔
ایضًا: ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز نکاح المؤْمنۃ الکافر لقولہ تعالٰی: ’’وَلَا تُنكِحُوا المُشرِكِینَ حَتّٰی یُوٴمِنُوا‘‘ ولأن فی إنکاح المؤْمنۃ الکافر خوف وقوع المؤْمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح، فصل ومنھا إسلام الرجل، طبع ایچ ایم سعید)۔
555
جواب:۔۔۔ غیرمسلم کے ساتھ شادی کو جائز سمجھنا کفر ہے۔(۱) لڑکی کی معاونت وحمایت کرنے والوں نے اگر اس شادی کو جائز سمجھا تو ان کو اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۲)
قادیانی کی منگنی کی مٹھائی
سوال:۔۔۔ بات چیت طے ہونے یعنی منگنی وغیرہ ہونے پر قادیانی لڑکے یا مسلم لڑکی کی طرف سے یا دونوں کی طرف سے مشترکہ طور پر تقسیم کی گئی مٹھائی کھانا اور انہیں مبارک باد دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مٹھائی کھاسکتے ہیں اور مبارک باد دے سکتے ہیں تو کیوں؟ جبکہ نکاح ہی جائز نہ ہوا، اور یہ ایک ناجائز فعل کی اِبتدا کے شگون میں تقسیم کی گئی ہو؟
جواب:۔۔۔ مٹھائی کھانا اور مبارک باد دینا بھی رضا کی علامت ہے، ایسے لوگوں کو بھی اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۳)
سوال:۔۔۔ اس سلسلے کی مٹھائی کو جائز قرار دینے کے لئے میرے ایک دوست نے دلیل دی کہ ہندوستان میں لوگ ۔۔۔مسلمان۔۔۔ اپنے ہندو پڑوسی کے یہاں شادی وغیرہ کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے اور کھاتے تھے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کی آپس کی شادی ہوتی تھی، ایک ہی مذہب کا معاملہ تھا۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان لڑکی بھی اب مرتد ہوگئی یا ہوجائے گی، لہٰذا یہ ایک مرتد اور زِندیق میں اِضافے پر یا لڑکی کے مذہب تبدیل کرنے، اسلام سے پھرجانے کی خوشی میں مٹھائی ہوگی۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ جنہوں نے مٹھائی کھائی اور اس فعل پر لڑکی لڑکے کو ۔۔۔منگنی کے بندھن میں بندھنے پر۔۔۔ مبارک باد دِی، اب وہ کیا کریں؟ اگر انہوں نے انجانے میں ایسا کیا، اگر انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ ناجائز فعل ہے، ایسا کیا، اب وہ کیا کریں؟
جواب:۔۔۔ غیرمسلموں کی آپس میں شادی میں مبارک باد دینے کا تو معمول رہا ہے۔ لیکن کسی مسلمان لڑکی کا عقد کسی غیرمسلم سے کردیا جائے، یا ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ کسی مسلم لڑکی کو مرتد کرکے غیرمسلم سے اس کی شادی کردی جائے تو اس صورت میں کسی مسلمان کو کبھی مبارک پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، بلکہ غیرت مند مسلمانوں میں ایسے خبیث جوڑے کو صفحۂ ہستی سے مٹادینے کی مثالیں موجود ہیں۔ بہرحال! جو لوگ اس میں ملوّث ہوئے ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اپنے اِیمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے۔(۴)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۵ ص:۷۱ تا ۷۳)
(۱) إذا رأی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ واستحسنہ ورضی بہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع اصح المطابع بمبئی)۔
ایضًا: من اعتقد الحرام حلالًا ۔۔۔۔۔۔۔ فإن کان دلیلہ قطعیًا کفر۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب فی منکر الإجماع، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲) ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ من خلاف یؤْمر بالإِستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجھاد، باب المرتد، طبع سعید)۔
(۳) ایضًا۔
(۴) ایضاً حاشیہ نمبر۲۔
556
مرزائی اور سنی میں مناکحت کا حکم
سوال:۔۔۔ مناکحت باہم ایسے مرد وعورت کی کہ ایک ان میں سے سنی حنفی اور دُوسرا مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد اور متبع ہو، اور ان کے جملہ دعاوی اور اِلہامات کی تصدیق کرتا ہو، جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ دونوں یا ایک ان میں سے نابالغ ہو تو بولایت والدین جو ایسے ہی مختلف العقیدہ ہوں، کیا حکم ہے؟ اُمید ہے کہ تشریح وبسط سے جواب مدلل مرحمت ہو۔ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزا کے بعض اقوال حدِ کفر تک پہنچے ہوئے ہیں، مگر یہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی معتقد خاص اس قول کی خبر نہ رکھتا ہو، اس لئے مرزا کا معتقد ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ خاص اس کفر کا بھی معتقد ہو۔ (اب مرزائیت کا کفر الم نشرح ہے، ایسے اِستثناء کا اب جواز نہیں ۔۔۔مرتب) پس اگر یہ مرزائی خواہ مرد ہو یا عورت بالخصوص اس قولِ کفری کا بھی معتقد ہو تو اس کا نکاح مسلمان مرد یا عورت سے نہیں ہوسکتا، لیکن اگر یہ مرزائی بالغ ہے تو خود اس کا عقیدہ دیکھا جائے گا۔ اور اگر نابالغ ہے تو اس کے ماںباپ کا عقیدہ دیکھا جائے گا۔ یعنی اگر ماںباپ دونوں مرزائی ہوں گے تو اس نابالغ کو مرزائی قرار دیں گے۔ اور اگر ایک بھی غیرمرزائی ہے تو اس کو غیرمرزائی قرار دے کر یہ حکمِ مذکور ثابت نہ کریں گے۔ اور اگر یہ مرزائی خاص کسی ایسے اَمرِ موجبِ کفر کا معتقد نہیں تو مبتدع ہے (اب یہ اِستثناء نہیں، بلکہ کل القادیانیون ہم الکافرون والزندیقون حقًّا) اور سنی حنفی قادیانیت میں کفو نہیں، پس اگر یہ عورت ہے تو مرد سنی حنفی کا نکاح اس سے دُرست نہیں ہے، اور اگر یہ مرد ہے اور عورت سنیہ حنفیہ ہے تو اگر یہ عورت بالغ ہے اور اس کی اِجازت سے نکاح ہوا ہے تو نکاح ہوگیا، اور اسی طرح اگر نابالغ ہے اور باپ دادا نے کردیا تب بھی ہوگیا، اور اگر باپ دادا کے سوا کسی اور نے کیا، یا باپ دادا کچھ شفیق وخیرخواہ نہیں ہیں تو سوال میں اس کی تصریح ہونے سے جواب دیا جائے گا۔
فقط ۱۰؍جمادی الاولیٰ ۱۳۲۷ھ (تتمہ اولیٰ ص:۷۸)
(اِمداد الفتاویٰ ج:۲ ص:۲۲۱، ۲۲۲)
عدم جواز نکاح زَنِ مسلمہ باقادیانی
سوال:۔۔۔ بخدمت شریف علمائے اسلام، سلمکم ﷲ إلٰی یوم القیام! کیا فرماتے ہیں اساطینِ دِینِ متین ومفتیانِ شرعِ مبین اس اَمر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں:
۱:۔۔۔ ’’آیت: مبشرًا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد کا مصداق میں ہوں۔‘‘
(اِزالہ اوہام، طبع اوّل ص:۶۷۳ ملخصاً، خزائن ج:۲ ص:۴۶۳)
۲:۔۔۔ ’’مسیحِ موعود جن کے آنے کی خبر حدیث میں آئی ہے، میں ہوں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۶۶۵ ملخصاً، خزائن ج:۳ ص:۴۵۹)
۳:۔۔۔ ’’میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔‘‘
(معیار الاخیار مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۸)
557
۴:۔۔۔ ’’ان قدمی علٰی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۳۵ ملخصاً، خزائن ج:۱۶ ص:۱۹)
۵:۔۔۔ ’’لا تقیسونی بأحد ولا احدًا بی۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۹، خزائن ج:۱۶ ص:۵۲)
۶:۔۔۔ ’’میں مسلمانوں کے لئے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔‘‘
(لکچر سیالکوٹ ص:۳۳ ملخصاً، خزائن ج:۲۰ ص:۲۲۸)
۷:۔۔۔ ’’میں اِمام حسینؓ سے افضل ہوں۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۳ ملخصاً، خزائن ج:۱۸ ص:۲۵۸ و ص:۴۷۷)
۸:۔۔۔ ’’وانی قتیل الحب لٰکن حسینکم قتیل العدا فالفرق اجلی واظھر۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۸۱، خزائن ج:۱۹ ص:۱۹۳)
۹:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زِناکار تھیں۔‘‘۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۱۰:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵ ص:خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۱۱:۔۔۔ ’’یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے، اس کے پاس بجز دھوکے کے اور کچھ نہ تھا۔‘‘
(ازالہ ص:۳۰۳ و۳۲۲ ملخصاً، خزائن ج:۳ ص:۲۵۹)
۱۲:۔۔۔ ’’میں نبی ہوں اس اُمت میں نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص:۳۹۱ ملخصاً، خزائن ج:۲ ص:۴۰۶،۴۰۷)
۱۳:۔۔۔ ’’مجھے اِلہام ہوا: یا ایھا الناس إنّی رسول ﷲ إلیکم جمعیًا۔‘‘
(معیار الاخیار مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۰)
۱۴:۔۔۔ ’’میرا منکر کافر ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص:۱۶۳ ملخصاً، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۱۵:۔۔۔ ’’میرے منکروں بلکہ مقابلوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔‘‘ (فتاویٰ احمدیہ ج:۱ ص:۱۵)
۱۶:۔۔۔ ’’مجھے خدا نے کہا ہے: اسمع ولدی‘‘ (اے میرے بیٹے سن!) (البشریٰ ص:۴۹)
۱۷:۔۔۔ ’’لولاک لما خلقت الأفلاک۔‘‘
(حقیقت الوحی ص:۹۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۲)
۱۸:۔۔۔ ’’میرا اِلہام ہے: وما ینطق عن الھویٰ۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ملخصاً، خزائن ج:۱۷ ص:۳۸۵)
۱۹:۔۔۔ ’’وما ارسلناک إلَّا رحمۃ للعالمین۔‘‘
(حقیقت الوحی ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۸۵)
558
۲۰:۔۔۔ ’’إنک لمن المرسلین۔‘‘
(حقیقت الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۱:۔۔۔ ’’اتانی ما لم یؤْت احدًا من العالمین۔‘‘
(حقیقت الوحی ص:۱۰۷، خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
۲۲:۔۔۔ ’’مجھے حوضِ کوثر ملا ہے: إنّا اعطیناک الکوثر۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۸۵ ملخصاً، خزائن ج:۱۱ ص:۵۸)
۲۳:۔۔۔ ’’ان ﷲ معک ان ﷲ یقوم اینما قمت۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۱۷، خزائن ج:۱۱ ص:۳۰۱)
۲۴:۔۔۔ ’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں ہوبہو اللّٰہ ہوں (رأیتنی فی المنام عین ﷲ وتیقنت اننی ھو فخلقت السماوات والأرض)۔‘‘
(آئینہ کمالات ص:۵۶۴، ۵۶۵، خزائن ج:۵ ص:۵۶۴،۵۶۵)
۲۵:۔۔۔ ’’میرے مرید کسی غیرمرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔‘‘ (فتاویٰ احمدیہ ج:۲ ص:۷)
جو شخص مرزاقادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو، اس کے ساتھ مسلمہ غیرمصدقہ کا رِشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجبِ اِفتراق ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ جو مسلمان ایسے عقائدِ بالا اِختیار کرے، جن میں بعضے یقینی کفر ہیں، وہ بحکم مرتد ہے، اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے، اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں،(۱) اور نکاح ہوجانے کے بعد اگر عقائدِ کفریہ اِختیار کرے تو نکاح فسخ ہوجائے گا۔(۲) (تتمہ خامسہ ص:۵۵)
(اِمدادالفتاویٰ ج:۲ ص:۲۲۲ تا ۲۲۴)
قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح جائز نہیں
سوال:۔۔۔ حنفی کا نکاح قادیانی سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کے متبعین خواہ قادیانی پارٹی سے متعلق ہوں یا لاہوری سے، جمہور علمائے اُمت اہلِ ہندوستان وحجاز ومصر وشام کے اِجماع واِتفاق سے خارج اَز اِسلام ہیں، جس کی وجہ مفصل ومدلل حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب ناظم تبلیغ دارالعلوم دیوبند کے رسالے ’’اشد العذاب‘‘ میں مذکور ہے۔ اور فتاویٰ علمائے ہندوستان کے مہری اور دستخطی جداگانہ چھپے ہوئے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو ان دونوں رسالوں کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ فرقۂ قادیانی مسلمان نہیں۔ اس لئے کسی مسلمان مرد وعورت کا
(۱) ولا یصلح ان ینکح مرتد او مرتدۃ احد من الناس مطلقًا (قولہ مطلقًا) ای مسلمًا او کافرًا او مرتدًّا، وھو تاکید لما فھم من النکرۃ فی النفی۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۲۰۰، قبیل باب القسم، طبع سعید)۔
(۲) وارتداد احدھما ای الزوجین فسخ، فلا ینقض عددًا عاجلٌ بلا قضاء۔ (الدر المختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۹۳، باب نکاح الکافر، ایضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۳۹۱، الباب العاشر فی نکاح الکفار)۔
559
نکاح ان سے جائز نہیں۔ اور اگر کسی نے پڑھ بھی دیا تو شرعاً معتبر نہیں۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۵۸)
(نوٹ: رسالہ ’’اشد العذاب‘‘ اِحتسابِ قادیانیت کی جلد دہم میں چھپ چکا ہے ۔۔۔مرتب۔)
مرزائی کی لڑکی سے نکاح اور اس سے تعلقات کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔۔۔ ایک شخص نے مرزائیوں کے یہاں اپنے لڑکے کی شادی کرلی ہے، اور جو شخص مرزائی کی لڑکی کو بیاہ کر لایا ہے، اس سے مسلمانوں کو تعلقات رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر اس مرزائی لڑکی کا عقیدہ بھی مرزائی ہے تو اس سے مسلمان کا نکاح صحیح نہیں ہوا۔(۱) اس شخص مسلمان سے کہہ دیا جائے کہ مرزائی عورت کو علیحدہ کردے، یا اس کو اِسلام کی تلقین کرکے اور مسلمان کرکے تجدیدِ نکاح کرے، فقط (قادیانی کے کفر پر علمائے اُمت متفق ہیں)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۴۵۶)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح
سوال:۔۔۔ (الجمعیۃ مؤرخہ یکم جنوری ۱۹۳۹ء) اہلِ سنت والجماعت لڑکی کا نکاح ایک مرزائی سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اہلِ سنت والجماعت لڑکی کا نکاح مرزائی سے جائز نہیں،(۲) کیونکہ مرزائی باتفاقِ علماء دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۲۶)
مسلمان خاتون کسی قادیانی کے نکاح میں نہیں رہ سکتی
سوال:۔۔۔ (الجمعیۃ مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۲۹ء) زید قادیانی ہوگیا ہے، اس کی منکوحہ بیوی بوجہ غیرت واسلامی حمیت اس کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی، اور نکاح فسخ کرانا چاہتی ہے۔
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق جماہیر علمائے اسلام کا فتویٰ شائع ہوچکا ہے کہ یہ لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، ان کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے مسائل میں جو اِسلام کے قطعی اور یقینی مسائل ہیں، انہوں نے انکار کیا ہے، یا ایسی تأویلاتِ باطلہ کی ہیں جو کفر کے حکم سے نہیں بچاسکتیں۔ مثلاً: حضور خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت سے اِنکار کرنا، حالانکہ ختمِ نبوّت کا مسئلہ قطعی اِجماعی ہے۔ مرزاقادیانی کا دعویٔ نبوّت، دعویٔ رِسالت، دعوائے معجزات وغیرہ، توہینِ انبیاء، تکفیرِ اُمتِ محمدیہ کہ ان کے نزدیک تمام غیراحمدی مسلمان کافر ہیں۔ اس بنا پر کوئی مسلم عورت کسی قادیانی کے
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
560
نکاح میں نہیں رہ سکتی۔(۱) شوہر کے قادیانی بن جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے،(۲) اور ہائی کورٹ بہار ومدراس فسخِ نکاح کے فیصلے بھی کرچکے ہیں۔ واللّٰہ اعلم!
محمد کفایت اللّٰہ غفرلہٗ
(کفایت المفتی ج:۶ ص:۱۳۰)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح نہیں ہوسکتا
سوال:۔۔۔ زید ایک سنی المذہب اور حنفی المشرب شخص ہے۔ اس کے ایک دُختر نیک اختر ہے جو ناکتخدا ہے اور باپ ہی کے مذہب پر ہے۔ اور ایک شخص بکر احمدی مذہب کا ہے، اور نئے پیداشدہ فرقۂ قادیانی سے تعلق رکھتا ہے۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی رسولِ برحق مانتا ہے، اور وہی عیسیٰ تسلیم کرتا ہے جن کا ذِکر احادیث میں ہے کہ قریب قیامت کے آسمان سے نازل ہوں گے، مگر قرآن مجید کو منزل من اللّٰہ اور حضرت رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سچا رسول یقین کرتا اور اِسلام کے تمام اَوامر ونواہی پر سچے دِل سے اِیمان رکھتا ہے، باقاعدہ طور سے نماز پڑھتا اور اِسلام کے دیگر تمام اَحکام کو بجا لاتا ہے، اس کا کوئی نیا کلمہ بھی نہیں بلکہ ان کا اِمام ۔۔۔مرزاقادیانی۔۔۔ اپنے آپ کو نہایت سچا اور بڑا پکا مسلمان سمجھتا ہے اور لکھتا ہے کہ:
-
ما مسلما نیم از فضلِ خدا
مصطفی ما را اِمام وپیشوا
(دُرّثمین فارسی ص:۱۱۴)
ایک دُوسری جگہ ان کا اِمام ۔۔۔مرزاقادیانی۔۔۔ بڑے زور شور سے لکھتا ہے کہ:
-
مؤمنوں پر کفر کا کرنا گماں
ہے یہ کیا اِیمان داروں کا نشاں
-
کیا یہی تعلیمِ فرقاں ہے بھلا
کچھ تو آخر چاہئے خوفِ خدا
-
ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دِین
دِل سے ہیں خدامِ ختم المرسلین
-
شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں
خاکِ راہ احمدِ مختار ہیں
-
سارے حکموں پر ہمیں اِیمان ہے
دے چکے دِل اب تن خاکی رہا
-
ہے یہی خواہش کہ ہو یہ بھی فدا
تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب
کیوں نہیں لوگو! تمہیں خوفِ عقاب
(دُرّثمین اُردو ص:۱۱)
اس کا ایک لڑکا ہے جو اپنے باپ ہی کے دِین پر ہے، اور فرقۂ قادیانی سے تعلق رکھتا ہے، اب دریافت طلب یہ اَمر ہے کہ کیا شرع شریف کے بموجب اور قرآن مجید کے ماتحت ان ہر دو کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور یہ رشتہ مناکحت شریعتِ محمدی کی رُو
(۱) صفحہ:۵۵۹ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔
(۲) صفحہ:۵۵۹ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ کیجئے۔
561
سے جائز ہوگا یا نہیں؟ نہایت ادب سے عرض ہے کہ جواب باصواب نہایت جلد مرحمت فرمائیں۔ ساتھ ہی گزارش ہے کہ ضرورت صرف اس قدر ہے کہ اس معاملے میں خدا ورسول کیا فرماتے ہیں؟ کسی کی ذاتی رائے درکار نہیں۔ براہِ کرم قرآن وحدیث سے جو کچھ اس معاملے میں حق ہو، خدا کو حاضر وناظر جان کر وہی تحریر فرماکر داخل حسنات ہوں، اور اس بات سے ڈرکر کہ ایک روز ضرور ایسا آنے والا ہے جس دن سب کو خداوند کریم کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی اور وہ دِن بڑا سخت ہوگا اور موت سے خوف کھاکر کہ ایک روز مرنا یقینی ہے، آپ فتویٰ دیں۔ حق بات کے کہنے میں کسی کا خوف یا ڈَر یا مذہبی تعصب آپ کو نہ روکے ورنہ خوب سمجھئے کہ قیامت میں خداوند کریم کا غصہ سب سے زیادہ انہیں لوگوں پر نازل ہوگا جو دانستہ حق کو چھپائیں گے
جواب:۔۔۔اللّٰھم ربَّنا اَلھِمْنا الصّدق والسَّداد وارزقنا اتِّباعہ، وجنّبنا الکفر والإِلحاد وارزقنا اجتنابہ، لک الحمد حمدًا ترتضیہ والصلٰوۃ علٰی نبیّک صلٰوۃ ترضیہ وعلٰی مقتفی آثارہ ومتّبعیہ اجمعین، امَّا بعد!
مستفتی کی نصیحت کہ حق بات صاف صاف ظاہر کردی جائے، بسر وچشم مقبول ومنظور ہے، مرزا غلام احمد قادیانی ۔۔۔باوجود اِتباعِ قرآن وحدیث کے طویل وعریض دعوؤں کے۔۔۔ قرآن وحدیث کے منکر، محرِّف ومبدِّل ہیں۔ انبیاء کی توہین، قرآنِ پاک کی توہین، رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی توہین، علمائے مجتہدین پر سب وشتم ان کے کلام میں اس قدر ہے کہ آفتابِ نیم روز کی طرح واضح ہے، اِجماع کے وہ مخالف ہیں۔ اور جو شخص کہ قرآن وحدیث کے اَحکامِ منصوصہ صریحہ کا خلاف کرے، انبیاء علیہم السلام کی توہین کرے، قرآن پاک کی اہانت کرے، قرآن مجید کے مضامین متفق علیہا کو بدل دے، اِجماع کا خلاف کرے، وہ یقینا کافر ہے، اگرچہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا کتنا ہی لمبا چوڑا دعویٰ کرے۔۔۔!
مرزاقادیانی خود اپنی تصنیفات میں تمام مسلمانوں کو جو ان دعوؤں کو نہیں مانتے، بلکہ منکر یا متردّد بھی ہیں، کافر کہتے ہیں، اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مرزائیوں کے لئے ناجائز وحرام بتاتے ہیں (دیکھو حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۲۸، خزائن ج:۱۷ ص:۶۴)۔ ان کے جانشین خلیفہ ثانی مرزا محمود قادیانی نے اخبار ’’فاروق‘‘ میں جو قادیان سے نکلتا ہے، اپنا مضمون شائع کرایا ہے، اس میں احمدیوں کو فرماتے ہیں کہ: تمہارے لئے قطعی حرام ہے کہ مرزاقادیانی کے منکروں کے جنازے کی نماز پڑھو اور ان کے ساتھ مناکحت یعنی رشتے ناطے کرو۔
پھر تعجب ہے کہ مرزائی کس منہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کو باوجود اِقرار قرآن وحدیث وتوحید ورِسالت کے کافر کیوں کہا جاتا ہے؟ وہ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ انہوں نے کروڑوں مسلمانوں کو جو توحید ورِسالت وضروریاتِ اسلام کے معتقد ومقر ہیں، اور ان میں ہزاروں لاکھوں علماء ومشائخ اور صوفیہ ہیں، کیسے کافر بنادیا۔۔۔؟
اس سوال کے جواب کے لئے جو مستفتی نے دریافت کیا ہے، مرزا محمود قادیانی کا فتویٰ کافی ہے کہ کسی احمدی لڑکے کا غیراحمدی لڑکی سے نکاح نہیں ہوسکتا، قطعی حرام ہے، اور مرزائیوں پر اس فتوے کا تسلیم کرنا لازم ہے، کیونکہ مرزاقادیانی اپنے تمام منکرین اور متردّدین کو کافر بتاچکے ہیں۔ واللّٰہ اعلم!
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۱۹۶ تا ۱۹۸)
562
مرزائی کو بیٹی کا رِشتہ دینے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ زید نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح مرزائی سے کر رکھا ہے، اور وہ بچی صاحبِ اولاد ہے، اور زید کا مرزائیوں سے ملنا جلنا جاری ہے، شنید میں ہے کہ ایک بچی کا رِشتہ زید نے شیعہ سے کر رکھا ہے۔ براہِ کرم تحریر فرمائیں کہ زید جو خود مدعی اہلِ سنت والجماعت ہے، اس کے بیٹے کے ساتھ کسی مسلمان بچی کا نکاح دُرست ہے؟
جواب:۔۔۔ ایسے مرزائیت پسند لوگ بھی عجب نہیں کہ مرزائیوں کے زُمرے میں شامل کردئیے جائیں۔قال تعالٰی: ’’وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ‘‘ (المائدۃ:۵۱) یہودیوں اور نصرانیوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے والوں کے بارے میں وعید فرمائی گئی ہے، اور مرزائی بھی چونکہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، پس ان کے ساتھ یا مرزائیت پسند لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا یا رِشتہ داری کے تعلقات پیدا کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ لہٰذا زید کے بیٹے کے ساتھ کسی مسلمان بچی کا نکاح نہ کیا جائے تاوقتیکہ وہ قطعی طور پر اپنے والدین سے براء ت وعلیحدگی اِختیار نہ کرے۔
فقط واللّٰہ اعلم بالصواب!
| الجواب صحیح |
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
| محمد عبداللّٰہ عفا اللّٰہ عنہ |
|
(خیر الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۴۷)
مرزائی سے سُنّیہ کا نکاح دُرست نہیں ہے
سوال:۔۔۔ کچھ عرصہ ہوا کہ ایک عقد نکاح مابین مرزائی واہلِ سنت والجماعت کے ہوگیا تھا، اور زوجین بوقتِ نکاح نابالغ تھے اور اب بھی نابالغ ہیں، مگر اس وقت لڑکی کے والد سنی نے لڑکے کے والد کو جو سخت بدعقیدہ مرزائی ہے، دیکھ کر یہ چاہا کہ یہ نکاح فسخ ہوجائے، اور اسی وجہ سے وہ لڑکی کو رُخصت نہیں کرتا، اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ اس صورت میں نکاحِ مذکور منعقد نہیں ہوا، سنی کو چاہئے کہ اپنی دُختر کو وہاں رُخصت نہ کرے، اور اہلِ سنت والجماعت میں نکاح کردے، کیونکہ اس جماعتِ مرزائیہ کی تکفیر کا فتویٰ جمہور علماء کا ہے اور مابین کافر ومسلم نکاح منعقد نہیں ہوتا، اور اولاد نابالغ تابع والدین کے ہوتی ہے۔ ’’ولا یصح ان ینکح مرتدّا ومرتدۃ احد من الناس‘‘ در مختار۔ وفی الشامی: ’’لأنہ قبل البلوغ تبع لأبویہ‘‘ (شامی ج:۲ ص:۴۳۰)۔ فقط
(فتاویٰ دارُالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۴۵۷)
مسلم عورت سے قادیانی کے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ مسئولہ مولانا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی، مؤرخہ ۸؍شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
۱:۔۔۔ ما قولکم ایھا العلماء الکرام! مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدّد، مہدی، مسیحِ موعود اور پیغمبر صاحبِ وحی واِلہام ماننے والے مسلم ہیں یا خارج اَز اِسلام اور مرتد؟
563
۲:۔۔۔ بہ شکلِ ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیرمسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعاً دُرست ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ بہ صورتِ ثانیہ جس عورت کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے، ان عورات کو اِختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لئے اور بلاعدّت کسی مردِ مسلم سے نکاح کرلیں؟ بینّوا واجرکم علی ﷲ تعالٰی!
جواب۱:۔۔۔ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ کے بعد کسی کو نبوّت ملنے کا جو قائل ہو، وہ تو مطلقاً کافر ومرتد ہے، اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لئے مانے۔ قال ﷲ تعالٰی:
’’وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰)
’’لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔‘‘ (ت)
وقال صلی ﷲ علیہ وسلم:
’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۴۵، ابواب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ)
’’حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (ت)
لیکن قادیانی تو ایسا مرتد ہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ: ’’من شکَّ فی کفرہ فقد کفر‘‘ (شامی ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) (جس نے اس کے کفر میں شک کیا وہ کافر ہوگیا۔ت) اسے ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ مسیحِ موعود یا مہدی یا مجدّد یا ایک ادنی درجے کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوالِ ملعونہ پر مطلع ہوکر اس کے کافر ہونے میں ادنیٰ شک کرے وہ خود کافر مرتد ہے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۲:۔۔۔ قادیانی عقیدے والے یا قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کا نکاح اصلاً ہرگز زنہار کسی مسلم کا فر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالف العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان، حیوان، جن، شیاطین کسی سے نہیں ہوسکتا، جن سے ہوگا زِنائے خالص ہوگا۔ فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
’’لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ وکذالک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد، کذا فی المبسوط۔‘‘ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ)
’’مرتد کو کسی مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، ایسے ہی مرتدہ کو کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، جیسا کہ مبسوط میں ہے۔‘‘
اسی میں دربارۂ تصرفات مرتد ہے:
’’منھا ما ھو باطل بالإتفاق نحو النکاح فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذمیۃ ولا حربیۃ ولا مملوکۃ، وﷲ تعالٰی اعلم!‘‘
(فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۲۵۵، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
564
’’بعض وہ چیزیں جو بالاتفاق باطل ہیں، جیسے نکاح تو اس کے لئے کسی مسلمہ مرتدہ اور اصلی کافرہ اور ذِمی عورت، حربیہ اور لونڈی سے نکاح باطل ہے، واللّٰہ تعالیٰ اعلم!‘‘
۳:۔۔۔ جس مسلمان عورت کا غلطی خواہ جہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا، اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فوراً فوراً اس سے جدا ہوجائے کہ زنا سے بچے اور طلاق کی کچھ حاجت نہیں، بلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیں، طلاق تو جب ہو کہ نکاح ہوا ہو، نکاح ہی سرے سے نہ ہوا، نہ اصلاً عدّت کی ضرورت کہ زِنا کے لئے عدّت نہیں، بلاطلاق وبلاعدّت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ درمختار میں ہے:
’’نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لا یثبت النسب منہ ولا تجب العدۃ لأنہ نکاح باطل۔‘‘
(شامی ج:۲ ص:۳۸۰، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
’’کافر نے مسلمان عورت سے نکاح کیا، جس سے اولاد ہوئی، تو اس سے نسب ثابت نہ ہوگا، عورت پر عدّت واجب نہ ہوگی، کیونکہ یہ نکاح باطل ہے۔‘‘
ردالمحتار میں ہے:
’’ای فالوطیء فیہ زنا لا یثبت بہ النسب، وﷲ تعالٰی اعلم!‘‘
(ردالمحتار ج:۲ ص:۶۸۷، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ‘‘
’’یعنی اس میں وطی زِنا ہے، جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا، واللّٰہ تعالیٰ اعلم!‘‘
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۱ ص:۵۱۴ تا ۵۱۶)
مرزائی کے ساتھ نکاح بالاتفاق ناجائز ہے
سوال الف:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین حسبِ ذیل صورت میں کہ سنی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی کے ساتھ جائز ہے یا نہ؟ اگر کوئی سنی مسلمان اپنی لڑکی کا نکاح کسی مرزائی کے ساتھ کردے تو ایسی صورت میں ایسے شخص کا اِیمان رہ جاتا ہے یا نہیں؟
ب:۔۔۔ مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی کے ساتھ کیا جارہا ہو، ایسی شادی میں شامل ہونا جائز ہے یا ناجائز؟ اور اس شادی کا ولیمہ کھانا حرام ہے یا حلال؟
ج:۔۔۔ اور ایسے نکاح میں وکیل ہونا یا گواہ ہونا، یا ایسے نکاح میں شامل ہوکر نکاح خوانی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
د:۔۔۔ بالا مذکورہ محفل میں فقط شامل ہونے والے پر، یا وکیل ہونے والے پر، یا گواہ ہونے والے پر، یا نکاح خوانی کرنے والے پر اَز رُوئے شرع شریف کوئی نقص ہے یا نہ؟ بیّنوا توجروا!
565
جواب الف:۔۔۔ مرزائی بالاتفاق مرتد، خارج اَز اِسلام ہیں، ان سے مسلمان لڑکی کا نکاح ہرگز نہیں ہوسکتا،(۱) اگر غلطی سے کردے تو توبہ کرلینا چاہئے، اور اگر ان کے عقائد کا علم ہوتے ہوئے ان کو کافر نہ مانے، یا ان کو کافر مان کر ان کے ساتھ نکاح جائز سمجھے، تو اس کا اِیمان ختم ہوجانے کا عظیم خطرہ ہے۔ اسے جلدی تجدیدِ اسلام کرکے توبہ کرنا چاہئے۔(۲)
ب:۔۔۔ شامل ہونا اور ولیمہ کھانا، ناجائز ہے۔
ج:۔۔۔ قطعاً ناجائز۔
د:۔۔۔ اگر غلطی سے شریک ہوگئے تو بھی توبہ کرلیں، اور اگر جان کر ان سے نفرت نہ کریں اور ان کو مسلمان جانیں، یا اس فعل کو جائز کہیں، تو تجدیدِ اِسلام کرنی ضروری ہے۔(۳) اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔
واللّٰہ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم، ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۶۰۸،۶۰۹)
مرزائی دائرۂ اِسلام سے خارج ہیں، مناکحت جائز نہیں ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے دو ہمشیرگان اور ایک لڑکی مرزائیوں کو بیاہ رکھی ہیں، اور ان کے مرنے جینے میں باقاعدہ شریک ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ چک کے مسلمانوں کو کیا معاملہ کرنا چاہئے؟ شادی غمی وغیرہ میں شریک ہونا چاہئے یا قطع تعلق کرنا چاہئے؟ اور دُنیاوی معاملات میں بھی کس حد تک مسلمانوں کو اس سے تعلق رکھنا چاہئے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور ان کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کا نکاح حرام ہے،(۴) اور ان سے میل جول رکھنا بھی دُرست نہیں۔ جو شخص ان سے برادری کے تعلقات رکھتا تھا، اس پر لازم ہے کہ وہ مرزائیوں سے قطع تعلق کرے، اور
(۱) إذا لم یعرف ان محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر لإبن نجیم ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب الردّۃ، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
ایضًا: فلا یجوز لہ ان یتزوّج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدّۃ ولا ذِمّیَّۃ ولا مملوکۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)۔
ایضًا: ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ، فلا یجوز إنکاح المؤْمنۃ الکافر لقولہ تعالٰی: ’’وَلَا تُنكِحُوا المُشرِكِینَ حَتّٰی یُوٴمِنُوا‘‘ ولأن فی إنکاح المؤْمنۃ الکافر خوف وقوع المؤْمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح، فصل فی عدم نکاح الکافر المسلمۃ، طبع سعید)۔
(۲) وإذا راٰی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ واستحسنہ ورضی بہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع اصح المطابع بمبئی)۔
ایضًا: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤْمر بالتوبۃ والإستغفار وتجدید النکاح۔ (الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجھاد، باب المرتد، طبع سعید)۔
(۳) ایضًا۔
(۴)لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲)۔
566
اگر وہ باز نہ آئے تو دُوسرے مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ ان کو برادری کے تعلقات خوشی غمی میں شریک نہ کریں اور ان کو مجبور کریں کہ وہ مرزائیوں سے قطع تعلق کریں۔(۱)
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
حررہ محمد انور شاہ غفرلہٗ
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۶۰۷)
مرتد کسی سے نکاح نہیں کرسکتا
سوال:۔۔۔ مسمّیٰ رفیق، رضیہ سے شادی کرنے کے لئے مرزائی بن گیا، شادی کے دو سال بعد مسماۃ رضیہ مرزائیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئی، اور مسمّیٰ رفیق بدستور مرزائی ہے، اس کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ مذکورہ مرد وعورت کا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، کیونکہ مرتد کا نکاح کسی صورت میں منعقد ہی نہیں ہوتا۔
’’اعلم ان تصرفات المرتد علٰی اربعۃ اقسام ۔۔۔إلٰی قولہ۔۔۔ ویبطل منہ إتفاقًا ما یعتمد الملّۃ وھی خمس النکاح (درمختار)۔ قولہ: النکاح ای ولو لمرتدۃ مثلہ۔‘‘
(شامی ج:۳ ص:۳۲۹، طبع مکتبہ رشیدیہ)
وفی العالمگیریۃ:
’’ومنھا ما ھو باطل بالإتفاق نحو النکاح فلا یجوز لہ ان یتزوّج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذمیۃ لا حرۃ ولا مملوکۃ۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۵۵، طبع مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
| الجواب صحیح |
فقط واللّٰہ اعلم! |
| عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
محمد عبداللّٰہ عفا اللّٰہ عنہ |
(خیرالفتاویٰ ج:۴ ص:۳۲۴)
قادیانی باتفاقِ اُمت کافر ہیں، ان کے ساتھ مناکحت ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک عورت جو کہ خاص مسلمان اور حنفی عقیدہ رکھتی ہے، جہالت کی وجہ سے اس کا نکاح ایک قادیانی سے پڑھایا گیا، اس قادیانی سے اس کے دو بچے پیدا ہوچکے ہیں، وہ بچے بھی شادی شدہ ہوچکے ہیں، تو اَب اس عورت کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ قادیانی باتفاقِ اُمت کافر، دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا عورتِ مذکورہ کا اس کے ہمراہ عقدِ نکاح نہیں
(۱)قال تعالٰی: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء تُلْقُونَ إِلَیْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاء کُم مِّنَ الْحَقِّ‘‘ (الممتحنۃ:۱)
وقال تعالٰی: ’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ ۔۔۔إلخ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
567
ہوا۔ اس لئے یہ عورت شخصِ مذکور سے طلاق حاصل کئے بغیر دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے، اور عورتِ مذکورہ پر لازم ہے کہ اس مرد کے گھر سے فوراً علیحدہ ہوجائے۔(۱)
فقط واللّٰہ اعلم!
بندہ محمد اِسحاق غفر اللّٰہ لہٗ
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
مقامی طور پر معتمد علیہ علماء کے سامنے اس واقعے کو پیش کرو، اگر واقعی یہ شخص قادیانی ہو تو اس کی عورت کو اس سے الگ کردیا جائے۔ تحقیق ضروری ہے۔
محمد انور شاہ غفر لہٗ
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۶۰۷،۶۰۸)
مرزائی اور مسلمان کا باہم نکاح حرام ہے
سوال:۔۔۔ کیا مرزائی لڑکے کا مسلمان لڑکی سے نکاح منعقد ہوسکتا ہے؟ مہربانی فرماکر وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ جماعتِ مرزائیہ کی تکفیر کا فتویٰ جمہور علماء کا ہے، اور مابین کافر ومسلم نکاح منعقد نہیں ہوتا، پس سرے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہٰذا مسلمان لڑکی کو رُخصت نہ کیا جائے، اور فسخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو دُشمنانِ اسلام کی صحبت ومجلس سے محفوظ ومأمون رکھے،(۲) آمین!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۱)
مرزائی سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں:
۱:۔۔۔ کیا مرزائی ۔۔۔احمدی۔۔۔ فرقہ اسلام سے خارج ہے؟ اور اگر ہے تو کن وجوہات کی بنا پر؟
۲:۔۔۔ کیا اہلِ سنت والجماعت کی لڑکی کا نکاح ایک مرزائی سے ہوسکتا ہے یا نہ؟ اور کیا مرزائی لڑکی کا نکاح اہلِ سنت والجماعت کے لڑکے کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ اگر نکاح ہوچکا ہو تو کیا وہ نکاح دُرست ہے یا نہیں؟
السائل: شریف احمد، آزادکشمیر، ضلع میرپور
جواب۱:۔۔۔ مرزائی ۔۔احمدی۔۔ کافر ومرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، کیونکہ یہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں، حالانکہ اُمتِ مسلمہ کا اِجماعی عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم ہوچکی ہے، آپ کے بعد کوئی نبی ۔۔نیا۔۔ نہیں آئے گا، اور یہ عقیدہ قرآن وحدیث سے بالتصریح ثابت ہے، اور اس کا اِنکار کفر واِرتداد ہے۔ لہٰذا یہ لوگ مسلمان نہیں۔
(۱) صفحہ:۵۶۶ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ ہو۔
(۲) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ دیکھیں۔
568
۲:۔۔۔ مسلمان اہلِ سنت والجماعت لڑکی کا نکاح مرزائی سے بالکل ہرگزہرگز جائز نہیں۔(۱) اور ایسے ہی مرزائی لڑکی کا نکاح مسلمان لڑکے کے ساتھ بھی جائز نہیں۔
۳:۔۔۔ اور جو نکاح ہوچکا ہے، وہ صحیح نہیں، فوراً ان دونوں ناکح ومنکوحہ کے درمیان جدائی کردی جائے،(۲) فقط والسلام۔ واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۵، ۲۰۶)
لاہوری مرزائی سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ قادیانی واحمدیہ لاہوری شریعتِ غراء کی نگاہ میں کیسے ہیں؟
۱:۔۔۔ آیا وہ کافر ہیں یا نہیں؟
۲:۔۔۔ ان پر نمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ ان پر نمازِ جنازہ کی اِمامت کیسی ہے؟ اور اس اِمام کا جس کو وہ جائز قرار دیتا ہے، کیا حکم ہے؟
۴:۔۔۔ ان کے ساتھ نکاح کیسا ہے؟ اور نکاح کے جائز قرار دینے والے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جدید نبوّت کا مدعی یقینا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اسے نبی ماننے والے قادیانی، یا مجدّد اور مسلمان ماننے والے لاہوری ہوں، دونوں طرح کے لوگ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کی نمازِ جنازہ پڑھانی یا پڑھنی جائز نہیں ہے، ان سے کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر نکاح کے بعد خاوند مرزائی مذہب اِختیار کرلے، تب بھی بوجہ مرتد ہونے کے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کے ساتھ نکاح جائز قرار دینے والا شخص یا ان کی نمازِ جنازہ کے جواز کا قائل اگر مرزاقادیانی کے دعویٔ نبوّت کو جان کر یہ فتویٰ اس بنیاد پر دیتا ہے کہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ اس کے نزدیک اسلام کا بنیادی عقیدہ نہیں ہے، تو وہ بھی کافر ہے، اور اگر ختمِ نبوّت کا اِجماعی عقیدہ جو کتاب وسنت سے صراحۃً ثابت ہے، اس پر کامل عقیدہ رکھ کر مرزاقادیانی کے دعویٔ نبوّت یا اس کے عقائدِ باطلہ اور اس کے ضلال سے مطلع نہیں ہے، تو وہ کافر نہیں ہے۔ البتہ اس کا فرض ہے کہ بغیر تحقیق مذہب قادیانی اس طرح کا فتویٰ نہ دے، اور اس فتوے سے رُجوع کرکے توبہ کرے۔(۳) واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۷؍۲؍۱۳۸۸ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۲،۲۰۳)
(۱) صفحہ:۵۶۶ کے حواشی ملاحظہ کیجئے۔
(۲) ولا یصلح ان ینکح مرتد او مرتدّۃ احدًا من الناس (قولہ مطلقًا) ای مسلمًا او کافرًا او مرتدًّا ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۲۰۰، قبیل باب القسم، طبع سعید)۔
ایضًا: وارتداد احدھما ای الزوجین فسخ فلا ینقض عددًا عاجلٌ بلا قضاء۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳، باب نکاح الکافر)۔
(۳) سابقہ حوالہ جات ملاحظہ ہو۔
569
قادیانیوں سے رِشتہ قائم کرنے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ (مسئلہ:۷۲،۷۳) از بدایوں، مرسلہ نتھو ونثار احمد سوداگران چرم ۱۸؍ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ۔
۱:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ زید نے باوجود اس علم کے کہ مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور ان کے کافر ملحد ہونے کا فتویٰ تمام علمائے اسلام دے چکے ہیں، پھر بھی اپنی لڑکی کا نکاح ایک مرزائی کے لڑکے کے ساتھ کردیا، اب زید کو گمراہ اور بدعقیدہ سمجھا جائے یا نہیں؟ اور زید کے ساتھ کھانا پینا اور اس کی شادی غمی میں شریک ہونا، اپنے یہاں اس کو شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لئے کیا حکم ہے؟
۲:۔۔۔ مرزائیوں کے لڑکوں کو جو اَبھی سنِ شعور کو نہیں پہنچے، اور اپنے ماںباپوں کے رنگ میں رنگے ہیں اور ہر اَمر میں انہیں کے ماتحت ہیں، کیا سمجھنا چاہئے مرزائی یا غیرمرزائی؟
جواب۱:۔۔۔ اگر وہ لڑکا اپنے باپ کے مذہب پر تھا اور اسے یہ معلوم تھا کہ اس کا یہ مذہب ہے اور دانستہ لڑکی اس کے نکاح میں دی، تو یہ لڑکی کو زِنا کے لئے پیش کرنا اور پرلے سرے کی دیوثی ہے، ایسا شخص سخت فاسق ہے اور اس کے پاس بیٹھنا تک منع ہے۔ قال ﷲ تعالٰی:
’’وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ (الانعام:۶۸)
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ!‘‘
ورنہ اس کے سخت بے احتیاط اور دِین میں بے پروا ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور اگر ثابت ہو کہ وہ واقعی مرزائیوں کو مسلمان جانتا ہے، اس بنا پر یہ تقریب کی تو خود کافر مرتد ہے، علمائے کرام حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق فرمایا کہ:
’’من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۔‘‘
(درمختار ج:۳ ص:۳۱۷، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
’’جو اس کے کافر ہونے میں شک کرے، وہ بھی کافر۔‘‘
اس صورت میں فرضِ قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت حیات کے سب علاقے اس سے قطع کردیں، بیمار پڑے، پوچھنے کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمان کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام۔ قال ﷲ تعالٰی:
’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘ (التوبۃ:۸۴)
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور ان میں سے کسی کی میّت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔‘‘
۲:۔۔۔ وہ سب مرزائی ہیں، مگر وہ کہ عقل وتمیز کی عمر کو پہنچا اور اچھے بُرے کو سمجھا اور مرزائیوں کو کافر جانا اور ٹھیک اسلام
570
لایا، وہ مسلمان ہے، یہ اس حالت میں ہے کہ ماں مرزائی ہو، اور اگر ماں مسلمان ہو، اگرچہ اپنی شامتِ نفس یا اپنے اولیاء کی حماقت یا ضلالت سے مرزائی کے ساتھ نکاح کرکے زِنا میں مبتلا ہے، اب جو بچے ہوں گے جب تک ناسمجھ رہیں گے اور سمجھ کی عمر پر آکر خود مرزائیت اِختیار نہ کریں گے، اس وقت تک وہ اپنی ماں کے اِتباع سے مسلمان ہی سمجھے جائیں گے۔ فإن الولد یتبع خیر الأبوین دینًا فکیف من لیس لہ إلَّا الاُمّ فإن ولد الزنا لا اب لہ، وﷲ تعالٰی اعلم! بچہ والدین میں سے اس کے تابع ہوتا ہے جس کا دِین بہتر ہو، تو اس وقت کیا حال ہوگا جب اس کی صرف ماں ہی ہو، کیونکہ ولدِ زِنا کا باپ نہیں ہوتا۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۳۲۰-۳۲۲)
مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح کرنے والے مُلَّا کے اِیمان ونکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک مُلَّا نے ایک دُختر سُنّیہ کا نکاح ایک مرزائی عقیدہ سے کردیا، یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ اور مُلَّا وحاضرین کا نکاح ٹوٹا یا نہیں؟ اور اس مُلَّا کی بیعت واِمامت کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ دُختر سُنّیہ کا نکاح مرزائی عقیدے کے شخص سے جائز نہیں ہے۔ پس مُلَّا نے فسادِ عقیدہ اس مرزائی کے جاننے کے باوجود نکاح پڑھا، وہ گنہگار وفاسق ہے، اور اس کی بیعت دُرست نہیں، اور اِمامت اس کی مکروہِ تحریمی ہے، مگر اس کا نکاح باقی ہے اور حاضرین کا نکاح بھی باقی ہے، ان سب کو توبہ کرنا چاہئے اور ظاہر کردینا چاہئے کہ یہ نکاح جو مرزائی سے ہوا، صحیح نہیں ہوا۔ یہ اس صورت میں جبکہ اس مُلَّا نے اور حاضرین نے اس قادیانی کو مسلمان نہ جانا ہو، اسی طرح کافر ومسلمان کے نکاح کو جائز نہ تصوّر کیا ہو، ورنہ سب کو تجدیدِ اِیمان ونکاح کرنا ہوگی، فقط (درمختار ج:۲ ص:۴۳۰، باب نکاح الکافر)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۴۵۸)
قادیانی عورت سے نکاح حرام ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے کے متعلق کہ کیا کسی قادیانی عورت سے نکاح جائز ہے؟
جواب:۔۔۔ قادیانی زِندیق اور مرتد ہیں، اور مرتدہ کا نکاح نہ کسی مسلمان سے ہوسکتا ہے، نہ کسی کافر سے، اور نہ کسی مرتد سے۔ ’’ہدایہ‘‘ میں ہے:
’’اعلم ان تصرفات المرتد علٰی اقسام نافذ بالإتفاق کالإستیلاء والطلاق ۔۔۔۔۔۔۔ وباطل بالإتفاق کالنکاح والذبیحۃ لأنہ یعتمد الملّۃ ولا ملّۃ لہ۔‘‘
(ھدایۃ ج:۲ ص:۵۶۹، باب احکام المرتدین، مطبوعہ مطبع مجید)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات کی چند قسمیں ہیں، ایک قسم بالاتفاق نافذ ہے، جیسے اِستیلاء اور طلاق، دُوسری قسم بالاتفاق باطل ہے، جیسے نکاح اور ذَبیحہ، کیونکہ یہ موقوف ہے ملت پر، اور مرتد کی کوئی ملت نہیں۔‘‘
درمختار میں ہے:
571
’’ولا یصلح (ان ینکح مرتد او مرتدۃ احدًا) من الناس مطلقًا وفی الشامیۃ (قولہ مطلقًا) أی مسلمًا او کافرًا او مرتدًّا۔‘‘ (فتاویٰ شامی، باب نکاح الکافر ج:۲ ص:۴۳۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مرتد یا مرتدہ کا نکاح کسی انسان سے مطلقاً صحیح نہیں، یعنی نہ مسلمان سے، نہ کافر سے اور نہ مرتد سے۔‘‘
فتاویٰ عالمگیری میں مرتد کے نکاح کو باطل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذِمِّیَّۃ ولا حرَّۃ ولا مملوکۃ۔‘‘
(حاشیہ فتاویٰ عالمگیری ج:۲ ص:۵۸۰)
ترجمہ:۔۔۔ ’’پس مرتد کو اِجازت نہیں کہ وہ نکاح کرے کسی مسلمان عورت سے، نہ کسی مرتدہ سے، نہ ذِمی عورت سے، نہ آزاد سے اور نہ باندی سے۔‘‘
فقہِ شافعی کی مستند کتاب ’’شرح مہذب‘‘ میں ہے:
’’لا یصح نکاح المرتد والمرتدۃ لأن القصد بالنکاح الإستمتاع ولما کان دمھما مھدرًا ووجب قتلھما فلا یتحقق الإستمتاع ولأن الرحمۃ تقتضی إبطال النکاح قبل الدخول فلا ینعقد النکاح معھا۔‘‘ (شرح مہذب ج:۱۶ ص:۲۱۴)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مرتد اور مرتدہ کا نکاح صحیح نہیں، کیونکہ نکاح سے مقصود نکاح کے فوائد کا حصول ہے، چونکہ ان کا خون مباح ہے اور ان کا قتل واجب ہے، اس لئے میاں بیوی کا اِستمتاع متحقق نہیں ہوسکتا، اور اس لئے بھی کہ تقاضائے رحمت یہ ہے کہ اس نکاح کو رُخصتی سے پہلے ہی باطل قرار دیا جائے، اس بنا پر نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔‘‘
فقہِ حنبلی کی مشہور کتاب ’’المغنی مع الشرح الکبیر‘‘ میں ہے:
’’والمرتدۃ یحرم نکاحھا علٰی ای دین کانت لأنہ لم یثبت لھا حکم اھل الدین الذی انتقلت إلیہ فی إقرارھا علیہ ففی حلھا اولٰی۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۷ ص:۵۰۳)
ترجمہ:۔۔۔ ’’اور مرتد عورت سے نکاح حرام ہے، خواہ اس نے کوئی سا دِین اِختیار کیا ہو، کیونکہ جس دِین کی طرف وہ منتقل ہوئی ہے، اس کے لئے اس دِین کے لوگوں کا حکم ثابت نہیں ہوا، جس کی وجہ سے وہ اس دِین پر برقرار رکھی جائے تو اس سے نکاح کے حلال ہونے کا حکم بدرجہ اَولیٰ ثابت نہیں ہوگا۔‘‘
ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ قادیانی مرتد کا نکاح صحیح نہیں، بلکہ باطلِ محض ہے۔
سوال:۔۔۔ اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
572
جواب:۔۔۔ جب اُوپر معلوم ہوا کہ یہ نکاح صحیح نہیں، تو ظاہر ہے کہ قادیانی مرتدہ سے پیدا ہونے والی اولاد بھی جائز اولاد نہیں ہوگی۔ البتہ اگر اس لڑکی کے باپ کے مسلمان ہونے کے شبہ کی بنا پر اس سے نکاح کیا گیا تھا تو یہ ’’شبہ کا نکاح‘‘ ہوگا، اور اس کی اولاد جائز ہوگی۔ اور یہ اولاد مسلمان باپ کے تابع ہو تو مسلمان ہوگی۔(۱)
قادیانی عورت سے نکاح کرنے والے سے تعلقات کا حکم
سوال:۔۔۔ اس شخص سے معاشرتی تعلق روا رکھنا جائز ہے یا نہیں جسے علاقے کے لوگ مختلف اِداروں میں اپنا نمائندہ بناکر بھیجتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کی بیوی قادیانی ہے؟ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ: ’’اس کا مذہب اس کے ساتھ ہے، ہمیں اس کے مذہب سے کیا لینا؟ یہ ہمارے مسائل حل کراتا ہے۔‘‘ تو اَزرُوئے شریعت اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ یہ شخص جب تک قادیانی عورت کو علیحدہ نہ کردے، اس وقت تک اس سے تعلقات رکھنا جائز نہیں۔ جو لوگ مذہب سے بے پروا ہوکر محض دُنیوی مفادات کے لئے اس سے تعلقات رکھتے ہیں، وہ سخت گنہگار ہیں، اگر انہیں اپنا اِیمان عزیز ہے، اور اگر وہ قیامت کے دن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت کے خواستگار ہیں تو ان کو اس سے توبہ کرنی چاہئے اور جب تک یہ شخص اس قادیانی مرتدہ کو علیحدہ نہیں کردیتا اس سے تمام معاشرتی تعلقات منقطع کرلینے چاہئیں۔ حق تعالیٰ شانہ‘ کا اِرشاد ہے:
’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّاللہ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ أُوْلَئِکَ حِزْبُ اللہِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو لوگ اللّٰہ پر اور قیامت کے دن پر (پوراپورا) اِیمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللّٰہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے ہی کیوں نہ ہوں، ان لوگوں کے دِلوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے اِیمان ثبت کردیا ہے اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوّت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللّٰہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللّٰہ سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللّٰہ کا گروہ ہے، خوب سن لو کہ اللّٰہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔‘‘
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج :۵ ص:۶۸ تا ۷۱)
(۱) والولد یتبع خیر الأبوین دینًا۔ (ردالمحتار ج:۳ ص:۱۹۶، باب نکاح الکافر، مطلب الولد یتبع خیر الأبوین دینًا، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
573
مسلمان کا قادیانی لڑکی سے نکاح جائز نہیں، شرکاء توبہ کریں
سوال:۔۔۔ ہمارے علاقے میں ایک زمین دار کی قادیانی کے گھر شادی ہوئی، مگر دولہا مسلمان ہونے کا دعوے دار ہے۔ ان کا شرعاً نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اور دعوتِ ولیمہ میں شریک لوگوں کا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟ یا گنہگار ہیں؟ آئندہ شریک ہوں یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے،(۱) ان کی تقریبات میں شریک ہونا اور اپنی تقریبات میں ان کو شریک کرنا جائز نہیں۔(۲) جو لوگ اس معاملے میں چشم پوشی کرتے ہیں، قیامت کے دِن خدائے ذُوالجلال کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ناراضی اور عتاب کے مورد ہوں گے۔ قادیانیوں سے رشتہ ناتا جائز نہیں،(۳) اگر وہ لڑکی مسلمان ہوگی تو نکاح صحیح ہے، اور اگر مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے تو نکاح باطل ہے۔ جس طرح کسی سکھ اور ہندو سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح کسی قادیانی سے بھی جائز نہیں، اس شخص کو لازم ہے کہ قادیانی عورت کو الگ کردے۔ جو لوگ ان کے نکاح میں شریک ہوئے، وہ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے، آئندہ ہرگز ایسا نہ کریں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۵ ص:۴۷)
اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کرلے تو اس کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے، عقد کرلیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں؟ اور اس شخص کا اِیمان باقی رہا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے،(۴) رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ:
الف:۔۔۔ اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں ۔۔۔ یا
ب:۔۔۔ اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوںکے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا۔
تو ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج اَز اِیمان نہیں کہا جائے گا، البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس
(۱)إذا لم یعرف ان محمدًا آخر الأنبیاء فلیس بمسلم لأنہ من الضروریات۔ (الأشباہ والنظائر ج:۲ ص:۹۱، کتاب السیر، باب الردّۃ، طبع إدارۃ القرآن)۔
ایضًا: وإن انکر بعض ما علم من الدین ضرورۃ کفر بھا۔ (درمختار ج:۱ ص:۵۶۱، باب الإمامۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲) ولھٰذا یدل علٰی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائر الکفار عند إظھارھم الکفر والشرک وما لا یجوز علی ﷲ تعالٰی إذا لم یمکنا إنکارہ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۲، طبع سھیل اکیڈمی لاہور)۔
(۳) فلا یتزوّج المرتد مسلمۃ ولا کتابیۃ ولا مرتدۃ ولا یتزوّج المرتدۃ مسلم ولا کافر ولا مرتد۔‘‘ (البحر الرائق ج:۳ ص:۲۵۹ طبع دار المعرفۃ بیروت)
(۴) ایضاً۔
574
قادیانی مرتد عورت کو فوراً علیحدہ کردے اور آئندہ کے لئے اس سے اِزدواجی تعلقات نہ رکھے، اور اس فعل پر توبہ کرے۔(۱) اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج اَزاِیمان ہے، کیونکہ عقائدِ کفریہ کو اِسلام سمجھنا خود کفر ہے۔ اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے اِیمان کی تجدید کرے۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۲)
قادیانی عورت سے نکاح جائز نہیں
سوال:۔۔۔ اہلِ کتاب عورت سے تو مسلمان مرد نکاح کرسکتا ہے، تو کیا ایک قادیانی عورت سے بھی مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی چونکہ باجماعِ اُمت مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اس لئے ان سے کسی قسم کا رِشتہ ناتہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔ جس طرح کسی قادیانی سے مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، ایسے ہی کوئی مسلمان شخص کسی قادیانی عورت سے نکاح نہیں کرسکتا، اس لئے کہ قادیانی اہلِ کتاب کے حکم میں نہیں، بلکہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔
کما قال شیخ الإسلام برھان الدین المرغینانی رحمہ ﷲ:
’’ان تصرفات المرتد علٰی اقسام، نافذ بالإتفاق کالإستیلاء والطلاق لأنہ لا یفتقر إلٰی حقیقۃ الملک وتمام الولایۃ وباطل بالإتفاق کالنکاح والذبیحۃ لأنہ یعتمد الملّۃ۔‘‘
(الھدایۃ ج:۲ ص:۵۶۹، باب المرتد، مطبوعہ مجیدی کانپور)(۳)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۴ ص:۳۴۱،۳۴۲)
قادیانی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح باطل ہے
سوال:۔۔۔ زید جو کہ حنفی مذہب رکھتا ہے، ایک قادیانی المذہب عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے، ایک حنفی مفتی سے سوال کیا گیا تو جواز کا فتویٰ دیا، جو درج ذیل ہے، ان کا جواب بعینہٖ حضور کی خدمت میں پیش کرکے اِستصواب چاہتا ہوں۔
نقل فتویٔ جواز:۔۔۔ مکرم برادرم! السلام علیکم۔ قادیانی مذہب کی عورت سے نکاح جائز ہے، جو قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے قائل ہیں وہ اگرچہ کافر ہیں، مگر اہلِ کتاب ضرور ہیں، تو اہلِ کتاب عورت سے مسلم کا نکاح جائز ہے۔ لاہوری مرزائی،
(۱)قال تعالٰی: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوحاً‘‘ (التحریم:۸) عن ابی ھریرۃ رضی ﷲ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: ﷲ اشد فرحًا بتوبۃ أحدکم من أحدکم بضالتہ إذا وجدھا۔ قال النووی فی شرح مسلم تحت ھٰذہ الحدیث: واتفقوا علٰی ان التوبۃ من جمیع المعاصی واجبۃ۔‘‘ (صحیح مسلمم مع شرح النووی ج:۳ ص:۳۵۴، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۲)تنبیہ: وفی البحر: والأصل ان من اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرامًا لغیرہ، کمال الغیر لا یکفر، وإن کان لعینہ، فإن کان دلیلہ قطعیًا کفر، وإلَّا فلا۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکری الإجماع)۔
ایضًا: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما فیہ إختلاف یؤْمر بالإِستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۴ ص:۲۴۷، کتاب الجہاد، باب المرتد)۔
(۳) ایضًا: رد المحتار مع الدر المختار ج:۳ ص:۳۰۰، قبیل باب القسم، طبع ایچ ایم سعید کراچی۔
575
غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے، صرف مجدّد مانتے ہیں، اس لئے ان کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔ بہرحال قادیانی عورت سے جب نکاح جائز ہوا تو اس لڑکی سے بھی خواہ متزلزل عقیدہ رکھتی ہو، ایک حنفی مسلمان کا نکاح بالکل دُرست وجائز ہے، ہرگز شک نہ کیجئے۔
جواب:۔۔۔ میرے نزدیک قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے جب ان کا کفر مُسلَّم ہے، اور مرتد بحکم کتابی نہیں ہوتا، اس لئے اہلِ کتاب میں ان کو داخل نہیں کرسکتے۔ اور لاہوری گو مرزا کو نبی نہ کہیں، لیکن اس کے عقائدِ کفریہ کو کفر نہیں کہتے، کفر کو کفر نہ سمجھنا یہ بھی کفر ہے۔ کیا اگر کوئی شخص مسیلمہ کذّاب کو نبی نہ مانتا ہو، مگر اس کے عقائد کو کفر بھی نہ کہتا ہو، تو کیا اس شخص کو مسلمان کہا جائے گا۔۔۔؟(۱)
۳۰؍ذی قعدہ ۱۳۵۱ھ
(’’النور‘‘ رجب ۱۳۵۲ھ، اِمداد الفتاویٰ ج:۲ ص:۲۲۴)
مسلمان لڑکے کا مرزائی لڑکی سے نکاح
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک لڑکی عاقلہ بالغہ ہے اور اس لڑکی کا والد مرزائی ہے، اور وہ لڑکی والد کے تابع ہے، اگر کوئی شخص اس اُمید سے اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے کہ نکاح کرنے کے بعد وہ لڑکی مسلمان ہوجائے گی، کیا وہ اس بنا پر نکاح وشادی کرسکتا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ پہلے لڑکی مذکورہ کو مسلمان بنالے، اس کے بعد اس کے ساتھ نکاح کرے، مسلمان بنائے بغیر اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔(۲)
فقط واللّٰہ اعلم
|
الجواب صحیح |
بندہ محمد اِسحاق غفر اللّٰہ لہٗ |
|
محمد انور شاہ غفر اللّٰہ لہٗ |
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان |
|
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان |
۱۷؍صفر ۱۳۹۶ھ |
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۶۰۵،۶۰۶)
ملاحدہ اور زَنادقہ سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک پیر صاحب اپنے دادا پر اس طرح دُرود پڑھاتے ہیں: ’’اللّٰھم صل علٰی محمدٍ الزمان السندی اللواری‘‘ اپنے دادا کے نام کے ساتھ ’’جل جلالہٗ وجل شانہ‘‘‘ کہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک قصبے کو ’’مکہ‘‘ اور اس کے نزدیک ایک گاؤں کو ’’مدینہ‘‘ اور ایک کنویں کو ’’چاہِ زمزم‘‘ اور ایک میدان کو ’’عرفات‘‘ اور ایک قبرستان کو ’’جنۃالبقیع‘‘ کے نام سے موسوم کرکے ۹؍ذی الحجہ کے دن ۳بجے ایک کثیر اِجتماع کے سامنے ایک بڑے منبر پر خطبۂ حج پڑھتے ہیں، اور بطورِ سند مریدوں کو حج مبارک کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں، اور اپنے دادا کے مقبرے کا طواف وسجدہ کراتے ہیں، وغیرہ۔
(۱)ان من اعتقد الحرام حلالًا، فإن کان حرامًا لغیرہ کمال الغیر لا یکفر، وإن کان لعینہ فإن کان دلیلہ قطعیًا کفر ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۲۳، باب المرتد، مطلب فی منکری الإجماع، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲) صفحہ:۵۷۴ کا حاشیہ نمبر۳ ملاحظہ کیجئے۔
576
۱:۔۔۔ ایسے پیر اور ان کے مریدوں سے رشتہ ناتا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
۲:۔۔۔ اور جن سے رشتہ ناتا ہوچکا ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
المستفتی نمبر۱۶۶۱: احمد صدیق
مدیر اخبار ’’رہبرِ سندھ‘‘ کراچی
۵؍اگست ۱۹۳۷ء - ۲۷؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۶ھ
جواب:۔۔۔ یہ پیر اور اس کے مرید جو ان عقائدِ شنیعہ کے معتقد ہوں، ملحد اور زِندیق ہیں۔ ان زَنادقہ سے علیحدہ رہنا واجب ہے، اور ایسے فاسدالعقیدہ لوگوں سے رشتہ ناتا کرنا، ناجائز ہے، لیکن اس کے اقارب میں سے اگر کوئی شخص ان عقائدِ شنیعہ کا معتقد نہ ہو تو محض پیر کا رِشتہ دار ہونے کی وجہ سے اس پر یہ حکم عائد نہ ہوگا۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
مرزائی مرتدین کا کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا
سوال:۔۔۔ از روضہ حضرت مجدّد الف ثانی سرہند شریف، مسئولہ عبدالقادر مدرّس درگاہ شریف
۳۰؍رمضان شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ مرزائی مذہب شخص کی دُختر نابالغہ سے جو عقدِ نکاح ہوگیا ہے، وہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ دُختر مذکورہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے، والد اس کا اِنتقال کرچکا ہے، صرف اس کی والدہ نے نکاح ایک حنفی مذہب سے کردیا ہے، ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ اس کو علیحدہ کردیا جائے یا تاوقت بلوغ رکھا جائے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزائی مرتد ہیں، کما ھو مبین فی حسام الحرمین ۔۔۔جیسا کہ حسام الحرمین میں واضح بیان کیا گیا ہے۔۔۔ اور مرتد مرد ہو یا عورت، اس کا نکاح کسی مسلمان یا کافرِ اصلی یا مرتد، غرض انسان یا حیوان جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا، جس سے ہوگا، زِنائے محض ہوگا۔ عالمگیری میں ہے:
’’لا یجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ وکذالک لا یجوز النکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط۔‘‘
(فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)
’’مرتد کے لئے مرتدہ، مسلمہ یا اصلی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں، اور اسی طرح مرتدہ عورت کا بھی کسی مرد سے نکاح جائز نہیں، جیسا کہ مبسوط میں ہے۔‘‘
عورت اگرچہ نابالغہ ہے، سال دو سال کی ناعاقلہ بچی نہ ہوگی اور عقل وتمیز کے بعد اِسلام واِرتداد صحیح ہیں۔ تنویرالابصار میں ہے:
’’إذا ارتد صبی عاقل صح کإسلامہ۔‘‘
(فتاویٰ شامی ج:۳ ص:۳۳۵، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)
’’بچہ اگر مرتد ہوجائے تو اس کا اِرتداد صحیح ہے، جیسے اس کا اسلام لانا صحیح ہے۔‘‘
577
سمجھ وال ہونے کی حالت میں اگر اس نے مرزائیت قبول کی یا اتنا ہی جانا کہ مرزا نبی یا مسیح یا مہدی تھا، تو اسی قدر اس کے مرتدہ ہونے کو بس ہے۔ تجربہ ہے کہ یہ مرتد لوگ بہت بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے عقائدِ کفریہ سکھاتے ہیں تو سائل کا کہنا کہ اپنے مذہب کو کچھ نہیں جانتی ہے، بعید اَز قیاس ہے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایسی قرابتِ قریبہ رکھنا بارہا منجر بہ فتنہ وفساد مذہب ہوتا ہے ۔۔والعیاذباللّٰہ تعالیٰ۔۔ تو سلامت اسی میں ہے کہ اس کو فوراً جدا کردیا جائے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۱ ص:۵۰۷،۵۰۸)
قادیانی سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ رادون ضلع علی گڑھ، مرسلہ مولانا مولوی عمادالدین صاحب، یکم محرم الحرام ۱۳۴۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین، اس مسئلے میں کہ ایک شخص پہلے قادیانی تھا، اب قادیانی ہونے سے اِنکار کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں ’’بہائی‘‘ ہوں، یعنی بہاء اللّٰہ کا معتقد اور اس کے مذہب پر ہوں۔ بہاء اللّٰہ وہ شخص ہے جس کی نسبت اخبار وغیرہ میں لکھا ہے اور بہت مشہور ہے کہ وہ مدعیٔ نبوّت تھا، جس کا زمانہ عنقریب گزرا ہے۔ دریافت طلب یہ اَمر ہے کہ ایک مسلمہ سُنّیہ عفیفہ سیّدانی لڑکی کا نکاح شخصِ مذکور سے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ حضورِ اقدس محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللّٰہ عزّوجل نے خاتم النّبیین وآخرالانبیاء کیا، حضور کے بعد کوئی دُوسرا نبی نہیں ہوسکتا، بکثرت احادیث صحیح اس پر ناطق اور خود قرآنِ عظیم کی نصِ قطعی ’’وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰) اس مدعا پر شاہد، جو شخص حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبیٔ جدید کے آنے کا قائل ہو، یا اسے جائز مانے، قطعاً یقینا کافر ومرتد ہے۔ اگر وہ شخص قادیانی تھا تو کافر تھا، اور اَب بہائی ہے اور بہاء اللّٰہ کو نبی مانا، جب بھی کافر ہے۔ اِمام قاضی عیاض رحمۃاللّٰہ علیہ شفاشریف میں فرماتے ہیں:
’’وکذالک من ادعی النبوۃ احد مع نبیّنا علیہ الصلٰوۃ والسلام او بعدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او من ادعی النبوۃ لنفسہ او جوَّز إکتسابھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فھٰؤُلاء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی ﷲ علیہ وسلم لأنہ اخبر انہ خاتم النبیین لا نبی بعدہ واخبر عن ﷲ تعالٰی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت علیہ الاُمَّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ وإن المفھوم المراد بہ دون تأویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤُلاء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا وسمعًا۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۴۶،۲۴۷)
بلاشبہ ایسے شخص کا نکاح کسی مسلمہ سے نہیں ہوسکتا، خصوصاً سُنّیہ، جو شخص نکاح کرائے گا، سخت کبیرہ شدیدہ کا مرتکب اور زِنا کا دلال ہوگا۔ فتاویٰ عالمگیری احکام المرتدین میں ہے:
’’منھا ما ھو باطل بالإتفاق نحو النکاح فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ
578
ولا ذمیۃ ولا حرۃ ولا مملوکۃ۔‘‘ (فتاویٰ قاضی خان ج:۳ ص:۵۳۰)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ امجدیہ ج:۲ ص:۷۴)
قادیانیت سے تائب مسلمان لڑکی کا قادیانی سے نکاح
سوال۱:۔۔۔ ایک لڑکی نابالغہ مسماۃ ہندہ کے والدین فوت ہوچکے تھے اور بھائی نے ہندہ مذکورہ کا نکاح ایک نابالغ لڑکے سے کردیا تھا۔ نیز واضح رہے کہ زوجین کے متولّی مرزائی تھے۔ جب لڑکی بالغہ ہوئی تو بھائی مرزائی نے لڑکے نابالغ مرزائی کے ساتھ شادی کردی۔ ایک ہفتہ لڑکی آباد رہی، بعدہٗ اِنکار کردیا کہ میں مرزائی نہیں ہوں، اگرچہ میرے والدین وباقی رشتہ داران مرزائی ہیں۔ میں مرزائی مرد کے ساتھ آباد ہونے سے اِنکاری ہوں۔ اب لڑکی بھائی مرزائی کے گھر ہے، وہ چاہتی ہے کہ میرا سابقہ نکاح فسخ کیا جائے تاکہ دُوسری جگہ نکاح کروں۔ لڑکا مذکور اَبھی تک نابالغ ہے اور وہ بھی اور اس کے والدین سب مرزائی ہیں۔ اب شرعی فیصلہ کرنا ہے اور لڑکا حَکَمِ شرعی کے سامنے پیش بھی نہیں ہوتا، فقط لڑکی پیش ہوتی ہے، فیصلے کی کیا صورت ہے؟ مفصلاً مرقوم فرماکر مشکور فرمائیں۔ اگر یہ صورت ہو تو پہلے بوجہ مطابقت والدین دونوں کافر تھے، اب لڑکی بعد بلوغت کے مسلمان ہوگئی تو کیا لڑکے کے بالغ ہونے تک اِنتظار کرنا ضروری ہوگا یا قبل از بلوغ فیصلہ ہوسکتا ہے؟ فیصلے کی تمام صورتوں کو بیان فرماکر مشکور فرمائیں۔
۲:۔۔۔ حیلہ ناجزہ میں اِرتداد کی بعض صورتوں میں یہ لکھا ہے کہ اگر خاوند مرتد ہوگیا تو دارُالحرب میں تفریق کی ضرورت نہیں، تین حیض کے بعد جدا ہوجائے گی، اور دارُالاسلام میں تفریق شرط ہے۔ کیا بموافق فتویٰ دارُالحرب عمل کیا جائے یا اِحتیاطاً تفریق کی جائے؟
المستفتی نمبر۲۶۶۱: محمد اِسحاق ملتانی، دہلی
۴؍صفر ۱۳۶۰ھ - ۳؍مارچ ۱۹۴۱ء
جواب:۔۔۔ تحکیم تو فریقین کی رضامندی سے ہوتی ہے۔ جب ایک فریق (شوہر) کی طرف سے ثالثی منظور نہیں ہوئی تو ثالثی کا فیصلہ بھی متصوّر نہیں۔(۱) رہا نکاح کا قصہ تو صورتِ مسئولہ میں قابلِ تحقیق یہ اَمر ہے کہ لڑکی کا باپ جس وقت مرزائی ہوا اس وقت یہ لڑکی پیدا ہوچکی تھی یا نہیں؟ اگر پیدا ہوچکی تھی اور بعد میں اس کا باپ مرزائی ہوا تو یہ لڑکی مسلمہ قرار دی جائے گی، کیونکہ باپ کے اِرتداد سے لڑکی پر جو پہلے مسلمہ قرار دِی جاچکی، حکمِ اِرتداد نہ ہوگا،(۲) اور اس صورت میں اس کے مرتد بھائی نے اس کا جو نکاح کیا وہ نکاح ہی صحیح نہیں ہوا، کیونکہ کافر کو مسلمان پر ولایت حاصل نہیں۔(۳) لیکن اگر لڑکی حالِ اِرتدادِ پدر میں پیدا ہوئی، اور اس کی ماں بھی مرزائیہ تھی تو لڑکی
(۱)تولیۃ الخضمین حاکما یحکم بینھما ورکنہ لفظ الدال علیہ مع قبول الآخر (قولہ مع قبول الآخر) ای المحکم بالفتح، فلو یقبل لا یجوز حکمہ إلَّا بتجدید التحکیم۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۵ ص:۴۲۸، کتاب القضاء، باب التحکیم، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲،۳)۔۔۔۔۔۔۔۔ بشرط حریۃ وتکلیف وإسلام فی حق مسلمۃ ترید التزوج، وولد مسلم لعدم الولایۃ (قولہ لعدم الولایۃ) یعنی إن الکافر لا بلی علی المسلمۃ وولدہ المسلم لقولہ تعالٰی: ’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘ (النساء:۱۴۱)۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۷۷، کتاب النکاح، باب الولی، طبع سعید)۔
579
بھی کافرہ ہی قرار پائے گی۔(۱) مگر اس حال میں اس کے مرتد بھائی کا کیا ہوا نکاح موقوف رہے گا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائے۔(۲) لیکن جبکہ وہ مسلمان نہ ہوا اور لڑکی مسلمان ہوگئی اور اس نے اس نکاحِ موقوف کو رَدّ کردیا تو نکاح رَدّ ہوگیا، کیونکہ نکاحِ موقوف قبل اِجازت مجیز جائز حکم عدم میں ہوتا ہے۔(۳)
فقط محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۶ ص:۱۵۲،۱۵۳)
باپ کی رضامندی پر قاضی (مرزائی) کا پڑھایا ہوا نکاح صحیح ہے
سوال:۔۔۔ بخدمت جناب مکرم ومحترم حضرت مفتی محمود صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ، مزاج شریف! خیریت الجانبین مسئول من اللّٰہ۔ مندرجہ ذیل صورت کے متعلق تحقیقی جواب سے ممنون فرمائیں۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص نے اپنی نابالغہ لڑکی کے نکاح کرنے کا دُوسرے کو کہا کہ آپ میری لڑکی کا نکاح فلاں شخص سے کردیں، یعنی اس آدمی کو نکاح خواں تجویز کیا۔ جیسا کہ آج کل رِواج ہے، اور اسی لڑکی کا باپ بھی مجلسِ عقد میں موجود تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ نکاح خواں جس کو عرف میں ’’قاضی‘‘ کہتے ہیں، مرزائی قادیانی تھا۔ تو بیان فرمائیں کہ یہ نکاح شرعاً معتبر ہوگا یا نہ؟ باحوالہ تحریر فرمائیں۔ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ قواعد کی رُو سے یہ نکاح جائز معلوم ہوتا ہے، کیونکہ باپ کی موجودگی میں نکاح خواں ایک معبر اور سفیرِ محض سمجھا جائے گا، اور اس کے یہ الفاظ منتقل ہوں گے باپ کی طرف سے، عاقد باپ ہی ہوگا، کیونکہ اصل اور معبر جہاں دونوں موجود ہوں، وہاں عقدِ نکاح اصل کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ ونظیرہ ما فی الدر المختار ج:۲ ص:۲۹۷:
’’امر الأب رجلًا ان یزوّج صغیرتہ فزوّجھا عند رجل او امرأتین والحال ان الأب حاضر صح لأنہ یجعل عاقدًا حکمًا وإلَّا لا۔‘‘
اس پر شامیؒ نے لکھا ہے:
(۱)زوجان ارتدا ولحقا فولدت المرتدۃ ولدًا او ولد لہ ای لذالک المولود ولد فظھر علیھم جمیعًا، فالولدان فئی کأصلھما، والولد الأوّل لا یجبر بالضرب فی الإسلام، وإن حبلت بہ ثمۃ لتبعیتہ لأبویہ۔ وفی الشامیۃ: (قولہ لتبعیتہ لأبویہ) ای فی الإِسلام والردَّۃ وھما یجبران فکذا ھو وإن اختلفت کیفیۃ الجبر۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۴ ص:۲۵۶، کتاب الجھاد، باب المرتد)۔
(۲)واعلم ان تصرفات المرتد علٰی اربعۃ اقسام فینفذ منہ إتفاقًا ما لا یعتمد تمام ولایۃ ویبطل منہ إتفاقًا ما یعتمد الملّۃ، ویتوقف منہ إتفاقًا ما یعتمد المساوات وھو المفاوضۃ او ولایۃ متعدیۃ (قولہ وھو المفاوضۃ) فإذا فاوض مسلمًا توقفت إتفاقًا، فإن اسلم نفذت وإن ھلک بطلت وتصیر عنانا من الأصل عندھما وتبطل عندہ (قولہ او ولایۃ متعدیۃ) ای إلٰی غیرہ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۴ ص:۲۴۹، کتاب الجھاد، باب المرتد، طبع سعید کراچی)۔
(۳)ونکاح عبد وامۃ بغیر إذن السیّد موقوف علی الإجازۃ کنکاح الفضولی سیجی فی البیوع توقف عقودہ کلھا ان لھا مخیر حالۃ العقد ولا تبطل۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۹۶، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
580
’’قولہ لأنہ یجعل عاقدًا حکمًا لأن الوکیل فی النکاح سفیر ومعبر ینقل عبارۃ الموکل فإذا کان الموکل حاضرًا کان مباشرًا لأن العبارۃ تنقل إلیہ وھو فی المجلس۔‘‘
اسی طرح اگلے صفحے پر ہے:
’’ولو زوّج بنتہ البالغۃ العاقلۃ بمحضر شاھد جاز إن کانت ابنتہ حاضرۃ لأنھا تجعل عاقدۃ وإلَّا لا الأصل ان الأمر متی حضر جعل مباشرًا۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۹۸)
تردّد اس میں ہے کہ کافر کی وکالت صحیح ہوگی یا نہیں؟ تو اس میں یہ حکم ہے کہ مرتد آدمی کو اگر وکیل بنائے تو اس کی یہ توکیل جائز ہے اور نافذ ہے، کما فی الدر المختار (ج:۳ ص:۵۱۱)، وتوقف توکیل مرتد اسی پر شامیؒ نے (ج:۳ ص:۵۱۱) لکھا ہے:
’’بخلاف توکلہ عن غیرہ کما سنذکرہ وفی الدر بعد ھذہ العبارۃ إذا کان الوکیل یعقل العقد ۔۔۔إلخ۔‘‘
اس پر علامہ شامیؒ نے لکھا ہے:
’’ان یعقل ان البیع سالب للمبیع جالب للثمن وان الشراء بالعکس وفی البحر ما یرجع إلی الوکیل فالعقل فلا یصح توکیل مجنون وصبی لا یقبل لا البلوغ والحریۃ وعدم الردّۃ فیصح توکیل المرتد ولا یتوقف إلٰی آخرہ ما قال۔‘‘
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
عبدالرحمن
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۵؍ذُوالقعدہ ۱۳۷۹ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۳۴۶،۳۴۷)
توہینِ رسالت کرنے والے کے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ از ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ مُلَّا محمد رمضان، پیش اِمام مسجد نیاپورہ مؤرخہ ۲؍ذیقعدہ۱۳۳۵ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین کہ عبدالقادر نے حضور سروَرِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے، اور اس پر علماء کا فتویٔ کفر آچکا ہے، اور وہ توبہ سے اِنکار کرتا ہے، اس کا نکاح ٹوٹ گیا ہے یا نہیں؟ اور اس کے بھائی بھتیجے اس کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور اس کے معاون ہیں، ان کا نکاح بھی عندالشرع ٹوٹ گیا یا نہیں؟ اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو ان کی مطلقہ بیویوں کا نکاح دُوسرے مسلمانوں سے جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ مطلقہ بیویاں مہر کی لین دار ہیں یا نہیں؟ اس کا جواب بحوالہ کتبِ معتبرہ عطا فرمایا جائے، عنداللّٰہ ماجور ہوں گے۔
581
جواب:۔۔۔ جو شخص حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کرے، یقینا کافر ہے،(۱) اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی، اور جو اس کی توہین پر مطلع ہوکر اسے مسلمان جانے، وہ بھی کافر ہے۔(۲) ایسے جتنے لوگ ہوں خواہ توہین کرنے والوں کے عزیز قریب ہوں یا غیر، ان سب کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔ اور فی الحال وہ اپنے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہیں، ان عورتوں کو اِختیار ہے کہ عدّت کے بعد جس مسلمان سے چاہیں نکاح کرلیں۔(۳)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۳۲،۳۳)
مرزائی کی مسلمان اولاد سے رشتہ کرنا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ باپ کٹر مرزائی احمدی ہے، اس کی اولاد جو کہ بالغ ہے، اپنی والدہ کے ساتھ انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ کٹر مرزائی باپ کچھ دنوں سے یہاں اس ملک میں آیا ہوا ہے، اولاد کے خطوط سے معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ہم شرع کے مطابق جو کچھ کہلوانا چاہیں ان کو کہلایا جاسکتا ہے۔ ہم احمدی نہیں ہیں، نہ ہم احمدیوں سے رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ایسے کٹر مرزائی کی اولاد جو کہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اور جو یہ کہے کہ شرعِ محمدی کے مطابق جو کچھ مسلمان ثابت ہونے کے لئے شرائط ہیں، وہ ہم سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کیا ایسے اولاد کے رشتے ناطے کروانا رشتہ ناطہ میں معاون بننا شرعاً جائز ہے؟ نیز یہ بھی تحریر فرمائیں کہ شرعِ محمدی میں مرزائی کی اولاد کے لئے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، مگر پھر بھی پرکھنے کے لئے کیا ضابطے ہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر اس مرزائی کی اولاد غلام احمد کو کاذِب اور دائرۂ اسلام سے خارج مانتے ہیں، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں، اور دیگر اِیمان واِسلام کے تمام ضروری عقائد رکھتے ہیں تو وہ مسلمان شمار ہوں گے، اور جو معاملات مسلمانوں کے ساتھ جائز ہیں، وہ ان کے ساتھ جائز ہیں، فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۱)
مشتبہ مرزائی کی پہلے تحقیق
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ ایک شخص مرزائی ہے، اس نے اپنے بھائی کو مرزائیت کی طرف دعوت دی، چنانچہ وہ اس طرف مائل ہوگیا، اور ربوہ ۔۔۔چناب نگر۔۔۔ بھی گیا تھا، اور اس کو مجدّد بھی ماننے لگا۔ بعدہٗ اس کے سسرال والوں نے اس کے تبدیلی عقائد کی وجہ سے اس کی بیوی اور بچوں کو اپنے گھر میں روک لیا ہے۔ سنا ہے کہ وہ اس اِعتقاد سے
(۱،۲)قال ابو یوسف: وایما رجل سب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم او کفر بہ او عابہ او تنقصہ فقد کفر باﷲ۔ (رسائل ابن عابدین ج:۱ ص:۳۲۴)۔
ایضًا: ومن ادعی النبـوۃ او صـدق من ادعـاھـا فـقد ارتد لأن مسیلمۃ لما ادعی النبوۃ فصدقہ قومہ صاروا بذالک مرتدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإِسلام، وکذا من لم یقل بکفرہ وارتدادہ، وظنہ ولیًّا، او مجدّدًا، او مصلحًا، فإنہ کذّاب دجَّال قد افتری علی ﷲ ورسولہ کذبًا ۔۔۔إلخ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۶،۶۳۷، طبع إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ کراچی)۔
(۳)وارتدا احدھما ای الزوجین فسخ، فلا ینقض عددًا عاجلٌ بلا قضاء۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳، باب نکاح الکافر)۔
582
رُجوع کرکے پھر اِسلام میں داخل ہوگیا ہے، لیکن اس کے سسرال والے یہ سنی سنائی بات پر اِعتبار نہیں کرتے۔ اور لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ وہ اسلام میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اس کے سسرال والے اس کی بیوی بچوں کو اس کے گھر واپس نہیں بھیج رہے، لیکن اس شخص نے کہا تھا کہ میں نے مرزائیت چھوڑ دی ہے اور مسلمان ہوگیا ہوں۔ چنانچہ اس نے نکاحِ ثانی بھی کیا تھا، لیکن سسرال والوں نے اِعتبار نہیں کیا، اس کی بیوی کو اس کے گھر نہیں بھیجا۔ اب سوال یہ ہے کہ نکاح اس کا شرعاً باقی ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ تحقیق کی جائے ایسے خفیہ طور پر کہ اُسے معلوم نہ ہو کہ اس شخص کے عقائدِ موجودہ کیا ہیں؟ اگر واقعی صدقِ دِل سے تائب ہوچکا ہے تو نکاحِ ثانی بھی دُرست ہے اور بیوی بھی اس کے حوالے کردی جائے۔ اگر معلوم ہو کہ اس نے دھوکا کیا ہے اور اس کے عقائد اَب بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے، تو یہ نکاحِ ثانی بھی غلط ہوا، اور بیوی اس کے حوالے نہ کی جائے۔ بہرحال خوب تحقیق کی جائے، محض خیالات وشبہات کی بنا پر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۱،۲۰۲)
مرزائی کے پڑھائے ہوئے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ زید نے اپنی لڑکی نابالغہ کے نکاح کے لئے مجلس منعقد کروائی اور ایک مولوی صاحب کو برائے عقدِ نکاح بلایا۔ اس مولوی صاحب نے باپ کی اِجازت لے کر نکاح کردیا۔ اس وقت معلوم نہ تھا، بعدہٗ معلوم ہوا کہ وہ مولوی مرزائی تھا۔ پھر نکاح بھی اس طرح کیا کہ گواہ وغیرہ بالکل متعین نہ کئے۔ ویسے اس مجلس نکاح میں باپ بھی موجود تھا اور سامعین ایجاب وقبول بھی موجود تھے، فقط گواہوں کی تعیین نہیں کی گئی۔ اب دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اس صورت میں جبکہ ناکح ومنکوحہ ومتولیان وغیرہ مسلم ہیں تو اس مرزائی مُلَّاں کا باپ سے اِجازت لے کر ایجاب وقبول کردینے سے اور عدمِ تعیین گواہوں سے نکاح میں کوئی خلل آیا یا نہ؟ یہ نکاح معتبر ہے؟ کالعدم ہے کہ دوبارہ کیا جائے یا دُوسری جگہ کردیا جائے؟
مستفتی: مولانا منظورالحق
مدرّس مدرسہ دارالعلوم کبیروالا
جواب:۔۔۔ شامی میں ہے:
’’قولہ لأنہ یجعل عاقدًا حکمًا، لأن الوکیل فی النکاح سفیر ومعبر ینقل عبارۃ الموکل فإذا کان الموکل حاضرًا کان مباشرًا لأن العبارۃ تنتقل إلیہ وھو فی المجلس ولیس المباشر سوی ھٰذا بخلاف ما إذا کان غائبًا لأن المباشر مأخوذ فی مفھومہ الحضور فظھر ان انزال الحاضر مباشرًا جبری۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۹۷، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
صورتِ مسئولہ میں مذکور مرزائی مولوی، زید کی طرف سے اس کی لڑکی مذکورہ کے نکاح کا وکیل تھا، پس جب اس نے زید کی موجودگی میں نکاح پڑھایا ہے تو وہ سفیرِ محض تھا، حقیقت میں نکاح پڑھانے والا زید خود ہی تھا (بحوالہ بالا)، اس لئے اس کے نکاح پڑھانے سے نکاح کے اِنعقاد پر کوئی اثر نہیں پڑا، اور نکاح کے لئے گواہوں کا مقرّر اور متعین ہونا ضروری نہیں، صرف مجلسِ نکاح میں
583
دو گواہوں کی حاضری ضروری ہے، اس لئے عدمِ تعیین گواہوں کی وجہ سے نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا۔ فقط واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
بندہ محمد اِسحاق غفر لہٗ |
| عبداللّٰہ غفر اللّٰہ لہٗ |
۳۰؍محرم الحرام ۱۳۸۰ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۴ ص:۴۰۹،۴۱۰)
نکاح خواں کا کافر ہونا نکاح کے لئے مضر نہیں ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ عام مسلمانوں میں بھی دستور ہے کہ مجلسِ نکاح میں ایک شخص نکاح خوانی کے لئے تو ضرور ہی چاہتے ہیں تاکہ مولوی صاحب ناکح منکوحہ یا دونوں کے ولی یا وکیل کو شرائطِ نکاح اور اَلفاظِ نکاح کہلوائیں۔ بموافق ہدایت مولوی صاحب ایجاب وقبول کراتے ہیں۔ اس صورت میں سوال پھر یہ ہے کہ اگر مولوی نکاح پڑھانے والا مرزائی مذہب کا ہو تو اس کی وجہ سے اصل نکاح میں بھی کسی قسم کا خلل آتا ہے یا نہ؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ جب اِیجاب وقبول خود ناکح اور منکوحہ نے یا ان کے اولیاء نے کیا ہے تو نکاح صحیح ہے،(۱) نکاح خواں معروف کا کافر ہونا نکاح کے لئے مضر نہیں۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
محمود عفا اللّٰہ عنہ
خادم الافتاء مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۳؍ذی قعدہ ۱۳۷۱ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۳۴۷)
نابالغ اولاد مذہب میں باپ کی تابع ہوتی ہے، مرزائی باپ کے لڑکے سے مناکحت جائز نہیں ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس صورتِ مسئلہ میں کہ ایک نابالغہ لڑکی کا نکاح اس کے باپ حقیقی نے ایک نابالغ لڑکے سے کردیا، جس لڑکے نابالغ مذکور سے اس لڑکی نابالغہ مذکورہ کا نکاح ہوا، اس لڑکے کا باپ مرزائی تھا، اب جبکہ دونوں لڑکی اور لڑکا بالغ ہوچکے ہیں، تو لڑکی مذہب اہلِ سنت والجماعت پر پختہ اِعتقاد رکھتی ہے اور لڑکا مرزائی بن گیا ہے، اور لاہوری جماعت سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ لڑکے مذکور نے اب تک باپ سے نہ علیحدگی اِختیار کی ہے اور نہ مرزائیت سے نفرت کرتا ہے، بلکہ ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں، آیا شرعاً اس لڑکی مذکورہ کا نکاح مرزائی لڑکے سے باقی ہے یا نہیں؟ اگر نکاح باقی نہیں ہے تو لڑکی
(۱)وینعقد (النکاح) بالإیجاب والقبول حتّٰی یتم حقیقتہ فی الوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔ یسمّٰی بإعتبارہ عقدًا شرعًا ویستعقب الأحکام۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۸۱، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
ایضًا: وینعقد ای یحصل ویتحقق النکاح فی الوجود بإیجاب وقبول۔ (مجمع الأنھر ج:۱ ص:۳۱۷، کتاب النکاح، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
584
مذکورہ اب جہاں چاہے دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ شرعاً بالغ لڑکا، لڑکی دِین میں ابع ماںباپ کے ہوتے ہیں۔ تو صورتِ مسئولہ میں جبکہ نابالغی میں مرزائی کے لڑکے کا نکاح ایک اہلِ سنت والجماعت لڑکی سے اس کے باپ نے کیا، اور اس لڑکے کے ماںباپ مرزائی تھے، تو یہ لڑکا بھی والدین کے تابع ہوکر مرزائی شمار ہوگا، اور مرزائی کے ساتھ کسی مسلمان عورت کا نکاح منعقد نہیں ہوتا، کیونکہ مرزائی خواہ قادیانی ہو یا لاہوری، جملہ علماء کے نزدیک کافر ومرتد ہیں۔ جن حضراتِ علماء کو ان کے مذہب پر اِطلاع ہوئی، سب نے باجماع ان کی تکفیر کی ہے، اور مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے کسی طرح جائز وحلال نہیں، لقولہ تعالٰی:
’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘ (النساء:۱۴۱)
درمختار (ج:۲ ص:۴۳۰) میں ہے کہ:
’’ولا یصلح ان ینکح مرتدًا او مرتدۃ احدًا من الناس۔‘‘
اور شامی میں ہے:
’’لأنہ قبل البلوغ تبع لأبویہ۔‘‘
لہٰذا اس لڑکی سے مرزائی لڑکے کا نکاح نابالغی میں منعقد ہی نہیں ہوا تو عورت جہاں چاہے دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
بندہ احمد عفا اللّٰہ عنہ
نائب مفتی مدرسہ قاسم العلوم ملتان
۲۳؍شوال ۱۳۸۳ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۴ ص:۶۰۶،۶۰۷)
کیا قادیانی، نکاح کا وکیل ہوسکتا ہے؟
سوال:۔۔۔ ہمارے اطراف میں نکاح کی مجلس اس طرح منعقد ہوتی ہے کہ لڑکی کا باپ یا چچا، نانا وغیرہ میں سے کوئی ایک دو گواہوں کو لے کر لڑکی کے پاس جاتا ہے اور لڑکی سے یوں کہتا ہے کہ: ’’میں تمہارا وکیل بن کر فلاں کا لڑکا فلاں سے مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں کے رُوبرو نکاح کردُوں؟‘‘ جب لڑکی ہاں کہہ دیتی ہے تو یہ وکیل اور دونوں گواہ مجلس میں آتے ہیں، بعدہٗ محلے کا پیش اِمام خطبہ نکاح پڑھتا ہے اور وکیل سے کہتا ہے یوں کہو: ’’میں نے اپنی وکالت سے فلاں کی لڑکی فلانہ کو مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں اور حاضرینِ مجلس کے سامنے تمہارے عقد میں دیا، تم نے قبول کیا؟‘‘ تو وہ لڑکا کہتا ہے کہ: ’’میں نے قبول کیا!‘‘ صورتِ بالا پیشِ نظر رکھتے ہوئے اگر لڑکی کا نانا قادیانی مذہب کا ہے، وہ وکالت کرتا ہے اور دونوں گواہ مسلمان اہلِ سنت والجماعت ہیں، وہ قادیانی ایجاب وقبول کراتا ہے تو ایسی صورت میں نکاح ہوگیا یا نہیں؟ واضح ہو کہ ’’بہشتی زیور‘‘ میں ہے کہ کوئی کافر مسلمان کا ولی نہیں
585
بن سکتا ہے۔ لہٰذا برائے مہربانی اس صورت پر نظر فرماکر جواب سے مطلع فرمادیں۔
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! ولی اور وکیل میں فرق ہے، نکاح میں وکیل کا کام صرف الفاظ کی تعبیر تک رہتا ہے،(۱) اصل ایجاب وقبول زوجین کا ہوتا ہے۔ بیان کردہ صورت میں نکاح منعقد ہوگیا، قادیانی کی وکالت بیکار گئی۔ اگر لڑکی کی طرف سے اِصالۃً یا وکالۃً یا دلالۃً کسی کا اِیجاب نہ بھی تسلیم کیا جائے، تب بھی اس نکاح پر لڑکی کا راضی ہونا اور اس کے لوازمات کو بجالانا یہ اجازتِ فعلی ہے جو کہ شرعاً معتبر ہے۔(۲)
| الجواب صحیح |
فقط واللّٰہ اعلم! |
| بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ |
حررہ العبد محمود غفر لہٗ |
| دارالعلوم دیوبند |
دارالعلوم دیوبند |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۳ ص:۲۱۹،۲۲۰)
قادیانی کی وکالت سے نکاح
سوال:۔۔۔ ایک شخص اہلِ سنت والجماعت میں سے ہے، اس نے اپنی لڑکی کا نکاح بھی اہلِ سنت والجماعت میں کیا، لیکن اپنی لڑکی کے نکاح کا وکیل ایک قادیانی کو بنادیا۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اس قادیانی کی وکالت بالنکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بصورتِ ثانی نکاح دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! اگر لڑکی نابالغہ تھی اور مجلسِ عقد میں اس کا باپ موجود ہے، اس کی موجودگی میں قادیانی نے اِیجاب وقبول کرایا تو عاقد باپ ہی کو قرار دِیا جائے گا، اور قادیانی کی وکالت بے کار ہے، اور نکاح صحیح ہوگیا۔(۳) اور اگر لڑکی بالغہ تھی اور لڑکی کی رضامندی سے عقد کرایا تو بھی نکاح ہوگیا۔(۴)
فقط واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود غفر لہٗ |
| بندہ نظام الدین عفی عنہ |
دارالعلوم دیوبند |
| دارالعلوم دیوبند |
۱۱؍۵؍۱۳۸۸ھ |
| ۱۱؍۵؍۱۳۸۸ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۳ ص:۲۲۰)
(۱)لأن التوکیل فی النکاح سفیر ومعبر ینقل عبارۃ الموکل ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۲۹۷، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
(۲)ومن شرائط الإیجاب والقبول ۔۔ وشـرط سمـاع کل مـن العـاقدین لفـظ الآخر لیتحـقق رضـاھما، (قولہ لیتحقق رضاھما) ای لیصدر منھما ما من شأنہ ان یدل علی الرضا ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۴ تا ۲۱، کتاب النکاح، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۳) ومن امر رجلًا بأن یزوّج ابنتہ الصغیرۃ، فزوّجھا والأب حاضر بشھادۃ رجل واحد سواھما، جاز النکاح لأن الأب یجعل مباشرًا لإتحاد المجلس، فیکون الوکیل سفیرًا ومعبرًا ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۲ ص:۳۰۷، کتاب النکاح، طبع ملتان)۔
(۴) ایضاً حاشیہ نمبر۲۔
586
مرزائی باپ نابالغہ کا ولی نہیں ہوسکتا
سوال:۔۔۔ ایک کنواری لڑکی عاقلہ بالغہ کے جس کے والدین اور دادا اور دیگر رِشتہ دار موجود ہیں، اپنے دادا کو ولی بناکر اپنا نکاح اپنی برادر کے ایک لڑکے سے اَحکامِ شرعی کے مطابق کرلیا ہے۔ لڑکی کا باپ کچھ عرصے سے مرزائی ہوگیا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں لڑکی کسی مرزائی کو دُوں گا۔ قادیان والوں نے حکم دیا ہے کہ اگر لڑکا مرزائی مذہب اِختیار کرے تب لڑکی دی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں جو نکاح لڑکی کا دادا کی ولایت سے ہوا، جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اس صورت میں اوّل تو لڑکی خود بالغہ عاقلہ ہے، تو خود اس کی اِجازت سے اس کا نکاح کفو میں صحیح ہے، کسی ولی کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ درمختار میں ہے:
’’وھو الولی شرط صحۃ النکاح صغیر إلخ لا مکلفۃ فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضیٰ ولی۔‘‘ (شامی ج:۲ ص:۳۲۱،۳۲۲ طبع مکتبہ رشیدیہ)
ثانیاً:۔۔۔ یہ کہ اگر وَلی کے ذریعے سے ہی نکاح اس کا کیا جائے جیسا کہ سنت ہے تو وَلی اس کا اس صورت میں اس کا دادا ہے، باپ بوجہ مرزائی ہوجانے کے وَلی نہیں رہا، ولایت اس کی باطل ہوگئی (درمختار ج:۲ ص:۳۳۹، باب الولی)۔(۱) پس دادا نے جو نکاح اس بالغہ کا اس کی اجازت سے کیا وہ صحیح ہوگیا، باپ کو اس نکاح کو توڑنے کا اِختیار اور دُوسری جگہ نکاح کرنے کا اِختیار نہیں ہے۔ اور مرزائی لڑکے سے نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ الحاصل جو نکاح بولایت دادا ہوگیا وہ صحیح ہے، قادیان والوں کا حکم باطل ہے۔ فقط!
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۱۲۵،۱۲۶)
قادیانی سے بیع وشراء اور مناکحت کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص جو پہلے سے پختہ مسلمان تھا، وہ اب قادیانی ہوگیا ہے اور اپنی بہن کو زَبردستی کرکے قادیانی بنالیا اور اپنی والدہ کو بھی قادیانی ہوجانے پر مجبور کر رہا ہے، اور بیوی کو بھی قادیانی کرلیا ہے۔ صرف ایک چھوٹا بھائی قادیانی نہیں ہے۔ گزارش یہ ہے کہ قادیانی کے متعلق کیا حکم ہے؟ کیا وہ مرتد ہوجاتا ہے اور اس کا نکاح باقی رہتا ہے یا نہیں؟
اگر کوئی قادیانی ہوجانے کے بعد توبہ کرلے تو اس کا دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ قادیانی کے ساتھ بیع وشراء اور کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! مرزا غلام احمد قادیانی نے عقائدِ کفریہ اِختیار کئے، جس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہوگیا۔(۲) جو شخص بھی اس کے کفریہ عقائد کی تصدیق کرے گا، اس کا بھی حکم یہی ہوگا۔ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے تو اس کا نکاح
(۱) أن الکافر لا یلی علی المسلمۃ وولدہ المسلم لقولہ تعالٰی: ’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘ (النساء:۱۴۱)۔ (ردالمحتار ج:۳ ص:۷۷، کتاب النکاح، باب الولی، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
(۲)لٰکن صرح فی کتابہ المسایرۃ بالإتفاق علٰی تکفیر المخالف فیما کان من اصول الدین وضروریاتہ۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۶۳، باب المرتد، طبع سعید کراچی)۔
587
فسخ ہوجاتا ہے، بیوی نکاح سے خارج ہوجاتی ہے۔(۱) ایسے شخص سے سلام وکلام، بیع شراء سب ختم کردینا لازم ہے۔(۲) اس کو مسجد میں آنے سے بھی روک دیا جائے۔(۳) اس سے وہ شخص بات کرے جو اس کے غلط عقائد کی تردید کرسکتا ہو۔ اگر وہ توبہ کرکے اسلام میں دوبارہ داخل ہوچکا ہے تو نکاح دوبارہ کیا جائے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود عفی عنہ |
| بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ |
دارالعلوم دیوبند |
| دارالعلوم دیوبند |
۱۹؍۱؍۱۳۸۸ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۲ ص:۷۸،۷۹)
’’دِین دار اَنجمن‘‘ اور ’’میزان انجمن‘‘ والے قادیانیوں کی بگڑی ہوئی جماعت ہیں
سوال:۔۔۔ اللّٰہ کے فضل سے ہمارے گھرانے میں بڑے چھوٹے سب نماز کے پابند ہیں، اور ہمارا گھرانہ مذہبی گھرانہ ہے۔ ’’’میزان انجمن‘‘ کراچی میں قائم ہے، اس انجمن کے بانی اور اَراکین ’’صدیق دِین دارچن بسویشور‘‘ کے ماننے والے پیروکار ہیں، یہ لوگ لمبی داڑھیاں، سر کے لمبے عورتوں جیسے بال رکھے ہوئے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد اور موجودہ مرزا طاہر احمد ’’مأمور من اللّٰہ‘‘ ہیں، ان کے اپنے ایک آدمی شیخ محمد ہیں، شیخ محمد کو مظہرِ خدا مان کر ان کو نماز کی طرح سجدہ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ شیخ محمد پر اِلہام ہوتا ہے۔ جو اِلہام ہوئے ہیں اب تک وہ ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کی تبلیغ کراچی کورنگی میں زورشور سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کی جماعت کے اراکین میں ہر ایک کا مقام بلند ہے۔ ایک صاحب جن کی عمر ۸۰سال ہے، خود کو ’’نرسیواوتار‘‘ اور رُوح مختارمحمدی کہتے ہیں۔ ایک بدیع الزمان قریشی ہیں، جو نائب صدر ہیں، خود کو خلیفۃالارض کہتے ہیں۔ کراچی کے اہلِ سنت سرمایہ دار چند ایسے ہیں جو ان کی صورت اور حلیہ سے متأثر ہوکر ماہانہ اِشاعتِ اِسلام کے نام پر چندہ معقول رقم بھی دیتے ہیں۔ یہ پورا گروہ خود کو مبلغِ اسلام کہتا ہے۔
ہمارے چند رِشتہ داروں کو ان لوگوں نے اپنا ہم عقیدہ بنالیا ہے، ہر جمعہ ہمارے رِشتہ دار ماموں، ممانی، ان کے بچے ہمارے گھر آتے ہیں، اور ہمیں کہتے ہیں کہ: ’’میزان انجمن کے رُکن بن جاؤ، دُنیا اور آخرت سنوَر جائے گی۔ ہندوؤں کا اوتار چن
(۱) وارتداد احدھما ای الزوجین فسخٌ، فلا ینقض عددًا عاجلٌ بلا قضاء۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳، باب نکاح الکافر)۔
(۲)قال تعالٰی: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء‘‘ (المائدۃ:۵۱) وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلمین لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، وتدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ بھم، لأن الولایۃ ضد العداوۃ، فإذا أمرنا بمعادات الیھود والنصاریٰ لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم، والکفر ملّۃ واحدۃ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
(۳) اِنَّمَا المُشرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا یَقرَبُوا المَسجِدِ الحَرَامَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فمنع ﷲ المشرکین من دخول المسجد الحرام نصًّا، ومنع دخولہ سائر المساجد تعلیلًا بالنجاسۃ بوجوب صیانۃ المسجد من کل نجس وھٰذا کلہ ظاہر لا خفاء فیہ۔ (احکام القرآن للمفتی محمد شفیع رحمہ ﷲ ج:۲ ص:۹۰۲)۔
ایضًا: الکفر من المرتد اغلظ من کفر مشرکی العرب (الأشباہ والنظائر مع شرح الحموی ج:۲ ص:۲۴۹، طبع إدارۃ القرآن کراچی)
ایضًا: والمرتد أقبح کفرًا من الکافر الأصلی۔ (الأشباہ والنظائر مع شرحہ ج:۱ ص:۲۹۱، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
588
بسویشور مرگیا، اس کی رُوح صدیق دِین دار میں آگئی، صدیق دِین دار مرے نہیں اور وہ خدا کی اصلی صورت میں نہیں بلکہ اور رُوپ میں آئے تھے، اب لطیف آباد سندھ میں جدید دُنیا کا آدم اور خدا شیخ محمد ہے، ان کی مذہبی انجمن کے رُکن بن جاؤ، شنکرکرشن، نرسیو، ہنومان، کالی دیوی، رام، یہ سب پیغمبر تھے۔ اور شنکر کی قوّت زبردست تھی، رسول مقبول محمد رسول اللّٰہ کو اپنی تمام طاقت شنکر نے دی تھی، محمد رسول اللّٰہ میں شنکر کی رُوح منتقل ہوگئی، سورۂ اِخلاص صدیق دِین دار چن بسویشور نے خود نازل کی تھی اور انہوں نے تفسیر بھی لکھی ہے۔‘‘
آپ کو اللّٰہ اور رسول کا واسطہ ہے جلدی جواب سے مطلع فرمائیے۔ ہماری ممانی کہتی ہیں: ’’میزان انجمن دُنیا کے مسلمانوں کو حق کا راستہ بتانے کے لئے وجود میں آئی ہے، پاکستان میں حق کی جماعت میزان انجمن ہی ہے، اور صدیق دِین دار چن بسویشور دُنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔‘‘
آپ یہ بتائیں کہ قرآنِ کریم اور اَحادیث سے کیا یہ تمام باتیں دُرست ہیں؟ ہندو اوتاروں کی یا مسلمان پیغمبروں کی رُوح کا ایک دُوسرے میں، یا جس میں چاہے منتقل ہونا صحیح ہے؟
صدیق دِین دارچن بسویشور کی اصلیت وحقیقت کیا ہے؟ کیا تھی؟ ضروری بات یہ ہے کہ یہ جماعت نماز بھی پڑھتی ہے اور نام مسلمانوں ہندوؤں کے ملے ہوئے رکھے ہیں، جیسے: ’’سیّد سراج الدین نرسیواوتار‘‘ یا ’’صدیق دِین دارچن بسویشور‘‘ ان کے نام ہیں۔ اُمید ہے کہ ہمارے لئے زحمت کریں گے، ہمارے گھر والے ماموں، ممانی ان کے بچوں کے ہر جمعہ آکر تبلیغ کرنے سے حیران ہیں، کیا ہم ان کی باتوں کو مانیں یا نہ مانیں؟ گھر میں آنے سے منع کردیں؟ اپنے بیٹوں کے لئے رِشتہ مانگتے ہیں، کیا ہم اپنی بہنوں کو جو کنواری ہیں، اپنے صدیق دِین دارچن بسویشور کے پیرو ماموں کے بیٹوں کو دے سکتے ہیں؟ شرعی حیثیت سے جوابات عنایت فرماکر ہمارے اِیمان کو محفوظ رکھنے میں معاون بنیں۔ ہمارے والد صاحب کا اِنتقال ہوچکا ہے، والدہ سنی ہیں، ہم سب سنی ہیں، اور بڑے چھوٹے سب مذہبی ہیں، مذہبی گھرانا ہے۔
جواب:۔۔۔ ’’میزان انجمن‘‘ قادیانیوں کی بگڑی ہوئی جماعت ہے، یہ لوگ مرزاقادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ مانتے ہیں۔ حیدرآباد دکن میں مرزاقادیانی کا ایک مرید بابوصدیق تھا، اس کو مأمور من اللّٰہ، نبی، رسول، یوسف موعود اور ہندوؤں کا چن بسویشوراوتار مانتے ہیں۔ بابوصدیق کے بعد شیخ محمد کو مظہرِخدا، اور تمام رسولوں کا اوتار مانتے ہیں، اس لئے ’’دِین دار انجمن‘‘ اور ’’میزان انجمن‘‘ کے تمام افراد مرزائیوں کے دُوسرے فرقوں کی طرح کافر ومرتد ہیں۔ یہ لوگ قادیانی عقائد کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کے تناسخ کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ اس انجمن کے افراد کو ان کے عقائد جاننے کے باوجود مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ کسی مسلمان لڑکی کا ’’میزان انجمن‘‘ کے کسی مرتد سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر لڑکی ایسے مرتد کے حوالے کردی گئی تو ساری عمر زِنا اور بدکاری کا وبال ہوگا۔ اس انجمن کو چندہ دینا اور ان سے سماجی ومعاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔ الغرض یہ مرتدوں کا ایک ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، حالانکہ ان کے عقائد خالص کفریہ ہیں۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۳ تا ۲۳۵)
589
بابِ دوم
قادیانی سے فسخِ نکاح کے اَحکام
شادی کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو مرتد بنانے کا جال
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
۱:۔۔۔ ایک بالغ نوجوان اپنی مرضی اور خوشی سے ایک نوجوان قادیانی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے، بقول نوجوان کے: ’’لڑکی خفیہ طور پر مسلمان ہونے کا وعدہ کر رہی ہے، اس انداز میں کہ لڑکی کے والدین اور خاندان والے اس کے مسلمان ہونے سے آگاہ نہ ہوں۔‘‘
۲:۔۔۔ لڑکی کے ماںباپ نوجوان سے اپنے احمدی طریقۂ کار سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، بعد میں اسلامی اور شریعتِ محمدی کے مطابق بھی نکاح کرنے پر تیار ہیں، (احمدی حضرات کے نکاح نامے کی فوٹواسٹیٹ برائے ملاحظہ منسلک ہے)۔
۳:۔۔۔ مسلم نوجوان کا بھی اِصرار ہے کہ لڑکی کے ماںباپ احمدی طریقے سے نکاح کرتے رہیں، ہم بعد میں اسلامی طریقے سے نکاح کرلیں گے۔
۴:۔۔۔ ہر دو صورتوں میں کیا دونوں یا ایک، کون سا طریقِ کار شرعی حیثیت رکھتا ہے؟ اور کیا دونوں طریقوں پر نکاح جائز ہے؟ یا کون سا نکاح اوّل ہوگا اور کون سا بعد میں؟ کیا یہ طریقۂ کار شریعت میں جائز ہے؟
قادیانیوں کے نکاح نامے کے مرسلہ فوٹواسٹیٹ سے ظاہر ہے کہ قادیانی طریقۂ کار میں لڑکے کی طرف سے اس کے باپ کی شرکت لازمی ہے، اور دو گواہ بھی ضروری ہیں۔ کیا لڑکے کے باپ اور گواہان، نیز لڑکے کے بھائی بہن، والدہ اور دیگر عزیز واقارب کی قادیانی طریقے پر نکاح میں شرکت سے شرکت کرنے والوں کی دِینی، اِیمانی اور اِسلامی حیثیت برقرار رہے گی؟ نیز آئندہ زندگی کا لائحۂ عمل کیسے طے کیا جائے؟ نکاح کے لئے آمادہ نوجوان اور ماںباپ کے ساتھ آئندہ تعلقات کی شرعی نوعیت کیا ہوگی؟ باقی اولاد اور اَفرادِ خاندان کی بقیہ زندگی میں مذکورہ لوگوں سے بھی کاروباری اور معاشرتی زندگی کے تعلقات کس بنیاد پر اُستوار ہوں گے؟
تمام متعلقہ اُمور پر سیر حاصل شرعی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ کیا متعدّد نوجوانوں اور دیگر افرادِخانہ کو ’’قادیانی چنگل‘‘ میں جانے سے بچانے کے لئے کوئی ’’حیلہ‘‘ کی شکل ہوسکتی ہے؟
590
جواب:۔۔۔ سوال نامے کے نمبر۲ میں ذِکر کیا گیا ہے کہ: ’’لڑکی کے ماںباپ نوجوان لڑکے سے اپنے احمدی طریقے پر نکاح کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اور نمبر۳ میں لکھا گیا ہے کہ مسلم نوجوان بھی احمدی طریقے پر تیار ہے، اور یہ کہ بعد میں اِسلامی طریقے پر نکاح کرلیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ’’احمدی طریقۂ نکاح‘‘ کیا ہے؟ آپ نے قادیانیوں کے نکاح کا فارم جو ساتھ بھیجا ہے، اس میں آٹھویں نمبر پر ’’تصدیق اَمیر، یا پریزیڈنٹ‘‘ کے عنوان کے تحت یہ عبارت درج ہے:
’’مسمّیٰ ۔۔۔۔۔ (یہاں دولہا کا نام ہے)۔۔۔۔۔ پیدائشی احمدی ہے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فلاں تاریخ سال سے احمدی ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی جب کسی کو اپنی لڑکی دیتے ہیں تو پہلے لڑکے سے اس کے قادیانی ہونے کا اِقرار کرواتے ہیں، اور ان کا اَمیر یا پریزیڈنٹ اس اَمر کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ لڑکا پیدائشی قادیانی ہے یا فلاں وقت سے قادیانی چلا آتا ہے۔ گویا کسی لڑکے کو قادیانیوں کا لڑکی دینا اس شرط پر ہے کہ لڑکا پیدائشی قادیانی ہو، یا فلاں وقت سے قادیانی چلا آتا ہو، اور قادیانیوں کے ذمہ دار اَفراد اس کے قادیانی ہونے کی باقاعدہ تصدیق کریں۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قادیانیوں کا کسی مسلمان لڑکے کو لڑکی دینا، دراصل اس کو قادیانی بنانے کی ایک چال ہے۔ یہ مسلم نوجوان جب قادیانیوں کا فارم پُر کرکے ان کے طریقے پر نکاح کرے گا، تو آپ ہی بتائیے کہ اس کا اِیمان کہاں رہا۔۔۔؟(۱)
علاوہ ازیں چونکہ قادیانیوں کی تبلیغ پر پابندی ہے، اس لئے قادیانیوں نے ایک خفیہ اسکیم چلائی ہے کہ مسلم نوجوانوں کو لڑکیوں کے جال میں پھنساکر قادیانی بناؤ، اس لئے قادیانیوں کی لڑکی جب تک اِعلانیہ مسلمان ہوکر اپنے قادیانی والدین اور عزیز واقارب سے قطع تعلق نہیں کرلیتی، کسی مسلم نوجوان کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔ اور لڑکے کو، لڑکے کے والدین کو، اور دیگر عزیز واقارب کو ایسے نکاح میں شرکت کرنا جائز نہیں جس کی وجہ سے اِیمان ضائع ہوجانے کا قوی اندیشہ ہو۔
اور قادیانی لڑکی کا یہ وعدہ کرنا کہ وہ نکاح کے بعد یا نکاح سے پہلے خفیہ طور پر مسلمان ہوجائے گی، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خفیہ طور پر مسلمان ہوجانے کا وعدہ کرنے کے باوجود ظاہری طور پر قادیانی ہی رہے گی۔ یہ بھی قادیانیوں کی ایک گہری چال اور سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے ذریعے وہ بھولے بھالے نوجوانوں کا شکار کرتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ نکاح کے بعد لڑکے کو تدریجاً قادیانی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر وہ قادیانی بن جائے ۔۔۔جیسا کہ اکثر یہی ہوتا ہے۔۔۔ تو قادیانیوں کی مراد حاصل ہوئی، اور اگر لڑکا قادیانی نہ بنے تو قادیانیوں کی طرف سے اس کو اِنتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں یہ لڑکی ان کی پوری پوری مدد کرتی ہے، اور لڑکے کو ایسے مخمصے میں پھنسا دیا جاتا ہے، جس سے وہ ساری عمر نہ نکل سکے، میرے سامنے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لئے کسی مسلمان نوجوان کو قادیانی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوکر اپنا اِیمان ضائع نہیں کرنا چاہئے، اور لڑکی کے اس عیارانہ وعدے پر کہ ’’وہ خفیہ
(۱) إذا راٰی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع بمبئی)۔
591
طور پر مسلمان ہوجائے گی‘‘ قطعاً اِعتماد نہیں کرنا چاہئے۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۵ ص:۲۰۳ تا ۲۰۶)
خاوند مرزائی ہوگیا تو فوراً نکاح جاتا رہا
سوال:۔۔۔ ایک مولوی صاحب نے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اپنے ایک رشتہ دار سے کردیا۔ کچھ عرصہ بعد زوج مرزائی ہوگیا، منکوحہ نے بلوغت کے بعد عدالت میں فسخِ نکاح کے لئے دعویٰ دائر کردیا۔ آیا اس کا نکاح فسخ ہوگیا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ان (مرزائی) عقائد کی وجہ سے زید کافر اور مرتد ہوگیا، اور نکاح اس کا مسماۃ ہندہ سے فسخ ہوگیا۔ خاوند کے مرتد ہوجانے سے فوراً بلاقضائِ قاضی فسخ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ درمختار میں باب نکاح الکافر میں ہے:
’’وارتداد احدھما فسخ عاجل بلا قضاء (قولہ بلا قضاء) ای بلا توقف علٰی قضاء القاضی وکذا بلا توقف علٰی مضیٰ عدۃ فی المدخول بھا۔‘‘ (شامی ج:۲ ص:۴۲۵)
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۶۳۸،۶۳۹)
مرزائی کا دھوکا دے کر سنی عورت سے نکاح کرنا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک مرزائی شخص نے اپنے کو سنی المذہب ہونے کا یقین دِلاکر نکاح کیا۔ لڑکی اگرچہ نکاح سے مطلقاً متنفر تھی، لیکن اس کے والد نے نکاح اس سے کردیا۔ تین ماہ خاوند کے گھر رہی، ہم بستری بھی ہوئی، حمل ٹھہرگیا۔ بعدش بعض شرائطِ نکاح کے پورا نہ کرنے پر، ونیز اچھا سلوک نہ کرنے پر لڑکی اپنے والدین کے گھر آئی۔ وہ شخص کہ جب تک لڑکی اس کے گھر میں تھی، اسے سنیوں کے مترجم قرآن پڑھنے سے منع کرتا تھا، منکوحہ کو بایں وجہ بھی زید سے نفرت ہے اور تھی۔ اور کہتی ہے کہ خنزیر کے یہاں میں جانا نہیں چاہتی ہوں۔ پس اندریں صورت کیا حکم ہے کہ آیا اس کا نکاح زید سے فسخ ہوگیا، یا شرعاً کیا صورت ہے؟ اور نیز زید لاہور میں ہے اور اس کی منکوحہ اور اس کے والد ملتان میں، اور وضعِ حمل ملتان میں ہوا، اس نے اس مدّت میں اپنی بیوی کی خیرخبر بھی نہیں لی۔
جواب:۔۔۔ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری، جمہور علماء کے نزدیک کافر ومرتد ہیں۔ ہندوستان اور بیرونِ ہند میں جن علماء حضرات کو ان کے مذہب پر اِطلاع ہوئی، سب نے باجماع ان کی تکفیر کی ہے۔ اور مسلمان عورت کا نکاح کسی کافر سے کسی طرح حلال نہیں:’’وَلَن یَجْعَلَ اللہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً‘‘(النساء:۱۴۱) ۔ اسی لئے عورت کا نکاح مرزائی سے منعقد ہی نہیں ہوا، اب دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔ قانونی گرفت سے بچنے کے لئے حکامِ وقت سے اِجازت لے لی جائے۔ فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۵۸،۵۹)
(۱) وحرم نکاح الوثنیۃ بالإجماع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۳ ص:۴۵، کتاب النکاح)۔
ایضـًا: ولا یصلح ان ینکح مرتدًّا او مرتدۃً احد من الناس مطلقًا ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۳ ص:۲۰۰، باب نکاح الکافر، طبع سعید کراچی)۔
592
اپنے کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمان لڑکی سے قادیانی کا نکاح کرنا
سوال:۔۔۔ ایک شخص جس کی تحریر موجود ہے کہ: ’’میں احمدی نہیں ہوں، اور نہ میرا لڑکا احمدی ہے، نکاح میرے لڑکے سے کردو۔‘‘ جب نکاح ہوچکا تو معلوم ہوا کہ اب تک احمدی ہے اور لڑکا بھی احمدی ہے، اور ہماری لڑکی کو بھی احمدی کرنا چاہتے ہیں۔ آیا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ جب نکاح ہوا تو لڑکی نابالغ تھی، اب بالغ ہے۔
جواب:۔۔۔ جمہور علماء جو مرزاقادیانی کے عقائد پر مطلع ہوئے سب کے نزدیک وہ کافر مرتد ہے، اور اسی طرح وہ لوگ جو اس کو باوجود ان عقائد کے معلوم ہونے کے مسلمان سمجھیں، خواہ نبی کہے یا مسیح یا جو کچھ بھی کہے، بہرحال کافر ومرتد ہے۔ اس کی تحقیق کی ضرورت ہو تو مطبوعہ رسالہ ’’فتاویٰ تکفیرِ قادیان‘‘ جس میں سینکڑوں علمائے ہندوستان کے دستخط ہیں، منگواکر ملاحظہ فرمائیے۔ اور مرتد کا نکاح کسی طرح صحیح نہیں ہوتا، بلکہ اگر بعد نکاح مرتد ہوجائے تو فسخ ہوجاتا ہے، قال فی الدر المختار:
’’ویبطل منہ إتفاقًا ما یعتمد الملۃ وھی خمس: النکاح والشھادۃ ۔۔۔إلخ۔‘‘
(حاشیہ شامی من باب المرتد ج:۳ ص:۳۳۰)
اس لئے اس لڑکی کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، دُوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً دُرست ہے۔ اس کے علاوہ صورتِ مذکورہ میں تو اگر قادیانی کو مرتد کافر بھی نہ مانا جائے تب بھی لڑکی اور اس کے اولیاء کو فسخِ نکاح کا اِختیار ہے، کیونکہ خاوند وغیرہ نے بوقتِ نکاح ان کو دھوکا دِیا ہے، قال الشامی:
’’لو تزوجت علٰی انہ حر او سنی او قادر علی المھر والنفقۃ فبان بخلافہ ۔۔۔إلٰی قولہ۔۔۔ لھا الخیار۔ ثم قال بعد اسطر: لو زوج بنتہ الصغیرۃ من ینکر انہ یشرب المسکر فإذا ھو مدون لہ وقالت بعد ما کبرت لا ارضی بالنکاح ان لم یکن یعرفہ الأب بشربہ وکان غلبۃ اھل بیتہ صالحین فالنکاح باطل۔‘‘ (شامی، باب الکفارۃ ج:۲ ص:۳۶۲، مصری)
عباراتِ مذکورہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر بالفرض قادیانی کو کافر نہ مانیں تب بھی صورتِ مذکورہ میں لڑکی کو یہ اِختیار حاصل ہے کہ بذریعہ حاکم مسلم اپنا یہ نکاح فسخ کرالے۔ واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۵۰۷،۵۰۸)
شوہر مرزائی ہوگیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ زید کا نکاح زینب سے ہوا، بعد نکاح زید عقائدِ مرزائیہ کا پیرو ہوگیا، اور بجز مرزائیوں کے سب مسلمانوں کو کافر کہتا ہے، یا زید پہلے ہی سے عقائدِ مرزائیہ کا تھا، مگر زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے باعث اپنے اس عقیدے کو پوشیدہ رکھتا تھا، بعد نکاح ظاہر کیا، دونوں صورتوں میں زید کا نکاح زینب سے رہ سکتا ہے یا نہیں؟ اور زینب بلاطلاق نکاحِ ثانی کرسکتی ہے یا نہ؟
جواب:۔۔۔ ہر دو صورتِ مذکورہ میں زینب کا نکاح زید سے فسخ ہوگیا، اور زینب اگر مدخولہ ہے تو بعد عدّت گزارنے کے دُوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے، اور اگر مدخولہ وموطوئـہ نہیں ہے تو بلاعدّت گزارنے کے دُوسرا نکاح کرسکتی
593
ہے، کما فی الدر المختار: ’’وارتداد احدھما فسخ عاجل بلا قضاء‘‘ وفی رد المحتار: ’’قولہ وعلیہ نفقۃ العدۃ ای لو مدخولًا بھا إذ غیرھا لا عدۃ علیھا وافاد وجوب العدۃ سواء إرتداد ارتدت۔‘‘ (شامی ج:۲ ص:۴۲۵، باب نکاح الکافر، طبع مکتبہ رشیدیہ) فقط۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۳۸۳)
نکاح کے بعد شوہر قادیانی ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
سوال:۔۔۔ میرے باپ نے اپنی چھوٹی لڑکی یعنی میری چھوٹی ہمشیرہ کا اِیجاب وقبول جبارخاں سے کردیا تھا، مگر رُسوماتِ شادی ابھی تک انجام نہیں دی تھیں کہ جبارخاں احمدی ہوگیا، تو نکاح قائم رہا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ جو شخص احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہے، یعنی قادیانی ہوجاتا ہے، اور قادیانی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے، وہ مرتد وکافر ہوجاتا ہے اور نکاح اس کا مسلمہ عورت سے باقی نہیں رہتا، لہٰذا سائل اپنی ہمشیرہ کو جبارخاں احمدی کے پاس نہ بھیجیں اور اس کو جبارخاں کی منکوحہ نہ سمجھیں، اور رُخصت نہ کریں، دُوسری جگہ نکاح کردیں،(۱) فقط (درمختار ج:۲ ص:۴۲۵، باب نکاح الکافر، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۳۲۱)
عورت مرزائی ہوجائے تو نکاح فسخ ہوگا یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ ایک عورت منکوحہ حنفیہ مرزائی عقیدے پر ہوگئی، تو اس کا نکاح جو مردِ حنفی سے ہوا تھا، وہ فسخ ہوگیا یا نہیں؟ زوجہ اور اس کے ورثاء نے شوہر سے طلاق لینے کی بھی تدبیر کی تھی۔
جواب:۔۔۔ اس صورت میں جس وقت وہ عورت مرزائی عقیدے پر ہوگئی، اُسی وقت نکاح اس کا فسخ ہوگیا، دوبارہ طلاق لینے کی ضرورت نہ تھی۔کما فی الدر المختار: ’’وارتداد احدھما فسخ عاجل‘‘ (درمختار ج:۲ ص:۴۲۵، باب نکاح الکافر، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔ (۲)قادیانی کے کفر پر علماء کا اِتفاق ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے: إکفار الملحدین۔ ظفیر
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۳۲۳)
سنی لڑکی کا نکاح قادیانی سے دُرست نہیں، شوہر اگر بعد نکاح قادیانی ہوگیا تو نکاح باطل ہوگیا
سوال:۔۔۔ زید حنفی نے اپنی لڑکی ہندہ کا نکاح عمر سے کیا، اگر عمر بوقتِ نکاح قادیانی تھا تو نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ اور اگر بوقتِ نکاح حنفی تھا، بعد کو قادیانی ہوگیا تو نکاح قائم رہا یا نہیں؟ اور ہندہ حنفیہ کسی دُوسرے حنفی سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ شوہر کے قادیانی ہونے کی صورت میں ہندہ سُنّیہ حنفیہ کا نکاح اس کے ساتھ صحیح نہیں ہوا (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۱۳، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔ اور اگر شوہر بعد نکاح کے قادیانی ہوگیا تو نکاح باطل ہوگیا،لأن ارتداد احد الزوجین موجب لفسخ
(۱)وارتداد احدھما ای الزوجین فسخ عاجل بلا قضاء (درمختار)۔ ای بلا توقف علٰی قضاء القاضی وکذا بلا توقف علٰی مضیٰ عدۃ فی المدخول بھا۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳، ۱۹۴، باب نکاح الکافر، طبع سعید)۔
(۲)شامی طبع جدید ج:۳ ص:۱۹۳۔
594
النکاح (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۲۵، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔ پس اس صورت میں بعد عدّت کے ہندہ دُوسرا نکاح کرسکتی ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۴۵۵)
شوہر کے قادیانی ہونے سے فسخِ نکاح
سوال:۔۔۔ زید کہتا ہے کہ میری لڑکی کی عمر پانچ سال کی تھی اور جب اس کی شادی کی تو لڑکے کی عمر بھی پانچ سال کی تھی، چونکہ اب دونوں بالغ ہوگئے ہیں، جن کی عمر تقریباً اٹھارہ اٹھارہ سال ہے، میں نے ہرچند لڑکے والے کو کہا لڑکی بالغ ہے لہٰذا اپنے گھر لے جاؤ، مگر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، چونکہ میں بالغ لڑکی کو گھر رکھنا نہیں چاہتا، لہٰذا ہم نے چند لوگوں میں بھی پنچایت کرکے ان کو کہا کہ لڑکی لے جاؤ، مگر وہ اِنکار کرگئے۔ لڑکے والوں کا خاندان مع لڑکے کے مرزائی ہوگئے ہیں۔ چونکہ لڑکی بالغ ہے، لڑکی کہتی ہے کہ میں مرزائی خاوند کے گھر نہیں جاؤں گی۔ نہ لڑکی نے لڑکا دیکھا اور نہ لڑکے نے لڑکی دیکھی۔ اب لڑکی کہتی ہے کہ شریعت کے حکم کے مطابق میرا کوئی نہ کوئی فیصلہ کیا جائے۔ دُوسری جگہ لڑکی کا رِشتہ ہونے پر مرزائی خاوند سے طلاق لینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ لڑکی کا نکاح دُوسری جگہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! مرزا غلام احمد قادیانی نصوصِ قطعیہ کے اِنکار اور خلافِ شرع عقائد کی وجہ سے کافر اور مرتد ہے، اور جو شخص اس کے عقائد کو اِختیار کرے وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے،(۱) طلاق کی ضرورت نہیں رہتی، اور بغیر خلوتِ صحیحہ کے جب شوہر کا اِرتداد وغیرہ کی وجہ سے نکاح فسخ ہوجائے تو عدّت واجب نہیں ہوتی، اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرتد ہوا ہے، لہٰذا نصف مہر ہی واجب ہوگا۔ ’’ثم إن کان الزوج ھو المرتد فلھا کل المھر إن دخل بھا ونفقتھا إن لم یدخل بھا۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۳۳۹)۔
فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
| سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
معین مفتی مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور |
| مفتی مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور |
مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور |
۲۲؍۶؍۱۳۶۲ھ |
| ۲۲؍۶؍۱۳۶۲ھ |
۲۲؍۶؍۱۳۶۲ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۳ ص:۳۱۷،۳۱۸)
قادیانی سے جس عورت نے نکاح کیا، وہ بغیر طلاق دُوسرے مسلمان سے شادی کرسکتی ہے یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ مسماۃ ہندہ، زید مرزائی کے نکاح میں عرصے سے ہے، مگر ہندہ، زید کے گھر سے دو سال سے چلی گئی ہے، اب ایک مسلمان اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کیا مرزائی سے طلاق لینے کی ضرورت ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزائی چونکہ کافر ہے، اس لئے ہندہ کا نکاح اس سے منعقد نہ ہوا تھا، لہٰذا مرزائی کی طلاق کی ضرورت نہیں
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ کیجئے۔
595
ہے۔ ہندہ کو دُوسرے مسلمان سے نکاح کرنا دُرست ہے، فقط (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۱۳، باب المحرمات، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۲۷۳)
احدالزوجین کے اِرتداد سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے
سوال:۔۔۔ اگر وہ لڑکی جس نے مذہب قادیانی اِختیار کرکے اپنا نکاح کسی احمدی سے کرلیا ہے، اگر پھر مسلمان کرلی جائے تو اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اس صورت میں اس کا نکاح قادیانی شخص سے ٹوٹ جائے گا، کیونکہ قادیانی مرتد ہیں اور اَحد الزوجین کا اِرتداد نکاح کے منافی ہے۔ درمختار ج:۲ ص:۴۲۷ باب نکاح الکافر میں ہے: وفسد إن اسلم احدھما قبل الآخر۔ بحرالرائق میں ہے: لأن ردّۃ الآخَر منافیۃ للنکاح ابتداء فکذا بقائً ویعلم بہ حکم البینونۃ بإسلام احدھما فقط بالأولٰی (فی الدر المختار ج:۲ ص:۴۲۷)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۴۰۴)
اِرتداد سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے
سوال:۔۔۔ میری لڑکی شادی شدہ ہے، حاملہ ہے، مگر بدقسمتی سے میرے داماد اور اس کے سب گھر والے قادیانی ہوگئے ہیں، تو اَب شرعاً لڑکی کا نکاح باقی ہے یا فسخ ہوگیا؟ اب ہماری لڑکی کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! مرزا غلام احمد قادیانی پر علمائے اسلام کی طرف سے کفر کا فتویٰ ہے۔ اس لئے کہ اس کے عقائد قرآن وحدیث کے خلاف تھے، وہ ختمِ نبوّت کا منکر تھا، اس نے انبیاء علیہم السلام کی شان میں سخت قسم کی گستاخیاں کی ہیں، وہ اپنے لئے نبوّت کا مدعی تھا۔ اس کے عقائد کو تفصیل سے لکھ کر اس پر کفر کا فتویٰ دیا گیا ہے کہ ایسا شخص مرتد اور اِسلام سے خارج ہے، جو شخص اس پر اِیمان لاتا ہے اور اس کو اپنا مقتدیٰ تسلیم کرتا ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے۔(۱) قادیانی مذہب اِختیار کرتے ہی نکاح فسخ ہوگیا، ہرگزہرگز اس کے یہاں اپنی لڑکی کو نہ بھیجیں۔ تین حیض گزرنے پر اس کی شادی دُوسری جگہ کردیں۔إرتداد احدھما فسخ فی الحال (کنز)۔ قال فی الجامع الصغیر: وتعتد بثلاث حیض (ج:۳ ص:۲۱۵)۔
فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود غفر لہٗ
دارالعلوم دیوبند
۲۸؍۱؍۱۳۸۸ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۲ ص:۷۹،۸۰)
(۱) صفحہ:۵۸۲ کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ کیجئے۔
596
قادیانی ہوجانے پر نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ اَز ریاست بھاولپور، محلہ موری دروازہ، مرسلہ مولوی محمد صادق صاحب، معلّم جامعہ عباسیہ، ۱۷؍رجب المرجب ۱۳۵۰ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ مثلاً: زید نے ہندہ سے نکاح کیا، کچھ عرصہ بعد قبل زَفاف زید مرزائی ہوگیا، ہندہ نے عدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کیا، زید نے عدالت میں بیان کیا کہ: ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور مسیحِ موعود مانتا ہوں، میں مرزاقادیانی کو اس معنی میں نبی مانتا ہوں، جس معنی میں قرآنِ عظیم نے نبوّت کو پیش کیا ہے، مرزاقادیانی دیگر انبیاء علیہم السلام کی طرح نبی تھے، ان پر دیگر اَنبیاء علیہم السلام کی طرح نزولِ جبریل ہوتا تھا، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم نہ ہوئی، بلکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی ہوسکتے ہیں۔‘‘ اب دریافت طلب یہ اَمر ہے کہ:
۱:۔۔۔ کیا شرعاً زید ایسا اِعتقاد رکھنے کی وجہ سے مسلمان رہ جاتا ہے یا مرتد ہوگیا ہے؟
۲:۔۔۔ کیا شرعاً زید کا نکاح ہندہ سے باقی یا بوجہ اِتداد فسخ ہوگیا ہے؟
جواب۱:۔۔۔ جو شخص حضورِ اقدس سروَرِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی جدید نبی کا قائل ہو، بلکہ اگر کسی کو نبوّت ملنا جائز جانے، وہ قطعاً کافر مرتد ہے، اس کے کفر میں ہرگز شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ قرآن مجید نے ثابت کردیا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، حدیث میں موجود ہے: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۶۳) کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور فرمایا: ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۵۸) ۔ جب صحابہؓ میں کوئی نبی نہ ہوا، خلفائے راشدینؓ میں سے کسی کو نبوّت نہ ملی، تو اَب کون نبی ہوسکتا ہے؟ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
’’سمعت بعضھم یقول إذا لم یعرف الرجل ان محمدًا صلی ﷲ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم۔‘‘ (ج:۲ ص:۲۶۳)
یہاں تک کہ اگر کسی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، دُوسرے نے اس سے معجزہ طلب کیا، اگر مقصود تعجیز نہ ہو، یہ بھی کافر ہوجائے گا، عالمگیری میں ہے:
’’ولو انہ حین قال ھٰذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ، قیل: یکفر الطالب۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۶۳)
۲:۔۔۔ زید چونکہ مرتد ہوگیا، لہٰذا اس کا نکاح باطل ہوگیا، ہندہ پر اَب اس کو کوئی حق نہیں، درمختار میں ہے: ویبطل النکاح (ج:۲ ص:۳۳۰)۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ امجدیہ ج:۲ ص:۸۳،۸۴)
597
مرزائی سے نکاح
سوال:۔۔۔ ایک لڑکی کا نکاح ایک لڑکے کے ساتھ منعقد کرنے کی تاریخ مقرّر ہوئی۔ برات آنے کے وقت لڑکی کے والدین کو شبہ پڑگیا کہ یہ لڑکا مرزائی ہے، اس لئے انہوں نے نکاح سے اِنکار کیا۔ لڑکے نے ان سے کہا کہ: ’’اگرچہ میری ماں اور ماموں وغیرہ مرزائی ہیں، لیکن میں مرزائی نہیں ہوں۔‘‘ چنانچہ اس کے ساتھ نکاح کردیا گیا اور لڑکی رُخصت کردی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد لڑکی کو معلوم ہوا کہ اس کا خاوند مرزائی ہے، اور رفتہ رفتہ بالکل ظاہر ہوگیا کہ وہ پہلے ہی سے مرزائی تھا۔ لڑکی اور اس کے والدین مرزائیوں کو کافر ومرتد سمجھتے ہیں، اور خود صحیح العقیدہ مسلمان ہیں، اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ یہ نکاح فسخ ہوجائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لڑکی کی طرف سے عدالت میں دعویٰ دائر کردیا ہے۔ لڑکا اب بھی مرزائی ہونے کا خود اِقرار واِظہار کرچکا ہے، تو اس صورت میں کتابُ اللّٰہ اور سنتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روشنی میں بتادیا جائے کہ آیا شرعاً یہ نکاح باقی رہ سکتا ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی دُوسرے عقائدِ باطلہ اور خصوصاً دعویٔ نبوّت کی بنا پر کتابُ اللّٰہ اور سنتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق کافر ومرتد ہے، اور اس کے معتقدین ومریدین اور اس کو ۔۔۔جس معنی میں بھی ہو۔۔۔ نبی یا مجدّد، بلکہ مسلم تسلیم کرنے والے قادیانی اور لاہوری مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر ومرتد ہیں۔(۱) مرزائیوں کا کفر واِرتداد قطعی دلائل وبراہین کی بنا پر ثابت ہے اور اس پر جمہور علمائے اسلام کا اِجماع واِتفاق ہے، گزشتہ پچاس برس میں پاکستان وہند اور اِسلامی دُنیا کے ہر مسلک ومکتبِ خیال کے علمائے کرام نے بالاتفاق ان کو خارج اَز اِسلام قرار دِیا ہے، لہٰذا کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی مرزائی کے ساتھ شریعتِ محمدی کی رُو سے نہیں ہوسکتا۔ اگر وہ لڑکا بوقتِ نکاح مرزائی تھا اور قادیانیت کے عقائدِ خبیثہ کا معتقد تھا تو اس کا نکاح اس وقت ہی اس کے ساتھ منعقد نہ ہوا، لڑکی بالکل آزاد ہے۔ اور اگر جیسا اس نے بیان کیا، وہ اس وقت مرزائی نہ تھا، اب اس کے بعد مرزائی بنا ہے، تو جس وقت اس کا عقیدہ خراب ہوا اور قادیانی بنا، بس اسی وقت اِرتداد کی بنا پر وہ نکاح فسخ ہوگیا ہے۔ عدالت کو شرعاً اس کے سوا اور کوئی اِختیار نہیں کہ وہ اس نکاح کو فسخ قرار دے۔
’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی رُو سے مملکتِ پاکستان کی جو حیثیت متعین ہوگئی ہے، اس کی بنا پر اب گویا سرکاری طور سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ مرزائی کافر ومرتد ہیں، اور مسلمان عورت کا نکاح مرزائی مرد کے ساتھ منعقد نہیں ہوسکتا، اور ہوا ہو تو مرزائی ہوجانے کے بعد وہ فسخ ہوگا۔
مفتی سیّد سیاح الدین کاکاخیل
(تفہیم الاحکام ج:۱ ص:۱۵۰ تا ۱۵۲)
فائدہ:۔۔۔ یہ فتویٰ ۱۹۵۰ء میں دیا گیا تھا۔ ستمبر ۱۹۷۴ء میں پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء میں بالاتفاق ترمیم کرکے پاکستان نیشنل اسمبلی نے بالاتفاق مرزائیوں کو ۔۔۔قادیانی اور لاہوری دونوں کو۔۔۔ غیرمسلم قرار دِیا۔ اور پھر ۱۹۸۴ء میں اس دستوری بنیاد پر کہ مرزائی غیرمسلم ہیں، قادیانیوں اور لاہوریوں کے خلاف قانون سازی کی گئی کہ نہ وہ اَذان دے سکتے ہیں، نہ کسی
(۱) صفحہ:۵۹۶ کا حاشیہ نمبر۱ دیکھیں۔
598
عمارت کو ’’مسجد‘‘ کا نام دے سکتے ہیں، لہٰذا اب قانونی طور پر بھی مرزائی لڑکے یا لڑکی سے نکاح منعقد نہیں ہوسکتا، اور عدالتوں کو یہی فیصلہ دینا پڑے گا۔
چار بچوں کے بعد معلوم ہوا کہ شوہر قادیانی ہے، کیا کرے؟
سوال:۔۔۔ (’’الجمعیۃ‘‘ مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۳۱ء) ایک عورت کا عقد ایک شخص کے ساتھ ہوا، جس کو عرصہ نوسال کا ہوا، اور چار لڑکیاں بھی ہوئیں، اب معلوم ہوا کہ وہ قادیانی ہے، اور لڑکیوں کو قادیان میں دینا چاہتا ہے، عورت علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔
جواب:۔۔۔ ہاں! اس صورت میں عورت کو حق ہے کہ وہ اپنا نکاح فسخ کرالے، کیونکہ قادیانی فرقہ جمہور علمائے اسلام کے فتوے کے بموجب اسلام سے خارج ہے۔(۱)
محمد کفایت اللّٰہ غفر لہٗ
(کفایت المفتی ج:۵ ص۲۲۴)
قادیانیوں کو لڑکی دینا ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ زید فرقۂ قادیان سے اور بکر حنفی ہے، زید کا لڑکا ہے اور بکر کی لڑکی ہے، ان کا نکاح باہم شرعاً جائز اور دُرست ہے یا ناجائز ہے؟ اور نکاح کرنے میں کوئی نقصان عائد ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کو اپنی لڑکی دینا یا ان کی لڑکی خود کرنا جائز نہیں۔(۲)
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۱۹۹)
کسی قادیانی کا اپنا مذہب چھپاکر مسلمان لڑکی سے نکاح کرنا
سوال:۔۔۔ زید نے اپنی لڑکی مسماۃ ہندہ جو سنی المذہب ہے کا عقد خالد ۔۔۔ جس نے بوقتِ عقد نیز اس سے چند روز پیشتر مسماۃ ہندہ کے والد زید کے اس شبہ کو خالد قادیانی مذہب رکھتا ہے، بایں عبارت: ’’میں حنفی المذہب اہلِ سنت والجماعت ہوں، اگر میرے خسر مجھ کو اس کے برعکس دیکھیں تو وہ اپنی لڑکی کو علیحدہ کراسکتے ہیں‘‘ تحریراً وتقریراً زائل کردیا تھا۔۔۔ سے کردیا۔ اب دو ماہ کے بعد وہ کہتا ہے کہ: ’’میں تو قادیانی ہوں اور بوقتِ عقد بھی قادیانی تھا، اگرچہ مصلحتاً میں نے اپنے قادیانی ہونے کو چھپالیا تھا۔‘‘
الف:۔۔۔ یہ عقد ہندہ کا خالد سے دُرست ہوا یا نہیں؟
ب:۔۔۔ اگر جائز ودُرست ہوا تو اب اس کے اس اقرار سے کہ میں قادیانی ہوں، نکاح فسخ ہوا یا نہیں؟
ج:۔۔۔ اگر فسخ ہوا تو محض اس کے اس اِقرار پر خودبخود یا کسی دیگر شخص سے فسخ کرایا جائے گا یا نہیں؟
(۱) لا یجوز نکاح المجوسیات والوثنیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱، کتاب النکاح، الباب الثالث)۔
(۲)قال تعالٰی: ’’لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ‘‘ (الممتحنۃ:۱۰)۔ ایضًا: ولا یجوز للمرتد ان یتزوّج مرتدۃ ولا مسلمۃ ۔۔۔۔۔۔ وکذالک لا یجوز نکاح المرتدۃ مع احد۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۱، کتاب النکاح، الباب الثالث)۔
599
د:۔۔۔ کیا اس کی اس تحریر سے کہ جو مذکورالصدر ہے کہ اگر میرے خسر مجھ کو اس کے برعکس دیکھیں تو اپنی لڑکی کو علیحدہ کراسکتے ہیں، طلاق واقع ہوئی یا نہیں، جبکہ وہ اس وقت برعکس ہے؟
ز:۔۔۔ اگر طلاق ہوگئی یا نکاح خودبخود فسخ ہوگیا، یا دُوسرے سے فسخ کرایا گیا تو اَب ہندہ کا نکاح دُوسرے شخص سے کرسکتے ہیں یا زید سے طلاق لینے کی ضرورت ہوگی؟
المستفتی نمبر۲۰۷۰: حافظ احمد سعید ، حیدرآباد، دکن
۲۳؍رمضان ۱۳۵۶ھ - ۲۸؍نومبر ۱۹۳۷ء
جواب الف:۔۔۔ یہ عقد دُرست نہیں ہوا۔
ج:۔۔۔ قانونی مؤاخذے سے بچنے کے لئے بذریعہ حاکم فسخ کرالیا جائے، ورنہ شرعاً فسخ کرانے کی ضرورت نہیں۔(۱)
د:۔۔۔ یہ تحریر تو وقوعِ طلاق کے لئے کافی نہیں ہے۔
ز:۔۔۔دُوسرے شخص سے نکاح کرنے کے لئے صرف قانونی طور پر اِجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۶ ص:۱۱۱،۱۱۲)
قادیانی سے مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز ہے، تفریق لازم، شرکت کرنے والے گنہگار ہیں
سوال:۔۔۔ ایک شخص مسلمان اہلِ سنت والجماعت نے اپنی لڑکی مسلمان اہلِ سنت کا عقد ایک مرزائی قادیانی کے مرزائی لڑکے کے ساتھ دیدہ ودانستہ باوجود منع کرنے ایک عالم کے کردیا۔ برادری کے تمام لوگ مرد وزَن اس شادی میں شریک ہوئے اور عقد پڑھایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ عقدِ نکاح جائز ہے اور نکاح ہوگیا یا نہیں؟
المستفتی نمبر۱۹۷۶: مولوی محبوب عالم صاحب، بھٹنڈہ
۲۷؍شعبان ۱۳۵۶ھ -۲؍نومبر ۱۹۳۷ء
جواب:۔۔۔ حنفی سنی لڑکی کا نکاح مرزائی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔(۲) نکاح کرنے والے اور شریک ہونے والے سب گنہگار ہوئے، اس نکاح کی تفریق کرانی لازم ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۰۹)
شوہر کے ظلم سے جو عورت قادیانی ہوئی، پھر مسلمان، اس کی شادی
سوال:۔۔۔ ہندہ زوجہ زید نے مذہب قادیانی اِختیار کرلیا، علماء نے حکمِ اِرتداد جاری کرکے فسخِ نکاح کا حکم کیا۔ اب جبکہ ہندہ اپنے عقائدِ کفریہ سے تائب ہوگئی، اس سے تجدیدِ نکاح کے لئے کہا گیا، جس کے جواب میں ہندہ نے کہا کہ: ’’بوجہ ناراضگی اپنے
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲)إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤْمنۃ الکافر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۷۲۱، کتاب النکاح، فصل ومنھا إسلام الرجل)۔
600
شوہر کے کہ مجھ کو نان ونفقہ نہیں دیتا تھا اور نہ طلاق دیتا تھا، مذہب قادیانی اِختیار کیا تھا، لہٰذا اگر مجھ کو اسی شخص سے نکاح کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو میں پھر اس مذہب کو اِختیار کرلوں گی، اور کسی قادیانی سے عقد کرلوں گی۔‘‘ اس صورت میں ہندہ کسی دُوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اقول وباﷲ التوفیق! اِرتداد سے بچانے کے لئے روایت شامی: وظاھرہ ان لھا التزوج بمن شاء ت (شامی ملخص ج:۲ ص:۳۳۲، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) پر عمل کیا جائے۔ اور یہ مسئلہ جو محتالہ کے لئے ہے کہ جبراً اس کو مسلمان کرکے شوہرِ اوّل کے ساتھ تجدیدِ نکاح کیا جائے، یہ دارُالاسلام میں ہوسکتا ہے نہ کہ دارُالحرب میں، کما ھو ظاہر، فقط!
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۳۴۷)
مرزائی شوہر سے فسخِ نکاح کے بعد عدّت ومہر کا کیا حکم ہے؟
سوال:۔۔۔ ہندہ اور خالدہ نے اپنے اپنے شوہروں سے جو مرزائی تھے، فسخِ نکاح کرلیا، اس وجہ سے کہ وہ کافر اور مرتد ہیں، کیا فی الواقع علماء کا ایسا فتویٰ ہے؟ اور مہر وعدّت ووراثت کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ فی الواقع مرزائیوں کے بارے میں ایسا ہی فتویٰ ہے، ان کا کافر ومرتد ہونا متفق علیہ ہوگیا ہے، لہٰذا کوئی عورت سُنّیہ مسلمہ ان کے نکاح میں نہیں رہ سکتی، علیحدگی ضروری ہے، اور مہر وعدّت لازم ہے اور وراثت ثابت نہ ہوگی، فقط (درمختار ج:۲ ص:۲۸۱ تا ۲۸۳، باب المہر، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔(۱)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۸ ص:۲۶۰)
قادیانی کی بیوی کا مسلمان رہنے کا دعویٰ غلط ہے
سوال:۔۔۔ ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں، جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں، نیز محلے کی مستورات تعویذ، گنڈے اور دِینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رُجوع کرتی ہیں۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقوف اِختیار کیا کہ: ’’اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا؟ میں تو مسلمان ہوں! میرا عقیدہ میرے ساتھ، اور اُس کا اُس کے ساتھ، اُس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘‘ آپ سے یہ دریافت کرنا مطلوب ہے کہ:
۱:۔۔۔ کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی کے مذہب کے حامل افراد سے زَن وشوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟
۲:۔۔۔ اہلِ محلہ کے شرعی معاملات میں ان خاتون سے رُجوع کرنا، نیز معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
(۱) ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویثبت لکل واحد منھما فسخ دخل بھا او لا، وتجب العدۃ بعد الوطیء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من وقت التفریق ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویثبت النسب۔ (درمختار)۔ (قولہ: ویثبت النسب) أما الإرث فلا یثبت فیہ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۱۳۱)۔
601
جواب:۔۔۔ کسی مسلمان خاتون کا کسی غیرمسلم سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ قادیانی سے، نہ کسی دُوسرے غیرمسلم سے۔ اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاںبیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔(۱) یہ خاتون جس کا سوال میں ذِکر کیا گیا، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو یہ مسئلہ بتادیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہئے کہ وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کرلے۔ اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے، محض بھولے بھالے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآنِ کریم پڑھوانا، تعویذ گنڈے لینا، دِینی مسائل میں اس سے رُجوع کرنا اور اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔(۲)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۵ ص:۷۳،۷۴)
قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے
سوال:۔۔۔ زید جبکہ اہلِ سنت والجماعت تھا، اس کا نکاح ایک اہلِ سنت والجماعت عورت سے ہوا تھا، آج وہ اپنے آپ کو مرزائی کہتا ہے، اور مرزاقادیانی کو محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبی سمجھتا ہے، اب اس کا نکاح قائم رہا یا نہیں؟
المستفتی نمبر۶۰۸: حکیم نبی بخش، ضلع جالندھر
۱۳؍جمادی الثانیہ ۱۳۵۴ھ -۱۲؍ستمبر ۱۹۳۵ء
جواب:۔۔۔ زید کے قادیانی ہوجانے سے اس کا نکاح فسخ ہوگیا، کیونکہ قادیانی ہونے سے وہ مرتد ہوگیا اور اِرتداد سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔(۳) عورت بذریعہ کسی مسلمان حاکم کے اس سے علیحدگی اور تفریق کا فیصلہ حاصل کرسکتی ہے۔ فقط محمد کفایت اللّٰہ
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۰۳،۲۰۴)
مرزائی کا نکاح مسلمان عورت سے جائز نہیں
سوال:۔۔۔ ایک شخص کا باپ احمدی ہے، اور وہ خود بھی احمدی ہے، اس شخص کی شادی ایک اہلِ سنت والجماعت لڑکی سے ہوئی ہے، شادی ہونے سے پہلے اس شخص کے احمدی خیالات پوشیدہ تھے، شادی ہونے کے بعد اس نے اپنے خیالات ظاہر کئے۔
(۱) قال تعالٰی: ’’وَلاَ تُنکِحُواْ الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُواْ‘‘ (البقرۃ:۲۲۱)۔
ایضًا: ومنھا إسلام الرجل إذا کانت المرأۃ مسلمۃ فلا یجوز إنکاح المؤْمنۃ الکافر خوف وقوع المؤْمنۃ فی الکفر۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۷۱، کتاب النکاح، فصل فی عدم نکاح الکافر المسلمۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔
ایضًا: لا یجوز للمرتد ان یتزوّج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولا کافرۃ اصلیۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۸۲)۔
(۲) قال تعالٰی: ’’فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (الأنعام:۶۸) وقال تعالٰی: ’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)۔
(۳)وارتداد احدھما ای احد الزوجین فسخ عاجل بلا قضاء۔ (درمختار ج:۳ ص:۱۹۳، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر)۔
602
اس کا باپ اپنی احمدیت نہیں چھوڑتا ہے، مگر وہ شخص توبہ کرنے کے لئے تیار ہے، اور علمائے دِین کے فتوے کو بھی ماننے کے لئے تیار ہے، مگر اپنی زبان سے مرزاقادیانی کو کافر نہیں کہتا ہے۔ اب اگر وہ اپنا قادیانی عقیدہ چھوڑ کر دائرۂ اسلام میں آتا ہے اور اپنی زبان سے مرزاقادیانی کو کافر نہیں کہتا، اس کو مسلمان سمجھا جائے یا نہیں؟ اور اس کے ساتھ رِشتہ داری رکھی جائے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۸۱۴: عبدالظہورخاں، ریاست جیند
۲۲؍ذی الحجہ ۱۳۵۴ھ - ۱۷؍مارچ ۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ قادیانی کا نکاح اہلِ سنت والجماعت لڑکی سے دُرست نہیں ہوتا۔ اگر ایسا نکاح ہوگیا ہے تو وہ ناجائز اور باطل ہے۔(۱) اب اگر خاوند قادیانی مذہب او راس کے عقائد سے تائب ہوکر مذہب اہلِ سنت والجماعت اِختیار کرے اور مرزا غلام احمد کو کاذِب اور ضال ومضل سمجھنے لگے تو جب بھی اَزسرِنو نکاح کی تجدید کرنی ہوگی۔ مرزاقادیانی کو اپنی زبان سے کافر نہ کہے، تو نہ کہے، مگر یہ اِقرار کرنا لازم ہوگا کہ جو علماء مرزاقادیانی کی تکفیر کرتے ہیں، وہ حق پر ہیں۔ اس کے ساتھ اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کو مانے اور ان کے اعمال میں شریک رہے تو دوبارہ نکاح کردیا جائے۔ محمد کفایت اللّٰہ
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۰۵)
مرتد ہونے اور پھر تجدیدِ اِسلام کرنے والے کے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ زید ایک قادیانی عقائد کے باپ کا بیٹا ہے، جس نے قادیانی عقائد میں پروَرِش پائی اور قادیانی رہا۔ اس کی والدہ حنفی العقیدہ ہے۔ زید کا نکاح بھی ایک حنفی العقیدہ لڑکی سے ہوا، اور ایک ہزار روپیہ مہر مؤجل مقرّر ہوا۔ اس کے بعد زید قادیانی لوگوں کی بعض حرکات سے اس قدر متنفر ہوا کہ وہ نہ صرف قادیانی مذہب سے بلکہ اسلام سے ہی بدظن ہوگیا، اور آخر آریہ بن گیا۔ کچھ عرصے کے بعد مشرف باسلام ہوا۔ اب بحمداللّٰہ وہ عقائدِ حقہ رکھتا ہے اور قادیانیت سے متنفر ہے۔ مندرجہ بالا واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے سسرال والوں نے بوجہ اِرتداد اس کے نکاح کو فسخ شدہ قرار دے کر مہر کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:
۱:۔۔۔ آیا ایک حنفی العقیدہ لڑکی کا نکاح ایک قادیانی شوہر سے شرعاً جائز ہے یا فاسد وباطل؟
۲:۔۔۔ اگر فاسد وباطل ہے تو آیا مہر پھر بھی واجب ہے؟ (تعلقات زَن شوئی کئی سال تک جاری رہے)۔
۳:۔۔۔ صورتِ زیرِ بحث میں اگر یہ زوجین تعلقات زَن شوئی کو جاری رکھنا چاہیں تو ان کے لئے تجدیدِ نکاح ضروری ہے؟
۴:۔۔۔ بصورت تجدیدِ نکاح آیا حلالہ ضروری ہے؟ یہ ملحوظ رہے کہ زید نے طلاق نہیں دی، فسخِ نکاح بوجہ اِرتداد سمجھا جارہا ہے۔
المستفتی نمبر۳۶۰: سیّد غلام بھیک نیزرنگ ایڈووکیٹ، انبالہ
۱۷؍ربیع الاوّل ۱۳۵۳ھ-۳۰؍جون ۱۹۳۴ء
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ ملاحظہ کیجئے۔
603
جواب۱:۔۔۔ نکاح ناجائز ہے، یعنی فاسد ہے۔(۱)
۲:۔۔۔ اگر زوجین میں تعلقاتِ زَن شوئی واقع ہوچکے ہیں تو مہرِ مثل لازم وواجب ہے۔(۲)
۳:۔۔۔ اگر یہ زوجین تجدیدِ اِسلام زوج کے بعد باہم زَن شوئی کے تعلقات رکھنا چاہیں تو ان کو اَزسرِنو نکاح کرنا لازم ہوگا، لیکن نکاح سے پہلے حلالہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔(۳)
۴:۔۔۔ حلالہ کی ضرورت نہیں، کیونکہ حلالہ تین طلاق دینے کی صورت میں ہوتا ہے، نہ کہ نکاح فسخ ہونے کی صورت میں۔(۴)
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۰۲،۲۰۳)
شوہر کے قادیانی ہونے سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے
سوال:۔۔۔ از شاہجہاںپور، محلہ بارہ دری، مرسلہ عبداللّٰہ خان صاحب، ۵؍رجب المرجب ۱۳۳۶ھ۔
زید نے قادیانی مذہب اِختیار کرلیا اور اس کی عورت بدستور اپنے اصلی مذہب حنفی پر رہی، گو زید نے مذہب قادیانی گوارا کرنے میں اپنی عورت کو مجبور نہیں کیا، لہٰذا ایسی حالت میں کہ جب مابین زَن وشوہر کے اِختلافِ مذہب ہوگیا، اَز رُوئے حکمِ شرع شریف کے بحالت طرزِ معاشرت درمیان زَن وشوہر جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ صورتِ مستفسرہ میں عورت فوراً نکاح نکل گئی، ان میں باہم کوئی علاقہ نہ رہا، مرد محض بیگانہ ہوگیا، اب اس سے قربت زنائے خالص ہوگی۔ تنویرالابصار میں ہے: ’’وارتداد احدھما فسخ عاجل۔‘‘ (شامی ج:۲ ص:۴۲۵، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ) واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم! خاوند بیوی میں سے کسی ایک کے مرتد ہوجانے سے اسی وقت نکاح فسخ ہوجاتا ہے، واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۲ ص:۲۶۱)
قادیانی ہوجانے سے نکاح فسخ ہوگیا
سوال:۔۔۔ زید نے جو اہلِ سنت مسلمان تھا، یا اپنے آپ کو سنی مسلمان ظاہر کرتا تھا، کئی سال پہلے ایک سنی لڑکی سے شادی کی، نکاح حنفی المذہب عالم نے پڑھایا، کچھ عرصے کے بعد مختلف اثرات کے ماتحت زید پکا مرزائی قادیانی ہوگیا۔ اس عرصے میں اس کی اولاد بھی ہوئی، جس میں دو لڑکے اور لڑکیاں بقیدِ حیات ہیں۔ اس کی بیوی بدستور سنی رہی اور ہے، کئی دفعہ اسے ربوہ ۔۔۔چناب نگر۔۔۔ جاکر مرزائی خلیفہ سے بیعت کرانے پر مجبور کیا، مگر اس نے اِنکار کردیا، اب ملک کی نمائندہ جماعت اور جمہور اہلِ اسلام کے
(۱)وحرم اخت معتدتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ والمجوسیۃ بالإجماع والوثنیۃ ویدخل فی عبدۃ الأوثان عبدۃ الشمس والنجوم والصور التی استحسنوھا والمبطلۃ والزنادقۃ۔ (البحر الرائق ج:۳ ص:۱۱۰، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات)۔
(۲)ویجب مھر المثل فی نکاح فاسد۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۱۳۱، کتاب النکاح، باب المھر)۔
(۳)فلو ارتد مرارًا وجدد الإسلام فی کل مرۃ وجدد النکاح علٰی قول ابی حنیفۃ تحل إمرأتہ من غیر إصابۃ زوج ثان۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۱۹۳، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، طبع سعید)۔
(۴) ایضاً۔
604
فیصلے بعد جب مرزائیوں کو غیرمسلم قرار دِیا جاچکا ہے، زید کو توبہ کرنے کا مشورہ دیا گیا، مگر وہ اپنے مرتد رہنے پر مصر ہے۔ کیا اس کے بعد زید کا نکاح مسلمان خاتون سے قائم رہے گا؟ اور کیا یہ ضروری ہے کہ زید اسے طلاق دے؟ یا طلاق خودبخود واقع ہوجائے گی؟
جواب:۔۔۔ حاصلِ سوال یہ ہے کہ بوقتِ نکاح زوجین مسلمان تھے، بعد میں شوہر قادیانی ہوکر مرتد ہوگیا، اس کا حکم شرعِ اسلام میں یہ ہے کہ شوہر کے مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح ٹوٹ گیا اور منکوحہ مسلمہ اس کے نکاح سے خودبخود بالکل خارج ہوگئی۔ طلاق وغیرہ کے دینے کی حاجت یا شرط نہیں رہی، بلکہ منکوحہ اس کے نکاح سے نکل کر آزاد ہوگئی اور نفقۂ عدّت اور کامل مہر کی بھی مستحق رہی۔ فی الدر المختار علٰی ھامش ردالمحتار ج:۲ ص:۴۲۵: ارتداد احدھما فسخ عاجل بلا قضاء فللموطوئۃ کل مھرھا ولغیرھا نصفہ لو ارتدوا علیہ نفقۃ العدۃ۔ بالخصوص جبکہ سمجھانے اور توبہ کا مشورہ دینے کے بعد بھی وہ مرتد ۔۔۔قادیانی۔۔۔ رہنے پر مصر رہا تو یہ حکم اور بھی واضح ہوگیا۔
فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
کتبہ الاحقر نظام الدین غفر لہٗ
مفتی دارالعلوم دیوبند
(نظام الفتاویٰ ج:۲ ص:۱۸۸، ۱۸۹)
شوہر مرزائی یا عیسائی ہوجائے تو عورت پر عدّت واجب ہے
سوال:۔۔۔ اگر کسی عورت کا شوہر عیسائی، قادیانی یا یہودی ہوجائے جس کی وجہ سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کیا ایسی عورت پر عدّت واجب ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ شریعتِ اسلامی میں ہر اس جدائی پر عدّت واجب ہے جو میاںبیوی کے مابین کسی وجہ سے آجائے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ خاوند کے بوجہ غیرمسلم ہوجانے کے دونوں کے درمیان جدائی خودبخود آگئی، لہٰذا اس عورت سے عدّت لازمی ہے۔ قال فی الھندیۃ:
’’وإن اخبرت المرأۃ ان زوجھا قد ارتدَّ لھا ان تتزوّج بآخر بعد إنقضاء العدۃ فی روایۃ الإستحسان وفی روایۃ السیر لیس لھا ان تزوج، قال شمس الأئمۃ السرخسی: الأصح روایۃ الإستحسان۔‘‘ (الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۳۴۰، باب النکاح الکافر)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۴ ص:۵۴۷،۵۴۸)
لاعلمی میں قادیانی سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک مسلمان عورت کا نکاح لاعلمی میں کسی قادیانی سے ہوگیا، یعنی نکاح کے وقت مرد نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا، لیکن نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص قادیانی ہے، اندریں صورت یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی چونکہ مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اس لئے جس شخص کا قادیانی ہونا قطعی اور یقینی ہو تو اس
605
کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح شرعاً جائز نہیں، اور لاعلمی میں کیا ہوا نکاح کالعدم رہے گا۔ کما فی الھندیۃ: إرتد احد الزوجین عن الإسلام وقعت الفرقۃ بغیر طلاق فی الحال (الفتاوی الھندیۃ ج:۱ ص:۳۳۹، الباب العاشر فی نکاح الکفار)۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۴ ص:۳۴۲،۳۴۳)
خاوند کے قادیانی ہوجانے سے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ میاں بیوی دونوں مسلمان تھے، اور خوشگوار زِندگی گزار رہے تھے کہ اچانک خاوند قادیانیوں کا شکار ہوکر مرتد ہوگیا، جبکہ عورت دِینِ حق یعنی اِسلام پر قائم ہے، ایسی حالت میں اس عورت کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ قادیانی چونکہ مرتد کے حکم میں ہیں، اس لئے صورتِ مسئولہ میں خاوند کے مرتد ہوجانے سے مسلمان بیوی سے اس کا رِشتہ نکاح ختم ہوگیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ عورت عدّت گزار کر دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے، قال الحصکفی: وارتداد احدھما ای الزوجین فسخ عاجل (الدر المختار علٰی ھامش ردالمحتار ج:۲ ص:۴۲۵، باب نکاح الکافر)۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۴ ص:۳۴۲)
جو شخص قادیانی ہوجائے اس کا نکاح برقرار نہیں رہتا
سوال:۔۔۔ زید حنفی سنی صحیح العقیدہ آدمی تھا، خدا جانے کن اثرات کے ماتحت وہ قادیانی بن گیا اور اپنا قدیم مسلک ترک کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اس حالت میں اس کی بیوی اس کے نکاح میں باقی رہی اور اس کے ذمے شوہری حقوق کو اَدا کرنا لازم رہا، یا نکاح ختم ہوکر تعلقِ زوجیت ختم ہوگیا اور بیوی اپنے شوہر پر حرام ہوگئی؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! قادیانی نے ختمِ نبوّت اور بہت سے بنیادی عقائدِ اِسلام کے خلاف کا اِرتکاب کیا اور بار بار متنبہ کرنے پر اپنی بات سے رُجوع نہیں کیا۔ اس لئے علمائے اسلام کے فتویٰ کی رُو سے وہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ جو شخص اس کے مسلک کو قبول کرتا ہے اور اس کے عقائد کو اِختیار کرتا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے کہ شوہر کے مرتد ہوجانے کی وجہ سے مسلمان بیوی نکاح سے خارج ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ رہنا سہنا اور شوہر بیوی جیسا معاملہ کرنا ہرگز جائز نہیں رہا، بلکہ پورا پردہ لازم ہے۔ قادیانی سے متعلق بہت تفصیل سے کتابیں موجود ہیں۔
فقط واللّٰہ اعلم!
حررہ العبد محمود غفر لہٗ
دارالعلوم دیوبند
۱۰؍۴؍۱۳۹۰ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۳ ص:۲۱۸،۲۱۹)
قادیانیت سے جو توبہ کرچکا، اس سے نکاح جائز ہے
سوال:۔۔۔ زید کی نسبت یہ بات مشہور تھی کہ زید مرزائی ہے، مگر پھر اس نے توبہ کرلی تھی، اسی بنا پر ایک لڑکی کا اس سے
606
نکاح کردیا تھا، نکاح کے بعد ایک مولوی صاحب کو زید کے پاس تحقیق کے لئے بھیجا تو زید نے بڑے زور شور سے تردید کی کہ: ’’میرا مذہب قادیانی نہیں ہے، اور بہت زمانہ گزرا میں توبہ کرچکا ہوں، اور اِبتدا میں اگر میں مرزا کو مانتا بھی تھا تو ایک مجدّد بزرگ مانتا تھا، نبی نہیں مانتا تھا۔‘‘ دریافت طلب یہ اَمر ہے کہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ تحریرِ سوال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ زید صحیح العقائد ہے، اور اس کا عقیدہ صحیح موافق مذہب اہلِ سنت والجماعت کے ہے، اور مرزا غلام احمد قادیانی کا معتقد نہیں ہے، لہٰذا نکاح اس لڑکی کا اس شخص یعنی زید سے دُرست اور صحیح ہوگیا۔ نکاح کے صحیح ہونے میں اس وقت کوئی تردّد نہیں ہے۔ البتہ اگر خدانخواستہ کسی وقت میں زید نے مذہب اہلِ سنت والجماعت سے طرف مذہب قادیانی کے رُجوع کیا تو اس وقت فوراً نکاح باطل ہوجائے گا(۱) (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۲۵، باب نکاح الکافر)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۲۸۸،۲۸۹)
مرزائی کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا
سوال:۔۔۔ ہندہ کی شادی عمرو کے ساتھ کی گئی، بعد نکاح عمرو مرزائی خیال کا ثابت ہوا، قریباً عرصہ دو سال بعد، اور ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی۔ اب ہندہ کے والدین ہندہ کو عمرو کے ساتھ روانہ نہیں کرتے، نہ ہی طلاق دیتا ہے، اور نہ ہی وہ اپنا مسلمان ہونا ثابت کرتا ہے، ایسے موقع پر کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ مرزائی کافر ہیں، ان کے ساتھ نکاح نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں ہے: ’’وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ‘‘ (الممتحنہ:۱۰) یعنی کافرہ عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو، اور دُوسری آیت میں ہے: ’’وَلاَ تُنکِحُواْ الْمُشِرِکِیْنَ‘‘ (البقرۃ:۲۲۱) یعنی مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔
مرزائی اَز رُوئے شریعت مشرک بھی ہیں اور کافر بھی۔ انہوں نے خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نیا نبی کھڑا کرلیا ہے جو شرک فی الرسالت ہے، اور کفر بھی ہے، پس لڑکی کو جہاں چاہے بغیر فسخِ نکاح کے بٹھادیا جائے، کیونکہ کافر کے ساتھ نکاح ہی نہیں رہتا تو فسخ کی کیا ضرورت ہے! عدالت میں بھی کافر کا نکاح فسخ ہے۔ عبداللّٰہ امرتسری، از روپڑ
(فتاویٰ اہل حدیث ج:۱ ص:۸)
کسی کو قادیانی کہنے والے کے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک عالم دُوسرے عالم کو اِختلاف کی وجہ سے قادیانی کہتا ہے، ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس کا نکاح باقی رہا؟
جواب۱:۔۔۔ حدیث میں ہے کہ جس نے دُوسرے کو کافر کہا، ان میں سے ایک کفر کے ساتھ لوٹے گا، اگر وہ شخص جس کو کافر کہا، واقعتا کافر تھا تو ٹھیک، ورنہ کہنے والا کفر کا وَبال لے کر جائے گا، کسی کو کافر کہنا گناہِ کبیرہ ہے۔(۲)
(۱) وارتداد احدھما ای الزوجین فسخ فلا ینقض عددًا عاجلٌ بلا قضاء (الدر المختار مع رد المحتار ج:۳ ص:۱۹۳، باب نکاح الکافر)
(۲)الکبیرۃ الثانیۃ والثالثۃ والخمسون بعد الثلثمأۃ: قول انسان لمسلم یا کافر، ۔۔۔۔۔۔ أخرج الشیخان فی جملۃ حدیث: ومن دعا رجلًا بالکفر أو قال عدو ﷲ ولیس کذالک إلا حار علیہ أی رجع علیہ ما قالہ ۔۔۔إلخ۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۲ ص:۱۲۵، کتاب الردۃ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
607
۲:۔۔۔ وہ خود عالم ہے، اپنے نکاح کے بارے میں خود جانتا ہوگا۔ اُوپر لکھ چکا ہوں کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے، اور ایک عالم کا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہونا بے حد اَفسوس ناک ہے، ان صاحب کو توبہ کرنی چاہئے اور مظلوم سے معافی مانگنی چاہئے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۸ ص:۳۵۴)
مرزائی لڑکے سے مسلمان عورت کا نکاح حرام اور باطل ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین ومفتیٔ اعظم پاکستان اس مسئلے میں کہ میں مسماۃ فہمیدہ بیگم بنت اللّٰہ دتہ قوم کمہار سکنہ وزیرآباد، ضلع گوجرانوالہ کا نکاح میرے والد اللّٰہ دتہ نے ایک لڑکے مسمّیٰ محمد اشرف ولد غلام احمد قوم کمہار ساکن مقام پیرم تحصیل حافظ آباد کے ساتھ میرے آبائی گاؤں باؤلے تحصیل وزیرآباد میں آج سے تقریباً تین سال پیشتر کردیا۔ نکاح برات کے ساتھ بڑی مجلس میں ہوا۔ لڑکی والوں میں سے کسی کو یہ پتا نہیں تھا کہ لڑکا اور اس کا باپ سخت ترین مرزائی اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے ہیں۔ نکاح اس لاعلمی اور دھوکے میں ہوگیا، اسی دن میں اپنے سسرال چلی گئی۔ دُوسرے دن پھر اپنے میکے واپس آئی اور آٹھ دن رہ کر پھر اپنے سسرال گئی۔ اسی طرح دو تین پھیرے کئے مگر لڑکے کے مرزائی ہونے کا کوئی پتا نہ لگ سکا، اور اپنے مذہب کو انہوں نے کافی چھپایا۔ ڈیڑھ مہینے کے بعد پھر میں اپنے سسرال میں ہی تھی کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ہم نے ایک جلسے میں جانا ہے، وہاں جانا ہمارا بہت ضروری ہے، کیونکہ ہم نے منّت مانی ہے۔ اس وقت بھی مجھے نہ بتلایا گیا کہ جلسہ کہاں ہے اور کیسا ہے؟ مجھے بھی ساتھ لے گئے، وہاں پہنچ کر اور راستے میں لوگوں کی باتوں سے مجھے پتا چلا کہ یہ ربوہ ۔۔۔چناب نگر۔۔۔ آئے ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کا یہ جلسہ ہے۔ میرے خاوند نے مجھ پر یہ زور دیا کہ تو بھی مرزائی ہوجا اور مرزا کی بیعت کرلے، مگر میں نے صاف اِنکار کردیا۔ اس وقت مجھ کو پتا لگا کہ میرا یہ خاوند مسلمان نہیں ہے اور میرا نکاح ایک غیرمسلم مرزائی سے ہوا ہے۔ میں نے وہاں سے آکر فوراً اپنے گھر اِطلاع دی کہ فوراً مجھے آکر لے جاؤ، میں یہاں نہیں رہوں گی۔ میری والدہ آئیں اور کافی لڑائی جھگڑے کے بعد مجھ کو میرے سسرال سے واپس لے گئیں۔ اب میں صرف اس لئے کہ وہ مرزائی ہے اور میں جانتی ہوں کہ مرزائی کافر ہوتے ہیں، اسی لئے میں اس کے ساتھ ہرگز نہیں رہنا چاہتی۔ سارا گاؤں جانتا ہے کہ محمد اشرف سخت مرزائی ہے، اس نے خود بھی اپنی تحریر سے انگوٹھا لگاکر اِقرار کیا ہے اور اس کے چچا نظام علی نے بھی اس بات پر دستخط کئے کہ وہ اور اس کا بھتیجا محمد اشرف مرزائی احمدی ہیں۔ یہ تحریر اور بہت سے گواہوں کی تحریر حاضرِ خدمت ہے۔ وہاں کے مرزائی اِمام محبوب علی محمد نے بھی اس چیز کی گواہی دی ہے کہ محمد اشرف مرزائی ہے۔ اور سب لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ میں اور میرا والد اللّٰہ دتہ صحیح العقیدہ سنی مسلمان ہیں۔ سب گواہی دے سکتے ہیں اور اس کے آبائی گاؤں میراںپور کے لوگ عبدالرشید مرزائی اور احمد وغیرہ نے بھی تحریری گواہی دی ہے کہ محمد اشرف واقعی مرزائی احمدی ہے۔ اور میرا والد اور چار گواہ حاضرِ خدمت ہیں جو باوضو کلمہ پڑھ کر حلفیہ گواہی دیتے ہیں کہ محمد اشرف مدعاعلیہ مرزائی احمدی ہے۔ فرمایا جائے کہ کیا شریعتِ اسلامیہ میں میرا نکاح صحیح ہوا یا غلط؟ اور کیا محمد اشرف شرعاً میرا خاوند بن سکتا
608
ہے؟ اور اگر نکاح غلط ہے تو کیا میں دُوسری جگہ نکاح کرسکتی ہوں؟ خدا کے لئے اس مرزائی سے میری جان چھڑائی جائے اور شرعی فتویٰ عطا فرمایا جائے۔ السائلہ مؤرخہ ۱؍۴؍۱۹۷۱ء۔
جواب:۔۔۔ بِعَوْنِ الْعَلَّامِ الْوَھَّاب! قانونِ شریعتِ اسلامیہ اور قانونِ پاکستان کے تحت میں مفتیٔ اسلام ہونے کی حیثیت سے حنفی مسلک کے مطابق فتویٰ جاری کرتے ہوئے سائلہ حنفیہ فہمیدہ بیگم بنت اللّٰہ دتہ قوم کمہار کا نکاح باطل قرار دیتا ہوں، اور یہ نکاح جو دھوکے اور فریب سے مسمّیٰ محمد اشرف مرزائی احمدی قادیانی ولد غلام احمد نے فہمیدہ بیگم سے کیا ہے وہ شرعاً اور قانوناً ہوا ہی نہیں، بالکل باطلِ محض ہے۔ میں نے بحیثیت مفتی ہونے کے محمد اشرف کے مرزائی ہونے کی کافی تحقیق کی ہے، مندرجہ بالا گواہوں کے حلفیہ بیان لئے ہیں، نیز محمد اشرف کے علاقے کے معتبر حضرات کے تحریری حلفیہ بیان لئے، خود محمد اشرف کی زیرِ دستخطی نشان انگوٹھے والی تحریر میرے پاس موجود ہے، جس میں اس نے اپنے احمدی مرزائی ہونے کا اِقرار کیا ہے۔ میں نے مدعیہ اور اس کے لواحقین کے ذریعے مدعاعلیہ محمد اشرف کو بیان صفائی دینے کی اِطلاع بھیجی مگر خود حاضر نہ ہوا، اس نے اپنی انگوٹھاشدہ تحریر میرے پاس بھیج دی۔ اس میں اپنے احمدی یعنی مرزائی ہونے کا اِقرار ہے۔ اس بستی کے مرزائی اِمام متعلقہ ربوہ ۔۔۔چناب نگر۔۔۔ کی تحریر بھی محمد اشرف کے احمدیت مرزائیت کے ثبوت میں میں نے مہیا کیں۔ اس کے علاوہ بہت سے مرزائی وغیرمرزائی حضرات سے میں نے محمد اشرف کے مرزائی ہونے کا ثبوت مانگا، سب کی حلفیہ تحریریں میرے پاس موجود ہیں۔ اتنی چھان بین اور تحقیق کے بعد یہ شرعی فتویٰ صادر کیا جارہا ہے چونکہ مدعیہ خود حنفی مسلمان ہے، اس لئے حنفی مسلک کے مطابق فتویٰ دیا جارہا ہے، قانونِ شریعت کے مطابق تمام اُمتِ مسلمہ کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ مرزائی احمدی قادیانی ہرگزہرگز مسلمان نہیں ہیں، بلکہ مرتد، خارج اَز اِسلام ہیں۔ اس لئے کہ تمام مرزائی احمدی مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں، اور اِسلامی عقیدے کے مطابق جو شخص نبی کریم محمد مصطفی عربی تاجدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کی نبوّت کو تسلیم کرے وہ سب مسلمانوں کے نزدیک کافر ہے۔ مجتہدینِ شریعت اور علمائے اُمتِ محمد رسول اللّٰہ ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ کا اس پر اِجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو کسی طرح کا نبی ماننے والا کافر ہے۔ چنانچہ تفسیر ابنِ کثیر (ج:۳ ص:۴۹۴) اور اسی طرح تفسیر رُوح البیان (ج:۷ ص:۱۸۸) پر ہے: ’’ومن قال بعد نبیّنا نبیٌ یکفر لأنہ انکر النصَّ‘‘ اور جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ بھی قرآن وحدیث اور تمام اہلِ اسلام وعلمائے کرام کے نزدیک کافر گمراہ ہے۔ چنانچہ تفسیر رُوح البیان اسی جگہ اور دیگر تفاسیر میں ہے: ’’ومن ادعی النبوۃ بعد موت محمد صلی ﷲ علیہ وسلم لا یکون دعواہ إلَّا باطلًا‘‘۔ تفسیر ابنِ کثیر جلد سوم صفحہ:۴۹۴ پر ہے: ’’وقد اخبر ﷲ فی کتابہ ورسولہ صلی ﷲ علیہ وسلم فی السُّنَّۃ المتواترۃ عنہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادّعٰی ھٰذا المقام بعدہ فھو کذّابٌ افَّاکٌ دَجَّالٌ ضالٌّ مُضلٌّ‘‘ ان دلائل وعقیدۂ اسلامی سے ثابت ہوا کہ مرزائی غلام احمدی مرتد وکافر ہیں۔ ان کو اہلِ کتاب بھی نہیں کہا جاسکتا، اس لئے کہ شریعت میں اہلِ کتاب وہ شخص ہے کہ جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر کامل اِیمان نہ لائے اور ایسے نبی کو مانے جس کو سب مسلمان بھی نبی تسلیم کرتے ہوں، خواہ وہ نبی صاحبِ کتاب ہو یا نہ ہو، جیسے یہودی کہ حضرت عزیر علیہ السلام پر اِیمان لاتے ہیں، حالانکہ آپ صاحبِ کتاب
609
نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو کوئی مسلمان نہیں مانتا، اس لئے اس کے متبعین کو اہلِ کتاب ہرگز نہیں کہا جاسکتا، بلکہ ان کا شمار مرتدین میں ہوگا، اور یہ بھی مُسلَّمہ اِسلامی عقیدہ ہے اور تمام اُمتِ مسلمہ کا اِتفاق ہے کہ مسلمان عورت کافر مرد کا نکاح قطعاً نہیں ہوسکتا، خاوند کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ چنانچہ ’’فتاویٰ فتح القدیر‘‘ جلد دوم ص:۴۲۲ پر ہے: ’’لأنّ مطلق الدِّین ھو الإسلام ولا کلام فیہ لأن إسلام الزوج شرط جواز نکاح المسلمۃ۔‘‘ ’’اس لئے کہ مطلق دِین وہ اِسلام ہے اور نہیں ہے کلام اس میں اس لئے کہ خاوند کا اسلام مسلمان عورت کے نکاح کے لئے شرط ہے۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ غیرمسلم سے مسلمان عورت کا نکاح ہوتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کافر مرد مسلمان عورت کا کفو نہیں ہوسکتا، اگرچہ ہم قوم یا ہم قبیلہ ہو، اور قانونِ شرع کے مطابق غیرکفو میں نکاح باطل ہے جب تک کہ ولی اور شریعت اِجازت نہ دے۔ چنانچہ فتاویٰ قاضی خان جلد اوّل ص:۳۳۵ پر ہے: ’’وإن لم یکن کفوًا لا یجوز النکاح اھلًا‘‘۔ اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے (ج:۱ ص:۲۹۲): عن ابی حنیفۃ رحمہ ﷲ تعالٰی ان النکاح لا ینعقد۔ اور جس طرح کافر سے مسلمہ کا نکاح ناجائز ہے، اسی طرح مرتد سے بھی نکاح غلط ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ جلد اوّل ص:۲۹۲ پر ہے: لا یجوز للمرتد ان یتزوّج مرتدۃ ولا مسلمۃ۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے جلد سوم ص:۵۸۰ ومنھا ما ھو باطل بالإتفاق نحو النکاح لا یجوز لہ ان یتزوّج امرأۃ مسلمۃ۔ یعنی مرتد اگر مسلمان عورت سے نکاح کرے تو وہ باطل ہے، تمام فقہائے کرام کا اس پر اِتفاق ہے کہ ہر مرتد کا نکاح مسلمہ سے باطل ہے نہ کہ فاسد، کیونکہ فاسد نکاح وہ ہے جس میں علمائے کرام کا اِختلاف ہو کہ جائز ہے یا ناجائز؟ چنانچہ فتاویٰ شامی جلد دوم ص:۳۸۰ پر ہے: فی البحر ھناک عن المجتبٰی ان کل نکاح اختلف العلماء فی جوازہ کالنکاح بلا شھود فالدخول فیہ موجب للعدۃ۔ نکاح باطل وہ ہے جس کے ناجائز ہونے پر سب علمائے اُمت کا اِتفاق ہو اور وہ نکاح سب کے نزدیک نہ ہونے کی طرح ہو۔ چنانچہ درمختار جلد دوم ص:۳۸۰ پر ہے: والظاھر ان المراد بالباطل ما وجودہ کعدمہ ولذا لا یثبت النسب بہ۔ صاحب ردالمحتار ص:۳۸۰ پر فرماتے ہیں کہ کافر نے مسلمان عورت سے نکاح کیا تو وہ نکاح قطعاً باطل ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لا یثبت النسب ولا تجب العدۃ لأنہ نکاح باطل۔ ثابت ہوا کہ محمد اشرف مرزائی کا نکاح فہمیدہ کے ساتھ باطل ہے۔ اس لئے کہ سب مسلمانوں کے عقیدے سے مرزا غلام احمد کو نبی مان کر سب مرزائی مرتد وکافر ہوچکے ہیں۔ چنانچہ جواہر البہار ص:۴۶۲ پر ہے: فقد اتفقت الاُمّۃ علٰی ذالک وعلٰی تکفیر من ادعی النبوۃ بعدہ۔ اسی طرح شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲ پر ہے: ودعوی النبوۃ بعد نبینا کفر بالإجماع۔ ان تمام دلائلِ شرعیہ سے ثابت ہوا کہ فہمیدہ بیگم کا نکاح باطل ہے، ہوا نہیں۔ نکاح فاسد اور باطل کے حکم میں بھی فرق ہے۔ نکاح فاسد کا حکم یہ ہے کہ قاضیٔ اسلام یا عدالت کا جج نکاح فسخ کرے۔ چنانچہ شامی شریف جلد دوم ص:۳۸۲ پر ہے: بل یجب علی القاضی التفریق بینھما۔ لیکن نکاح باطل میں یہ بھی نہیں، لہٰذا فہمیدہ بیگم پر نہ عدّت واجب، نہ طلاق، نہ تفریق، بلکہ وہ سابقہ باطل نکاح سے شرعاً بالکل آزاد ہے اور پاکستانی عدالت کے قانون کے مطابق بھی یہ نکاح باطل ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۵ء میں عدالت پاکستان کے ڈسٹرکٹ جج شیخ محمد اکبر نے مرزائی فرقے کو قانونی طور پر غیرمسلم قرار دیتے ہوئے مدعیہ اَمۃالکریم اور لیفٹیننٹ نذیرالدین کے
610
نکاح کو باطل کردیا تھا۔ اس سے پہلے ۱۹۳۵ء میں ٹرائل کورٹ کے ڈسٹرکٹ جج نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ بہاولنگر عدالت میں ہوا۔ اور وہ دُوسرا فیصلہ ۳؍۶؍۱۹۵۵ء کو راولپنڈی میں ہوا تھا، چند روز پیشتر اخبار امروز میں ۴؍ستمبر ۱۹۷۱ء کو چنیوٹ کی ایک خبر اس طرح شائع ہوئی: موضع خانکے چک نمبر۲۰ نواب دین کے پورے خاندان نے احمدیت ۔۔۔مرزائیت۔۔۔ سے توبہ کرکے اسلام قبول کیا اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان تمام باتوں اور فیصلوں اور دلائل سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزائی احمدی مسلمان نہیں۔ لہٰذا میں شرعی فتویٰ جاری کرتے ہوئے واضح کرتا ہوں کہ فہمیدہ بیگم چونکہ مسلمان ہے، اس لئے اس کا نکاح محمد اشرف مرزائی سے قطعاً باطل ہے، اور فہمیدہ بیگم سابقہ نکاح سے بالکل آزاد ہے۔ محمد اشرف کا اس پر کوئی حق یا اِختیار نہیں ہے۔ فہمیدہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے شریعتِ اسلامیہ کے مطابق نکاح کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ فتویٰ میری اسی تحقیق کے مطابق ہے جو مدعیہ اور اس کے لواحقین کے ذریعے کی گئی، یہ فتویٰ تحقیقِ بالا کے دُرست ہونے کی صورت میں بالکل دُرست اور قابلِ عمل ہے۔ واللّٰہ اعلم!
(فتاویٰ نعیمیہ ج:۱ ص:۳۱۹ تا ۳۲۳)
مسلمان، قادیانی ہوکر پھر مسلمان ہوجائے تو اس کے نکاح کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص پہلے اہلِ سنت والجماعت تھا، پھر مرزائی عقائد کا پابند ہوگیا تھا، اب وہ پھر اہلِ سنت والجماعت میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ اس کی بیوی اسی کے عقائد کی پابند رہی، اب اس کو دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۳۱۲: علی حسین امروہوی، دہلی
۲۹؍صفر ۱۳۵۳ھ-۱۳؍جون ۱۹۳۴ء
جواب:۔۔۔ اگر وہ شخص سچے دِل سے توبہ کرے اور اِقرار کرے کہ مرزائی عقیدہ غلط اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے جھوٹے تھے، اور ان کے دونوں فریق لاہوری اور قادیانی گمراہ ہیں، میں دونوں سے بیزار ہوں تو وہ اہلِ سنت والجماعت میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر شوہر اور بیوی ایک ہی وقت میں ساتھ ساتھ قادیانی یا احمدی ہوئے تھے، اور پھر ایک ہی وقت میں دونوں نے توبہ کی ہو، جب تو ان کے نکاح کی تجدید لازم نہیں ہے، اور وہ اپنے سابقہ نکاح پر رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر قادیانی یا احمدی ہونے میں تقدم وتأخر ہوا ہے یا توبہ کرنے اور واپس آنے میں آگے پیچھے ہوگئے ہیں تو نکاح کی تجدید بھی لازم ہوگی۔ محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۶ ص:۱۴۴)
بیوی قادیانی ہوگئی، قادیانی سے شادی کرلی، اب اس کی لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
سوال:۔۔۔ ایک شخص کی عورت قادیانی ہوگئی اور قادیانی سے نکاح کرلیا، اس سے لڑکی پیدا ہوئی، اس لڑکی سے اس کی ماں کا پہلا خاوند نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ نہیں کرسکتا،لقولہ تعالٰی: ’’وَرَبَائِبُکُمُ الَّتِیْ فِیْ حُجُورِکُم مِّن نِّسَآئِکُمُ الَّتِیْ دَخَلْتُم بِہِنَّ‘‘
611
(النساء:۲۳)۔ قال فی الدر المختار: وبنت زوجتہ الموطوئۃ واُمّ زوجتہ وجداتھا مطلقًا (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۰۲، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۳۸۱)
غلام احمد قادیانی کو جو پیغمبر مانے وہ مرتد ہے، اس سے نکاح دُرست نہیں
سوال:۔۔۔ زوجین میں اس قسم کی گفتگو ہوئی، جس سے مرد پر قادیانی ہونے کا شبہ ہوتا ہے، مثلاً: یہ کہ مرد نے کہا کہ: ’’نبوّت ختم ہوچکی ہے یا نہیں؟‘‘ عورت نے کہا: ’’نبوّت ختم ہوچکی!‘‘ مرد نے کہا: ’’نہیں، ان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی بھی پیغمبر ہوا ہے۔‘‘
جواب:۔۔۔ الفاظ وکلماتِ مذکورہ کی وجہ سے معلوم ہوا کہ وہ مرد قادیانی ہے، اور قادیانی مرتد وکافر ہے، لہٰذا ان میں نکاح قائم نہیں رہا۔ عورت کو چاہئے کہ اس سے علیحدہ ہوجائے، اور اگر وہ اپنے عقائدِ باطلہ کفریہ سے توبہ کرے اور تجدیدِ اِیمان کرے تو اگر عورت راضی ہو تو اَزسرِنو ان میں نکاح ہونا ضروری ہے،(۱) (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۳۱۳، فصل فی المحرمات)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۷ ص:۴۵۴،۴۵۵)
قادیانی کا مسلمان عورت سے نکاح
سوال۱:۔۔۔ زید مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید ہوگیا ہے، اور اس کی بی بی اہلِ سنت کے عقیدے پر قائم ہے، اس صورت میں نکاح شرعاً قائم رہا یا نہیں؟
۲:۔۔۔ اور اہلِ سنت کے عقیدے والی صبیہ کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی عقیدہ والے کے ساتھ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب۱:۔۔۔ اس مرید سے پوچھنا چاہئے کہ وہ مرزا کے تمام اقوال کا معتقد ہے یا نہیں؟ اگر وہ اِقرار کرے کہ وہ تمام اقوال کا معتقد ہے تو یہ شخص مسلمان نہیں رہا، اور نکاح اس کا اہلِ سنت وجماعت بی بی سے باقی نہیں رہا۔ اور اگر وہ کہے کہ میں سب اقوال کا معتقد نہیں ہوں، تو اس سے پوچھنا چاہئے کہ کس کس قول کے معتقد نہیں ہو؟ اس کی تفصیل کے بعد اِستفتاء کرنا چاہئے۔
۲:۔۔۔ اگر اس شخص کے اِقرار سے اس کا تمام اقوالِ مرزائیہ کا معتقد ہونا ثابت ہو، تب تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا، اور اگر بعض کا معتقد ہو، بعض کا نہ ہو تو اس سے تفصیل پوچھ کر سوال کرنا چاہئے۔ اور اگر بالفرض اگر اس کا مسلم ہونا بھی ثابت ہوجائے تب بھی مبتدع اور ضال ہونے میں تو شبہ ہی نہیں، اس لئے ہر حال میں ولی گنہگار ہوگا، اگر اس شخص کے ساتھ نکاح کرے گا، لہٰذا اس ولی پر واجب ہے کہ قطعاً اِنکار کردے (نکاح سے پہلے)۔ فقط ۱۴؍صفر ۱۳۳۰ھ
(تتمہ اولیٰ ص:۹۰، اِمداد الفتاویٰ ج:۲ ص:۲۱۴،۲۱۵)
قادیانی میاں بیوی ایک ساتھ مسلمان ہوئے تو نکاح باقی رہے گا
سوال:۔۔۔ اگر دونوں اشخاص ساتھ ہی احمدی سے مسلمان ہوجائیں تو ان کے نکاح کے متعلق کیا حکم ہے؟
وحرم نکاح الوثنیۃ بالإجماع، وفی الفتح ویدخل فیہ عبدۃ الأوثان وعبدۃ الشمس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکل من مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۳۹۷، فصل فی المحرمات)۔
612
جواب:۔۔۔ اگر دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئے ہیں تو ان کا نکاح باقی بحالہٖ ہے، ورنہ فسخ ہوجائے گا (درمختار ج:۲ ص:۴۲۷، باب نکاح الکافر، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۲ ص:۴۰۴)
بیان مفتیٔ اعظم مفتی کفایت اللّٰہ دہلویؒ
بمقدمہ فسخِ نکاح بوجۂ اِرتداد
بند سوالات بنام گواہ نمبر۳ مفتی کفایت اللّٰہ مدرسہ امینیہ دہلی،
بمقدمہ حسین بی بی بنام خان محمد اَز ڈیرہ غازی خاں
سوال۱:۔۔۔ آپ کتنے عرصے سے حدیث، تفسیر وغیرہ علومِ عربیہ کا درس دیتے ہیں؟
جواب۱:۔۔۔ تقریباً اَڑتیس برس سے۔
سوال۲:۔۔۔ اِفتاء کا کام کتنے عرصے سے کرتے ہیں؟
جواب۲:۔۔۔ اسی قدر عرصے سے۔
سوال۳:۔۔۔ مفصل ذیل اُمور کی بابت بتلائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بانیٔ فرقہ احمدیہ کے عقائد وہی ہیں جو قرآن مجید واحادیثِ صحیحہ مشہورہ سے ثابت ہیں، اور جو معتمد مشاہیر علماء ومفتیانِ اسلام کا عقیدہ اب تک رہا ہے؟ اگر وہ نہیں تو مرزاقادیانی موصوف کا کیا عقیدہ تھا؟ اور ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص مسلمان ہے یا کافر؟ اپنے بیان میں قرآن مجید واحادیثِ صحیحہ وکتبِ عقائد وکتبِ جماعتِ احمدیہ کا جن پر آپ کے بیان کا اِنحصار ہو، حوالہ دیں۔
الف:۔۔۔ وجود و ذات وصفاتِ باری تعالیٰ۔
ب:۔۔۔ وجودِ ملائکہ۔
ج:۔۔۔ کتبِ سماویہ سابقہ وقرآن مجید۔
د:۔۔۔ قیامت۔
ہ:۔۔۔ انبیائے کرام، خصوصاً عیسیٰ اور محمد صاحب نبی کریم ۔۔۔علیہم الصلوٰۃ والسلام۔۔۔۔
و:۔۔۔ حیاتِ عیسیٰ۔
ز:۔۔۔ نبوّت ورِسالت کی تعریف۔
ح:۔۔۔ ختمِ نبوّت۔
نوٹ:۔۔۔ تمام سوالات میں الفاظ مرزاقادیانی سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی بانیٔ فرقہ احمدیہ ہے۔
جواب۳:۔۔۔ مرزاقادیانی کے بہت سے عقیدے قرآن مجید واحادیثِ صحیحہ وجمہور اُمتِ محمدیہ کے عقائد کے خلاف ہیں۔ مرزاقادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا اور ایسی باتیں کہیں جن سے انبیائے سابقین، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مرزاقادیانی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مرزاقادیانی کے کلام سے بعض پیغمبروں کی توہین بھی ثابت ہوتی ہے۔ مرزاقادیانی اپنے متبعین کے سوا
613
باقی تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبروں اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور قرآن پر اِیمان لانا بھی مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں رہا، جب تک مرزا غلام احمد پر اِیمان نہ لایا جائے۔ یہ اور اسی قسم کی وجوہ ہیں جن کی بنا پر مرزا غلام احمد کو جمہور علمائے اسلام خارج اَزاِسلام قرار دیتے ہیں۔
الف:۔۔۔ مرزا غلام احمد گو خدا کے وجود کے قائل ہیں، لیکن خدا کی صفات میں ان کی بہت سی تصریحات شریعت کی تعلیم سے باہر ہیں۔
ب:۔۔۔ ملائکہ کے وجود کے وہ اس طرح قائل نہیں، جس طرح کہ سلف صالحین اور جمہور اُمتِ محمدیہ کا عقیدہ ہے۔
ج:۔۔۔ اس کے متعلق میری نظر میں کوئی تصریح نہیں ہے۔
د:۔۔۔ قیامت کا بہ ظاہر اِقرار ہے۔
ہ:۔۔۔ انبیائے کرام ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ کے متعلق ان کے عقائد اور تصریحات جمہور اُمتِ محمدیہ کے خلاف موجود ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان کی تصریحات بہت گمراہ کن اور موجبِ توہین ہیں۔
و:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے وہ قائل نہیں، کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے، بلکہ ان کی قبر بھی کشمیر میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ز:۔۔۔ نبی اور رسول کی تعریفیں بھی وہ ایسی کرتے ہیں جس میں ان کی نبوّت کی گنجائش نکل سکے۔
ح:۔۔۔ ختمِ نبوّت کے وہ اس معنی میں قائل نہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔
سوال۴:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے دعویٰ نبوّتِ مطلقہ وتشریعیہ کیا؟ اور حضور خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مدعیٔ نبوّت کا کیا حکم ہے؟ اور علاوہ ازیں اور بھی مرزاقادیانی نے ایسے دعاوی کئے جن سے کفر لازم آئے؟ مثلاً: دعویٔ اُلوہیت ودعویٔ وحی جس کو قرآن کے برابر قرار دیا، ودعویٔ فضیلت اَز اَنبیاء۔ اور ایسے مدعی کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب۴:۔۔۔ مرزاقادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا ہے۔
(اس موقع پر گواہ نے کہا کہ بہت سے سوالات کے جوابات بہت طویل طویل ہوں گے اور کئی روز خرچ ہوں گے، اس لئے سو روپے ان کی فیس ہونی چاہئے، میں نے ان کو کہہ دیا ہے کہ وہ لکھ کر بھیج دیں)
بیان مولوی کفایت اللّٰہ باقرار صالح:
مرزاقادیانی کے دعوؤں میں نبوّتِ مطلقہ اور تشریعیہ دونوں کا دعویٰ موجود ہے، اور جو شخص کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ کافر ہے۔ مرزاقادیانی کے کلام میں ایسی باتیں موجود ہیں جن کی بنا پر ان کو خارج اَزاِسلام قرار دِیا جاتا ہے۔ مثلاً: وحی کا دعویٰ جو قرآن کے برابر درجہ رکھتی ہے، اور بعض انبیاء علیہم السلام کی توہین، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی برابری کا
614
دعویٰ۔ اور جو شخص کہ کسی نبی کی توہین کرے یا قرآن کے برابر وحی کا دعویٰ کرے یا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے برابری کا مدعی ہو، وہ کافر ہے۔
سوال۵:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی؟
جواب۵:۔۔۔ ہاں توہین کی ہے!
سوال۶:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے آنحضور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین کی؟
جواب۶:۔۔۔ مرزاقادیانی کے کلام سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین لازم آتی ہے، اور حضور کی برابری بلکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔
سوال۷:۔۔۔ جو شخص انبیائے کرام ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ کی توہین کرے، حقیقۃً یا اِلزاماً یا اِستہزائً، مسلمان ہے یا کافر؟ اس لحاظ سے مرزاقادیانی مسلمان تھے یا کافر؟
جواب۷:۔۔۔ جو شخص انبیاء کی توہین کرے یا اِستہزا کرے وہ کافر ہے، اس لحاظ سے مرزاقادیانی کافر تھے۔
سوال۸:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی اپنے منکر کو کافر کہتا تھا؟ یعنی ساری اُمت کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہتا تھا؟
جواب۸:۔۔۔ مرزاقادیانی کے کلام میں اس طرح کی تصریحات موجود ہیں کہ وہ اپنے متبعین کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو کافر کہتے تھے۔
سوال۹:۔۔۔ جو شخص مسلمان کو کافر کہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب۹:۔۔۔ جو شخص مسلمانوں کو اس بنا پر کافر کہے کہ وہ اس کے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے، حالانکہ اس کا دعویٰ ہی غلط وباطل ہے تو یہ شخص کافر ہے۔
سوال۱۰:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی کے اِلہامات اس قسم کے ہیں جس سے مرزاقادیانی پر کفر عائد ہوتا ہے؟ اور وہ کیا کیا ہیں؟
جواب۱۰:۔۔۔ مرزاقادیانی کے بہت سے اِلہامات اس قسم کے ہیں کہ ان پر کفر عائد ہوتا ہے جو ان کی کتابوں میں دیکھ کر بتائے جاسکتے ہیں، آئندہ تاریخ پر حوالے پیش کروں گا۔
سوال۱۱:۔۔۔ کیا انبیائے کرام صادق اور معصوم ہوتے ہیں؟ اور کیا مرزاقادیانی صادق اور معصوم تھے؟ اگر نہیں تو ان کے غیرمعصوم ہونے کے وجوہ بیان فرماویں۔
جواب۱۱:۔۔۔ انبیائے کرام یقینا صادق اور معصوم ہوتے ہیں، مرزاقادیانی نہ صادق تھے، نہ معصوم، ان کے کذب کے ثبوت کے لئے بہت سے شواہد ان کی کتابوں میں موجود ہیں، جو آئندہ پیش کروں گا۔
سوال۱۲:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق تمام مشاہیر علمائے اسلام نے بالاتفاق کفر کا فتویٰ دیا ہے یا نہیں؟
جواب۱۲:۔۔۔ مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کے متعلق عام طور پر علمائے اسلام نے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
615
سوال۱۳:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی دعویٔ نبوّت سے پیشتر ختمِ نبوّت مطلق یا تشریعی کے قائل تھے؟ اور منکرِ ختمِ نبوّت کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟
جواب۱۳:۔۔۔ مرزاقادیانی دعویٔ نبوّت سے پہلے ختمِ نبوّت کے قائل تھے، اور منکرِ ختمِ نبوّت باتفاقِ علماء کافر ہے۔(۱)
سوال۱۴:۔۔۔ مرزاقادیانی اور ان کی جماعت معجزاتِ انبیائے کرام کے قائل ہیں یا اِنکاری ہیں؟ اگر اِنکاری ہیں تو شرع میں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور کیوں؟
جواب۱۴:۔۔۔ مرزاقادیانی نے بہت سے معجزات کا اِنکار کیا ہے، اور ان کی صورتیں بدل دی ہیں، حالانکہ قرآن واحادیث کی تصریحات ان کی تأویلوں کی صراحۃً تردید کرتی ہیں، بلکہ بعض معجزات کا اِنکار اس پیرایہ میں کیا ہے، جس سے اصل معجزے کی تحریف اور اس کا اِستہزا لازم آتا ہے۔ جو شخص کہ معجزاتِ انبیاء کا اس طرح اِنکار کرے کہ اس سے اِستہزا پیدا ہوتا ہو، تو وہ اس بنا پر کافر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے متعلق اس کا عقیدہ اِنکار ثبوت کا مقتضی ہے یا قصداً انبیاء کا اِستہزا کرتا ہے۔
سوال۱۵:۔۔۔ مرزاقادیانی اِجماعِ اُمت کے اُصول کو تسلیم کرتے تھے یا اِنکار کرتے تھے؟
جواب۱۵:۔۔۔ مرزاقادیانی اِجماعِ اُمت کے اُصول کو عملاً تسلیم نہیں کرتے تھے۔
سوال۱۶:۔۔۔ اِجماعِ اُمت کے منکر کے متعلق اِسلام میں کیا حکم ہے؟
جواب۱۶:۔۔۔ اِجماعِ اُمت اگر حقیقی ہو تو اس کا منکر کافر ہوتا ہے۔
سوال۱۷:۔۔۔ اگر سوالاتِ مذکورہ کا حکم اِثبات میں ہو تو علمائے کرام کے فتوے اگر آپ کے پاس موجود ہوں تو پیش کریں۔
جواب۱۷:۔۔۔ اس اَمر پر فتوے عام ہندوستان میں شائع ہوچکے ہیں، میرے پاس کوئی نقل اس وقت موجود نہیں ہے، آئندہ پیش کروں گا۔
سوال۱۸:۔۔۔ اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی مؤرخہ یکم جنوری ۱۹۳۹ء کے صفحہ:۴ کالم نمبر۱ پر آپ کے نام سے جو فتویٰ نسبت نکاح اہلِ سنت والجماعت ومرزائی درج ہے دیکھ کر بتلائیں کہ یہ فتویٰ آپ نے دیا تھا؟
فتویٰ مولوی محمد یوسف مدرسہ امینیہ دہلی منسلکہ بندِ سوالات آپ نے پڑھا اور اس پر الجواب صحیح آپ کے تحریرکردہ ہیں، اور مہر دارالافتاء مدرسہ اسلامیہ دہلی کی ہے؟
جواب۱۸:۔۔۔ اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی مؤرخہ ۱؍۱؍۱۹۳۹ء کے صفحہ:۴ کالم نمبر۱ پر جو فتویٰ تحریر ہے اور جس پر نشان C1 کمشنر نے ڈالا ہے، صحیح ہے، اور میرا ہی دیا ہوا ہے۔
نوٹ:۔۔۔ ایسا کوئی فتویٰ جو مولوی محمد یوسف کا لکھا ہوا ہو، اور جس پر ’’الجواب صحیح‘‘ مولوی مفتی کفایت اللّٰہ صاحب نے لکھا ہو، اور دارالافتاء کی مہر ہو، شامل بندِ سوالات نہیں ہے۔
(۱) قال تعالٰی: ’’وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الأحزاب:۴۰) ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم کفرٌ بالإجماع۔ (شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲، طبع مجتبائی دھلی)۔
616
سوال۱۹:۔۔۔ احمدیہ یعنی مرزائی مرد اور غیراحمدی مسلمان عورت کے مابین نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب۱۹:۔۔۔ احمدی مرد اور غیراحمدی مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں ہے۔(۱)
سوالاتِ جرح
سوال۱:۔۔۔ سوال نمبر تین مندرجہ بندِ سوالات منجانب مدعیہ ’’الف‘‘ تا ’’ح‘‘ کے جوابات میں آپ نے اگر مرزاقادیانی کی کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے تو آپ بتلائیں کہ آپ نے وہ ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے؟ اور کیا اس کتاب میں اور مرزاقادیانی کی دیگر کتابوں میں جو تصریحات ان اُمور ۔۔۔مندرجہ ’’الف‘‘ تا ’’ح‘‘۔۔۔ کے متعلق ہیں، ان کو اپنے جوابات میں ملحوظ رکھا ہے؟
جواب۱:۔۔۔ سوال نمبر تین کے جواب میں، میں نے کسی مخصوص کتاب کا حوالہ نہیں دیا ہے، باقی حصے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، جو جواب دیا جائے، حوالجات آئندہ پیش کروں گا۔
سوال۲:۔۔۔ کیا آپ نے بانیٔ سلسلۂ احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جملہ تصانیف کو پڑھا ہے؟ اور آپ بتاسکتے ہیں جو مطبوعہ فہرستِ کتب سوالاتِ جرح ھٰذا کے ساتھ منسلک کی گئی ہے، اس میں مرزا قادیانی کی تصنیفات کے نام دُرست طور پر درج ہوئے ہیں؟ اگر آپ نے مرزاقادیانی کی تمام تصنیفات کو نہیں پڑھا تو جو تصنیفات مرزاقادیانی کی آپ نے اوّل سے لے کر آخر تک پڑھی ہیں، فہرست مطبوعہ کو دیکھ کر ان تصنیفات پر نشان مع دستخط خود لگادیں۔
جواب۲:۔۔۔ مرزاقادیانی کی جو تصنیفات میں نے پوری پڑھی ہیں، فہرست مطبوعہ میں ۔۔۔جس پر نشانA ڈالا گیا ہے۔۔۔ ان کے ناموں پر میں نے دستخط کردئیے ہیں، ان کے علاوہ ان کی بہت سی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔
سوال۳:۔۔۔ آپ نے جو عقائد مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کی طرف منسوب کئے ہیں، کیا ان عقائد اور مسائل کو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت تسلیم کرتی ہے؟ یا ان عقائد اور مسائل کو وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں رَدّ کرتے ہیں؟
جواب۳:۔۔۔ جو مسائل وعقائد میں نے مرزاقادیانی کی طرف منسوب کئے ہیں، ان کو مرزاقادیانی اور ان کی جماعت تسلیم کرتی ہے۔
سوال۴:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی کی کتابوں میں اللّٰہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی ذات اور اس کی صفات پر اور ملائکہ کے وجود اور صفات پر قرآن مجید اور دُوسری پہلی آسمانی کتابوں پر اور قیامت پر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور دیگر اَنبیاء کی نبوّت پر اپنا اِیمان ظاہر نہیں کیا گیا؟
جواب۴:۔۔۔ مرزاقادیانی کی تصنیفات میں ان چیزوں کا جن کا سوال میں ذِکر ہے، بیان ضرور آیا ہے، مگر ان کی حقیقت شرعی بہت سے مقامات میں بدل دی گئی ہے۔
(۱)فلا یجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولا ذمیۃ ولا حرۃ ولا مملوکۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۳ ص:۵۸۰)۔
617
سوال۵:۔۔۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ ایسا عقیدہ ہے کہ اس عقیدے کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں رہ سکتا؟
جواب۵:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ جمہور اہلِ اسلام کے نزدیک مُسلَّمہ عقیدہ ہے، اور جو شخص ان کی حیات کا عقیدہ نہ رکھے، وہ جمہور کے نزدیک اسلام سے خارج ہے۔(۱)
سوال۶:الف۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سرسیّد احمد خان بانیٔ علی گڑھ کالج اور ان کے معتقدین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں؟
جواب۶:الف۔۔۔ سیّد احمد خان یا ان کے متبعین کی وہ تصریحات سامنے لائی جائیں جس میں انہوں نے وفاتِ عیسیٰ کی تصریح کی ہو تو جواب دیا جاسکتا ہے۔
سوال۶:ب۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ شیخ محمد عبدہ مصری مرحوم جو ملکِ مصر کے مفتیٔ اعظم تھے ان کا اور ان کے معتقدوں کا بھی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔
جواب۶:ب۔۔۔ ایضاً۔
سوال۶:ج۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت اِمام مالکؒ اور اِمام ابنِ حزمؒ بھی وفاتِ عیسیٰ کے قائل تھے؟
جواب۶:ج۔۔۔ ان دونوں محترم اِماموں کی تصریح پیش کرنی چاہئے۔
سوال۶:د۔۔۔ کیا آپ نے سرسیّد احمد خاں کی تفسیر القرآن اور شیخ محمد عبدہ مصری مفتیٔ اعظم کی تفسیر جسے محمد رشید رضا ایڈیٹر المنار مصر نے شائع کیا ہے، پڑھی ہے؟
جواب۶:د۔۔۔ میں نے یہ دونوں تفسیریں پڑھی ہیں، مگر ان کا ایک ایک حرف نہیں پڑھا۔
سوال۶:ہ۔۔۔ کیا آپ نے مجمع بحار الانوار مصنفہ شیخ محمد طاہر گجراتی میں حضرت اِمام مالکؒ کا یہ مذہب پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں؟
جواب۶:ہ۔۔۔ مجمع البحار میں اِمام مالکؒ کا یہ قول مذکور ہونا مجھ کو یاد نہیں، ’’مالک‘‘ کا قول مذکور ہے، مگر ’’مالک‘‘ سے خدا جانے کون مراد ہے؟
سوال۶:و۔۔۔ کیا آپ نے اِمام ابنِ حزمؒ کی کتاب المحلّٰی پڑھی ہے، جو مصر سے چھپ کر شائع ہوئی ہے؟ کیا اس میں یہ مسئلہ درج ہے یا نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں؟
جواب۶:و۔۔۔ میں نے ’’المحلّٰی‘‘ پوری نہیں پڑھی، اور اس میں یہ قول میرے مطالعے میں نہیں آیا، بلکہ المحلّٰی جلد اوّل
(۱)قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا ۔۔۔۔۔۔۔ ثم یقول ابوھریرۃ: واقرؤُا إن شئتم: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِج وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیْداً (بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، باب نزول عیسٰی علیہ السلام)۔
أیضًا: فإن قیل فما الدلیل علٰی نزول عیسٰی علیہ السلام من القرآن؟ فالجواب: الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی: وَإِن مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِج ای حین ینزل ویجمعون علیہ۔ (الیواقیت والجواھر ص:۱۴۶، حصہ دوم، طبع مصر)۔
618
کی اِبتدا میں یہ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں۔(۱)
سوال۶:ح۔۔۔ آپ کے نزدیک سرسیّد احمد خاں، حضرت اِمام مالکؒ، حضرت اِمام ابنِ حزمؒ اور مفتی محمد عبدہ اور ان کے معتقدین مسلمان ہیں یا نہیں؟
جواب۶:ح۔۔۔ سرسیّد احمد خاں کے بہت سے عقائد جمہور علمائے اسلام کے خلاف ضرور ہیں، مگر ان پر تکفیر کا حکم کرنے میں اِحتیاط کی جاتی ہے، اور حضرت اِمام مالکؒ اہلِ سنت والجماعت کے مُسلَّم اِمام ہیں، اور ابنِ حزمؒ اور مفتی محمد عبدہ مصری کے متعلق بھی میرے علم میں کوئی وجۂ تکفیر نہیں ہے۔
سوال۷:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی شریعت کا آنا یا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کا منسوخ کیا جانا، یا اس کے بعض حصوں کا منسوخ کیا جانا، یا کسی ایسے نبی کا آجانا جو آپ کی اُمت سے باہر ہو، اور جس نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی سے تمام فیض حاصل نہ کیا ہو، اپنی کسی کتاب میں جائز لکھا ہے؟
جواب۷:۔۔۔ مرزاقادیانی نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا آنا جائز رکھا ہے، اور خود تشریعی نبوّت کا دعویٰ کرکے ثابت کیا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نئی شریعت آسکتی ہے، اور حکمِ جہاد کے خلاف اپنا کم دے کر یہ ثابت کردیا کہ مرزاقادیانی شریعتِ محمدیہ کے اَحکام کو منسوخ کرسکتے تھے۔
سوال۸:الف۔۔۔ اگر کسی کتاب میں مرزاقادیانی نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النّبیین نہیں ہیں یا آپ پر نبوّت ختم نہیں ہے، تو اس کا حوالہ دیں۔
جواب۸:الف۔۔۔ خاتم النّبیین کے معنی مرزاقادیانی نے ایسے بیان کردئیے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین بھی کہتے رہیں اور اپنی نبوّت بھی منوالیں۔ حوالہ جات آئندہ دُوں گا۔
سوال۸:ب۔۔۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتب میں قرآن مجید کی آیت خاتم النّبیین پر اپنا اِیمان ظاہر فرمایا ہے یا نہیں؟
جواب۸:ب۔۔۔ اسی طرح کا اِیمان ظاہر کیا ہے جو اُوپر لکھایا جاچکا ہے۔
سوال۸:ج۔۔۔ مرزاقادیانی ہر اس شخص کو جو حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہوکر اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کو چھوڑ کر دعویٔ نبوّت کرے، اسے ملعون سمجھتے ہیں یا نہ؟
جواب۸:ج۔۔۔ صرف یہی کافی نہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت سے باہر ہوکر جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے
(۱)إلَّا أنّ عیسی ابن مریم علیہ السلام سینزل وقد کان قبلہ علیہ السلام أنبیاء، ۔۔۔إلخ۔ (المحلّٰی لابن حزم ج:۱ ص:۹، التوحید، رقم المسألۃ:۱۲، طبع دار الآفاق الجدیدۃ)۔ وأنہ علیہ السلام خاتم النبیین لا نبی بعدہ، برھان ذالک قول ﷲ تعالٰی: مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: إنّ النبوۃ والرسالۃ قد انقطعت ۔۔۔۔إلخ۔ (المحلّٰی ج:۱ ص:۹، رقم المسألۃ:۱۱، طبع دار الآفاق الجدیدۃ، بیروت)۔
619
وہی ملعون ہے، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص بھی نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ ملعون ہے، اور یہ بات مرزاقادیانی نے تسلیم کی ہے۔
سوال۹:اے۔۔۔ نبوّتِ مطلقہ اور نبوّتِ تشریعی سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب۹:اے۔۔۔ نبوّتِ مطلقہ سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کو حضرت حق سبحانہ‘ وتعالیٰ کی طرف سے منصبِ نبوّت عطا کیا جائے، خواہ اس کو جدید شریعت دی جائے یا نہ دی جائے، اور تشریعی نبوّت سے یہ مراد ہے کہ منصبِ نبوّت کے ساتھ اس کو جدید شریعت بھی عطا کی جائے۔
سوال۹:بی۔۔۔ کیا کسی ایسے نبی کا نام آپ بتاسکتے ہیں جس نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پیرو اور آپ کی شریعت کے تابع ہوں، اور پھر اس کی نسبت یہ فتویٰ دیا گیا ہو جو آپ نے بیان کیا ہے؟
جواب۹:بی۔۔۔ ایسے نبی بھی ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِنکار نہیں کیا، مگر آپ کے بعد اپنی نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، اور وہ کافر قرار دئیے گئے ہیں، جن میں سے ایک شخص ’’اخرس‘‘ کا واقعہ مشہور ہے۔(۱)
(۱) اس واقعے کی تفصیل یہ ہے: اسحاق اخرس مغربی:۔۔۔ اسحاق اخرس ملکِ مغرب کا رہنے والا تھا۔ اہلِ عرب کی اصطلاح میں مغرب شمالی افریقہ کے اس حصے کا نام ہے جس میں مراکش، تونس، الجزائر وغیرہ ممالک داخل ہیں۔ اسحاق ۱۳۵ھ میں اصفہان میں ظاہر ہوا۔ ان ایام میں ممالکِ اسلامیہ پر خلیفہ سفاح عباسی کا پرچمِ اقبال لہرارہا تھا۔ اہلِ سیر نے اس کی دُکان آرائی کی کیفیت اس طرح لکھی ہے کہ پہلے اس نے صحفِ آسمانی: قرآن، توراۃ، اِنجیل اور زَبور کی تعلیم حاصل کی، پھر جمیع علوم رسمیہ کی تکمیل کی۔ زمانۂ دراز تک مختلف زبانیں سیکھتا رہا، مختلف قسم کی صناعیوں اور شعبدہ بازیوں میں مہارت پیدا کی اور ہر طرح سے باکمال اور بالغ النظر ہوکر اصفہان آیا۔ کامل دس سال تک گونگا بنارہا:۔۔۔ اصفہان پہنچ کر ایک عربی مدرسہ میں قیام کیا اور یہیں کی ایک تنگ وتاریک کوٹھری میں کامل دس سال تک کنج عزلت میں پڑا رہا۔ یہاں اس نے اپنی زبان پر ایسی مہرِسکوت لگائے رکھی کہ ہر شخص اسے گونگا یقین کرتا رہا۔ اس شخص نے اپنی نام نہاد جہالت و بے علمی اور تصنع آمیز عدمِ گویائی کو اس ثبات واِستقلال کے ساتھ نباہا کہ دس سال کی طویل مدّت میں کسی کو وہم وگمان تک نہ ہوا کہ اس کی زبان کو بھی قوّتِ گویائی سے کچھ حصہ ملا ہے۔ یا یہ شخص ایک علامہ دہر اور یکتائے روزگار ہے۔ اسی بنا پر اخرس یعنی گونگے کے لقب سے مشہور ہوگیا، ہمیشہ اشاروں سے اِظہارِ مدعا کرتا۔ ہر شخص سے اس کا رابطہ مودّت وشناسائی قائم تھا، کوئی بڑا چھوٹا ایسا نہ ہوگا جو اس کے ساتھ اِشاروں کنایوں سے تھوڑا بہت مذاق کرکے تفریحِ طبع نہ کرلیتا ہو۔ اتنی صبرآزما مدّت گزار لینے کے بعد آخر وہ وقت آگیا جب وہ مہرِسکوت توڑدے اور کشور قلوب پر اپنی قابلیت اور نطق وگویائی کا سکہ بٹھادے۔ اس نے نہایت رازداری کے ساتھ ایک نہایت نفیس قسم کا روغن تیار کیا، اس روغن میں یہ صنعت تھی کہ اگر کوئی شخص اسے چہرے پر مل لے تو اس درجہ حسن وتجلی پیدا ہو کہ کوئی شخص شدّتِ انوار سے اس کے نورانی طلعت کے دیکھنے کی تاب نہ لاسکے۔ اس طرح اس نے خاص قسم کی دورنگ دار شمعیں بھی تیار کرلیں۔ اس کے بعد ایک رات جبکہ تمام لوگ محوِ خواب واِستراحت تھے، اس نے وہ روغن اپنے چہرے پر ملا اور شمعیں جلاکر سامنے رکھ دیں، ان کی روشنی میں چہرے میں ایسی رعنائی، دلفریبی اور چمک دمک پیدا ہوئی کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ اس کے بعد اس نے اس زور سے چیخنا شروع کیا کہ مدرسہ کے تمام مکین جاگ اُٹھے، جب لوگ اس کے پاس آئے تو اُٹھ کر نماز میں مشغول ہوگیا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ بآوازِ بلند قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی عش عش کر گئے۔ صدر المدرّسین اور قاضیٔ شہر کی بدحواسی:۔۔۔ جب مدرسے کے معلّمین اور طلبہ نے دیکھا کہ مادرزاد گونگا باتیں کر رہا ہے اور قوّتِ گویائی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
620
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔ اسے اعلیٰ درجے کی فصاحت اور فنِ قرائۃ وتجوید کا کمال بھی بخشا گیا ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا چہرہ ایسا درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہرسکتی تو لوگ سخت حیرت زدہ ہوئے۔ خصوصاً صدر مدرّس صاحب تو بالکل قوائے عقلیہ کھوبیٹھے۔ صدر مدرّس صاحب جس درجہ علم وعمل اور صلاح وتقویٰ میں عدیم المثال تھے، اسی قدر اہلِ زمانہ کی عیاریوں سے ناآشنا اور نہایت سادہ لوح واقع ہوئے تھے، وہ بڑی خوش اعتقادی سے فرمانے لگے: کیا اچھا ہو اگر عمائدِ شہر بھی خدائے قادر وتوانا کے اس کرشمۂ قدرت کا مشاہدہ کرسکیں۔ اب اہلِ مدرسہ نے صدر مدرّس صاحب کی قیادت میں اس غرض سے شہر کا رُخ کیا کہ اعیانِ شہر کو بھی خداوندِعالم کی قدرتِ قاہرہ کا یہ جلوہ دِکھائیں۔ شہرپناہ کے دروازے پر آئے تو اس کو مقفل پایا، چابی حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے، ان لوگوں پر خوش اِعتقادی اور گرم جوشی کا بھوت اس درجہ سوار تھا کہ شہر کا مقفل دروازہ اور اس کی سنگین دیواریں بھی ان کی راہ میں حائل نہ رہ سکیں، کسی نہ کسی تدبیر سے شہر میں داخل ہوگئے۔ اب صدر مدرّس صاحب تو آگے آگے جارہے تھے، اور دُوسرے مولوی صاحبان اور ان کے تلامذہ پیچھے پیچھے۔ سب سے پہلے قاضیٔ شہر کے مکان پر پہنچے، قاضی صاحب رات کے وقت اس غیرمعمولی ازدحام اور اس کی شور وپکار سن کر مضطربانہ گھر سے نکلے اور ماجرا دریافت فرمایا۔ بدنصیبی سے قاضی صاحب بھی پیرایہ حزم ودُوراندیشی سے عاری تھی، انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سب مجمع کو ساتھ لے کر جھٹ وزیراعظم کے دَرِدولت پر جاپہنچے اور دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا۔ وزیر باتدبیر نے ان کی رام کہانی سن کر کہا کہ بھی رات کا وقت ہے، آپ لوگ جاکر اپنی اپنی جگہ آرام کریں، دن کو دیکھا جائے گا کہ ایسی بزرگ ہستی کی عظمتِ شان کے مطابق کیا کارروائی مناسب ہوگی؟ غرض! شہر میں ہلڑمچ گیا، باوجود ظلمتِ شب کے لوگ جوق درجوق چلے آرہے تھے اور خوش اِعتقادوں نے ایک ہنگامہ برپا کررکھا تھا۔ قاضی صاحب چند رُؤسائے شہر کو ساتھ لے کر اس بزرگ ہستی کا جمال مبارک دیکھنے کے لئے مدرسے میں آئے، مگر دروازے کو مقفل پایا، اسحاق اندر ہی براجمان تھا، قاضی صاحب نے نیچے سے پکارکر کہا: حضرتِ والا! آپ کو اسی خدائے ذُوالجلال کی قسم! جس نے آپ کو اس کرامت اور منصبِ جلیل سے نوازا، ذرا دروازہ کھولیے اور مشتاقانِ جمال کو شرفِ دیدار سے مشرّف فرمائیے۔ یہ سن کر اِسحاق بول اُٹھا: اے قفل! کھل جا۔ اور ساتھ ہی کسی حکمتِ عملی سے کنجی کے بغیر قفل کھول دیا۔ قفل کے گرنے کی آواز سن کر لوگوں کی خوش اِعتقادی اور بھی دوآتشہ ہوگئی، لوگ بزرگ کے رُعب سے ترساں ولرزاں تھے، دروازہ کھلنے پر سب لوگ اِسحاق کے رُوبرو نہایت مؤدّب ہوکر جابیٹھے۔ قاضی صاحب نے نیازمندانہ لہجے میں اِلتماس کی کہ: حضورِوالا! سارا شہر اس قدرتِ خداوندی پر متحیر ہے، اگر حقیقتِ حال کا چہرہ کسی قدر بے نقاب فرمایا جائے تو بڑی نوازش ہوگی۔ اِسحاق کی ظلّی بروزی نبوّت:۔۔۔ اِسحاق جو اس وقت کا پہلے سے منتظر تھا، نہایت ریاکارانہ لہجے میں بولا کہ: چالیس روز پیشتر ہی فیضان کے کچھ آثار نظر آنے لگے تھے، آخر دن بدن اِلقائے ربانی کا سرچشمہ دِل میں موجیں مارنے لگا، حتیٰ کہ آج رات خدائے قدوس نے اپنے فضلِ مخصوص سے اس عاجز پر علم وعمل کی وہ وہ راہیں کھول دیں کہ مجھ سے پہلے لاکھوں رہروانِ منزل اس کے خیال اور تصوّر سے بھی محروم رہے تھے، اور وہ وہ اَسرار وحقائق منکشف فرمائے کہ جن کا زبان پر لانا مذہبِ طریقت میں ممنوع ہے۔ البتہ مختصراً اتنا کہنے کا مجاز ہوں کہ آج رات دو فرشتے حوضِ کوثر کا پانی لے کر میرے پاس آئے، مجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور کہنے لگے: السلام علیک یا نبی اللّٰہ! مجھے جواب میں تأمل ہوا، اور گھبرایا کہ واللّٰہ اعلم! یہ کیا اِبتلا ہے؟ ایک فرشتہ بزبانِ فصیح یوں گویا ہوا: ’’یا نبی ﷲ! افتح فاک باسم ﷲ الأزلی!‘‘ (اے اللّٰہ کے نبی! بسم اللّٰہ کہہ کر ذرا منہ تو کھولئے)۔ میں نے منہ کھول دیا اور دِل میں بسم اللّٰہ الازلی کا وِرد کرتا رہا۔ فرشتے نے ایک سفید سی چیز میرے منہ میں رکھ دی، یہ تو معلوم نہیں کہ وہ چیز کیا تھی؟ البتہ اتنا جانتا ہوں کہ وہ شہد سے زیادہ شیریں، مشک سے زیادہ خوشبو اور برف سے زیادہ سرد تھی۔ اس نعمتِ خداوندی کا حلق سے نیچے اُترنا تھا کہ میری زبان گویا ہوگئی اور میرے منہ سے یہ کلمہ نکلا: ’’أشھد أن لَّا إلٰہ إلَّا ﷲ وأشھد أنّ محمدًا رسول ﷲ‘‘ یہ سن کر فرشتوں نے کہا: محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرح تم بھی رسول اللّٰہ ہو۔ میں نے کہا: میرے دوستو! تم یہ کیسی بات کہہ رہے ہو؟ مجھے اس سے سخت حیرت ہے، بلکہ میں تو عرقِ خجالت میں ڈُوبا جاتا ہوں۔ فرشتے کہنے لگے: خدائے قدوس نے تمہیں اس قوم کے لئے نبی مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جنابِ باری نے تو سیّدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام رُوحی فداہ کو خاتم الانبیاء قرار دیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
621
سوال۹:سی۔۔۔ کیا آپ قرآن مجید کی کسی آیت سے دِکھاسکتے ہیں جس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی پیروی کرتے ہوئے اور آپ کی شریعت کے تابع رہتے ہوئے آپ کی اُمت میں سے کوئی شخص درجہ
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ کی ذاتِ اقدس پر نبوّت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا، اب میری نبوّت کیا معنی رکھتی ہے؟ کہنے لگے: دُرست ہے، مگر محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری بالتبع اور ظلّی وبروزی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے اِنقطاعِ نبوّت کے بعد ظلّی بروزی نبوّت کا ڈھکوسلہ اسی اِسحاق سے اُڑایا ہے، ورنہ قرآن وحدیث اور اَقوالِ سلف صالح میں اس چیز کا کہیں وجود نہیں، بلکہ خود شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو اَمرِ خلافت میں جناب ہارون علیہ السلام سے جو ایک غیرشرعی اور تابع نبی تھے، تشبیہ دے کر آئندہ کے لئے ہر قسم کی نبوّت کا خاتمہ کردیا، اب ظلّی بروزی نبوتوں کا افسانہ محض شیطانی اغوا ہے! اِسحاق کے معجزاتِ باہرہ:۔۔۔ اس کے بعد اِسحاق نے حاضرین سے بیان کیا کہ جب ملائکہ نے مجھے ظلّی بروزی نبوّت کا منصب تفویض فرمایا تو میں اپنی معذوری ظاہر کرنے لگا اور کہا: دوستو! میرے لئے نبوّت کا دعویٰ بہت سی مشکلات سے لبریز ہے، کیونکہ بوجہ معجزہ نہ رکھنے کے کوئی شخص میری تصدیق نہ کرے گا۔ فرشتوں نے کہا: وہ قادرِ مطلق جس نے تمہیں گونگا پیدا کرکے متکلم اور فصیح وبلیغ بنادیا وہ خود لوگوں کے دِلوں میں تمہاری تصدیق کا جذبہ پیدا کرے گا، یہاں تک کہ زمین وآسمان تمہاری تصدیق کے لئے کھڑے ہوجائیں گے۔ لیکن میں نے ایسی خشک نبوّت کے قبول کرنے سے اِنکار کیا اور اس بات پر مصر ہوا کہ کوئی نہ کوئی معجزہ ضرور چاہئے۔ جب میرا اِصرار حد سے گزرگیا تو فرشتے کہنے لگے: اچھا معجزات بھی لیجئے! جتنی آسمانی کتابیں انبیاء پر نازل ہوئیں، تمہیں ان سب کا علم دیا گیا، مزید براں کئی ایک زبانیں اور کئی قسم کے رسم الخط تمہیں عطا کئے۔ اس کے بعد فرشتے کہنے لگے کہ: قرآن پڑھو! میں نے جس ترتیب سے قرآن نازل ہوا تھا پڑھ کر سنادیا۔ اِنجیل پڑھوائی، وہ بھی سنادی، پھر توراۃ، زَبور اور دُوسرے آسمانی صحیفے پڑھنے کو کہا، وہ بھی سب سنادئیے۔ مگر میرے قلبِ منوّر پر جو اِن کتبِ مقدسہ کا اِلقا ہوا تو اس میں کسی تحریف، تصحیف اور اِختلافِ قراء ت کا کوئی شائبہ نہ تھا، بلکہ جس طرح ان کی تنزیل ہوئی تھی، اسی طرح یہ بے کم وکاست میرے دِل پر اِلقا کی گئیں، چنانچہ فرشتوں نے فوراً اس کی تصدیق کردی۔ ملائکہ نے صحفِ سماویہ کی قراء ت سن کر مجھ سے کہا: ’’قم انذر الناس!‘‘ (اب کمر باندھ لو اور لوگوں کو غضبِ اِلٰہی سے ڈراؤ)۔ یہ کہہ کر فرشتے رُخصت ہوگئے اور میں جھٹ نماز اور ذِکرِاِلٰہی میں مصروف ہوگیا۔ آج رات سے جن انوار وتجلیات کا میرے دِل پر ہجوم ہے، زبان اس کی شرح سے قاصر ہے، غالباً ان انوار کے کچھ آثار میرے چہرے پر بھی نمایاں ہوگئے ہوں گے۔ یہ تو میری سرگزشت تھی، اب میں تم لوگوں کو متنبہ کردینا چاہتا ہوں کہ جو شخص خدا پر، محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اور مجھ پر اِیمان لایا، اس نے فلاح ورستگاری پائی، اور جس نے میری نبوّت سے اِنکار کیا، اس نے سیّدنا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کو بیکار کردیا، ایسا منکر ابدالآباد جہنم کا ایندھن بنا رہے گا۔ عساکرِ خلافت سے معرکہ آرائیاں:۔۔۔ عوام کا معمول ہے کہ جونہی نفسِ امّارہ کے کسی پجاری نے اپنے دجالی تقدس کی ڈفلی بجانی شروع کی، اس پر پروانہ وار گرنے لگے۔ اِسحاق کی تقریر سن کر عوام کا پائے اِیمان ڈگمگاگیا اور ہزارہا آدمی نقدِ اِیمان اس کی نذر کر بیٹھے، اور جن لوگوں کا دِل نورِ اِیمان سے متجلی تھا، وہ بیزار ہوکر چلے گئے۔ حاملینِ شریعت نے گم کردگانِ راہ کو بہتیرا سمجھایا کہ اَخرس دجال کذّاب اور رہزنِ دین واِیمان ہے، لیکن عقیدت مندوں کی خوش اِعتقادی میں ذرا فرق نہ آیا، بلکہ جوںجوں علمائے حق انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے، ان کا جنونِ خوش اِعتقادی اور زیادہ بڑھتا تھا۔ آخر اس شخص کی قوّت اور جمعیت یہاں تک ترقی کرگئی کہ اس کے دِل میں ملک گیری کی ہوس پیدا ہوئی۔ چنانچہ خلیفہ ابوجعفر منصور عباسی کے عمال کو مقہور ومغلوب کرکے بصرہ، عمان اور ان کے توابع پر قبضہ کرلیا، بڑے بڑے معرکے ہوئے، آخر عساکرِ خلافت مظفر ومنصور ہوئے اور اِسحاق مارا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیرو اَب تک عمان میں پائے جاتے ہیں۔ (کتاب الاذکیاء، الشیخ ابن الجوزی، وکتاب المختار وکشف الاسرار، العلامہ عبدالرحمن بن ابی بکر الدمشقی المعروف بالجویری، بحوالہ اَئمۂ تلبیس ص:۱۶۱ تا ۱۶۵)
622
نبوّت تابع آنحضرت نہیں پاسکتا؟
جواب۹:سی۔۔۔ قرآن شریف کی آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ ہی اس معنی کے لئے نصِ صریح ہے کہ اس میں تمام انبیاء کا خاتم حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو قرار دِیا گیا ہے، اور تشریعی وغیرتشریعی نبوّت کا فرق نہیں کیا گیا۔
سوال۹:ڈی۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ شیخ اکبر محی الدین ابن العربی رحمہ اللّٰہ نے کتاب ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ میں یہ تحریر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نبوّت کے ختم ہونے اور آپ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کے یہ معنی ہیں کہ ایسی نبوّت اور ایسا نبی نہ ہوگا جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے، یا آپ کی شریعت کے خلاف کوئی شریعت لائے؟ اور شیخ اکبرؒ موصوف نے کیا اپنی کتابِ مذکورہ میں یہ تحریر نہیں کیا کہ غیرتشریعی نبوّت بند نہیں ہے؟
جواب۹:ڈی۔۔۔ شیخ اکبرؒ کی کوئی عبارت اس مطلب میں صریح نہیں ہے۔
سوال۹:ای۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ علی بن محمد سلطان القاری رحمہ اللّٰہ جو ’’مُلَّا علی قاری‘‘ کے نام سے مشہور ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ’’موضوعاتِ کبیر‘‘ میں لکھا ہے کہ آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے مذہب کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت سے نہ ہو۔
جواب۹:ای۔۔۔ مُلَّا علی قاریؒ کی عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کو جائز سمجھتے ہوں۔(۱)
سوال۹:ایف۔۔۔ کیا مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم نانوتوی بانیٔ مدرسہ دیوبند نے اپنی کتاب ’’تحذیرالناس‘‘ میں یہ لکھا ہے کہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبی کوئی نبی پیدا ہوا تو پھر بھی خاتمیت نبوّتِ محمد ۔۔۔صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ میں کوئی فرق نہیں آئے گا؟
جواب۹:ایف۔۔۔ مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی کتاب ’’تحذیرالناس‘‘ کی عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آپ کی اُمت میں سے آسکتا ہے۔
سوال۹:جی۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ مولانا ابوالحسنات محمد عبدالحی لکھنوی مرحوم نے اپنے رسالے موسومہ ’’دافع الوسواس فی اثر ابنِ عباس‘‘ میں لکھا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں، بلکہ صاحبِ شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے؟
جواب۹:جی۔۔۔ مولانا عبدالحی صاحبؒ کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوّت عطا ہوسکتا ہے۔
سوال۹:ایچ۔۔۔ کیا آپ نے تکملہ مجمع بحار الانوار مصنفہ شیخ محمد طاہر گجراتی پڑھا ہے؟ جس میں حضرت عائشہؓکا یہ قول
(۱)قلت: ومع ھٰذا لو عاش إبراھیم وصار نبیًّا وکذا لو صار عمر نبیًّا لکان من اتباعہ علیہ السلام کعیسٰی والخضر وإلیاس علیھم السلام، فلا یناقض قولہ تعالٰی: ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ إذا المعنی أنہ لا یأتی نبی بعدہ ینسخ ملّتہ ولم یکن من اُمّتہ ویقوی حدیث: لو کان موسٰی حیًّا لما وسعی إلَّا اتباعی۔ (موضوعات کبیر للقاری ص:۵۸،۵۹، حرف الکاف، طبع المکتبۃ المظھریۃ، کراچی)۔
623
درج ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہو، اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں؟
جواب۹:ایچ۔۔۔ حضرت عائشہؓ کا یہ قول میں نے پڑھا ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی جو کہ پہلے کا نبی ہو، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا محال نہیں۔(۱)
سوال۹:آئی۔۔۔ قرآن مجید کی آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کس سن میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی؟ اور کیا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرزند اِبراہیمؓ نے وفات پائی تھی؟ اس وقت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ: اگر میرا بیٹا اِبراہیم زِندہ رہتا تو نبی ہوتا۔
جواب۹:آئی۔۔۔ اگر آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ نازل ہوچکی تھی اور اس کے بعد میں حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ: ’’لو عاش إبراھیم لکان نبیًّا‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یہ بتلانا تھا کہ چونکہ میرے بعد نبوّت نہیں ہوسکتی تھی، اس لئے تقدیرِ اِلٰہی یہی تھی کہ میرا بیٹا زِندہ نہ رہے۔
سوال۱۰:۔۔۔ عربی محاورہ خاتم المحدثین، خاتم المفسرین، خاتم الاولیاء، خاتم الفقہاء کے کیا معنی ہوتے ہیں؟
جواب۱۰:۔۔۔ اس لفظ کے تو یہی معنی ہوتے ہیں کہ جس کو ’’خاتم الفقہاء‘‘ کہا جائے، وہ گویا آخری فقیہ ہو، جس کو ’’خاتم المفسرین‘‘ کہا جائے وہ آخری مفسر ہو۔ مگر اس کا اِطلاق مبالغۃً یا مجازاً کسی بڑے فقیہ یا مفسر پر کردیا جاتا ہے، گو اس کے بعد اور فقیہ ومفسر پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ’’خاتم النّبیین‘‘ کا اِطلاع آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر مبالغۃً یا مجازاً نہیں کیا گیا ہے، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حقیقی اور واقعی طور پر خاتم ہیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
سوال۱۱:۔۔۔ کیا آپ نے کتاب ’’کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق‘‘ مصنفہ اِمام منادیؒ پڑھی ہے؟ اور اس میں یہ حدیث دیکھی ہے کہ: ’’ابوبکر أفضل ھٰذہ الاُمَّۃ إلَّا ان یکون نبی‘‘ ان الفاظ کا اُردو ترجمہ کردیجئے۔
جواب۱۱:۔۔۔ اس کتاب کو میں نے دیکھا ہے، اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ابوبکرؓ اس اُمت میں سب سے افضل ہیں، مگر نبی نہیں۔ یہ جبکہ لفظ ’’نبیًّا‘‘ ہو، اور اگر ’’نبیٌّ‘‘ ہو تو پھر حدیث کی صحیح عبارت وہ ہے جو جامع صغیر میں ہے، یعنی: ’’ابوبکر افضل الناس إلَّا ان یکون نبیٌّ‘‘ یعنی نبیوں کے سوا ابوبکرؓ تمام لوگوں سے افضل ہیں۔
سوال۱۲:۔۔۔ آپ کے نزدیک شیخ محی الدین ابنِ عربی،ؒ علی بن سلطان القاریؒ، مولوی محمد قاسم دیوبندیؒ، مولوی عبدالحی لکھنویؒ، شیخ محمد طاہر گجراتیؒ کس درجے کے مسلمان تھے؟
جواب۱۲:۔۔۔ یہ سب عالم اور بزرگ مسلمان تھے۔
سوال۱۳:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے کسی جگہ اپنا یہ عقیدہ ظاہر فرمایا ہے کہ میں تمام انبیاء سے افضل ہوں؟
جواب۱۳:۔۔۔ ہاں! مرزاقادیانی نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں جن سے یہ مطلب سمجھا جاتا ہے، مثلاً: ان کا اپنا شعر ہے:
(۱)عن عائشۃ رضی ﷲ عنھا: قولوا: إنہ خاتم الأنبیاء، ولا تقولوا: لا نبی بعدہ، وھٰذا ناظر إلٰی نزول عیسٰی۔ (مجمع بحار الأنوار مع التکملۃ ج:۵ ص:۴۶۴، طبع دائرۃ المعارف العثمانیۃ، دکن ھند)۔
624
آنچہ را دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرابہ تمام
(دُرّثمین ص:۱۷۱، نزولِ مسیح ص:۹۹، خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
اور ان کا دُوسرا شعر ہے:
لہ خسف القمر المنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر
(اعجازِ احمدی ص:۷۱، خزائن ج:۱۹ ص:۱۸۳)
یعنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے تو صرف چاند گرہن ہوا، اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں پر گرہن پڑا۔ مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت کی نشانی کے طور پر تو صرف چاند گرہن کا ظہور ہوا، اور میری (نبوّت کی) نشانی کے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا۔
اور مرزاقادیانی لکھتا ہے:
’’ہمارے نبی کریم کی رُوحانیت نے پانچویں ہزار میں اِجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس رُوحانیت کی ترقیات کا اِنتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر اس رُوحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۶۶، خزائن ج:۱۶ ص:۲۶۶)
ایک اور جگہ لکھتا ہے:
’’غرض اس زمانے کا نام جس میں ہم ہیں زمان البرکات ہے، لیکن ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا۔‘‘
(اِشتہار منارۃ المسیح مرزاقادیانی مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۰ء مندرجہ تبلیغِ رسالت ج:۹ ص:۴۴، حاشیہ مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۹۲)
نیز مرزاقادیانی کہتا ہے:
’’اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجامِ کار آخر زمانے میں بدر ہوجائے خداتعالیٰ کے حکم سے، پس خداتعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اِختیار کرے جو شمار کی رُو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔ پس انہیں معنوں کی طرف اِشارہ ہے خداتعالیٰ کے اس قول میں کہ:لَقَدْ نَصَرَکُمُ ﷲُ بِبَدْر۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۷۵،۲۷۶، خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۵،۲۷۶)
ان عبارتوں کا اور ان کے علاوہ ان کی بیسیوں عبارتوں کا مطلب صاف ہے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی
625
رُوحانی ترقیات کا اِنتہائی زمانہ نہ تھا، بلکہ اِبتدائی زمانہ تھا، اور مرزاقادیانی کے ذریعے سے وہ معراجِ کمال پر پہنچا، یعنی مرزاقادیانی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ اور افضل واکمل ہیں، اور جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہوئے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام انبیاء سے افضل واکمل ہوئے۔
سوال۱۴:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ نہیں لکھا کہ میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا غلام اور آپ کا اُمتی اور آپ کی شریعت کا متبع ہوں؟
جواب۱۴:۔۔۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے، اور اس کے خلاف یہ بھی لکھا ہے جو نمبر۱۳ کے جواب میں، میں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم رُوحانی ترقی کے پہلے قدم پر تھے، اور مرزاقادیانی معراجِ کمال پر۔۔۔!
جب مسلمان، مرزاقادیانی پر اِعتراض کرتے کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد تم نبی کیسے ہوگئے؟ تو ان سے جان بچانے کے لئے وہ کہہ دیا کرتے تھے کہ میں تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا غلام اور اُمتی ہوں، اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِتباع کی بدولت مجھ کو نبوّت ملی ہے۔ اور جب اپنی تعلّی میں آتے تو پھر صاحبِ وحی اور صاحبِ شریعت نبی بننے کے لئے مضامین کا طوفان برپا کردیتے۔
سوال۱۵:۔۔۔ قرآن شریف کی رُو سے کسی نبی کو دُوسرے نبی پر فضیلت ہوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب۱۵:۔۔۔ قرآن شریف میں ہے: ’’تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ‘‘(البقرۃ:۲۵۳)۔
سوال۱۶:۔۔۔ کیا آپ کے نزدیک مہدیٔ معہود اور مسیحِ موعود کا درجہ عام اُمتیوں کے برابر ہے؟
جواب۱۶:۔۔۔ مہدیٔ موعود اور مسیحِ معہود کا رُتبہ بہت بڑا ہے، کیونکہ مسلمان تو حضرت مسیحِ موعود کو وہی نبی عیسیٰ بن مریم ۔۔۔علیہ الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ مانتے ہیں جو بنی اِسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور ان کی نبوّت کا دور ختم ہوگیا، اب وہ اس اُمت میں بطور ایک خلیفہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبعوث ہوں گے، یہ بعثت، بعثتِ نبوّت نہ ہوگی، اور نہ وہ نبوّتِ سابقہ سے معزول ہوں گے، بلکہ ان کی نبوّت کا دور ختم ہوچکا ہے، اس لئے وہ بحیثیت نبی مبعوث نہ ہوں گے، بلکہ اس اُمت میں خلیفۂ خاتم المرسلین ہوں گے، جو پہلے اپنی اُمت میں نبی تھے۔ اور مہدیٔ موعود بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور ولیٔ کامل ہوں گے۔ اور یہ دونوں علیحدہ علیحدہ شخص ہوں گے۔
سوال۱۷:۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ شیعوں کے نزدیک شیعہ مذہب کے بارہ اِمام آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء سے افضل ہیں؟
جواب۱۷:۔۔۔ اگر ان میں سے غالی فرقوں کا یہ عقیدہ ہو تو ان کی گمراہی اور ضلالت کا نتیجہ ہوگا۔
سوال۱۸:۔۔۔ اگر آپ کے پاس کتاب بحار الانوار جلد نمبر۷ مصنفہ محمد باقر مجلسی مطبوعہ اِیران موجود ہے تو اس کے صفحہ:۳۴۵ ’’باب تفضیلھم علی الأنبیاء وعلٰی جمیع الخلق‘‘ کو دیکھ کر بتلائیں کہ اس میں یہ عبارت موجود ہے؟ ’’اعلم ما
626
ذکرہ رحمہ ﷲ من فضل نبینا وائمتنا صلوات ﷲ علیھم علٰی جمیع المخلوقات وکون ائمتنا علیھم السلام افضل من سائر الأنبیاء ھو الذی لا یرتاب فیہ من تتبع اخبارھم۔‘‘
جواب۱۸:۔۔۔ یہ کتاب میرے پاس موجود نہیں۔
سوال۱۹:۔۔۔ کیا سنی مرد کا شیعہ عورت سے، اور شیعہ مرد کا سنی عورت سے نکاح ہوسکتا ہے؟
جواب۱۹:۔۔۔ شیعوں میں سے جو فرقے غالی ہیں اور ان پر کفر کا حکم کیا گیا ہے، ان میں سے کسی شیعہ مرد کا نکاح سنی عورت سے جائز نہیں، البتہ سنی مرد کا نکاح شیعہ عورت سے جائز ہے۔
سوال۱۹:الف۔۔۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی مانا ہے یا نہیں؟ اور اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہے یا نہیں کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت کرتا ہوں اور ان کی وہ عزّت کرتا ہوں جیسی نبیوں کی عزّت کرنی چاہئے؟
جواب۱۹:الف۔۔۔ ہاں! مرزاقادیانی کی کتابوں میں یہ مضمون بھی ہے، اور اِبتدا میں وہ اسی قسم کے مضامین لکھتے تھے، مگر ان کی کتابوں میں ایسے مضامین بھی بکثرت موجود ہیں جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہوتی ہے، مثلاً: ان کا یہ قول ہے:
’’تو پھر اس اَمر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطری طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قسم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے تھے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوّت دی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
اور لکھتے ہیں:
’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں، وہ ہرگز نہ دِکھلاسکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
اور مرزا کا شعر ہے:
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پابہ منبرم
(ازالۃ الاوہام ص:۱۵۸، خزائن ج:۳ ص:۱۸۰)
اور ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷ حاشیہ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱) میں مرزاقادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تین دادیوں اور نانیوں کو زِناکار اور کسبی عورتیں بناکر یہ فقرہ لکھا ہے: ’’جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘ اور کنجریوں سے میل ملاپ ہونا
627
اور اس کی وجہ ’’جدی مناسبت‘‘ درمیان میں ہونا قرار دِی ہے، یہ بھی لکھا کہ آپ کو ۔۔۔یعنی مسیح کو۔۔۔ کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی (حوالۂ بالا ص:۲۸۹)۔
سوال۲۰:۔۔۔ مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ نہیں کہ خداتعالیٰ نے ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بناکر بھیجا ہے؟
جواب۲۰:۔۔۔ مرزاقادیانی کا یہی دعویٰ نہیں کہ وہ مثیلِ مسیح ہوکر آئے ہیں، بلکہ وہ مثیلِ آدم، مثیلِ نوح، مثیل اِبراہیم، مثیلِ موسیٰ، مثیلِ عیسیٰ، مثیلِ محمد رسول اللّٰہ، بلکہ عین محمد رسول اللّٰہ ہوکر آئے ہیں۔ یہ سب باتیں ان کی کتابوں میں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً ان کا بیان ہے:
’’خدا نے مجھ کو آدم بنایا، اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں، اور مجھ کو خاتم النّبیین اور سیّدالمرسلین کا بروز بنایا۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۵۴، خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۴)
اور ان کا قول ہے:
’’اس وحیٔ اِلٰہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے ۔۔۔ کہ میں ۔۔۔یعنی مرزاقادیانی۔۔۔ آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں اِبراہیم ہوں، میں اِسحاق ہوں، میں اِسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہرِاتم ہوں یعنی میں ظلّی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۷۳، خزائن ج:۲۲ ص:۷۶ حاشیہ)
سوال۲۱:۔۔۔ اگر مرزاقادیانی کی کسی کتاب سے یا کسی عبارت سے آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نکلتی ہے، تو کیا مرزاقادیانی نے اس کے متعلق بار بار یہ نہیں فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین ہرگز نہیں کی گئی، بلکہ ان حملوں کے جواب میں جو عیسائیوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر کئے ہیں، عیسائیوں کو اِلزامی رنگ میں جواب دئیے گئے ہیں۔
جواب۲۱:۔۔۔ مرزاقادیانی نے یہ عذر کیا ہے، مگر یہ عذر غلط ہے، کیونکہ ان کی کتابوں میں اس طرح توہین موجود ہے کہ وہاں عیسائیوں کو اِلزامی رنگ میں جواب دینے کا عذر چل ہی نہیں سکتا۔
سوال۲۲:۔۔۔ کیا آپ مولانا رحمت اللّٰہ صاحب کیرانوی مہاجر مکی مرحوم کو جنہوں نے کتاب ’’ازالۃالاوہام‘‘ فارسی میں لکھی تھی، جانتے ہیں؟
جواب۲۲:۔۔۔ ہاں! مولانا رحمت اللّٰہ صاحب مہاجر مکی کا نام اور کچھ حالات سنے ہوئے ہیں۔
سوال۲۳:۔۔۔ کیا آپ مولوی آلِ حسن صاحب مرحوم کو جانتے ہیں؟ جو مولوی رحمت اللّٰہ کے ہم عصر تھے اور عیسائیوں کے جواب میں انہوں نے کتاب استفسار لکھی تھی؟
جواب۲۳:۔۔۔ مولانا آلِ حسن صاحب مرحوم کے نام سے واقف ہوں۔
628
سوال۲۴:۔۔۔ کیا آپ کو علم ہے کہ مولوی رحمت اللّٰہ صاحب مرحوم اور مولوی آلِ حسن مرحوم نے اپنی کتابوں میں عیسائیوں کی تردید کرتے ہوئے اِلزامی رنگ میں اس قسم کی عبارت کا اِستعمال کیا ہے جیسے کہ مرزاقادیانی نے عیسائیوں کی تردید میں بعض عبارات لکھی ہیں؟ مولوی رحمت اللّٰہ صاحب مرحوم مہاجر مکی اور مولوی آلِ حسن صاحب مرحوم کی نسبت آپ کا کیا اِعتقاد ہے؟
جواب۲۴:۔۔۔ ان کی عبارتیں پیش کرو تاکہ مرزاقادیانی کی عبارتوں سے ان کا مقابلہ ہوسکے۔ مولانا رحمت اللّٰہ صاحب ایک بزرگ عالم تھے۔ مولوی آلِ حسن صاحب سے میں زیادہ واقف نہیں ہوں۔
سوال۲۵:۔۔۔ جس شخص نے مندرجہ ذیل عبارت اپنی کتاب میں لکھی ہے، اس کی نسبت آپ کا کیا فتویٰ ہے؟
A:۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بن باپ ہونا تو عقلاً مشتبہ ہے، اس لئے کہ حضرت مریم یوسف کے نکاح میں نہیں تھی، چنانچہ اس زمانے کے معاصرین لوگ یعنی یہود جو کہتے ہیں وہ ظاہر ہے۔
B:۔۔۔ تربیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اَز رُوئے حکمت بہت ناقص ٹھہری۔
C:۔۔۔ اکثر پیش گوئیاں انبیائے بنی اِسرائیل اور ان کے حواریوں کی ایسی ہیں جیسے خواب اور مجذوبوں کی بڑ، اگر انہیں باتوں کا نام پیش گوئی ہے تو ہر ایک آدمی کے خواب اور ہر دیوانے کی بات کو ہم پیش گوئی ٹھہراسکتے ہیں۔
D:۔۔۔ عیسیٰ بن مریم آخر درماندہ ہوکر دُنیا سے انہوں نے وفات پائی۔
E:۔۔۔ سب عقلاً جانتے ہیں کہ بہت سے اقسام سحر کے مشابہ ہیں معجزات سے، خصوصاً معجزاتِ موسویہ وعیسویہ۔
F:۔۔۔ اشعیاہ اور ارمیاہ اور عیسیٰ کی غیب گوئیاں قواعدِ نجوم اور رَمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں، بلکہ اس سے بہتر۔
G:۔۔۔ حضرت عیسیٰ کا معجزہ اِحیائے میّت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سر کاٹ ڈالا، بعد اس کے سب کے سامنے دھڑ سے دھڑ ملاکر کہا اُٹھ کھڑا ہو! وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
H:۔۔۔ معجزاتِ موسویہ وعیسویہ کے بسبب مشاہدہ کارخانہ سحر اور نجوم وغیرہ کے کسی کی نظر میں ان کا اِعجاز ثابت نہیں ہوسکتا۔ دُوسرے یہ کہ معجزاتِ موسویہ اور عیسویہ کی سی حرکات یہاں بہتوں نے کردِکھائیں۔
I:۔۔۔ یسوع نے کہا کہ میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں، دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دُنیا کی تنگی سے شکایت کرنا قبیح ترین ہے۔
J:۔۔۔ جوان ہوکر اپنے بندے یحییٰ کا مرید ہوا، اور آخرکار ملعون ہوکر تین دن دوزخ میں رہا۔
K:۔۔۔ جس طرح اشعیاہ اور عیسیٰ کی بعض بلکہ اکثر پیش گوئیاں ہیں جو صرف بطور معمے اور خواب کے ہیں، جس پر چاہو منطبق کرلو، باعتبار ظاہری معنوں کے محض جھوٹ ہیں یا مانند کلام یوحنا کے محض مجذوبوں کی سی بڑ ہیں، ویسی پیش گوئیاں البتہ قرآن میں نہیں ہیں۔
L:۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے یہودیوں کو جو حد سے زیادہ گالیاں دیں تو ظلم کیا۔
629
M:۔۔۔ کافروں نے معجزہ مانگا، حضرت عیسیٰ نے ان کافروں کو جھڑک دیا اور تہدید بہ وعیدِ اِلٰہی کی، یا کچھ نہیں بولے، چپکے بیٹھے رہے، اور ان کے ہاتھوں ذِلتیں اُٹھائیں۔
N:۔۔۔ جناب مسیح اقرار می فرمایند کہ یحییٰ نہ نان می خورانیدند نہ شراب می آشامیدند وآنجناب شراب می نوشیدند ویحییٰ در بیابان می ماندند وہمراہ جناب مسیح بسیار زناں ہمراہ می گشتند ومال خود را می خوارنیدند وزنان فاحشہ پائہائے آنجناب رامی بوسیدندد وآنجناب مزنا ومریم را دوست می داشتند وخود شراب برائے نوشیدنِ دیگر کساں عطا می فرمودند۔
O:۔۔۔ وقتیکہ یہودا فرزند سعادت مند شاں از زوجہ پسر خود زِنا کردد حاملہ گشت وقارض را کہ اَز آباء واجداد سلیمان وعیسیٰ بودزائید، یعقوب ہیچ کس را اَزیںہائے سزائے ندادند
جواب۲۵:۔۔۔ یہ تمام اِقتباسات اصل کتابوں اور ان کے سیاق وسباق سے ملاکر پڑھے جائیں جب کچھ خیال قائم کیا جاسکتا ہے۔
سوال۲۶:۔۔۔ کیا مولانا عبدالرحمن جامی مرحوم کو جانتے ہیں؟ اور کیا آپ کو علم ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب سلسلۃالذہب میں فارسی میں مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے؟ اگر آپ کو علم نہ ہو کہ یہ نظم کس نے لکھی ہے تو یہ فرمادیجئے کہ جس شخص نے یہ نظم اِلزامی رنگ میں حضرت علیؓ کی شان میں لکھی ہے وہ مسلمان ہے یا کافر ہوگیا؟
-
شیعیے پیش سنیے فاضل
گفت کاے در علومِ دیں کامل
-
باز گو رمزے از علی ولی
کہ ترا یافتم ولی علی
-
گفت کاے درد لائے من واہی
از کدا میں علی سخن خواہی
-
زاں علی کش توئی ظہیر ومعین
یا ازاں کش منم رہی ورہین
-
گفت من گرچہ اند کے دانم
در دو عالم علی یکے دانم/samp>
-
شرح ایں نکتہ را تمام بگو
آں کدا مست وایں کدام بگو
-
گفت آں کو بود گزیدۂ تو
نیست جز نقش تو کشیدۂ تو
-
پیکرے آفریدۂ بخیال
گزرانیدۂ برو احوال
-
پہلوانے بروت مالیدہ
بہر کیں دروغا سگالیدہ
-
گُربزے پُر تہور وبیباک
کینہ خوی ومفتن وسفاک
-
بندۂ نفس خویش چوں من وتو
فارغ از دین وکیش چوں من وتو
-
در خیبر بزور خود کندہ
بُردہ تا دوش دورش افگندہ
-
بخلافت دلش بسے مائل
شد ابوبکرؓ درمیاں حائل
630
-
بعد بوبکرؓ خواست دیگر بار
لیکن آں بر عمرؓ گرفت قرار
-
چوں ازیں ورطہ رخت بست عمرؓ
شد خلافت نصیب یار دگر
-
در تگ وپوئے بہر ایں مطلوب
ہمہ غالب شدند و او مغلوب
-
باچنیں وہم و ظن زنادانی
اسد اللّٰہ غالبش خوانی
-
ایں علی در مشمارۂ کہ ومہ
خود نہود است ورنہ باشد بہ
-
واں علی کش منم بجاں بندہ
سلیت نفس شوم راکندہ
-
بر صف اہل ریع بادل صاف
بہر اعدائے دیں کشید مصاف
-
بودہ از غایت فتوت خویش
خالی از حول خویش وقوت خویش
-
ایں علی در کمالِ خلق وہنر
عین بوبکرؓ بود وعین عمرؓ
-
نیست در ہیچ معنی وجہتے
رافضی را با و مشابہتے
-
او بموہوم خویش دارد رُو
زانکہ موہوم است در خوراد
-
علمے بہر خود تراشیدہ
خاطر از مہر او خراشیدہ
جواب۲۶:۔۔۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ نظم کس کی ہے؟ اور شیعہ سنی سے اس میں کون اَشخاص مراد ہیں؟ نیز اس کا مضمون صاف ہے، ایک موہوم ’’علی‘‘ کو کہا گیا ہے جو کچھ کہا گیا ہے، اور دونوں پہلو آمنے سامنے موجود ہیں، اس میں غلط فہمی کا کوئی اِمکان نہیں۔
سوال۲۷:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بے حد تعریفیں نہیں کیں؟
جواب۲۷:۔۔۔ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعریف بے شک کی ہے، لیکن جبکہ خود بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بروز، بلکہ عین محمد ہونے کا دعویٰ بھی کردیا گیا، بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی اپنے آپ کو بڑھادیا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعریف گویا اپنے آپ کو اِنتہائی معراجِ ترقی پر پہنچانے کی تمہید تھی، (دیکھو جواب نمبر۱۳)۔
سوال۲۸:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے انبیاء کی تحقیر کرنا اپنی کتابوں میں ناجائز قرار نہیں دیا؟
جواب۲۸:۔۔۔ یہی تو لطف ہے کہ ایک جگہ جس چیز کو ناجائز قرار دیتے ہیں، دُوسری جگہ اس ناجائز کا اِرتکاب اس جرأت ودلیری سے کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
سوال۲۹:۔۔۔ یہ دُرست ہے یا نہیں کہ مرزاقادیانی کے مخالفوں نے انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے کا اِلزام آپ پر لگایا تھا اور آپ نے اپنی کتابوں میں بار بار اس کی تردید کی ہے؟
جواب۲۹:۔۔۔ انہوں نے اس اِلزام کی تردید کی ہے، مگر تردید ناقابلِ قبول اور ناقابلِ اِعتماد ہے، جیسا کہ میں نمبر۲۱ کے جواب میں کہہ چکا ہوں۔
631
سوال۳۰:۔۔۔ مرزاقادیانی کے دعوے سے پہلے جو لوگ اس اُمت کے گزرے ہیں، ان کے متعلق مرزاقادیانی کا کوئی فتویٰ اگر آپ نے مرزاقادیانی کی کسی کتاب میں پڑھا ہے تو اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب۳۰:۔۔۔ اس سوال کا مفہوم صاف نہیں۔
سوال۳۰-۱:۔۔۔ اگر کوئی شخص مرزاقادیانی کو مفتری قرار نہیں دیتا، اور آپ کی تکفیر وتکذیب نہیں کرتا، اور جو لوگ آپ پر کفر کا فتویٰ دینے والے ہیں، ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، اور اہلِ قبلہ میں سے ہے تو ایسے شخص کے متعلق مرزاقادیانی نے وہی فتویٰ دیا ہے جو آپ کی تکفیر وتکذیب کرنے والوں اور آپ کو مفتری قرار دینے والوں کے متعلق ہے تو اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب۳۰-۱:۔۔۔ ہاں! مرزاقادیانی کی عبارتوں میں مرزاقادیانی کے اُوپر اِیمان نہ لانے والوں کو خدا ورسول پر اِیمان نہ رکھنے والا قرار دِیا گیا، دیکھئے مرزاقادیانی کا قول ہے:
’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۸)
اور ان کا اِلہام ہے:
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا، اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(اِشتہار معیار الاخیار، مندرجہ تبلیغِ رِسالت جلد نہم ص:۲۷۰، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵، مرزاقادیانی)
مرزاقادیانی کے خلیفہ مرزا محمود احمد کا فتویٰ یہ ہے:
’’آپ (مرزاقادیانی، مسیحِ موعود) نے اس شخص کو جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اِطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے، کافر ٹھہرایا ہے، بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دِل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا اِنکار نہیں کرتا، لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے، کافر ٹھہرایا ہے۔‘‘
(مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان، مندرجہ تشحیذ الاذہان ج نمبر۶ نمبر۴، اپریل ۱۹۱۱ء)
منقول اَز قادیانی مذہب ص:۶۴۹ طبع پنجم۔
مرزاقادیانی کا قول ہے:
’’بس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اِطلاع دی ہے تمہارے اُوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کسی مُکفِّر یا مکذِّب یا متردِّد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی اِمام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص:۲۸ حاشیہ، خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
’’(مرزاقادیانی سے) سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ اِمام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس
632
کے پیچھے نماز پڑھ لیں یا نہ پڑھیں؟
حضرت مسیحِ موعود (یعنی مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ پہلے تمہارا فرض ہے اسے واقف کرو، پھر اگر تصدیق نہ کرے، نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘
(ملفوظاتِ احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۶، ملفوظات ج:۳ ص:۲۷۷)
سوال۳۱:۔۔۔ کیا یہ دُرست نہیں کہ مرزاقادیانی کے بعض مخالف مولویوں نے بعض دُوسرے مولویوں کے پاس پہنچ کر آپ کے خلاف فتویٰ حاصل کیا، اور مرزاقادیانی نے اپنی طرف سے فتویٰ دینے میں اِبتدا نہیں کی؟
جواب۳۱:۔۔۔ علمائے اسلام نے مرزاقادیانی کے دعاویٔ باطلہ اور توہینِ انبیاء اور تأویلاتِ مردودہ کی بنا پر ان کے خلاف فتوے دئیے، مگر مرزاقادیانی نے علماء کے خلاف زہرافشانی اور سب وشتم بہت پہلے سے شروع کر رکھا تھا۔
سوال۳۲:۔۔۔ کیا آپ شیخ الاسلام ابوالعباس المعروف ابنِ تیمیہؒ کو جانتے ہیں؟ آپ کے نزدیک وہ کیسے عالم تھے؟ کیا آپ نے ان کی کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘ ج:۳ پڑھی ہے؟ جس میں انہوں نے ص:۶۱و۶۲ میں بیان کیا ہے کہ خوارج حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ اور ان کی ساری جماعت کو کافر کہتے تھے، مگر حضرت علیؓ اور ان کی جماعت خارجیوں کو کافر نہیں کہتے تھے۔ اگر اس کا علم نہ ہو تو بتلادیجئے کہ بطور اَمرِ واقعہ یہ دُرست ہے یا نہیں کہ حضرت علیؓ اور ان کی جماعت خارجیوں کو کافر نہیں کہتے تھے؟
جواب۳۲:۔۔۔ منہاج السنۃ میں نے پڑھی ہے، مگر اس کا نسخہ اس وقت موجود نہیں ہے، تاکہ حوالے کی صحت کی جانچ اور ان کی عبارت کا مطلب بیان کیا جاسکے۔
سوال۳۳:۔۔۔ مرزاقادیانی کے اِلہامات کے جو معنی اور تشریح آپ کرتے ہیں، کیا مرزاقادیانی بھی ان اِلہامات کے وہی معنی اور تشریح کرتے ہیں؟ یا ان معنوں اور تشریح کو جو آپ کرتے ہیں، مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں رَدّ کیا ہے؟
جواب۳۳:۔۔۔ مرزاقادیانی کے اِلہامات بہت ہیں، اور ممکن ہے کہ بعض اِلہامات کے معنی ومطلب بیان کرنے میں مرزاقادیانی اور دُوسرے علماء متفق ہوں، اور بعض اِلہامات ایسے بھی ہیں کہ خود مرزاقادیانی بھی اس کے معنی سمجھنے سے قاصر رہے، اور بعض اِلہامات کے معنی خود مابدولت غلط سمجھے، اور بعض اِلہامات کے معنی میں مرزاقادیانی اور دُوسرے علماء آپس میں مختلف ہیں۔
سوال۳۴:۔۔۔ مرزاقادیانی سے پہلے جو اولیاء اللّٰہ اس اُمت میں ہوئے ہیں، کیا ان پر بھی اس وقت کے علماء کی طرف سے اِعتراضات ہوتے رہے ہیں یا نہ؟
جواب۳۴:۔۔۔ بعض بزرگوں پر ان کے زمانے کے مخالفین نے اِعتراضات کئے ہیں۔
سوال۳۵:۔۔۔ کیا آپ کوئی حوالہ پیش کرسکتے ہیں جس میں مرزاقادیانی نے اپنا یہ عقیدہ لکھا ہو کہ انبیاء علیہم السلام صادق اور معصوم نہیں ہوتے؟
جواب۳۵:۔۔۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق مرزاقادیانی نے صاف لکھا ہے کہ ان کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی
633
عادت تھی (دیکھو جواب نمبر۱۹-الف)۔
سوال۳۶:۔۔۔ مرزاقادیانی سے پہلے جو مقبولانِ اِلٰہی اس اُمت میں گزرے ہیں، کیا ان میں سے اکثر پر علمائے وقت کی طرف سے کفر کے فتوے نہیں لگائے جاتے رہے؟
جواب۳۶:۔۔۔ بعض بزرگوں کے متعلق تو ایسا ہوا ہے، مگر یہ کلیہ نہیں کہ ہر بزرگ پر کفر کا فتویٰ لگا ہے۔ نیز کیا یہ قاعدہ اُلٹا نہیں ہوسکتا کہ کاذب اور جھوٹے مدعیانِ نبوّت اور دجالوں کی تصدیق کرنے والے بھی ہوتے رہے ہیں اور آج بھی صریح کفر کے مرتکبین کی جماعتیں موجود ہیں۔
سوال۳۷:۔۔۔ جن علماء نے مرزاقادیانی کے خلاف فتویٰ دیا ہے، کیا وہ علماء آپس میں ایک دُوسرے کے خلاف کفر کے فتوے نہیں دیتے؟
جواب۳۷:۔۔۔ اگر ایسا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے کفر پر مختلف العقائد علماء بھی متفق ہیں۔!
سوال۳۸:۔۔۔ مرزاقادیانی کے مخالف علماء نے جو غلط عقائد مرزقادیانی کی طرف منسوب کئے ہیں، ان کی تردید مرزاقادیانی کی تصانیف میں موجود ہے یا نہیں؟
جواب۳۸:۔۔۔ غلط عقائد کون سے منسوب کئے ہیں؟ ان کی تفصیل بیان کرکے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ ان کا رَدّ مرزاقادیانی کی کتابوں میں ہے یا نہیں؟
سوال۳۹:۔۔۔ واضح کیجئے کہ نبوّتِ مطلقہ اور نبوّتِ تشریعیہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟
جواب۳۹:۔۔۔ ’’نبوّت‘‘ اور ’’رِسالت‘‘ کے اندر اِصطلاحی فرق کیا گیا ہے، وہ یہ کہ ’’نبی‘‘ وہ ہے جس کو اللّٰہ تعالیٰ منصبِ نبوّت عطا فرمائے، وحی واِلہام سے نوازے، مگر کتاب عطا نہ ہو۔ اور ’’رسول‘‘ وہ ہے کہ اس کو نبوّت عطا ہو، وحی واِلہام سے نوازا جائے، اور اس کو کتاب بھی عطا کی جائے۔ اگر نبوّتِ تشریعیہ سے مراد رِسالت ہو تو اس کی تعریف یہ ہوگی جو اُوپر مذکور ہوئی، اور اس کے مقابل محض نبوّت کو نبوّتِ مطلقہ کہہ دیا جائے تو یہ ایک اِصطلاحی بات ہوگی۔ ورنہ نبوّتِ حقیقیہ جو اللّٰہ کی طرف سے ایک منصبِ عظیم ہے، اس میں حقیقۃً نبوّتِ تشریعیہ اور نبوّتِ مطلقہ یا غیرتشریعیہ کا کوئی فرق نہیں ہے۔
سوال۴۰:۔۔۔ نبوّتِ مطلقہ اور نبوّتِ تشریعی کا دعویٰ جس کتاب میں مرزاقادیانی نے کیا ہے، اس کا حوالہ دیجئے۔
جواب۴۰:۔۔۔ مرزاقادیانی کا دعویٔ نبوّت ان کی کئی کتابوں میں صراحۃً موجود ہے، تتمہ حقیقۃ الوحی، اربعین، دافع البلاء وغیرہ۔
’’اور میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیحِ موعود کے نام سے پکارا ہے، اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۶۸، خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳)
634
’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)
مرزاقادیانی کا اِلہام:
’’قل یا ایھا الناس انی رسول ﷲ الیکم جمیعًا (ای مرسل من ﷲ)۔‘‘
(البشریٰ ج:۲ ص:۵۶)
’’ہلاک ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا، مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔‘‘
(کشتی نوح ص:۵۶، خزائن ج:۱۹ ص:۶۰)
مرزاقادیانی کا اِلہام ہے:
’’انا ارسلنا احمد إلٰی قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص:۳۳، خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۳)
سوال۴۱:۔۔۔ کوئی ایسا حوالہ دیجئے کہ جس میں مرزاقادیانی نے ختمِ نبوّت کے منکر پر اس فتوے کے خلاف فتویٰ دیا ہو جو آپ کے خیال میں دعوے سے پہلے دیتے تھے۔
جواب۴۱:۔۔۔ ختمِ نبوّت کے منکرین کے بارے میں مرزاقادیانی کی پہلی تحریریں یہ ہیں:
’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رِسالت ونبوّت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر اِیمان رکھ سکتا ہے، اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر اِیمان رکھتا ہے اور آیت ’’وَلَکِن رَّسُولَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے، وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۲۷ حاشیہ، خزائن ج:۱۱ ص:۲۷)
’’میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا قائل ہوں اور جو شخص ختمِ نبوّت کا منکر ہو، اس کو بے دِین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘
(اشتہار مرزا مندرجہ تبلیغِ رِسالت ج:۶ ص:۲، مجموعہ اِشتہارات ج:۲ ص:۲۹۷)
’’ہم بھی نبوّت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتے ہیں۔‘‘
(اِشتہار مرزا مندرجہ تبلیغِ رِسالت ج:۶ ص:۲، مجموعہ اِشتہارات ج:۲ ص:۲۹۷)
’’میں ان تمام اُمور کا قائل ہوں جو اِسلامی عقائد میں داخل ہیں، اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ
635
ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن حدیث کی رُو سے مُسلَّم الثبوت ہیں، اور سیّدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دُوسرے مدعیٔ نبوّت اور رِسالت کو کاذِب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے وحیٔ رِسالت حضرت آدم صفی اللّٰہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللّٰہ محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔‘‘
(اِشتہارِ مرزا تبلیغِ رِسالت ج:۲ ص:۲۰، مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳۰،۲۳۱)
اس کے بعد جب خود نبی بنے تو ختمِ نبوّت کے معنی بدلنے لگے اور اپنی نبوّت کا اِعلان ہونے لگا، مثلاً:
’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۱، خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۱)
’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی اُمید بھی نہیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ جلد پنجم ص:۱۸۳، خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۴)
’’اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات ومخاطباتِ اِلٰہیہ کا بند ہے، اگر یہ معنی ہوتے تو یہ اُمت ایک لعنتی اُمت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خداتعالیٰ سے دُور ومہجور ہوتی۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص:۱۸۳، خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۳)
یعنی منکرینِ ختمِ نبوّت کو یا تو پہلے کافر اور کاذِب اور ملعون اور دائرۂ اسلام سے خارج کہتے تھے، یا اَب خود ہی نبی اور رسول بن گئے اور ختمِ نبوّت کے عقیدے کو لعنتی قرار دے دیا۔
سوال۴۲:۔۔۔ کوئی ایسا حوالہ دیجئے جس میں مرزاقادیانی نے لکھا ہو کہ میں معجزاتِ انبیاء کا قائل نہیں ہوں۔
جواب۴۲:۔۔۔ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا اِنکار ان الفاظ میں کیا ہے:
’’حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا، اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۶ حاشیہ، خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
’’غرض یہ اِعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بناکر اور ان میںپھونک مارکر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا، نہیں بلکہ صرف عمل الترب (یعنی مسمریزم) تھا جو رُوح کی قوّت سے ترقی پذیر ہوگیا تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۳۲۲ حاشیہ، خزائن ج:۳ ص:۲۶۳)
اسی طرح معجزہ شق القمر وغیرہ کا اِنکار بھی مرزاقادیانی کی کتابوں میں موجود ہے۔
سوال۴۳:۔۔۔ کیا یہ دُرست ہے یا نہیں کہ جن لوگوں نے مرزاقادیانی پر اِلزام لگایا کہ آپ انبیاء کے معجزات کا اِنکار
636
کرتے ہیں، آپ نے اپنی کتابوں میں ان کی تردید کی؟
جواب۴۳:۔۔۔ ہاں! تردید بھی کرتے گئے اور خود اِنکار بھی کرتے رہے۔
سوال۴۴:۔۔۔ باوجود اس اِقرار کے کہ انبیاء علیہم السلام سے معجزات ظاہر ہوتے ہیں، کسی شخص کا ایک خاص اَمر کی نسبت یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ معجزہ نہیں اور دُوسرے کا اس خاص اَمر کے متعلق یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ معجزہ ہے، کیا ایسا بیان کفر ہے؟
جواب۴۴:۔۔۔ اگر کوئی معجزہ متفق علیہا ہو تو اس کو معجزہ تسلیم نہ کرنا، اِنکار ہی قرار دِیا جائے گا۔
سوال۴۵:۔۔۔ کیا یہ دُرست ہے کہ بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ قرآن مجید کی فلاں آیت میں فلاں معجزے کا ذِکر ہے، اور دُوسرے علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ ان آیات میں معجزے کا ذِکر نہیں۔ گو اس بات میں ان کا اِختلاف نہیں ہے کہ انبیاء سے معجزات ظاہر ہوتے ہیں؟
جواب۴۵:۔۔۔ خاص حوالہ دے کر اِتفاق یا اِختلاف کا سوال کرنا چاہئے۔
سوال۴۶:۔۔۔ کیا یہ دُرست ہے کہ سر سیّد احمد خاں بانیٔ علی گڑھ کالج معجزات کے قائل نہ تھے؟
جواب۴۶:۔۔۔ سر سیّد احمد خاں بہت سے معجزات کا اِنکارکرتے تھے۔
سوال۴۷:۔۔۔ کیا یہ صحیح ہے کہ اِجماع کی تعریف میں خود علمائے اسلام کا سخت اِختلاف ہے؟
جواب۴۷:۔۔۔ اِجماع کی تعریف میں، اس کے شرائط میں، اس کے اَحکام میں گو کچھ اِختلاف ہے، مگر وہ ایسا اِختلاف نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اِجماع غیرمعتبر ہوجائے۔ قولِ صحیح اور راجح کی تعیین دلائل سے ہوسکتی ہے، اور جو قول صحیح اور راجح ہے اس کے موافق اِجماع کو حجت اور دلیل قرار دِیا جاسکتا ہے۔
سوال۴۸:۔۔۔ کیا حضرت اِمام احمد بن حنبل رحمۃاللّٰہ علیہ نے یہ فرمایا ہے کہ: ’’ومن ادعی الإجماع فھو کاذب‘‘ جو شخص اِجماع کا دعویٰ کرے،و ہ جھوٹا ہے۔
جواب۴۸:۔۔۔ اِمام احمد بن حنبلؒ کے اس قول کا حوالہ دیا جائے تو اس کے متعلق کچھ کہا جاسکتا ہے۔
سوال۴۹:۔۔۔ اِجماعِ اُمت کے حجتِ شرعیہ ہونے میں علمائے اسلام کا اِختلاف ہے یا نہیں؟
جواب۴۹:۔۔۔ اِجماع کی کئی قسمیں ہیں، بعض قسموں کے حجت ہونے میں بے شک اِختلاف ہے، مگر اِجماعِ قطعی کے حجت ہونے میں کوئی اِختلاف نہیں ہے۔
سوال۵۰:۔۔۔ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت پر اِجماع ہے؟ اگر یہ دُرست ہے تو فرمائیے وہ لوگ جو شیعہ مذہب رکھتے ہیں اور حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے منکر ہیں، وہ مسلمان ہیں یا کافر؟
جواب۵۰:۔۔۔ ہاں! خلافتِ صدیق پر اِجماع ہے، اور جو لوگ کہ خلافتِ صدیق کے منکر ہیں، یعنی یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ پہلے خلیفہ ہوئے، وہ نہ صرف دائرۂ اسلام سے خارج، بلکہ جاہل اور قطعیات کے منکر ہیں۔
637
سوال۵۱:۔۔۔ جو حکم اِجماعِ اُمت کے منکر کا آپ بیان کرتے ہیں، کیا اس حکم پر سب علمائے اُمت کا اِتفاق ہے؟
جواب۵۱:۔۔۔ اِجماعِ قطعی کے منکر کا حکم متفق علیہ ہے۔
سوال۵۲:۔۔۔ آپ مرزاقادیانی کا کوئی ایسا حوالہ پیش کریں جس میں انہوں نے لکھا ہو کہ میں اِجماعِ اُمت کا کلّی منکر ہوں۔
جواب۵۲:۔۔۔ بعینہٖ اس عبارت کا کوئی حوالہ تو مجھے یاد نہیں، مگر مرزاقادیانی نے اِجماعیات کا اِنکار کیا ہے۔
سوال۵۳:۔۔۔ ایک فرقے کے علماء جو دُوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر کہتے ہیں، کیا باوجود ان کے دعویٔ اِسلام کے ان کی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب۵۳:۔۔۔ تکفیر کی مختلف وجوہ ہیں، بعض صورتوں میں اِرتداد کا حکم یقینی ہوتا ہے، اور بعض میں ظنی، اس لئے اس کے اَحکام بھی مختلف ہیں۔
سوال۵۴:۔۔۔ مرزاقادیانی اور آپ کے متبعین اپنی کتابوں میں اللّٰہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، اور خداتعالیٰ کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر، اور نبیوں پر، اور قیامت پر، اور تقدیر پر، اور حشر ونشر اور جنت ودوزخ پر، اور قرآن شریف اور آنحضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوّت پر، اور کلمہ شریف ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ پر اپنا اِیمان ظاہر کرتے ہیں یا نہیں؟ اور اسی طرح نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور شریعتِ اسلامیہ کی پابندی کے متعلق مرزاقادیانی اور آپ کے متبعین کی کتابوں میں ہدایات اور تاکیدات درج ہیں یا نہیں؟
جواب۵۴:۔۔۔ ان چیزوں پر اِیمان کا دعویٰ ان کی کتابوں میں ہے، مگر بعض اِیمانیات کی صورتیں انہوں نے بدل دی ہیں، اور بعض میں تحریف کرکے ان کو مسخ کردیا ہے۔
سوال۵۵:۔۔۔ بانیٔ سلسلۂ احمدیہ اور آپ کی جماعت اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یا نہیں؟
جواب۵۵:۔۔۔ یہ لوگ اپنے مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔
سوال۵۶:۔۔۔آپ نے کسی سرکاری یونیورسٹی سے کوئی سند تحصیلِ علومِ عربی کی حاصل کی ہے؟ اگر حاصل کی ہے تو کونسی؟ اور اس کی سند پیش کیجئے۔
جواب۵۶:۔۔۔ میں نے کسی سرکاری یونیورسٹی سے کوئی سند حاصل نہیں کی۔
سوال۵۷:۔۔۔ آپ کس فرقۂ اسلام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟
جواب۵۷:۔۔۔ میں اہلِ سنت والجماعت حنفی مسلمان ہوں۔
سوال۵۸:۔۔۔ جس مدرسے میں آپ مدرّس ہیں، وہ سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟
جواب۵۸:۔۔۔ یہ مدرسہ سرکاری نہیں، قومی ہے۔
سوال۵۹:۔۔۔ آپ ماہوار تنخواہ کیا لیتے ہیں؟
638
جواب۵۹:۔۔۔ میں صرف پچھتّر روپے ماہوار پاتا ہوں۔
سوال۶۰:۔۔۔ کیا آپ کا تعلق دیوبندی جماعت سے نہیں ہے؟
جواب۶۰:۔۔۔ ہاں! میری تعلیم دارالعلوم دیوبند کی ہے۔
سوال۶۱:۔۔۔ کیا دیوبندی خیالات کے لوگوں پر علماء کی کسی جماعت نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا؟
جواب۶۱:۔۔۔ اس جماعت کے بعض افراد کے خلاف بعض لوگوں نے کفر کا فتویٰ دیا ہے، مگر جن عقائد کی ان کی طرف نسبت کرکے کفر کا فتویٰ دیا ہے، وہ درحقیقت ان کے عقائد نہیں ہیں، غلط طور پر ان کی طرف منسوب کردئیے ہیں۔
سوال۶۲:۔۔۔ مولوی احمد رضاخاں بریلوی اور ان کے ہم خیال علماء، دیوبندی خیالات کے علماء اور لوگوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں یا نہ؟
جواب۶۲:۔۔۔ بعض علماء نے ایسا کیا ہے۔
سوال۶۳:۔۔۔ کیا دیوبندی خیال کے علماء نے مولوی احمد رضا خاں بریلوی اور ان کے ہم خیال لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہو ا ہے یا نہ؟
جواب۶۳:۔۔۔ تمام دیوبندی علماء، مولوی احمد رضا خان اور ان کی جماعت کی تکفیر نہیں کرتے۔
سوال۶۴:۔۔۔ کیا یہ دُرست نہیں ہے کہ موٹے موٹے فرقہ ہائے اسلام مثلاً: سنی، شیعہ، اہلِ حدیث وغیرہ کے علماء نے ایک دُوسرے پر کفر کا فتویٰ لگایا ہوا ہے یا نہ؟
جواب۶۴:۔۔۔ کسی فرقے کے بعض افراد نے دُوسرے فرقے کے بعض افراد پر مخصوص عقیدے کی بنا پر کفر کا فتویٰ دیا ہے۔
مکرّر سوالات متعلقہ جرح
۱:۔۔۔متعلقہ جرح نمبر۴
اگر سوال نمبر۴ کا جواب اِثبات میں ہو تو یہ بتلائیں کہ:
سوال:الف۔۔۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین، اللّٰہ تعالیٰ اور ملائکہ اور آسمانی کتابوں اور انبیائے کرام کے وجود کے قائل تھے یا نہ؟ اور اگر قائل تھے تو بایں ہمہ وہ اَز رُوئے قرآن مجید مسلمان ہیں یا کافر؟ اور اگر کافر ہیں تو کیوں؟
۱:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۴
جواب:الف۔۔۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین ان سب پر اِیمان رکھتے ہوئے بھی اس لئے کافر ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں لائے، اور انہوں نے مسیح کو خدا، یا خدا کا بیٹا، یا حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا قرار دِیا، یا غیراللّٰہ کی عبادت کی۔
سوال:ب۔۔۔ مرزاقادیانی کی کتب ہائے ذیل دیکھ کر بتلائیں کہ ان میں عقیدہ ہائے ذیل درج ہیں یا نہ؟
۱:۔۔۔ توضیح المرام ص:۷۵ (خزائن ج:۳ ص:۹۰): ’’ہم فرض کرسکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک وجودِ اعظم ہے جس کے
639
بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہیں کہ تعداد سے خارج اور لااِنتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوی کی طرح اس وجودِ اعظم کی تاریں بھی ہیں۔‘‘
۲:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۱۰۳ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۶) میں ہے: ’’میں (خداتعالیٰ) خطا بھی کروں گا اور صواب بھی، یعنی جو میں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں، میرا اِرادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔‘‘
۳:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۷۴ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۷) میں ہے: ’’انت مِنّی وانا منک، تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔‘‘
۴:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۸۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۸۹) میں ہے: ’’انت مِنّی بمنزلۃ ولدی، اے مرزا تو میری اولاد کے بمنزلہ ہے۔‘‘
۵:۔۔۔ توضیح المرام نمبر۲۴ (خزائن ج:۳ ص:۶۳) میں ہے: ’’فرشتے، رُوح کی گرمی کا نام ہے۔‘‘(۱)
۶:۔۔۔ توضیح المرام ص:۷۹ (خزائن ج:۳ ص:۹۲) میں ہے: ’’جبرئیل فرشتہ خدا کا عضو ہے۔‘‘(۲)
۷:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۸۴ (خزائن ج:۲۲ ص:۸۷) میں ہے: ’’قرآن شریف خدا کی کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
۸:۔۔۔ ازالہ اوہام ص:۲ حاشیہ (خزائن ج:۳ ص:۱۱۵) میں ہے: ’’قرآن شریف سخت زبانی کے طریق کو اِستعمال کررہا ہے۔‘‘(۳)
۹:۔۔۔ ازالہ اوہام ص:۳۰۵ حاشیہ (خزائن ج:۳ ص:۲۵۶) میں ہے: ’’حضرت مسیح علیہ السلام عمل الترب میں کمال رکھتے تھے، یعنی مسمریزم طریق سے بطور لہو ولعب کے۔‘‘
۱۰:۔۔۔ ازالہ اوہام ص:۲۰۹ حاشیہ (خزائن ج:۳ ص:۲۵۸) میں ہے: ’’معجزاتِ مسیح مکروہ اور قابلِ نفرت ہیں۔‘‘(۴)
۱۱:۔۔۔ دافع البلاء ص:۱۵ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۵) میں ہے: ’’جس (مسیح) کے پہلے فتنے نے ہی دُنیا کو تباہ کردیا۔‘‘
۱۲:۔۔۔ دافع البلاء ص:۴ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰) میں ہے: ’’عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیاء بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔‘‘
۱۳:۔۔۔ دافع البلاء ص:۲۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰) میں ہے: ’’میں اسی (عیسیٰ) سے بڑھ کر ہوں۔‘‘
۱۴:۔۔۔ ازالہ اوہام ص:۸ (خزائن ج:۳ ص:۱۰۶) میں ہے: ’’مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔‘‘(۵)
۱۵:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۸۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۹۲) میں ہے: ’’تیرا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کا) تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا۔‘‘
۱۶:۔۔۔ حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص:۷۰ (حاشیہ خزائن ج:۱۷ ص:۲۰۵) میں ہے: ’’خدا نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے
(۱) مرزاقادیانی کی عبارت کا مفہوم ہے، ان کے ذِکر کردہ الفاظ بعینہٖ جواب میں آرہے ہیں۔
(۲) ایضاً۔ (۳) ایضاً۔ (۴) ایضاً۔ (۵) ایضاً۔
640
چھپانے کے لئے ایک ذلیل جگہ تجویز کی جو متعفن اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔‘‘
۱۷:۔۔۔ ازالہ اوہام ص:۱۳۶ (خزائن ج:۳ ص:۱۶۹) میں ہے: ’’خدا کے تائید یافتہ بندے قیامت کا رُوپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے۔‘‘
اگر عقیدہ ہائے مذکورۂ بالا، کتب ہائے مذکورۂ بالا میں درج ہیں، تو ایسے عقیدے رکھنے والا شخص مسلمان کہلاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کہلاسکتا تو کیوں؟ حالانکہ وہ خدا کے وجود اور فرشتوں کے اور قیامت کے وجود کا بھی قائل ہے۔ سب جواب قرآن مجید کی آیات اور احادیثِ صحیحہ کے حوالے سے دیں۔
جواب:ب۔۔۔ یہ مضمون توضیح المرام میں موجود ہے۔ مرزاقادیانی کا یہ اِلہام ان کی کتاب ’’الاستفاء‘‘ کے صفحہ:۸۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۴) میں موجود ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے: ’’انی مع الرسول اجیب، اخطی واصیب‘‘ یعنی خدا فرماتا ہے: میں رسول کے ساتھ ہوں، قبول کرتا ہوں، خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی۔
اور حقیقۃ الوحی ص:۱۰۳ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۶) میں ہے:
’’انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب‘‘
اور اس کا ترجمہ بین السطور میں اس طرح لکھا ہے:
’’میں رسول کے ساتھ ہوکر جواب دُوں گا، اپنے اِرادے کو کبھی چھوڑ بھی دُوں گا اور کبھی پورا کروں گا۔‘‘
یہ اِلہام ’’الاستفتاء‘‘ کے ص:۸۰ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۶) میں موجود ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے:’’یا قمر یا شمس انت مِنّی وانا منک‘‘۔
نیز دافع البلاء کے صفحہ:۶ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۷) میں بھی یہ اِلہام موجود ہے، مگر ’’یا قمر یا شمس‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور حقیقۃ الوحی کے ص:۷۴ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۷) میں الاستفتاء کی عبارت کے موافق موجود ہے۔
دافع البلاء ص:۶ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۷) میں یہ اِلہام موجود ہے: ’’انت مِنّی بمنزلۃ اولادی‘‘ اور یہ بھی ہے: ’’انت مِنّی وانا منک‘‘ ۔
توضیح المرام کے ص:۲۴ (خزائن ج:۳ ص:۶۳) میں یہ عبارت ہے:
’’جب خداتعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اس شعلے سے جس قدر رُوح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکینت واِطمینان اور کبھی فرشتہ وملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔‘‘
توضیح المرام کے ص:۷۸ (خزائن ج:۳ ص:۹۲) میں یہ عبارت ہے:
’’سو وہ وہی عضو ہے جس کو دُوسرے لفظوں میں جبرئیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔‘‘
641
الاستفتاء ص:۸۲ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۹) پر موجود ہے:
’’ان القرآن کتاب ﷲ وکلمات خرجت من فوھی۔‘‘
اور حقیقۃ الوحی کے ص:۸۴ (خزائن ج:۲۲ ص:۸۷) میں یہ عبارت ہے:
’’اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
ازالہ اوہام ص:۲۶،۲۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۱۵،۱۱۶) حاشیہ میں یہ عبارت اس طرح ہے:
’’قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو اِستعمال کر رہا ہے، ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجے کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔‘‘
نیز اسی میں کہا ہے:
’’ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت (قرآن نے) نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصوتِ ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں اِستعمال کئے ہیں۔‘‘
ہاں یہ مضمون ازلہ اوہام کے ص:۳۰۵،۳۰۹ (حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۶،۲۵۷) میں موجود ہے، اس کے آخر میں مرزاقادیانی نے کہا ہے:
’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے اُمید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابنِ مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۰۹ حاشیہ خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
یہ اسی حوالے کا خلاصہ ہے جو اُوپر نمبر۹ میں بیان ہوا۔ ہاں! دافع البلاء کے ص:۱۵ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۵) میں یہ عبارت موجود ہے:
’’لیکن ایسے شخص (یعنی مسیح) کو کسی طرح دوبارہ دُنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دُنیا کو تباہ کردیا ہے۔‘‘
دافع البلاء ص:۴ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰) حاشیہ میں یہ مضمون موجود ہے:
’’اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی۔‘‘
دافع البلاء ص:۲۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰) میں یہ مضمون موجود ہے۔ عبارت یہ ہے:
’’اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا (یعنی مسیح کا) ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے، جو غلامِ احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔‘‘
642
ازالہ اوہام ص:۸ (خزائن ج:۳ ص:۱۰۶) میں یہ عبارت موجود ہے:
’’حضرت مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔‘‘
اور اِزالہ اوہام ص:۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۰۶) میں ہے:
’’اس سے زیادہ قابلِ افسوس یہ اَمر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔‘‘
یہ اِلہام عربی عبارت میں الاستفتاء کے ص:۸۳ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۹) پر موجود ہے عبارت یہ ہے:
’’ولٰکن سریرک وضع فوق کل سریر‘‘
ترجمہ: ’’لیکن تیرا تخت ہر تخت سے اُوپر رکھا گیا۔‘‘
اور حقیقۃ الوحی کے ص:۸۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۹۲) میں بھی یہ لفظ ہیں:
’’آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا۔‘‘
ہاں یہ عبارت تحفہ گولڑویہ ص:۶۹ (خزائن ج:۱۷ ص:۲۰۵) کے حاشیہ پر موجود ہے:
’’اور خداتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ وتاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔‘‘
ازالہ اوہام ص:۵۸ (خزائن ج:۳ ص:۱۱۹) میں یہ عبارت موجود ہے۔ مرزاقادیانی ان عبارتوں اور عقیدوں اور ان کے علاوہ اور بھی عقائد ایسے ہیں جن کی وجہ سے خارج اَز اِسلام ہے، اور کوئی شخص جو ان جیسے عقائد رکھتا ہو، مسلمان نہیں رہ سکتا۔
۲:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۵،۶
سوال:الف۔۔۔ مرزاقادیانی نے ازالہ اوہام ص:۵۵۶ پر تواتر کو حجت تسلیم کیا ہے یا نہیں؟ اور کیا رسالہ ’’عقائدِ احمدیت‘‘ ص:۱۲ پر مرزاقادیانی کا یہ عقیدہ درج ہے کہ: ’’سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تواتر رکھتا ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جاری کیا اور یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دُوسرے درجے پر ہے۔‘‘
۲:۔۔۔متعلقہ جرح نمبر۵،۶
جواب:الف۔۔۔ ہاں ازالہ اوہام ص:۵۵۶ (خزائن ج:۳ ص:۳۹۹) پر مرزا قادیانی نے تواتر کو حجت تسلیم کیا ہے۔ رسالہ عقائدِ احمدیت اس وقت موجود نہیں ہے۔
سوال:ب۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک سے لے کر آج تک مروّج ہے اور معمولِ خاص وعام چلا آتا ہے یا نہیں؟ اور کتبِ عقائد مذکور تواتر کی حد تک پہنچتا ہے یا نہیں؟
جواب:ب۔۔۔ حیات ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اُمت میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک سے آج
643
تک چلا آتا ہے، کتبِ عقائد میں بھی اس کو بیان کرتے ہوئے چلے آتے ہیں۔
سوال:ج۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے تواتر کے منکر کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب:ج۔۔۔ ایسا شخص جاہل اور معاند ہے اور اس کے لئے وہی فتویٰ ہوسکتا ہے جو مرزاقادیانی نے خود اِزالہ اوہام کے ص:۵۵۷ (خزائن ج:۳ ص:۴۰۰) میں دیا ہے، وہ یہ ہے:
’’اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خداتعالیٰ نے بصیرتِ دِینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘
سوال:د۔۔۔ کیا وفاتِ مسیح کا عقیدہ بھی کتبِ عقائد میں درج ہوکر اس کی تعلیم دی جاتی ہے یا نہ؟
جواب:د۔۔۔ وفاتِ عیسیٰ کا عقیدہ کتبِ عقائد میں مذکور نہیں، اور نہ اس کی تعلیم دی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے۔
سوال:ہ۔۔۔ سرسیّد اور ابنِ حزمؒ وسیّد رضا اور محمد طاہر گجراتی ؒ کے ذاتی خیالات وعقائد اِجماعِ اُمت کے مقابلے میں اِسلام کے لئے حجت ہوسکتے ہیں یا نہ؟ اور مفسرینِ مذکورین مسلمانوں کے پیشوا معتمد علیہ ہیں یا نہیں؟
جواب:ہ۔۔۔ سر سیّد احمد خاں اور ابنِ حزمؒ اور سیّد (رشید) رضا اور محمد طاہر گجراتی ؒ کے ذاتی خیالات حجتِ شرعیہ نہیں۔
سوال:و۔۔۔ شیخ محمد عبدہ کی تفسیر اور کتاب محلّٰی مسلمانوں میں مروّج اور مدارسِ اسلامیہ میں زیرِ تعلیم ہے یا نہ؟
جواب:و۔۔۔ شیخ محمد عبدہ کی تفسیر اور کتاب محلّٰی یہاں مسلمانوں میں مروّج نہیں، نہ مدارسِ اسلامیہ میں داخلِ نصاب ہے۔
سوال:ز۔۔۔ مجمع البحار عقائد کی کتاب ہے یا لغت کی؟ کتابِ ھٰذا میں اِمام مالکؒ کے قول ’’مات عیسیٰ‘‘ کے کیا معنی کئے گئے ہیں؟
جواب:ز۔۔۔ مجمع البحار لغات کی کتاب ہے، عقائد یا حدیث کی کتاب نہیں، احادیث کا ذِکر لغات کے ضمن میں تبعاً آجاتا ہے، اِمام مالکؒ سے یہ قول ثابت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ ’’مالک‘‘ سے اِمام مالکؒ مراد ہیں یا اور کوئی؟
سوال:ح۔۔۔ کتابِ مذکور ج:۱ ص:۲۸۶ میں تحریر ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدِ تواتر کو پہنچتا ہے۔‘‘
جواب:ح۔۔۔ ہاں مجمع البحار ج:۱ ص:۲۸۶ میں یہ عبارت موجود ہے: ’’لتواتر خبر النزول‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر متواتر ہونے کی جہت سے۔ نیز اسی کتاب کے تکملہ کے ص:۸۵ میں ہے: ’’بأن یتزوّج ویولد لہ وکان لم یتزوّج قبل رفعہ إلی السماء‘‘ (انتہٰی ملخّصًا) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر نکاح کریں گے اور اولاد بھی ہوگی، کیونکہ آسمان پر جانے سے پہلے انہوں نے نکاح نہیں کیا تھا۔
سوال:ط۔۔۔ قرآن مجید اور اَحادیثِ صحیحہ اور تواتر کے مقابلے میں چند اَشخاص کے خیالات دُرست عقیدہ قائم کرنے کے لئے حجت ہوسکتے ہیں؟
644
جواب:ط۔۔۔ نہیں!
۳:۔۔۔متعلقہ جرح نمبر۷
سوال:الف۔۔۔ مرزاقادیانی کا فتویٰ ’’فتاویٰ احمدیہ‘‘ ج:۲ ص:۸۱ میں تحریر ہے:
’’(جنگ) جہاد کا فتویٰ فضول ہے، اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے۔‘‘
نیز رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد میں مرزاقادیانی نے جہاد کو غیرضروری قرار دیا ہے۔ کیا یہ عقیدہ قرآن شریف کے عقیدے کے موافق ہے یا برخلاف؟
۳:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۷
جواب:الف۔۔۔ جہاد کے فضول ہونے کا عقیدہ جو مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے، قرآن وحدیث اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ مرزاقادیانی نے شریعتِ محمدیہ کے ایک قطعی حکم کو منسوخ کردیا جو صریح کفر ہے۔
۴:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۸-اے، بی
سوال:الف۔۔۔ اِزالہ اوہام ص:۴۲۲ و ص:۷۶۱ (خزائن ج:۳ ص:۵۱۱) اور حمامۃالبشریٰ ص:۹۶ (خزائن ج:۷ ص:۳۲۵) کی عبارت پڑھ کر کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے ختمِ نبوّت کو تسلیم کیا یا نہیں؟ اور اپنی نبوّت کی نفی کی یا نہیں
۴:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۸-اے، بی
جواب:الف۔۔۔ اِزالہ اوہام ص:۷۶۱ (خزائن ج:۳ ص:۵۱۱) میں ہے:
’’قرآنِ کریم بعد خاتم النّبیین کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا، خواہ وہ نیا رسول ہو یا پُرانا، کیونکہ رسول کو علمِ دِین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور بابِ نزولِ جبرئیل بہ پیرایہ وحیٔ رِسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دُنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلۂ وحیٔ رِسالت نہ ہو۔‘‘
اور حمامۃالبشریٰ ص:۲۰ (خزائن ج:۷ ص:۲۰۰) پر لکھتے ہیں:
’’وکیف یجیی نبی بعد رسولنا صلی ﷲ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم ﷲ بہ النّبیین۔‘‘
یعنی ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کس طرح آسکتا ہے، حالانکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اللّٰہ نے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔
سوال:ب۔۔۔ نزولِ مسیح نمبر۲ (خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۰) وتتمہ حقیقۃ الوحی ص:۸ (خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳) دیکھ کر بتلائیں کہ مرزاقادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا یا نہیں؟ اور اگر کیا تو کیا یہ دعویٰ ختمِ نبوّت کا عملاً وعمداً اِنکار ہے یا نہیں؟
جواب:ب۔۔۔ نمبر۴۱ کے جواب میں مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں نقل کرچکا ہوں جن سے ان کا دعویٔ نبوّت ثابت ہوتا
645
ہے، اور یہ بات یقینی ہے کہ پہلے وہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین مانتے تھے، اور بعد میں انہوں نے ختمِ نبوّت کا اِنکار کردیا، بلکہ ختمِ نبوّت کے عقیدے پر اِعتراض جڑے اور اس کی ہنسی اُڑائی۔
۵:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۹
سوال:الف۔۔۔ کیا چراغ دِین ساکن جموں نے جو متبعِ شریعتِ محمدیہ ہونے کے علاوہ مرزاقادیانی کا مرید بھی تھا، دعویٰ نبوّت کا مرزاقادیانی کے دائرۂ اِرادت میں کیا؟ مرزاقادیانی نے اس کے متعلق دافع البلاء ص:۲۱ پر لعنۃ ﷲ علی الکافرین کا تمغہ عطا کرکے کفر کا فتویٰ دیا یا نہیں؟ اس کے علاوہ مختار ثقفی اور ابوالطیب متنبی وغیرہ نے دعویٔ نبوّت عہدِ اِسلام میں آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کیا، ان کی بابت شرع نے کیا حکم دیا اور ان کا کیا حشر ہوا؟
۵:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۹
جواب:الف۔۔۔ ہاں دافع البلاء ج:۲۲ ص:۱۹ ملخص (خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۹،۲۴۲) میں چراغ دِین کو مدعیٔ رِسالت ہونے کی بنا پر لعنۃ ﷲ علی الکافرین کا حکم لگایا ہے، اور اس کی رِسالت کو ناپاک رِسالت قرار دیا ہے۔‘‘ اِسلام نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ہر مدعیٔ نبوّت کو کاذِب اور ملعون قرار دِیا اور مدعیانِ نبوّت اکثر ذِلت وخواری سے قتل کئے گئے۔
سوال:ب۔۔۔ کیا قرآن مجید کے الفاظ ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (جس کا معنی مرزاقادیانی نے ازالہ اوہام ص:۶۱۴ (خزائن ج:۳ ص:۴۳۱) میں ختم کرنے والا نبیوں کا کیا ہے) کے متعلق قرآن مجید میں یہ بتلایا گیا ہے کہ بعض قسم کے نبیوں کی تعداد ختم ہوگئی ہے، اور بعض قسم کی ختم نہیں ہوئی؟ اگر یہ نہیں بتلائی گئی تو پیروی کرنے والے اور غیرپیروی کرنے والے ہر قسم کے نبیوں کی تعداد ختم مانی جائے گی یا نہیں؟
جواب:ب۔۔۔ مرزاقادیانی نے ازالہ اوہام ص:۶۱۴ (خزائن ج:۳ ص:۴۳۱) میں ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کے معنی خود یوں کئے ہیں: ’’ختم کرنے والا نبیوں کا۔‘‘
اس کی تشریح خود یوں بیان کی:
’’یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دُنیا میں نہیں آئے گا۔‘‘
اس کے علاوہ ہم جواب نمبر۴۱ کے ماتحت مرزاقادیانی کی عبارت نقل کرچکے ہیں، جس میں انہوں نے خود حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد ہر مدعیٔ نبوّت ورِسالت کو کاذِب اور کافر قرار دِیا ہے، اور قرآن مجید کی آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کا یہ مفہوم کہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا، مرزاقادیانی نے اہلِ سنت والجماعت کا مُسلَّم الثبوت عقیدہ تسلیم کیا ہے، اور فی الحقیقت تمام اُمتِ محمدیہ کا یہی عقیدہ ہے کہ نبوّت بالکلیہ ختم ہوچکی۔
سوال:ج۔۔۔ کیا شیخ ابنِ عربیؒ اور مُلَّا علی قاریؒ اور مولانا محمد قاسمؒ اور مولانا عبدالحیؒ اور شیخ محمد طاہرؒ یا کسی اور معتبر عالم
646
نے اپنی کسی کتاب میں یہ اِعتقاد ظاہر کیا ہے کہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نیا نبی پیدا ہوگا یا ہوسکتا ہے؟ بشرطیکہ اِعتقادی بات لکھی ہو، نہ کہ فرضی یا شرعی۔ نیز نبی کے ساتھ جدید کی صفت بھی ایزاد کی ہو نہ کہ پُرانا۔
جواب:ج۔۔۔ ان بزرگوں نے اور کسی معتبر عالم نے یہ نہیں لکھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوّت عطا ہوگا اور کوئی نبی بن کر مبعوث ہوسکے گا۔
سوال:د۔۔۔ مجمع البحار ص:۸۵ پر درج ہے یا نہیں کہ: آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نبی کے آنے سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے؟
جواب:د۔۔۔ تکملہ مجمع البحار ص:۸۵ میں ہے:’’وھٰذا ناظر إلٰی نزول عیسٰی‘‘ (۱) یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد جو نبی آنے والا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو نازل ہوں گے، اور وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کے نبی ہیں۔ یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ان کو منصبِ نبوّت عطا نہیں ہوگا۔
سوال:ہ۔۔۔ کیا رسالہ عقائدِ احمدیہ ص:۱۴ میں مرزاقادیانی کا اُصول درج ہے کہ: ’’جو حدیث قرآن مجید اور صحیح بخاری کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں‘‘ کیا اُصولِ مذکورہ کے مطابق حدیث مندرجہ سوال بوجہ مخالفت آیت قرآن ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ اور حدیث صحیح بخاری (ج:۴ ص:۵۸ مطبوعہ مصر) اور ابنِ ماجہ: ’’لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ ولٰکن لا نبی بعدہ‘‘ کے قابلِ رَدّ ہے یا نہیں؟ ونیز حدیث مندرجہ سوال کے متعلق حاشیہ ابنِ ماجہ میں مرقوم ہے کہ حدیث مندرجہ سوال جرح کا راوی متروک ہے (قابلِ قبول نہیں)۔ اور کیا جس طرح آیت: ’’إِن کَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ‘‘(الزخرف:۸۱) توحیدِ باری تعالیٰ والفاظ سورۂ اِخلاص ’’لَمْ یَلِدْ‘‘ کے منافی نہیں، اسی طرح حدیث مندرجہ سوال بفرض صحت ختمِ رِسالت کے منافی نہیں یا ہے؟
جواب:ہ۔۔۔ کتاب عقائدِ احمدیت تو موجود نہیں۔ مگر یہ اُصول مرزاقادیانی نے کئی کتابوں میں لکھا ہے۔ مثلاً: حمامۃالبشریٰ ص:۱۱ (خزائن ج:۷ ص:۱۸۸) میں لکھتے ہیں:
’’ولا اظن احدًا من العالمین العاملین المتقین ان یقدم غیر القرآن علی القرآن او یضع القرآن تحت حدیث مع وجود التعارض بینھما ویرضی لہ ان یتبع آحاد الآثار ویترک بینات القرآن۔‘‘
یعنی میں تو کسی عالم باعمل پر بدگمانی نہیں کرسکتا کہ وہ غیرقرآن کو قرآن پر مقدم کرے، اور باوجود تعارض کے قرآن کو حدیث کے قدموں کے نیچے ڈال دے اور اپنے لئے پسند کرے کہ ان آثار کا متبع ہوکر جو آحاد ہیں قرآن کے بینات کو ترک کرے۔‘‘
پس اس قاعدے کے ماتحت حدیث:’’لو قضی ان یکون بعد محمد نبی لعاش ابنہ‘‘ صحیح اور دُرست ہے، اور ’’لو عاش کان نبیا‘‘ والی روایت ناقابلِ اِعتماد ہے۔
(۱) مجمع بحار الأنوار ج:۵ ص:۴۶۴، طبع دائرۃ المعارف العثمانیۃ، دکن، ھند۔
647
کتاب تمییز الطیب من الخبیث میں حدیث: ’’لو عاش إبراھیم لکان نبیًّا‘‘ کے متعلق لکھا ہے: ’’قال النووی فی تھذیبہٖ: ھٰذا الحدیث باطل‘‘ یعنی اِمام نوویؒ نے اپنی کتاب ’’تہذیب‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔
الغرض حدیث: ’’لو عاش إبراھیم لکان صدیقًا نبیًّا‘‘ اوّل تو صحیح نہیں، اور بفرضِ صحت اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے۔ آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ قطعی ہے، اور ختمِ نبوّت کا مسئلہ اِجماعی مسئلہ ہے۔ مرزاقادیانی نے خود اسی مضمون کو اپنی پہلی کتابوں میں تسلیم کیا ہے کہ تمام اہلِ سنت والجماعت کا مُسلَّم الثبوت عقیدہ یہی ہے۔ وہ حمامۃ البشریٰ ص:۲۰ (خزائن ج:۷ ص:۲۰۰) میں لکھتے ہیں:
’’وکیف یجیء نبی بعد رسولنا صلی ﷲ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم ﷲ بہ النّبیین‘‘
یعنی ’’اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کیونکر آئے، حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحیٔ نبوّت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا ہے۔‘‘
اس سے پہلے لکھ چکے ہیں حمامۃ البشریٰ ص:۲۰ (خزائن ج:۷ ص:۲۰۰):
’’الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیا صلی ﷲ علیہ وسلم خاتم الأنبیاء بغیر إستثناء وفسرہ نبیّنا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوزنا ظھور نبی بعد نبینا صلی ﷲ علیہ وسلم لجوزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقھا وھٰذا خُلف کما لا یخفی علی المسلمین۔‘‘
’’یعنی کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رَبّ نے ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے طالبوں کے لئے بیانِ واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور اگر ہم آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحیٔ نبوّت کے دروازے کا اِفتتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں، اور یہ باطل ہے، جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں۔‘‘
ان عبارتوں سے مرزاقادیانی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی حتیٰ کہ عیسیٰ بن مریم بھی نہیں آسکتے، کیونکہ یہ ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ اور ’’لا نبی بعدی‘‘ کے خلاف ہے۔ اور اس میں صاف اِقرار ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحیٔ نبوّت بند ہوچکی اور اَب اس کا دروازہ کھلنا محال اور باطل ہے۔
۵:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۰
سوال:۔۔۔ اگر کوئی شخص کسی عالم یا محدث کو دُنیا کا آخری عالم یا آخری محدث بتائے، اس کا یہ کہنا اپنی دانست کے
648
مطابق اور اپنی معلومات کی بنا پر ہوگا یا خدا کے علم کے مطابق کہا ہوگا؟ اور کیا قرآن مجید میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور لوگوں کے ایسے الفاظ بولنے سے قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کے قانون مقرّر کردہ میں کچھ فرق آجائے گا یا نہ؟
۵:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۰
جواب:۔۔۔ میں جواب نمبر۱۰ میں بیان کرچکا ہوں کہ ہمارا کسی کو خاتم المحدثین یا خاتم الفقہاء کہنا مبالغے کی جہت سے ہوتا ہے نہ کہ حقیقت کے لحاظ سے۔ مگر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا لقب خاتم الانبیاء یا خاتم النّبیین حقیقت پر مبنی ہے، اس کو مبالغے پر حمل نہیں کرسکتے۔
۶:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۳
سوال:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۸۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۹۲) دیکھ کر بتلائیں کہ مرزاقادیانی نے اس میں لکھا ہے یا نہیں؟ کہ: ’’آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت (یعنی مرزاقادیانی کا) سب سے اُوپر بچھایا گیا۔‘‘
نیز تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۴) میں لکھا ہے یا نہیں؟ کہ : ’’میرے معجزات اس قدر ہیں کہ بہت کم نبی ایسے آئے جنہوں نے اس قدر معجزات دِکھائے ہوں۔‘‘
اور نزولِ مسیح ص:۹۹،۱۰۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷،۴۷۸) میں لکھا ہے یا نہیں؟:
-
آدمم نیز احمدِ مختار
در برم جامۂ ہمہ ابرار
-
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
اور تحفۂ گولڑویہ خورد ص:۴۰ (خزائن ج:۱۷ ص:۵۳) پر مرزاقادیانی نے یہ تحریر کیا ہے کہ: ’’آنحضور کے تین ہزار معجزات تھے۔‘‘
اور براہین احمدیہ جلد پنجم ص:۵۶ (خزائن ج:۲۱ ص:۷۲) پر یہ تحریر کیا ہے کہ: ’’مرزاقادیانی کی نشانیاں اور معجزات دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔‘‘
کیا عباراتِ مندرجہ بالا سے یہ نتیجہ اخذ نہیں ہوتا کہ مرزاقادیانی تمام انبیاء سے افضل ہیں؟
۶:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۳
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی کے یہ اقوال میں اُوپر بھی بتاچکا ہوں اور مزید حوالے بھی اب بتاتا ہوں۔
’’آسمان سے کئی تحت اُترے، پر تیرا تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۹، خزائن ج:۲۲ ص:۹۲)
’’نزلت سرر من السماء ولٰکن سریرک وضع فوق کل سریر۔‘‘
(الاستفتاء ص:۸۳، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰۹)
649
یعنی آسمان سے کئی تخت اُترے، لیکن تیرا تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا۔
’’خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دِکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دِکھائے ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶، خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۴)
نزول المسیح ص:۹۹ (خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷) میں یہ شعر موجود ہیں، اور تحفہ گولڑویہ کے ص:۴۰ (خزائن ج:۱۷ ص:۱۵۳) میں یہ مضمون ہے کہ:
’’آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تین ہزار معجزات ظہور میں آئے۔‘‘ (۱)
اور براہین احمدیہ پنجم ص:۵۶ (خزائن ج:۲۱ ص:۷۲) پر یہ مضمون ہے:
’’ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اوّل درجے پر خارقِ عادت ہیں۔‘‘
اور حقیقۃ الوحی ص:۶۷ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۰) پر لکھتے ہیں کہ:
’’میری تائید میں اس نے (خدا نے) وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ء ہے، اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘
ان عبارتوں سے اور نیز ان عبارتوں سے جو ہم نے سوال نمبر۱۳ کے جواب میں لکھوائی ہیں، یہ بات آفتاب کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ مرزاقادیانی تمام انبیاء اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رُوحانیت کو ہلال اور اپنی رُوحانیت کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دیتے تھے۔
۷:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۷و۱۸
یہ جرح متعلق بمقدمہ ھٰذا نہیں ہے، اور نہ گواہ سے تعلق رکھتا ہے۔
۷:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۷و۱۸
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۹
یہ جرح بھی غیرمتعلق ہے، فریقِ مقدمہ میں سے کوئی شیعہ نہیں ہے۔
(۱) یہ قادیانی کی عبارت کا خلاصہ ہے، پوری عبارت اس طرح ہے: ’’مثلاً کوئی شریرالنفس اُن تین ہزار معجزات کا کبھی ذِکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔‘‘ (تحفۂ گولڑویہ ص:۴۰، خزائن ج:۱۷ ص:۱۵۳، جدید ایڈیشن)۔
650
۸:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۹
۹:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۹-الف
سوال:۔۔۔ کیا ایک شخص باوجود کسی کے دعویٔ محبت کرنے کے اس کی توہین کرسکتا ہے یا نہ؟ مرزاقادیانی نے آپ کے علم میں عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے یا نہ؟ کیا مرزاقادیانی نے دافع البلاء ص:۲۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۴۰) میں یہ تحریر کیا ہے کہ:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
اور کیا منافق لوگ دعویٔ اِیمان کے باوجود آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کے الفاظ اِستعمال کرتے تھے یا نہیں؟ اور کیا مرزاقادیانی نے کشتی نوح کے ص:۱۶ (خزائن ج:۱۹ ص:۱۸) پر حضرت عیسیٰ کی عزّت کا دَم بھرکے ان کی والدہ ماجدہ پر ناپاک اِتہام لگایا ہے کہ انہوں نے حمل کی حالت میں نکاح کیا تھا، اس کی مخصوصیت کے متعلق قرآن میں کیا ذِکر ہے؟
۹:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۱۹-الف
جواب:۔۔۔ بہت سے دعویٔ محبت کرنے والے بھی توہین کرتے ہیں، خصوصاً جبکہ یہ دعویٰ صدق واخلاص پر مبنی نہ ہو۔ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے جیسا کہ ہم سوال نمبر۱۹ کے جواب میں لکھواچکے ہیں۔ دافع البلاء ص:۲۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰) میں یہ شعر موجود ہے:
-
ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
نیز اسی دافع البلاء ص:۲۰ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰،۲۴۱) پر ہے:
’’اور اگر تجربہ کی رُو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
اور ازالۃ الاوہام ص:۱۵۸ (خزائن ج:۳ ص:۱۸۰) پر ہے:
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پا بہ منبرم
۱۰:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۰
سوال:۔۔۔ اگر زید یہ دعویٰ کرے کہ میں انگلستان کے بادشاہ کا مثیل ہوں یا درحقیقت شاہِ انگلستان ہوں، کیا یہ شاہِ انگلستان کی توہین نہیں؟ کیا مرزاقادیانی مثیلِ مسیح کا دعویٰ ترک کرکے خود مسیحِ موعود بنے یا نہیں؟ اس کے متعلق ازالہ اوہام ص:۱۹۰ (خزائن ج:۳ ص:۱۹۲) اور نزولِ مسیح ص:۴۸ (خزائن ج:۱۸ ص:۴۲۶) اور دافع البلاء ص:۱۸ (خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰) کا ملاحظہ کرکے جواب دیں۔ مثیلِ مسیح موعود اور خود مسیحِ موعود میں فرق بتلادیں۔
651
۱۰:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۰
جواب:۔۔۔ ہم سوال نمبر۲۰ کے جواب میں لکھواچکے ہیں کہ مرزاقادیانی نہ صرف مثیلِ مسیح بنے بلکہ وہ تمام انبیاء کے مثیل بنے۔ پھر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بروز بن گئے، یہاں تک کہ پکار اُٹھے:
’’من فرّق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رأیٰ۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۲۵۹، خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۹)
یعنی جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھ کو نہ دیکھا اور نہ پہچانا۔ اور ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’میں محمد ہوں یعنی بروزی طور پر۔‘‘
( تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۸۵، خزائن ج:۲۲ ص:۵۲۱)
غرضیکہ مثیلِ مسیحِ موعود سے ترقی کرکے مسیحِ موعود بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بروز بن گئے، بلکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے افضلیت کا دعویٰ کردیا۔ اور اس سے بڑھ کر انبیاء اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی توہین اور کیا ہوگی۔۔۔!
۱۱:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۱
سوال:۔۔۔ کیا کسی مخالفت کی وجہ سے کسی معزّز کی توہین کرنا دُرست ہے یا نہ؟ کیا قرآن مجید کی سورۂ مائدہ میں ہے کہ: ’’کسی قوم کی دُشمنی تمہیں مجرم نہ بنادے‘‘ کیا مرزاقادیانی نے ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۷ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱) میں لکھا ہے کہ: ’’آپ کا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں، نانیاں زِناکار کسبیاں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘ نیز صفحہ:۵ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹) میں لکھا ہے کہ: ’’آپ کو یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘
۱۱:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۱
جواب:۔۔۔ اِلزامی رنگ میں بھی ایسا جواب نہیں دیا جاسکتا جس سے کسی معزّز نبی یا ولی کی توہین ہوتی ہو۔ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ:
’’ایسا کرنا سفاہت اور جہالت ہے، کچھ تعجب نہیں کہ کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو، جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔‘‘
(تبلیغِ رسالت جلد دہم ص:۱۰۲، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۵۴۴)
۱۲:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۲۲ تا ۲۶
سوال:۔۔۔ کیا مولوی رحمت اللّٰہ یا مولوی آلِ حسن اور مولوی جامی معصوم تھے؟ ان کے اقوال کسی مذہب کے لئے حجت ہوسکتے ہیں؟ اور کیا مرزاقادیانی نے دعویٔ نبوّت کیا؟ اور نزولِ مسیح ص:۴ (خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۲) میں لکھا ہے کہ جو میرے مخالف
652
تھے ان کا نام بجائے عیسائی یہودی اور مشرک رکھا گیا ہے اور اگر مولوی رحمت اللّٰہ یا مولوی آلِ حسن یا کوئی مولوی کسی نبی کی توہین کرے تو مسلمان رہ سکتا ہے یا نہ؟
۱۲:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۲۲ تا ۲۶
جواب:۔۔۔ مولوی رحمت اللّٰہ، مولوی آلِ حسن اور مولانا جامی معصوم نہیں تھے، نہ ان کے اقوال حجت ہوسکتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے یقینا دعویٔ نبوّت کیا اور نزول المسیح ص:۴ حاشیہ (خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۲) میں یہ عبارت موجود ہے:
’’اگر خدانخواستہ یہ لوگ بھی کسی نبی کی توہین کرتے تو یہ بھی مسلمان نہیں رہ سکتے تھے۔‘‘
۱۳:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۷ تا ۳۰
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے دیباچہ براہین احمدیہ ص:۱۵ (خزائن ج:۱ ص:۲۳) میں تحریر کیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کثیف کہے وہ بدکار ہے۔ اور پھر اِزالہ اوہام ص:۴۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۲۶ حاشیہ) میں تحریر کیا ہے کہ: ’’معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔‘‘ اور اِزالہ اوہام ص:۶۹۱ (خزائن ج:۳ ص:۴۷۳) میں لکھا ہے کہ: ’’آنحضورسروَرِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حقیقت دجال وغیرہ کی پوری معلوم نہ ہوئی تھی۔‘‘ نیز صفحہ:۳۴۶ میں لکھا ہے کہ: ’’ابنِ مسعود ایک معمولی آدمی تھا۔‘‘ اور اِزالہ اوہام ص:۶۲۹ (خزائن ج:۳ ص:۴۳۹) پر لکھا ہے کہ: ’’چارسو نبی کی پیش گوئی غلط نکلی۔‘‘ کیا یہ اِندراجات نبی کریم اور دیگر انبیائے کرام کی توہین کے محتمل ہیں؟
۱۳:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۲۷ تا ۳۰
جواب:۔۔۔ ہاں دیباچہ براہین کے صفحہ:۱۵ (خزائن ج:۱ ص:۲۳) میں یہ شعر ہے:
-
لعل تاباں را اگر گوئی کثیف
زیں چہ کاہد قدر روشن جوہرے
-
طعنہ بر پا کان نہ برپا کان بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے
اور اِزالہ اوہام ص:۴۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۲۶) کے حاشیہ میں یہ عبارت موجود ہے:
’’سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔‘‘
اور اِزالہ اوہام ص:۶۹۱ (خزائن ج:۳ ص:۴۷۳) میں یہ عبارت موجود ہے:
’’اگر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ابنِ مریم اور دَجال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو (الیٰ قولہٖ) تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔‘‘
اور اِزالہ اوہام ص:۶۲۹ (خزائن ج:۳ ص:۴۳۹) میں لکھا ہے کہ:
653
’’ایک بادشاہ کے وقت میں چارسو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی ۔۔۔الخ۔‘‘
یہ عبارتیں یقینا توہینِ ضمنی یا توہینِ صریح میں داخل ہیں۔
۱۴:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۰
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے آئینہ کمالات ص:۵۴۷ (خزائن ج:۵ ص:۵۴۷،۵۴۸) میں لکھا ہے کہ: ’’ہر مسلم مجھے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد نہیں قبول کرتی۔‘‘ انجامِ آتھم ص:۲۶۸ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۶۸) میں لکھا ہے کہ: ’’منکر کتے اور کتے کے بچے ہیں۔‘‘ اور کیا حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷) میں لکھا ہے کہ: ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
۱۴:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۰
جواب:۔۔۔ ہاں آئینہ کمالاتِ اسلام کے ص:۵۴۷،۵۴۸ (خزائن ج:۵ ص:۵۴۷،۵۴۸) میں یہ عبارت ہے:
’’تلک کتب ینظر إلیھا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفھا ویقبلنی ویصدق دعوتی إلَّا ذُرّیّۃ البغایا الذین ختم ﷲ علٰی قلوبھم فھم لا یقبلون۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’یہ کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان محبت اور دوستی کی نظر سے دیکھتا ہے، اور ان کے معارف سے فائدہ اُٹھاتا ہے، اور مجھے قبول کرتا ہے، اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے، مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دِلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے وہ قبول نہیں کرتے۔‘‘
نیز الاستفتاء کے ص:۹۰ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۸) میں ہے:
’’من انکر الحق المبین فإنہ کلب وعقب الکلب سرب ضراء‘‘
یعنی جو کھلے ہوئے حق کا اِنکار کرے وہ کتا اور کتے کی اولاد ہے ۔۔۔الخ۔
نیز اسی قصیدہ میں ص:۱۰۷ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۳۵) پر ہے:
-
آذیتنی خبثا فلستُ بصادق
إن لم تمت بالخزی یا ابن بغاء
یعنی اپنے ایک منکر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
’’تو نے مجھے ستایا ہے اپنی خباثت سے، تو میں سچا نہ ہوں گا اگر تو ذِلت سے نہ مرا اے کنجری کے بچے یا اے حرام زادے!‘‘
نیز حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷) میں مرزاقادیانی کا یہ قول موجود ہے:
654
’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
۱۵:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۳۱و۳۲
سوال نمبر۳۱ و۳۲ غیرمتعلق مقدمہ ہے۔
۱۶:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۳۳
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی کے اِلہامات بھی ہیں جن کی تشریح مرزاقادیانی نے خود کی اور بعد میں اس تشریح سے منحرف ہوگئے؟ کیا مرزاقادیانی نے ازالہ اوہام ص:۳۹۶ (خزائن ج:۳ ص:۳۰۵) میں احمدبیگ کی لڑکی کا نکاح اپنے ساتھ ہونے کی بابت پیش گوئی کی اور اِلہام مفصل ومشرح درج کیا اور پھر اس تشریح کے پابند رہے؟ کیا مرزاقادیانی نے حقیقۃ الوحی ص:۳۳۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۳۵۲) میں صاف الفاظ لکھے ہیں کہ: ’’پہلے میر انام مریم رکھا گیا اور ایک مدّت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا۔‘‘ اور ص:۷۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۹) پر یہ اِلہام درج ہے کہ: ’’یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ ’’اے مریم! تو اور تیرے دوست جنت میں داخل ہوں۔‘‘ اور کشتی نوح ص:۹۵ (خزائن ج:۱۹ ص:۵۳) میں لکھا ہے کہ: ’’وضعِ حمل رُوحانی ہوا‘‘؟
کیا مرزاقادیانی بعد میں ایسے اِلہامات پر قائم رہے؟ اور کیا حقیقۃ الوحی ص:۱۰۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۸) میں یہ اِلہام درج ہے کہ: ’’إنما امرک إذا اردت شیئًا ان تقول لہ کن فیکون‘‘ ’’تو جس بات کا اِرادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فوراً ہوجاتا ہے۔‘‘ اور ص:۲۵۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۲۶۷) پر لکھا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ نے بغیر کسی تأمل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کردئیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھرکا، جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح جھاڑ دیتے ہیں، اور پھر دستخط کردئیے۔‘‘ اور کتاب البریہ وآئینہ کمالات میں مفصل کہا ہے کہ: ’’میں خود خدا ہوں‘‘ کیا ایسے اِلہامات کے متعلق مرزاقادیانی کا اِعتقاد پختہ ہے؟
۱۶:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۳۳
جواب:۔۔۔ ہاں ایسے اِلہام ہیں۔ اِزالہ اوہام ص:۲۹۶ (خزائن ج:۳ ص:۳۰۵) میں یہ اِلہام درج ہے:
’’خداتعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماںبیگ ہشیارپوری کی دُخترِکلاں انجامِ کار تمہارے نکاح میں آئے گی، اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے، اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو، لیکن آخرکار ایسا ہی ہوگا۔ اور فرمایا کہ خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا، باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کرکے، اور ہر ایک روک کو درمیان سے اُٹھادے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا، کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
پھر دُوسرا اِلہام تبلیغِ رِسالت جلد دوم ص:۸۵، مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۳۰۱ پر یہ ہے:
’’ویسئلونک احق ھو قل إی وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین زوجناکھا لا مبدل
655
لکلماتہ۔‘‘
’’اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے؟ کہہ ہاں مجھے اپنے رَبّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے! اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے، ہم نے خود اس سے (محمدی بیگم سے) نکاح باندھ دیا ہے، میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔‘‘
پھر جب محمدی بیگم کا نکاح دُوسری جگہ ہوگیا تو مرزاقادیانی کو دُوسری طرح اِلہام ہونے لگے۔ انجامِ آتھم ص:۲۱۶ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۱۶) میں ان کا یہ اِلہام ہے:
’’فسیکفیکھم ﷲ ویردھا إلیک لا تبدیل لکلمات ﷲ‘‘ بین السطور - وبرائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد وآں زن را کہ زن احمد بیگ را دُختر است باز بسوئے تو خواہم آورد۔‘‘
اسی طرح ایک اور اِلہام انجامِ آتھم ص:۲۲۳ (خزائن ج:۱۱ ص:۲۲۳) میں درج ہے:
’’بل الأمر قائم علٰی حالہ ولا یردہ بإحتیالہ والقدر قدر مبرم من عند الربّ العظیم۔‘‘
’’بلکہ اصل اَمر برحال خود قائم است وہیچ کس باحیلہ خود او را در نتواند کرد وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است۔‘‘
ان اِلہاموں کے باوجود مرزاقادیانی مرگئے اور محمدی بیگم اپنے شوہر کے پاس رہی۔ یہ سارے اِلہام غلط اور جھوٹے نکلے۔!
حقیقۃ الوحی ص:۳۳۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۳۵۲) میں یہ درج ہے کہ:
’’(خدا نے) پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدّت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا۔‘‘
اور ص:۷۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۹) پر یہ اِلہام بھی درج ہے:
’’یا مریم اسکن انت وزوجک الجنّۃ۔‘‘
اور پھر مرزاقادیانی نے کشتی نوح ص:۴۹ (خزائن ج:۱۹ ص:۵۳) میں وضعِ حمل رُوحانی کا ذِکر کیا ہے۔ اور ص:۴۷ (خزائن ج:۱۹ ص:۵۰) پر یہ عبارت درج ہے:
’’مریم کی طرح عیسیٰ کی رُوح مجھ میں نفخ کی گئی اور اِستعارہ کے رنگ مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس اِلہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص:۱۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابنِ مریم ٹھہرا۔‘‘
حقیقۃ الوحی کے ص:۱۰۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۸) اور الاستفتاء کے ص:۸۶ (خزائن ج:۲۲ ص:۷۱۴) پر یہ اِلہام درج ہے:
’’إنما امرک إذا اردت شیئًا ان تقول لہ کن فیکون۔‘‘
656
اور حقیقۃ الوحی ص:۲۵۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۲۶۷) پر درج ہے:
’’اور اللّٰہ تعالیٰ نے بغیر کسی تأمل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کردئیے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا ۔۔۔(الیٰ قولہ)۔۔۔ سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے۔‘‘
مرزاقادیانی اپنی وحی اور اِلہام پر ایسا ہی اِیمان رکھتے تھے جیسا کہ قرآن پر، ان کا قول ہے:
’’میں خداتعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۱۱، خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰)
دُوسری جگہ کہتے ہیں:
’’میں خداتعالیٰ کے ان اِلہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں، ایسا ہی اِیمان رکھتا ہوں جیسا کہ توریت اور اِنجیل اور قرآنِ مقدس پر اِیمان رکھتا ہوں۔‘‘
(تبلیغِ رِسالت جلد ہشتم ص:۶۴، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۱۵۴)
ایک اور جگہ لکھا ہے:
’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی اِیمان ہے جیسا کہ توریت اور اِنجیل اور قرآنِ کریم پر۔‘‘
(اربعین چہارم ص:۱۹، خزائن ج:۱۷ ص:۴۵۴)
حوالہ جات سے صاف ثابت ہے کہ مرزاقادیانی اپنے اِلہاموں کو یقینی اور قطعی سمجھتے تھے اور قرآن کی طرح ان پر اِیمان رکھتے تھے۔
۱۷:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۵
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے اِزالۃ الاوہام ص:۴۰۰ (خزائن ج:۳ ص:۳۰۷) پر لکھا ہے کہ: ’’آنحضور نے بھی پیش گوئیوں کے سمجھنے میں غلطی کھائی‘‘؟ ص:۶۲۹ (خزائن ج:۳ ص:۴۳۹) میں لکھا ہے کہ: ’’چار سو نبیوں نے پیش گوئیاں کیں اور جھوٹے نکلے‘‘؟ اور ص:۸ (خزائن ج:۳ ص:۱۰۶) میں تحریر ہے کہ: ’’مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے بھی زیادہ غلط نکلیں‘‘؟
۱۷:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۵
جواب:۔۔۔ ہاں اِزالۃ الاوہام ص:۴۰۰ (خزائن ج:۳ ص:۳۰۷) میں لکھا ہے:
657
’’بعض پیش گوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود اِقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔‘‘
نیز یہ بھی لکھا ہے:
’’ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۴۲۹، خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)
اور لکھا ہے کہ:
’’حضرت مسیح کی پیش گوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۸، خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
یہ تمام مرزاقادیانی کا اِفترا اور اِتہام ہے جو نبیوں پر باندھا گیا ہے۔
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے کشتی نوح ص:۵ (خزائن ج:۱۹ ص:۵) میں لکھا ہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں یہ چیز موجود ہے کہ مسیحِ موعود کے وقت طاعون پڑے گی؟ کیا مرزا نے یہ حوالہ نہیں دیا ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی نے کشتی نوح کے ص:۵ (خزائن ج:۱۹ ص:۵) پر لکھا ہے:
’’قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیحِ موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔‘‘
حالانکہ یہ قرآن پر بہتان ہے اور نرا جھوٹ ہے۔
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے اِزالہ اوہام ص:۷۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۴۰) میں یہ خواب درج کیا ہے کہ تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اِعزاز کے ساتھ درج ہے: مکہ، مدینہ، قادیان؟ کیا یہ حوالہ وخواب سچا ہے یا جھوٹا؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی نے اِزالہ اوہام ص:۷۷ (خزائن ج:۳ ص:۱۴۰) پر اپنا یہ کشف لکھا ہے کہ:
’’اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اِعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے: مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘
اور ظاہر ہے کہ یہ کشف جھوٹا ہے، قرآن شریف میں حقیقۃً قادیان کا نام نہیں۔
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے البشریٰ وغیرہ میں یہ اِلہام درج کیا ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں؟ کیا یہ اِلہام سچا ہے؟
جواب:۔۔۔ کتاب البشریٰ ج:۲ ص:۱۰۵ میں مرزاقادیانی کا یہ اِلہام درج ہے: ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘ حالانکہ یہ اِلہام بالکل جھوٹا ثابت ہوا، مرزاقادیانی لاہور میں مرے اور قادیان میں دفن ہوئے۔
658
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے براہین احمدیہ ص:۴۹۸ (خزائن ج:۱ ص:۵۹۳) میں لکھا ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام بحالتِ زندگی آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘؟ اور پھر اِزالہ اوہام ص:۱۹۷ بار سوم پر لکھا ہے کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوکر وطن گلیل میں فوت ہوگیا۔‘‘؟ اور سست پچن ص:۳ (خزائن ج:۱۰ ص:۳۰۷) میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ملکِ شام میں ہے؟ اور کشتی نوح ص:۳۵ (خزائن ج:۱۹ ص:۵۷،۵۸) میں تحریر کیا ہے کہ: ’’ان کی قبر ملکِ کشمیر میں ہے‘‘؟ ان میں سے کونسی بات سچی ہے؟
جواب:۔۔۔ مرزاقادیانی نے حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳) پر خود لکھا ہے:
’’اگرچہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی، مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اِعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اِعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔‘‘
پھر اِزالہ اوہام ص:۴۷۳ (خزائن ج:۳ ص:۳۵۳) میں ہے:
’’یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوگیا، لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہوچکا تھا پھر زِندہ ہوگیا۔‘‘
پھر تحفۂ گولڑویہ ص:۱۰۲ (خزائن ج:۱۷ ص:۲۶۴) کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
’’یہ ثبوت بھی نہایت روشن دلائل سے مل گیا کہ آپ کی قبر سرینگر علاقہ کشمیر خان یار کے محلہ میں ہے۔‘‘
اور کشتی نوح ص:۱۵ (خزائن ج:۱۹ ص:۱۶) میں ہے:
’’اور تم یقینا سمجھو کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہوگیا ہے اور کشمیر سرینگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔‘‘
ان مختلف تحریرات اور بیانات کا تناقض ظاہر ہے، اور پہلے اِعتقاد کے سوا کہ وہ تمام مسلمانوں کے عقیدے کے موافق ہے، پچھلے بیان غلط اور باطل ہیں۔
۱۸:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۳۶ تا ۳۸
سوال:۔۔۔ کیا نبی اور بزرگ اور ولی کا درجہ ایک ہے؟ مرزاقادیانی پر یہ فتاویٔ کفر جو علمائے اسلام نے دئیے ہیں، وہ ضد کی بنا پر ہیں یا ان کے عقائدِ فاسدہ کی بنا پر؟ کیا فتوے مذکور سچ ہیں یا غلط؟ کیا مرزاقادیانی نے مسلمانوں سے علیحدگی اِختیار کی اور اپنی جماعت الگ بنائی ہے یا نہیں؟ کیا مرزاقادیانی اور ان کی جماعت باقی مسلمانوں کے برخلاف اِجرائے نبوّت اور وفاتِ مسیح اور نبوّتِ مرزاقادیانی کے علی الاعلان قائل ہیں یا نہ؟ اور کیا مرزاقادیانی پر فتویٔ کفر علمائے اسلام نے بالاتفاق دیا ہے یا بالاختلاف؟
۱۸:۔۔۔ متعلقہ جرح نمبر۳۶ تا ۳۸
جواب:۔۔۔ نبی اور ولی کا درجہ ایک نہیں ہوسکتا، نہ کوئی ولی کسی نبی سے افضل ہوسکتا ہے۔ مرزاقادیانی پر کفر کے فتوے
659
علماء نے ان کے عقائدِ فاسدہ کی وجہ سے دئیے ہیں، اور وہ فتوے صحیح ہیں۔ مرزاقادیانی خود اپنے اِقرار کے بموجب کاذِب اور جھوٹے ٹھہرے کہ محمدی بیگم کا نکاح ان کے ساتھ نہیں ہوا اور وہ وفات پاگئے۔ اِقرار یہ ہے کہ:
’’وانی اجعل ھٰذا النبأ معیار الصدقی او کذبی۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۲۲۳، خزائن ج:۱۱ ص:۲۲۳)
یعنی اس خبر کو کہ محمدی بیگم ضرور میرے نکاح میں آئے گی، یہ خدا کا طے کردہ فیصلہ ہے، تقدیرِ مبرم ہے، کوئی اس کو بدل نہیں سکتا، میں اپنے صادق یا کاذِب ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں۔
مرزاقادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، ان کی جماعت دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اور مرزاقادیانی کو نبی اور رسول کہتی ہے، تمام مسلمانوں سے علیحدہ رہتی اور ان کو کافر سمجھتی ہے، اور علمائے اسلام نے بالاتفاق مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کو خارج اَزاِسلام قرار دیا ہے۔ میں ایک مطبوعہ فتویٰ جس میں بہت سے علماء کے دستخط منقول ہیں، پیش کرتا ہوں۔
۱۹:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۹،۴۰
سوال:۔۔۔ کیا مرزاقادیانی نے حقیقۃ الوحی ص:۱۰۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۸) میں یہ اِلہام لکھا ہے کہ: ’’تیرا حکم سے فی الفور ہوجاتی ہے۔‘‘؟ اس اِلہام سے مرزاقادیانی کا درجہ نبوّتِ تشریعی وغیرتشریعی سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا مرزاقادیانی نے ان انبیاء سے جو نئی شریعت لائے، مثلاً: عیسیٰ علیہ السلام، بہتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں؟ کیا مرزاقادیانی لوگوں کے اِعتراضات سے بچنے کے لئے قسم قسم کی تأویلات کیا کرتے تھے یا نہیں؟ کیا مرزاقادیانی نے نزولِ مسیح ص:۹۹ (خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۸) میں اپنی وحی کو قرآن کی طرح منزہ لکھا ہے یا نہیں؟ اور اَربعین نمبر۴ ص:۶،۷ (خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵،۴۳۶) میں دعویٰ کیا ہے یا نہیں کہ میں صاحبِ شریعت ہوں؟ اور حقیقۃ الوحی ص:۲۱۱ (خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰) میں لکھا ہے یا نہیں کہ اپنے اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں جس طرح قرآن پر؟ کیا مرزاقادیانی کے نزدیک اُصولِ دِین وہی رہے جو اس وقت تک تمام مسلمانوں کے رہے؟
۱۹:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۳۹،۴۰
جواب:۔۔۔ حقیقۃ الوحی ص:۱۰۵ (خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۸) پر یہ اِلہام درج ہے:
’’إنما امرک إذا اردت شیئًا ان تقول لہ کن فیکون۔‘‘
تو جس بات کا اِرادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہوجاتی ہے۔‘‘
اس اِلہام سے تو مرزاقادیانی کا درجۂ نبوّت کیا، درجۂ اُلوہیت کا اِدّعا ثابت ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جیسا کہ سوال نمبر۱۳ اور سوال نمبر۱۹-الف کے جواب میں بیان ہوچکا ہے، اور مرزاقادیانی کے اقوال کے حوالے دئیے جاچکے ہیں۔ مرزاقادیانی نے اِعتراضات سے بچنے کے
660
لئے ایسی دُوراَزکار تأویلیں کی ہیں، جن کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، اسی وجہ سے ان کے کلام میں تناقض اور اِختلاف ہے، انہوں نے بے شک دعویٰ کیا کہ ان کی وحی اور اِلہام قرآن کی طرح یقینی ہے، ان کا قول ہے:
-
انچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
-
ہمچو قرآں منزہش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص:۹۹، خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
اور ان کا قول ہے:
’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی اِیمان ہے جیسا کہ توریت اور اِنجیل اور قرآنِ کریم پر۔‘‘
(اربعین چہارم ص:۱۹، خزائن ج:۱۷ ص:۴۵۴)
مرزاقادیانی اس اُصول کی رُو سے جماعتِ مسلمین سے خارج ہوگئے۔۔۔!
۲۰:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۴۷ تا ۵۲
سوال:۔۔۔ نورالانوار، قمر الاقمار وغیرہ کتب اُصولِ دِین دیکھ کر بتلادیں کہ اَئمہ اَربعہؒ جن میں اِمام احمدؒ بھی شامل ہیں، اِجماعِ اُمت کے قائل ہیں یا نہیں؟ کیا کتبِ اُصول میں منکرِ اِجماع کو کفر کا حکم دیا گیا ہے؟ اَئمہ اَربعہؒ کا اس پر اِتفاق ہے یا نہیں؟ عقائدِ احمدیت ص:۲۳ دیکھ کر بتلادیں کہ مرزاقادیانی نے اَئمہ اَربعہؒ کی شان کو تسلیم کیا ہے یا نہیں؟
۲۰:۔۔۔ متعلق جرح نمبر۴۷ تا ۵۲
جواب:۔۔۔ اِجماع حجتِ شرعیہ ہے، اس کے حجت ہونے میں اَئمہ اَربعہؒ کا اِختلاف نہیں ہے۔ نامی شرح حسامی میں ہے:
’’فاتفق جمھور المسلمین علٰی حجیتہ خلافا للنظام والشیعۃ وبعض الخوارج۔ ‘‘
(نامی ج:۲ ص:۲)
یعنی اِجماع کے حجت ہونے پر جمہور مسلمین کا اِتفاق ہے، البتہ نظام اور شیعہ اور بعض خوارج کا اِختلاف ہے۔ اور منکرِ اِجماعِ قطعی کے کافر ہونے میں بھی اِختلاف نہیں ہے۔
۲۱:۔۔۔ متعلق جرح نمبر ۵۳ تا آخر
سوال:۔۔۔ کیا ایک شخص کلمہ گوئی اور دعویٔ اِسلام کے باوجود قرآن مجید اور اَحادیثِ صحیحہ متواترہ کے برخلاف اِعتقاد رکھے، وہ مسلمان ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا جو شخص اپنا اِعتقاد قرآن مجید واَحادیثِ صحیحہ کے مطابق رکھے کافر ہے؟ اور کیا فریقِ اوّل
661
کے مرد کا فریقِ ثانی کی عورت سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور جماعتِ احمدیہ مرزاقادیانی بھی غیراحمدی مرد مسلمان سے احمدیہ عورت کا نکاح جائز سمجھتے ہیں یا نہیں؟
۲۱:۔۔۔ متعلق جرح نمبر ۵۳ تا آخر
جواب:۔۔۔ جو شخص کلمہ گوئی کے باوجود نماز کی فرضیت کا اِنکار کردے، زکوٰۃ کی فرضیت کا اِنکار کردے، روزے کی فرضیت کا اِنکار کردے، یا نبوّت کا دعویٰ کردے، یا کسی نبی کی توہین کرے، یعنی کسی ایسی چیز کا اِنکار کرے جس کا دِین میں سے ہونا بالیقین ثابت ہو، وہ یقینا کافر اور اِسلام سے خارج ہے۔ دیکھو! خود مرزاقادیانی نے اور ان کی جماعت نے تمام دُنیا کے کلمہ گویوں کو اِسلام سے اس بنا پر خارج کردیا کہ وہ مرزاقادیانی پر اِیمان نہیں لائے، حالانکہ وہ قرآن پر اِیمان رکھتے ہیں، کلمہ گو ہیں، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر فرائض وواجبات کو مانتے ہیں، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو رسول، نبی، خاتم الانبیاء والمرسلین اِعتقاد کرتے ہیں، اس کے باوجود مرزاقادیانی اور ان کے خلیفہ اور ان کی جماعت ان تمام مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں۔
مرزاقادیانی کا قول یہ ہے:
’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
مرزاقادیانی خود فرماتے ہیں:
’’کفر دو قسم پر ہے۔ اوّل: ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی اِنکار کرتا ہے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم: یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیحِ موعود کو نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۷۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۵)
اس کا مطلب صاف ہے کہ دُوسری قسم کا کفر مرزاقادیانی نے ان تمام مسلمانوں اور کلمہ گویوں کے لئے ثابت کیا ہے جو اِسلام پر اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھنے کے باوجود مسیحِ موعود ۔۔۔یعنی مرزاقادیانی۔۔۔ پر اِیمان نہ لائیں۔
اسی عبارت سے آگے یہ بھی لکھا ہے کہ:
’’اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
اور وہ یہ کہ مرزاقادیانی کا اِنکار یا تکذیب خدا اور رسول کے اِنکار وتکذیب کی طرح کفر ہے۔
اور مرزاقادیانی کا اِلہام ہے:
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(تبلیغِ رِسالت جلد نہم ص:۲۷، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵)
اور ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ مرزاقادیانی اپنے اِلہام کو قطعی اور یقینی اور قرآن کی طرح منزّہ عن الخطا سمجھتے تھے، پس ان
662
کے اس اِلہام کے بموجب ہر وہ مسلمان جو تمام اِیمانیات پر اِیمان رکھتا ہو، حتیٰ کہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بھی اِیمان رکھتا ہو، ان کے نزدیک بلاشبہ قطعی جہنمی ہے۔ پس مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کے نزدیک تمام غیرقادیانی مسلمان کافر اور جہنمی ہیں۔ اور اسی بنا پر مرزاقادیانی اور ان کی جماعت نے فتویٰ دیا ہے کہ قادیانیوں اور غیرقادیانیوں میں باہم رِشتہ ناتا یعنی شادی مناکحت جائز نہیں ہے۔
’’حضرت مسیحِ موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے، اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔‘‘
(برکاتِ خلافت ص:۷۵، منقول از ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ ص:۵۸۵)
ہمارا یعنی مسلمان کا متفقہ مسئلہ ہے کہ جو مسلمان کافر ہوجائے، وہ مرتد ہے، اور مرتد کے ساتھ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا، اور اگر غیرقادیانی ہونے کی حالت میں نکاح ہوا تھا، بعد میں قادیانی بن گیا تو فی الفور نکاح ٹوٹ جاتا ہے، خاوند کے اِرتداد پر نکاح فسخ ہوجانا متفق علیہ مسئلہ ہے،وارتداد احدھما فسخ عاجل (درمختار)۔ (۱)
(کفایت المفتی ج:۶ ص:۱۵۷ تا ۲۰۹)
✨ 🌟 ✨
(۱)ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳ باب نکاح الکافر۔
663
بابِ سوم
قادیانی سے ثبوتِ نسب کے اَحکام
قادیانی سے نکاح اور ثبوتِ نسب
سوال۱:۔۔۔ بکر قادیانی کا نکاح ایک صحیح العقیدہ عورت زاہدہ سے دُرست ہے یا نہیں؟ اگر دُرست ہے تو ثبوتِ نسب کس سے متعلق ہوگا؟
۲:۔۔۔ دو صحیح العقیدہ زاہدہ اور بکر کا نکاح ہوگیا، اس کے بعد بکر قادیانی ہوگیا تو اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑا یا نہیں؟ ہر دو صورت میں نسب کا تعلق کس سے ہوگا؟
۳:۔۔۔ مندرجہ بالا ہر دو صورت میں جبکہ عورت زاہدہ صحیح العقیدہ ہے نیز اس کا ایک لڑکا زید بھی صحیح العقیدہ ہے، ایک صحیح العقیدہ عورت عابدہ کا نکاح اس لڑکے سے دُرست ہے یا نہیں؟
جواب۱،۲:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! اہلِ سنت والجماعت کے فتوؤں کے مطابق قادیانی اسلام سے خارج ہیں، نہ مسلمان صحیح العقیدہ عورت کا نکاح کسی قادیانی سے دُرست ہوسکتا ہے، نہ بعد میں شوہر کے قادیانی ہوجانے سے وہ نکاح باقی رہ سکتا ہے، بلکہ قادیانی ہوتے ہی فوراً نکاح فسخ ہوجاتا ہے، اولاد مسلمان شمار ہوگی۔(۱)
۳:۔۔۔ شرعاً یہ نکاح صحیح ہوجائے گا، مگر اس کا خیال رہے کہ ماحول کے اثر سے کہیں اس لڑکی کے عقائد پر خلافِ شرع قادیانی اثر نہ پڑے، اس کا پورا اِنتظام کرلیا جائے۔
واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود عفی عنہ |
| بندہ محمد نظام الدین عفی عنہ |
دارالعلوم دیوبند |
| دارالعلوم دیوبند |
|
| ۹؍۷؍۱۳۸۷ھ |
|
(فتاویٰ محمودیہ ج:۱۰ ص:۳۳۰)
(۱)ردالمحتار علی الدر المختار ج:۳ ص:۱۹۳ باب نکاح الکافر۔
664
قادیانی سے نکاح دُرست نہیں اور نہ اس سے بچے کا نسب ثابت ہوگا
سوال:۔۔۔ ایک شخص نے جو اِبتدا سے قادیانی مذہب رکھتا تھا، تقیہ کرکے یعنی چھپاکر مذہب کو ایک اہلِ سنت والجماعت مسلمان لڑکی سے عقد کیا، لیکن قادیانی شخص ہنوز مذہب قادیانی رکھتا ہے، آیا یہ نکاح اِبتدائً صحیح ہوا یا نہیں؟ اور مہر ونفقہ عورت کو ملے گا یا نہیں؟ اور بچے کا نسب ثابت اور صحیح ہوگا یا نہیں؟ اور بچے کا خرچ اور پروَرِش کس کے ذمے ہوگی؟
جواب:۔۔۔ نکاحِ مذکور صحیح نہیں ہوا، اور مہر ونفقہ کچھ لازم نہ ہوگا۔ اور اولاد صحیح النسب اور ثابت النسب نہ ہوگی۔ البتہ ماں سے اولاد کا نسب ثابت ہوگا اور ماں کے ذمے پروَرِش اور نفقہ بچے کا لازم ہوگا۔ اور وراثت ماں سے جاری ہوگی۔کما فی الدر المختار: ویرث ولد الزنا واللعان بجھۃ الاُمّ فقط لما قدماہ فی العصبات انہ لا اب لھما، فقط (درمختار ج:۵ ص:۵۶۵، بافی الحرقی والغرقی، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۱۱ ص:۳۵،۳۶)
مرزائیہ سے نکاح کرلے تو اولاد کے نسب کا حکم
سوال:۔۔۔ مرزائی عورت سے مسلمان مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اس نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ اولاد جائز ہے یا ناجائز؟
جواب:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں ان بچوں کا نسب ثابت ہوگا، درمختار میں ہے: ولا حد ایضًا بشبھۃ العقد ای عقد النکاح عندہ ای الإمام کوطیء محرم نکحھا إلٰی ان قال وحرر فی الفتح بأنھا من شبھۃ المحل وفیھا یثبت النسب اھـ (درمختار علی ردالمحتار ج:۳ ص:۱۶۸، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔
قال الشامی: صوابہ فی النھر فإنہ بعد ما ذکر ما قدمناہ عن الفتح قال وھٰذا انما یتم بناء علٰی انھا شبھۃ اشتباہ قال فی الدرایۃ وھو قول بعض المشائخ والصحیح انھا شبھۃ عقد لأنہ روی عن محمد انہ قال سقوط الحد عنہ بشبھۃ حکمیۃ فیثبت النسب اھـ وھٰذا صریح بأن الشبھۃ فی المحل وفیھا یثبت النسب علٰی ما مر اھـ وفی مجمع الفتاویٰ یثبت النسب عندہ خلافًا لھما (ج:۳ ص:۱۶۹) ۔ محرم کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شامیؒ نے تزوّج مجوسیہ کو بھی داخل کیا ہے، اور عالمگیری میں مجوسیہ ومرتدہ کا ایک حکم لکھا ہے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ
۲۸؍۷؍۱۳۹۹ھ
(خیرالفتاویٰ ج:۵ ص:۲۰۷)
مرزائی سے نکاح کیا تو اولاد ثابت النسب نہ ہوگی
سوال:۔۔۔ مرزائی مرد اور مسلمان عورت کا نکاح ہوسکتا ہے؟ مرزائیوں سے تعلقات رکھنا کیسا ہے؟ مسمّیٰ دلاور نے اپنی بیٹی کا نکاح عنایت قادیانی سے کیا، جبکہ وہ گیارہ سال کی تھی، دس سال آباد رہی، پھر اس کو والد نے گھر بلایا اور دُوسری جگہ بغیر
665
طلاق لئے نکاح کردیا، یہ نکاح کیسے ہے؟ اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے نسب کا حکم کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ یہ نکاح ایسے ہے جیسے کسی عیسائی چوہڑے کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح کردیا جائے، یہ بالکل کالعدم ہے، اور یہ اولاد بھی ولد حرام ہے،نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لا یثبت النسب منہ ولا تجب العدۃ لأنہ نکاح باطل اھـ (شامی ج:۲ ص:۴۲۰، ۴۲۱، طبع مکتبہ رشیدیہ)۔
۲:۔۔۔ ان سے تعلقات رکھنے جائز نہیں، اور ان کے جنازوں ونکاحوں میں شرکت کرنا بھی ممنوع ہے۔
۳:۔۔۔ دُوسرا نکاح جائز نہیں، لہٰذا زوجین میں تفریق کرانا لازم ہے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
بندہ عبدالستار عفی عنہ |
| بندہ محمد اِسحاق غفر لہٗ |
۲۵؍۴؍۱۳۹۵ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۵ ص:۳۱۰)
✨ 🌟 ✨
666
کتاب الحظر والإِباحۃ
بابِ اوّل
جائز وناجائز
قادیانیوں سے میل جول رکھنا
سوال:۔۔۔ میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے، محلے کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی غمی میں شریک ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا، میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ والد صاحب اِنتقال کرچکے ہیں، والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے، میرا اِصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی گھر کو مدعو نہ کریں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے، اب سوال ہے کہ میرے لئے شریعت اور اِسلامی اَحکامات کی رُو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا؟ اس صورتِ حال میں جو بات صائب ہو، اس سے براہِ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔
جواب:۔۔۔ قادیانی مرتد اور زندیق ہیں،(۱) اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دِینی غیرت کے خلاف ہے، اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں، ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے،(۲) واللّٰہ اعلم!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۹،۲۳۰)
(۱)الزندقۃ کفر، والزندیق کافر لأنہ مع وجود الإعتراف بنبوۃ سیّدنا محمد صلی ﷲ علیہ وسلم یکون فی عقائدہ کفر، وھٰذا بالإتفاق۔ (موسوعۃ نضرۃ النعیم ج:۱ ص:۴۵۸۵، طبع بیروت، ایضًا: الموسٰی شرح الموطأ ج:۲ ص:۱۳، طبع دھلی، شرح مقاصد ج:۲ ص:۲۶۸)۔
(۲)قال تعالٰی: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی: بَعضُہُم اَولِیَآءُ بَعضٍ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
ایضًا: لا تحابوا اھل القدر ای لا توادوھم ولا تحابوھم فإن المجالسۃ ونحوھا من الممشاۃ من علامات المحبۃ وامارات المودۃ فالمعنٰی لا تجالسوھم مجالسۃ تأنیس وتعظیم لھم ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص:۳۰۹، باب الإیمان بالقدر)۔
667
مرتد کے ساتھ تعلقات قائم کرنا
سوال:۔۔۔ جو شخص اسلام چھوڑ کر ہندو یا قادیانی مذہب اِختیار کرلے تو اس سے دوستی اور محبت رکھنا، اور خندہ پیشانی سے ملنا، اور اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ وہ شخص جو دِینِ اسلام کو چھوڑ کر ہندو یا قادیانی مذہب اِختیار کرلے، مرتد ہے، اس سے تعلقات اور میل جول رکھنا صحیح نہیں۔ اسی طرح اس سے خندہ پیشانی سے پیش آنا، مصافحہ کرنا، ملناجلنا اور اس کے ساتھ کھانا پینا، رِشتہ عقد ومناکحت قائم کرنا ناجائز اور ممنوع ہے۔
کما قال العلَّامۃ محمد بن عبدﷲ التمرتاشی:
’’ومن ارتد عرض الحاکم علیہ الإسلام استحباب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وتکشف شبھتہ ویحبس وجوبًا ثلاثۃ ایام فإن اسلم فبھا وإلَّا قُتل لحدیث: من بدَّل دینہ فاقتلوہ!‘‘(تنویر الأبصار علٰی ھامش ردالمحتار ج:۳ ص:۳۱۲،۳۱۳، مطلب فی منکر الإجماع)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۴)
قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات قائم کرنا ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ ہمارے علاقے میں کچھ قادیانی رہتے ہیں، تو کن اُمور میں ہم مسلمانوں کو ان کے ساتھ تعلق رکھنا چاہئے؟ اور کن اُمور میں قطع تعلق کرنا چاہئے؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کے تمام دعوے جھوٹ اور لغویات پر مبنی ہیں، باجماعِ اُمت یہ لوگ کافر اور مرتد ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات ۔۔۔مناکحت، مواکلت، مشاربت وغیرہ۔۔۔ قائم کرنا ناجائز اور حرام ہے۔(۱)
لما قال ﷲ تعالٰی: ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار‘‘ (ہود:۱۱۳)۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۱ ص:۳۵)
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان
سوال:۔۔۔ ایک شخص مرزائیوں ۔۔۔جو بالاجماع کافر ہیں۔۔۔ کے پاس آتا جاتا ہے، اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے، اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے، یعنی مرزائی ہے، مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں، بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختمِ نبوّت اور حیاتِ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ونزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ وفرضیتِ جہاد وغیرہ تمام عقائدِ اِسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروہوں کو کافر، کذّاب، دجال،
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱،۲ ملاحظہ فرمائیں۔
668
خارج اَزاِسلام سمجھتا ہوں۔ تو کیا وجوہِ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟ اگر اَزرُوئے شریعت وہ کافر نہیں ہے تو اس پر فتویٔ کفر لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جبکہ ان کے عقائدِ مذکورہ معلوم ہونے پر بھی تکفیر کرتا ہو، اور کفار والا ان کے ساتھ سلوک کرتا ہو، اور اس کی نشر واِشاعت کرتا ہو۔
جواب:۔۔۔ ایسے شخص سے اس کے مسلمان رشتہ دار بائیکاٹ کریں، سلام وکلام ختم کریں، اس کو علیحدہ کردیں اور بیوی اس سے علیحدہ ہوجائے تاکہ یہ شخص اپنی حرکات سے باز آئے۔ اگر باز آگیا تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کو کافر سمجھ کر کافروں جیسا معاملہ کیا جائے۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۰)
قادیانیوں کے ساتھ تعلقات
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کو ملک میں غیرمسلم اقلیت قرار دِیا گیا ہے، اب یہ ذِمی کافر ہیں، سوال یہ ہے:
۱:۔۔۔ اگر کوئی قادیانی مہمان آئے تو اس کا اِکرام اور مہمانی جائز ہے یا نہیں؟
۲:۔۔۔ اگر کوئی قادیانی کسی مقصد سے دُرود شریف یا قرآن مجید کا ختم کرائے تو کسی مسلمان کو اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ قادیانی کسی مسلمان کی دعوت کریں جس میں ذبیحہ بھی قادیانیوں کا ہو تو ایسی دعوت قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ الجواب باسم ملہم الصواب! قادیانی غیرمسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے باوجود ذِمی نہیں، اس لئے کہ یہ زِندیق ہیں، اور زِندیق کسی صورت بھی ذِمی نہیں قرار پاتا، بہرصورت واجب القتل ہے، اس لئے قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں،(۲) مذکورالصدر تینوں سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اَحسن الفتاویٰ ج:۶ ص:۳۵۹،۳۶۰)
قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کے بارے میں چند سوالات ہیں:
۱:۔۔۔ قادیانی، مسلمان کے جنازہ کو کندھا دے سکتا ہے یا نہیں؟
۲:۔۔۔ قادیانی کے ساتھ بیٹھ کر مسلمان کھانا کھاسکتا ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ شادی یا کسی دیگر تقریب میں قادیانی، مسلمانوں کو مدعو کرسکتا ہے یا نہیں؟
۴:۔۔۔ قادیانی، مسلمان کو سلام کرے تو جواب میں کیا کہا جائے؟ بیّنوا توجروا!
(۱) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ کیجئے۔
(۲) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۱،۲ ملاحظہ فرمالیں۔
669
جواب:۔۔۔ الجواب باسم ملہم الصواب! قادیانیوں کے ساتھ اس قسم کے تعلقات قطعاً ناجائز ہیں، یہ عام کفار سے بدتر اور زِندیق اور واجب القتل ہیں، ان کی شادی غمی میں شرکت کرنا، یا اپنی شادی غمی میں انہیں شریک کرنا، ان سے سلام وکلام غرض کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں، مسلمان کے جنازے کے ساتھ ایسے مغضوب لوگوں کو چلنے کی ہرگز اِجازت نہ دی جائے۔(۱) واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۱۳؍جمادی الآخرۃ ۱۳۹۵ھ
(اَحسن الفتاویٰ ج:۶ ص:۳۶۰)
قادیانیوں سے تعلق رکھنے کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص صحیح العقیدہ ہے، صوم، صلوٰۃ وزکوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے دُنیوی تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں۔ کیا ایسے شخص سے مسجد کے لئے چندہ لینا اور ایسے شخص سے تعلقات رکھنا جائز ہے؟ اور ایسے شخص کو خنزیر سے بدتر کہنا اور سمجھنا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ الجواب باسم ملہم الصواب! ایسا شخص جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں، اگر وہ دِل سے بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو تو وہ مرتد ہے، اور بلاشبہ خنزیر سے بدتر ہے۔(۲) اس سے تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔ اور اگر وہ مسجد کے لئے چندہ دیتا ہے تو اسے وصول کرنا جائز نہیں۔(۳) اور اگر وہ قادیانیوں کے عقائد سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کو اچھا سمجھتا ہے، بلکہ صرف تجارت وغیرہ دُنیوی معاملات کی حد تک ان سے تعلق رکھتا ہے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ قادیانی جس سے ان کے تجارتی تعلقات ہیں، اگر پہلے مسلمان تھا، بعد میں ۔۔۔العیاذباللّٰہ۔۔۔ مرتد ہوا، یا اس کا باپ مرتد ہوا تو وہ قادیانی چونکہ خود اپنے مال کا مالک نہیں ہے اور اس کا کوئی عقد صحیح نہیں، اس لئے یہ شخص اگر اس سے تجارت کرتا ہے تو یہ تجارت ہی صحیح نہ ہوگی۔ کما فی الدر المختار: ویتوقف منہ عند الإمام وینفذ عندھما کل ما کان مبادلۃ مال بمال او عقد تبرع (شامیۃ ج:۳ ص:۳۳۰، مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ)۔
اور اگر وہ قادیانی مرتد یا مرتد کا بیٹا نہیں، بلکہ باپ دادا سے اس باطل عقیدے پر ہے تو ایسے قادیانی سے تجارت کرنے سے مال کا مالک تو ہوجائے گا، لیکن ایسے لوگوں سے تجارت کا معاملہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے ان کے ساتھ ایک قسم کا تعاون ہوجاتا ہے۔ نیز اس قسم کے معاملات میں یہ قباحت بھی ہے کہ عوام قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں، علاوہ ازیں اس طرح قادیانیوں کو اپنا جال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں، اس لئے قادیانی سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں قطع تعلق
(۱) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۱،۲ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) وإذا راٰی منکرًا معلومًا من الدین بالضرورۃ فلم ینکرہ ولم یکرھہ ورضی بہ واستحسنہ کان کافرًا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۳، باب الأمر بالمعروف، طبع بمبئی)۔
(۳) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ فرمائے۔
670
رکھنا ضروری ہے۔(۱) ان سے تعلقات رکھنے والا آدمی اگرچہ ان کو بُرا سمجھتا ہے، قابلِ ملامت ہے، ایسے شخص کو سمجھانا دُوسرے مسلمانوں کا فرض ہے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم! ۲۱؍محرم ۱۳۹۶ھ
(اَحسن الفتاویٰ ج:۱ ص:۴۶)
قادیانیوں سے تعلق
سوال:۔۔۔ بدقسمتی سے ہمارے قصبے کے دو تین شخص مرتد ہوکر مرزائی فرقۂ ضالہ میں شریک ہوگئے اور ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح ہمارے قصبے میں بھی اِبتدائً اس فرقے کے اِستیصال کی طرف توجہ نہ کی گئی اور مرتدین کے ساتھ خلط ملط اور اَکل وشرب وغیرہ کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ تقریباً دس سال ہوئے، مولانا مولوی محمد ایوب صاحب بیگ فاضل دیوبند نے اہلِ قصبہ کو اس فرقے کے دَجل سے آگاہ کرتے ہوئے اہلِ قصبہ کو ان سے اِنقطاعِ تعلقات کی تلقین فرمائی۔ بحمداللّٰہ تعالیٰ اس مردِ حق کی پند ونصیحت کا اچھا اثر ہوا اور اہلِ قصبہ نے مرتدین سے یہاں تک مقاطعہ کیا کہ قصبے میں ان کے لئے رہنا دُشوار ہوگیا، اور کچھ عرصے کے لئے قصبہ چھوڑ کر مرتدین کے چلے جانے سے قصبہ پاک ہوگیا۔ عوام ان کے دامِ تزویر سے بچ گئے اور آج تک قصبے میں مرتدین کو کسی نے رِشتہ وغیرہ نہیں دیا۔ اب کچھ عرصے سے مرتدین کے رِشتہ دار اور ضعیف الایمان لوگ چھپ چھپ کر مرتدین سے ملتے ہیں اور سوائے تعلقاتِ مناکحت کے جو آشکارا کئے بغیر نہیں ہوسکتے، دیگر ہر قسم کے تعلقات رکھتے ہیں، بظاہر مقاطعہ کئے ہوئے ہیں۔ چند خدامِ دِین جو یہ چاہتے ہیں کہ یہ دَجل وضلالت کا پودا اس قصبے میں نشوونما نہ پائے، بلکہ ہر ممکن کوشش سے قصبے کو اس فتنے سے پاک کیا جائے، عوام کو مرتدین سے مقاطعہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ جو لوگ مرتدین سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں ان سے بھی مقاطعہ کرنے کو کہتے ہیں۔ براہِ نوازش اپنا قیمتی وقت اس کارِخیر میں صَرف فرماکر تمام مضمون کو بغور ملاحظہ فرماویں اور مندرجہ ذیل مسائل کا مفصل جواب حوالہ جات کے ساتھ فرماکر عنداللّٰہ مأجور وعندالناس مشکور ہوں۔
۱:۔۔۔ وہ لوگ جو مرتدین سے تعلقاتِ اکل وشرب اور ہر قسم کے تعلقات رکھتے ہیں، آیا وہ بھی مرتد ہوجاتے ہیں یا صرف گنہگار؟ اگر گنہگار ہوتے ہیں تو کس درجے میں؟ آیا عام فاسق فاجر یا بے نمازیوں اور ان لوگوں میں کچھ فرق ہے یا سب یکساں گنہگار ہیں؟ ایسے لوگوں سے جو مرتدین سے میل جول اور اَکل وشرب وغیرہ تعلقات رکھتے ہیں، قصبے کے عام مسلمان میل ملاپ رکھیں یا اس غرض سے تعلقات منقطع کردیں کہ وہ مرتدین سے میل جول چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔
۲:۔۔۔ وہ لوگ جو مرتدین سے تعلقاتِ اکل وشرب ومناکحت وغیرہ تو نہیں رکھتے لیکن نشست وبرخاست، گفت وشنید اور خلط ملط رکھتے ہیں، وہ کس درجے میں گنہگار ہیں؟ عام گنہگاروں اور ان میں کیا فرق ہے؟ اور اس کے ساتھ قصبے کے دیگر مسلمان تعلق رکھیں یا نہیں؟
۳:۔۔۔ ایک شخص جس کا داماد مرزائی ہے، برادری کے اِنقطاعِ تعلقات کی وجہ سے متعدّد بار توبہ کرچکا ہے، اور قسم کھاچکا ہے کہ میں اپنی بیٹی داماد سے آئندہ کوئی تعلق نہ رکھوں گا، لیکن ہر توبہ کے بعد یہ ہوتا ہے کہ داماد اور بیٹی کے پاس آتا جاتا ہے اور ان
(۱) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ فرمالیں۔
671
سے ہر قسم کے تعلقات رکھتا ہے، ایسے شخص کی توبہ پر کب تک اِعتماد کیا جائے؟
۴:۔۔۔ ایک لڑکی جس کا خاوند مرتد ہوگیا، وہ برادری کے شور وغوغا کی وجہ سے اپنے والد اور تایا سے کہتی ہے کہ اگر میرے نان نفقے کا انتظام کردو تو میں اپنے خاوند کو جو مرتد ہونے کی وجہ سے خاوند بھی شرعاً نہیں رہا، چھوڑ دوں گی۔ لیکن اس کا باپ اور تایا باوجود قدرت رکھنے کے، اس کے نان نفقے کی کفالت سے اِنکار کرتے ہیں۔ یہ دونوں کس درجے کے گنہگار ہیں؟ اور ان سے قصبے کے عام مسلمان تعلقات رکھیں یا منقطع کردیں؟ اور اگر رکھیں تو کس قسم کے تعلقات رکھ سکتے ہیں؟
برائے نوازش بغور مطالعہ فرمانے کے بعد تمام سوالات کا مفصل جواب علیحدہ علیحدہ تحریر فرمائیں۔ قرآن وحدیث کا حوالہ حتی الامکان دیا جائے۔
احقر یار محمد عفی عنہ
مسلم جنرل ٹریڈنگ کمپنی، پوسٹ نمبر۱کراچی
جواب:۔۔۔حامدًا ومصلّیًا! قال تعالٰی: ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار‘‘ الآیۃ والرکون إلی الشیء ھو الرکون إلیہ بالاُنس والمحبۃ فاقتضیٰ ذاک النھی عن مجالسۃ الظالمین وموانستھم ولا إنصات إلیہ ھو مثل قولہ تعالٰی: ’’فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (الانعام:۶۸)۔ (احکام القرآن ج:۳ ص:۲۰۵)۔ وقال تعالٰی: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ دِیْنَکُمْ ہُزُواً وَلَعِباً‘‘ (المائدۃ:۵۷)۔ وقال تعالٰی: ’’فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّی عَن ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ إِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا. ذَلِکَ مَبْلَغُہُم مِّنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اہْتَدَی‘‘(النجم:۲۹، ۳۰)
مرزائی لوگ بہ فتویٔ علمائے حق کافر ومرتد ہیں، ان کے ساتھ رِشتہ مناکحت قطعاً ناجائز ہے، اور ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا، بلکہ وہ زِنا کے حکم میں ہے، جتنے لوگ ایسے نکاح میں شریک ہوں، یا باوجود قدرت کے ایسے نکاح کو نہ روکیں، وہ سب حسبِ حیثیت گنہگار ہوں گے۔
مرتد کے ساتھ اکل وشرب ومجالست وغیرہ بھی ناجائز ہے، قلبی محبت بھی قطعاً ممنوع ہے، جو مسلم عورت کسی مرزائی کے نکاح میں ہے، تمام اہلِ قدرت پر حسبِ قدرت اس کو چھڑانا واجب ہے، خاص کر جبکہ وہ خود بھی اس سے علیحدہ ہونے کی خواہش مند ہو۔ جو شخص جس قدر صاحبِ اِختیار ہے اور اس کے چھڑانے میں کوتاہی کرے، اسی قدر وہ گنہگار ہے۔ اگر کوئی مرتد صدقِ دِل سے توبہ کرے اور تجدیدِ اِیمان کرے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی۔ اگر ترکِ تعلقات کے ذریعے سے اس کی توقع ہے کہ کوئی مسلمان کسی مرزائی سے تعلق نہیں رکھے گا تو ضرور ایسے شخص سے ترکِ تعلقات کردیا جائے۔ اگر یہ خیال ہے کہ نرمی سے سمجھانے اور اَخلاق کے ساتھ پیش آنے پر اپنی حرکت سے باز آجائے گا، اور ترکِ تعلق سے اس کی ضد اور زیادہ ہوگی، تو اس سے نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ الغرض! مرتد خدا کے دُشمن ہیں، ان سے جس قدر کوئی محبت کا تعلق رکھے گا، اسی قدر وہ خدا کی رحمت سے دُور ہوگا۔ المرء مع من احبّ کے ماتحت اسی جماعت میں اس کا حشر ہوگا، اور دُنیا وآخرت میں خدا کے دُشمنوں کا شریک ورفیق سمجھا جائے گا، اور یہ گناہ ان گناہوں
672
سے بڑھ کر ہے جن کا تعلق محض اپنے نفس سے ہے، کیونکہ ایسا شخص خدائی باغیوں کا ہم پلہ ہے، والعیاذ باللّٰہ، فقط۔
واللّٰہ سبحانہ‘ وتعالیٰ اعلم
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
| عبداللطیف |
سعید احمد غفر لہٗ |
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
| مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
۹؍۸؍۱۳۶۴ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۲ ص:۱۲۷ تا ۱۳۰)
قادیانیوں سے تعلقات کا حکم
سوال:۔۔۔ ایک شخص صحیح العقیدہ ہے، صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے دُنیوی تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں، کیا ایسے شخص سے مسجد کے لئے چندہ لینا اور تعلقات رکھنا جائز ہے؟ ایسے شخص کو خنزیر سے بدتر کہنا اور سمجھنا کیسا ہے؟ مہربانی فرماکر جواب سے نوازیں۔
جواب:۔۔۔ ایسا شخص جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے، لیکن اس کے تعلقات قادیانی جماعت کے ساتھ ہیں، اگر وہ دِل سے بھی ان کو اچھا سمجھتا ہو تو وہ مرتد ہے، اور بلاشبہ خنزیر سے بدتر ہے، اس سے تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔ اس سے مسجد کے لئے چندہ لینا بھی جائز نہیں ہے۔ اور اگر وہ قادیانیوں کے عقائد ونظریات سے متفق نہیں اور نہ ہی ان کو اچھا سمجھتا ہے، بلکہ صرف تجارت وغیرہ دُنیوی معاملات کی حد تک ان سے تعلق رکھتا ہے تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ وہ قادیانی جس سے ان کے تجارتی تعلقات ہیں، اگر پہلے مسلمان تھا، بعد میں مرتد ہوا، یا اس کا باپ مرتد ہوا تو وہ قادیانی چونکہ خود اپنے مال کا مالک نہیں ہے اور اس کا کوئی عقد صحیح نہیں، اس لئے یہ شخص اگر ان سے تجارت کرتا ہے تو یہ تجارت صحیح نہ ہوگی۔ اور اگر وہ قادیانی مرتد یا مرتد کا بیٹا نہیں، بلکہ باپ دادا سے اس باطل عقیدے پر ہے تو ایسے قادیانی سے تجارت کرنے سے مال کا مالک مرتد ہوجائے گا، لہٰذا ایسے لوگوں سے تجارت کا معاملہ جائز نہیں ہے، اس میں قادیانیوں کے ساتھ تعاون ہے۔ اس قسم کے لین دین اور معاملات میں لوگ قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کو اپنا جال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں۔ پس قادیانیوں سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں قطع تعلق ضروری ہے۔ ان سے تعلقات رکھنے والا اگرچہ ان کو بُرا سمجھتا ہو، قابلِ ملامت ہے، ایسے شخص کو سمجھانا دُوسرے مسلمانوں پر فرض ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب!
(فتاویٰ حکیمیہ ص:۳۳۱)
نوٹ:۔۔۔ بعینہٖ یہی فتویٰ پہلے ’’اَحسن الفتاویٰ‘‘ سے نقل ہوا، یہ ’’فتاویٰ حکیمیہ‘‘ نے ان کے فتویٰ کو اپنا فتویٰ ظاہر کیا ہے،اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ۔۔۔!(۱)
(۱) حوالہ جات کے لئے ’’اَحسن الفتاویٰ‘‘ کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔
673
قادیانیوں سے دوستی کا حکم
سوال:۔۔۔ کلمہ گو مسلمان اور کافر کو اپنی نشست وبرخاست میں دوست سمجھنا کیسا ہے؟ اور کافر کسے کہتے ہیں؟ کیا مسلمان کلمہ گو بھی کافر ہیں؟ یا فاسق وفاجر ہیں؟
جواب:۔۔۔ کافر دُشمنِ خدا ہے، اور مسلمان کا دُشمن۔ اسے دوست بنانا حرام، مسلمان کو صرف مسلمان ہی سے دوستی کرنا چاہئے۔ اللّٰہ عزّوجل فرماتا ہے: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاء‘‘ (الممتحنہ:۱) اور فرماتا ہے:’’لاَّ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ (آل عمران:۲۸) کافر اس کو کہتے ہیں جو ضروریاتِ دِین میں سے کسی ضروری دِینی کا منکر ہو، مجرد کلمہ گوئی سے مؤمن نہیں ہوسکتا، جبکہ کسی ضروری دِینی کا باوجود اِدّعائے اِیمان منکر ہو، جیسے قادیانی باوجود کلمہ گوئی واِدّعائے اِیمان، ختمِ نبوّت کے منکر ہیں، اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کرتے ہیں، لہٰذا اس قسم کی کلمہ گوئی مؤمن ہونے کے لئے کافی نہیں، اور ایسا کلمہ گو اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، کافر ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ امجدیہ ج:۴ ص:۲۸۹ تا ۲۹۱)
قادیانی فتنے کا ضرر
سوال۱:۔۔۔ جماعتِ لاہوری وقادیانی کے رشتہ دار اپنے رِشتہ دار مرزائیوں کو مسلمان اور مذہب حنفی میں مسلمان تصوّر کرتے ہیں، حالانکہ بروئے شریعت وفتویٰ ہائے علمائے دِین، مرزائی اور ان کے حامی ورِشتہ دار اور جو ان کو مسلمان جانیں وہ سب خارج اَزاِسلام وکافر ہیں۔ اور یہ بھی ہم کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کو مسجد اہلِ اسلام میں بھی داخل نہ ہونے دیں۔ مگر ہم لوگ ان کو مسجد میں آنے سے روکنے میں سخت مجبور ہیں، اگر روکتے ہیں تو وہ آمادۂ فساد ہوتے ہیں، اور مسجد میں جنگ وجدال کی نوبت ہوجاتی ہے۔ اب جماعتِ مرزائی کے رِشتہ دار ہماری مسجد میں آتے ہیں، اور جس لوٹے سے وہ وضو کرتے ہیں اور مسجد میں جن گھڑوں سے ہم پانی پیتے ہیں وہ بھی پیتے ہیں اور ہماری جماعت نماز میں شریک نہیں ہوتے جو کہ مؤذِّن مسجد پڑھاتا ہے، اور ان کی ضد یہ ہے کہ اگر اِمام صاحب معین جماعت کرائیں گے تو ہم بھی شریکِ جماعت ہوں گے، کیونکہ ہمارا چندہ مشترکہ ہے (یہ چندہ اُس وقت کا ہے جبکہ یہ اہلِ سنت والجماعت شمار کئے جاتے تھے)۔ ایسی صورت میں اگر یہ لوگ ہماری جماعت فرض وواجب میں شامل ہوجائیں اور ہم ان کو علیحدہ کرنے کی طاقت نہ رکھیں تو نماز سب کی دُرست ہوجائے گی یا نہیں؟ اور اِمام کی اِمامت کرانی دُرست ہے یا نہیں؟
۲:۔۔۔ جو لوگ باوجود واقف ہونے اس امر کے کہ ان کا مسجد میں آنا اَزرُوئے شریعت منع ہے اور وہ لوگ بوجہ کسی خوف کے مسجد میں آنے سے نہ روکیں یا بوجہ لحاظ رِشتہ داری کے چشم پوشی کریں تو ایسے لوگ نمازی کسی جرمِ شرعی کے مرتکب ہیں یا نہیں؟
۳:۔۔۔ اِمام معین مسجد نے فتاویٰ علماء اہلِ اسلام کہ متعلق قادیانیوں کے جاری تھے مسجد میں محلہ والوں کو سنائے اور یہ کہا کہ قادیانی یا ان کے رشتہ داران جواُن کے ساتھ شامل ہیں، وہ ہماری جماعت نماز میں شریک ہوں گے تو میں نماز نہیں پڑھاؤں گا۔ جن کو سن کر اہلِ محلہ نے مرزائیوں کے رِشتہ داروں سے باوجود سمجھانے اور ان کا کہنا نہ ماننے کے قطع تعلق ان سے کردیا۔ اسی وجہ سے مرزائیوں کے رِشتہ دار اِمام صاحب ہی کے خلاف ہوگئے اور وہ چاہتے ہیں کہ اِمامِ معین کسی طرح اِمامت سے جدا ہوجائیں۔ اس
674
واسطے جب اِمام صاحب جماعت کراتے ہیں تو ضداً یہ لوگ شاملِ جماعت نماز ہوتے ہیں جیسا کہ سوال نمبر۱ سے واضح ہے۔ اور اگر نائب اِمام جو مؤذِّن بھی ہے، وہ جماعت کرائے یا دیگر شخص جماعت کرائے تو وہ شریکِ جماعت نماز نہیں ہوتے۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ ذاتی نقصان تنخواہ کا اِمام کو پہنچانا ہے۔ ہم اہلِ محلہ نے اِمام صاحب کو نہ اِمامت سے علیحدہ کیا ہے، نہ انہوں نے اِستعفا دیا ہے، بلکہ ہر نماز میں اِمام صاحب حاضر رہتے ہیں، لیکن بوجہ فساد کے ہم لوگ نائب اِمام صاحب سے جماعت کراتے ہیں، ایسی صورت میں مسجد فنڈ سے تنخواہ اِمام صاحب کو دینی اور اِمام صاحب کو لینی دُرست ہے یا نہیں؟
المستفتی نمبر۱۱۴۱: عبدالرحمن صاحب، چاندنی چوک
۵؍جمادی الثانیہ ۱۳۵۵ھ -۲۴؍اگست ۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ قادیانی فتنہ بہت زیادہ مضر اور مسلمانوں کی دِینی اور اَخلاقی، بلکہ سیاسی حالت کے لئے بھی تباہ کن ہے۔ اگر مسلمان ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے ان کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں تو اس میں وہ حق بجانب ہیں۔ باقی رہا اِمام کا معاملہ تو اگر اہلِ مسجد اِمام سے کسی شرعی ضرورت کے تحت نماز نہ پڑھوائیں تو مضائقہ نہیں اور اِمام جب تک اِمام ہے اس کو مسجد فنڈ سے تنخواہ دی جاسکتی ہے، جبکہ اس کی نیابت میں دُوسرا شخص اہلِ مسجد کی رضامندی سے اس کا کام انجام دیتا رہتا ہے۔
فقط محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۳ ص:۵۲،۵۳)
قادیانی سے مقاطعہ جائز ہے
سوال:۔۔۔ زید نے کہا کہ کمیٹی مجھ کو چھوڑ دے مگر قادیانیوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ اس وجہ سے کمیٹی نے زید سے ترکِ موالات کرلیا۔ اسی باعث کمیٹی والے تقریب وغیرہ میں نہ زید کو بلاتے ہیں، نہ زید کے یہاں جاتے ہیں۔ مگر زید کے ساتھ کمیٹی والے ہمدردی ہی کرتے ہیں، زید کے ساتھ نشست اور خلاملا (ملاجلا) ہی ہے، تو آیا ترکِ موالات کامل ہے یا ناقص؟ ترکِ موالات کی تعریف مشرح طور سے تحریر فرمائی جائے تاکہ اس پر عمل کیا جائے۔
جواب:۔۔۔ زید کا ایسا کہنا سخت گناہ ہے اور کفر کا اندیشہ ہے۔ لیکن فقط اتنی بات سے خارج نہیں ہوا۔ لہٰذا جو حقوق عام مسلمانوں کے ہیں، ان کا وہ بھی حق دار ہے۔ مثلاً مل جائے تو سلام کرنا، یا سلام کا جواب دینا، بیمار ہو تو عیادت کرنا، وغیرہ۔ اس لئے ایسے حقوقِ عامہ کو ترک نہ کیا جائے۔ مگر خصوص تعلقات نکاح شادی وغیرہ بالکل قطع کردئیے جائیں، اور اگر یہ خیال ہو کہ مکمل ترکِ موالات کرنے اور قطع تعلق کرنے سے وہ راہِ راست پر آجائے گا تو اس میں بھی مضائقہ نہیں کہ چند روز کے لئے بالکل قطع تعلقات کردیا جائے، مگر اس صورت کو ہمیشہ نہ رکھیں۔
وقد صرّح العینی فی شرح المنیۃ بکراھۃ المعاشرۃ تارک الصلٰوۃ فھٰذا اولٰی۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۱۰۲۳)
675
قادیانیوں سے میل جول کی ممانعت
سوال:۔۔۔ اَز کوہ سری مرسلہ باشندگان کوہ سری بذریعہ حکیم عبدالخالق صاحب، ۱۸؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۹ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس صورت میں کہ کوہ سری کے اِنتخاب میں دو اُمیداوار ممبری جن میں سے ایک احمدی ہے، جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدّد مانتا ہے، اور دُوسرا فری مشن یعنی جادوگر کا ممبر ہے۔ مسلمانانِ کوہ سری نے ہر دو کو حسبِ رُسوخ پرچیاں دیں، اب احمدی لاہوری کے حق میں جن مسلمانانِ اہلِ سنت والجماعت نے پرچیاں دی ہیں، ان کے برخلاف مشورہ کیا جارہا ہے کہ یہ بھی مرزائی ہوگئے ہیں، کیا صرف پرچی دینے سے اور وہ بھی اس لئے کہ ایک تعلیم یافتہ اور مسلمانوں کے ہمدرد کو دِی جائیں، کوئی شخص مرزائی ہوسکتا ہے؟ جبکہ اس کے عقائد اہلِ سنت والجماعت کے ہوں؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کی سخت سے سخت توہین کی ہے، اور دعویٔ نبوّت کیا، اس وجہ سے یقینا وہ شخص کافر ہے، اس کے اقوال پر مطلع ہوکر مجدّد تو مجدّد، اسے مسلمان جاننا بھی کفر ہے۔(۱) مگر کسی غیرمسلم کو ممبری کی رائے دینا کفر نہیں، نہ فقط اتنی بات سے رائے دہندگان مرزائی ہوئے، مگر مرزائیوں سے میل جول رکھنا سخت دِینی مضرّت کا سبب ہے، حدیث میں ہے:’’إیّاکم وإیّاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۰)۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ امجدیہ ج:۴ ص:۱۶۸،۱۶۹)
دِین واِیمان کے تحفظ کے لئے مرزائیوں سے قطع تعلق کیا جائے
سوال۱:۔۔۔ علمائے اسلام مطابق شریعت مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا سمجھتے ہیں؟
۲:۔۔۔ ان کا پیرو کیسا ہوگا؟
۳:۔۔۔ مسلمانوں کو مرزائیوں سے قطع تعلق کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
۴:۔۔۔ اور قطع تعلق کہاں تک ہے؟
المستفتی نمبر۷۴۳: مسلمانانِ بھدراول
۱۸؍ذیقعدہ ۱۳۵۴ھ -۱۳؍فروری ۱۹۳۶ء
جواب۱:۔۔۔ جمہور علمائے اسلام، مرزا غلام احمد قادیانی کو بوجہ ان کے دعویٔ نبوّت اور توہینِ انبیاء کے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔
۲:۔۔۔ ان کے پیروؤں اور ان کو سچا ماننے والوں کا بھی یہی حکم ہے۔
۳:۔۔۔ ہاں اگر دِین کو فتنے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں تو قطع تعلق کرلینا چاہئے۔
(۱) صفحہ:۶۷۰ کا حاشیہ نمبر۲ دیکھیں۔
676
۴:۔۔۔ ان سے رِشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دِین اور عقائد پر اثر پڑے، ناجائز ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۶)
قادیانیوں سے اِختلاط
سوال:۔۔۔ مرزائیوں کے دونوں فریق قادیانی ولاہوری بالیقین مرتد، خارج عن الاسلام ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو مرتد کا کیا حکم ہے؟ مرتدین کے ساتھ اِختلاط برتاؤ کرنا، عوام کو ان کی باتیں سننا، جلسوں میں شریک ہونا، ان سے مناکحت کرنا، ان کی شادی وغمی میں شریک ہونا، ان کے ساتھ کھاناپینا، تجارتی تعلقات قائم رکھنا، ان کو ملازم رکھنا، یہ اُمور جائز ہیں یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا کافر مرتد ہونا اور ان کے اقوال وکلمات غیرمحصورہ کا غیرمحتمل للتأویل ہونا، اظہر من الشمس ہوچکا ہے۔ اور اسی لئے جمہور علمائے اُمت ان کی تکفیر پر متفق ہیں۔ اس کی مفصل تحقیق کرنا ہو تو مستقل رسائل مثل ’’اشد العذاب‘‘ مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب، اور ’’القول الصحیح فی مکائد المسیح‘‘ مصنفہ مولانا محمد سہول صاحب، اور مطبوعہ ’’فتاویٰ علمائے ہند دربارہ تکفیرِ قادیانی‘‘ جس میں ہر ضلع وصوبے کے علماء کے سینکڑوں دستخط وتصدیق ہیں، ملاحظہ فرمائے جائیں۔ پھر مرزائیوں کے دونوں فرقے قادیانی اور لاہوری اتنی بات پر متفق ہیں کہ وہ ۔۔۔مرزاقادیانی۔۔۔ اعلیٰ درجے کا مسلمان بلکہ مجدّد ومحدث اور مسیحِ موعود تھے، اور ظاہر ہے کہ کسی کافر مرتد کے متعلق بعد اس کے عقائد معلوم ہوجانے کے ایسا عقیدہ رکھنا خود کفر واِرتداد ہے۔ اس لئے بلاشبہ دونوں فرقے کافر ومرتد ہیں۔ اور اَب تو لاہوریوں نے جو تحریفِ قرآن اور اِنکار ضروریاتِ دِین کا خاص طور پر بیڑا اُٹھایا ہے، اس کے سبب اب وہ اپنے کفر واِرتداد میں مرزاقادیانی کے تابع ہونے سے مستغنی ہوکر خود بالذات اِرتداد کے عَلَم بردار ہیں، اس لئے دونوں فریق سے عام مسلمانوں کا اِختلاط اور ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، یا خود ان کے جلسوں میں شریک ہونا، شادی وغمی اور کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا سخت گناہ ہے اور مناکحت قطعاً حرام ہے۔(۱) اور جو نکاح پڑھ بھی دیا جائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا، بلکہ اگر بعد اِنعقادِ نکاح مرزائی ہوجائے تو نکاح فوراً فسخ ہوجاتا ہے۔(۲) البتہ تجارتی تعلقات اور ملازمت میں رہنا، یا ملازم رکھنا بعض صورتوں میں جائز ہے، بعض میں وہ بھی ناجائز ہے۔ اس لئے بلاضرورتِ شدیدہ اس سے بھی اِحتراز ضروری ہے۔(۳)
(اِمداد المفتین ج:۲ ص:۱۰۲۴،۱۰۲۵)
(۱) صفحہ:۶۶۷ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔
(۲) وحرم نکاح الوثنیۃ بالإجماع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکل مذھب یکفر بہ معتقدہ۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۴۵، کتاب النکاح)۔ ایضًا: ولا یصلح ان ینکح مرتدًّا او مرتدۃً احدًا من الناس مطلقًا۔ (درمختار ج:۳ ص:۲۰۰، باب نکاح الکافر، طبع سعید)۔
(۳) قال تعالٰی: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی: بَعضُہُم اَولِیَآءُ بَعضٍ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
ایضًا: لا تحابوا اھل القدر ای لا توادوھم ولا تحابوھم فإن المجالسۃ ونحوھا من الممشاۃ من علامات المحبۃ وامارات المودۃ فالمعنٰی لا تجالسوھم مجالسۃ تأنیس وتعظیم لھم ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص:۳۰۹، باب الإیمان بالقدر)۔
677
قادیانیوں سے میل جول کی حرمت
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ ایک قادیانی مذہب ایسی جگہ آباد ہوا جہاں بالکل قطعاً مسلمان رہتے ہیں، وہ قادیانی، مسلمانوں کو بہکانا چاہتا ہے، نیز ان کے یہاں کا اُصول بھی یہی ہے کہ ناسمجھ مسلمانوں کو اخلاق ونرمی سے اپنی طرف کھینچ کر بہکالیتے ہیں۔ اس خوف سے جمیع مسلمانوں نے اس سے علیحدگی اِختیار کرلی اور کسی نے اس سے میل جول نہ رکھا، مگر اسی محلے کا ایک سقہ اس قادیانی سے مانوس ہوگیا اور اس کی بی بی نے اپنے شوہر سقہ کو منع کیا اور کہا: ’’ہم کو تم کو خدا اور رسول سے کام پڑے گا، ایسے بدمذہب سے علیحدہ رہو، اور پانی بھی اس کے یہاں نہ بھرو، ایک روپیہ مہینہ نہ سہی۔‘‘ اس پر وہ سقہ اپنی بی بی کو طلاق دینے کے لئے تیار ہوگیا اور کہنے لگا: ’’تو میرے مکان سے نکل جا، میں تو اس قادیانی سے ایسا ہی ملوں گا اور پانی بھروں گا، گو میرے تمام ٹھکانے چھوٹ جائیں، مگر میں اس کو نہ چھوڑوں گا، ہاں اگر سارے شہر کے بہشتی ایسا ہی کریں اور چھوڑ دیں تو میں بھی چھوڑ دُوں، ورنہ میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا، بلکہ اگر وہ قادیانی سوَر کھائے گا تو میں بھی سوَر کھاؤں گا۔‘‘
سوال یہ ہے کہ جن مسلمانوں نے اس سے ترکِ سلام وکلام کردیا ہے، ان کے واسطے اَز رُوئے شریعت کیا جزا ملے گی؟ اور سقہ کے واسطے شریعتِ پاک کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مسلمانوں کے لئے ثوابِ عظیم اور اس فعل سے اللّٰہ ورسول کی رضا ہے، اور وہ سقہ اَشد گنہگار ومستحق عذابِ نار ہے، سقاوں اور ان کے چودھری کو لازم ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے برادری سے نکال دیں، اللّٰہ عزّوجل فرماتا ہے: ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار‘‘ (ہود:۱۱۳)۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اَحکامِ شریعت ص:۱۹۷،۱۹۸)
قادیانیوں سے تعلقات
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ مرزائیوں سے لین دین، نشست وبرخاست، برادری کے تعلقات، کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ ’’نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ کے تحت ان کے باطل اِعتقادات ورُسومات سے الگ تھلگ رہنا ضروری ہے، ان سے برادری اور دوستانہ تعلقات رکھنا دُرست نہیں۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۵)
قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا
سوال:۔۔۔ اگر پڑوس میں زیادہ اہلِ سنت والجماعت رہتے ہوں، چند گھر قادیانی فرقے کے ہوں، ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھاناپینا، یا ویسے راہ ورسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے، ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا، یا اُن کی تقریب میں شریک ہونا،
678
جائز نہیں۔(۱) قیامت کے دن خدا اور رسول کے سامنے اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۱)
مسلمان ہونے والے قادیانی کا اپنے خاندان سے تعلق
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین دریں مسئلہ کہ دو حقیقی بھائیوں میں سے ایک نے قادیانی عقائد اِختیار کرکے کفر واِرتداد قبول کرلیا ہے، اور دُوسرا بھائی ابھی تک اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، اور مسلک اہلِ سنت والجماعت ظاہر کرتا ہے۔ اس کو ہرچند سمجھایا گیا کہ مرزائی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اپنے بھائی سے ہر قسم کا قطع تعلق کرے، مگر وہ اپنے قادیانی بھائی سے قطع تعلق نہیں کرتا، بلکہ رشتہ ناتہ بھی کر رہا ہے اور شادی بیاہ، خوشی غمی میں بھی قادیانی بھائی کے ساتھ شریک ہوتا رہتا ہے۔ اب اس شخص کے بارے میں اس کی مسلمان برادری پریشان ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے آدمی سے مسلمان برادری قطع تعلق کرے اور اس کو اپنی خوشی وغمی میں شریک نہ کرے، کیا ایسا کرنے کی شرع شریف میں اِجازت ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ مرزائیوں کے ساتھ برادری کے تعلقات قائم کرنا یا رِشتہ کرنا، ناجائز وحرام ہے۔(۲) لہٰذا اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اس مرزائی کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کردے، اور’’نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ‘‘ پر عمل کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ کو ناراض کرکے اس کے بندوں کی رضامندی کچھ نہیں، ’’لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘ (کنز العمال ج:۵ س:۷۹۲، حدیث نمبر:۱۴۴۰۱) ۔ دُوسرے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کو مزید سمجھانے کی کوشش کریں اور اس شخص کو اَپنانے کی کوشش کریں تاکہ یہ مرزائی کے ساتھ تعلقات ختم کردے۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۳)
قادیانیوں سے میل جول کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ھٰذا میں کہ ایک شخص جو کہ خود ہمیشہ تبلیغ کرتا رہا ہے کہ غیرمسلم یعنی مرزائی سے کھانا جائز نہیں، اور وہ تبلیغ کنندہ یونین کونسل کا ممبر ہے، اور قادیانی بھی یونین کونسل ممبر ہے، اب اسی دیہات میں پوری یونین کا اِجتماع ہوتا ہے اور وہی تبلیغ کنندہ سب کی دعوت کرتا ہے جس میں اسی دیہات کا وہ قادیانی بھی شامل ہے۔ اور پھر اسی طرح دوبارہ اِجتماع ہوتا ہے تو وہ قادیانی دعوت کرتا ہے، جس میں وہ تبلیغ کنندہ بھی شامل ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شمولیت مشروط ہے کہ اِخراجات میں سے نصف خرچ میرا ہوگا کیونکہ ہم دونوں مشترکہ مہمان ہیں اور وہ اس صورت میں رضامند ہوجاتا ہے۔ اس دعوت میں کسی قسم کا کوئی جانور قادیانی کا مذبوحہ نہیں ہے۔ جانور مذبوحہ کا گوشت مسلمان سے خریدا گیا ہے اور مسلمان ہی پکانے والا ہے۔
(۱) قال تعالٰی: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی: بَعضُہُم اَولِیَآءُ بَعضٍ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
ایضًا: لا تحابوا اھل القدر ای لا توادوھم ولا تحابوھم فإن المجالسۃ ونحوھا من الممشاۃ من علامات المحبۃ وامارات المودۃ فالمعنٰی لا تجالسوھم مجالسۃ تأنیس وتعظیم لھم ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص:۳۰۹، باب الإیمان بالقدر)۔
(۲) ایضاً حوالہ بالا۔
679
البتہ باقی روٹی اور برتن وغیرہ اس کے ہیں اور وہی تبلیغ کنندہ باقی ممبران یونین کے مجبور کرنے پر کہ اب دونوں کے ملنے سے دُنیاوی کاموں میں عوام کا بہت فائدہ ہے تو وہ کھانا کھالیتا ہے۔ کھانے کے برتن میں مرزائی شریک نہیں، علیحدہ علیحدہ ہیں۔ بعد اَزاں وہ قادیانی قیمت نہیں لیتا، جواب یہ دیتا ہے کہ پہلے آپ نے اِنتظام کیا، میں نے کچھ نہیں دیا، اب میں نے اِنتظام کیا ہے، آپ سے کچھ نہیں لوں گا، کیونکہ اس وقت بھی مشترکہ خرچ ہونا تھا۔ اب اس شخص کے حق میں شرعی فیصلہ کیا ہے اور کس قدر مجرم ہے؟ اور بعد اَزاں ایک مولوی صاحب یا کوئی شخص جو کہ ایک ایسی پارٹی کے پاس مہمان ہوتا ہے جس کا ہر قسم کا لین دین حتیٰ کہ دعوتوں میں شمولیت بھی کرتے ہیں، اس قادیانی کے ساتھ ہے، اور وہ مبلغ یا شخص اس کو کافروں سے مشابہت اور کتوں سے مشابہت دیتا ہے، کیا اس مبلغ نے قرآن وحدیث کی رُو سے ٹھیک کہا یا غلط؟ اگر غلط ہے تو اس کی سزا کیا ہے؟
جواب:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں تبلیغ کنندہ کا پہلا رویہ دُرست تھا کہ ان کا کھانا، اہلِ اسلام کے لئے دُرست نہیں۔ اس لئے کہ ان مرزائیوں کے تعلقات میل جول مفاسد سے خالی نہیں، لہٰذا بعد میں مرزائی کی دعوت کو قبول کرلینا کھلی ہوئی غلطی اور بے شرمی اور حمیتِ اسلامیہ کے خلاف ہے۔ نیز خاتم النّبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے عدمِ محبت کا اِظہار ہے۔ دعوت میں شرکت کرنے والے اور مرزائی کو دعوت دینے والے دونوں مجرم ہیں۔ جلدازجلد توبہ کرنا لازم ہے۔ واضح رہے کہ تمام مسلمان مل کر اس بُرائی کو دُور کریں۔ فقط واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
۲:۔۔۔ چونکہ مرزائی کافر ہیں، اور مذکورہ مسلمان ان سے میل جول تعلقات رکھتے ہیں اور مرزائی اور وہ مسلمان ایک دُوسرے کی دعوت وغیرہ میں شریک ہوتے ہیں، اس بنا پر مولوی کا کہنا کوئی غلط نہیں۔(۱) البتہ مولوی کو چاہئے کہ حکمت کے ساتھ سمجھائیں۔ لیکن اگر مذکورہ ممبران وغیرہ باوجود حکمت کے ساتھ سمجھانے کے بھی تعلقات نہیں توڑتے تو کسی مصلحت کی بنا پر… مسلمان، مرزائیوں کے شر سے محفوظ رہیں… مولوی کا کہنا بجا اور صحیح ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۱۹۸،۱۹۹)
مرزائیوں سے دوستی ممنوع ہے
سوال:۔۔۔ اگر کوئی آدمی کسی مرزائی، قادیانی یا عیسائی سے دوستی کرتا ہے تو کیا یہ دُرست ہے؟ اور آدمی مسلمان ہے، لیکن اگر مسلمان اس نیت سے دوستی کرے تاکہ اس مرزائی، عیسائی یا قادیانی کی اِصلاح ہوجائے تو کیا یہ دُرست ہے؟ عثمانی غنی، لاہور
جواب:۔۔۔ کفار، اللّٰہ تعالیٰ کے دُشمن ہیں، مؤمن اللّٰہ تعالیٰ کے دوست ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا دوست اللّٰہ تعالیٰ کے دُشمن سے دوستی کیونکر کرسکتا ہے؟ کفار کی دوستی سے ممانعت کی آیات کئی ہیں، ان میں سے ایک مندرجہ ذیل ہے: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ (النساء:۱۴۴) (مسلمانو! مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ) دوست کے بغیر ان کی اِصلاح کرے، ان کو تبلیغ کرے۔
۴؍۱؍۱۴۱۷ھ
(اَحکام ومسائل ص:۵۳۶)
(۱) گزشتہ صفحے کا حاشیہ نمبر۱ دیکھیں۔
680
خوش اخلاقی قادیانیوں کا دامِ فریب ہے
سوال:۔۔۔ قادیانیوں سے میل جول اور عام زندگی میں تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہئے؟ خاص طور پر جب وہ خوش اخلاق اور خدمت گار ہو؟ جبکہ خوش اخلاقی اچھی عادت ہے!
محمد رشید چنیوٹ
جواب:۔۔۔ محترم محمد خورشید صاحب! السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ وبرکاتہ
قادیانی علی العموم کفار ومرتدین ہیں، ان سے سلام، کلام، کھانا، پینا، بیاہ، شادی، لین دین کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں، حرام حرام قطعی حرام ہے۔ کوئی شخص کسی لحاظ سے بہترین صفات کا حامل ہو، اس کا اللّٰہ، رسول اور قرآن، اسلام اور اہلِ اسلام کا دُشمن ہونا اور ان سے بغاوت کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی ذاتی خوبی، اس کا مداوا نہیں کرسکتی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْإِیْمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ أُوْلَئِکَ حِزْبُ اللہِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
’’تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو یقین رکھتے ہیں اللّٰہ اور پچھلے دِن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللّٰہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی، اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔ یہ ہیں جن کے دِلوں میں اللّٰہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی رُوح سے ان کی مدد کی، اور انہیں باغوں میں لے جایا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللّٰہ ان سے راضی اور وہ اللّٰہ سے راضی، یہ اللّٰہ کی جماعت ہے، سن لو! کہ اللّٰہ کی جماعت ہی کامیاب رہے گی۔‘‘
یہ ہے اہلِ اِیمان کا عمل کہ وہ اللّٰہ اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے محبت نہیں کرتے، خواہ باپ ہو، بیٹا ہو، بھائی ہو، دوست ہو، لہٰذا آپ قادیانی سے ہر قسم کی قطع تعلقی کریں۔(۱) وہ اتنا ہی خوش اخلاق ہے تو کفر واِرتداد کو چھوڑے، قادیانی مرتد پر لعنت بھیجے اور محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر اِیمان لائے، مرتد ہونا اخلاق نہیں، بداَخلاقی ہے۔ جو شخص خود جہنم کا ایندھن بن جائے اور دُوسروں کو بھی اپنی طرف کھینچے، اس کی بہترین خدمات نہیں، بدترین مہلکات ہیں۔وﷲ الھادی وصلی ﷲ علٰی خیر خلقہ محمد وآلہٖ وصحبہٖ وسلم! عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ص:۳۵۶،۳۵۷)
قادیانیوں سے خاندانی واخلاقی روابط حرام ہیں
سوال:۔۔۔ میرے خالو کراچی میں طویل عرصے سے ایک اعلیٰ رہائشی علاقے میں مقیم ہیں۔ چند سالوں سے وہ مرزائی
(۱) صفحہ:۶۷۹ کا حاشیہ نمبر۱ دیکھیں۔
681
…احمدی… ہوگئے ہیں، اور اپنی اولاد کو بھی اسی راہ پر ڈال دیا ہے، وہ لوگ ہمارے گھر آتے جاتے ہیں۔ آیا ہم ان سے تعلقات منقطع کریں یا نہ کریں؟ اور شادی بیاہ، اکٹھے کھانا وغیرہ کیسا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔ ان مرتدینِ اسلام کی سزا کیا ہے؟ اور کیا میں اِنفرادی طور پر ان کو کوئی سزا دے سکتا ہوں؟ تفصیلاً جواب مرحمت فرمائیں۔
عامر اِقبال، واہ کینٹ
جواب:۔۔۔ محترم عامر اقبال صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
آپ کے خالو ۔۔۔نعوذباللّٰہ۔۔۔ اگر احمدی یا قادیانی ہوگئے ہیں، تو یقینا وہ اسلام سے خارج، مرتد اور کافر ہوگئے۔ آپ کا اور ہر مسلمان کا ان سے ملنا جلنا، کھانا پینا اور کسی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے۔ صحابہ کرامؓ کو دیکھیں انہوں نے اپنے حقیقی رشتہ داروں اور عزیزوں کو کس طرح عقیدے کی بنا پر ترک کردیا تھا، قرآن ِ کریم میں ارشاد ہے:
’’لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَاء ہُمْ أَوْ أَبْنَاء ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ‘‘ (المجادلۃ:۲۲)
’’تم ایسی قوم نہ پاؤگے جو اللّٰہ اور قیامت پر اِیمان رکھتی ہو کہ اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے محبت رکھے، کواہ ان کے باپ ہوں، بیٹے ہوں یا بھائی اور قبیلے والے ہوں۔‘‘
بدر اور اُحد کی لڑائیوں میں آمنے سامنے کون تھے؟ اپنے ہی نسبی، حسبی بھائی، باپ، بیٹے، ماموں، چچے، خالہ زاد، عم زاد، دوست، عزیز اور رِشتے دار وغیرہ۔ پس آپ اپنے اِیمان کی حفاظت کریں اور رِشتۂ اِیمان پر تمام رِشتے قربان کردیں۔ مرتدوں کا آپ سے ہنس کے بولنا اخلاق نہیں، طنز ہے، جو آپ کے خدا ورسول کا لحاظ، پاس نہ کریں ان سے نہ شرمائیں۔ وہ آپ کے خیرخواہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ آپ اپنے اِیمان کا ثبوت دیں اور ان تمام لوگوں سے، اللّٰہ ورسول کی رضا کے لئے تعلقات ختم کردیں۔ نہ دُنیاوی معاملات میں، نہ دینی معاملات میں، ان سے بیاہ شادی حرام، حرام قطعی حرام ہے۔ ان کے ساتھ اُٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، رشتہ ناتہ رکھنا، تعلقات رکھنا، سب حرام اور کفر ہے۔(۱)ان مرتدین کی سزا شرعاً قتل کرنا ہے، مگر یہ سزا صرف حکومت دے سکتی ہے، عام آدمی نہیں۔ واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۵۱-۳۵۳)
قادیانیوں سے میل جول کا حکم
سوال:۔۔۔ آج کل نئے فیشن کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو اپنے مذہب وعقائد کی تو بہت کم خبر ہوتی ہے، بسااوقات وہ لوگ آج کل کے عقائدِ باطلہ وافعالِ ممنوعہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں، چنانچہ فی زمانہ قادیانیوں کا سلسلہ عام ہو رہا
(۱) قال تعالٰی: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی: بَعضُہُم اَولِیَآءُ بَعضٍ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
682
ہے، اور عموماً ان کو لوگ کلمہ گو کہہ کر مسلمان سمجھتے ہیں، اور باوجود ان کے عقائدِ کفریہ عام ہوجانے کے پھر بھی ان سے پرہیز اور اِجتناب نہیں کرتے، اور اگر ان سے کہا جائے ان لوگوں سے بچنا چاہئے، کیونکہ ان کی صحبت کا بُرا اثر پڑتے پڑتے ایک روز ان کے عقائد کی خرابی کا دِل میں اِحساس بھی باقی نہیں رہتا، لیکن یہ لوگ نہیں مانتے، اور ان کو بُرا بھی نہیں سمجھتے، بلکہ اپنی رشتہ داری یا ذاتی اَغراض کی وجہ سے خلاملا رکھتے ہیں، اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ ان کے اس قدر حامی اور مددگار ہوجاتے ہیں کہ اصل قادیانی بھی ان سے زیادہ ان کے عقائدِ باطلہ کی تائید نہیں کرسکتے۔ لہٰذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ:
۱:۔۔۔ آیا قادیانی یا جو اُن کو اچھا سمجھیں ان سے میل جول، رشتہ ناتہ کرنا، ان کے ساتھ بیٹھنا اُٹھنا اور ان کی اِعانت ومدد کرنا کیسا ہے؟
۲:۔۔۔ نیز جو رِشتے ایسے لوگوں کے ساتھ ہوگئے ہیں ان کو باقی رکھنا بہتر ہے یا ان سے تعلق منقطع کرکے اچھے اور نیک دِین دار مسلمانوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا بہتر ہے؟
۳:۔۔۔ اگر کوئی شخص باوجود سمجھانے اور باوجود شرعی حکم پہنچانے اور باوجود قادیانی کے عقائدِ باطلہ کو جان لینے کے بھی ان کے ساتھ خلاملا رکھے اور ان کو اچھا سمجھے اور ان سے علیحدگی کو گوارا نہ کرے، بلکہ سچے پکے دِین دار مسلمانوں کو بُرا سمجھے، ایسے شخص سے میل جول رکھنا چاہئے یا نہیں؟
المستفتی نمبر:۵۶۸ عبدالرحمن، ریاست جیند
۱۰؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۴ھ-۱۱؍اگست ۱۹۳۵ء
جواب۱:۔۔۔ قادیانی فرقہ جمہور علمائے اسلام کے فتوے کے بموجب دائرۂ اسلام سے باہر ہے، اس لئے اس فرقے کے ساتھ میل جول اور تعلقات رکھنا سخت مضر اور دِین کے لئے تباہ کن ہے۔ اس حکم میں قادیانی اور لاہوری دونوں برابر ہیں۔(۱)
۲:۔۔۔ اگر نادانستگی سے ان لوگوں کے ساتھ رشتہ ہوگیا ہو تو معلوم ہونے پر اسے منقطع کردینا لازم ہے، تاکہ خدا ورسول کی ناخوشی اور آخرت کے وبال سے نجات ہو۔
۳:۔۔۔ جو لوگ کہ قادیانیوں کے عقائدِ کفریہ سے واقف ہوں، اور پھر بھی ان کو مسلمان سمجھیں وہ گویا خود بھی ان عقائدِ کفریہ کے معتقد ہیں۔ اس لئے وہ بھی اسلام سے خارج اور قادیانیوں کے زُمرے میں شمار ہوں گے۔(۲) دِین دار مسلمانوں کو ان سے بھی علیحدگی اور بیزاری کا سلوک کرنا چاہئے، فقط!
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ
(شائع شدہ اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ ۲۰؍اگست ۱۹۳۵ء)
قادیان کے نبی کے مقلد ۔۔۔دونوں لاہوری احمدی اور قادیانی۔۔۔ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور بہت سے کام مسلمانوں کے مذہب کے خلاف کئے، ان وجوہ سے وہ تمام علمائے
(۱،۲)ولا نزاع فی إکفار منکر شیء من ضروریات الدین۔ (کلیات ابو البقاء ص:۵۵۶، إکفار الملحدین ص۱۲۱)۔
ایضًا: فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإسلام، وکذا من لم یقل بکفرہ وارتدادہ، وظنہ ولیًّا او مجدّدًا او مصلحًا فإنہ کذّاب، دجّال، قد افتری علی ﷲ ورسولہ کذبًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۷، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
683
اسلام کے نزدیک اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں، اور دونوں فرقے جو کہ یقین کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی ہادی تھے یا مسیحِ موعود تھے یا مہدی تھے یا اِمامِ وقت تھے، اس لئے وہ لوگ اپنے مقتدا کے مانند ہیں اور وہ لوگ کافر ہیں۔(۱) اور لاہوری جماعت بھی یقین کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی قابلِ تقلید تھے، وہ بھی کافر ہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ (صدر جمعیت علمائے ہند)
۲۶؍جمادی الثانیہ ۱۳۵۴ھ-۲۵؍ستمبر۱۹۳۵ء
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۴ تا ۳۱۶)
مرزائیوں کے ساتھ تعلقات کے مفصل اَحکام
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ فرقۂ مرزائیہ کا کفر واِرتداد جبکہ شرعاً، عقلاً، نقلاً نصف النہار کی طرح روشن اور واضح ہوچکا ہے، تو اس صورت میں اہلِ اسلام فرقۂ مرزائیہ کے ساتھ حدودِ شرعیہ میں رہتے ہوئے کس حد تک معاملات وبرتاؤ کرسکتے ہیں؟ مرزائیوں کی دعوتیں، ان کے ساتھ کھانا پینا، کاروبار، لیکن دین حتیٰ کہ ان کے ساتھ نشست وبرخاست تک کے مسائل پر روشنی ڈالیں۔
جواب:۔۔۔ واضح رہے کہ موالات یعنی دِلی محبت ومودّت کسی غیرمسلم سے کسی بھی حال میں قطعاً جائز نہیں، لقولہ تعالیٰ:’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘ (الممتحنہ:۱) البتہ مواسات یعنی ہمدردی، خیرخواہی، نفع رسانی کی اِجازت ہے۔ لیکن جو کفار برسرِپیکار ہوں تو ان کے ساتھ اس کی بھی اِجازت نہیں۔ تعلقات کا تیسرا درجہ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ ہے۔ یہ بھی غیرمسلموں کے ساتھ جائز ہے، بشرطیکہ اس سے مقصود ان کو دِینی نفع پہنچانا نہ ہو۔ یا وہ بحیثیت مہمان آئے ہوں، یا ان کے شر اور فتنے سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔ آخری درجہ معاملات ہے، یعنی کفار سے تجارت، اِجارات، صنعت وحرفت کے معاملات، یہ بھی جائز ہیں۔ بجز ایسی حالت کے کہ ان سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو، اگر ایسا ہو تو یہ بھی جائز نہیں۔
مذکورہ بالا توضیح سے نتیجہ یہ نکلا کہ اگر مرزائیوں کے ساتھ نشست وبرخاست، کھانا پینا، آمد ورفت، میل جول، دِلی محبت اور دوستی کی بنا پر ہو تو ناجائز اور حرام ہے۔(۲) اگر کسی دِینی وشرعی غرض کے تحت ہو تو جائز ہے، مگر چونکہ عام طور پر اس قسم کے تعلقات دِلی دوستی کی بنا پر ہوتے ہیں اور ان تعلقات کی خاصیت بھی یہ ہے کہ یہ دِلی قرب پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں عوام الناس میں صحیح نیت کا
(۱)ولا نزاع فی إکفار منکر شیء من ضروریات الدین۔ (کلیات ابو البقاء ص:۵۵۶، إکفار الملحدین ص۱۲۱)۔
ایضًا: فمتنبیء البنجاب القادیانی کافر مرتد عن الإسلام، وکذا من لم یقل بکفرہ وارتدادہ، وظنہ ولیًّا او مجدّدًا او مصلحًا فإنہ کذّاب، دجّال، قد افتری علی ﷲ ورسولہ کذبًا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۲ ص:۶۳۷، طبع إدارۃ القرآن کراچی)۔
(۲) قال تعالٰی: ’’یَاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصٰری اَولِیَآءَ‘‘۔۔۔۔۔۔۔ وفی ھٰذہ الآیۃ دلالۃ علٰی ان الکافر لا یکون ولیًّا للمسلم لا فی التصرف ولا فی النصرۃ، ویدل علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویدل علٰی ان الکفر ملّۃ واحدۃ لقولہ تعالٰی:بَعضُہُم اَولِیَآءُ بَعضٍ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
ایضًا: لا تحابوا اھل القدر ای لا توادوھم ولا تحابوھم فإن المجالسۃ ونحوھا من الممشاۃ من علامات المحبۃ وامارات المودۃ فالمعنٰی لا تجالسوھم مجالسۃ تأنیس وتعظیم لھم ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص:۳۰۹، باب الإیمان بالقدر)۔
684
بھی اِہتمام نہیں ہوتا اس لئے اس قسم کے تعلقات کو علی الاطلاق منع کیا جاتا ہے،لیفسد باب المفاسد، قال ﷲ تعالٰی: ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار‘‘ (ہود۱۱۳)۔
تعلقات کی یہ تفصیل مختلف آیاتِ قرآنی کا خلاصہ ہے، تاہم مرزائیوں کی تقریبات میں شمولیت اور ان کے ہم پیالہ وہم نوالہ بن کر رہنا جائز نہیں، کیونکہ اس کا انجام خود مرزائی بن جانا ہوتا ہے ۔۔۔والعیاذباللّٰہ تعالیٰ۔۔۔ اس لئے سخت اِحتراز لازم ہے۔
فقط واللّٰہ اعلم!
| الجواب صحیح |
محمد انور عفا اللّٰہ عنہ |
| بندہ عبدالستار عفا اللّٰہ عنہ |
۲۰؍۷؍۱۳۹۸ھ |
(خیرالفتاویٰ ج:۱ ص:۳۸۶،۳۸۷)
قادیانی مذہب والوں سے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟
سوال:۔۔۔ میرے ہمسائے قادیانی ہیں، وہ ہم سے دُودھ خریدتے ہیں، میں پڑھی لکھی ہوں اور جانتی ہوں کہ شرعاً کسی طرح ان سے تعلق جائز نہیں، لیکن میری والدہ صاحبہ اَن پڑھ ہیں، وہ میرے منع کرنے پر بھی نہیں رُکتیں، اور ان کو بدستور دُودھ دیتی رہتی ہیں۔ آیا میں اپنی والدہ سے خدمت گزاری والا طریقہ بھی رکھوں اور ان مرزائیوں سے بھی مکمل قطع تعلق رہوں؟ میری والدہ کہتی ہیں کہ وہ مرزائی لوگ قرآن بھی پڑھتے ہیں، نماز روزہ سب عبادتیں کرتے ہیں، وغیرہ۔ میں نوکری کرتی ہوں، میں نے امی کو کہا کہ آپ بھی ان بدبختوں سے تعلق چھوڑ دیں، ورنہ میں نوکری چھوڑ دُوں گی۔ کیا میں نوکری چھوڑ دُوں جبکہ میری والدہ نے میری بات نہیں مانی؟ تمام گوشوں پر تفصیلی راہنمائی فرمائیں۔
رفعت نذیر، نارووال
جواب:۔۔۔ محترمہ رفعت نذیر صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
آپ نے جو حالات لکھے، ان سے کئی لوگوں کو سابقہ ہے، آپ مبارک باد کی مستحق ہیں کہ آپ نے پوری تفصیل سے وضاحت کی اور ایک عظیم ذہنی خلش کا اِظہار اور اس کا حل دریافت کیا۔ اُمید ہے کہ دیگر حضرات مرد وخواتین بھی اس وضاحت سے مستفید ہوں گے۔
آپ نے دونوں باتوں کا اِحتیاط سے خیال رکھنا ہے، اِیمان کی حفاظت اور ماں کی خدمت۔ عقیدہ اپنا رکھیں اور اس سلسلے میں کسی سے کبھی نرمی نہ کریں، مضبوطی سے اس پر قائم رہیں۔
ماں کا ادب اور خدمت کریں اور نرمی سے اسے حق کی دعوت دیں، نہ مانے تو بھی اس کی خدمت کرتی رہیں، اور عقیدہ واِیمان اپنا رکھیں۔ اس سے وہ ناراض ہوں تو سو بار ہوں، اس کی فکر نہ کریں۔(۱) حضرت اویس قرنیؒ نے ماں کی خدمت کی ہے،
(۱) قال تعالٰی: ’’وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْناً وَإِن جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا‘‘(العنکبوت:۸)
وقال تعالٰی: ’’وَإِن جَاہَدَاکَ عَلی أَن تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوفا‘‘ (لقمان:۱۵)۔
عن النواس بن سمعان قال قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (مشکوٰۃ ص:۳۲۱، کتاب الامارۃ والقضاء)۔
685
اس پر اِیمان قربان نہیں کیا۔ آپ بھی یہی کچھ کریں۔ اپنی ملازمت جاری رکھیں اور ترقی کے لئے مزید محنت کریں۔ مرزائی، قرآن، صاحبِ قرآن اور اِسلام کے باغی، دُشمن اور بدخواہ ہیں، ان کا قرآن پڑھنا نرا دھوکا اور فریب ہے، وہ تو اس کتابِ مقدس کو ہاتھ تک نہیں لگاسکتے:
’’لَّا یَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُونَ‘‘ (الواقعہ) اس کو صرف پاک لوگ ہاتھ لگائیں۔
نماز، تراویح، روزہ وغیرہ اس کا قبول ہے جو اِیمان والا ہو، مرتدین اور کفار کی تو کوئی عبادت قبول ہی نہیں، جیسے ہندو، عیسائی، یہودی کی نماز، روزہ ناقابلِ قبول، ایسے ہی مرزائی مرتدوں کا۔ آپ چاہیں تو اس تمام کارروائی کو اِسلام اور قرآن کی توہین قرار دے کر ان لوگوں پر کیس کرسکتے ہیں۔ وہ قانونی طور پر نہ مسلمان کہلواسکتے ہیں، نہ اسلامی عبادات کرسکتے ہیں، نہ اسلامی اِصطلاحات اِستعمال کرسکتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ اور دیگر مسلمانوں نے اِیمان کی خاطر تمام رِشتے ناتے قربان کرکے اور غلامیٔ رسول کا رِشتہ اِختیار کرکے ہمارے لئے بہترین نمونہ چھوڑا ہے، ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہئے، باقی سب رِشتے بعد میں، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی غلامی کا رِشتہ سب سے پہلے۔ واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۴۷،۳۴۸)
مرزائیوں کو ملاقات کے دوران سلام کرنا اور ان کو اپنی دعوتوں میں شریک کرنا کیسا ہے؟
سوال:۔۔۔ عرض یہ ہے کہ مرزائیوں کو مسلمان سمجھ کر ’’السلام علیکم‘‘ کہنا اور ان کو اپنی دعوتوں میں شریک کرنا کیسا ہے؟ جبکہ ان کے مرزائی ہونے کا یقینی علم ہو۔ کیا ایسی صورت میں مسلمان کے لئے تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہوگی؟ جبکہ مسلمانوں کے منع کرنے سے بھی اپنی عادت نہ بدلے۔
۲:۔۔۔ مرزائیوں کو عام کافروں کی طرح کافر تو سمجھے، مگر پھر بھی ’’السلام علیکم‘‘ کا روزانہ معمول رکھے، ایسی صورت میں یہ گناہِ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
۳:۔۔۔ جو اِمامِ مسجد اور جمعہ کا خطیب مسئلہ پوچھنے والوں سے یہ کہے کہ: ’’مرزائیوں سے مسلمانوں کو روابط رکھنا، اور انہیں ’’السلام علیکم‘‘ کہنا یہ عام طرح کے معمولی گناہ ہیں، کوئی بڑا گناہ نہیں، تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ ایسے اِمام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ (۱تا۳) تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزائی قادیانی مرتد ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، کسی مرزائی کو (یقینی طور پر یہ جانتے ہوئے کہ وہ مرزائی ہے) مسلمان سمجھنا کفر ہے، ایسی صورت میں مسلمان کے لئے تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح ضروری ہے۔
اسی طرح ان قادیانی مرتدوں کو سلام کرنا جائز نہیں، البتہ غیرمسلم کے سلام کا جواب دینا لفظ ’’وعلیک‘‘ کے ساتھ جائز
686
ہے، اور ’’السلام علٰی من اتبع الہدیٰ‘‘ سے ابتدائً سلام بھی کیا جاسکتا ہے اور جواب بھی دیا جاسکتا ہے۔ اور ان قادیانی سے تعلقات رکھنے اور دعوتوں میں شریک کرنے سے حتی الامکان پرہیز کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے ان کے ساتھ ایک قسم کا تعاون ہوجاتا ہے۔
نیز اس قسم کے معاملات میں یہ قباحت بھی ہے کہ عوام، قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس طرح قادیانیوں کو اپنا جال پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں، اس لئے قادیانی سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں حتی الامکان پرہیز کرنا چاہئے، بلاعذر ان سے تعلقات رکھنے والا آدمی -اگرچہ ان کو بُرا سمجھتا ہو- قابلِ ملامت ہے، لیکن اس کے لئے تجدیدِ اِیمان، تجدیدِ نکاح ضروری نہیں ہے۔ اِمامِ مسجد اور خطیب کو چاہئے کہ لوگوں کو مذکورہ طریقہ کے مطابق صحیح مسئلہ بتادیں، اس سلسلے میں زیادہ نرم رویہ بھی مناسب نہیں، اور ان اِمام صاحب کی اِقتدا میں نماز ہوجاتی ہے۔
فی الدر المختار:-
’’فلا یسلّم ابتدائً علٰی کافر لحدیث: لا تبتدئوا الیھود والنصاریٰ بالسَّلام، فإذا لقیتم احدھم فی طریق فاضطروہ إلٰی أضیقہٖ، رواہ البخاری، وکذا یحض منہ الفاسق بدلیل آخر۔ ۔۔۔۔۔۔ ولو سلّم الیھود او النصرانی او مجوسی علٰی مسلم فلا بأس بالرد ولٰکن لا یزید علٰی قولہ وعلیک کما فی الخانیۃ۔‘‘ (ج:۵ ص:۲۶۵)
وقال ابن عابدین:
’’لٰکن فی الشرعۃ إذا سلّم علٰی اھل الذّمّۃ فلیقل السلام علٰی من اتبع الھدیٰ، وکذالک فی الکتاب إلیھم، ۔۔۔۔۔۔۔ قال محمد: إذا کتب إلٰی یھود او نصرانی فی حاجۃ فاکتب السلام علٰی من اتبع الھدیٰ۔‘‘ (رد المحتار ج:۵ ص:۲۶۴)
| الجواب صحیح |
واللّٰہ اعلم |
| بندہ عبدالرؤف سکھروی |
محمد کمال الدین |
|
(فتویٰ نمبر۱۳۶۲/۳۸د) |
|
۱؍۸؍۱۴۰۷ھ |
|
دارالافتاء دارالعلوم کراچی۱۴ |
قادیانی کو سلام اور جواب
سوال:۔۔۔ قادیانی لوگوں کو سلام کرنا یا ان کے سلام کا جواب دینا شرع شریف میں کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! ان لوگوں کو سلام نہیں کرنا چاہئے، اگر یہ لوگ سلام کریں تو جواب میں فقط: ’’ھَدَاکَ
687
ﷲ‘‘ کہہ دینا چاہئے۔(۱)
فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
| سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
|
۱۶؍رمضان ۱۳۵۵ھ |
۱۴؍۹؍۱۳۵۵ھ |
(فتاویٰ محمودیہ ج:۵ ص:۲۲۱)
بیمار قادیانی کی تیمارداری
سوال:۔۔۔ مرزائی مفلوج الجسم اور مفلس، تنگ دست رشتہ دار کی خدمتِ جسمانی یا اِمدادِ مالی ۔۔۔مثلاً ماموں ہے۔۔۔ کرنا اور کوئی اس کا رِشتہ دار خدمت کرنے والا نہ ہو، محض مخلوقِ خدا کافر اور پلید سمجھ کر جیسے کتے وغیرہ کی خدمت ہے جائز ہے یا نہیں؟
سائل: صوفی علی محمد، مسجد نور جالندھر شہر
۳۱؍مارچ ۱۹۴۵ء
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! مرزائی صرف کافر ہی نہیں، بلکہ مرتد ہیں، جو معاملہ دیگر کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے، مرتد کے ساتھ شرعاً نہیں کیا جاتا، اس لئے مرتد کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں چاہئے، البتہ اگر یہ توقع ہو کہ وہ خوش اخلاقی اور تیمارداری سے متأثر ہوکر اِرتداد سے تائب ہوجائے گا اور اِسلام قبول کرلے گا تو پھر یہ تیمارداری مستقل تبلیغ کا حکم رکھتی ہے، بشرطیکہ نیت یہی ہو۔(۲)
فقط واللّٰہ سبحانہ تعالیٰ اعلم!
| الجواب صحیح |
الجواب صحیح |
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ |
| سعید احمد غفر لہٗ |
عبداللطیف |
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
| مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور |
مدرسہ مظاہر علوم |
|
۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۶۴ھ
(فتاویٰ محمودیہ ج:۸ ص:۲۹۲)
قادیانی کی تجہیز وتکفین اور ان کے نکاح میں شرکت
سوال۱:۔۔۔ کسی قادیانی کی تجہیز وتکفین میں دیدہ ودانستہ حصہ لینے والے مسلمان کے حق میں کیا حکم ہے؟
۲:۔۔۔ قادیانی کی شادی میں شریک ہونا اور اِمداد کرنا کیسا ہے؟
۳:۔۔۔ دعوت قادیانی کی مسلمان کے لئے کیسی ہے؟
(۱) إنما الأعمال بالنّیّات۔ (بخاری ج:۱ ص:۲)۔ ایضًا: الاُمور بالمقاصد۔ (شرح المجلۃ)۔
(۲)قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم: إنّما الأعمال بالنّیّات وإنّما لامریء ما نویٰ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۲۱، باب کیف کان بدء الوحی)۔
688
۴:۔۔۔ علمائے دین کے فتویٰ کو غلط بتانے والا اور توہین کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟
۵:۔۔۔ عزیز واقارب، دوست آشنا، نیز برادری کے بھائی اور مسلمانانِ قصبہ، قادیانیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کریں تاکہ وہ عنداللّٰہ مأخوذ نہ ہوں؟
۶:۔۔۔ قادیانی کی شادی کرنا کیسا ہے؟
جواب۱:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام متبعین خواہ کسی پارٹی کے ہوں، جمہور علمائے اسلام کے اِتفاق سے کافر ومرتد ہیں۔ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا یا شریک ہونا، ہرگز جائز نہیں۔(۱) اور جو کوئی مسلمان شریک ہو، وہ گناہگار ہے، توبہ کرنی چاہئے۔
۲:۔۔۔ یہ بھی ناجائز ہے، کیونکہ اس سے لوگ ان کو مسلمان سمجھنے لگتے ہیں اور ان کو اپنی گمراہی پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔قال ﷲ تعالٰی: ’’فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (الانعام:۶۸)، ’’وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار‘‘ (ہود:۱۱۳)۔
۳:۔۔۔ ہرگز نہ کھانی چاہئے، بالخصوص ذبیحہ ان کا بالکل مردار ہے، اس سے پرہیز ضروری ہے۔(۲)
۴:۔۔۔ ایسا شخص سخت گناہگار ہے، بلکہ اندیشۂ کفر ہے، توبہ کرنی چاہئے،’’صرّح بہ فی کلمات الکفر من جامع الفصولین والبحر۔‘‘
۵:۔۔۔ مسلمانوں کو قادیانیوں سے کسی قسم کا تعلق شرکت، شادی وغمی وغیرہ کا ہرگز نہ رکھنا چاہئے، اگرچہ رِشتہ داری وقرابت بھی ہو۔ رِشتۂ اِسلام کے قطع کرنے والے کے ساتھ رِشتۂ قرابت کوئی چیز نہیں۔(۳)
۶:۔۔۔ قادیانی مرد یا عورت کا کسی سے نکاح نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ مرتد ہیں، اور مرتد کا نکاح کسی سے منعقد نہیں ہوسکتا،قال فی الدر المختار: ولا یصح ان ینکح مرتد او مرتدۃ احدًا من الناس مطلقًا۔
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۱۰۲۳،۱۰۲۴)
قادیانی کے گھر مسلمان کے لئے فاتحہ خوانی کا شرعی حکم
سوال:۔۔۔ عرض ہے کہ ایک قادیانی آدمی کی مسلمان بہن فوت ہوگئی، ہمارے محلے کے اِمام صاحب اور کوئی لوگوں نے ان کے گھر جاکر فاتحہ خوانی کی، آیا قادیانی کے گھر فاتحہ خوانی کے لئے جانا دُرست ہے؟ لوگ اِمام صاحب کو اس وجہ سے کافر کہہ رہے ہیں۔ شرعی مسئلہ واضح فرمائیں۔ محمد ذیشان، ملتان
جواب:۔۔۔ محترم ذیشان صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
(۱) قال تعالٰی: ’’وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ‘‘ (التوبۃ:۸۴)۔
(۲)لا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۲۹۸، طبع ایچ ایم سعید)۔
(۳) صفحہ:۶۸۴ کا حاشیہ نمبر۲ ملاحظہ ہو۔
689
قادیانی کی بہن مسلمان تھی، اس کے لئے فاتحہ خوانی بالکل صحیح ہے، البتہ اس مرزائی کے گھر نہ جانا چاہئے تھا، کیونکہ مرزائی سے سلام کلام، کھانا پینا، میل ملاپ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں۔ پس مسلمان مرحومہ کی فاتحہ خوانی کسی مسلمان عزیز کے گھر بھی ہوسکتی تھی۔ نیز کسی کے گھر جانا ممکن نہ تھا تو اپنی جگہ پر یا اپنے گھر بیٹھ کر دُعائے مغفرت کی جاسکتی تھی۔ مرزائی سے ہر قسم کا تعلق ختم کرنا ضروری ہے۔ بہرحال اِمامِ مسجد اور جن دُوسرے مسلمانوں نے مرحومہ کی فاتحہ خوانی کی، جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اس اِمام کو ۔۔۔معاذاللّٰہ۔۔۔ کافر کہنا، یا اس قسم کی گفتگو کرنا بیہودہ وحرام ہے۔ مسلمان عام طور پر اور علمائے کرام خاص طور پر ایسے مواقع پر سخت اِحتیاط کریں کہ کسی قسم کا شک وشبہ پیدا نہ ہو، اور لوگ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ واللّٰہ اعلم!
عبدالقیوم خان
(منہاج الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۵۳)
قادیانیوں کے ساتھ اِشتراکِ تجارت اور میل ملاپ حرام ہے
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں:
قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور اِرتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے، چونکہ قادیانی مرتد کافر اور دائرۂ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں، تو کیا ایسے میں ان کے اِشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دُکانوں سے خرید وفروخت کرنا، یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ ورسم رکھنا اَز رُوئے اسلام جائز ہے؟
جواب:۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر، محارِب اور زِندیق ہیں،(۱) اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت نہیں سمجھتے، بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خرید وفروخت کرنا، ناجائز وحرام ہے،(۲) کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں، گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں، لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی، غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اِختلاط، ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا، یہ سب کچھ حرام، بلکہ دِینی حمیت کے خلاف ہے، فقط واللّٰہ اعلم!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۲۹)
قادیانیوں سے لین دین کرنے کا حکم
سوال:۔۔۔ مسلمانوں کے لئے قادیانوں کے ساتھ لین دین یعنی تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۱)وإن اعترف بہ (ای الحق) ظاھرًا لٰکن یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورۃ بخلاف ما فسّرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزندیق۔ (المسوّٰی شرح الموطأ ج:۲ ص:۱۳)۔
(۲)قال تعـالٰی: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاءَ‘‘ (المـائدۃ:۵۱) وفی ھٰذہ الآیـۃ دلالـۃ علٰی ان الکافر لا یکـون ولیًّا للمسـلمـین لا فی التـصرف ولا فی النصـرۃ، وتدل عـلٰی وجـوب البرائۃ عـن الکفار والعـداوۃ بھـم، لأن الولایـۃ ضد العداوۃ، فـإذا أمرنـا بمعـادات الیھـود والنصـاریٰ لکفـرھـم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم، والکفر ملّۃ واحدۃ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
690
جواب:۔۔۔ اگرچہ غیرمسلموں سے دُنیاوی معاملات کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے بسااوقات ان کے کفریہ عقائد مخفی رہ جاتے ہیں، اس لئے یہ مرتدین کے حکم میں ہوکر ان سے کسی قسم کی تجارت کرنا جائز نہیں۔قال العلَّامۃ برھان الدین المرغینانی:
’’ویزول ملک المرتد عن اموالہ بردتہ زوالًا مراعًی فإن اسلم عادت إلٰی حالھا۔‘‘ (الھدایۃ ج:۲ ص:۵۶۶، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، مطبع مجیدی کانپور)
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۳،۳۳۴)
سوال:۔۔۔ از بریلی، محلہ گھیر جعفر خاں، مسئولہ قدرت حسین صاحب ۵؍رمضان ۱۳۳۹ھ
قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرنا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ قادیانی مرتد ہیں، ان کے ہاتھ نہ کچھ بیچا جائے، نہ ان سے خریدا جائے، ان سے بات ہی کرنے کی اِجازت نہیں۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’إیّاکم وإیّاھم‘‘ ان سے دُور بھاگو، انہیں اپنے سے دُور رکھو۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۲۳ ص:۵۹۸)
قادیانی کی زمین اِجارہ پر لینا
سوال:۔۔۔ ایک شخص تقریباً تیس سال سے قادیانی ہوگیا ہے، اور شخصِ مذکور ضلع پشاور میں مالک زمین ومیانہ جات ہے، اب اگر کوئی مسلمان اس قادیانی کا زمین اِجارہ پر لے یا نصف حصے پر کاشت کرے تو بروئے شرع شریف وہ اِجارہ گیرندہ یا کاشت کنندہ شخص پر کوئی گناہ تو نہ ہوگا؟
المستفتی نمبر:۷۷۰ حکیم عبدالرؤف، پشاور
۲۵؍ذیقعدہ ۱۳۵۴ھ-۱۹؍فروری۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ قادیانی کی زمین اِجارے پر یا تقسیم پیداوار پر لینے والا خارج اَز اِسلام تو نہ ہوگا، لیکن اگر قادیانی کی زمین نہ لے تو ایک مسلمان کے لئے یہ اچھا ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ج:۷ ص:۳۴۴)
مرزا کے نام کی مشابہت سے اِحتراز
سوال:۔۔۔ (الجمعیۃ مؤرخہ ۱۸؍جنوری ۱۹۲۷ء)
میں نے اپنے نومولود لڑکے کا نام ’’غلام احمد‘‘ رکھا ہے، چند بزرگ کہتے ہیں کہ یہ نام نہ رکھو، کیونکہ ’’غلام احمد‘‘ قادیانیوں کے سردار کا نام تھا۔
جواب:۔۔۔ ایک نام کے ہزاروں آدمی ہوتے ہیں، بعض ان میں سے اچھے اور بعض بُرے ہوتے ہیں، یہ نام اس وجہ
691
سے ناجائز نہیں ہوسکتا کہ قادیانی فرقے کے پیشوا کا نام تھا۔ تاہم اگر آپ بجائے غلام احمد کے محمد احمد نام بدل کر رکھ دیں تو بہتر ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ غفر لہٗ
(کفایت المفتی ج:۵ ص:۲۵۸)
قادیانیوں کے مرتب کردہ قاعدہ یسرنا القرآن سے اِحتراز کیا جائے
سوال:۔۔۔ (الجمعیۃ مؤرخہ ۱۴؍دسمبر ۱۹۲۵ء)
ایک شخص پیرزادہ منظور محمد نام نے ایک طویل قاعدہ بچوں کی تعلیم کے لئے بنایا ہے، جس کا نام ’’قاعدہ یسرنا القرآن‘‘ ہے، یہ شخص قادیانی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور صاحبِ وحی مانتا ہے، اس قاعدے کو پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص قاعدہ لکھے اور قاعدے کا نام ’’یسرناالقرآن‘‘ رکھ دے تو جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ میں نے قاعدہ یسرنا القرآن اب تک نہیں دیکھا۔ اگر اس قاعدے میں قادیانی مشن کی باتیں لکھی ہوں تو یقینا اسے بچوں کو پڑھانا نہیں چاہئے، ایسا نہ ہو کہ ابتدا ہی سے ان کے دِل میں گمراہی کی طرف میلان ہوجائے۔ بہرصورت اس سے اِحتراز اَولیٰ واَنسب ہے، کیونکہ بچوں کی تعلیم کے لئے دُوسرے قاعدے بہت اچھے اچھے ۔۔۔مثلاً نورانی قاعدہ وغیرہ۔۔۔ موجود ہیں۔ قاعدے کا نام ’’یسرناالقرآن‘‘ رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
محمد کفایت اللّٰہ غفر لہٗ
(کفایت المفتی ج:۲ ص:۴۶)
قاعدہ ’’یسرنا القرآن‘‘ کے اثرات
سوال:۔۔۔ قاعدہ یسرنا القرآن جو قادیانیوں کا بنایا ہوا ہے، جس میں کوئی عقیدہ قادیانی کی بات نہیں کہ جس سے فسادِ عقیدہ اور فسادِ عمل شرعی ہوتا ہو، بلکہ اس کی ترکیب وترتیب اور ہدایات بابت طریقۂ تعلیم ایسی ہے جس کے باعث بچہ بہ سہولت پانچ چھ ماہ میں بلکہ اس سے کم مدّت میں ناظرہ ختم کرلیتا ہے۔ چنانچہ راقم کا خود تجربہ ہے کہ بہت سے بچوں کو تین تین، چارچار ماہ میں ختم کرایا ہوں۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس قاعدے کا پڑھنا جائز ہے؟ اور کیا کفار کی بنائی ہوئی چیز کو اس کے کمال اور کسی خوبی اور عمدگی کی وجہ سے عمدہ اور اچھا کہنا جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً یوں کہنا کہ: ’’متھرا کا پیڑا اور بھگوان پور کا پیڑا بہت اچھا ہے‘‘ اس لئے کہ اچھا مشہور ہے تو اچھا کہنا کیسا ہے؟ کیونکہ اس کے بنانے والے کافر ہیں، یا یوں کہنا کہ امریکن لالٹین یا جرمنی کوئی چیز اچھی ہے تو اس کو اچھا کہنا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ حامدًا ومصلّیًا! امریکن لالٹین اور قاعدہ ’’یسرناالقرآن‘‘ میں بہت فرق ہے۔ اوّل خالص دُنیاوی چیز ہے، اور ثانی تعلیمِ قرآن اور دِینیات کی اِبتدا واِجرا ہے۔ اوّل کی تعریف سے کفار کے دِین کی تعریف نہیں ہوتی ہے، اور ثانی کی تعریف سے دِل میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جن لوگوں نے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے اتنا بہترین اِنتظام کیا ہے، جس سے بچہ بہت جلد ناظرہ رواں اور حفظ پڑھنے پر قادر ہوجاتا ہے، اور اس کا وقت ضائع ہونے سے محفوظ رہتا ہے، وقت جیسی قیمتی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کو ضائع ہونے سے بچانا لوگ خوب جانتے ہیں۔ لامحالہ دِینی اُصول وفروع میں بھی یہ لوگ ماہر ہوںگے اور ان کا طریقۂ تعلیم بہت اچھا ہے، لہٰذا ان کو اپنے مدارس میں ملازم رکھنا چاہئے، یا ان کے مدارس میں اپنے بچوں کو داخل کرنا چاہئے۔ علیٰ ھٰذا
692
القیاس بچہ جو کہ عقائدِ قادیانی سے بالکل بے خبر ہے، جب وہ ان کا بنایا ہوا قاعدہ پڑھے گا، پھر آئندہ وہ دُوسرے قواعد یا کتب میں وہ سہولت نہ پائے گا، اور بعد میں معلوم کرے گا کہ وہ پہلا قاعدہ قادیانی کا تصنیف کردہ ہے، تو لامحالہ اس کی طبیعت میں قادیانی کی نہ صرف تعریف بلکہ قدر پیدا ہوگی، اور یہ خواہش کرے گا کہ میں ان کی دُوسری تصانیف بھی پڑھوں، وہ بھی اسی طرح سہل اور دِلنشیں طریق پر ہوں گی۔ اور ان کی کتابیں پڑھنے سے جو نتیجہ ہوگا، وہ ظاہر ہے۔ پھر اگر خراب نتیجے سے والدین منع بھی کریں اور قادیانی کی بُرائی بھی سمجھائیں تب بھی بچہ کہے گا کہ یہ کسی عداوتِ نفسانی کی وجہ سے منع کر رہے ہیں، ورنہ واقعتا اگر قادیانی خراب وہتا تو اس کا بنایا ہوا قاعدہ کیوں پڑھاتے؟ اور جب اس قاعدے سے اس قدر نفع ہوا، جس کا میں تجربہ کرچکا ہوں اور اس کی تعریف اپنے اِبتدائی اُستاذ صاحب قاری خدابخش سے سن چکا ہوں، تو لامحالہ دُوسری کتابیں بھی ایسی ہی ہوں گی۔ تلبیس کی بنا پر رُوحانی اور معنوی غیرمحسوس طریقے پر جو اَثر پڑتا ہے، وہ غلط ہے۔ اس لئے اہلِ تقویٰ کفار کی دُکانوں سے اشیاء خریدنے سے اِحتراز کرتے ہیں اور اہلِ اِسلام کی دُکانوں سے خریدتے ہیں۔
پھر جب آپ اس قاعدہ ’’یسرناالقرآن‘‘ کو رِواج دے کر سب جگہ شائع کردیں گے تو اس سے قادیانیت کی بہت بڑی تبلیغ ہوگی اس لئے کہ یہ قاعدہ رجسٹرڈ ہے، کوئی دُوسرا اس کو نہیں چھپواسکتا، اور لامحالہ قادیانیوں سے خریدنا ہوگا اور وہ روپیہ مبلغین کو دِیا جائے گا کہ اہلِ اِسلام کی تردید کرکے قادیانی مذہب کو پھیلایا جائے۔ اور مسلمانوں سے مجمعِ عام میں مناظرہ کیا جائے اور اہلِ اسلام کے خلاف کتابیں چھپواکر شائع کی جائیں، نیز بغدادی قاعدہ اور نورانی قاعدہ جن کو مخلص دِین داروں نے تصنیف کیا ہے، وہ بیکار اور موقوف ہوجائیں گے۔ آج آپ کو یہ قاعدہ پسند آیا، اس کے نتائج یہ ہیں۔
فقط واللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم!
حررہ العبد محمود گنگوہی عفا اللّٰہ عنہ
معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور
(فتاویٰ محمودیہ ج:۸ ص:۴۰۳ تا ۴۰۶)
قادیانی قاعدہ کے پڑھانے کا حکم
سوال:۔۔۔ ازباسنی ناگور مارواڑ، مرسلہ محمد غیاث الدین کمہاروی ۳؍صفر۱۳۴۵ھ
قادیان ضلع گورداسپور پنجاب سے جو قاعدہ ’’یسرناالقرآن‘‘ چھپ کر شائع ہوا ہے بچوں کو پڑھانا کیسا ہے؟
جواب:۔۔۔ مذہب قادیانی رکھنے والے یقینا اِجماعاً بلاشک وشبہ کفار مرتدین ہیں۔ ایسے لوگوں کی کتابیں بچوں کو پڑھانا، ناجائز ہے، اگرچہ ان کتابوں میں ان کی گمراہی کی باتیں نہ ہوں، مگر مصنف کی عزّت دِل میں پیدا ہوگی اور ان کی باتیں قبول کرنے کا مادّہ پیدا ہوگا۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
’’قادیانی‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کو کہتے ہیں، یہ شخص کھلا ہوا کافر ومرتد تھا، اس نے وحیٔ نبوّت کا دعویٰ کیا، اور انبیائے کرام علیہم السلام خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام، ان کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ حضرت مریمؓ کی شانِ رفیع وجلیل میں
693
طرح طرح کی گستاخیاں، بیہودہ کلمات اِستعمال کئے، اس شخص نے اپنی نبوّت کا دعویٰ کرکے ضروریاتِ دِین سے اِنکار کیا ہے، نیز انبیائے کرام علیہم السلام کی تکذیب وتوہین کی اور قرآنِ عظیم کا بھی اِنکار کیا ہے۔
اس کے مختصر عقائد واباطیل یہ ہیں:
ازالہ اوہام ص:۵۳۳، خزائن ج:۳ ص:۳۸۶ میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
’’خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھا اور نبی بھی۔‘‘
اسی کتاب کے ص:۶۸۸، خزائن ج:۳ ص:۴۷۰ میں ہے:
’’حضرت رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اِلہام ووحی غلط نکلی تھیں۔‘‘(ملخصاً)
اسی کے ص:۲۶،۲۸ ، خزائن ج:۳ ص:۱۱۵،۱۱۶ میں لکھتا ہے:
’’قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآنِ عظیم سخت زبان کے طریق کو اِستعمال کر رہا ہے۔‘‘
حضورِ اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں جو آیتیں تھیں، مرزاقادیانی نے انہیں اپنے اُوپر چسپاں کرلیا، چنانچہ مرزا لکھتا ہے:
’’وما ارسلناک إلَّا رحمۃ للعالمین تجھ کو (غلام احمد کو) تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۲، خزائن ج:۲۲ ص:۸۵)
اور آیتِ کریمہ:’’وَمُبَشِّرًما بِرَسُولٍ یَّاتِی مِنم بَعدِی اِسمُہُ اَحمَدُ‘‘ سے اس نے اپنی ذات مراد لی (ازالہ اوہام ص:۶۷۳، خزائن ج:۳ ص:۴۶۳)۔
اربعین نمبر:۲ ص:۱۳، خزائن ج:۱۷ ص:۳۶۰ پر لکھا: ’’کامل مہدی نہ موسیٰ تھا، نہ عیسیٰ۔‘‘
اعجازِ احمدی کے ص:۱۳ خزائن ج:۹ ص:۱۲۰ پر لکھا:
’’یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملے میں اور ان کی پیشین گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اِعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے، کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے، اور کوئی دلیل ان کی نبوّت پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ اِبطالِ نبوّت پر کئی دلائل قائم ہیں۔‘‘
اسی کتاب کے ص:۱۴، خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۱ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوّت کا اِنکار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں، مگر یہاں نبوّت بھی ان کی ثابت نہیں۔‘‘
اس طرح کے توہین آمیز کلمات اور اِنکارِ ضروریاتِ دِین سے مرزاقادیانی کی کتابیں بھری ہیں، اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوّت کا اِعلان کرکے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد نیا نبی پیدا ہونے کو واقع تسلیم کرلیا، اس کے متبعین اسے علی الاعلان نبی
694
مانتے ہیں، اور اس کی نبوّت کا اِعتقاد رکھتے ہیں۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین (قادیانی کہنے والے) ضروریاتِ دِین کا اِنکار کرنے، انبیائے کرام کی شان میں گستاخی کرنے اور قرآنِ کریم کا اِنکار کرنے کی وجہ سے یقینا اِجماعاً بلاشک وشبہ کافر ومرتد ہیں۔ ایسے کہ مَنْ شَکَّ فِیْ کُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ فَقَدْ کَفَرَ، جو ان کی کفریات پر مطلع ہوکر ان کے کافر ومرتد ہونے اور عذاب دئیے جانے میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے، ایسے عقیدہ والوں کی کتابیں بچوں کو پڑھانا، ان کے عقیدہ وعمل کے فساد کا باعث ہے۔ معروف محدث اِمام ابنِ سیرین علیہ الرحمہ کے پاس دو بدمذہب نے آکر عرض کی کہ ہم آپ سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتے ہیں، آپ نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: تو پھر آپ ہی کوئی حدیث ہمیں پڑھ کر سنائیے۔ فرمایا: یہ بھی نہیں! یا تو تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ، یا میں چلا جاؤں گا۔ وہ دونوں نکل گئے۔ لوگوں نے اِمامِ موصوفؒ سے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: ’’إنّی خشیت ان یقرأ علیَّ آیۃ فیحرفانھا فیقرّ ذالک فی قلبی۔‘‘ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں آیت پڑھ کر اس کے معنی میں کچھ تحریف کردیں اور میرے دِل میں وہ بات گھر کرجائے۔ جب ایک اِمامِ وقت اور محدثِ عصر کا یہ حال تو ہمہ شما کا کیا ٹھکانا؟ وہ بھی بچوں کا! لہٰذا مذہب قادیانی رکھنے والوں کی کتابوں کا بچوں کو پڑھانا جائز نہیں۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
آلِ مصطفی مصباحی
(فتاویٰ امجدیہ ج:۴ ص:۱۰۹ تا ۱۱۱)
قادیانی کو کسی اِسلامی جلسے یا اِدارے میں شریکِ کار بنانا
سوال:۔۔۔ قادیانیوں، مرزائیوں احمدی ہو یا محمودی، میل جول رکھنا ان کے ساتھ کھاناپینا، اُٹھنابیٹھنا، شادی بیاہ کرنا، ان سے مسلمانوں کو اپنی مساجد اور قبرستانوں کے لئے چندہ لینا یا ان کو اِشاعتِ اسلام کی غرض سے چندہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
۲:۔۔۔ وقتی مصلحت کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی انجمنوں، مجلسوں وغیرہ کا قادیانیوں کو ممبر عام اس سے کہ وہ خصوصی ہوں یا عمومی بناکر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
۳:۔۔۔ کچھ لکھے پڑھے کہتے ہیں کہ قادیانی یہاں صرف بیس ہی تو ہیں۔ اگر ان کو شامل کرلیا جائے تو کیا حرج ہے؟ مسلمانوں کی شان نہیں کہ وہ اس قلیل مقدار سے خوف زدہ ہوکر اس اِشتراکِ عمل سے باز رہیں، یہ ایک مولوی صاحب کا مقولہ ہے، لہٰذا ہم کو بتایا جائے کہ یہ مولوی صاحب ٹھیک فرماتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی باتفاقِ اُمت کافر ہیں۔ ان کے وجوہ کفر اور عقائدِ کفریہ کو علماء نے مستقل رسالوں میں جمع کردیا ہے، ضرورت ہو تو رسائل ذیل میں دیکھ لیا جائے۔ ’’اشدالعذاب‘‘ مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب، ’’القول الصحیح‘‘، ’’فتاویٰ تکفیرِ قادیان‘‘ اور جبکہ یہ لوگ کافر ومرتد ٹھہرے تو ان کو اِسلامی اِداروں کا رُکن بنایا جائے گا تو گویا خود علمائے اسلام ان کو ایک عزّتِ دینی کے عہدے پر جگہ دے رہے ہیں، اس سے عوام پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو مثل علمائے اسلام کے مقتدا سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے فتوے ماننے لگتے ہیں، جو سراسر ضلالت وگمراہی ہے اور جس قدر مصالح ان لوگوں کی شرکت میںپیشِ نظر ہیں، اس سے بہت زیادہ نقصاناتِ شدیدہ کا خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے۔ اس لئے ہرگز ان لوگوں کو اِسلامی مجالس میں شریک نہ کرنا چاہئے،
695
ہمارے اکابر واساتذہ نے بہت غور وفکر اور تجارب کے بعد ہی رائے قائم کی ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(اِمدادُالمفتین ج:۲ ص:۱۰۲۲)
مسلمانوں اور مرزائیوں کی متحدہ جماعت کو ووٹ دینے کی شرعی حیثیت
سوال:۔۔۔ ایک مسلم پارٹی کا قادیانیوں سے اِنتخابی اِتحاد ہوا ہے، ایسی متحدہ جماعت کو ووٹ دینا مسلمانوں کے لئے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ قادیانی چونکہ مرتد اور خارج من الاسلام ہیں، ان سے اِتحاد کرنے سے اگرچہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر کچھ معمولی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے اِرتداد اور کفر کی وجہ سے ان کے جو مذموم مقاصد ہیں، اِتحاد کی صورت میں وہ متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس لئے قادیانیوں سے اِتحاد کرنے میں فائدہ کم اور نقصان کا اِحتمال زیادہ ہے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اگرچہ یہودیوں سے اِتحاد کیا تھا، لیکن اس سے کوئی اِسلامی شعار متأثر نہیں ہوا تھا۔
تاہم صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مسلمان کسی نیک مقصد کی تکمیل کے لئے قادیانیوں سے اِتحاد کرلیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بنیادی طور پر کفار اور مشرکین سے اِتحاد کرنا ممنوع ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:’’لاَّ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللہِ فِیْ شَیْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْہُمْ تُقَاۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہُ وَإِلَی اللہِ الْمَصِیْرُ‘‘ (آل عمران:۲۸)
لیکن جہاں کہیں مسلمانوں کو کافر اور مشرکین سے دِینی اور دُنیوی فائدہ ہو تو ایسی صورت میں ان سے اِتحاد کرنا مرخص ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ منوّرہ میں آنے کے بعد یہودیوں کے دو مشہور قبائل بنونضیر اور بنوقریظہ سے اِتحاد کیا تھا، اور صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کے اِتحاد اور معاہدے کی ایک کڑی تھی۔ اسی طرح آج بھی حالات کو دیکھا جائے گا کہ اگر مسلمانوں اور اِسلام کو کفار کے ساتھ اِتحاد کرنے میں کوئی معقول فائدہ ہو تو ان سے اِتحاد کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
لما قال الإمام شمس الدین السرخسی: ’’ولأن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم صالح اھل مکۃ عام الحدیبیۃ علٰی ان وضع الحرب بینہ وبینھم عشر سنین فکان ذالک نظرًا للمسلمین لمواطئۃ کانت بین اھل مکۃ واھل خیبر وھی معروفۃ ولأن الإمام نصب ناظرًا ومن النظر حفظ قوۃ المسلمین اوّلًا فربما ذالک فی الموادعۃ إذا کانت للمشرکین شوکۃ‘‘ (المبسوط للسرخسی ج:۱۰ ص:۸۶، کتاب السیر)۔
وقال الإمام ابوبکر جصاص فی تفسیر ھٰذہ الآیۃ: ’’وَاِن جَنَحُوا لِلسَّلمِ فَاجنَح لَہَا‘‘ قال ابوبکر قد کان النبی صلی ﷲ علیہ وسلم عاھد حین قدم المدینۃ اصنافًا من المشرکین منھم النضیر وبنو قینقاع وقریظۃ وعاھد قبائل من المشرکین۔ (احکام القرآن ج:۳ ص:۸۶، سورۃ الأنفال)۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۲ ص:۳۰۸ تا ۳۱۰)
قادیانی کسی اسلامی انجمن کے ممبر نہیں بن سکتے
سوال۱:۔۔۔ کسی اسلامی انجمن میں قادیانیوں کو ممبر بنانا شرعاً کیا حکم ہے؟
۲:۔۔۔ اگر کثرتِ رائے اور متفقہ رائے سے یہ تجویز منظور ہوجائے کہ قادیانیوں کو بھی ممبر بنایا جائے، پھر اس انجمن میں
696
شریک ہونا یا اس کی اِمداد کرنا کیسا ہے؟
المستفتی نمبر:۲۴۲ احمد صدیق، کراچی
۱۳؍رمضان ۱۳۵۶ھ-۱۸؍نومبر۱۹۳۷ء
جواب۱:۔۔۔ قادیانیوں کو کسی انجمن میں ممبر نہ بنایا جائے۔
۲:۔۔۔ ہرگز نہیں، بلکہ اس انجمن سے علیحدہ ہوجانا چاہئے۔
محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ دہلی
(کفایت المفتی ص:۳۱۹)
قادیانی نواز وکلاء کا حشر
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دِین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمہ طیبہ کے بیج بنوائے، پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دُکانوں پر لگاکر کلمہ طیبہ کی توہین کی۔ اس حرکت پر وہاں کے علمائے کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کردیا اور فاضل جج نے ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، ان وکلاء صاحبان میں ایک سیّد ہے۔ برائے کرم قرآن اور اَحادیثِ نبوی کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمائیں کہ شریعتِ محمدی کی رُو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کیمپ ہوگا، اور دُوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء جنہوں نے دِینِ محمدی کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے، اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے، لیکن شعائرِ اِسلامی کے مسئلے پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دِین ہے، اور دُوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دِینِ محمدی کے مقابلے میں قادیانیوں کی حمایت ووکالت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل نہیں ہوگا، خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر، یا حاکمِ وقت۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۱،۲۳۲)
قادیانی جماعت کو چندہ دینا
سوال:۔۔۔ کسی فنڈ میں سے کچھ رُقوم تبلیغِ اِسلام کے لئے مندرجہ ذیل انجمن کو دِیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر دِیا جائے تو جائز ہے یا ناجائز؟ جبکہ ان کے اِعتقاد یہ ہیں:
فریقِ اوّل:۔۔۔ مولوی محمد علی کی پارٹی جو لاہور میں ’’احمدیہ انجمن اِشاعتِ اسلام‘‘ کے نام سے موسوم ہے، اور برلن، ایشیا وافریقہ میں اس مشن کے ذریعے تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔
فریقِ ثانی:۔۔۔ خواجہ کمال الدین کی پارٹی جو لندن میں ووکنگ مشن کی بنیاد قائم کرکے لندن اور اس کے قرب وجوار میں
697
اِشاعتِ اسلام کا کام انجام دے رہی ہے۔
ہر دو فریق مرزا غلام احمد قادیانی کے معتقد ہیں۔ فریقِ اوّل مرزا غلام احمد قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدّد مانتے ہیں، نبی نہیں مانتے اور ان کا اِعتقاد یہ ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد مجدّد آئیں گے، نبی نہیں آئیں گے۔ حدیثوں میں جو نزولِ مسیح کا ذِکر ہے اسے وہ دُرست مانتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ چونکہ قرآنِ کریم حضرت مسیح کی وفات کا ذِکر صاف الفاظ میں فرماتا ہے، اس لئے وہ اس سے مراد ایک مجدّد کا مثیلِ مسیح ہوکر ظاہر ہونا لیتے ہیں، اور مرزا غلام احمد قادیانی کو چودھویں صدی کا مجدّد اور نزولِ مسیح کی پیشین گوئی کا مصداق مانتے ہیں، اور یہ اَشعار حسبِ ذیل مرزا غلام احمد قادیانی کی شان میں فرماتے ہیں:
آں مسیحا کہ بر افلاک مقامش گویند
لطف کردی کہ ازیں خاک نمایاں کردی
فریقِ ثانی قریب قریب یہی عقیدہ رکھتے ہیں، خود کو پکا سنی حنفی المذہب کہتے ہیں، صحیح صورتوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو کیا ان ہر دو فریقین میں سے کوئی اسلام کی تبلیغ کا کام صحیح معنوں وصورتوں میں انجام دے رہا ہے؟ کیا ان ہر دو فریقین میں سے کسی بھی ایک فریق کو تبلیغ کے لئے کچھ رُقوم اس فنڈ میں سے دی جائے تو کیا مسلمانانِ عالم وعلمائے اسلام کے نزدیک مذہبی نقطئہ نظر سے خلاف سمجھا جائے گا؟
المستفتی نمبر:۱۱۳۵ متولیان اوقاف
حاجی اِسماعیل، حاجی یوسف احمدآبادی
میمن ایجوکیشنل ٹرسٹ فنڈ بمبئی
۲۸؍جمادی الاولیٰ ۱۳۵۵ھ -۱۷؍اگست ۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ یہ دونوں جماعتیں احمدی قادیانی فرقے سے تعلق رکھتی ہیں، اور ایک ایسے شخص سے مسلمانوں کو روشناس کراتی اور اس کے حلقہ اِرادت میں داخل کرتی ہیں جس نے جمہور اِسلام کے علم وتحقیق کے بموجب نبوّت کا دعویٰ کیا، اور اس کے مرکزی مقام میں اس کے جانشین اور خلفا اس کو نبی اور رسول ہی مانتے ہیں اور منوانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کا اپنا لٹریچر دعویٔ نبوّت میں اتنا صاف اور واضح اور روشن ہے کہ محمد علی پارٹی یا خواجہ کمال الدین پارٹی کی تأویلات تحریف سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں، اور یہ دونوں پارٹیاں ممالکِ یورپ میں احمدی تبلیغ کرتی ہیں، اسلامی تبلیغ کا محض نام مسلمانوں سے چندہ لینے کے لئے ہے، ورنہ ان کا ذاتی نصب العین قادیانی مشن کی تبلیغ ہے۔ پس مسلمانوں کو ہرگز جائز نہیں کہ وہ کسی قومی تعلیمی فنڈ سے، بلکہ اپنی جیبِ خاص سے بھی ان کو چندہ دیں، ایسا کرنے میں وہ قادیانی نبوّتِ کاذِبہ کی اِعانت واِمداد کے گنہگار اور مؤاخذہ دار ہوں گے۔ محمد کفایت اللّٰہ کان اللّٰہ لہٗ، دہلی
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۷،۳۱۸)
مختلف مذاہب کے لوگوں کا اِکٹھے کھانا کھانا
سوال:۔۔۔ اگر سو آدمی اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور برتن اسٹیل کے ہیں یا چینی کے، اور ان کو صرف گرم پانی سے دھویا جاتا ہے، سو آدمیوں میں عیسائی، ہندو، سکھ، مرزائی ہیں، برتن ایک دُوسرے سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اگر عیسائی، سکھ، ہندو، مرزائی کا
698
برتن کسی مسلم کے پاس آ جائے تو کیا جائز ہے؟ اگر نہیں تو مسلح افواج میں ایسا ہوتا ہے، حکومت اس سے پرہیز کرتی ہے تو فوج میں اِنتشار پیدا ہوسکتا ہے، یا فوجیوں کے دِل میں ایک دُوسرے کے خلاف کوئی بات بیٹھ سکتی ہے۔
جواب:۔۔۔ غیرمسلم کے ہاتھ پاک ہوں تو اس کے ساتھ کھانا بھی جائز ہے،(۱) اور اس کے اِستعمال شدہ برتنوں کو دھوکر اِستعمال کرنے میں بھی مضائقہ نہیں۔(۲) ہمارا دِین اس معاملے میں تنگی نہیں کرتا۔ البتہ غیرمسلموں کے ساتھ زیادہ دوستی کرنے اور ان کی عادات واَطوار اَپنانے سے منع کرتا ہے۔(۳)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۶۹)
مرزائیوں سے خلط ملط ناجائز ہے
سوال:۔۔۔ (اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ مؤرخہ ۱۸؍جون ۱۹۲۷ء) قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ کھانا پینا تو جبکہ کوئی ناجائز اشیاء اور ناجائز طریقے سے نہ ہو، غیرمسلم کے ساتھ بھی جائز ہے، ہاں! خلاملا رکھنا اور ایسی معاشرت جس سے عقائد واعمالِ مذہبیہ پر اثر پڑے، ناجائز ہے۔ جمہور علمائے ہندوستان کے فتویٰ کے بموجب قادیانی کافر ہیں، ان کے ساتھ کھاناپینا اگر اَحیاناً اِتفاقاً ہو تو مضائقہ نہیں، لیکن ان کے ساتھ خلاملا اور اِسلامی تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔(۴)
محمد کفایت اللّٰہ غفر لہٗ
(کفایت المفتی ج:۹ ص:۹۶)
مرزائی کے گھر اِفطار کرنا
سوال:۔۔۔ ایک مرزائی رمضان المبارک میں اِفطاری کا اِہتمام کرتا ہے، اس کے ہاں اس کے گھر جاکر روزہ اِفطار کرنا جائز ہے؟ جن لوگوں نے روزہ اِفطار کیا، کیا ان کا روزہ ہوگیا؟ یا وہ دوبارہ روزہ رکھیں؟ جبکہ روزہ کھولنے والے لوگ مرزاقادیانی اور مرزائیت سے پوری طرح واقف بھی ہوں۔
ڈاکٹر حفیظ اللّٰہ، وساویوالہ
۲۰؍۳؍۱۹۹۴ء
جواب:۔۔۔ یہ ان لوگوں کی خطا ہے، وہ اس سے توبہ کریں، اور آئندہ کے لئے ایسا نہ کریں، پھر وہ غور کریں اگر کوئی نصرانی عیسائی انہیں اپنے گھر بلاکر روزہ اِفطار کروائے تو وہ ایسا کرنے کو تیار ہیں؟ نہیں، ہرگز نہیں، حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اَلیَومَ اُحِلَّ لَكُم الطَّیِبٰتُط وَطَعَامُ الَّذِینَ اُوتُوا الكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُم‘‘ الآیۃ (آج حلال ہوئیں تم کو سب پاک چیزیں اور اہلِ کتاب کا کھانا تم کو
(۱)وأما نجاسۃ بدنہ فالجمھور علٰی انہ لیس بنجس البدن والذات، لأن ﷲ تعالٰی احل طعام اھل الکتاب۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۳۴۶، طبع سھیل اکیڈمی لاہور)۔
ایضًا: ولو ادخل الکفار او الصبیان ایدیھم لا یتنجس إذا لم یکن علٰی ایدیھم نجاسۃ حقیقیۃ۔ (حلبی کبیر ص:۱۰۳)۔
(۲) قال محمد رحمہ ﷲ تعالٰی: ویکرہ الأکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل ومع ھٰذا لو اکل او شرب فیھا قبل الغسل جاز، ولا یکون آکلًا ولا شاربًا حرامًا، وھٰذا إذا لم یعلم بنجاسۃ الأوانی ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۷)
(۳) فی احکام القرآن للجصاص: ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ‘‘ (المائدۃ:۵۱) یدل (ای ھٰذہ الآیۃ) علٰی وجوب البرائۃ عن الکفار والعداوۃ بھم، لأن الولایۃ ضد العداوۃ، فإذا أمرنا بمعاداۃ الیھود والنصاریٰ لکفرھم فغیرھم من الکفار بمنزلتھم، والکفر ملّۃ واحدۃ۔ (احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۴۴۴، طبع سھیل اکیڈمی لاھور)۔
(۴) ایضًا۔
699
حلال ہے) اور مرزائی عیسائیوں سے بھی بدتر ہیں۔ ۱۱؍۱۰؍۱۴۱۴ھ
(اَحکام ومسائل ص:۴۵۵)
قادیانی کی دعوت کھانا
سوال:۔۔۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اگر کوئی مرزائی مسلمانوں کو کھانے کی دعوت دے تو ان کے گھر کھانا جائز ہے یا نہ؟ اگر کوئی دعوت کھائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
فضل الرحمن
جواب:۔۔۔ مرزائی کی دعوت کھانا عوام المسلمین کے لئے جائز نہیں، اس طرح دھوکا دیتے ہیں۔
مفتی محمد عبداللّٰہ
۵؍شوال ۱۳۹۴ھ
(فتاویٰ مفتی محمود ج:۱ ص:۲۰۰)
قادیانیوں کی دعوت کھانا جائز نہیں
سوال:۔۔۔ قادیانیوں کی دعوت کھالینے سے نکاح ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ نیز ایسے انسان کے لئے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ اگر کوئی قادیانی کو کافر سمجھ کر اس کی دعوت کھاتا تو گناہ بھی ہے اور بے غیرتی بھی، مگر کفر نہیں۔ جو شخص حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے دوستی رکھے، اس کو سوچنا چاہئے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کیا منہ دِکھائے گا۔۔۔؟
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۱)
دانستہ قادیانی کے گھر کھانا کھانے والے کا حکم
سوال:۔۔۔ مسئلہ:۲۴۲: یکم جمادی الاخریٰ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دِین مفتیانِ شرعِ متین درمیان اس مسئلے کے زید خاندانِ قادریہ وچشتیہ میں خلیفہ ہے اور مولودخواں بھی ہے اور علم فارسی میں دخل رکھتا ہے، علاوہ ازیں کلامِ نعتیہ میں اس کی تصنیفات بھی موجود ہیں اور حاجی بھی ہے، اور یہ زید کو علم تھا کہ بکر قادیانی ہے، دانستہ اس کے مکان پر واسطے کھانا کھانے گیا، لہٰذا اس کی نسبت اَز رُوئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ اور زید سے محفل مولود شریف پڑھوانا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا!
جواب:۔۔۔ زید گنہگار ہوا، اس نے حکمِ شریعت کے خلاف کیا، اس سے علانیہ توبہ کرلی جائے، اگر نہ مانے تو اس سے محفل شریف نہ پڑھوائی جائے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘‘ (الانعام:۶۸) ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۲۱ ص:۶۴۸)
قادیانی کی دعوت اور اِسلامی غیرت
سوال:۔۔۔ ایک اِدارہ جس میں تقریباً ۲۵ اَفراد ملازم ہیں، اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے، اور اس قادیانی نے
700
اپنے احمدی ۔۔۔قادیانی۔۔۔ ہونے کا برملا اِظہار بھی کیا ہوا ہے، اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام اسٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور اسٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں، جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد، دائرۂ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اِسلام کے غدار ہیں، تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دعوت قبول کرنا دُرست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کردیں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لئے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ تاکہ آئندہ کے لئے اسی کے مطابق لائحۂ عمل تیار ہوسکے۔
جواب:۔۔۔ مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا کہنا ہے کہ: ’’میرے دُشمن جنگلوں کے سوَر ہیں اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں‘‘ جو شخص آپ کو کتا، خنزیر، حرامزادہ اور کافر یہودی کہتا ہو، اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں، بلکہ خود اپنی اِسلامی غیرت سے پوچھئے۔۔۔!
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۳۰،۲۳۱)
قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا خطرناک ہے
سوال:۔۔۔ یہاں قادیانی لوگ ہیں، مگر بڑے بے شرم ہیں، ان کو کتنا جواب دیں، مگر وہ لوگ نہیں مانتے، اور ان کے ہاں جو شخص کھانا کھاآیا، اس کے لئے کیا سزا ہونی چاہئے؟
المستفتی نمبر۸۰۶: منشی مقبول احمد، چھکوہی
۱۷؍ذی الحجہ۱۳۵۴ھ-۱۲؍مارچ ۱۹۳۶ء
جواب:۔۔۔ قادیانیوں کے یہاں جس شخص نے کھانا کھایا ہے، اس کو توبہ کرالی جائے کہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اور قادیانیوں کے ساتھ کھاناپینا رکھنا، خطرناک ہے۔
محمد کفایت اللّٰہ، کان اللّٰہ لہٗ
(کفایت المفتی ج:۱ ص:۳۱۶،۳۱۷)
مرزائی کی دعوتِ طعام قبول کرنا
سوال:۔۔۔ ہمارے محلے میں چند مرزائی رہتے ہیں، وہ کبھی کبھی کسی خوشی کے موقع پر دعوت کرتے ہیں، اور اس میں ہم مسلمانوں کو بھی بلاتے ہیں، کیا مرزائیوں کی دعوت کو قبول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔۔۔ مرزائی مرتد ہوکر واجب القتل ہیں، اس لئے مرتد سے کسی قسم کے تعلقات رکھنا، یا اس کے ہاں دعوت کھانا جائز نہیں۔
لما قال شیخ الإسلام محافظ الدین النفسی رحمہ ﷲ: یعرض الْإِسلام علی المرتد وتکشف شبھتہ ویحبس ثلاثۃ ایام فإن اسلم وإلَّا قتل۔ (کنز الدقائق علٰی ھامش البحر الرائق ج:۵ ص:۱۲۵، باب احکام المرتدین)۔
(فتاویٰ حقانیہ ج:۵ ص:۳۳۷)
701
کسی کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ قادیانی تھا تو کیا کیا جائے؟
سوال:۔۔۔ کسی فرد کے ساتھ کھانا کھالینے کے بعد میں اس فرد کا یہ معلوم ہوا کہ وہ قادیانی تھا، پھر کیا حکم ہے؟
جواب:۔۔۔ آئندہ اس سے تعلق نہ رکھا جائے۔(۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۱ ص:۲۱۳)
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے توبہ کے بعد اِلزام نہ دیا جائے
سوال:۔۔۔ از شہر عقب کوتوالی مسئولہ ولایت حسین وعبدالرحمن، ۹؍محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے دِین کیا فرماتے ہیں اس مسئلے میں کہ میں اِیمان سے کہتا ہوںاور قسم کھاتا ہوں کہ میں نہ تو پہلے قادیانی تھا اور نہ اب ہوں، قادیانی پر لعنت کرتا ہوں، میں اہلِ سنت وجماعت ہوں، اگر کوئی شخص مجھ پر بعد توبہ کرنے کے اِلزام دے تو وہ مؤاخذہ دار ہوگا یا نہیں؟ یا اگر میرا میل کسی وقت ان لوگوں سے کوئی ثابت کرے تو میں سب لوگوں کا مؤاخذہ دار ہوں گا، قادیانی کو کافر جانتا ہوں۔
العبد ولایت حسین
گواہان:۔۔۔ عبدالرحمن بقلم خود، مسیح اللّٰہ بقلم خود، قادر حسین بقلم خود، امانت حسین بقلم خود، مولوی محمد رضاخاں بقلم خود، صادق حسین بقلم خود، محمد حسن بقلم خود، لیاقت حسین بقلم خود، فقیر محمد حشمت علی خاں رضوی، فقیر ایوب علی رضوی بقلم خود، قناعت علی قادر رضوی بقلم خود۔
جواب:۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے، اور بعد توبہ کے گناہ باقی نہیں رہتا۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ‘‘
(ابن ماجۃ ص:۳۲۳، باب الذکر والتوبۃ ، کتاب الزھد، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوتا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں۔‘‘
قادیانیوں کے ساتھ میل جول سے انہوں نے پہلے بھی ایک مجمع میں توبہ کی تھی اور آج پھر ایک مجمع میں توبہ کی تھی۔ پھر ایک مجمع کے ساتھ آئے جن کے دستخط اُوپر ہیں اور دوبارہ توبہ کی، توبہ کے بعد ان پر بلاوجہ جو کوئی اِلزام رکھے گا وہ سخت گنہگار ہوگا، اور توبہ کے بعد اگر پھر یہ میل جول کریں گے تو ان پر گناہِ عظیم کا بار ہوگا، مگر بلاوجہ توبہ کے بعد اِلزام رکھنا سخت جرم ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم!
(فتاویٰ رضویہ ج:۱۴ ص:۳۸۳،۳۸۴)
محمد علی لاہوری قادیانی کی تفسیر کا حکم
سوال:۔۔۔ مولوی محمد علی ہندی نے جو انگریزی تفسیر لکھ کر شائع کی ہے، اس پر اِعتماد عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس تفسیر کا ترجمہ انگریزی سے ملاوی زبان میں حاجی عثمان جوکروامینوٹو نے کیا ہے، جس کی وجہ سے علمائے جاوہ میں سخت نزاع پیدا ہوگیا ہے،
(۱) صفحہ:۶۹۹ کا حاشیہ نمبر۳ دیکھیں
702
اور اکثر علماء نے اس تفسیر پر مدلل اور معقول اِعتراض کئے ہیں، لیکن جاری قرآن کے مترجم حاجی عثمان کہتے ہیں کہ مجھے اس تفسیر میں کوئی غلطی نہیں معلوم ہوتی، پس آپ کا فرض ہے کہ اس کے متعلق اپنی رائے کا اِظہار فرمائیں۔
جواب:۔۔۔ یہ بات مشہور ہے کہ مولوی محمد علی جو اس تفسیر کے مصنف ہیں، قادیانی عقائد کے مبلغ ہیں، اور اس میں بھی شک نہیں کہ تفسیرِ مذکور میں بعض آیات میں مضحکہ خیز معنوی تحریف کی گئی ہے۔ وہ آیات جن کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام سے ہے، یا وہ آیات جن کو زبردستی مرزا غلام احمد قادیانی مسیحِ موعود پر چسپاں کیا گیا ہے، ہمارے دعوے کا کھلا ہوا ثبوت ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر جامع ازہر کے شیوخ اور بیروت کے مفتی نے اس کے انگریزی ترجمے مصر اور شام میں داخلے کی ممانعت کردی ہے، تاکہ لوگ تحریف وتسویل سے گمراہ نہ ہوں اور ان کے سلفی عقائد پر زَد نہ پڑے۔ قادیانی بے شک دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، کیونکہ وہ مسیحِ دجال کے حق میں وحی اور رِسالت کے مجوّز ہیں۔ ان کو قرآنِ حکیم کی معنوی تحریف میں وہ ملکہ حاصل ہے جن کے مقابلے میں باطنی عقائد کے پیرو اور فارس کے زِندیق کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک سورۂ فاتحہ میں اِستمرارِ وحی اِلیٰ آخرالزمان من جملہ نکات ومعارفِ قرآن سے ہے۔ قادیانی مدعی کے فاسد عقائد اور جاہلانہ غلط نویسی کی تردید ہم نے اس کی زندگی میں بھی کی ہے، اور اس کی موت کے بعد ہم اس اَمر سے غافل نہیں ہیں، اور اِن شاء اللّٰہ ہم باطل کا مقابلہ حق وانصاف کے ساتھ تامقدور کرتے رہیں گے۔
میری تحقیق میں اس ترجمے پر ہرگز اِعتبار نہ کرنا چاہئے اور نہ فہم کا کوئی خاکہ اور عمل وسعی کا کوئی نقشہ اس کج اور ناہموار سطح پر تیار ہوسکتا ہے۔ رہا یہ اَمر کہ یہ تفسیر غیراَقوام میں اِشاعتِ اسلام کے سلسلے میں بہت مفید ہے، سو حقیقت میں یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کو مطالبِ قرآن پر عبور نہ ہو، اور نہ وہ لغتِ عربی اور اسالیبِ قرآن پر کوئی ادنی سی بھی واقفیت رکھتا ہو، سلف کی تفسیر سے واقف انسان کبھی اس لغوگوئی کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔
(’’المنار‘‘ صفر ۱۳۴۷ھ، ص:۲۸، مطبوعہ مصر)
احقر محمد عثمان فاقلیط دہلوی
دفتر جمعیت علمائے ہند، دہلی
اہلِ حدیث:۔۔۔ مرزاقادیانی ان کے نزدیک مسیحِ موعود اور مجدّد تھے، جو طریق ترجمہ یا تفسیر انہوں نے اِختیار کیا ہے، اس کے اَتباع کا اسی رَوِش پر چلنا لابد وضروری ہے۔
۷؍ستمبر ۱۹۲۸ء
(فتاویٰ ثنائیہ ج:۲ ص:۸۴،۸۵)
قادیانی روزہ
سوال:۔۔۔ اسلام میں روزے کی کیا حدود ہیں؟ اگر کوئی شخص دوپہر کو روزہ کھول لے اور کھانے کے بعد دُوسرے روزے کی نیت کرے تو اس کے کتنے روزے شمار ہوں گے؟ ہمارے علاقے میں چھوٹے چھوٹے بچے اس طرح دن میں کئی روزے رکھتے ہیں، دعوت کے ذریعے مطلع کریں کہ اس طرح کے روزے کن لوگوں کے نزدیک جائز ہیں؟ سائل: عبدالحمید
فرسٹ ایئر، اسلامیہ کالج چنیوٹ
جواب:۔۔۔ روزے کی اِبتدا پو پھوٹنے سے ہوتی ہے، اور اس کی اِنتہا غروبِ آفتاب ہے۔ روزہ دار کے لئے پو پھٹنے سے
703
لے کر سورج کے غروب ہونے تک کھاناپینا قطعاً حرام ہے۔ آپ نے جس صورت کے متعلق سوال کیا ہے، اس میں دو روزے تو درکنار، ایک روزہ بھی شمار نہیں ہوگا۔ روزے کی حدود میں کھاناپینا روزے کا اِتمام نہیں، روزے کا توڑنا ہے۔ یہ جواب شریعتِ اسلام کی روشنی میں ہے۔
ہاں! مرزائی حضرات کی شریعت جدا ہے، ان کے نزدیک ایک دن میں سات سات روزے رکھے جاسکتے ہیں۔ مرزا بشیرالدین محمود نے ۶؍اپریل ۱۹۴۷ء کو قادیان میں ایک خطبے میں کہا تھا:
’’میں نے جماعت کو ہدایت کردی ہے کہ وہ ہر جمعرات کو سات نفلی روزے رکھے۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ ربوہ ص:۳، کالم:۱۱، مارچ ۱۹۶۴ء)
کیا پُرلطف روزے ہیں! روزے کے روزے اور بچوں کا کھیل، شریعت ہو تو ایسی ہو۔۔۔! معاذاللّٰہ ثم معاذاللّٰہ، واللّٰہ اعلم بالصواب!
(عبقات ص:۳۰۲)
غیرمسلموں کو زکوٰۃ دینا
سوال:۔۔۔ کیا غیرمسلم ۔۔۔ہندو، سکھ، عیسائی، قادیانی، پارسی وغیرہ۔۔۔ کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ جبکہ سینکڑوں مستحقین مسلمان موجود ہوں۔
حکومت بینکوں میں جمع شدہ رُقوم سے صرف مسلمانوں کے اکاؤنٹوں سے زکوٰۃ منہا کرتی ہے، جبکہ اس زکوٰۃ میں سے کچھ حصہ کالجز کے طلبہ کو بطور اِعانت دیا جاتا ہے، ان طلبہ میں مسلمان طلبہ کے علاوہ قادیانی، ہندو سبھی شامل ہوتے ہیں، آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا زکوٰۃ کا یہ مصرف اسلام کے عین مطابق ہے یا اس میں اِختلاف ہے؟
جواب:۔۔۔ زکوٰۃ کا مصرف صرف مسلمان ہیں، کسی غیرمسلم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(۱) اگر حکومت زکوٰۃ کی رقم غیرمسلموں کو دیتی ہے اور صحیح مصرف پر خرچ نہیں کرتی تو اہلِ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل ج:۳ ص:۴۰۳)
✨ 🌟 ✨
(۱)واما اھل الذمۃ فلا یجوز صرف الزکاۃ إلیھم بالإتفاق، ویجوز صرف صدقۃ التطوع إلیھم بالإتفاق ۔۔۔۔۔۔۔ واما الحربی المستأمن فلا یجوز دفع الزکاۃ والصدقۃ الواجبۃ إلیہ بالإجماع ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۸، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
704